Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟ بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کس کس کے ہاتھ پرلہوتلاش کروں؟؟؟

    بقلم:-عبدالرحمن ثاقب سکھر

    پاکستان میں غریب کو انصاف نہیں ملتا بلکہ انصاف کے حصول کے لیے عمر نوح اور قارون کے خزانے کی ضرورت ہے۔ یہاں تو غریب برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جلتا رہتا ہے لیکن اس کی شنوائی کی تاریخ ہی نہیں اتی۔ انگریز نے ہمیں ایسا قانون بنا دے دیا ہے جو امیر اور بالا دست طبقے کے لیے موم کی ناک اور غریب کے لیے وبال جان ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اس قانون کو تبدیل کرکے اسلام کا قانون قصاص و دیت نافذ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ خالق کائنات کا دیا ہوا قانون سب کے لیے برابر ہے اس میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے، عام و خاص کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ جس ہستی پر یہ قانون الہی نازل ہوا تھا اس نے فرمایا تھا کہ:
    اگر سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پہلی قوموں کی تباہی اس لیے ہوئی کہ جب معاشرے کا کوئی بڑا شخص جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کم سی غریب سے جرم ہوتا تو اس پر حد قائم کردی جاتی۔
    آج وطن عزیز میں قانون امیر اور دولت مند افراد کے لیے موم کی ناک بن چکا ہے۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ہوتا۔
    2017 میں کویٹہ میں دن دیہاڑے ٹریفک کنٹرول کرنے والے عطاء اللہ کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔ یہ انگریز بہادر کا قانون ہے۔ اس واقعہ کی فوٹیج اور ویڈیو بطور ثبوت موجود ہے لیکن پھر بھی قاتل کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔ اگر اس غیر شرعی و غیر اسلامی قانون کے بجائے اسلامی قانون سپریم لاء ہوتا تو قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا یا پھر مقتول کے ورثاء کو دیت ادا کرتا لیکن ہمارے سیاہ ست دانوں اور ایلیٹ کلاس کو یہی انگریزی قانون سپورٹ کرتا ہے لہذا وہ اسلامی قوانین کو نافذ نہیں ہونے دیتے۔
    اس سانحہ کے علاؤہ بھی کبھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔
    آپ بلدیہ ٹاؤن کراچی کا سانحہ دیکھ لیں سینکڑوں افراد کو زندہ جلا کر راکھ کردیا اور ان کے ورثاء روتے پیٹتے رہ گئے لیکن قانون کی دفعات نے مقتولین کو انصاف نہ ملنے دیا۔
    سانحہ ماڈل ٹاون لاہور ایک اہم سانحہ ہے جس کے نام پر عمران نیازی اور طاہر القادری سیاست کرتے رہے اور مقتولین کے ورثاء کو مکمل انصاف دلانے کے بلند وبانگ دعوے کرتے رہے لیکن جیسے ہی اقتدار کی ہما جناب عمران نیازی صاحب کے سر پر بیٹھی وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور اس کے مقتولین کو بھول گئے۔ اور مولانا طاہر القادری کو پاکستان کا راستہ بھول گیا کیونکہ اس وقت بھی ان کا مقصد مقتولین کو انصاف دلانا مقصود نہ تھا بلکہ ان کے خون پر سیاست کرنا مقصود تھی۔
    سانحہ ساہیوال جناب عمران نیازی صاحب کے دور اقتدار میں ہوا اور موصوف نے بیان جاری کیا کہ میں بیرون ملک کے دورے سے واپس آجاؤں پھر انصاف دلاؤں گا۔ انصاف نہ ملنا تھا اور نہ ہی مل سکا۔ بلکہ سانحہ ساہیوال کے پولیس افسران کو ترقیاں بھی مل گئیں۔
    اسی طرح سے ایک معزور نوجوان کو پولیس نے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کردیا ملک میں شور اٹھا سوشل میڈیا پر کمپینیں چلیں پھر حسب سابق و عادت انصاف کا بول بالا کرنے کے دعوے کیے گئے لیکن اس مقتول کو بھی انصاف نہ مل سکا۔
    مولانا سمیع الحق صاحب مرحوم پاکستانی سیاست کا ایک بڑا نام تھا محفوظ ترین اور ان کی اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے بہانے انہیں قتل کردیا گیا پھر حسب سابق نوٹس بھی لے لیا گیا لیکن اس عالم دین کا خون بھی رائیگاں چلا گیا اور انصاف حاصل نہ کرسکا۔
    ہمارے ملک کا قانون صرف صاحب حیثیت لوگوں کو ہی انصاف فراہم کرتا ہے جو اس انصاف کو دولت کے بل بوتے پر خرید لیں ورنہ ثبوت ہونے کے باوجود بھی پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کے قاتل مجید خان اچکزئی کو بری کردیا جاتا ہے۔

  • روس‘ چین کا اتحاد  تحریر:عدنان عادل

    روس‘ چین کا اتحاد تحریر:عدنان عادل

    روس‘ چین کا اتحاد
    اتوار 06 ستمبر 2020ء

    امریکہ کے ہاتھ سے دنیا اِسطرح نکل رہی ہے جسطرح مٹھی سے ریت۔ کورونا وبا کے بعد عالمی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ امریکہ اپنی کم ہوتی ہوئی معاشی اور عسکری اہمیت سے پریشان ہوکر دو اُبھرتی ہوئی بڑی طاقتوں چین اور رُوس کے خلاف بیک وقت کئی محاذوں پر کام کررہا ہے۔اس نے پہلے چین کے خلاف ہانگ کانگ میں ہنگامے کروائے جن پر چین نے کامیابی سے قابو پالیا۔ اب چین کے خلاف تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین میں امریکی سرگرمیاں‘ اشتعال انگیزیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ دوسری طرف‘ روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکہ نے اسکے ہمسایہ ملک بیلا رو س میں اپوزیشن کی تحریک کو ہلّہ شیری دی ہوئی ہے تاکہ وہاں اپنی پٹھو حکومت کو اقتدار میں لاسکے۔ جُوںجُوں امریکہ کا روس اور چین پر دباؤ بڑھ رہا ہے یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں حالانکہ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ ان کے درمیان فاصلہ پیدا کیا جائے۔ عالمی سیاست میں روس اور چین کے قریبی اتحاد پر مشتمل طاقت کا ایک نیا مرکز وجود میں آچکا ہے۔اسکا ایک مظاہرہ حال میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف پابندیاں سخت سے سخت کرنے کی پالیسی پر رُوس اور چین نے امریکہ کا ساتھ نہیںدیا۔ بلکہ ان دونوں ملکوں نے یورپ کے بڑے ملکوں کے تعاون سے سلامتی کونسل میں امریکہ کی یہ کوشش بھی ناکام بنادی جس کے تحت ایران پر ہتھیاروں کی فروخت کی پابندی میں توسیع کرنا تھا۔ چین نے ایران سے چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کرکے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں امریکہ کو سخت دھچکا پہنچایا۔ اسی طرح چین نے بیلا روس میںروس نواز صدر الیگزینڈر لوکا شینکو کی حکومت کی کھل کر حمایت کی ہے جنکے خلاف سی آئی اے نے احتجاجی مظاہرے شروع کروارکھے ہیں۔ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کا اندازہ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک سعودی عرب چین کو سب سے زیادہ تیل بیچنے والا ملک تھا۔ اب اسکی جگہ رُوس ہے۔ گزشتہ ماہ اگست میںروس اور چین گیارہ ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبہ کے تحت دونوں ملکوں کی سرحد کے قریب واقع چینی علاقہ’ آمر‘میں دنیا کا سب سے بڑا پولیمرپلانٹ لگا رہے ہیں۔ روس تقریبا تین ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے چین کو قدرتی گیس کے فراہمی شروع کرچکا ہے جسے پاور آف سائبیریا کہا جاتا ہے۔ اب ایسی دوسری پائپ لائن پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ روس چین کوقدرتی گیس کی فراہمی تین گنا کرنے کے منصوبہ پر کام کررہا ہے۔مزید‘ کورونا ویکسین کی تیاری میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔ دونوں ملک بیرونی تجارت کی غرض سے امریکی ڈالر کا استعمال بھی بتدریج کم کررہے ہیں ۔ ڈالربحیثیت عالمی کرنسی دنیا میں امریکی سامراج کی برتری کا ایک بڑا سبب ہے۔عالمی تجارت میں ڈالر کا استعمال کم ہونے سے دنیا پر امریکی گرفت کمزورہوجائے گی۔ چند روز پہلے رُوس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے خاصے کھلے الفاظ میں چین کے ساتھ ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایسے الفاظ میں روس اور چین کے اشتراک پربات کی جوحالیہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آئے تھے۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق روسی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کو جاپان کے خلاف چینی عوام کی مزاحمت کی کامیابی اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے پچہتر سال پورے ہونے کے موقع پر ایک مبارکباد کا ٹیلی گرام بھیجا۔ اس پیغام میں صدر پیوٹن کا یہ جملہ تو سفارتی اعتبار سے بہت اہم ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ ’عالمی استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کی خاطر اور دنیا میں مسلح تنازعوں اورجنگوں کو روکنے کے لیے اپنے اتحادی چین کے ساتھ مشترکہ کوششیں سرگرمی سے جاری رکھیں۔‘ اس بیان میں سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے جس میں پنہاں مطلب کودیکھا جائے تو عالمی استحکام اور سلامتی کے الفاظ کا اصل مفہوم یہ بنتا ہے کہ روس امریکہ کے غلبہ کے خلاف جدوجہد اور اسکے ساتھ تزویراتی (اسٹریٹجک) برابری کے لیے چین کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح امریکہ نے کوشش کی کہ پاکستان چین کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدہ سی پیک کو ترک کردے اسی طرح یورپ کے ملکوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کم کریں۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔ یہ قدرتی گیس کی رسد کا بڑا حصہ روس سے حاصل کرتا ہے۔ روس اور جرمنی کی کمپنیاں قدرتی گیس کی روس سے سپلائی کی ایک نئی بڑی پائپ لائن بچھانے پر کام کررہے ہیں جسے ’نورداسٹریم ٹو‘ کا نام دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ تقریبا ً مکمل ہونے کو ہے۔ امریکہ جرمنی کی وائس چانسلرانجیلا مرکل پربہت دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کو ختم کردیں اور اسکی بجائے امریکہ سے اسکی ایل این جی خریدیں تاکہ امریکہ کو اربوں ڈالر کی آمدن ہوسکے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ جرمنی اور یورپ کے دیگرملکوں کا روس کی قدرتی گیس پر انحصار مزید بڑھ جائے جسکے طویل مدتی مضمرات ہوں گے۔ حال ہی میں روس کے حزب مخالف کے سیاستدان ناوَلنی شدید بیمار ہو کر کومے میں چلے گئے۔ الزام لگایا گیا کہ صدر پیوٹن نے انہیںزہر دلوایا ہے ۔ امریکہ اوریورپ میں امریکی اتحادی صدر پیوٹن کے خلاف اس معاملہ پر مہم چلارہے ہیں جبکہ روسی میڈیا میںخبریں گردش کررہی ہیں کہ یہ کام سی آئی اے نے انجام دیا ہے تاکہ پیوٹن کے خلاف یورپ میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ جرمنی اور یورپ میں پیوٹن حکومت کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکائے جائیں ۔مقصد یہ ہے کہ روس اور یورپ میں دُوری پیدا کی جاسکے۔بیلاروس کے دارالحکومت مِنسک میںروس کے دوست صدر لُوکا شینکاکے خلاف اپوزیشن کی تحریک چل رہی ہے ۔قرائن بتا رہے ہیںکہ بیلاروس میں امریکی ریاست اپنی پٹھو حکومت قائم کرنے کے بعدماسکو میں بھی پیوٹن کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اسی قسم کی تحریک شروع کرواسکتا ہے۔ چین اور رُوس کے خلاف امریکہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی غماز ہیں کہ امریکہ اپنے واحد سپر پاور ہونے کا رُتبہ چھن جانے کی حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کرپارہا۔امریکی ریاست ہاتھ پاؤں مار رہی ہے کہ کسی طرح یورپ اور ایشیا پر اپنی گرفت کو قائم رکھ سکے۔سرد جنگ کے دوران میں امریکہ کا مقابلہ صرف کمیونسٹ روس سے تھا۔اب روس اور چین کی مشترکہ طاقت اسکے مدمقابل ہے۔

  • یوم دفاع پاکستان اور موجودہ وقت کا تقاضہ !!! از قلم غنی محمود قصوری

    یوم دفاع پاکستان اور موجودہ وقت کا تقاضہ !!! از قلم غنی محمود قصوری

    ہمارے مشرق میں دنیا کا سب سے بڑا مشرک،ڈرامے باز اور بزدل ہمارا دشمن بھارت ہے جو کہ اپنی ڈرامے گیری میں بہت ہی مشہور ہے مگر اپنی اسی ڈرامے گیری کی بدولت اسے دنیا میں کئی بار حزیمت اٹھانی پڑی مگر وہ کمال کا بے شرم بھی ہے
    بالی وڈ کی تاریخ کافی پرانی ہے اور اس کا آغاز قیام پاکستان سے ہی ہو گیا تھا جب ہندو پلید نے 1947،48 میں پاکستان کے خلاف ڈرامے گیری شروع کی اور منہ کی کھانی پڑی اور بالآخر مجبور ہو کر پنڈت جواہر لال نہرو سلامتی کونسل میں بھاگم بھاگ گیا کے جنگ بندی کروائی جائے دنیا میں ہماری بہت لعن طعن ہو رہی ہے
    انہی ڈراموں اور فلموں کے ہیرو اور حقیقتاً بزدل ،زیرو ہندوستان نے ایک بار پھر فلم سین اور ڈرامہ بازی سمجھ کر 6 ستمبر 1965 کو پاکستان کو رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا اور وہ سمجھا کہ اپنے طے شد ڈرامہ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے وہ اپنی فوجیں با آسانی لاہور داخل کرلے گا اور صبح کا ناشتہ لاہور کرکے لاہور جم خانہ میں شراب کی محفل کرے گا اسے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے اس نے اپنے فوجیوں کو ورغلایا جو بیچارے 47،48 کی مار سے پریشان تھے سو شش و پنج میں انہوں نے ڈرامے کو حقیقت مان کر حملہ تو کر لیا مگر جواب میں بیچارے ذلیل و رسوا ہو گئے
    6 ستمبر کی رات دشمن کے حملے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،پاکستانیوں اٹھو اور لا الہ الااللہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن کو سبق سکھا دو یہ الفاظ افواج پاکستان کیساتھ عوام پاکستان کے لئے انتہائی اہم اور ایمان کا حصہ تھے سو افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ عوام پاکستان نے بھی دشمن کو تاریخ ساز سبق سکھایا اور اس 17 روزہ جنگ میں اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہی دشمن کے دانت کھٹے ہو چکے تھے اسی لئے ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے
    اس جنگ میں دشمن کو منہ کی کھانی پڑی اور چونڈہ کے مقام پر اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا گیا جبکہ پاک فضائیہ کے شیر دل شاہین ایم ایم عالم نے ایسا معرکہ رقم کیا کہ دنیا ورطہ حیرت میں رہ گئی
    ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں دشمن کے 5 طیارے گرا کر فضائیہ کی دنیا میں وہ ریکارڈ قائم کیا کہ جو کہ تاحال اپنی آن بان سے قائم ہے جبکہ فضائیہ کے ماہرین اسے ایک معجزہ قرار دیتے ہیں
    ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں دشمن کو بے پناہ وسائل،انٹرنیشل ایڈ ہونے کے ساتھ بھی بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا
    اس جنگ میں دشمن کے 56 سو جوان و افسران ،2 سو سے اوپر ٹینک اور 76 طیارے تباہ ہوئے جس پر ہواس باختہ ہو کر دشمن کو اپنے آقا سلامتی کونسل سے مدد مانگنی پڑی اور سلامتی کونسل کے کہنے پر 23 ستمبر کو جنگ بندی کا اعلان ہوا
    اس جنگ کی بڑی وجہ آپریشن جبرالٹر تھا جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین جارحیت کو روکنا مقصود تھا
    کیونکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلوہلکے ہو یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو،یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
    اسی آیت پر عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ دشمن کا جذبہ ایمانی سے مقابلہ کیا
    مگر ابھی وقت پھر اسی کا دوبارہ تقاضہ کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ اگست سے کشمیریوں پر ہندو ظالم نے عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے
    چونکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لئے وقت ایک بار پھر تقاضہ کر رہا ہے کہ اپنی شہہ رگ پر قابض ہندو بنئے کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے کیونکہ ہم نے 73 سالوں میں کئی قرار دادیں پاس کروا لیں ہزاروں بار منت سماجت کر لی مگر بے سود جبکہ اس کے برعکس اکتوبر 1947 سے جنوری 1948 تک دشمن کو پاک فوج اور عوام پاکستان نے اس کی مند پسند زبان میں جواب دیا تھا جس کی بدولت موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا تھا سو اگر حکمران چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد ہو تو اس راستے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کیونکہ ہم نے ہر راستہ آزما لیا ہے

  • پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور   تحریر: صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور تحریر: صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کا عدالتی نظام، نظام عدل یا کچھ اور
    صالح عبداللہ جتوئی

    کسی بھی ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے اہم ترین ستون انصاف کا قیام ہے اور اسلام بھی اسی بنیادوں پہ پوری دنیا میں پھیلا جس کو بہترین انداز میں اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع میں بھی بیان فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر یا کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں لیکن اگر اس میں تقویٰ ہے تو اللہ کے ہاں اس کا اعلیٰ مقام ہے لیکن غرور و تکبر اور اکڑ پھر بھی نہیں دکھاۓ گا۔
    اسی طرح ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے۔
    دراصل کسی بھی مثالی معاشرے کے لیے اس غیر منصفانہ عدل و انصاف کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا اور قانون کی نظر میں سب کو برابری کے ذمرے میں لانا ہو گا نہیں تو اس سے ہماری ساری نسلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ جہاں پہ عدل نہیں ہو گا وہاں پہ چوری، حق تلفی، قتل و غارت، قانون شکنی اور ظلم و بربریت کا بازار ہی سرگرم ہو گا۔
    حالانکہ انصاف کے قیام کے لیے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا اور آپ سے جو کوئی سوال کرتا آپ نے کبھی اس کا برا نہیں منایا اور نہ ہی ان سے بدلہ لیا حالانکہ آپ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے تو کسی نے سوال کیا کہ آپ نے جو کپڑا سب میں تقسیم کیا تھا اس سے تو پورا لباس نہیں بن رہا لیکن آپ کا لباس کس طرح بن کیا تو قربان جاؤں اس عظیم پیغمبر کے عظیم صحابی اور 2 لاکھ مربع میل پہ حکمرانی کرنے والے حکمران پہ جس نے اس آدمی پہ غضب ناک ہونے کی بجاۓ اپنے بیٹے عبداللہ سے فرمایا کہ اس سوال کا جواب دو تو انہوں نے کہا کہ میرے والد کے پاس اچھا لباس نہیں تھا اور اس کپڑے سے نہ میرا لباس بن رہا تھا اور نہ ہی ان کا بن رہا تھا تو میں نے اپنے حصہ کا کپڑا بھی ان کو دے دیا اور ان کا لباس بن گیا جس سے سائل مطمئن ہو گیا اسی طرح اور بھی کئی واقعات ایسے ہیں جہاں پہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ نے بھی اپنے آپ کو انصاف کے لیے پیش کیا اور سرخرو بھی ہوۓ اور یہی وجوہات ہیں جس کی بدولت اسلام نے حکمرانی کی اور آپ کے انصاف کا بول پوری دنیا میں بالا ہو گیا۔
    جب ہم اپنے ملک کو اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ لگائیں گے تو ہمیں بہت سی قربانیاں پیش کرنی ہوں گی اور اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو اس کو سزا ضرور ملے گی چاہے وہ ہمارا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو لیکن اس ملک میں کوئی بھی امیر کو چھونے کی بھی ہمت نہیں کر سکتا اور غریب سڑک پہ ریڑھی کھڑی کرنے کے لیے بھی کورٹ کچہریوں کے دھکے کھاتا خالق حقیقی سے جا ملتا ہے اور کوئی ضمانت لینے کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالتیں کھلوا لیتا ہے اور 50 کے اسٹام پہ بغیر کسی بیماری کے جعلی رپورٹس بنوا کے بیرون ملک دوڑ جاتا ہے اور ہم یہاں چیختے رہتے ہیں۔
    اس ملک کا عدالتی نظام کچھ اس طرح ہے کہ یہاں سالہا سال کیس چلتے رہتے ہیں اور جب اس کا فیصلہ ملزم کے حق میں آتا ہے تب اسے فوت ہوۓ بھی 10 سال ہو چکے ہوتے ہیں لیکن وہی کیس کسی امیر کا ہو تو اس کے لیے سیر و تفریح کا باعث بن جاتا ہے اور ثبوت ہونے کے باوجود ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور اگر عوام کا تھوڑا سا ڈر بھی ہو تو کیس کو طول دے دیا جاتا ہے اور کبھی ان کو باہر بھیج دیا جاتا ہے تو کبھی ان کی سزا دی جاتی ہے تو اس سزا کے خلاف اپیل پہ فیصلہ کرتے کرتے سالہا سال لگا دیتے ہیں اور پھر اس کے عدالت میں پیش ہونے کے لیے استثنیٰ والی درخواست دائر کر دی جاتی ہے اس طرح پہلے یہ کیس چلتا رہتا ہے کہ اس نے پیش ہونا ہے یا نہیں اور پھر ضمانت پہ کیس چلتا اور فرد جرم والا ڈرامہ رچایا جاتا اور پھر آخر میں مک مکا کر کے اس کی سزا کو ہی کالعدم قرار دے دیا جاتا اور وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوۓ عدالت سے سرخرو ہو کے نکلتا ہے جو کہ عدالتوں کے منہ پہ زور دار طمانچہ ہے اب ہم دیکھ رہے ہیں کئی کرپٹ سیاستدانوں کو پکڑ کے جیل میں ڈالا جاتا لیکن عدالتیں انہیں بیرون ملک عیش کروا رہی ہوتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو ان معزز ججوں کو بھی عیش ہی کرواتے تھے جو کہ ثبوت ہونے کے باوجود انہیں اندھا کرنے کے لیے کافی ہے.
    کوئٹہ میں ایک غریب ٹریفک سارجنٹ جو کہ اپنی ڈیوٹی پہ مامور تھا اسے آج سے دو سال قبل ایک بااثر ایم پی اے مجید اچکزئی نے نشے کی حالت میں کچل کے شہید کر دیا اور اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو گی جو کہ اس کے ظلم کا واضح ثبوت ہے لیکن تف ہے ایسی ناانصاف عدل پہ مبنی امیروں کی عدالت پہ جنہوں نے شواہد ناکافی ہونے کی صورت میں اسے باعزت بری کر دیا ہے بیچارے اہلخانہ کو مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا اب میرا اس ملک کے حکمرانوں اور عدالتوں سے سوال ہے کہ اب اگر ان کے اہلخانہ میں سے کوئی اس ایم پی اے سے بدلہ لے تو ان کو ہی غلط کہا جاۓ گا اور قانون ہاتھ میں لینے کی پاداش میں فوراً سزاۓ موت ہو جاۓ گی۔
    میرا سوال ہے کہ کون سا قانون ہے یہ؟
    کیا ویڈیو ثبوت بھی کافی نہیں ہے؟
    اوہ ہاں یہ تو وہ عدالتیں ہیں جو بااثر لوگوں سے شراب برآمد کر کے بھی اسے شہد بنا دیتی ہیں یہ تو پھر بھی ویڈیو والا معاملہ ہے یہاں امیر کے لیے موجیں اور غریبوں کے لیے پھانسی کے گھاٹ ہیں۔
    اگر یہی معاملات رہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں رہے گا اور ہم نے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو ایک نہ ایک دن ہم بھی اس ظلم کا شکار ہو جائیں گے خدارا جاگ جائیں اور بے ضمیر ججوں اور حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑیں تاکہ کوئی اور اس ظلم کا شکار نہ ہو پاۓ۔
    میری حکومت وقت سے بھی گزارش ہے کہ اسلامی ریاست کی باتیں تب ہی اچھی لگیں گی جب یہاں انصاف کا بول بالا ہو گا کیونکہ اسلامی ریاست میں تو ایک کتے کے بھوکے مر جانے کا سوال بھی حکومت وقت سے ہو گا اور اگر یہی اندھا قانون رہا تو یہاں پہ کبھی امن نہیں آۓ گا کیونکہ کسی کو بھی اندھی عدالتوں پہ بھروسہ نہیں رہا
    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر
    اللہ سے دعا ہے اللہ ملک پاکستان میں عدل و انصاف کا بول بالا فرمائیں تاکہ یہ ملک امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون ہو گا اور ایک ہی طرح کی سزائیں ہوں گی۔
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    پاکستان پائندہ باد

  • یوم اساتذہ کے موقع پر ایک چھوٹی سی تحریر   بقلم :نادیہ بٹ

    یوم اساتذہ کے موقع پر ایک چھوٹی سی تحریر بقلم :نادیہ بٹ

    یوم اساتذہ کے موقع پر ایک چھوٹی سی تحریر
    بقلم نادیہ بٹ

    نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
    سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

    استاد،مدرس،معلم۔۔۔۔ کتنا احترام وعزت اور شفقت ہے نا ان الفاظ میں؟؟
    سبحان اللہ♡

    اللہ سبحان و تعالی نے کس قدر نہایت مشکل اور سب سے زیادہ خوب صورت کام عطا فر مائیں ہیں نا ان لوگوں کو؟؟

    اساتذہ وہ ہوتے ہیں جو صرف نصابی کتب ہی نہیں دیتے بلکہ زندگی جینے کا بہترین شعور بھی ہمیں انھیں سے حاصل ہوتا ہے ۔اساتذہ وہ شخصیت ہیں جن کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔ وہی ہیں جن کے ذریعے قوم میں علم و عمل پھیلایا جاتا ہے ۔وہی ہیں جن کے ذریعے قوم میں رہنے والا ہر شخص اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔۔۔۔۔

    الحمدللہ♡
    میں ہزار ہابار شکر ادا کرتی ہوں اپنے خدا کا کہ انھوں نے مجھےآج تک کئی بے حد شفیق و مہربان اور اعلی ظرف اساتذہ کے ذریعے علم عطا فر مایا۔۔۔

    میں شکر گزار ہوں ان تمام اساتذہ کی جنھوں نے مجھ پر عنایت فرما کر اس لائق بنایا۔ آج تک کی میری ہرچھوٹی بڑی کامیابی پر اللہ سبحان و تعالی کے بعد اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ چاہے وہ میرے پہلی جماعت کے استاد ہوں یا میرے اعلی تعلیم کے۔۔۔۔ کیونکہ اگر مجھے پہلی جماعت میں ہی صحیح تعلیم نہیں دی جاتی تو میں اپنی آج تک کی تعلیم کے قابل نہیں بن پاتی۔۔۔

    تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض
    دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجیے

    اللہ سبحان و تعالی سے دعا ہے کہ وہ میرے تمام عزیز اساتذہ کی ہر مخلوق کی شر سے حفاظت فرمائیں،انھیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں، انھیں ان کے ہر محنت اورخدمت کے بدلے دنیا و آخرت میں جزائےخیر عطا فرمائیں، انھیں ہمیشہ خوش اور سلامت رکھیں اور اپنی رحمت سے جنت الفردوس میں جگہ دیں۔۔۔۔۔۔

    آمین یا رب العالمین

  • یورپ کا دہرا معیار  تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    یورپ کا دہرا معیار تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    یورپ کا دہرا معیار
    تحریر ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    اس وقت دنیا مختلف اطراف سے خانہ جنگی کے دہانے پہ ہے. امریکہ میں نسلی فسادات، بھارت چین معاملہ، امارات کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ، پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی تیاری، پڑوسی ملک افغانستان کے پریشان کن حالات اس تمام صورتحال کے درمیان فرانس کا ایک بار پھر گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان جو ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے مترادف ہے.
    وہ نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہے اور کبھی کسی کو تکلیف نہ دی بلکہ اپنے ساتھیوں کو اس بات کا درس دیا کہ کسی کو تکلیف مت دینا. آج امن کے ٹھیکے دار گہری نیند کے مزے لے رہے ہیں اور یہ نیند اس وقت مزید گہری ہوجاتی ہے جب معاملہ مسلمانوں کا ہو. یہ امن کے مامے ہمیشہ کمزور ممالک پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں کہ یہاں آزادی اظہار رائے نہیں ہے. کبھی قادیانیت تو کبھی کسی اور فرقے سے متعلق خصوصی احکامات جاری کرتے نظر آتے ہیں لیکن جب بات اسلام، پیغمبر اسلام اور قرآن مجید کی توہین کی ہو تو نہ کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، نہ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا سے مواد ہٹایا جاتا ہے کہ اس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوگا.
    برقعے پر پابندی، راہ چلتی مسلمان باپردہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، داڑھی والوں پر ظلم، اذان پر پابندی کیا یہ آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی نہیں؟ اور نہ ہی ان ممالک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے.
    جب بات اپنے مفادات کی ہو پھر پاکستان یا کسی اور ملک میں عیسائی یا اپنے نمک خور کا پتہ چل جانے پر اپنی پوری طاقت کا زور لگا کر اسے باحفاظت اس ملک سے فرار کرواتے ہیں، کیا یہ کھلی منافقت نہیں ہے؟
    کیا اب بھی مسلمان عوام اور حکمران ان سے امید لگائے بیٹھے ہیں؟
    کہاں ہیں لبرل ازم اور سیکولرازم کا نعرہ لگانے والے؟ کہا ہیں موم بتی مافیا؟
    حقیقت یہ کہ اب مسلمانوں کے اجتماعی طور پر جاگ جانے کا وقت ہے. آپس کے اختلافات کو بھلا کر، اپنی ٹوٹی پھوٹی معیشتوں کے رونے سے نکل کر ایک امت بننا ہوگا.
    اقوام متحدہ، یورپین اقوام سے امیدیں لگانا چھوڑنی ہوں گی.
    اپنے مفادات اور مقاصد بغیر کبھی بھی وہ آپ کی مدد نہیں کریں گے.
    اور اگر واقعی ہم آقائے دو جہاں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یورپ کی ثقافت کو نکال باہر پھینکنا ہو گا بلکہ
    بقول شاعر مشرق
    دو رنگی چھوڑ یک رنگ ہوجا
    سراسر موم یا سنگ ہو جا
    جس ذات کا دن رات ہم دم بھرتے ہیں پھر بات بھی اسی کی مانی ہوگی، آدھا تیتر آدھا بٹیر والی کہانی نہیں چلے گی.
    دیوبندی اہل حدیث، شیعہ سنی، عربی عجمی کے خول سے جب تک ہم باہر نہیں نکلتے ان ملعونوں کے حوصلے ایسے ہی بلند ہوتے رہیں گے.
    بیانات، ریلیاں، جلسے اس کا حل نہیں بلکہ حل صرف اور صرف وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا.

  • پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال   از قلم :بشا رحمان

    پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال از قلم :بشا رحمان

    از قلم بشا رحمان
    پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال
    میں آواز بننا چاہتی ہوں ان اساتذہ کرام کی جو پرائیویٹ سکولز کے رحم و کرم پہ ہیں اور آدھا دن وہاں مغز ماری کے بعد بھی ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور استاد کم اور غلام زیادہ سمجھا جاتا ہے جس کے گھر کی آپ دو وقت کی روٹی پوری کرتے ہیں ۔
    اس موضوع پہ سب سے زیادہ شکایات ہونے کے باوجود سب بےبس نظر آتے ہیں سواے تسلی کے کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہے یا تو برداشت کرو یا چھوڑ دو۔
    جب ہم ‘استاد’ کہتے ہیں تو ایک بہت ہی مقدّس ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے جو ہمیں علم جیسی دولت سے مالا مال کر کے ہمارے ذہنوں کو روشن کر کے ہمارے کردار کو چمکا کر ہمارا مستقبل سنوارتے ہیں ۔
    لیکن افسوس! ہمارے معاشرے میں استاد کا مقام دن بدن گرتا جارہا ہے ۔
    سرکاری سکول تو سرکاری پرائیویٹ سکولز میں انٹرویو سے لے کی جاب چھوڑ دینے تک بس اساتذہ کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان گنہگار آنکھوں نے جتنی بے قدری استاد کی پرائیویٹ سکولز میں دیکھی ہے اور کہیں نہیں دیکھی ہے۔
    2 چیزوں کے بارے میں میں نے پرائیویٹ سکولز میں شدّت دیکھی ہے
    نقاب کرنے اور آپ کے انگلش نا بول سکنے پہ۔
    آپ کے نقاب کی پرائیویٹ سکولز میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ہوں لگتا ہے آپ کسی مغربی سکول میں جاب کرنے آئے ہیں ۔

    صاف صاف بتایا جاتا ہے کے آپ نقاب نہیں کر سکتی اور بہانہ کیا جاتا ہے کے اگر آپ نقاب کریں گی تو بچوں کو سمجھ کیا آئے گا بالفرض اگر آپ نقاب نا کرنے پہ سمجھوتہ کر بھی لیں تو بات یہاں رکتی نہیں ہے بلکہ مزید پھر آپ کے عبایا کو ٹینٹ کہا جاتا ہے آپ کو پینڈو اور نجانے کیا کیا کہا جاتا ہے۔ انٹرویو میں اس بات پہ زور دیا جاتا ہے کہ دیکھیں مس آپ نے جو بولنا ہے انگلش میں بولیں گی۔
    اور اس بارے میں بہت زیادہ شدّت پائی جاتی ہے جو ایسے ملک میں جس کی قومی زبان اردو ہے بہت حیرت کی بات ہے۔
    نقاب مسلمان عورتوں کی پہچان ہے اور اردو پاکستانی ہونے کی، مگر پرائیویٹ سکولز میں پردے اور اردو زبان کا بس استحصال کیا جاتا ہے۔
    میرا گورنمنٹ سے سوال ہے ریاست مدینہ میں پردے اور قومی زبان کے استحصال کی اجازت کیوں ؟
    ہمیں اسلامی شعار پہ عمل کرنے میں دشواری کیوں؟
    اس اسلامی ملک میں نوکری کرنے کے لیے پردہ اتروانے کی سازش کیوں؟
    کیوں ہماری نسل نو کے سامنے ہمیں انگریزی کردار دکھانا پڑتا ہے ؟
    کیونکہ یہ سازش ہے چونکہ استاد ہی بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے اس لیے استاد کو ہی بچوں کی نظروں میں گرایا جاتا ہے ۔یا پھر اسے ایک ایسا نمونہ بنایا جاتا ہے کہ بچوں کی ذہن سازی اسلامی نہج پہ نہ ہو بلکہ ماڈرنیٹی کے نام پہ مغربی ہو ۔
    آخر کیوں؟
    کب تک ؟
    حکومت پاکستان کو ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا ۔اور اس کلمے کے نام پہ بننے والے ملک میں جس کی قومی زبان اردو ہے ان دونوں پہ پابندی ختم کروانا ہوگی ۔
    بات صرف انٹرویو پہ رکتی نہیں ہے چند ہزار کے عوض آپ کو خریدا جاتا ہے پرائیویٹ سکولز میں بس ایک ہستی کی عزت ہے اور وہ ہیں طالب علم۔ بچوں کو سبق نہیں یاد تو آپ انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، کیوں کے انکی فیسوں سے آپ کو تنخواہ ملتی ہے نا۔
    پرائیویٹ سکولز میں آپ کی نوکری کے رہنے یا نا رہنے کا انحصار طالب علموں پہ ہوتا ہے اگر آپ انہیں پسند ہو تو وہاں رہ سکتی ورنہ عذاب مسلسل سے گزرنا پڑتا ہے بچوں کی شکایتیں ان کے والدین کی شکایتیں ہر طرف سے بس شکایتیں۔
    اور پھر بات زبان اور نقاب ختم کرانے پہ ہی نہیں رکتی بلکہ
    اگر آپ نے پرائیویٹ سکول میں پڑھانا ہے تو آپ کو ٹیچر کم اور ماڈل زیادہ لگنا چاہیئے ۔
    "دیکھیں مس بچوں کو آپ میں کشش نظر آیے گی تب ہی پڑھیں گے نا” یہی وجہ ہے کے بچوں کو ٹیچر میں روحانی ماں باپ تو کیا نظر آنے آنکھوں کو تراوٹ بخشنے کا سامان زیادہ نظر آتا ہے۔
    میرا تجربہ ہے جتنا مجبوریوں سے فائدہ پرائیویٹ والوں کو اٹھاتے دیکھا ہے ایسا اور کہیں نہیں دیکھا ہے۔
    اتنے سب کے بعد اگر آپ ایک ہستی سے نہیں بنا کے رکھ سکے جو نا تو پرنسپل ہوتی نا ہی وائس پرنسپل بلکہ وہ ہستی ہوتی ہے جو آپ کی ہر رپورٹ کو غلط بنا کے آگے دیتی ہے تب بھی آپ وہاں نہیں رہ سکتے ہیں
    مجھے آج تک سمجھ نہیں آیی کے انکو کہا کیا جاتا ہے آپ ہی فیصلہ فرما دیجیے؟
    اس سب کے بعد اگر آپ نے عزت سے نوکری چھوڑ دی ہے آپ کو نکالا نہیں جاتا ہے تو آپ خود کو خوش نصیب سمجھیں اگر نوکری کرنا مجبوری نہیں تو آپ آرام سے گھر بیٹھیں اور اگر مجبور ہیں تو خود کو نئے سرے سے اس سب کیلئے تیار کریں کم یا زیادہ یہی سب پیش آنے والا ہے

  • حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ اور پکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر نے حیدر علی کی پرفارمنس پر انہیں پاکستان کا رون ستارہ قرارد دیا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے حیدر علی نے اس قدر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا دنیا بھر میں جہاں عوام کی جانب سے نوجوان کھلاڑی کی تعریفیں کی جارہی ہیں وہیں پاکستان کی شوبز حیدر علی کی کارگردگی پر خوشی کا اظہار کیا ہے جن میں گلوکار عاصم اظہر اور اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ نے بھی نوجوان کھلاڑی کو سراہتے ہوئےاپنے پیغامات جاری کئے ہیں-

    پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پُر امید ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے اور انہیں اپنے اسٹائل میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔

    فہد مصطفیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے تاکہ وہ اپنے اسٹائل میں کھیلتے رہیں۔


    انہوں نے حیدر علی کو نصف سینچری کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔


    علاوہ ازیں فہد مصطفیٰ نے محمد حفیظ کے ٹویٹ کو جس میں انہوں نے آج کے میچ میں شاندر کارکردگی اور میچ جیتنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی میچ میں بہترین اننگز پر مبارکباد دی-


    دوسری جانب گلوکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں حیدر علی کو کرکٹ ٹیم میں شاندار ڈیبیو پر سراہتے ہوئے ان کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا ایک روشن ستارہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ حیدر علی کی پہلے ہی میچ میں شاندار اور جارحانہ بیٹنگ نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروادی ہے اور دنیا بھر میں میچ کے شائقین سے داد وصول کر رہے ہیں- حیدر علی نے اپنے پہلے ہی میچ میں 28 گیندوں پر ففٹی مکمل کر کے ڈیبیو پر یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں-

    تیسرا ٹی20: پاکستان کا انگلینڈ کو فتح کیلئے 191 رنزکا ہدف ،شکست یا فتح ،دونوں ٹیموں کے لیے اہم

    تیسرا ٹی ٹوئنٹی:انگلینڈ کی ٹاس جیت کر فیلڈنگ، پاکستانی ٹیم میں تین تبدیلیاں

    محمد حفیظ اور شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں ترقی

    ایمرا کا سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020،تین ہزارسے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع

  • گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    یہ تینوں خوبصورت اور مضبوط گُنبد مسجد کے ہیں، یہ مسجد اُتّرپردیش کے ضلع سِدّھارتھ نگر، تھانہ ڈومریا گنج کے ایک گاؤں "کَمہَرِیا” میں ہے، آج میں حافظ یحیٰ صاحب سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر گیا، اُن سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور بڑی محبّت سے پیش آۓ، حافظ یحییٰ صاحب کے گھر سے مُتّصِل ہی یہ مسجد ہے، مسجد کو دیکھنے کے بعد لگا کہ یہ تو مُغَل فَنِّ تعمیر کی مسجد ہے، مسجد کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اِس کی تعمیر کا پتہ نہیں، یعنی یہ بہت ہی قدیم مسجد ہے، اِس طرح کی مسجدیں ہندوستان میں کئی جگہوں پر موجود ہیں، اِس طرح کی مسجدیں ٹھنڈ ہوتی ہیں، مسجد میں قدرتی ہوا کے لئے بہترین انتظام ہوتا ہے، چَھت کا پانی نیچے گِرنے کے لئے بھی تکنیکی اِنتظام ہوتا ہے، دیواریں کافی موٹی ہوتی ہیں، بابری مسجد کے طرز پر اِس مسجد کے بھی گُنبد ہیں، خاص بات یہ ہے کہ سالوں گزرنے کے بعد بھی دیواروں میں دراڑیں نہیں آئی ہیں اور نہ ہی کہیں سوراخ ہوا ہے کہ جس سے مسجد کے اندر پانی آۓ، مُغَل بادشاہوں نے پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعمیر کروائی، جن میں سے اِس طرح کی مسجدیں بھی شامل ہیں جو کئی گاؤں میں پائی جاتی ہیں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • کراچی کا ڈُوبنا  تحریر:عدنان عادل

    کراچی کا ڈُوبنا تحریر:عدنان عادل

    کراچی ملک کا ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے۔گزشتہ ہفتہ چند دنوں کی تیز بارش سے شہرمیںجوبربادی ہوئی ٹیلی ویژن چینل صبح شام دکھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی حالت ِزار کی ویڈیوز نشر کرتے رہے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا تقریباً نصف مہیا کرتا ہے اور سندھ حکومت کے محصولات کا نوّے فیصدلیکن بارش کی صورت میں نکاسئی آب کے انتظام سے محروم ہے۔ کراچی کے محنت کش عوام کماتے ہیں جس پر جاگیردار‘ وڈیر ے عیش کررہے ہیں لیکن شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ صاف پانی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے‘ نہ نکاسئی آب‘ نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست ہے ‘ نہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام۔ آدھا شہر کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔ یہ کہنا کہ کراچی سمندر کے کنارے آباد ساحلی شہرہے آدھا سچ ہے۔ اب یہ شہرشمال اور مغرب کی جانب اتنا پھیل گیا ہے کہ اسکا بہت سا حصّہ سمندر کے کنارے واقع نہیں ہے بلکہ دُور واقع کیر تھرپہاڑیوں کے کنارے کو چُھو رہا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قدرت نے ہزاروں برس میں پانی کے نکاسی کے راستے بنائے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو پہاڑیوںسے پانی ان راستوں سے بہہ کر نیچے آتا ہے یعنی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقہ میں جو کراچی کا مغربی علاقہ ہے۔ یہ برساتی نالے ملکر ہی شہر کی دو ندیاں بناتے ہیں جنہیں لیاری اور ملیر ندی کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں پانی لیکر سمندر میں گرتی ہیں۔ ان قدرتی نالوں کے راستوں میں رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں جنکے ساتھ نکاسئی آب کی غرض سے ڈرین نہیں بنائے گئے۔ ان قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں سے ریت نکالی جاتی ہے جس سے تعمیرات کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ مزید تیز ہوگیا ہے جو شہر کا رُخ کرلیتا ہے۔ ماہر تعمیرات اور اربن پلانرعارف حسن صاحب کے مطابق شہر میںچونسٹھ پینسٹھ بڑے نالے ہیں اور ہزاروں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں۔لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہوئے ان نالوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ ان پر تعمیرات کرلی گئیں۔ پانی کے بہہ جانے کے قدرتی راستے مسدود کردیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے نالے غائب ہوگئے۔اس پر مستزاد سڑکوں کے ساتھ بنائی جانے والی ڈرین ندیوں میں نہیں گرتیں جس کی وجہ سے بالآخر انکا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔جب زیادہ مینہ برستا ہے تو شہر کی سڑکیں برساتی نالوںمیں تبدیل ہوجاتی ہیں جسکا مظاہرہ ہم نے چند دنوں پہلے دیکھا ۔ 1960کی دہائی تک کراچی کاسرکاری ترقیاتی ادارہ (کے ڈی اے) اپنی اسکیموں میں گھروں کا گندہ پانی (سیویج) اور برساتی پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ نظام بناتا تھا۔ تاہم نجی ہاوسنگ اسکیموں نے اپنے سیویج بڑے برساتی نالوں میں ڈالنے شروع کردیے۔ بعد میں کے ڈی اے نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا۔ اب شہر کا بیشتر سیوریج برساتی نالوں میں جاتا ہے۔ سیوریج کا فضلہ برساتی نالوں میں جمتا ہے لیکن ان کی باقاعدگی سے صفائی نہیں کی جاتی کہ پانی کا بہاؤ ہوتا رہے۔ کچھ عرصہ پہلے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی میں نکاسئی آب کے لیے اچھی خاصی فنڈنگ کی تھی لیکن وہ بھی ناقص فالو اَپ کی نذر ہوگئی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جو کراچی شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتی ہے اپنے رہائشیوں کونکاسئی آب کی مناسب سہولت تک مہیا نہیں کرسکتی۔ حقیقت یہ ہے کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی ایک بڑے برساتی نالہ کے راستے میں بنائی گئی ہے جو پانی کے سمندرمیں نکاس کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ایک بڑے قدرتی نالہ کا بہاؤ روکتی ہے۔ مائی کلاچی بائی پاس ایک بڑے نالے کے راستے میں تعمیر کیاگیا ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ نالوں میںکی گئی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی۔ کراچی کے بڑے نالوں کے بیچوں بیچ مکان اور دکانیں بنائی گئی ہیں۔پانی کیسے سمندر میں جائے؟شہر کے تین بڑے نالوں کا راستہ صاف کرنے کے لیے کم سے کم اسیّ ہزار مکانات منہدم کرنا پڑیں گے ۔جب یہ سب غیر قانونی کام ہورہا تھا تو حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے یاان کاموں میںشریک کار تھے۔ حال ہی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم بنائی گئی جہاں بارش میں مکانات نو دس فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ اس کالونی میںبرساتی پانی کے نکاس کے لیے کوئی ڈرین نہیں بنائی گئی۔ لوگوں کی کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس ناقص ہاؤسنگ اسکیم کو بنانے والے اور اسکی منظوری دینے والے دونوں قصور وار ہیںلیکن بااثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی شہر کی بیس سے زیادہ بڑی سڑکیں ہیں جس کے ارد گرد بڑے بڑے بنگلے تھے لیکن انہیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر تجارتی علاقہ بنادیا گیا۔ اب وہاں بڑے بڑے پلازے ‘ شاپنگ مالز ہیں۔ جہاں چند سو لوگ رہتے تھے وہاں ہزاروں لوگ بزنس کرتے ہیں ۔ لاکھوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ زیادہ لوگوں کے لیے استعمال کا پانی‘ نکاسئی آب کا بندوبست کیسے ہوگا اور ٹریفک کا ہجوم کیسے قابو کیا جائے گا۔ پارکوں کی کچی زمین پانی جذب کیا کرتی تھی وہاںچائنہ کٹنگ کرکے مکانات بنادیے گئے۔ ناجائز تجاوزات اور تجارتی علاقے قرار دیے جانے کے کام ایم کیو ایم نے انجام دیے۔ شہر کی تباہی میں وہ برابر کی ذمہ دار ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر میں گزشتہ با رہ برسوں میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی۔ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے‘ کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتے۔ اس بار تواسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کی پکی سمجھے جانے والی اپنی خاندانی نشست سے بھی ہار گئے تو جذبہ انتقام اور بھی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کراچی شہر سے سندھ حکومت کو سوا تین سو ارب روپے کی آمد ن متوقع ہے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں اسکے لیے صرف پچیس تیس ارب روپے کی اسکیمیںمختص ہیں۔ حالانکہ اس شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کی خاطر سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کراچی شہرسے کما کر اپنی جھولیاں بھرنے والے بہت ہیں لیکن اس پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں۔ بارش کے بعد جب بھی شہر میں سیلاب آتا ہے چند روزاسکا اثر رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس کام ہوجائے تو معجزہ ہی ہوگا۔ ٭٭٭٭٭