Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟  تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟ تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟

    نادیہ بٹ

    سچ کہہ دوں اے برہمن اگر برا نہ مانے
    تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے.

    القرآن:
    کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکرو وتومنون بالله
    ترجمہ
    "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو”
    اسلام سراسر خیر اور معروف ہے معروف ہر وہ اچھائی ہے جس کو فطرت سلیمہ اچھائی مانتی ہے اور منکر ہر وہ برائی ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کر دے۔
    اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کی صرف دعوت تو دی جائے گی لیکن امر’آرڈر یا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا. کسی غیر مسلم کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا, لیکن اگر وہ امن و امان میں خلل ڈالے تو امر کی قوت کو ضرور حرکت میں لایا جائے گا۔
    لا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض و فساد کبیر (سورة توبہ ٧٣پ ١٠)
    ترجمہ "یعنی اگر تم نے یہ نہ کیا تو زمیں میں فتنہ فساد پھیل جائے گا”

    دشمنانِ اسلام کہتے چلے آئے ہیں کہ "اسلام تلوار کے زور سے پھیلا” ان کو اعتماد ہے اپنے زبردست پراپیگنڈا اور تحریری قوت پر وہ جانتے ہیں کہ جھوٹی بات بھی اگر بار بار دھرائی جائے اور مسلسل کہی جائے تو سننے والوں کے دل میں شک پیدا کر ہی دیتی ہے اس لیے کتنے مسلمان نوجوان ہیں تفصیلات سے بے خبر اور نا واقف ہونے کے باعث ان کے پراپیگنڈے سے کم و بیش متاثر ہو جاتے ہیں
    مگر حق یہ ہے کہ دشمنوں میں سے کوئی بھی آج تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

    ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ …….عہد رسالت میں جو لڑائیاں پیش آئیں ان کے بیان کے بارے میں ہمارے مورخین نے بڑی بے احتیاطی کی ہے جس کی وجہ سے مخالفین کو بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور نا واقف لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں آنحضور ﷺ کے سامنے جتنے معرکے پیش آئے وہ دو قسم کے ہیں
    (١) جس میں آپ ﷺ نے شرکت فرمائی وہ غزوہ ہے۔
    (١١)جس میں آپ خود شریک نہ تھے وہ سریہ کہلاتا ہے۔

    اکثر جماعتیں جو لڑنے کے علاؤہ کسی دوسرے کام کے لیے بھیجی گئیں ان کو بھی مورخین نے سریات کے ذیل میں شامل کر لیا ہے حالانکہ اصل لڑائیوں کی تعداد کم ہے ان کو بھی سریہ میں شامل کر لیا جو صرف دو تین افراد پر مشتمل تھیں یا ان کے بھیجنے کے مقاصد کچھ اور تھے.
    تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی 6564 اور کل مقتول 759تھے اور مسلمانوں میں سے کل 259 شہید اور صرف ایک بزرگ قید ہوئے
    6348 قیدیوں کو آنحضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے غزوہ حنین کے بعد آزاد فرما دیا ستر قیدی بدر کے تھے جن کو فدیہ ادا کرنے پر رہا کر دیا

    اب ان اعداد کے مقابلے میں دنیا کی دوسری مذہبی و سیاسی لڑائیوں کے قیدیوں اور مقتولین کی تعداد دیکھی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے صرف مدافعت کے لیے مجبور ہو کر تلوار ہاتھ میں اٹھائی تھی کسی اور مقصد کے لیے نہیں لڑے تھے
    غیر مسلم کے مقتولین کے خوفناک اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔۔
    جنگ عظیم اول جو کہ چار سال تک جاری رہی ان اعداد و شمار میں قیدی اور زخمی سپاہیوں کا شمار داخل نہیں مقتولین کی تعداد قریباً چار کروڑ بنتی ہے ۔

    مدعی نبوت ﷺ گو بظاہر بشریت میں تھے لیکن اپنی معنوی زندگی،اپنے معجزانہ اخلاق،اپنے علم و معرفت اپنے ربانی کرشموں کی بناء پر اخلاق کے بہت بلند مرتبہ پر فائز تھے…
    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب عرب میں آپ ﷺ کی نبوت چرچا سنا تو اپنے بھائی انیس کو تحقیق کے لیے بھیجا انہوں نے واپس آ کر پیکر نبوت کا نقشہ ان الفاظ میں کھنیچا "میں ایک ایسے شخص کو دیکھ کر آیا ہوں جو بھلائیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکتا ہے (بخاری)
    اسلام کے سب سے اول اعلان دعوت کے موقع پر دشمن قریش نے خود گواہی "محمد ﷺ ! تیری بات ہم نے آج تک جھوٹ نہ پائی

    ہجرت کے آٹھ سال بعد ہرقل قیصر روم کے دربار میں ابو سفیان کی نبی کریم ﷺ کی صداقت پر گواہی (صحیح بخاری) فتح مکہ پر صفوان بن امیہ کا اسلام لانے کا واقعہ ۔۔۔۔ (صحیحح مسلم)
    ہندہ رضی اللہ عنھا قبل از اسلام خاندان نبوت کی قدیم ترین دشمن فتح مکہ پر بھیس بدل کر گستاخی سے باز نہیں آئی لیکن دربار رسالت میں پہنچ کر
    آپ ﷺ کے حسن خلق سے متاثر ہوئے بے اختیار بول اٹھی یا رسول اللہ ﷺ سطح زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے مبعوض نہ تھا لیکن آج آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں ہے آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم ہمارا بھی یہی خیال ہے۔
    یہودی عالم جو قرض کی معافی پر مسلمان ہوا اور اپنا نصف مال صدقہ کر دیا (مشکوۃ)
    ثمامہ بن آثال یمامہ کا رئیس اسلام کا مجرم تھا گرفتار ہو کر آیا تو مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تین دن بعد آنحضرت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کی بند گرہ کھول دی اور رہا کر دیا اس واقعہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔(بخاری شریف)
    یہودی عالم عبداللہ بن سلام آپ ﷺ کا فرمان۔۔۔۔ سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو۔۔۔۔۔سن کر مسلمان ہو گئے. (بخاری شریف)
    ضماد زمانہ جاہلیت میں آپکے دوستانہ تعلقات رہ چکے تھے وہ جنون کا علاج کرتے، آپ ﷺ نے ایک تقریر کی ان الفاظ سے شروع کیا
    الحمدللہ نحمدہ و نستعینه من یھدہ اللہ فلا مضل له ومن یضلله فلا ھادی له واشھدان الا اله اللہ وحدہ لا شریک له واشھدان محمدا عبدہ ورسوله
    اس پر ان فقروں کا یہ اثر ہوا وہ بار بار سننے کا مشتاق ہوا اور کہا ہاتھ لائیں میں بیعت کرتا ہوں (صحیح مسلم)
    ایسے لا تعداد واقعات سے اسلام کی عظمت کا ثبوت ملتا ہے۔
    آج امریکہ اور یورپی ممالک میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا دین ہے دیکھا جا رہا ہے اُن کو کون تلوار کے زور پر اسلام قبول کروا رہا ہے؟
    یہ تو اللہ سبحان و تعالیٰ کا وعدہ ہے:
    هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله

  • برہانِ کشمیر  بنا جنتوں کا مہمان    ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان
    ازقلم
    محمد عبداللہ گِل
    آزادی ایک وہ عظیم الشان نعمت ہے جس کا اندازہ اس کے کھو جانے کے بعد ہوتا ہے۔دنیا کا ہر جاندار آزاد رہنا پسند کرتا ہے حتی کے جب ہم پرندوں کو یا دوسرے جانوروں کو پنجروں میں قید بناتے ہیں تو وہ بھی اپنی آزادی کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق جستجو کرتے ہیں۔کچھ یہی فطرت حضرت انسان کی ہے۔
    جب موجودہ غلام قوموں کی طرف ہم نظر پھیریں تو سب سے پہلے ہماری نظر جنت نظیر اس کی طرف جاتی ہے۔کشمیر ہی وہ اس ہے جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔لیکن جیسے مشہور ہے کہ خوبصورت چیزوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے۔اسی طرح وادی کشمیر کو بھی نظر لگ گئی اور وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک انڈین درندوں کی قید میں ہے۔
    ‎برہان مظفر وانی شہید کشمیر کی خوبصورت جنت نظیر وادی میں جنم لینے والا عظیم سپوت، شجاع، بہادر، دلیر اور نڈر نوجوان تھا جو کہ جذبۂ شہادت اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تھا۔ جوانی نے ابھی انگڑائی ہی لی تھی کہ اپنی قوم پر ظلم کے ٹوٹتے ہوئے پہاڑ دیکھ کر برداشت نہ کر سکا قوم کی حوصلہ افزائی و ہر قسم کی قربانی اور مدد کیلئے ہمہ تن کمر بستہ ہوا۔ پھر اس بہادر نوجوان نے اپنی مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی کو خون جگر سے سیراب کیا اور اپنے مقبوضہ خطے کی تحریک آزادی اور اپنی قوم کی حق خودارادی کی خاطر اپنی جان کا عظیم اور قیمتی نذرانہ پیش کر کے زندۂ و جاوید ہو گیا۔ تو پھر اس باصلاحیت سرفروش نوجوان کی شہادت نے مقبوضہ ‎ کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی اور حق خودارادی اور جذبۂ شہادت ایمانی ‎کو ایک نیا موڑ، نیا ولولہ، نیا جذبہ دیا خاص کر اس نوجوان کی شہادت نے کشمیری نوجوان نسل کے اندر حق خودارادیت اور کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی کی ایک نئی جہت پیدا کی اور ان کے سینوں میں شہادت کی نئی امنگ پیدا کر دی اور ایسی روح پھونک دی ہے کہ جس کیلئے کبھی بھی فنا اور موت نہیں ہے کیونکہ جس قوم کی آزادی میں شہداء کا خون شامل ہو جائے وہ قوم کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی شکست سے دوچار ہو سکتی ہے۔ وادی کشمیر کی تحریک آزادی کو تو الحمدللہ ہزاروں مجاہدین، غازیوں اور شہداء کے خون نے سیراب کیا ہے ‎ایسی قوم جس کا مطمع نظر شہادت ہو اور شہادت کو اپنے لئے باعث فخر بھی سمجھتی ہو اور شہادت کے بدلہ میں جنت کا خوبصورت اور حسین ترین منظر سامنے ہو اللہ تعالی اور اس کے محبوب پاکؐ کی رضا اور خوشنودی کا بھی یقین ہو وہ قوم بھلا شہادت کی موت سے کیسے پیچھے ہٹ سکتی ہے ان شاءاللہ آزادی کشمیری عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ کشمیری عوام پر سفاک درندہ صفت بھارتی سامراج نے 73سال سے قتل وغارت، بربریت اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ارباب اقتدار و صاحب اختیار اپنے کانوں میں روئی اور آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہو کر سوئے ہوئے ہیں جیسا کہ دنیا کی کوئی خبر ہی نہیں، رات دن گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹینکوں کے گولوں کی گڑگڑاہٹ عورتوں، بچوں بوڑھوں بیماروں، زخمیوں اور بے سہارا نہتے کشمیریوں کی چیخ و پکار خون کے بہتے ہوئے دریا عالمی ادارہ تحفظ انسانی، اقوام متحدہ، یورپی یونین و دیگر عالمی اداروں کو کیوں دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ظلم کی انتہا ہو چکی ہے اب تو مقبوضہ کشمیر کی زمین کا چپہ چپہ ان مظلوم کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے بھارت کے ظلم کی وجہ سے ان مظلوم کشمیریوں کی آہ وبکا، دلوں کو ہلا دینے اور چیر دینے والی چیخوں سے زمین و آسمان کا خلا بھی بھر چکا ہے تن تنہا نہتے مظلوم غیور کشمیری عوام اپنی حق خودارادی اور جدوجہد تحریک آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس طرح دوسری قومیں آزادی سے اپنی زندگی گزار رہی ہیں اسی طرح کشمیریوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کی زندگی گزاریں اپنی قسمت کے خود فیصلے کریں
    کشمیری قوم نے بھی اپنی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے جس تحریک آزادی کشمیر کہتے ہے۔اس تحریک آزادی میں ہزاروں نامور شہدا کا لہو موجود ہے۔لیکن جب ہم بات کرتے ہیں ایک ایسے شیر کی جو کہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر ہے

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    برہان وانی شہید رحمتہ اللہ کو آج 4 سال ہو گئے شہید ہوئے لیکن ایک وجہ جو ان کو یاد کیے ہوئے ہیں ان کی شجاعت و بہادری ہے جس کے ساتھ انھوں نے اپنی جان راہ خدا میں جہاد فی سبیل اللہ میں قربان کر دی۔
    برہان وانی شہید کی بھی چاہت تو ڈاکٹر بنے کی تھی اور ذہین بھی تھے۔لیکن جن سے رب تعالی نے جہاد کا کام لینا ہو،انھوں نے دنیاوی تعلیم کو خیرباد کہ کر حزب المجاہدین میں شمولیت کر لی
    جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی شہادت نے کشمیر اور دوسرے مظلوم ممالک کی تحریکوں میں ایک ولولہ اور جوش بھر دیا ہے۔جب انسان اپنا جان و مال اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دیتا ھے تو رب جلیل بھی اس دنیا و آخرت میں صلہ دیتا ہے۔کیونکہ بہترین صلہ نے والا تو اللہ ہی ہے۔اللہ کے صلہ کو دیکھا جائے تو دین سے وفا کے بدلے میں غلام حضرت بلال کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوتا ہے۔یہ ہی حال ادھر کشمیر کے شیر کا ہے جس نے مظالم کی دنیا میں ہی جنم لیا۔یہ تصور کر کے ہی خوف آتا ہے کہ آپکا جنم ایک ایسی جگہ پر ہوا ہو جسے اسیر بنا لیا گیا ہو۔

    بقول اقبال:-
    غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
    جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

    قارئین گرامی! اگر اس شعر کو دیکھا جائے تو آج شاعر اسلام علامہ اقبال کہ اس شعر کی حقیقی تصویر جنت نظیر وادی کشمیر کی صورتحال برہان وانی اور دیگر شہدا کی شہادت کے بعد دیکھی جا سکتی ہے۔انسان جب دوسروں کے بارے غور و فکر کرنا شروع کر دے تو اللہ اسے عزتوں سے نوازتے ہیں

    کیونکہ ارشاد ربانی ہے:-

    قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾

    آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے ۔

    آج آپ دیکھ لیں کمانڈر برہان مظفر وانی شہید کی شہادت کو 4 برس بیت گئے لیکن دنیا اسلام ان کو یاد کر رہی ہے کشمیر میں بھی آزادی پسند ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں

    I am Burhan Waani
    I am Pakistani

    کشمیر کے اس شعر کی شہادت کے بعد غاصب فوجیوں نے یہ کہا ہم نے برہان وانی کو مٹا دیا لیکن حقیقت یہ ھے کہ برہان وانی کی محبت اور عقیدت لوگوں کے دلوں سے نہیں نکل سکتی۔اس پر مجھے جگر مراد آبادی کا شعر یاد آ رہا ہے

    ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

    یہ مقام و مرتبہ تو اللہ نے دنیا میں دیا ہے آگے جو رب تعالی نے وعدے کر رکھے ہیں کہ خون کے قطرے گرنے سے پہلے ہی جنت میں داخلے کا فیصلہ کر دیا جاتا ھے۔

  • آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں  بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں

    اخــتِ طلحـہ بــٹ

    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

    ہمارے معاشرے میں فکری انتشار نے جنم لیا ہے اور یہی فکری انتشار ہمارے اسلامی معاشرہ کو کمزور کر رہے ہیں۔مسلمان ایک دوسرے سے تنگ نظری کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں اتحاد و یکجہتی اور وحدت اور فکر و عمل غائب ہوتے جا رہے ہیں
    اور اختلافات’چپقلش’کدورتیں اور تنازعات ظاہر ہوتے جا رہے ہیں۔فکری انتشار اور باہمی جھگڑے معاشرہ کی بنیاد ہلا کر رکھ دیتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے مابین اتحاد’اتفاق’وحدتِ فکرو عمل اور صلح و مفاہمت قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    "اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔” (الانفال:46)

    تفرقہ بازی کا آغاز اور مقصد……
    اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی یا انتشار فکری کے آغاز کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا

    "لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا’اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے” (الشوری:14)

    یہ تفرقہ بازی اللہ کی طرف سے علم آ جانے کے بعد شروع ہوا۔اس لیے اللہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ لوگ خود اس کہ ذمہ دار ہیں جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و مسالک بنائے۔

    اس تفرقہ بازی کا محرک کوئی نیک جذبہ نہ تھا’بلکہ یہ ایک الگ فکر پھیلانے اور ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش اور مال و جاہ کی طلب کا نتیجہ تھی۔

    قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے تفرقہ بازی کو ظلم قرار دیا گیا اور تفرقہ برپا کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

    "لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے تمہارا رب بھی۔اسی کی عبادت کرو’یہی سیدھا راستہ ہے مگر اس (صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا’پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب سے” (الزحرف63_65)

    تفرقہ بازی سے بچاؤ کا حکم…….
    اللہ تعالی نے فرمایا۔
    "(اے محمد ﷺ) اب آپ ﷺ
    کی طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے،اور جس کی ہدایت ہم ابراھیم اور موسیٰ علیہ السلام کو دے چکے ہیں’اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ”۔ (الشوریٰ:13)

    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    "انتشار فکری یعنی تفرقہ بندی سے بچنے اور اتحاد امت کے فروغ کے لیے اللہ تعالٰی نے ایک اور جگہ پر حکم فرمایا کہ:

    اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔” (آل عمران: 103)

    اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان والوں کو باہم مل کر ایک جماعت بناتا ہے ۔
    اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو،اسی سے ان کو دلچسپی ہو،اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ
    "کتــاب الــلــه حبــل الـلــه المـمدود من السـماء الـی الارض” (ابن کثیر)

    "اللہ کی کتاب ہی وہ رسی (حبل اللہ)ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔”

    مرکز اتحاد کے بارے میں دنیا کی اقوام کی راہیں مخلتف ہیں۔کہیں نسل اور نسب کے رشتوں کو مرکز وحدت سمجھا گیا،کہیں رنگ کا تفاوت وحدت کا مرکز بن گیا اور کہیں زبان مرکز وحدت قرار پائی۔
    قرآن مجید نے مومنوں کو ایک قوم بنا کر حبل اللہ (اللہ کی رسی)سے وابستہ کیا۔
    لہذا ملت اسلامیہ کا مرکز نظریہ اور عقیدہ جو ان کے پاس قرآن کریم اور دین اسلام کی شکل میں ہے۔اس مرکز سے وابستہ رہنے ہوئے مسلمانوں کو انتشار اور فرقہ بندی سے روکا گیا ہے

    عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی’ذہن ہندی’نطق اعرابی

    آخری گزارش

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جس میں نیکی و خیر کی جدو جہد کی جاتی ہو
    اور منکرات و مفاسد اور بدعات کی رسموں کو ختم کیا جائے،تبھی ہمارے معاشرے میں اللہ تعالی کی طرف سے فیوض و برکات نازل ہو گی۔
    معاشرے کو اچھے حکمران عطا ہونگے ،وباو بیماریوں کو خاتمہ ہو گا
    پھر ایسا معاشرہ کامیاب و مستحکم ہو گا ،اس کی بنیاد مضبوط ہو گی
    اس معاشرے کے افراد کتاب اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و تقلید کا جذبہ پیدا ہو گا۔
    اس سبب سے یہ معاشرہ ناقابلِ تسخیر بن جائے گا۔

    اختکم اختِ طلحہ بٹ

  • برہان وانی (Burhan Wani) تو آج بھی زندہ ہے!!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    برہان وانی (Burhan Wani) تو آج بھی زندہ ہے!!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    تحریک آزادی کشمیر ظلم کی تصویر سے بھلا کون واقف نہیں؟ پچھلے 74 سالوں سے مظلوم کشمیری کم وسائل مگر چٹان جیسے حوصلے اور جذبہ ایمانی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور 10 لاکھ مسلح فوج سے اپنی آزادی کی خاطر عام رائفلوں اور پتھروں سے لڑ رہے ہیں اور اس لڑائی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی
    محاذ کشمیر کی جنگ دنیا کی سب سے اونچائی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی ترین جنگ ہے جس سے خود بھارت بھی پریشان ہے مگر اسے اس کا لے پالک اسرائیل سہارا دیئے ہوئے ورنہ اسی محاذ کشمیر پر انڈیا مالی و فوجی لحاظ سے کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ادھر کشمیریوں کے حوصلے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس مسلح تحریک آزادی میں اب تک ایک لاکھ کے قریب نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جن میں سے ایک انتہائی اہم قربانی برہان مظفر وانی کی بھی ہے
    ایک پوسٹر بوائے سے مجاہد بننے والا یہ حزب المجاھدین کا کمانڈر برہان مظفر وانی 19 ستمبر 1994 کو مظفر وانی اور میمونہ وانی کے ہاں پیدا ہوا
    برہان وانی نے بچپن ہی سے انڈین آرمی سے نفرت کی اور رفتہ رفتہ اس نفرت کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر بھی کرتا رہا
    2010 میں برہان وانی نے حزب المجاھدین کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ عسکری زندگی کا آغاز کیا اور اس کے عسکری جوہر دیکھتے ہوئے اسے 2011 میں حزب المجاھدین کا کمانڈر بنا دیا گیا
    برہان جس علاقے میں بھی جاتا انڈین فوج کے بڑے بڑے کمانڈر اس علاقے سے راہ فرار کو ترجیح دیتے اور یوں اس کی جرات و بہادری کی ڈھاک انڈین فوج پر چھا گئی دوران زندگی اسے ٹاپ کمانڈر قاسم عبدالرحمان شہید کی قربت بھی نصیب ہوئی اور وہ قاسم عبدالرحمان کو اپنا استاد مانتا تھا انڈین فوج پر برہان کا اس قدر رعب پڑ چکا تھا کہ ہندو سرکار نے برہان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپیہ مقرر کر دی تھی
    8 جولائی 2016 کو مقبوضہ وادی کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوگر ناگ میں انڈین فوج کی بہت بڑی تعداد نے جدید ترین ہتھیاروں سے کئی گھنٹے طویل معرکے کے بعد برہان کو شہید کیا جس کے بعد وادی میں تاریخی تصادم انڈین فوج اور کشمیریوں کے مابین شروع ہو گیا اور ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد نوجوانوں نے اپنی جان راہ شہادت میں قربان کی اور اس شہادتوں کے بعد نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ آزادی پیدا ہوا جو کہ اب بھی جاری و ساری ہے
    22 سال کی عمر میں برہان وانی دس لاکھ مسلح فوج کو ایسا زخم دے گیا کہ سات عشروں سے زائد میں ایسا زخم بھارت کو نا ملا تھا 22 سالہ لڑکا وہ کام کرگیا کہ 50 ,50 سال سے عسکری خدمات دینے والے ہندوں,اسرائیلی دماغ دنگ رہ گئے کہ ایسا کیوں کر ہو گیا ؟ مگر ایسا اس لئے ہوا کیونکہ برہان مظفر وانی اس محمد ذیشان تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند ہے کہ جس نبی علیہ السلام نے کم وسائل ہونے کے باوجود اپنے دور کی سپر پاور کو شکشت دیکر تاریخ کو حیران کر دیا اور آج پوری دنیا کی سپر طافتیں اسی نبی کی جنگ مہارت پر عمل پیرا ہونے کو ہی کامیابی قرار دیتی ہیں
    برہان اس لئے بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے کہ وہ سیدنا صدیق اکبر,سیدنا عمر فاروق ,سیدنا عثمان غنی ,سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضوان اللہ علیہ اجمعین کا روحانی فرزند ہے کہ جنہوں نے انتہائی کم وسائل کیساتھ پوری دنیا پر حکمرانی کی اور ثابت کر دیا کہ جنگیں وسائل سے نہیں بلکہ قوت ایمانی سے لڑی جاتی ہیں اور برہان زندہ اس لئے بھی ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے مجوسیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ایسا اکھاڑ پھینکا کہ آج دن تک دوبارہ مجوسیت کھڑی نہیں ہو سکی
    برہان اس لئے آج بھی رول ماڈل ہے کیونکہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے اس وقت کی سپر پاور صلیبیوں سے بیت اللہ واپس لیا اور سپر پاور بھی وہ کہ جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا سلطان کی ضرب سے گھٹنوں کے بل جا گری تھی
    آج انڈیا بریان وانی کو یاد کر کر کے غم زدہ رہتا ہے کیونکہ برہان کی شہادت کے بعد نوجوان اس قدر مسلح تحریک میں شامل ہوئے کہ پہلے تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی اس روز کی پھلتی پھولتی مسلح تحریک آزادی سے خوفزدہ انڈیا نے ظلم و بربریت کی گندی ترین مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ سال اگست سے تاحال تاریخ کا سب سے لمبا کرفیو لگایا ہوا ہے اور اس کرفیو کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے مگر انڈین گورنمنٹ کیلئے رزلٹ پھر بھی صفر ہی ہے کیونکہ کشمیری آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں کل بھی ان کا نعرہ تھا بھارت سے لینگے آزادی ،کشمیر بنے گا پاکستان اور آج بھی ان کے نعرے یہی ہیں
    انڈیا کی اس ساری بربریت پر عالمی برادری مایوس کن حد تک خاموش ہے مگر کشمیری قوم کھلے عام ہندو سرکار کو کہہ رہی ہے کہ سن لے انڈیا برہان تو رب کی جنتوں کا مہمان بن گیا مگر اللہ کی قسم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کو وہ ایسا سبق سکھا گیا کہ قیامت تک ہندو دھرم میں خوف کی لہر پیدا ہو کر رہ گئی ہے
    ایک طرف مٹھی بھر مجاہدین ہیں تو دوسری طرف انڈیا کی دس لاکھ مسلح اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوج مگر پھر بھی کئی سالوں سے میرے غیور کشمیروں کی صدا آزادی کو دبا نا سکی تیری ہندوں مائیں غم سے مر جاتی ہیں کہ جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے فوجی بیٹے کی مقبوضہ کشمیر میں پوسٹنگ ہو گئی ہے اور جب کہ دوسری طرف کسی کشمیری ماں کا ایک بیٹا شہید ہوتا ہے تو وہ ماں پہلے بیٹے کی کلاشن دوسرے بیٹے کو پکڑا کر کہتی ہے چل بیٹا اپنے رب کے فرمان کے مطابق اپنے شہید بھائی کا بدلہ لے اور مظلوم ماؤں, بہنوں,بیٹیوں اور بزرگوں کی مدد کر اور پھر اس کی شہادت کے بعد تیسرے پھر چھوتھے حتی کہ بیٹے کے بیٹے کو کلاشن پکڑا کر حکم ربی سنا کر خود غاصب پلید ناپاک ہندوں فوج کے خلاف جہاد کے لئے بیجھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو بیک وقت دو,دو بھائی اور کئی مرتبہ باپ بیٹا اکھٹے برسر پیکار رہتے ہیں اور کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ذلت آمیزی انڈیا کو تب ملی جب میری عفت مأب پاک دامن کشمیری بہنوں بیٹیوں نے اپنے غیور سنگ باز بھائیوں کے شانہ بشانہ ہندو کی گندی فوج کا مقابلہ پتھروں سے شروع کیا ان شاءاللہ کشمیر منرل دور نہیں
    تو چھین لے آنکھیں مجھ سے
    خواب تو کیسے چھینے گا ؟

  • خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی    تحریر:ساجدہ بٹ

    خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی تحریر:ساجدہ بٹ

    خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی

    تحریر:ساجدہ بٹ *
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور فیاضی سے کام لے

    آپ کے خیال میں نرمی اور فیاضی سے یہ مراد کہ بیچتے وقت میٹھا میٹھا اچھے لہجے میں بات چیت کرنا؟؟؟؟
    ارے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!
    نرمی سے مراد یہاں یہ ہے کہ مناسب قیمت وصول کریں منافع کے لالچ میں پڑ کر گاہک کی کھال مت اتاریئے ۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ اس عید الفطر پر دکانداروں نے عوام کی اُتاری !!!!!!
    اور خوب جم کر کھال اُتاری گئی اور عوام نے خوب جم کر اپنی کھال اتروائی ۔کھال تو چلو اوتروا ہی لی لیکن ساتھ ساتھ بیماری بھی لگوا لی لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑائی گئیں اور اب الزامات ہم کبھی حکومت پر اور کبھی ڈاکٹروں پر لگاتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔
    سنیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!! ہمارے نبی مُحترم دو جہاں کے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے کچھ پروا نہ کی جہاں سے چاہا مال کمایا۔۔۔
    سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کُچھ پروا نا ہو گی کہ حلال طریقہ سے کمایا یا حرام طریقہ سے
    (صحیح بُخاری)
    آج یہ کھلم کھلا ہو رہا ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی صدیاں پہلے آگاہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں حلال مال حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،آپ فرماتے تھے؛؛
    جس شخص کو یہ اچھا معلوم ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو جائے یا عمر بڑھ جائے اسے چاہیے کہ اپنے قرابت والوں کے ساتھ نیک سلوک کرے
    صحیح البخاری۔۔۔۔

    اور ہمارا طرز عمل آج اس سے ذرا مختلف ہے ہم اپنے غریب رشتے داروں کو بھول جاتے ہیں جب ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے۔۔۔۔۔

    سیدنا ابو ہریرہ رز کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،،جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کر دیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے،،،،،،

    اور اب قسم کھانا تو دکاندار کا عام ہو گیا تا کہ اُن کی بتائی ہوئی قیمت پر گاہک آنکھیں بند کرکے یقین کر لے ۔آپ اس طرح منافع تو ڈھیر سارا کما لیں گے لیکن یاد رکھیں آپ کے مال میں نہ تو برکت ہو گی اور نہ ہی آپ کی زندگیوں میں سکون اور اطمنان قلب نصیب ہو گا۔۔۔۔۔۔
    آپ نے دیکھا ہو گا جس شخص کے پاس جتنا مال و دولت ہے وہ اتنا ہی بےچین ہے سکون کی نیند کی تلاش میں ہے ۔یاد رکھیے بے ایمانی سے ایمان کی لذت ہمارے اندر سے جاتی رہتی ہے ہم کھوکھلے سے ہو جاتے ہیں جیسے پھلوں کی بھرئی ٹوکری میں اوپر تو خوبصورت ترو تازہ پھل ہوں اور اندر گلے سرٹرے بدوبو دار پھل ہوں سوچو خریدنے والے کے دل پر کیا گزرے گی جب اُسے خریدے گا۔۔۔۔؟
    ہم لوگ تو کاروباری معاملات میں دھوکہ دہی کرنے پر تو عروج پر پہنچ چکے ہیں کھانے پینے والی چیزوں میں دھوکہ دہی ملاوٹ حد سے تجاوز کرگئی ہے دل کا کیا حال سنائیں جس اسلامی ملک میں گدھے کتے بلیاں مینڈک اور پتہ نہیں کیا کیا حلال کے طور پر بنا کر بیچا جاتا ہے جو اسلامی روح سے بھی حرام اور گناہ ہے اور دیکھ کر بھی كراہت آتی ہے وہ ہمیں نہایت عمدہ انداز میں کھانے میں پیش کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
    ان حالات میں وطن عزیز کیا خاک ترقی کرے گا جب اپنے ہی اپنوں کو دھوکہ دے رہے ہوں۔۔۔۔

    اجڑا ہے یوں چمن کہ گزرا ہے یہ گماں

    اس کام میں شریک کہیں باغباں نہ ہو

    ( جہد مسلسل )

  • دریائے جہلم کی سیر  تحریر: اسد عباس خان

    دریائے جہلم کی سیر تحریر: اسد عباس خان

    دریائے جہلم کی سیر

    جولائی کے مہینہ میں شدید گرمی اور حبس سے گٹھن کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار مون سون کے آغاز سے قبل ہی بن بتلائے بادلوں کی کوئی ٹولی آتی ہے اور یکلخت چہار سو برکھا برسنے سے کچھ دیر تک گرمی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ یا پھر طوفانی و گرد آلود جھکھڑ ہر ظاہری چیز کو یک رنگ کر دیتا ہے۔ گزشتہ روز جب عین دوپہر آسمان سے آگ اگلتے سورج کو بادلوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرتے دیکھا تو اچانک بچوں کو نہ جانے کیا سوجھی۔۔۔
    کہنے لگے دریا پر چلتے ہیں۔ دریا کا نام سن کر زمانہ طفل کے خیالات میں گم ہوا تو فضل عدنان کی آواز نے جھنجوڑا کہتا ہے ماموں کیا ہوا جلدی کریں موسم بہت اعلٰی ہے۔ پلیز لے چلیں ناں۔۔۔
    دریائے جہلم گھر سے زیادہ دور نہیں پیدل چلیں تو پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ موسم کی انگڑائی دیکھ کر اپنا بھی جی للچایا کہ گھر میں بیٹھنے سے باہر کی ہوا خوری دل، دماغ اور جُسہ کے لیے زیادہ مفید ہے لہذا طے ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد رخت سفر باندھیں گے۔ کھانے سے فراغت کے فوراً بعد فیصل عدنان خان بھائی سے رابطہ کیا اور انہیں بھی دعوت دیکر ہمسفر بنا لیا۔ پرجوش بچوں عمر فاروق اور فضل عدنان کے ساتھ برادر فہیم خان بھی دریائی نظارے کے شوق دیدار میں گرمجوشی سے تیار تھے۔ گاؤں کے فطری خوبصورت اور سادہ نظارے شہروں کی مصنوعی چکا چوند کو مات دیتے ہیں۔ کچے راستے، لہلہاتے کھیت، ہری بھری فصلیں، مٹی کی سوندی سوندی خوشبو اور شور شرابے کے پاک فضاء زندگی کی خوبصورتی کا احساس دلاتی ہے۔ یوں تو پنڈ دادنخان کے علاقہ میں اور کھیوڑہ سالٹ رینج کے نزدیک تمام زمینیں کلر ذدہ اور ناقابل کاشت ہیں۔ لیکن دریائے جہلم کے نزدیک زمینیں سونا اگلتی ہیں۔ مکئ کی تیار فصل اور زمین پر بکھرے اس کے سنہری خوشے واقعی ماحول کو بھی سنہرا کیے ہوئے تھے۔ ان زمینوں پر مکئ کے علاوہ آلو، مٹر، گندم، گنا، جوار جبکہ دیگر سبزیوں میں لہسن، پیاز، ٹماٹر، سبز مرچ، بھنڈی، کدو، گوبھی سمیت ہر قسم کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ اگر راستے پر فطرت کے رنگ بکھرے ہوں تو نظارے اپنی فرحت بخشی سے ایک قرار کا سا احساس پیدا کرتے ہیں، جس کا اپنا ہی الگ لُطف ہوتا ہے۔ باتوں باتوں میں ہی مسافت کٹ گئی اور ہم دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ وہ دریا جسے ہم نے بچپن میں دیکھا تھا کہیں نظر نہ آیا۔ وہ دریا جس کے پاٹ کی چوڑائی اتنی تھی کہ دوسرا کنارہ نظر تک نہ آتا تھا آج سکڑ کر چند میٹر تک محدود ہو چکا تھا۔ اور یہاں کھڑا ہوا پانی کچھ دن پہلے آنے والے ریلے کا۔۔۔۔
    دریا میں رسی کی مدد سے چلنے والی کشتی احتیاطاً تھی تاکہ برساتی موسم میں اگر طغیانی آۓ تو اس کشتی کی مدد سے پانی کو عبور کیا جا سکے۔ جسے ہم نے بھی بچوں کو تفریح فراہم کرنے کی خاطر استعمال کیا۔ پانی کے دوسرے پار دریا کے اندر ہی قابل کاشت زمینیں اور دیہاتی لوگوں کے ڈیرے ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ اس خوبصورت ترین جزیرے کے دوسرے سرے پر بھی اتنا ہی دریا بہتا ہے جتنا ہم کراس کر کے یہاں پہنچے تھے اور تقریبا ایک کلو میٹر تک کا چوڑا یہ درمیانی علاقہ سرسبز ترین اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بھی کبھی دریا تھا لیکن اب شاید قیامت تک کبھی دریا نہ بن پائے گا۔
    پاکستان ’ماحولیاتی تبدیلی‘ سے متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پانی کے بحران کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔ کوہ ہمالیہ سے نکلنے والا دریائے جہلم کبھی پنجاب کا سب سے اہم دریا ہوا کرتا تھا مگر آج ہندوستانی آبی جارحیت کا شکار یہ دریا خود پیاس کے ہاتھوں دم توڑ رہا ہے۔
    دریا کے تالاب میں تبدیل ہونے کا احساس انسانوں کے ساتھ ساتھ شاید جانوروں کو بھی بخوبی ہے۔ دریا میں درجنوں بھینسیں اور گائیں نہاتی اور تیرتی نظر آئیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دریا انتہائی آلودہ ہوگیا ہے۔ جانوروں کی غلاظت پانی میں شامل ہو رہی ہے جس سے آبی حیات کی بقا بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
    انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق پانی کے بہاؤ میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ دریا کی خشکی نے جانوروں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چہل قدمی کا راستہ بھی فراہم کر دیا ہے۔ بھینسوں کی کثیر تعداد سے واضح ہوتا ہے کہ دریا کی آلودگی کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے۔ اگر یہی حال رہا تو دریا کے سبب بننے والے قدرتی مناظر تک ناپید ہو جائیں گے۔۔۔
    اور شاید اگلی نسلیں دریائے جہلم کی موجودگی کے آثار پر ’ریسرچ‘ کرتی رہ جائیں گی۔ ہم انہیں سوچوں میں گم خوبصورت نظاروں کے مزے لے رہے تھے اور بچے ہریالی وادی دیکھ کر کلہاڑی ہاتھوں میں لیے "ارتغرل غازی” اور "ترگت” بنے ہوئے تھے۔ اس وقت تک آسمان پر موجود بادلوں نے طوفانی ہواؤں کو دعوت عام دیدی۔ خشک ریت ہوا میں اڑنے لگی اور گردوغبار کا شدید طوفان پاؤں اکھیڑنے پر آ گیا۔ فیصل عدنان بھائی کے ساتھ مل کر بچوں کو سنبھالا اور واپس گھر جانے کی تگ و دو میں لگ گئے۔
    سامنے سے آنے والے طوفان کے باعث گھر کے رخ پر چلنا بھی شدید دشوار تھا۔ پندرہ منٹ کا راستہ آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا۔
    اور سارے راستے ریت اور مٹی کے تھپیڑوں سے لڑ کر حالت ایسی ہو گئی کہ گھر پہنچنے پر گھر والے ہی پہچان نہ پاۓ۔

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • حسد اور غرور کیا ہے؟      از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے؟ از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے_؟

    از قلم__مشی حیات

    ہمارے معاشرے کے تقریبا ہر فرد میں یہ دونوں برائیاں انتہائی حد تک موجود ہیں۔۔۔۔
    لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کوئی بھی خود کا محاسبہ نہیں کرتا۔۔۔۔
    قارئین۔۔۔۔۔!!
    ہم دیکھتے ہیں کہ حسد کیا ہے اور کیا ہم حاسد تو نہیں۔۔؟
    امام راغب اصفہانی حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، "جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں”

    یعنی کہ کسی دوسرے کی خوشحالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوشحالی دور ہو کر اسے مل جائے۔۔۔۔!!
    اب سوچیں۔۔۔!!
    کیا یہ برائی آپ کے اندر ہے۔۔۔؟
    کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ کسی کی نعمت اس کی بجائے آپ کے پاس ہو یا اس کی خوشحالی پر خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔!!
    حسد کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔“۔۔۔۔۔!!

    دوسرے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو ) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
    البخاری__حدیث نمبر 73

    یعنی کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔۔۔۔
    ایک یہ کہ اللہ نے اپنے بندے کو دولت دی تاکہ وہ اسے استعمال میں لائے مگر اس نے اس دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے اپنی قدرت رکھ لینا کہ یہ مال میرا ہے جب میرا جی چاہے میں استعمال میں لاوں ورنہ نہیں۔۔۔۔
    اب سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا یہ دونوں باتیں آپ کے اندر موجود ہیں۔۔۔۔؟
    اللہ نے آپ کو مال دیا اور آپ نے اس میں کہیں حسد کو تو شمار نہیں کیا کہ وہ مال صرف آپ کے پاس رہے کسی اور پاس نہ جائے۔۔۔۔۔؟

    تیسری جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا .

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
    البخاری حدیث نمبر 6064

    قارئین۔۔۔۔!!
    بار بار تلقین کی گئی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسد نہ کرو۔۔۔کسی مسلمان کلمہ پڑھنے والے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے بھائی کے پاس موجود نعمت پر شکر اور خوش ہونے کی بجائے حسد کا شکار ہو۔۔۔۔۔!!
    حسد زندگی تباہ کر دیتا ہے۔۔۔۔!!
    *نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا۔۔۔!!
    قیامت کے نزدیک ایک ایسی قوم ہو گی جس میں حسد بہت پایا جائے گا۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔!!
    اب ہمیں خود سے محاسبہ کرنا ہے کہ کیا ہم حاسد ہیں۔۔۔؟
    ہمارے اندر حاسد کی علامات ہیں۔۔۔؟
    اگر موجود ہیں تو ان کا محاسبہ کریں۔۔۔۔!!
    اس پہلے کہ اجل کا فرشتہ آئے اور ہمیں ان برائیوں کے ساتھ اچک لے۔۔۔۔!!

    حسد کے ساتھ بہت بڑی دوسری برائی غرور ہے۔۔۔۔۔!!

    غرور کیا ہے۔۔۔؟

    ایک ایسی انسانی کیفیت اور حالت کہ جس میں انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے زیادہ فضیلت اور فوقیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔!!

    غرور دکھاوے کو بھی کہتے ہیں۔۔۔۔اور تکبر کے معنی میں بھی آتا ہے۔۔۔!!

    غرور کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔۔!!

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا ( پاجامہ یا تہبند وغیرہ ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے ( اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ) موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔
    البخاری حدیث نمبر 3665
    اس حدیث سے بات بلکل واضح ہو چکی ہے۔۔۔۔!!
    اگر ایک انسان کوئی لباس پہنتا ہے اور اسے لوگوں کے درمیان دکھاوا کرتا ہے۔۔ اکڑ اکڑ کر چلتا ہے۔۔۔تاکہ لوگوں کی نگاہیں اس پر جم جائیں تو اللہ رب العزت اس شخص کی طرف رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں۔۔۔۔!!
    ہمارے ہاں اکثریت ہوچکی ہے شلوار ٹخنوں کے اوپر رکھنے کا حکم تھا مگر یہاں زمین پر گھسیٹ رہے ہیں۔۔۔!!
    کیا ایسی حالت میں اللہ ہماری طرف دیکھے گا جب ہم نے اس کا حکم ہی نہ مانا۔۔۔۔۔!!

    مزید اللہ تعالی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    {‏ قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده‏}
    وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏””‏ كلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ في غير إسراف ولا مخيلة ‏””‏‏.‏ وقال ابن عباس كل ما شئت والبس ما شئت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما أخطأتك اثنتان سرف أو مخيلة‏

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يخبرونه ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ .

    ” اے رسول ! کہہ دو کہ کس نے وہ زیب وزینت کی چیزیں حرام کیں ہیں جو اس نے بندوں کے لیے ( زمین سے ) پیدا کی ہیں ( یعنی عمدہ عمدہ لباس ) “
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھاؤ اور پیو اور پہنو اور خیرات کرو لیکن اسراف نہ کرو اور نہ تکبر کرو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جو تیرا جی چاہے ( بشرطیکہ حلال ہو ) کھاؤ اور جو تیرا جی چاہے ( مباح کپڑوں میں سے ) پہن مگر دو باتوں سے ضرور بچو اسراف اور تکبر سے ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
    صحیح بخاری 5783

    اللہ تعالی نے بار بار تلقین کی کہ اپنی امت سے کہہ دیجئیے۔۔۔۔۔اا
    کھاؤ پیو اور پہنو ساتھ خیرات بھی کرو مگر اسراف اور تکبرنہ کرو۔۔۔۔۔۔!!
    جس شخص کے اندر غرور یعنی تکبر کی علامت آ گئی کپڑے پہنیں اور اسے زمین پر گھسیٹ کر چلا اللہ رب العزت ایسے شخص کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔۔۔!!
    آئیں سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا ہمارے اندر حسد کے ساتھ ساتھ غرور بھی موجود ہے۔۔۔۔؟؟
    کیا ہم بھی دکھاوے کے لیے کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔۔؟
    جب ہم بازار نکلتے ہیں تو ہمارے زیب تن کیےکپڑے تکبر کی وجہ سے زمین پر تو نہیں لٹک رہے۔۔۔۔۔!!
    اگر واقعی ایسا ہے تو خدارا ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔۔۔۔!!
    ہم رب کی رحمت کے بنا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!!
    اگر ہم پر رب کی رحمت نہ ہوئی تو ہم کیا جہنم برداشت کر سکے گے۔۔۔۔!!؟

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
    الترمذی 2404

    ہم اپنی ذاتی زندگی کا محاسبہ خود ہی کرسکتے ہیں۔۔۔۔!!
    اللہ ہمیں موقع دیتا ہے فتنوں کو دور کرنے مگر ہم صم بکم والے رویے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے اگر سانس چل رہی ہے تو خود کو بدلیں اور اپنی آخرت بہتر کریں۔۔۔۔۔!!
    اللہ رب العزت ہم سب پر اپنی رحمت کا سایہ تا قیامت رکھے۔۔۔!!
    اور ہمیں ہر برائی سے سرخرو کرے۔۔۔۔!!
    دعاوں کی طالب ۔۔۔۔۔۔
    مشی حیات
    وما علینا الا البلاغ المبین

  • ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں    بقلم:اخت عمیر

    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں بقلم:اخت عمیر

    بیٹیاں…!!!
    بقلم:اخت عمیر
    بابا کا مان ہیں یہ بیٹیاں
    ماوں کی شان ہیں یہ بیٹیاں
    والدین پر جان نچھاور کرنے والی…
    جنت میں لے جانے کا سبب یہ بیٹیاں…
    گھروں میں رونق کا سبب ہیں یہ
    چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہاتی یہ بیٹیاں
    ہوتی ہیں کس قدر نازک یہ کلیاں…؟
    ذرا سی چوٹ پہ مرجھا جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    نکاح کے بندھن میں جب یہ بندھ جاتی ہیں
    کر جاتی ہیں بابا کا گھر ویران یہ بیٹیاں
    نیا گھر گلستان بنانے کی خاطر…
    دل و جان وار دیتی ہیں یہ
    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں…
    لیکن افسوس ہے اس معاشرے کی بے حسی پر
    دل غمگین ہے بیٹیوں کی بے بسی پر
    ہیں ناکردہ گناہوں کی بھی ذمہ دار یہ بیٹیاں
    جہیز کی کمی پر طعنوں کا شکار ہیں
    لڑکیوں کی پیدائش پر بھی یہ قصوروار ہیں
    اپنی بیماریوں کی بھی خود ہی ذمہ دار ہیں یہ بیٹیاں
    کہیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں…
    کہیں بے جا پابندیوں میں جکڑ دی جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    وہ سب حق جو لڑکوں کے لیے ہیں جائز…
    ان پر نا حق رہتی ہیں یہ بیٹیاں…
    بیٹیاں رحمت ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…
    پھر کیوں ان کو زحمت معاشرے نے بنایا ؟
    ہیں کیوں اس دور میں پریشان یہ بیٹیاں؟
    الہی دعا ہے کہ لکھ دے تو ہر بیٹی کا نصیب اچھا
    یا رب ہمیں کر دے تو پھر سے اسلام پر عمل پیرا
    پھر خوش رہیں، سدا مسکراتی رہیں یہ بیٹیاں…!!!!!!

  • قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان    بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    درد امت
    ظلم و ستم کی انتہا ہے وادئ کشمیر میں
    سسک رہی ہےانسانیت وادئ کشمیر میں

    کیوں خاموش ہے اس سربریت پہ سارا جہان
    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان

    حقوق انسانی کے دعویدار بھی خموش ہیں
    یا سب دعویدار ہی یاں ضمیر فروش ہیں

    ان معصوموں پہ ڈھایا گیا ظلم کا کوہ گراں
    ان کو بھی ملے دنیا میں ان کے درد کا درماں

    کوئی تو کرے بلند صدا بنے ان کا غمگسار
    کہ جل گئے سب کھیت گھر گلستان و گلزار

    پنجئہ جبر میں اذیتیں، مصیبتیں، صعوبتیں
    ہیں کس قدر کٹھن ان کی حیات کی مسافتیں

    خواب خرگوش میں گم ہوئے ہیں دنیا کے حکمران
    یو۔این سمیت سعودیہ، انڈونیشیا و پاکستان

    ہیومن رائٹس و میڈیا کا بھی یاں فقدان ہے
    ہر باضمیر فردا اس جبر پہ ہاں پریشان ہے

    سلامتی کونسل اور مسلم اتحاد کا کیا کمال ہے
    شاہین کا انسانیت کے نام لیواؤں سے یہ سوال ہے

    قرأةالعين عینیہ شاہین

  • مجھے کشمیر کہتے ہیں    بقلم:مریم وفا

    مجھے کشمیر کہتے ہیں بقلم:مریم وفا

    کشمیر…!!!
    [بقلم:مریم وفا]۔
    میں دنیا کا ایک خطہ ہوں،مجھے کشمیر کہتے ہیں…
    میری جنت سی دھرتی پر دریا خون کے بہتے ہیں…
    میرے پھولوں کے چہروں پر،وحشت رقص کرتی ہے…
    کہ میرے گلشن کے آنگن میں درندے راج کرتے ہیں…
    میں اپنوں کا بھی ستایا ہوں،مجھے غیروں سے کیا شکوہ؟
    میرے اپنے بھی اب تو دمِ اغیار بھرتے ہیں…
    میری ماؤں کی چیخوں کو نہیں سنتا کوئی اب تو…
    وہ جن ماؤں کے بیٹوں کے لاشے روز ہی گرتے ہیں…
    میرے گلشن کے پیڑوں پر بسیرا ہے خزاؤں کا…
    مگر میرے مکین اب بھی اُمیدِ بہار رکھتے ہیں…!!!!
    ==============================