Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    منفی سوچ
    عاصم مجید، لاہور

    انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ ایک منفی جملہ یا بعض اوقات ایک منفی لفظ انسان کے رویے کو بہت حد تک کڑوا کر دیتا ہے۔
    انسان اس جملے کی کڑواہٹ اور منفی جملے کو لے کر کئی گھنٹے تک کڑوا ہی رہتا ہے اور اس دوران کئے گئے فیصلے اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    مثبت سوچ ،مثبت جملے اور معاشرے میں ہوتے ہوئے مثبت کام دیکھ کر انسانی زندگی پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔
    ہمارا میڈیا زیادہ تر منفی واقعات رپورٹ کرتا ہے۔ لہذا منفی سوچ ہی پروان چڑھتی ہے۔
    یہ منفی سوچ والے افراد اپنے گھر، دوست اور دفتری اوقات میں اپنے ساتھیوں میں منفی سوچ پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ منفی سوچ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ الفاظ کی بناوٹ ہمارے رویہ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسا ہمارے ٹی وی شوز میں موجود اینکر حضرات کے بارے میں ایک چلتا پھرتا دلچسپ تجزیہ ہے۔ یقینا یہ سو فیصد درست نہیں ہو گا. لیکن ہماری منفی سوچ کی عکاس ہے۔

    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مسلسل ڈاکٹر شاھد مسعود کو سن لے جو کہ ویسے بھی ناممکن تو اس کو پختہ یقین ھو چلے گا کہ اگلے چار گھنٹے بعد قیامت آنے والی ہے.
    .
    بندہ آدھا گھنٹہ اگر مسلسل زید حامد کو سن لے (خدا نخواستہ) تو اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گا کہ آج رات ہی ہماری فوج دہلی پر پاکستانی پرچم ٹھوک ڈالے گی.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹا ارشاد بھٹی کو جھیلنے کی کوشش کر بیٹھے تو اس کو لگے گا کہ بھٹی کی جیب میں گھر کے سودے کی چار پانچ پرچیاں ہر وقت ہوتی ہیں جن کو وہ ٹی وی پہ سبق کی طرح سناتا رہتا ہے۔
    ۔
    بندہ اگر پندرہ منٹ ہی حسن نثار کو سن لے تو اسے یہ محسوس ہونے لگے گا کہ ابھی یہ ٹی وی اسکرین سے نکل کر میرا گریبان پکڑ کر ادھار مانگ لے گا.
    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مبشر لقمان کے انکشافات سن لے تو اس کو پختہ یقین ہو جائے گا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ بھی نون لیگ نے کرایا.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹہ منصور علی خان کو سن لے تو اسے تیس منٹ میں لفظ "میرے کپتان” تین ہزار چار سو دس بار سنائی دینے کی وجہ کانوں میں تان، تان، تان کی گونج اگلے دو ہفتے آتی رہے گی۔
    ۔
    بنده صرف پانچ منٹ روف کلاسرا کو سن لے تو ایسے لگتا هے جیسے پوری دنیا جہاں کی کرپشن صرف حکمران پارٹی نے هی کی ھے.
    .
    بندہ صرف اگر ایک گھنٹہ حامد میر کو سن لے تو ایسے لگتا ھے کہ اس کو بھی ابھی نامعلوم ایجنسیاں اسی طرح لاپتہ کرنے والی ھیں جس طرح باقی مسنگ پرسن کو کیا ھے.
    ۔
    بندہ اگر دس منٹ ارشد شریف کو سن بیٹھے تو اسے لگے گا کہ اٹھارویں ترمیم کو فوری ختم کرنا، کرونا ختم کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ پاکستان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
    ۔
    بندہ اگر اوریا مقبول جان کو چند منٹ سن لے تو اسے لگے گا کہ پاکستان کے لیے سب سے اچھا ہے کہ ملک میں فی الفور سپہ سالار کی قیادت میں اسلامی صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے۔
    ۔
    بندہ صرف جاوید چودھری کو دس منٹ (مجھ سے تو اس سے زیادہ سنا نہیں جاتا) سن لے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے ابن رازی، توتن خامن، گوتم بدھ اور خلیل جبران سارے اس کے کلاس فیلو تھے اور یہ ان سب کا مانیٹر تھا۔

    بندہ اگر صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا کو دیکھ لے تو ایسا لگتا ھے کہ پاکستان ایک حنوط شدہ ممی کی مانند ھے اور اللہ نہ کرے کسی بھی وقت یہ ٹوٹ سکتا ھے.

    کمال تجزیہ ہے۔
    یعنی کہ لکھنے والے نے یہ محسوس کیا ہے کہ تقریبا جتنے بھی اینکر حضرات ٹی وی شو پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کا صرف منفی چہرہ سامنے لے کر آتے ہیں۔
    شاید ہی کوئی اینکر ایسا ہو جو پاکستان میں مثبت خبریں ، مثبت چہرا ، کئی افراد کا کامیاب کاروبار اور فلاحی کاموں کے متعلق بتاتا ہو۔

    ایسے منفی اثرات دینے والے میڈیا سے منفی اثرات رکھنے والے لوگ سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں دوست ، احباب اور رشتہ داروں میں مثبت خبریں اور پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے لے کر آئیں۔
    کیونکہ
    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے۔

  • حالیہ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا  تحریر:اسد عباس خان

    حالیہ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا تحریر:اسد عباس خان

    25 اگست کو ساوٹھیمپٹن کے میدان پر جب وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان انگلش وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ساتھ مشترکہ مین آف دی سیریز قرار پائے تو یہی ایک پاکستان کی واحد کامیابی تھی۔ تیسرے ٹیسٹ میں فالو آن ہونے کے باوجود میچ ڈرا کرنے والی ٹیم کے کپتان اظہر علی سیریز کی شکست سے یقیناً مایوس ہوں گے۔ فاتح کپتان جوئے روٹ کی خوش قسمتی کہیں یا مقابل ٹیم کی غیر ذمہ داری جب پہلے ٹیسٹ میں انگلش ٹیم نے یقینی شکست کو ناقابل یقین جیت میں بدل ڈالا اور سیریز جیتنے کے مستحق ٹھہرے ورنہ اظہر علی کی جگہ جوئے روٹ ناقدین کے تنقیدی نشتر سہ رہے ہوتے۔ مجموعی طور پر کھلاڑیوں سے زیادہ موسم کھل کر کھیلا لیکن جب کبھی بھی خاص طور پر مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں اترنے کا موقع ملا تو انہوں نے بھی واپس پویلین لوٹنے میں دیر نہیں لگائی۔ جہاں بائیں ہاتھ کے اوپنر بیٹسمین شان مسعود سیریز کے اولین میچ کی پہلی اننگز میں شاندار سینچری اسکور کرنے کے بعد اچھے کھیل کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکے۔ وہیں بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی بھی پانچ اننگز میں کُل دو بار ہی پچاس کا آکڑا عبور کر پاۓ جو اتنے بڑے ٹیلنٹ کی شان کے سراسر خلاف ہے۔ آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انگلش ٹیم کی ناقص فیلڈنگ کے باعث دو بار آؤٹ ہونے سے بچ جانے والے کپتان اظہر علی 141 رنز کی اننگز کھیل کر وقتی ہی سہی لیکن ٹیم میں اپنی جگہ اور کپتانی بچانے میں کامیاب رہے۔ تجربہ کار بیٹسمین اسد شفیق اس پوری سیریز میں مکمل فیل نظر آۓ۔ اس کے علاوہ ایک دہائی کے طویل انتظار کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم کی بدقسمتی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب اگر باؤلنگ کی طرف آئیں تو سیریز کے اختتام پر کچھ نقاد تجزیہ نگار (تقریبا) اس نو مولود فاسٹ باؤلنگ کو انگلینڈ کا دورہ کرنے والی اب تک کی کسی بھی پاکستانی ٹیم کا کمزور ترین باؤلنگ اٹیک کہ رہے ہیں، لیکن اس بات میں وزن نہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے والے تجربہ کار اسپنر یاسر شاہ کے ساتھ دھیمی رفتار کے مالک محمد عباس نہ صرف وکٹوں کی سینچری مکمل کرنے کے قریب ہیں بلکہ اپنی نپی تلی لائن اور لینتھ سے عالمی کرکٹ میں اپنا ایک منفرد نام بھی بنا چکے ہیں۔ جبکہ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ نسیم شاہ بھی غیر معمولی ٹیلنٹ کے حامل ہیں۔ لیکن جب حالیہ سیریز میں کارکردگی کا جائزہ لیں تو ماسوائے یاسر شاہ کے تمام فاسٹ باؤلر واقعی آف کلر نظر آۓ۔ تین ٹیسٹ میچز میں مجموعی طور پر 29 انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں یاسر شاہ کی وکٹوں کی تعداد 11 رہی۔ جبکہ محمد عباس اور شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں 5،5 اور اٹھارہ سالہ نوجوان نسیم شاہ نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جہاں بیٹسمینوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا وہیں ناقص کپتانی کے ساتھ خراب باؤلنگ بھی اس ہار میں برابر کی شریک رہی۔
    سرخ بال کے کھیل میں پریشان کن اختتام کے بعد اب سفید رنگ کی گیند سے ایک نئی سیریز کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ محدود دورانیے کے کھیل میں نہ صرف کھیل کا فارمیٹ تبدیل ہوگا بلکہ کپتان اور کھلاڑی بھی تبدیل ہوں گے۔ ٹی 20 پاکستان کا پسندیدہ فارمیٹ ضرور سہی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سیریز کا نتیجہ بھی تبدیل ہو پائے گا۔۔ ؟؟؟؟؟

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • لہو سے رنگیں چند اوراق  اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے  ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق
    اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے

    از قلم :عظمیٰ ناصر ہاشمی

    اوائل نبوت کا زمانہ ہے۔میرے آقا رسالت پر فائز کیے جا چکے ہیں۔خفیہ تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری ہے آغاز وحی کے ساتھ ہی کفر و شرک اور حق و باطل کی کشمکش شروع ہوگئی۔
    کفّار قریش نے مکہ کے ان تمام قبائل کو تکلیف دینا شروع کر دیں جو آپ ﷺپر ایمان لا رہے تھے پہلے پہل اسلام کا اظہار کرنے والوں میں پہلے سات افراد ابوبکر ،عمار ان کی والدہ سمیہ، صہیب ، بلال اور مقداد تھے
    ⚡حضرت بلال کا یہ حال تھا کہ ان کے مالک نے انہیں اپنے دو بیٹوں کے سپرد کردیا جو انہیں مکے کی سڑکوں پر ہر طرف گھسیٹنے پھرتے تھے انہیں تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے۔لیکن وہ خدا کے عشق میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کی زبان سے سوائے احد احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا تھا۔
    ⚡ آغاز اسلام کے پیروکاروں کو بارہا زنجیریں پہنا کر تپتی زمین پر کھڑا رکھا گیا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ایک دن دوپہر میں مشرکین نے انہیں عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا آپ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے جب ان کے قریب آۓ تو فرمایا الیاس صبر کرو اللہ تعالی نے تم سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسلام میں شہیدہونے والی سب سے پہلی خاتون ام عمار یعنی سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی جن کو ابوجہل نے ان کے دل میں تیز دھار خنجر جیسا ہتھیار مار کر ہلاک کردیا ۔
    ⚡ایک بار اڑتیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھما جن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار اسلام کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت دے دی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کو لے کر مسجد میں گئے اور تقریر کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تقریر سنتے ہیں کفار نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ سب سے زیادہ چوٹیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو آئیں چہرے پر اتنی ضربات تھیں کہ پہچان مشکل ہوگئ ان کے جانبر ہونے کی امید نہ تھی ان کی یہ حالت دیکھ کر نبی کریمﷺ آبدیدہ ہوگئے۔
    ⚡شعب ابی طالب میں جس کی مدت تقریبا تین سال تھی اس میں محصور مسلمانوں پر کفار نے ظلم کی انتہا کردی مسلمانوں کے کمسن بچوں کی بھوک پیاس سے بلکنے کی آوازیں وہاں سے دور تک سنائی دیتی تھی ۔

    ⚡ہجرت حبشہ کے وقت آپ کی بیٹی زینب کو برے طریقے سے شہید کر دیا گیا وہ چٹان پر گریں اور ان کا حمل ساقط ہوگیا۔پھر مسلسل تکلیف میں رہنے کے بعد فوت ہو گئی

    ⚡منظر بدلتا ہے اسلام کو کچھ قوت حاصل ہوتی ہے۔آپ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آچکے ہیں مسلمانوں کی تعداد بڑھتے ہی جہاد کا حکم نازل ہو گیا ۔چار بڑے غزوات اور سریا میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ آپ کے رشتہ دار بھی شہید کر دیئے گئے جنگ بدر میں مسلمانوں پر اللہ کا خاص کرم تھا نشاندہی فرشتوں کے ساتھ انہیں نصرت دی گئی اور فتح و کامرانی ان کا مقدر بنیں لیکن

    ⚡جنگ احد میں مسلمانوں کے لئے آزمائش بن گئی اس جنگ میں نبی کریمﷺکا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا اور سامنے کے دندان مبارک ٹوٹ گئے۔
    ⚡ آپ کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک وحشی حبشی نے شہید کر دیا۔ہندہ بنت عتبہ حضرت حمزہ کی شہادت کی خبر سن کر وحشیوں کی طرح دوڑتی ہوئی آئی اور ان کا سینہ چاک کرکے کلیجہ نکالا اور جب چبانے لگی جب نہ نکالا گیا تو اسے چبا کر تھوک دیا حضرت محمدﷺ حمزہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر کھڑے ہوگئے اور آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایسی مصیبت جیسی حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ پر پڑی دنیا میں کسی پر نا پڑی ہو گی۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش کی حالت دیکھ کر حضرت رضی اللہ تعالی عنہا صفیہ جوحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن تھیں فطرتا زاروقطار رونے لگیں لیکن انہوں نے بھی اسے رضائے الہی کہہ کر بڑے صبر کا ثبوت دیا۔
    ⚡ غزوہ موتہ میں جس روز جعفر بن ابی طالب شہید ہوئے اسی روز ان حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جعفر کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا ان کی پیشانی اور آنکھوں پر بوسے دیے جبکہ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
    ⚡نبی اکرمﷺ کے بیٹے ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے تھے بچپن میں ہی فوت ہو گئے آپﷺ ان پر جھک کر روۓ یہاں تک کہ آپ کے دونوں جبڑے اور دونوں پہلو ہلنے لگے اور پھر فرمایا آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہ بات نہیں کرتے جو رب کو ناراض کر دے۔
    یہ تو چند واقعات ہیں جب کہ نبیﷺ کی زندگی غم و الم سے ہی عبارت تھی آپ کی آنکھیں ہنجو برساتیں کیونکہ آپﷺ جیسا نرم دل انسان دنیا میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جنہیں رحمت اللعالمین کا خطاب دیا گیا اپنے بیٹے ابراہیم جو چھ ماہ کے تھے ان کی وفات پر آپﷺ رونے لگے تو ایک صحابی نے کہا یا نبی یہ آنسو کیسے آپﷺ نے فرمایا آنسو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں لیکن زبان سے ہم وہی کہیں گے جو اللہ چاہے گا یعنی کہ آپ نے زبان سے کبھی کفریہ کلمات نہیں کہے اور نہ ہی ہاتھوں کو سینے پر مارا۔
    ⚡مزید تاریخ میں آگے بڑھیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بڑے افہام و تفہیم اور طاقت کے وار سے ختم کیے
    ⚡۔سن 13 ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت ہمیں یاد ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی جرات و بہادری اور طاقت سے بیت المقدس کے علاوہ 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی سلطنت کو وسعت دی اور بہت سی اصلاحات کی آپ کو رومی گرامی گھرانے کے ایک مجوسی ابو لؤلؤہ فیروز نے 26 ذی الحجہ کو آپ پر دو دھارے خنجر سے وار کیے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد سے اٹھا کر گھر لایا گیا تین دن کے بعد آپ وفات پا گئے اور آپ کو حجرہ نبویہ میں یکم محرم کو دفن کیا گیا اگر شریعت اسلامیہ میں ماتم کی اجازت ہوتی تو دنیا اس بے باک اور نڈر شخصیت پرصدیوں نوحہ کرتی۔
    ⚡سن 24 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے 24 تا 35 تک نظام خلافت احسن انداز سے چلا یا پھر کچھ شر پسند لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے بغاوت کر دی اور عوام کو بھی اس بات پر اکسایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو چالیس دن کے لیے گھر میں قید کر دیا گیا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا ذوالقعدہ کے آخر سے لے کر آٹھ ذوالحجہ تک مسلسل محاصرہ رہا۔ انصار و مہاجرین میں سے 700 کے قریب لوگ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے لیکن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے سب کو واپس بھیج دیا اور انہیں قسم دی کہ وہ اپنے ہاتھ کو روکے رکھیں گے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺ نے فرمایا اے عثمان ہمارے پاس افطاری کرنا بس آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی دن روزہ رکھا اور باغی لوگ دروازوں اور دیواروں سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر داخل ہو گئے اور اسی روز آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا گیا۔اسود بن حمران نامی شخص نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سینے پر برچھا مارا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت قرآن کی تلاوت کر رہے تھے
    حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے آخر کا زمانہ فتنے سے بھر گیا اور بہت سے کبار صحابہ اس فتنے سے الگ رہے کیونکہ اس دور خوارج کی جماعت نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا گہراؤ کر لیا تھا۔18 ذی الحجہ کو جمعہ کے روز عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوگئے اور ذوالحجہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مسند خلافت پر فائز ہوگئے۔

    ⚡ خوارج کے بارے میں متفق علیہ کی حدیث ہے کہ لوگوں کے انتشار کے وقت خوارج نکلیں گے اور انہیں دو فرقوں میں سے بہتر فرقہ قتل کرے گا۔ان خوارجیوں میں سے ہی ایک شخص ابن ملجم تھا جب سترہ رمضان کی صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ باہر نکلے تو اس نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سر پر تلوار ماری تو آپ کے سر سے خون آپ کی داڑھی پر بہنے لگا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر لایا گیا۔حتی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا 17 رمضان 40 ہجری کو شہید ہو گئے۔

    ⚡تاریخ پر مزید نظر دوڑائیں تو 61 ہجری کا واقعہ یاد آ جاتا ہےجب امیر معاویہ کی وفات ہوگئی تو یزید بن معاویہ نے خلافت سنبھالی اس نے تمام امراءاور کبار صحابہ کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت امام حسین نے اسے قبول نہ کیا اور ایسا آپ نے عراقی عوام کی طرف سے آنے والے خطوط کی وجہ سے کیا جو آپ کو وہاں بلا رہے تھے آپ اپنے اہل و عیال اور مکہ سے لے کر روانہ ہوگئے جب جب آپ کربلا کے مقام پر پہنچے تو ابن زیاد نے چار ہزار فوج کے ساتھ آپ کو گھیر لیا اس نے نہ صرف آپ کے خیموں کو آگ لگا دی بلکہ ایک ایک کر کے اہل بیت کو بھی شہید کر ڈالا آپ کو شہیدکر کے آپ کا سر یزید کے پاس لے آیا اسلام کی تاریخ میں ایسا اندوہناک واقعہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔اور ظالم کے حوصلے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جس نے اپنی فوج بالخصوص شمر کے ساتھ مل کر نواسہ رسول کے نانا کی بھی لاج نہ رکھی۔

    ⚡73 ہجری میں میں حجاج بن یوسف (اللہ اس کا بھلا نہ کرے) ذوالحجہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا ۔پانچ ماہ 17 راتوں تک محاصرہ کیے رکھا اور جمادی الاول میں انہیں قتل کردیا گیا اور آپ کے جسم کو ایک گھاٹی پر لٹکا دیا ۔

    مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور تعصب نے اسلامی حکومت کو بہت نقصان پہنچایا ۔ اور ہم نے اس راہ میں بہت سے نایاب ہیرے بھی کھو دیے۔ آپس میں مسلمانوں کے انتشار و افتراق کی وجہ سے چنگیز خان’ ہلاکو خان ‘فرنگیوں اور تاتاریوں کو مسلمانوں پر چڑھنے کا موقع ملا ۔بقول اس شعر کے ۔
    دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
    لوگوں نے میرے گھر میں رستے بنا لیے
    ⚡617 میں چنگیز خان نے اپنے ساتھی تاتاریوں کے ساتھ مل کر چین کے دور دراز علاقوں سے لے کر بلا د عراق اور بہت سے مسلم ممالک پر قبضہ کرلیا وہ جس شہر میں داخل ہوتے سب کو قتل کر دیتے تھے سامان لوٹ کر اسے تلف کر دیتے مسلمانوں کے خزانے سے ریشم اکٹھا کر لیتے اور جب ان سے نہ اٹھایا جاتا تو اسے آگ لگاتے اور پھر تماشا دیکھتے ۔
    ⚡656ھ میں تاتاریوں نے بغداد سے جنگ کی مسلسل چالیس روز تک ان کی تلوار مسلمانوں پر چلتی رہی اس معرکہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیا گیا حتیٰ کہ گلیوں میں خون کے نالے جاری ہوگئے اور دریا سرخ ہوگیا اس طرح تاتاریوں نے بنو عباس کی شاندار حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔
    ⚡مزید آگے بڑھتے جائیں تو1857 میں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور
    ⚡ 1947 میں ہجرت پاکستان کے وقت مسلمانوں کی خون میں لتھڑی ہوئی لاشیں آزادی کا تحفہ بنا کر پاکستان میں بھیجی گئیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ تاریخ کے یہ لہو لہو اوراق ہمارے لئے عبرت کا باعث ہیں نہ کہ تعصب اور انتشار کا۔ اگرہم ماتم کی بات کریں (جو کہ اسلام میں ممنوع ہے )تو پھر ہم سارا سال ہی ماتم کرتے رہیں کیوں کہ اسلامی تاریخ میں کوئی مہینہ بھی ظلم و جور سے خالی نہیں تو تاریخ سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ۔ساتھ ہی ساتھ صبر و تحمل اور اللہ سے استعانت مانگنے کی ضرورت ہے ان تمام حالات میں ہماری نظر اللہ اور اس کے رسول پر ہونی چاہیے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول
    اور ایک آیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔
    غور و تدبر کرنے کے لئے قرآن کی یہ آیت ہی کافی ہے
    ⚡واستعینوا بالصبر والصلوہ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو
    اور اگلی ایک اور آیت میں ہے کہ البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف بھوک مال اور ثمرا ت کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے سورۃ (البقرہ )

    دورے حاضر میں تفرقہ بازی سے زیادہ کفر کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم غلام مسلمانوں کو پنجہ غلامی سے چھڑا سکیں۔
    جب ہم اللہ تعالی کے حکم پر چلیں گے تو وہ ہماری مدد ضرور کرے گا اور غیبی مدد سے حق پر چلنے والوں کو باطل پر فتح دے گا ۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور صحیح سنت رسول زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
    *******

  • خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے  تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    آپ نے خلافت و ملوکیت پڑھ لی, آپ نے سانحہ کربلا پڑھ لی, آپ نے مرزا جہلمی اور مولوی اسحاق جہالوی کو سن لیا اور آپ نے فیسبک پر مختلف بزعم خویش ذاکرین و قصہ خوانوں کی کہانیاں سن لیں تو کیا آپ کے پاس لائسنس آگیا ہے کہ آپ عدالت لگا کر قاضی بن جائیں اور گڑے مردے اکھاڑ کر چودہ سو سال سے دہکتی بلکہ صاف کہوں تو دہکائی جانے والی آگ میں تیل ڈالنے کی ذمہ داری ادا کرنا شروع کردیں؟

    کتب میں دونوں نہیں بلکہ تینوں جانب کی کہانیاں اور قصے درج ہیں لیکن ہر ایک کے لیے دو جانب کی کہانیاں اور قصے دیوانے کا خواب اور من گھڑت ہے (یہ فیکٹ ہے)۔

    لہذا ایسے میں ہمیں مشترکات پر اکھٹا ہونا اور لوگوں کو جمع کرنا چاہیے نا کہ متفرقات میں الجھ اور الجھا کر فساد فی الارض کی وجہ بننا چاہیے۔

    ہمیں ان دس دنوں میں اگر کچھ نہ کچھ لازمی کرنا ہی ہے تو حضرت حسین رض بن علی رض کی تعلیمات (جو کہ وہی ہیں جو آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ہیں) اور سیرت کا مطالعہ اور بیان کرنا چاہیئے۔

    واللہ یہ تو کسی کتاب میں نہیں پڑھا یا کسی معلم سے نہیں سنا کہ قبر میں اہلبیت رض اور صحابہ رض کی بابت سوال ہونگے البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بابت عدالت لگے گی یہ ضرور بارہا پڑھا اور سنا ہے لہذا ایک ایسے غیر حل شدہ مسئلے بلکہ یہ کہوں کہ معمے کے حل میں دس دن یا پورا سال ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے سے بہتر ہے کہ مشترکات پر متحد ہوکر صدیقی, عمری, عثمانی, علوی, حسنی, حسینی اور اموی تقسیم سے بچ بچا کر نکلا جائے اور صرف محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم بننے اور بنانے پر اکتفاء کیا جائے۔

    آپ میں سے کسی کو 80 سال قبل کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق نہیں ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے جبکہ دنیا تب صنعتی اور جدید انقلاب کے دروازے میں داخل ہوچکی تھی, ایسے میں آپ اور میں چودہ سو سال پہلے کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق رکھنے کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں اور یہ کیونکر ممکن ہو جبکہ یہاں احادیث کی سند اور صحت تک پر سوال اور اعتراضات موجود ہیں تو وہاں تاریخ کیونکر مستند اور مکمل ہوگی اور ہوسکتی ہے؟

    بہرکیف کربلا میں حق و باطل کا معرکہ بپا ہوا تھا, نہتوں پر ظلم و ستم ہوا تھا, خانوادہ رسول اللہ کا بہیمانہ قتل ہوا تھا, سرزمین اسلام پر قیمتی لہو گرا تھا اور اسلام و امت مسلمہ میں تاقیامت تفرقہ اور نفرت پر مبنی گروہوں کے جنم کا آغاز ہوا تھا۔ ۔ ۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کا انکار ممکن نہیں لیکن معاملات اور حقائق کیا تھے, کیا ہیں اور کیا دریافت ہونگے ان پر ہم کاملیت اور مصدقہ کی مہر غلو اور جانبداری کا مظاہرہ کرکے ثبت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں پر حقیقتاً ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ ہماری ثبت شدہ مہر سے معاملات حل ہوسکیں یا ختم ہوسکیں۔

    جو مسئلہ یا معمہ چودہ سو سال سے حل نہیں ہوسکا اس پر دانشوری بگھارنا اور "تو کافر میں مومن” والے بحث و مباحث کا سراسر کوئی فائدہ اور ضرورت نہیں۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک مرد مومن کا قول ہے کہ

    "خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    لہذا خاموش رہ لیں اور اللہ پر اس مسئلے یا معمے کا حل چھوڑ دیں۔ ۔ ۔ واللہ روز قیامت صرف قیامت کا ہی دن نہیں ہوگا بلکہ ایک سرپرائز ڈے ہوگا جہاں ایسے ایسے سرپرائز ملیں گے کہ زمین پر موجود ہر تیس مار خاں اس دن انگشتِ بدنداں ہوگا۔

    بندے بن جاؤ فیسبکی مومنوں بندے بن جاؤ۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل
    محمد نعیم شہزاد

    ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے قدرتی وسائل سے تو مالا مال کیا ہی ہے ساتھ میں ایسے مفکر اور فلاسفر بھی عطا کر دیے ہیں کہ جو ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کو اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں اور اپنی ہی رائے کو حتمی اور قابل عمل سمجھتے ہوئے ہر دوسرے شخص کی رائے کو بلا سوچے سمجھے مسترد کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی حکومت کے ویژن کے مطابق یکساں نصاب تعلیم کے مسئلے پر بھی ہوا۔ ویسے اگر حکومت اس مسئلہ پر بحث و مباحثہ کرنے کے لیے پبلک کال دے دے اور بحث میں شامل ہونے کے لیے پی پی ایس سی طرز کا ایک ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط لازمی کر دے اور ٹیسٹ میں ناکام ہونے والوں کو بحث میں شمولیت سے محروم ہونے کے ساتھ بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے تو آج ہی ساری بحث ختم ہو جائے اور ہر طرف ہی اس پالیسی کے حامی نظر آنے لگیں۔

    یہ تو رہی بات ان معترضین کی کہ جن کو اعتراض کرنے میں ثواب دارین نظر آتا ہے ۔ اب کچھ جائزہ لیتے ہیں کہ یکساں نصاب تعلیم کی اہمیت و ضرورت کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت تعلیم کو کئی کیٹیگریز میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ مدارس کا الگ نظام ہے اور سکولنگ میں اپنے بہت سے متنوع نظام ہائے کار اور نصاب رائج ہیں۔ جس کے باعث طبقاتی تقسیم، عدم اعتماد اور عدم مساوات کی فضا قائم ہے۔ تقسیم در تقسیم کے باعث آج ایک سسٹم کے تحت کسی بھی لیول کی تعلیم مکمل کرنے والا طالب علم دوسرے سسٹم کے نصاب تعلیم سے ان دیکھے خوف کا شکار نظر آتا ہے اور محض کتاب کا ٹائٹل ہی دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ یہ کتاب چونکہ میں نے نہیں پڑھی لہٰذا میں اس کے مندرجات کو نہیں جانتا۔ ایک عرصے سے شعبہ تعلیم سے وابستہ رہنے اور مختلف سسٹمز کے نصاب تعلیم کو دیکھنے، طلباء سے ڈسکشن اور شئیرنگ کی صورت میں میرا ان مختلف سسٹمز کے تحت چلنے والے اداروں کے نصاب اور طریقہ تعلیم سے واسطہ رہا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق ملک میں چلنے والے تمام سسٹمز میں چونکہ ایک ہی نصاب (Curriculum) کو مدنظر رکھتے ہوئے کتب شامل تدریس کی جاتی ہیں لہٰذا ان کے مندرجات میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ اس میں استثنائی صورت صرف بعض اداروں کی سائنس کی کتب کے حوالے سے ہو سکتی ہے مگر اکثریت اداروں میں ایک جیسا ہی content پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں جو سب سے بڑا فرق دیکھا جا سکتا ہے وہ approach کا ہے۔ بہت سارے اداروں میں امتحان میں اچھے گریڈ لینے کو معیار بنا لیا گیا ہے اور طلباء کو صرف ایک ہی مقصد کے تحت تیار کیا جاتا ہے کہ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر کس طرح حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے اداروں سے فارغ ہونے والے طلباء اچھے نمبر لے کر کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر علمی استعداد نا ہونے کے باعث مستقبل میں ناکام ہوتے ہیں۔ جبکہ بڑے پرائیویٹ اداروں کی بات کی جائے تو ان کی اپروچ based concept اور زیادہ practical ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے مگر ہماری قوم کا المیہ ہے کہ اسے achievement کا جنون کسی طرف سکون نہیں لینے دیتا۔ لہذا بڑی تعداد میں ان اداروں کے طلباء کے والدین انھیں گریڈز اور نمبروں کے چکر میں لے آتے ہیں اور ہمارے طلباء رٹا بازی کا سہارا لے کر بین الاقوامی تعلیمی نظام میں بھی نمبروں کے اعتبار سے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود بنا لیتے ہیں۔

    تعلیم ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جیسا کہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

    ’’تعلیم کے بغیر مکمل تاریکی تھی اور تعلیم سے روشنی ہے۔ تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘‘

    ان سب حالات و واقعات میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنا بہت خوش آئند ہے اور امید افزا ہے۔ حکومت کو کسی قسم کا پریشر لیے بغیر اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے مگر ساتھ ہی ایجوکیشنل اپروچ میں بھی تبدیلی لائیں تاکہ نمبروں اور گریڈز کی رسیا قوم تعلیم کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکے اور اس سے کماحقہ مستفید بھی ہو۔ اس کے لیے نصاب کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے ہدایت نامے جاری کیے جائیں کہ کس سبق کو کس انداز سے پیش کیا جائے اور اس کے اہداف و مقاصد کیا ہوں گے اور ساتھ ہی ایک منصفانہ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے جو طے کردہ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اگر حکومت یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی اور بانئ پاکستان کے خواب کی تکمیل کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔

  • حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان   بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ…!!!
    (بقلم جویریہ بتول)۔
    پیارے نبی کا پیارا…
    ریحان حسین ہیں…
    علی و فاطمہ کے دل کا…
    اک ارمان حسین ہیں…
    جنہیں گود میں بٹھا کر…
    پیارے نبی نے چوما…
    آنکھوں کی ہیں ٹھنڈ…
    اور جان حسین ہیں…
    کندھوں پر بٹھا کر…
    جھولا جنہیں جھُلایا…
    بانہوں میں جنہیں سمیٹا…
    وہ ذی شان حسین ہیں…
    حسین مجھ سے ہے…
    اور میں حسین سے ہوں…
    کہا نبی نے جنت میں…
    سردارِ نوجوانان حسین ہیں…
    علمی کمالات سے تھے جو مزین…
    دلائل وحق کی زبان حسین ہیں…
    جرأت و شجاعت کے پیکر…
    سخاوت کا بحرِ بیکراں حسین ہیں…
    صحابہ کے حصار میں…
    محبتیں جنہوں نے پائیں…
    ہر اہلِ ایمان کے دل کا…
    قرار و ایمان حسین ہیں…
    نانا کے نقشِ قدم پر…
    چلتے ہوئے اک سفر ہے…
    وقتِ کرب میں وفاؤں کا…
    بھاری سامان حسین ہیں…
    کوفی تھے جو لا یوفی…
    سازش تھی جو اندر…
    دکھائی نہ تھی کوئی…
    گرمی صحرا کی تھی…
    اور پریشان حسین ہیں…
    لبِ فرات پہ جو تھی…
    پیاس اور تشنہ لبی…
    چٹیل میدان میں کھڑے…
    کوہِ ہمت کا نشان حسین ہیں…
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…؟
    نبی کی گود میں پالے…
    نشانہ جہاں حسین ہیں…!
    وہ جاں نثار سا قافلہ…
    جو قلیل سا تھا کھڑا…
    کیسی بے مثل اطاعت تھی…؟
    واں قیادت کی داستان حسین ہیں…
    کیا چلتے ہوئے جو عزم تھا…!!!
    اور جو نرمی کا رنگِ رزم تھا…
    دمِ آخر تک صلح کی کاوشیں…
    رحم و مودت کا اک پیمان حسین ہیں…
    دھوکے سے تھا جو بلایا…
    غلط فہمیوں سے ستایا…
    اُن سازشیوں کے سامنے…
    بنے اک چٹان حسین ہیں…
    کربلا کی خاک پر ہےرقم…
    اک مظلومیت کی داستاں…
    اُس داستان کا روشن…
    عنوان حسین ہیں…
    شہادت کا تاج پہن کر…
    وہ جنت مکین ہوئے…
    مومنوں کے دلوں میں…
    آج بھی تاباں حسین ہیں…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی  تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی
    تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پہ قائم ہوئی ہے اور وہ نظریہ اسلام کا نظریہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل فرمایا ہے. اسلام کی سچائی یا نظریہ پاکستان کی سچائی اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتی جب تک آپ اس کے تعمیری کرداروں کو دل سے سچا، امانت دار اور مخلص قبول نہیں کرلیتے. ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کے وجود کا تو آپ اقرار کریں اور اس کے بنانے والے یا اس پر محنت کرنے والے کا انکار کردیں.
    اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے، جس طرح اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والوں کے بھی بے شمار فضائل بیان کیے ہیں. بلکہ ان کو تسلیم کرنا اور ان کی طرح ایمان لانا ہی قابل قبول ہے ورنہ آپ کے قول و عمل کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے. لیکن کچھ بدبخت حرمت والے عظیم مہینے میں بھی ان ہستیوں کی توہین، تذلیل کررہے ہیں حتی کہ ان کی توہین کو اپنی مذہبی عبادت بنا رکھا ہے اور یہ عمل ان لوگوں کے ساتھ کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنا مال، جان، خون اور اولاد بھی اسلام کی تعمیر و ترقی لٹادی.
    بقول شاعر
    لٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہیے.
    انہوں نے تو اپنے آپ کو کچھ سمجھا ہی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی میں سب کچھ قربان کردیا. اس مہینے کی تعظیم میں یہودی، مشرک بھی قتل و غارت، لوٹ مار اور ایسا کو کوئی کام نہیں کرتے تھے کرتے تھے جو حرمت والے مہینوں کی شان کے خلاف ہو.
    لیکن ملکِ پاکستان جو نظریہ اسلام کی بنیاد پہ بنا اس کے دارالحکومت میں کھڑا ایک چوڑا، چمار خبیث النفس تمام حدیں پار کرتے ہوئے وہ کلمات کہتا ہے جسے نہ قلم لکھ سکتا ہے، نہ زبان ادا کرسکتی ہے اور نہ کانوں کو سننے کی ہمت ہے اور آنکھیں وہ منظر دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں. وہ شخص بھری مجلس میں کہتا بھی ہے اور کہہ کر بڑے پرسکون انداز میں گھومتا پھرتا بھی ہے، اہل اقتدار کی نہ نیندیں اڑتی ہیں اور نہ ان کے آرام میں خلل پڑتا ہے لیکن جب کوئی دیوانہ گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،گستاخِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کے انجام تک پہنچا دیتا ہے تو تمام ادارے، سیاست دان، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی لونڈی اقوام متحدہ سب کے سب دہائیاں دینے شروع کردیتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو آزاد خیال کہنے والے بھی میدان خالی دیکھ کر کود پڑتے ہیں.
    کیا حکومتی وزیروں، مشیروں، عدالت، پولیس، فوج کی توہین کرنے والا بھی ایسے ہی سینہ چوڑا کیے گھومتا پھرتا ہے یا پھر حضور صلی الله عليه وسلم اور ان کے جانثار ساتھیوں کی تمہارے نزدیک اپنے اداروں جتنی بھی عزت نہیں؟
    ریاست ملکی امن و سلامتی کی سب سے زیادہ ذمے دار ہے پھر کیوں ایسے بدبختوں کے خلاف از خود نوٹس نہیں لیے جاتے؟
    کیوں انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک نہیں ہوتی؟
    جب کوئی دیوانہ اپنا کردار ادا کردے تو مقامی ادارے ایسے پھرتی دکھائی دیتے ہیں جیسے کتا ہڈی کے پیچھے دوڑتا ہے. پوچھنے والا ہو بھیا! اس وقت آپ کونسی بے غیرتی کی گولی کھا کر سورہے تھے جب یہ کالے کھٹمل سرعام حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے تھے؟
    امریکن لونڈی اقوام متحدہ کے پیٹ میں اچانک مروڑ کیوں اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں؟
    انسانی حقوق کی طوائفیں جو اس سے پہلے ستو پی کر سورہی تھیں کیوں شور مچانا شروع کردیتی ہیں کیا ان کی بہن کی بارات آرہی ہے یا پھر اپنے باپوں کو خوش کرکے ڈالر سمیٹنے کا سنہرا موقع مل گیا ہے؟
    عوام کبھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برداشت نہیں کریں گے، اقتدار کے مزے لوٹتے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ فوراً ایسے تمام واقعات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کریں نہیں تو پھر علم دین، عامر چیمہ جیسے غازی تو اپنا کام کرتے رہیں گے.
    قوانین پاس کرنا اگرچہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن یہ خوشی اس وقت زیادہ ہوگی جب ان پر عمل شروع ہوگا اور اس کے فائدے ملنا شروع ہوں گے. عوام بھی جہاں کہیں گستاخی کا کوئی واقعہ ہو فورا انفرادی و اجتماعی طور پر مقامی اداروں کو رپورٹ کریں تاکہ ملک خداد جو مختلف بحرانوں میں جکڑا ہوا ہے نئی افراتفری کا شکار نہ ہو۔

  • پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔ ان کے دوست اور دشمن بھی مشترکہ ہیں اور پالیسیاں بھی ملتی ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتے اور مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

    پاکستان پر جب بھی مشکل وقت سعودی عرب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا۔ جنگ اور امن میں ساتھ نبھایا۔ آج اقوام عالم میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور اس کا سہرا سعودی عرب کے سر بندھتا ہے۔

    اسرائیل کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے یورپ کا ناجائز بچہ کہا تھا۔ تو ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ سارے عرب بھی اگر اسرائیل کو تسلیم کرلیں سعودی عرب تب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے یورپ کے اس ناجائز بچے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو روافض اور ان کے ہمنواؤں اخوانیوں نے سعودی عرب کے خلاف شور مچا دیا۔ گویا کہ یہ کام یو ای اے نے نہیں بلکہ سعودی عرب نے کیا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کی سرزمین فلسطین سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پچاس ریال کے نوٹ پر مسجد اقصی کی تصویر ایک عرصہ سے چھاپ رہے ہیں جو ان کی نہ صرف فلسطین سے محبت کی دلیل ہے بلکہ ان کی اسرائیل کے بارے پالیسی کی حسین عکاسی بھی ہے۔

    سعودی عرب نے گزشتہ روز علی الاعلان اپنی سابقہ پالیسی کا اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران نیازی نے بھی ایک انٹرویو میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا واشگاف اعلان کیا جس پر ہم اہل اسلام کی ترجمانی کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک ساتھ اسرائیل کے بارے اپنی اپنی پالیسی کا اعلان کرکے مشترکہ دشمنوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
    خوشی کی بات ہے کہ بحرین کے رکن پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں اسرائیل کے نجس جھنڈے کو آگ لگا کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا اور بتادیا کہ اسرائیل سے نفرت ہماری رگ و پے میں موجود رہے گی۔ ان شاءاللہ

    آج کہاں ہیں جو اردوگان کو بزعم خود مسلمانوں کا نجات دہندہ کے روپ میں پیش کررہے تھے جس کے ملک ترکی نے اسلامی ممالک میں سے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس وقت تقریباً چالیس ارب ڈالر کی سالانہ اسرائیل سے تجارت بھی کررہا ہے۔

    پہلے یو ای اے پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غصہ دکھا رہا تھا اب یو ای اے اور اسرائیل کے درمیان پروازیں چلانے کی پیشکش کررہا ہے۔ منافقت کی انتہا کردی ہے اس نام نہاد خلیفہ نے،

    دوسری طرف ایران جس کے بارے مسلمان کبھی بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہ سکتے کیونکہ اس ایران کے دارالخلافہ تھا تہران میں اہل سنت کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ عیسائی، یہودی، سکھ، ہندو اور بدھ مت سمیت سب غیر مسلموں کو اپنی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح سے ایران کے پارلیمنٹ کا رکن کوئی سنی مسلمان نہیں بن سکتا یہ ان کی اسلام دشمنی کی واضح دلیل ہے۔

    ہمیں ایران کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: دجال کے ساتھ تہران کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھی ہوں گے۔ یہ ایران یہود کا آلہ کار اور اہل ایمان کا دشمن ہے جس کی چالوں سے ہمیں بچ کر رہنا ہوگا۔

    ایک بار پھر کہوں گا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے۔
    پاک سعودیہ دوستی زندہ باد

  • برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    ‏محرم الحرام غم اور دکھ کی گھڑی میں برینڈز بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر پیسے بنارہے ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین نے نہایت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : آج کل دنیاوی رسم و رواج معاشرے میں بہت ہی پھیل رہا ہے شادی میں مہندی میں پیلا ،رخصتی میں سُرخ ،اگر کوئی فوت ہو جائے تو تب سفید اور غم میں کالا اس چیز کو دیکھتے ہوئے مختلف برانڈ نے موسموں اور دیگر تہواروں کی مناسبت سے تو فیبرک اور کلر کولیکشنز متعارف کروانا شروع کر دی جو لوگوں میں بے حد مقبول ہوئی لیکن نام اور پیسہ کمانے کے چکر میں یہ برینڈز اور عوام اسلامی تہواروں کی حرمت اور مذہب کو بھی اس قدر نظر انداز کر رہے ہیں کہ غم اور دکھ کے مہینے محرم الحرام میں مختلف فیشن اور ڈیزائنوں میں بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر ماڈلز کے ذریعے اشتہارات لگا رہے ہیں اور غم و سوگ کے دِنوں میں بھی فیشن کو پروموٹ کر رہے-

    معروف برینڈز کے اس عمل پر لوگ سوشل میڈیا پر مذمت کر رہے ہیں اور غم و غصے میں سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں یہاں تک کہ محرم 2020 ٹویٹر پر ٹرینڈ کررہا ہے اور #SayNotoBareeze ٹرینڈ کر رہا ہے-


    https://twitter.com/Meera_Ji/status/1298523537439850496?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ اللہ غارت کرے ایسے لوگوں کو جو محرم میں برپا ہونے والی قیامت پر بھی فیشن سے باز نہیں آ رہے


    ایک صارف نے لکھا کہ گائٹونڈی صحیح کہتا تھا کہ مذہب سے بڑا کوئی دھندا نہیں اور ان برینڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے اللہ معاف کرے-


    ایک صارف نے لکھا کہ محرم کے اس رجحانات پر شرم آنی چاہیئے ہائپربولک فیشن اقدام کی شدید مذمت کرتے ہے


    ایک صارف نے ان برینڈز کو پروموٹ کرنے والوں پر تنقید کی-


    دوسری جانب نمرہ شہزاد نامی ٹویٹر صارف نے بریزے برینڈ کو محرم میں کولیکشنز متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے #SayNotoBareeze کا ٹرینڈ چلایا جس میں صارفین مذکورہ برانڈ پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-


    نمرہ شہزاد نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بریزے نے محرم کے حوالے سے کولیکشنز متعارف کرائیں ہیں ۔ آگے کیا ہو رہا ہے؟ کہ یہ برانڈ ز بنیں گے "آپ کے والدین کا انتقال ہو گیا” ، "آپ کو ابھی سے وصولی کی جکولیکشنز ملیں” اور آپ نے اپنے بھائی بہن کا واحد مجموعہ کھو دیا "برسوں پہلے کوئی ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے شہید ہوا تھا۔ محرم کا احترام کرو!
    https://twitter.com/_clownnextdoor/status/1297587278567616518?s=20
    ایک صارف نے بریزے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے لیے کتنا گھٹیا طریقہ ہے اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آپ نے اپنے ایمان کو کہاں فروخت کیا؟ شرم کرو یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے غم کا دور ہے-


    اریج فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ لباس برانڈبریزے نے اپنا ‘محرم کلیکشن’ لانچ کیا ہے۔ جیسے کیا ہو رہا ہے۔ اگلا مجموعہ کیا ہوگا؟ موت کا مجموعہ ، شہید مجموعہ؟ ایسا کام کرنا اہل بیت اور محرم کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے
    https://twitter.com/MushtaqErum/status/1297658567537958913?s=20
    ارم مشتاق نامی صارف نے لکھا کہ تو یہاں بریزے برانڈ کا ایک نیا مجموعہ آیا ہے۔ جسے بہت زیادہ پسند کیا جیا رہا ہے؟ کیا محرم منانے کے لئے کسی تہوار کی طرح ہے؟ شیعہ یا سنی کے بارے میں بھول جاؤ ، ایک مسلمان اس حماقت کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ برسوں پہلے کسی نے ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے اپنی جان دے دی۔ برائے مہربانی محرم کا احترام کرو-


    https://twitter.com/UsamaZMalik/status/1298356623858176000?s=20
    https://twitter.com/molana_sayru/status/1298152262506774529?s=20

  • چھوٹے صوبوں کا مقدمہ  تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ
    تحریر:عدنان عادل
    موجودہ پارلیمانی‘ جمہوری نظام میں عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے ہیں۔حکومت کی عملداری کمزور ہوچکی ہے۔ کوئی
    حکومتی ادارہ اپنا کا م ٹھیک طریقہ سے انجام نہیں دے رہا۔ لاقانونیت‘بدانتظامی اورکرپشن کا دور دورہ ہے۔ ملک میں گورننس کا بریک ڈاؤن اس حد تک ہوگیا ہے کہ کراچی میں گندے نالے صاف کرانے کے خاطر بھی وفاقی اداروں اور فوج کی نگرانی درکار ہے۔جس خرابی پر نظر ڈالیںاس کے پیچھے خراب گورننس کارفرما نظر آتی ہے۔بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس صورتحال سے باہرکیسے نکلا جائے۔ ایک نقطہ نظر ہے کہ ضلعی اور تحصیل کی سطح پر منتخب مقامی حکومتوں کو با اختیار بنایا جائے جو عوامی مسائل کو حل کریں گی اور گورننس بہتر ہوجائے گی۔ لیکن ہمارے ملک میں ماضی میں منتخب اور با اختیارمقامی حکومتوں کے نظام کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔سیاسی جماعتیں اور منتخب صوبائی حکومتیں انہیں برداشت نہیں کرتیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی حکومت کا ٹکراؤ بدنظمی اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔ کوئی بھی وزیراعلیٰ اپنے سامنے کسی ضلع کے ناظم یا مئیر کو بااختیار اور طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنرل پرویز مشرف نے بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا تھا لیکن جیسے ہی پنجاب میںمسلم لیگ (ق)کی حکومت بنی اُس نے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں کمی کردی۔ دو ہزار تیرہ میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں اس نظام کو بالکل ہی ختم کردیا ‘ اسکی جگہ ایک ایسا لُولالنگڑا قانون بنایا جس میں بلدیاتی ادارے بالکل بے اختیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا نیا قانون بناکر ان کو محض رسمی ادارے بنادیا ۔اب تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نیا نظام لائی ہے جس میں ضلعی ناظم یا مئیر کا براہ راست الیکشن ہوگا۔ اس سے کشیدگی پیدا ہوگی۔خاص طور سے اگر مئیر کا تعلق صوبائی حکومت کی مخالف سیاسی جماعت سے ہوا۔ وزیراعلیٰ اور اس علاقہ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس مئیر یا ناظم کو اپنی اتھارٹی کے لیے خطرہ تصور کریں گے۔ان کے مابین ایک رسہّ کشی شروع ہوجائے گی۔ انتظامی امور مزید خراب ہوجائیں گے۔ہمارا سیاسی کلچر ابھی اتنا بالغ اور پختہ نہیں ہوا کہ تین بااختیار حکومتوں (وفاقی‘ صوبائی‘ ضلعی)کا بوجھ اُٹھا سکے۔ یہاں تو بے تحاشاصوبائی خود مختاری دینے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہموار تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ضلعی حکومتوںکے اختیارات بڑھنے سے حکومتی نظام پر مقامی جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں کی طاقت اورحکومتی نظام پر شکنجہ مزید مضبوط ہوجائے گا۔ دیہی عوام انکے سامنے مزید بے بس ہوجائیں گے۔ شہروں میں پراپرٹی مافیا اپنی بے تحاشا دولت کے بل پر شہری حکومتوں پر قابض ہوجائے گا۔ عوام ایک نئے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ موجودہ ریاستی ڈھانچہ میں بلدیاتی ادارے زیادہ بااختیار بنانے سے گورننس کا بحران قابو میں آنے والا نہیں بلکہ اور سنگین ہوجائے گا۔ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ بلدیاتی ادارے اتنے اختیارات کے حامل ہوں کہ اُن کا صوبائی حکومت سے مسلسل ٹکراؤ ہوتا رہے۔ اس صورتحال کا بہترمتبادل یہ ہے کہ ملک میںچودہ پندرہ انتظامی صوبے بنادیے جائیں۔ موجودہ صوبے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے اتنے بڑے ہیں کہ ان کا انتظام ٹھیک طریقہ سے چلانا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔صرف پنجاب کی آبادی گیار ہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ نئی انتظامی اکائیاں اسطرح بنائی جائیںکہ ہرصوبہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو کروڑ آبادی پر مشتمل ہو۔ آئین میں ترمیم کرکے صوبوں کوپابند بنایا جائے کہ وہ ترقیاتی بجٹ میں ضلعوں کاسالانہ حصہ ایک فارمولہ کے مطابق مقرر کریں گی۔ لوگوں کوسرکاری محکموں سے اپنے چھوٹے چھوٹے کام کاج کے لیے دُور دراز علاقوں سے چار صوبائی دارالحکومتوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ چھوٹے صوبہ کا وزیراعلیٰ زیادہ بہتر انداز میں اپنے علاقہ کے مسائل حل کرسکے گا کیونکہ اس تک لوگوں کی رسائی زیادہ ہوگی اور اسے اپنے نسبتاًمختصر علاقہ کے حالات کا اچھی طرح علم ہوگا۔ نئے صوبے بننے سے چودہ پندرہ صوبائی دارلحکومت بنیں گے جو نئے شہری مراکز کے طور پر اُبھریں گے جس سے موجود ہ چھ سات بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ کم ہوگا۔جب پاکستان بنا تو یہاں کچھ ریاستیں تھیں جو داخلی معاملات میں خود مختار تھیں جیسے بہاولپوراورسوات کی ریاستیں۔ ان ریاستوںمیںگورننس باقی ملک کی نسبت بہت بہتر تھی۔ بہاولپور اور سوات کے لوگ آج بھی اپنے ریاست کے نظام کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ دیگرعوامل کے علاوہ اسکی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا حدود اربعہ محدود تھا ۔ اس لیے انکے حکمران بہتر انداز میں نظم و نسق چلاسکتے تھے۔ ملک میں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ آبادی کے اعتبار سے تین چھوٹے صوبوں سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ وہ ان صوبوں کو مقدس وفاقی اکائیاں سمجھتی ہیں۔ انکی نسلی‘ لسانی تشخص پر مبنی سیاست کا محور ان صوبوں کے حدود کی سا لمیت ہے۔ دوسرے‘ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ پنجاب کی آبادی باقی تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے اس لیے نئے صوبے بننے سے وفاقی اکائیوں کے درمیان مو جودہ توازن بگڑ جائے گا اور پنجاب کی بالادستی بڑھ جائے گی۔ اندرون سندھ کے سیاستدانوں کویہ بھی خدشہ ہے کہ کراچی کے الگ صوبہ بننے سے انکی ٹیکس آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ان خدشات اور تحفظات کو دُور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سینٹ کے کردار کو وفاقی اکائیوں کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مستحکم کردیا جائے۔ اسوقت قومی اسمبلی میںوفاقی اکائیوں کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی ہے جبکہ سینٹ میں سب کی برابر نمائندگی ہے۔سینٹ کے کردار کو وفاق کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مضبوط کرنے کے بعد موجودہ صوبوںکی حدود کوآئین میں وفاقی اکائیوں کا نام دے دیا جائے جبکہ صوبہ کا لفظ انتظامی اکائی کے لیے استعمال کیا جائے تو مسئلہ بہت حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اس وقت بجٹ کی منظوری صرف قومی اسمبلی دیتی ہے۔ سینٹ اس پرصرف بحث کرتی ہے لیکن اسے منظور یا مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سینٹ سے وفاقی حکومت کے بجٹ کی منظوری کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ چھوٹی وفاقی اکائیوں کے مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ ہوسکے۔ ٹیکسوں کی آمدن کی تقسیم کے حوالہ سے بھی آئین میں ایسی ضمانت ہونی چاہیے کہ پسماندہ علاقوں پر مشتمل جو نئے صوبے بنیں انہیں کراچی اور لاہور ایسے بڑے شہروں سے ہونے والی آمدن سے جائزحصہ ملتا رہے۔