Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آئیے!دلوں کو زندہ کریں  بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں…!!!
    (بقلم : مریم وفا)
    دل،انسانی جسم کا بادشاہ…یہ شاداں و فرحاں ہو تو پورا جسم خوش باش،اور اگر یہ ملول وغمزدہ تو سارا جسم پریشاں حال…!!!
    لیکن آج ہم میں سے اکثر کا یہی شکوہ ناں کہ کیا کریں کہ اللہ کا دیا بہت کچھ لیکن نہ جانے کیوں دل بہت پریشان،
    کسی چیزکی کمی نہیں لیکن دل کو قرار نہیں ،اور یہی حقیقت بھی ہے کہ آج ہمارےگھروں میں کسی چیز کی کمی نہیں…مال ودولت کی فراوانی،آرائش و زیبائش کی کثرت،الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بھرمار،سوشل میڈیاکا چسکا اور نہ جانے کیا کچھ کہ سب نعمتیں اور لذتیں بیان سے باہر…لیکن ذہنی سکون اور دلی قرار سے ہم پھر بھی تہی دست…مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود بھی ہم بے قرار…؟؟؟
    ذہنی آسودگی ہم سے دور بھاگتی ہے…دل کی آلائشیں برھتی ہی جارہیں…لیکن ہم پھر بھی دنیاوی لذات میں سکون ڈھونڈنے کے متلاشی…
    حقیقت سے پھر بھی منہ موڑے ہوئے ہیں کہ قلب کی آسودگی اور ذہنی اطمینان کا علاج آخر کوئی تو ہو گا…نعمتوں کی بارش کرنے والا رب ہمیں یہ بھی تو یاد کروا رہا ہے ناں کہ نعمتوں کی کثرت کے باوجود بھی دل کی زمین پر بہار لانے کے لئےایک نسخہ لاجواب ہے،کہ میری یاد سے ہی تمہارے خزاں رسیدہ دلوں پر بہار آئے گی…تمہاری زندگیوں میں سکون در آئے گا…میری نعمتیں تمہارے لیے باعث صد سکون ثابت ہوں گی…بس میری یاد کی شمع اپنی زندگی میں روشن کرو, تمہاری زندگی کی اندھیر نگری چمک اٹھے گی…خزاں زدہ دلوں پر بہاریں لوٹ آئیں گی…کہ یہی توایک نسخہ!شافی ہے,بے سکون زندگیوں میں سکون و قرار کی روح پھونکنے کا…کرب واضطراب سے مضمحل دلوں میں راحت ونشاط کے گل کھلانے کا…!!!
    یہ مال و دولت کے انبار،یہ سونے چاندی کے ڈھیر مانا کہ دنیاوی نعمتوں میں عظیم سہی لیکن قلبی سکون و اطمینان کے لیے ہمیں نعمتوں کے عطاکرنے والے رب کی یاد سے دلوں کو بسانا ہے کہ یہی ایک صورت ہے ہماری زندگیوں میں سکون و اطمینان لانے کی،ورنہ دنیاوی لذات کی کثرت ہمارے لئے کبھی بھی قلبی سکون کا موجب نہیں بن سکتی جب تک کہ ہم اپنے دلوں کو اپنے رب کی یاد سے نہ بسالیں….!!!

  • بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے   تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو چکی ہے کہ مسلمان ایک مہذب،فیاضی،اور خدا ترسی و دردِ انسانیت سے مالا مال امت ہیں…
    ان کی تعلیمات اس قدر ارفع ہیں کہ باقی اقوام بھی قوانین اور ضابطے یہاں سے مستعار لیتی رہی ہیں…
    جب جب بھی مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا تب تب مفتوحہ علاقوں کے مکینوں کے ساتھ مسلمان لیڈرز کا حسنِ سلوک،رواداری اور فیاضی تاریخ کی روشن اور تابندہ مثالیں بنتا چلا گیا…!!!
    لیکن ملتِ اسلامیہ پر ظلم و ستم کی خونچکاں داستاں اور خونِ مسلم کے ارزاں ہونے کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔
    اپنے تئیں مہذب کہلانے والی اقوام نے جب بھی غلبہ پایا تو اخلاقی گراوٹ اور ذہنی پستی اور درندگی کی انمٹ تاریخ رقم کر دی…!!!
    ساٹھ کی دہائی میں عربوں کے سینے میں خنجر پیوست کرتے ہوئے اسرائیل اور یہودی آباد کاری کی بنیاد رکھی گئی اور فلسطین کے نہتے مظلوم مسلمانوں کی سر زمیں پر ناجائز قبضہ،مکانات کی مسماری،فصلوں کی تباہی اور بے در و گھر کر دینا اب ایک معمول کی بات بن چکی ہے…
    مسئلہ کا دو ریاستی حل ایک خواب بنتا جا رہا ہے اور اسرائیلی ستم ظریفی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے…
    گزشتہ روز گوگل اور ایپل ایپلیکیشن میپ سے فلسطین کا نام حذف کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت پہلے کے آغاز کا ایک تسلسل ہے…
    وہ قبلہ اوّل جو غیر مسلموں کے ہاتھوں تاریخ میں بار بار تاخت وتاراج ہوا،
    پون صدی سے ایک بار پھر کسی عمررضی اللّٰہ یعنی اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی راہ تک رہا ہے…
    کہ جب عمر اپنے غلام کو سواری پر بٹھائے اپنی چلنے کی باری پر سواری کی لگام تھامے پیوند زدہ لباس کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عیسائی سربراہان ششدر رہ گئے تھے کہ یہ ہے مسلمانوں کا خلیفہ؟
    اور بیت المقدس کی چابیاں عمر کے حوالے کر دی گئیں۔
    اے تاریخ کےورقِ روشن…
    ہمیں تُجھ پر ناز ہے…!!!
    تاریخ نے ٹھہر کر وہ داستان بھی اپنے سینے میں محفوظ کر لی تھی جب 1176ء میں ایک صلیبی سردار کی حرکات جو یروشلم کے عیسائی بادشاہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی تھی تو سلطان حرکت میں آیا…
    جو اس کی اخلاقی،سیاسی،ملی اور مذہبی نقطۂ نظر سے بہترین حکمتِ عملی تھی۔
    اور اس نے یروشلم کو عہد شکن قوم کے شکنجے سے آزاد کروا لیا تھا۔
    مگر فاتح بن کر ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں رقم نہیں کی گئی تھیں،بلکہ محکوم عیسائیوں کے ساتھ سلطان کا حسنِ سلوک تاریخ کا جھومر بن گیا اور عیسائی مؤرخین اس بات کا اعتراف کیئے بغیر نہیں رہ سکے کہ:
    Even the Christian Europe,Saladin was justly celebrated and admired for his generous treatment of his defeated enemies…
    (Bernard Lewis).
    لیکن آج امت قحط الرجال کے دور سے گزر رہی ہے…
    کڑا اور عجب وقت درپیش ہے،بحرانوں کا تسلسل ہے…اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے اور زخم ہیں کہ بڑھے جا رہے ہیں…
    حالیہ سالوں میں لاکھوں بے گناہ مسلمان موت کے گھاٹ اتر گئے،
    اتنے بڑے انسانی المیے پر انسانی حقوق کے داعی بھی مہر بہ لب رہے…
    ہاں یقینًا کہ ان کا کام صرف مشاہدہ ہے،دخل اندازی نہیں…!!!
    کیا صرف مشاہدے کیئے جاتے رہیں گے اور مسلمان ممالک ایک ایک کر کے ظلم و تباہی کی نت نئی رنگینیوں میں رنگے جاتے رہیں گے…؟؟؟
    دنیا کے نقشہ پر موجود حل طلب دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے کیا نقشے سے ہی حذف کر دیا جائے گا…؟
    ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ اپنے مسائل کا حل ہمیں خود تلاشنا ہو گا…
    انسانیت کے حقوق کا عَلم ہم نے خود تھامنا ہو گا…
    تاریخ کی نظر کسی عمر و ایوبی کے حقوقِ انسانی اور حسن و فیاضی سے لبالب بھرے کردار کو تلاش رہی ہے…!!!
    ہمیں آوازِ ضمیر کو شدت سے دبا دینے کی بجائے اسے دنیا میں بلند کرنا ہو گا تبھی ہم اپنا معیار،مقام اور وقار بچا اور بحال رکھ پائیں گے ورنہ سازشوں کا دیو ہیکل اژدھا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا…!!!
    حکیم الامت نے اس درد کو کیا خوب بیان کیا تھا:
    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے،
    یہ مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے۔
    اے لا الہ الا اللّٰہ کے وارث،باقی نہیں ہے تجھ میں…
    گفتارِ دلبرانہ…کردارِ قاہرانہ…!!!
    ===============================

  • خلیل اللّٰہ کی یاد  تحریر:جویریہ بتول

    خلیل اللّٰہ کی یاد تحریر:جویریہ بتول

    خلیل اللّٰہ کی یاد…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    ذو الحجہ کا چاند طلوع ہونے والا ہے اور یہ وہ حرمت والا مہینہ ہے کہ جس کی عظمت فضیلت اور اس میں بجا لائے گئے اعمال کی اہمیت بہت ارفع ہے…
    استغفار و انابت…
    تسبیح و تہلیل اور تحمید…
    مالی قربانی…
    اللّٰہ کی رضا کے لیئے سب کچھ قربان کرنے کے عہد…
    حج بیت اللّٰہ…
    اور یومِ عرفہ کا روزہ…
    جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یکفر السنۃ الماضیۃ والباقیۃ…(صحیح مسلم)۔
    یعنی” گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…!!!”
    لیکن یہ مہینہ اور اس کےان دس ایام میں بجا لائی جانے والی عبادات اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک کسی بھی دن میں کیئے گئے عمل سے اس قدر محبوب اور افضل ہیں کہ اللّٰہ کی راہ میں لڑنے والا بھی اس فضیلت کو نہیں پا سکتا،لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو اپنے مال و جان کے ساتھ نکلا اور لوٹ کر نہ آیا تو وہ لاریب بہت فضیلتوں کا مستحق ہے۔
    کیونکہ یہ وہ فضیلت بھرے ایام ہیں جن میں تمام عبادات نماز،روزہ،حج،مالی قربانی،تسبیحات و تکبیرات جمع ہو جاتی ہیں…!!!!
    یہ مہینہ ہمیں خواہشاتِ نفس کی قربانی،اللّٰہ کی رضا کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا عہد کرنے والے ابراہیم علیہ السلام کی یاد بھی دلاتا ہے…
    وہ ابراہیم علیہ السلام جن کے بارے میں اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل…
    [الانبیآء]۔
    "اور یقینًا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس سے پہلے ہی سوجھ بوجھ عطا کی تھی…”
    وہ لڑکپن میں ہی غور و فکر کے عادی…
    رب کی وحدانیت کا پرچار کرنے والے…
    جو اپنے باپ اور قوم سے سوال کرتے کہ یہ مورتیاں جنہیں تم پوجتے ہو…تمہارے نفع و نقصان کی مالک ہیں؟
    وہ جواب دیتے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے،
    تب ابراھیم علیہ السلام پکار اٹھتے کہ تم اور تمہارے آباء سبھی گمراہ ہو…!!!
    اللّٰہ تعالٰی کو اپنے ابراھیم کی یہ ادائیں اس قدر پسند آئیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو آزماتا چلا گیا…
    اور رب کا موحد بندہ اور پیغمبر ان تمام آزمائشوں پر پورا اترتا چلا جاتا ہے تاوقتیکہ امام الناس اور خلیل اللّٰہ کے منصب پر فائز دکھائی دیتا ہے…!!!
    وہ جوانی میں قوم کے تراشیدہ بتوں کو کلہاڑے کی ضرب سے پاش پاش کرنے والا بت شکن ان سے سوال کرتا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ کھاتے نہیں ہو؟
    تمہیں کیا ہے کہ بولتے بھی نہیں؟
    تب ابراہیم اپنی انہی اداؤں سے قوم کو لاجواب کر دیتا ہے،اور وہ آنکھیں جھکائے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بات تو اس کی واقعی ٹھیک ہے لیکن اس کو مان لینا اَنا پر گہری ضرب تھی…!!!
    وہ ابراہیم جو انتہائی بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے سرفراز کیئے جانے کے بعد امتحانات کے ایک تسلسل سے گزرتے ہیں…
    یہاں تک کہ اپنے لاڈلے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا خواب آتا ہے…
    وہ ابراہیم جن کے امتحانات کا تذکرہ اللّٰہ تعالٰی نے خود یوں فرمایا کہ:
    "جب ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں میں آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللّٰہ نے فرمایا میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا…”
    (البقرۃ)۔
    وہ نو مولود کو اپنے سے دور تنہا بے آب و گیاہ وادی میں بیوی سمیت چھوڑنے سے لے کر اب اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے تک کا سفر ابراہیم علیہ السلام نے، نہایت صبر،کمال استقامت اور حوصلے سے کاٹا تھا…
    اب اس آزمائش پر بھی پورا اترنے کے بعد اللّٰہ تعالٰی نے اس بہت بڑی آزمائش قرار دے کر اس پر پورا اترنے پر ابراہیم علیہ السلام کو سرخرو فرمایا اور اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں مینڈھا نازل فرما دیا…!!!
    ذرا سوچو کہ وہ بیتِ عتیق،نور و رحمت کے گھر کی طرف دیوانہ وار لپکتے لوگوں کا رش بھلا کس کی دعا کا ثمر ہے؟
    وہ کعبہ کی بنیادوں کو بلند کرنے والے ابراہیم اور اس کی آبادی کے لیئے اللّٰہ کے حضور دعائیں مانگنے والے ابراھیم کی یاد کے مناظر…
    واذ یرفع القواعد من البیت…
    "اورجب وہ اس گھر کی بنیادیں بلند کر رہے تھے…
    واتخذو من مقام ابراھیم مُصَلًّی…
    "اور تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو…(البقرۃ)۔
    وہ صفا و مروہ کے چکر کس عظیم گھرانہ کی یاد سے وابستہ ہیں…؟
    ان الصفا والمروۃ من شعائر اللّٰہ…
    بھلا یہ جانوروں کی قربانی کس کا فدیہ قرار پائی تھی؟
    آہ…!!!
    وہ جو سارے کا سارا گھرانہ صبر و ثبات ،عزم و حوصلہ،برداشت و استقامت اور ایمان و عمل کی واضح نشانی تھا…
    رب کی وحدانیت اور رضا پر سب کچھ لٹا دینے کا عہد کیئے جانبِ منزل رواں دواں رہا کہ امر ہو گیا…
    وہ ابراہیم جس نے قوم کو شروع میں ہی کھرا کھرا جواب دے دیا تھا کہ:
    انی ذاھبٌ الی ربی سیھدین¤
    "میں تو ہجرت کر کے اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں،وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا…(الصفّٰت)۔
    اور پھر تا قیامت رہبری اور امامت کا تاج سج گیا…
    ملتِ ابراہیم کے حقیقی پیروکار رب کے محبوب کہلائے…
    آگ کے گلزار بننے سے ابد تک سلامتیاں ہی سلامتیاں ابراہیم علیہ السلام کا خاصہ کہلائیں:
    "ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہو،
    ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں،بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے…”
    (الصفّٰت)۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی ان ایام میں بہترین طریقے سے عبادات بجال لانے اور ابراہیم علیہ السلام سےوابستہ خصوصی یادوں کو اپنا ایمان و عمل بنانے کی توفیق نصیب فرمائے کہ خواہشات کے حصار نے ہمیں اپنے جالوں میں پھنسا رکھا ہے…
    آج ہم منزل سے بہت دور بھٹکتے مسافر اور مقصدِ حیات سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں…
    امامت کے منصب پر فائز ہونے کے لئی کن راستوں پر سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے؟سیرتِ ابراہیم اس کی بہتر راہ نما ہے…!!!
    یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے…
    صنم کدہ ہے جہاں،لا الہ الا اللّٰہ…
    یہ مال و دولت،دنیا یہ رشتۂ پیوند…
    بتانِ وہم و گماں،لا الہ الا اللّٰہ…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • کم سن بچوں سے زیادتی کرنے والا مجرم اور سزا   تحریر :سفیر اقبال

    کم سن بچوں سے زیادتی کرنے والا مجرم اور سزا تحریر :سفیر اقبال

    کم سن بچوں سے زیادتی کرنے والا مجرم اور سزا
    تحریر :سفیر اقبال

    نہایت افسوس کی بات ہے کہ عرصہ ہائے دراز سے سب کے سامنے تسلسل کے ساتھ جرم ہو رہا ہے لیکن ریاست مدینہ کے دعویدار نہ تو اس کی روک تھام کے لئے کوئی ایکشن لے رہے ہیں اور نہ ہی جرم کرنے والوں کو سزائیں مل رہی ہیں. ہر گزرتے دن کے ساتھ جرم میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے لیکن "زمین جنبد نہ جنبد گل محمد” والی صورتحال بن چکی ہے.

    ریاست اس قدر سنگین جرم پر کوئی قانون کیوں نہیں بنا رہی میرے خیال میں اس کی دو بڑی اہم وجوہات ہیں جو میں قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں.

    پہلے یہ سمجھ لیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ضرور ہے لیکن فی الحال یہ خلافت نہیں. اس وجہ سے یہاں چوری کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا…. شادی شدہ زانی کو سنگسار نہیں کیا جاتا. اور نماز نہ پڑھنے والے کو مسلمانوں کے قبرستان سے دور دفن نہیں کیا جاتا. جب خلافت ہو گی تو ان شا اللہ یہ سارے کام کیے جائیں گے. لیکن فی الحال چونکہ ریاست عالمی دباؤ کے زیر اثر ہوتی ہے اس لیے حدود والی سزا میں کمی کر کے تعزیر جاری کر سکتی ہے تا کہ عالمی دباؤ اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ دونوں سے بچا جا سکے.

    یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک کلاس میں استاد کسی بچے کو اس کی کسی اخلاقی غلطی یا ذہنی سستی کی بنیاد پر ہلکی پھلکی سزا خود تجویز کرتا ہے یہ بات سامنے رکھتے ہوئے کہ بچے کے والدین کو بھی اس سزا پر اعتراض نہ ہو اور سکول کے پرنسپل کو بھی.

    اب آتے ہیں ان دو وجوہات کی طرف جن کی وجہ سے ریاست ابھی تک اس سنگین جرم کے خلاف سزا کے لیے مجرم کو چند دن سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر کے اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے علاوہ کوئی قانون نہیں بنا سکی.

    پہلی وجہ یہ ہے کہ ہماری عوام میں مشترکہ طور پر اسلام کی قائم کردہ سزاؤں یا تعزیرات کے متعلق مکمل آگہی نہیں. ریاستی قوانین اور شرعی قوانین کے درمیان فرق نہیں معلوم اور ستم بالائے ستم ہمارے وزرا جن کو کام کچھ اور دیا جاتا ہے لیکن وہ اپنی انگلیاں کہیں اور پھنسانے کا شوق رکھتے ہیں اس موضوع پر جدت، روشن خیالی کے نام پر گمراہ کن فلسفے جھاڑتے رہتے ہیں اور عوام میں بے یقینی والی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں.

    سب سے پہلے ایسے” روشن خیال ” لوگوں کی طرف سے سزا کو وحشیانہ فعل قرار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ فرمایا جاتا ہے کہ مہذب قومیں ایسا ماحول قائم کرتی ہیں کہ جرم کیا ہی نہ جا سکے. (بات بہت خوبصورت ہے لیکن زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ دو سال ہونے والے ہیں اور ابھی تک ایسا ماحول نہیں بن سکا کہ جس میں رہتے ہوئے جرم کرنے کا موقع نہ ملے ). جہاں تک تعلق ہے سزا کے وحشیانہ فعل ہونے کا تو مسلمان ہونے کے ناطے یہ ایمان ہونا چاہیے کہ سزا مقرر کرنے والے اللہ کے نبی اور صحابہ کرام وحشی نہیں تھے اور انہوں نے جرم سے پاک معاشرے والا ماحول اسی وقت دیا جب وہ عوام الناس کے سامنے چند مجرموں کو ان کے جرم کی سزا دے چکے.

    بہرحال انسان ہونے کے ناطے سے بھی دیکھیں تو یہی سمجھ آتی ہے کہ کسی کو نصیحت کرنے کا فائدہ اپنی جگہ پر ہے لیکن جرائم روکنے کے لیے نصیحت کی بجائے سزا کا خوف زیادہ موثر ہے اور اگر ایک جرم کے بدلے میں سب کے سامنے مجرم کو سزا مل جائے تو کافی لوگ اس جرم سے توبہ کر لیتے ہیں اور مجرم بھی گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے. اس وال پر ان شا اللہ سلسلہ وار ساری اسلامی سزاؤں کی انسانی قوانین کی روشنی میں افادیت پر موقف پیش کروں گا لیکن فی الحال موجودہ ٹاپک کے لحاظ سے دیکھتے ہیں کہ کسی معصوم بچے کے ساتھ بدفعلی کر کے اسے قتل کر دینے کے جرم کی سزا دینا کسی بھی عالمی قانون یا عالمی مذہب کی روشنی میں مناسب عمل ہے کہ وحشیانہ فعل ہے….!

    زنا یا لواطت خود ایک بہت بڑا جرم ہے اور کسی بھی معاشرے میں پسندیدہ نہیں لیکن زنا بالجبر جسے عالمی ڈکشنری میں ریپ کہا جاتا ہے انتہائی گھناؤنا جرم ہے اور ریپ کے بعد قتل اس سے بھی زیادہ سنگین. مقتول بچے کے والدین چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اس قاتل کے لیے دل میں جذبہ انتقام پالتے ہیں اور یہ انتقام اسے قتل کرنے یا اس قاتل کے بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کی صورت میں مکمل ہوتا ہے.

    تو کیا ہی اچھا ہو کہ ریاست خود ہی اس قاتل کو اپنے انجام تک پہنچا دے یا کم از کم اس کے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کر دے تا کہ اس کے جرم کی سزا اس کے بچوں کو نہ ملے. (کچھ دن قبل ایک خبر سنی تھی کہ ایسے مجرم کو سزا کے طور پر اس کی جنسی صلاحیت کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے لیکن ابھی تک کسی مجرم کو یہ سزا ہوئی ہے…. سننے میں نہیں آیا ). مان لیا کہ موجودہ صورتحال میں میرا جسم میری مرضی والوں کا ریاست پر بہت دباؤ ہو گا… اسی طرح باقی این جی اوز اور امریکی حکومت کا بھی دباؤ موجود ہو گا کسی حد تک…. لیکن کم از کم اس جرم پر نہیں کیوں کہ یہ جرم ہر مذہب اور ہر عالمی قانون کی نظر میں جرم ہی ہے.

    عین ممکن ہے کہ ایک سزا کے بعد عالمی پریشر میں اضافہ ہو جائے اور اس "قدامت پسندی اور وحشیانہ فعل” پر عالمی سطح پر مذمت کی جائے لیکن حالات و واقعات کی سنگینی کی احساس دلا کر یہ دباؤ کم کیا جا سکتا ہے. پچھلے چند سالوں میں موجودہ حکومت کے پاس مقتول بچوں کی لاشوں کی اتنی تصاویر تو جمع ہو ہی چکی ہیں جنہیں دکھا کر روشن خیال اور جدت پسند نام نہاد آقاؤں کا منہ بند کروایا جا سکے .

    اب دوسری وجہ ڈسکس کرتے ہیں اور یہ وجہ پہلی سے زیادہ بھیانک اور زیادہ مشکل بیان ہے. بس اتنا سمجھ لیجیے کہ جس ملک میں پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک جیسی کتابیں سرعام چھپتی اور بکتی ہوں…. جہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیاستدان عورتوں کی ننگی تصاویر پاکستان کے گلی کوچوں میں پھینکی جاتی ہوں…. جہاں ٹک ٹاک فاحشہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر سلیفیاں بنواتی ہو اور اس سنگین کیس کو بغیر کسی اعلان کے ہلکی سی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد کلوذ کر دیا جاتا ہو اور جہاں کے پارلیمنٹ ارکان پانچ چھ وزارتیں کرنے کے بعد بھی کنوارے رہنا پسند کرتے ہوں ان سے بھلا ایسے قوانین یا تعزیرات کی امید رکھنا کہاں کی عقل مندی ہے…. ؟

    اس تحریر کو بیشک اپنے نام سے یا بغیر نام سے کاپی پیسٹ اور شئیر کریں. یا اپنے الفاط اور اپنے انداز میں سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں لیکن گزارش ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور کریں. اور اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں جب تک کوئی موثر قانون قومی اسمبلی سے پاس ہو کر نہیں آ جاتا اور ان سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزا نہیں مل جاتی.

    ورنہ یقین کریں اگر سزا دینا جرم کو روکتا ہے تو سزا نہ دینا نہ صرف مجرم کے حوصلوں میں اضافہ کرتا ہے بلکہ عام انسان کو بھی جرم کرنے کی ترغیب دیتا ہے. جرائم کی جو آگ آپ کے شہر اور آپ کے گلی محلے میں لگ چکی ہے اگر اس پر سزا کا پانی ڈال کر ٹھنڈا نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب اللہ نہ کرے آپ کا گھر اور آپ کے بچے بھی اس آگ سے محفوظ نہیں ہوں گے.
    #رنگِ_سفیر

  • دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر
    از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    قوم بنی اسرائیل قوم یہود اپنی چالاکی کی بدولت مشہور ہے یہ نہایت شاطر تھے اور دنیا کے امن و امان کیلئے انتہائی خطرہ تھے سو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں قوم بنی اسرائیل کی مثالیں دے کر سمجھایا
    یہودی اس قدر احسان فراموش ہیں کہ انہوں اپنے پیغمبر موسی علیہ السلام کی باتوں کا رد کیا کہ جنہوں نے فرعون کے چنگل سے ان کو آزادی دلوائی تھی
    اسرائیل دنیا کا واحد یہودی ملک ہے جس کی آبادی تقریبا 78 لاکھ اور رقبہ 8522 مربع میل ہے یوں تو بظاہر یہ ایک چھوٹی سی ریاست ہے مگر اس شاطر فطرت قوم نے ساری دنیا پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں آج دنیا کے بڑے بڑے برانڈ جیسے سام سنگ،ڈیل،ایریل، پیپسی وغیرہ انہی کی ملکیت ہے حتی کہ دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ بھی اس ناجائز ریاست کے آگے بے بس ہے دنیا کے بڑے بڑے ادارے اسی کی ملکیت ہیں
    سوچنے کی بات ہے کہ ایک کمزور قوم ہمارے اوپر اس قدر مسلط ہو گئی کہ پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور اب عالمی نقشے سے فلسطین کا نام تک مٹا دیا گیا ہے مگر یہودی یہ بھول گئے کہ نقشوں سے قومیں نہیں ہوتیں قومیں تاریخ سے ہوتی ہیں سو اس بزدل قوم کی تاریخ اور اس کا علاج کیسے ہو گا آپ پر وضع کر رہا ہوں عہد رسالت سے
    عہد رسالت میں بھی یہودی مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے اور معاشرے کیلئے خطرہ تھے سو میرے نبی نے اپنی شفیق و رحیم مزاج فطرت اور موسی علیہ السلام کی امت ہونے کے ناطے غزوہِ بدر سے پہلے ان مدینہ کے یہودیوں سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی اور آپس میں اتحاد قائم رکھا جائیگا مگر بد فطرت یہودیوں نے جنگ بدر میں دھوکہ دیا
    یہودی زیادہ تر لوہاروں اور سوناروں کا کام کرتے تھے اس لئے ان کے پاس پیسے اور اسلحہ کی فراوانی رہتی تھی جس کے باعث یہ متکبر ہوتے چلے گئے
    شوال 2 ہجری کو یہودیوں کے قبیلہ بنو قینقاع کے ساتھ میرے نبی کا غزوہِ ہوا جس کی وجہ یہ بنی کہ ایک مسلمان عورت ایک یہودی سونار کے پاس خرید و فروخت کیلئے گئی تو اس یہودی سونار نے اس صحابیہ رسول کو کہا کہ نقاب اتار دے مگر میرے پاک نبی کی عفت مآب صحابیہ نے انکار کیا جس پر شاطر دماغ یہودی نے اس عورت کی چادر کسی چیز سے باندھ دی جب وہ عورت اٹھی تو اس کی چادر اس کے چہرے سے ہٹ گئی اس پر بیٹھے ہوئے یہودیوں نے قہقے لگائے
    اس سارے منظر کو ایک عاشق رسول صحابی دیکھ رہا تھا اس نے اس عورت کی توہین پر اس گستاخ یہودی کو قتل کر دیا تو بدلے میں یہودیوں نے بھی اس صحابی رسول کو شہید کر دیا
    بات نبی ذیشان تک پہنچی شفیق نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود بنو قینقاع کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو سمجھایا کہ اللہ قوم یہود اللہ سے ڈرو کہیں بدر کی طرح تمہارا بھی حال قریش جیسا نا ہو جائے
    اس پر متکبر بنو قینقاع کے یہودیوں نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا پالا قریش کے ناتجربہ کار جنگجوؤں سے تھا اگر تمہار پالا ہم تجربہ کار اور ماہر لڑاکا بنو قینقاع سے پڑا تو پتہ چل جائے گا
    بنو قینقاع کے یہ متکبرانہ جملے سیدھی جنگ کی دھمکی تھی
    لہذہ حکمت و بصیرت کے پیکر اور جرنیل اعظم جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے 15 شوال 2 ہجری کو صحابہ کی جماعت ساتھ لی اور بنو قینقاع کی طرف چل دیئے
    شاطر مگر بزدل بنو قینقاع کے یہودی اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ننگی تلواروں کیساتھ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے اور بغیر لڑے قلعہ بند ہو گئے جس پر نبی کریم نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کہ پندراں دن تک جاری رہا سولہوی دن یہودیوں نے اعلان شکشت کیا اور نبی کریم کی سپاہ نے تمام یہودیوں کو گرفتار کر لیا
    دستور عرب کے مطابق جنگی قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی اور ان تمام جنگی قیدی بنو قینقاع کے یہودیوں کی موت بھی یقینی تھی سو ان بد فطرت اور شاطر یہودیوں نے عبداللہ بن ابی منافق کے ذریعے بارگاہ رسالت میں معافی نامہ بیجھا جسے میرے نبی نے رد کر دیا
    چونکہ عبداللہ بن ابی منافق ابھی نیا ہی مسلمان ہوا تھا اور اس کے بنو قینقاع قبیلے سے گہرے مراسم تھے اس لئے اس نے نبی کریم کی بارگاہ میں بار بار ان منافقین بنو قینقاع کی جان بخشی کی درخواست کی اور آخر نبی کریم نے عبداللہ بن ابی منافق کی درخواست قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سارے کے سارے فوری طور پر اپنا علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں چنانچہ اصحاب محمد ان بنو قینقاع کے بزدل مگر متکبر یہودیوں کو انہی کے آبائی علاقے سے نکال کر خیبر تک چھوڑ آئے جہاں سے یہ پھر شام چلے گئے
    یہاں قابل غور بات ہے کہ یہودی کل بھی دولت و اسلحہ کے بل بوتے پر متکبر تھے اور آج بھی ہیں مگر نبی کریم نے ان کو تبلیغ کی تو یہ نا سمجھے مگر تلوار دیکھتے ہی یہ یہودی منافق چھپ گئے اور لڑے بغیر جان کی امان پانے پر مجبور ہو گئے اور آج بھی یہودی اسلحہ و دولت کے بل بوتے پر پوری دنیا پر اپنی ڈھاک بٹھائے ہوئے جسے پوری دنیا سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر ناجائز قبضہ ختم کرکے بیت المقدس کو آزاد کردے
    مگر متکبر یہودی آگے سے دھمکیاں دیتا ہے
    تاریخ گواہ ہے کہ یہ یہودی ایک بزدل اور منافق قوم ہے جو اسلحہ دیکھتے ہی سرنڈر کر دیتی ہے سو آج فلسطین پر ان کا قبضہ ختم کروانے اور دنیا کے نقشے پر اسرائیل کی بجائے فلسطین کا نام لانے کیلئے نبی ذیشان کی جماعت کا سا کام کرنا ہوگا ملت اسلامیہ کے حکمرانوں کو اپنا اسلحہ ان کو دکھانا ہوگا یقین کریں چاہے جتنی بھی بڑی ٹیکنالوجی ان کے پاس ہو مگر یہ لڑ نہیں سکتے یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والی منافق و بزدل قوم ہے مگر اس کیلئے ملت اسلامیہ کو جرأت مند لیڈران کی ضروت ہے تبھی غزوہِ بنی قینقاع کی یاد دہراتے ہوئے ان کو آج پھر فلسطین سے نکالا جا سکتا ہے دنیا کے نقشے پر آزاد فلسطین کا نام کنندہ کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر کچھ نہیں ہوگا سوائے وقت کے ضیاع کے

  • بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے   تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے…!!!
    [جویریہ بتول]۔
    یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو چکی ہے کہ مسلمان ایک مہذب،فیاضی،اور خدا ترسی و دردِ انسانیت سے مالا مال امت ہیں…
    ان کی تعلیمات اس قدر ارفع ہیں کہ باقی اقوام بھی قوانین اور ضابطے یہاں سے مستعار لیتی رہی ہیں…
    جب جب بھی مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا تب تب مفتوحہ علاقوں کے مکینوں کے ساتھ مسلمان لیڈرز کا حسنِ سلوک،رواداری اور فیاضی تاریخ کی روشن اور تابندہ مثالیں بنتا چلا گیا…!!!
    لیکن ملتِ اسلامیہ پر ظلم و ستم کی خونچکاں داستاں اور خونِ مسلم کے ارزاں ہونے کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔
    اپنے تئیں مہذب کہلانے والی اقوام نے جب بھی غلبہ پایا تو اخلاقی گراوٹ اور ذہنی پستی اور درندگی کی انمٹ تاریخ رقم کر دی…!!!
    ساٹھ کی دہائی میں عربوں کے سینے میں خنجر پیوست کرتے ہوئے اسرائیل اور یہودی آباد کاری کی بنیاد رکھی گئی اور فلسطین کے نہتے مظلوم مسلمانوں کی سر زمیں پر ناجائز قبضہ،مکانات کی مسماری،فصلوں کی تباہی اور بے در و گھر کر دینا اب ایک معمول کی بات بن چکی ہے…
    مسئلہ کا دو ریاستی حل ایک خواب بنتا جا رہا ہے اور اسرائیلی ستم ظریفی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے…
    گزشتہ روز گوگل اور ایپل ایپلیکیشن میپ سے فلسطین کا نام حذف کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت پہلے کے آغاز کا ایک تسلسل ہے…
    وہ قبلہ اوّل جو غیر مسلموں کے ہاتھوں تاریخ میں بار بار تاخت وتاراج ہوا،
    پون صدی سے ایک بار پھر کسی عمررضی اللّٰہ یعنی اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی راہ تک رہا ہے…
    کہ جب عمر اپنے غلام کو سواری پر بٹھائے اپنی چلنے کی باری پر سواری کی لگام تھامے پیوند زدہ لباس کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عیسائی سربراہان ششدر رہ گئے تھے کہ یہ ہے مسلمانوں کا خلیفہ؟
    اور بیت المقدس کی چابیاں عمر کے حوالے کر دی گئیں۔
    اے تاریخ کےورقِ روشن…
    ہمیں تُجھ پر ناز ہے…!!!
    تاریخ نے ٹھہر کر وہ داستان بھی اپنے سینے میں محفوظ کر لی تھی جب 1176ء میں ایک صلیبی سردار کی حرکات جو یروشلم کے عیسائی بادشاہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی تھی تو سلطان حرکت میں آیا…
    جو اس کی اخلاقی،سیاسی،ملی اور مذہبی نقطۂ نظر سے بہترین حکمتِ عملی تھی۔
    اور اس نے یروشلم کو عہد شکن قوم کے شکنجے سے آزاد کروا لیا تھا۔
    مگر فاتح بن کر ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں رقم نہیں کی گئی تھیں،بلکہ محکوم عیسائیوں کے ساتھ سلطان کا حسنِ سلوک تاریخ کا جھومر بن گیا اور عیسائی مؤرخین اس بات کا اعتراف کیئے بغیر نہیں رہ سکے کہ:
    Even the Christian Europe,Saladin was justly celebrated and admired for his generous treatment of his defeated enemies…
    (Bernard Lewis).
    لیکن آج امت قحط الرجال کے دور سے گزر رہی ہے…
    کڑا اور عجب وقت درپیش ہے،بحرانوں کا تسلسل ہے…اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے اور زخم ہیں کہ بڑھے جا رہے ہیں…
    حالیہ سالوں میں لاکھوں بے گناہ مسلمان موت کے گھاٹ اتر گئے،
    اتنے بڑے انسانی المیے پر انسانی حقوق کے داعی بھی مہر بہ لب رہے…
    ہاں یقینًا کہ ان کا کام صرف مشاہدہ ہے،دخل اندازی نہیں…!!!
    کیا صرف مشاہدے کیئے جاتے رہیں گے اور مسلمان ممالک ایک ایک کر کے ظلم و تباہی کی نت نئی رنگینیوں میں رنگے جاتے رہیں گے…؟؟؟
    دنیا کے نقشہ پر موجود حل طلب دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے کیا نقشے سے ہی حذف کر دیا جائے گا…؟
    ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ اپنے مسائل کا حل ہمیں خود تلاشنا ہو گا…
    انسانیت کے حقوق کا عَلم ہم نے خود تھامنا ہو گا…
    تاریخ کی نظر کسی عمر و ایوبی کے حقوقِ انسانی اور حسن و فیاضی سے لبالب بھرے کردار کو تلاش رہی ہے…!!!
    ہمیں آوازِ ضمیر کو شدت سے دبا دینے کی بجائے اسے دنیا میں بلند کرنا ہو گا تبھی ہم اپنا معیار،مقام اور وقار بچا اور بحال رکھ پائیں گے ورنہ سازشوں کا دیو ہیکل اژدھا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا…!!!
    حکیم الامت نے اس درد کو کیا خوب بیان کیا تھا:
    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے،
    یہ مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے۔
    اے لا الہ الا اللّٰہ کے وارث،باقی نہیں ہے تجھ میں…
    گفتارِ دلبرانہ…کردارِ قاہرانہ…!!!
    ===============================

  • مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش   از قلم : حدیفہ رضا

    مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش از قلم : حدیفہ رضا

    مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش…!!!
    از قلم۔۔۔۔۔حدیفہ رضا
    ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق۔۔!!
    ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اَہلِ عرب کا۔۔۔!!
    مقصد ہے ملوکیتِ افرنگ کا کچھ اور۔۔۔!!
    قصہ نہیں تاریخ کایا شہد ورطب کا۔۔۔!!
    فلسطین..
    یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان میں آتا ہے ۔اسکا دارالحکومت بیت المقدس ہے۔جو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کیلئے مقدس ہے۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔
    انبیاء کی اس سر زمین پر پچھلے ایک صدی سے صیہونیوں نے قبضہ جما رکھا ہے ۔اور اس پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جانے لگے ہر روز کی قتل و غارت اور جنگیں، اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فلسطین کے نام کو دنیا کے نقشے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔ایسی صورتحال میں القدس کو ہماری ضرورت ہے وہ منتظر ہے ہم اسکی آواز پر لبیک کہیں جیسے آج سے صدیوں پہلے صلاح الدین ایوبی نے کہتے ہوئے اسکو آزاد کروایا تھا ۔صلاح الدین ایوبی جیسی شمع بجھنے کے بعد تو مسلمانوں کی بہادری، غیرت اور جہادی جذبہ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا ۔
    جس دن صلاح الدین ایوبی اس دنیا سے گئے اس دن القدس بھی اشکبار تھی اپنے فاتح کو رخصت ہوتا دیکھ کر۔اور وہ دن القدس کے آنسوؤں کا آخری دن نہ تھا بلکہ اب اس کیلئے آنے والا ہر دن غمگین تھا ۔اس کے بعد سے اب تک صدیاں بیت گئی لیکن القدس کے آنسو پونچھنے کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا نا ہوا۔اور القدس کی آنکھیں راہ تکتی رہی اپنے فاتحین کا۔
    اے امت مسلمہ…!
    القدس کے بام و در تمہارے انتظار میں ہیں ۔کیا تمہیں اپنے قبلہ اول سے محبت نہیں؟ وہ سوال کر رہی ہیں آج کی مسلم ماؤں سے کیا انھوں نے عمرو بن العاصؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے بیٹے پیدا کرنے چھوڑ دییے ہیں؟ کیا آج کی ماؤں میں اب وہ خولہ اور صفیہ جیسا جذبہ باقی نہیں رہا؟ وہ جواب طلب کر رہی ہے آج کے ہر مسلمان سے جو اپنے بیت المقدس کو بھولے بیٹھا ہے۔
    وہ یاد کر رہی ہے اس وقت کو جب عمرو بن العاصؓ اور انکے ساتھیوں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کروایا تھا۔بلالؓ صحابی آپؓ کے ساتھ تھے یہ وہ صحابی تھے جو نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد ایسے چپ ہوئے کہ لوگ آپکی آواز کو ترس گئے تھے ۔بیت المقدس کی فتح پر جب آپکی آواز بیت المقدس کی دیواروں سے ٹکرائی تو ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔
    اے امت مسلمہ کے لوگو..!
    عمرو بن العاصؓ اور صلاح الدین ایوبی کے بعد مسجد اقصی آذان کو ترس گئی ہے ۔وہ آج تک کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہی ہے ۔وہ عظیم مسجد جس کی آواز پوری دنیا سنتی تھی اس میں آج تک خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔صلیبوں نے ان آوازوں کا گلا گھونٹ رکھا ہے ۔اور جب ان سے بھی انکا دل نا بھرا تو اب ارض فلسطین کا نام دنیا سے ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔اے مسلم..! اب اور کتنا تماشا دیکھنا ہے؟ فلسطین پر قبضہ ہوا ہم خاموش رہے۔اس میں رہنے والوں پر ظلم ڈھائے گئے ہم خاموش رہے اور جب فلسطین کو دنیا کے نقشے سے ختم کیا جارہا ہے تو کیا اب بھی چپ رہو گے..؟
    بیت المقدس وہ عظیم جگہ ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام نے بنی نوع انسان کو محبت کا سبق دیا ۔وہاں ان صلیب کے ماننے والوں نے اس حد تک درندگی کی کہ جب انہیں کسی محاذ پر فتح ہوتی تو وہ بیت المقدس میں جشن مناتے جس میں ہماری بہنوں بیٹیوں کو بے آبرو کیا گیا اور مسلمانوں کو ذبح کرکے انکا گوشت پکا کر کھاتے… اب تمہیں ہر ایک معصوم کا بدلہ لینا ہوگا جو بیت المقدس کی محبت میں شہید ہوا تمہیں بدلہ لینا ہیں ان معصوم بچوں کا جن کو بیت المقدس کی گلیوں میں بے دردی سے قتل کیا گیا ان بہنوں کا بدلہ لینا ہیں جن کی مسجد اقصی میں آبروریزی کی گئی ۔بیت المقدس کی دیواروں سے آج بھی ان بیٹیوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں انکو جو دل میں بیت المقدس کا درد رکھے ہوئے ہے ۔
    یاد رکھو..!
    یہ کوئی ذاتی جنگ نہیں ہے ۔نہ ہی کسی حکمران کی حکمرانی کے تحفظ کیلئے لڑی جانے والی لڑائی ہے ۔یہ انفرادی لڑائی ہے ۔یہ اسلام کے تحفظ کی جنگ ہے یہ القدس کو آزاد کرانے کی جنگ ہے۔یہ جنگ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے۔جو آخری وقت تک لڑی جائے گی جب تک مسلمان اپنی کھوئی ریاستیں واپس نہیں لے لیتے، جب تک وہ اللہ کے ان احکامات کی طرف واپس نہیں پلٹتے جسے وہ بھولے بیٹھے ہیں ۔یہ وہ جنگ ہے جو دنیا میں موجود ہر مسلمان پر فرض کردی گئی ہے ۔کیونکہ یہ دین اسلام کے لیے لڑی جانے والی جنگ ہے۔(ان شاءاللہ)

    اے میری مسجد اقصی…!
    دل تیرے حال پر ہے غمزدہ…!
    نبی کریم ؐجہاں سے گئے معراج پر…!
    تو ہے وہ عظمتوں والی جگہ…!
    گونجی تھی آذان تیرے اندر…!
    جو دی تھی صحابی بلال ؓ نے…!
    آج بھی تو ترس رہی ہے..!
    آذان کیلئے دے رہی ہے صدا..!
    تو پکار رہی ہے آج کے مسلمان کو..!
    جو ہے غفلت کی نید سو رہا.!

  • اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے   تحریر:منہال زاہد سخی

    اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے تحریر:منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    زندگی میں کامیابی کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ جن کے تحت زندگی گزار کر انسان اپنی منزل پر قدم رکھتا ہے ۔ ویسے تو کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ایسے موضوعات پر ۔ اس کے برعکس قرآن کریم ایسے واقعات کا مجموعہ ہے ۔ جو ہمیں ہر زندگی کے ہر موڑ پر ہر مشکل وقت میں ہر رنج و الم کے موقع پر اس کائنات کا سب سے بہترین رہنما ثابت ہوتا ہے ۔ اگر شوق و ذوق اور غور و فکر سے اس کو ترجمہ بمع تفسیر پڑھا جائے تو ہمیں اپنی ہر مشکل کا حل مل جائے ۔ قرآن مجید میں 30 سپارے 114 سورتیں ہیں ۔ اور ان ہی سپاروں اور سورتوں میں کئی ایک واقعات ہیں ہماری رہنمائی کیلئے ۔ جن میں سے ایک سورت کہف ہے جس کی فضیلت بہت زیادہ ہے ۔ اس سورت کو جمعہ مبارک کے دن خصوصاً پڑھا جاتا ہے ۔ اس کو ہر جمعہ پڑھنے سے دنیا کے سب سے بڑے فتنے دجال سے محفوظ ہوا جاتا ہے ۔ اس سورت میں چار واقعات ہیں ۔ جن میں سے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ بھی ہے ۔ اس واقعہ میں چند ایک کامیابی کے بڑے اصول ہیں ۔

    حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جب آپس میں ملے تو حضرت خضر نے ایک بات کہی میرے ساتھ صبر سے رہنا ہوگا ۔ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے ۔ منزل پر پہچنے پر حضرت خضر نے کشتی کے تختے توڑ دئے ۔ جس پر حضرت موسٰی کا صبر جواب دے گیا اور پوچھا یہ کہ کشتی کے تختے کیوں توڑے ۔ حضرت خضر نے جواب دیا ۔ میں نے کہا تھا تم نہیں رہ پاؤ گے ۔ حضرت موسیٰ نے کہا اب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ دونوں نبی پھر اکٹھے سفر کرنے لگے ۔ ایک جگہ ایک لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کردیا ۔ حضرت موسیٰ نے پھر پوچھا یہ کیوں قتل کیا ۔ حضرت خضر نے کہا میں نے کہا تھا میرے ساتھ نہیں رہ پاؤ گے ۔ حضرت موسیٰ نے کہا انشاللہ اب مجھے صبر کرنے والوں سے پائیں گے ۔پھر سفر شروع ہوا آگے جاکر ایک بستی میں رکے تو بستی والوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا ۔ اسی بستی میں ایک دیوار تھی جو گرنا ہی چاہتی تھی ۔ حضرت خضر نے اس دیوار کی مرمت کرکے اس کو درست کردیا ۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا ایک تو بستی والوں نے مہمان نوازی نہیں کی اور دیوار مرمت کردی ۔ آپ یہ اجرت پر بھی کر سکتے تھے ۔ اس پر حضرت خضر نے کہا اب سے ہمارے راہیں جدا ہیں ۔ آخر میں تمہیں بتا دیتا ہوں یہ سب کچھ کیوں کیا ۔ میں نے کشتی کے تختے اس لئے توڑے وہاں کا بادشاہ ظالم تھا جو صحیح کشتیوں پر قبضہ کرلیتا تھا ۔ اور وہ کشتی پانی میں کام کرنے والے کچھ نیک لوگوں کی تھی ۔ جس لڑکے کو قتل کیا اسکے والدین نیک تھے ۔ اور وہ بڑا ہوکر نافرمان بنتا اس لئے قتل کیا اور اللّٰہ انھیں پاکیزہ اولاد دے گا ۔ اور جو دیوار مرمت کی اسکے نیچے دو یتیم بچوں کا مال تھا ۔ اللّٰہ کی چاہت تھی کہ جب وہ بڑے ہوجائیں تو اپنا خزانہ نکال لیں ۔ اس کے بعد دونوں کے راستے جدا ہوگئے ۔ آئیے دیکھتے ہیں اس واقعہ میں ہمارے لئے کیا سبق ہے ۔

    1 سبق : اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے ۔

    2 سبق : اللّٰہ رب العزت تقسیم پر خوش رہنا چاہیے کسی کو کم دے کر آزماتا ہے کسی کو زیادہ دے کر آزماتا ہے ۔ پھر چاہے وہ دولت ہو عزت ہو یاں پھر علم و دانائی ہو ہمیں اس پر شکر ادا کرنا چاہیے جتنا بھی ہمارے پاس ہو ۔

    3 سبق : اللّٰہ رب العزت ہر بندے کو اس کے مطابق عطا کرتا ہے ۔

    4 : اللّٰہ نیک اولاد کی خود حفاظت کرتا ہے ۔ جس طرح ان کے خزانے کی حفاظت فرمائی ۔

    5 سبق : سب سے اہم سبق صبر جب آپ زندگی کے ایسے موڑ پر آگئے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا میں ہر طرف سے مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔ تو ایسے حالات سے آپ کو صرف ایک چیز باہر کرسکتی ہے ۔ اور وہ ہے صبر آپ اتنا صبر کریں کہ ان مشکلات میں خود کو ڈھال دیں یاں پھر ان مشکلات کی زنجیر کو توڑ دیں ۔ اگر حضرت موسیٰ صبر کرتے تو حضرت سے خضر کے ساتھ رہ کر بہت کچھ حاصل کرسکتے تھے ۔

    6 سبق : اللّٰہ ہر انسان کو رہنما عطا کرتا ہے اس کی زندگی میں اب وہ اس پر ہے کہ اس کو پہچان کر اس کا فائدہ اٹھائے یاں اس کو نظر انداز کرکے خود کو کامل سمجھنے لگے ۔

    7 سبق : اللّٰہ اپنے نیک بندوں کا کبھی برا نہیں چاہتا ۔

    8 سبق : اللہ اپنے بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے ۔ ان کے مال کی ان کی ہر چیز کی ۔

    9 سبق : ہم ایسا بہت کچھ نہیں جانتے جو ہمارا رب جانتا ہے ۔ دنیا میں ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ جو ہمیں الٹ نظر آتے ہوں لیکن ہوسکتا ہے اللّٰہ ان واقعات میں اپنے نیک بندوں کی حفاظت اور ان سے کام لے رہا ہو ۔

    10 سبق : اللّٰہ ہر برے کے بدلے اچھا عطا کرتا ہے

    (نوٹ : مجھے اتنا تو دین کا علم نہیں اگر کوئی غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں نہ کہ فتویٰ جاری کریں ۔ شکریہ 🥰 )

    #قلم_سخی
    #اسلامی_پاکستان
    #افضل_اسلام
    #SAKHI
    #Pakistani🇵🇰
    #القرآن

  • سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود  تحریر:مریم وفا

    سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود تحریر:مریم وفا

    ماں….!!!
    (بقلم✍🏻:مریم وفا).
    کڑی دھوپ کی حدت سے سائباں کی طرح ہے،
    میری ماں تو پیار کے بحر بے کراں کی طرح ہے
    ہر درد کو جو اپنے دامن میں سما لے
    میری ماں تو میرے لیے اس مسکاں کی طرح ہے
    زرد شاخوں پہ جو پھیلی ہوئی خزاں کوسمیٹے…
    میری ماں میرے لیے موسم بہاراں کی طرح پے
    مکینوں کے لیےہو جو نہ کسی جنت سے کم
    میری ماں تو میرے لیے اس مکاں کی طرح ہے
    جس کی آغوش محبت میں پہنچ کر ملتا ہے سکوں
    میری ماں تو میرے لیے اس گوہر افشاں کی طرح ہے
    اس کے لبوں پہ کھلتے ہیں سدا دعا کے ہی پھول
    میری ماں تو میرے لیےخوش رنگ گلستاں کی طرح ہے
    سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود
    میری ماں تو میرے لیے کل زماں کی طرح ہے…!!!
    ____=======_____=======______

  • اسلام کا تصور جمہوریت تحریر: نادیہ بٹ

    اسلام کا تصور جمہوریت تحریر: نادیہ بٹ

    (Islamic concept of democracy)
    "اسلام کا تصور جمہوریت”

    نادیہ بٹ

    اسلام ایک عالمگیر دین ہے جس کی منفرد اور جامع اقدار ہیں۔یہ دین کسی ایک فرد قبیلے گاؤں شہر یا ریاست کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام کائنات کے لئے ذریعہ نجات و رہنمائی ہے ۔

    اکثر مصنفین اسلامی سیاسی نظام کا مغربی تصور جمہوریت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں یا پھر اسلامی طرز حکومت کا اصل جمہوری طرز حکومت کو قرار دیتے ہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اسلامی نظام کے تمام تر اصول و ضوابط قرآن میں تحریری شکل میں ملتے ہیں جبکہ ان اصول و ضوابط کی عملی شکل حضور *ﷺ* کی حیات طیبہ ہے اس لئے اسلام نے جو طرز معاشرت متعارف کروایا ہے وہ دنیا کے تمام نظاموں سے منفرد مرد اور اپنی مثال آپ ہے اس لئے اسلامی طرز حکومت کا مغربی تصور جمہوریت سے تقابل کرنا یا اسلامی نظام حکومت کو جمہوری قرار دینا اتنا صحیح معلوم نہیں ہوتا، کیوں کہ نہ تو قرآن میں اسلامی طرز حکومت یا سیاسی نظام کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے نہ بادشاہت کا بلکہ صرف اور صرف اسلامی نظام حکومت یا اسلامی طرز معاشرت یا اسلامی تہذیب و تمدن کے نام ہی تاریخی طور پر سامنے آئے ہیں ویسے بھی اگر بغور دیکھا جائے تو اسلامی نظام حکومت کو اصلی جمہوریت کہنا زیادتی ہوگی۔۔۔۔۔۔
    کیونکہ اسلام نے خلیفہ یا امام کے چناؤ کے لیے نہ صرف امام کی خصوصیات بتائی ہیں بلکہ ووٹر یا سربراہ مملکت کا انتخاب کرنے والوں کی بھی خصوصیات بتائی ہیں۔۔۔۔۔

    اسی طرح جمہوریت اکثریت کی حکومت ہے جبکہ اسلام میں اکثریت کی حکومت کا کوئی تصور نہیں ملتا
    بلکہ صرف اللہ تعالی جو کہ واحد شریک ہے کے اقتدارِ اعلٰی کا تصور ملتا ہے اس لحاظ سے مغربی یا جدید جمہوریت میں عوام (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرتے ہیں۔
    اسلامی نظامِ حکومت میں اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کے نفاذ کے لیئے سربراہان اپنی خصوصیات اور کردار کی بنیاد پر چنا جاتا ہے…
    اسی لئے اسلامی نظام حیات ایک منفرد نظام ہیں اس کو جمہوری نظام کہنا بالکل ٹھیک معلوم نہیں ہے

    *دوسری دلیل……!*
    جمہوریت میں پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ہونا ضروری ہوتا ہے حزب اقتدار کا کام قوانین بنانا بھی اور انہیں نافذ کرنا ہے۔
    جبکہ حزب اختلاف کا کام حزب اقتدار پر ہر حال میں تنقید جبکہ اسلامی نظام میں نہ تو کوئی حزب اقتدار ہے نہ ہی حزب اختلاف
    بلکہ مجلس شوریٰ کا ہر رکن حزب اقتدار اور حزب اختلاف ہے۔

    اسلامی طرز حکومت میں سربراہ مملکت کو براہ راست پرکھنا ہر فرد کا فرض ہے اور اگر وہ راہ راست پر ہے تو اس کی اطاعت بھی ہر فرد پر فرض ہے۔اختلاف کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت نام کی چیز اسلامی طرز حکومت میں موجود نہیں بلکہ اسلامی طرز حکومت جمہوریت سے بھی بہتر اور اعلی نظام حکومت ہے

    *تیسری بڑی دلیل…!*
    جمہوریت میں عالم اور ان پڑھ کا ووٹ ایک ہی وزن کا حامل ہے جو کہ فطرت کے خلاف بات ہے۔ جبکہ صدر یا وزیراعظم امور سلطنت کے سلسلے میں چپڑاسی یا کلرک سے مشورہ نہیں لیتا بلکہ متعلقہ ماہرین سے ہی مشورہ لیتا ہے
    ظاہر ہے کہ ایک چپڑاسی قانون پر لیکچر نہیں سکتا ۔ مختصر یہ کہ اسلامی نظام میں سربراہِ مملکت کو منتخب کرتے وقت ہمیشہ دیانتدار، ایماندار
    اور دانشمند لوگ آپس میں مشورہ کرتے ہیں ہیں کیونکہ قرآن میں ارشاد ہے۔
    *”علم والے اور جاھل برابر نہیں ہیں”*
    جبکہ جدید جمہوریت میں معاشرتی تفاوت کے باوجود عالم اور جاہل کا ووٹ ایک ہی حیثیت کا حامل ہے..!

    *اسی پر اقبال رحمتہ اللہ نے کہا تھا*
    *”جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں*
    *بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے”*

    اگر اسلامی نظام کو جمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر اسلامی نظام کو اسلامی سوشلزم یا اسلام میں کمیونزم بھی کہہ دینا چاہیئے ۔
    کیوں کہ سوشلزم میں بھی بہت سی اقدار اسلامی اقدار سے ملتی جلتی ہیں اسی طرح کمیونزم کی بہت سی اقدار بھی اسلامی نظام سے ملتی ہیں یہاں صرف یہ واضح کرنا ہے کہ دراصل اسلامی نظام جمہوری نہیں ہے
    یہ صرف ایک اسلامی نظام ہے جس کی اپنی منفرد اقدار ہیں ۔
    مساوات، رواداری اور قانون کی حاکمیت اپنی اصل حالت میں صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہی دیکھی جاسکتی ہے

    جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اقدار ایک جمہوری نظام کی خصوصیات ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں
    کیونکہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں عملی طور پر ریاست میں نام نہاد کامیاب ترین جمہوریت برطانیہ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔کیا وہاں پر ان کی اقدار یا قانون کی حاکمیت اصلی حالت میں موجود نہیں ہے؟؟
    کیا وہاں پر کئی سالوں پر محیط گورے اور کالے کا فرق نہیں پایا جاتا ؟؟
    مساوات کے اصولوں کی دھجیاں سب سے زیادہ برطانیہ میں ہی اڑائی جاتی ہیں۔قصہ مختصر یہ ہے کہ اسلامی نظام اپنے اندر ایک جامعیت رکھتا ہے جس کا اپنا ایک علیحدہ اور منفرد مقام ہے اور اسے دوسرے نظاموں کی مشابہت ثابت کرنا بالکل بیکار ہے۔

    *اب کچھ مغربی مفکرین کی آراء پر بھی نظر ڈال لی جائے…….*

    ماہر سیاسیات Burkeکا کہنا ہے:

    *”اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرنا کوئی فطرت یا قانون نہیں ہے کم تعداد بعض اوقات سے زیادہ مضبوط طاقت بھی ہو سکتی ہے اور اکثریت کی حرص کے مقابلے میں اس کے اندر زیادہ مقبولیت بھی ہو سکتی ہے۔”*
    جمہوریت کی شرائط اور خوبیوں پر بحث کرتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں:

    *”جمہوریتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شرائط شاذ و نادر ہی پوری ہوتی ہیں’عملی اعتبار سے جمہوریت دراصل جہالت کی حکمرانی کا نام ہے۔اس کی ساری توجہ تعداد پر رہتی ہے ‘کیفیت پر نہیں.اس میں ووٹ گنے جاتے ہیں ‘انہیں تولا نہیں جاتا۔”*

    آخری بات:

    مذکورہ دلائل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام کا طرز حکومت نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی شخصی ‘وہ اپنی مثال آپ ہے اور لازوال ہے۔جدید نظام اس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ان میں موجود چند ایک خوبیاں بھی اسی نظام سے مستعارلی گئی ہیں ۔جدید نظاموں سے قطع نظر اسلامی طرز حکومت ہر سقم اور کمزوری سے یکسر پاک قابل عمل نظام ہے۔۔۔!!!