Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان    بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    درد امت
    ظلم و ستم کی انتہا ہے وادئ کشمیر میں
    سسک رہی ہےانسانیت وادئ کشمیر میں

    کیوں خاموش ہے اس سربریت پہ سارا جہان
    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان

    حقوق انسانی کے دعویدار بھی خموش ہیں
    یا سب دعویدار ہی یاں ضمیر فروش ہیں

    ان معصوموں پہ ڈھایا گیا ظلم کا کوہ گراں
    ان کو بھی ملے دنیا میں ان کے درد کا درماں

    کوئی تو کرے بلند صدا بنے ان کا غمگسار
    کہ جل گئے سب کھیت گھر گلستان و گلزار

    پنجئہ جبر میں اذیتیں، مصیبتیں، صعوبتیں
    ہیں کس قدر کٹھن ان کی حیات کی مسافتیں

    خواب خرگوش میں گم ہوئے ہیں دنیا کے حکمران
    یو۔این سمیت سعودیہ، انڈونیشیا و پاکستان

    ہیومن رائٹس و میڈیا کا بھی یاں فقدان ہے
    ہر باضمیر فردا اس جبر پہ ہاں پریشان ہے

    سلامتی کونسل اور مسلم اتحاد کا کیا کمال ہے
    شاہین کا انسانیت کے نام لیواؤں سے یہ سوال ہے

    قرأةالعين عینیہ شاہین

  • مجھے کشمیر کہتے ہیں    بقلم:مریم وفا

    مجھے کشمیر کہتے ہیں بقلم:مریم وفا

    کشمیر…!!!
    [بقلم:مریم وفا]۔
    میں دنیا کا ایک خطہ ہوں،مجھے کشمیر کہتے ہیں…
    میری جنت سی دھرتی پر دریا خون کے بہتے ہیں…
    میرے پھولوں کے چہروں پر،وحشت رقص کرتی ہے…
    کہ میرے گلشن کے آنگن میں درندے راج کرتے ہیں…
    میں اپنوں کا بھی ستایا ہوں،مجھے غیروں سے کیا شکوہ؟
    میرے اپنے بھی اب تو دمِ اغیار بھرتے ہیں…
    میری ماؤں کی چیخوں کو نہیں سنتا کوئی اب تو…
    وہ جن ماؤں کے بیٹوں کے لاشے روز ہی گرتے ہیں…
    میرے گلشن کے پیڑوں پر بسیرا ہے خزاؤں کا…
    مگر میرے مکین اب بھی اُمیدِ بہار رکھتے ہیں…!!!!
    ==============================

  • مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم   تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم۔
    تحریر:ثناء صدیق۔
    ترقی پذیر ممالک جنہوں نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ان تمام ممالک کا مسئلہ آزادی کے بعد سیاسی استحکام کا حصول رہا ہے- مگر کشمیر جو برطانوی سامراج کے دور کی ایسی ریاست ہے جو اج تک سیاسی طور پر آزاد اور مستحکم نظر نہیں آ سکی- آزادی کی تحریکوں اور قربانیوں کے باوجود کشمیر پر بھارت کا تسلط اب ایک عام بات بن چکی ہے- کشمیر پر قبضہ کر لینے کے بعد بھارت نے کشمیری عوام کا استحصال کرنے اور کشمیر کی عوام کے تحفظ کے لیئے لاتعداد مسائل کھڑے کئے ہیں- کانگریسی قیادت کی رائے شماری کی گارنٹی کے باوجود تب سے لے کر آج تک تمام ہندوستاتی حکومتوں نے کشمیری عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کی بجائے ہمشہ انتقام کا نشانہ بنایا -بھارت سے اگرچہ کشمیر کے مسلمانوں نے آزادی کی جنگ لڑی ہے مگر ایک دو گروپ کے متحرک ہونے سے پوری قوم کی تقدیر بدل نہیں جاتی-
    ان مظلوموں کو دنیا کی غیر متزلزل اور حقیقی مدد درکار ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو ہمشہ ہندوں کی تنگ نظری اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے -7 دہائیوں کے گزرنے کے باوجود کشمیر کی تقدیر نہیں بدل سکی – کشمیر کے لوگ پاکستان سے اپنی امنگوں کا اظہار کرتے ہیں- مگر پاکستان نے ہمشہ امریکہ سے دوستی کا ساتھ نبھایا کہ شاید امریکہ مسئلہ کشمیر پر ٹھوس طریقے سے بات کرے گا- مگر امریکہ کے رسمی جملوں کے علاوہ کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ نہ نکلا – دنیا جانتی ہے جنوبی اشیاء میں مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا- مگر بھارت کو منصفانہ طریقوں سے کشمیر کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں اور امریکہ اس بات پر اپنے منہ سے بھاپ بھی نہیں نکالتا- کشمیر میں کیا کیا نہیں ہو رہا؟
    جہاں ہر طرح کے انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں- انسانیت اور انسانی جان کی کوئی قدر نہیں- کشمیر کے اوپر بھارت کی موجودہ صورتحال ،انارکی، کی ہے- جس میں کشمیر کے اوپر کوئی رول اور کوئی مثبت گورنمنٹ نہیں ہے جو کشمیریوں کا کوئی بھی مطالبہ مان سکے- مسئلہ کشمیر کے لیے دنیا کے منصفوں کی کوئی ،لیگ آف نیشن وجود میں نہیں آئی جو انسانیت کی گرتی لاشوں اور کشمیر کے انسانی،طبی سیاسی اور ،تعلیمی مسائل کو گرنے سے بچا لے- UN کشمیر کے نام پر برائے نام جملے ادا کرتی ہے- UN تنظیم مسئلہ کشمیر کے نام پر دنیا کو لیڈ کیوں نہیں کرتی؟ UN کے پاس ایسا سسٹم کیوں موجود نہیں ہے کہ جو دوممالک کے جھگڑے کو ختم کر سکے اپنے ہیومین رائٹس کی تنظیموں کے قانون کو لاگو کروا سکے یا بین الااقوامی سطح پر مثبت سیاست کا حکم دے سکے- اجکل کے دور میں مسئلہ کشمیر جو ایک عالمی مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا کے اندر پاور اور رولز ہونے کے باوجود حل نہیں ہو سکا- اس مسئلے کو لے کر جنوبی اشیاء کے ممالک ایک جھگڑے کی صورتحال میں ہے- دنیا کا بین الااقوامی سسٹم مسئلہ کشمیر کے بارے میں انارکیل سسٹم ہے- دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہ سکتے ہے UN کے پاس کوئی رول اور قانون نہیں ہے جو دنیا کو منظم کر کے مسئلہ کشمیر کے اوپر اپنی قرارداد اور رولز کو لاگو کر سکے- بھارت کا کشمیر میں فری ہینڈ ہونا اور اپنی من مرضی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ UN کے اصولوں اور قانون اس کے مثبت رویہ کی غیر موجودگی ہے- کشمیر کو بھارت کے پنجے میں گے کو 74 سال ہو چکے ہیں لیکن بھارت تب سے آب تک کشمیر کی سالمیت کے لیے بڑی مضطرب ہے- بھارت کا سیکولر چہرہ کشمیر کے اندر بڑا واضح ہے- کشمیر پر بھارت کے قبضے کے بعد تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو برداشت کا سلوک بھارت نے کیا ہے- بالخصوصB.J.P کی دور حکومت میں جو مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے- یہ بھارت اور دنیا کے منصفوں کے لیے سوالیہ نشان ہے؟ بھارت کے اندر مسلمانوں کے لیئے بالخصوص کشمیر کے لوگوں کے لیے ہندوجنونیت کا رنگ بہت غالب ہے- اس کی واضح مثال B.J.Pکے وحشیانہ رویہ کی ہے جو وہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہیں- بھارت کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سیکولر کا چہرہ اپنانا چھوڑ دے اگر اپنانا ہے تو کشمیر کے لوگوں کو حقوق آزادی کی عملی شکل دے- بھارت پر یہ بات عائد ہوتی ہے کہ ہندو جنونیت کا اثر ختم کر کے کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو ہر طرح کے حقوق کی آزادی دے- ہندو جنونیت کی لہر کو ختم کر کے کشمیر کامسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرے-
    =============================

  • بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے    بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے…
    راہوں میں چلتے، ہوئے چھپے جو وار سارے…
    کہیں نفرتوں کے طوفان میں لی تھیں جو سانسیں…
    کہیں طنز کے لپٹے تھے جو طومار سارے…
    صرف دُکھ کی چادر تان لینے سے کیا ہو گا ؟
    کیجیئے معاف انہیں،انتقام کے تھے جو سزاوار سارے…
    صرف منفی سوچوں کو ہی نہ گِنا کرو سدا …
    کبھی ہوں مثبت لمحے بھی شمار سارے…
    جہاں میں ہر طرف اضطراب کے سائے ضرور ہیں…
    پھر بھی کئی لہجوں میں ملتے ہمیں لطف و پیار سارے…
    ہم صرف دیکھتے ہیں اکثر،سمجھتے نہیں کبھی…
    جہاں میں لوگ بہت ہیں اعلٰی ظرف،نہیں بیمار سارے…!!!
    یہ زندگی رکنے کا نہیں،آگے بڑھنے کا ہے نام…
    یاں اتارنے پڑتے ہیں،ہوتے ہیں دل پہ جو غبار سارے…!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    :اسلام آباد:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 43 ویں اجلاس کے موقع پر عالمی مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی) کے تعاون سے کشمیر ٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کےآئی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار میں مقررین نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت فاشسٹ حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے وحشیانہ مظالم کو مزید تیز کرنے کے علاوہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی لاک ڈاؤن کو بڑھانے کے بہانے بے شرمی کے ساتھ کوویڈ 19 کی وبائی بیماری کا استعمال کیا ہے۔

    اس ویبنار میں برطانوی پارلیمنٹیرین جناب خلیل محمود، برطانیہ کے سائے وزیر جناب سلیمان الیاس خان، جنوبی افریقہ سے انسانی حقوق کی کارکنوں محترمہ کلیئر بڈویل، مسٹر حسن اشرف برطانیہ، لبنان کی تجربہ کار انسانی حقوق کارکن لنڈیا کینن سید فیض نقشبندی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ویبینار کے مقررین نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے دوہرے لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیریوں کو بھارتی قابض حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وبا کی آڑ میں خطے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی ایک شرمناک کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوچکا ہے۔ کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور کشمیر کے اسپتالوں میں دیگر ضروری صحت کے آلات کی کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وبائی بیماری کے دوران ہندوستان نے خطے کے صحت کے شعبے کو مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وبائی امراض کے دوران اسپتالوں میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس کے علاوہ صحت کے سامان کی بھی شدید قلت تھی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کے باوجود جان بوجھ کر ہوا ہے۔ کشمیر کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے کے ہندوستان کے مذموم ڈیزائنوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 ذیلی شق 6 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قبضہ کرنے والی طاقتیں کشمیر کے علاقے کی حیثیت یا آبادی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی اس طرح کی کوئی بھی کوشش چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 146 اور 147 کے تحت جنگی جرائم کی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بہت ساری عالمی حکومتوں نے خطے کی غیر معمولی صورتحال پر خاموش اور خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔ بااثر حکومتوں کی جانب سے یہ مجرمانہ خاموشی انہوں نے کہا کہ IOK میں مودی کے اقدامات کی ایک مکمل حمایت ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیش کش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ پرامن حل تلاش کریں لیکن ہندوستان جس کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہراس اقدام کو روکا جائے جس کا مقصد ایک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ہے نے ایک بار پھراس پیش کش سے انکار کر دیا۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا   تحریر :غنی محمود قصوری

    دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا تحریر :غنی محمود قصوری

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا اس کی شاخیں ستون جتنا زیادہ اچھا اور مضبوط ہوگا عمارت اتنی کی مضبوط ہو گی بصورت دیگر وہ گرنے لگے گی
    دنیا کے ہر میڈیا کا اندازہ اس کی آزادی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا جانبدار اور سچا ہے اگر میڈیا آزاد ہوگا تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہے گا اگر دنیا کے تمام میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو صف اول کا بکاؤ اور بے غیرت میڈیا انڈیا کا ہے کہ جس کا کام انڈین را اور اسرائیلی موساد کے علاوہ دیگر اینٹی پاکستان حکومتوں سے پیسے لے کر کتے کی طرح پاکستان پر بھونکنا ہے مگر جب پروف مانگا جائے تو اس کی حالت اس کتے کی سی ہوتی ہے کہ جسے کوئی آنکھے دکھائے تو وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھوڑا آگے جاکر کر پھر بھونکنا شروع ہو جاتا ہے
    انڈیا کے چینلز کا کام ہی اینٹی پاکستان ہے پاکستان میں اگر کوئی ذاتی دشمنی کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کر دے تو یہ شور مچانا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں شورش عروج پر پہنچ چکی اب پاکستان نہیں بچے گا ٹوٹ جائیگا گا
    اگر دیکھا جائے تو میڈیا کا کام اپنے باشندوں کی ضروریات کو اجاگر کرنا بھی ہوتا ہے مگر افسوس اس ذلیل انڈین میڈیا پر کہ اس سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار کے باشندے لیٹرین جیسی اس سہولت سے محروم ہیں کہ جو پاکستان میں خانہ بدوشوں کو بھی حاصل ہے ان کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک انڈین فوجی آفیسر اپنے جوانوں کو لیٹرین بنانے اور پھر اس لیٹرین کے استعمال کا طریقہ سمجھا رہا ہے
    ہندو اور اس کے میڈیا کا کام صرف پاکستان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنا ہے رواں 2 جولائی کو کراچی میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن و عالم دین مجیب ادریس المعروف شیخ مجیب الرحمٰن زامرانی کو شرپسندوں نے ان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا اس پر انڈین بکاؤ میڈیا نے شور کرنا شروع کر دیا کہ زامرانی کا تعلق جماعت الدعوہ سے تھا اور وہ حافظ سعید کا دست راست ہونے کیساتھ بلوچستان میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کا ذمہ دار بھی تھا نیز وہ داعش کیساتھ مل کر معصوم بلوچیوں کو قتل کرتا تھا اگر دیکھا جائے تو انڈین سرکار کی طرح انڈین میڈیا کی بھی زبان کتے والی ہے
    آج دن تک انڈین میڈیا شور ڈالتا رہا کہ ذکی الرحمان لکھوی حافظ سعید کا دست راست ہے اور اس کی گورنمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کو جماعت الدعوہ کے تمام مرکزی راہنماؤں کے نام بھی دیئے جس پر پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ان افراد پر مقدمات درج کئے گئے اور حافظ سعید سمیت ان کے دیگر راہنماء سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوہ کے تمام مراکز گورنمنٹ کی تحویل میں ہیں تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ بلوچستان میں جماعت الدعوہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور پوری دنیا جماعت الدعوہ کے قائدین سے واقف ہے جبکہ ایک عدم ثبوتوں کی بناء پر انڈین میڈیا نے واویلا شروع کر دیا کہ زامرانی جماعت کا بڑا اہم ہے اور وہ ممبئی حملوں کا ذمہ دار ہے کوئی بھی ذی شعور بندہ انڈیا کی باتوں کو نہیں مانے گا کیونکہ آج دن تک ممبئی حملوں میں زامرانی کا نام نہیں لیا گیا اب اچانک پھر سے ان کو پاگلوں کی طرح خواب آنا شروع ہو گئے
    جو باتیں زامرانی کے متعلق سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زامرانی سعودی عرب سے پڑھ کر وطن واپس آ کر اپنے علاقے میں انڈین پے رول پر کام کرنی والی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف کام کر رہے تھے وہ امن جرگہ کے اہم رکن تھے اور لوگوں کو بی ایل اے کی اوقات سے آشکار کرکے لوگوں کو وطن کی محبت میں رنگ رہے تھے اسی بدولت بی ایل اے کے درندوں نے ان کو انڈین را کے کہنے پر شہید کیا تاکہ ان کو آسانی ہو مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نا تو 1971 ہے اور نا ہی بنگلہ دیش آج کا جوان سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام و پاکستان سے وفاداری کرکے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرآت نہیں بزدلی ہے اسی لئے انڈین گورنمنٹ اپنی را کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہی ہے
    اگر انڈین میڈیا میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بلوچستان کے مسئلے کو اچھالنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر 4 درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکوں کو دنیا کے سامنے لاتا جن میں سے سب سے مضبوط تحریک خالصتان اور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے مگر یہ خنزیر بکاؤ دلال انڈین میڈیا پیسوں کی خاطر حق اور سچ کو چھپا رہا ہے حالانکہ انڈین سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں مسلمان،سکھ اور عیسائیوں کے علاوہ ہندو ہی اپنے اچھوت ذات ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر افسوس پیسے کے پجاری بکاؤ میڈیا کو پاکستان پر ہی بھونکنا آتا ہے

  • منزل کی آس میں      تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کشمیری قوم نے کئی راجوں کا سامنا کیا،ڈوگرہ راج،سکھ راج،فرنگی راج اور اب ہندو راج سے نبرد آزما یہ قوم آزادی کی اُمید لیئے اپنے خونِ جگر سے لاکھوں قربانیاں دے کر جہدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہے…
    یہ وہ جدوجہد آزادی ہے کہ جسے عالمی برادری کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعزاز حاصل ہے اور اقوامِ متحدہ جیسے عالمی طاقتوں کے مجموعے کے فورم اور ریکارڈ پر درجنوں منظور شدہ قراردادیں آج تک عالم انسانیت کا منہ چڑا رہی ہیں…!!!
    ہر موسم اور ہر انداز میں لہو سے راہ کے چراغ روشن کرتی یہ تحریک عشروں سے جانبِ منزل چل رہی ہے…
    13 جولائی 1935ء میں سرینگر جیل میں جن بائیس افراد نے اذان کی تکمیل کے لیئے جانیں دے دی تھیں،اس طوفان نے آزادئ کشمیر کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا…
    ایسے اندوہ ناک واقعات کشمیر کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور ہزاروں یتیم بچے،بیوائیں اور ہاف وڈوز جن کے شوہر لاپتہ ہونے کے بعد گھروں کو نہیں لوٹے…
    اجتماعی قبروں کی دریافتیں اور تعلیم و صحت کی انتہائی ابتر صورتحال کی ایک تصویر کشمیر ہے…
    اسی ماہِ جولائی 2016ء میں اس تحریک کو ایک نیا رنگ،ولولہ اور مہمیز ملی جب 8 جولائی کو نوجوان کشمیری برہان مظفر وانی کو قابض افواج نے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا…
    ایک سکول پرنسپل کا بچہ جسے تعلیم و قلم سے پیار تھا…آخر کس احساس نے گن تھما دی تھی کہ سوشل میڈیا کا کھلاڑی کشمیریوں کی ایک مضبوط آواز بن گیا تھا…؟
    اور ظالم فورسز نے اسے شہید کر کے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور یہ سوچ اور تجزیہ ایک آواز بن گئے کہ قبر میں لیٹا برہان زندہ برہان سے زندہ وانی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا…
    برہان مظفر وانی کی تاریخی نمازِ جنازہ نے قابضین کے ہوش اڑا دیئے تھے،جس میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور نمازِ جنازہ 45 مرتبہ ادا کی گئی تھی۔
    کشمیری نوجوان برہان وانی کو شہید کر کے بھارتیوں نے تحریکِ آزادی کو کچلا نہیں بلکہ پروان چڑھاتے ہوئے قافلے کو رواں اور نوجوانوں کو عزم و ہمت فراہم کر دیئے ہیں…
    یہ بے گناہ اور مظلوم لہو تہہِ خاک سے آزادی کی پر نور صبح تک زادِ سفر بن چکا ہے…!!!
    گزشتہ گیارہ مال سے طویل لاک ڈاؤن کا سامنا کرتی قوم کے حوصلے اب بھی پست نہیں ہیں،اگر چہ ان کی آوازوں کو پابندِ سلاسل کیا جا چکا ہے،مگر آزادی کے مقصد کی خاطر بہایا گئے لہو کی گونج زندانوں سے ایوانوں تک ٹکرا رہی ہے…!!!
    کشمیری نوجوان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک طرف رکھ کر راہِ آزادی کا مسافر جس چیز نے بنایا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اسی ظلم اور ظلمت کی اوٹ سے صبحِ انقلاب کا ظہور دکھائی دیتا ہے…
    پیلٹ گن کے چھروں کے وار اور نابینا آنکھیں اب انسانیت سوز مظالم پر اتمامِ حجت بن چکے ہیں…
    اس سفرِ آزادی کے کارواں میں بوڑھے،جواں،بچے اور عورتیں سبھی شامل ہو کر ہم کیا چاہتے ہیں…”آزادی” کی پکار سے دنیا کے ضمیر پر ایک ضرب بن کر لگ رہے ہیں…!!!
    اور تمام عالمی اداروں اور حقوقِ انسانی کے کنونشنز سے سوال کناں ہیں…!!!
    کشمیر کے نوجوان کی جوانی،کاروبار اور تعلیم سب اس راہ میں ہار چکی ہیں مگر وہ صبحِ آزادی کے تعاقب سے پلٹ نہیں رہا ہے…
    منزل کی آس میں پیہم چل رہا ہے…
    جس کی واضح مثال برہان وانی شہید ہے…!!!
    اُمید سحر کی آس میں…
    میں چلا گیا ہوں آبلہ پا…
    میں نے ہر صلاحیت دے کر…
    چراغِ رہ دیا ہے جَلا…
    مجھے جاں سے بھی پیاری…
    ہے یہ اپنی صبح آزادی…
    میں نے نقد جاں ہار کر…
    اَدا سفرِ وفا کا کیا تقاضا…
    مرے ہاتھ میں قلم کی جگہ…
    جس نے نعرۂ آزادی دیا…
    اسی وجہ کو کھوج لو…
    کرتا ہے سوال یہ بچہ بچہ…؟
    رہِ وفا میں ہواؤں سے…
    شبِ ظلمت کی گھٹاؤں سے۔۔…
    اُلجھ کر جو چلتے رہے…
    ہم وہ دِیے جلا چلے ہیں…
    جنہیں کوئی بھی نہ سکے گا بُجھا…!!!
    ==============================

  • "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”
    بقلم : شعیب بھٹی
    آج سے تقریبا پون صدی پہلے جب ٹی وی سکرین کی ایجاد ہوٸی تو یہ ایک تفریح کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعے تھا اور معاشرے میں موجود براٸیوں کو دور کرنے کے لیے اس پہ پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ دوسروں تک اپنے خیالات و آرا پہنچانے اور دوسری کی سوچ میں اپنے نظریاتی منتقل کرنے کا عمل ریڈیو کی ایجاد سے ہی شروع ہوچکا تھا اس کو مزید تقویت ٹی وی کی ایجاد نے دی۔
    اب اس جدید ٹیکنالوجی(کمپوٹر، انٹرنیٹ، موباٸل) کی ایجادات نےاس کو مزید پھیلایا۔ اب دنیا ایک گاٶں کی حثیت اختیار کرچکی ہے۔
    ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جنگ کے طریقہ کار بدل دٸیے ہیں۔
    شروع دنیا سے اب تک جنگ میں مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے افواہوں کا سہارا لیا جاتا تھا تاکہ قوم کو ذہنی طور شکست دی جاۓ اس سے ان کے حوصلے کمزور ہوجاتے تھے۔
    دشمن کو عصابی طور پہ کمزور کرنے اور اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شروع سے ہی کوٸی نا کوٸی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

    اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوۓ یہ کام میڈیا انڈسٹری سے لیا جارہا ہے۔
    میڈیا وار کے ذریعے اپنے خیالات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہترین اور پرکشش شکل دے کر دوسروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
    ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ اور مخالف قوم کی تاریخ دیکھاٸی جارہی ہے اور اس میں کرداروں کو مسخ کرکے دیکھایا جاتا ہے اور تاریخ سے ناعلم لوگوں کو آسانی سے بے وقوف بنادیا جاتا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے مخالف حکمرانوں کی ذاتی زندگی کے واقعات میں رنگ بھر کر انکی کردار کشی کی جاتی ہے۔
    فلمز اور ڈراموں کے ذریعے عوام کو دشمن کے خلاف کھڑے کرنا اور دشمن ممالک کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کا کام بہت عرصے سے عروج پہ ہے۔
    امریکہ سمیت یورپ کے اکثر ممالک،روس،انڈیا اور اب عرب ممالک بھی اس ساٸبر اور میڈیا وار میں تیزی لاۓ ہیں۔
    حالیہ وقت میں بہت سے یورپی ممالک نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو اسلام مخالف استعمال کیا ہے اور اسلاموفوبیا مہم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی کردار کشی اور مسلمانوں کے پیارے نبی ﷺ کے خلاف کارٹون مقابلےکرواۓ اور سیریز بناٸی گٸی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوٸی۔ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑا اور مسلمانوں کے اس احتجاج کو دہشتگردی کہا گیا اور اظہار راۓ کی آزادی کے خلاف گردانا گیا۔ اسی طرح انڈین میڈیا اور فلم انڈسڑی نے بھی اسلام و پاکستان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے۔
    انڈیا نے گزشتہ سال "پانی پت” کے نام پر فلم ریلیز کی ہے۔ پانی پت ایک تاریخی لڑاٸی ہے جو افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ہندٶ مرہٹوں کے خلاف لڑی تھی اور اس جنگ میں مرہٹوں کو شکست ہوٸی تھی۔ اس متنازعہ فلم کو انڈیا نے بابری مسجد کی شہادت کے دن ریلیز کیا۔ اس میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان کے قاٸمقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے انڈین سفارتکار ونے کمار کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
    میڈیا کے ذریعے اسلام دشمنی کے بعد مسلمان نے بھی اس کے ازالہ کی کوشش کی اور عمر بن خطاب پر عمر سیریز بناٸی لیکن علما نے اس کو دیکھنا حرام قرار دیا۔
    اب موجودہ وقت میں ترکی سیریز ارطغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
    ارطغل سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سلطان عثمان کا والد تھا۔
    یہ سیریز ارطغل کی زندگی پر مشتمل ہے۔ قاٸی قبیلے کی سلطنت کے قیام کے لیے جہدوجہد کو اسکا موضوع بنایا گیا ہے۔ 1191 عیسوی کی تاریخ کو ترکی کی بے مثال تاریخی جدوجہد کے طور پر دیکھایا جارہا ہے۔ دوسرے بہت سارے ممالک کی طرح پاکستان میں اسے سرکاری ٹی وی پہ ڈبنگ کرکے دیکھایا جارہا ہے پاکستان میں اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی یوٹیوب پر پہلی قسط کو 16 گھنٹوں میں 34 لاکھ افراد نے دیکھا اور پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کو صرف 15 دنوں میں ریکارڈ 10 لاکھ لوگوں نے سبسکراٸب کیا۔
    دوسری طرف عرب میں ترک عثمانیہ سلطنت کے حوالے سے ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ جس کا نام "ممالکة النار” یعنی آگ کی بادشاہت ہے۔ جسے انگلش میں
    #Kingdom_Of_Fire
    کہا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 17 سے معروف عالمی چینل #MCB پر دیکھایا جارہا ہے۔
    ترکی سیریز ارطغل کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو مصری راٸٹر نے لکھا، برطانوی ڈاٸریکٹر نے ڈاٸیریکٹ کیا، تیونس میں شوٹ ہوا، متحدہ عرب امارات نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی مصر پر قبضہ اور سلیم اول کے ہاتھوں مملوک سلطنت کے خاتمے کی منظر کشی کی گٸی ہے۔
    یاد رکھیں مملکوک سلاطین بھی ترک ہی تھے۔

    اسی طرح مصر میں بھی ایک سیریز یکم رمضان سے شروع کی گی جس کا نام "النہایہ” ہے۔ جوکہ مستقبل کے بارے میں ہے جب 2120ٕ میں امریکہ کے تقسیم اور برباد ہوجانے کے بعد صیہونی ریاست اسراٸیل تباہ کردی جاتی ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک ڈرامہ ہے لیکن اس سے اسراٸیل کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اسراٸیلی وزیر خارجہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو مخاطب کرکے اسے رکوانے کا کہا ہے۔ اس ڈرامے کو پروڈکشن کمپنی سینرجی نے تیار کیا ہے اور اسے معروف ٹی وی چینل (آن) پر دیکھایا جارہا ہے۔
    دوسری طرف یکم رمضان کو ہی عرب ممالک میں ایک ڈرامے کی پہلی قسط نشر ہوٸی۔ جس کا نام "ام ہارون” ہے۔ اسکی 30 اقساط ہیں یہ ڈرامہ کویت کی پروڈکشن کمپنی نے بنایا، اس میں کام کرنے والوں کا تعلق بحرین سے، اس میں کرداروں میں رنگ بھرنے والے اداکاروں کا تعلق کویت سے ہے اور اس کی شوٹنگ متحدہ عرب امارات میں کی گٸی ہے۔
    اس ڈرامے کے بارے کہا گیا کہ یہ عرب اسراٸیل تعلقات کے متعلق ہے لیکن یہ کہانی بحرین کی ایک یہودی نرس کے متعلق ہے جو فلسطین سے جبرا نکالے گٸے خاندانوں کا علاج کرتی ہے جو بحرین اور کویت میں پناہ لیتے ہیں اس میں ام ہارون کا کردار حیات الفہد نامی مسلم اداکارہ نے کیا ہے۔
    یہ حالیہ وقت میں مقبول اور متنازعہ ڈراموں کا تعارف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اسی طرح عوامی تاثر کو تبدیل کرنے اور نظریات کی منتقلی کے لیے میڈیا اور فلم انڈسڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ کو توڑ مروڑ اور جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا کر کہانیاں بنا کر ممالک اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ فلمز اور ڈراموں کے ذریعے سوچوں پہ یلغار کا یہ سلسلہ اس وقت مکمل عروج پہ ہے۔
    دنیا میں میڈیا جنگ کے ایک مہرے کے طور پہ اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اس کو ہتھیار کے طور پہ استعمال کررہے ہیں۔

  • موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح   تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!![طنز و مزاح]
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    (نوٹ:یہ تحریر حس لطافت کے پیرائے میں مزاح و اصلاح کی ایک کاوش ہے)۔
    ایک وقت تھا جب ہم سکول جاتے تھے تو جب ٹیچرز کو گھر میں کسی سے رابطہ کرنے کے لیئے کوئی سورس چاہیئے ہوتا تھا تو محلے کے کسی گھرانے کا نمبر دیا جاتا تھا، وہاں سے پیغام گھر پہنچتا ہے۔
    تب کی پیڈ موبائل نئے نئے دیہات تک پہنچنا شروع ہوئے تھے۔
    آہستہ آہستہ پاکستان نے ترقی کے مدارج طے کیئے اور سیل فون ہر گھر اور پھر گھر کے ہر فرد کی ضرورت بن گیا،چاہے وہ چھوٹا تھا یا بڑا…
    پڑھا لکھا تھا یا اَن پڑھ…
    وسیع رابطوں والا تھا کہ محدود…
    ہمارے گھر بھی جب کی پیڈ موبائل نے انٹری کی تو پہلے پہل تو اتنا ڈر لگتا تھا کہ پتہ نہیں اس کو ہاتھ لگ گیا تو کچھ غلط نہ ہو جائے،
    بلکہ سیل کسی اونچی جگہ رکھا جاتا تھا کہ گھر کے بچے اور بالخصوص بچیاں اس سے دور ہی رہیں…
    الحمدللہ ہر کام کو فوراً سمجھ لینے کی صلاحیت کے باوجود مجھے سیل فون کی بہت کم ہی سمجھ آتی تھی۔
    شروع شروع میں لوگ مس بیل دینا ایک فیشن سمجھتے تھے،
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شعور نے باور کرایا کہ یہ اولڈ فیشن بن چکا ہے،اب مس کال بھلا کون دیتا ہے؟
    جب ایس ایم ایس کا سلسلہ شروع ہوا تو گھر کے سیل پر آئے کمپنی کے میسیجز اوپن کرنا رسک لگتا تھا…
    ہم کبھی دیکھتے،کہ کھول کر دیکھیں مگر کس بٹن کو دبانا ہے،اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
    یوں وہ ایک چھوٹا سا خط جو سکرین پر جھلملاتا رہتا تھا،
    کبھی مٹ نہ پاتا کیونکہ جب تک میسیجز پڑھ کر ان بکس میں یا ڈیلیٹ نہ کیئے جاتے،اسے تو بہر حال اپنا دیدار کراتے رہنا تھا۔
    وقت گزرتا گیا کہ گھر کے لیئے ایک الگ سیل لایا گیا جو گھر میں ہی رہنا تھا…
    اچانک ایک دن کسی ضروری کال کے لیئے ٹرائی کیا گیا تو بیلنس ناکافی تھا…
    اب مسئلہ یہ تھا کہ بیلنس ری چارج کیسے کیا جائے؟
    کارڈ کیسے اسکریچ کرتے ہیں اور کوڈ کونسا لگانا پڑتا ہے…؟
    والدہ کو منایا کہ آپ سیل سمیت دکان پر جائیں اور بیلنس چارج کروا لائیں…
    پھر کسی نے معلومات میں اضافہ کیا کہ اب گھر بیٹھے ایزی لوڈ بھی کروا سکتے ہیں…
    لیکن دکاندار کو نمبر بتانا پڑے گا…؟
    چلیں اس چیز کو رہنے دیا جائے اور خود ہی ری چارج کر لیا جائے…
    ہر ایسی کیفیت میں مجھے وہ آنٹی یاد آتیں کہ جن کے بیٹے نے پہلے پہل جب کی پیڈ موبائل لیا تھا،
    تو ایک دن کہنے لگیں کہ وہ سیکھنے جاتا ہے کسی کے پاس کہ کیسے کال کرتے اور سنتے ہیں،ایس ایم ایس وغیرہ…
    تب ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار ہنسی مچلتی اور اندازِ بے نیازی سے دل میں کہتے ارے یہ بھی کوئی سیکھنے والی بات ہے؟
    لیکن حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں کارڈ اسکریچ کرنا بھی سکھا دیا…
    ایک دن ایک سہیلی کو کال کی تو کالر ٹیون اسماء الحسنیٰ کی سیٹ تھی،ہمارے معصوم دل میں بھی خواہش اُبھری کہ ہم بھی یہ کالر ٹیون سیٹ کریں…
    لوگ تو انڈین سانگز لگاتے ہیں…
    اب مرحلہ ٹیون سیٹنگ کا تھا…
    جس کے لیئے بیلنس چاہیئے تھا،ہم نے سو روپے کا اس وقت میں چارج کروا کر جب لوگ بیس کے ایزی لوڈ میں بھی کام چلا لیتے تھے،کالر ٹیون سیٹ کرنا چاہی…
    ٹیون کیا سیٹ کی کہ صرف پسند کرتے کرتے ہی کہ کون سی سیٹ کرنی چاہیئے،سنتے سنتے سو روپیہ اُڑ گیا…
    جبکہ ٹیون سیٹنگ کے لیئے تو صرف بارہ روپے چاہیئے تھے…
    اب تقریباً رونی شکل بنا کر والدہ کی مجلس میں پہنچ کر روداد سنائی تو ماں نے ممتا کا اظہار کرتے ہوئے تسلی دی کہ میں اپنی بیٹی کو اور کارڈ منگوا دیتی ہوں،پریشانی کی کونسی بات ہے…
    پھر جب میسیجز ٹائپ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تو سادگی کا یہ عالم تھا کہ سالوں بغیر کسی پیکج کے بیلنس پھونکتے ہوئے سہیلیوں کو جواب دیا جاتا تھا کہ دن کے اینڈ تک بیلنس پھر ریڈ جھنڈی دکھا کر رخصت ہو جاتا…
    کُچھ عرصہ بعد یہ عقدہ ہم پر بھی کھلا کہ پیکج کر لینے سے میسیجز زیادہ بھی ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کم…
    مگر وہ تو میسیج کرو نہ کرو،
    پیکج اپ ڈیٹ ہو کر بیلنس کو چاٹتا ہی جاتا، ہم نے بھلا اتنے میسیجز کہاں کرنے ہیں؟
    جبکہ پیکج کے علاوہ دس روپے بھی ہوں تو محفوظ تو رہتے ہیں…
    بجٹ اور بچے پر دل میں بحث ہوتی تھی…
    کال پہ بات کرنے کی تو ہمت تو خیر آج تک بھی بہت کم آئی ہے…
    کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی ان ناؤن نمبر آتا تو ڈیوٹی بڑھ جاتی کہ پہلے ڈائری کی ورق گردانی شروع ہو جاتی کہ آیا یہ نمبر ڈائری میں موجود ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہی تڑپ جاتا،کال ریسیو نہیں کرنی…
    مطلب احتیاط کی حد تھی…
    پھر یہی ہوتا کہ اکثر شکوے آ جاتے کہ کال ریسیو نہیں کی…!!!
    بس ضرورت کی بات کو لازمًا ریسپانڈ کرنا ہوتا تھا…!!!
    وقت کا پہیہ چلتا رہا…
    کانوں میں گونج پڑتی وٹس ایپ،فیس بک…
    اب پتہ نہیں یہ کیا بلا اور ترقی کا کوئی بہت ہی اونچا زینہ ہے شاید؟
    دل ہی دل میں سوچتے…
    اچھا یہ کی پیڈ میں بھی چلتے ہیں؟
    جی نہیں اس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری ہے…
    اچھا…
    ہم معصومیت سے جواب دیتے…
    آہستہ آہستہ واٹس ایپ اور فیس بک نے بھی قدم جمانے شروع کیئے اور شہروں سے دیہات تک یہ ایپس پہنچنے لگیں تو…
    اب مسئلہ اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری تھا…
    ایک دم اتنی بڑی فرمائش ظاہر ہے چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف تھی اور پھر پندرہ سے بیس ہزار کا سیٹ ایک دم سے ممکن ہو بھی سکتا تھا،نہیں بھی…
    اور وہ بھی بچوں کے لیئے جن کی تربیت سنجیدگی کے اصولوں پر ہوئی ہو…
    جب بھی کہیں لکھنے کے حوالے سے بات ہوتی تو ہر ذمہ دار کی طرف سے یہ مشورہ ضرور سننے کو ملتا کہ آپ لکھ کر واٹس ایپ کر دیں…
    اب واٹس ایپ ہماری بلا سے…
    لکھنا تو ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو…
    طویل عرصہ ہمارا اور ڈاک کا تعلق قائم رہا…
    ہم نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر کے رکھنا اور بھائی کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر آہستگی سے نکالنا…
    کبھی منتوں ترلوں تک بھی نوبت جاتی تھی لیکن صد شکر کہ فرمائش کبھی مسترد نہیں کی گئی…
    اب ہمارے اس شوق کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے گلو خلاصی کروانے کا ایک یہی آپشن باقی تھا کہ اب آپ آرام سے ادب تحریر کر کے بھیج دیا کرو…جس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہمیں تحفہ میں ملا…
    اچھا بھائی اب اس پہ تو واٹس ایپ ہو جائے گی ناں؟
    اور فیس بک بھی؟
    بھائی پیار و ڈانٹ کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھتے کہ شریف لڑکیوں کے لیئے فیس بک پہ ہونا کوئی ضروری چیز بھی نہیں ہے اب…!!!
    اچھا کیوں اگر مثبت استعمال کی جائے تب بھی…؟
    ہم آگے سے خاموشی پا کر دل مسوس کر رہ جاتے کہ لگتا ہے گزارہ اب ایک ہی ایپ پہ کرنا پڑے گا…!!!
    ارے یہ انسٹا کیا ہے؟
    اور IMO اور BOTIM کیا چیز ہیں؟
    ایک دن بہت ہی پیاری دوست سے پوچھ ہی لیا…
    تب جواب نے مجھے ہنسی کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا کہ بہنا یہ ان کے لیئے ہے جو جانو وانو پہ مریں اور دوری کی وجہ سے بآسانی باہر بھی بات کر سکیں…
    اچھا یہ تو پھر بالکل ہی غیر اہم ہیں اور میرے شیڈول میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے…!!!
    یو ٹیوب پر تو کچھ دیکھ لینا چاہیئے،کیا مشورہ دیتی ہیں آپ؟
    ایک فرینڈ سے مشورہ کیا…
    ہاں یو ٹیوب پر کافی فائدہ مند مواد اور وڈیوز ہیں، آپ دیکھ لیا کریں…
    اچھا کوئی پیکج کا طریقہ بتا دیں…؟
    ہم پاکٹ منی کی ایک خطیر رقم خرچ کر کے ابھی پیکج کا طریقہ آنے کے انتظار میں تھے کہ اتنی دیر میں بیلنس ہوا ہو چکا تھا…!!!
    دل گھبرایا کہ ایپس کے لنڈا بازار میں گھومنا ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں ہے جنہوں نے ہماری زندگی میں داخل ہو کر ہمیں عبادات،رشتوں اور حقیقی کردار سے یقیناً دور کر دیا ہے…
    اب ہماری خوشی،غم،پیار اور نفرت بھی فیس بک،اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ہی گھومتے ہیں…
    نیٹ کی سپیڈ 4G نے آسانیاں بھی بہت کر دی ہیں ہر میدان میں…!!!
    آہ…!!!
    مگرہم زندگی کی فطری اور حقیقی خوشیوں سے بہت دور صرف تنہائی کا شکار ہو کر سکرین پر محبتیں اور رشتے ڈھونڈتے رہ گئے ہیں؟
    گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی اجنبی بن چکے ہیں؟
    اک گہرے درد نے انگڑائی لی…
    یہ سب بے شک ضروری تو ہے…
    مگر اسے ضرورت ہی سمجھیئے…
    اس سب کو اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد پر کبھی اثر انداز نہ ہونے دیجیئے اور کھوکھلی اور مصنوعی نگوں کی ریزہ کاری کے خول سے کبھی باہر نکل کر قدرت کی ٹھنڈی اور تازہ فضا میں بھی سانس لیتے رہنا چاہیئے…
    کہ یہ بھی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہے…!!!
    ،اپنی آنکھوں کے گرد پھیلتے سیاہ حلقوں اور اتری رنگت کا بھی خیال کر لیا کیجیئے…
    اپنی پُر سکون نیند کو محض وقت گزاری اور فریب کی نذر نہ کر دیا کیجیئے کہ آج کی نوجوان نسل کے اس رویّے نے بڑے بزرگوں کو ایک سنجیدہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے…!!!
    مثبت استعمال کیجیئے مگر وہ بھی ایک حد تک…
    قانونِ فطرت کے دائرہ میں رہتے ہوئے…
    ایک ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ…
    اپنے اہم اور ضروری فرائض کی بجا آوری کے بعد…!!!!
    کہ زندگی بہت ہی مختصر اور آگے سفر بڑا طویل ہے…
    کہیں ہم ظاہریت کو سجاتے ہوئے باطن کو داغدار اور بے وقعت تو نہیں کر رہے؟
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے اداکار اور گلوکار فرحان سعید نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں پہلی ونہوں نے شوبز کی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا تاہم اب انہوں نے اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان اورلیجنڈری قومی کرکٹر جاوید میاںداد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سمجای رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں جہانگیر خان کی طرح چند ہی ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے کھیل کو نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا میں متعارف کروایا میں آج لیجنڈ جہانگیر خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہوں۔
    https://www.instagram.com/p/CB-cNPhFdow/
    فرحان سعید نے لکھا کہ جہانگیرصاحب کی کامیابیوں کی فہرست لامتناہی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جہانگیر خان نے چھ بار ورلڈ اوپن ، اور برٹش اوپن دس بار جیتا ہے۔ وہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے صدر تھے جس کے بعد ان کے لئے ‘ایمریٹس کے صدر’ کا عہدہ تشکیل دے دیا گیا تھا – جو دفتر آج تک ان کے پاس ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ ان کے ساتھ میری چند ملاقاتوں میں ، ان کی کامیابیوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ کوئی ایسا شخص جس نے کئی دہائیوں میں اتنی کامیابی دیکھی ہے اور اب بھی ایسے ریکارڈ رکھے ہوئے ہیں جو ٹوٹ نہیں سکے ہیں ۔

    فرحان سعید نے کہا کہ یہ جہانگیر خان اور پھر جان شیر خان کی ہی وجہ سے ممکن ہوا کہ پاکستان اسکواش میں کئی دہائیوں تک ٹاپ پوزیشن پر رہا۔

    انہوں نے لکھا کہ جہانگیر خان آپ کا شکریہ میرے لیے آپ بے مثال مہارت اور عزم و حوصلے کی ایک مثالی شخصیت رکھتے ہیں آپ کی لازوال میراث پاکستان کے لئے ایک تحفہ ہے اور رہے گی۔

    فرحان سعید نے اپنی ایک دوسری پاسٹ میں لیجنڈری قومی کرکٹر جاوید میانداد کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے اُنہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CB3fJhiFuLk/
    فرحان سعید نے انسٹاگرام پر جاوید میانداد کی چند یادگار تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں کرکٹ ایک جنون ہے اور آج ، میں لیجنڈری کرکٹر کی غیر معمولی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وہ واحد جاوید میانداد صاحب ہیں۔

    اُنہوں نے لکھا کہ ’جاوید میانداد کا کیریئر اور کارناموں کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں شارجہ میں مقابل حریف بھارت کے خلاف جاوید صاحب کی آخری گیند چھکے کا جادو ابھی بھی برقرار ہے۔

    فرحان سعید نے لکھا کہ جاوید میانداد 1992 میں پاکستان کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنےکیریئر میں پاکستان کی جو شان و شوکت بڑھائی ہے اس کی وضاحت کے لئے الفاظ کافی نہیں ہیں۔

    فرحان سعید نے مزید لکھا کہ وہ ایک سچا دوست ہے اور اپنے آس پاس کے ہر فرد پر محبت اور پیار کا مظاہرہ کرتا ہے میری طرف سے جاوید صاحب کا شکریہ ادا کرنے کی یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ ہم کرکٹ اور ہمارے ملک میں ان کی شاندار شراکت کے لئے ہمیشہ ان کے مشکور ہوں گے۔

    انہوں نے لکھا کہ جاوید صاحب ، آپ سدا خوش رہیں ، سلامت رہیں ۔ پاکستان کے لئے آپ کی خدمات کا بہت شکریہ۔

    انہوں نے ہیش ٹیگ LivingLegends #PakistaniHeroes# بھی استعمال کئے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل فرحان سعید نے ملک کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا جن میں اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف شامل تھے۔

    فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین