Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
    اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
    میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
    ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
    محمد عبداللہ

  • مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عالم قیام کرنے والے روزہ دار اور مجاہد سے افضل ہے۔ جب عالم فوت ہو جاتا ہے تو اسلام میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے کہ اس جیسا جانشین ہیں اسے پر کرسکتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام 1/398)
    بلا ریب علماء ہی انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں جو دین کی دعوت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اس مشن پیغمبرانہ کی ادائیگی میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی درویشانہ زندگی میں "ان اجری الا علی اللہ” کے مصداق نظر آتے ہیں. یہ علماء و مشائخ کرام دنیا کے ذہین ترین انسان ہوتے ہیں لیکن ان کی جستجو و طلب دنیا نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی و کامرانی کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ مدارس و جامعات کی چٹائیوں پر بیٹھ کر طلب علم میں مصروف رہنے والے طلبہ کی علمی رہنمائی کر کے انہیں ہیرے کی طرح تراش کر ملت کو بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ایک ایک عالم دین اور شیخ الحدیث اپنی اپنی جگہ ایک تحریک ہوتا ہے جو معاشرے کی نہ صرف دینی رہنمائی کرتا ہے بلکہ معاشرے کے بیگاڑ کو روکنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتاہے۔
    کسی عالم دین کا اس دنیا فانی سے جانا محض کسی شخصیت، شکل و صورت یا دم ولحم کا فقدان نہیں ہوتا بلکہ اس کے سینے میں محفوظ و مامون میراث نبوت کا فقدان ہوتا ہے۔ اور علماء کے جانا علامات قیامت ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی وسلم کا فرمان ہے۔
    سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ ہم نے کہا کہ نہیں! انہوں نے فرمایا کہ علماء کے اٹھ جانے سے (سنن دارمی)
    گذشتہ چند ماہ میں بہت سی علمی شخصیات ہم سے رخصت ہوگئیں جن کا خلا پر ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ علمی شخصیات یکے بعد دیگرے ہمیں داغ مفارقت دیتی رہیں۔ علماء کی وفات پر جماعت کا ہر فرد مغموم و محزون نظر آیا اور علماء کی جماعت کے ساتھ ساتھ عام انسان بھی ان علماء کرام و مشائخ عظام کی وفات کواپنا ذاتی نقصان سمجھ رہا تھا اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نظر آرہا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ امسال اس قدر علماء و مشائخ عظام کی پے در پے وفات سے ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جس کا پر ہونا ناممکن ہے کیونکہ جو مسند خالی ہو جاتی ہے بظاہر اس مسند پر جانشین اجاتا ہے لیکن علمی و عملی طور پر وہ اس مقام کا حامل نہیں ہوتا جس قدر اس مسند کو چھوڑ جانے والا تھا۔
    جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی صرف ایک عالمی علمی دانشگاہ ہی نہیں بلکہ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ دینی و فکری رہنمائی کرنے والی ایک تحریک ہے جہاں سے قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے دنیا کو سیراب کیا جاتا ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عامۃ الناس کی رہنمائی کی جاتی ہے۔
    بانی جامعہ ہمارے مربی و محسن فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلی تمنا تھی کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ایک علمی مجلہ ہونا چاہیے۔ بحمد اللہ پندرہ سال قبل جامعہ کی انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا اور فضیلت الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ذمہ داری لگائی جنہوں نے احسن انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا اور مجلہ کو معنوی اور صوری طور پر خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی معیار کو بھی بلند رکھا اور مختلف مواقع پر مجلہ اسوہ حسنہ کے خصوصی نمبر بھی شائع کئے۔ جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
    تحفظ ناموس رسالت نمبر 2005
    قرآن نمبر 2006
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2012
    پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نمبر 2012
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2013
    سعودی عرب نمبر 2013
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2014
    دفاع بلاد حرمین نمبر 2015
    بےدینی، دہریت اور الحاد نمبر 2020
    اور اب سال 2020 میں وفات پا جانے والے جید علماء کرام کی سوانح حیات پر خصوصی نمبر” گلستان علم و عرفان کے انمول موتی جو ہم سے بچھڑ گئے نمبر 2020
    اس خاص نمبر میں الشیخ قاضی محمد عیاض، محدث العصر مولانا عبدالحمید ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ، پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان، بابائے قرآت قاری محمد یحیی رسول نگری، حافظ صلاح الدین یوسف، محدث العصر مولانا ضیاء الرحمن الاعظمی مدنی، مولانا انیس الحق افغانی رحمھم اللہ علیہم پر اہل علم و قلم کے مضامین شائع کئے ہیں۔ 124 صفحات پر یہ علماء کرام کی سوانح حیات پر مشتمل دستاویز ہے۔ جو کہ اصحاب علم وفضل سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ اور علماء کرام کی زندگیوں اور علمی جد و جہد سے آگاھ کرنے کے لیے ” مجلہ اسوہ حسنہ” کی انتظامیہ نے بہت ہی احسن قدم اٹھایا ہے۔ اور طالبان علوم نبوت کے اشتیاق کو بڑھانے کے لیے یہ خصوصی نمبر شائع کرکے ہم طلاب علم کے لیے علماء کرام و مشائخ عظام کے حالات کو جاننے کا سامان مہیا کیا ہے۔
    مجلہ اسوہ حسنہ کی تسلسل سے اشاعت کے لیے خصوصی دلچسپی لینے پر فضیلة الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور جامعہ کے اساتذہ کرام جو کہ مجلہ کے قلمی معاونین بھی ہیں لائق صد تحسین ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
    اس اشاعت خاص پر میں مدیر مجلہ محترم ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست و احباب سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اس خصوصی نمبر کو ضرور حاصل کریں۔ خود بھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی مجلہ پڑھنے کےلئے دیں تاکہ ان کے دلوں میں بھی دین اسلام کے داعی بننے کا جذبہ اور لگن بڑھے۔
    ملنے کا پتہ:
    دفتر مجلہ اسوہ حسنہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی

  • اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے  شاعری:  فاخرہ تبسم

    اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے شاعری: فاخرہ تبسم

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    مغرب کے سبق سکھاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    گانوں کی دُھن پہ سلاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچیوں کے

    فحا شی کے نام پہ اترائیں

    جس دیس کی مائیں مغرب کی

    دلدل میں خود ہی گر جائیں

    جس دیس کے چوراہوں پر

    تصویریں ہو ں عریانی کی

    وہاں زنا کی شرح بڑھ جائے

    تو پھر بات ہے کیا حیرانی کی

    جس دیس کے علماء بھی

    باتوں کو خوب گھماتے ہوں

    اور اپنی انا کی خاطر

    نفرت کے بیج اگاتے ہوں

    ووٹوں کے نام پہ لوگوں کی

    عقلوں سے کھیلا جاتا ہو

    شعور اُڑا کے ذہنوں کے

    اس قوم کو بیچا جاتا ہو

    جس دیس میں جوہر تربیت کے

    ناپید ہو جائیں بچپن سے

    جان چُھڑائیں گے پھر وہ

    تہذیب کے ہر اک بندھن سے

    جس دیس میں تربیت بچوں کی

    نیٹ اور کیبل کرتے ہوں

    اس دیس کے مستقبل کے معمار

    پھر کیوں نہ آوارہ پھرتے ہوں

    اس دیس میں قاتل میڈیا پر

    آواز اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک باسی پر

    سوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کی ساری ماؤں کو

    اسلام سکھانا واجب ہے

    اس دیس کی مکتب گاہوں میں

    قرآن پڑھانا واجب ہے

    انسان بنانا واجب ہے

    شعور جگانا واجب ہے

    شاعری: فاخرہ تبسم

  • جاگ اٹھے ہیں دیوانے   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمارے ایمان کا جزو لاینفک ہے کیونکہ صحابہ کرام معیار ایمان اور معیار حق ہیں۔ اللہ تعالی نے اس پاک باز جماعت اور نفوس قدسیہ کے لئے آسمان سے جنت کے سرٹیفیکیٹ عطا کئے۔ اور ان کے لیے اپنی رضا کا اعلان فرمایا اور انہیں مختلف اعلی القابات سے بھی نوازا۔ حضرات صحابہ کرام، خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم وہ جاں نثار ساتھی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ رسول اکرم صلی وسلم کے مقدس ہاتھوں میں دے کر اسلام کی بیعت کی۔ اور پھر تازیست اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے اور دین اسلام کو بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیا۔ صحابہ کرام جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کے منتظر رہا کرتے تھے اور آپ کے ادنی سے اشارے پر ہر چیز قربان کر دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے کر ان کی اداؤں اور وفاؤں کو کو دیکھ کر انہیں نہ صرف معاف فرمادیا بلکہ کلمہ تقوی کا انہیں حقدار ٹھہرا کر بہشت کے وارث بنا دیا۔ ہر مسلمان جس طرح سے عقیدہ ختم نبوت کے بارے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتا بعینہ ناموس صحابہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ جس طرح سے ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی ہر چیز قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں بعینہ اسی طرح ناموس صحابہ پر کٹ مرنا بھی باعث فخر سمجھتے ہیں۔ مسلمان صحابہ کرام کو ختم نبوت کے روشن ستارے سمجھتے ہیں اور ان ستاروں پر دل و جان سے فدا ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اور ان سے محبت اپنا ایمان اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرے گا وہ مجھ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ درحقیقت اللہ تعالی سے محبت کرے گا۔ اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے بغض رکھے گا۔ گا۔ وہ اللہ تعالی سے بغض رکھے گا۔ اس لئے ہم صحابہ کرام سے محبت اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی وسلم سے محبت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور اس محبت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
    اس ماہ محرم میں اسلام آباد میں ایک ملعون ذاکر نے خلیفہ اول، یار غار، افضل الناس بعد الانبیاء سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نہ صرف تکفیر کی بلکہ بات بدزبانی سے آگے بڑھا دی۔ اور 10 محرم عاشورہ کے دن کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ بند روڈ پر کاتب وحی وحی خال المسلمین سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور خسر رسول سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کیا گیا۔ جسے کچھ ٹی وی چینلز نے لائیو بھی دکھایا۔ جو کہ ملک کی سنی اکثریت کے جذبات کو ابھارنے اور وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ جس کے پیچھے حکومت میں بیٹھے ہوئے وہ وزراء ہیں۔ جن کی طرف شیعہ علماء بھی اشارہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جس ذاکر پر اسلام آباد داخلے پر پابندی عائد تھی اس پر سے پابندی کس نے اور کیوں ہٹائی؟
    اور پھر لاہور سے ماتمی سنگت لا کر مجلس اور فرقہ وارانہ تقریر کروانی گی۔ اور جب ملک میں شور اٹھا تو اس ملعون ذاکر کو ملک سے فرار کروا دیا گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اس پر درجن بھر ایف آئی آر مختلف مقامات پر درج تھیں۔ اور اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی کٹ چکی تھی۔ اس طرح سے عاشورہ کے دن کراچی میں ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود تاحال جعفر تقی نامی ذاکر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی طرح سے مختلف مقامات پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے تسلسل سے گستاخیاں کی جارہی ہیں۔ اور سوشل میڈیا ان گندی حرکات سے بھرا پڑا ہے۔
    سنی مسلمان جو کہ اس ملک کی بڑی اکثریت ہیں وہ ان گستاخیوں کو روکنے کے لئے گھروں سے باہر نکلے پر مجبور ہوگئے۔ تینوں مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء اور قیادت نے ایک حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا کہ جمعہ کے روز 11ستمبر کو علمائے دیوبند عوام کو لے کر پرامن عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ اگلے دن 12ستمبر کو بریلوی علماء عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے اور اس سے اگلے روز 13 ستمبر کو علمائے اہلحدیث عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ پھر اہل کراچی نے علماء و مشائخ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
    عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہلحدیث علماء و قائدین نے کوششیں شروع کیں اس سلسلے میں اہل حدیث ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں سرکردہ اہلحدیث تنظیموں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، جمعیت اہل حدیث سندھ۔تحریک اہلحدیث پاکستان، جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان۔ اہل حدیث مدارس وجامعات جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ الاحسان الاسلامیہ۔ المعہد القرآن الکریم،المعھد السلفی، مرکز المدینہ و دیگر اداروں نے شرکت کی۔ ایک اجلاس المعھد السلفی میں علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ کی میزبانی میں ہوا۔ 10 ستمبر بروز جمعرات کو عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہل حدیث علماء کنونشن الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ کی میزبانی میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ہوا جس میں چار سو سے زائد علمائے اہل حدیث شریک ہوئے۔جہاں ریلی کے بارے مشاورت ہوئی۔ خطبات جمعہ میں عوام کو عظمت صحابہ ریلی میں شرکت کی ترغیب دلائی گئی۔ علماء کرام مشائخ عظام اور قائدین کرام نے اپنی اپنی سطح پر رابطے کیے اور لوگوں کو ریلی میں شرکت کے لئے دعوت دی اور حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا کہ ناموس رسالت اور ناموس صحاب اس وقت نکلنا اور آواز بلند کرنا بہت ضروری ہے۔ علماء کرام و مشائخ عظام نے ریلی کی کامیابی کے لیے رب کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کیں۔ 13 ستمبر کو عوام جذبہ حب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر گھروں سے نکلے اور عظمت صحابہ کے ترانے بلند کرتے ہوئے جامع مسجد اہلحدیث کورٹ روڈ کراچی پہنچے۔ جہاں سے شرکاء ریلی کی شکل میں پریس کلب کی طرف نکلے ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے اور عظمت صحابہ کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے اور ناموس صحابہ کے لئے مرمٹنے کا عزم اپنے دلوں میں لیے ہوئے تھے۔
    سوشل میڈیا کے ذریعے ریلی کی لائیو کوریج کی جا رہی تھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا راستے میں ریلی کے ساتھ مزید قافلے بھی شامل ہوتے رہے۔ ریلی میں میں جماعتوں کے بجائے صرف وطن عزیز پاکستان کے ہی پرچم تھے کیوں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں۔ جب ریلی پریس کلب پہنچی تو عوام کا جم غفیر اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ پریس کلب پر علمائے کرام و قائدین مولانا مفتی محمد یوسف قصوری صاحب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ، ڈاکٹر مفتی خلیل الرحمن لکھوی مدیر المعھد القرآن الکریم، مولانا شیخ ضیاء الرحمن مدنی مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، حکیم ناصر منجا کوٹی، مفتی عبدالحنان سامرودی، مولانا داؤد شاکر، مولانا محمد ابراہیم طارق، خلیل الرحمن جاوید، مولانا ضیاء الحق بھٹی، محمد اشرف قریشی, مولانا محمد ابراہیم جونا گڑھی، مولانا محمد شریف حصاروی، مولانا انس مدنی، مولانا حافظ محمد سلفی نائب امیر جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان، مولانا عبدالوکیل ناصر، ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی، شیخ ارشد علی، مولانا نصیب شاہ سلفی، مولانا محب اللہ، ایم مزمل صدیقی, پروفیسر محمد یونس صدیقی، ڈاکٹر عامر محمدی، جے یو آئی کے قاری محمد عثمان اور دیگر نے خطاب کیا۔
    مقررین نے کہا کہ شان، عظمت اور رفعت بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام کو روشنی کا مینار اور امت کے محسن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ کسی بھی صحابی پر انگلی اٹھانا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر انگلی اٹھانا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ معیار ایمان اور عادل ہیں۔ مقررین نے کہا کہ کسی بھی فرقہ کو قانون سے بالاتر ہو کر عوام پر مسلط ہونے کا موقع دینا فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دینا ہے دفاع صحابہ حدیث جماعتوں کا مستقل ایجنڈا ہے۔ اس ضمن میں مجرموں کو گرفتار کرکے کے قرار واقعی سزا دلوانے میں میں ریاست نے کردار ادا نہ کیا تو ہم بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
    بحمداللہ ملک بھر کے مسلمان نہ صرف بیدار ہوچکے ہیں بلکہ میدان عمل میں بھی نکل چکے ہیں اور دفاع ناموس رسالت اور دفاع ناموس صحابہ کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ

  • خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ

    جنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
    سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
    خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.

    تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.

    چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
    ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
    تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
    ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
    آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.

    نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
    محمد عبداللہ

  • معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات  بقلم : ندا خان

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات بقلم : ندا خان

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات
    بقلم :: ندا خان
    پاکستان میں آئے روز معصوم بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات یہاں نا دو سال کی بچی محفوظ ہے
    اور نہ 14 سال کا لڑکا اور نہ شادی شدہ عورت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ ایسا کیوں بنتا جارہا ہے
    حديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے
    ” اپنی اولاد کی جلدی شادی کرو” والله اعلم
    اور جب اولاد زنا کی مرتکب ہوتی ہے تو اس کا گناہ والدین پر ہوتا ہے والدین انتظار کرتے ہیں کہ بیٹا نوکری کرے گا تو شادی کرے گے، بیٹا بیشک تب تک گناہ کی دلدل میں دھنس
    چکا ہو، اور ہمارے پاکستانی چینلوں پر جب واہیات ڈرامے
    چلائےجائے اور ہمارے بعض ناول نگار بولڈ اور واہیات ناول
    لکھے جنہیں پڑھ کر کوئی بھی شخص نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے غلط راستہ اختیار کرتا ہے
    پہلے صرف ایک چینل پی ٹی وی تھا جس میں سبق آموز ڈرامے ہوتے اب جتنے زیادہ چینلوں کی بھرمار ہے اتنی
    بےغیرتی پروان چڑھ رہی ہے ناول نگاروں میں ، بانو قدسیہ
    مستنصر حسین تارڑ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، جیسے نامور لوگ تھے جو ایسے ناول لکھتے تھے کہ انسان کو پڑھ
    کر اچھا محسوس ہوتا تھا اس میں مثبت تبدیلی آتی تھی
    میرا ماننا ہے واہیات ناول لکھنے اور ڈرامہ بنانے والوں پر پابندی لگائی جائے ایسے ڈرامے بنانے والوں کے لیئے سزا
    مختص کی جائے تاکہ کوئی جرات نہ کرے بے غیرتی پر مبنی ڈارمہ بنانے کی
    اور اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلے زیادتی کے کیس
    میں مجرم کو سرعام سزائے موت دی جاتی تو میرا نہیں خیال کہ دوبارہ کسی کی جرأت ہوتی کہ کوئی معصوم بچوں کو گندی نگاہ سے نہ دیکھتا
    آجکل ٹیکنالوجی کا اگر فائدہ ہے تو نقصان زیادہ ہے موبائل فون
    بڑے، چھوٹے ہر ایک کہ ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں جو چاہے
    مرضی دیکھے، جنسی ہوس کے بچاریوں سے اپنے ہی ہمسائے
    کے بچے محفوظ نہیں ہمارے والدین ہمیں بتاتے ہیں کہ پہلے
    سب کی بیٹیاں سانجھی سمجھی جاتی تھیں ایک دوسرے کی ماں، بیٹی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر ٹیکنالوجی نے
    زندگی آسان کی ہے تو ایک دوسرے کی عزت و احترام ختم کردیا ہے ہر کوئی اپنے اپنے موبائل کی دنیا میں مگن ہے
    ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت نہیں والدین کے لیے اولاد کے لیے وقت اور اولاد کے لیے اپنے ماں باپ کے لیے وقت نہیں
    والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی تربیت یہ نہیں کہ کھلایا
    پلایا اور اچھے سکول میں داخلہ کروایا یہاں والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی والدین اپنے بچوں پر نظر رکھے دیکھے وہ بند کمرے میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر یا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر کونسی ویب سائٹ کھول کر بیٹھے ہیں ان کے دوستوں سے ملیں کے آپ کے بچے کے کیسے دوست ہیں؟
    والدین اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں تاکہ وہ غلط دوستوں سے بچ سکیں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم لازمی دے تاکہ وہ بہترین انسان بن سکے پاکستان میں اب اسلامی نظام کے نفاذ کی ضرورت ہے
    ریاست مدینہ صرف کہنے سے نہیں بنتی محنت کرنی پڑتی ہے بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
    "زمین الله کی نظام بھی الله کا ”
    جب الله کی زمین پر وہ انسان جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا فرشتوں سے سجدہ کروایا وہ انسانیت کے درجے سے اتنا گر جاتا ہے کہ کسی کی بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
    جب اللّٰه کی زمین پر فسادات بڑھ جاتے ہیں پھر زمین ہلا دی جاتی ہے پھر انسان کو بتایا جاتا ہے کوئی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ آیت کا مفہوم ہے
    "اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ”

    "انسان بڑھتے جا رہے ہیں……..
    اور انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے”
    گزشتہ روز لاہور کی حدود میں گاڑی سے عورت کو نکال کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب عورت نے موٹروے والوں کو فون کرکے مدد کے لیے بلایا تو انہوں نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیا کہ یہ علاقہ ان کی انڈر نہیں میرا سوال ہے
    موٹروے والوں سے کیا ان کی اپنی بہن مدد کے لیے پکارتی تو وہ انکار کرتے؟ محمد بن قاسم کیوں چلا گیا ایک عورت کی پکار پر اس نے کیوں نہیں کہا کہ یہ میرا علاقہ نہیں
    اس کا جواب بھی موجود ہے کیونکہ اس اندر غیرت تھی
    محمد بن قاسم نے اس عورت کی عزت کو اپنی عزت سمجھ کر حفاظت کی
    ہم انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ کسی کی
    مدد کے لیے ہمیں حدود متعین کرنے پڑتے ہیں ہمیں زرا رحم نہیں آتا کہ کوئی مدد کے لیے پکارے تو اس کی مدد کے لیئے
    موجود ہوں
    حديثِ کا مفہوم ہے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    "تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا
    الله رب العزت سے دعا ہے کہ
    الله سب کو ہدایت عطا فرمائے اور سب کی حفاظت فرمائے
    آمین یا ارحم الراحمين۔

  • دماغ کو پرسکون رکھیے  تحریر:عمر یوسف

    دماغ کو پرسکون رکھیے تحریر:عمر یوسف

    دماغ کو پرسکون رکھیے

    عمر یوسف

    کبھی غور کیا ہو تو محسوس کریں گے کہ ایک سٹوڈنٹ ہوتا ہے جو پیپروں کی تیاری میں ہلکان کبھی یہ کتاب پکڑ کبھی وہ کتاب پکڑ ۔۔۔ کبھی اس مضمون کو رٹا مار کبھی اس مضمون کو رٹا مار ۔۔۔۔ کافی محنت و مشقت کے بعد بھی پیپر دیتے وقت نتیجہ امیدوں کے برعکس نکلا ۔۔۔

    لیکن ایک استاد ہوتا ہے جو طالب علم کو ہدایات دے رہا ہوتا ہے ۔۔۔ گیس بتاتا ہے ۔۔۔ سوالات کی نشاندہی کرکے دیتا ہے ۔۔۔ اور حیرت انگیز طور پر استاد یا سینیر کے بتائے گئے گیس اور ہدایات صحیح ثابت ہوتے ہیں ۔۔۔

    جانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

    طالب علم پیپروں کی سٹریس کو ذہن پر سوار کرچکا ہوتا ہے ذہنی افراتفری عقل کو ڈھانپ دیتی ہے ۔۔۔ صحیح اقدام کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے ۔۔۔ درست چیزیں سامنے ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتیں ۔۔۔ پھر کام کیسے درست ہوجائے ؟

    استاد کو یا سینئر کو سٹریس نہیں ہوتی ۔۔۔ اسے فیل یا پاس ہونے کا ڈر نہیں ہوتا وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوتا ہے یہی اس کا پوزیٹیو پوائنٹ ہے ایسی صورت حال میں دماغ خوب کام کرتا ہے دور اندیشی آجاتی ہے انسان ممکنہ صورت حال کا اندازہ لگا لیتا ہے ۔۔۔ ذہن کا اطمینان ، دماغ کا سکون ہی کامیابی کے دروازے پر لے جاتا ہے ۔۔۔۔

    جذبات کی افراتفری ذہنی کشیدگی ختم کرلینا انسان کی کامیابی ہے ۔۔۔

    آپ سیکھ سکھتے ہیں ۔۔
    دماغ کو پسکون رکھنا ۔۔۔
    اسے سمجھائیے کہ افراتفری میں تمہارا نقصان ہے ۔۔۔
    اسے بتلائیے کہ کوشش کے بعد بھی اگر ناکامی ہوئی تو زندگی نہیں رکے گی ۔۔۔
    اسے حوصلہ دیجیے کہ انسان کے لیے قدرت سو دروازے کھلے رکھتی ہے ۔۔۔
    اسے تسلی دیجیے کہ جس رب نے پیدا کیا وہ خوب خیال رکھنے والا ہے خوب منصوبہ کرنے والا ہے خوب حکمتوں والا ہے تو کیوں نہ سارے معاملات اس کے سپرد کیے جائیں ۔۔۔۔

    تمہارا ذہن کی تربیت کرنا ذہن کو تمہارے تابع کردے گا ۔۔۔۔ ذہن کا دماغ کا انسان کے کنٹرول میں آجانا ہی سب سے بٹی کامیابی ہے ۔۔۔۔ فقر میں صبر ذہن کے قابو ہونے میں ہی ہے ۔۔۔ تکلیف میں برداشت ذہن کے قابو ہونے میں ہے ۔۔۔۔ صدمے کو سہہ جانا دماغ پر حکمرانی کے وقت ہی ممکن ہے ۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں ۔۔۔۔

    جس دن آپ کو دماغ پر حکمرانی حاصل ہوگئی تو پھر فخر سے کہیے گا کہ ہلکانوں کی دنیا میں میں بے تاج بادشاہ ہوں ۔۔۔ ایسا بادشاہ جسے زوال کا ڈر نہیں ۔۔۔۔

    تعمیر کی طرف سفر میں ہمارے ہمسفر بنیں ۔۔۔۔🌹

  • زنا کے بڑھتے واقعات  کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے
    یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں 30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں
    1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے
    یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
    نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے
    النکاح من سنتی
    نکاح میری سنت ہے
    ایک اور جگہ فرمایا
    من رغب سنتی فلیس منا
    جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں
    ایک اور جگہ فرمایا
    یا معشر الشباب تزواجوا
    اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو
    مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے
    اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ
    اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے
    بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے
    یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں فرمایا گیا
    کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا
    لا تقربوا الزنی
    خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا
    یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ
    زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں
    ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا
    جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی
    اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے
    آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے
    مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا جانا ہے اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے
    ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے
    بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں
    مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا
    اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا
    جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے
    اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور جوانیاں برباد ہو رہی ہیں
    اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے
    اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں
    اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے

  • تکرار لاحاصل  تحریر :سفیر اقبال

    تکرار لاحاصل تحریر :سفیر اقبال

    تکرار لاحاصل
    تحریر :سفیر اقبال
    رنگِ سفیر
    (ریاست پاکستان کا موجودہ قانون، مجرمان کے لیے پناہ گاہ)

    عوام :یار یہ کب تک ہوتا رہے گا اس طرح ہمارے ساتھ؟ کیا ہم ساری زندگی ایسی ہی خبریں سنتے رہیں گے؟

    حکومتی نمائندہ : دیکھو یار کوئی گھڑی قبولیت کی بھی ہوتی ہے اللہ سے اچھی امید رکھو ایسے نہیں کہتے.

    عوام :تو اس کا مطلب بس اللہ پر ہی امید چھوڑ دیں اور اگلے ہفتے پھر نئی خبر کے لیے تیار ہو جائیں؟

    حکومتی نمائندہ :نہیں یار جذباتی مت بنو. تفتیش شروع ہو گئی ہے. دیکھنا جلد گرفتاریاں ہو جائیں گی

    عوام :یار گرفتاری کر کے کیا ہونا ہے؟ کیا جرم رک جائے گا؟ کیا مجرم کو سزا نہیں ملے گی؟

    حکومتی نمائندہ : یار یہ سزا والی باتیں پرانی ہیں ‏دینا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں، مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں.

    عوام :دو سال تو ہو گئے آپ کی مہذب حکومت کو. کب کرو گے ایسی تدبیر. کب بناو گے ایسا ماحول، اور ایسا قانون؟

    حکومتی نمائندہ :دیکھو یار اس وقت خزانہ خالی ہے. قرضے کا بوجھ ہے. مافیا اپوزیشن کے ساتھ ملکر حکومت ناکام کرنے پر تلی ہے. ایف اے ٹی ایف کی الگ پریشانی ہے. ایسی صورت میں اتنا سخت قانون نہیں بن سکتا اتنی جلدی.

    عوام :تو پھر حل کیا ہے یار اس کا؟

    حکومتی نمائندہ :حل تو اور بھی بہت ہیں. ساری غلطی حکومت کی بھی نہیں. اصل میں عوام بھی کچھ اچھی نہیں. اگر مساجد کے مولوی بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے سے باز آ جائیں، خود احتسابی کر لیں اور. لوگوں کو نصیحت کریں تو آدھے سے زیادہ جرائم ویسے ہی ختم ہو جائیں. زیادہ غلطی مولویوں کی ہے جو لوگوں کو گندے کاموں سے بچنے کی نصیحت نہیں کرتے.

    عوام: یار مولوی کیسے مجرم کو نصیحت کر سکتا ہے؟ آج کل مجرم پولیس اور حکومت سے نہیں ڈرتے تو مولوی کی بات کہاں سنیں گے. مجرم تو قانون سے ڈرتا ہے بس اور وہ مولوی نے نہیں عمران خان نے بنانا ہے

    حکومتی نمائندہ :یار قانون عمران خان نے نہیں عدالتوں نے بنانا ہے. عمران خان تو خود چاہتا ہے مجرم کو سزا ملے لیکن قانون بنانے والے قانون نہیں بناتے.

    عوام :یار عمران خان چاہتا ہے تو اس نے اپنی کرسی کی توہین کرنے والی کو کیوں نہیں سزا دی یا انہیں جو اسے کرسی پر لے گئے تھے ٹک ٹاک وڈیو بنانے کے لیے؟ کیا عمران خان کے کمرے اور اس کی کرسی پر بیٹھنے والی طوائف کا فیصلہ بھی عدالتوں نے کرنا تھا؟

    حکومتی نمائندہ :یار کیا فضول بات کرتے ہو. تم نے سنی نہیں یہ خبر کہ وزیر اعظم نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ڈانٹ بھی پلائی تھی؟

    عوام :یار وہ متعلقہ حکام کون تھے وہ پتا نہیں چل سکا؟

    حکومتی نمائندہ :یار پتا چلا ہو گا لیکن ہر بات عوام کو بتانا ضروری تو نہیں. گھر کے مسائل گھر میں حل کیے جاتے ہیں چوکوں چوراہوں میں تو نہیں.

    عوام :یار آج تک کسی نے اس بات پر اعتراض کیا کہ حکومتی ایوانوں میں چھپ کر کون کون زنا کرتا ہے. وہ وڈیو پبلک ہوئی تب بات گھر سے باہر نکلی ورنہ کس نے کچھ کہنا تھا.

    حکومتی نمائندہ. یار جو کچھ ہوا حکومتی ایوانوں میں ہوا تمہیں کیا تکلیف ہے تمہارے گھر تو کوئی نہیں آیا. وہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے اور اگر وڈیو پبلک ہوئی تو خود حکومت ہی بدنام ہوئی ہے تمہیں تو کسی نے کچھ نہیں کہا.

    عوام :لیکن یار محلے میں آگ لگی ہو تو ساتھ والے گھر کو بھی جلا سکتی ہے. آج کسی کی ماں بیٹی کا ریپ ہوا اللہ نہ کرے کل میرے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے.

    حکومتی نمائندہ :یار اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے. کسی کا کوئی نقصان ہو جائے تو اس میں حکومت کی کیا غلطی بھلا؟ اگر کسی کے ذاتی کاروبار میں اسے نقصان ہو جائے تو وزیر اعظم کو گالیاں کس لیے بھلا…, ؟

    عوام :تو پھر حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کر کے الیکشن کے وقت ووٹ کیوں مانگتی ہے…. ؟اس وقت کہہ دیا کرے کہ میں عوام کے ساتھ انصاف کی گارنٹی نہیں دیتا کیوں کہ وہ عدلیہ کا کام ہے یا عوام خود اپنی حفاظت کرے. البتہ عوام کے لئے چیزیں سستی کروں گا… کشمیر آزاد کرا دوں گا.

    حکومتی نمائندہ :یار تمہیں پتا تو ہے اس وقت یہ سب نہیں ہو سکتا اتنی جلدی. مافیا اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہے…… خزانہ خالی ہے…. ایف اے ٹی ایف…

  • بحرانوں کی حکومت   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    بحرانوں کی حکومت بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    بحرانوں کی حکومت

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جب سے عمران نیازی پاکستان کے وزیر اعظم بنے ہیں قوم کو ایک کے بعد دوسرے بحران کا سامنا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ نیازی صاحب کی کابینہ اپنے کام یا عوامی مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ مخالفین کے خلاف دن رات ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے سے بیانات دینے کے لیے مراعات حاصل کررہی ہے۔
    حکومت کے وزراء بشمول وزیراعظم صاحب کی کوشش یہی رہی ہے اصل ایشوز سے عوام کی توجہ ہٹاؤ اور جب مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر جائے تو ایک کمیٹی یا کمیشن تشکیل دے کر مٹی پادو۔
    آج تک کسی ایک بحران کے ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی حتی کہ جن پر دن رات کرپشن کے الزامات لگائے جاتے رہے نہ ان کی کرپشن ثابت کی گئی اور نہ ہی انہیں مجاز عدالت سے سزا دلوائی گئی۔
    وزیراعظم صاحب نے اپنے دور اقتدار میں بحران پیدا کرنے والے اور عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف احتساب تو دور کی بات رہی انہیں مکمل طور پر بچائے رکھنے کا مکمل انتظام کیے رکھا۔
    ادویات کا بحران پیدا کیا گیا اور چار ارب روپئے عامر کیانی پر ادویات ساز کمپنیوں سے لینے کا الزام سامنے آیا تو عامر کیانی کو سزا دینے یا کرپشن کا پیسہ واپس لینے کی بجائے وزارت سے ہٹا کر جماعت کا سیکریٹری جنرل بنادیا گیا۔
    جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر آٹا چینی بحران میں ملوث ہونے کی بات مشہور ہوئی تو وزیراعظم صاحب نے کمیشن بنانے کا اعلان کردیا جب وہ اس بحران میں ملوث پائے گئے تو فرانزک رپورٹ کا ڈول ڈال دیا گیا۔ اور حکومت کے حامیوں کی طرف سے داد و تحسین کے خوب ڈونگر برسائے گئے۔ جب فرانزک رپورٹ میں ملوث نکلے تو جہانگیر ترین کو رات کی تاریکی میں باعزت طریقے سے بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ آٹا چینی کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی رہیں۔ کیونکہ جس نے حکومت اور وزیراعظم بنانے میں بےتحاشہ دولت خرچ کی تھی اس سے کئی گنا زیادہ کمانا بھی حق بنتے ہے۔ کیونکہ وزیراعظم صاحب یاروں کے یار ہیں۔ اگر زلفی بخاری کو نوازا جاسکتا ہے تو جہانگیر ترین کا حق زیادہ بنتا ہے کیونکہ وہ اس حکومتی ٹولے کا سب سے بڑا اسپانسر تھا۔
    ندیم بابر پٹرول بحران میں ملوث تھا جو حکومت میں ہوتے ہوئے عوام کو پٹرول نہ دینے اور خوار کرنے میں مکمل کامیاب رہا۔ اور اس کے دباؤ پر پہلی تاریخ سے پہلے کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں نتیجتاً پٹرول کا مصنوعی بحران ختم ہوگیا اور اربوں روپئے پٹرولیم مافیا نے راتوں رات کمالیے۔
    ایک ڈاکٹر ظفر مرزا ہوتے تھے اس نے بھی کورونا وبا کے دنوں میں ماسک اسمگل کرکے اربوں کی دیہاڑی لگائے۔
    اسی طرح سے عورت تانیہ بھی جدید ٹیکنالوجی کی بنائی گئی تھی اس نے بھی اپنا حصہ وصول کیا اور چلتی بنے۔
    ماشاءاللہ ایسے ایمان دار وزیراعظم صاحب ہیں جو ہر مافیا کو لوٹ مار کرنے کا مکمل موقعہ اور حق دیتے ہیں۔ بحران سے پہلے خبردار کردیتے تاکہ عوام اپنا بندوبست کرلیں کیونکہ عوام کے لیے کام کرنے یا مسائل حل کرنے کی ان کی زمہ داری نہیں بلکہ مسائل میں الجھانا اور بتانا ان کی زمہ داری ہے۔
    اب وزیراعظم صاحب قبل از وقت آگاھ فرما رہے ہیں کہ گیس کا بحران آنے والا ہے لہذا اس کے لیے تیار کرلو۔ گھروں میں لکڑیاں اور اوپلے جمع کرلو تاکہ سردی میں ٹھٹھرنے سے بچ جاؤ اور کھانا بھی پکا سکو۔ کیونکہ بحران کا حل ان کی زمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی ان بحرانوں کے حل کے لیے انہوں نے آپ سے ووٹ لیے تھے۔
    جناب وزیراعظم صاحب!!!!
    آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں بحرانوں کے بارے آگاھ کرنا نہیں بلکہ ان کا حل کرنا آپ کی اور آپ کی کابینہ میں موجود فوج ظفر موج افراد کی زمہ داری ہے۔ قبل از وقت بحران سے آگاھ کردینے سے آپ کسی بھی صورت میں بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ لہذا اپنے وزراء کو چند روز کے لیے مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے سے منع کرکے عوامی مسائل کی طرف لگائیے ورنہ نہ اللہ آپ کو معاف کرے گا اور نہ ہی عوام معاف کرے گی۔