Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فلسطین و کشمیر کی حمایت اہم ترین فریضہ…از….صابرابومریم

    فلسطین و کشمیر کی حمایت اہم ترین فریضہ…از….صابرابومریم

    مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر بر اعظم ایشیاء میں دو ایسے اہم ترین مسائل ہیں کہ جن کے منصفانہ حل کے بغیر خطے سمیت عالمی امن کی ضمانت نا ممکن ہے ۔ مسئلہ فلسطین کی بات کریں تو برطانوی استعمار کی سیاسی چال بازیوں کا شاخسانہ ہی نظر آتا ہے اور اسی طرح اگر کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں بھی ا س مسئلہ کو ایجاد کرنے والی برطانوی حکومت ہی ہے ۔

    دور حاضر میں کہ جب ایک طرف دنیا کو کورونا وائرس جیسی خطر ناک وباء کا سامنا ہے تو ایسے حالات میں عالمی سامراج بشمول امریکہ اور اس کے حواری، غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل اور جنوبی ایشیاء میں ہندو شدت پسند مودی حکومت کورونا وائرس کی وباء کو نہ صرف فلسطین، کشمیر بلکہ دنیا کے دوسرے مماک میں جاری تشدد اور ظلم کی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔

    امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اسرائیل فلسطین سمیت خطے کی عرب ریاستوں کا امن و امان برباد کئے ہوئے ہے ۔ اسی طرح بھارت کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیری عوام کو کچلنے میں مصروف ہے ۔ امریکہ براہ رات یمن، عراق، افغانستان، لیبیا اور لبنان سمیت دیگر مقامات پر انارکی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ لاطینی امریکائی ممالک کے خلاف بھی امریکی ظالمانہ پالیسیوں پر صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ونیزویلا، کیوبا اور بولیویا جیسی ریاستیں امریکی ظالمانہ پالیسیوں کا شکار ہیں ۔

    خلاصہ یہ کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت نے اس مہلک وائرس کو وجہ بناتے ہوئے اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا ہے لہذا ہ میں مظلوم انسانیت کے بنیادی مسائل کو فراموش نا کرتے ہوئے ان سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہئے ۔ ان مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے ہ میں مسئلہ فلسطین کو انسانی ہمدردی پر اجاگر کرنا چاہئے اسی طرح ہ میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کرنا چاہئے ۔

    امریکا میں نسل پرست سفیدفام ، فلسطین میں نسل پرست یہودی(صہیونی) اور بھارت میں ہندوتوا کے شدت پسند نظریات کے حامی ہندو پوری دنیا کے امن کیلئے ایک مستقل خطرہ ہیں ۔ جن کو ہم کسی صور ت نظر انداز نہیں کرسکتے اور اس سلسلے میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے آواز بلند کی جائے ۔ تا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور کشمیر کشمیریوں کا ہے ۔ فلسطین پر صہیونیوں کا تسلط ناجائز ہے اور اسی طرح کشمیر میں ہندوستانی حکومت کا تسلط بھی ناجائز ہے ۔

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا وائرس نے دنیا کے تمام مسائل اومظالم پر حاوی ہوکر فلسطین، کشمیر، یمن، افغانستان، عراق، لیبیا اور ان جیسے دیگر اہم مسائل سے توجہ کو متاثر کیا ہے ۔ کورونا وائرس سے متعلق کسی قسم کی سازشی تھیوری پر یقین نہیں کرتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وبائی امراض نے ہر چیز کو دھندلا کر رکھ دیا ہے ۔

    دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرقیادت امریکی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ صہیونی غیر قانونی ریاست نے مقبوضہ فلسطین کے محصور شہر غزہ اور مغربی کنارے کے بعض حصوں کو چھوڑ کر پورے فلسطین پر اپنا قبضہ مضبوط کرلیا ہے ہمارا قبلہ اول بھی صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے، مسئلہ فلسطین پر ہماری فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔

    اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے القدس پر صہیونی ریاست کے قبضے کو ناجائز تسلیم کیا ہے لیکن امریکہ صہیونی ریاست کی خوشنودی کے حصول کیلئے بین القوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور یہی صورتحال کشمیر کی بھی ہے بین الاقوامی قوانین کے تحت عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے لیکن بھارت نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کرلیالہذا موجودہ فلسطینی اور کشمیری صورتحال ہم سب کیلئے باعث تشویش ہے اور بھارت اور اسرائیل کے غیر قانونی دعووں کو عرب اور مسلم دنیا نے یکسر مسترد کردیا ہے ۔

    حال ہی میں پاکستان میں فلسطینیوں کے حقوق کے لئے سرگرم عمل این جی او فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن ویبنار میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی اہم شخصیات نے فلسطین ، کشمیر اور یمن سمیت عالم اسلام و انسانیت کے اہم ترین مسائل پر اظہار خیال کیا ہے ۔

    اسی عنوان سے پاکستان کی معرو ف سیاسی شخصیت سینیٹر مشاہد حسین سید نے فلسطین وکشمیر سے متعلق موجودہ صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ صرف مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام سے جڑاہوا نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا میں انصاف اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت انسانی حقوق کے مسائل اور حق خود ارادیت سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے بابائے قوم کا موقف بالکل واضح تھا، قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ایک مشترکہ محاذ بنانا چاہئیے اور اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہئیے تاکہ اس کے حل کیلئے کوششیں تیز کی جاسکیں ۔ یہ پیغام ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا مظلوم فلسطینیوں اور اور کشمیریوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔

    پاکستان کے قیام سے قبل 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے دو قراردادوں کو متفقہ طور پر منظو رکیا تھا جس میں سے ایک تو پاکستان کے قیام کیلئے تھی جبکہ دوسری فلسطینوں کی حق خوداردیت کیلئے تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا فلسطینیوں کے ساتھ کتنا گہرا رشتہ ہے ۔

    اس سے قبل بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 1938 میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے پہلی مرتبہ یوم یکجہتی فلسطین اور فلسطین فنڈ کا آغاز کیا تھا، یہ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کی فلسطین کے ساتھ طویل اور دیرینہ وابستگی ہے ۔ جب ہم کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں دو چیزیں دونوں میں مشترک ہیں ، کشمیر میں بھارتی وزیر اعظم مودی کا ہندوتوا کے نام پر نظریاتی ایجنڈا ہے جس کو وہ کشمیریوں پر لاگو کرکے مظالم ڈھارہے ہیں تو دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو صہیونیت کے نظریاتی ایجنڈے پر نہتے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں ، اور یہ دونوں ہی اقوام متحدہ کی قرارد ادوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہے ہیں ۔

    فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر خالد قدومی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں امریکا کی جانب سے تمام تنازعات کو اپنے مفاد میں کرنے کیلئے لاگو کرنے والے نیو ورلڈ آرڈر کے خلاف متحدہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ نئے ورلڈ آرڈر کے نتاءج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح امریکی انتظامیہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کررہی ہے اور ان کے حقوق سے محروم کررہی ہے یہ بالکل ویسا ہی ہورہا ہے جیسا کہ صہیونی ریاست مقبوضہ فلسطین میں کررہی ہے میں کہوں گا کہ اسرائیلی آرمی مقبوضہ فلسطین میں مقامی طورپر استحصال نہیں کررہی ہے بلکہ وہ بین القوامی قوانین کی بھی بدترین خلاف ورزی کررہی ہے ۔

    امریکی صدر تنازعات کی جڑ ہے جس نے اپنے اقتدار میں آتے ہی کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا کوئی دوریاستی حل نہیں ہے، اس کا صرف ہے حل ہے اور وہ ہے ایک یہودی ریاست جو اسرائیل کے نام سے جانی جاتی ہے، اس شیطانی موقف کے بعد امریکی صدر نے صدی کی ڈیل نے نام سے مشرقی وسطیٰ میں امن کیلئے ایک نام نہاد امن منصوبہ پیش کیا جس میں یکطرفہ طور پر فیصلے کئے گئے اور غرب اردن کے 30 فیصد علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

    لبنان میں اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ سید ابراہیم موسوی فلسطین و کشمیر کی صورتحال پر کہتے ہیں کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، کشمیریوں پر بھارتی اور فلسطینیوں پر صہیونی مظالم صرف کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ حق اور باطل کی جنگ ہے ۔ صیہونی مظالم کے باوجودحزب اللہ فلسطین کی آزادی کے بہت نزدیک ہے ۔

    امریکی اور صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ کا غیر قانونی محاصرہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ شام، لبنان، یمن، ایران اور تمام ممالک کے خلاف ہے جو آزادی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ، امریکی اور صہیونی ریاست پوری دنیا کے آزاد ممالک کو اپنا محکوم بناناچاہتے ہیں ۔ دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ اسرائیل عرب دنیا او اس خطے میں ایک کینسر کی مانند ہے جس کو ختم ہونا ہے، کسی بھی قو م کے اوپر ہمیشہ حکومت نہیں کی جاسکتی ہے ۔

    مسلم امہ کو رنگ نسل اور عقائد سے بالا دست ہوکر کشمیر، فلسطین، لبنان، شام،عراق، اور یمن سمیت تمام مظلوم مسلم ممالک کے حق کیلئے متحد ہونا ہوگا اور یہی ایک واحد راستہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو قائم رکھ سکتے ہیں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ آج دنیا بھر سے فلسطین وکشمیر کے لئے آواز بلند کی جا رہی ہے لہذا اب ضرورت اس امر کی ہے ان آوازوں کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی حکومتیں اور حکمران سامنے آئیں فلسطین وکشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات انجام دیں اور یہ عملی اقدامات یقینا مسلم دنیا کے آپس کے اتحاد سے ہی ممکن ہیں ۔

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی اسکالر ،شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • سفر کی تھکان سے منزل کی دہلیز تک    بقلم:جویریہ بتول

    سفر کی تھکان سے منزل کی دہلیز تک بقلم:جویریہ بتول

    منزل کی دہلیز تک…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اس سفر کی تھکان سے…
    ڈوبتی سی مسکان سے…
    کبھی تم جو ہار جاؤ…
    یہ نہ ہو سکے کہ تم مسکراؤ…
    قدم بھی یہ تھکے تھکے ہوں…
    لہجے بھی پھٹے پھٹے ہوں…
    زخموں پر چھید آ کر…
    بیٹھے ہوں ہمیں رُلا کر…
    ذہن کے بے صدا دریچے…
    سکوت ہوں گہرا خریدے…
    دل میں شور ہو انتقام کا…
    طوفان ہو ہر سو ابہام کا…
    شکوک کی سب زرد شاخیں…
    جو بنی ہوں سانسوں پر گہری شامیں…
    کانٹے ہر سو بدگمانیوں کے…
    خود رو بوٹیوں پر بڑھے ہوں…
    غلط فہمی کی راہوں پر…
    اپنے بھی گر کئی چلے ہوں…
    تو اندازِ حسن و جمال ہو…
    یہ ضبط بھی اپنا کمال ہو…
    زیرِ لب بس اک دعا رہے…
    ہونٹوں پر حسنِ ادا رہے…
    سجدہ کی حالت میں یہ جبین…
    کچھ اشک بہائے ایسے ثمین…
    انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ…
    اسی کی مدد ہو،اسی کو صدا…
    یعقوب کے لبوں سے جملہ جب ہے نکلتا…
    عشروں کا کھویا یوسف پھر کیسے ہے ملتا؟
    دل کی بے قراری کو چین ہے آنے لگتا…
    دھیرے دھیرے قدم بھی طاقت ہے پانے لگتا…
    دل کی دنیا بھی ہے کھلکھلانے لگتی…
    پھیکے لبوں پہ ہے پھر مسکان آنے لگتی…
    آزمائش کے دریا میں ہم سدا…
    اُبھریں بن کر ماہر تیراک…
    شکوؤں سے دامن اپنا بچا رہے…
    دعاؤں سے دل یہ بھرا رہے…
    لبوں پہ مچلتی فریادیں رہیں…
    منزلوں کو جو دیتی صدائیں رہیں…
    انہی آداب کے مسافر کا پھر…
    رہتا کامیاب ہر سفر ہے…!!!
    اے اہلِ دل ذرا غور کرو…
    کسے نشیب و فراز سے مفر ہے…؟
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤

  • کرونا والنٹئرز    تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز
    محمد ثاقب، طلحہ سعید

    خدمت خلق ایک عظیم کام ہے۔نجانے دنیا میں کتنے نام ہیں جو صرف اور صرف اللہ رب العزت کے بندوں کے کام آکر دنیا میں اپنا نام بھی بنا گئے اور لگے ہاتھوں آخرت کیلیے اپنا سامان بھی تیار کر گئے۔ میں نے کچھ لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ کبھی سنا تھا "خدمت بھی عبادت ہے” ۔ آج سوچتا ہوں کہ صحیح سنا تھا ۔ وہ لوگ جو بھی تھے، صحیح ہی کہتے تھے۔ خدمت خلق بھی ایک قسم کا جہاد ہے جس میں خدام بے لوث ہوکر کام کرتے ہیں اور اکثر جان پر بھی کھیل جایا کرتے ہیں.

    کرونا کی وبا جب پاکستان آئی اور حکومتِ پاکستان نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ایک عجیب فضا پیدا ہوئی۔عوام خود حیران کہ گھر بیٹھ کر کیا کریں کیا نہ کریں۔مطلب کہ عوام عمران خان کے بیان کے باوجود "گھبرائی” ہوئی تھی اور اس سب صورتحالات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ بنا کہ کسی مریض کو ہسپتال لے جانے سے لوگ ڈرنے لگے کہ بھئی کیا پتا ہسپتال میں کوئی کورونا کا مریض آیا ہوا ہو۔ لوگوں کی یہ بات بھی اگرچہ درست تھی مگر مریض کو گھر بیٹھا کر رکھنا بھی تو کوئی عقلمندی نہیں تھی ناں۔۔۔

    میں ایک دن اپنے ایک دوست سرجن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے گیا۔ان سے کافی سارے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ ان ہی دنوں کرونا وباء کی وجہ سے پنجاب میں پہلا 15 روزہ لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا۔ کرونا اور اسکی وجہ سے درپیش مسائل پر بھی بات ہوئی۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب نے ایک مشورہ دیا کہ آپ واٹس ایپ پر عوام کو آن-لائن علاج کی سہولت مہیا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کیلیے میں بھی حاضر ہوں آپ اس تجویز پر کام کریں اور اگلی ملاقات تک اس کو فائینل کرلیں۔ میں وہاں سے نکلا اور گھر چلا گیا۔ میں اس شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اس کا آغاز کس طرح کیا جائے اگلے روز میں نے فیس بک پر ایڈ دی کہ موجودہ کرونا کی وباء میں آپ گھر رہیں اور گھر رہ کر آن-لائن اپنا علاج معالجہ کروائیں۔لوگ جو کورونا کی وجہ سے اپنے مریض گھر رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے انہیں یہ بات تو پسند آنی ہی تھی…. خیر اس کو بہت لوگوں نے پسند کیا اور مجھ سے رابطہ کیا ۔ ضلع کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو گروپ میں ایڈ کیا اور اگلے دن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب کو گروپ بنانے کی خوشخبری دی۔

    اب مسئلہ تھا دیگر ڈاکٹرز کو گروپ میں ایڈ کرنے کا سب سے پہلے ڈاکٹر احسان مہند جو سول ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ ہیں ،ان سے بات کی انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنی مسسز ڈاکٹر نگینہ احسان، جو حافظ آباد کی معروف گائناکالوجسٹ ہیں ان کو بھی گروپ میں ایڈ کرنے کا کہا۔ اس گروپ کے متعلق شہر کے معرف فزیشن ڈاکٹر ثاقب ظفر صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی حوصلہ دیا اور ساتھ دینے کا کہا۔پروفیسر ڈاکٹر اسعد اللہ اعجاز جو لاہور میں ماہر امراضِ معدہ و جگر ہیں ، انہوں نے بھی خوب پزیرائی کی اور ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا۔اب بچوں کے مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر کی ضرورت تھی تو شہر کے معروف چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد امجد علی اور لاہور چلڈرن ہسپتال سے ڈاکٹر سعود صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی اوکے کیا اس کے بعد ڈاکٹر عتیق الرحمن کنسلٹنٹ کرڈیالوجی اور ڈاکٹر فرخ الاسلام ماہر امراض ناک کان گلہ, ڈاکٹر مبشر سرفراز  آرتھوپیڈک سرجن, ڈاکٹر بلال رسول رامے نیفرالوجیسٹ لاہور, ڈاکٹر بشارت باورہ جنرل سرجن,  ڈاکٹر عنایت اللہ ماہر امراض جلد , گھرکی ٹرسٹ ہسپتال لاہور کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب ان سب سے رابطہ کیا انہوں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور ہم نے گروپ کا آغاز کر دیا۔ آب لوگ ٹیلی کلینک میں اپنے مریض کی بیماری کے متعلق لکھ میسج بھیج دیتے اور میں ان کے مسائل ڈاکٹرز کے گروپ( ڈاکٹر آن لائن) میں بھیج دیتا جہاں متلقہ ڈاکٹر مریض کو میڈیسن لکھ دیتے اور میں اس کا سکرین شاٹ لے کر ٹیلی کلینک جو عوام کا گروپ تھا میں بھیج دیتا یاد رہے (ٹیلی کلینک) عوام کے گروپ کا نام ہے اور (ڈاکٹر آن لائن) ڈاکٹرز کا گروپ ہے دو گروپ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ڈاکٹرز کو زیادہ تنگ نہ کریں
    پر آفرین ہے ہمارے ڈاکٹرز کے پینل پر انہوں نے اپنی مصروفیت  کے باوجود مریضوں کا فری آن-لائن چیک آپ کیا اور بہت اچھا کام کیا۔

    اس ساری صورتحال کو یاد کرتا ہوں تو دل میں خیال آتا ہے وہ لوگ جو کہتے تھے "خدمت بھی عبادت ہے” صحیح ہی کہتے تھے۔

  • مسجد صوفیہ خلافت عثمانی کی پہچان   تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    مسجد صوفیہ خلافت عثمانی کی پہچان تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔شاہکار حسیں

    خلافت عثمانی کی پہچان ہے
    توتابناک ماضی کانشان ہے
    تو ہماری روایات کی ہےامیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔شاہکار حسیں

    ترک شہداء نے خوں سےتھا سینچا تجھے
    شاہ احمد نے غیروں سے کھینچا تجھے
    چار صدیاں رہی تو ان کے زیر نگیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔۔۔شاہکار حسین

    تلواروں کے ساےمیں ڈھا لا تجھے
    جری مسلم کی آغوش نے پالا تجھے
    تیری پرسکون گود میں ۔۔۔۔تیرےمکیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔ شاہکارحسیں

    مسجد یں رب کا گھر اور دارالاماں
    بیوت ربی کہتا ہے ان کو قرآں
    ہے اسی پہ ہمارا ایمان اور یقیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔ شاہکار حسیں

    تا قیامت رہیں تیری آبادیاں
    رہیں رونقیں بحال اورشادابیاں
    پارسا تجھ میں رکھیں اپنی جبیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔۔شاہکار حسیں

    ا وخدا! وہ تا بناک مناظر لوٹادے ہمیں
    معرکہ حق و باطل دکھائے ہمیں
    ہر جا روح بلالی کی باز گشت ہو
    اور پاتا رہے”نمو” رب کایہ دیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔شاہکار حسیں
    از قلم:مسز ناصر ہاشمی

  • "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ”   تحریر:نادیہ بٹ

    "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ” تحریر:نادیہ بٹ

    "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ”

    نادیہ بٹ

    موجودہ دور کی تجارت میں شیئرز کی تجارت ایک نیا اضافہ ہے اس لئے قدیم فقہ کی کتب میں اس کے بارے میں احکام اور تفصیل معدوم ہیں پہلے زمانے میں جو "شراکت” کی جاتی تھی وہ چند افراد کے مابین ہوتی تھی جن کو پارٹنر شپ کہا جاتا ہے مگر پچھلی دو تین صدیوں سے شراکت داری کا ایک نیا انداز سامنے آیا جو جائنٹ اسٹاک کمپنی کہلایا اس کے باعث کاروباری دنیا میں جدت آئی اور اس کے حصص میں شیئرز کے کاروبار کا نیا مسئلہ پیدا ہوا۔اس کی بنیاد پر دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹیں سر گرم عمل ہیں،جن میں کروڑوں بلکہ اربوں کا لین دین ہوتا ہے۔
    "آئیں ہم علماء کی آراء میں دیکھتے ہیں کہ کن اصولوں اور شرائط کے ساتھ شئیرز خریدنا جائز ہے۔۔۔۔۔۔!!”

    ?? حصص کے معنی۔۔۔
    کمپنی کے شئیرز کو اردو میں "حصص” عربی میں "سھم” کہتے ہیں

    اگر کسی شخص کو اسٹاک مارکیٹ سے شئیرز خریدنے ہو تو اسے مندرجہ ذیل چار شرائط کا لحاظ رکھنا ہوگا ۔۔۔۔۔؟

    پہلی شرط…….!!!

    یہ کہ وہ کمپنی حرام کاروبار مثلا سودی بینک،سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی،شراب کا کاروبار یا دیگر حرام کاموں کی کمپنی وغیرہ میں ملوث نہ ہو۔

    دوسری شرط…….!!

    یہ کہ اس کمپنی کے تمام اثاثہ جات اور املاک سیال اثاثہ جات(liquie asssets)یعنی نقد رقم کی صورت میں نہ ہوں’بلکہ اس کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (fixed Assets)حاصل کر لیے ہوں
    مثلا عمارت تعمیر کر لی ہو یا ارضی خرید لی ہو۔لہذا اگر اس کمپنی کا کوئی فکسڈ اثاثہ وجود میں نہیں آیا،بلکہ اسکے تمام اثاثے ابھی (Liquid )نقد رقم کی صورت میں ہیں۔تو اس صورت میں اس کمپنی کے شئیرز کو فیس ویلیو face value سے کم یا زیادہ میں فروحت کرنا جائز نہیں’بلکہ برابر برابر خریدنا ضروری ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں دس روپے کا حصہ ( شیئر) دس روپے کی کی نمائندگی کر رہا ہے’بلکل ویسے ہی جیسے دس روپے کا bond دس روپے ہی کی نمائندگی کرتا یے’لہذا جب دس روپے کا شیئر دس روپے کی ہی نمائندگی کر رہا ہے تو اس شیئر کو گیارہ یا نو روپے میں خریدو فروخت کرنا جائز نہیں،
    الغرض دوسری شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک کمپنی کے منجمد اثاثے وجود میں نہ آئیں اسوقت تک اس کے شئیرز کو کمی بیشی پر فروحت کرنا ناجائز ہے

    تیسری شرط….!!

    اکثر کمپنیوں کی بنیادی کاروبار حرام تو نہیں ہیں مثلا ٹیکسٹائل آٹو موبائل کمپنیوں وغیرہ۔
    لیکن یہ کمپنیاں کسی نہ کسی طرح سودی کاروبار میں ملوث ہوتی ہیں یعنی یا تو یہ کمپنیاں فنڈز بڑھانے کے لیے بینک سے سود پر قرض لیتی ہیں اور اس قرض پر پھر اپنا کام چلاتی ہیں یا پھر وہ زائد اور فاضل رکھ ان سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہیں اور اس پر وہ بینک سے سود حاصل کرتی ہیں ہیں وہ سود بھی ان کی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا ہے لہذا ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا سودی کاروبار میں ملوث ہونا ہے

    ایسی کمپنیوں کے بارے میں عصر حاضر کے علماء کرام کی آراء مختلف ہیں ایک گروہ کے نزدیک چونکہ یہ کمپنیاں حرام کاموں میں ملوث ہے لہٰذا ایک مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس کمپنی کے ساتھ حرام کام میں حصہ دار بنے
    *دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں میں یہ نقص موجود ہے مگر اس کے باوجود اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے تو پھر مشروط طور پر کمپنی کے شیئرز لینے کی گنجائش ہے

    یعنی وہ شیئر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اٹھائے ‘اگرچہ اس کی آواز مسترد ہو جائے گی آواز کمپنی کے سالانہ اجلاس عام میں اٹھانی چاہیے مولانا محمد تقی عثمانی، مفتی محمد شفیع اور مولانا اشرف علی تھانوی اس رائے پر متفق ہیں۔

    چوتھی شرط………!!

    یہ کہ جب منافع dividedتقسیم ہو’
    تو وہ شخص income statement کے ذریعے یہ معلوم کرے آمدنی کا کتنا حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے؟
    مثلا اس کو کل آمدنی کا پانچ فیصد حصہ سودی ڈیپازٹ میں رقم رکھوانے پر حاصل ہوا ہے تو اب وہ شخص (شیئر ہولڈر) اپنے نفع کا 5 فیصد حصہ صدقہ کر دے۔
    بعض لوگ شیئرز کی خرید و فروخت کیپیٹل گین( capital gain)کے لیئے کرتے ہیں مکان کے شیئر خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد شیئر کی قیمت بڑھنے پر انہیں فروخت کر کے نفع حاصل کرتے ہیں ہیں اور یا کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمت کم ہو جاتی ہے تو اس کے شیئر خرید لیتے ہیں اور بعد میں فروخت کر دیتے ہیں
    اسی طرح خریدوفروخت کے ذریعے سے نفع حاصل کرنا ان کا مقصود ہوتا ہے اس کمپنی میں حصہ دار بننا اور اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ان کا مقصود نہیں ہوتا بلکہ خود شیئرز ہی کو ایک سامان تجارت بنا کر اس کا لین دین کرتے ہیں
    جس طرح شیئرز خریدنا جائز ہے اسی طرح ان کی فروخت کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ پیچھے اوپر مذکور چار شرائط کا لحاظ رکھا گیا ہو اور جس طرح یہ جائز ہے کہ ایک چیز آپ آج خرید کر کل فروخت کر دیں اور کل خرید کر پرسوں فروخت کردے بالکل اسی طرح شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے۔

    !!!شیئرز کی خرید و فروخت کو اس وقت درست کہنا دشوار ہے جب بعض اوقات اسٹاک مارکیٹ میں شیئرنگ کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح سٹہ بازی کرکے آپس میں فرق کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔۔۔

    !!!اسی طرح قیمت بڑھا کر واپس لینے کی شرط لگانا حرام ہے اور یہ شرط فاسد ہے

    اگر اسٹاک مارکیٹ سے شیئر خریدا جائے اور اس کی وصولیابی یا قبضہ سے پہلے ہی وہ کمپنی تباہ ہوکر بے اثاثہ ہو جائے تو
    اصول یہ ہے کہ رسک منتقل ہونے کی صورت میں شئیر آگے فروخت کرنا جائز ہے البتہ احتیاط کا تقاضہ بہر صورت یہی ہے کہ جب تک قبضہ (ڈلیوری) نہ مل جائے اس وقت تک شیئر آگے فروخت نہ کیا جائے

    اللہ رب العزت ہمیں حلال ذرائع سے رزق حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • سناٹے کی آغوش میں زندگی تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    سناٹے کی آغوش میں زندگی تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    سناٹے کی آغوش میں زندگی

    بہت صدیاں پہلے کی بات ہے میاں بیوی کا ایک جوڑا ۔۔۔بہت دورکسی سفر پر چلا جا رہا تھا
    عورت نے شیر خوار بچہ گود میں اٹھا رکھا تھا۔ کون جانتا تھاکہ چھوٹے سے خاندان کا یہ سفرایک تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ بیوی بھی اس سوچ سے بےنیاز ۔۔۔اپنے شوہر کے قدم بقدم چلتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟
    ہاں البتہ اپنےشویر کی خاموشی اورمتغیر چہرہ دیکھ کروہ کچھ حیران ضرور تھی لیکن ہمت نہ پڑ رہی تھی۔
    و ہ سنسان ،بیابان ،کھنڈر اورویران علاقوں سے گزرتے چلےجا رہے تھے۔ ہر طرف سنا ٹا چھایا ہوا تھا۔کہیں سے کسی ذی روح کے آنے کا گمان تک نہ تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اونچے نیچے ٹیلوں سے گزرتے چلےجا رہے تھے ۔ غیر گنجان آباد ،کالے،خوفناک اور خشک پہاڑ ۔۔۔۔سبزے سے خالی۔۔۔۔اور پانی کا بھی نام و نشان تک نہ تھا۔ بیوی صاحبہ اپنے ہم سفر اور ننھےلخت جگر کے ہمراہ۔۔۔صبر اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔اس امید کے ساتھ۔۔۔۔۔کہ کوئی بستی آجائے گی اوریہ دشوار گزار سفر ختم ہو جائے گا۔ ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا سفر یے ۔ کافی دور پہنچ کر ایک ٹیلے کے پاس شوہر نے اپنے قدم روک دئے۔ اور اردو گرد کے افسردہ ماحول پر نگاہ دوڑائی ۔ بیوی کو ٹیلے پر بیٹھنے کا کہا ۔ وہ چھوٹے سے معصوم بچے کو لے کر نیچے زمیں پر بیٹھنے گئ۔ وہ سمجھی تھوڑا سستا کر آگے بڑھیں گے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔یہ کیا؟؟؟شوہر نے ماں بیٹے کے پاس تھوڑی سی کجھوریں اور ایک مشکیزہ پانی کا رکھا اور منہ موڑ کر چلنا شروع کر دیا۔ بیوی نے آواز دی "ہمیں اس دہشت وحشت والے بیاباں میں یکہ وتنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئ مونس وہمدم نہیں آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں لیکن شوہر نے نہ ہی مڑ کر دیکھا اور نہ ہی کوئ توجہ دی بار بار پوچھنے پر بھی کوئ التفات نہ کیا تو پوچھا،”آپ ہمیں کسے سونپ چلیں ہیں۔کیا اللہ تعالی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے”۔جواب دیا”ہاں” یہ سن کر وہ بڑے حوصلے اور صبر سے بولی پھر تشریف لے جائیے۔وہ اللہ ہمیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔ہمیں اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔وہ لوٹی اور اپنے کلیجے کی ٹھنڈک کو اس سنسان،بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ گئی۔
    قارئین کرام !!یہ کوئ عام خاندان کی قصہ کہانی نہیں بلکہ وہ شوہر…. انبیاء کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، ان کی بیوی اماں ہاجرہ اور نبی ابن نبی حضرت اسماعیل زبیح اللہ تھے۔
    اس خاندان نے حوصلے، صبر،استقامت کی وہ اعلی مثال قائم کی کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے مشعل راہ بن گئی۔
    حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اپنے بچے اور بیوی کو وہاں جہاں اب بیت اللہ ہے۔اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہیں بیوی بچوں کی محبت غالب نہ آجائے۔جب حضرت ابراہیم علیہ سلام مقام ثنیہ پر پہنچے تو عجزو انکساری کے ساتھ ہاتھ پھیلا کر دعا کی
    ” اے ہمارے رب میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں۔تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں ”
    آپ تو یہ دعا کر کے حکم الہی بجا لا کر اپنے اہل وعیال کو اللہ کے سپرد کر کے وہاں سے چلے گئے۔ادھر کیا ہوا؟ ایک بار تو رب تعالی کو آل رسول کی آزمائش مقصود تھی۔حضرت ہاجرہ صبر وشکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگیں۔جب تھوڑی سی کجھوریں اور پانی ختم ہو گیا۔اب اناج کا دانہ پاس ہے۔نہ پانی کا گھونٹ ۔خود بھی پیاسی ہیں۔بچہ بھی بھوک سے بے تاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا چہرہ کملانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا۔مامتا بھری ماں اپنی تنہائی اور بے کسی کا خیال کرتی،کبھی اپنے ننھے اکلوتے بچے کو دیکھ کر سہم جاتی۔معلوم ہے کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں۔میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں۔آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہ دیکھا گیا تو اٹھی اور پاس ہی صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں۔میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کوئی آتا جاتا نظر آئے۔لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف سے واپس آتی ہیں تو اتر کر وادی میں پہنچ کر دامن اٹھا کر دوڑتی ہوئی مروہ پہاڑ کی طرف جاتی ہیں۔اس طرح ساتھ مرتبہ کرتی ہیں۔بچے کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے۔ساتویں مرتبہ کچھ آواز کان میں پڑتی ہے۔لپک کر آواز کی طرف جاتی ہیں تو وہاں حضرت جبرائیل علیہ سلام کو پاتی ہیں۔ انہیں غیبی آواز سنائی دیتی ہے جو ان سے پوچھ رہی ہوتی ہے کہ تم کون ہو؟؟حضرت جبرائیل علیہ سلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی۔وہیں ذمیں سے چشمہ ابلنے لگا۔
    اب حضرت حاجرہ نے خود بھی پانی پیا اور بچے کو بھی پلایا۔ اور اس کے آس پاس باڑ باندھنا شروع کردی فرشتے نے کہا تم بے فکر رہو۔اللہ تمہیں ضائع نہیں کرے گا۔جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا گھر بنے گا۔کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ وہاں سے گزرا۔انہوں نے ایک آبی پرندہ دیکھا تو وہ اس خشک اور چٹیل میدان کی طرف بڑھے اور وہاں بہترین اور بہت سا پانی پایا۔اب وہ سب آئے اور کہنے لگے ” اگر مائی صاحبہ اجازت دیں تو ہم یہاں ٹھر جائیں” وہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس ملے۔اور یوں سناٹے کی آغوش میں اللہ تعالی نے زندگی کی رمق پیدا کر دی۔ اور پھر اسی جگہ بحکم تعالی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم سلام نے بیت اللہ تعمیر کیا۔
    ہے نا کتنی دلچسپ اور حیران کن کہانی ۔کیسے اللہ تعالی نے ٹیکنیکل طریقے سے اپنے گھر کو آباد کیا۔
    اے عورت زات!!تجھے مبارک ہو کہ تیری ہم ذات سے اللہ تعالی نے یہ عظیم کام لیا۔اور بنی نوع انسان کی تمام آنے والی خواتین کی تربیت کا سامان پیدا کیا۔
    اماں ہاجرہ سے عورت بہت کچھ سیکھ سکتی ہے جیسا کہ
    1۔ اللہ پر توکل
    2۔ صبر و استقامت
    3۔ شوہر کی اطاعت
    4۔ اولاد کی محبت
    5۔ بہادری اور شجاعت
    6۔ عقلمندی اور معاملہ فہمی
    اور سب سے بڑھ کر مناسک حج ان کے نام سے منسوب ہو گئے۔جیسے:
    1۔ صفا مروہ کا طواف
    2۔ آب زمزم پینا
    3۔ مقام ابراہیمی پر دو نفل
    4۔ قربانی
    5۔ حجراسود کو بوسہ دینا
    6۔ رمی کرنا
    وغیرہ وغیرہ
    بغور دیکھئیے اگر اماں حاجرہ کی صفات کسی عورت میں آجائیں تو وہ دنیا کی کامیاب ترین ہستی بن سکتی ہے۔
    اللہ تعالی ہمیں اس عظیم ماں ہاجرہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    ( آمین)

    از قلم: مسز ناصر ہاشمی

  • ہم جنس پرستی اور شریعت کے احکام تحریر:نادیہ بٹ

    ہم جنس پرستی اور شریعت کے احکام

    نادیہ بٹ

    جنسی بے راہ روی اور بدکاری کی ایک خطرناک شکل اور نسل انسانی کے حق میں سخت تباہ کن اور انتہائی بھیانک نتائج کا حامل عمل جنس پرستی ہے
    افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قوم لوط سے شروع ہونے والا عمل اور مغرب میں عام ہونے والی یہ بیماری اسلامی ممالک میں پھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہے

    کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے پاکستان میں دل کو دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا روالپنڈی میں ٹیکسلا کی دو لڑکیوں نے آپس میں کوٹ میرج کر لی مسلم سماج میں بگاڑ کی وجہ اسلام سے انخراف ہے

    امریکہ اور یورپ میں اس غلیظ بیماری اور نفس پرستی کو قانونی درجہ دے دیا گیا ہے۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ جنسی کے تعین میں شریعت اسلامیہ کا کیا کہنا ہے؟

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ
    ﷺ نے فرمایا

    ” من وجد تموہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلو الفاعل ومفعول به”
    ابو داود کتاب الحدود ٤٤٦٢ ”

    "جسے تم قوم لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو اس کے فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو”۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی روایت کے الفاظ ہیں

    "اقتلوا الفاعل والمفعول به احصنا اولم یحصنا”

    "کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا دونوں کو قتل کر دو شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ”۔
    ابن ماجہ ٢٥٦٢

    دو عورتوں کا باہم لطف اندوز ہونا:

    دو عورتوں کا باہم لطف اندوز ہونا اور جنسی لذت حاصل کرنا بھی ناجائز اور حرام عمل ہے،

    علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:.
    اگر دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو دونوں زانی اور ملعون ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:.

    ( اذااتت المرأة فھماز انیتان)

    "جب دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو دونوں بدکار ہوتی ہیں”

    جنسی لذت کہ تسکین کی ایک صورت استلذاذبالید (ہاتھ کے ذریعے لطف اندوز ہونا) مشت زنی ہے،مالکیہ،شافعیہ ،حنفیہ ،جمہور علماء کا مذہب ہے کہ مشت زنی حرام ہے اور یہی مذہب صحیح مذہب ہے۔

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے
    (والذین ھم لفروجھم حفظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین ابتغی وراء ذلک فاولئِک ھم العادون)

    "اور کامیاب ہونے والے مومن وہ لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور زیر ملکیت لونڈیوں کے کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابل ملامت نہیں ہے البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہ یہ عادت پھلانگنے والے ہیں امام ابن کثیر تحریر فرماتے ہیں”

    امام شافعی نے اور جنہوں نے ان کی موافقت کی ہے اسی آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ مشت زنی حرام ہے
    فتوی ابن باز متراجم (مکمل)٥٧٤/٥٧١

    شرک کے بعد ان کا سب سے گھناؤنا عمل اور بدترین پھر جسے قرآن مجید نے تقریبا دس سورتوں میں دہرایا ہے وہ "ہم جنسی اور اغلام بازی ہے”

    فعل بد کی سزا….
    اس کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے کیونکہ نبی کریم
    ﷺ کا زمانہ پاکیزہ تھا تب ایسا واقعہ پیش نہیں آیا تھا اس لیے اس جرم کے مجرمین کیلئے طریقہ سزا کا تعین نہیں ہو سکا
    آئمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہے تو رجم اگر غیر شادی شدہ ہے تو سو کوڑے ۔
    یعض کے نزدیک اس کی سزا رجم ہے مجرم کیسا بھی ہو۔اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کر دینا چاہیئے۔

    "اللہ کی نظام سے بغاوت کی سزا”

    یہ ہم پر تعالی کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہیں ہیں کہ اس نے ہمارے لیے ہر چیز جائز اور حلال رکھی ہے جو ہمارے لئے دنیا اور آخرت کے اعتبار سے فائدہ نفع بخش ہماری بقا و سلامتی اور آخری نجات کے لیے ضروری ہے اور ہر اس چیز کو ہمارے لئے حرام اور ممنوع کردیا ہے جو ہماری دنیا یا آخرت کے لئے نقصان کا باعث ہے یاد رہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی فطری خواہش یعنی شہوت کی تسکین کا ذریعہ عورت کو بنایا ہے اور اس میں بھی انسان کو کھلی چھٹی نہیں دی کہ وہ جب چاہیے اور جس عورت سے چاہیے اپنی فطری خواہش پوری کر لے ا بلکہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی شہوت کی تسکین کے لیے” نکاح ” کا ایک مقدس نظام دیا ہے تاکہ انسانوں کو اپنے جذبات کی تکمیل کے لیے جائز اور مناسب راہ مل سکے

    فی زمانہ عالمی سطح پر تہذیب و تمدن کے دعوے دار کئی غیر مسلم ممالک میں اللہ تعالی کے اس نظام سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے معاشرہ میں لواطت کو قانوناً جائز قرار دے رکھا ہے بلکہ کئی مسلم ممالک میں بھی یہ وبا پھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہے

    "ہم جنس کے میڈیکلی نقصانات”

    جن ملکوں میں اسے قانوناً اگرچہ جائز قرار نہیں دیا گیا وہاں بھی تقریبا ہر گاؤں اور شہر میں بہت سے لوگ اسے غیر فطری عادات اور حرام کاری میں مبتلا نظر آتے ہیں
    اس حرام کاری کو قانوناً جائز قرار دینے والے ملکوں میں اخلاقی اور خاندانی نظام کی تباہی کا حال یہ ہوا ہے کہ وہاں پر لوگوں میں شرم اور حیا نام کی چیز باقی نہیں رہی اور لوگ سرعام اس حرام کاری میں مصروف ہو گئے ہیں اور ان میں خاندانی نظام تقریبا ختم ہو کر رہ گیا ہے مردوں کی مردوں اور عورتوں کی عورتوں سے باہم لذت آشنائی کے باعث ان ملکوں میں نسل انسانی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور آبادی کی شرح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے

    شہوت پرست لوگ بچے جننے اور ان کی تربیت کرنے پر راضی نہیں۔ یہ لواطت اور ہم جنس پرستی کا عمومی نقصان ہے بطور خاص لواطت اور ہم جنس پرستی کا عادی انسان اتشک ،سوزاک،سیلان ،خارشا اور خطرناک پھوڑے پھنسیوں
    جیسے امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ایڈز کا سب سے بڑا سبب یہی بیماری ہے.

    ناقابل علاج مرض کا پھیلاؤ :
    ایڈز عصر حاضر کا ایک ناقابل علاج مرض ہے جو بے قید جنسی اختلاط کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ متعدی بھی ہے،دوسرے لوگ ایسے شخص سے دور بھاگتے ہیں،مغرب میں فواخش اور عریانیت کے نتیجہ میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے مغربی عورتوں کا یہ نظام بے حد خطرناک اور عجیب ہے یہ وہ عالمگیر مرض ہے جس سے دنیا کا کوئی خطہ کوئی ملک محفوظ نہیں ہے کروڑوں افراد اس اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور آئے دن اس مرض کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اب تک لاکھوں افراد اس مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ انتہائی کرب کی زندگی گزار رہے ہیں میڈیکل سائنس اور طب کے دیگر شعبوں میں تمام تر ترقی کے باوجود ابھی تک اس مرض کا کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہو سکا ۔اللہ تعالی سب مسلمانوں کو حرام کاری سے محفوظ رکھے

    آخری گزارش……!!!!

    یہ حقیقت ہے کہ مغربی سماجی نظام میں بگاڑ ہے تو مسلمانوں کے موجودہ سماج میں بھی بگاڑ ہے تاہم دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے

    مسلم سماج کا بگاڑ اسلام سے انخراف ہے جبکہ مغربی سماج کا بگاڑ عین اس کے اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔

    کسی مرد کی مرد اور عورت کی عورت سے شادی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے اب ان کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک میں بھی اس فعل بد کو جرم نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے وہ اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں ۔
    اللہ تعالی مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے اور جہاد فی سبیل اللّٰہ کے ذریعے سے کفار کی اللہ تعالیٰ سے اعلانیہ بغاوت کو کچلنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اب اللہ تعالی کا قانون آسمانی عذاب کی بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینا ہے

    "ان سے لڑو اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا۔”(التوبہ)

    مسلمانوں کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اسلام کے چھوڑے ہوئے اصول کو دوبارہ اختیار کریں ۔

  • بنت حوا کیوں رو رہی ہو اب؟   بقلم ۔۔۔۔ اقصی عامر

    بنت حوا کیوں رو رہی ہو اب؟ بقلم ۔۔۔۔ اقصی عامر

    حرام تعلقات…!!!
    بقلم ۔۔۔۔ اقصی عامر
    جسے چھونا دیکھنا اور سوچنا منع تھا۔۔!
    اسے دل جائے پناہ دے دی تم نے۔۔!
    کھو دیا اپنا مقام تو نے جو کعبہ سے بڑھ کر تھا۔۔!
    اپنی تسکین کی خاطر کھو دی پہچان تو نے۔۔!!
    بنت حوا کیوں رو رہی ہو اب۔۔۔؟
    اپنے گناہوں کی سزا پائی ہے تم نے۔۔۔!!
    کسی حرام تعلق کی ہوس کو۔۔!!
    عبادت کی طرح نبھایا تم نے۔۔!!
    دے کر نام محبت کا اسے ۔۔!!
    تعیش میں عیش دکھائی ہے تم نے۔۔!!
    اب شکوے جو خدا سے کرتی ہو۔۔!!
    امید تو انسان سے لگائی تھی تم نے۔۔!!
    کسی نامحرم کی قربت کی۔۔!!
    ِ حیثیت عبادت کی بتلائی تھی تم نے۔۔۔!!

  • کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک مسلمان ریاست و حکمران کا کام مسلم معاشرے میں برائی کا خاتمہ اور لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے اگر کوئی فرد تنظیم یاں گروہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو تو حکومت وقت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کیا جائے
    پاکستان میں جادو ٹونے کا کام سرعام ہو رہا ہے جو کہ ایک قبیح فعل ہے قرآن و حدیثِ نے اس کی سخت ممانعت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچوں اور جادو کرنے اور کرانے سے بچو ۔۔ بخاری 5764
    ایک کم علم مسلمان بھی جانتا ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس فعل کے مرتکب کا ہمیشگی ٹھکانہ جہنم ہے اور اسی کے بعد سب سے بد عمل جادو کرنا یا کروانا بھی ہے
    اللہ تعالی قرأن میں فرماتے ہیں
    اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔سلیمان نے تو کفر نا کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطان کا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ۔ سورہ البقرہ 102
    اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کے دور میں جنوں کی مثال دے کر ہمیں سمجھا دیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلا کر کفر کرتے تھے اور کفر بہت بڑا گناہ ہے
    آج ہم میں بھی یہ کفر بہت آ گیا ہے نا صرف یہ کفر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تشہیر بھی سرعام کی جاتی ہے پاکستان کی ہر دیوار،اخبار،چینل حتی کہ سوشل میڈیا بھی انہی کے اشتہاروں سے بھرا پڑا ہے
    افسوس کہ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف ہمارے مال کو لوٹتے ہیں بلکہ ہمارے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اللہ رب العزت کے قرآن اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہونا چائیے مگر افسوس آج ہم اس نام نہاد جعلی پیروں کے چکر میں اپنی دولت و ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی عزتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ابھی ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا پر کتنے ہی ان خبیث عاملوں اور بابوں کی عورتوں کی عزت کیساتھ کھلواڑ کرتے ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں مگر افسوس سب دیکھ ، سمجھ کر بھی ہم نادان بنے بیٹھے ہیں ایک طرف تو یہی میڈیا ان عاملوں پیروں،جعلی بابوں کے جرائم ہمیں دکھلاتا ہے تو دوسری طرف یہی میڈیا انہی بدکرداروں کی تشہیر میں بھی مصروف ہے اور ان کی تشہیر کرکے نوجوان نسل کو محبت میں فتح،ساس بہو کی لڑائی،دشمنوں کو بیمار کرنے اور ہنستے بستے گھروں کا سکون برباد کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں اور یہ عامل بابے بغیر کسی خوف کے اپنا مکرو دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    جادو کی روک تھام کیلئے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں اس پر سابق حکمران جماعت ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر خان نے اگست 2017 کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں،بابوں کے خلاف قانون بنا کر اس بدفعل پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا کیساتھ اس کی ہر قسم کی تشہیر کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل پاس نا ہو سکا اور ابھی بھی زیر التواء ہے اس بل کے پاس نا ہونے سے ہمارے حکمرانوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جس قبیح فعل کو قرآن و حدیث نے حرام کیا ،کہ جس میں بچوں تک کو قتل کر دیا جاتا ہے کہ جس میں قبروں میں سے مردے نکال کر بے ان کی حرمتی کی جاتی ہے، اور ہنستے بستے گھروں کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے اس کے خلاف پیش کئے گئے بل کو منظور نہیں کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات کو ہمارے یہی حکمران بغیر سوچے سمجھے بھاری اکثریت سے منظور کروا لیتے ہیں
    حکومت وقت کو چائیے کہ اخبارات میں ان کے اشتہارات پر پابندی کیساتھ ان عاملوں،بابوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی عزت و آبرو بھی بچا سکیں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کچھ حد تک کم ہو سکیں
    اگر حکومت وقت اسلام و پاکستان سے مخلص ہے تو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے کا حق ادا کرنے کیلئے اس بل کو پاس کروائے

  • الیکٹ ایبل کا شکنجہ   تحریر:عدنان عادل

    الیکٹ ایبل کا شکنجہ تحریر:عدنان عادل

    الیکٹ ایبل کا شکنجہ
    بدھ 15 جولائی 2020ء

    ہمارے ملک کے پارلیمانی نظام سیاست میں ملک کوسینکڑوں قومی اورصوبائی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان انتخابی حلقوں سے منتخب ہونے والے ارکانِ اسمبلی ملک کے لیے وزیراعظم اورصوبوں کے لیے وزرائے اعلیٰ منتخب کرتے ہیں ۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اس پارلیمانی نظام نے ہمارے ملک کو سخت بدانتظامی اور معاشی بدحالی سے دوچار کیا ہے ۔حلقہ بندیوں پر مبنی یہ طریقۂ انتخاب صرف جاگیرداروں ‘ قبائلی سرداروں اور شہر کے جرائم پیشہ افراد کو راس آیا ہے‘ عوام الناس کواِس سے سخت نقصان پہنچا ہے۔ہمارے ملک میں حکمرانی کے بیشتر مسائل اور خرابیوںکی جڑ یہ انتخابی نظام ہے جو برطانوی طرزِ حکومت کی اندھی نقالی میں بنایا گیا ہے حالانکہ ہمارے معاشرہ کے حقائق اور حالات بالکل مختلف ہیں۔ ہمارے موجودہ انتخابی نظام میںریڑھ کی ہڈی ایک طبقہ ہے جسے’ الیکیٹ ایبل ‘کہا جاتا ہے ۔الیکٹ ایبل ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں یا آزاد امیدوار کے طور پر قومی اورصوبائی اسمبلیوں میںمنتخب ہوکر پہنچتے ہیں۔ یہ افراد اپنے علاقہ میں ڈیرے چلاتے ہیں ۔ اِنکے منشی ‘ کارندے علاقہ کے لوگوں کے سرکاری دفاتر میں کام کاج کروانے میں اُنکی مدد کرتے ہیں۔ جائز ناجائز کاموں کی سفارش لیکر سرکاری افسروں‘ تھانہ اہلکاروں پردباؤ ڈالتے ہیں۔ الیکٹ ایبل سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان بروکر کا کام انجام دیتے ہیں۔ اِنکے ذاتی طور پر ہزاروں ووٹ ہوتے ہیں۔سیاسی جماعتیں اپنا امیدوار منتخب کرتے ہوئے اسکی وفاداری ‘ نظریہ‘ اہلیت سے زیادہ اس بات کو مدنظر رکھتی ہیں کہ یہ شخص اپنے حلقہ میںکتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے‘ اسکے اپنے ووٹ کتنے ہیں۔ الیکٹ ایبل کے ذاتی ووٹ اورسیاسی جماعت کے ووٹ ملکر کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔اکثر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں امیدوارجرائم پیشہ افراد‘ اشتہاریوں کی مدد سے الیکشن لڑتے ہیں۔جرم اور سیاست ایک دوسرے سے گہرے رشتہ میں بندھ چکے ہیں۔بہت سے الیکٹ ایبل مجرموں کی سرپرستی کرتے اور انہیں پولیس سے تحفظ مہیا کرتے ہیں۔ الیکٹ ایبل اور حلقوں کے گرد گھومنے والے اس سیاسی نظام کی اپنی مخصوص حرکیات ہیں۔ ایک رکن قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کی پہلی فکر یہ ہوتی ہے کہ وہ الیکشن پر اُٹھنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات وصول کرے اور اگلے الیکشن کے لیے رقم جمع کرے۔ اُن لوگوں کی مدد کرے جنہوں نے اسکی الیکشن مہم پرپیسہ خرچ کیا۔ ایسا بندوبست کرے کہ اپنا ڈیرہ چلانے کے لیے رقم کی مسلسل فراہمی کا بندوبست ہوجائے۔ زیادہ تر ٹھیکیدار امیدواروں کی مہم میں مدد کرتے ہیں۔ رُکنِ اسمبلی کوشش کرتا ہے کہ ان ٹھیکیداروں کو منافع بخش سرکاری ٹھیکے دلوائے۔ ارکان اسمبلی کو جو ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں ان سے بننے والے منصوبوں کے ٹھیکے بھی اُنکی مرضی سے دیے جاتے ہیں۔ اصل لاگت سے دوگنا‘ تین گنا قیمت پر دیے جانے والے ان ٹھیکوں سے سرکاری افسر‘ ٹھیکیدار اور ارکانِ اسمبلی سب مستفید ہوتے ہیں۔مال بنانے والی سیٹ پر بیٹھا ایماندارسرکاری افسر ارکانِ اسمبلی کے لیے سخت بیکار اور ناپسندیدہ آدمی ہوتا ہے۔اس لیے رشوت خور افسروں کی اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے ارکانِ اسمبلی اعلیٰ افسران اور وزرائے اعلی پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ اگر انکی سفارش نہ سنی جائے تو میڈیا میں حکومت کے خلاف بیانات دینے لگتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کی مقامی سیاست کا تقاضا ہے کہ پولیس انکے کنٹرول میں رہے۔انکی کوشش ہوتی ہے کہ انکے علاقے کے تھانیدار اُنکی مرضی سے تعینات کیے جائیں۔ سرکاری محکموں کی پوسٹنگ‘ ٹرانسفر میں انکا عمل دخل ہو۔ اگر حکومت نئے ملازمین کی بھرتیاں کرے تومیرٹ کو نظر انداز کرکے انکے سفارشی افراد بھرتی کیے جائیں۔ غرض‘ ارکان اسمبلی کی سیاست کے تقاضے ایسے ہیں کہ سرکاری محکموں میں مداخلت کے بغیرانکا کام نہیں چل سکتا۔الیکٹ ایبل کی سیاست اور میرٹ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ سرکاری اداروں میں ارکان ِاسمبلی کی مداخلت کے باعث ہی ملک میں میرٹ کا نظام تباہ ہوا ہے۔ بڑے بڑے ادارے جیسے پی آئی اے‘ ریلوے تباہ ہوئے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کی جگہ سفارش کا دورہ دورہ ہے۔ ارکانِ اسمبلی مقامی مسائل اور سیاست میںبری طرح دھنسے ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ بلدیاتی اداروں کے قیام کی سخت مخالفت کرتے ہیںکیونکہ بلدیاتی کونسلر اور مئیر کے نظام سے انکی اپنے علاقہ میںچودھراہٹ‘ اُجارہ داری خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ اختیارات تقسیم ہوجاتے ہیں۔ لوگ انکی بجائے اور لوگوں کی طرف بھی دیکھنے لگتے ہیں۔ ارکانِ اسمبلی اور مقامی حکومتوں میں مفادات کا ٹکراؤ ہے۔جب تک حلقہ بندی پر مبنی سیاسی‘ انتخابی نظام رائج ہے ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام ایک خواب رہے گا۔ اُصولی طور پر ارکانِ اسمبلی کا کام ہے قانون سازی کرنا‘ پالیسی بنانا۔اہم قومی‘صوبائی‘ عوامی معاملات و مسائل پر بحث‘ مباحثہ کرنا۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔زیادہ تر ارکانِ اسمبلی ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اسمبلی کے اجلاس میںوہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ‘ جذباتی تقریریں کرتے ہیں۔خارجہ پالیسی‘ علاقائی صورتحال‘ دیرپا معاشی پالیسیاں اور مسائل کے حل کے لیے متبادل راستوں پر بحث کرنا اُنکو پسند نہیں۔وہ اپنے کام کاج کے لیے وزراء اور سرکاری افسروں کے دفاتر میں گھومتے رہتے ہیں۔اسمبلیوں کے اجلاس کورم کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ انتخابی حلقہ بندیوں پر مبنی موجودہ سیاسی نظام تبدیل کیے بغیر قومی اورصوبائی اسمبلیاں پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادانہیں کر سکتیں کیونکہ ان میں جو لوگ منتخب ہوکر آتے ہیں ان کا قد کاٹھ مقامی سطح کا ہوتا ہے۔اُنکی اکثریت محض مقامی مسائل کا شعور اور استعدادرکھتی ہے۔ ہم بحیثیتِ قوم آج جن مشکلات و مسائل میںگھرے ہوئے ہیں ان سے نجات کی خاطر ایک ایسے جمہوری سیاسی نظام کی ضرورت ہے جس پر نام نہاد الیکٹ ایبل کی جکڑ بندی ختم ہو۔سیاسی جماعتیں اپنے نظریہ اور منشور کی بنیاد پر ووٹ لیکر ایسے ارکان اسمبلیوں میں بھیجیں جوقومی اور اجتماعی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں اور اُنکے حل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکیں-