Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل

    پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل

    پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی ملک بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل ہو رہی ہے –

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپسورٹس اینکر اور کرکٹ کمنٹیٹر احمر نجیب نے کبڈی کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی ملک بنیامین کی ورزش کی ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے پاکستانی کبڈی ٹیم کے بہادر مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی نے ٹائر کو رسی کے ساتھ اپنی کمر سے باندھ کر دوڑ تے ہوئے ورزش کر رہے ہیں-


    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے احمر نجیب نے لکھا کہ کبڈی ورلڈ کپ چیپمئین ٹیم کے کھلاڑی بنیامین کی کاکردگی نا قابل فراموش ہے انہوں نے لکھا کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کبڈی ٹیم کا یہ مایہ ناز کھلاڑی ناقابل تسخیر تھا-

    واضح رہے کہ پاکستان کے شہر جڑانوالہ کے چک 102 میں پیدا ہونے والے کبڈی پلئیر ملک بنیا مین نے 2013 میں میٹرک کے بعد کبڈی کھیلنا شروع کی اس کے بعد ایف اے کیا اورای سال پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھی کبڈ ی کھیلی- 2017 میں پاکستان لاہور ریلوے کی طرف سے کبڈی میچ کھیلا اور میچ جیتے اس کے بعد سوئی گیس کی طرف سے پاکستان واپڈا کے خلاف پنجاب سٹیڈیم لاہور میں میچ کھیلا اور بیسٹ کبی پلئیر کا اعزاز اپنے نام کیا – 2018 میں واپڈا میں بھرتی ہو گئے اور پاکستان واپڈا لاہور لیسکو ٹیم کے ممبر بن گئے حال ہی میں پہلی مرتبہ انڈیا کے خلاف ساہیوال مں میچ کھیلا اور اپنی عمدہ کارگردگی کی بدولت بیسٹ کبڈی پلئیر کا اعزاز اپنے نام کیا-

  • کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا  تحریر: انشال راٶ

    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا

    جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کو تباہی سے بچانے اور عالمی انصاف کی فراہمی کے اہداف کے ساتھ لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا، دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام عالم نے بہتر دنیا کی تشکیل کی غرض سے انجمن اقوام متحدہ کے قیام کو ضروری سمجھا۔ سابق امریکی صدر ہینری ایس ٹرومین نے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وہاں موجود تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ ہمیں تمام دنیا کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا لیکن افسوس "میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی” کے مصداق یہ خواب عملی طور پر تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ چھوٹی موٹی مرمتوں سے دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی جب تک کہ تمام بڑے مسائل حل نہ کرلیے جائیں، اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لیے اقدام کرنا ہے لیکن ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی پاس کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے جو دو ایٹمی قوتوں بھارت و پاکستان کو کسی بھی وقت جنگ میں الجھا سکتا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں لیکن اب دونوں ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جس سے بھارت مختلف ہتھکنڈوں و حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے مفر ہے۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، 5 ستمبر 1947 کو کسان مزدور کانفرنس ہوئی اور پاکستان میں شمولیت کی قرارداد پاس کی، 18 ستمبر کو کشمیر سوشلسٹ پارٹی نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد پاس کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا اس ضمن میں UNSC نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 میں نام نہاد الیکشن کرواکر پپٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کے انکشاف کہ "کشمیری مین اسٹریم لیڈر 1947 سے بھارت سے پیسے لے رہے ہیں” جس کے جواب میں کشمیری مین اسٹریم لیڈر نے کہا کہ "اس کے بدلے ہم بھارتی پرچم کو کشمیر میں سرنگوں رکھے ہوے ہیں” کے بعد اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنے چند زرخرید پپٹ کے زریعے نہ صرف کشمیر کے ناجائز الحاق کو قائم رکھے ہوے تھا بلکہ اپنے کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ وغیرہ اور ظلم و بربریت کو روا رکھے ہوے تھا۔ بھارت کبھی سیٹو اور سینٹو کا بہانہ بناکر تو کبھی سوویت یونین کے پیچھے چھپ کر اقوام متحدہ کی قراردادوں پہ عمل کرنے سے بھاگتا رہا اور پھر 1972 میں پاک بھارت شملہ معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ممالک راضی ہوے کہ آپسی معاملات باہمی رضامندی سے طے کیے جائینگے اس کے بعد سے جب بھی مسئلہ کشمیر کے حل کا سوال اٹھا تو بھارت نے اسے Bilateral کہہ کر مسترد کردیا۔ 1998 کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے زریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لیے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا۔ ملکہ الزبتھ نے پاک بھارت دورے کے موقع پر کشمیر کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے اسے دو طرفہ یا باہمی معاملہ کہہ کر مسترد کردیا، اس کے بعد یہ جواب ترکی، چین و ایران کی آفرز کے جواب میں دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹوریو گٹیرس کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے جواباً شملہ معاہدہ کا زکر کرتے ہوے کہا کہ اب UNMOGIP کی ضرورت نہیں یہ ہمارا باہمی مسئلہ ہے اس کے علاوہ فرانس کے دورے کے موقع پر بھی نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ و فرانسیسی قیادت کو یہی جواب دیا لیکن 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کرکے کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کے مودی سرکار کا اقدام نہ صرف شملہ معاہدہ و لاہور ڈیکلیئریشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ ویانا کنوینشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 60 کے تحت پاکستان اب مزید اس معاہدہ کو مکمل یا جزوی منسوخ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اب بھارت کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہ سکتا کہ وہ کشمیر کو بائی لیٹرل مسئلہ کہہ کر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ سکے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار کی حکمت عملی سے اب حریت لیڈروں کے علاوہ مین اسٹریم لیڈر بھی بھارت سے متنفر ہوگئے ہیں جس کا فائدہ پاکستان کو اٹھانا چاہئے اور اقوام عالم کو جھنجھوڑ کر بیدار کرے۔ UNSC کو عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے عراق طرز پر بھارت کے خلاف ایکشن لینا ہوگا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کسی بھی ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

  • بیروت دھماکے حادثہ یا اسرائیل حملہ   تحریر: صابر ابو مریم

    بیروت دھماکے حادثہ یا اسرائیل حملہ تحریر: صابر ابو مریم

    بیروت دھماکے ۔ ۔ حادثہ یا اسرائیل حملہ
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    چار اگست منگل کی شام تقریبا چھ بجے لبنانی وقت کے مطابق بیروت کی بندر گاہ پر یکے بعد دیگر دو بڑے دھماکے ہوئے جس کے باعث نہ صرف پوری کی پوری بندر گاہ تباہ ہوئی بلکہ ان دھماکوں کی شدت اس قدر خطر ناک اور تباہ کن تھی کی مقامی ذراءع کے مطابق چالیس کلو میٹر کے دائرے میں موجود عمارتوں کی کھڑکیاں اور شیشے ٹوٹ گئے اور خطر ناک زلزلہ کی لہر پیدا ہوئی ۔ دھماکوں کے چند لمحوں بعد بیروت کے گورنر نے ذراءع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں سے بیروت کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی یاد دلا دی ہے ۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیوز کو دیکھ کر با آسانی یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ دھماکے نیم ایٹمی دھماکے ہیں ۔

    بیروت میں منگل کو ہونے والے دھماکوں میں اب تک سرکاری ذراءع کے مطابق ایک سو پینتیس افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ۔ درجنوں افراد لا پتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے ۔ اسی طرح تین لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہوئے ہیں جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں ۔ ان تمام باتوں میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیروت شہر کی واحد بندر گاہ جو لبنان کی معاشی ضروریات اور غذائی اجناس کی درآمد کے لئے راستہ ہے مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بندر گاہ پر ہونے والے ہولناک دھماکوں کی تباہی کے باعث جہاں تیل کا ذخیرہ تباہ ہوا ہے وہاں ساتھ ساتھ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے درآمد کی گئی غذائی اجناس بھی تباہ ہو چکی ہیں ۔

    لبنان حالیہ دنوں جہاں اس خطر ناک مصیبت سے گزر رہا ہے وہاں ساتھ ساتھ لبنان کا شمار ایسے ممالک میں بھی ہوتا ہے کہ جن پر امریکہ نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ان پابندیوں کی وجہ سے لبنان کی معیشت بالکل تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ امریکی صدر کی جانب سے لبنانی بینکوں اور معاشی اداروں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تازہ ترین صورتحال میں امریکی صدر نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ لبنان کی مدد کے لئے تیار ہے لیکن آج دو دن گزر جانے کے بعد جہاں امریکہ کی طرف سے کوئی امداد نہیں بھیجی گئی وہاں ابھی تک کسی بھی قسم کی پابندی میں نرمی یا پابندی کے خاتمہ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ پوری دنیا نے بم دھماکوں کے بعد پید ا ہونے والی صورتحال میں لبنان کے عوام کی مدد کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے لیکن امریکی پابندیاں ان امدادی سرگرمیوں کی راہ میں بھی رکاوٹ ہیں ۔

    ایران، قطر، ترکی سمیت عرا ق نے لبنان کی عملی مدد شروع کر دی ہے، ایران کے تین کارگو جہاز حملہ کے بعد بدھ کی درمیان شب کو بیروت ہوائی اڈے پر پہنچ چکے تھے، عرا ق نے امریکہ کے دباءو کو مسترد کرتے ہوئے اگلے ہی دن سے لبنان کے لئے تیل کی سپلائی پہنچانے کی یقین دہانی کروائی تھی، اسی طرح قطر اور ترکی نے موبائل اسپتالوں کا قیام کیا ہے ۔ شام کی حکومت جو گذشتہ دس سال سے امریکہ اور عرب دنیا کی پابندیوں اور سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے اس مشکل وقت میں لبنان کے لئے زمینی او ر فضائی تمام سرحدوں کھول دیا گیا ہے اور زخمیوں کو علاج معالجہ کے لئے دمشق میں منتقل کیا گیا ہے ۔ فرانس کے صدر مائیکرون بھی جمعرات کو لبنان پہنچے ہیں اور امداد کا اعلان کیا ہے ۔

    اس تمام صورتحال کے تناظر میں لبنان حکومت نے ملک میں پندرہ روز کی ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے اور پورے ملک میں سوگ کی فضاء ہے ۔ آئیے اب سیاسی طور پر دنیا کے رویہ اور خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے رویہ کو بیان کرتے ہیں کہ لبنان میں ٹوٹنے والی اس قیامت پر امریکی صدر اور غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے حکمران کیا کہتے ہیں ۔

    لبنان کی بندر گاہ پر ہونےو الے ہولناک دھماکوں کو ابتدائی طور پر سرکاری موقف میں بتایا گیا ہے کہ بندر گاہ پر موجود دوہزار سات سو ٹن ناءٹریٹ سوڈیم آتش گیر مادہ موجود تھا جس کے دھماکہ کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ دوسری طرف امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ حملہ ہو سکتا ہے، لہذا لبنانی حکومت کے موقف کی تردید کی گئی ہے ۔

    عالمی سطح پر ماہرین سیاسیات کی رائے میں بھی اسی طرح کا تاثر موجود ہے اور کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ایک حملہ ہو سکتا ہے اور اس حملہ میں اسرائیل کا ملوث ہونا قوی امکان ہے ۔ اس خیال کے مالک ماہرین کاکہنا ہے کہ اسرائیل ماضی میں لبنان کی بندرگاہ اور فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ اسرائیل ان حملوں کے پیچے ملوث ہو ۔

    کچھ اور ماہرین سیاسیات نے اس خوفناک دھماکوں کو حادثہ ہی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی وجوہات اور غفلت برتنے والے عناصر کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف قرار واقعی ایکشن لیا جائے ۔

    اطلاعات کے مطابق اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ بڑے پیمانے پر دو ہزار سات سو ٹن ناءٹریٹ سوڈیم مواد بندر گاہ کی ذخیرہ گاہ میں سنہ2014ء سے موجود تھا جس کے بارے میں غفلت سے کام لیا گیا ہے ۔ اسی طرح منگل چار اگست کو ہی اسرائیل جنگی طیاروں نے لبنانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام میں داخل ہوئے اور شام میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑنے والی افواج کے خلاف بمباری میں حصہ لیا لہذا ایک امکان یہ پایا جاتا ہے کہ اس کاروائی میں بھی اسرائیلی ہاتھ کارفرما ہو ۔ سیاسی ماہرین کی رائے کے مطابق یہ امکان قوی ہے کہ اسرائیل نے بندر گاہ پر حملہ کر کے حالیہ دنوں امریکہ کی طرف سے معاشی شکنجہ میں جکڑے بیروت کو مزید کڑے امتحان میں مبتلا کر دیا ہے ۔

    دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کی بندر گاہ پر کسی بھی حملہ سے انکار کرتے ہوئے خوفزدگی رویہ کا مظاہرہ کیا ہے البتہ سوشل میڈیا پر اسرائی کے کچھ اراکین کنیسٹ نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور تباہی پر مسرت کا اظہار کیا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ لبنان اس حادثہ کے بعد مشکلات کا شکار ہو چکا ہے، بندر گاہ مکمل تباہ ہو چکی ہے، ایران اور دیگر خطے کے ممالک لبنان کی مدد کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں ۔ لبنان کی مدد ایسے ممالک کررہے ہیں جو خود پہلے ہی امریکی پابندیوں کا شکار ہیں لیکن جو ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں ان کی طرف سے تا حال لبنان کی مدد کے مناظر دیکھنے میں نہیں آئے ہیں ۔ لبنان اپنی ایک مکمل تاریخ رکھتا ہے، اس لبنان نے بہت سے کٹھن حالات کا مقابلہ کیا ہے، اسی لبنان نے سنہ 2000ء میں اسرائیل کولبنان سے فرار کرنے پر مجبور کیا اور مکمل آزادی حاصل کی ۔ یہ لبنان ہے کہ جس نے امریکہ اور اسرائیل کے تمام ناپاک منصوبوں کو آج تک ناکام بنایا ہے اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق لبنان سے یہی امید کی جا رہی ہے کہ لبنان ایک مرتبہ پھر اس خطر ناک صورتحال سے نکل کر ابھرے گا اور یہ لبنان اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ثابت ہو گا ۔

  • فکری یلغار، سلو پوائزننگ  تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ
    تحریر عشاء نعیم

    رفتہ رفتہ زمانہ بدل جاتا ہے ایک دم سے کچھ نہیں ہوتا ۔اور زمانہ بدلنے کا مطلب انسان بدلنا بلکہ انسانوں کی سوچ بدلنے کا نام دنیا یا زمانہ بدلنا ہے ۔
    کسی بھی انسان کی سوچ آپ ایک دم نہیں بدل سکتے رفتہ رفتہ بدل سکتی ہے ۔ہاں کچھ نظریات ضرور ایسے ہوتے ہیں جو یک دم کسی واقعہ، کسی حادثہ ،کسی تجربہ یا کسی دلیل کے سامنے ایک دم بدل جاتے ہیں لیکن مجموعی سوچ نہیں۔
    اس کے ویسے تو کئی ثبوت ہیں لیکن آپ کے سامنے سب سے بڑا ثبوت آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس سال میں دین مکمل ہونا ہے ۔
    اس کاملیت میں صرف دین کے احکامات و مسائل ہی شامل نہ تھے بلکہ لوگوں کی سوچ بھی شامل تھی جو بتوں کی پوجا ،اور کردار کی جہالت سے مکمل بدل چکی تھی اور اب وہ لوگ بت پرست نہیں بلکہ بت شکن تھے اور دنیا کے مہذب ترین لوگ تھے ۔جنھوں نے آگے بڑھ کر دنیا کی امامت سنبھال لی اور پھر روتی سسکتی، تڑپتی انسانیت کو جو جہالت میں گھر چکی تھی، کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئی اور رفتہ رفتہ یہ دنیا سکون کا سانس لینے لگی ۔
    لیکن انسانیت کے دشمن کہاں یہ برداشت کر سکتے تھے ،جن کا مقصد انسانوں کو غلام بنا کر ان پہ حکومت کرنا اور انھیں آگ و خون میں نہلا کر شیطانی دماغوں کو سکون دینا تھا ۔۔
    انھوں نے جب دیکھا یہ عرب کے صحرائی دنیا کو ایسی روشنی میں لا رہے ہیں جہاں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوتا نظر آنے لگا تو انھوں نے رفتہ رفتہ اس دنیا کی سوچ پھر بدلنی شروع کردی ۔
    جہاد ،تلوار اور گھوڑا ،تین خوبصورت نام تھے جو کسی بھی بہادر انسان کا زیور سمجھا جاتا تھا اسے گالی بنانے لگے ۔جس تلوار سے ظلم کا سر قلم کیا جاتا تھا اس کو ظالم اور انسانوں کے لیے دہشت گردی قرار دیا جانے لگا ۔
    مظلوم کو آواز اٹھانے پہ غدار اور ظالم کو انسان کا نام دیا جانے لگا ۔
    جرم کو فطری قرار دیا جانے لگا اور مجرم کو قابل ہمدردی اور جرم اس کا حق قرار دیا جانے لگا ۔
    مجرم کے لیے سزا کا مقصد تھا کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور جرم سے باز رہیں لیکن یہاں کہا جانے لگا کہ وہ بھی انسان ہے ۔یوں اس کی ہمدردی میں لوگوں کو کھڑا کر کے اس کی حفاظت کی جانے لگی ۔نتیجتہ رفتہ رفتہ مسلمان کی سوچ بھی بدلنے لگی جرائم بڑھنے لگے ۔انسانیت سسکنےلگی ۔
    مسلمان انسانیت کے نام پہ عملی طور پر اٹھے، دنیا کو سکون ملا اور چھا گئے ۔
    پھر مسلمانوں کو انسانیت کے نام پہ انھیں ان کے مذہب سے عملی طور پہ دور کیا جانے لگا اور وہ دنیا میں دبنے لگا جس سے انسانیت خون میں نہلانے لگی۔
    آج سے سو سال پہلے تک اسلامی خلافت موجود تھی جس کی نگرانی میں کئی ممالک تھے تو اس وقت تک کچھ حد تک انسانیت کو سکون تھا لیکن شیطان نے اپنی چال چلی خلافت ختم ہو گئی اور پھر اس وقت سے آج تک ہر جگہ انسان آگ و خون میں نہا رہا ہے (جس میں مسلمان ہی ہیں کیونکہ اگر مسلمانوں کو نہ مارا گیا تو یہ باقی انسانوں کے لیے بھی غلامی سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں اور دنیا میں رب واحد کی واحدانیت کو ہی تسلیم کرتے ہوئے انصاف کا بول بالا کرتے ہیں )
    یوں رفتہ رفتہ دنیا جو روشنیوں میں آئی تھی پھر سے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ۔
    اور ہماری زندگی کے ہر معاملے میں یہی صورت حال ہے ۔
    دنیا نے ٹیکنالوجی میں ترقی کی تو کئی چیزیں ایسی آئیں کہ مسلمان حلال اورحرام کے فرق کو نہ جان پائے اور اس چیز سے بچتے رہے (کیوں کہ رفتہ رفتہ مسلمانوں نے علم سے دوری اختیار کی اور بہت ساری احادیث و قرآن کی تفسیر سے بے بہرہ رہے۔)
    وہی چیز جو ایک وقت میں حرام تھی رفتہ رفتہ وہ کچھ مقدار میں جائز سمجھی جانے لگی اور پھر رفتہ رفتہ وہ چیز مکمل طور پہ ہماری زندگی کا حصہ ہوں بنی کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ حرام ہے یا حلال ؟
    اس کی مثال ایک ایپ جو وٹس ایپ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے، میں آنے والے اموجیز کی بھی ہے ۔
    "ایموجی ” لفظ شاید پہلے کئی لوگوں نے نہ سنا ہو لیکن وٹس ایپ کی وجہ سے ہر بندے کو ایموجی کا پتہ چل گیا ہے ۔
    ایموجی دراصل چند لائنز سے بننے والا ایسا خاکہ ہے جس میں مکمل تصویر نہیں ہوتی آنکھوں کی جگہ نقطے اور ہونٹوں کی جگہ لائنز یوں لگاتے ہیں جس سے ہنسنا،رونا ،اداسی اور پریشانی کے ساتھ بہت سارے جذبات کا اظہار ہوتا ہے ۔
    لیکن یہ مکمل شکل نہیں ہوتی ۔
    پہلے پہل مذہبی طبقے نے اس سے پرہیز کیا رفتہ رفتہ غور کرنے پہ پتہ چلا یہ تو مکمل تصویر نہیں ہے سو استعمال میں حرج نہیں اور رفتہ رفتہ یہ بڑے بڑے مذہبی لوگ بھی استعمال کرنے لگے۔
    پھر یہ سٹیکرز مزید ترقی کر گئے اور ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی اصل تصاویر نے لے لی ۔معصوم سی پیاری پیاری من موہنی شکلوں نے دلوں کو موہ لیا اور ہر کوئی نہ صرف استعمال کرنے لگا بلکہ اپنے اپنے بچوں کے سٹیکرز بھی بنانے لگا ۔
    رفتہ رفتہ ذہن کھلے اور اب یہ سٹیکرز اداکاروں کے بننے لگے ۔
    جو میں مذہبی خیالات کی لڑکیاں جو غیر محرم کی تصاویر سے پرہیز کرتی ہیں وہ بھی ان سٹیکرز خو استعمال بے دھڑک کرنے لگیں۔
    بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اب ینگ لڑکیوں کے کچھ اداکاروں کے ایسے سٹیکرز بھی آ گئے جن میں ان کا لباس غیر مناسب ہوتا ہے لیکن یہاں تو کوئی مسلہ نہیں کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بن چکے ہیں کہ یہ تو سٹیکرز ہیں ۔
    ان میں سلیو لیس یا نیک لیس شرٹ ہو یا فضول اشارہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
    رفتہ رفتہ دل دماغ اور سوچ سب بدل چکا ہے ۔ ذہن ان چیزوں کو قبول کر چکا ہے ۔جو چیز پہلی بار ہوتی ہے وہ حیرت انگیز، دوسری بار ،حیرت اور تیسری بار معمول کی بات ہوتی ہے ۔
    کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بدل جاتے ہیں زمانے بدل جاتے ہیں۔
    لیکن میری دعا ہے ہم رفتہ رفتہ واپس اسلام کی طرف لوٹ جائیں اور اچھائی برائی میں فرق کو سمجھتے ہوئے دنیا کو رفتہ رفتہ پھر سے عافیت میں لے آئیں ۔
    پیاری بہنوں اور بھائیو آپ ان سٹیکرز میں جو آج کل بے ہودگی ہے خاص طور پہ سمجھ جائیں اور ان کو پھیلانے سے باز رہیں ۔یقینا ان بےہودہ سٹیکرز پہ جب دوسرے بندے کی نظر پڑے گی تو ذمہ دار آپ بھی ہوں گے ۔جواب دہ آپ بھی ہوں گے ۔
    اس لیے اپنے آپ کو بچائیں دوسروں کو بھی بچائیں
    وما علینا الالبلاغ

  • یوم استحصال کشمیر  از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر

    از قلم: ساجدہ بٹ

    197 سے کشمیری استحصال کا شکار ہیں اور ستم بالائے ستم
    5 اگست 2019 کشمیریوں کے لئے اک اور قیامت کا دن تھا یہ وہ دن تھا جب بھارت نے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر دیا ۔
    کشمیر لہو لہو ہے ۔ہر طرف بھارت کی حقوق انسانیت کو پامال کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں ،
    آخر کب تک میرے کشمیری مسلمان ان ظالم و جابر لوگوں کے ہاتھ میں پستے رہیں گے آخر کیوں ؟
    آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اس تعلیمی یافتہ دور میں کیوں خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہیں کسی کو ظلم کرتے ہوئے ،کیوں دیکھتے رہیں کہ کوئی حقوقِ انسانی کے سب سے بڑے حق آزادی کو پیروں تلے روند ڈالے۔
    آخر کیوں؟؟؟

    اس غم میں کلیاں زرد ہوئیں،اس سوچ میں غنچے سوکھ گئے

    ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

    دنیا کے منصفو کُچھ تو بولو کہ کیوں کشمیریوں کو آزادی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا؟
    غیر مسلم کی طرف سے خاموشی کو تو کسی حد تک ہم برداشت کرتے ہیں لیکن میرا مسلم ممالک سے ایک سوال ہے کہ57 سے زیادہ مسلم ممالک نے کشمیر کے لیے اب تک کیا کیا؟؟؟
    آپ سب تو ہمارے اپنے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یاد ہو گا سب کو ۔۔۔۔۔۔
    کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،،،
    تو مسلمانو آپ کو اپنے بھائیوں کا احساس کیونکر نہیں ہے ؟؟
    دو چار نعرے لگا کر کُچھ نہیں ہو گا سن لو مسلمانوں اب وقت ہے کہ کچھ عملی اقدام اٹھائیں کشمیریوں کے لئے کوئی قربانی پیش کریں ۔۔۔ہم پاکستانی یہ ہر گز نہیں چاہتے کہ کشیمر ہر صورت ہمارا حصہ بنے ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ جو کشمیری چاہتے ہیں اُن کی وہ بات پوری کی جائے اُن کو آزادی د دی جائے ۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔
    اُن کی مرضی سے دی جائے
    آپ بہت بڑے دولت مند ہیں نیک ہیں، سپر پاور ہیں،بہت تعلیمی یافتہ ہیں , لیکن آپ کے سامنے ظلم ہو رہا ہے اور مظلوم کے لئے آپ کُچھ بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ میری نظر میں ظالم ہیں آپ نیک کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟

    مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ

    اپنے خورشید پہ پھیلا دیئے سائے ہم نے

  • اب کشمیر ڈوبتے دیکھو  تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو. . . آج سے ٹھیک ایک سال قبل بھارت نے ایکٹ 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ڈکلیئر کر دیا تھا اور آج ٹھیک ایک سال بعد پانج اگست پر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ھے ۔
    کشمیر دنیا کی ایک خوبصورت ترین وادی ھے جس پر تقسیم ھند کے وقت سے برطانیہ کی نظر ھے وہ عرصہ دراز سے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کا اسکرپٹ تیار کر چکا ھے اور معلوم ھوتا ھے کہ اب اس کھیل کو مکمل کرنے کے لیئے اسکرپٹ کے مطابق اداکاروں کا بھی انتخاب کر لیا گیا ھے اور ایک انتہائی مختصر دورانیئے کا ڈرامہ چلا کر کشمیر کے کھیل کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا اس کھیل کو سمجھنے کے لیئے ھمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکناا ھوگا اور تقسیم ھند کے وقت قادیانیوں کے کردار کو یاد کرنا ھوگا تقسیم پنجاب کے وقت قادیانیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے گورداسپور کا وہ علاقہ جہاں قادیان واقع ھے اسے بھارت میں شامل رکھنے کے لییئے ریڈ کلف کمیشن میں اپنے آپکو غیر مسلم قرار دیا اور ایسا انہوں نے یقینا برطانیہ کی ایما پر کیا ھوگا کیونکہ اگر قادیان کا علاقہ پاکستان میں شامل ھوتا تو بھارت کو کشمیر کے لیئے راستہ نہ ملتا پھر ایک اور واقعہ ھوا کہ 1957 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک ریزولیشن جمع کروائی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ان دونوں میں اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں الیکشن کروائے جائیں اسوقت امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے اس ریزولیشن کی حمایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیئے اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا اس وفد میں جوزف کاربائل صاحب بھی شامل تھے جنہون نے واپس جاکر کشمیر پر کتاب بھی لکھی اور ان کی بیٹی البرائیٹ میٹرن یوناییٹڈ نیشن کی سیکریٹری آف اسٹیٹ بھی منتخب ھوئیں معلوم ھوتا ھے کہ اقوام متحدہ کی سطع پر اندر ھی اندر اس تجوءذ پر کام ھوتا رھا ھے لہذا 2016 میں دوبارہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ٹیموں نے کشمیر کا دورہ کیا اور پاکستان کی طرف سے اس وفد میں حامد میر اور کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین جناب فخر امام صاحب کو شامل کیا گیا اور فخر امام صاحب نے بالکل واضع الفاظ میں کہا کہ ھم بھی تو یہی چاھتے ھیں جو اقوام متحدہ کی ریزولیشن کہتی ھے کہ کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر صاحب نے کہا ھم بھی یہی چاھتے ھیں اب صورتحال یہ ھے کہ 5اگست 2019 کےبھارت کے اقدام اور 5 اگست 2020 کے پاکستان کے اقدام کے بعد کشمیر قانونی طور پر دوبارہ برطانیہ کی جھولی میں چلا گیا ھے اور ھر ذی شعور شخص یہ جانتا ھے کہ اگر کشمیر میں الیکشن کروائے گئے تو تقریبا %90 کشمیری خود مختار کشمیر کیلیئے ووٹ دینگے کہانی کو تھوڑا اور سمجھنے کے لیئے پچھلے دو سالوں میں دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے ھونے والے احتجاجوں کا جائزہ لیں تو آپکو کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی نہیں بلکہ سکھ ھاتھون میں ھاتھ ڈالے مظاھروں میں شریک دکھائی دینگے یاد رکھیئے کہ سکھ اپنے لیئے ایک علیحدہ وطن چاھتا ھے اور قادیانی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جاکر فریادین کرتے ھیں کہ پاکستان میں ھمارے خلاف قتل کے فتوے دییئے جاتے ھیں لہذا ھمارے لیئے کچھ بندوبست کیا جائے یہ بھی کیسا اتفاق ھے کہ کرتار پور اور قادیان دونوں کا راستہ سیدھا کشمیر کو جاتا ھے اور آغا شورش کاشمیری نے 1974 میں چھپنے والی اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ انگریز کی یہ سازش ھے کہ انڈیا کا کچھ پنجاب اور پاکستان کا کچھ کشمیر ملا کر قادیانیوں اور سکھوں کو ایک علیحدہ مملکت دی جائے ھو سکتا ھے بھری عدالت میں ایک قادیانی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ھو کیونکہ قاتل خالد خان وڈیو میں پولیس والوں سے کہہ رھا ھے کہ مجھے تم نے ھی تو پستول دے کر کہا تھا کہ اسے قتل کر دو بہرحال اس سارے ڈرامے کے بارے میں ھماری بیوروکریسی کے بہت سے لوگ باخبر ھونگے لیکن وہ خاموش رھینگے جس طرح حامد میر بھی اس سارے کھیل سے واقف ھے لیکن ھماری صحافت کی یہ خوبرو طوائف
    بڑی ” میسڑی” ھے یہ ھمیشہ بعد میں منہ کھولتی ھے جس طرح اس نے اسامہ بن لادن والے معاملے میں برسوں بعد زبان کھولی تھی ۔
    اجمل ملک

  • یوم استحصال کشمیر سے قبل رمیز راجہ کو کشور کمار کی یاد ستانے لگی، اجمل جامی کی سخت تنقید

    یوم استحصال کشمیر سے قبل رمیز راجہ کو کشور کمار کی یاد ستانے لگی، اجمل جامی کی سخت تنقید

    معروف اینکر اجمل جامی نے پاکستانی کرکٹر رمیز راجہ کو یوم استحصال کشمیر منائے جانے سے چند گھنٹے قبل بھارتی گلوکار کشور کمار کے حق میں‌ ٹویٹ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے،


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجمل جامی نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں‌لکھا ہے کہ یوم استحصال کشمیر منانے سے چند گھنٹے پہلے معروف پاکستانی "کمینٹیٹڑ” کو کشور کمار کی یاد ستائے جا رہی تھی. کبھی روی شاستری کو بھی دیکھا ملکہ ترنم کو یاد کرتے ہوئے؟

    اجمل جامی کی اس ٹویٹ پر کمنسٹس کرتے ہوئے کئی دیگر صارفین نے بھی رمیز راجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، سلمان احمد صوفی نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ جدھر صاحب نوکری کرتے ہیں وہاں کے لوگوں کی یاد ذیادہ ستاتی ہے آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ اگلے ماہ پی ایس ایل بھی سٹارٹ ہونے کو ہے انہیں کمنٹری بھی تو کرنا ہے۔۔۔۔

  • قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

    جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

    عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

    اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

    ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

    اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

    عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

    اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

    مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

    لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

    اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

    ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

    عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

    صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

    تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

    چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

    کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

    گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

    کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

    کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

    یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

  • اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں  تحریر: اخت طلحہ

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں تحریر: اخت طلحہ

    اخت طلحہ……

    میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔
    نہ میں کسی سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔۔۔

    نہ کسی کے لئے دل میں بغض و کینہ رکھتی ہوں۔۔۔۔۔

    بس کبھی کبھی وقتی طور پہ غصہ ہوجاتی ہوں۔۔۔۔۔

    لیکن کبھی کبھی تو بلکل ہی ہمت ہار جاتی ہوں کہ میں ہی کیوں تھی اس آزمائش کے لیئے…..پھر آنسوؤں میں بے بسی بہا دیتی ہوں ۔۔۔۔اور پھر قرآن کی یہ آیت مجھے پرسکون کر دیتی ہے ،،،،وما کان ربک نسیا،،،،،، سورہ19 :آیت 64

    پھر یہ سوچ کے چپ کرجاتی ہوں کہ اس انسان کا اتنا ہی ظرف تھا۔۔۔۔

    میں اکثر ہی سچے جھوٹے وعدوں پہ یقین کرلیتی ہوں۔۔۔۔میں دوسروں کی جھوٹی ہمدردیوں پر یقین کر لیتی ہوں۔۔۔۔
    کیونکہ میں انسان کے اندر جھانک نہیں سکتی اس کا من نہیں پڑھ سکتی۔۔۔۔

    مجھے بہت لوگ ایسے ملے ہیں جنھوں نے ظاہری طور پر میری خیرخواہی کی لیکن حقیقت میں مجھ سے حسد کرتے تھے۔۔۔۔۔

    بہت لوگ ایسے بھی ملے جنھوں نے ظاہری طور پر میرا ساتھ دیا لیکن حقیقت میں مجھ سے بہت دور تھے۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی ملے جنھیں میری خوشی اور کامیابی سے مسکراہٹ ملتی تھی لیکن حقیقت میں وہ میری تکلیفوں میں مسکرایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی تھے جنھیں میرے آنسو سے تکلیفوں ہوتی تھی لیکن حقیقت میں تو وہ میری مسکراہٹ پر رویا کرتے تھے۔۔۔۔۔

    میں کچھ لوگوں کی بے وفاٸی کا بدلہ ہر کسی سے نہیں لے سکتی۔۔۔۔
    ۔
    میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ان سے بدلہ لیا جائے ان کو بتا دیا جائے کہ کسی انسان کے جذبات اس کے مخلص ہونے کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے سارا کا سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔

    پھر یہی سوچ کر چپ کر جاتی ہوں کہ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے اگر میں کچھ نا بھی کروں تو یہ دنیا انھیں اسی جگہ پھر لا کر کھڑا کردے گی۔۔۔۔۔۔۔

    اور اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں میرے اللہ سبحان و تعالی ہیں نا۔۔۔۔۔

    وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

    اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو ۔ ( ٤ )

    کیونکہ ہم جیسے لوگ بس اپنی ذات کو ختم تو کرسکتے ہیں لیکن کسی اور کی ذات کو نہیں ۔۔۔۔۔

    یہ نہیں کہ ہم اچھے ہوتے ہیں بلکہ ہماری براٸی اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے کسی اور کو تکلیف دینا عادت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں۔۔۔۔۔

    اللہ تعالی ہمیں ایسے لوگوں کی شر سے محفوظ فرمائیں آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!!

  • عید اور کچھ یادیں  تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    عید رشتہ داروں کے ملنے کا بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے…
    آپس میں مل بیٹھنے اور پیاری پیاری یادیں شیئر کرنے کا بھی نام ہے…
    میرے بڑے ماموں عید ملنے آئے تو ان کے ساتھ دوستانہ گپ شپ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ دیر اُن کے پاس بیٹھتی ہوں…
    ویسے بھی مجھے اپنی عمر کی نسبت بڑے بزرگوں کی مجلس کرنا بہت پسند ہے،اور عمومًا ایسا ہی ہوتا ہے،اس سے آپ کے اندر حسِ مشاہدہ،خود اعتمادی اور اُن کے تجربات سے بہت کُچھ سیکھنے کو ملتا ہے…
    گھر میں بھی والدین کے پاس بیٹھ کر ماضی کے تجربات کو کریدنا بہت اچھا لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ بھائی اور بہن کی نسبت خاندانی معلومات میرے پاس زیادہ ہوتی ہیں…
    آج بھی بات یونہی نکلی کہ پہلے وقت کے لوگ پر سکون،سادہ مزاج اور مخلصی پر مبنی تعلق رکھتے تھے…
    اُن میں ریا،بناوٹ اور دھوکہ دہی کم تھی جو کہ آج اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ایک گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے نہیں چوکتے…
    میرے نانا میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن اُن کو یاد کرنا،دعائے مغفرت اور اُن کے انداز و کردار کی کہانیاں سننا مجھے آج بھی بہت پسند ہیں…
    بچپن میں نانا نانی کے ہاں جانا اور اُن کی آنکھوں میں پیار کی چمک کبھی نہیں بھولتی…
    نانا مرحوم کی دوستی اور اخلاص کے تعلق کے واقعات اکثر امی بھی سناتی ہیں اور آج بھی دل کھول کر شیئر کیئے گئے…
    واقعی انسان کی اصل قیمت اس کا کردار ہوتا ہے نہ کہ مال و دولت کے انبار…اور ظاہری ٹیپ ٹاپ۔
    ماموں بتا رہے تھے کہ نانا جی ایک دفعہ کسی کام سے فیصل آباد گئے تو واپسی پر ضلع کے تحصیلدار نے کہا کہ بزرگو میری بیوی اور بچے بھی اسی گاڑی میں آپ کے شہر جا رہے ہیں جہاں وہ رہتے تھے تو ان کا بھی سفر میں خیال رکھیئے گا.
    تو نانا جی نے نہ صرف پورے رستہ میں بچوں کو اُس وقت کے مطابق ٹافی،بسکٹ خرید کر دیا بلکہ ان سب کا کرایہ بھی ادا کیا…
    انہیں منزل پر پہنچا کر گھر کا رُخ کر لیا…
    تحصیلدار کی بیوی نے کہا کہ بابا جی آپ رات ہمارے یہاں گزاریں اور خدمت کا موقع دیں ہماری بیٹھک خالی ہے…
    مگر وہ نہ مانے،وقت گزر گیا کافی وقت بعد تحصیلدار نے کسی مجلس میں نانا جی کا تذکرہ کیا کہ اس نام کے شخص کو کوئی جانتا ہے تو ایک شخص نے ہاں کہی…
    اس سے کہا گیا کہ جاؤ انہیں بلا کے لاؤ میں تو اُن سے ملنا چاہتا ہوں پھر مجھے وہ نظر نہیں آئے…!!!
    جب نانا جی گئے تو خوب خاطر مدارت کے بعد علاقہ کے دو جھگڑوں کا فیصلہ بھی اُن کی رائے کے مطابق کر کے عزت افزائی کی…!!!
    اُن کے تعلقات دور دور تک تھے اور ارد گرد کے دیہات میں ہر جگہ ان کے دوست تھے جو اپنی اولادوں کو بھی اچھے رویے اور حسن سلوک کی تلقین کرکے گئے جن کے فوائد ماموں کے بقول وہ آج بھی اُٹھاتے ہیں…!!!
    بات کو بہت خوب صورتی سے ناقابلِ تردید انداز میں کرنے کا ملکہ حاصل تھا…
    ایک دفعہ کی بات ہے کہ اپنے ننھیال گئے تو وہاں ایک رشتہ دار سے راستے میں ملاقات ہوئی،ان کے گھر جانے کا وقت میسر نہیں تھا،
    سب گھر والوں کی خیریت وہیں دریافت کر لی رشتہ دار نے کہا والد صاحب کی طبیعت ناساز رہتی ہے…
    نانا جی چونکہ ان پڑھ تھے لیکن بہت زیرک انسان،سمجھ گئے کہ بہانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ وہ پڑھے لکھے کزن تو شاید اسے معصومیت ہی سمجھیں گے اور شکوہ بھی باقی نہیں رہے گا…
    جھٹ بولے "اچھا ناساز ہیں وہ الحمدللہ…”
    رشتہ دار سٹپٹایا…
    کہ جی ناساز کا مطلب خراب طبیعت ہوتی ہے…!!!
    نانا جی مسکراتے ہوئے بولے:
    اچھا اچھا میں سمجھا ناساز بہتر طبیعت کو کہتے ہیں…
    اتنی گہری لغت کو پڑھا جو نہیں ہے،
    میرا پوچھنا کیجیئے گا پھر کبھی چکر لگاؤں گا…!!!
    ان کے ایک دوست ایک دفعہ اُن سے ملنے آئے تو ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ آپ اُن کے گھر آتے ہیں ہمارے گھر نہیں،حالانکہ واقفیت تو ہماری بھی ہے آپس میں…!!!
    نانا جی کا وہ دوست بولا یہ سچ ہے کہ ہماری واقفیت ضرور ہے مگر اتنی ہی کہ ہم اکھٹے نوکری کرتے رہے دس سال تک بس منافع بانٹنے تک بات ہوتی تھی باقی کبھی کچھ نہیں پوچھا دُکھ سکھ…
    جبکہ اُس شخص نے مجھے کرایہ پر مکان نہ ملنے تک زمینوں پر بنے ڈیرے میں رہائش دینے کے ساتھ ساتھ تین وقت کی روٹی بھی فراہم کی،دوستی مفاد پر نہیں بنتی،دوستی اخلاص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بنتی ہے۔
    وہ بزرگ خاموش رہ گئے…
    اسی طرح ایک دفعہ ایک کمرے کی چھت کا سامان خریدنے گئے دوسرے شہر میں،
    پرانے وقتوں میں لوگ مختلف چیزوں کی چھتیں ڈالتے تھے،
    وہ اس سامان کو سر پر اٹھائے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دوست کے بچوں اور بیوی نے دیکھ لیا وہ قریب پہنچ کر سلام دعا کرنے لگے…
    نانا جی نے وہ سامان سر سے اُتارا اور پگڑی سے منہ صاف کر کے انہیں ملے اور پھر گاڑی پر بٹھا کر کرایہ بھی دیا اور بچوں کو کچھ نقدی بھی…
    یعنی بناوٹ اور تکلف سے کوسوں دور حقیقت کے رنگ میں ڈھلی ہوئی زندگیاں کتنی خوب صورت ہوتی تھیں…
    اُن کے تعلقات ہر شعبہ کے لوگوں سے رہتے تھے تیس سال پہلے ایک دفعہ ان کے خاندان سے کوئی شخص علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے پاس گئے تو اس وقت تقریبًا دو ہزار روپے میں جو آج کی بہت بڑی قیمت کے برابر تھے فورًا کھانے کا آرڈر دیا اور پھر بعد میں بتایا کہ یہ صرف نانا جی کے تعلق کی بنیاد پر تھا…!!!
    اُن کے دوستی دیرپا اور گھاٹے کھانے اور قربانی والی ہوتی تھی یہ نہیں کہ صبح ادھر،شام ادھر…
    اور اسی بات کی سب کو قدر بھی تھی…
    گھمبیر مسائل کو اپنی قوتِ فیصلہ اور بہترین حکمتِ عملی سے طے کر لیتے تھے…
    کسی کا ذہن بنانا اور آمادہ کرنا پرانے وقتوں کے جھگڑوں اور مسائل میں مشکل بات تھی جس سے وہ مالا مال تھے…واقعات تو بہت زیادہ ہیں لیکن
    یہ چند مخلصانہ یادیں اچھی لگیں تو ضبطِ تحریر میں لے آئی…
    واقعی وہ لوگ دور اندیش،زیرک اور مخلص لوگ تھے،ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں شیئر کرنے والے لوگ تھے۔
    آج کے تعلقات سرخی پاؤڈر تعلقات ہیں…جب پسینہ انہیں بہا لے جاتا ہے تو نیچے سے اصلی اور کھرے چہرے نکل کر اپنی اصلیت اور حقیقت دکھا دیتے ہیں…
    حسد،برائی،چغل خوری عام ہو چکی ہے اور لوگ اچھے وقت تک ساتھی بنتے ہیں اور مشکل وقت میں پھنسا دیکھ کر منہ موڑ جاتے ہیں جبکہ ماضی میں لوگ مشکل اوقات میں بھی کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے رہتے تھے…
    یہی اصل دوستی اور دوستی کا مقام ہے جس میں بناوٹ،ریا اور جھوٹ نہیں ہوتے…!!!
    آج نانا جی کے گھر کی جگہ بہترین گھر اور دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر اُن کی یادیں، باتیں اور تربیت آج بھی مشعلِ راہ اور بہترین زادِ سفر ہیں جنہوں نے اُس وقت میں کم وسائل کے ساتھ خوب صورت اور سادہ زندگی گزاری اور آج یقینًا یہ سب انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے…!!!
    اللّٰہ میرے آباء کو بخش دے،
    اور انہیں جنتوں کا مستحق بنا دینا…!!!آمین ثم آمین…!!!
    یہ سچ ہے کہ آنے والے آتے رہتے ہیں مگر جانے والوں کی کمی کبھی پورا نہیں ہوا کرتی…!!!
    ہر رشتے کا ایک مقام اور وقار ہے،اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ زندگی کا حُسن ہیں…!!!
    ===============================