Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تنہائی  کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے  از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی، کہیں ہمیں شیطان ک ساتھی نہ بنا دے!!!
    از قلم عاقب شاہین پلوامہ

    ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا
    تُو ہُوا فاش تو ہیں اب مرے اَسرار بھی فاش

    شُعلے سے ٹُوٹ کے مثلِ شرَر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سِینۂ پُر سوز میں خلوَت کی تلاش

    اگر ہم غور کریں تو دیکھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے انسان زیادہ خلوت میں رہ گیا ہے…۔ اس وبا کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں وہیں کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ وہ زندگی جہاں ہر کسی پر کوئی نہ کوئی مسلط ہے اس وبا نے ملاقاتوں سے اجتناب کے مواقع فراہم کردیے ہیں۔ تنہائی، خلوت اور گوشہ نشینی کے دن اور رات فراہم کردیے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، محبت اور دوستی انسان کو مطمئن اور آسودہ رکھتی ہے لیکن ساتھ ہی مضطرب، بے چین، پریشان اور پر ملال بھی۔۔۔ جبکہ خلوت اور گوشہ نشینی روح کا وہ سفر ہے جو آگہی، تفکر، صبر، شکر اور بندگی کی کشش سے آگاہ کرتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا :

    شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سینہ پر سوز میں خلوت کی تلاش..!!

    اس شعر کی تشریح میں شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کے خیالات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ فرماتے ہیں ’’تنہائی میں خیالات کی یکسوئی کے سبب باطن صاف ہو جاتا ہے اگر باطن کی صفائی مذہبی رہنمائی اور رسول اللہؐ کی سچی پیروی کا نتیجہ ہے تو اس سے روشن ضمیری، دنیا سے بے تعلقی، ذکر الٰہی کی حلاوت اور مخلصانہ عبادت کا ظہور ہوگا اور اگر مذہبی ہدایت اور رسول کریمؐ کا اتباع مقصود نہیں تو محض نفس کی صفائی ہوگی‘‘۔
    لیکن خلوت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ خلوت میں انسان شیطان کا سب سے آسان ہدف ہوتا ہے۔ شیطان جو رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے خلوت میں زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔۔۔۔
    آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے آزمایا جارہا ہے، جہاں ایک کلک کر کے آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں
    جس سے ہمارے ایمان کا ایک منٹ میں خاتمہ ہوسکتا ہے۔۔۔
    ہم اپنے دوستوں سے مل کر ایسی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے ہیں جس سے شیطان بھی شرماتا ہے ،ہم خفیہ گروپس بنا کر رات دن شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں لگتا ہے شاید ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا ، الگ کمرے میں سب سے چھپ کر گناہ کرتے رہتے ہیں
    (یستخفون من الناس) لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ،
    ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے ،جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے۔۔۔۔

    یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔
    یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
    : { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 65)
    ” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘
    اس لیے میرے عزیزو !!!
    ایسے کام کرو کہ ہمارے ہاتھ محشر میں گواہی دیں ، اس نے ہمارے ذریعے کبھی کسی ایسی ویب سائٹ پر کلک نہیں کیا جس سے ایمان کا خاتمہ ممکن ہو….ہماری آنکھیں یہ گواہی دیں کہ اس انسان نے مجھ سے کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو نہیں دیکھی جس سے اس کے ایمان پر برا اثر پڑا ہو ۔۔۔۔

    ’’ ہم اپنے احباب و اقارب سے چھپ کے گناہ کرتے ہیں ، ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی دیکھ لے گا تو رسوائی ہوگی ..مگر وہ دن یاد نہیں.. جب ہماری بیوی، بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہوں گے اور دوست واحباب بھی موجود ہوں گے ،، زمانہ دیکھ رہا ہو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رہا ہو گا ،، ہائے ، اُس رسوائی کا کیا عالَم ہو گا ،،،،،،،،،،،،،،،،

    آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیے ہوئے کو صاف کر سکتا ہے. اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،،

    خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. یوں وہ خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.
    (اِتَّقِ الله حيث ما كنت) جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.
    اللّہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے.
    آمِین…”.

    ايک دن آپ تمام دوست مجھے Off line پائيں گے۔۔!
    فرينڈ ريكوسٹ بھيجيں گے ليكن ايكسیپٹ نہيں ہوگى، ميسنجر پہ پيغام بھيجيں گے اور رپلائى كا گھنٹوں انتظار كرتے رہيں گے،
    ليكن جواب نہيں ملے گا۔ ۔۔!

    میں آپ كو مستقل Off line نظر آؤں گا۔۔۔
    ميرى پوسٹيں بھى آنا بند ہوجائيں گى،
    كيونكہ ميں اس دنيا سے رخصت ہوچكا ہوں گا،
    پھر آپ ميرے ساتھ كسى قسم كا كوئى رابطہ نہيں كر سكيں گے، ميرے كمنٹس كا رپلائى نہيں دے سكيں گے، ايكسكيوز نہيں كر سكيں گے، معذرت نہيں كر سكيں گے ۔۔!

    كيونكہ ميں اس وقت آپ كے ساتھ نہيں ہوں گا۔۔
    قبر كے تنگ و تاريك گڑھے ميں ابدى نيند سويا ہوں گا۔۔۔

    وہاں ميں ٹائم پاس اور تنہائى كو دور كرنے كے ليے كسى سے چيٹ نہيں كر سكوں گا۔۔
    وہاں ميرے اعمال ہى ميرے ليے حسرت اور خوشى كا سامان ہوں گے۔۔۔

    آپ بھى اس بات كى حرص كيجيے اور ميں بھى حرص كرتا ہوں، كہ ہمارى لكھى گئى پوسٹيں ہمیں قبر کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ اور ہمارے ليے صدقہ جاريہ بن جائيں۔۔۔

    تو جلدى كيجيے !

    اپنى ٹائم لائن كا جائزہ ليں غير ضرورى پوسٹوں كو ڈيليٹ كريں، اور آئندہ ايسى پوسٹيں كرنے سے گريز كريں۔

    ابھى آپ كے پاس فرصت اور وقت ہے۔۔!

    كيونكہ ابھى تو آپ دنيا ميں wattssUp یا facebookپر online ہيں۔۔ ۔!

    ميں اپنے نفس كو اور آپ كو عربى كے اس شعر كى ياددہانى كروانا چاہتا ہوں:

    يلوح الخط في القرطاس
    دهرا وكاتبه رميم في التراب

    "ہمارا لكھا ہوا زمانہ بھر باقى رہے گا، جبكہ ہم مٹى ميں دھول بن جائيں گے۔”

    خرجت من التراب بغير ذنب
    *وعدت مع الذنوب إلى التراب

    ” ہم مٹى سے تو بغير گناہ كے نكلے تھے، ليكن مٹى ميں گناہ لے كر جارہے ہيں۔”
    جزاکم اللہ خیر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • گورننس کے مسائل  تحریر:عدنان عادل

    گورننس کے مسائل تحریر:عدنان عادل

    گورننس کا مفہوم ہے کہ حکومت کے مختلف ادارے کس طرح اپنے اپنے کام انجام دے رہے ہیں‘ سیاسی نظام کن قواعد کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ گورننس کا حال بہت خراب ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ حکومتی معاملات میں بدانتظامی ہے‘قومی امور پر غلط فیصلے لیے جاتے ہیں‘قاعدہ قانون کی بجائے سفارش اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ میرٹ کو نظر اندازکیا جارہا ہے۔ سرکاری ادارے وہ کام انجام نہیں دے رہے جن کے لیے انہیں بنایا گیا ہے۔حکومت عوام کووہ خدمات مہیا نہیں کرپارہی جو اسکے فرائض میں شامل ہے۔ حکومتی کارکردگی پر ایک طویل نوحہ پڑھا جاتا ہے۔جب خراب گورننس کا شکوہ کیا جاتا ہے تو سیاستدان الزام لگاتے ہیں کہ بیوروکریسی انہیں کام نہیں کرنے دیتی۔انکی بات نہیںمانتی۔ہر کام میں رولز کا بہانہ کرکے روڑے اٹکاتی ہے۔ انکے بتائے ہوئے کاموں میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ سرکاری افسر رشوت خور ہیں‘ کام چور ہیں۔ اعلی سرکاری افسروں کا موقف ہے کہ ارکانِ پارلیمان کا کام صرف قانون سازی ہے‘ لیکن وہ انتظامی امور میں مداخلت کرتے ہیں۔انہیں قاعدہ‘ قانون کے خلاف کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی خرابی کی جڑ ہے۔ سیاستدان دباؤ ڈال کر اہم عہدوں پر بدعنوان افسروں کا تقرر کرواتے ہیں جس سے رشوت خوری میں اضافہ ہوتا ہے‘ نااہل سرکاری اہلکاربدا نتظامی کا باعث بنتے ہیں۔ لاقانونیت پھیلتی ہے۔اچھے افسران کھڈے لائن لگے رہتے ہیں۔جو افسرحکومت میں شامل سیاستدانوں کے جائز و ناجائز کام کرتے رہیں انہیں اچھے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ سرکاری کاروباری اداروں جیسے ریلوے‘ پی آئی اے وغیرہ میں سیاستدانوں نے ضرورت سے زیادہ اور میرٹ کے بغیر اتنے نالائق‘ نکمے لوگ بھرتی کیے کہ انکا بیڑہ غرق ہوگیا۔ کرپٹ سیاستدانوں اور بدعنوان سرکاری افسروں کا گٹھ جوڑہے جس نے گورننس کا ستیا ناس کردیا ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل ایوب خان کے زمانہ تک پاکستان میں گورننس کے حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اُس دور کو اچھے الفاظ میں یادکیا جاتا ہے۔ یہ امن و امان اور تیز معاشی ترقی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔میری رائے میںگورننس کی موجودہ اَبتر صورتحال کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ ان میںایک بڑی وجہ انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کا بڑھ جانا ہے۔ ایوب خان کے دور تک اس زمانہ میں انتظامیہ میں سیاستدانوں کی مداخلت بہت کم تھی۔ ضلع کا ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس طاقتور تھے۔ عام طور سے میرٹ اور قانون کی حکمرانی تھی۔ رشوت خوری کم تھی۔ اس نظام کے بخوبی چلنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ برطانوی عہد میں میرٹ کی بنیاد پرقائم کیے جانے والا سول سروس کا نظام کام کررہا تھا۔ مقابلہ کا امتحان پاس کرکے آنے والے سی ایس پی افسر وں کو آئینی تحفظ حاصل تھا۔ حکومت میں شامل سیاستدان یا ارکانِ پارلیمان اعلی سرکاری افسروں پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ان سی ایس پی افسران سے یہ شکایت تو ہوسکتی تھی کہ وہ عوام سے الگ تھلگ رہتے تھے لیکن وہ عام طور سے نااہل اور کرپٹ نہیں تھے۔ان میں ایسے قابل لوگ تھے جنہوں نے نو زائیدہ پاکستان کی تعمیر کی۔ اسلام آباد اور جوہر آباد ایسے نئے شہر تعمیر کیے۔گلبرگ لاہور اور کراچی میں متعددخوبصورت رہائشی بستیاں بنائیں۔پانی کے بڑے ڈیم بنائے گئے۔ پاکستان انٹرنیشل ائیرلائینز بنائی جو دنیا کی بہترین کمرشل فضائیہ بنی۔پاکستان ائیر فورس تشکیل دی گئی۔ زیرو سے شروع ہونے والے ملک میںاتنی تیز رفتار ترقی ہوئی کہ دنیا میںاسکی مثال دی جاتی تھی۔ جنوبی کوریا‘ سنگاپور جو اب ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں اسوقت پاکستان سے بہت پیچھے اور پسماندہ تھے۔ میرٹ اوراہلیت پر مبنی پاکستان کے سول سروس کے نظام کوجنرل ایوب خان کی حکومت کے بعد مسلسل کمزور کیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے سول سروس سے قانونی تحفظ چھین لیا۔سرکاری محکموںمیں سیاسی مداخلت کے دروازے کھول دیے ۔ سرکاری افسر سیاسی حکمرانوں کی خواہشات کی تعمیل کے تابع ہوگئے۔ اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ آج کو ئی سول ادار ہ اپنا کام ٹھیک سے کرنے کے قابل نہیں۔ پہلے جومسئلہ ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح پر حل ہوجایا کرتا تھا اب اس کو سلجھانے کے لیے وزیراعلی‘ وزیراعظم اور اعلی عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ سویلین اداروں کی تباہی کا نتیجہ ہے کہ اب کچھ عرصہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے فوج طلب کرنا پڑتی ہے۔ کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے فوجی جنرل کی قیادت میں رینجرز کو آپریشن کرنا پڑا۔کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے بھی فوج اور رینجرزکی نگرانی میں نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کو کام کرنا پڑا۔سوِل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں سیاسی مصلحتوں کی خاطر پنجاب میںپانچ مرتبہ انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل کیے گئے۔ جب تک سویلین اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک نہیں کیا جائے گا ملک میں گورننس کا حال خراب رہے گا۔ پاکستان کی گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سول سروس کے ارکان کو وہ آئینی تحفظ دیا جائے جو اسے جنرل ایوب خان کے دور تک حاصل تھا تاکہ انتظامیہ میں بے جا سیاسی مداخلت کا راستہ بند کیا جاسکے۔ ارکان ِاسمبلی قانون بنائیں‘ منتخب حکومت پالیسی بنائے لیکن انتظامیہ کے کام کاج میں سیاسی مداخلت نہ کرے۔ سیاستدان سرکاری افسروں کی تعیناتی اور تبادلہ میںدخل اندازی نہ کریں۔ منتخب ارکان اسمبلی اور وزراء کے پاس اتنی طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ افسروں کو زبانی احکام دیکر قاعدہ قانون کی خلاف ورزی پر مجبور کرسکیں یا اپنی پسند کے کرپٹ افسروں سے گٹھ جوڑ کرکے قومی خزانہ کی لوٹ مار کرسکیں‘ اربوں‘ کھربوں کے ٹھیکے پسند کے ٹھیکیداروں کو دے سکیں۔سرکاری اداروں میں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر بھرتیاں کرکے‘ اُنہیں قانون ا ور قواعد کے مطابق چلا کر قانون کی حکمرانی قائم کی جائے۔ صوبہ کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل کے عہدوں کو آئینی عہدے بنایا جائے۔ سیاسی حکومت ایک بار جب ان عہدوں پر تقرر کردے تو تین سال تک انہیں ہٹایا نہ جاسکے۔ اگر ان پر کسی غیرقانونی کام میںملوث ہونے کا الزام ہو تو صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرکے انہیں ہٹائے ۔ ہماری بقا اس میں ہے کہ جیسے پاک فوج قاعدہ‘ قانون اور نظم و ضبط کے تحت کام کرنے والا ایک موثر ادارہ ہے اسی طرح سول انتظامیہ کو بھی مضبوط اور مؤثر ادارہ بنایا جائے۔

  • کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ

    کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ

    آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ابتک پاک بھارت مخاصمت و عداوت میں 73 برس گزر چکے ہیں اور بلاشبہ مسئلہ کشمیر دونوں کے مابین خوشگوار تعلقات کی راہ میں بنیادی تنازعہ ہے۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی گیا، بہت سے ممالک نے ثالثی کی کوشش بھی کی اور کئی بار پاک بھارت باہمی مذاکرات بھی ہوے لیکن کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوا۔

    مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے زریعے کشمیر کو بھارت میں شامل کیے جانے کے بعد ایک بار پھر مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر موجود مسائل میں صف اول پر آگیا ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی لمحہ ہولناک جنگ کی صورت عالمی امن سبوتاژ ہوسکتا ہے۔ اس مسئلے کو لیکر اگر پچھلی سات دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پڑوسیوں نے سیاسی و سفارتی لحاظ سے کوئی کسر روا نہ رکھی لیکن بجائے مفاہمت کے مخاصمت میں اضافہ ہوا۔ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان اسے اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہو تو کیونکر ہو اور پاکستان کے پاس مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کیا آپشن ہیں؟

    تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس سوال کا قابل عمل حل کیول سیاسی و سفارتی جدوجہد سے تو مشکل ترین نظر آتا ہے ماضی کی تاریخ اور موجودہ چین امریکہ رسہ کشی کے ماحول میں وقتی طور پر تو یہ ناممکن ہے۔ ماضی میں سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن سوویت کے ہوتے ہوے بھارت فائدہ اٹھاتا رہا اور اب اس کا الٹ یہ کہ بھارت کے ہاتھ امریکی، برطانوی، فرانسیسی سپورٹ موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان سیاسی و سفارتی میدان خالی کردے بلکہ کشمیر پالیسی میں جارحانہ رویہ اپنانا چاہئے اور انتظامی سطح پر کشمیر کمیٹی کو ختم کرکے کشمیر و بھارت ڈیسک قائم کرنی چاہئے جس میں سول و ملٹری اہل دانش و بینش کو تعینات کیا جائے جس طرح امریکہ کی الگ الگ ڈیسک ہیں برائے جنوبی ایشیا، برائے مڈل ایسٹ، برائے افریقہ وغیرہ وغیرہ۔

    ایسی صورتحال میں جب عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ نہ ہوں تو پاکستان کے پاس کیا آپشن باقی رہتے ہیں؟ اس ضمن میں ایک تو روایتی طریق ہے کشمیری مجاہدین کی اخلاقی و سفارتی مدد جاری رکھیں لیکن اس سے بھارت کو پریشانی کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے لیکن وہ کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، کشمیری مجاہدین مسلح جدوجہد سے ایک طرف تو بھارتی فوج کو الجھائے رکھ سکتے ہیں دوسری طرح مسلح جدوجہد سے جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سے بھارت کو کوئی خاطرخواہ نقصان نہیں، وہ ہزار فوجیوں کے بدلے دو ہزار اور بھرتی کرسکتا ہے۔ دوم سفارتی محاذ کا آپشن ہے جو بارہا آزما آکر دیکھ لیا ہے لیکن مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے۔ لہٰذا اب پاکستان کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لا کر سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ Tit for Tat کے تحت بھارت کو معاشی طور پر بلاک کرنا ہوگا،

    بھارتی منڈیوں کا زبردست نعم البدل پیدا کرنا ہوگا جیسے بھارت نے پاکستان کو معاشی کنگال کرنے کی کوشش کی اور اس نے اس کے لیے مذموم طریقہ اپناتے ہوے پاکستان میں دہشتگردی کا بازار گرم رکھا۔ پاکستان بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتا ہے لیکن مودی کے ہوتے ہوے کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ مرحوم جنرل حمید گل نے فرمایا تھا کہ مودی پاکستان کے لیے قدرت کا تحفہ ثابت ہوگا اور ویسا ہی ہوا، مودی نے ہندوتوائی پالیسیوں کے زریعے بھارت میں تقسیم در تقسیم کی سی صورتحال پیدا کردی ہے، مسلمان مجموعی طور پر خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں،

    سکھ بھی بھارت سے زیادہ خوش نہیں اور آج بھی ان کے دلوں میں 1984 کے زخم زندہ ہیں، اس کے علاوہ سیون سسٹرز میں پہلے سے آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں، دلت بھی زخم کھا کھا کر آتش فشاں بنے بیٹھے ہیں، تامل اور بدھ خود کو ہندو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، ایسے میں کسی بھی لمحے بھارت کی گلی گلی جنگ چھڑ سکتی ہے جس پر قابو پانا بھارت کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ جس دن مودی کا پیدا کردہ یہ آتش فشاں پھٹے گا اس دن اس سے نکلنے والا لاوا بھارتی معیشت کو راکھ کردیگا۔

    اس کے علاوہ مودی سرکار بھارت کی روایتی پالیسی کو ترک کرکے ایک طرف تو سیکیولرزم کی جگہ ہندو راشٹر اور دوسری طرف ریاست کو امریکی سیٹلائٹ بنا بیٹھی ہے نتیجتاً بھارت میں داخلی سطح پر بہت سی فالٹ لائن پیدا ہوگئی ہیں اور مزید ہونگی جبکہ دوسری طرف چین کسی صورت بھی بھارت کو چین کی جگہ عالمی فیکٹری بننے نہیں دے گا۔ بھارت کی داخلی صورتحال نے ایک بار پھر وقت کے پہیے کو پیچھے کی جانب دھکیل دیا ہے اور ایک بار پھر وہاں تقسیم ہند سے پہلے کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے اور پاکستان کو ان فالٹ لائنز و صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ اگلے پچھلے قرضے چکائے جائیں۔

    آرزوئے سحر
    کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ

  • جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    یوں تو دنیا بھر میں لوگوں کی منفرد ،دلچسپ اور عجیب و غریب سرگرمیوں کے بارے میں اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے والوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ حیران و پریشان کر دیتی ہیں اور دلچسپی کا باعث بنتی ہیں-

    باغی ٹی وی : اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر حیران کن اور دلچسپ ویڈیو ز اور تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی طرح سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی اس ویڈیو سے لطف اندوز ہو رہا ہے-
    https://twitter.com/Habibsu16092600/status/1292696204258750464
    حبیب سلطان اعوان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چائے کے شوقین لوگوں کیلئے ایک ایسی ہی دلچسپ ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ایک ایسا چائے کا ہوٹل دیکھا جا سکتا ہے جو کہ درخت پر بنایا گیا ہے-

    اس انوکھی طرز کے بنے عجیب و غریب ہوٹل کی چائے پینے کے لئے چائے کے شوقین لوگوں کو درخت پر چڑھنا پڑتا ہے جہاں چائے پینے والوں کے بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی رکھی گئی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ہوٹل کو دیکھنے اور چائے پینے کے لئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد جمع ہے اور وہ اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر حیرانی اور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں –

    حبیب سلطان نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے چائے کے شوقین لوگوں جو اس ہوٹل سے چائے پینے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ چاۓ کے شوقین تو بہت لوگ ہوں گے لیکن ایسی چاۓ کسی نے نہیں پی ہوگی جو شوقین ہیں چاۓ کہ وہ یہ چاۓ ضرور پیئں –

    چائے کے نئی طرز کے انوکھے ہوٹل کی ویڈیو سو شل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کے مالک کے اس آئیڈیا کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت۔چائے پیتی ھوں پر درخت پر چڑھ کر چائے آم کا درخت امرود کا درخت سیب کا درخت پھر پیش ہے چائے کا درخت-


    ایک صارف نے کہا کہ وہ دودھ والی چائے کی بالجکل بھی شوقین نہیں ہیں لیکن انہیں ایک دفعہ اس چارپائی پر ضرور بیٹھنا ہے جو درخت پر بنے ہوٹل پر چائے پینے والوں کے لئے رکھی گئی ہے-


    ایک صارف نے تو اسے پاگل پاگل پن قرار دیا-
    https://twitter.com/waqashussain777/status/1292700381349380098?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ان کو کوئی جگہ نہیں ملی تھی چائے کے چکر میں ہڈی پسلی تڑوا لو-

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مہوش حیات کی مداحوں سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے کی اپیل

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

  • دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی  کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان محمد عامر کے عزم و ہمت کی کہانی جس نے اپنی زندگی کے بدترین حادثے کے باوجود امید نہیں کھوئی اور اپنی زندگی کا سفر جاری رکھا-

    باغی ٹی وی :کشمیری نوجوان محمد عامر بازوؤں سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی ریاستی ٹیم کے کپتان ہیں عامر نے 8 سال کی عمر میں اپنے باپ کی چکی پر ایک حادثے میں اپنے بازوؤں سے محروم ہو گئے تھے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان کے والد اپنا روزگار حاصل کرنے کے لئے کرکٹ بیٹ بناتے تھے-
    https://twitter.com/plalor/status/1292328668425883649?s=08
    لیکن کرکٹ کھیل کے لئے اس کے جذبے نے یہ کھیل کبھی نہیں چھوڑا محمد عامر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد میرے ساتھ جو بھی بری چیزیں پیش آئیں جن بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس نے مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ الگ کرنے کا قائل کرلیا-

    اپنے بازوؤں سے محروم عمار بولنگ کرسکتا ہے اور اپنے پیروں ، گردن اور منہ کا استعمال کرتے وہ گیند پکڑ سکتا ہے –

    عامر کے اس ایکسیڈینٹ کے بعد اس کے والد کو اس کا علاج کروانے کے لئے اپنی چکی اور زمین بیچنی پڑی لیکن پھر بی ڈاکٹر عامر کے بازوؤں کو بچانے میں ناکام رہے اور ان حالات میں عامر کو معاشرے میں قبول کرنا مشکل معلوم ہوا۔

    ڈاکٹروں نے عامر کے والد کو کہا کہ وہ بیکار ہے اور اس کے والد کو اسے بچانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے تھا۔ 2 ماہ کے بعد جب عامر صحتمند ہو گیا تو اس نے واپس سکول جانا شروع کیا لیکن اساتذہ نے اسے کہا کہ اسے گھر میں ہی رہنا چاہئے کیونکہ تعلیم اس کے لئے نہیں ہے ۔

    عامرخود کفیل ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اخروٹ بیچ کر کتابیں خریدتا ہے۔

    عامر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی اور میں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں زندگی میں آگے بڑھتا رہوں گا اور یہی میری خواہش رہی ہے-

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    بدترین معاشی مشکلات کا شکار بلوچ لوک فنکار واسو خان کس حال میں ہیں؟

  • میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    ہوا نہیں تھی پر گرد اٹھ رہی تھی دھول کے بادل چھائے ہوے تھے میرے ہر قدم پہ دھول اٹھتی اور گردوپیش گردوغبار چھا جاتا، پر میرے سفید کپڑے ویسے ہی صاف تھے، جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے، ان پہ کچھ اثر نہیں ہوا، اماں مجھے کبھی سفید سوٹ نہیں لیکر دیتی تھیں ، وہ مسکراتے ہوے کہتی تھیں کہ توں اس قابل ای نئیں، اور واقعی میں اس قابل ای نئیں تھا، مجھے گرد پیاری لگتی تھی، مجھے بھیڑ سے نفرت تھی نام و نمود سے ہچکچاتا تھا، بڑے بڑے عزت داروں کو منہ نہیں لگاتا ، اپنے جیسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ، دھڑام سے کچی زمین پہ بیٹھ جاتا تھا، صبح فجر کے فوری بعد جب سڑکیں ویران ہوتی تھیں تو میں سڑک کی بند دکانوں کے تھڑے پہ بیٹھا مسواک کرتا ہوتا تھا ، کوئی فکر نہیں کہ تھڑا گندا ہے یا ڈسٹ جمی ہے، بس وہیں بیٹھا مسواک کرتا رہتا اور سامنے موجود ڈسٹرکٹ جیل کو تکتا رہتا، وہ جیل جس میں ہزاروں کہانیاں چھپی تھیں، عجیب داستانیں وہ جو یونیورسٹی تھی جرائم کی، جہاں مجرم پیدا ہوتے تھے، اعلی تعلیم حاصل کرتے تھے، جیل کی چھوٹی چھوٹی دیواریں ہوتی تھی جن کے ساتھ گونگلو مولیوں کے کھیت تھے، اسکے بعد عملے کے کوارٹر اور پھر سنٹرل جیل، وہیں بیٹھ کر میں مسواک کرتا جاتا اور اس ریڑھی والے کا انتظار کرتا رہتا تھا جس کے چاول چھولے مجھے پسند تھے، مجھے کبھی بڑے بڑے ریستوران پسند نہیں آئے، برگر کنگز ، ھارڈیز ، میکڈونلڈ سے زیادہ پسند رفیق چھولوں والے کے چاول چھولوں کا پیالہ تھا، آج بھی، مجھے ڈنکی ڈونلڈ اور گلوریا جینز کی کافی سے زیادہ پسند چاچا کھوچے کی چائے تھی، کھوچا اسے ہم پیار سے کہتے تھے ورنہ نام اسکا فیض خان تھا اور تعلق ڈمہ ڈولا سے تھا، اس بندے نے یہاں چائے کا کام شروع کیا اور چھا گیا، یہ میں کدھروں کدھر پہنچ گیا، اڑتی دھول میں چلتے ہوے حد نگاہ بہت کم تھی دھول میں سائے لہرا رہے تھے، بھنبھاہٹیں سنائی دے رہی تھیں، جیسے مکھیاں بھنبھناتی ہیں، چلتے چلتے ٹھوکر لگی تو پتہ چلا وہ بھنبھناہٹیں مکھیوں کی ہی تھیں، مگر وہ مکھیاں ایک سوختہ لاش پہ بھنبھنا رہی تھیں ، دھول کم ہونا شروع ہوئی، اور لاش کے آگے پھر لاش پڑی نظر آئی اور پھر لاشیں ہی لاشیں ، تہبند اور کریزوں والے قمیص پہنے یہ لوگ پتہ نہیں کون مار کر گرا گیا، لاشوں سے بچتا آگے جاتا رہا ، اور لاشوں کے مزید انبار نظر آتے گئے، ایک جگہ ایک آدمی ایک بدنصیب عورت کی سوختہ لاش کی کٹی ہوئی کلائی سے سونے کی باریک سی چوڑی نکال رہا تھا، میں اسکے قریب گیا، وہ سہم گیا، اسکے کرتوت نظر انداز کرتے ہوے اسکے قریب گیا اور حیرت سے پوچھا ۔۔ کون تھے یہ لوگ، اس نے تھوک نگلا اور بولا ۔۔ امرتسر سے جو قافلہ نکلا تھا ۔۔۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا اور بے ساختہ قدم پیچھے کی جانب جانے لگے، دل کر رہا تھا بھاگ جاؤں، پیچھے منہ کیا اور سرپٹ بھاگنے لگا یکدم ایک بچے کی باسی لاش سے رپٹ کر گرا اور ناک پہ چوٹ سے کچھ لمحوں کے لئے ہواس معلق ہوگئے، گھٹنوں کے بل اٹھ کر دیکھا میرا سارا سفید سوٹ سیاہی مائل سرخ خون سے رنگ چکا تھا، چکراتے سر کے ساتھ میں نے اپنے کپڑے دیکھے اور اٹھ کھڑا ہوا، سامنے قصور کا سٹیشن تھا، سٹیشن کے ساتھ تاحد نگاہ محاجر کیمپ لگے تھے جن میں شاید ہی کوئی خاندان مکمل پہنچا ہوگا، ورنہ خاندانوں کے نام پہ چند خوشقسمت افراد بچے تھے باقی سب مارے گئے، سگنل اٹھ چکے تھے، گاڑی آنے والی تھی، لمبے ھارن کی آواز آئی اور بھاپ والا انجن بھاپ اڑاتا سٹیشن میں داخل ہوا، ہجوم اکٹھا ہوگیا، لوگ ٹرین کے گرد پھیلنے لگے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس آنے لگے، بھاپ چھٹ رہی تھی، میرے قدم ٹرین کی طرف اٹھ رہے تھے، پھر وہی خون کی باس آنے لگی، ٹرین میں مسافروں کی جگہ اعضاء تھے، یکدم کسی ٹرین سے ایک بکسا کھینچ کر نیچے اتارا اور بکسے پہ جما سارا خون اُڑ کر میرے کپڑوں پہ گر گیا، لوتھڑوں اور خون سے میرے سفید کپڑے پھر سرخ ہوگئے ، بکسے کے اوپر پڑا ایک مرتبان اُڑتا میرے سر پہ لگا، میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا، ہوش آئی تو میں پھر وہیں جیل کے دروازے کے سامنے بنے گرد آلود تھڑے پہ بیٹھا مسواک کر رہا تھا، اور سوچ رہا تھا، اماں ٹھیک کہتی ہیں ۔
    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔
    سالار عبداللہ
    #سالاریات

  • آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ  تحریر: زوہیب آصف

    آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ تحریر: زوہیب آصف

    آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ
    تحریر: زوہیب آصف

    انسان اپنی فطرت سے ایک آزاد مخلوق ہے۔ اور اللہ نے اس کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اور اس کی منشا یہی ہے۔ کہ وہ آزاد رہے۔ دیگر مخلوقات میں اسے اعزاز بخشا ہے اور سب سے مکرم ومعزز قرار دیا ہے۔ اس لیے اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو ایک الگ ریاست 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں عنایت فرمائ۔ جس کا آغاز برصغیر پاک وہند میں ہندوؤں کے متعصبانہ رویے سے شروع ہوا اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اللہ نے ان کی جدوجہد کو کامیاب بنا دیا۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور کی اور پھر برصغیر کے مسلمانوں کا الگ ملک کا قیام ایک جنون بن گیا۔ جس کی تکمیل دس لاکھ سے زائد شہیدوں کے لہو سے 14 اگست 1947ء کو ہوئ۔ جس میں ھجرت کے وقت نہ ہی بچوں کو معافی ملی اور نہ ہی بوڑھوں کو معافی ملی۔ بلکہ جو بھی ان ظالموں کے ہاتھ لگ جاتا اس کو نشانہ عبرت بنا دیتے۔

    کیا تم بول گئے ہوں ؟ ہمارے بڑوں نے اس قیام پاکستان کے لیے کیا کیا قربانیاں دی۔ ہندوستان سے مہاجر بن کر آئے ہوئے پاکستانی جس میں دس لاکھ شہیدوں کا خون شامل ہے۔

    (داستان ھجرت۔صفحہ نمبر 40 پر لکھا ہے)
    بلکہ انگریز مورخ ڈاکٹر ٹامس اپنی یاد داشتوں میں لکھتا ہے کہ؛ 1862 سے 1867ء تک کے تین سال ہندوستان کی تاریخ کے بڑے المناک سال تھے۔ ان تین سالوں میں چودہ ہزار علمائے دین کو انگریزوں نے تختہ دار پر لٹکایا۔ ڈاکٹر ٹامس لکھتے ہیں کہ دہلی کی چاندنی چوک سے پشاور تک کوئ درخت ایسا نہ تھا جس پر علماء کی گردنیں لٹکی ہوئ نظر نہ آتی تھیں۔ علماء کو خنزیر کی کھالوں میں بند کر کے جلتے ہوئے تنور میں ڈالا جاتا۔ لاہور کی شاہی مسجد کے صحن میں پھانسی کا پھندا تیار کیا گیا۔ اور انگریزوں نے ایک ایک دن میں 80 ۔80 علماء کو پھانسی پر لٹکایا؛
    یہی انگریز ڈاکٹر ٹامس لکھتا ہے کہ۔ میں دہلی کے ایک خیمے میں ٹہرا تھا کہ مجھے مردار کے جلنے کی بدبو محسوس ہوئی میں نے خیمے کے پہچے جا کر دیکھا کہ آگ کے انگارے دہک رہے ہیں۔ اور ان انگاروں پر چالیس مسلمان علماء کو کپڑے اتار کر ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈالا گیا اور میرے سامنے ہی ان کے کپڑے اتار لیے گئے۔ ایک انگریز افسر نے ان کی طرف دیکھ کر کہا: اے مولویو! جس طرح ان کو آگ میں جلا دیا گیا۔ تم کو بھی اس طرح آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ اگر تم میں سے کوئ ایک آدمی بھی کہہ دے کہ ہم 1857ء کی جنگ میں شریک نہیں تھے۔ تم کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ٹامس کہتا ہے کہ: مجھے پیدا کرنے والے کی قسم! میں نے دیکھا کہ چالیس علماء آگ پر پک گئے اور پھر ان چالیس علماء کو بھی آگ میں جھونک دیا گیا۔ لیکن کسی ایک مسلمان عالم نے بھی انگریزوں کے سامنے گردن نہ جھکائ اور نہ ہی معافی کی درخواست کی۔

    شاعر لکھتا ہے۔
    سر کٹا دیں گے ہم تیرے نام پر
    تیرے اعزاز پر،تیرے پیغام پر
    تیرے اقبال پر، تیرے انعام پر
    جاں لٹا دیں گے دین اسلام پر

    ان لوگوں نے قیام پاکستان کے لیے اپنی جان کو قربان کر دیا۔ پر کس کے سامنے گردن نہی جھکائ۔ ہمیں یہ ملک اتنی آسانی سے عطا نہی ہوا۔ لاکھوں شہداء نے اپنے مقدس لہو اس ارض پاک کے وجود کی خاطر نذر کیا۔ بے شمار خواتین اسلام نے اپنی عصمتوں کے آبگینے پاکستان کی عظمت پر نثار کر دئیے۔
    یہ وہ لوگ تھیں۔
    جن کی امیدیں قلیل تھی۔
    جن کے مقاصد جلیل تھیں۔
    جن کی نگاہ دل فریب تھیں۔
    اور جن کی عدا دل نواز تھی۔

    آئیے میں آپ کو ایک رولا دینے والا واقعہ سناتا ہوں۔

    ہیلو پاپا کہاں ہیں آپ؟؟؟
    گڑیا: میں آفس میں ہوں کیوں کیا ہوا؟؟؟؟
    گڑیا : پاپا آپ جلدی گھر آجائیں مجھے اپنے فرینڈ عامر کے ساتھ 14 اگست کی شاپنگ کرنے جانا ہے گھر کوئی بھی نہیں ہے آپی تو کالج سے ہی اپنے فرینڈ کے ساتھ شاپنگ کرنے چلی گئی ہے مجھے وائٹ شرٹ اور ٹراؤزر لینا ہے تاکہ کل جب میں گال پر دل دل پاکستان لکھواؤں تو جو دیکھے وہ دیکھتا رہ جائے
    پچھلے سال کی طرح اس بار بھی ہم خوب انجوائے کریں گے عامر نے تو 14 اگست کے لیے نئی بائیک بھی لے رکھی ہے
    پاپا : اوکے بیٹا میں آتا ہوں

    سامنے ہاتھ میں گن پکڑے ایک ریٹائرڈ فوجی جو بڑھاپے کی کئی مسافتیں طے کرچکا ہے اسکی نم آنکھوں نے ماڈرن بابو کو حیران ہوکر سوال پوچھنے پر مجبور کردیا کہ بابا جی خیر تو ہے کیا ہوا آپکی آنکھیں نم کیوں ہیں؟؟؟؟
    بابا: صاحب کچھ نہیں مجھے اپنے بچپن کے دن یاد آگئے جب میں نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ باجی مجھے بھی جھنڈا چاہیے مجھے بھی جھنڈا لہرانا اور آواز لگانی ہے لے کہ رہینگے پاکستان بن کے رہے گا پاکستان

    صاحب میری بہن چپکے سے اندر گئی اور اپنی سبز قمیض کا دامن پھاڑ کر مجھے کہتی ہے جاؤ بھائی لکڑی کا ڈنڈا لے آؤ پھر میری بہن نے پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں جھنڈا دیا اور میں بہت خوش تھا آج معلوم ہوا کہ وہ خوشی کس بات کی تھی
    وہ خوشی اس بات کی تھی کہ میں نے پاک سرزمین کو اپنی بہن کے دامن سے پہچان دی تھی

    صاحب آپکو معلوم ہے پھر کیا ہوا؟؟؟؟؟؟؟
    ہمارے محلے پر ہندؤں نے حملہ کردیا اور میری بہن کی عزت لوٹ لی اور اسے ساتھ لے گئے دو دن بعد ہمیں اپنی بہن کھیتوں سے ملی تو وہ زہنی توازن کھو بیٹھی تھی اور اسکی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا بن کے رہے گا پاکستان ہم لے کے رہیں گے پاکستان
    صاحب میں چھوٹا تھا میں ساری رات اپنی بہن سے لپٹ کر روتا رہا اور رات کو کسی پہر ہمارے ماموں لوگ آئے اور میری بہن کو کہیں لے گئے میں اور میرے چاچو صبح ہونے سے پہلے ہی اپنا گھر چھوڑ چکے تھے میرے ہاتھ میں صرف ایک جھنڈا تھا جسے میرے چاچو نے جب صبح دیکھا تو اسے سینے سے لگا کر بہت رویا اور کہتا رہا کہ تمھاری خاطر ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لٹوادی ہیں نہ جانے تم ہم سے اور کتنی دردناک قربانیاں لوگے میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ چاچو بار بار اس جھنڈے کو یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ تم اور کتنی قربانیاں لو گے

    صاحب میں چاچو سے پوچھتا کہ ہم کہاں جارہے ہیں تو چاچو کہتے معلوم نہیں بیٹا تم بس چلتے رہو اس وقت تک جب تک موت نہیں آجاتی یا پھر ہم اپنے ملک نہیں پہنچ جاتے

    صاحب آج سمجھ آئی کہ میرے چاچو کس ملک کو اپنا ملک کہتے کہتے سفر میں مصروف رہے

    راستے میں بہت لوگ مرے ہوئے تھے ایک مکان میں ہم چھپے ہوئے تھے کہ ایک دودھ پیتا بچہ رونے لگا تو اسکی ماں نے اسکا گلہ گھونٹ دیا تاکہ وہ ہمیں پکڑوا نہ دے
    صاحب ہر طرف لاشیں بچھی تھی اور گدھ اور جانور انھیں کھانے میں مصروف تھے ہم کچھ لوگ رات کو وہیں رک گئے تاکہ اس جگہ رات گزار سکیں اور صاحب معلوم ہے آپکو ساری رات میرے چاچو کیا کرتے رہے؟؟؟؟؟
    ساری رات میرے عورتوں کی لاشوں پر مردوں کے بدن سے کپڑے پھاڑ کر ڈالتے رہے اور روتے رہے اور جاگتے رہے کہ جانور مسلمان ماؤں بہنوں بیٹیوں کی لاشوں کی بے حرمتی نہ کرسکیں اور اسی دوران نہ جانے کب انکی آنکھ لگ گئی وہ تھوڑی دیر ہی سوئے کہ پھر رات کو اٹھ کر سفر شروع کردیا
    جب میرے چاچو اس پاکستان میں پہنچے تو میری بہن کے دامن اور پاکستان کے سادے جھنڈے کو ہر وقت چومتے رہتے تھے یہاں تک کے اس دنیا سے رخصت ہوگئے
    معلوم ہے صاحب کہ ہمارے چاچو کیا کہا کرتے تھے؟؟؟؟
    جب بھی کوئی شخص بھارت کی بات کرتا تو آپ رونے لگ جاتے اور کہتے کہ خدا کے لیے اس ملک کا نام مت لو جس نے پاکستان کی قیمت ہم سے ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹ کر وصول کی

    صاحب دیکھو نا جن عزتوں کو بچانے کے لیے ہماری ماؤں اور بہنوں نے کنوؤں میں چھلانگیں لگا دیں انھیں ہماری آج کی بیٹیاں سرعام نیلام کرتی پھر رہی ہیں
    انھیں کون بتائے کہ اس پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد اپنی عزتیں لٹا کر اپنی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ کرنا تھا
    کاش میں انھیں اپنی بہن کا پھٹا دامن دکھا پاتا۔

    حضرات محترم۔
    اور دسری طرف ہم ہیں کہ جن کو یہ ملک ایک پلیٹ میں ملا اس لیے اس کی ہمیں قدر نہی۔ جاؤ جاکر کشمیر کے مسلمانوں سے پوچھو۔ برما کے مظلوم انسانوں سے پوچھو۔ فلسطین کے عوام سے پوچھو۔ آزادی کی قدر ان سے پوچھو۔ ہماری 14 اگست تو ناچ گانے میں گزرتی ہے۔ بلکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے اپنی گاڑی پر پرچم پاکستان کا لگایا ہوتا ہے اور گاڑی کے اندر انڈیا کے گانے لگائے ہوتے ہیں۔
    تم تو 14 اگست ناچ کے مناتے ہو۔ تم 14 اگست گا کے مناتے ہو۔ تم 14 اگست ون ویلینگ کر کے مناتے ہو۔ کیا Celebration ہو رہی ہے۔ کہ جس رب نے تمہیں اتنا بڑا تحفہ دیا۔ تم اس رب کی بغاوت کر رہے ہو۔ اللہ کو کیا جواب دو گئے؟ لعنت ہے ایسی آزادی پر کہ جس میں رب ناراض ہو جائے۔
    خضرات! پاکستان محض ایک ملک کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم نظریہ کی سر بلندی کا پیغام ہے۔ یہ فقط ایک خطئہ زمین نہیں بلکہ یہاں کا ذرہ ذرہ اسلامی غیرت کا امین ہے۔ یہ صرف ایک ریاست نہیں بلکہ خدائے قدوس کی عظیم امانت ہے۔

    یہ مقدس سر زمین اللہ کا احسان ہے
    اس کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان ہے
    ملک وملت کے تحفظ کو یہی اعلان ہے
    سب سے اعلی سب سے پہلے اپنا پاکستان ہے

  • ہے حق ہمارا آزادی ہم لے کے رہیں گےآزادی   ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ہے حق ہمارا آزادی ہم لے کے رہیں گےآزادی ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ہے حق ہمارا۔۔۔۔۔آزادی۔۔۔۔۔ہم لے کے رہیں گے۔۔۔۔آزادی
    جلوس آگے آگے بڑھتا جارہا تھا اور اس کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جارہا تھا۔یہ نعرہ ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل چکا تھا۔اس مطالبے سے ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک اٹھی اور آزادی مانگنے والوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر توڑے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔اس میں انگریز کا ہاتھ تو تھا ہی اور ساتھ ساتھ ہندو اور سکھ بھی اس گھناؤنے جرم میں شامل تھے۔قیام پاکستان کا اعلان ہوا اور انہیں اپنا سارا اسلحہ ہندو حکومت کے سپرد کرنے کا حکم دیا گیا۔ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مسلمانوں کو نہتے کر کے ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ میں برچھیاں،بھالے،نیزے،تلواریں،
    بارود کے گولے پکڑا دئیے گئے۔معصوم بچوں، بوڑھوں، جوانوں کا اتنے بڑے پیمانے پر قتل کہ الامان الحفیظ اپنے اوپر کٹی پھٹی،جلی اور مسلہ کی ہوئی لاشیں دیکھ کر زمین کی روح بھی کانپ اٹھی ہوگی۔
    ایسی ہی ایک کہانی سلیم نامی نوجوان کی ہے جو انڈیا کے علاقے میں بہت خوش وخرم رہ رہا تھا۔اس کی بہت بڑی حویلی تھی۔ایک حویلی میں بہت سے خاندان آباد تھے۔نانی،دادی،چچا،تایا،پھپھو وغیرہ۔ان کے پڑوس میں کئی ہندو گھرانے آباد تھے۔جن کے ساتھ ان کے بہت پرانے مراسم تھے۔اس محلے میں ہندو مسلمان آپس میں دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔نجانے مسلمان ان پر اندھا اعتماد کیوں کرتے تھے۔حالانکہ جو اسلام سے نفرت کر سکتے ہیں وہ مسلمانوں سے محبت کیسے کریں گے۔اس بات کا احساس قیام پاکستان کے وقت ہوا جب اچھے بھلے تعلقات رکھنے والے، اپنے آپ کو جگری یار کہنے والے ہندوؤں نے مسلمانوں سے ایسے آنکھیں پھیریں گویا کہ وہ ایک دوسرے کے ازلی دشمن ہوں۔
    جیسے ہی "قیام پاکستان” کا اعلان ہوا اور مسلمانوں کو انڈیا سے پاکستان ہجرت کی اجازت ملی۔ہندوؤں اور سکھوں کو کھلی اجازت مل گئی۔انہوں نے گاوں کے گاوں جلانا شروع کر دیے۔سلیم اور اس کی حویلی کے مکین بھی ہجرت کے لئے تیاری کرنے لگے۔ان کا خیال تھا کہ اس محلے کے ہندو اور سکھ انہیں یہاں سے باآسانی نکلنے دیں گے بلکہ ان کی مدد بھی کریں گے۔انہیں کچھ قافلوں کا انتظار تھا جن کے ساتھ مل کر وہ پاکستان جانے کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔دو چار لٹے پٹے خاندان ان کی حویلی میں آئے۔جن کی حالت زار دیکھ کر دل ہول اٹھے۔خالی ہاتھ،بھوکے، پیاسے،زخمی،کسی کے پائوں میں جوتی نہیں۔کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے۔کسی کا بچہ سکھوں نے نیزے کی نوک پر رکھ کر ٹکڑے کر دیا۔کسی کی جوان بہن اور بیٹی کو رستے میں ہی ہندو سورماؤں نے زبردستی چھین لیا۔یہ سن کر اور اس حالت میں آنے والوں کو دیکھ کر حویلی والوں کے کلیجے دھک رہ گئے۔وہ سب یہاں سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے محلے کے ہندوؤں نے سکھوں کے ساتھ مل کر حویلی کا محاصرہ کر لیا۔اس پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔باہر جانے کے تمام راستے بند کر دئے گئے۔بچے بھوک و پیاس سے بلبلانے لگے۔بڑی بوڑھیوں نے پریشانی کے عالم میں ہی تھوڑے سے پڑے ہوئے چاول ابالے اور چاروناچار بغیر نمک مرچ اور سالن کے بچوں کے کھلائے اور خود بھی زہر مار کیے۔رات پریشانی کے عالم میں گزری صبح ہندوؤں نے حویلی پر فائرنگ شروع کر دی۔ان کا مطالبہ تھا کہ تمام قیمتی مال اور جوان لڑکیاں ان کے حوالے کر دی جائیں۔یہ مطالبہ کسی قیمت پر منظور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ستم یہ کہ مقابلہ کرنے کے لئے حویلی کے مردوں کے پاس کوئی اسلحہ نہ تھا۔سلیم کے تایا غلام حیدر نے باہر نکل کر ان سے رحم کی درخواست کی۔ان میں بہت سے وہ تھے جو غلام حیدر اور اسماعیل کے برسوں پرانے ساتھی تھے۔سلیم اور مجید کے لنگوٹیے یار بھی وہاں موجود تھے۔لیکن وہ سب تو ایسے آنکھیں پھیرے کھڑے تھے جیسے انہیں جانتے ہی نہ ہوں۔حویلی کے مرد نہتے ہی ان سے لڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔گھر کی تمام عورتوں نے اپنے آپ کو ایک بڑے کمرے میں بند کر لیا جس کا دروازہ کافی مظبوط تھا۔ایک ایک کر کے حویلی میں موجود آدمی شہید ہونے لگے۔باہر سے اندھا دھند فائرنگ ہونے لگی۔پانچ سال کی ایک معصوم سی بچی حویلی کے صحن میں دیوار کے ساتھ سہمی کھڑی تھی۔کسی نے آواز دی دیوار کے ساتھ لپٹ جاو پھر گولی نہیں لگے گی۔اس نے فوری حکم کی تعمیل کی اور دیوار کی طرف منہ کر کے لپٹ گئی لیکن بارود کا ایک گولہ اس کے پاس آکر پھٹا اور اس کے چیتھڑے اڑگئے۔ظالم لوگ حویلی میں داخل ہو گئے تھے۔وہ سارے کمروں کی تلاشی لے رہے تھے۔جب انہیں مطلوبہ مال نہ ملا تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے اور ہر چیز کو آگ لگانے لگے۔ ایک آدمی چھت پر گیا اور جس کمرے میں عورتیں تھیں اس چھت کے بھالوں کو آگ لگا دی اندر کمرے کی چھت سے اگ پھیلنے لگی اور اس میں موجود ساری خواتین جل کر کوئلہ ہو گئیں۔آگ اور دھوئیں میں تکلیف دہ چیخیں آہستہ آہستہ آہستہ آہ و بکا اورسسکیوں میں تبدیل ہو کر جلتی بجھتی راکھ کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔ برسوں سے اس گاوں کی شاندار اور پررونق حویلی ایک ہی ساعت میں جل کر فنا ہو چکی تھی۔ ہندو سورمے اپنا دل ٹھنڈا کرکے کسی اورمسلمان علاقے پر حملہ کرنے کے لیے جاچکے تھے۔ یہاں سوائے سلیم کے کوئی نہ بچا تھا۔اس نے اپنا رومال زمین پر رکھا اور اس میں اپنے پیاروں کے جلے ہوئے جسموں کی راکھ ڈال کر پوٹلی بنائی پھرٹو ٹو ٹےدل اور نڈھال قدموں کے ساتھ پاکستان جانے والے رستے پر چلنے لگا ۔
    یہ کہانی نسیم حجازی کے ناول ” خاک و خون "میں میں نے چند سال پہلے پڑھی۔انہوں نے اسلام وکفر کے مابین جنگوں پر مبنی بہت سے ناول لکھے ۔ اپنے ناول خاک و خون میں توانہوں نے ہندو مسلم دشمنی اور ہندوؤں سکھوں کے مظالم کو کھول کر بیان کیا
    اس طویل تحریر کا مقصد اہل وطن کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ نا ہے۔یہ تو صرف ایک خاندان کی کہانی تھی اس طرح کے ہزاروں خاندان ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے ۔کتنے آشیانےاجڑے ۔انڈیا سے پاکستان کا سفربہت طویل نہ تھا لیکن یہ اذیت ناک گھڑیاں مہاجرین کےلیے کسی قیامت سے کم نہ تھیں ۔اس رستے سے آتے آتے کئی بھائیوں نے اپنی بہنوں کو کھو دیا جنہیں ہندو اپنی ملکیت سمجھ کر اٹھا لے گئے۔ کئی بہنوں نے اپنے بھائیوں کے سر تن سے جدا ہوتے دیکھے ۔کئی دلہنوں کے سہاگ اجڑے۔ ماوں سے دودھ پیتے بچے الگ کرکے سکھوں نے اپنے نیزوں میں پرو دیے۔ اس ماں کا کیا حال ہوگا جس کے دو بچوں میں سے ایک کو ساتھ لے جانے کی اجازت ملی تھی کیونکہ لاری میں جگہ ہی نہیں تھی۔ پاکستان آنے والی ایک ٹرین پر بلوایئوں نے حملہ کر دیااور سارے مسافروں کو بے دردی سے شہید کر ڈالا جب ٹرین پاکستان پنہچی تو اس میں خون سے بھرے چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ جھوٹے واقعات نہیں بلکہ حقیقت ہیں ۔ کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان سے پوچھیے۔ مگر ہمارے نوجوانوں کے پاس نہ تو ان باتوں کو سوچنے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی انہیں تاریخ سے کوئی دلچسپی ۔ اک چھوٹی سی التجا ہےپاکستا میوں بالخصوص نسل نو سے ۔۔۔۔۔۔خدارا اپنے آباو اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھیں ۔ یہ جان لیں کہ آزادی ۔خاک اور خون لازم ملزوم ہیں ۔ آزادی کے لیے عشرت کدوں سے نکل کر خاک نشیں ہونا پڑتا ہے۔خون کی ندیاں بہانی پڑتی ہیں ۔اور جب آزادی مل جاتی ہے تو اس کی قدر اور حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ وگرنہ کٹھن مرحلوں سے حاصل کی جانے والی آزادی ایک جھٹکے سے غلامی میں بدل جاتی ہے۔ اگر اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انفرادی اور اجتماعی طور پر محنت کریں ۔وقت ضائع کرنے کی بجائے فلا حی کام کریں۔اس میں اسلام کی بنیادیں مضبوط کریں ۔ کا فروں سے عملی طور پر نفرت کا اظہار کریں ۔ ملک وقوم کے لیے جان کی بازی لگانے کا عزم رکھیں ۔ اپنی سرحدوں پرکڑی نظر رکھیں تاکہ کوئ دشمن اسے میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔آ یے اپنے وطن کے کیے دعا کریں-
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو (آمین )

  • صدارتی نظام کے خد و خال، اگر صدارتی نظام حکومت اختیار کیا جائے تو جاگیرداروں، قبائلی سرداروں کی طاقت کم ہوگی اور ارکان پارلیمان کی انتظامی امور میں مداخلت میں کمی آئے گی  تحریر عدنان عادل

    صدارتی نظام کے خد و خال، اگر صدارتی نظام حکومت اختیار کیا جائے تو جاگیرداروں، قبائلی سرداروں کی طاقت کم ہوگی اور ارکان پارلیمان کی انتظامی امور میں مداخلت میں کمی آئے گی تحریر عدنان عادل

    صدارتی نظام کے خد و خال

    فرض کرلیجیے کہ صدارتی تائید کو عوامی تائید حاصل ہوجاتی ہے اور ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام نافذ کردیا جاتا ہے توہمیں ان سوالوں پر غور اور بحث و تمحیص کرنا ہوگی کہ اس نئے سیاسی بندوبست میںکیا مسائل درپیش ہوں گے‘ انہیں کس طرح حل کیا جائے گا‘اس سسٹم کے کیا فوائد اور نقصانات ہوسکتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا صدارتی نظام اس طرز کا ہوگا جو جنرل ایوب خان لائے تھے جس میںصدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے نہیں ہوتا تھا بلکہ نوّے ہزار بلدیاتی کونسلرز صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈالتے تھے؟ ان بلدیاتی کونسلرز کو اس وقت بی ڈی(بیسک ڈیموکریسی) ممبرز کہا جاتا تھا۔اس طریقہ انتخاب پر ایک اعتراض تو یہ تھا کہ اس میںحکومتِ وقت دباؤ ڈال کر‘ سرکاری فنڈز ‘سرکاری مشینری استعمال کرکے اپنے پسندیدہ امیدوار کو جتوا سکتی تھی۔ ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی تو ان پر یہی الزامات لگائے گئے تھے۔ اس لیے اس طریقہ انتخاب کی ساکھ کوشدید نقصان پہنچا۔ اب اگر دوبارہ اسی طرز کاصدارتی نظام اختیار کیا گیا تو سیاسی طور پر فعال طبقات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے دانشور‘ صحافی اسے قبول نہیں کریں گے۔ رائے عامہ اسے قبول نہیں کرے گی۔ متبادل یہ ہے کہ صدر کا الیکشن براہِ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جائے۔ پورے ملک کے ووٹربالغ رائے دہی کی بنیاد پر اپنی اپنی پسند کے صدارتی امیدوار وںکو ووٹ ڈالیں۔جسکے ووٹ زیادہ ہوں وہ کامیاب ہوجائے‘ صدر بن جائے۔ اس طریقہ میںایک مسئلہ درپیش ہوگا کہ اگر متعدد امیدوار کھڑے ہوجائیں تو وہ شخص کامیاب ہوجائے گا جس کے تمام امیدواروںکے مقابلہ میں تو زیادہ ووٹ ہونگے لیکن ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کی اکثریت اسکے خلاف ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص تیس پینتیس فیصد ووٹ لیکر کامیاب ہوجائے۔ بقیہ ووٹ متعدد امیدواروں میں تقسیم ہوجائیں۔ اس طرح منتخب ہونے والے صدر کی سیاسی ساکھ کمزور ہوگی۔ ملک کی اکثریت اسکے ساتھ نہیں ہوگی۔ خدشہ ہے کہ ترپن فیصد آبادی والے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا امیدوار ہی ہر دفعہ کامیاب ہوجایا کرے گا۔ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔ان خطرات سے بچنے کی غرض سے بہتر یہ ہے صدر کے براہ ِراست الیکشن میں اکیاون فیصد ووٹ لینے کا اصول اختیار کیا جائے۔ پہلے مرحلہ میں اگر کوئی امیدوار ڈالے گئے ووٹوں کا اکیاون فیصد حاصل نہ کرسکے تو دوسری بار ووٹنگ کرائی جائے جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو بڑے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو۔کئی ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔ اسے ’رن آف الیکشن ‘کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے سے الیکشن کرانے کے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے لیکن اسکے فوائد مالی نقصان پر بھاری ہیں۔ صدر کے الیکشن میں دوسری شرط یہ رکھی جائے کہ کامیاب امیدوار کے لیے کم سے کم دو صوبوں سے اکثریتی ووٹ لینا لازمی ہوتاکہ پنجاب کی عددی اکثریت کی بنیاد پر صدر بننے کا امکان ختم ہوجائے۔ اس شرط سے چھوٹے صوبوں میںاس نظام میں اعتماد پیدا ہوگا کہ اُن سے مینڈیٹ لیے بغیر کوئی صدر نہیں بن سکتا۔درحقیقت صدارتی نظام اختیار کرنے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کا اعتماد حاصل کیا جائے اور انکے خدشات کو دورکیا جائے۔صدارتی نظام میں صدر انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ انتظامیہ اور قانون ساز ادارے الگ الگ ہوتے ہیں۔ موجودہ نظام میں پارلیمان ہی سے انتظامیہ کا سربراہ یعنی وزیراعظم اور اسکی کابینہ جنم لیتے ہیں۔ صدارتی طریقہ میںپارلیمان کا کام صرف قانون سازی تک محدودہے۔ ارکانِ اسمبلی انتظامی کاموں میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔ صدر پارلیمان کی خوشنودی کے لیے سیاسی اقدام کرنے کی بجائے ملکی نظم و نسق پر توجہ دے سکے گا۔صدارتی نظام اختیار کرنے سے انتظامی امور میں سیاسی عمل دخل ختم شائد نہ ہو لیکن کم ضرور ہوجائے گا۔یہی اسکا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ صدر کیلئے ضروری نہیں ہوگا کہ وہ اپنے وزراء کا انتخاب ارکانِ پارلیمان سے کرے۔ وہ ماہرین‘ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ تشکیل دے سکتا ہے۔عام طور سے ارکان پارلیمان مقامی مسائل کی بنیاد پر الیکشن جیت کر آتے ہیں اور بڑے قومی نوعیت کے مسائل کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔اس کمزوری پر قابو پانے کیلئے موجودہ نظام میں وزیراعظم کو مشیروں اورمعاونین خصوصی کا تقرر کرنا پڑتا ہے۔موجودہ پارلیمانی نظام میںخرابی کی ایک بڑی وجہ بااثر مقامی سیاستدان ہیںجنہیں الیکٹ ایبل کہا جاتا ہے۔ یہ حکمرانی کے نظام میں متعدد خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ انتظامی امور میں انکی سیاسی مداخلت سے غیرقانونی کام کیے جاتے ہیں‘ میرٹ پامال ہوتا ہے‘ انکی سفارش پر افسروں کے تبادلہ اور تعیناتی سے انتظامی ڈھانچہ ناکارہ ہوچکا ہے۔بڑے زمینداروں‘ قبائلی سرداروں پر مبنی الیکٹ ایبلز نے سیاسی‘ انتظامی نظام پر شکنجہ کسا ہوا ہے۔صدارتی نظام میں ان مقامی سیاستدانوں کا زورٹوٹ جائے گا۔جاگیرداروں‘ وڈیروں اور قبائلی سرداروں کی اہمیت کم ہوجائے گی۔اسکے برعکس سرکاری افسروں کی طاقت بڑھ جائے گی۔وہ زیادہ آزادی سے کام کرسکیں گے‘ قاعدہ قانون کے مطابق کام کرسکیں گے۔ لاقانونیت کم کرنے میںمدد ملے گی۔ اگر کوئی حکومت میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر دیانت دار افسران تعینات کرے گی تو ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوسکے گی۔ تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صدارتی نظام لانے سے صدر پارلیمان کے اثر سے بالکل آزاد ہوجائیگا۔ کسی بھی حکومت کو اپنا کام چلانے کے لیے اکثروبیشتر نئے قوانین بنانا پڑتے ہیں۔ صدر کو قانون سازی کے لیے پارلیمان کے پاس جانا پڑ تا ہے۔ اس موقع پر ارکانِ پارلیمان صدر سے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔ امریکہ میں بھی یہی ہوتا ہے کہ صدر کو کانگریس کے ساتھ سودے بازی کرنا پڑتی ہے۔ کچھ لو‘ کچھ دو کے اصول کے تحت کام چلانا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی صدر کو ارکان پارلیمان کی بات سننا پڑے گی۔ یوں مختلف علاقوں کے نمائندہ ارکان اپنے علاقوں کے ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے حکومت سے اپنے مطالبات منواسکیں گے۔صدارتی نظام ملک کو سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کی طرف لے جاسکتاہے۔ اس میںجاگیرداروں اور قبائلی سرداروں کی طاقت بھی کم ہوجائے گی جس سے ملک میں معاشی اور سماجی ترقی کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ پارلیمان ا ور اننظامیہ کی علیحدگی سے انتظامی اداروں میں سیاسی مداخلت کے منفی نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے جب قوم کی اکثریت اس نظام کو لانے کی تائید کرے۔

  • مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ،ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ،خدارا تقدس پامال نہ کریں  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ،ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ،خدارا تقدس پامال نہ کریں تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ۔ ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ ۔۔ خدارا تقدس پامال نہ کریں

    (ذرا سی بات ۔ محمد عاصم حفیظ)
    لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان کے تقدس کو ایک پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے گانے کی شوٹنگ کرکے پامال کیا گیا ہے ۔ مساجد جو کہ اللہ کا گھر اور عبادت کے لئے ہیں وہاں پر یوں فحش گانے کے ویڈیو شوٹ سے بڑھ کر گھٹیا حرکت اور کیا ہو گی ۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بے حسی اور لاپرواہی کی انتہا ہے ۔ اس سے پہلے سنجیدہ حلقے بادشاہی مسجد ۔ فیصل مسجد اسلام آباد مسجد وزیر خان سمیت دیگر تاریخی مساجد میں فوٹو شوٹس کے حوالے سے سراپہ احتجاج رہے ہیں لیکن انتظامیہ معمولی آمدن کے لالچ میں ان عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتی رہی ہے ۔ المیہ تو یہ بھی ہے ایک طرف تو مساجد و عبادت گاہوں میں کرونا کی وجہ سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے ۔ نمازیوں کے لیے فاصلے اور ماسک کی پابندی ضروری ہے لیکن انہی مساجد میں گانوں کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ایک خاص تعداد سے زائد نمازی نہیں جا سکتے لیکن ویڈیوز ریکارڈنگ ٹیم کو مساجد میں گھسنے کی اجازت ہے ۔ روک ٹوک کا کوئی قانون ضابطہ ہی نہیں ۔ افسوس تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں فورسز کی وردی میں سوشل میڈیا ویڈیو پر نوکری ختم ہو سکتی ہے کیونکہ وردی کی توہین کی ۔ کسی ادارے کے بارے پوسٹ پر گرفتاری ہو جاتی ہے ۔ سیاسی لیڈر کے بارے اظہار خیال پر بھی قانون حرکت میں آتا ہے لیکن مساجد کے تقدس کی پامالی ۔ شعائر اسلام کی توہین اور عبادات و دینی تہواروں کا مزاق اڑانے یا ان پر فحاشی و عریانی پھیلانے پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔
    کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسی قوم دیکھی ہو گی کہ جو اپنے مذہبی مقامات ۔ مقدس جگہوں ۔ عبادات کے مراکز ۔اپنی مذہبی روایات ، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق ، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے رمضان المبارک میں جس طرح فلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز ، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں ۔جبکہ عبدالاضحی اور قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خالص دینی فریضہ ہے اسے نمود و نمائش ، جانوروں کی سج دھج اور طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کی پہچان بنا دی گئی ہے ۔ کمرشل ازم کے تحت ہر مذہبی تہوار۔ مقام اور شعائر اسلام تک کو اشتہار بازی ۔ فحش ویڈیوز اور فوٹو گرافی کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب بادشاہی مسجد لاہور ۔ بحریہ ٹاؤن گرینڈ مسجد اور فیصل مسجد اسلام آباد میں نکاح کو ایک رسم بنا دیا گیا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چند منٹوں کے نکاح کے بعد اسی مسجد میں مکمل پروفیشنل فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کا اہتمام کیا جانے لگا ہے ۔اس شوٹنگ اور دوسرے الفاظ میں ” ماڈلنگ ” کی بھرپور تیاری کی جاتی ہے ۔ مختلف پوز بنا کر ایک ماہر فوٹو گرافر یا پروڈیوسر کی زیر نگرانی یہ مراحل مکمل ہوتے ہیں ۔ دولہا دلہن ان یادگار لمحات کے لئے مکمل طور پر میک اپ ۔ ویل ڈریسنگ میں آتے ہیں ۔ اور اب بات اس سے بڑھ کر گانوں کی شوٹنگ تک پہنچ چکی ہے ۔

    خدارا مساجد کے تقدس کا خیال رکھیں ۔ آپ کے پاس دولت کے انبار ہوں گے اور بے پناہ اختیارات کون آپ کو روک سکتا ہے لیکن طاقت کے اس نشے میں اگر ان مقدس مقامات کو نہ ہی روندا جائے تو بہتر ہے ۔ مساجد نماز و عبادت کے لئے ہیں انہیں گانوں کی ریکارڈنگ۔ ماڈلنگ ۔ فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کی جگہیں نہ بنایا جائے ۔ خدارا مساجد کے تقدس کا خیال کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ مساجد کی بے حرمتی پر ہوش کے ناخن لیں اور کسی بھی قسم کے ویڈیو یا فوٹو شوٹ کی اجازت نہ دی جائے ۔ مساجد کا تقدس معمولی آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی ہے ۔