Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم آزادی پاکستان اور ہم  تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم
    شعیب بھٹی

    14 اگست پاکستانیوں کو آزادی کی یاد تو دلواتی ہی ہے لیکن نظریہ پاکستان کی خاطر شہید ہونے والے ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے۔ جنہوں نے کلمہ کی بنا پر یہ ملک حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی، اس خطے کو پیارا سا نام دیا اور اس کا نام لبوں پر سجاۓ پیاری سی نٸی وجود میں آنی والی مملکت کو دیکھنے کے خواب آنکھوں میں سجاۓ اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گٸے۔ دو قومی نظریہ اسلامی نظریہ حیات پر مبنی نظریہ ہے اس نظریہ پر ایک ملک کا وجود میں آنا مسلمانوں کے دور غلامی سے نکلنے کی نوید تھا۔ برصغیر کے مسلمان ایسا خطہ حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھے۔ پھر وقت آیا سر سید و اقبالؒ کے خواب کو قاٸد اور ساتھیوں کی محنت سے تعبیر ملی تو وقت نے قربانیوں کا تقاضا کردیا۔ وقت کا دامن خون سے بھرنے کے لیے برزگوں نے اپنا خون پیش کیا۔ ماٶں کی عزتیں نچاور ہوٸی معصوموں کو نیزوں میں پرویا گیا۔ کنوٶں میں چھلانگیں لگاٸی گٸیں لیکن خون سے وقت کا دامن بھرنے تک ڈیڑھ لاکھ لوگ قربان ہوچکے تھے۔ یہ قربانیاں نٸی نویلی دلہن کی طرح سندر اسلامی مملکت میں زندگی گزارنے کی ٹرپ میں پیش کی گٸی تھی۔ لیکن ابھی کچھ اور بھی تھے جنہوں نے نجانے شاید صدیوں اس مملکت میں شامل ہونے کے لیے قربانیاں دینی تھی۔ جو گڑھ، حیدر آباد دکن، پنجاب اور راجھستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو مکار ہندوٶں اور انگریزوں نے مل کر پاکستان سے نکال دیا اور ان علاقوں کے مسلمانوں کا مقدر ہندٶوں کی غلامی ٹھہری وہ اس پر آمادہ نہ ہوۓ ہجرت کی کوشش میں کچھ کٹ گٸے اور کچھ نے غلامی کو قبول کرلیا۔ بلکل اسی طرح ایک اور جنت نظیر خطہ جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور اس خطے پر پلید ہندٶوں نے مکر و فریب سے قبضہ کرلیا۔ قاٸد اعظم نے اس کی آزادی کی خاطر جہاد کا حکم دیا تو انگریز آرمی چیف نے فوج داخل کرنے سے انکار کردیا جس پر قباٸلی مجاہدین نے اس خطہ پر موجود دہشت گردوں پر حملہ کیا اور چھوٹا سا علاقہ آزاد کروالیا فتوحات کو دیکھتے ہوۓ مکار ہندٶ چالبازی سے اسکو اقوام متحدہ میں لے گیا اور خطے کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کرنے لگا لیکن یہ آواز پون صدی سے نہ دب سکی ہے نہ کم ہوٸی ہے بلکہ روز بڑھتی ہی جارہی ہے شاید اس اسلامی مملکت کے لیے ابھی اور قربانیاں درکار ہیں تبھی تو ظالم آزاد ہیں اس خطے کا نام کشمیر ہے ہاں کشمیری اس بات کے لیے خون دیتے جارہے ہیں کہ ہم نے اسلامی مملکت میں شامل ہونا ہے
    پچھلے 72 سالوں سے کشمیری ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ لیکن 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد کشمیر کو مکمل جیل بنادیا گیا۔ گجرات کے مسلمانوں کا قاتل انڈین وزیراعظم مودی جبر و طاقت سے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانا چاہتا ہے لیکن یہ ہرگز مکمن نہیں ہوگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر کی تحریک آزادی میں بہت زیادہ شدت آٸی جس سے فاٸدہ حاصل کیا جاسکتا تھا اور عالمی دنیا کو متوجہ کرنے کا سنہری موقع نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے گنوا دیا گیا۔ کشمیری پوسٹر بواۓ برہان وانیؒ کی شہادت کے بعد سگنباز تحریک میں کشمیر کے طلبا و طالبات کی شرکت نے انڈیا کو پریشان کردیا تھا لیکن ایسے وقت میں پاکستانی حکمرانوں نے کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کی بجاۓ ہندوستان سے دوستی بڑھانی شروع کردی۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا کشمیری حریت رہنما سے ملاقات پر پابندی کی شرط پر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا کمشیریوں سے غداری کے مترادف تھا لیکن کشمیریوں نے پھر پاکستان کے علم کو تھاما سینے سے لگایا اور اسی میں دفن ہونا اعزاز سمجھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کشمیر کی بات عالمی فورم پر اٹھانا شروع کی۔ 5 اگست کے اقدام کے بعد 14 اگست کو پاکستانی پرچموں کے ساتھ کشمیری پرچم بھی پورے پاکستان میں لہراۓ گے اور کشمیریوں کو پیغام دیا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے ستمبر 2019 میں وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں خود کو کشمیر کا سفیر کہا اور قوم سے وعدہ کیا کہ ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز بلند کروں گا۔ عمران خان نے حکومت کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کو پہلی ترجیح بنایا جو کہ پچھلی 20 سالہ حکمرانوں کی بے اعتناٸی کا شکار تھی پچھلے 20 سالہ اقتدار میں گزشتہ حکومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کا ازالہ شروع کیا گیا اور اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کشمیر کے حقیقی سفیر ہونے کا حق ادا کیا۔ اس خطاب میں ہندوستانی وزیراعظم کی دہشت گرد سوچ اور دہشت گرد ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ تعلق کو بے نقاب کیا۔ مودی کو ہٹلر اور نازی ازم سے متاثرہ بتایا اور آر ایس ایس کے دہشت گرد نظریات کو دنیا کے سامنے عیاں کیا جو ایشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ اس خطاب کے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کے لیے پچھلے 50 سال میں پہلی مرتبہ بند کمرہ اجلاس بلایا۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے سفیر کے ساتھ وکیل بھی بن گٸے اور خارجہ پالیسی کو پچھلی حکومت سے بہتر کرتے ہوۓ پاکستان کو عالمی تنہاٸی سے نکال لاۓ۔ ستمبر 2019 میں بھارت نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ وکیل کشمیر وزیراعظم عمران خان نے جوابی وار کرتے ہوۓ کابینہ سے پاکستان کا نیا نقشہ پاس کروایا جس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس نقشہ کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا اور ساتھ ہی اسے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا حکم دیا جو کہ موجودہ حکومت کا احسن اقدام ہے۔ اسلام آباد میں موجود کشمیر ہاٸی وے کا نام تبدیل کرکے سرینگر ہاٸی وے رکھ کر اس بات کا عزم کیا گیا کہ اب اس قافلے کی منزل سرینگر ہے کشمیریوں کے دل سدا سے پاکستان کے ساتھ ڈھرکتے ہیں اور کشمیریوں کے ہاں اسلامی مہینوں کا آغاز پاکستان کی سرکاری اعلان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جو کہ محبت اور تعلق کی اعلٰی مثال ہے۔ کشمیری بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جو بھارتی جبر و استبداد کے سامنے آہنی دیوار ہیں جن کا حوصلہ و استقاقت کے ٹو اور ہمالیہ سے بلند ہے پاکستان سے بے لوث محبت کے اعزاز میں انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ "نشان پاکستان” دینے کا اعلان کیا گیا اور سینٹ میں اس کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گٸی۔
    اس حکومت نے پچھلی حکمومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو بدل کر کشمیر کو ترجیحی پالیسی بنادیا ہے لیکن کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے والے، محب وطن طبقہ گزشتہ کی طرح اس حکومت میں بھی پابند سلاسل ہے جن کا جرم پاکستان کو عالمی معیار کی فلاحی تنظیم دینے کے ساتھ کشمیر کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ سفیر کشمیر سے وکیل کشمیر کے سفر کو مکمل کرنے لیے وزیراعظم عمران خان کو ناکردہ جرموں کی سزا کاٹنے والے محب وطن طبقے کے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو مثبت پیغام دیا جاسکے کہ آپ کی خاطر آواز بلند کرنے والے پاکستانیوں کی آنکھ کے تارے ہیں۔ محسنوں اور محب وطن طبقے کا دفاع ہر حکومت کی خارجہ پالیسی میں شامل ہونا چاہیے اور اس پر بلاوجہ کے عالمی دباٶ کو مسترد کردینا چاہیے۔
    عمران خان کا 5 اگست کو یوم استحصال منانا، اسلامی ممالک کی رکن تنظیم کے سربراہ کو کشمیر پر خاموش رہنے پر سخت ردعمل دینا قابل صد تحسین ہے لیکن ملک و ملت کے دفاع کے لیے جانیں نچاور کرنے والوں کو نظر انداز کرنا نہایت حوصلہ شکن کام ہے جس سے محب وطن طبقے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے کشمیر کا سفیر اور وکیل بننے کے لیے کشمیر کی پاکستان میں موثر آواز کو دبنے سے روکنا ہوگا۔ کشمیر شہ رگ پاکستان ہے اس کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور شہ رگ کو دہشت گردوں سے آزادی دلوانے لیے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ آرایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اس نظریے کو کچلنے کے لیے عالمی دنیا کو عمران خان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔ دنیا کا امن اب کشمیر سے جڑ چکا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اگر حالات بگڑے تو اس کی ذمہ دار گونگی،بہری اور اندھی دنیا ہوگی۔ جو مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشاٸی بنے ہوۓ ہیں۔ ہم کشمیری ہیں کمشیر ہمارا ہے

  • آزادی کی شفق  تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق
    عاصم مجید لاہور

    دنیا میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
    نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان بھی اپنی منزلیں متعین کر چکا ہے۔
    چین کا دنیا بھر میں تجارتی منصوبہ ترقی پذیر ممالک میں مقبول ہو چکا ہے۔ چین کی معاشی ترقی کا دارو مدار بہت حد تک اسی تجارتی منصوبہ پر ہے۔ پاکستان میں بننے والا سی پیک چین کے تجارتی منصوبہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ سی پیک چین کو گلگت بلتستان کے ذریعے جوڑتا ہے۔ انڈیا نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا اور مقبوضہ کشمیر کی قانونی حثیت تبدیل کر دی۔
    جس سے واضح طور پر چین و پاکستان کو چیلینج کیا گیا۔ جوابا چین نے لداخ میں انڈیا کی درگت بنائی اور پاکستان نے کچھ دن پہلے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔ چین کو اربوں ڈالر کے منصوبہ کو محفوظ کرنے کے لیے انڈیا کی مداخلت قطعی طور پر قبول نہیں۔ لہذا چین کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ لداخ پر چین کا قبضہ کا نتیجہ چند ماہ بعد سامنے آ سکتا ہے، ممکن ہے کہ چین انڈیا کی فوج کی سپلائی لائن کاٹ ڈالے۔
    موسم سرما میں سرینگر کے جوزیلا پاس سے ہوتے ہوئے منالی کے راستے روہتانگ پاس کے ذریعے لداخ پہنچنے کے راستے پر برف کی دبیز چادر جمی رہتی ہے۔ جو کہ انڈیا کی فوج کے لیے بہٹ مشکلات لا سکتی ہے۔
    گزشتہ ایک سال سے حکومت پاکستان نے کافی موثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے کئی وزرا سوشل میڈیا پر انڈیا کا بھیانک چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے اخبارات میں کئی آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔ امریکہ و برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیر کے لیے آوازیں بلند کی گئی ہیں۔ اور کچھ ممالک کے سربراہوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات کی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے لیے وزرا خارجہ کا اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ جنگلات کے تحفظ اور کورونا وائرس کی روک تھام میں دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف ہوئی ہے جبکہ انڈیا کا منفی چہرہ دنیا بھر کے سامنے آیا ہے۔ انڈیا پورے خطہ میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ دنیا بھر میں واحد ہندو ریاست نیپال بھی انڈیا سے نظریں پھیر چکا ہے۔
    حکومت پاکستان کلبھوشن کے معاملہ پر انڈیا کو دنیا بھر میں دہشت گرد ثابت کرنا چاہتی ہے۔کلبھوشن اور انڈیا مزید بدنامی سے بچنے کے لیے اپیل بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مگر حکومت پاکستان بین الاقوامی عدالت کی رو سے کلبھوشن کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلا رہی ہے۔ جس کی ہر پیشی پر نہ صرف انڈیا اور پاکستان کا میڈیا کوریج دے گا بلکہ دنیا بھر کا میڈیا اس کیس پر بولے گا۔ جب کلبھوشن کو ساری دنیا کے سامنے دہشتگردی کے اعتراف میں سزا ہو گی تو پوری دنیا انڈیا کا سفاک دہشت گردی والا چہرہ دیکھے گی۔
    ان تمام حالات میں نظر یہی آ رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے حکومت پاکستان اپنے راستے متعین کر چکی ہے۔
    پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کو نقشہ میں شامل کرنا بہت سارے رستے کھول سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دے کر قانونی حثیت سے فوج کو داخل کروا سکتا ہے۔ اور جس دن یہ کام ہو گیا تو اللہ کی مدد سے کشمیر ضرور آزاد ہو گا۔ اسی طرح حکومت پاکستان سید علی گیلانی کو یوم آزادی پر نشان پاکستان دینے جا رہی ہے۔ جس کا مطلب آزادی کشمیر کے لیے کوشش کرنے والوں کو حکومت پاکستان حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔
    مگر حکومت پاکستان کو کشمیر کے محسنوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ جن کو بیرونی دباو پر پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ جو ہر موقعہ پر کشمیر کی آزادی کے لیے گلی کوچوں میں عوام کو یک زبان کر دیا کرتے تھے۔ اگر ان کا کیس اقوام متحدہ میں احسن انداز میں لڑا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ان پر پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔
    ہم پاکستانی پر امید ہیں کہ کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ دعا گو ہیں کہ حکومت پاکستان کی مظلوم کشمیریوں کے لیے جو بھی مخلص کاوشیں ہیں وہ جلد رنگ لائیں۔ ان شا اللہ پاکستان مکمل ہونے کو ہے۔ جلد اس پار کے لوگ اس پار جائیں گے۔ ہمارے دریا آزاد ہوں گے۔ شہ رگ چھڑائی جائے گی۔ کشمیر جلد پاکستان بنے گا۔
    اِس پار ملی تھی آزادی
    اُس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا الل

  • تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار  ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار
    ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اسکو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤاجداد نے بہت سی جانیں قربان کیں بہت سے مصائب اور دشوار گزار راستوں کو عبور کیا اپنے لخت جگر آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھے ہر طرف خون میں ڈوبی لاشیں اور ان لاشوں میں اپنوں کو ڈھونڈنا اور پھر انہیں وہیں چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنا بلاشبہ بہت کھٹن وقت تھا۔
    شہداء کی قربانیوں نے ہمیں پاکستان جیسی پیاری دھرتی کا تحفہ دیا۔
    پاکستان ایک ایسا اسلامی ملک ہے جو کہ دنیا کے تمام مظلوموں بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے زخموں کا مرہم ہے کسی بھی مشکل یا پریشانی کے وقت تمام ممالک کی نظریں افواج پاکستان پر ہوتیں ہیں۔
    دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان بھی اپنی نظریں گاڑھے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ادارے انکے مذموم مقاصد کو پورا ہونے سے پہلے ہی فنا کر دیتے ہیں۔
    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا متنازع خطہ جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے اس پر بھارت نے جابرانہ قبضہ جمایا ہوا ہے کشمیری عوام بھارت کے ترنگے اور قوانین کو جوتوں کی نوک پر رکھتے ہیں وہ پاکستان سے الحاق اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
    کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لئے بھارت نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی ایسی شرمناک مثالیں قائم کی ہیں کہ جن سے تاریخ بھی نالاں ہے۔
    گزشتہ سال 5اگست2019 میں بھارت نے کشمیر پر مکمل لاک ڈاون کردیا اور جگہ جگہ فوج تعینات کردی جو کہ بہت ہی سنگین جرم ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
    برسوں سے قربانیاں دینے والی مظلوم کشمیری عوام کے حوصلے بلند بالا ہیں وہ اپنے مقصد سے انحراف نہیں کرتے اور نہ کسی قسم کا سمجھوتہ…..!!!!
    بھارت یہ واضح طور پر جانتا ہے کہ اسکی کوششیں ناکام جائیں گیں اس لئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کشمیریوں کو ڈرانے اور انکی آواز دبانے کے لئے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے۔
    بھارت کشمیر کی نسل کرکے ان کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے بھارت کی موجودہ حکومت فرعونِ ثانی کا کام سر انجام دے رہی ہے اسی زمن میں معصوم کشمیری بچوں کو شہید کر رہی ہے جبکہ حالیہ فیک ان کاؤنٹر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک شرمناک طمانچہ ہے۔
    5اگست 2020 کو جب کشمیر میں قابض فورسز کی جانب سے لاک ڈاؤن کا ایک سال مکمل ہونے کو تھا اس سےایک روز قبل پاکستان نے اپنا نیا سیاسی نقشہ پیش کیاجس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
    پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لئے روزِاول سے ہی کوشاں ہے اور ہر طرح سے کشمیریوں کا ساتھ دیتا ہے اقوام متحدہ سے اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور پوری دنیا کو بھارت کا وحشی پن دکھانے میں کامیاب ہوا ہے۔
    نئے نقشے میں کشمیر کو شامل کرنے سے کشمیری جدوجہد ایک نئے موڑ پر آگئی ہے کشمیری حریت رہنما اور کشمیری و
    عوام کے جذبات اور مقاصد کو تقویت ملی ہے جبکہ بھارت کو اپنی شکست نظر آتی دکھائی دے رہی ہے۔
    پاکستان اقوام متحدہ کی سفارشات کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    اسکے ساتھ ساتھ پاکستان حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کے اعلی ترین اعزاز "نشان پاکستان” سے نوازے گا اور اسلام آباد میں گیلانی نام سے ایک یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے تمام سلیبس میں سید علی گیلانی کی سوانح حیات کو بطور لازمی مضمون شامل کیا جاۓ گا ۔
    حکومت پاکستان کے علاوہ کوئی بھی جماعت یا گروپ عالمی سطح پر کشمیر کا ساتھ دینے یا کشمیر کی آواز کو دبانے والے درندوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرے تو بیرونی دباؤ میں آکر اسکو بین کردیا جاتا ہے ایسے ہی ایک جماعت جو کہ پاکستان میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام سے مشہور ہے جس کا کام فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا پاکستان میں جہاں کہیں بھی قدرتی آفات آتیں یہ جماعت سب سے پہلے لوگوں کی مدد کو پہنچ جاتی تھی اور پاکستان کے محب وطن لوگ بے لوث ہو کر پاکستان کی خدمت میں مصروف تھے یہ جماعت کسی ایک شخص یا ادارے کی جماعت نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی جماعت ہے ہر پاکستانی کے دل پر راج کرنے والی جماعت ہے پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعت ہے بیرونی دباؤ میں آکر پاکستان نے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔
    تمام محب وطن پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ اس جماعت سے تمام تر پابندیوں کو ہٹایا جاۓ اور انکو کام کرنے کی اجازت دی جاۓ تاکہ پاکستان اور کشمیر کے لئے یہ لوگ اپنی خدمات سر انجام دے سکیں اور دشمن کو پاکستان کی طاقت دکھا سکیں۔

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے التجاء ہے کہ ہمارے پاک وطن کو دشمنوں کی گندی نظروں سے محفوظ فرمائے اور کشمیر کو جلد سے جلد آزادی نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین 🤲🏻
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر
    تحریر :سفیر اقبال

    ایک سال گزر گیا ….
    پورے ایک سال میں بھارت نے کاشمیر کو اٹوٹ انگ بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا…. ایل او سی کو فریز کروا لیا… امریکہ کی خاموش حمایت سے ہر قسم کے عالمی قانون کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر لاک ڈاون لگایا…. نیٹ سروس بند کی اور چناروں کی وادی کو ساری دنیا سے کاٹ دیا….! جہاں دل کیا، جب دل کیا معصوم کشمیری ماؤں بچوں کو خون میں تڑپا دیا … گھر جلا دئیے…. اور لاشوں کو بھون دیا ….!

    اس دوران سید علی گیلانی اور ان کے رفقاء ہوا پہ لکھ لکھ کر پاکستان کو مدد کے لیے پکارتے رہے… دریائے نیلم کی تند و تیز لہریں کشتیاں جلانے والے کسی طارق بن زیاد کا انتظار کرتی رہیں…. درد کے آنگن میں سسکتی کشمیری بہنیں محمد بن قاسم کو پکارتی رہیں…. بابری مسجد…. فاتح القدس صلاح الدین ایوبی کا انتظار کرتے کرتے مندر میں تبدیل ہو گئی لیکن عرب سے کوئی محمد بن قاسم…. مصر سے کوئی صلاح الدین ایوبی…. مراکش سے کوئی طارق بن زیاد…. افریقہ سے کوئی یوسف بن تاشفین اور پاکستان سے کوئی رجل عظیم کوئی محسن اس بستی کی مدد کے لیے نہ پہنچا. (کاشمیر کے محسن کاشمیر سے محبت کرنے کے جرم میں پاکستان میں قید رہے جس طرح کاشمیری حریت رہنما پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں بھارتی جیلوں میں قید تھے ) کاشمیر کی خاک شہیدوں کے لہو سے سیراب ہوتی رہی… اور ہندوتوا کا رقص چناروں کی وادی میں مسلسل جاری رہا….!

    جب دینی غیرت زنگ آلود ہو جائے اور ملکوں کے ذاتی مفادات پہلی ترجیح بن جائیں تب غیرت خداوندی جوش میں آتی ہے. جن لوگوں نے ایک بستی کے لاک ڈاون سے چشم پوشی کی تھی اب ساری دنیا میں لاک ڈاون دیکھ رہے تھے. رب کا عذاب اتنا شدید برسا کہ ساری دنیا نے کاشمیر کے لاک ڈاون کا درد محسوس کر لیا. ایک بستی سے نظریں چرانے والوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے شہر کے شہر اجاڑ دئیے.

    لیکن وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے. سورج ہمیشہ سر پر نہیں رہتا. کاشمیر کی طرف عالمی برادری کی توجہ بڑھی…. دنیا میں لاک ڈاون میں کمی آنا شروع ہوئی. پاکستان جو پہلے ہر ایسے موقع پر کاشمیر کے حوالے سے "ہم ساتھ کھڑے ہیں” والا بیان دے کر دل و دماغ میں تشکیک کے یہ بیج بو رہا تھا کہ شاید اب پاکستان کے لیے کاشمیر کا مطلب آزاد کاشمیر ہے …. اچانک اس نے سرینگر تک جانے کے عزم کا ارادہ کیا. کپواڑہ سے لیکر لولاب تک راجوری سے لیکر بانڈی پورہ تک …. سارے کاشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا…. شاہراہ کاشمیر کو شاہراہ سرینگر میں بدل دیا…. جارحانہ سفارتکاری دکھاتے ہوئے دوستی دشمنی بدلنے کے ارادوں کا اظہار کیا….!

    اور یہ سب کچھ پورے ایک سال بعد 5 اگست کے بعد کیا….. تا کہ دنیا تک یہ پیغام جا سکے کہ بھارت اگر ایک سال میں اٹوٹ انگ کو اپنا نہیں کر سکا تو اب کشمیریوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ملنا چاہیے.

    اب ساری دنیا ایک طرف ہے اور ہندوتوا دوسری طرف….! کشمیر کی وادی میں ایک سال تک فاتحانہ اور بلا روک ٹوک جبر و تشدد برپا کرنے کا انجام عالمی سطح پر بھارت کی تنہائی کی صورت میں نکلا…. ورنہ اس سے قبل عالمی سطح پر مسئلہ کاشمیر پر ایک غلطی بھارت کی سامنے آتی تو دس زیادتیاں پاکستانی فریڈم فائیٹرز کی بھارت بیان کر کے دنیا کو رام کر لیا کرتا تھا.

    لیکن اب پاکستان کاشمیر کے معاملے میں ایک ایک قدم محتاط ہو کر اٹھا رہا ہے. مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے بعد… شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر میں تبدیل کرنے کے بعد… اب پاکستان اپنے نام آخری خط لکھنے والے قائدِ حریت سید علی گیلانی صاحب کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازنے والا ہے. اب ایسے موقع پر پاکستان کو چاہیے کہ مزید جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرے اور عالمی دباؤ کو نظر انداز کر کے پاکستان کی فلاحی تنظیموں اور کشمیر کے محسنوں کو بھی آزاد کرے… انہیں کھل کر کام کرنے کا موقع دے تا کہ سفارتی محاذوں پر جیتی جانے والی جنگ عملی میدانوں میں ناکامی کا شکار نہ ہو.

    آزادیاں کیسے ملتی ہیں اور کتنی قربانیوں کے بعد ملتی ہیں…. یہ دیکھنے کے لیے دور کیوں جائیں. پاکستان کو ہی دیکھ لیں. 1857 کی جنگ آزادی کی جدوجہد کو منفی کر کے بھی دیکھیں تو 90 سال بنتے ہیں. 1857 میں ناکامی کے بعد کافی عرصہ تک مسلمانوں میں جدوجہد آزادی کی تحریک ٹھنڈی پڑ گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کوئی واضح نظریہ، دو ٹوک موقوف برصغیر کے مسلمان نہیں اپنا سکے. انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم نے کرنا کیا ہے اور علیحدہ وطن کا بھی کوئی نقشہ کسی کے ذہن میں نہیں تھا.

    1930 میں علامہ اقبال نے اس عزم کو بطور تصور پیش کیا. تمام مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی تجویز دی اور 1940 میں محمد علی جناح نے اس کو نظریہ پاکستان کا نام دے کر مسلمانان برصغیر کے دلوں میں راسخ کر دیا.

    وہ نظریہ جب ہر مسلمان کے دل میں موجزن ہوا تو سات سال کے اندر ہی مسلمان ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے.

    کشمیر کے مسلمان بھی جب نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے تو ان شا اللہ صبح آزادی کو حاصل کر لیں گے اور اگر ذاتی مشاہدے کی بات کی جائے تو برہان وانی کی شہادت کے بعد جو کچھ زمین و آسمان نے دیکھا…. جتنی محبت اسلام اور جدو جہد آزادی کے ساتھ کاشمیریوں کی دیکھی آج تک پوری اسلامی تاریخ ہی نہیں انسانی تاریخ بھی اس کی مثال دینے سے قاصر ہے. اگر تحریک کا کل وقت بر ہا ن وانی کی شہادت کے بعد کا لیا جائے اور حکومتی سطح پر پاکستان کی طرف سے پر زور حمایت کا وقت موجودہ حکومت کے حساب سے دو سال لیا جائے تو خود اندازہ کر لیں کہ ان چار سالوں میں تحریک عالمی سطح پر کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے اور صبح آزادی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہے.

    اس آگ میں جلنے والوں کے کہتے ہیں براہیمی تیور
    کشمیر کے جنت بننے میں ممکن ہی نہیں تاخیر بہت

  • الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں  تحریر: ابوارحام محمد الازہری

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں تحریر: ابوارحام محمد الازہری

    عنوان
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں

    کچھ روز قبل مجھے اپنے مادر علمی میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ کورونا کے باعث تمام تعلیمی اداروں کی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں بھی گذشتہ چند ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں . مگر حالیہ ایام میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحانات کے باعث ادارے کو جزوی طور پہ کھولا گیا۔ اساتذہ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا تو میری ملاقات قبلہ علامہ حافظ نعیم الدین صاحب الازہری سے ہوئی۔ آپ سے جامعہ الازہر الشریف کے احوال پہ تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں جو خالصتاً علمی نوعیت کی تھیں کچھ کتب پر تبصرے بھی ہوئے۔ باتوں باتوں میں الحاد و ملحدین کا ذکر ہوا تو قبلہ فرمانے لگے کہ کاشف صاحب ہم نے ایک 3 روزہ سیشن شروع کیا ہے آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ آمنا کہتے ہوئے استاذی المکرم کے حکم پہ اس کلاس کا حصہ بنا جو زوم ایپ پہ رد الحاد و ملحدین کے حوالے سے انعقاد پذیر تھی۔ کلاس کیا تھی گویا علم کا ایک بحر بے کنار تھا اور مجھ جیسے ناکارہ خلائق کو ایک بار پھر گلستان ضیاءالامت سے خوشہ چینی کا شرف مل رہا تھا۔

    اس سیشن کا عنوان:
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاکمہ اور نسل نو کی الحاد پر فکری بالیدگی کے ذرائع

    اس سیشن کے ابتدائیے میں جامعہ الازہر الشریف کے فارغ التحصیل عظیم مذہبی سکالر جناب ثاقب شریف الازھری نے ایک اہم ترین موضوع کی طرف توجہ دلائی جو اس دور کی اہم ضرورت بھی ہے اور ملحدین کے رد کے لیے نوجوان طبقہ کے لیے نسخہ اکسیر بھی۔

    ثاقب صاحب نے فرمایا کہ آج کے دور میں ملحدین کا رد کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ نرمی سے بات کریں قرآن کریم تو فرعونِ موسیٰ سے بھی کلام کرنے کے لیے قول لینا کی ترغیب دیتا ہے۔ ان اصول اختلاف کو سکھانے کے بعد الحاد کے مادہ اشتقاق کو زیر بحث لایا گیا اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف بیان کی گئی۔ الحاد اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ظلم کا مترادف ہے اور راہ حق سے اعراض کرنے والے کو اسلام ملحد کہتا ہے۔ لغت کی کتابوں کے ساتھ ساتھ یہی معنیٰ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے اللہ رب العزت نے الحاد کے صریح لفظ کو سورۃ الحج میں ذکر فرماتے ہوئے اس سے مراد "راہ حق سے روگردانی” ہی لی ہے۔ عہد جدید و قدیم ہر زمانے کے ملحدین کے اعتراضات کا اگر علمی محاکمہ کیا جائے تو درحقیقت یہ حقیقت سے اعراض ہی ہے کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللّٰه رب العزت کی ذات بابرکات ہے اور ملحدین کا بنیادی اعتراض ہی وجود باری تعالیٰ پر ہے۔ ملحدین اپنے عقائد کی بنیاد بھی انکار وجود باری تعالیٰ پہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ زمانہ قدیم اور عہد صحابہ و تابعین سے چلا آ رہا ہے۔ اللّٰه کریم کی ذات کا انکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر یہ طبقہ آج بھی قائم ہے امام اعظم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد میں ان بدطینت لوگوں کے نظریات کی عقلی و نقلی دونوں طرق سے نفی فرمائی اور مناظرہ بھی کیا۔ لیکن یہ نظریہ ازمنہ قدیم میں محدود پیرائے پر محدود طبقے تک ہی رہا۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا گیا علمانیین(سیکولر طبقات) اور دیگر صیہونی و صلیبی طاقتوں کو جب عروج ملنے لگا تو ڈارونائز لوگ پیدا ہونے لگے اور ڈارون (جو الحادی نظریات کا موجد تھا) نے الحادی نظریات کو سائنٹیفک بنیاد پر فروغ دیا۔ جس سبب الحاد کو ایک نئی فکر ملی جو فکر آج بھی ڈارون ازم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ ساری فکر عالم کفر تک ہی محدود رہی اسلامی ممالک اپنے نظریات میں خالص تھے کہ اچانک خلافت عثمانیہ ٹوٹ گئی خلافت کے منتشر ہونے کی دیر تھی مصطفیٰ کمال اتاترک اور اس جیسے کئی لبرلز نے اسلامک معاشروں میں ماڈرنزم کے نام سے الحاد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ ڈاروانائز اور لبرل طبقے نے ہر دور میں سادہ لوح مسلمانوں کو عقلی ادلہ اور سائنسی نظریات سے مات دینے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ پر اللّٰه کریم کا یہ احسان ہے کہ الله کریم نے اپنے ہی کلام قرآن مجید سے مسلمانوں کو عقلی ادلہ بھی سکھائے اور ان سے استدلال کا طریقہ کار بھی سمجھا دیا۔ قبلہ ثاقب صاحب نے چند ایک امثلہ سے قرآن کریم کے عقلی ادلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو مکمل فرمایا۔

    یوں سیشن کا ابتدائیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پہلے سیشن کا پہلا حصہ مکمل ہوا دوسرا حصہ نماز عشاء کے لیے تقریباً 25 منٹ کے توقف کے بعد دوبارا شروع ہوا۔ جس میں محترم المقام حضرت علامہ نعیم الدین الازہری صاحب نے الحاد اور دیگر فتن کو موضوع بحث بنایا۔

    قبلہ نے ابتداء میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے فتنوں کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ رسول پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسا پرفتن دور بھی آئے گا کہ انسان صبح کے وقت تو مومن ہو گا مگر شام تک کافر ہو جائے گا اور اگر شام کو مومن تھا تو صبح تک کفر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ آپ نے عہد قدیم و جدید کے متعدد فتنوں کا ذکر فرمایا جن میں سے آج الحاد، قادیانیت، غامدیت اور جہلمی فتنہ بڑی سرعت سے ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔ آپ نے طلباء کو ان جدید فتنوں سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ ان کے تدارک کا بھی مختصراً طریقہ کار سمجھایا۔ علامہ نعیم الدین الازھری نے فرمایا کہ اسلام نے انسانیت کے سدھارنے کے 3 طریق بتائے ہیں۔ جنھیں قرآن کریم کی سورۃ النحل کی 125 ویں آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللّٰه رب العزت نے واعظین، خطباء و مشائخ کو یہ درس دیا ہے کہ حکمت و دانائی اور فراست کے ساتھ لوگوں کو اللّٰه کریم کے طریق رحمت کی دعوت دی جائے۔
    انسانیت میں ڈھٹائی کے بھی تو درجے ہیں اگر کسی کو حکمت کی سمجھ نہ آئے تو رب کعبہ نے عمدہ نصیحت کا حکم دیا بحث کو تیسرے درجے میں رکھا ساتھ فرما بھی دیا کہ مجادلہ(بحث) تو کرو مگر مجادلہ ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق احسن انداز میں کرو ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے بھاگ جائیں۔ آج مجموعی طور پر ہمارے واعظین و خطباء کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر فرد دوسرے فرد پر ہر گروہ دوسرے گروہ پر ذاتی و مسلکی و گروہی تعصب کی بنا پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے۔ فروعی اختلافات کی وہ گتھیاں جو اہل خانہ نے اپنی چاردیواری میں سلجھانا تھیں انھیں اسٹیجز کی بحث بنا کر تشدد کو ہوا دی گئی۔ اور ہم اتنے حصوں میں بٹ گئے کہ ہم نے مجتمع ہو کر جن بین الاقوامی عصبیتوں کا خاتمہ کرنا تھا وہ جوں کی توں ہی رہیں مگر ہم منتشر ہو گئے نتیجتاً علم، عمل اور علماء سب کچھ ہم سے عنقاء ہو گیا۔ معاً بعد آپ نے ملحدین کے اسلوب اعتراض کو مفصل انداز میں ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ حیرت انگیز بات سننے کو ملی کہ ہماری نئی جنریشن اور نوجوان نسل اس فتنے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ جس کا سبب دین سے عدم واقفیت اور علماء سے دوری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے انتہائی ناقص ہے طلباء کی ذہنی و فکری بالیدگی کو اس نظام اور نصاب نے آسودگی سے بدل دیا ہے نتیجتاً آج کا جدید ذہن الحاد کی زد میں آ رہا ہے۔ قبلہ استاذی المکرم نے آخر میں طلباء و علماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ آج کے اس پرفتن دور میں ان مسائل کو موضوع بحث بنانے کی قطعاً حاجت نہیں جو ختم ہو چکے ہیں جن کا ماحصل کچھ نہیں۔ بلکہ ان فتنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کو تباہی کی دہانے تک پہنچانے کو پر تول رہے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ رب العزت کااہل اسلام کو حکم ہے کہ جہاں دین اور مقدساتِ دین کا انکار کیا جا رہا ہو ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ایسی صحبتوں سے گریز کریں وگرنہ ان کے عقائد بھی خراب ہو جائیں گے . ہاں اگر فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیاری اور علمی پختگی ہو تو تب اصلاح کی نیت سے ضرور معترضین سے بات کرنی چاہیے .

    ان دونوں نشستوں میں علامہ ثاقب شریف صاحب الازہری اور قبلہ نعیم الدین صاحب الازہری نے نا صرف سیر حاصل گفتگو و راہنمائی فرمائی بلکہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم کتابوں اور ان کے مصنفین کا بھی ذکر فرمایا۔ تاکہ طلباء خود سے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ اور ان موضوعات پر تیاری کریں۔ یہ دونوں لیکچرز تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے مگر دونوں اپنی جامعیت کے اعتبار سے کئی دنوں کی محنت کا ثمر تھے۔ مالک کریم آستان ضیاءالامت اور آپ کے تمام متوسلین و خدام کو تاابد علم دوست رکھے اور اس گلستان کو ہمیشہ ثمر بار رکھے آمین یارب العالمین

    ابوارحام محمد الازہری
    03414738300
    mohammadkashifnoor7860@gmail.com
    تحصیل و ضلع جھنگ

  • ایسے ملی تھی آزادی!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    ایسے ملی تھی آزادی!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں
    مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ
    اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی
    میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا
    یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے نذر بیگ ماسٹر صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا
    مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر
    تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا
    تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا
    لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی
    تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا
    31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون کی رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان کے سسرال کے علاوہ
    سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں
    لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں
    لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے
    رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے
    لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں سب کی یہی حالت تھی
    رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی
    سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے
    زخمیوں میں سے صرف میں اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری
    شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں
    اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے
    پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟
    یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے
    میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں

  • افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس ،امریکی  نائب صدر کیلئے نامزد ، کمالا کی زندگی کے اہم پہلو

    افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس ،امریکی نائب صدر کیلئے نامزد ، کمالا کی زندگی کے اہم پہلو

    واشنگٹن :امریکی نائب صدر کی امیدوارکمالا دیوی کی زندگی کے اہم پہلو،رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر کی امیدوارکملا دیوی ہیریس 20 اکتوبر 1964 کو آکلینڈ کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق کمالا دیوی کی والدہ جن کا نام شرمالہ گوپلان تھا چھاتی کے کینسر کی سائنس دان تھیں جو 1960 میں یو سی برکلے میں انڈوکرونولوجی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لئے ہندوستان سے ہجرت ہوگئیں۔

    کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والی کمالا ہیرس کی والدہ بھارتی نژاد امریکی سائنس دان تھی جن کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تھا تاہم کمالا کے والد کا تعلق جمیکا سے تھا اور وہ پروفیسر تھے۔

    کمالا ہیرس 2004 سے 2011 کے دوران دو مرتبہ سان فرانسیسکو کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل رہی تھیں جس کے بعد 2011 سے 2017 کے دروان دومرتبہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئی تھیں اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی نہ صرف پہلی خاتون تھیں بلکہ گنجان ریاست کی پہلی سیاہ فارم اٹارنی جنرل بن گئی تھیں۔

    جنوری 2017 میں انہوں نے کیلیفورنیا کے جونیئر امریکی سینیٹر کے طور پر حلف اٹھایا اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں اور اسی طرح امریکی تاریخ میں کیرول موسیلے براؤن کے بعد دوسری سیاہ فارم خاتون بن گئی تھیں۔کمالا ہیرس 2008 میں آنے والے مالی بحران کے دوران کئی خاندانوں کے دفاع پر اکثر فخر کا اظہار کرتی ہیں جہاں انہوں نے بڑے بڑے مقدمات کا سامنا کیا۔

    خود کو متوسط طبقے کی نمائندہ قرار دینے والی کمالا ہیرس پولیس کے ظلم اور سیاہ فارم غیر مسلح افراد کے قتل کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹس کی سینیٹر منتخب ہوئیں اور وہ امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والی دوسری سیاہ فارم خاتون سینیٹر بن گئیں۔

    بعد ازاں 2019 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

    ٹوئٹر میں جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کمالا ہیرس نے کہا تھا کہ ‘ہمارے ملک کا مستقبل آپ اور دیگر لاکھوں افراد پر منحصر ہے جو ہماری امریکی اقدار کے لیے ہماری آوازیں بلند کررہے ہیں’۔

    ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے میں امریکا کے صدر کے منصب کے لیے مہم چلارہی ہوں’۔کمالا دیوی کی زندگی کے نجی پہلووں‌پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہےکہ کمالا دیوی کے والد ڈونلڈ ہیرس ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایمریٹس کے پروفیسر برائے معاشیات ہیں ، جو یوسی برکلے میں معاشیات میں گریجویٹ کی تعلیم کے لئے 1961 میں جمیکا سے ہجرت کر گئے تھے

    کمالا دیوی کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ ایک کالے بپتسمہ دینے والے چرچ اور ہندو مندر میں جاکر بڑی ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اور اس کی بہن اس موقع پر ہندوستان کے مدراس (اب چنئی) میں اپنی والدہ کے اہل خانہ سے مل گئیں

    اطلاعات کے مطابق ہیرس نے برکلے کے اسکول ڈیسیگریسیشن بسنگ پروگرام کے دوسرے سال میں کنڈرگارٹن شروع کیا جب وہ 7 سال کی تھیں تو اس کے والدین نے طلاق دے دی۔

    وہ اور اس کی بہن ہفتے کے آخر میں پالو الٹو میں اپنے والد سے ملنے جاتی تھیں تو انہوں نے بتایا کہ ہمسایہ ممالک کے بچوں کو سیاہ فام ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔

    جب وہ 12 سال کی تھی ، تو حارث اور اس کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ کینیڈا کے کیوبک کے مانٹریئل چلے گئے ، جہاں ان کی والدہ نے یہودی جنرل اسپتال میں تحقیقاتی پوزیشن قبول کی تھی اور میک گل یونیورسٹی میں تدریس دی تھی۔

    وہ واشنگٹن ڈی سی میں ہاورڈ یونیورسٹی میں داخل ہو گئی جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کے سینیٹر ایلن کرینسٹن کے لئے میل روم کلرک کی حیثیت سے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس ڈبل ایم اے پاس کا ،

    وہی کمالا دیوی جس نے زندگی میں بڑے کھٹھن سفرطئے کئے اب ایک ایسے سفر کی طرف رواں ہے کہ اگروہ منتخب ہوگئیں‌تو امریکہ میں سیاہ فاموں‌کے خلاف نفرت میں کمی آسکتی ہے

  • الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

    کچھ روز قبل مجھے اپنے مادر علمی میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ کورونا کے باعث تمام تعلیمی اداروں کی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں بھی گذشتہ چند ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں . مگر حالیہ ایام میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحانات کے باعث ادارے کو جزوی طور پہ کھولا گیا۔ اساتذہ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا تو میری ملاقات قبلہ علامہ حافظ نعیم الدین صاحب الازہری سے ہوئی۔

    آپ سے جامعہ الازہر الشریف کے احوال پہ تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں جو خالصتاً علمی نوعیت کی تھیں کچھ کتب پر تبصرے بھی ہوئے۔ باتوں باتوں میں الحاد و ملحدین کا ذکر ہوا تو قبلہ فرمانے لگے کہ کاشف صاحب ہم نے ایک 3 روزہ سیشن شروع کیا ہے آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ آمنا کہتے ہوئے استاذی المکرم کے حکم پہ اس کلاس کا حصہ بنا جو زوم ایپ پہ رد الحاد و ملحدین کے حوالے سے انعقاد پذیر تھی۔ کلاس کیا تھی گویا علم کا ایک بحر بے کنار تھا اور مجھ جیسے ناکارہ خلائق کو ایک بار پھر گلستان ضیاءالامت سے خوشہ چینی کا شرف مل رہا تھا۔

    اس سیشن کا عنوان:
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاکمہ اور نسل نو کی الحاد پر فکری بالیدگی کے ذرائع

    اس سیشن کے ابتدائیے میں جامعہ الازہر الشریف کے فارغ التحصیل عظیم مذہبی سکالر جناب ثاقب شریف الازھری نے ایک اہم ترین موضوع کی طرف توجہ دلائی جو اس دور کی اہم ضرورت بھی ہے اور ملحدین کے رد کے لیے نوجوان طبقہ کے لیے نسخہ اکسیر بھی۔

    ثاقب صاحب نے فرمایا کہ آج کے دور میں ملحدین کا رد کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ نرمی سے بات کریں قرآن کریم تو فرعونِ موسیٰ سے بھی کلام کرنے کے لیے قول لینا کی ترغیب دیتا ہے۔ ان اصول اختلاف کو سکھانے کے بعد الحاد کے مادہ اشتقاق کو زیر بحث لایا گیا اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف بیان کی گئی۔ الحاد اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ظلم کا مترادف ہے اور راہ حق سے اعراض کرنے والے کو اسلام ملحد کہتا ہے۔

    لغت کی کتابوں کے ساتھ ساتھ یہی معنیٰ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے اللہ رب العزت نے الحاد کے صریح لفظ کو سورۃ الحج میں ذکر فرماتے ہوئے اس سے مراد "راہ حق سے روگردانی” ہی لی ہے۔ عہد جدید و قدیم ہر زمانے کے ملحدین کے اعتراضات کا اگر علمی محاکمہ کیا جائے تو درحقیقت یہ حقیقت سے اعراض ہی ہے کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللّٰه رب العزت کی ذات بابرکات ہے اور ملحدین کا بنیادی اعتراض ہی وجود باری تعالیٰ پر ہے۔ ملحدین اپنے عقائد کی بنیاد بھی انکار وجود باری تعالیٰ پہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ زمانہ قدیم اور عہد صحابہ و تابعین سے چلا آ رہا ہے۔

    اللّٰه کریم کی ذات کا انکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر یہ طبقہ آج بھی قائم ہے امام اعظم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد میں ان بدطینت لوگوں کے نظریات کی عقلی و نقلی دونوں طرق سے نفی فرمائی اور مناظرہ بھی کیا۔ لیکن یہ نظریہ ازمنہ قدیم میں محدود پیرائے پر محدود طبقے تک ہی رہا۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا گیا علمانیین(سیکولر طبقات) اور دیگر صیہونی و صلیبی طاقتوں کو جب عروج ملنے لگا تو ڈارونائز لوگ پیدا ہونے لگے اور ڈارون (جو الحادی نظریات کا موجد تھا) نے الحادی نظریات کو سائنٹیفک بنیاد پر فروغ دیا۔ جس سبب الحاد کو ایک نئی فکر ملی جو فکر آج بھی ڈارون ازم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

    لیکن یہ ساری فکر عالم کفر تک ہی محدود رہی اسلامی ممالک اپنے نظریات میں خالص تھے کہ اچانک خلافت عثمانیہ ٹوٹ گئی خلافت کے منتشر ہونے کی دیر تھی مصطفیٰ کمال اتاترک اور اس جیسے کئی لبرلز نے اسلامک معاشروں میں ماڈرنزم کے نام سے الحاد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ ڈاروانائز اور لبرل طبقے نے ہر دور میں سادہ لوح مسلمانوں کو عقلی ادلہ اور سائنسی نظریات سے مات دینے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ پر اللّٰه کریم کا یہ احسان ہے کہ الله کریم نے اپنے ہی کلام قرآن مجید سے مسلمانوں کو عقلی ادلہ بھی سکھائے اور ان سے استدلال کا طریقہ کار بھی سمجھا دیا۔ قبلہ ثاقب صاحب نے چند ایک امثلہ سے قرآن کریم کے عقلی ادلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو مکمل فرمایا۔

    یوں سیشن کا ابتدائیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پہلے سیشن کا پہلا حصہ مکمل ہوا دوسرا حصہ نماز عشاء کے لیے تقریباً 25 منٹ کے توقف کے بعد دوبارا شروع ہوا۔ جس میں محترم المقام حضرت علامہ نعیم الدین الازہری صاحب نے الحاد اور دیگر فتن کو موضوع بحث بنایا۔

    قبلہ نے ابتداء میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے فتنوں کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ رسول پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسا پرفتن دور بھی آئے گا کہ انسان صبح کے وقت تو مومن ہو گا مگر شام تک کافر ہو جائے گا اور اگر شام کو مومن تھا تو صبح تک کفر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ آپ نے عہد قدیم و جدید کے متعدد فتنوں کا ذکر فرمایا جن میں سے آج الحاد، قادیانیت، غامدیت اور جہلمی فتنہ بڑی سرعت سے ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔

    آپ نے طلباء کو ان جدید فتنوں سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ ان کے تدارک کا بھی مختصراً طریقہ کار سمجھایا۔ علامہ نعیم الدین الازھری نے فرمایا کہ اسلام نے انسانیت کے سدھارنے کے 3 طریق بتائے ہیں۔ جنھیں قرآن کریم کی سورۃ النحل کی 125 ویں آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللّٰه رب العزت نے واعظین، خطباء و مشائخ کو یہ درس دیا ہے کہ حکمت و دانائی اور فراست کے ساتھ لوگوں کو اللّٰه کریم کے طریق رحمت کی دعوت دی جائے۔

    انسانیت میں ڈھٹائی کے بھی تو درجے ہیں اگر کسی کو حکمت کی سمجھ نہ آئے تو رب کعبہ نے عمدہ نصیحت کا حکم دیا بحث کو تیسرے درجے میں رکھا ساتھ فرما بھی دیا کہ مجادلہ(بحث) تو کرو مگر مجادلہ ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق احسن انداز میں کرو ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے بھاگ جائیں۔

    آج مجموعی طور پر ہمارے واعظین و خطباء کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر فرد دوسرے فرد پر ہر گروہ دوسرے گروہ پر ذاتی و مسلکی و گروہی تعصب کی بنا پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے۔ فروعی اختلافات کی وہ گتھیاں جو اہل خانہ نے اپنی چاردیواری میں سلجھانا تھیں انھیں اسٹیجز کی بحث بنا کر تشدد کو ہوا دی گئی۔ اور ہم اتنے حصوں میں بٹ گئے کہ ہم نے مجتمع ہو کر جن بین الاقوامی عصبیتوں کا خاتمہ کرنا تھا وہ جوں کی توں ہی رہیں مگر ہم منتشر ہو گئے نتیجتاً علم، عمل اور علماء سب کچھ ہم سے عنقاء ہو گیا۔

    معاً بعد آپ نے ملحدین کے اسلوب اعتراض کو مفصل انداز میں ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ حیرت انگیز بات سننے کو ملی کہ ہماری نئی جنریشن اور نوجوان نسل اس فتنے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ جس کا سبب دین سے عدم واقفیت اور علماء سے دوری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے انتہائی ناقص ہے طلباء کی ذہنی و فکری بالیدگی کو اس نظام اور نصاب نے آسودگی سے بدل دیا ہے نتیجتاً آج کا جدید ذہن الحاد کی زد میں آ رہا ہے۔ قبلہ استاذی المکرم نے آخر میں طلباء و علماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ آج کے اس پرفتن دور میں ان مسائل کو موضوع بحث بنانے کی قطعاً حاجت نہیں جو ختم ہو چکے ہیں جن کا ماحصل کچھ نہیں۔ بلکہ ان فتنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کو تباہی کی دہانے تک پہنچانے کو پر تول رہے ہیں۔

    انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ رب العزت کااہل اسلام کو حکم ہے کہ جہاں دین اور مقدساتِ دین کا انکار کیا جا رہا ہو ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ایسی صحبتوں سے گریز کریں وگرنہ ان کے عقائد بھی خراب ہو جائیں گے . ہاں اگر فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیاری اور علمی پختگی ہو تو تب اصلاح کی نیت سے ضرور معترضین سے بات کرنی چاہیے .

    ان دونوں نشستوں میں علامہ ثاقب شریف صاحب الازہری اور قبلہ نعیم الدین صاحب الازہری نے نا صرف سیر حاصل گفتگو و راہنمائی فرمائی بلکہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم کتابوں اور ان کے مصنفین کا بھی ذکر فرمایا۔ تاکہ طلباء خود سے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ اور ان موضوعات پر تیاری کریں۔ یہ دونوں لیکچرز تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے مگر دونوں اپنی جامعیت کے اعتبار سے کئی دنوں کی محنت کا ثمر تھے۔ مالک کریم آستان ضیاءالامت اور آپ کے تمام متوسلین و خدام کو تاابد علم دوست رکھے اور اس گلستان کو ہمیشہ ثمر بار رکھے آمین یارب العالمین

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ  تحریر: مقدس کشمیری

    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ تحریر: مقدس کشمیری

    "توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ۔۔۔”

    تحریر مقدس کشمیری

    کہانی ایک ہی مگر کردار جدا جدا وقت اور حالات کے ساتھ ظالم اور ظلم کے زوایے بدلتے رہے مگر مظلوم بے دست وپا ایک کشمیر ہی رہا اس کشمیرکے ہر گھر اور گھر کے ہر فرد کی ایک جیسی کہانی ہے اور ایک جیسا مشترکہ دکھ ماؤں کا بیٹےکھو جانے کادکھ، بیٹیوں کی عصمتیں لٹنے کا غم، جوان بیٹوں کے تڑپتے لاشوں پہ آنسوں بہاتی بوڑھی آنکھیں اور ان انکھوں میں صدیوں سے آبادبے بسی سب دن بدن بڑھ رہا ہے اور ان کا مداوا کم ہو رہا ہے بھارتی فوج کے جور و ستم کی داستانیں اب چنار کے پتے پتےپر رقم ہو چکی مگر وہ آواز ہوا کے دوش پہ نہیں سنائی دیتی جس میں مظلوم کی داد رسی ہو۔
    کہتے ہیں کہ ظالم کو روکنے والا کوئی نہ ہو تو ظلم ہر شب کے بعد بڑھتا ہے پھر ظالم کے ہتھکنڈے بھی اپنے ہوتے اور قانون بھی اپنے یہی کچھ کشمیریوں نصیب ٹھہرا!
    بھارتی فوج جس کو جب چاہے جہاں چاہے گولی مار کر شہید کردیتی ہے اور اسے حریت پسند کا نام دے دیا جاتا ہے ستم کی یہ داستانیں روز رقم ہوتی ہیں اور پرانی ہو جاتی ہیں اگلے روز کا سورج ایک نئی انہونی کو جنم دیتا ہے جموں کے ضلع راجوری کے گاؤں کے رہائشی تین نوجوان روزگار کے سلسلے میں ضلع شوپیاں میں جاتے ہیں، کراۓ پر مکان حاصل کر کے رہائش اختیار کرتے ہیں، اور وہاں مزدوری شروع کر دیتے ہیں،
    اسی دوران 18 جولائی کو بھارتی درندہ صفت فوج کو ضلع شوپیاں کے گاؤں ایمشی پورہ میں حزب سے وابستہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خبر ملتی ہے،
    بھارتی فورسز، سی آر پی ایف،66راشٹر رائفلز اور پولیس کے خصوصی دستے ان کے خلاف مشترکہ آپریشن تشکیل دیتے ہیں، اور چند گھنٹوں میں حریت پسندوں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ پل بھر ہندوستان میں کہرام مچ جاتا ہے ہر ٹی وی سے زہر اگلا جانے لگتا ملی ٹنٹ دہشت گرد خطرناک آتنک وادی اور جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا کہ بھارتی فوج نے مار دیئے دنیا کو تصویر کا ایسا رخ دکھایا جاتا کہ گویا یہ افراد بھارت کو تباہ کرنے چلے تھے۔
    انڈین میڈیا پر یہ خبر چلتی ہے کہ "حزب المجاہدین سے وابستہ تین خطرناک عسکریت پسند بھارت کی بہادر سینا نے مارگرائے ہیں۔ اور بار بار چلتی اس خبر میں سب کچھ چھپا دیا گیا کہ بے چارے مارے جانے والے اصل میں تھے کون؟
    شناخت بتائی جاتی تو بزدل فوج کی بہادری کا پول کھل جاتا یوں
    بھارتی فوج لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کرتی، اپنے طور پر ہی دفنا دیتی ہے، ادھر بوڑھے والدین کے سہارے جو ان کے لئے دو وقت کی روٹی کمانے گھر والوں سے جدا تھے
    وہ مزدور نوجوان روزگار کے سلسلے میں شوپیاں کے علاقے میں رہائش پزیر تھے، ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ کافی دن منقطع رہتا ہے، گھر والے یہی سمجھتے ہیں کہ شائد سروس ڈاؤن ہیں، یا نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ستم ظریفی دیکھیئے کہ اک قیامت گزر گئی مگر فوج نے اپنے مکر پر پہرہ جماۓ رکھا،چنددنوں بعد ان نوجوانوں کے اہلخانہ تک 18 جولائی کو مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر پہنچتی ہے تو تب انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے جگر پارے تھے، 26 سالہ امتیاز احمد، 21 سالہ 21 سالہ محمد یوسف اور 15 سالہ محمد ابرار تھے، جنہیں بھارتی فوج نے شوپیاں سے اغواہ کرکے جعلی انکاؤنٹر میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر شہید کردیا، 18 جولائ گزرا ایک داستان غم اور بڑھا گیا آنسو دکھ اور کرب تین گھروں کا مقدر ٹھہرا بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پانے والے بے قصوروں کا
    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ بھارتی فوج نے معصوم کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہو، بلکہ بھارتی فوج کا تو وطیرہ ہی یہی ہے کہ آئے روز کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے مار کر، ماؤں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور گھروں کا قیمتی سامان لوٹ کر لے جانا، یا توڑ پھوڑ کرنا، اور مردوں کو چاہے وہ بچے ہوں، بوڑھے ہوں یا نوجوان انہیں اغواء کر کے لے جانا،بعد میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا،
    کون سا جنگی جرم ہے جس کا ارتکاب بھارتی فوج نے نہ کیا ہو،
    ابھی کچھ دن پہلے ہی بھارتی فوج نے فریڈم فائٹرز کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد اپنی ذلت مٹانے کے لیئے، سوپور میں تین سالہ نواسے کے ساتھ سفر کررہے بزرگ کو گاڑی سے نکال کر گولیوں کا نشانہ بنایا، بعد میں تین سالہ عیاد کو شہید نانا کی لاش پر بٹھا کر فوٹو شوٹ کرتے رہے،
    اس سے چند دن پہلے اننت ناگ کے ضلع کولگام میں باپ کے ساتھ دکان پر جارہے دو بہنوں کے اکلوتے بھائی، چھ سالہ نہان احمد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر، اس ماں کی گود اجاڑ کر جس نے سات سال کی دعاؤں، التجاؤں کے بعد بیٹے جیسی نعمت لی تھی، اپنی درندگی کا ثبوت دیا۔
    کبھی بھارتی فوج دوارن معرکہ اپنی بہادری کا ثبوت دینے کے لئے کشمیری نوجوانوں کو "ہیومن شیلڈ” کے طور پر استعمال کرتی ہے تو کبھی پاکستانی راہنماؤں کے بیان کو واٹس ایپ سٹیٹس لگانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
    کیا کشمیر میں بسنے والے انسان نہیں؟
    یا وہ انسانی حقوق کے حقدار نہیں؟
    کون انصاف دلاۓ گا امتیاز، یوسف ابرار کے لواحقین کو؟
    کون نہان احمد کی ماں کا درد محسوس کرے گا؟
    کون تین سالہ عیاد کے ذہن میں نقش ہوچکے نانا کے تڑپتے لاشے اور بھارتی فورسز کے درندگی کے نقوش کو مٹاۓ گا؟ کیا ظلم کی یہ داستانیں یونہی رقم ہوتی رہیں گی اور ستم کی کہانیں کشمیر کے گھر گھر پھیلتی رہیں گی۔۔۔۔؟؟
    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ
    جس نے روح آزادی کشمیر کو پامال کیا۔۔۔!!!