Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر  بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر

    بقلم [ بنت نذير ]
    پاکستان بننے سے پہلے مسلمان اور ہندو ایک ساتھ رہتے تھے مسلمانوں پر ہندوؤں کی حکومت تھی مسلمانوں کو آزادی حاصل نہیں تھی ان پر ظلم کیے جاتے تھے چنانچہ ان کو ان کے حقوق حاصل نہیں تھے.

    اگست 1947ء میں پاکستان کا قیام ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو دیگر ممالک آزاد ہوئے وہ پنجۂ غلامی میں جانے سے پہلے بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود رکھتے تھے ۔ ان ملکوں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں اور کامیابی کے بعد اپنے سابقہ تشخص کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ ان ممالک کے برعکس پاکستان 1947ء سے پہلے کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ تشخص نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان میں شامل علاقے برصغیر کا حصہ تھے اور برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج کے ذریعے ایک سو سال کے عرصے میں اپنا قبضہ مکمل کرکے اس کو سلطنت برطانیہ کے سپرد کردیا تھا۔ 1857ء میں یہ قبضہ مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی انگریزی استعمار کے خلاف برصغیر کے طول و عرض میں آزادی کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔1857ء سے 1947ء تک کے نویں سال کے عرصے میں مسلم سیاسی شناخت ایک جداگانہ اور نمایاں پروگرام کے طور پر اجاگر ہوئی جس کے واضح سیاسی اور اقتصادی عوامل موجود تھے۔ انگریزی استعمار کی تعمیر و تشکیل کے دوران ابتدا ہی میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اب جب کہ پہلی مرتبہ ہندوستان میںاستعماری مقاصد ہی کے تحت نمائندہ اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور ساتھ ہی ایسی انتظامی اور اقتصادی پالیسیاں متعارف کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نئی سرکاری زبان یعنی انگریزی میں دسترس رکھنے والوں کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے اور دیہی علاقوں میں ایک نئی اقتصادی اشرافیہ وجود میں آرہی ہے۔ ان نئے رجحانات سے خود کو لاتعلق اور غافل نہیں رکھا جاسکے گا۔ ان دونوں سماجی طبقات کے لیے ضروری تھا کہ نئے وجود میں آنے والے نمائندہ اداروں تک پہنچ حاصل کریں تاکہ اپنے طبقات کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ یہ اسی مرحلے پر ہوا کہ مسلمانوں کے بااثر طبقات کو پہلی مرتبہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں اپنے اقلیت ہونے کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ اس احساس کا اولین اظہار سرسید احمد خان کی تحریروں میں ہوا جبکہ بعد میں مسلم سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اور 1904ء میں بننے والی مسلم لیگ اس احساس کے ترجمان بنے۔

    قائداعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھے۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت ممد و معاون ثابت ہوا۔ انگلستان میں اپنے قیام کے دوران وہ لبرل سیاسی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوئے ۔انہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا ۔ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی داخلی حرکیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی مناقشات کو حل کرنے کی غرض سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ ریاست نے خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار بنا کر اور ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرکے معاشرے کوکس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے۔ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آ ٓکھڑا ہوا۔ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے جب کہ کوئی نو دس صدیوں تک مسلمان بادشاہ ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان بھی موجود رہا تھا جب کہ اپنے مذہبی معاملات میں وہ اپنے علیحدہ طرز فکرو عمل کے بھی حامل رہے تھے۔ یہ دونوں رجحانات ہمیشہ ہی ایسے معاشروں میں پاۓ جاتے رہے ہیں جہاں ثقافتی تنوع موجود ہوتا ہے ہندوستان بھی اس ثقافتی تنوع کا حامل تھا اور یہ کوئ غیر معمولی اور ہندوستان سے مخصوص بات نہیں تھی لیکن انگریز کئ آمد کے بعد نمائندہ اداروں کے قیام کے نتیجے میں اب جبکہ قانون سازی اور انتظامی امور کی انجام دہی ان اداروں کے سپرد ہونے والی تھی تو پہلی مرتبہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع سیاسی تقسیم کی بنیاد بننا شروع ہوا.

    قائداعظم کا خیال تھا کہ نمائندہ اداروں میں اگر جمہوری اصولوں کو ہندوستان کے معروضی حالات سے لاتعلق ہو کر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوئوں کی ثقافتی اکثریت ان کی سیاسی اکثریت کا راستہ ہموار کرے گی جب کہ مسلمان ثقافتی اقلیت ہونے کے ناطے سیاسی اقلیت بھی قرار پائیں گے۔ اس تضاد کے حل کے لیے انہوں نے جو حکمت عملی وضع کی اس کے دو نمایاں قانونی و سیاسی پہلو تھے ۔حکمت عملی کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ جمہوری سیاسی نظاموں میں اس امر کی بھی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کی کمتر تعداد کو نسبتاً زیادہ نمائندگی دے کر اس کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کو قوم سازی کے عمل میں شریک بھی رکھا جاسکتا ہے۔ سیاسی زبان میں اس کو ایجابی اقدام کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اقدام جس کے ذریعے کسی حلقے کو اس کے منطقی حق سے زیادہ دے کر اس کے اعتماد کو جیتا جائے(اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارے موجودہ آئینی نظام سے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے حق کے باوجود اضافی طور پر سولہ فیصد نشستیں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان کے پسماندہ اور مردانہ غلبے کے حامل معاشرے میں خواتین کے لیے عام انتخابات میںاس آزادی کے ساتھ مہم چلانا ممکن نہیں ہے جس آزادی کے ساتھ مرد حضرات اپنی مہم چلا سکتے ہیں)قائداعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی سے مسلمانوں کے لیے کسی بھی سیاسی دروبست میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کو انکی اقلیتی حیثیت کی بنا پرنظر انداز کردیے جانے سے محفوظ رکھ سکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً چوبیس فیصد آبادی کے لیے وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تینتیس فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے۔

    یہ1914ء کا لکھنو پیکٹ ہو یا 1927ء میں پیش کی جانے والی ’دہلی مسلم تجاویز‘ ، قائداعظم کے چودہ نکات ہوں یا لندن کی گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کردہ دلائل ، یا پھر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی فارمولے ، کم و بیش ان تمام مراحل میں قائداعظم کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی نمائندگی کے تناسب کی وکالت کی گئی جو ان کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتی۔ انہوں نے پہلے مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سیاسی حقوق کی وکالت کی ۔ اور بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کا موقف اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے جو حقوق قوموں کو حاصل ہوتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ان کی وکالت کی جاسکے۔ لیکن خواہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت سمجھا ہو یا ایک اگلے مرحلے پر ان کو قوم قرار دیا ہو، قائداعظم کا نکتہ نظر مذہبی منافرت پر مبنی اورفرقہ ورانہ کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کے پورے سیاسی کیریئر کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے کبھی بھی ہندوؤں کے لیے تحقیر یا تذلیل کا کوئی ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا ۔ تحقیر اور تذلیل تو دور کی بات انہوں نے بارہا اپنی گفتگوؤں میں اور اپنے بیانات میں ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے یہاں تک کہ 7 مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور ان سب کا جس کے وہ علمبردار ہیں،احترام کرتا ہوں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے ۔اپنا فلسفہ ہے ۔ اپنا عظیم کلچر ہے. لیکن دونوں مختلف ہیں. میں ہندوستان کے لیے لڑھ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے.

    قائداعظم نے کہا کہ اب تک جو میں سمجھ سکا ہوں دلی میں مسلم لیگ کے حلقے پرامید ہیں.

    غالباً قائداعظم کی اسی سوچ کے پیش نظر مسلم لیگی قیادت نے بلآخر تقسیم بند کے اس منصوبے کو قبول کر لیا جس کا علان آل انڈیا ریڈیو سے نشری تقریروں کے ذریعے کیا گیا. یوں پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہوئ اور 14 اگست 1947ء کو اس کا وجود عمل میں آیا.

  • پاکستان کی کہانی  بقلم :اقرا بنت ظفر

    پاکستان کی کہانی بقلم :اقرا بنت ظفر

    عنوان:
    پاکستان کی کہانی
    [بقلم اقرا بنت ظفر]

    آزادی کا جذبہ موت کے خوف سے سرد نہیں پڑتا_ حریت کی فکر نہ قید کے ڈر سے ختم. ہوتی ہے اور نہ ہی تشدد کا صدمہ آزادی کی تڑپ ختم کرتا ہے_ جس قوم کے جوانوں میں جہاد کے جذبے جواں ہوں ذہن اور ضمیر آزادی کے نغموں سے سرشار ہوں اور جو جوان اپنے لہو سے چراغ روشن کرنے کا شوق پا لیتے ہوں اس قوم کو کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا_
    جو قوم ایسے افراد رکھتی ہو اس کی آزادی کا سورج طلوع ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کا قیام ہے_
    قیام پاکستان کے دوران پیش آنے والے ان دلخراش واقعات کو پڑھ کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے اور آنکھوں سے چھم چھم آنسو جاری ہو جاتے ہیں_ یہ پاکستان کیسے بنا تھا؟ اور کیا ہو رہا ہے پاکستان میں؟ آج پاکستان میں جو کلچر فروغ پا رہا ہے یا پاکستان کو جس ڈگر پر چلانے کیلئے حکومتی تگ و دو جاری ہے، کیا یہ قربانیاں اس لیے دی گئی تھیں کہ کنجروں اور میراثیوں کا راج ہو اور وہ اس پاک دھرتی پر مٹک مٹک ناچیں اور گائیں_
    پاکستان بننے کے بعد ہم نے شہداء کی قربانیوں کو فراموش کیا ہی نہیں بلکہ حصولِ مقصد بھی بھلا دیا اس کے ساتھ ساتھ ان کروڑوں مسلمانوں کو بھی یکسر بھلا دیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے ان گنت قربانیاں دیں_
    قیامِ پاکستان کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات میں سے میں یہاں چند ایک کا ذکر کروں گی کہ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کو کیسے، مشکلات پیش رہیں لیکن ان مشکلات کے باوجود وہ ڈگمگائے نہیں_

    1️⃣ مسجد میں عصمت دری:
    مسجد رنگریزا ںشہر کی اہم ترین دینی درس گاہ تھی اور اس میں نہایت مشکل دنوں اور سخت نامناسب حالات میں بھی پانچ وقت اذان کی ایمان افروز صدا بلند ہوتی تھی، ہر صبح قرآن مجید کا درس ہوتا تھا_ طالب علم دینی تعلیم میں دن رات مشغول رہتے تھے اور شب و روز وعظ و کلام، درس و تدریس اور رشد و ہدایت کے چشمے بہتے تھے، لیکن پاکستان کی صبحِ آزادی اس محلے کے لوگوں کے لیے شبِ قیامت ثابت ہوئی_ عید سے 3 دن پہلے رمضان المبارک کے 27 ویں روز ریاستی اور گورکھا فوج نے مقامی ہندو اور سکھ بھیڑیوں کی نشاندہی پر اس مسجد پر ہلہ بول دیا_ سنگین حالات کی وجہ سے محلے کی تمام عورتوں نے غنڈوں اور اکالی درندوں کے متوقع حملے کے پیشِ نظر اس مسجد میں پناہ لے رکھی تھی اور ان کے تمام رشتہ دار مرد قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے_ ان لعینوں نے نہ صرف تمام مسلمانوں کو بےدردی سے تہ تیغ کر دیا بلکہ قرآن مجید کے مقدس نسخوں کی بےحرمتی بھی کی_ مسجد میں موجود عورتوں نے جن میں نوجوان لڑکیوں کی کثرت تھی مسجد کے ملحقہ کنوئیں میں چھلانگیں لگا کر اپنی آبرو بچائی_ مگر اس اچانک حملے کی وجہ سے جو لڑکیاں کنوئیں تک نہ پہنچ سکیں ان بیچاریوں کے ساتھ مسجد کے اندر انتہائی ظالمانہ سلوک کیا گیا_ فسادی ان کی عزتیں لوٹنے کے بعد لاشوں کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے_

    2️⃣ ہندو ہو جاؤ تو بچ جاؤ گے:
    کپورتھلہ کے نزدیک شیخوپورہ نامی قصبے پر ہندوؤں اور سکھوں کا جتھا حملہ آور ہوا تھا انہوں نے قصبے کی ساری مسلمان آبادی کو اٹھا کر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا_ ہزاروں مسلمان تہ تیغ کر دیے گئے_ اس قصبے کے چوہدری کو ظالم ہندو اور سکھ کرپانوں سے ڈراتے رہے کہ اگر ہندو ہو جاؤ تو بچ جاؤ گے……. لیکن چوہدری نے اپنا دین چھوڑنے سے انکار کیا تو انھیں وحشیانہ طور پر شہید کر دیا گیا_
    ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے_
    اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے کتنے لوگوں نے قربانیاں دیں لیکن ہم ان سب کو بھلائے بیٹھے ہیں_ یہ صرف وہی درد محسوس کر سکتا ہے جس نے پاکستان کو بنتے دیکھا ہے، اپنے پیارے گنوائے ہیں_
    اللّٰہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے _
    آمین یا رب العالمین

  • ابھی کشمیر باقی ہے  بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    ابھی کشمیر باقی ہے بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    عنوان :
    ابھی کشمیر باقی ہے۔

    بقلم [زینب بنت ابو عدیلؒ]

    کشمیر 1947ء میں پاکستان کے حصے میں آیا ۔لیکن اس پر بھارت نے قبضہ کر لیا ۔وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے ۔ یہ اپنی قدرتی حسن کی وجہ سے زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے

    قدرت کا کرشمہ ہے یہ میرا کشمیر
    آؤ دوزخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
    کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے ۔دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں ۔جن میں 1947ءکی جنگ 1965ءکی جنگ اور 1999ء کی کارگل کی جنگ ہے
    16 مارچ 1846ء میں انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کردیا ۔
    جب 1925ء میں امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا تو اسے قادیانی حمایت حاصل تھی ۔قادیانی کشمیر میں الگ ریاست چاہتے تھے ۔اس کے دور میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ۔
    1931ءمیں پہلی مسجد ریاسی میں شہید ہوئی ۔کوٹلی میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی لگائی گئی ۔ایک کانسٹیبل نے قرآن کی بے حرمتی کی ۔عبدالقدیر نامی مسلمان نے بے مثال احتجاجی جلسے کیے جو کہ گرفتار ہوگیا ۔اور پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا 13 جولائی کو شہدائے کشمیر ڈے اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
    1947ءمیں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک سے الحاق کرلے ۔ کشمیر مسلم اکثریتی ریاستیں تھی۔ عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا لیکن ہندو مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا ۔ ہندو مہا راجا کے الحاق کا جواز بنا کر بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کرلیں ۔
    دوسری طرف مجاہدین نے بہت سے علاقے ہندو مہاراجہ کے قبضے سے چھڑوا لئے ۔ جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں
    بعد میں کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ میں لایا گیا ۔جہاں ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا ۔جس کو بھارت کے
    وزیراعظم نے بھی تسلیم کیا اور پاکستان نے بھی تسلیم کیا لیکن بات میں بھارت اس وعدے سے مکر گیا جب کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا ۔بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ فیصلے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔اور اب تک لاکھوں کشمیر شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں۔
    جنت نظیر وادیِ کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کشمیراور کشمیری عوام محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- بھارتی فوج نے کشمیر یوں کی نسل کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی -مگر نادان بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر ی مسلمانوں کے جذبۂ حق حریت کو ختم کر سکتا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ حق کبھی مٹا ہے نہ مٹے گا –
    کشمیر ی جدوجہد بھارتی مظالم کے باوجود زندہ اور پر جوش رہے گی کیونکہ ان کو علامہ اقبال کا درج ذیل درس یاد ہے….
    جِس خاک کے ضمیر میں ہو آتشِ چنار
    ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
    کشمیری نوجوان اپنا خون دے کر، سہاگنیں اپنا سہاگ ، بہنیں اپنے بھائی،مائیں اپنے لختِ جگر،باپ اپنے بڑھاپے کا سہارا قربان کر کے اِس جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گو اے ہندوستاں والوں
    تمھاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
    کشمیر کے تمام دریائوں کا رخ پاکستان کی طرف اور تمام راستے بھی پاکستان کی طرف جاتے ہیں جبکہ بھارت کی طرف بڑی مشکل سے جاتے ہے 90فیصد سے زائد مسلمان ہی رہتے ہیں اور ان کی غالب اکثریت بھی ہمیشہ پاکستان سے ہی الحاق کے لیے سر گرم رہی ہے اس لحاظ سے کشمیر اور پاکستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور انہیں کسی طرح بھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ کشمیر پاکستان کی روح ہے ۔
    کشمیریوں کو اب گولی و بارود کی آگ سے نکالنا ہو گا تاکہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اپنی جائے پیدائش، وادیِ کشمیر کی تازہ و صحت مند ہوا میں زندگی بسر کر سکیں۔ (آمین )

  • پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟   بقلم :سمیرہ حق نواز

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟ بقلم :سمیرہ حق نواز

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟

    [بقلم سمیرہ حق نواز]

    نظریہ پاکستان کو پاکستان کی بنیاد کہا جائے تو بجا نہ ہو گا نظریہ پاکستان دراصل پاکستان کا دوسرا نام ہے جس کا مقصد ایک ایسی ریاست کی تشکیل تھی جس کی بنیاد اسلامی اصولوں کے مطابق ہو نظریہ پاکستان سے مراد وہ عقلی عمل اور آزاد سوچ ہے جس نے قیام پاکستان کی راہیں ہموار کیں اس کی بنیاد مسلمانوں کا علیحدہ تشخص، علیحدہ قومیت اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر قائم ہوا پاکستان کے نظریہ کی اساس دین اسلام ہے جو مسلمانوں کی زندگیوں کی تمام شعبوں میں راہنمائی کرتاہے اسلامی نظام قرآن پاک پر استوار ہوا یہی نظام ہمارے پیارے وطن کی بنیاد بنا نظریہ پاکستان ہی وہ نظریہ ہے جس کو قومیت بنا کر مسلمانوں نے الگ مقصد کی تشکیل دی برصغیر میں مسلمان انگریز دور حکومت میں دوسری اقوام کے ساتھ غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے وہ آزاد اور خودمختار حثیت چاہتے تھے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد بھی ان کو اپنا مقصد نا کام ہوتا نظر آ رہا تھا مسلمانوں نے بڑی غور وفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ان کو ایک الگ مسلم مملکت چائیے جہاں مسلمان اکثریت میں ہو اور دین اسلام کو رائج کر سکیں یہ سوچ رفتہ رفتہ مضبوط ہوئی جو قیام پاکستان کی وجہ بنی

    دو قومی نظریے سے مراد برصغیر میں دو قومیں آ باد ہیں ایک مسلمان اور دوسری ہندو قوم ان کے رہن سہن، رسم ورواج،زبان ،ثقافت اور سب سے بڑ کر مذہب الگ ہے
    قائد اعظم دو قومی نظریے کے سب سے بڑے علمبردار رہے آپ نے نہ صرف آل انڈیا کانگریس کے تاحیات صدر بننے کی پیشکش کو مسترد کیا بلکہ بہت سے بڑے علماء دیوبند اور مسلم نیشنلسٹ کے راہنماؤں کی مخالفت بھی مول لی مگر دو قومی نظریے کی صداقت پر کوئی آنچ نہ آنے دی آپ نے پاکستان کا مقدمہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر لڑا۔ 1930 خطبہ آلہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان میں الگ مملکت کی پیش گوئی کی دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران آپ نے قائد اعظم سے کئی ملاقاتیں کی جن کا مقصد دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانان ہند کے لیے الگ مملکت کا کوئی حل سوچنا تھا 1936۔1938 میں آپ نے قائد کو کئی مقطوبات بھیجے جن میں دو قومی نظریے کا عکس صاف نظر آتا ہے ، حضرت مجدد الف ثانی،شاہ ولی اللہ، سر سید احمد خان جیسی عظیم ہستیوں نے اس پودے کی آبیاری کی
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک حقیر قوم جانی جاتی تھی جن کو کوئی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حقوق حاصل نہ تھے وہ ظلم و جبر کے سائے میں سانس لے رہے تھے زندگیوں کو کھٹن ترین مسائل کا سامنا تھا مسلمان برصغیر میں بلکل مفلوج قوم بن کر رہ گئی جن کے ہر طرح کے حقوق سلب کر لیے گئے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھین لیا گیا مسلمانوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے گئے ان کی جائیداد یں ضبط کر لی گئیں اور کبھی انگریزوں کو بطور انعام دے دی جاتیں مسلمان ہر طرح کی پابندیوں میں جھکڑ کر رہ گئے برصغیر میں ہندوانہ رسم و رواج رائج کر دیئے گئے مسلمانوں کو عبادات سے بھی محروم کر دیا گیا وہ اپنی مرضی سے اسلامی اصولوں سے عبادت سے بھی محروم ہو گئے مسلمانوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں تھا مسلمان مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ان سب مظالم اور جبر کی بنا پر مسلمان کمزور سے کمزور قوم بنتی گئی مسلمانوں کو ابتدائی حقوق بھی حاصل نہ تھے اور اسلامی نظام کا قیام تو بہت دور کی بات مسلمان کسی طور پر بھی محفوظ نہ تھے مسلمانوں کے عہدے مکمل پامالی کی جانب گامزن تھے ان کی جائیدادیں گروی رکھ کر ہڑپ کر لی جاتیں مسلمانوں کو کسی قسم کے اختیارات حاصل نہ تھے مختصر یہ کہ مسلمان معاشی، معاشرتی اور مالی طور پر استحکام کا شکار ہو گئے کاروبار تباہی ہو گئے مسلمان قوم تباہی کے کنارے کھڑے ہو گئے وہ بلکل کمزور اور لاچار قوم بن گئی
    یہ حالات مدنظر رکھتے ہوئے قائد اعظم کو مسلمانوں کے حالات قابلِ رحم لگے 1913 میں آخر کار قائد اعظم نے آل انڈیا کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول کے لیے جدو جہد شروع کر دی مسلمانوں کی اتنی سنگین صورتحال دیکھتے ہوئے قائد اعظم نے اپنی صحت کو ملحوظِ خاطر میں نہ لاتے ہوئے دن رات مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کے حصول کے لیے کوشاں رہے کیوں قائد اعظم محمد علی جناح جانتے تھے کہ برصغیر پاک و ہند میں دو قومیں آباد ہیں دونوں کے رہن سہن، رسم ورواج، اور سب سے بڑ کر مذہب الگ ہے وہ کسی صورت بھی اکھٹی نہیں رہ سکتیں مسلمانوں کو ایک الگ مملکت کی ضرورت ہے اور ہمیشہ رہے گی جہاں پر وہ اپنے دین و اسلام کی مکمل پیروی کرتے ہوئے زندگی بسر کر سکیں اور مسلمانوں کو ان کے تمام تر حقوق ملنے چائیے جو کہ برصغیر میں رہتے ہوئے ممکن نہ تھا۔

  • ملتان کےگدی نشینوں کا کردار  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ملتان کےگدی نشینوں کا کردار بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    #ملتان کےگدی نشینوں کا_کردار

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    شاھ محمود قریشی وزیر خارجہ نے بڑی محنت شاقہ کے بعد پاکستان کو اپنے دیرینہ اور محسن دوست سعودی عرب سے بالآخر دور کردیا۔ موجودہ حکومت نے جہاں دیگر شعبوں میں ناکامی کے جھنڈے گاڑے ملکی معیشت کو تباہ کیا عوام کی زندگی اجیرن بنا دی وہاں پر خارجہ کے محاذ پر بھی پاکستان دوستوں سے دور ہو رہا ہے اور وہ دوست ممالک جہاں پر ہمارے لاکھوں شہری بسلسلہ روزگار مقیم ہیں اور ماہانہ کروڑوں روپے ہمیں زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ یہ وہ محسن ملک ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔ ہمارا ایٹمی پروگرام، 1965, 1971 کی جنگیں، ایف 16 سولہ طیاروں کی خریداری، 1998 میں ایٹمی دھماکے،2005 کا تباہ کن زلزلہ، 2010 کا قیامت خیز سیلاب یا ہمارا خالی خزانہ بھرنے کی بات ہو سعودی عرب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔
    شاہ محمود قریشی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہیں۔ نیازی حکومت میں قریشی صاحب نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا حصہ رہے گا اور آنے والی نسلیں یاد کریں گی کہ ہمارے وزیر خارجہ نے کس طرح سے کمال مہارت سے پاکستان کو مخلص دوستوں سے دور کیا۔
    معروف دانشور اور کالم نگار جناب خالد مسعود خان نے اپنے ایک کالم” تصوف کی آفاقی قدریں ” میں بیان کیا ہے، گویا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    10جون 1857 کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر 69 جو بغاوت کے شبہے میں نہتا کیاگیا اور پلاٹون کے کمانڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہ تیغ کیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کردی تقریباً بارہ سو سپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاؤنی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاوالدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ یہ مخدومشاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لگڑدادا تھے۔ ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔ کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں دربار شیرشاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا۔ مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگیں لگا دیں ۔ کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ اور کچھ پار پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پار پہنچ جانے والوں کو سیدسلطان احمد قتال بخآری کے سجادہ نشین دیوان آف جلال پور پیر والا نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کردیا۔ جلال پور پیر والا کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی آل اولاد میں سے ہیں۔ مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کورنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال، ہراج، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا۔ مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپئے نقد یا ایک مربع اراضی عطاء کی گئی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیر سالانہ معاوضہ، مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات (کنویں) جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی۔ مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا۔ مخدوم آف شیرشاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
    ( ماخوذ از ( تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا کردار صفحہ نمبر 28 )
    جس کو جاگیر غداری کے صلہ میں ملی ہو وہ اپنے ملک و قوم سے وفا کس طرح سے کرسکتا ہے۔ قوم کو یکسو ہو کر سوچنا چاہیے کہ کس طرح سے یکا یک ایک دیرینہ دوست ہم سے روٹھ گیا اس کا سبب کیا ہے؟
    اور اس وقت جس طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے سترسالہ تاریخ میں اس کا کردار کیا ہے؟
    ایرانی بلاک میں شامل ہوا جارہا ہے جس ایران نے ہمیشہ سے پاکستان سے دشمنی کا کھلے بندوں ثبوت دیا ہے۔ بلکہ اس کے سارے تجارتی اور جنگی معاہدے بھارت کے ساتھ ہیں۔ اس ایران نے ہمیشہ سے پاکستان میں تخریبی کاروائی کرنے والوں کی پشت پناہی کی۔ اور کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گردوں کو اپنے ویزوں پر پاکستان بھیجا تاکہ وہ پاکستان میں خون کی ہولی کھیلیں۔
    اب ہمیں دوست اور دشمن کی تمییز کرنا ہوگی۔
    اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

  • یوم آزادی، ایک عہد کا دن   تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن
    تحریر عشاء نعیم

    تہتر سال پہلے دنیا کے نقشے پہ ایک ایسا وطن ابھرا تھا جس کے بننے سے بھی پہلے کفار کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں اور انھوں نے اس کے معرض وجود میں آنے سے بھی پہلے سازشیں کیں اور اس کے جغرافیہ میں تبدیلی کر دی اور بہت سے اہم علاقے ڈنڈی مارتے ہوئے اس کے دشمن ملک کے حوالے کر دئیے ۔
    جن میں پنجاب کے کچھ علاقے، جونا گڑھ ،مناوادر،حیدر آباد اور سب سے اہم ریاست جسے بانی پاکستان نے شہہ رگ قرار دیا ‘کشمیر’ جس کی سرحد کہیں سے بھارت کے ساتھ نہیں لگتی تھی، صرف ایک علاقہ گورداس پور جو پاکستان کے حصے میں آیا تھا وہ بھی بھارت میں شامل کردیا ۔تاکہ بھارت بعد میں اسی راستے سے کشمیر پہ قابض ہو سکے ۔
    اور ہوا بھی وہی ستائیس اکتوبر 1947ء میں ہی بھارت نے اپنی غیر قانونی ،غیر انسانی طریقے سے، حق خودارادیت کی دھیجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔
    (اس کی اگلی منزل پاکستان تھا لیکن الحمداللہ پاکستان قائم و دائم ہے اور تا قیامت رہے گا ۔ان شا اللہ)۔
    لیکن کشمیریوں نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ سے وہاں نعرہ لگتا ہے "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔
    "تیری جان میری جان ،پاکستان پاکستان، حافظ سعید سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے”۔
    کشمیریوں کے معاملہ جب اقوام متحدہ میں پہنچا تو وہاں فیصلہ کیا گیا کشمیری اپنا فیصلہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے خود کریں گے کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، جسے بھارت نے بھی تسلیم کیا ۔
    لیکن چونکہ بھارت جانتا ہے کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہے کشمیریوں پہ ظلم و ستم ، لالچ کرفیو ،ہر قسم کا ہتھیار ناکام ثابت ہو گیا ہے ان کا ہر جنازہ جو بھارت فوج کے ہاتھوں شہادت کے نتیجے میں نکلتا ہے ،پاکستان کے پرچم میں لپٹا،
    کشمیریوں کے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم اور ایک جم غفیر کے لبوں پہ ‘ ہے حق ہمارا آزادی، پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ ، کشمیریوں کا فیصلہ سناتا ہے۔
    اسی پاکستان نے اور پاکستانیوں نے بھی ہمیشہ کشمیر کو اپنا حصہ اور اپنا حق سمجھا ہے ۔اور ان کی جدوجہد آزادی کی ہر طرح سے حمایت کی ہے ۔کیونکہ قائد اعظم نے اپنی موت سے چند روزقبل فرمایا تھا
    ’’ کشمیر سیاسی اور قومی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔کوئی خود دار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے حوالے کر دے”۔
    وقت کے ساتھ پاکستان کشمیر کے متعلق پالیسی کبھی جارحانہ اور کبھی کمزور لگی ۔کسی حکومت کے دور میں لگا مسلہ کشمیر دبا دیا گیا ہے تو کبھی محسوس ہوا یہ حکومت آزاد کروا کر ہی دم لے گی ۔
    موجودہ حکومت بھی شروع میں کشمیر کے معاملے میں بہت پرجوش نظر آئی لیکن جب پانچ اگست 2019 ء جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اس وقت قوم منتظر تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دے گا لیکن ایسا کچھ ہوتا نظر نہ آیا قوم کی نظریں لگی رہیں۔،لیکن پالیسی کچھ اور نظر آئی کیوں کہ پانچ اگست سے پہلے ہی پاکستان کی ایک بہت بڑی اور کشمیریوں کی حمایتی جماعت جماعت الدعوہ کو کالعدم قرار دیا جا چکا تھا اور اب مزید ان پہ الزامات کے ساتھ ساتھ (جو پہلے بھارت لگاتا تھا ) سزائیں بھی سنائی جانے لگیں ۔یہ جماعت جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک فلاحی جماعت ہے لیکن کشمیریوں کے حق میں بھی بولتی تھی سو اسے پابند کرنے کا صاف مطلب تھا کہ پاکستان میں کشمیریوں کی آواز کو پابند کرنا۔۔۔۔۔اور بہت سے صحافی و دیگر طبقے کے لوگ بھی کہتے ہیں جب کشمیریوں کی آواز حافظ سعید کو پابند کرتے ہو تو کشمیر کی آزادی کی حمایت کیسی ؟
    لیکن وقت مزید آگے بڑھا تو ایک خوش آئند اعلان ہوا کشمیر کی تحریک آزادی کے روح رواں سید علی گیلانی صاحب کو نشان پاکستان دینے کا اعلان ہوا ،جس سے اندھیرے میں کچھ روشنی ہونے کا امکان نظر آیا ۔
    لیکن اس کے بعد پھر خاموشی اور اب اچانک پاکستان نے کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل کرلیا ہے اور آفیشلی جاری کرنے کے ساتھ اعلان ہوا ہے کہ اسے اقوام متحدہ سے منظور کروایا جائے گا ۔
    یہ انتہائی خوش کن اعلان ہے ۔
    اس سے قوم کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اگر حکومت پاکستان یہ نقشہ اقوام متحدہ میں اپروو کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لیے کشمیر کا حصول آسان ہو جائے گا ۔
    لیکن مسلہ یہ ہے کیا اقوام متحدہ جو تہتر سال سے اس مسلے پہ چند ایک جملے بولنے اور سننے کے علا وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ،واقعی اس نقشے کو تسلیم کر لے گی ؟
    اقوام متحدہ جو ایک(غیر مسلم ) انسان کے لیے تڑپ اٹھتی ہے ،جو سوڈان میں تو ایک سال کے اندر اندر عیسائیوں کی الگ ریاست قائم کروادیتی ہے کیا کشمیریوں کے بہتے خون کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اس اقدام کی حمایت کرے گی ؟
    یا موجودہ حکومت یہ سب کر کے صرف قوم کے دماغ ٹھنڈے کرنا چاہتی ہے ؟
    میرے سوالوں کے جواب یقینا کسی کے پاس نہیں بلکہ یہ وقت کے پاس ہیں اور وقت ہی دے گا ۔
    پاکستان کو بنے تہتر سال ہو گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہے کیونکہ شہہ رگ کے بغیر کوئی وجود قائم نہیں رہ سکتا ہے اور ہماری شہہ رگ پہ دشمن قابض ہے دشمن سے اپنی شہہ رگ کو ہر صورت چھڑوانا ہوگا ۔
    تاکہ تکمیل پاکستان ہو سکے ۔
    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے
    سن اے دشمن ہم لوٹیں گے
    تیری طرف ابھی ہماری جاگیر باقی ہے

  • آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون   تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون
    محمد نعیم شہزاد

    آزادی نام ہے ایک جذبے کا، ایک لگن ہے جو قلب و روح کو مضطرب رکھتی ہے اور جابر کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ اور پیار میں سب جائز ہے۔ آزادی جنگ اور پیار دونوں کے جذبات کا دلنشین مرکب ہے، یہ محبت ہے اپنے وطن کی، یہ جنگ ہے باطل کو مٹانے کی اور اپنے وطن کا پھریرا لہرانے کی۔ یہ جذبہ سب جذبات پر غالب ہے اور وطن کی محبت تمام محبتوں پر حاوی ہے۔ آزادی متاعِ عزیز ہے مگر اس کے حصول کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ آزادی کے لیے سچے جذبے اور لگن کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
    یہ لگن ہی ہے جو اپنا آپ بھلا دیتی ہے اور صرف آزاد فضاؤں میں بسنے کی تمنا بے چین رکھتی ہے۔ دن، رات ایک ہی لگن میں مگن آزادی کے پروانے جان تک دینے سے دریغ نہیں کرتے اور اپنے خون سے آزادی کی داستان کو امر کر دیتے ہیں ۔

    لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

    اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

    مملکت خداداد پاکستان آزادی کے 73 ویں جشن کی تیاری میں ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان بن تو گیا ہے مگر قائم نہ رہ سکے گا۔ تحریک آزادی پاکستان کے راہنما محمد علی جناح کے الفاظ آج بھی کان میں گونجتے ہیں کہ کوئی طاقت بھی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی اور ہم اپنی آنکھوں سے اس عظیم قائد کی بصیرت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
    وسائل کی کمی کے باوجود، جان و مال کے نقصان کے بعد لٹے پھٹے کارواں کو آزاد وطن میں آباد کر کے اس عظیم شخص نے اسی جذبہ حریت کے تحت یہ الفاظ ادا کیے جن کی صداقت پر آج دنیا شاہد ہے۔ اس عالیشان جذبہ کی بنیاد دو قومی نظریہ پر استوار تھی۔ یہ ایک ایسی مضبوط بنیاد ہے جس پر تعمیر وطن ممکن ہوئی۔ جذبوں کی صداقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    آزادی کے 73 برسوں میں ارض وطن نے مختلف موسموں کے رنگ دیکھے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، طاقت اور اختیار کے حصول کی جنگ، اقرباء پروری، بددیانتی اس ملک کے لیے ناسور بنی رہی اور اس کی ترقی کی راہ میں حائل رہی مگر ارض پاکستان نے خدائے ذوالجلال کی رحمت و عنایت سے وہ کمال پایا جو کسی اور کو حاصل نہ ہوا۔ آج بڑی بڑی طاقتیں پاکستان سے دوستی کی خواہاں ہیں اور پاکستان سے اچھے تعلقات بنانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تجارتی معاہدے کیے جاتے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو گوادر پورٹ کی شکل میں ایک عظیم الشان انعام سے نوازا ہے۔ اور ریاست پاکستان اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے مگر اک کسک باقی ہے، پاکستان تقسیم ہند کے فارمولے اور نظریہ پاکستان کے مطابق ابھی اپنے وجود کی تکمیل کا منتظر ہے۔ کشمیر جنت نظیر پر جابر بھارت قابض ہے اور ہر ستم روا رکھے ہوئے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کی الگ حیثیت کا انکار کرتے ہوئے اسے اپنا اٹوٹ انگ ظاہر کیے ہوئے ہے۔ اس انگ بے رنگ کا ٹوٹنا ہے اچھا جس کا وجود زمانے بھر کے لیے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ معنی نہیں رکھتا۔ 73 برسوں میں تحریک آزادی کشمیر نےبھی کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، ہواؤں کے بدلتے رخ، اپنے بیگانوں کی کج ادائی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی سماعت سے محرومی عام رہی مگر جب نوجوان آزادی کے جذبے سے معمور ہوں اور زبان حال سے کہہ رہے ہوں

    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

    تو ان کے جذبوں کو مات نہیں دی جا سکتی۔ سال بھر سے وادی جنت نظیر میں بدترین لاک ڈاؤن ہے، ذرائع مواصلات بند ہیں، مگر دنیا میں بھارتی دہشت گردی کی بازگشت گونجتی ہے۔ کشمیری حریت رہنماؤں سے دنیا اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان کو ہیرو مانتی ہے۔ راستے کھل رہے ہیں، منزل نظر آ رہی ہے پاکستان نے اپنا نیا نقشہ جاری کر کے بھارت کے اٹوٹ انگ کا نظریہ توڑ دیا ہے شاہراہ کشمیر کا نام بدل کر

    کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا

    تھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت

    دیواریں گر رہی ہیں، راستے کھل رہے ہیں اور انقلاب برپا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زمانہ تیزی سے تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں

    کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

    در و دیوار آزادی کے نغموں سے گونج رہے ہیں، فضائیں معطر ہیں افق سے آزادی کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے مگر ہم ہزیمت کا شکار کیوں ہیں، کیوں اپنے وطن کے محبان کو پابند سلاسل کرتے ہیں۔ اغیار تو جان کے دشمن تھے ہی اپنے تو بیگانوں جیسی روش پر نہ اتریں ۔ چمن میں بہار کی آمد ہے مگر نغمہ سرا بلبلیں پنجروں میں بند ہیں۔ کشمیر میں روز اٹھتے لاشوں کو دیکھنے سے محروم بصارتوں کو وطن پرستی جرم نظر آتی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے مگر انسانی رویے یاد رکھے جاتے ہیں۔ محسنین کی جگہ زندان نہیں بلکہ ان کا مسکن آزاد وطن کی آزاد فضائیں ہیں۔ آزادی کے متوالوں کی آزادی بحال کی جائے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرنے دیا جائے۔ وہ دن دور نہیں ہے جب ہم حقیقی اور مکمل آزادی کا سورج دیکھیں گے۔

    نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز

    یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی

  • یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ
    جویریہ بتول

    یومِ آزادی قریب ہے اور دل میں مچلتا شکر کا اک سمندر ہے…
    جذبات کے دریا کے دھارے ہیں تو آنکھوں میں تشکر کے آنسو…
    کہ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے اور اس کے لیئے آگ و خون کے کتنے صحرا و دریا طے کرنا پڑتے ہیں…؟
    گزشتہ یومِ آزادی سے اس یومِ آزادی تک کا عرصہ ایک درد کی کیفیت میں گزرتا رہا ہے…
    کشمیر میں کرفیو کے بعد پاکستان اور اہلیانِ پاکستان کو ایک عجب سی بے کلی اور اضطراب کا سامنا رہا ہے اور انسانیت کی اس پامالی پر ہر فورم پر مناسب آواز بلند کی جاتی رہی ہے…
    جوں جوں یومِ آزادی قریب آتا ہے تو اس دل کی دھڑکنیں مذید تیز ہونے لگتی ہیں اور بانیانِ پاکستان کی دور اندیشی اور تدبر کو سلامِ عقیدت کھل کر پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ جنہوں نے یہ ناؤ دوہری دشمنی کے گرداب سے نکال کر ساحل تک پہنچائی اور آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی اور آزاد فضاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں…
    حبس کی اس رُت میں یومِ آزادی سے قبل ایک ٹھنڈا جھونکا یہ ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان نے مقصدِ قیام پاکستان کے عین مطابق ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے،جو جہدوجہد آزادئ کشمیر کو ایک نیا رنگ اور نیا موڑ فراہم کرنا ہے…
    اگرچہ مہذب دنیا نے اس سنجیدہ مسئلہ سے مکمل آنکھیں موڑ رکھی ہیں لیکن پاکستان نے کشمیریوں کو تنہائی کا احساس کبھی نہیں ہونے دیا…
    یہ جدید دور کی جدید پالیسیاں ہیں جنہیں دشمن کے عزائم کے جواب کے لیئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
    پاکستانی قوم کے ساتھ اب حکومتی سطح پر یہ اقدامات بلاشبہ لائقِ تحسین ہیں اور مظلوموں کے رِستے زخموں پر مرہم کی ایک کوشش بھی…
    تحریکِ آزادئ کشمیر کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کے لیئے نشانِ پاکستان کا اعلان بھی ان کی پاکستان سے اٹوٹ انگ محبت کا اعتراف ہے جسے سراہا جانا چاہیئے…
    یہ تو سچ ہے کہ آزادی اور قید برابر نہیں ہیں،پنجرہ اگر سونے کا بھی ہو تو وہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا…
    اسی کے لیئے ایک سفر کا آغاز ہوا تھا جو پاکستان کی شکل میں تعبیر سے ہمکنار ہوا،
    اور تشکیلِ پاکستان سے تکمیلِ پاکستان کا یہ سفر کشمیر کے گلی کوچوں میں جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کی شکل میں آج بھی جاری ہے…
    اس راہ کے مسافروں نے سفر کی ہر صعوبت کو برداشت کر کے بھی اس سفر کی روانی کو زندہ رکھا ہے…!!!
    اپنے کیریئر،کاوبار اور نسلیں قربان کر کے اس سفر کو لہو کے چراغوں سے روشنی بخشی ہے، تو یومِ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ان کی آزادی کی خواہش کی تکمیل کے لیئے دل سے نکلتی دعائیں ہیں اور عالمی انسانیت کی رکھوالی کے دعویداروں کے کردار پر افسوس بھی…
    حب الوطنی ایک ایسا جذبہ ہے جو زبردستی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسان کے دل اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور وہ وطن کی مٹی سے محبت اپنی سانسوں کا حصہ بنا لیتا ہے اور پھر اگر اسے جُرم بھی کہا جائے تو اسے اپنے حسابوں میں رکھنا فخر بن جاتا ہے…
    بلاشبہ ایسے لوگ قوم کے عسر و یسر کے لمحات میں ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کی قدر دانی اور ان کا پیغام دنیا تک پہنچانا کشمیر کی تحریکِ آزادی کی مضبوطی ثابت ہو سکتی ہے۔
    ہمیں محب وطن لوگوں کی قدر کرتے ہوئے پاکستان کے وقار،اس کے سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی اور تعمیر و ترقی کے لیئے مل کر کردار ادا کرنا اور آگے بڑھنا ہو گا کہ کسی بھی قوم کی مضبوطی اور کامیابی کے یہی معیار ہیں…!!!
    سفرِ خونچکاں کی یہ داستان آزاد پاکستان ہم سب کا مان،شان اور آن ہے…!!!
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    اس کے دم سے قائم ہیں…
    یہ دل اور جان ہماری…
    لاکھوں جانیں لٹا کر پائی…
    یہ دھرتی مثلِ گلستان ہماری…
    اس کا درد ہے اپنا درد…
    اس کی خوشی پہچان ہماری…
    ہر مشکل سے ٹکرائیں گے ہم…
    اس کی پکار ہے زبان ہماری…
    ہر اک میلی نگاہ پھُوٹے گی…
    ہرائے گی ہمیں نہ تھکان ہماری…
    اس کے محافظوں کے دم قدم سے…
    سوتی ہے قوم با امان ہماری…
    نہ در آسکےگا کوئی روزنِ دیوار سے…
    ہے حصار کی عمارت عالیشان ہماری…
    عدو نے قوت پہ بھروسہ کیا تھا…
    خاصیت تھی لیکن جذبۂ ایمان ہماری…
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    بلاشبہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ بے مول تو نہیں ملا کرتی…تاریخِ قیام پاکستان اس کی سب سے بڑی گواہ ہے۔
    دعا ہے مرا وطن سلامت تا قیامت رہے…آمین
    قوم کو یومِ آزادی مبارک…!!!

  • آزادی کی گونج   تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج
    منہال زاہد سخی

    وہ قلم اٹھانا چاہتا تھا لیکن اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے یا قلم میں روشنائی نہیں تھی یا اس کے ہاتھ سطریں لکھنے سے قاصر تھا ۔ اس کا دل اسے پکار رہا تھا لکھ دے لیکن اس کا دماغ اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔ اسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ پچھلے دور کی شہنائیاں پھر کبھی نہیں بجیں گی ۔ لیکن وہ اک بات سے بے خبر تھا کہ شہنائیاں بجیں گی ضرور لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ ہاں وہ لکھنا چاہتا تھا ایک ایسی شخصیت کو جسے دنیا نے خود لکھ دیا تھا ۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔ وہ اٹھا اور کمرے میں روشنی کرتی ڈیجیٹل شمع کو بجھا دیا ۔ اور خوب رونے لگا ۔ اس کی ہچکی بند گئی اس کی چھوٹی سی داڑھی بھیگ چکی تھی ۔ آنسو اس کی قمیض کو تر کر رہے تھے ۔ وہ اس شخصیت کا ادنیٰ سا غلام تھا اور ساری عمر غلامی میں جینا چاہتا تھا ۔

    اس کی آنکھوں کے بہتے آنسوؤں میں اس اک شخصیت کے ماضی کا عکس تھا ۔ اس کی یاد گیلی پلکوں میں نقش تھی ۔ کمرے کے ویران سے ماحول سے اسے اس کی آواز اپنی سماعتوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی ۔ اس کا ذہن یہ تسلیم نہیں کر رہا تھا کیوں اک بے گناہ کو سزا دی گئی ہے کیوں اس پر مقدمات کی بھرمار ہے ۔ وہ خود سے کہنے لگا سب کچھ حقیقت ہو سکتا ہے لیکن اس ایک کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اس کے سوچوں میں پھر کچھ الفاظ اور جملے گونجنے لگے ۔ سال 2017 کشمیر کے نام ۔ سال 2018 بھی کشمیر کے نام ۔ وہ تو محض اک اعلان تھا لیکن اس کی ساری زندگی قائد اعظم کی بتلائی گئی پاکستان کی شہہ رگ کی خاطر وقف تھی ۔ اس کی مکمل زندگی اس مادر ملت کے دفاع کیلئے گزری ۔ اس کی شخصیت ایسی کہ ہر شخص اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔ اس کا رعب ایسا کہ دشمن نام سن کر کانپنے لگتے ۔ اس کا نام اتنا عزت دار کہ کشمیر کی وادیوں میں ہتھیار بم اور دھماکوں کی گونج میں گونجتا تھا ۔ اس کا کردار ایسا کہ ہر شہید کے جنازے پر اس کے نعرے گونجتے ۔ شہداء کی خواہش آخر ہوتی کہ اس سے مل کر اس کی آواز سن کر جام شہادت نوش کروں ۔ اس کے ذہن میں خاکہ بنتا چلا گیا ۔ اس کی پکار اس کی سماعتوں سے ٹکرا کر اسے جھنجھوڑ رہی تھی ۔ اس نے قلم پھینکا ڈائری بند کی اور پورے گھر کو روشن کرتا ہوا باہر نکل چکا ۔ وہ چل رہا تھا بوجھل قدموں سے اس کا بدن اسے آگے بڑھنے کا کہہ رہا تھا لیکن اس کے بوجھل قدموں میں جان نہیں تھی ۔ وہ بار بار اپنے بازو کو اوپر کر کے آنکھیں اور ناک صاف کرتا ۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ۔ اور وہ بار بار یہ عمل دہرانے پر مجبور ہو جاتا ۔

    اس نے وطن عزیز کے 72 برس سامراج کی قید پر نظر دوڑائی تو اسے وجود بے قابو ہوتا دکھائی دیا ۔ پھر سے اس کے خیالات اس کے ذہن میں نہیں اس کے پورے بدن میں گردش کر رہے تھے ۔ آج 5 اگست 2020 تھا اور بنیے کے کرفیو کو کشمیر میں اک سال ہوگیا تھا ۔ اس کے ذہن میں بار بار اک خیال چمک رہا تھا اگر وہ آج آزاد ہوتا تو کوئی کراچی سے اسلام آباد کشمیر مارچ ہوتا ۔ اس کے ذہن میں لاہور سے اسلام آباد کا مارچ گردش کر رہا تھا ۔ اس کے آنسو کم ہوگئے تھے پر رکے نہیں تھے وہ چلتا جا رہا تھا اچانک اس کی نظر ڈیجیٹل بینرز پر پڑتی ہے جو کشمیری رہنماؤں کا عکس پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کی دیواروں پر آویزاں تھے ۔ وہ اک دفعہ تو سوچنے پر مجبور ہوگیا کیا یہ وہ ہی پاکستان ہے ۔ کیا پاکستان کی قیادت کے تخت پر مخلص لوگ براجمان ہوگئے ہیں ۔ اسے پورے اسلام آباد میں یہ ہی نظر آیا ۔ وہ سب کچھ بھول چکا تھا ۔ دھیرے دھیرے اسے ساری بات سمجھ آنا شروع ہوگئی تھی ۔ وہ گھر کی جانب تیز تیز قدم چل پڑا ۔ اسے سوشل میڈیا استعمال کئے کافی وقت بیت چکا تھا ۔ وہ گھر پہنچا وائی فائی کا بٹن دبایا ۔ موبائل جیب سے نکالا اس کے موبائل پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا ۔ اس نے موبائل کھولا فیسبک لاگن کی تو پہلی پوسٹ دیکھ کر حیران ہوگیا ۔ کہ حکومت نے پاکستان کے نقشے کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ مکمل کرلیا ہے ۔ اور وہ نقشہ اقوام متحدہ میں پیش ہوگا اسے یقین نہیں آیا ۔ وہ فیسبک کی نیوز فیڈ دیکھتا گیا ۔ اور آگے کیا دیکھتا ہے برطانوی پارلیمنٹ کی دیوار پر آویزاں ڈیجیٹل بینر کشمیر کیلئے حق کی آواز بلند کر رہا ہے ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا اور کیا دیکھتا ہے کراچی بین الاقوامی ہوائی اڈہ کشمیری رہنماؤں اور کشمیر کے حق میں لگے بینرز سے سجا ہوا ہے ۔ اس نے پڑھا کی سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا ایک پوسٹ پر آکر وہ رک گیا ۔ وزیر اعظم کے آفیشل فیسبک پیج مجاہد گیلانی خطاب کرتے نظر آئے ۔ بہت کچھ ایسا اس کی بصارتوں سے ٹکرایا ۔ اس پر سکتہ طاری ہوچکا تھا ۔ وہ بہت کچھ اپنے قلم کی نوک کے نذر کرنے کیلئے جمع کر چکا تھا اس کے خیالات اس کے قلم پر مضبوط گرفت کر رہے تھے ۔ قلم میں جان آگئی تھی لیکن اس کے بدن پر سکتہ طاری تھا ۔

    وہ سمجھ گیا تھا کہ کس شخصیت کی آج آواز گونج رہی ہے ۔ وہ پر سکون تھا اس کی مکمل تھکاوٹ کسی اجنبی راستے کی مسافر بن چکی تھی ۔ وہ اپنے خیالات کی دنیا میں گم ہو چکا تھا ۔ کوئی اسے اس خیالات سے نکالنے کیلئے موجود نہ تھا ۔ اچانک ڈیجیٹل شمع بجھ گئی اسے پنکھے کی ہوا آنا ختم ہوگئی ۔ اور اسی لمحے وہ وہ اپنے خیالات کے محور سے نکل چکا تھا ۔ وہ اٹھا اس کے قدموں میں جان آگئی تھی ۔ وہ وضو کرنے کیلئے چل پڑا ۔ وضو مکمل کرکے اس نے دو رکعت نماز ادا کی اور دونوں ہاتھ بلند کر کے اس ایک شخصیت کیلئے دعا مانگنا شروع کردی اس کی آنکھیں پھر بھیگ چکی تھیں ۔ اور اس کے لبوں سے دعا نکل رہی تھی اے اللہ اس شخصیت کو سلامت رکھنا اس کی حفاظت فرمانا اس کی عمر میں اضافہ فرما ۔ اور نجانے کس لمحے دعا مانگتے مانگتے اس کی آنکھ لگ گئی ۔ اس کو معلوم ہوچکا تھا ماضی کی شہنائیاں بج رہی ہیں لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ اسے معلوم ہوچکا تھا اس ایک شخص کی آواز ہزاروں سال گونجے گی ۔ (آمین)

  • یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر

    صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان ایسی ریاست ہے جس کا قیام اسلامی اصولوں کی بنیاد پہ وجود میں آیا جس کا مقصد اسلامی روایات کی پاسداری کرنا اور تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کو حقوق کا تحفظ کرنا تھا تاکہ تمام مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کر سکیں اور اس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بہت زیادہ قربانیاں پیش کیں اور اس گلشن کو اپنے خون سے سینچ دیا لیکن تحریک آزادی میں ذرا بھی خلل نہیں آیا اور ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور محنتوں کی بدولت 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آ گیا لیکن بدقسمتی سے شہ رگ پاکستان کشمیر پہ بھارتی ظالم افواج نے زبردستی قبضہ جما لیا اور ان پہ طرح طرح کے مظالم ڈھانا شروع کر دئیے اور طاقت کے استعمال سے کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع لر دیے لیکن کشمیری ان مظالم پہ بالکل بھی نہ جھکے بلکہ ان کے آگے آہنی دیوار بن گئے اور ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے جس کے نتیجے میں وہ آزاد کشمیر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس سرگرم تحریک کو دیکھ کے بھارت گھبرا گیا اور مجاہدین کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے آگے گڑگڑانے لگ گیا اور یقین دہانی کروائی کہ ہم اس مسئلے کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے اس لیے آپ ہتھیاروں کا استعمال نہ کریں اور اس بات پہ کشمیریوں نے سمجھوتہ کر لیا تاکہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے لیکن انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر یہاں پہ ریفرنڈم ہوا تو کشمیر ہاتھ سے نکل جاۓ گا اس لیے انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس خطے کے مسئلہ کو سلجھانے کی بجاۓ متنازعہ بنا دیا اور تب سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کی گونگی زبان کو کوئی ہلا نہیں سکا اور اس نتیجے میں کئی کشمیری عورتیں بزرگ جوان اور بچے اپنی جانیں اور عصمتیں گنوا چکے ہیں کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے ان کو نابینا کیا جاتا ہے تو کبھی ان کی نسل کشی کرنے کے لیے نوجوانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی معصوم عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور بوڑھوں تک کو مارا پیٹا جاتا ہے لیکن سلام ہے ان کشمیریوں کو جنہوں نے لاکھوں جانوں کے نذرانوں کے باوجود پاکستان کا پرچم ہی لہرایا ہے اور اسی میں دفن ہوۓ ہیں۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کشمیر پاکستان پاکستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتا اس کے لیے ہم نے کیا رویہ رکھا اور ان کے لیے کیا کیا؟

    تقریباً پون صدی سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہونے کی وجہ سے ظلم و ستم کا شکار ہے اور اس حوالے سے کئی حکومتوں کا ایجنڈا آزادئ کشمیر تھا اور کئی حکومتوں کا کام اس مسئلہ کو صرف اور صرف الجھانا ہی تھا جس کی وجہ سے کشمیریوں کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا بھی ہوا لیکن وہ پھر بھی ثابت قدم رہے یہاں تک کے جواں سالہ حریت رہنما جیلوں میں پڑے بوڑھے ہو گئے اور ان کا جرم تک ثابت نہیں ہو پایا لیکن ان کا ایک ہی نعرہ تھا ہے اور رہے گا کشمیر بنے گا پاکستان۔

    نظریہ پاکستان اور کشمیر پہ ہونے والے ظلم و ستم پہ پاکستان اور کشمیر کے دلوں کی دھڑکن حافظ محمد سعید اور اس کی فلاحی تنظیم کو بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے بین کر دیا جاتا ہے اور حافظ محمد سعید کو بلا وجہ پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے جو کہ کشمیریوں کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے لیکن دوسری طرف عمران خان صاحب کی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے کشمیر کے حوالے سے ان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ کشمیر پہ ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جاۓ اور ان کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا جاۓ اور انہیں یادہانی کروائی جاۓ کہ پون صدی سے جس مسئلہ کو پس پشت ڈالا گیا ہے اب اس کو حل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اب مزید کشمیری نوجوان ان کے ظلم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جاۓ گا لیکن بوکھلاہٹ کے شکار بھارت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا اور ظلم و تشدد کا بازار گرم کر دیا اور اگلے ہی ماہ عمران خان صاحب نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوۓ بھرپور طریقے سے مظلوم کشمیریوں کی وکالت کی اور بھارت کے ناپاک عزائم سے باخبر کیا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کر دیا اور یہ پاکستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی وزیراعظم اس طرح کھل کے کشمیر کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف بول رہا تھا اور اس طرح کشمیر کے حوالے سے سفارتی محاذ کو بھی شاہ جی (شاہ محمود قریشی) نے زبردست طریقے سے سنبھالا اور ہر فورم پہ بھارت کو بے نقاب کیا اور کشمیریوں پہ ہونے والے ظلم کو عیاں کیا۔

    اب بھارتی کرفیو کو سال بیت چکا ہے تو پاکستان نے اس دن کو یوم استحصال کے طور پہ منایا اور کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر کے سیاسی و سرکاری نقشہ جاری کر دیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ یہ بھارت کی طرف سے غیرقانونی قبضہ ہے اور کشمیر ہائی وے کو سرینگر ہائی وے کا نام بھی دے دیا اور پوری دنیا خصوصاً بھارت میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ یہ نقشہ ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس موقع پہ اعلان کیا کہ 14 اگست کو بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو بھی نشان پاکستان کا اعزاز بھی دیا جاۓ گا جو کہ اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ پاکستان کشمیر کے ساتھ تھا ہے اور رہے گا اور اسی طرح بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھاتا رہے گا اور یہ اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے جنگ کو کارآمد نہیں سمجھتا بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتا ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔

    ہمارا کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف ہے اور اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے جس طرح ہمارے اسلاف نے پاکستان حاصل کرنے کے لیے ڈھیروں شہادتیں پیش کیں اور طرح طرح کے مصائب سے گزرے اسی طرح ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور جلد ہی کشمیر کو آزاد کروائیں گے ان شاء اللہ

    اللہ حکومت پاکستان کو اسی طرح کشمیریوں کا ساتھ دینے اور بھارتی بربریت کا پردہ چاک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی جاگنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ