Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جھیل کے اس پار  تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار

    عمر یوسف

    رمضان المبارک کا مہینہ ابھی دو عشرے ہی مکمل ہوتا ہے کہ سب لوگ عید کی آمد کے منتظر ہوجاتے ہیں۔۔۔
    ایک عجیب سی مسرت کی کیفیت چھائی رہتی ہے ۔۔۔

    جونہی ذوالحجہ کا چاند نظر آتا ہے بڑی عید کے آنے کا انتظار میں طبیعت شاداں و فرحاں ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

    کسی عزیز کی شادی ہو تو لوگ پہلے ہی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور شادی آنے کی خوشی میں نہال ہوہو جاتے ہیں۔۔۔

    لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جونہی عیدالفطر آتی ہے یا عیدالضحی آتی ہے ۔۔ یا عزیز کی شادی کا دن آتا ہے تو لوگ اکتاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں ۔۔۔ یا تو سو جاتے ہیں یا ٹائم گزاری کے لیے پلاننگ بناتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ سارا دن گزرانے کے بعد دوست احباب کے پوچھنے پر یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم نے سارا دن سو کر گزار دیا ۔۔۔۔

    یہ انسانی فطرت ہے کہ انتظار میں ہی خوشی ہے ۔۔۔کسی کے آنے کی امید ہی راز مسرت ہے ۔۔۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کی جستجو میں ہی مزا ہے ۔۔۔ جونہی مطلوبہ چیز ہمیں حاصل ہوتی ہے تو زندگی میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں ہوتی بلکہ پہلے جیسے ہی لگتی ہے ۔۔۔۔

    انسان سوچتا ہے کہ ڈگری حاصل کرلوں گا تو زندگی کا مطلب ہی بدل جائے گا ۔۔۔۔ ڈگری تو آگئی لیکن زندگی تو وہی سراب محسوس ہورہی ہے ۔۔۔

    انسان سوچتا ہے شادی ہوجائے گی یا جاب لگ جائے گی تو زندگی جنت کی مانند ہوجائے گی ۔۔۔۔ لیکن ان چیزوں کو حاصل کرنے بعد انسان کے گمان کے مطابق حالات نہیں ہوئے بلکہ وہی پہلے جیسی زندگی مزید ذمہ داریاں لیے سر پر کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔

    کرنل شفیق الرحمن یاد آئے ۔۔۔ کہتے تھے ہم جھیل کے ایک کنارے پر کھڑے سوچتے ہیں دوسرا کنارا جنت نظیر ہوگا ۔۔۔ لیکن پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو خاردار جھاڑیوں پر مشتمل ہے ۔۔۔۔

    اچھے خواب دیکھو کیونکہ ان خوابوں کو حاصل کرنے کا سفر انتہائی خوشگوار ہے ۔۔۔ لیکن جہاں یہ خواب مل جاتے ہیں وقتی خوشی کے بعد وہی بیزاری اکتاہٹ اور بورڈم محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ لیکن کیا ہوا جو یہ منزل بوریت کن ہے ۔۔۔ تم نیا خواب دیکھو اور اس کو حاصل کرنے کا مزیدار سفر شروع کردو ۔۔۔ یو خوابوں کے حصول کے سفر میں زندگی کا سفر بھی خوشگوار ہوجائے گا۔۔۔

  • آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے

    صالح عبداللہ جتوئی

    اگست تو ایسا مہینہ جب ہم خوشیاں مناتے تھے اور پورے پاکستان میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور آزادی کی خوشیوں سے لبریز نغمے و ترانے گاۓ جاتے اور صد شکر ادا کیا جاتا اور سجدے کیے جاتے آخر یہ سب کیوں نہ ہو ہم اس مہینے میں آزاد جو ہوۓ تھے لیکن پھر کیا ہوا عرصہ دراز سے شہ رگ پاکستان کشمیر کی زندگی اجیرن کر دینے والے بھارت نے نت نئے طریقوں سے معصوم کشمیریوں کی قید و بند کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا اور اس طرح ہماری شہ رگ مزید دشمنوں کی جکڑ میں آ گئی لیکن پھر کیا ہوا وہ پاکستان جس کی شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں مضبوطی سے جکڑی گئی تو ہم نے بھی لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے اور امن امن کا راگ الاپنے لگ گئے کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اپنا حق مانگنے کے لیے بھی ہتھیار اٹھاۓ تو ہمیں دنیا دہشت گرد ہی قرار نہ دے دے اور پھر ہم نے تقریروں، نغموں، احتجاجوں اور دھوپ میں کھڑے ہونا بہتر سمجھا تاکہ دنیا کو سمجھ آ جاۓ کہ ہم تو ظالموں کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں بھلا اس طرح بھی کوئی ساتھ ہوتا ہے؟
    کیا نغموں سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا؟

    کبھی بھی نہیں
    ‏‎نغموں سے کشمیر آزاد نہ ہو پاۓ گا اس کے لیے مذمت اور رونے دھونے کی بجاۓ انڈیا کی مرمت کرنی ہو گی نغمے تو پون صدی سے گاۓ جا رہے ہیں اور دن بھی کشمیر کے حوالے سے بہت منسوب ہو گئے ہیں لیکن کیا فائدہ ہوا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے آگے اپنا دکھ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انہیں مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اب جو بھی ہو گا وہ تقریروں، منتوں اور نغموں سے نہیں ہو گا بلکہ سخت کاروائی سے ہو گا۔

    اب آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھی دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پہ شامل ہو گیا ہے اور ایک اور دن پاکستان کو نغموں اور احتجاجوں کے لیے مل گیا اب اس کرفیو کو سال بیت گیا لیکن نغموں اور تقریروں سے کیا حاصل ہوا کیا ہمارے رویے سے کسی کے سر پہ جوں تک رینگی؟
    کیا کشمیر آزاد ہوا؟
    چلو آزادی کو چھوڑو یہ بتاؤ کیا کرفیو ختم ہوا یا کرفیو میں نرمی بھی آئی؟
    نہیں نہ اور ایسے آنی بھی نہیں جس طرح ہمارے رویے ہیں کیونکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے ہم صرف باتوں کے شیر ہیں اور کشمیریوں کو بلاوجہ کی تسلیاں دیتے ہیں۔

    ہمارے رویے یہ ہیں کہ ‏‎وہ جس دن ظلم کرتے ہیں ہم اس دن کبھی بلیک ڈے اور کبھی یکجہتی کا دن مناتے ہیں اور رونا روتے ہیں کہ بھارت جا جا کشمیر سے نکل جا اور کبھی چھوڑ دے ہماری وادی والے نغمے گاتے ہیں اور کبھی جمعہ والے دن دھوپ میں کھڑے ہو کے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور بھارت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اب سال گزر گیا اور یہ دن بھی تاریخی ہو گیا اور اسی طرح سالہا سال گزرتے جائیں گے اور 5 اگست کا دن بھی منایا جاتا رہے گا اور نغمے ریلیز ہوں گے اور بات نعروں تک ہی رہ جاۓ گی۔

    ‏‎پتہ نہیں کشمیری ہم سے کیونکر امیدیں لگا کے بیٹھے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے تو ہمیں نت نئے نغموں ترانوں اور دھوپ میں کھڑا ہونے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے موقع مل جاتا اور ہم مذمت بھی اچھے سے کر لیتے ہیں اور کشمیریوں کو جھوٹی تسلیاں بھی دے لیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ کس قسم کا ساتھ ہے جو احتجاج کر کے ہی دیا جاتا؟

    پون صدی سے یہی احتجاج ہی تو جاری ہے لیکن انہوں نے ہمیں کشمیر کیوں نہیں دیا؟
    اگر اس طرح نہیں مانتے تو ایک موسیقی کی محفل بارڈر پہ جا کے ہی منعقد کر کے دیکھ لیں پھر شاید بھارت کشمیر دے دے۔

    واللہ ہمارے یہ رویے بہت تکلیف دہ ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ ہم نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے ترجمانوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کو پابند سلاسل کر کے ظالموں کو ہی خوش کرتے ہیں تو ہم کیسے مخلص ہو سکتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ؟

    ‏‎اللہ ہماری افواج اور سیاستدانوں کو نغموں مذمتوں اور احتجاجوں سے باہر نکال کر صحیح معنوں میں کشمیر کے ایجنڈے پہ کام کرنے اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کشمیری بہن بھائیوں کو آزادیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب..
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • آرزوئے سحر، بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں   تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر، بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں

    دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج خالق کائنات نے اتارا نہ ہو، کینسر، ایڈز، کرونا وائرس کی طرح ہندوتوا بھی ایک شدید قسم کا مرض ہے اور جسے یہ لاحق ہوجائے تو وہ اسلام دشمنی و پاکستان دشمنی میں جل جل خود ہی گھستا رہتا ہے آج کل بھارت اس وبا کی لپیٹ میں ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی اپنی پیشین گوئیوں میں اور عالمی ماہرین مختلف موقعوں پر اس کا علاج بھی تجویز کرچکے ہیں جس کے پیش نظر ہندوتوا کا بچہ بچہ پاک آرمی کے نام سے نہ صرف خوف میں مبتلا رہتا ہے بلکہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوے ہیں کہ کسی بھی طرح سے پاک فوج کو کمزور کردیا جائے، ایسی ہی ایک مذموم کوشش سابق بھارتی فوجی افسر میجر گورو آریا نے بھی کی اور نتیجہ وہی مایوسی کی صورت برآمد ہوا۔ میجر گورو آریا اس سے پہلے پاک افواج پر دہشتگردانہ حملوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسندوں سے اظہار یکجہتی بھی کرچکے ہیں، حال ہی میں بھارتی میجر صاحب نے اپنے یوٹیوب چینل کے زریعے پاکستانیوں سے خطاب فرمایا جس میں پورے زور لگا کر افواج پاکستان سے بغض و عناد کا کھل کر اظہار کیا اور پاکستانی عوام کو اکسانے کی کوشش کی جوکہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، یوں تو بھارت میں ICCPR کے آرٹیکل 19 اور 20 کی خلاف ورزی معمول کی بات ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں بیگناہ مسلمان و عیسائی جان سے جاچکے اور دہلی مسلم نسل کشی کا واقعہ بھی رونما ہوچکا ہے لیکن اب بھارتی میجر براہ راست پاکستانیوں کو تشدد و فساد کے لیے اکساتے رہے جس پر عالمی اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے میجر گورو آریا نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج اپنے شہریوں میں بھارت کے خلاف نفرتیں ابھارتی ہے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے اس کے علاوہ نریندر مودی نے پروگرام من کی بات میں یوم کارگل کے موقع پر بات کرتے ہوے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جس کی حقیقت ہندوتوا کی پاکستان و پاک فوج دشمنی سے زیادہ نہیں۔ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا، ریاست جوناگڑھ کے معاملے پر تو بھارت نے درخواست کی کہ آبادی کی خواہش کے مطابق انضمام کا فیصلہ کیا جائے لیکن کشمیر کے معاملے میں ہمیشہ دھوکہ و مکاری سے کام لیا، اس کے باوجود پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات کا خواہاں رہا جس کا ثبوت 1962 کی ہند چین جنگ ہے کہ پاکستان نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی ورنہ اس وقت اگر اس طرف سے پاکستان حملہ آور ہوجاتا تو یقینی تھا کہ بھارت کشمیر کے ساتھ ساتھ سیون سسٹرز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا لیکن مکار بھارت نے 1965 میں رات کی تاریکی میں مذموم جارحیت کی جس میں منہ کی کھانا پڑی اور روایت کے مطابق عالمی قوتوں کا سہارا لینے بھاگ کھڑا ہوا، معاہدہ تاشقند کے بعد ایک طرف تو رام رام کرتا رہا دوسری طرف مکتی باہنی کی سرپرستی کرتا رہا اور 1971 میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا، اس کے علاوہ مشرف دور میں امن کی آشا کی آڑ میں پاکستان میں دہشتگردی کے لیے راہ ہموار کرتے رہے، زرداری نوازشریف فیوریٹ نیشن قرار دیتے رہے بدلے میں بھارت افغان سرزمین کے زریعے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا، یہ ہیں وہ بھارتی مکاریاں جو قابل نفرت ہیں جن سے لاکھوں پاکستانی براہ راست متاثر ہوے، بھارت کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ عوام نہ چاہتے ہوے بھی نفرت کرتی ہے۔ میجر گورو آریا کے وی لاگ کے بعد اب یہ بات مخفی نہیں رہی کہ پاکستان میں پاک فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں کن کے مفادات وابستہ ہیں اور مہم چلانے والوں سے ہر خاص و عام واقف ہے، بھارتی میجر صاحب نے سابق حکمرانوں و روایتی سیاسی جماعتوں کو کلین چٹ دیتے ہوے پاکستان میں انتظامی و تعلیمی ابتری، پانی کی کمی سے لیکر لوڈشیڈنگ تک ہر مسئلے کی ذمہ داری فوج پر ڈالدی جبکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سندھ میں شہری یونیورسٹی پہ پیپلزپارٹی و متحدہ میں تین دہائیوں سے جنگی سیاست چلتی آرہی ہے، یہ بھی کھلا راز ہے کہ کراچی میں ٹینکر مافیا کو کس نے رواج دیکر عروج بخشا، پولیس کو سیاسی بنانے والے کون لوگ ہیں، ٹھیکے کون اپنے من پسند افراد کو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گذشتہ سات دہائیوں تک کبھی کسی بھارتی فوجی کو پاکستانی عوام کا درد نہیں جاگا لیکن اب جب پاکستان میں غیرمرئی طور پر ڈنڈا سروس جاری ہے جس کی تھوڑی تھوڑی جھلکیاں عوام تک بھی پہنچتی رہتی ہیں تو ایسے میں میجر گورو آریا کو پاکستانی عوام کا درد پنپ اٹھا جس پر موصوف کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے بھارتی عوام کی فکر کرنی چاہئے جہاں آج بچوں تک کو یہ نعرے لگانے پڑتے ہیں "چاچا چاچی سرم کرو کھلے میں ہگنا بند کرو” میجر صاحب پہلے لیٹرینیں تو بنالو پھر دوسری طرف جھانکنا اور رہی بات جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کی تو یہ عام فہم بات ہے کہ چور ہمیشہ اپنے اثاثے چھپاتا ہے اور جس نے حق حلال و جائز طریقے سے اثاثے بنائے ہوں تو ظاہر کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کریگا، جنرل عاصم باجوہ نے نہ صرف اثاثے ظاہر کیے بلکہ ان کی وضاحت بھی دی کہ ان کے زیر استعمال لینڈکروزر ملٹری رول کے تحت ڈاون پیمنٹ پر لی اور کچھ زرعی زمین ان کی آبائی ہے جبکہ کچھ زرعی زمین اور ایک پلاٹ بطور فوجی ملازم ان کا استحقاق ہے اس کے علاوہ ایک دو پلاٹ انہوں نے دوران ملازمت بہت عرصہ پہلے خریدے جس وجہ سے قیمت خرید کم لکھی ہوئی ہے جیسا کہ دو دہائی قبل یفینس میں پلاٹ دو تین لاکھ روپے کا تھا۔ یہ تو پاکستانی جنرل ہیں جو بلا خوف اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں لیکن کیا بھارتی جرنیلوں میں اتنی اخلاقی جرات ہے جو وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں جن کا وطیرہ ہی یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی موقع ملتا ہے تو ملک و قوم کو رسک پہ چھوڑ کر چائنیز کہاوت "بحران یا مشکلات میں مواقع بھی ہوتے ہیں” کے مصداق مال بنانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ کفن تک پہ مال بنایا، انڈین آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق کارگل جنگ کے دوران مقتولوں کے کفن دفن کے تابوت میں بڑا گھپلا کیا گیا جس میں BJP اور بھارتی فوجی افسران ملوث تھے جنہیں نریندر مودی کے دور میں کورٹ سے کلین چٹ ملنا شروع ہوئی اور دلچسپ بات یہ کہ کہا گیا کہ کرپشن اسکینڈل میں نامعلوم افراد شامل ہیں، بہتر ہوتا اس کا الزام بھی ISI کے سر تھونپ دیا جاتا۔ روایت کے مطابق حالیہ ہند چین تنازعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوے مودی سرکار اور بھارتی کرپٹ فوجی افسران نے شور مچایا کہ ہمارا دفاع مضبوط نہیں اس کے لیے بھارت کو فوری طور پر رافیل طیارے خریدنے ہونگے ورنہ چین میں بھی چائے پارٹی ہوسکتی ہے اور یوں ڈوبی ہوئی رافیل طیارہ ڈیل کو زندہ کرکے اربوں روپے پر ہاتھ صاف کر بیٹھے۔ اس کے علاوہ ٹاٹرا ٹرک اسکینڈل، جیپ اسکینڈل، میرین ملٹری ہیلی کاپٹر اسکینڈل، آبدوز اسکینڈل چند ایسے بھارتی فوج کے شاہکار اسکینڈل ہیں جن میں بھارتی عوام کی جیبوں کو ہی نہیں کاٹا گیا بلکہ یہ وہ اہم وجہ ہے کہ آج بھی 40 فیصد سے زائد بھارتی غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں اور 70 فیصد سے زائد آبادی سوچالوں کے نہ ہونے کی وجہ سے پچھواڑے دکھانے پہ مجبور ہے، ایسے میں بھارتی عوام خود ہی لیٹرین بنالے لیکن مجبور ہے ایک تو تعلیم و شعور نہیں دوسرا سیوریج سسٹم نہیں۔ گلوبل فائرپاور اور SIPRI کے مطابق گذشتہ کئی سالوں سے بھارت دفاعی بجٹ کے حساب سے دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود ایمرجنسی میں اسے رافیل خریدنے کی ضرورت پڑی جس پر بھارتی عوام کو ضرور سوال کرنا چاہئے کہ سات دہائیوں سے اتنا بجٹ کہاں خرچ ہوا۔ سابق بھارتی جنرل میڈیا پر یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ بہت سارے فوجی افسران فوجی راشن کو عام مارکیٹ میں فروخت کردیتے ہیں اور مجبور سپاہی ذہنی مریض ہوتے جارہے ہیں، بھارتی فوجی افسران نے تو کارگل میں جانیں قربان کرنے والے فوجیوں تک کو نہ بخشا آج بھی سینکڑوں متاثرین حقوق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہیں کیونکہ فوجی افسران کو گالف کلب و نائٹ کلبوں کے بزنس سے فرصت ملے تو اس طرف دھیان ہو اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی جنرل انڈین ایڈوائزری بورڈ میں چیئرمین لگ جاتا ہے تو کوئی NDMA کا ہیڈ یا پھر بھارتی اسٹیٹ بینک میں اعلیٰ عہدہ ان کا منتظر رہتا ہے اور اب تو عدالت بھی ان کا حصہ بن گئی ہے جس طرح جسٹس گگوہی نے BJP سرکار اور انڈین ملٹری کی خدمت کی ہے تو اب عدلیہ کو بھی اعلیٰ مراعات حاصل ہیں جس کا بڑا نتیجہ جسٹس گگوہی بطور راجیہ سبھا کا ممبر منتخب ہوگئے ہیں۔

  • کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم:  فہیم شاکر

    کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم: فہیم شاکر

    فیصل آباد میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے تُجّار پر پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، دھکے دیے
    میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ کون سا اختیار ہے جو پولیس کو وردی پہننے سے مل جاتا ہے؟؟؟
    وہ کون سا قانون ہے جو پولیس کو عوام پر تھپڑ برسانے کا اختیار دیتا ہے؟؟؟
    وہ کون ہے جو پولیس کے جوانوں کو عام آدمی کو دھکے دینے پر اُکساتا ہے؟؟؟

    ایک عام شہری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر سزا دینا بنتی ہے یا تشدد کرنا؟؟؟

    آج جمعۃ المبارک 31 جولائی کا دن ہے شیخوپورہ کی معروف تجارتی جگہ گلی ککےزئیاں کے صدر انجمن تاجران رانا محمد عمران کے مطابق لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر پولیس نے تحریک انصاف کے معذور کارکن یاسر اکرم پر چیخوں کے باوجود شدید تشدد کیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بنے رہے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی خالد محمود بھی موجود تھے
    لیکن جنگل کے قانون کے حامل اس معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو پولیس سے اس کی محکمانہ خلاف ورزی پر سوال کرے
    ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ تشدد کے شکار یا سراپا احتجاج بنے تُجّار کے پاس جا کر اشک شوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں

    میں پھر دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر شہری کو سزا یا جرمانہ کرنا چاہیے نہ کہ اس کی تضحیک وتذلیل.
    میں چند دن قبل صبح 7 بجے شاہدرہ چوک میں کھڑا تھا
    بچوں کے ماموں انہیں شاہدرہ چھوڑنے اور میں انہیں وصول کرنے وہاں پہنچا تھا
    اسی اثناء میں ٹریفک پولیس والے ڈیوٹی پر پہنچنا شروع ہو گئے
    کاغذات واپسی سنٹر شاہدرہ میں موجود پولیس کے ایک نوعمر جوان نے مجھے تضحیک آمیز رویے کے ساتھ یوں بلایا
    *اوئے مولوی! ادھر آ، جا وہاں سے پانی بھر کے لا*
    میں ایک نظر اسے دیکھوں، ایک نظر اس کی وردی کو، اس کی جرآت پر مجھے حیرت سے زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ وردی پہننے کے بعد عوام انہیں کالانعام دکھائی دیتی ہے.
    *یہ رہی عوام کی اوقات*
    آپ میری بات سے ہزار بار اختلاف کیجیے لیکن یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ پولیس کے جوان اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے عوام کے اندر سارے محکمے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے
    اعلی حُکام کو اس طرف توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کرانا ہوگا ورنہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا سے پہلے تھپڑ اور دھکے دے کر اسے جرم کی راہ پر ڈالنے کی ساری ذمہ داری پولیس کے جوانوں پر ہی عائد ہوتی رہے گی

  • سائنس اور مذہب  تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب

    عمر یوسف

    فلسفہ ہو یا منطق ، سائنس ہو یا دیگر عقلی علوم ان سے وابستہ اکثر لوگ خدا کے وجود کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

    اب کیا وجہ ہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو حقیر سی عقل کے تابع ہو کر جھٹلا دیا جاتا ہے ،؟۔

    حالانکہ فلسفہ و منظق و سائنس کی چوٹی پر پہنچ کر لوگ یہ حقیقت ماننے پر مجبور ہوئے کہ اس سے آگے خدا ہے ۔۔۔

    جنہوں نے انتہاء دیکھی انہوں نے وجود باری تعالی کا اعتراف کیا ۔۔۔۔

    یہاں پر میں انسانی فطرت کے پہلو کو اجاگر کروں تو انکار خدا کی ایک پیچیدہ وجہ سمجھ میں آجاتی ہے ۔۔۔

    دماغ جس چیز پر مسلسل کام کرتا ہے وہ اسی کے تحت سوچنا اور عمل کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔

    اب سائنس و فلسفہ یا دیگر علوم ٹھوس عقلی ، مشاہداتی اور تجرباتی علوم ہیں ۔۔۔۔

    جو بندہ زندگی کا ایک عرصہ ایسی حالت میں گزارے کہ جس میں سائنسی تجربات کرکے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا وجود بھی اسی صورت مانا جائے گا جب اس کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔۔۔۔

    سائنس کو ہی دیکھ لیں کسی بھی چیز کا دعوی وہ۔اسی صورت مانے گی جب اس کا مشاہدہ کرے گی ۔۔۔بصورت دیگر آپ منوا کے دکھائیں !!!

    مسلسل عقل کے تابع ہونا انسان سے ایمان کی سمجھ چھین لیتا ہے وہ ان دیکھی ، ناقابل مشاہدہ چیزوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔

    یوں مسلسل عقلیات کی پیروی خدا کے وجود پر ایمان لانے کے راستے میں حائل دیوارہے

    خفیف سی مثال اس کی تائید کرے گی کہ آپ مسلسل روشنی میں کام کرنے کے بعد ایک دم اندھیرے میں آئیں گے تو چیزوں کا مشاہدہ کرنا کچھ وقت کے لیے ممکن نہ ہوگا ۔۔۔۔

    اسی طرح مسلسل عقلیات کے تابع ہونے والے کو ایمانیات کی سمجھ مشکل سے آتی ہے ۔۔۔
    اس مسلمہ حقیقت کے بعد مسلمانوں کے کرنے کے کام دو ہیں ایک ذاتی لحاظ سے ایک اجتماعی لحاظ سے ۔۔

    ذاتی لحاظ سے سائنس سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا تعلق مذہب سے مضبوطی سے بنائے رکھے قرآن و حدیث کا مطالعہ ہی ایمان و سلامتی کا واحد ذریعہ ہے ۔۔۔
    اور اجتماعی لحاظ سے جو لوگ سائنس پسندی کی وجہ سے دین بیزاری کا شکار ہیں ان سے درست رویہ اپنائے نہ کہ تعصب و انتہاء پسندی کا ۔۔۔
    اور ان کی عقلیات سے استدلال کرتے ہوئے ایمانیات ثابت کرے جیسے کہ عصر حاضر کے ممتاز علماء اسی پیٹرن کو فالو کرتے ہیں اور ان کی تصانیف و خطبات سے دیکھا جاسکتا ہے ۔۔۔

    سائنس کے حوالے سے مذہبی لوگوں کو نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جہاں سائنس کی طرف سے مذہب خلاف عمل در آمد ہوتا ہے وہیں پر لوگ پوری کی پوری سائنس کو کفر کی فیکٹری مان لیتے ہیں ۔۔۔
    سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جو چیز مذہب کے خلاف ہے صرف اسے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جانا چاہیے اور اسے ہی رد کرنا چاہیے نہ کہ پوری سائنس کو ہی ۔۔۔

    کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی خلاف ورزی پر سائنس کو کفر عظیم سمجھنے کا ہی تاثر دیا جاتا ہے ۔۔۔

    بات کا اختتام اسی پہ کرتے ہیں کے مذہب کے بغیر سائنس کی دنیا جہنم کا راستہ ہے کیونکہ عقلیات کی پیروی سے ایمان کی سلامتی ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
    اور سائنس کے حوالے سے مذہب میں درست نظریہ رائج ہونا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو چیز سائنسی مشاہدے میں نہیں وہ ان کے نزدیک ناقابل قبول ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس کا انکار سائنس کررہی ہے وہ واقعی موجود نہیں ۔۔۔۔۔
    اور یہ بھی ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ اب سائنس کو کفر کی فیکٹری سمجھ لیا جائے

  • خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    پڑھیں ! 5 6 منٹ دینے سے دنیا اپنی فطرت پر ہی قائم رہے گی اس کے برعکس آپ کی سوچ میں اضافہ ہوگا

    اعلان رقیبوں کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے ۔ خبریں ہیڈ لائنز کی صورت میں اور اخبار میں چھپ کر بصارتوں کو دھندلا کرتی ہے ۔ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہپناٹائز ہو جاتی ہیں ۔ کہ فلاں فلاں اڈے سے اپنی منزل کی طرف محو سفر بس حادثہ کا شکار ہوکر کر متعدد جانوں کی حلاکتوں کا باعث بنی ہے ۔ لیکن ایک نوجوان حیات و موت کی دہلیز پر موجود ہے ۔

    بعد از اعلان سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اور جن کے دوست احباب رشتہ دار قریبی اس اڈے سے اپنی منزل کو پانے کی جستجو میں روانہ ہوئے تھے ۔ سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے ۔ اور کوئی ان اوقات تک فیسبک پر پوسٹ نہیں کرتا ۔ واٹس ایپ سٹیٹس نہیں لگایا ۔ انسٹا پر سٹوری نہیں لگائی کیونکہ سب سے اک امید وابستہ تھی کہ وہ زندگی و موت کی دہلیز پر براجمان نوجوان میرا بھائی نہ ہو کزن نہ ہو بھتیجا نہ ہو بھانجا نہ ہو دوست نہ ہو چاچا نہ ہو ماما نہ ہو حتیٰ کہ رشتے کو مظبوط یاں کچے دھاگے میں پروئے جتنے بھی موتی تھے سب کو فکر لاحق تھی اندیشہ تھا کہ وہ نوجوان میرا دوست ہوگا اور ہر رشتہ دار ہاتھ پھیلائے دل سے آنکھوں میں اشکوں کو پروئے اپنے رب کے ہاں لگاؤ سے دعاگو ہے وہ میرا ہی رقیب ہو جاننے والا ہو میرا ہی شناسا ہو ۔ ایک نوجوان اور کڑوڑوں امیدیں ۔

    اگر ان میں سے کوئی بھی پوسٹ کردے میرا کزن بس حادثہ کے نذر ہوکر درا فانی سے کوچ کرگیا ہے ۔ اور بچ جانے والا نوجوان ہی کزن ہو تو پھر اک بنا تحقیق کے بے معنیٰ خبر گردش کرتی ہے ۔ اور اس مرنے والا نوجوان کے حلقہ احباب میں ایک کیفیت رنج و الم گردش کرتی ہے ۔ اور اس کے حلقہ احباب سب پوسٹس کرتے ہیں میرا جاننے والا فوت ہوگیا ہے ۔ سٹوری لگتی ہے سٹیٹس لگتے ہیں شیئر ہوتے ہیں ۔ اور بنا تحقیق کے ایک خبر گردش کرتی ہے اور پروپیگنڈا بن جاتی ہے ۔ حکومت نے روڈ صحیح نہیں بنائے ۔ بسوں میں سفر سے بہتر ہے بندہ سفر نہ کرے ۔ اور اس طرح کی کہیں پوسٹس اور پروپیگنڈا ۔

    اب ذرا حقائق کو اپنی بصارت سے پرکھیں ۔ کہ ہم کتنے ایسے پروپیگنڈوں کا شکار ہیں ۔ ہم کتنی بنا تحقیق خبریں پھیلا رہے ہیں ۔ اگر مجھے ایک بندہ بھی فالو کرتا ہے ۔ تو میں اسے گمراہ کر رہا ہوں ۔ اپنے دماغوں کو آنکھوں کے سامنے چھائی ہریالی کی قید سے آزاد کروائیں ۔ اور سوچیں ہم کتنوں کو گمراہ کر چکے ہیں ۔ اور کتنوں پروپیگنڈوں کو اپنے دست مبارک سے فروغ دے چکے ہیں ۔

    اگر یہ حقائق میں حلقہ احباب میں بیان کروں تو اکثر و بیشتر چور ہوں گے اور ان کی ڈارھی میں تنکا ہوگا ۔ تو خود کو اس گندگی کے چھینٹوں سے پاک رکھیں ۔ اور نیکی اور پوچھ پوچھ کو بھی تحقیق کی نذر کریں ۔ ہم ملوث ہیں کئی ایسے الف لیلیٰ کی کہانیوں سے مشابہت کرتی خبروں کو دنیا کے نذر کرنے میں ۔ اگر ہم تحقیق کرنا شروع کردیں ۔ اور معاشرے کی بی بی سی بننے پرہیز کریں ۔ تو کئی پروپیگنڈے سر اٹھانے سے قبل ہی زمین بوس ہو جائیں ۔ اور ہماری کاوشیں پروپیگنڈوں کو آئینے میں زبان چڑا رہی ہوں اور ہم انداز دھمکی میں اپنے اعصابی کمزوری کو بحال کر رہے ہوں ۔ اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں ۔ خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں ۔ کیونکہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے اور آپ کو ہماری اشد ضرورت ہے ۔ اور معاشرے کو ہماری ضرورت ہے ۔

    #قلمسخی #معاشرہزیر_تعمیر
    #SAKHI #PAKISTANI #SakhiWrites

  • کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد  از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق
    {کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد}

    از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے
    پھر اپنے گھر میں ہمیں تو بلا لے

    حاجیوں کے لئے کھول دے اپنے گھر کو
    سجدوں سے روشن کریں تیرے در کو

    توں حاجت روا ہے تو ہی مشکل کشا ہے
    دو عالم کا تو اکیلا ہی شہنشاہ ہے

    اس موذی مرض سے ہماری جاں تو چھڑا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    آہ،چھن گئیں کتنی نعمتیں ہم سے
    آہ،اٹھ گئیں کتنی برکتیں ہم سے

    نہ کعبے کی زیارت،نہ زم زم کا پینا
    حجر اسود کے بوسے سےگناہوں کا دھونا

    لے جا ہمیں وہاں اور سوئی قسمت جگا دے
    یا الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    غلاف کعبہ سے چمٹنے کو جی چاہتا ہے
    تیری بارگاہ میں غم ہلکانے کو جی چاہتا ہے

    کرے خوب حاجی عبادت اور نیکیاں کمالے
    الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    ہم خطاکار ہیں،ہم گناہ گار ہیں
    مانا کہ بہت ہی سیاہ کار ہیں

    مگر تیرے نبی کے بھی پیروکار ہیں
    خدایا!تیری رحمت کے طلبگار ہیں

    اس عاصی کو مدینے کی گلیاں دکھا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

  • راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    قبیلہ دوس میں پیدا ہونے والے ابو ہریرہ بکریاں چراتے اور تنگی میں گزر اوقات کرتے تھے،بلیوں سے محبّت کی وجہ ابو ہریرہ کہلائے،
    قبیلہ دوس کے شاعر طفیل دوسی اسلام کے ظہور کے بعد مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اسلام قبول کر لیا۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی جب یہ بات سنی تو وہ بھی بے تاب ہو گئے اور چاہا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں…
    مدینہ پہنچ کر 7ہجری میں تیس سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا اور صفہ کے تاریخ ساز اور عہد ساز چبوترے کے مکین بن گئے…کہ جن کے کردار پر تاریخ نازاں ہے اور پھر کبھی اس راہ سے جدا نہ ہوئے۔
    اصحابِ صفہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے مہمان تھے،
    ان کا گھر تھا نہ اسباب…
    مال و دولت تھی نہ دوست آشنا…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ کے پاس جو صدقہ کا مال آتا آپ وہ انہیں بھیج دیتے،
    کوئی تحفہ آتا تو خود بھی کھاتے،انہیں بھی کھلاتے…
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف پایا جن کی تعداد 5375 ہے ،آپ نے جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کم حافظے کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھ کوئی بات کروں تو تم اپنی چادر پھیلا دینا اور جب بات مکمل ہو جائے تو چادر اپنے گرد لپیٹ لینا…ابو ہریرہ کے بقول پھر کوئی حدیث وہ نہ بھولے…!!!
    ان کے پاس کمائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا شدید فقر وفاقہ میں علم حاصل کیا…
    صحیح بخاری میں ہے کہ:
    ابو ہریرہ کہا کرتے تھے کہ قسم پروردگار کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
    میں بھوک کے مارے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا۔
    ایک دن ایسی ہی جگہ پر جہاں سے لوگ گزرتے ہیں لیٹا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت پوچھی،میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ میری بات سمجھ نہ سکے،
    پھر عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ بھی بات نہ سمجھ سکے…
    پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ میرا مدعا سمجھ گئے…مسکرا دیئےاور مجھے ساتھ چلنے کو کہا،
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر…!!!
    میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ!
    میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا…
    گھر پہنچ کر آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی داخلے کی اجازت دی…
    گھر والوں سے پوچھا گیا کہ کوئی چیز موجود ہے؟
    بتایا گیا کہ دودھ کا ایک پیالہ ہےجو آپ کے لیئے ہدیہ بھیجا گیا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابا ہر…!!!
    جا سائبان(صفہ)والوں کو بلا لا…
    میں نے دل میں سوچا کہ ایک پیالہ دودھ اتنے لوگوں کو کیسے کفایت کرے گا؟
    اصحابِ صفہ کو بلایا گیا وہ آن کر بیٹھ گئے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاتے جاؤ…
    آپ پیالہ ایک ایک صحابی کو دیتے جاتے اور وہ سیر ہو کر پیتا جاتا اور پھر پیالہ واپس ابو ہریرہ کو پکڑا دیتا…
    جب سب لوگ جی بھر کر دودھ پی چکے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیالہ ہاتھ میں لے کر ابو ہریرہ کو دیکھا اور مسکرائے…
    اور فرمایا:
    اقعد فاشرب…
    ابو ہریرہ بیٹھ جا اور دودھ پی لے…
    میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے جاتے اور پی…
    میں پیتا رہا آپ پھر فرماتے:
    ابو ہریرہ اور پی لے…
    یہاں تک کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قسم اس پروردگار کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب میرے پیٹ میں جگہ نہیں رہی کہ اس دودھ کو اُتاروں…
    تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اچھا ابو ہریرہ اب پیالہ مجھے دے دے…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شکر ادا کیا اور بسم اللہ پڑھ کر وہ بچا ہوا دودھ پی لیا…(صلی اللہ علیہ وسلم)۔
    وہ جو نبیوں میں رحمت لقب پانے والے…
    وہ جو اپنے پرائے کا غم کھانے والے…
    وہ جو مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے…
    وہ جو ضعیفوں کے مددگار،یتیموں کے والی تھے…!!!
    زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ہریرہ بھی ہمارے ساتھ تھے…سب نے اپنی دعا مانگی،
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا:
    اے اللہ مجھے وہ بھی دے جو میرے ساتھیوں نے مانگا اور مجھے ایسا علم دے جو بھلایا نہ جا سکے…
    تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا آمین۔
    آپ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے اور احادیث جمع کرتے رہتے تھے۔
    آپ کے اس علم کے آگے ہر فن کی روشنی ماند ہے…
    ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللّٰہ عنھما کے دور میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت نوازا مالی استحکام نصیب ہوا…
    لیکن یہ سچ ہے کہ بلندیوں پر جگمگانے کے لیئے خونِ جگر جلانا پڑتا ہے…
    راہ کی مشکلات اور کانٹے چننا پڑتے ہیں…
    سحر ہمیشہ گھپ اندھیرے سے پھوٹتی ہے…
    اور سچائی اور سیدھی راہیں قربانی مانگتی ہیں…
    بڑے منصب پر فائز ہونے کے لیئے شارٹ کٹ نہیں بلکہ جہدِ مسلسل اور تلخیوں کا سامنا لازم ہوتا ہے…
    آپ کی والدہ اسلام کی سخت دشمن تھیں آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روتے ہوئے دعا کی درخواست کی
    جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماں قبولِ اسلام کے لیئے بصد رضا تیار ہو گئیں…!!!
    (رضی اللہ عنہ)۔
    اللّٰہ ہمیں بھی حقیقی علم کی روشنی سے سینے منور کرنے اور اس روشنی کو ہر طرف پھیلانے اور ظلمتوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ انسانیت کا درد اور دفاع و احترام ہمارے معاشرے کی پہچان بن جائے،ہمدردی و غمگساری کے جذبات ہمارا شعار ہوں آمین ثم آمین۔
    =============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بھارتی عورت سونیا داس اور اس کی دوست نے سکوٹر پر پانچ دن سفر کرکے 1،800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی 26 سالہ خاتون ، کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران بے روزگار اور بے گھر ہوگئی ، اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے جس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایک اسکوٹر پر مہاراشٹر سے جھارکھنڈ روانہ ہوئی-

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سونیا داس اور اس کی دوست صبیہ بانو نے سکوٹر پر 1،800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے پانچ دن سڑک پر گزارے۔

    رپورٹ کے مطابق سونیا داس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کنبے اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پریشان کُن حالات کا سمان کر رہی تھی۔ کرایہ کی ادائیگی میں ناکامی کی وجہ سے جب اسے ممبئی میں رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا گیا تو ، وہ پونے میں اپنی دوست صبیہ بانو کے ساتھ چلی گئیں۔

    سونیا داس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ، "میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے کیونکہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور گھر کا کریہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھر خالی کروالیا گیا تھا تو میں پونے میں اپنی دوست صبیہ کے پاس شفٹ ہوگئی تھی-

    سونیا داس نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے تو انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے ٹویٹر پر مدد کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پونے اور جمشید پور کے مابین کوئی ٹرینیں نہیں ہیں ، اور وہ فلائٹ ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے سونیا داس نے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسکوٹر پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا-

    سونیا نے بتایا کہ "میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو ٹویٹ کیا ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ حکومتوں کی ہیلپ لائنوں پر مدد کی لیکن کوئی کام نہیں کررہا تھا۔ میں نے (اداکار) سونو سود سر کو بھی ٹویٹ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں ، میں نے اپنے طور پر جمشید پور واپس جانے کا فیصلہ کیا –

    دونوں دوستیں پیر کے روز پونے سے روانہ ہوئیں اور پانچ دن سکوٹرپر ممبئی کے راستے جمشید پور کا سفر کیا۔ اور جمعہ کی شام اسٹیل سٹی پہنچ گئیں۔

    جمشید پور پہنچنے کے بعد ، محترمہ داس اپنے خاندان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ایک فاصلے سے دیکھا اس سے پہلے سونیا اور اس کی دوست کو قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا تھا۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اروند کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب انہیں گھر میں ہی قرنطین کرنے کو کہا گیا ہے۔ لواحقین کو 30 دن تک ڈرائی راشن بھی مہیا کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

  • دلوں کو فتح  کرنے کا راز  تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز
    حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    حسن سلوک کیا ہے؟
    حسن سلوک ایک ایسی چیز ہے جس سے دشمن کوبھی اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔
    آج کی دنیا میں 90 فیصد لوگ حسن سلوک کو بھول چکے ہیں،صرف 10 فیصد لوگ حسن سلوک کے معنی سے آشنا ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں ، وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے ،پھر وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    وہ جانتے ہیں کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو بولنے ہیں اور جو نہیں بولنے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا سلوک ہے جس سے لوگ ان سے محبت کریں اور پیار اور خلوص سے پیش آئیں گے اور اچھے انداز سے بات چیت سمجھیں گے ۔
    جبکہ 90 فیصد لوگ دوسروں کے ساتھ اپنے ہوں یا پرائے ،بڑے یا چھوٹے ہوں سب کے ساتھ ایک ہی رویے سے پیش آتے ہیں۔ وہ نہیں خیال کرتے کہ ان کو کیا بات بری لگ سکتی ہے۔
    ان کی عادت ہوتی ہے طنز کرتے رہنا، بات بات پر ٹوکنا دوسروں پر ہنسنا۔
    حسن سلوک صرف اسی چیز کا نام ہی نہیں کہ کہ دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں ،خلوص سے،محبت سے۔ بلکہ حسن سلوک تو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو کوئی بدسلوکی کرے، یا زیادتی کرے تو آپ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں اسے معاف کریں اس کو سمجھائیں ، اس سے بدلہ نہ لیں۔
    آخرحسن سلوک سے پیش آنے سے کیا ہوتا ہے؟

    سب سے بڑی بات یہ کہ حسن سلوک سے پیش آنے پر اللہ تعالی ہم سے خوش ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی مسلمان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ حسن سلوک میں معاف کرنا دوسروں کے ساتھ خلوص سے پیش آنا سب شامل ہے۔
    حسن سلوک تو ہو گیا ہے ہر ایک کے ساتھ اچھے انداز،اور خلوص سے پیش آنا اب بات آتی ہے معاف کرنے اور بدلہ لینے یا نہ لینے کی۔

    جب کسی سے کوئی غلطی ہو یا اس کے ہاتھ، زبان سے ہمیں تکلیف پہنچے تو ہم اسے معاف کر دیں تو اللہ تو خوش ہو گا ہی اس کے ساتھ اگلے بندے کے ذہن میں بھی خیال آئے گا کہ میں نے اس کو برا بھلا کہا اس کو تکلیف دی یا مارا پیٹا،لیکن اس نے تو مجھے معاف کر دیا۔
    ہو سکتا ہے وہ آپ کو ایک بار تکلیف پہنچائے ،دو بار، تین بار بالآخر وہ دیکھے گا کہ یہ ایک اچھا انسان ہے اور اگلی بار آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اور برا سلوک چھوڑ دے گا۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ دوسروں کو معاف کرنا لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے نہیں یا یہ سوچ کر دوسروں کو معاف کریں کہ لوگ واہ واہ کریں گے میرا نام ہوگا جب بھی معاف کریں ثواب کی نیت سے کریں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔

    اگر ہر کوئی ایک دوسرے سے اچھے طریقے سے پیش آئے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو معاف کردے تو معاشرہ کتنا اچھا ہو گا۔
    جب ایک انسان دوسرےانسان
    کو معاف کرے گا تو وہ اس سے متاثر ہوکر خود بھی دوسروں کے ساتھ ایسے ہی پیش آئے گا
    اس طرح سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے۔ اور یہ معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا اور اگر ہم کسی کے ساتھ برا سلوک کریں گے تو اس کے ذہن میں بھی شیطان بدلے کی آگ کو بھڑکائے گا اور وہ مسلسل ذہنی اذیت میں رہتے ہوئے آپ کے ساتھ برا سلوک کرنے کے ساتھ اسی غصے میں دوسروں سے بھی بد سلوکی سے پیش آئے گا۔
    یوں لا شعوری طور پر سب ایک دوسرے کے ساتھ برا کریں گے اور معاشرے میں برائی پھیل جائے گی۔ ویسے بھی جہاں ہم نے ایک نیکی کی تو ایک بدعت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سے پیش آئیں گے تو کوئی ایک دوسرے کے ساتھ برا نہیں کرے گا اور برائی اپنے آپ ختم ہو جائے۔
    (بدلہ لینا یا نہ لینا)
    بہت سے انسانوں کی فطرت ہوتی ہے ان کے ساتھ کوئی برا کرے یا زیادتی کرے تو وہ فورا بدلہ لینے پہ اتر جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب کیسے بدلہ لیا جائے؟
    اور بعض اوقات تو وہ بدلہ لیتے وقت انسانیت سے ہی گر جاتے ہیں۔

    جبکہ اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا: ‘کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ،اور ناک کے بدلے ناک۔
    یعنی کہ اگر ہم ناانصافی کیے بغیر زیادتی کیے بغیر جتنی اگلے بندے نے آپ کو اذیت دی ہے اتنی دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے تو آپ کو گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ثواب۔لیکن معاف کرنا افضل عمل ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو بدلہ لینے کا حق دیا ہے۔مگر اللہ تعالی معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
    اور ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اللہ کےاسی فرمان کو ایک شعر کی صورت میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔

    ‘کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
    خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

    جو لوگ بدلہ نہیں لیتے،دوسروں کو معاف کردیتے ہیں۔
    اللہ سبحان و تعالی ان لوگوں سے بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کو معاف کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور اللہ خود بھی تو بہت مہربان ہے،رحیم و کریم ہے۔
    اور ایک بات یہ بھی کہ جو انسان بدلہ نہیں لیتا تو دوسرا انسان یہ دیکھ کر کہ اس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا یا زیادتی کی اور آپ نے بدلہ نہیں لیا۔ تو وہ یہ دیکھ کر آپ سے معافی بھی مانگے گا۔کیونکہ اس کو احساس ہو گا کہ یہ ایک اچھا آدمی ہے اور میں نے اس کے ساتھ برا کیا۔
    سب سے بڑی مثال تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام کافروں کو معاف کردیا۔ حالانکہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کیا کیا اذیتیں نہیں دیں۔

    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں معاف کرنے،بدلہ نہ لینے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    آمین!ثم آمین!