Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں  تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں

    #تحریر عشاء نعیم

    چاچا رحمت ! سنیا ای کچھ
    نئیں، کی ہویا؟ چاچا نے پوچھا
    چاچا اسلام آباد میں حکومت اپنے خرچے پہ مندر بنا رہی ہے ۔
    کیا کہہ رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی (چاچا رحمت اللہ جو نوے سال کا بوڑھا تھا کمر پہ ہاتھ اور جھکا ہوا تھا ایک دم اوپر ہوا )
    شاید تو ہندوستان کی بات کر رہا ہے وہاں حکومت مندر بنا رہی ہے ؟
    نئیں نئیں چاچا !
    پاکستان کی حکومت مندر بنا رہی ہے ۔( کریمو نے پھر بات دہرائی)
    چاچا نے جھریوں سے بند ہوتی آنکھوں کو کھولا اور پھر پوچھا مندر گرا رہی ہے حکومت اسلام آباد میں؟
    کریمو اس بار بلند آواز سے بولا
    چاچا ! پاکستان کی حکومت اسلام آباد میں اپنے خرچے پہ مندر بنارہی ہے ۔
    اب جو آنکھیں جھریوں سے چنی چنی لگتی تھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں
    جھکی کمر ایک دم جیسے سیدھی ہو گئی ۔
    چاچا کھڑا ہو گیا
    کہتا
    کیا کہتا ہے کریمو ؟
    یہ کیسے ممکن ہے ؟
    کیا بھارت نے پھر اللہ نہ کرے قبضہ کر لیا ؟
    مجھے کیوں کچھ پتہ نہیں چلا ؟
    میں اتنا تو بے خبر نہیں ابھی ۔
    کریمو نے دیکھا چاچا رحمت کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے اور جسم جیسے کانپنے لگا
    اس نے چاچا رحمت کو پکڑ کر بٹھایا، پانی پلایا
    اور کہا حوصلہ کر چاچا ایسا کچھ نہیں ہوا
    پاکستان پہ اللہ نہ کرے کسی نے قبضہ نہیں کیا ۔
    فیر یہ مندر کیوں بنا رہے ؟
    چاچا نے پوچھا
    کریمو نے جواب دیا
    چاچا !بس باہر سے جو مطالبہ ہوتا ہے حکومت وہی کرتی ہے ۔
    ہماری کون سنتا ہے۔
    اب چاچا رحمت ذارو قطار رونے لگا اور کہنے لگا
    کریمو!اگر یہاں بھی ہم نے خود مندر بنانے تھے تو پھر میری تین جوان بیٹیاں، دو بیٹے ۔ان کے 4 بچے ،میری بیوی سب میں نے کیوں کٹوایا؟
    صرف ایک پتر بچا تھا جسے میں لے کر پاکستان پہنچا
    سارے راستے میں اپنے پیاروں کے صدقے دیتا آیا ۔
    رشتہ دار بھی گاجر مولی کی طرح کاٹے انھوں نے ۔
    اور وہ ۔۔۔۔۔
    اس کے بعد چاچا سے بات نہیں کی جارہی تھی ۔
    کریمو نے کندھے پہ ہاتھ رکھا حوصلہ دیا اور پوچھا
    وہ کیا چاچا ؟
    چاچا بڑی دیر بعد سنبھلا اور بولا
    وہ میری بہن، جسے ہندو پکڑ کر لے گئے ۔۔۔ ۔
    جس کا آج تک نہیں پتہ کہاں گئی ۔۔۔زندہ ہے یا مر گئی ۔۔
    چاچا کی حالت بری ہو گئی تو کریمو نے کہا
    چاچا آرام کر ،پھر بات کریں گے ۔امید ہے مندر نہیں بنے گا ۔لوگ کافی بول رہے ہیں تو پریشان نہ ہو ۔۔۔
    لیکن چاچا رحمت کا تو دل ہی پھٹ گیا تھا ۔۔
    وہ ماضی میں کھو گیا اور 1947 میں پہنچ گیا
    جب وہ اور محلے دار گھر سے راتوں رات مارے خوف کے قافلہ بنا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔
    اس کی آنکھوں کے سامنے مناظر تھے ۔
    جب قافلہ چل رہا تھا تو ست سری اکال کے نعروں کے ساتھ برچھے ، نیزے بھالے نمودار ہوئے اور پھر نہتے مسلمان کٹنے لگے ،بچے نیزوں میں پروئے جانے لگے، ماوں کی چیخوں سے آسمان بھی کانپنے لگا ،اور ان چیختی ماوں اور جوان لڑکیوں کو بھی کاٹا جانے لگا ،کچھ کی عزت آنکھوں کے سامنے لٹی جن میں چاچا کی اپنی بہن بھی شامل تھی اور پھر اسے اور کچھ اور کو مال مفت کی طرح ساتھ لے گئے اور ماں باپ صدمے سے چور روتے پیٹتے پاکستان کی طرف چل پڑے، کچھ غم سے مر گئے ۔اور چاچا کے بھائی اور ماں باپ اگلے حملے میں کٹ گئے۔
    اور ان کے دوست نے بھی ایک دوست متین الرحمن کا واقعہ سنایا کیسے پاکستان پہنچا۔
    وہ بتاتا ہے وہ قافلے کی صورت میں پاکستان چل پڑے کہ
    کسی حادثے یا واقعے کے سبب بھگڈر مچی اور بدقسمتی سے قافلہ 2حصو ں میں بٹ گیا۔ ایک میں والدین، تیسرے چھوٹے بھائی اور بہن اور دوسرے حصے میں متین الرحمن اور ان کا بھائی معین تھے، جنہوں نے قریبی گاؤں کی جانب سفر شروع کردیا۔ اب دوسرے قافلے کی کوئی ترتیب اور حفاظتی اقدامات نہ تھے، مردوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ نہتے بھی تھے۔ رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی۔ غیر ہموار سا میدانی راستہ، جگہ جگہ جھاڑیاں کٹی ہوئی تھی اور کٹے ہوئے سرکنڈوں کے گٹھے تھے۔ سرکنڈوں کے درمیان سے گزرنا دشوارتھا کیونکہ ہاتھوں اور چہروں پر خراشیں آرہی تھیں۔ اچانک ایک موٹر کی آواز سنی جس سے قافلے میں بھگدڑ مچ گئی لوگ افراتفری میں جھاڑیوں کے اندر کود کر چھپنے لگے۔ سلطا ن چاچا(محلے دار) نے لڑکوں (متین، معین اور چاچا کا بیٹا امین اللہ) کو زمین پر لٹا کر سر کنڈوں کے گٹھے بگھیر دیے۔ جب موٹر کی آواز غائب ہوئی، لڑکوں کو نکالا گیا تو سرکنڈوں کی چھال کی پھانسوں سے جسم کے کھلے حصوں پر خراشیں آچکی تھیں اور کہیں کہیں سے خون رس رہا تھا۔ سحرکے قریب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے متین الرحمن لکھتے ہیں کہ اب ہمارا سفر نہر کے کنارے کسی سڑک پر ہورہا تھا۔ کہ اچانک پیچھے سے ایک دلدوز چیخ ابھری۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو چچی (محلے دا ر کی بیوی)5,4 سکھوں کے نرغے میں تھی۔ چچی نے نہر میں چھلانگ لگادی تھی اور ایک سکھ بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچ رہا تھا۔ چچا تیزی سے واپس بھاگے اور ایک سکھ کا گنڈاسہ چھین کر بالوں سے کھینچنے والے سکھ پر حملہ کر دیا۔ باقی سکھوں نے چچا پر حملہ کر دیا۔ قافلے کے کچھ لوگ چچا کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور دو بدو لڑائی ہوئی، قافلے میں بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ صبح کا اجالا پھیلنے پر قافلے کا سفر از سر نو شروع ہوا لیکن اس میں مجھے نہ چچا دکھائی دیے اور نہ چچی۔ سورج چڑھ آیا توغالباََ وہ گاؤں دکھائی دیا جو منزل تھی۔ گاؤں میں داخل ہونے والی گلی کے قریب پہنچے تو ’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ والی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ گلی سے ننگی پنڈلیوں تک پیلے رنگ کے چغوں میں ملبوس اکالی سکھوں کا جتھا برآمد ہوا جن کے ہاتھوں میں خون آلود تلواریں تھیں۔ کپڑوں اور ہاتھوں پر خون کے دھبے لیے وہ ست سری یا کال اور دوسرے نعرے لگا رہے تھے۔ ڈرے سہمے بچے کچے قافلے کو گھیرے میں لے کر گاؤں سے کچھ دور ہٹایا گیا۔ اکالیوں میں ایک سکھ ڈھول پیٹ رہا تھا، کبھی کبھی سنکھ بجایا جاتا۔ قافلہ سوچ رہا تھا کہ سکھ اب انتظار کس کا کررہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور پھر اس سے شعلے اٹھنے لگے۔ فضا میں نا گوار سی بو پھیلنا شروع ہوئی جو لاشوں کے جلنے کی بو تھی۔ پاکستان کی آزادی کی قیمت ادا کرنے والے ان گمنام جانثاروں کے خون اور گوشت کے بھننے کی بو جو محض مسلمان ہونے اور پاکستان کے تصور سے ہمدردی کے جرم میں جل رہے تھے، فضا دہشت ناک ترین اور جنونی انداز میں پیٹے جانے والے ڈھول کی لرزہ خیز آواز، دھوئیں، آگ، جلتی لاشوں کی بو، بستی راکھ، بھوک سے ہلکتے بچوں کی آوازیں اوراکالیوں کے نعروں سے معمور تھی۔ سنکھ کی کریہہ آواز میں اضافہ ہوا اور ایک سکھ نے نو عمر ماں کی گود میں شیرخواہ بچے کے پیٹ میں تلوار کی نوک جھونکی اور بچے کو نوک شمشیر پر فضا میں بلند کر دیا۔ ننھی سی جان سے خون کا فوارہ ابلا، ممتا تلوار کی نوک پر لٹکے بچے کو چھیننے کے لیے جھپٹی تو دوسری تلوار نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد خوفناک رقص شروع ہوا۔ ہر طرف تلواریں اور ان سے کٹتے ہوئے جسم دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے پر گررہے تھے۔ ہم دونو ں بھائی دوسروں کے خون میں نہا چکے تھے لیکن مجھ میں ایک دو منٹ سے زیادہ اس کیفیت کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ مجھ پر کوئی گرا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو ایک لاش کے نیچے میرا سر دبا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنا سر اور ریت سے دبا ہوا اپنا چہرہ نکالا، گرم ریت سے منہ، ناک اورآنکھوں میں اذیت ناک جلن ہو رہی تھی۔ طبیعت سنبھلی تو معین کی تلاش شروع کی جو کہ قریب ہی لاش کے نیچے نیم بے ہوشی میں دبا ہوا تھا۔ منظر دیکھا تو ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کچھ زخمی تھے لیکن چلنے پھرنے سے معذور اور بری طرح زخمی تھے۔ ہمیں دیکھ کر زخمیوں نے پانی مانگا قریبی کھیت میں پانی دینے والا نالہ تھا۔ جس میں قمیض ڈبو ڈبو کر ان زخمیوں کے منہ میں نچوڑتے رہے۔ کئی زخمیوں نے پانی پی کر ہمارے سامنے آخری ہچکی لی۔ متین الرحمن لکھتے ہیں کہ ’آخری ہچکی لے کر زندگی کا سفر ختم کردینے کا غم انگیز منظر ذہن کو کیسا ماؤف کر دینے والا ہوتا ہے۔ اس تاثر کو میں آج تک فراموش نہیں کر سکا‘۔ اس کے بعد متین الرحمن اور ان کے بھائی زندہ دفن ہونے سے بچے اور ایک کھیت میں کچھ عرصہ اذیت ناک حالات میں چھپ کر گزارا۔ سکھوں کے ہاتھوں زخم کھائے، پھر ایک سکھ کی پناہ میں آئے اور پھر اسی سکھ کے غلام بننے سے بچے اور آخر کار ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے جہاں انہیں انار کلی مشہور جوتوں کی دکان چاؤلہ بوٹ ہاؤس کے مالک نیک دل شخصیت شیخ افتخار الدین نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد یہ اپنے والدین سے مل گئے۔
    یہ کہانی صرف ایک متین الرحمن کی نہیں بلکہ 1947ء کا سال پاکستانیوں کے لیے بھرا پڑا ہے ان ہولناک و درد ناک واقعات سے ۔
    ایسے ایسے واقعات کہ دل پھٹ جائے ۔
    چاچا رحمت روتے روتے تقریبا بے ہوش ہو گیا ۔
    کریمو نے اسے چپ کروا کر پانی پلایا اور کہا چاچا ہم ہیں ناں آپ کے بیٹے ہم نہیں بننے دیں گے یہ مندر ۔
    چاچا رحمت پھر بولا کریمو !ہم نے پقکستان اپنے خرچے پہ مندر بنانے کے لیے عزتیں،لٹوائی تھیں ؟
    بھائی ،بہن ہر رشتہ ،جائیداد سب کچھ قربان کیا تھا ؟
    کریمو نے کہا چاچا وہ کہتے ہیں یہ مذہبی رواداری ہے ۔
    چاچا بولا
    اوئے کریمو ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور عام معافی کا اعلان کیا تو کیا آپ نے مکہ کے مشرکین کے لیے کوئی بت کدہ بنایا تھا ؟
    کیا مدینہ کے یہودیوں کے لیے کوئی معبد بنایا تھا ،کیا آپ نے عیسائیوں کے لیے کوئی گرجا بنایا تھا ؟
    نہیں ناں؟
    تو آج کا مسلمان رحمت العالمین سے بڑھ کر کیسے رحیم ہو گیا ؟
    یہ لوگ ان سے بڑھ کر انسانیت کو جانتے ہیں؟
    اللہ سے بڑھ گئی ان کی عقل یا ان کا رحم ؟
    کریمو بولا سچ کہہ رہا ہے چاچا تو ،پریشان نہ ہو ان شا اللہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
    ہم پرتھوی کے بیٹے نہیں
    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں ،ہم بت شکن ہیں ۔
    ہم سومنات توڑنے والے کبھی مندر نہیں بننے دیں گے ۔
    چاچا کو کچھ حوصلہ ملا اور نم آنکھوں سے دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا ۔

  • جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے  تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے

    رُخ بہار پہ یہ بانکپن یونہی تو نہیں

    جشن آزادی۱۴ اگست۱۹۴۷ کی یاد تازہ کرتے چلیں۔۔۔

    تحریر: ساجدہ بٹ

    میرا دلکش وطن لہلہاتا چمن قربان ہے اس پر ہمارا من و تن سرحدوں پر کھڑے ہیں وطن کے سپاہی کہ کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے میرے وطن کو کیوں کہ شامل ہے اس میں میرے آباؤ اجداد کی قربانی۔۔۔۔
    تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ برصغیر پاک وہند میں دو قومیں آباد تھیں جن کا نسب العین ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھا۔۔۔۔
    ایک طرف انگریز کی نظر میں مشکوک تھے تو دوسری جانب ہندوؤں کی مخالفانہ اقدامات کی زد میں تھے۔
    گویا مسلمان چکی کے دو پاٹوں میں پھنس چکے تھے اور ان کے وجود کو شدید قسم کے خطرات لاحق تھے ان حالات میں لامحالہ مسلمانوں میں اپنے وجود کی بقا کی خاطر قومی وحدت کا وہ احساس اُجاگر ہونے لگا جو مدت سے ان کے لاشعور میں پنہاں تھا۔پھر اس الگ قومی تصور کی بنیاد پر انہوں نے ایک متحد اور منظم جدوجھد کا آغاز کیا تا کہ اپنی طرز زندگی اور ثقافت کو مٹنے سے بچایا جائے اور مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کی جائے۔۔
    ہندوؤں کے ظالمانہ اقدامات سے مسلمان اس حد تک مایوس ہو چکے تھے کہ وہ اپنے لیے الگ راستہ اپنانے پر مجبور ہو گئے اس مُشکِل گھڑی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مسلمانوں کو اتحاد،تنظیم اور فعالیت کی اشد ضرورت تھی۔
    اس صورت حال اسلام ہی ان کے اتحاد کا موثر ذریعہ اور سہارا تھا اس لیے ہمارے قائدین نے اسلامی قومیت کی ترویج پر بھرپور توجہ دی۔۔۔۔۔
    مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے والے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح تھے
    جن کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہونے لگا مسلمان آپ پر اعتماد کرنے لگے عوام کی بڑی تعداد مسلم لیگ پرچم تلے جمع ہونے لگی ۔۔۔۔
    رفتہ رفتہ کئی قرار دادیں پاس ہونے لگی اور جلد ہی بڑی طاقت انگریز اور ہندوؤں کی سمجھ میں آ گیا۔ دو الگ نظریات کی حامل قومیں ایک ساتھ نہیں رھ سکتیں۔۔۔۔
    بات مختصر کرتے چلیں۔۔۔۔۔
    کہ اس پاک وطن میں جس ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ آج جو ہم کشمیر کی حالت زار دیکھ رہے ہیں بلکل اسی طرح کی غلامی میں اسی طرح کی اجیرن زندگی ہمارے آباؤ اجداد بسر کر رہے تھے اسی طرح اپنے لاکھوں جگر گوشوں کو قربان کیا اسی طرح ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں نیلام ہوئیں کئی بہنوں کے سہاگ اُجڑ گئے خون کی ندیاں بھیں ۔۔۔۔۔
    ہمارے بزرگوں نے آزادی کے حصول کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے جی قارئین کرام۔۔۔۔۔
    بلکل بلکل بلکل اسی طرح جیسے آج کشمیر میں خون بہہ رہا ہے آزادی کے لیے تڑپ رہا ہے پر کوئی سننے والا نہیں ۔۔۔
    میرے عزیز ہم وطنو یہ ہی حال ہمارے آباؤ اجداد کا کیا گیا تھا وہ بھی اس طرح سسک رہے تھے لیکن اُن میں متحدہ اور منظم ہونے کی خوبی پائی گئی تھی
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
    ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
    ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے
    اُس وقت مسلمان پرامید تھے اور ساتھ ہی ساتھ
    ایک سچا اور امانت دار لیڈر مل گیا تھا جسے ذاتی مفادات سے کوئی غرض نہیں تھی جسے شہرت نہیں چاہیئے تھی جسے دولت نہیں چاہئے تھی جسے صرف اقتدار نہیں پیارا تھا۔۔۔۔
    اُس عظیم الشان لیڈر کو تو بس مظلوم کا ساتھ دینا تھا مظلوم کا بازو بننا تھا حقوق انسانیت سے دنیا کو آگاہ کرنا تھا صرف سیاست جیسی آنکھ مچولی نہیں کھیلنی تھی ۔۔۔۔۔۔
    بلکہ ڈٹ گئے اپنے مقصد میں لگا جان کی بازی پھر حاصل ہوا یہ پیارا وطن جس میں اب ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں دنیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ

    سنو دُنیا والو!!!!!!…………
    ہم ہیں پاکستانی ہم ہیں آزاد ملک کے باسی۔۔۔۔۔۔
    آج اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر تلاش کرنا ہو گا ویسی متحد قوم بننا ہو گا جیسی 14 اگست1947 کے وقت تھی پھر دیکھیں کیسے ہوتا ہے بحران آٹے کا ،کیسے چینی ذخیرہ ہوتی ہے ،کیسے قیمتوں میں اضافے ہوتے ہیں کیسے جرأت ہوتی ہے قوم کے افراد کی کہ وہ مہنگائی کریں پیٹرول چھپا لیں ۔۔۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر ہو تو کیونکر ممکن ہے کشمیر آزاد نہ ہو ،کیونکر ممکن ہے کہ کشمیر پاکستان نہ ہو
    بس افسوس کہ اُن کے بعد اُن جیسا لیڈر نہیں مل پایا ورنہ مظلوم کا آج یہ حال ہر گز نہ ہوتا ۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں شعر عرض ہے۔۔۔

    کوئی تصویر نہ اُبھری تیری تصویر کے بعد

    ذہن خالی ہی رہا کاسہ سائل کی طرح
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ میرے وطن کی رونقیں سلامت رہیں پاکستانیوں میں متحدہ و منظم رہنے کی توفیق عطا فرما میرے وطن کو دشمنوں سے محفوظ فرما یا رب العزت میرے وطن کے رکھوالوں کی حفاظت فرمانا آمین ثم آمین یا رب العالمین

    خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    (جہد مسلسل)

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا   تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا
    بلوچستان کے لاشاری قبیلے کا عظیم سپوت جس نے محرومیوں کا رونا دھونے کی بجائے ان محرومیوں کو بطور پروپیگنڈہ استعمال کرکے معصوم بلوچ نوجوانوں کو دہشتگرد بنانے کے مشن پر کار بند بیرونی قوتوں اور ان کے آلہ کاروں کے عزائم کو خاک میں ملادیا وہ جری اور محب وطن بلوچ پاکستانی جس نے بلوچستان میں روٹی کپڑا مکان و دیگر سہولیات زندگی کی کمی یا بے وقعت سیاسی دنگل کو موضوعِ جرح یا مقصد زندگی نہیں بنایا بلکہ اس مرد کہن نے ان اندرون و بیرون ملک قوتوں کا قلع قمع کرنے کو مقصد حیات بنالیا جنہوں نے محب وطن پاکستانی بلوچ قوم بالخصوص اس کے نوجوانوں کو پہاڑوں کا رخ کرنے اور دشمنانِ وطن کے ہاتھوں میں کھلونا بننے پھراس غدارانہ عمل کے نتیجے میں مارے جانے بعدازں مزید پروپیگنڈہ کے لیے میسنگ پرسنز بن جانے پر مجبور کردیا اس نڈر فرزندِ وطن نے پاک سرزمین کے محافظ دستے میں شمولیت اختیار کرکے خونِ شہیداں سے مزین دھرتی کو اپنے پاکیزہ لہو سے مزید سیرابی و خوشحالی اور اس کے پریشان حال عوام کے چہروں پر خوشیاں لٹانے کا عزم کرتے ہوئے بلوچستان بالخصوص و بالعموم پاکستان بھر میں دہشتگردانہ کاروائیوں کو ترتیب دینے والی بدنامِ زمانہ انڈین انٹیلی جنس ایجنسی راء کے (پاکستان میں خللِ امن کے لیے) متعین سرکردہ دہشت گرد جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑوانے میں اہم کردار ادا کیا
    اور آخر کار وطن عزیز کا یہ سجیلا نوجوان دہشتگرد ریاست بھارت کی دہشتگرد ایجنسی کے دہشتگرد جاسوس کلبھوشن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے مشن پر کام کرتے کرتے 23 جولائی 2016 کو
    جام شہادت نوش کرکے فردوسِ بریں کی طرف عازمِ سفر ہوگیا۔
    جی میرے ہم وطنوں میرے دل کے قریب بلوچ پاکستانی بھائیوں آپ کے اس عظیم بیٹے،بھائی اور جانباز سپاہی کا نام اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی “اسامہ لاشاری شہید” تھا جس کا شمار ہمارے روشن اور پرامن مستقبل اور ہماری اصل محرومیوں کو دور کرنے کی مشن پر ڈٹے ہوئے لوگوں میں ہوتا تھا۔

    (آخر میں راقم الحروف اپنے بے ربط و بے وزن شعر کی صورت میں شہداء پاک فوج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے
    اے وطن تیری آغوش محبت کا قرض
    تیر ے بیٹے لہو کی قسطوں سے اتارتے رہے گے)

  • تا ابد سلامت مان رہے  تحریر:جویریہ بتول

    تا ابد سلامت مان رہے تحریر:جویریہ بتول

    تا ابد سلامت مان رہے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    چودہ اگست کا دن جوں جوں قریب آتا ہے تو دل میں شکر کے جذبات شدت سے انگڑائی لینا شروع کر دیتے ہیں…اور وہ داستانِ کرب اس احساس کے زخم کو پھر جگا دیتی ہے کہ ہمارے آباء نے اس وطن کی تعمیر میں کتنی گراں تکالیف برداشت کی تھیں…؟اور آج ہم اک آزاد وطن کے باسی ہیں…!!!
    یہ خنک ہوائیں،گاتی فضائیں،طوفانوں کو روکتے ساحل، آزاد ،اُڑتے اور گاتے طیور،
    چہکتے مکین،لہلہاتی فصلیں،
    عبادات کی آزادی، پرسکون معمولات،آسان معاملات،خوشگوار سفر،دلکش تفریح گاہیں،آزاد اقلیتیں دل میں بہاروں کے خوشگوار جھونکوں کا احساس بھر بھر دیتے ہیں…
    اور اتھاہ گہرائیوں سے اللّٰہ تعالٰی کے شکر کے کلمات لبوں پر مچلنے لگتے ہیں…
    بانیانِ پاکستان کے درجات کی بلندی کے لیئے دعائیں نکلنے لگتی ہیں کہ جن کی دور اندیشی، حکمت اور تدبر نے ہماری کشتی انگریز و ہندو کی دوہری غلامی کے منجدھار سے نکال کر ساحل تک پہچانے کی لازوال کوششیں کیں…
    اس سفرِ آزادی میں شریکِ سفر لوگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں ان کا احاطہ کسی مختصر سی تحریر میں ہر گز ممکن نہیں ہے۔
    وہ ایک خونچکاں داستاں تھی جس میں گھرانوں کے گھرانے،
    خاندانوں کے خاندان لُٹ گئے۔
    لاکھوں مسلمانوں کو سفاک ہندو اور سکھ جتھوں نے جس بے دردی سے صفحۂ ہستی سے مٹایا تھا تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا ہر طالب علم اس کو بخوبی تلاش اور پڑھ سکتا ہے…
    تب آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جاتی ہیں کہ یہ آزادی کس قدر گراں قیمت ہے کہ جان کی بازی ہار دینا بھی پھر مشکل نہیں لگتی…!!!
    یہ کتنی عظیم نعمت ہے مگر یہ بے مول نہیں ملا کرتی…
    وہ کربناک اور دلدوز داستان پڑھنے کے بعد زندہ ضمیر انسان تمام عمر کے سجدوں سے بھی اس نعمت کا شکر بجا نہیں لا سکتا…
    یہ کوئی ہفتوں یا مہینوں کی تحریک نہیں تھی بلکہ عشروں کی جہدِ مسلسل کا نتیجہ تھا یہ پاک وطن…!!!
    لیکن قیام پاکستان کے قریب کی تحریک میں
    شاعرِ مشرق نے 1930ء میں خطبہ الٰہ آباد میں اس ضرورت پر زور دیا تھا۔
    لفظ پاکستان کے خالق چودھری رحمت علی نے 1933ء میں ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں لفظ پاکستان پہلی دفعہ استعمال کیا گیا۔
    23 مارچ 1940ء لاہور میں منٹو پارک کے مقام پر پاس ہونے والی قرارداد لاہور جو بعد میں قراردادِ پاکستان مشہور ہوئی نے مسلمان لیڈران کو ایک خاص نظریہ پر مجتمع کر دیا تھا۔
    جس کی بنیاد پر اس سفر کا آغاز کیا گیا۔
    محمد علی جناح رحمہ اللّٰہ پر ہندو کی تنگ نظری کھل کر واضح ہو گئی تھی۔
    یہ بابرکت اور عظیم تر مقصد سے مزین سفر اپنی بنیاد کی مضبوطی پر اپنے واضح مطالبے 1940ء کے بعد جلد ہی پایۂ تکمیل تک جا پہنچا لیکن اس سفر کی داستانِ عزیمت کو مدنظر رکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے کہ کس مقصد کی خاطر ہم نے یہ پاک وطن حاصل کیا تھا؟
    اور اس کی بنیادوں میں کتنا پاکیزہ لہو بہا اور اس دھرتی کے سینے پر کتنے آنچل قربان ہوئے؟
    آج بھی ہمارا ازلی دشمن اور ہمارے وجود کے درپے رہنے والا ملک کبھی سرحدوں پر،کبھی ملک کے اندر،کبھی بھائی چارے اور دوستی کے ڈھونگ سے دنیا کو دھوکہ دینے میں مصروفِ عمل ہے:
    مجھے مغلوب کرنے کو مرے دشمن کی جانب سے
    کبھی نفرت کے تیر آئے،کبھی چاہت کا دام آیا…
    لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کا سفر بے معنی شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے واضح مقاصد اور لازوال نظریات ہوا کرتے ہیں اور ہم نے جس لازوال نظریہ کی بنیاد پر یہ وطن حاصل کیا تھا اسی کا دفاع کر کے ہم اپنے دیس کی جغرافیائی،معاشی،معاشرتی،
    اخلاقی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں…
    ہمارے تمام مسائل کا حل اس نظریہ میں ہی پوشیدہ ہے…
    ہمارے نوجوانوں کو دشمن کے واروں کا اسیر ہونے کی بجائے اس وطن اور سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کے لیئے دن رات ایک کر دینا چاہیئے کہ جس وطن نے ہمیں آزاد سانسیں لینے کے لیئے یہ صاف ہوا فراہم کی…
    ہماری پہچان،آن اور شان ہے…!!!
    ہمارا ایک نام،وقار اور کردار ہے…
    جس اتحاد و یکجہتی سے کل اس کا قیام ممکن ہوا تھا،آج اسی سے اس کا دفاع اور مضبوط ہونا ممکن ہے…
    ہم سب کو وطنِ عزیز کے مسائل مل بیٹھ کر قومی یکجہتی سے حل کرنا ہوں گے۔
    مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔
    یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اور یہاں کے باسیوں نے دنیا میں اپنا آپ منوایا ہے اسے ذرا نم کرنے کی اور اپنے اپنے فرائض کی بجا آوری کا بھر پور احساس زندہ کرنے کی ضرورت ہے…
    حکمران ہوں یا عوام ہر اس اقدام سے گریز لازم ہے کہ جس سے ملک کے اندر انتشار یا عدم اتفاق کی فضا بننے لگے…!!!
    ہر میدان میں اس کی کامیابی کے لیئے وہ طب کا ہو یا تعلیم کا…
    ایجادات کا ہو یا دفاع کا…
    سیاست کا ہو یا معاشرت کا سنجیدگی سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں اس پیارے دیس کا وقار بلند ہو…
    دشمن کی سوچ اور ایجنڈوں کے آلۂ کار بننے کا نتیجہ سراسر رسوائی ہے…
    ہمیں اپنے قلوب و اذہان کو صاف کر کے اس عظیم نظریاتی سرزمین کے لیئے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کا عہد کرنا ہو گا کہ یہ گھر بڑی بھاری قربانیوں کے عوض ملا تھا اور اب اس کی حفاطت کا بوجھ ہم میں سے ہرہر شہری کے کندھوں پر ہے…ہمیں دل کی نامحکمی کو دور کر کے ان پھیلتی دیرینہ بیماریوں کا علاج دریافت کر کے آگے کی جانب قدم بڑھانا چاہئیں…
    محب وطن لوگوں کی قدر و قیمت اور ان کے مسائل کو بھر پور طریقے سے حل کیا جائے…
    کہ کثرت ہم مدعا وحدت شود…
    اور یہی وحدت کسی بھی قوم کی مضبوطی،وقار اور بقاء کی علامت بن جایا کرتی ہے…!!!
    اسے سینچا خوں سیاروں نے
    اور جان لُٹائی پیاروں نے…
    تا ابد سلامت مان رہے…
    میرے دیس کی اُونچی شان رہے…!!!
    اس کے رُخ پر بہاریں مسکرائیں…
    اس کی کلیاں اور شگوفے سدا چٹکیں…
    یہ چمن یونہی لہلہاتا رہے اور خزاؤں کو کبھی یہاں گزرنے کی بھی مجال نہ ہو…
    ہمیں صدقِ دل،عملِ پیہم اور وفا کے جذبات سے معمور ہو کر اس گلستان کی آبیاری میں کردار ادا کرنا ہے…
    یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتح عالم…
    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں…!!!
    ==============================

  • قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد  تحریر:مریم وفا

    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد تحریر:مریم وفا

    میں پاکستان ہوں…!!!
    [تحریر:مریم وفا]۔
    14 اگست کی روشن صبح اور ایک گہری یاد…
    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد…
    وطن عزیز پاکستان کے قیام
    کے پیچھے قربانیوں کی ایک انمٹ داستان پوشیدہ ہے….جوانوں نے اپنی جوانیاں لٹائیں،ماوں نے اپنے جگر گوشے قربان کئے….معصوم پھول انیوں میں پروئے گئے….عفت مآب آبگینے کرچی کرچی ہوئے….گھر بار قربان ہوئے….مال ودولت سے ہاتھ دھونے پڑے….ہجرت کی صعوبتیں سہنا پڑیں….غرضیکہ ہر دکھ درد کے راستے سے گزر کر یہ ملک خداداد پاکستان ہمارا مقدر بنا…
    وطن عزیز کے قیام کے پیچھے ایک لمحے، دن، ہفتوں یا پھرمہینوں کی جدوجہد پوشیدہ نہیں بلکہ عشروں کی جہدمسلسل کے بعد یہ آذاد وطن معرض وجود میں آیا….لیکن دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی یہ ارض وطن اپنے قیام سے لےکر آج تک ایک ایسے المیے سے دوچار رہی کہ جس کے رد کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دیں….اور آج بھی اسی غلط سوچ کی تشہیر بڑے شدومد سے کی جاتی ہےاور یہ بات ازبر کروانے کی ایک سعی لاحاصل کی جاتی ہے کہ الگ قیام کے بغیر بھی پڑوسی ملک کے ساتھ رہا جا سکتا تھااور وہی غیر اسلامی وغیراخلاقی رسومات بڑےپیمانےپر پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے نجات کے لئے خون کی ندیاں عبور کی گئیں….دشمنان وطن،وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیےقیام پاکستان سے لےکر آج تک ہر میدان میں سرگرداں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس اسلامی قلعے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اپنے عزائم کی تکمیل کی جائے….اب یہ اہلیان وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے ہر وار کاشدومد سے ہی مقابلہ کریں وہ وار چاہے اسلامی اقدار پر ہو،رنگ ونسل کی بنیاد پر کیا جائے یاصوبائیت کی آگ بھڑکا کر کیا جائے،ہمیں ہر حال میں اس دھرتی کی حفاظت کا عزم لے کر آگے بڑھنا ہے کہ یہ پاک وطن ہے تو سب کچھ ہے ورنہ ہماری سب پہچان نا مکمل ہے…..یہ وطن قربانیوں کی بدولت ملا اب اسے سنبھالنے کے لیے بھی قربانیاں ہی درکار ہیں….یہ قربانیاں چاہے اغیار کی رسومات کے بائیکاٹ کی صورت دینا پڑیں….چاہے یہ مالی ہوں یا جانی….ہمیں ہر صورت اپنی ملی ومذہبی اقدار کوسینے سے لگا کر آگے بڑھنا ہے چہ جائیکہ اپنے اور اسلام کے دشمنوں کی اندھی تقلید میں اندھے ہو کر اپنی پیاری روایات کو پس پشت ڈالا جائے…. وطن عزیز کی یہی صدا ہے…!!!
    میں پاکستان ہوں!
    اپنوں کا مان ہوں
    غیروں کی آنکھ میں
    کٹکھتا تھان ہوں
    میں بنا شہیدوں کے خوں سے
    میں بڑھا شہیدوں کے خوں پہ
    میں قربانیوں کی اک
    عظیم داستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میرے محسن مجھ پہ واری ہیں
    میرے دشمن مجھ سے عاری ہیں
    میں اپنوں کی چاہت کی اک
    روشن پہچان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں!!!
    ====_====_====__====

  • تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو  تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو

    تحریر :عمر یوسف

    گھنی چھاوں والے درخت کا کام مسلسل آکسیجن اور چھاوں فراہم کرنا ہے ۔۔
    اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ چھاوں سے فائدہ حاصل کریں یا نہ کریں۔۔۔
    اور یہ لوگوں کا ظرف ہے کہ وہ اس چھاوں کی تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔

    بہتے ہوئے سمندر دریا نہروں کا کام تو بہتے ہی جانا ہے اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ بہتے پانی کو قابل استعمال بنائیں یا نہ بنائیں اور پانی جو عظیم نعمت ہے اس پر مشکور ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔

    مضبوط پہاڑوں نے زمین کو ہلنے سے روکنا ہے اور زمین پر توازن و بیلنس قائم کرنا ہی ہے لوگ اس کو برا کہیں یا بھلا کہیں ۔۔

    سورج کی تمازت نے سردیوں میں لوگوں کو گرمائش فراہم کرنی ہی ہے اور گرمیوں میں لوگوں کی فصلوں پکانا ہی ہے چاہے لوگ تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔۔

    چلتی ہواوں نے انسانیت کو آکسیجن فراہم کرنی ہی ہے وہ ہوائیں لوگوں کو اچھی لگیں یا نہ لگیں ۔۔۔

    یہ سب مخلوقات اللہ کی فوجیں ہیں جو صرف انسانیت کو فائدہ پہنچانے میں محو ہیں ۔۔۔
    انہیں تعریف وتنقید سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔

    تم بھی اگر کوئی اچھا کام کررہے ہو تو نیت کو خالص کرو اخلاص پیدا کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہو اور خدائی فوجوں میں شامل ہوجاو ۔۔۔

    تنقید تمہارے حوصلے پست نہ کرے ۔۔
    تعریف تمہارے اندر گھمنڈ پیدا نہ کرے ۔۔۔
    حوصلہ افزائی کا نہ ملنا تمہیں بددل نہ کرے ۔۔

    لوگ برا کہہ رہے ہیں یا لوگ تعریف نہیں کررہے ہیں ۔۔۔
    یہ سب سوچیں آپ کو اچھے کام سے روکتی ہیں ۔۔

    خدا کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ عزم مسلسل کر لو کہ جیسے یہ چیزیں انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہیں تمہارے فیض کا سلسلہ بھی منقطع نہ ہو

  • مصروف حضرات اور خواتین کیلئے عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل از مفتی محمد تقی عثمانی

    مصروف حضرات اور خواتین کیلئے عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل از مفتی محمد تقی عثمانی

    مصروف حضرات اور خواتین کیلئے عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب:

    اگر وقت کی قلت یا گھریلو اور کاروباری زمہ داریوں کی بنا پر زیادہ وقت عبادات کو نہ دے سکیں تب بھی مندرجہ زیل اعمال کے اہتمام سے ان شاءاللہ اس عشرہ کی برکات کسی حد تک حاصل کی جاسکتی ہیں

    5 وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں (خواتین گھر میں اول وقت میں ادا کریں)

    ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام کریں ورنہ محنت کے باوجود عبادات کا نور اور حقیقی نفع حاصل نہیں ہوگا

    بالخصوص اپنی نظروں اور زبان کی حفاظت کریں

    ذولحجہ کا چاند دیکھنے سے لیکر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ تراشیں, یہ مستحب عمل ہے

    فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمی (33 سبحان اللہ، 33 الحمدللہ، 34, اللہ اکبر
    کم از کم یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ، ورنہ اس عشرے میں جتنے روزہ رکھ سکیں اتنا بہتر ہے

    چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ الله اكبر، الله اكبر، لا اله الا الله والله اكبر، الله اكبر ولله الحمد کا ورد کریں

    چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ تیسرے کلمے کا ورد سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر. چلتے پھرتے درود شریف کا ورد کریں

    –کم از کم 15-10 منٹ روزانہ ترتیب سے تلاوت قرآن کا اہتمام کریں.

    – نماز مغرب میں 3 فرض، 2 سنت اور 2 نفل کے بعد 2 نفل مزید نماز اوابین کی نیت سے ادا کرلیں

    – نماز عشاء میں 4 فرض، 2 سنت کے بعد وتر سے پہلے 2-4 رکعات تہجد کی نیت سے ادا کرلیں اسکے بعد وتر ادا کرلیں۔ اگر رات میں توفیق ہوجائے تو مزید رکعات تہجد ادا کرلیں لیکن عشاء کے ساتھ ادا کرنے سے کم از کم تہجد سے محرومی نہیں ہوگی

    – حسب استطاعت صدقہ و خیرات کا اہتما م کیا جائے

    – رات کو سونے سے پہلے تسبیح فاطمی، درود شریف، استغفار اور دعا جائے

    – اور سب سے بڑھ کر کوشش کریں کہ اپنی زبان یا کسی عمل سے کسی دوسرے کو ادنیٰ تکلیف بھی نہ پہنچے اور پہنچ جائے معافی مانگنے میں دیر نہ کریں

    یاد رکھیں، اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنچاکر اللہ کی رضا کا حصول ناممکن ہے

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

    اس پیغام کو اپنے دوست احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں شامل ہوجائیں

  • مثبت اشاریے  بقلم : عدنان عادل

    مثبت اشاریے بقلم : عدنان عادل

    مثبت اشاریے
    بدھ 22 جولائی 2020ء

    ملک پر چھائے کالے بادل چھٹ رہے ہیں۔ روشنی کی کرنیں نمودار ہورہی ہیں۔کورونا وبا تیزی سے کم ہورہی ہے۔ معیشت میں مثبت رجحانات واضح ہورہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ملک میں آنے والی ترسیلاتِ زر بڑھ گئی ہیں۔ چین کی شراکت سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہوگیا ہے۔ ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بینکوں کی شرح ِسود بہت کم کردی گئی ہے۔ دوبرس پہلے ملک زر مبادلہ کے شدید بحران کا شکار تھا۔ بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے قومی خزانہ میں ڈالرز نہیں تھے۔ نئے منتخب وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی بیرونی ممالک کے دورے شروع کیے ‘ دوست ملکوں سے زرِمبادلہ کا بندوبست کیا ‘ ملک کو نا دہندہ ہونے سے بچایا۔ حکومت نے حد سے بڑھی ہوئی درآمدات پربھی کٹوتی لگائی تاکہ آنے والے وقت میں ڈالرز کی مزید قلت نہ ہو۔ پاکستانی روپیہ کی قدر مصنوعی طور پر بلند سطح پر رکھی گئی تھی اسے گرا کر اُسکی قدرتی حد پر لایا گیا ۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈز سے معاہدہ کیا جسکے تحت حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا گیا۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار آہستہ ہوگئی۔ ان اقدامات سے مہنگائی کا سیلاب آیا۔ تجارت کو بریکیں لگیں۔ شرح ترقی کی رفتار سست ہوگئی۔ مندی کا ماحول بن گیا۔ خیال تھا کہ ایک دو سال کی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔ معیشت مستحکم ہوجائے گی تو زیادہ مضبوط و مستحکم بنیاد پر استوار ہونے کے بعد آگے بڑھے گی۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔اس سال کے شروع میں دنیا کورونا وبا کی زد میں آگئی۔ پوری دنیا کے ساتھ پاکستان کی بھی اُلٹ بازی لگ گئی۔ کاروبار‘تجارت تقریبا ًبند ہوگئے۔معیشت کا پہیہ جو پہلے ہی سست رفتاری کا شکار تھا بالکل ہی رُک گیا۔معاشی ترقی کی شرح تین فیصد کے بجائے منفی نصف (0.5)ہوگئی۔ تاہم پاکستان کی معیشت ہمیشہ کی طرح سخت جان ثابت ہوئی ہے۔ یہ موجودہ بحران سے بھی توقع سے پہلے باہر نکل رہی ہے۔ مثبت اشاریے سامنے آرہے ہیں۔ اندیشہ تھا کہ بیرونی ممالک سے پاکستانی جو رقوم ملک میں بھیجتے ہیں ان میں کمی آجائے گی مگر یہ بھی نہیں ہوا۔ تیس جون کوختم ہونے والے مالی سال میں ترسیلاتِ زر اس سے گزشتہ برس کی نسبت دو ارب ڈالر زیادہ رہی۔تئیس ارب ڈالر ز ملک میں وصول ہوئے۔ وبا کے باوجود بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں اضافہ بہت خوش آئند بات ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محنت کش پاکستانی خطرناک عالمی وبا سے گھبرائے نہیں اُن کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ملک پر اُن کے اعتماد میں کمی نہیں آئی۔ بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی پہلے سے زیادہ پُر امید ہیں۔ جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ رہی جو اس سے پہلے آنے والے سال میںسوا ارب ڈالر سے کچھ زیا دہ تھی۔ یعنی اس میں تقریباًنوّے فیصد اضافہ ہوگیا۔ دوسرے الفاظ میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ حالانکہ ہمارا میڈیا ملکی معیشت کی اتنی تاریک تصویر پیش کررہا تھا کہ لگتا تھا کہ اس ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں۔اسٹاک مارکیٹ بھی گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل آگے بڑھتی جارہی ہے۔ اسکی ترقی کی رفتار حالیہ برسوں میںایک ریکارڈ ہے۔گزشتہ ایک ماہ میں چار ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں مندی کا تاثر بھی پوری طرح درست نہیں۔ عید کے موقع پر عوام نے وبا کے باوجود کھُل کر خریداری کی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس جون میں پاکستان نے بیرون ملک سے تین گنا زیادہ مالیت کے موبائل فون درآمد کیے ہیں۔ موبائل فون بنیادی ضرورت کی شے نہیں۔ اسکی خریداری اور درآمد میں زبردست اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا متوسط طبقہ اچھی حالت میںہے اور پہلے کی طرح شاپنگ کی طرف مائل ہے۔چار ماہ سے کورونا وبا کے باعث ملک میں کاروبار جزوی طور پر بند ہیں لیکن غریب لوگ بھوک سے دوچار نہیں ہوئے۔ حکومت نے تقریبا ڈیڑھ سو ارب روپے سوا کروڑ سے زیادہ خاندانوں میں تقسیم کرکے انکو روٹی پانی سے محروم نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ بارہ ہزار فی خاندان کی رقم بہت کم ہے لیکن حکومت کے محدود وسائل دیکھتے ہوئے یہ بھی جرات مندانہ اقدام تھا۔ حکومت نئے مالی سال میں دو سو ارب روپے بانٹنے کااعلان کرچکی ہے۔سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بنک نے بنیادی شرح سود کو پونے چودہ سے کم کرکے سات فیصد کردیا ہے تاکہ بزنس میں آسانی ہو۔ مکان خریدنے کے لیے حکومت نے قرضوں کو آسان بنادیا ہے۔ عوام صرف پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرض لیکر مکان خرید سکتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں حکومت نے اپنی پالیسی میں مستقل مزاجی کا ثبوت دیا تو روزگار پیدا ہوگا اور مکانات میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ سب سے اہم‘ وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر ایکسی لیٹر دبا دیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہونا ایک بڑا اِشارہ ہے کہ ریاست اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ سکھر سے حیدرآباد موٹر وے کا منصوبہ وفاقی حکومت نے منظورکرلیا ہے جس پر کام شروع ہونے جارہا ہے۔ چین کے تعاون سے کراچی سے پشاور تک نئے ‘ جدید ریلوے ٹریک کا منصوبہ جسے ایم ایل ون کہا جاتا ہے منظوری کے حتمی مراحل میں ہے ۔ فیصل آباد میں قائداعظم معاشی زون کا قیام ملک میں صنعتی عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس صنعتی شہر میںلگنے والی صنعتوں کو دس سال کے لیے متعدد ٹیکسوں سے چھوٹ ہوگی۔ پنجاب حکومت بہاولپور سمیت متعدد شہروں میںنئے انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر یہ کام سست رفتاری کا شکار نہ ہوا تو ملک میں پائیدار معاشی ترقی کا راستہ کوئی روک نہیں سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی عائد کردہ بندشوں کو توڑتے ہوئے چین کے ساتھ شراکت داری میں سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکا ہے ۔اگر شورش پسند سیاستدان قوم کو سکون کا سانس لینے دیں تو ملک کے تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔

  • کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟  از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟ از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    گورنمنٹ آف پاکستان نے کلبوشن یادیو ہندوستانی دہشت گرد کا کیس خود ہائیکورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا
    یہ فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے واضع رہے رواں سال 29 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی نے غیر ملکی قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے ہوئی سزا پر اپیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بل پاس کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی دہشت گرد،جاسوس جو کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسے حق مل گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اندر اپنی سزا کیخلاف درخواست دائر کر سکے واضع رہے کہ اس سے قبل ایسا نا تھا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ قیدی کسی بھی سول کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج نہیں کر سکتے تھے
    سوچنے کی بات ہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صدر کو غیر ملکی سزا یافتہ دہشت گردوں کی اتنی زیادہ فکر کیوں لاحق ہوئی؟
    آخر اتنی خاموشی سے بل کیوں پاس کروا لیا گیا؟
    جبکہ عوام کی سہولت کیلئے اور اسلام کے دفاع کیلئے پیش کئے جانے والے درجنوں بل ابھی بھی زیر التواء ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کہ جن پر اس ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی گواہ نہیں اور پاکستان کی عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے جس سے ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ملتا ہے ان افراد کو غیر ملکی دباؤ پر جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور الزام یہ لگایا گیا کہ بیرون ملک ان افراد نے آزادی کی تحریک لڑنے والے افراد کی مالی معاونت کی تھی
    پچھلے سال بڑے فخر سے خود میڈیا پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آسیہ ملعونہ کو پاکستان سے باہر بھجوانے کیلئے ہم نے مولویوں کو گرفتار کیا جو کہ آسیہ کی رہائی میں رکاوٹ تھے
    اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدر پاکستان سے منظور شد بل صرف کلبوشن یادیو کی رہائی کی نوید ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نا رہے گا خاص کر انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاران مذید غیر محفوظ ہو جائینگے
    پاک فوج کا کیپٹین قدیر جس اللہ کے شیر نے کلبوشن یادیو کو پکڑا تھا اسے اسی جرم میں بیرونی ایجنسیوں نے شہید کیا کلبوشن کے ہاتھوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے جس کا اقرار وہ خود اپنے ویڈیو بیان میں کر چکا ہے تو پھر گورنمنٹ کو اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟ کیا سابقہ گورنمنٹس کی طرح پی ٹی آئی بھی دباؤ کا شکار ہے؟
    کیا خان صاحب کے سارے کے سارے دعوے محض دکھلاوا تھے ؟
    سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے دن رات محنت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں انہیں ملٹری کورٹس سے سزا دلواتے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان ہو سکے کسی کا سہاگ،کسی کا لخت جگر پھر کسی کلبوشن جیسے دہشت گرد کی تخریب کاری کا نشانہ نا بن سکے مگر افسوس کہ ریاست مدینہ اور تبدیلی کے دعوے دار ایک دہشت گرد کی رہائی کیلئے خود بل پاس کروا کر خود ہی ہائیکورٹ میں کیس بھی لڑینگے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ دہشت گردوں تم اپنا کام کرو ہم اپنے بل پاس کروا کر تمہیں رہا کرواتے رہینگے
    شاید کہ اگر یہی حالات رہے تو آپریشن فیئر پلے کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جائے گی کیونکہ سب سے پہلے اسلام و پاکستان
    کلبوشن نے اسلامی ملک کے اسلامی باشندوں کو شہید کیا ہے
    جہاں اپنے لوگوں کو جیلوں میں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کی رہائی کیلئے حکمران بے تاب ہوں وہاں عوام بھی مایوس ہو جاتی ہے پھر وہاں بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار اپنے ہی لوگ اس لئے بن جاتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا لہذہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں

  • غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر  بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر

    عمر یوسف

    انسان عزت چاہتا ہے اس لیے تکبر کو اپناتا ہے تاکہ لوگ میری عزت کریں
    حالانکہ عزت غرور میں ہے ہی نہیں بلکہ عزت تو عجز و انکساری اور تواضع میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرا مال محفوظ و سلامت رہے اور بڑھتا ہی جائے اس لیے وہ پیسہ سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اور خرچ نہیں کرتا مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔
    حالانکہ مال کا محفوظ ہونا اور اس کے بڑھنا کا راز صدقہ کرنے میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرے سارے کام حل ہوجائیں میرے پاس فراغت ہو اور ایک وقت میں زیادہ کام نمٹا لوں اس لیے وہ اپنے رب کی یاد اور عبادت سے غفلت و سستی برتتا ہے۔۔
    حالانکہ کاموں کا احسن طریقے سے انجام پانا اور فراغت ملنا یہ اللہ کی عبادت میں ہے اللہ وعدہ کرتے ہیں کہ۔جو بندہ کام چھوڑ کر عبادت کی طرف مشغول ہو اس کے سارے کام حل کردیے جاتے ہیں اور اسے کے دل کو غنی اور بے پرواہ کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ روحانی سکون حاصل ہو دماغ پرسکون رہے اس لیے وہ موسیقی سنتا ہے۔۔۔۔

    حالانکہ روح کو سکون پہنچانے کا حقیقی راز تو ذکر خدا اور تلاوت قرآن میں ہے موسیقی تو ایسے ہی ہے جیسے شراب ہے وقتی نشہ دیتی ہے لیکن بعد میں شراب جگر کو کسی قابل نہیں چھوڑتی اسی طرح موسیقی بھی دل پر ایسی مہریں لگاتی ہے کہ بعد میں انسان غور و فکر اور تدبر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    بدقسمتی سے میرے معاشرے میں ان جائز چیزوں کے حصول کا غلط راستہ اپنایا جاتا ہے منزل تو ملتی نہیں الٹا انسان ذہنی و روحانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے