Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فکری یلغار، سلو پوائزننگ  تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ
    تحریر عشاء نعیم

    رفتہ رفتہ زمانہ بدل جاتا ہے ایک دم سے کچھ نہیں ہوتا ۔اور زمانہ بدلنے کا مطلب انسان بدلنا بلکہ انسانوں کی سوچ بدلنے کا نام دنیا یا زمانہ بدلنا ہے ۔
    کسی بھی انسان کی سوچ آپ ایک دم نہیں بدل سکتے رفتہ رفتہ بدل سکتی ہے ۔ہاں کچھ نظریات ضرور ایسے ہوتے ہیں جو یک دم کسی واقعہ، کسی حادثہ ،کسی تجربہ یا کسی دلیل کے سامنے ایک دم بدل جاتے ہیں لیکن مجموعی سوچ نہیں۔
    اس کے ویسے تو کئی ثبوت ہیں لیکن آپ کے سامنے سب سے بڑا ثبوت آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس سال میں دین مکمل ہونا ہے ۔
    اس کاملیت میں صرف دین کے احکامات و مسائل ہی شامل نہ تھے بلکہ لوگوں کی سوچ بھی شامل تھی جو بتوں کی پوجا ،اور کردار کی جہالت سے مکمل بدل چکی تھی اور اب وہ لوگ بت پرست نہیں بلکہ بت شکن تھے اور دنیا کے مہذب ترین لوگ تھے ۔جنھوں نے آگے بڑھ کر دنیا کی امامت سنبھال لی اور پھر روتی سسکتی، تڑپتی انسانیت کو جو جہالت میں گھر چکی تھی، کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئی اور رفتہ رفتہ یہ دنیا سکون کا سانس لینے لگی ۔
    لیکن انسانیت کے دشمن کہاں یہ برداشت کر سکتے تھے ،جن کا مقصد انسانوں کو غلام بنا کر ان پہ حکومت کرنا اور انھیں آگ و خون میں نہلا کر شیطانی دماغوں کو سکون دینا تھا ۔۔
    انھوں نے جب دیکھا یہ عرب کے صحرائی دنیا کو ایسی روشنی میں لا رہے ہیں جہاں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوتا نظر آنے لگا تو انھوں نے رفتہ رفتہ اس دنیا کی سوچ پھر بدلنی شروع کردی ۔
    جہاد ،تلوار اور گھوڑا ،تین خوبصورت نام تھے جو کسی بھی بہادر انسان کا زیور سمجھا جاتا تھا اسے گالی بنانے لگے ۔جس تلوار سے ظلم کا سر قلم کیا جاتا تھا اس کو ظالم اور انسانوں کے لیے دہشت گردی قرار دیا جانے لگا ۔
    مظلوم کو آواز اٹھانے پہ غدار اور ظالم کو انسان کا نام دیا جانے لگا ۔
    جرم کو فطری قرار دیا جانے لگا اور مجرم کو قابل ہمدردی اور جرم اس کا حق قرار دیا جانے لگا ۔
    مجرم کے لیے سزا کا مقصد تھا کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور جرم سے باز رہیں لیکن یہاں کہا جانے لگا کہ وہ بھی انسان ہے ۔یوں اس کی ہمدردی میں لوگوں کو کھڑا کر کے اس کی حفاظت کی جانے لگی ۔نتیجتہ رفتہ رفتہ مسلمان کی سوچ بھی بدلنے لگی جرائم بڑھنے لگے ۔انسانیت سسکنےلگی ۔
    مسلمان انسانیت کے نام پہ عملی طور پر اٹھے، دنیا کو سکون ملا اور چھا گئے ۔
    پھر مسلمانوں کو انسانیت کے نام پہ انھیں ان کے مذہب سے عملی طور پہ دور کیا جانے لگا اور وہ دنیا میں دبنے لگا جس سے انسانیت خون میں نہلانے لگی۔
    آج سے سو سال پہلے تک اسلامی خلافت موجود تھی جس کی نگرانی میں کئی ممالک تھے تو اس وقت تک کچھ حد تک انسانیت کو سکون تھا لیکن شیطان نے اپنی چال چلی خلافت ختم ہو گئی اور پھر اس وقت سے آج تک ہر جگہ انسان آگ و خون میں نہا رہا ہے (جس میں مسلمان ہی ہیں کیونکہ اگر مسلمانوں کو نہ مارا گیا تو یہ باقی انسانوں کے لیے بھی غلامی سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں اور دنیا میں رب واحد کی واحدانیت کو ہی تسلیم کرتے ہوئے انصاف کا بول بالا کرتے ہیں )
    یوں رفتہ رفتہ دنیا جو روشنیوں میں آئی تھی پھر سے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ۔
    اور ہماری زندگی کے ہر معاملے میں یہی صورت حال ہے ۔
    دنیا نے ٹیکنالوجی میں ترقی کی تو کئی چیزیں ایسی آئیں کہ مسلمان حلال اورحرام کے فرق کو نہ جان پائے اور اس چیز سے بچتے رہے (کیوں کہ رفتہ رفتہ مسلمانوں نے علم سے دوری اختیار کی اور بہت ساری احادیث و قرآن کی تفسیر سے بے بہرہ رہے۔)
    وہی چیز جو ایک وقت میں حرام تھی رفتہ رفتہ وہ کچھ مقدار میں جائز سمجھی جانے لگی اور پھر رفتہ رفتہ وہ چیز مکمل طور پہ ہماری زندگی کا حصہ ہوں بنی کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ حرام ہے یا حلال ؟
    اس کی مثال ایک ایپ جو وٹس ایپ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے، میں آنے والے اموجیز کی بھی ہے ۔
    "ایموجی ” لفظ شاید پہلے کئی لوگوں نے نہ سنا ہو لیکن وٹس ایپ کی وجہ سے ہر بندے کو ایموجی کا پتہ چل گیا ہے ۔
    ایموجی دراصل چند لائنز سے بننے والا ایسا خاکہ ہے جس میں مکمل تصویر نہیں ہوتی آنکھوں کی جگہ نقطے اور ہونٹوں کی جگہ لائنز یوں لگاتے ہیں جس سے ہنسنا،رونا ،اداسی اور پریشانی کے ساتھ بہت سارے جذبات کا اظہار ہوتا ہے ۔
    لیکن یہ مکمل شکل نہیں ہوتی ۔
    پہلے پہل مذہبی طبقے نے اس سے پرہیز کیا رفتہ رفتہ غور کرنے پہ پتہ چلا یہ تو مکمل تصویر نہیں ہے سو استعمال میں حرج نہیں اور رفتہ رفتہ یہ بڑے بڑے مذہبی لوگ بھی استعمال کرنے لگے۔
    پھر یہ سٹیکرز مزید ترقی کر گئے اور ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی اصل تصاویر نے لے لی ۔معصوم سی پیاری پیاری من موہنی شکلوں نے دلوں کو موہ لیا اور ہر کوئی نہ صرف استعمال کرنے لگا بلکہ اپنے اپنے بچوں کے سٹیکرز بھی بنانے لگا ۔
    رفتہ رفتہ ذہن کھلے اور اب یہ سٹیکرز اداکاروں کے بننے لگے ۔
    جو میں مذہبی خیالات کی لڑکیاں جو غیر محرم کی تصاویر سے پرہیز کرتی ہیں وہ بھی ان سٹیکرز خو استعمال بے دھڑک کرنے لگیں۔
    بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اب ینگ لڑکیوں کے کچھ اداکاروں کے ایسے سٹیکرز بھی آ گئے جن میں ان کا لباس غیر مناسب ہوتا ہے لیکن یہاں تو کوئی مسلہ نہیں کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بن چکے ہیں کہ یہ تو سٹیکرز ہیں ۔
    ان میں سلیو لیس یا نیک لیس شرٹ ہو یا فضول اشارہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
    رفتہ رفتہ دل دماغ اور سوچ سب بدل چکا ہے ۔ ذہن ان چیزوں کو قبول کر چکا ہے ۔جو چیز پہلی بار ہوتی ہے وہ حیرت انگیز، دوسری بار ،حیرت اور تیسری بار معمول کی بات ہوتی ہے ۔
    کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بدل جاتے ہیں زمانے بدل جاتے ہیں۔
    لیکن میری دعا ہے ہم رفتہ رفتہ واپس اسلام کی طرف لوٹ جائیں اور اچھائی برائی میں فرق کو سمجھتے ہوئے دنیا کو رفتہ رفتہ پھر سے عافیت میں لے آئیں ۔
    پیاری بہنوں اور بھائیو آپ ان سٹیکرز میں جو آج کل بے ہودگی ہے خاص طور پہ سمجھ جائیں اور ان کو پھیلانے سے باز رہیں ۔یقینا ان بےہودہ سٹیکرز پہ جب دوسرے بندے کی نظر پڑے گی تو ذمہ دار آپ بھی ہوں گے ۔جواب دہ آپ بھی ہوں گے ۔
    اس لیے اپنے آپ کو بچائیں دوسروں کو بھی بچائیں
    وما علینا الالبلاغ

  • یوم استحصال کشمیر  از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر

    از قلم: ساجدہ بٹ

    197 سے کشمیری استحصال کا شکار ہیں اور ستم بالائے ستم
    5 اگست 2019 کشمیریوں کے لئے اک اور قیامت کا دن تھا یہ وہ دن تھا جب بھارت نے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر دیا ۔
    کشمیر لہو لہو ہے ۔ہر طرف بھارت کی حقوق انسانیت کو پامال کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں ،
    آخر کب تک میرے کشمیری مسلمان ان ظالم و جابر لوگوں کے ہاتھ میں پستے رہیں گے آخر کیوں ؟
    آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اس تعلیمی یافتہ دور میں کیوں خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہیں کسی کو ظلم کرتے ہوئے ،کیوں دیکھتے رہیں کہ کوئی حقوقِ انسانی کے سب سے بڑے حق آزادی کو پیروں تلے روند ڈالے۔
    آخر کیوں؟؟؟

    اس غم میں کلیاں زرد ہوئیں،اس سوچ میں غنچے سوکھ گئے

    ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

    دنیا کے منصفو کُچھ تو بولو کہ کیوں کشمیریوں کو آزادی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا؟
    غیر مسلم کی طرف سے خاموشی کو تو کسی حد تک ہم برداشت کرتے ہیں لیکن میرا مسلم ممالک سے ایک سوال ہے کہ57 سے زیادہ مسلم ممالک نے کشمیر کے لیے اب تک کیا کیا؟؟؟
    آپ سب تو ہمارے اپنے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یاد ہو گا سب کو ۔۔۔۔۔۔
    کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،،،
    تو مسلمانو آپ کو اپنے بھائیوں کا احساس کیونکر نہیں ہے ؟؟
    دو چار نعرے لگا کر کُچھ نہیں ہو گا سن لو مسلمانوں اب وقت ہے کہ کچھ عملی اقدام اٹھائیں کشمیریوں کے لئے کوئی قربانی پیش کریں ۔۔۔ہم پاکستانی یہ ہر گز نہیں چاہتے کہ کشیمر ہر صورت ہمارا حصہ بنے ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ جو کشمیری چاہتے ہیں اُن کی وہ بات پوری کی جائے اُن کو آزادی د دی جائے ۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔
    اُن کی مرضی سے دی جائے
    آپ بہت بڑے دولت مند ہیں نیک ہیں، سپر پاور ہیں،بہت تعلیمی یافتہ ہیں , لیکن آپ کے سامنے ظلم ہو رہا ہے اور مظلوم کے لئے آپ کُچھ بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ میری نظر میں ظالم ہیں آپ نیک کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟

    مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ

    اپنے خورشید پہ پھیلا دیئے سائے ہم نے

  • اب کشمیر ڈوبتے دیکھو  تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو. . . آج سے ٹھیک ایک سال قبل بھارت نے ایکٹ 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ڈکلیئر کر دیا تھا اور آج ٹھیک ایک سال بعد پانج اگست پر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ھے ۔
    کشمیر دنیا کی ایک خوبصورت ترین وادی ھے جس پر تقسیم ھند کے وقت سے برطانیہ کی نظر ھے وہ عرصہ دراز سے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کا اسکرپٹ تیار کر چکا ھے اور معلوم ھوتا ھے کہ اب اس کھیل کو مکمل کرنے کے لیئے اسکرپٹ کے مطابق اداکاروں کا بھی انتخاب کر لیا گیا ھے اور ایک انتہائی مختصر دورانیئے کا ڈرامہ چلا کر کشمیر کے کھیل کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا اس کھیل کو سمجھنے کے لیئے ھمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکناا ھوگا اور تقسیم ھند کے وقت قادیانیوں کے کردار کو یاد کرنا ھوگا تقسیم پنجاب کے وقت قادیانیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے گورداسپور کا وہ علاقہ جہاں قادیان واقع ھے اسے بھارت میں شامل رکھنے کے لییئے ریڈ کلف کمیشن میں اپنے آپکو غیر مسلم قرار دیا اور ایسا انہوں نے یقینا برطانیہ کی ایما پر کیا ھوگا کیونکہ اگر قادیان کا علاقہ پاکستان میں شامل ھوتا تو بھارت کو کشمیر کے لیئے راستہ نہ ملتا پھر ایک اور واقعہ ھوا کہ 1957 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک ریزولیشن جمع کروائی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ان دونوں میں اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں الیکشن کروائے جائیں اسوقت امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے اس ریزولیشن کی حمایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیئے اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا اس وفد میں جوزف کاربائل صاحب بھی شامل تھے جنہون نے واپس جاکر کشمیر پر کتاب بھی لکھی اور ان کی بیٹی البرائیٹ میٹرن یوناییٹڈ نیشن کی سیکریٹری آف اسٹیٹ بھی منتخب ھوئیں معلوم ھوتا ھے کہ اقوام متحدہ کی سطع پر اندر ھی اندر اس تجوءذ پر کام ھوتا رھا ھے لہذا 2016 میں دوبارہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ٹیموں نے کشمیر کا دورہ کیا اور پاکستان کی طرف سے اس وفد میں حامد میر اور کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین جناب فخر امام صاحب کو شامل کیا گیا اور فخر امام صاحب نے بالکل واضع الفاظ میں کہا کہ ھم بھی تو یہی چاھتے ھیں جو اقوام متحدہ کی ریزولیشن کہتی ھے کہ کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر صاحب نے کہا ھم بھی یہی چاھتے ھیں اب صورتحال یہ ھے کہ 5اگست 2019 کےبھارت کے اقدام اور 5 اگست 2020 کے پاکستان کے اقدام کے بعد کشمیر قانونی طور پر دوبارہ برطانیہ کی جھولی میں چلا گیا ھے اور ھر ذی شعور شخص یہ جانتا ھے کہ اگر کشمیر میں الیکشن کروائے گئے تو تقریبا %90 کشمیری خود مختار کشمیر کیلیئے ووٹ دینگے کہانی کو تھوڑا اور سمجھنے کے لیئے پچھلے دو سالوں میں دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے ھونے والے احتجاجوں کا جائزہ لیں تو آپکو کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی نہیں بلکہ سکھ ھاتھون میں ھاتھ ڈالے مظاھروں میں شریک دکھائی دینگے یاد رکھیئے کہ سکھ اپنے لیئے ایک علیحدہ وطن چاھتا ھے اور قادیانی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جاکر فریادین کرتے ھیں کہ پاکستان میں ھمارے خلاف قتل کے فتوے دییئے جاتے ھیں لہذا ھمارے لیئے کچھ بندوبست کیا جائے یہ بھی کیسا اتفاق ھے کہ کرتار پور اور قادیان دونوں کا راستہ سیدھا کشمیر کو جاتا ھے اور آغا شورش کاشمیری نے 1974 میں چھپنے والی اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ انگریز کی یہ سازش ھے کہ انڈیا کا کچھ پنجاب اور پاکستان کا کچھ کشمیر ملا کر قادیانیوں اور سکھوں کو ایک علیحدہ مملکت دی جائے ھو سکتا ھے بھری عدالت میں ایک قادیانی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ھو کیونکہ قاتل خالد خان وڈیو میں پولیس والوں سے کہہ رھا ھے کہ مجھے تم نے ھی تو پستول دے کر کہا تھا کہ اسے قتل کر دو بہرحال اس سارے ڈرامے کے بارے میں ھماری بیوروکریسی کے بہت سے لوگ باخبر ھونگے لیکن وہ خاموش رھینگے جس طرح حامد میر بھی اس سارے کھیل سے واقف ھے لیکن ھماری صحافت کی یہ خوبرو طوائف
    بڑی ” میسڑی” ھے یہ ھمیشہ بعد میں منہ کھولتی ھے جس طرح اس نے اسامہ بن لادن والے معاملے میں برسوں بعد زبان کھولی تھی ۔
    اجمل ملک

  • یوم استحصال کشمیر سے قبل رمیز راجہ کو کشور کمار کی یاد ستانے لگی، اجمل جامی کی سخت تنقید

    یوم استحصال کشمیر سے قبل رمیز راجہ کو کشور کمار کی یاد ستانے لگی، اجمل جامی کی سخت تنقید

    معروف اینکر اجمل جامی نے پاکستانی کرکٹر رمیز راجہ کو یوم استحصال کشمیر منائے جانے سے چند گھنٹے قبل بھارتی گلوکار کشور کمار کے حق میں‌ ٹویٹ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے،


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجمل جامی نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں‌لکھا ہے کہ یوم استحصال کشمیر منانے سے چند گھنٹے پہلے معروف پاکستانی "کمینٹیٹڑ” کو کشور کمار کی یاد ستائے جا رہی تھی. کبھی روی شاستری کو بھی دیکھا ملکہ ترنم کو یاد کرتے ہوئے؟

    اجمل جامی کی اس ٹویٹ پر کمنسٹس کرتے ہوئے کئی دیگر صارفین نے بھی رمیز راجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، سلمان احمد صوفی نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ جدھر صاحب نوکری کرتے ہیں وہاں کے لوگوں کی یاد ذیادہ ستاتی ہے آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ اگلے ماہ پی ایس ایل بھی سٹارٹ ہونے کو ہے انہیں کمنٹری بھی تو کرنا ہے۔۔۔۔

  • قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

    جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

    عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

    اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

    ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

    اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

    عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

    اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

    مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

    لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

    اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

    ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

    عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

    صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

    تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

    چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

    کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

    گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

    کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

    کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

    یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

  • اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں  تحریر: اخت طلحہ

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں تحریر: اخت طلحہ

    اخت طلحہ……

    میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔
    نہ میں کسی سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔۔۔

    نہ کسی کے لئے دل میں بغض و کینہ رکھتی ہوں۔۔۔۔۔

    بس کبھی کبھی وقتی طور پہ غصہ ہوجاتی ہوں۔۔۔۔۔

    لیکن کبھی کبھی تو بلکل ہی ہمت ہار جاتی ہوں کہ میں ہی کیوں تھی اس آزمائش کے لیئے…..پھر آنسوؤں میں بے بسی بہا دیتی ہوں ۔۔۔۔اور پھر قرآن کی یہ آیت مجھے پرسکون کر دیتی ہے ،،،،وما کان ربک نسیا،،،،،، سورہ19 :آیت 64

    پھر یہ سوچ کے چپ کرجاتی ہوں کہ اس انسان کا اتنا ہی ظرف تھا۔۔۔۔

    میں اکثر ہی سچے جھوٹے وعدوں پہ یقین کرلیتی ہوں۔۔۔۔میں دوسروں کی جھوٹی ہمدردیوں پر یقین کر لیتی ہوں۔۔۔۔
    کیونکہ میں انسان کے اندر جھانک نہیں سکتی اس کا من نہیں پڑھ سکتی۔۔۔۔

    مجھے بہت لوگ ایسے ملے ہیں جنھوں نے ظاہری طور پر میری خیرخواہی کی لیکن حقیقت میں مجھ سے حسد کرتے تھے۔۔۔۔۔

    بہت لوگ ایسے بھی ملے جنھوں نے ظاہری طور پر میرا ساتھ دیا لیکن حقیقت میں مجھ سے بہت دور تھے۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی ملے جنھیں میری خوشی اور کامیابی سے مسکراہٹ ملتی تھی لیکن حقیقت میں وہ میری تکلیفوں میں مسکرایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی تھے جنھیں میرے آنسو سے تکلیفوں ہوتی تھی لیکن حقیقت میں تو وہ میری مسکراہٹ پر رویا کرتے تھے۔۔۔۔۔

    میں کچھ لوگوں کی بے وفاٸی کا بدلہ ہر کسی سے نہیں لے سکتی۔۔۔۔
    ۔
    میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ان سے بدلہ لیا جائے ان کو بتا دیا جائے کہ کسی انسان کے جذبات اس کے مخلص ہونے کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے سارا کا سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔

    پھر یہی سوچ کر چپ کر جاتی ہوں کہ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے اگر میں کچھ نا بھی کروں تو یہ دنیا انھیں اسی جگہ پھر لا کر کھڑا کردے گی۔۔۔۔۔۔۔

    اور اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں میرے اللہ سبحان و تعالی ہیں نا۔۔۔۔۔

    وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

    اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو ۔ ( ٤ )

    کیونکہ ہم جیسے لوگ بس اپنی ذات کو ختم تو کرسکتے ہیں لیکن کسی اور کی ذات کو نہیں ۔۔۔۔۔

    یہ نہیں کہ ہم اچھے ہوتے ہیں بلکہ ہماری براٸی اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے کسی اور کو تکلیف دینا عادت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں۔۔۔۔۔

    اللہ تعالی ہمیں ایسے لوگوں کی شر سے محفوظ فرمائیں آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!!

  • عید اور کچھ یادیں  تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    عید رشتہ داروں کے ملنے کا بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے…
    آپس میں مل بیٹھنے اور پیاری پیاری یادیں شیئر کرنے کا بھی نام ہے…
    میرے بڑے ماموں عید ملنے آئے تو ان کے ساتھ دوستانہ گپ شپ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ دیر اُن کے پاس بیٹھتی ہوں…
    ویسے بھی مجھے اپنی عمر کی نسبت بڑے بزرگوں کی مجلس کرنا بہت پسند ہے،اور عمومًا ایسا ہی ہوتا ہے،اس سے آپ کے اندر حسِ مشاہدہ،خود اعتمادی اور اُن کے تجربات سے بہت کُچھ سیکھنے کو ملتا ہے…
    گھر میں بھی والدین کے پاس بیٹھ کر ماضی کے تجربات کو کریدنا بہت اچھا لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ بھائی اور بہن کی نسبت خاندانی معلومات میرے پاس زیادہ ہوتی ہیں…
    آج بھی بات یونہی نکلی کہ پہلے وقت کے لوگ پر سکون،سادہ مزاج اور مخلصی پر مبنی تعلق رکھتے تھے…
    اُن میں ریا،بناوٹ اور دھوکہ دہی کم تھی جو کہ آج اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ایک گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے نہیں چوکتے…
    میرے نانا میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن اُن کو یاد کرنا،دعائے مغفرت اور اُن کے انداز و کردار کی کہانیاں سننا مجھے آج بھی بہت پسند ہیں…
    بچپن میں نانا نانی کے ہاں جانا اور اُن کی آنکھوں میں پیار کی چمک کبھی نہیں بھولتی…
    نانا مرحوم کی دوستی اور اخلاص کے تعلق کے واقعات اکثر امی بھی سناتی ہیں اور آج بھی دل کھول کر شیئر کیئے گئے…
    واقعی انسان کی اصل قیمت اس کا کردار ہوتا ہے نہ کہ مال و دولت کے انبار…اور ظاہری ٹیپ ٹاپ۔
    ماموں بتا رہے تھے کہ نانا جی ایک دفعہ کسی کام سے فیصل آباد گئے تو واپسی پر ضلع کے تحصیلدار نے کہا کہ بزرگو میری بیوی اور بچے بھی اسی گاڑی میں آپ کے شہر جا رہے ہیں جہاں وہ رہتے تھے تو ان کا بھی سفر میں خیال رکھیئے گا.
    تو نانا جی نے نہ صرف پورے رستہ میں بچوں کو اُس وقت کے مطابق ٹافی،بسکٹ خرید کر دیا بلکہ ان سب کا کرایہ بھی ادا کیا…
    انہیں منزل پر پہنچا کر گھر کا رُخ کر لیا…
    تحصیلدار کی بیوی نے کہا کہ بابا جی آپ رات ہمارے یہاں گزاریں اور خدمت کا موقع دیں ہماری بیٹھک خالی ہے…
    مگر وہ نہ مانے،وقت گزر گیا کافی وقت بعد تحصیلدار نے کسی مجلس میں نانا جی کا تذکرہ کیا کہ اس نام کے شخص کو کوئی جانتا ہے تو ایک شخص نے ہاں کہی…
    اس سے کہا گیا کہ جاؤ انہیں بلا کے لاؤ میں تو اُن سے ملنا چاہتا ہوں پھر مجھے وہ نظر نہیں آئے…!!!
    جب نانا جی گئے تو خوب خاطر مدارت کے بعد علاقہ کے دو جھگڑوں کا فیصلہ بھی اُن کی رائے کے مطابق کر کے عزت افزائی کی…!!!
    اُن کے تعلقات دور دور تک تھے اور ارد گرد کے دیہات میں ہر جگہ ان کے دوست تھے جو اپنی اولادوں کو بھی اچھے رویے اور حسن سلوک کی تلقین کرکے گئے جن کے فوائد ماموں کے بقول وہ آج بھی اُٹھاتے ہیں…!!!
    بات کو بہت خوب صورتی سے ناقابلِ تردید انداز میں کرنے کا ملکہ حاصل تھا…
    ایک دفعہ کی بات ہے کہ اپنے ننھیال گئے تو وہاں ایک رشتہ دار سے راستے میں ملاقات ہوئی،ان کے گھر جانے کا وقت میسر نہیں تھا،
    سب گھر والوں کی خیریت وہیں دریافت کر لی رشتہ دار نے کہا والد صاحب کی طبیعت ناساز رہتی ہے…
    نانا جی چونکہ ان پڑھ تھے لیکن بہت زیرک انسان،سمجھ گئے کہ بہانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ وہ پڑھے لکھے کزن تو شاید اسے معصومیت ہی سمجھیں گے اور شکوہ بھی باقی نہیں رہے گا…
    جھٹ بولے "اچھا ناساز ہیں وہ الحمدللہ…”
    رشتہ دار سٹپٹایا…
    کہ جی ناساز کا مطلب خراب طبیعت ہوتی ہے…!!!
    نانا جی مسکراتے ہوئے بولے:
    اچھا اچھا میں سمجھا ناساز بہتر طبیعت کو کہتے ہیں…
    اتنی گہری لغت کو پڑھا جو نہیں ہے،
    میرا پوچھنا کیجیئے گا پھر کبھی چکر لگاؤں گا…!!!
    ان کے ایک دوست ایک دفعہ اُن سے ملنے آئے تو ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ آپ اُن کے گھر آتے ہیں ہمارے گھر نہیں،حالانکہ واقفیت تو ہماری بھی ہے آپس میں…!!!
    نانا جی کا وہ دوست بولا یہ سچ ہے کہ ہماری واقفیت ضرور ہے مگر اتنی ہی کہ ہم اکھٹے نوکری کرتے رہے دس سال تک بس منافع بانٹنے تک بات ہوتی تھی باقی کبھی کچھ نہیں پوچھا دُکھ سکھ…
    جبکہ اُس شخص نے مجھے کرایہ پر مکان نہ ملنے تک زمینوں پر بنے ڈیرے میں رہائش دینے کے ساتھ ساتھ تین وقت کی روٹی بھی فراہم کی،دوستی مفاد پر نہیں بنتی،دوستی اخلاص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بنتی ہے۔
    وہ بزرگ خاموش رہ گئے…
    اسی طرح ایک دفعہ ایک کمرے کی چھت کا سامان خریدنے گئے دوسرے شہر میں،
    پرانے وقتوں میں لوگ مختلف چیزوں کی چھتیں ڈالتے تھے،
    وہ اس سامان کو سر پر اٹھائے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دوست کے بچوں اور بیوی نے دیکھ لیا وہ قریب پہنچ کر سلام دعا کرنے لگے…
    نانا جی نے وہ سامان سر سے اُتارا اور پگڑی سے منہ صاف کر کے انہیں ملے اور پھر گاڑی پر بٹھا کر کرایہ بھی دیا اور بچوں کو کچھ نقدی بھی…
    یعنی بناوٹ اور تکلف سے کوسوں دور حقیقت کے رنگ میں ڈھلی ہوئی زندگیاں کتنی خوب صورت ہوتی تھیں…
    اُن کے تعلقات ہر شعبہ کے لوگوں سے رہتے تھے تیس سال پہلے ایک دفعہ ان کے خاندان سے کوئی شخص علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے پاس گئے تو اس وقت تقریبًا دو ہزار روپے میں جو آج کی بہت بڑی قیمت کے برابر تھے فورًا کھانے کا آرڈر دیا اور پھر بعد میں بتایا کہ یہ صرف نانا جی کے تعلق کی بنیاد پر تھا…!!!
    اُن کے دوستی دیرپا اور گھاٹے کھانے اور قربانی والی ہوتی تھی یہ نہیں کہ صبح ادھر،شام ادھر…
    اور اسی بات کی سب کو قدر بھی تھی…
    گھمبیر مسائل کو اپنی قوتِ فیصلہ اور بہترین حکمتِ عملی سے طے کر لیتے تھے…
    کسی کا ذہن بنانا اور آمادہ کرنا پرانے وقتوں کے جھگڑوں اور مسائل میں مشکل بات تھی جس سے وہ مالا مال تھے…واقعات تو بہت زیادہ ہیں لیکن
    یہ چند مخلصانہ یادیں اچھی لگیں تو ضبطِ تحریر میں لے آئی…
    واقعی وہ لوگ دور اندیش،زیرک اور مخلص لوگ تھے،ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں شیئر کرنے والے لوگ تھے۔
    آج کے تعلقات سرخی پاؤڈر تعلقات ہیں…جب پسینہ انہیں بہا لے جاتا ہے تو نیچے سے اصلی اور کھرے چہرے نکل کر اپنی اصلیت اور حقیقت دکھا دیتے ہیں…
    حسد،برائی،چغل خوری عام ہو چکی ہے اور لوگ اچھے وقت تک ساتھی بنتے ہیں اور مشکل وقت میں پھنسا دیکھ کر منہ موڑ جاتے ہیں جبکہ ماضی میں لوگ مشکل اوقات میں بھی کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے رہتے تھے…
    یہی اصل دوستی اور دوستی کا مقام ہے جس میں بناوٹ،ریا اور جھوٹ نہیں ہوتے…!!!
    آج نانا جی کے گھر کی جگہ بہترین گھر اور دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر اُن کی یادیں، باتیں اور تربیت آج بھی مشعلِ راہ اور بہترین زادِ سفر ہیں جنہوں نے اُس وقت میں کم وسائل کے ساتھ خوب صورت اور سادہ زندگی گزاری اور آج یقینًا یہ سب انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے…!!!
    اللّٰہ میرے آباء کو بخش دے،
    اور انہیں جنتوں کا مستحق بنا دینا…!!!آمین ثم آمین…!!!
    یہ سچ ہے کہ آنے والے آتے رہتے ہیں مگر جانے والوں کی کمی کبھی پورا نہیں ہوا کرتی…!!!
    ہر رشتے کا ایک مقام اور وقار ہے،اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ زندگی کا حُسن ہیں…!!!
    ===============================

  • جھیل کے اس پار  تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار

    عمر یوسف

    رمضان المبارک کا مہینہ ابھی دو عشرے ہی مکمل ہوتا ہے کہ سب لوگ عید کی آمد کے منتظر ہوجاتے ہیں۔۔۔
    ایک عجیب سی مسرت کی کیفیت چھائی رہتی ہے ۔۔۔

    جونہی ذوالحجہ کا چاند نظر آتا ہے بڑی عید کے آنے کا انتظار میں طبیعت شاداں و فرحاں ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

    کسی عزیز کی شادی ہو تو لوگ پہلے ہی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور شادی آنے کی خوشی میں نہال ہوہو جاتے ہیں۔۔۔

    لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جونہی عیدالفطر آتی ہے یا عیدالضحی آتی ہے ۔۔ یا عزیز کی شادی کا دن آتا ہے تو لوگ اکتاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں ۔۔۔ یا تو سو جاتے ہیں یا ٹائم گزاری کے لیے پلاننگ بناتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ سارا دن گزرانے کے بعد دوست احباب کے پوچھنے پر یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم نے سارا دن سو کر گزار دیا ۔۔۔۔

    یہ انسانی فطرت ہے کہ انتظار میں ہی خوشی ہے ۔۔۔کسی کے آنے کی امید ہی راز مسرت ہے ۔۔۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کی جستجو میں ہی مزا ہے ۔۔۔ جونہی مطلوبہ چیز ہمیں حاصل ہوتی ہے تو زندگی میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں ہوتی بلکہ پہلے جیسے ہی لگتی ہے ۔۔۔۔

    انسان سوچتا ہے کہ ڈگری حاصل کرلوں گا تو زندگی کا مطلب ہی بدل جائے گا ۔۔۔۔ ڈگری تو آگئی لیکن زندگی تو وہی سراب محسوس ہورہی ہے ۔۔۔

    انسان سوچتا ہے شادی ہوجائے گی یا جاب لگ جائے گی تو زندگی جنت کی مانند ہوجائے گی ۔۔۔۔ لیکن ان چیزوں کو حاصل کرنے بعد انسان کے گمان کے مطابق حالات نہیں ہوئے بلکہ وہی پہلے جیسی زندگی مزید ذمہ داریاں لیے سر پر کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔

    کرنل شفیق الرحمن یاد آئے ۔۔۔ کہتے تھے ہم جھیل کے ایک کنارے پر کھڑے سوچتے ہیں دوسرا کنارا جنت نظیر ہوگا ۔۔۔ لیکن پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو خاردار جھاڑیوں پر مشتمل ہے ۔۔۔۔

    اچھے خواب دیکھو کیونکہ ان خوابوں کو حاصل کرنے کا سفر انتہائی خوشگوار ہے ۔۔۔ لیکن جہاں یہ خواب مل جاتے ہیں وقتی خوشی کے بعد وہی بیزاری اکتاہٹ اور بورڈم محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ لیکن کیا ہوا جو یہ منزل بوریت کن ہے ۔۔۔ تم نیا خواب دیکھو اور اس کو حاصل کرنے کا مزیدار سفر شروع کردو ۔۔۔ یو خوابوں کے حصول کے سفر میں زندگی کا سفر بھی خوشگوار ہوجائے گا۔۔۔

  • آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے

    صالح عبداللہ جتوئی

    اگست تو ایسا مہینہ جب ہم خوشیاں مناتے تھے اور پورے پاکستان میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور آزادی کی خوشیوں سے لبریز نغمے و ترانے گاۓ جاتے اور صد شکر ادا کیا جاتا اور سجدے کیے جاتے آخر یہ سب کیوں نہ ہو ہم اس مہینے میں آزاد جو ہوۓ تھے لیکن پھر کیا ہوا عرصہ دراز سے شہ رگ پاکستان کشمیر کی زندگی اجیرن کر دینے والے بھارت نے نت نئے طریقوں سے معصوم کشمیریوں کی قید و بند کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا اور اس طرح ہماری شہ رگ مزید دشمنوں کی جکڑ میں آ گئی لیکن پھر کیا ہوا وہ پاکستان جس کی شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں مضبوطی سے جکڑی گئی تو ہم نے بھی لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے اور امن امن کا راگ الاپنے لگ گئے کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اپنا حق مانگنے کے لیے بھی ہتھیار اٹھاۓ تو ہمیں دنیا دہشت گرد ہی قرار نہ دے دے اور پھر ہم نے تقریروں، نغموں، احتجاجوں اور دھوپ میں کھڑے ہونا بہتر سمجھا تاکہ دنیا کو سمجھ آ جاۓ کہ ہم تو ظالموں کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں بھلا اس طرح بھی کوئی ساتھ ہوتا ہے؟
    کیا نغموں سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا؟

    کبھی بھی نہیں
    ‏‎نغموں سے کشمیر آزاد نہ ہو پاۓ گا اس کے لیے مذمت اور رونے دھونے کی بجاۓ انڈیا کی مرمت کرنی ہو گی نغمے تو پون صدی سے گاۓ جا رہے ہیں اور دن بھی کشمیر کے حوالے سے بہت منسوب ہو گئے ہیں لیکن کیا فائدہ ہوا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے آگے اپنا دکھ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انہیں مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اب جو بھی ہو گا وہ تقریروں، منتوں اور نغموں سے نہیں ہو گا بلکہ سخت کاروائی سے ہو گا۔

    اب آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھی دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پہ شامل ہو گیا ہے اور ایک اور دن پاکستان کو نغموں اور احتجاجوں کے لیے مل گیا اب اس کرفیو کو سال بیت گیا لیکن نغموں اور تقریروں سے کیا حاصل ہوا کیا ہمارے رویے سے کسی کے سر پہ جوں تک رینگی؟
    کیا کشمیر آزاد ہوا؟
    چلو آزادی کو چھوڑو یہ بتاؤ کیا کرفیو ختم ہوا یا کرفیو میں نرمی بھی آئی؟
    نہیں نہ اور ایسے آنی بھی نہیں جس طرح ہمارے رویے ہیں کیونکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے ہم صرف باتوں کے شیر ہیں اور کشمیریوں کو بلاوجہ کی تسلیاں دیتے ہیں۔

    ہمارے رویے یہ ہیں کہ ‏‎وہ جس دن ظلم کرتے ہیں ہم اس دن کبھی بلیک ڈے اور کبھی یکجہتی کا دن مناتے ہیں اور رونا روتے ہیں کہ بھارت جا جا کشمیر سے نکل جا اور کبھی چھوڑ دے ہماری وادی والے نغمے گاتے ہیں اور کبھی جمعہ والے دن دھوپ میں کھڑے ہو کے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور بھارت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اب سال گزر گیا اور یہ دن بھی تاریخی ہو گیا اور اسی طرح سالہا سال گزرتے جائیں گے اور 5 اگست کا دن بھی منایا جاتا رہے گا اور نغمے ریلیز ہوں گے اور بات نعروں تک ہی رہ جاۓ گی۔

    ‏‎پتہ نہیں کشمیری ہم سے کیونکر امیدیں لگا کے بیٹھے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے تو ہمیں نت نئے نغموں ترانوں اور دھوپ میں کھڑا ہونے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے موقع مل جاتا اور ہم مذمت بھی اچھے سے کر لیتے ہیں اور کشمیریوں کو جھوٹی تسلیاں بھی دے لیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ کس قسم کا ساتھ ہے جو احتجاج کر کے ہی دیا جاتا؟

    پون صدی سے یہی احتجاج ہی تو جاری ہے لیکن انہوں نے ہمیں کشمیر کیوں نہیں دیا؟
    اگر اس طرح نہیں مانتے تو ایک موسیقی کی محفل بارڈر پہ جا کے ہی منعقد کر کے دیکھ لیں پھر شاید بھارت کشمیر دے دے۔

    واللہ ہمارے یہ رویے بہت تکلیف دہ ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ ہم نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے ترجمانوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کو پابند سلاسل کر کے ظالموں کو ہی خوش کرتے ہیں تو ہم کیسے مخلص ہو سکتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ؟

    ‏‎اللہ ہماری افواج اور سیاستدانوں کو نغموں مذمتوں اور احتجاجوں سے باہر نکال کر صحیح معنوں میں کشمیر کے ایجنڈے پہ کام کرنے اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کشمیری بہن بھائیوں کو آزادیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب..
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • آرزوئے سحر، بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں   تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر، بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    بھارتی میجر گورو آریا کے جواب میں

    دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج خالق کائنات نے اتارا نہ ہو، کینسر، ایڈز، کرونا وائرس کی طرح ہندوتوا بھی ایک شدید قسم کا مرض ہے اور جسے یہ لاحق ہوجائے تو وہ اسلام دشمنی و پاکستان دشمنی میں جل جل خود ہی گھستا رہتا ہے آج کل بھارت اس وبا کی لپیٹ میں ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی اپنی پیشین گوئیوں میں اور عالمی ماہرین مختلف موقعوں پر اس کا علاج بھی تجویز کرچکے ہیں جس کے پیش نظر ہندوتوا کا بچہ بچہ پاک آرمی کے نام سے نہ صرف خوف میں مبتلا رہتا ہے بلکہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوے ہیں کہ کسی بھی طرح سے پاک فوج کو کمزور کردیا جائے، ایسی ہی ایک مذموم کوشش سابق بھارتی فوجی افسر میجر گورو آریا نے بھی کی اور نتیجہ وہی مایوسی کی صورت برآمد ہوا۔ میجر گورو آریا اس سے پہلے پاک افواج پر دہشتگردانہ حملوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسندوں سے اظہار یکجہتی بھی کرچکے ہیں، حال ہی میں بھارتی میجر صاحب نے اپنے یوٹیوب چینل کے زریعے پاکستانیوں سے خطاب فرمایا جس میں پورے زور لگا کر افواج پاکستان سے بغض و عناد کا کھل کر اظہار کیا اور پاکستانی عوام کو اکسانے کی کوشش کی جوکہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، یوں تو بھارت میں ICCPR کے آرٹیکل 19 اور 20 کی خلاف ورزی معمول کی بات ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں بیگناہ مسلمان و عیسائی جان سے جاچکے اور دہلی مسلم نسل کشی کا واقعہ بھی رونما ہوچکا ہے لیکن اب بھارتی میجر براہ راست پاکستانیوں کو تشدد و فساد کے لیے اکساتے رہے جس پر عالمی اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے میجر گورو آریا نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج اپنے شہریوں میں بھارت کے خلاف نفرتیں ابھارتی ہے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے اس کے علاوہ نریندر مودی نے پروگرام من کی بات میں یوم کارگل کے موقع پر بات کرتے ہوے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جس کی حقیقت ہندوتوا کی پاکستان و پاک فوج دشمنی سے زیادہ نہیں۔ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا، ریاست جوناگڑھ کے معاملے پر تو بھارت نے درخواست کی کہ آبادی کی خواہش کے مطابق انضمام کا فیصلہ کیا جائے لیکن کشمیر کے معاملے میں ہمیشہ دھوکہ و مکاری سے کام لیا، اس کے باوجود پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات کا خواہاں رہا جس کا ثبوت 1962 کی ہند چین جنگ ہے کہ پاکستان نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی ورنہ اس وقت اگر اس طرف سے پاکستان حملہ آور ہوجاتا تو یقینی تھا کہ بھارت کشمیر کے ساتھ ساتھ سیون سسٹرز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا لیکن مکار بھارت نے 1965 میں رات کی تاریکی میں مذموم جارحیت کی جس میں منہ کی کھانا پڑی اور روایت کے مطابق عالمی قوتوں کا سہارا لینے بھاگ کھڑا ہوا، معاہدہ تاشقند کے بعد ایک طرف تو رام رام کرتا رہا دوسری طرف مکتی باہنی کی سرپرستی کرتا رہا اور 1971 میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا، اس کے علاوہ مشرف دور میں امن کی آشا کی آڑ میں پاکستان میں دہشتگردی کے لیے راہ ہموار کرتے رہے، زرداری نوازشریف فیوریٹ نیشن قرار دیتے رہے بدلے میں بھارت افغان سرزمین کے زریعے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا، یہ ہیں وہ بھارتی مکاریاں جو قابل نفرت ہیں جن سے لاکھوں پاکستانی براہ راست متاثر ہوے، بھارت کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ عوام نہ چاہتے ہوے بھی نفرت کرتی ہے۔ میجر گورو آریا کے وی لاگ کے بعد اب یہ بات مخفی نہیں رہی کہ پاکستان میں پاک فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں کن کے مفادات وابستہ ہیں اور مہم چلانے والوں سے ہر خاص و عام واقف ہے، بھارتی میجر صاحب نے سابق حکمرانوں و روایتی سیاسی جماعتوں کو کلین چٹ دیتے ہوے پاکستان میں انتظامی و تعلیمی ابتری، پانی کی کمی سے لیکر لوڈشیڈنگ تک ہر مسئلے کی ذمہ داری فوج پر ڈالدی جبکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سندھ میں شہری یونیورسٹی پہ پیپلزپارٹی و متحدہ میں تین دہائیوں سے جنگی سیاست چلتی آرہی ہے، یہ بھی کھلا راز ہے کہ کراچی میں ٹینکر مافیا کو کس نے رواج دیکر عروج بخشا، پولیس کو سیاسی بنانے والے کون لوگ ہیں، ٹھیکے کون اپنے من پسند افراد کو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گذشتہ سات دہائیوں تک کبھی کسی بھارتی فوجی کو پاکستانی عوام کا درد نہیں جاگا لیکن اب جب پاکستان میں غیرمرئی طور پر ڈنڈا سروس جاری ہے جس کی تھوڑی تھوڑی جھلکیاں عوام تک بھی پہنچتی رہتی ہیں تو ایسے میں میجر گورو آریا کو پاکستانی عوام کا درد پنپ اٹھا جس پر موصوف کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے بھارتی عوام کی فکر کرنی چاہئے جہاں آج بچوں تک کو یہ نعرے لگانے پڑتے ہیں "چاچا چاچی سرم کرو کھلے میں ہگنا بند کرو” میجر صاحب پہلے لیٹرینیں تو بنالو پھر دوسری طرف جھانکنا اور رہی بات جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کی تو یہ عام فہم بات ہے کہ چور ہمیشہ اپنے اثاثے چھپاتا ہے اور جس نے حق حلال و جائز طریقے سے اثاثے بنائے ہوں تو ظاہر کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کریگا، جنرل عاصم باجوہ نے نہ صرف اثاثے ظاہر کیے بلکہ ان کی وضاحت بھی دی کہ ان کے زیر استعمال لینڈکروزر ملٹری رول کے تحت ڈاون پیمنٹ پر لی اور کچھ زرعی زمین ان کی آبائی ہے جبکہ کچھ زرعی زمین اور ایک پلاٹ بطور فوجی ملازم ان کا استحقاق ہے اس کے علاوہ ایک دو پلاٹ انہوں نے دوران ملازمت بہت عرصہ پہلے خریدے جس وجہ سے قیمت خرید کم لکھی ہوئی ہے جیسا کہ دو دہائی قبل یفینس میں پلاٹ دو تین لاکھ روپے کا تھا۔ یہ تو پاکستانی جنرل ہیں جو بلا خوف اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں لیکن کیا بھارتی جرنیلوں میں اتنی اخلاقی جرات ہے جو وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں جن کا وطیرہ ہی یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی موقع ملتا ہے تو ملک و قوم کو رسک پہ چھوڑ کر چائنیز کہاوت "بحران یا مشکلات میں مواقع بھی ہوتے ہیں” کے مصداق مال بنانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ کفن تک پہ مال بنایا، انڈین آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق کارگل جنگ کے دوران مقتولوں کے کفن دفن کے تابوت میں بڑا گھپلا کیا گیا جس میں BJP اور بھارتی فوجی افسران ملوث تھے جنہیں نریندر مودی کے دور میں کورٹ سے کلین چٹ ملنا شروع ہوئی اور دلچسپ بات یہ کہ کہا گیا کہ کرپشن اسکینڈل میں نامعلوم افراد شامل ہیں، بہتر ہوتا اس کا الزام بھی ISI کے سر تھونپ دیا جاتا۔ روایت کے مطابق حالیہ ہند چین تنازعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوے مودی سرکار اور بھارتی کرپٹ فوجی افسران نے شور مچایا کہ ہمارا دفاع مضبوط نہیں اس کے لیے بھارت کو فوری طور پر رافیل طیارے خریدنے ہونگے ورنہ چین میں بھی چائے پارٹی ہوسکتی ہے اور یوں ڈوبی ہوئی رافیل طیارہ ڈیل کو زندہ کرکے اربوں روپے پر ہاتھ صاف کر بیٹھے۔ اس کے علاوہ ٹاٹرا ٹرک اسکینڈل، جیپ اسکینڈل، میرین ملٹری ہیلی کاپٹر اسکینڈل، آبدوز اسکینڈل چند ایسے بھارتی فوج کے شاہکار اسکینڈل ہیں جن میں بھارتی عوام کی جیبوں کو ہی نہیں کاٹا گیا بلکہ یہ وہ اہم وجہ ہے کہ آج بھی 40 فیصد سے زائد بھارتی غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں اور 70 فیصد سے زائد آبادی سوچالوں کے نہ ہونے کی وجہ سے پچھواڑے دکھانے پہ مجبور ہے، ایسے میں بھارتی عوام خود ہی لیٹرین بنالے لیکن مجبور ہے ایک تو تعلیم و شعور نہیں دوسرا سیوریج سسٹم نہیں۔ گلوبل فائرپاور اور SIPRI کے مطابق گذشتہ کئی سالوں سے بھارت دفاعی بجٹ کے حساب سے دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود ایمرجنسی میں اسے رافیل خریدنے کی ضرورت پڑی جس پر بھارتی عوام کو ضرور سوال کرنا چاہئے کہ سات دہائیوں سے اتنا بجٹ کہاں خرچ ہوا۔ سابق بھارتی جنرل میڈیا پر یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ بہت سارے فوجی افسران فوجی راشن کو عام مارکیٹ میں فروخت کردیتے ہیں اور مجبور سپاہی ذہنی مریض ہوتے جارہے ہیں، بھارتی فوجی افسران نے تو کارگل میں جانیں قربان کرنے والے فوجیوں تک کو نہ بخشا آج بھی سینکڑوں متاثرین حقوق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہیں کیونکہ فوجی افسران کو گالف کلب و نائٹ کلبوں کے بزنس سے فرصت ملے تو اس طرف دھیان ہو اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی جنرل انڈین ایڈوائزری بورڈ میں چیئرمین لگ جاتا ہے تو کوئی NDMA کا ہیڈ یا پھر بھارتی اسٹیٹ بینک میں اعلیٰ عہدہ ان کا منتظر رہتا ہے اور اب تو عدالت بھی ان کا حصہ بن گئی ہے جس طرح جسٹس گگوہی نے BJP سرکار اور انڈین ملٹری کی خدمت کی ہے تو اب عدلیہ کو بھی اعلیٰ مراعات حاصل ہیں جس کا بڑا نتیجہ جسٹس گگوہی بطور راجیہ سبھا کا ممبر منتخب ہوگئے ہیں۔