Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل   تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    تازہ کالم برائے اشاعت

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل
    تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    دو برس قبل امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے عنوان سے ایک امن منصوبہ متعارف کرواتے ہوئے فلسطین کے دارلحکومت یروشلم (القدس) کی طرف امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کا اعلان کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی فلسطینی دارلحکومت کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا اعلان کردیا۔اس اعلان پر اگر چہ دنیا بھر کی اقوام اور حکومتوں نے امریکی صدر کے فیصلوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی واضح اکثریت سے اس فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا۔ امریکہ جو کہ دو سو سالہ ایسی تاریخ کا حامل ہے کہ جس میں صرف اور صرف ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف امریکی جارحیت ہی ملتی ہے۔کبھی فوجی چڑھائی کے ذریعہ تو کبھی ممالک پر مہلک اور خطر ناک جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوتی نظر آتی ہیں۔چیدہ چیدہ ممالک میں پاکستان بھی سرفہرست رہا ہے کہ جہاں امریکی ڈرون حملوں نے متعدد بے گناہوں کو بھی قتل کیاہے۔اس کے علاوہ عراق، افغانستان، شام، لبنا، ویتنام، ہیروشیما، ناگا ساکی سمیت افریقی ممالک کی فہرست موجود ہے کہ جہاں امریکی ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہیں۔
    ظلم و جبر کی دو سوسالہ تاریخ رکھنے والی امریکی حکومت فلسطین کے مسئلہ میں بھی صہیونیوں کی مدد گار رہی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک سے لاکر بسائے جانے والے صہیونیوں کی پشت پناہ رہی ہے۔ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کرنے والی امریکی حکومت ہی تھی۔آج یہی امریکی سامراجی نظام ایک امن منصوبہ بنام ’صدی کی ڈیل‘ کے ذریعہ صہیونی غاصبوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہے۔اس منصوبہ کے تحت امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کو دنیا کی سیاست سے ختم کر دیا جائے۔اور فلسطین میں لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلسطین سے نواز دیا جائے اور بدلہ میں خطے میں امریکی مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے اسرائیل جیسی خونخوار ریاست کا استعمال بروئے کار لایا جائے۔
    در اصل امریکی سامراجی نظام نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ اپنی ماضی کی ان تمام تر کوششوں اور منصوبوں کی ناکامی کے بعد متعارف کروایا ہے کہ جن میں پہلے جنگیں مسلط کی گئیں، بعد میں فلسطین اور گرد ونواح کے پڑوسی ممالک پر قبضہ کیا گیا اور اس میں بھی ناکامی کے بعد داعش جیسے منصوبہ کو متعارف کیا تاہم بعد ازاں یہ داعش نامی منصوبہ بھی خطے میں موجود اسلامی مزاحمت کے بلاک نے نابود کر دیا ہے۔اب فلسطین سمیت خطے پر مکمل تسلط کے خواب کو پورا کرنے کے لئے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ سامنے لایا گیا ہے۔اس منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کے لئے امریکہ نے عرب ممالک کے کردار کو بھی اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور اس عنوان سے محمد بن سلمان اور جیرڈ کشنر دونوں ہی نہایت سرگرم رہے ہیں اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عرب دنیا کے ممالک صدیکی ڈیل کو تسلیم کر لیں۔
    یہاں پر ایک بات جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کا حل کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے اس میں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئیے کہ آیا فلسطین کے عوام اس منصوبہ پر کس قدر اعتماد کرتے ہیں اور آخر فلسطینیوں کی رائے کیا ہے؟ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو فلسطینیوں کی رائے اور ان کی اعتماد سازی کے بغیر کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے گا وہ کار آمد نہیں ہو سکتا ہے۔لہذا امریکی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ یعنی صدی کی ڈیل بھی ردی کی ٹوکری میں رکھنے کے لئے ہے۔کیونکہ فلسطینی عوام نے یک زبان ہو کر صدی کی ڈیل کو فلسطین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش قرار دی ہے اور اس منصوبہ کو ایک سو سال قبل بالفور اعلامیہ جیسے خطرناک منصوبہ سے تشبیہ دی ہے۔بالفور اعلامیہ نے سنہ1917ء میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اب صدی کی ڈیل نامی یہ منصوبہ امریکی اور عرب ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلہ اور فلسطین کو دنیا کی سیاست سے نابود کرنے کے مترادف ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب ممالک جو امریکہ کے اس منصوبہ میں امریکی سامراجی نظام کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے بھی فلسطینیوں کے حقوق کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔امریکہ اور چند عرب ممالک مل کر فلسطین کا سودا کر رہے ہیں اور اس سودے کا خریدار کوئی اور نہیں پہلے سے ہی فلسطین کی سرزمین پر غاصب و قابض اسرائیل ہے۔
    حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب مسلسل اسرائیل اور عرب امارات کے عہدیداران کی ملاقاتوں کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔سوال یہ ہے آج تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے والوں کو کیا حاصل ہو اہے جو اب متحدہ عرب امارات حاصل کرے گا؟دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ جب اسرائیل تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر آ پہنچا ہے کہ جب وہ اپنے وسیع تر اسرائیل کے خواب کو مکمل نہیں کر پا رہا بلکہ اس سے الٹ اپنے ہی گرد دیواروں کا جال بچھا کر خود کو محدود کر رہا ہے تو ایسے حالات میں متحدہ عرب امارات جیسے ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تعلقات قائم کرنا کیا اسرئیل کو سہارا دینے اور خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کو توسیع دینے کے لئے تو نہیں ہے؟ تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے خلیج عرب دنیا کی سیکورٹی کو مزید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نہ صرف خلیج بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے اہم ملک کے لئے مزید خطرات جنم لیں گے۔
    امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے لئے راستے ہموار کرنے کے بارے میں خود غاصب اور جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اگرامریکہ اور عرب ممالک اسرائیل کی اس وقت میں حمایت نہ کرتے تو اسرائیل بہت پیچے چلا جاتا اور فلسطینی تحریک آزاد ی عنقریب اسرائیل کو نابود کر ڈالتی۔یہ بات نیتن یاہو نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اوراور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر کے اسرائیل کے لئے راستہ فراہم کر دیا ہے کہ وہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرے اور عالمی سطح پر سنہ1967ء تک اسرائیل کی واپسی کے مطالبہ کو بھی دفن کر دیاہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات اس وقت اسرائیل کا ساتھ نہ دیتا تو فلسطینیوں کی تحریک اسرائیل کے لئے سنگین خطرہ بنتی اور اسرائیل کا وجود باقی رہنا مشکل تھا۔لہذا عرب امارات نے اسرائیل کو بچا لیا ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف فلسطین کے ساتھ بلکہ تحریک آزادی فلسطین کے ہزاروں شہداء کے خون کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان اقوام کے ساتھ خیانت کی ہے اور خود اپنے ماتھے پر ایک ایسے سیاہ کلنک کو لگایا ہے کہ جو کبھی بھی ان کے چہرے سے دور نہیں ہو گا۔ فلسطین،فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک جعلی ریاست ہے جسے آج نہیں تو کل آخر کار نابود ہونا ہی ہے۔

  • 7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت  ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت
    ازقلم :-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تبارک و تعالی انسانیت کی فلاح کے لیے ان کو آگ سے بچانے کے لیے،ان تک حق بات کو پہنچانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔یہ انبیاء کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سرور دو عالم،رحمت العلمین،شافعی روز محشر،محبوب رب العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہوا۔
    اللہ تبارک و تعالی نے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور اسلام کو اپنا پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا
    رب کریم قرآن میں سورہ عمران میں ارشاد فرماتے ہیں:-

     إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ  
    بے شک اللہ کے نزدیک(معتبر)دین اسلام ہے

    اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب کو آخری نبی بھی بنا کر بھیجا اس کے ساتھ ساتھ اسلام کو پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا۔اور اپنے حبیب خاتم الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان کر دیا۔
    قرآن میں سورہ المائدہ آیت نمبر 3 میں رب کریم ارشاد فرماتے ہیں:-

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [المائدة:3] 

    آج کے دن ہم نے تمھارے لیے(اسلام)دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو مکمل کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

    سورہ المائدہ کی آیت میں دین کے مکمل ہو جانے سے مراد اسلام کو ابدی دین قرار دینا ھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور پر وحی کا نزول نہیں ہو گا۔اس کے بعد اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا اور اس کا اظہار اپنے کلام پاک میں یوں فرمایا:-

    مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(سورہ احزاب 40)

    مسلمانو ! ) محمد ( صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہ۔وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ۔ ( ٣٥ ) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
    • جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت سر اٹھا لگے۔جن میں مسیلمہ کذاب سر فہرست تھا۔ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کی سرپرستی میں ان جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جنگ یمامہ لڑی جس میں مسیلمہ کذاب تو جہنم واصل ہوا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر پہرہ دینے کے لیے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گے۔ان کا شہادتوں سے گزر جانے کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ آقا نامدار کی ختم نبوت پر جو انگلی اٹھے گی وہ کاٹ کے رکھ دے گے۔
    • در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں سلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔
    قادیانیت کا فتنہ انگریز نے مسلمانان برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے ہٹانے کے لیے مسلط کیا تھا۔1891میں جب مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعو ی کیا تو سب سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒ سمیت دو سو علماء کے دستخطوں سے متفقہ طور پر مرزا غلام قادیانی کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی جاری کیا۔مرزاقادیانی سے سب سے پہلا مباہلہ جون 1893میں عید گاہ اہل حدیث امر تسر میں مولانا عبد الحق غزنوی ؒ نے کیا۔ حیات مسیح پر پہلا تحریری مناظرہ مونا بشیر احمد شہسوانی ؒ نے دہلی میں1894 میں کیا جہاں مرزا ملعون فرار اختیار کر گیا اس کے بعد سب سے پہلا کتابچہ مولانا اسماعیل علی گڑھی ؒ نے تحریر کیا سب سے پہلے کتاب کم عمری میں علامہ قاضی سلیمان منصور پوری ؒ نے لکھی جو کہ بعد میں شہرہ آفاق سیرت نگار کے طور پر مشہور ہوئے سب سے پہلے قادیان پہنچ کر مرزا غلام قادیانی اور مرزائیت کی دھجیاں اُڑانے والی عظیم شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ کی تھی جن کو تمام مکاتب فکر فاتح قادیان کے لقب سے یاد کرتے ہیں یہی وہ مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ ہیں جن کے ساتھ مباہلہ کی دعا میں مرزا قادیانی ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوا۔علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ کی ’’القادیانیت ‘‘، ’’مرزائیت اور اسلام‘‘،عربی ،اُردو میں شائع کرکے عظیم کارنامہ سر انجام دیاعلمائے اہلحدیث، دیوبند ، بریلوی مکتب فکر کے مشائخ نے تحریک ختم نبوت میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن کو بیان کیا جائے تو مکمل کتابچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔پاکستان وجود کے بعد 22 فروری 1974ء کو نشتر کالج کے ًطلبہ کا ایک گروپ ’’شمالی علاقہ جات‘‘ کی سیروتفریح کی غرض سے ملتان سے پشاور جانے والی گاڑی چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوا جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) پہنچی تو مرزائیوں نے گاڑی میں مرزا قادیانی کا کفر والحاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس سے طلبہ اور قادیانیوں میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی، 29 مئی 1974ء کو طلبہ چناب ایکسپریس کے ذریعے واپس آرہے تھے کہ گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے طلبہ پر حملہ کردیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ خون میں نہا گئے جب گاڑی فیصل آباد پہنچی اور عوام نے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کو اس زخمی حالت میں دیکھا تو وہ برداشت نہ کرسکے اور قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر شخص ختم نبوت کا وکیل نظر آیا اور پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب امڈ آیا، ختم نبوت کی برکت سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اتفاق رائے سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا صدر محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضویؒ کو منتخب کرلیا گیا، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک چلی اس تحریک میں آپ کے ہمراہ مفتی محمودؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا سید ابو ذر بخاریؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کشمیریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، سید مودودیؒ، مولانا عبدالقادر روہڑیؒ، نوابزادہ نصراللہؒ، مظفر علی شمسیؒ اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی، قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی نمایندگی مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے، مذکورہ حضرات نے شب و روز کی کوششوں سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری تھا، شہداء ختم نبوت کا مقدس خون اور قائدین تحریک تحفظ ختم نبوت کی بے لوث قربانیاں رنگ لے آئیں، قومی اسمبلی نے مرزا ناصر پر 11 دن اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر 7 گھنٹے مسلسل بحث کی، 7 ستمبر 1974ء کو وہ مبارک دن آ پہنچا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر دن 4بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائدایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیا، عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سلسلے میں آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس عظیم کامیابی پر حزب اقتدار وحزب اختلاف خوشی ومسرت سے آپس میں بغل گیر ہوگئے، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کہا کرتے تھے کہ مولیٰ ’’تیری ادا پر قربان جائیں کہ تونے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیصلہ کسی چوک اور چوراہے میں نہیں کرایا بلکہ پارلیمنٹ میں کروایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ دائرہ ا سلام سے خارج ہے۔آخر میں یہ ہی کہوں گا
    کون للکارے گا باطل کو تیرے لہجے میں

  • کیا میڈیا آزاد ہے؟؟  تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کیا میڈیا آزاد ہے؟؟ تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کیا میڈیا آزاد ہے؟؟

    ہمارے وزیراعظم نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے ملک کا میڈیا آزاد ہے۔ یہ بھی اس طرح کا جھوٹ ہے جیسا جھوٹا 2013 کے الیکشن 35 پنکچر والا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    ہمارے ملک کا میڈیا حق اور سچ کو نہ دکھاسکتا ہے اور نہ ہی حق بتا سکتا ہے۔ بلکہ کتمان حق بڑے جوش وخروش سے کرتا ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر قوم کو نان ایشوز میں مصروف رکھنے کا ہنر خوب جانتا ہے۔
    ملک کا میڈیا یہودی اور ان کے ہمنواؤں کا میڈیا ہونے کا بھرپور ثبوت دیتا ہے۔ اور غیر مسلم اور ملک دشمن ایجنڈے کو خوب پھیلاتا ہے۔ ہر کام جو اسلام کے خلاف ہو وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نشر کرتا ہے بلکہ مختلف چینلز کا اس میں مقابلہ ہوتا ہے۔

    بےحیائی، عریانی اور فحاشی کے کلچر کو یہ میڈیا خوب پروموٹ کرتا ہے۔ بلکہ” میرا جسم میری مرضی” جیسے بیہودہ اور واہیات پروگراموں کی مسلسل اور لائیو کوریج بھی کرتا ہے۔ اسلام اور دینی لوگوں کو بدنام کرنے اور ان پر کیچڑ اچھالنے کے لئے ماروی سرمد جیسی آوارہ اور بدچلن عورتوں کو بھی خوب پروموٹ کرتا اور انہیں وقت دیتا ہے۔

    یہی میڈیا ہے جس نے 2014 کا مشہور دھرنا 126 دن تک دن رات دکھایا تھا۔ چند سو افراد اور باقی خالی کرسیاں ہوتی تھیں جنہیں یہ مکمل اور لائیو کوریج دیا کرتے تھے۔ جب کہ اس دھرنے کے مقابلے میں دینی جماعتوں کے بڑے بڑے اور بھرپور پروگرام ہوتے ہیں جنہیں کوریج دینے سے یہ میڈیا ہمت نہیں رکھتا بلکہ ان پروگراموں کی جھلکیاں بھی صحیح طور پر نہیں دکھاتا۔

    کل پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کا ختم نبوت کے سلسلے میں ایک تاریخی اور بہت بڑا پروگرام ہوا جس میں قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب اور قائد اہل حدیث علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب اور دیگر نے خطاب کیا۔ جس قدر پروگرام بڑا تھا اس کے مطابق میڈیا میں کچھ بھی کوریج نہیں دی گئی۔ کیونکہ یہ آزاد میڈیا نہیں بلکہ غلام اور دجالی میڈیا ہے۔
    وقت کی ضرورت ہے کہ اب دینی جماعتیں بھی اپنے سیاسی چینلز قائم کریں اور اس میڈیا سے آزادی حاصل کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔ عبدالرحمن ثاقب سکھر

  • تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی   از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی

    از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    انڈیڈ فینٹسی ، عابد شاہین کے خوبصورت الفاظ سے مزین انگلش نظموں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جو تصوف کے بیان سے بھر پور ہے ۔۔۔ ٹیکنالوجی کے اس پرفتن دور میں جہاں ہر کوئی بے راہ روی کا شکار ہے ، عابد شاہین کی یہ شاہکار کتاب لوگوں خاص کر نوجوانوں کےلیے راہنمائی اور رب تک پہنچنے کی راہ فراہم کرتی ہے ۔۔۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نوجوان مصنف مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے اور اپنی عمر کے اعتبار سے ابھی صرف انیس برس کے ہیں ، مگر قابلیت اور ذہنی استعداد میں بڑوں بڑوں کو مات دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔
    انڈیڈ فینٹسی کی نظموں کا مطالعہ کرنے بعد معلوم ہوتا ہے کہ شاعر نے کس قدر خوبصورتی سے اپنے اعلی خیالات کو دلکش پیرائے میں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے ۔۔۔ تصورات اور الفاظ کا استعمال اس قدر عمدہ ، دلکش اور سلیس ہے کہ مطالعہ کرنے والا داد دِیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ خیالات کو ہر قسم کے تصنع، بناوٹ اور پیچیدگی سے پاک رکھا گیا ہے۔۔۔کلام ایسا عمدہ ، صاف اور عام فہم ہے کہ اسے اعلی سے لے کر ادنٰی تک ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔
    حالات و واقعات کا بیان اصلیت اور راستی سے مزین ، ہر قسم کے جھوٹ اور خود آرائشی سے پاک صاف ہے۔۔۔ شاعری ایسے بےساختہ اور مؤثر پیرائے میں بیان کی گئی کہ معلوم ہوتا ہے شاعر نے مضمون اپنے ارادے سے نہیں باندھا بلکہ مضمون نے شاعر کو مجبوراً اپنے تئیں بندھوایا ہے ۔۔۔
    شاعری میں مناظرِ فطرت کے بیان کے ساتھ ساتھ فطرتِ انسانی اور نفسیاتِ انسانی بھی غالب نظر آتی ہے ۔۔۔ کمسن شاعر عابد شاہین کی صحت پر کشمیر کے تکلیف دہ ماحول کا گہرا اثر ہے ، وادئ پُر آشوب میں رہنے اور ہر لمحہ اپنے ارد گرد آگ و خون کا کھیل دیکھنے کے بعد حساسیت اُن کے مزاج کا خاصہ بن گئی ہے ، بس یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں درد کا عنصر غالب نظر آتا ہے ۔۔۔ ہاں درد کا بیان تو ضرور ہے مگر مایوسی کہیں نہیں ملتی ۔۔۔ وہ نظم کا آغاز بڑے درد سے کرتے ہیں مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کو ایک نئی اُمید دے جاتے ہیں ۔۔۔
    عابد شاہین کی شاعری سے جو سبق مجھے ملا وہ یہ ہے کہ دکھ بُرے نہیں ہوتے ، یہی تو رب سے لو لگانے اور کچھ کر کے دکھانے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ خوشیوں میں تو انسان سب بھول جاتا ہے ، اکثر اوقات تو رب کو بھی یاد نہیں رکھتا مگر یہ دُکھ اور درد ہی تو ہیں جو اُسے رب سے جوڑے رکھتے ہیں ۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کمسن شاعر کی صلاحیتوں کے پیچھے بھی یہی درد مضمر ہیں جنھوں نے اُسے عروج کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے کشمیری شاعر کی صلاحیتوں کے نکھار میں اضافہ فرمائیں گے اور وہ جلد ہی شہرت کے آسمان پر پرواز کریں گے ۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالی

    کتنا کمسن ، خُوبرُو یہ شاعرِ کشمیر ہے
    ہاں بڑھا دی تُو نے تو الفاظ کی توقیر ہے
    داد دیتی ہوں ، بڑا ہی دلنشیں انداز ہے
    تیرے تو الفاظ میں ایماں بھری تاثیر ہے

  • تجدیدِ عہد کا دن   تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    تجدیدِ عہد کا دن تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    تجدیدِ عہد کا دن
    تحریر ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    زندگی کے نظام میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جنہیں اگر سونے کے پانی سے بھی لکھا جائے تو ان کی اہمیت پوری نہیں ہوتی. مثلا اگر انسان امتحان میں کامیاب ہوجائے یا کاروبار ترقی کرنا شروع کردے، یا پھر اللہ تعالیٰ سالوں بعد کسی پیارے سے ملادے یا پھر اولاد جیسی نعمت حاصل ہو تو انسان ان دنوں کو کبھی نہیں بھولتا، اس کی یادوں میں وہ دن خوشیوں کے انمول دن ہوتے ہیں.
    ان سے کہیں زیادہ وہ عظیم ہے جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی گئی اور یقیناً وہ دن بھی بڑا ہی خوشی کا دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہوگا "اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، اور جو اس کے علاوہ دین لے کر آئے گا، قبول نہیں کیا جائے گا(مفہوم)” اسی طرح وہ دن بھی مسلمانوں کے نزدیک بڑا ہی خوبصورت دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس دین حنیف کی تکمیل کا اعلان کیا تھا.
    پاکستانی مسلمانوں کے لیے 6 ستمبر کے بعد 7 ستمبر بھی بڑا ہی جوش و جذبے سے بھرپور دن ہے جس دن انگریز کے لگائے گئے تھوہر کے درخت قادیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا.
    عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے جس کا انکاری واجب القتل ہے، اور یہ کام مسلمان حکمرانوں کا اولین کام ہونا چاہیے. اگر اس عقیدے کے عقلی و نقلی دلائل کا جائزہ لیا جائے تو بے شمار ہیں، جنہیں اصطلاحی طور پر متواتر کہا جاتا ہے. اللہ تعالیٰ نے معنوی طور پر بھی توحید و رسالت اور قرآن مجید کو آفاقی اور عالمگیر قرار دیا ہے.
    جیسے قرآن مجید کی پہلی سورت سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے رب العالمين اور سورۃ الانبیاء میں آقائے دو جہاں کے لیے رحمۃ للعالمین اور خود قرآن مجید کو سورہ بقرہ میں ھدی للناس کہا گیا ہے. جس طرح اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی رب نہیں، قرآن کے بعد کوئی کتاب نہیں ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا. یہ آپ کی ساری دنیا کے لیے نبوت کا اعلان ہے.دیکھا جائے تو ارکان اسلام میں پہلا رکن شہادتین ختم نبوت کی دلیل ہے.
    کل شہداء صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ (جنگ یمامہ) کے شہداء کا جائزہ لیا جائے تو ختم نبوت کے لیے لڑی جانے والی اس جنگ میں 1200 صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا.جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی عقیدہ ختم نبوت سے محبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے.
    برصغیر میں جب انگریز نے مسلمانوں کو لڑانے کے لیے مختلف فتنے کھڑے کیے، ان میں قادیانیت کا فتنہ بھی تھا. اس وقت کے تمام علماء سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ثناء اللہ امرتسری، انور شاہ کشمیری، پیر جماعت علی شاہ وغیرہ نے متفقہ طور پر اس فتنے کو ختم کرنے لیے جدوجہد کی، یہاں تک مرتد مرزا مردود لعنۃ اللہ علیہ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباہلے کی صورت میں اس دنیا سے اپنے ابدی ٹھکانے کی طرف روانہ ہوا اور مجاہد ختم نبوت ثناء اللہ امرتسری چالیس بعد تک بقید حیات رہے.اس کے علاوہ اب تک تمام مکاتب فکر کے علماء اپنی اپنی جگہ پر ختم نبوت کا دفاع کرتے چلے آرہے ہیں.
    آج کا دن 7 ستمبر 1974 کی یاد کا دن ہے، جب عقیدہ ختم نبوت کے انکاری اس فتنے کو غیر قانونی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا. اس جدوجہد میں جہاں حکومت نے اپنا کردار ادا کیا وہیں اس میں علماء کا بھی بہت ہی شاندار کردار ہے.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فتنے کا تعاقب کیا جائے، اور حکومت وقت بھی آئین کا پاس رکھتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرے. ختم نبوت میں نقب لگانے والوں کے لیے سخت سے سخت سزا متعین کی جائے اور ان کے بیرونی آقاؤں کو بھی منہ توڑ جواب دیا جائے.

  • اشفاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

    اشفاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

    پاکستان کے مصنف ، ڈرامہ نگار اور براڈکاسٹر اور اردو ادب کی معروف شخصیت اشفاق احمد کومداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے مصنف ، ڈرامہ نگار اور براڈکاسٹر اور اردوادب کی معروف شخصیت اشفاق احمد کومداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے-انہیں ادب کے نشریاتی میدان میں خدمات کے لئے اشفاق احمد کو صدارتی تمغہ برائے حُسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

    اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو غیر منقسم ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے۔ 1947میں قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہوگئے۔ افسانہ اورڈرامہ نگاری کے ساتھ فلسفی ، ادیب اور دانشور ہونے کے علاوہ بہترین براڈ کاسٹرتھےاشفاق احمد کو پنجابی ، اردو ، انگریزی ، اطالوی اور فرانسیسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا-

    گورنمٹ کالج لاہورسے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی- روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد بھی رہے اور وطن واپسی کے بعد اپنا ماہانہ ادبی رسالہ داستان گو نکالا اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔

    آپ طالبعلمی کے زمانے میں بچوں کے میگزین پھول میگزین کے لئے بھی کہانیاں لکھا کرتے تھے- 60 کی دہائی میں ایک فیچر فلم دھوپ اور سائے بھی بنائی۔ 1962 میں ریڈیو پاکستان پر ان کے پروگرام ’تلقین شاہ‘ اور پی ٹی وی پر ڈرامہ سیریل ’ایک محبت سو افسانے‘ سے انہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

    90 کی دہائی میں اشفاق احمد نے سماجی و روحانی موضوعات پر گفتگو کا پروگرام ’زاویہ‘ شروع کیا جس نے ان کی شہرت آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچا دیا-

    انھیں 1966 میں مرکزی اردو بورڈ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جس کا نام بعد میں اردو سائنس بورڈ رکھ دیا گیا اس عہدے پر وہ 29 سال تک کام کرتے رہے وہ 1979 تک بورڈ کے ساتھ منسلک رہے۔ انہوں نے ضیاء الحق کے دور حکومت میں وزارت تعلیم میں مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    1953ء میں شائع ہونے والے افسانے گڈریا نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے ، اجلے پھول، سفردرسفر، کھیل کہانی، طوطا کہانی، من چلے کا سودا ،سفرِ مینا ، ٹاہلی تھلے، مختلف معاشروں میں عورت کی حیثیت ، فنکاراور زاویہ جیسے بہترین شاہکار شامل ہیں۔

    اشفاق احمد نے بانو قدسیہ سے شادی کی، جو خود بھی معروف مصنفہ اور ادیبہ تھیں- اشفاق احمد 7 ستمبر 2004ء کواپنے خالق حقیقی سے جاملے لیکن اس جہان فانی سے کوچ کرجانے کے اتنے برس بعد بھی ان کی جگہ کوئی نہ لے سکا، جو اپنے قصے، کہانیوں سے علم و حکمت، عقل ودانش اورفکرودانش کے موتی بکھیرسکے۔

    یاسر حسین اور رابی پیر زادہ کا ملکہ ترنم نورجہان کو خراج تحسین

    پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی فلمیں اور ڈرامے اردو اور عربی زبان میں ڈب کر کے…

  • کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟ بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟

    بقلم:-عبدالرحمن ثاقب سکھر

    پاکستان میں غریب کو انصاف نہیں ملتا بلکہ انصاف کے حصول کے لیے عمر نوح اور قارون کے خزانے کی ضرورت ہے۔ یہاں تو غریب برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جلتا رہتا ہے لیکن اس کی شنوائی کی تاریخ ہی نہیں اتی۔ انگریز نے ہمیں ایسا قانون بنا دے دیا ہے جو امیر اور بالا دست طبقے کے لیے موم کی ناک اور غریب کے لیے وبال جان ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اس قانون کو تبدیل کرکے اسلام کا قانون قصاص و دیت نافذ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ خالق کائنات کا دیا ہوا قانون سب کے لیے برابر ہے اس میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے، عام و خاص کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ جس ہستی پر یہ قانون الہی نازل ہوا تھا اس نے فرمایا تھا کہ:
    اگر سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پہلی قوموں کی تباہی اس لیے ہوئی کہ جب معاشرے کا کوئی بڑا شخص جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کم سی غریب سے جرم ہوتا تو اس پر حد قائم کردی جاتی۔
    آج وطن عزیز میں قانون امیر اور دولت مند افراد کے لیے موم کی ناک بن چکا ہے۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ہوتا۔
    2017 میں کویٹہ میں دن دیہاڑے ٹریفک کنٹرول کرنے والے عطاء اللہ کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔ یہ انگریز بہادر کا قانون ہے۔ اس واقعہ کی فوٹیج اور ویڈیو بطور ثبوت موجود ہے لیکن پھر بھی قاتل کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔ اگر اس غیر شرعی و غیر اسلامی قانون کے بجائے اسلامی قانون سپریم لاء ہوتا تو قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا یا پھر مقتول کے ورثاء کو دیت ادا کرتا لیکن ہمارے سیاہ ست دانوں اور ایلیٹ کلاس کو یہی انگریزی قانون سپورٹ کرتا ہے لہذا وہ اسلامی قوانین کو نافذ نہیں ہونے دیتے۔
    اس سانحہ کے علاؤہ بھی کبھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔
    آپ بلدیہ ٹاؤن کراچی کا سانحہ دیکھ لیں سینکڑوں افراد کو زندہ جلا کر راکھ کردیا اور ان کے ورثاء روتے پیٹتے رہ گئے لیکن قانون کی دفعات نے مقتولین کو انصاف نہ ملنے دیا۔
    سانحہ ماڈل ٹاون لاہور ایک اہم سانحہ ہے جس کے نام پر عمران نیازی اور طاہر القادری سیاست کرتے رہے اور مقتولین کے ورثاء کو مکمل انصاف دلانے کے بلند وبانگ دعوے کرتے رہے لیکن جیسے ہی اقتدار کی ہما جناب عمران نیازی صاحب کے سر پر بیٹھی وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور اس کے مقتولین کو بھول گئے۔ اور مولانا طاہر القادری کو پاکستان کا راستہ بھول گیا کیونکہ اس وقت بھی ان کا مقصد مقتولین کو انصاف دلانا مقصود نہ تھا بلکہ ان کے خون پر سیاست کرنا مقصود تھی۔
    سانحہ ساہیوال جناب عمران نیازی صاحب کے دور اقتدار میں ہوا اور موصوف نے بیان جاری کیا کہ میں بیرون ملک کے دورے سے واپس آجاؤں پھر انصاف دلاؤں گا۔ انصاف نہ ملنا تھا اور نہ ہی مل سکا۔ بلکہ سانحہ ساہیوال کے پولیس افسران کو ترقیاں بھی مل گئیں۔
    اسی طرح سے ایک معزور نوجوان کو پولیس نے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کردیا ملک میں شور اٹھا سوشل میڈیا پر کمپینیں چلیں پھر حسب سابق و عادت انصاف کا بول بالا کرنے کے دعوے کیے گئے لیکن اس مقتول کو بھی انصاف نہ مل سکا۔
    مولانا سمیع الحق صاحب مرحوم پاکستانی سیاست کا ایک بڑا نام تھا محفوظ ترین اور ان کی اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے بہانے انہیں قتل کردیا گیا پھر حسب سابق نوٹس بھی لے لیا گیا لیکن اس عالم دین کا خون بھی رائیگاں چلا گیا اور انصاف حاصل نہ کرسکا۔
    ہمارے ملک کا قانون صرف صاحب حیثیت لوگوں کو ہی انصاف فراہم کرتا ہے جو اس انصاف کو دولت کے بل بوتے پر خرید لیں ورنہ ثبوت ہونے کے باوجود بھی پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کے قاتل مجید خان اچکزئی کو بری کردیا جاتا ہے۔

  • روس‘ چین کا اتحاد  تحریر:عدنان عادل

    روس‘ چین کا اتحاد تحریر:عدنان عادل

    روس‘ چین کا اتحاد
    اتوار 06 ستمبر 2020ء

    امریکہ کے ہاتھ سے دنیا اِسطرح نکل رہی ہے جسطرح مٹھی سے ریت۔ کورونا وبا کے بعد عالمی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ امریکہ اپنی کم ہوتی ہوئی معاشی اور عسکری اہمیت سے پریشان ہوکر دو اُبھرتی ہوئی بڑی طاقتوں چین اور رُوس کے خلاف بیک وقت کئی محاذوں پر کام کررہا ہے۔اس نے پہلے چین کے خلاف ہانگ کانگ میں ہنگامے کروائے جن پر چین نے کامیابی سے قابو پالیا۔ اب چین کے خلاف تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین میں امریکی سرگرمیاں‘ اشتعال انگیزیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ دوسری طرف‘ روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکہ نے اسکے ہمسایہ ملک بیلا رو س میں اپوزیشن کی تحریک کو ہلّہ شیری دی ہوئی ہے تاکہ وہاں اپنی پٹھو حکومت کو اقتدار میں لاسکے۔ جُوںجُوں امریکہ کا روس اور چین پر دباؤ بڑھ رہا ہے یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں حالانکہ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ ان کے درمیان فاصلہ پیدا کیا جائے۔ عالمی سیاست میں روس اور چین کے قریبی اتحاد پر مشتمل طاقت کا ایک نیا مرکز وجود میں آچکا ہے۔اسکا ایک مظاہرہ حال میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف پابندیاں سخت سے سخت کرنے کی پالیسی پر رُوس اور چین نے امریکہ کا ساتھ نہیںدیا۔ بلکہ ان دونوں ملکوں نے یورپ کے بڑے ملکوں کے تعاون سے سلامتی کونسل میں امریکہ کی یہ کوشش بھی ناکام بنادی جس کے تحت ایران پر ہتھیاروں کی فروخت کی پابندی میں توسیع کرنا تھا۔ چین نے ایران سے چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کرکے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں امریکہ کو سخت دھچکا پہنچایا۔ اسی طرح چین نے بیلا روس میںروس نواز صدر الیگزینڈر لوکا شینکو کی حکومت کی کھل کر حمایت کی ہے جنکے خلاف سی آئی اے نے احتجاجی مظاہرے شروع کروارکھے ہیں۔ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کا اندازہ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک سعودی عرب چین کو سب سے زیادہ تیل بیچنے والا ملک تھا۔ اب اسکی جگہ رُوس ہے۔ گزشتہ ماہ اگست میںروس اور چین گیارہ ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبہ کے تحت دونوں ملکوں کی سرحد کے قریب واقع چینی علاقہ’ آمر‘میں دنیا کا سب سے بڑا پولیمرپلانٹ لگا رہے ہیں۔ روس تقریبا تین ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے چین کو قدرتی گیس کے فراہمی شروع کرچکا ہے جسے پاور آف سائبیریا کہا جاتا ہے۔ اب ایسی دوسری پائپ لائن پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ روس چین کوقدرتی گیس کی فراہمی تین گنا کرنے کے منصوبہ پر کام کررہا ہے۔مزید‘ کورونا ویکسین کی تیاری میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔ دونوں ملک بیرونی تجارت کی غرض سے امریکی ڈالر کا استعمال بھی بتدریج کم کررہے ہیں ۔ ڈالربحیثیت عالمی کرنسی دنیا میں امریکی سامراج کی برتری کا ایک بڑا سبب ہے۔عالمی تجارت میں ڈالر کا استعمال کم ہونے سے دنیا پر امریکی گرفت کمزورہوجائے گی۔ چند روز پہلے رُوس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے خاصے کھلے الفاظ میں چین کے ساتھ ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایسے الفاظ میں روس اور چین کے اشتراک پربات کی جوحالیہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آئے تھے۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق روسی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کو جاپان کے خلاف چینی عوام کی مزاحمت کی کامیابی اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے پچہتر سال پورے ہونے کے موقع پر ایک مبارکباد کا ٹیلی گرام بھیجا۔ اس پیغام میں صدر پیوٹن کا یہ جملہ تو سفارتی اعتبار سے بہت اہم ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ ’عالمی استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کی خاطر اور دنیا میں مسلح تنازعوں اورجنگوں کو روکنے کے لیے اپنے اتحادی چین کے ساتھ مشترکہ کوششیں سرگرمی سے جاری رکھیں۔‘ اس بیان میں سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے جس میں پنہاں مطلب کودیکھا جائے تو عالمی استحکام اور سلامتی کے الفاظ کا اصل مفہوم یہ بنتا ہے کہ روس امریکہ کے غلبہ کے خلاف جدوجہد اور اسکے ساتھ تزویراتی (اسٹریٹجک) برابری کے لیے چین کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح امریکہ نے کوشش کی کہ پاکستان چین کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدہ سی پیک کو ترک کردے اسی طرح یورپ کے ملکوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کم کریں۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔ یہ قدرتی گیس کی رسد کا بڑا حصہ روس سے حاصل کرتا ہے۔ روس اور جرمنی کی کمپنیاں قدرتی گیس کی روس سے سپلائی کی ایک نئی بڑی پائپ لائن بچھانے پر کام کررہے ہیں جسے ’نورداسٹریم ٹو‘ کا نام دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ تقریبا ً مکمل ہونے کو ہے۔ امریکہ جرمنی کی وائس چانسلرانجیلا مرکل پربہت دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کو ختم کردیں اور اسکی بجائے امریکہ سے اسکی ایل این جی خریدیں تاکہ امریکہ کو اربوں ڈالر کی آمدن ہوسکے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ جرمنی اور یورپ کے دیگرملکوں کا روس کی قدرتی گیس پر انحصار مزید بڑھ جائے جسکے طویل مدتی مضمرات ہوں گے۔ حال ہی میں روس کے حزب مخالف کے سیاستدان ناوَلنی شدید بیمار ہو کر کومے میں چلے گئے۔ الزام لگایا گیا کہ صدر پیوٹن نے انہیںزہر دلوایا ہے ۔ امریکہ اوریورپ میں امریکی اتحادی صدر پیوٹن کے خلاف اس معاملہ پر مہم چلارہے ہیں جبکہ روسی میڈیا میںخبریں گردش کررہی ہیں کہ یہ کام سی آئی اے نے انجام دیا ہے تاکہ پیوٹن کے خلاف یورپ میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ جرمنی اور یورپ میں پیوٹن حکومت کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکائے جائیں ۔مقصد یہ ہے کہ روس اور یورپ میں دُوری پیدا کی جاسکے۔بیلاروس کے دارالحکومت مِنسک میںروس کے دوست صدر لُوکا شینکاکے خلاف اپوزیشن کی تحریک چل رہی ہے ۔قرائن بتا رہے ہیںکہ بیلاروس میں امریکی ریاست اپنی پٹھو حکومت قائم کرنے کے بعدماسکو میں بھی پیوٹن کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اسی قسم کی تحریک شروع کرواسکتا ہے۔ چین اور رُوس کے خلاف امریکہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی غماز ہیں کہ امریکہ اپنے واحد سپر پاور ہونے کا رُتبہ چھن جانے کی حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کرپارہا۔امریکی ریاست ہاتھ پاؤں مار رہی ہے کہ کسی طرح یورپ اور ایشیا پر اپنی گرفت کو قائم رکھ سکے۔سرد جنگ کے دوران میں امریکہ کا مقابلہ صرف کمیونسٹ روس سے تھا۔اب روس اور چین کی مشترکہ طاقت اسکے مدمقابل ہے۔

  • یوم دفاع پاکستان اور موجودہ وقت کا تقاضہ !!! از قلم غنی محمود قصوری

    یوم دفاع پاکستان اور موجودہ وقت کا تقاضہ !!! از قلم غنی محمود قصوری

    ہمارے مشرق میں دنیا کا سب سے بڑا مشرک،ڈرامے باز اور بزدل ہمارا دشمن بھارت ہے جو کہ اپنی ڈرامے گیری میں بہت ہی مشہور ہے مگر اپنی اسی ڈرامے گیری کی بدولت اسے دنیا میں کئی بار حزیمت اٹھانی پڑی مگر وہ کمال کا بے شرم بھی ہے
    بالی وڈ کی تاریخ کافی پرانی ہے اور اس کا آغاز قیام پاکستان سے ہی ہو گیا تھا جب ہندو پلید نے 1947،48 میں پاکستان کے خلاف ڈرامے گیری شروع کی اور منہ کی کھانی پڑی اور بالآخر مجبور ہو کر پنڈت جواہر لال نہرو سلامتی کونسل میں بھاگم بھاگ گیا کے جنگ بندی کروائی جائے دنیا میں ہماری بہت لعن طعن ہو رہی ہے
    انہی ڈراموں اور فلموں کے ہیرو اور حقیقتاً بزدل ،زیرو ہندوستان نے ایک بار پھر فلم سین اور ڈرامہ بازی سمجھ کر 6 ستمبر 1965 کو پاکستان کو رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا اور وہ سمجھا کہ اپنے طے شد ڈرامہ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے وہ اپنی فوجیں با آسانی لاہور داخل کرلے گا اور صبح کا ناشتہ لاہور کرکے لاہور جم خانہ میں شراب کی محفل کرے گا اسے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے اس نے اپنے فوجیوں کو ورغلایا جو بیچارے 47،48 کی مار سے پریشان تھے سو شش و پنج میں انہوں نے ڈرامے کو حقیقت مان کر حملہ تو کر لیا مگر جواب میں بیچارے ذلیل و رسوا ہو گئے
    6 ستمبر کی رات دشمن کے حملے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،پاکستانیوں اٹھو اور لا الہ الااللہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن کو سبق سکھا دو یہ الفاظ افواج پاکستان کیساتھ عوام پاکستان کے لئے انتہائی اہم اور ایمان کا حصہ تھے سو افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ عوام پاکستان نے بھی دشمن کو تاریخ ساز سبق سکھایا اور اس 17 روزہ جنگ میں اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہی دشمن کے دانت کھٹے ہو چکے تھے اسی لئے ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے
    اس جنگ میں دشمن کو منہ کی کھانی پڑی اور چونڈہ کے مقام پر اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا گیا جبکہ پاک فضائیہ کے شیر دل شاہین ایم ایم عالم نے ایسا معرکہ رقم کیا کہ دنیا ورطہ حیرت میں رہ گئی
    ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں دشمن کے 5 طیارے گرا کر فضائیہ کی دنیا میں وہ ریکارڈ قائم کیا کہ جو کہ تاحال اپنی آن بان سے قائم ہے جبکہ فضائیہ کے ماہرین اسے ایک معجزہ قرار دیتے ہیں
    ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں دشمن کو بے پناہ وسائل،انٹرنیشل ایڈ ہونے کے ساتھ بھی بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا
    اس جنگ میں دشمن کے 56 سو جوان و افسران ،2 سو سے اوپر ٹینک اور 76 طیارے تباہ ہوئے جس پر ہواس باختہ ہو کر دشمن کو اپنے آقا سلامتی کونسل سے مدد مانگنی پڑی اور سلامتی کونسل کے کہنے پر 23 ستمبر کو جنگ بندی کا اعلان ہوا
    اس جنگ کی بڑی وجہ آپریشن جبرالٹر تھا جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین جارحیت کو روکنا مقصود تھا
    کیونکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلوہلکے ہو یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو،یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
    اسی آیت پر عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ دشمن کا جذبہ ایمانی سے مقابلہ کیا
    مگر ابھی وقت پھر اسی کا دوبارہ تقاضہ کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ اگست سے کشمیریوں پر ہندو ظالم نے عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے
    چونکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لئے وقت ایک بار پھر تقاضہ کر رہا ہے کہ اپنی شہہ رگ پر قابض ہندو بنئے کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے کیونکہ ہم نے 73 سالوں میں کئی قرار دادیں پاس کروا لیں ہزاروں بار منت سماجت کر لی مگر بے سود جبکہ اس کے برعکس اکتوبر 1947 سے جنوری 1948 تک دشمن کو پاک فوج اور عوام پاکستان نے اس کی مند پسند زبان میں جواب دیا تھا جس کی بدولت موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا تھا سو اگر حکمران چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد ہو تو اس راستے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کیونکہ ہم نے ہر راستہ آزما لیا ہے

  • پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور   تحریر: صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور تحریر: صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور
    صالح عبداللہ جتوئی

    کسی بھی ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے اہم ترین ستون انصاف کا قیام ہے اور اسلام بھی اسی بنیادوں پہ پوری دنیا میں پھیلا جس کو بہترین انداز میں اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع میں بھی بیان فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر یا کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں لیکن اگر اس میں تقویٰ ہے تو اللہ کے ہاں اس کا اعلیٰ مقام ہے لیکن غرور و تکبر اور اکڑ پھر بھی نہیں دکھاۓ گا۔
    اسی طرح ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے۔
    دراصل کسی بھی مثالی معاشرے کے لیے اس غیر منصفانہ عدل و انصاف کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا اور قانون کی نظر میں سب کو برابری کے ذمرے میں لانا ہو گا نہیں تو اس سے ہماری ساری نسلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ جہاں پہ عدل نہیں ہو گا وہاں پہ چوری، حق تلفی، قتل و غارت، قانون شکنی اور ظلم و بربریت کا بازار ہی سرگرم ہو گا۔
    حالانکہ انصاف کے قیام کے لیے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا اور آپ سے جو کوئی سوال کرتا آپ نے کبھی اس کا برا نہیں منایا اور نہ ہی ان سے بدلہ لیا حالانکہ آپ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے تو کسی نے سوال کیا کہ آپ نے جو کپڑا سب میں تقسیم کیا تھا اس سے تو پورا لباس نہیں بن رہا لیکن آپ کا لباس کس طرح بن کیا تو قربان جاؤں اس عظیم پیغمبر کے عظیم صحابی اور 2 لاکھ مربع میل پہ حکمرانی کرنے والے حکمران پہ جس نے اس آدمی پہ غضب ناک ہونے کی بجاۓ اپنے بیٹے عبداللہ سے فرمایا کہ اس سوال کا جواب دو تو انہوں نے کہا کہ میرے والد کے پاس اچھا لباس نہیں تھا اور اس کپڑے سے نہ میرا لباس بن رہا تھا اور نہ ہی ان کا بن رہا تھا تو میں نے اپنے حصہ کا کپڑا بھی ان کو دے دیا اور ان کا لباس بن گیا جس سے سائل مطمئن ہو گیا اسی طرح اور بھی کئی واقعات ایسے ہیں جہاں پہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ نے بھی اپنے آپ کو انصاف کے لیے پیش کیا اور سرخرو بھی ہوۓ اور یہی وجوہات ہیں جس کی بدولت اسلام نے حکمرانی کی اور آپ کے انصاف کا بول پوری دنیا میں بالا ہو گیا۔
    جب ہم اپنے ملک کو اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ لگائیں گے تو ہمیں بہت سی قربانیاں پیش کرنی ہوں گی اور اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو اس کو سزا ضرور ملے گی چاہے وہ ہمارا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو لیکن اس ملک میں کوئی بھی امیر کو چھونے کی بھی ہمت نہیں کر سکتا اور غریب سڑک پہ ریڑھی کھڑی کرنے کے لیے بھی کورٹ کچہریوں کے دھکے کھاتا خالق حقیقی سے جا ملتا ہے اور کوئی ضمانت لینے کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالتیں کھلوا لیتا ہے اور 50 کے اسٹام پہ بغیر کسی بیماری کے جعلی رپورٹس بنوا کے بیرون ملک دوڑ جاتا ہے اور ہم یہاں چیختے رہتے ہیں۔
    اس ملک کا عدالتی نظام کچھ اس طرح ہے کہ یہاں سالہا سال کیس چلتے رہتے ہیں اور جب اس کا فیصلہ ملزم کے حق میں آتا ہے تب اسے فوت ہوۓ بھی 10 سال ہو چکے ہوتے ہیں لیکن وہی کیس کسی امیر کا ہو تو اس کے لیے سیر و تفریح کا باعث بن جاتا ہے اور ثبوت ہونے کے باوجود ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور اگر عوام کا تھوڑا سا ڈر بھی ہو تو کیس کو طول دے دیا جاتا ہے اور کبھی ان کو باہر بھیج دیا جاتا ہے تو کبھی ان کی سزا دی جاتی ہے تو اس سزا کے خلاف اپیل پہ فیصلہ کرتے کرتے سالہا سال لگا دیتے ہیں اور پھر اس کے عدالت میں پیش ہونے کے لیے استثنیٰ والی درخواست دائر کر دی جاتی ہے اس طرح پہلے یہ کیس چلتا رہتا ہے کہ اس نے پیش ہونا ہے یا نہیں اور پھر ضمانت پہ کیس چلتا اور فرد جرم والا ڈرامہ رچایا جاتا اور پھر آخر میں مک مکا کر کے اس کی سزا کو ہی کالعدم قرار دے دیا جاتا اور وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوۓ عدالت سے سرخرو ہو کے نکلتا ہے جو کہ عدالتوں کے منہ پہ زور دار طمانچہ ہے اب ہم دیکھ رہے ہیں کئی کرپٹ سیاستدانوں کو پکڑ کے جیل میں ڈالا جاتا لیکن عدالتیں انہیں بیرون ملک عیش کروا رہی ہوتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو ان معزز ججوں کو بھی عیش ہی کرواتے تھے جو کہ ثبوت ہونے کے باوجود انہیں اندھا کرنے کے لیے کافی ہے.
    کوئٹہ میں ایک غریب ٹریفک سارجنٹ جو کہ اپنی ڈیوٹی پہ مامور تھا اسے آج سے دو سال قبل ایک بااثر ایم پی اے مجید اچکزئی نے نشے کی حالت میں کچل کے شہید کر دیا اور اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو گی جو کہ اس کے ظلم کا واضح ثبوت ہے لیکن تف ہے ایسی ناانصاف عدل پہ مبنی امیروں کی عدالت پہ جنہوں نے شواہد ناکافی ہونے کی صورت میں اسے باعزت بری کر دیا ہے بیچارے اہلخانہ کو مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا اب میرا اس ملک کے حکمرانوں اور عدالتوں سے سوال ہے کہ اب اگر ان کے اہلخانہ میں سے کوئی اس ایم پی اے سے بدلہ لے تو ان کو ہی غلط کہا جاۓ گا اور قانون ہاتھ میں لینے کی پاداش میں فوراً سزاۓ موت ہو جاۓ گی۔
    میرا سوال ہے کہ کون سا قانون ہے یہ؟
    کیا ویڈیو ثبوت بھی کافی نہیں ہے؟
    اوہ ہاں یہ تو وہ عدالتیں ہیں جو بااثر لوگوں سے شراب برآمد کر کے بھی اسے شہد بنا دیتی ہیں یہ تو پھر بھی ویڈیو والا معاملہ ہے یہاں امیر کے لیے موجیں اور غریبوں کے لیے پھانسی کے گھاٹ ہیں۔
    اگر یہی معاملات رہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں رہے گا اور ہم نے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو ایک نہ ایک دن ہم بھی اس ظلم کا شکار ہو جائیں گے خدارا جاگ جائیں اور بے ضمیر ججوں اور حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑیں تاکہ کوئی اور اس ظلم کا شکار نہ ہو پاۓ۔
    میری حکومت وقت سے بھی گزارش ہے کہ اسلامی ریاست کی باتیں تب ہی اچھی لگیں گی جب یہاں انصاف کا بول بالا ہو گا کیونکہ اسلامی ریاست میں تو ایک کتے کے بھوکے مر جانے کا سوال بھی حکومت وقت سے ہو گا اور اگر یہی اندھا قانون رہا تو یہاں پہ کبھی امن نہیں آۓ گا کیونکہ کسی کو بھی اندھی عدالتوں پہ بھروسہ نہیں رہا
    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر
    اللہ سے دعا ہے اللہ ملک پاکستان میں عدل و انصاف کا بول بالا فرمائیں تاکہ یہ ملک امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون ہو گا اور ایک ہی طرح کی سزائیں ہوں گی۔
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    پاکستان پائندہ باد