Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے  از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے

    از قلم صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کو وجود میں آۓ تقریباً پون صدی ہونے کو ہے اور اس وطن کی عظیم شان اور قدر و قیمت ہے کیونکہ یہ وطن ہمیں بے بہا قربانیوں، محنتوں اور اللہ کی خاص غیبی مدد سے حاصل ہوا ہے نہ کہ ہمیں طشتری میں ڈال کے دیا گیا ہے اس کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنے آپ کو رنگ دیا لیکن تحریک آزادی کو کچلنے نہیں دیا اور یہ اس بات کا مظہر بھی ہے کہ ہم علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہاں پہ ہم آزادانہ طور پہ اپنی مذہبی رسومات کو بھی ادا کر سکتے ہیں اور بلا خوف خطر سر اٹھا کے بھی جیتے ہیں۔

    یقیناً اس ملک کی تاریخ پڑھیں تو کئی قصے سامنے آتے ہیں جن کو سن کے دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن سلام ہے ہمارے بزرگوں اور لیڈرشپ کو جنہوں نے اپنا آج ہمارے مستقبل پہ قربان کر دیا لیکن تحریک آزادی کو آنچ تک نہیں آنے دی اس وطن کو شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے نہیں تو آج ہم انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں زندگی گزار رہے ہوتے اور کوئی ہمارا پرسان حال نہ ہوتا۔

     اللہ عزوجل نے ہمیں لیڈر ایسے دیے تھے کہ وہ غلامی کا ایک لمحہ بھی گزارنا پسند نہیں کرتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر نے برطانیہ میں کہا تھا کہ "بیماری کے باوجود میرے یہاں آنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر واپس جاؤں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک غلام ملک میں جانے کی بجائے ایک آزاد ملک میں مرنا پسند کروں گا۔
    پھر علامہ اقبال نے کہا کہ:

    یورپ کی غلامی پر رضا مند ہوا تو
    مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے یورپ سے نہیں

    پھر ہم نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن پاکستان کی تکمیل نہ ہو سکی اور پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا جو آج تک حل نہیں ہو سکا اور اس کے ساتھ گورداس پور فیروز پور اور حیدر آباد دکن سمیت کئی ریاستوں پہ بھارت نے غاصبانہ قبضہ جما لیا جو کہ ابھی تک ان کے قبضہ میں ہے۔

    اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو احسن طریقے سے حل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کے باوجود اس مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا گیا اور اس مسئلہ کو مزید گھمبیر بنایا جاتا رہا اور آزادی کے متوالوں کو خاموش کروانے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع ہو گئیں اور اس تحریک کو دبانے کے لیے بھارت نے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دئیے اور اس آڑ میں انہوں نے بچے بوڑھے جوان اور عورتوں تک کا قتل عام شروع کر دیا کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کرتے تو کبھی ان کو مارا پیٹا جاتا اور کبھی معصوم لڑکیوں اور حاملہ عورتوں تک کی عصمت ریزی کی جاتی رہی لیکن یہ تحریک دبنے کی بجاۓ مزید زور پکڑ گئی اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی سکول کالج اور یونیورسیٹیز سے رخ موڑ کے آزادی کے لیے بندوق کا سہارا لے لیا جس میں پی ایچ ڈی اسکالر منان وانی اور برہان وانی جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس تحریک کو تقویت دی اور بھارت کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کیونکہ جو بھی شہید ہوتا اس کے جنازے میں لاکھوں لوگ شامل ہوتے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ بالکل بھی الحاق نہیں چاہتے اور یہ تک وصیت کر کے جاتے کہ ان کو پاکستانی جھنڈے میں دفن کیا جاۓ اور بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا اور حریت رہنماؤں تک کو کبھی نظر بند کر دیتا ہے اور کبھی جھوٹے مقدمے بنا کے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور کبھی سرچ آپریشن کی آڑ میں معصوم لوگوں کا انکاؤنٹر کر دیتا ہے۔

    جب بھارت کے ظلم و ستم اور بربریت کا کشمیریوں پہ اثر نہ ہوا تو انسانیت کے دشمنوں نے کشمیریوں کی زندگی تنگ کرنے کے لیے 5 اگست 2019 کو سخت ترین کرفیو لگا دیا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور ان کا کھانا پینا تک محال ہے لیکن واللہ ہمیں فخر ہوتا ہے ان ماؤں بہنوں اور بیٹیوں پہ جنہوں نے یوم آزادئ پاکستان پہ گھروں میں پرچم پاکستان بنا کے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے اور بھارت کو پیغام دیا تم بازاروں سے جھنڈے غائب کروا سکتے ہو لیکن ہمارے دلوں سے پاکستان کی محبت کو کم نہیں کر سکتے۔

    آج ہم پہ وقت آن پہنچا ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دیں اور ان کا حوصلہ بلند کریں اور ان کے زخموں پہ مرہم رکھیں کیونکہ ان کا اللہ کے بعد پاکستان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے وہ آپ کے جھنڈے کے ساتھ دفن ہونا پسند کرتے ہیں اور پون صدی سے بھارت کے ظلم کے آگے انہوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور پاکستان کے لیے اپنے سینے تک چھلنی کروا دئیے ماؤں نے اپنی گودیں اجڑوا دیں اور بوڑھوں نے اپنے لخت جگر پیش کر دئیے لیکن پھر بھی ان کے دلوں سے پاکستان کے لیے محبت ذرا بھی کم نہیں ہوئی۔

    آج ہم پہ لازم ہے چکا کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں اور بھارتی مظالم کو پوری دنیا کے سامنے پیش کریں اور پاکستانی حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ اقوام متحدہ پہ دباؤ ڈالیں کہ وہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں کیونکہ ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے اگر ہم خاموش رہے تو ہماری شہ رگ پنجہ استبداد میں رہے گی اور ہمارے کسی بھی جشن آزادی کی وقعت نہیں رہے گی اور ہم براۓ نام آزاد ہوں گے کیونکہ کشمیر کے بنا ہم مکمل نہیں ہیں ہماری شہ رگ ہم سے الگ ہے اس لیے اپنی آواز بلند کریں اور جیسے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دے کے پاکستان حاصل کیا تھا اسی طرح کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رنگ دیتے ہوۓ آزاد ہونے میں مدد دیں۔
    اللہ ملک پاکستان اور مظلوم مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • اختیارات کی مرکزیت  تحریر عدنان عادل

    اختیارات کی مرکزیت تحریر عدنان عادل

    اختیارات کی مرکزیت

    اتوار 16 اگست 2020ء

    پاکستان میں حکومتی نظام میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کمزور ہوتی چلی گئی اور اقتدارو اختیار سمٹ کر مرکز اور صوبائی دارالحکومتوں میںمرتکز ہوگیا۔برطانوی عہد سے ملنے والے ریاستی نظام میں ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس کے عہدوںکے پاس بہت اختیارات تھے۔ وہ حکومت کے ستون تھے۔یُوں اختیارات کی ضلعی سطح پرعدم مرکزیت تھی۔ ہر چیز صوبائی دارالحکومت یا مرکز سے کنٹرول نہیں ہوتی تھی۔ مختلف محکموں کے ضلعوںمیںتعینات اعلی افسران کے پاس فیصلے کرنے کی خاصی آزادی تھی۔قیام پاکستان کے بعد انیس سو ساٹھ کی دہائی تک برطانوی عہد سے ملنے والایہ نظام معمولی ردّوبدل کے ساتھ چلتا رہا۔ انیس سو تہتر کے الیکشن کے بعد اس نظام کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی۔ اُصولی طور پر جمہوریت میں تو اختیارات عوام کو نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں لیکن ہمارے نام نہاد جمہوری پارلیمانی نظام میں اقتدار کی مرکزیت ہوتی گئی۔ حکمرانوں نے ایسے قوانین اور رولز آف بزنس بنائے جن سے بیشتر اختیارات ضلعوں سے چھین کر صوبائی بیوروکریسی یا وزیراعلیٰ کو سونپ دیے۔ اسطرح صوبائی دارالحکومتوں میں انتظامی اتھارٹی کی مرکزیت قائم ہوگئی ۔ کہنے کو ہمارا جمہوری پارلیمانی نظام ہے لیکن اس میں وزیراعلیٰ ایک طرح سے آمرانہ اختیارات کا حامل ہے۔مثلاً پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس میں صوبائی وزیروں کے پاس بھی اختیارات نہیں ہیں۔ تمام انتظامی اختیارات سیکرٹریوں کے ذریعے وزیراعلیٰ استعمال کرتا ہے۔وہ انتظامی اختیارات جو قانونی طور پرتحصیل اور ضلع کی سطح کے افسروں یا صوبائی سیکرٹیریٹ کے اعلیٰ افسران کے پاس ہیں انہیں عملی طور پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں سمیٹ لیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وزیر اعلیٰ چیف سیکرٹری کے ذریعے انتظامیہ کو چلائے لیکن چیف سیکرٹری کے عہدے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری(سیکرٹری ٹُو چیف منسٹر) کا عہدہ زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ وزیراعلی کا سیکرٹری اعلیٰ افسران کواپنے باس کی ہدایت پر زبانی احکامات جاری کرتا ہے جن کی پابندی لازمی تصور کی جاتی ہے۔صوبوں میںوزیراعلی سیکریٹریٹ کا حجم روز بروز برھتا جارہا ہے۔ وہاں افسروں کی ایک فوج تعینات ہوتی ہے جوصوبائی سیکرٹریٹ کے متوازی کام کرتی ہے۔ہر محکمہ کے ماتحت افسروں کوچیف سیکرٹری اور سیکرٹری کو بائی پاس کرکے وزیراعلی سیکرٹریٹ سے براہ راست ہدایات دی جاتی ہیں۔ اختیارات کی وزیراعلی کی ذات میں مرتکز ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے دور دراز واقع علاقوں میںرہنے والے دوسرے‘ تیسرے درجہ کے شہریوں کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ان علاقوں کو ترقیاتی فنڈز میں انکے جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔چھوٹے شہروں اور دیہات میںبنیادی شہری سہولتیں تقریباً ناپید ہیں۔ نہ پینے کا صاف پانی ہے‘ نہ نکاسی آب کی سہولتیں۔ کوئی سڑک یا گلی ٹوٹ پھوٹ جائے تو ایک ایک سال اسکی مرمت نہیںہوتی۔چند بڑے شہروں سے دور رہنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکولوں‘ کالجوں پر سالانہ کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن ان میں تعلیم کا معیار بہت پست ہے۔سرکاری اساتذہ پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اپنے نجی ٹیوشن سینٹرز چلا رہے ہیں۔ملک بھر میں سرکاری ہسپتالوں کی حا لت خراب ہے۔ مریضوں کوادویات نہیں ملتیں۔ٹیسٹ کی مشینیں سال سال خراب رہتی ہیں۔ ڈاکٹرزسرکاری ہسپتالوں سے غائب ہو کر اپنے نجی کلینک اور ہسپتال چلا رہے ہیں۔ سرکاری محکموں میں چین آف کمانڈ کمزور پڑ چکی ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میںشدت پسند مذہبی اور نسلی‘ لسانی گروہ منظم ہوگئے ہیں جو انتظامیہ کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں قابو کرنے کے لیے کبھی فوج کبھی رینجرز طلب کرنا پڑتے ہیں۔ اگر ضلعی سول انتظامیہ طاقتور رہتی تو حکومتی رٹ اتنی کمزور نہ پڑتی۔ایسے گروہ سر نہ اٹھا سکتے۔ جمہوریت ہو یا آمریت کوئی بھی نظام حکومتی اختیار کی مرکزیت کے ساتھ اچھی طرح ‘ مؤثر طریقہ سے کام نہیں کرسکتا۔ مغربی ملکوں نے اسکا حل یہ نکالا کہ منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا۔ برطانیہ میں پولیس کاونٹی کی سطح پرہوتی ہے۔ کاونٹی کو آپ ہمارے ملک کی یونین کونسل تصور کرلیں۔ لیکن ہم تو اُلٹ سمت میں چل پڑے۔ جتنے اختیارات برطانوی نوآبادیاتی دور میں ضلعوں اور تحصیلوں کی سطح پر موجود تھے انہیں بھی چھین کر صوبائی دارالحکومتوں میں منتقل کردیا۔نظم و نسق نے تو خراب ہونا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومتی اختیارات کوضلع کی سطح پر منتقل کرنے کی غرض سے ملک بھر میں منتخب مقامی حکومتوں کا نظام بنایا گیا۔گیارہ صوبائی محکموں کے متعدد اختیارات ضلعی حکومتوں کے سپرد کردیے گئے لیکن جیسے ہی جنرل الیکشن ہوئے ان اداروں کا دائرہ کار کچھ محدود کردیا گیا۔ جب جنرل مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بعد اس پورے نظام کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا۔ سارے اختیارات صوبوں نے واپس خود سنبھال لیے۔موجودہ بد انتظامی میںاقتدار کے مراکز کی عوام (گاؤں‘ قصبے‘ چھوٹے شہر)سے دُوری اور فاصلہ ایک اہم عنصر ہے۔ملک میںایک سواُنتالیس ضلعے اور چار سو تحصیلیں ہیں( گلگت‘ بلتستان اور آزاد کشمیرشامل نہیں)لیکن اقتدار پانچ بڑے شہروں یعنی اسلام آباد‘ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ میں مرتکز ہے۔ملک کی ستر سے پچہتر فیصد آبادی اقتدار کے ان مراکز سے دُور رہتی ہے۔سنہ دو ہزار دس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت سے لیکر صوبوں کو بے تحاشا اختیارات سونپ دیے گئے لیکن صوبوں نے اختیارات اپنے پاس جمع کرلیے ‘ انہیں نیچے ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر ٹرانسفر نہیں کیا۔ گورننس کی موجودہ اَبتر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ان میں ایک اہم چیز حکومتی اختیارات کی عدم مرکزیت ہے۔ انتظامیہ کو ضلع اور تحصیل کی سطح پر مؤثر ‘ فعال اور طاقتور بنانے کے لیے آئین اور قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطرایک راستہ یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے جیسا کہ وہ جنرل مشرف کے دور میں تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ ملک کو پندرہ بیس چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے ۔ تیسرا متبادل یہ ہے کہ ڈویژنزکے کمشنر ز کوایڈیشنل چیف سیکرٹری کے اختیارات دے دیے جائیں اور کمشنرز کو اُنکے ڈویژن میں آنے والے ضلعوں کے تمام محکموں کا چیف ایگزیکٹو بنادیا جائے تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ ان تمام آپشنز پر بحث و تمحیص ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومتی نظام جس میں اقتدارپانچ بڑے شہروں میں مرتکز ہے گورننس کی تباہی کا ایک اہم سبب ہے۔اسے بہرحال تبدیل کرنا ہوگا۔

  • 15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

    15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

    73 برس بیت چکے ہیں ایک خوبصورت وادی ظالم کے قبضے میں ہے۔اس خوبصورت وادی کا نام کشمیر ہے اور اس پر ظلم‌ و بربریت کرنے والا ظالم بھارت ہے۔برِصغیر پاک و ہند میں بھی ہندو تو آزاد ہی تھے۔بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے اور انگریزوں کی چمچہ گری کرنا ان کا کام تھا۔اصل ظلم تو مسلمانوں پر ہوتا تھا۔مسلمان محکوم بنے ہوئے تھے اس ملک میں جس کے وہ کبھی حاکم ہوا کرتے تھے۔

    ہندو اور کانگرس نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان بنے وہ چاہتے تھے کہ انگریز جب نکلے تو سارے کا سارا برصغیر ہمارے قبضے میں آئے۔لیکن بھارت کا یہ خواب خواب ہی رہ گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جو کہ کانگرس اور گاندھی کی شکست تھی۔کشمیر ایک ریاست تھی جس کا راجا ہندو تھا۔لیکن کشمیر میں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی۔کشمیر کو حق دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کر لے۔

    کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں کے راجا ہری سنگھ نے چند ٹکے لے کر خود دہلی میں جا بیٹھا اور وادی پر بھارت کا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔اس وقت کشمیر میں 10 لاکھ کے لگ بھگ فوج ہے۔جب مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں گیا تو قرار دادیں منظور کی گئی جن کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔کیونکہ بھارت جانتا ہے اگر میں نے استصواب رائے کروا دی تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرے گئے۔اس لیے بھارت پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا۔73 سال کا عرصہ گزر گیا بہت سی بہنوں کی عزتیں پامال کی۔لاکھوں ماوں کے سر کے ڈوپتے نوچیں گے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا۔

    لیکن عالمی برادری خاموش کیوں؟
    اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیوں نہیں؟
    ہماری امیدیں وابستہ ہیں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے جو کہ غیر مسلموں کی پٹھو تنظیم ہے۔

    اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے:-
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

    ترجمہ:-

    اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔

    آج ہماری دوستیاں امریکہ اور برطانیہ سے ہے اور مودی سے ہے جو کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
    ادھر کشمیر میں کل 14 اگست کو صورتحال یہ تھی کہ کرفیو لگا ہوا تھا۔کشمیری بہنوں اور ماوں نے گھر میں خود پرچم سلائی کر کے سرینگر کے چوک میں پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔کشمیر کے چوک میں نعرے لگے
    "جیوے جیوے پاکستان
    تیری جان میری جان
    پاکستان پاکستان ”

    کشمیریوں کا پاکستان کے حق میں نعرے لگانا اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے پرچم لہرانا۔اور ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران حب پاکستان میں گولیاں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بن کر اپنی آنکھوں کی بینائی کو ضائع کروا لینا الحاق پاکستان کا ثبوت یے۔

    آج 15 اگست جو کہ ظالم ملک بھارت کی آزادی کا دن ہے کشمیر کے سرینگر کے لال چوک میں خاموشی طاری ہے۔کشمیری خاموش اس لیے ہیں کیونکہ وہ آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    کشمیر میں تو یہ صورتحال ہے کہ کشمیری نوجوان اور بچے ان کو کچھ نہ ملے تو وہ پتھروں کے ساتھ ہی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بھارتی فوج کر بھی کیا سکتی ہے زیادہ سے زیادہ کا آپا آسیہ اندرابی کو گائے زبح کرنے کے جرم میں گرفتار کر سکتی ہے۔

    گرفتاری کی صعوبتوں کے باوجود آپا جی کے دل میں پاکستان کی محبت کا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی صاحب جو کہ طویل عرصے سے علیل ہے۔علالت کے باوجود ان کو نظربند کرنا اور نظربندی کے دوران بھی ٹویٹ کے ذریعے 14 اگست کو ان کا پاکستان کو مبارک باد دینا بھارت کے ظلم کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا پاکستان سے محبت کی علامت ہے۔

    آخر کشمیری اور پاکستانی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں نہ منائے؟آج کے دن بننے والے ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو قیدی بنا رکھا ھے۔کشمیر مسلمانوں کو کھانا نہیں مل رہا۔کشمیری یوم سیاہ اس لیے مناتے ہیں کیونکہ بھارت ظالم نے ان سے اظہار خیال کو حق چھین لیا اور ان کا آئینی،جمہوری حق جو کہ استصواب رائے کا تھا چھین لیا۔ان ظالموں نے کشمیریوں کو ان کے آباواجداد کے ملک میں ہی قید کر دیا۔باہر سے آ کر ان پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے۔

    یہ وہ۔کشمیر ہے جو اقبال کے تخیل کا مظہر یوں تھا:-

    آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
    کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

    اب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دینا۔کیونکہ واضح حکم ربی ہے:-

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ٙ

    اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔
    ریاست مدینہ کے بانی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    کاہے کی آزادی اور کون سا جشن آزادی؟ بھارتیو تم مقید ہی کب تھے جو آزاد ہوتے. تم تو قابض تھے صیاد تھے اب بھی ہو..14اگست 1947 بھارت کا یوم شکست تھا اور ان شاء اللہ 2020 ان کا دوسرا یوم شکست ہوگا. جب کشمیر آزاد کرائیں گے.اے اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو نست و نابود فرما

    15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

  • 15 اگست یوم سیاہ    ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    15 اگست یوم سیاہ ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    15 اگست یوم سیاہ
    ازقلم محمد عبداللہ گِل
    73 برس بیت چکے ہیں ایک خوبصورت وادی ظالم کے قبضے میں ہے۔اس خوبصورت وادی کا نام کشمیر ہے اور اس پر ظلم‌ و بربریت کرنے والا ظالم بھارت ہے۔برِصغیر پاک و ہند میں بھی ہندو تو آزاد ہی تھے۔بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے اور انگریزوں کی چمچہ گری کرنا ان کا کام تھا۔اصل ظلم تو مسلمانوں پر ہوتا تھا۔مسلمان محکوم بنے ہوئے تھے اس ملک میں جس کے وہ کبھی حاکم ہوا کرتے تھے۔ہندو اور کانگرس نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان بنے وہ چاہتے تھے کہ انگریز جب نکلے تو سارے کا سارا برصغیر ہمارے قبضے میں آئے۔لیکن بھارت کا یہ خواب خواب ہی رہ گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جو کہ کانگرس اور گاندھی کی شکست تھی۔کشمیر ایک ریاست تھی جس کا راجا ہندو تھا۔لیکن کشمیر میں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی۔کشمیر کو حق دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کر لے۔کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں کے راجا ہری سنگھ نے چند ٹکے لے کر خود دہلی میں جا بیٹھا اور وادی پر بھارت کا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔اس وقت کشمیر میں 10 لاکھ کے لگ بھگ فوج ہے۔جب مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں گیا تو قرار دادیں منظور کی گئی جن کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔کیونکہ بھارت جانتا ہے اگر میں نے استصواب رائے کروا دی تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرے گئے۔اس لیے بھارت پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا۔73 سال کا عرصہ گزر گیا بہت سی بہنوں کی عزتیں پامال کی۔لاکھوں ماوں کے سر کے ڈوپتے نوچیں گے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا۔
    لیکن عالمی برادری خاموش کیوں؟
    اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیوں نہیں؟
    ہماری امیدیں وابستہ ہیں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے جو کہ غیر مسلموں کی پٹھو تنظیم ہے۔

    اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے:-
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

    ترجمہ:-

    اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔

    آج ہماری دوستیاں امریکہ اور برطانیہ سے ہے اور مودی سے ہے جو کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
    ادھر کشمیر میں کل 14 اگست کو صورتحال یہ تھی کہ کرفیو لگا ہوا تھا۔کشمیری بہنوں اور ماوں نے گھر میں خود پرچم سلائی کر کے سرینگر کے چوک میں پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔کشمیر کے چوک میں نعرے لگے
    "جیوے جیوے پاکستان
    تیری جان میری جان
    پاکستان پاکستان ”
    کشمیریوں کا پاکستان کے حق میں نعرے لگانا اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے پرچم لہرانا۔اور ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران حب پاکستان میں گولیاں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بن کر اپنی آنکھوں کی بینائی کو ضائع کروا لینا الحاق پاکستان کا ثبوت یے۔
    آج 15 اگست جو کہ ظالم ملک بھارت کی آزادی کا دن ہے کشمیر کے سرینگر کے لال چوک میں خاموشی طاری ہے۔کشمیری خاموش اس لیے ہیں کیونکہ وہ آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
    کشمیر میں تو یہ صورتحال ہے کہ کشمیری نوجوان اور بچے ان کو کچھ نہ ملے تو وہ پتھروں کے ساتھ ہی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بھارتی فوج کر بھی کیا سکتی ہے زیادہ سے زیادہ کا آپا آسیہ اندرابی کو گائے زبح کرنے کے جرم میں گرفتار کر سکتی ہے۔گرفتاری کی صعوبتوں کے باوجود آپا جی کے دل میں پاکستان کی محبت کا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی صاحب جو کہ طویل عرصے سے علیل ہے۔علالت کے باوجود ان کو نظربند کرنا اور نظربندی کے دوران بھی ٹویٹ کے ذریعے 14 اگست کو ان کا پاکستان کو مبارک باد دینا بھارت کے ظلم کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا پاکستان سے محبت کی علامت ہے۔
    آخر کشمیری اور پاکستانی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں نہ منائے؟آج کے دن بننے والے ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو قیدی بنا رکھا ھے۔کشمیر مسلمانوں کو کھانا نہیں مل رہا۔کشمیری یوم سیاہ اس لیے مناتے ہیں کیونکہ بھارت ظالم نے ان سے اظہار خیال کو حق چھین لیا اور ان کا آئینی،جمہوری حق جو کہ استصواب رائے کا تھا چھین لیا۔ان ظالموں نے کشمیریوں کو ان کے آباواجداد کے ملک میں ہی قید کر دیا۔باہر سے آ کر ان پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے۔😭😭
    یہ وہ۔کشمیر ہے جو اقبال کے تخیل کا مظہر یوں تھا:-

    آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
    کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

    اب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دینا۔کیونکہ واضح حکم ربی ہے:-

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ٙ

    اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔
    ریاست مدینہ کے بانی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    کاہے کی آزادی اور کون سا جشن آزادی؟ بھارتیو تم مقید ہی کب تھے جو آزاد ہوتے. تم تو قابض تھے صیاد تھے اب بھی ہو..14اگست 1947 بھارت کا یوم شکست تھا اور ان شاء اللہ 2020 ان کا دوسرا یوم شکست ہوگا. جب کشمیر آزاد کرائیں گے.اے اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو نست و نابود فرما

  • میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    اسلام آباد:صدر پاکستان عارف علوی نے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد 184 شخصیات کو آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ایوارڈز کے لیے منتخب کی گئی شخصیات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر ملکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    صدر پاکستان نے جہاں غیر ملکی شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے، وہیں صدر مملکت نے میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے۔

    جبکہ صدر مملکت نے نشان امتیاز ایوارڈ کے لیے معروف مصور مرحوم صادقین نقوی، پروفیسر شاکر علی، مرحوم ظہور الحق، لیجنڈ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین، ڈاکٹر جمیل جالبی، مرحوم محمد جمیل خان اور مرحوم شاعر احمد فراز کو منتخب کیا ہے۔

    دوسری جانب صدر مملکت نے ستارہ امتیاز کے لیے ادکارہ بشریٰ انصاری، اداکار طلعت حسین، آرٹسٹ محمد عمران قریشی، ڈرامہ نگار سلطانہ صدیقی، اداکار سید فاروق قیصر اوراینکر پرسن نعیم الطاف بخاری کو منتخب کیا ہے۔

    صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ایوارڈ کے لیے مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل، اداکارہ سکینہ سموں، ہمایوں سعید، گلوکار علی ظفر، گلوکار محمد علی شہکی، گلوکارہ مرحومہ مہہ جبین قزلباش، اداکار نعمت اللہ الیاس نعمت، اداکارہ صائمہ شاہ الیاس ریشم، آنجہانی گلوکار کرشن جی، گلوکارہ حنا نصر اللہ، موسیقار دریان خان، موسیقار ذوالفقار علی، آرٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدوس عارف، لکھاری سرمد صحبائی، لکھاری ماہتاب محبوب، مرزا اطہر بیگ، اباسین یوسف زئی اور تاج جویو سمیت دیگر آرٹسٹوں کو بھی منتخب کیا ہے۔

  • ڈاکٹر محمد حمید اللہ:حیدرآباد دکن سے بہاولپورتک ، سنہری سفر،خوشبوداریاد داشتیں ..از..فردوس جمال

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ:حیدرآباد دکن سے بہاولپورتک ، سنہری سفر،خوشبوداریاد داشتیں ..از..فردوس جمال

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے.

    ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا.

    ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے.

    ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے.

    ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے "تعارف اسلام ” کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی جس کتاب کے دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں.

    یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھی،آپ 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے،
    آپ نے 1933ء میں جرمنی کیبون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے.

    آپ 1946ء میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدرآباد کے نمائندہ (سفیر) مقرر ہوئے۔

    1948 میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدرآباد لیبریشن سوسائٹی” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی.

    1950 میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے.

    آپ نے 1952 سے 1978 تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا

    1980 میں جامعہ بہاولپور میں طلبہ کو خطبات دیے جنہیں بعد ازاں خطبات بہاولپوری کے نام سے شائع کیا گیا

    یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت 17 دسمبر 2002 کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئی.

    یہ ایک فرد تنہا تھے لیکن کام کئی جماعتوں سے زیادہ کر گئے،اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے.

    جمع،ترتیب،ترجمہ
    بقلم فردوس جمال !!!

  • تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:-  عبدالرحمن ثاقب

    تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی جس قدر قدر کی جائے کم ہے۔

    آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا کرتی بلکہ اس کے لیے مسلسل اور بےتحاشہ قربانیاں دینا پڑتی ہے تب جا کر منزل کا حصول ہوتا ہے۔
    ہندوستان کے مسلمانوں نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان سے آزادی کا نعرہ رستہ خیز بلند کیا اور جہد مسلسل کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں ہندو بنیے سے آزادی عطا کی۔

    اس آزادی کے لیے بچوں،بوڑھوں، جوانوں، عورتوں اور عفت مآب بیٹیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ خون کا ایک دریا عبور کرکے لوگ پاکستان پہنچے اور انہوں نے اس پاک سرزمین پر سجدہ شکر کے لیے سر جھکا دیے۔

    عورتوں نے اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے کنوؤں اور دریاؤں میں چھلانگیں لگا کر اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں، بچوں کو نیزوں کی انیوں میں پرویا گیا، جوانوں کو بیدردی سے شہید کیا گیا، خمیدہ کمروں والے بوڑھے والدین کے سامنے ان کے جواں اور گھبرو فرزندوں کو ذبح کیا گیا، عورتوں کے سامنے ان کے سہاگ اجاڑ دیے گئے، مساجد و مدارس اور ان میں قائم کتب خانوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا، وعظ، ذکروفکر اور درس و تدریس کی محافل و مجالس جو ایک عرصہ درازسے قائم تھیں اجڑ گئیں، مکانات و محلات اور کاروباری مراکز ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیے گئے، ہندو، سکھ اور دیگر مسلمان دشمنوں نے تعصب اور اسلام دشمنی میں جو ہوسکا وہ جی بھر کر کیا اور مسلمانوں کا قتل عام کرکے خون کی ندیاں بہائیں،

    قرآن مجید اور دینی کتب جو جل جانے سے محفوظ رہ گئیں ان کی توہین کی، ایسی عفت مآب بیٹیاں جنہیں آسمان نے بھی نہ دیکھا تھا اگر دیکھ لیتا تو شرما جاتا انہیں کی عصمت دری کی گئی ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جسے لکھنے سے قلم قاصر ہے۔

    سب نے سب ظلم و ستم برداشت کرلیے کہ ہم ایک اسلامی ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو ریاست مدینہ منورہ کی مثال ہوگا جہاں پر خلافت راشدہ کا نظام ہوگا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا میر کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    اس ملک کے لیے مسلمانان ہند نے جس مقصد کے لیے قربانیاں دیں تھیں وہ پس پشت ڈال کر گورے انگریزوں کا نظام ان پر دوبارہ مسلط کردیا گیا۔

    جہاں دیگر طبقات کے لوگوں نے آزادی وطن کے حصول کے لیے قربانیاں دیں وہاں پر علماء اہل حدیث کسی سے پیچھے نہ رہے بلکہ مسلم زعماء کے کندھوں سے کندھا ملا کر چلے اور بغیر کسی طمع یا شہرت کے بھرپور جدوجہد کی۔

    23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ لاہور اور میں تاریخی اجلاس شروع ہوا جس میں ہندوستان بھر کے کے دور دراز کے علاقوں اور شہروں سے مسلم لیگ کے مندوب ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئے اس اجلاس میں میں سینکڑوں کی تعداد میں جہاں مسلم قائدین نے شرکت کی وہاں بے شمار اہل حدیث علماء نے بھی شرکت فرما کر اس تاریخی اجلاس کو کامیاب کیا۔

    خصوصا امام العصر حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمت اللہ علیہ متوفی 1956، مولانا عبد المجید سوہدری رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1959، محدث العصر حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ متوفی جون 1985، مولوی مولانا سید محمد اسماعیل غزنوی متوفی 1960، مولوی مولانا محمد عبداللہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1983، مولانا محمد اکرم خان محمدی رحمہ اللہ کلکتہ متوفی 1968، مولانا عبداللہ الباقی بنگال رحمہ اللہ، خان مہدی خان زمان رحمہ اللہ کھلابٹ ہزارہ، میاں عبدالحق برج جیوے کا ضلع ساہیوال، چوہدری عبدالکریم زیروی، چوہدری عبدالستار فیروزپوری، مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ اور مولانا فضل الہی وزیرآبادی ایک ملنگ کے روپ میں شریک تھے کانفرنس میں بانی پاکستان کی صدارت میں مولوی فضل الحق بنگالی نے جسے شیر بنگال بھی کہا جاتا تھا قرارداد پیش کی

    اس قرارداد کی تائید بانی پاکستان نے ایک بھرپور تاریخی خطاب فرمایا جس کے شعلہ بیان خطیب مقرر بہادر یارجنگ حیدرآبادی نے فرمائی اجلاس کیا تھا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔۔۔ دور حد نگاہ تک انسان ہی انسان نظر آتے تھے مسلمانوں نے بڑے جوش وخروش اور جذبہ ولولہ سے قرارداد کی تصدیق و توثیق کی۔ ہندو پریس کی نوازش سے ہی قرارداد لاہور قرارداد پاکستان قرار پائی۔ پاکستان کے حصول کے لیے لیے اہل حدیث علماء نے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ ہندوستان بھر کے اہل حدیثوں کو مسلم لیگ میں شمولیت اور قیام پاکستان کی تحریک کی تائید کرنے کی تلقین کی گئی ۔

    اس سلسلے میں مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا محمد اکرم خان محمدی کلکتہ، مولانا عبد اللہ الکافی، مولانا عبد الباقی، مولانا علامہ راغب احسن ڈھاکہ، مولانا محمد حسین میرٹھی، خان محمد زمان خان کھلابٹ ضلع ہزارہ، مو لا نا محمد ادریس تتریلہ ضلع تہکال بالا پشاور، پشاور کے ارباب خان عبدالمجید خان، سندھ کے پیر احسان اللہ راشدی پیرآف جھنڈا، مولانا سید محمد اسماعیل غزنوی، مولانا عبدالمجید سوہدروی، مولانا سید عبدالغنی شاہ، مولانا ابو الحسن محمد یحی امرتسری، محدث العصر حضرت حافظ محمد گوندلوی، مولانا علی محمد صمصام، مولانا محمد شبلی فیروزپوری، مولانا محمد عبداللہ ثانی، مولانا محمد یوسف کمیرپوری، مولانا اللہ بخش کمیرپوری، چوہدری عبد الکریم زیروی، چودھری عبدالستار فیروزپوری، مولانا محمد علی لکھوی، مولانا عبداللہ بڈھیمالوی، مولانا محمد سلیمان روہڑی، حافظ علی بہادر بمبئی، مولاناعبداللہ کھپیاں والوی، مولوی مولانا محمد یونس دہلوی، میاں عبدالحق برج جیوے خان ضلع ساہیوال، حاجی محمد انور ایم ایل اے فیصل آبادی، چوہدری محمد عبداللہ آف اوڈانوالہ، امیرالمجاہدین صوفی محمد عبداللہ اللہ، مولانا فضل الہی وزیر آبادی رحمۃ اللہ، مولاناعبدالحکیم ندوی، قصوری غازی عبدالغنی مجاہد، میاں عبدالعزیز مال واڈہ لاہور، مولانا محمد یوسف کلکتوی، مولانا عبدالمجید دینا نگری، حکیم نور دین فیصل آبادی، میر عبدالقیوم فیصل آبادی،مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد اسماعیل روپڑی، میاں محمود علی قصوری، خواجہ محمد صفدر، مولانا محمد عبداللہ اوڈ، شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری اور دیگر اعیان اہل حدیث کی قیام پاکستان میں خدمات نہ صرف قابل فراموش بلکہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں اہل حدیث کے کے بچے بچے نے قیام پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اپنی گردنیں کٹوا کر قیام پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔

    تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ماخوذ از
    ( تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا حصہ نمبر 366,367,368، بحوالہ سیاسیات برصغیر میں اہل حدیث کا حصہ صفحہ نمبر 60,61)

  • حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    سینٹرل جیل مچھ میں کچھ عرصہ وقت گزارنے والے سابقہ قیدی عبد الرحیم کا پیغام

    جیل کے گزرے ایام میں لوگوں کو شکایت کرتا پایا ، بہت سے شاید وہ لوگ ہونگے جو واقعی مظلوم اور بے قصور تھے لیکن میرے لیے حیرت کی بات تھی شکوے شکایتیں کرتے ہوئے اور پاکستان کو برا بھلا کہتے ہوتے ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے واقعی جرم کیا تھا۔ ایسے ہی ایک شخص سے جو چوری کے کیس میں آیا تھا سلام دعا ہوگئی اسکے شکوے شکایتوں کی وجہ یہ تھی کہ چوری اس نے ایک کی تھی جبکہ پولیس نے اس پر کئی اور کیسز بھی ڈال دئیے تھے۔ جب میں اسکے شکوے شکایتوں سے تنگ ہونے لگا تو پھر ذہن میں ایک ترکیب آئی میں اسے اپنے احاطے کے ایک سیل میں موجود قیدی فتح کے پاس لے گیا۔ کچھ دیر اسکے پاس بیٹھے ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں اس دوران اسکے منہ سے ایک لفظ بھی پاکستان کے خلاف نہیں نکلا ۔

    جب میں نے اس چور کو بتایا کہ اسے تیس سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے بے گناہ قید ہے تو اس چور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ اس ملاقات کے بعد اس چور میں میں نے واضح تبدیلی دیکھی ۔ فتح کو معلوم نہیں تھا لیکن میں اس کامیاب تجربے پر بہت خوش تھا۔ آج بھی جب فتح کے متعلق سوچتا ہوں تو یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ کیسا پہاڑ جیسا صبر ہے اس شخص کا ، جو اتنا عرصہ جیل میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا ۔۔۔ حب الوطنی کیا ہے یہ میں نے فتح سے ہی سیکھا ۔۔۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے جلد ازجلد رہائی نصیب فرمائیں آمین

  • پاکستان بننا کیوں ضروری تھا  بقلم :الفت بنتِ رمضان

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا بقلم :الفت بنتِ رمضان

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا
    [بقلم الفت بنتِ رمضان]

    پاکستان بنانے کامقصد ایک ایسی ریاست کو تشکیل دینا تھا جو کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔
    اس نظریے کی بنیادی وجہ یہ تھی کے ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں آباد تھیں جبکہ انکے مذاہب،انکی ثقافت، انکی زبان، انکے لباس، انکا عمل اور ارادی سوچ انکی تاریخ ان کے رسم و رواج اور بودو باش کے طریقہ کار ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔
    مثلاََ: ہندو مذہب کے پیرو کار گاۓ کو ایک متبرک جانور سمجھتے ہیں اور اسکی پوجا کرتے ہیں جبکہ مسلمان گاۓ کا گوشت کھاتے ہیں۔
    ان بنیادی اختلافات کی بنا پر ان دو قوموں کا الگ ہونا بہت ضروری تھا
    اگرایسا نا ہوتا تو عین ممکن تھا کے آج کروڑوں مسلمانوں کو کشمیریوں کی طرح اقلیت قرار دے کرہندٶں کی غلامی میں دے دیا جاتا جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل تباہی تھی۔تو اس لیے ایک ایسی ریاست کا وجود میں آنا ضروری تھا کے جس میں رہ کر مسلمان اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگیاں گزار سکیں اور عالم کے لیے ایک مثال قاٸم کر سکیں۔
    اسی لیے اللّٰہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
    یایھاالکفرون لا اعبد ما تعبدون
    ترجمة:
    (اے نبیﷺ آپ فرما دیں) اے کافرو! میں اسکی عبادت نہیں کرتا جسکی تم عبادت کرتے ہو۔
    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
    آیت:
    ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مٶمن واللّٰہ بما تعملون بصیر
    ترجمة:
    وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوٸی کافر ہو گیا اور تم میں سے کوٸی مومن ہو گیا۔”
    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے کے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق گزارنے اور اپنی مقصدِ حیات کو پہچاننے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین یا رب العالمین –

  • قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر  بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر

    بقلم [ بنت نذير ]
    پاکستان بننے سے پہلے مسلمان اور ہندو ایک ساتھ رہتے تھے مسلمانوں پر ہندوؤں کی حکومت تھی مسلمانوں کو آزادی حاصل نہیں تھی ان پر ظلم کیے جاتے تھے چنانچہ ان کو ان کے حقوق حاصل نہیں تھے.

    اگست 1947ء میں پاکستان کا قیام ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو دیگر ممالک آزاد ہوئے وہ پنجۂ غلامی میں جانے سے پہلے بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود رکھتے تھے ۔ ان ملکوں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں اور کامیابی کے بعد اپنے سابقہ تشخص کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ ان ممالک کے برعکس پاکستان 1947ء سے پہلے کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ تشخص نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان میں شامل علاقے برصغیر کا حصہ تھے اور برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج کے ذریعے ایک سو سال کے عرصے میں اپنا قبضہ مکمل کرکے اس کو سلطنت برطانیہ کے سپرد کردیا تھا۔ 1857ء میں یہ قبضہ مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی انگریزی استعمار کے خلاف برصغیر کے طول و عرض میں آزادی کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔1857ء سے 1947ء تک کے نویں سال کے عرصے میں مسلم سیاسی شناخت ایک جداگانہ اور نمایاں پروگرام کے طور پر اجاگر ہوئی جس کے واضح سیاسی اور اقتصادی عوامل موجود تھے۔ انگریزی استعمار کی تعمیر و تشکیل کے دوران ابتدا ہی میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اب جب کہ پہلی مرتبہ ہندوستان میںاستعماری مقاصد ہی کے تحت نمائندہ اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور ساتھ ہی ایسی انتظامی اور اقتصادی پالیسیاں متعارف کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نئی سرکاری زبان یعنی انگریزی میں دسترس رکھنے والوں کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے اور دیہی علاقوں میں ایک نئی اقتصادی اشرافیہ وجود میں آرہی ہے۔ ان نئے رجحانات سے خود کو لاتعلق اور غافل نہیں رکھا جاسکے گا۔ ان دونوں سماجی طبقات کے لیے ضروری تھا کہ نئے وجود میں آنے والے نمائندہ اداروں تک پہنچ حاصل کریں تاکہ اپنے طبقات کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ یہ اسی مرحلے پر ہوا کہ مسلمانوں کے بااثر طبقات کو پہلی مرتبہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں اپنے اقلیت ہونے کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ اس احساس کا اولین اظہار سرسید احمد خان کی تحریروں میں ہوا جبکہ بعد میں مسلم سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اور 1904ء میں بننے والی مسلم لیگ اس احساس کے ترجمان بنے۔

    قائداعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھے۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت ممد و معاون ثابت ہوا۔ انگلستان میں اپنے قیام کے دوران وہ لبرل سیاسی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوئے ۔انہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا ۔ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی داخلی حرکیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی مناقشات کو حل کرنے کی غرض سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ ریاست نے خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار بنا کر اور ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرکے معاشرے کوکس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے۔ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آ ٓکھڑا ہوا۔ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے جب کہ کوئی نو دس صدیوں تک مسلمان بادشاہ ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان بھی موجود رہا تھا جب کہ اپنے مذہبی معاملات میں وہ اپنے علیحدہ طرز فکرو عمل کے بھی حامل رہے تھے۔ یہ دونوں رجحانات ہمیشہ ہی ایسے معاشروں میں پاۓ جاتے رہے ہیں جہاں ثقافتی تنوع موجود ہوتا ہے ہندوستان بھی اس ثقافتی تنوع کا حامل تھا اور یہ کوئ غیر معمولی اور ہندوستان سے مخصوص بات نہیں تھی لیکن انگریز کئ آمد کے بعد نمائندہ اداروں کے قیام کے نتیجے میں اب جبکہ قانون سازی اور انتظامی امور کی انجام دہی ان اداروں کے سپرد ہونے والی تھی تو پہلی مرتبہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع سیاسی تقسیم کی بنیاد بننا شروع ہوا.

    قائداعظم کا خیال تھا کہ نمائندہ اداروں میں اگر جمہوری اصولوں کو ہندوستان کے معروضی حالات سے لاتعلق ہو کر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوئوں کی ثقافتی اکثریت ان کی سیاسی اکثریت کا راستہ ہموار کرے گی جب کہ مسلمان ثقافتی اقلیت ہونے کے ناطے سیاسی اقلیت بھی قرار پائیں گے۔ اس تضاد کے حل کے لیے انہوں نے جو حکمت عملی وضع کی اس کے دو نمایاں قانونی و سیاسی پہلو تھے ۔حکمت عملی کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ جمہوری سیاسی نظاموں میں اس امر کی بھی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کی کمتر تعداد کو نسبتاً زیادہ نمائندگی دے کر اس کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کو قوم سازی کے عمل میں شریک بھی رکھا جاسکتا ہے۔ سیاسی زبان میں اس کو ایجابی اقدام کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اقدام جس کے ذریعے کسی حلقے کو اس کے منطقی حق سے زیادہ دے کر اس کے اعتماد کو جیتا جائے(اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارے موجودہ آئینی نظام سے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے حق کے باوجود اضافی طور پر سولہ فیصد نشستیں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان کے پسماندہ اور مردانہ غلبے کے حامل معاشرے میں خواتین کے لیے عام انتخابات میںاس آزادی کے ساتھ مہم چلانا ممکن نہیں ہے جس آزادی کے ساتھ مرد حضرات اپنی مہم چلا سکتے ہیں)قائداعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی سے مسلمانوں کے لیے کسی بھی سیاسی دروبست میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کو انکی اقلیتی حیثیت کی بنا پرنظر انداز کردیے جانے سے محفوظ رکھ سکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً چوبیس فیصد آبادی کے لیے وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تینتیس فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے۔

    یہ1914ء کا لکھنو پیکٹ ہو یا 1927ء میں پیش کی جانے والی ’دہلی مسلم تجاویز‘ ، قائداعظم کے چودہ نکات ہوں یا لندن کی گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کردہ دلائل ، یا پھر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی فارمولے ، کم و بیش ان تمام مراحل میں قائداعظم کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی نمائندگی کے تناسب کی وکالت کی گئی جو ان کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتی۔ انہوں نے پہلے مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سیاسی حقوق کی وکالت کی ۔ اور بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کا موقف اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے جو حقوق قوموں کو حاصل ہوتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ان کی وکالت کی جاسکے۔ لیکن خواہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت سمجھا ہو یا ایک اگلے مرحلے پر ان کو قوم قرار دیا ہو، قائداعظم کا نکتہ نظر مذہبی منافرت پر مبنی اورفرقہ ورانہ کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کے پورے سیاسی کیریئر کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے کبھی بھی ہندوؤں کے لیے تحقیر یا تذلیل کا کوئی ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا ۔ تحقیر اور تذلیل تو دور کی بات انہوں نے بارہا اپنی گفتگوؤں میں اور اپنے بیانات میں ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے یہاں تک کہ 7 مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور ان سب کا جس کے وہ علمبردار ہیں،احترام کرتا ہوں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے ۔اپنا فلسفہ ہے ۔ اپنا عظیم کلچر ہے. لیکن دونوں مختلف ہیں. میں ہندوستان کے لیے لڑھ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے.

    قائداعظم نے کہا کہ اب تک جو میں سمجھ سکا ہوں دلی میں مسلم لیگ کے حلقے پرامید ہیں.

    غالباً قائداعظم کی اسی سوچ کے پیش نظر مسلم لیگی قیادت نے بلآخر تقسیم بند کے اس منصوبے کو قبول کر لیا جس کا علان آل انڈیا ریڈیو سے نشری تقریروں کے ذریعے کیا گیا. یوں پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہوئ اور 14 اگست 1947ء کو اس کا وجود عمل میں آیا.