Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم:  فہیم شاکر

    کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم: فہیم شاکر

    فیصل آباد میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے تُجّار پر پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، دھکے دیے
    میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ کون سا اختیار ہے جو پولیس کو وردی پہننے سے مل جاتا ہے؟؟؟
    وہ کون سا قانون ہے جو پولیس کو عوام پر تھپڑ برسانے کا اختیار دیتا ہے؟؟؟
    وہ کون ہے جو پولیس کے جوانوں کو عام آدمی کو دھکے دینے پر اُکساتا ہے؟؟؟

    ایک عام شہری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر سزا دینا بنتی ہے یا تشدد کرنا؟؟؟

    آج جمعۃ المبارک 31 جولائی کا دن ہے شیخوپورہ کی معروف تجارتی جگہ گلی ککےزئیاں کے صدر انجمن تاجران رانا محمد عمران کے مطابق لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر پولیس نے تحریک انصاف کے معذور کارکن یاسر اکرم پر چیخوں کے باوجود شدید تشدد کیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بنے رہے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی خالد محمود بھی موجود تھے
    لیکن جنگل کے قانون کے حامل اس معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو پولیس سے اس کی محکمانہ خلاف ورزی پر سوال کرے
    ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ تشدد کے شکار یا سراپا احتجاج بنے تُجّار کے پاس جا کر اشک شوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں

    میں پھر دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر شہری کو سزا یا جرمانہ کرنا چاہیے نہ کہ اس کی تضحیک وتذلیل.
    میں چند دن قبل صبح 7 بجے شاہدرہ چوک میں کھڑا تھا
    بچوں کے ماموں انہیں شاہدرہ چھوڑنے اور میں انہیں وصول کرنے وہاں پہنچا تھا
    اسی اثناء میں ٹریفک پولیس والے ڈیوٹی پر پہنچنا شروع ہو گئے
    کاغذات واپسی سنٹر شاہدرہ میں موجود پولیس کے ایک نوعمر جوان نے مجھے تضحیک آمیز رویے کے ساتھ یوں بلایا
    *اوئے مولوی! ادھر آ، جا وہاں سے پانی بھر کے لا*
    میں ایک نظر اسے دیکھوں، ایک نظر اس کی وردی کو، اس کی جرآت پر مجھے حیرت سے زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ وردی پہننے کے بعد عوام انہیں کالانعام دکھائی دیتی ہے.
    *یہ رہی عوام کی اوقات*
    آپ میری بات سے ہزار بار اختلاف کیجیے لیکن یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ پولیس کے جوان اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے عوام کے اندر سارے محکمے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے
    اعلی حُکام کو اس طرف توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کرانا ہوگا ورنہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا سے پہلے تھپڑ اور دھکے دے کر اسے جرم کی راہ پر ڈالنے کی ساری ذمہ داری پولیس کے جوانوں پر ہی عائد ہوتی رہے گی

  • سائنس اور مذہب  تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب

    عمر یوسف

    فلسفہ ہو یا منطق ، سائنس ہو یا دیگر عقلی علوم ان سے وابستہ اکثر لوگ خدا کے وجود کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

    اب کیا وجہ ہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو حقیر سی عقل کے تابع ہو کر جھٹلا دیا جاتا ہے ،؟۔

    حالانکہ فلسفہ و منظق و سائنس کی چوٹی پر پہنچ کر لوگ یہ حقیقت ماننے پر مجبور ہوئے کہ اس سے آگے خدا ہے ۔۔۔

    جنہوں نے انتہاء دیکھی انہوں نے وجود باری تعالی کا اعتراف کیا ۔۔۔۔

    یہاں پر میں انسانی فطرت کے پہلو کو اجاگر کروں تو انکار خدا کی ایک پیچیدہ وجہ سمجھ میں آجاتی ہے ۔۔۔

    دماغ جس چیز پر مسلسل کام کرتا ہے وہ اسی کے تحت سوچنا اور عمل کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔

    اب سائنس و فلسفہ یا دیگر علوم ٹھوس عقلی ، مشاہداتی اور تجرباتی علوم ہیں ۔۔۔۔

    جو بندہ زندگی کا ایک عرصہ ایسی حالت میں گزارے کہ جس میں سائنسی تجربات کرکے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا وجود بھی اسی صورت مانا جائے گا جب اس کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔۔۔۔

    سائنس کو ہی دیکھ لیں کسی بھی چیز کا دعوی وہ۔اسی صورت مانے گی جب اس کا مشاہدہ کرے گی ۔۔۔بصورت دیگر آپ منوا کے دکھائیں !!!

    مسلسل عقل کے تابع ہونا انسان سے ایمان کی سمجھ چھین لیتا ہے وہ ان دیکھی ، ناقابل مشاہدہ چیزوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔

    یوں مسلسل عقلیات کی پیروی خدا کے وجود پر ایمان لانے کے راستے میں حائل دیوارہے

    خفیف سی مثال اس کی تائید کرے گی کہ آپ مسلسل روشنی میں کام کرنے کے بعد ایک دم اندھیرے میں آئیں گے تو چیزوں کا مشاہدہ کرنا کچھ وقت کے لیے ممکن نہ ہوگا ۔۔۔۔

    اسی طرح مسلسل عقلیات کے تابع ہونے والے کو ایمانیات کی سمجھ مشکل سے آتی ہے ۔۔۔
    اس مسلمہ حقیقت کے بعد مسلمانوں کے کرنے کے کام دو ہیں ایک ذاتی لحاظ سے ایک اجتماعی لحاظ سے ۔۔

    ذاتی لحاظ سے سائنس سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا تعلق مذہب سے مضبوطی سے بنائے رکھے قرآن و حدیث کا مطالعہ ہی ایمان و سلامتی کا واحد ذریعہ ہے ۔۔۔
    اور اجتماعی لحاظ سے جو لوگ سائنس پسندی کی وجہ سے دین بیزاری کا شکار ہیں ان سے درست رویہ اپنائے نہ کہ تعصب و انتہاء پسندی کا ۔۔۔
    اور ان کی عقلیات سے استدلال کرتے ہوئے ایمانیات ثابت کرے جیسے کہ عصر حاضر کے ممتاز علماء اسی پیٹرن کو فالو کرتے ہیں اور ان کی تصانیف و خطبات سے دیکھا جاسکتا ہے ۔۔۔

    سائنس کے حوالے سے مذہبی لوگوں کو نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جہاں سائنس کی طرف سے مذہب خلاف عمل در آمد ہوتا ہے وہیں پر لوگ پوری کی پوری سائنس کو کفر کی فیکٹری مان لیتے ہیں ۔۔۔
    سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جو چیز مذہب کے خلاف ہے صرف اسے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جانا چاہیے اور اسے ہی رد کرنا چاہیے نہ کہ پوری سائنس کو ہی ۔۔۔

    کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی خلاف ورزی پر سائنس کو کفر عظیم سمجھنے کا ہی تاثر دیا جاتا ہے ۔۔۔

    بات کا اختتام اسی پہ کرتے ہیں کے مذہب کے بغیر سائنس کی دنیا جہنم کا راستہ ہے کیونکہ عقلیات کی پیروی سے ایمان کی سلامتی ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
    اور سائنس کے حوالے سے مذہب میں درست نظریہ رائج ہونا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو چیز سائنسی مشاہدے میں نہیں وہ ان کے نزدیک ناقابل قبول ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس کا انکار سائنس کررہی ہے وہ واقعی موجود نہیں ۔۔۔۔۔
    اور یہ بھی ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ اب سائنس کو کفر کی فیکٹری سمجھ لیا جائے

  • خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    پڑھیں ! 5 6 منٹ دینے سے دنیا اپنی فطرت پر ہی قائم رہے گی اس کے برعکس آپ کی سوچ میں اضافہ ہوگا

    اعلان رقیبوں کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے ۔ خبریں ہیڈ لائنز کی صورت میں اور اخبار میں چھپ کر بصارتوں کو دھندلا کرتی ہے ۔ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہپناٹائز ہو جاتی ہیں ۔ کہ فلاں فلاں اڈے سے اپنی منزل کی طرف محو سفر بس حادثہ کا شکار ہوکر کر متعدد جانوں کی حلاکتوں کا باعث بنی ہے ۔ لیکن ایک نوجوان حیات و موت کی دہلیز پر موجود ہے ۔

    بعد از اعلان سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اور جن کے دوست احباب رشتہ دار قریبی اس اڈے سے اپنی منزل کو پانے کی جستجو میں روانہ ہوئے تھے ۔ سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے ۔ اور کوئی ان اوقات تک فیسبک پر پوسٹ نہیں کرتا ۔ واٹس ایپ سٹیٹس نہیں لگایا ۔ انسٹا پر سٹوری نہیں لگائی کیونکہ سب سے اک امید وابستہ تھی کہ وہ زندگی و موت کی دہلیز پر براجمان نوجوان میرا بھائی نہ ہو کزن نہ ہو بھتیجا نہ ہو بھانجا نہ ہو دوست نہ ہو چاچا نہ ہو ماما نہ ہو حتیٰ کہ رشتے کو مظبوط یاں کچے دھاگے میں پروئے جتنے بھی موتی تھے سب کو فکر لاحق تھی اندیشہ تھا کہ وہ نوجوان میرا دوست ہوگا اور ہر رشتہ دار ہاتھ پھیلائے دل سے آنکھوں میں اشکوں کو پروئے اپنے رب کے ہاں لگاؤ سے دعاگو ہے وہ میرا ہی رقیب ہو جاننے والا ہو میرا ہی شناسا ہو ۔ ایک نوجوان اور کڑوڑوں امیدیں ۔

    اگر ان میں سے کوئی بھی پوسٹ کردے میرا کزن بس حادثہ کے نذر ہوکر درا فانی سے کوچ کرگیا ہے ۔ اور بچ جانے والا نوجوان ہی کزن ہو تو پھر اک بنا تحقیق کے بے معنیٰ خبر گردش کرتی ہے ۔ اور اس مرنے والا نوجوان کے حلقہ احباب میں ایک کیفیت رنج و الم گردش کرتی ہے ۔ اور اس کے حلقہ احباب سب پوسٹس کرتے ہیں میرا جاننے والا فوت ہوگیا ہے ۔ سٹوری لگتی ہے سٹیٹس لگتے ہیں شیئر ہوتے ہیں ۔ اور بنا تحقیق کے ایک خبر گردش کرتی ہے اور پروپیگنڈا بن جاتی ہے ۔ حکومت نے روڈ صحیح نہیں بنائے ۔ بسوں میں سفر سے بہتر ہے بندہ سفر نہ کرے ۔ اور اس طرح کی کہیں پوسٹس اور پروپیگنڈا ۔

    اب ذرا حقائق کو اپنی بصارت سے پرکھیں ۔ کہ ہم کتنے ایسے پروپیگنڈوں کا شکار ہیں ۔ ہم کتنی بنا تحقیق خبریں پھیلا رہے ہیں ۔ اگر مجھے ایک بندہ بھی فالو کرتا ہے ۔ تو میں اسے گمراہ کر رہا ہوں ۔ اپنے دماغوں کو آنکھوں کے سامنے چھائی ہریالی کی قید سے آزاد کروائیں ۔ اور سوچیں ہم کتنوں کو گمراہ کر چکے ہیں ۔ اور کتنوں پروپیگنڈوں کو اپنے دست مبارک سے فروغ دے چکے ہیں ۔

    اگر یہ حقائق میں حلقہ احباب میں بیان کروں تو اکثر و بیشتر چور ہوں گے اور ان کی ڈارھی میں تنکا ہوگا ۔ تو خود کو اس گندگی کے چھینٹوں سے پاک رکھیں ۔ اور نیکی اور پوچھ پوچھ کو بھی تحقیق کی نذر کریں ۔ ہم ملوث ہیں کئی ایسے الف لیلیٰ کی کہانیوں سے مشابہت کرتی خبروں کو دنیا کے نذر کرنے میں ۔ اگر ہم تحقیق کرنا شروع کردیں ۔ اور معاشرے کی بی بی سی بننے پرہیز کریں ۔ تو کئی پروپیگنڈے سر اٹھانے سے قبل ہی زمین بوس ہو جائیں ۔ اور ہماری کاوشیں پروپیگنڈوں کو آئینے میں زبان چڑا رہی ہوں اور ہم انداز دھمکی میں اپنے اعصابی کمزوری کو بحال کر رہے ہوں ۔ اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں ۔ خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں ۔ کیونکہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے اور آپ کو ہماری اشد ضرورت ہے ۔ اور معاشرے کو ہماری ضرورت ہے ۔

    #قلمسخی #معاشرہزیر_تعمیر
    #SAKHI #PAKISTANI #SakhiWrites

  • کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد  از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق
    {کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد}

    از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے
    پھر اپنے گھر میں ہمیں تو بلا لے

    حاجیوں کے لئے کھول دے اپنے گھر کو
    سجدوں سے روشن کریں تیرے در کو

    توں حاجت روا ہے تو ہی مشکل کشا ہے
    دو عالم کا تو اکیلا ہی شہنشاہ ہے

    اس موذی مرض سے ہماری جاں تو چھڑا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    آہ،چھن گئیں کتنی نعمتیں ہم سے
    آہ،اٹھ گئیں کتنی برکتیں ہم سے

    نہ کعبے کی زیارت،نہ زم زم کا پینا
    حجر اسود کے بوسے سےگناہوں کا دھونا

    لے جا ہمیں وہاں اور سوئی قسمت جگا دے
    یا الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    غلاف کعبہ سے چمٹنے کو جی چاہتا ہے
    تیری بارگاہ میں غم ہلکانے کو جی چاہتا ہے

    کرے خوب حاجی عبادت اور نیکیاں کمالے
    الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    ہم خطاکار ہیں،ہم گناہ گار ہیں
    مانا کہ بہت ہی سیاہ کار ہیں

    مگر تیرے نبی کے بھی پیروکار ہیں
    خدایا!تیری رحمت کے طلبگار ہیں

    اس عاصی کو مدینے کی گلیاں دکھا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

  • راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    قبیلہ دوس میں پیدا ہونے والے ابو ہریرہ بکریاں چراتے اور تنگی میں گزر اوقات کرتے تھے،بلیوں سے محبّت کی وجہ ابو ہریرہ کہلائے،
    قبیلہ دوس کے شاعر طفیل دوسی اسلام کے ظہور کے بعد مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اسلام قبول کر لیا۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی جب یہ بات سنی تو وہ بھی بے تاب ہو گئے اور چاہا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں…
    مدینہ پہنچ کر 7ہجری میں تیس سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا اور صفہ کے تاریخ ساز اور عہد ساز چبوترے کے مکین بن گئے…کہ جن کے کردار پر تاریخ نازاں ہے اور پھر کبھی اس راہ سے جدا نہ ہوئے۔
    اصحابِ صفہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے مہمان تھے،
    ان کا گھر تھا نہ اسباب…
    مال و دولت تھی نہ دوست آشنا…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ کے پاس جو صدقہ کا مال آتا آپ وہ انہیں بھیج دیتے،
    کوئی تحفہ آتا تو خود بھی کھاتے،انہیں بھی کھلاتے…
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف پایا جن کی تعداد 5375 ہے ،آپ نے جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کم حافظے کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھ کوئی بات کروں تو تم اپنی چادر پھیلا دینا اور جب بات مکمل ہو جائے تو چادر اپنے گرد لپیٹ لینا…ابو ہریرہ کے بقول پھر کوئی حدیث وہ نہ بھولے…!!!
    ان کے پاس کمائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا شدید فقر وفاقہ میں علم حاصل کیا…
    صحیح بخاری میں ہے کہ:
    ابو ہریرہ کہا کرتے تھے کہ قسم پروردگار کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
    میں بھوک کے مارے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا۔
    ایک دن ایسی ہی جگہ پر جہاں سے لوگ گزرتے ہیں لیٹا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت پوچھی،میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ میری بات سمجھ نہ سکے،
    پھر عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ بھی بات نہ سمجھ سکے…
    پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ میرا مدعا سمجھ گئے…مسکرا دیئےاور مجھے ساتھ چلنے کو کہا،
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر…!!!
    میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ!
    میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا…
    گھر پہنچ کر آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی داخلے کی اجازت دی…
    گھر والوں سے پوچھا گیا کہ کوئی چیز موجود ہے؟
    بتایا گیا کہ دودھ کا ایک پیالہ ہےجو آپ کے لیئے ہدیہ بھیجا گیا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابا ہر…!!!
    جا سائبان(صفہ)والوں کو بلا لا…
    میں نے دل میں سوچا کہ ایک پیالہ دودھ اتنے لوگوں کو کیسے کفایت کرے گا؟
    اصحابِ صفہ کو بلایا گیا وہ آن کر بیٹھ گئے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاتے جاؤ…
    آپ پیالہ ایک ایک صحابی کو دیتے جاتے اور وہ سیر ہو کر پیتا جاتا اور پھر پیالہ واپس ابو ہریرہ کو پکڑا دیتا…
    جب سب لوگ جی بھر کر دودھ پی چکے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیالہ ہاتھ میں لے کر ابو ہریرہ کو دیکھا اور مسکرائے…
    اور فرمایا:
    اقعد فاشرب…
    ابو ہریرہ بیٹھ جا اور دودھ پی لے…
    میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے جاتے اور پی…
    میں پیتا رہا آپ پھر فرماتے:
    ابو ہریرہ اور پی لے…
    یہاں تک کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قسم اس پروردگار کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب میرے پیٹ میں جگہ نہیں رہی کہ اس دودھ کو اُتاروں…
    تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اچھا ابو ہریرہ اب پیالہ مجھے دے دے…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شکر ادا کیا اور بسم اللہ پڑھ کر وہ بچا ہوا دودھ پی لیا…(صلی اللہ علیہ وسلم)۔
    وہ جو نبیوں میں رحمت لقب پانے والے…
    وہ جو اپنے پرائے کا غم کھانے والے…
    وہ جو مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے…
    وہ جو ضعیفوں کے مددگار،یتیموں کے والی تھے…!!!
    زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ہریرہ بھی ہمارے ساتھ تھے…سب نے اپنی دعا مانگی،
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا:
    اے اللہ مجھے وہ بھی دے جو میرے ساتھیوں نے مانگا اور مجھے ایسا علم دے جو بھلایا نہ جا سکے…
    تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا آمین۔
    آپ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے اور احادیث جمع کرتے رہتے تھے۔
    آپ کے اس علم کے آگے ہر فن کی روشنی ماند ہے…
    ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللّٰہ عنھما کے دور میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت نوازا مالی استحکام نصیب ہوا…
    لیکن یہ سچ ہے کہ بلندیوں پر جگمگانے کے لیئے خونِ جگر جلانا پڑتا ہے…
    راہ کی مشکلات اور کانٹے چننا پڑتے ہیں…
    سحر ہمیشہ گھپ اندھیرے سے پھوٹتی ہے…
    اور سچائی اور سیدھی راہیں قربانی مانگتی ہیں…
    بڑے منصب پر فائز ہونے کے لیئے شارٹ کٹ نہیں بلکہ جہدِ مسلسل اور تلخیوں کا سامنا لازم ہوتا ہے…
    آپ کی والدہ اسلام کی سخت دشمن تھیں آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روتے ہوئے دعا کی درخواست کی
    جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماں قبولِ اسلام کے لیئے بصد رضا تیار ہو گئیں…!!!
    (رضی اللہ عنہ)۔
    اللّٰہ ہمیں بھی حقیقی علم کی روشنی سے سینے منور کرنے اور اس روشنی کو ہر طرف پھیلانے اور ظلمتوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ انسانیت کا درد اور دفاع و احترام ہمارے معاشرے کی پہچان بن جائے،ہمدردی و غمگساری کے جذبات ہمارا شعار ہوں آمین ثم آمین۔
    =============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بھارتی عورت سونیا داس اور اس کی دوست نے سکوٹر پر پانچ دن سفر کرکے 1،800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی 26 سالہ خاتون ، کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران بے روزگار اور بے گھر ہوگئی ، اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے جس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایک اسکوٹر پر مہاراشٹر سے جھارکھنڈ روانہ ہوئی-

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سونیا داس اور اس کی دوست صبیہ بانو نے سکوٹر پر 1،800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے پانچ دن سڑک پر گزارے۔

    رپورٹ کے مطابق سونیا داس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کنبے اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پریشان کُن حالات کا سمان کر رہی تھی۔ کرایہ کی ادائیگی میں ناکامی کی وجہ سے جب اسے ممبئی میں رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا گیا تو ، وہ پونے میں اپنی دوست صبیہ بانو کے ساتھ چلی گئیں۔

    سونیا داس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ، "میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے کیونکہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور گھر کا کریہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھر خالی کروالیا گیا تھا تو میں پونے میں اپنی دوست صبیہ کے پاس شفٹ ہوگئی تھی-

    سونیا داس نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے تو انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے ٹویٹر پر مدد کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پونے اور جمشید پور کے مابین کوئی ٹرینیں نہیں ہیں ، اور وہ فلائٹ ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے سونیا داس نے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسکوٹر پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا-

    سونیا نے بتایا کہ "میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو ٹویٹ کیا ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ حکومتوں کی ہیلپ لائنوں پر مدد کی لیکن کوئی کام نہیں کررہا تھا۔ میں نے (اداکار) سونو سود سر کو بھی ٹویٹ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں ، میں نے اپنے طور پر جمشید پور واپس جانے کا فیصلہ کیا –

    دونوں دوستیں پیر کے روز پونے سے روانہ ہوئیں اور پانچ دن سکوٹرپر ممبئی کے راستے جمشید پور کا سفر کیا۔ اور جمعہ کی شام اسٹیل سٹی پہنچ گئیں۔

    جمشید پور پہنچنے کے بعد ، محترمہ داس اپنے خاندان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ایک فاصلے سے دیکھا اس سے پہلے سونیا اور اس کی دوست کو قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا تھا۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اروند کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب انہیں گھر میں ہی قرنطین کرنے کو کہا گیا ہے۔ لواحقین کو 30 دن تک ڈرائی راشن بھی مہیا کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

  • دلوں کو فتح  کرنے کا راز  تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز
    حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    حسن سلوک کیا ہے؟
    حسن سلوک ایک ایسی چیز ہے جس سے دشمن کوبھی اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔
    آج کی دنیا میں 90 فیصد لوگ حسن سلوک کو بھول چکے ہیں،صرف 10 فیصد لوگ حسن سلوک کے معنی سے آشنا ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں ، وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے ،پھر وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    وہ جانتے ہیں کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو بولنے ہیں اور جو نہیں بولنے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا سلوک ہے جس سے لوگ ان سے محبت کریں اور پیار اور خلوص سے پیش آئیں گے اور اچھے انداز سے بات چیت سمجھیں گے ۔
    جبکہ 90 فیصد لوگ دوسروں کے ساتھ اپنے ہوں یا پرائے ،بڑے یا چھوٹے ہوں سب کے ساتھ ایک ہی رویے سے پیش آتے ہیں۔ وہ نہیں خیال کرتے کہ ان کو کیا بات بری لگ سکتی ہے۔
    ان کی عادت ہوتی ہے طنز کرتے رہنا، بات بات پر ٹوکنا دوسروں پر ہنسنا۔
    حسن سلوک صرف اسی چیز کا نام ہی نہیں کہ کہ دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں ،خلوص سے،محبت سے۔ بلکہ حسن سلوک تو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو کوئی بدسلوکی کرے، یا زیادتی کرے تو آپ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں اسے معاف کریں اس کو سمجھائیں ، اس سے بدلہ نہ لیں۔
    آخرحسن سلوک سے پیش آنے سے کیا ہوتا ہے؟

    سب سے بڑی بات یہ کہ حسن سلوک سے پیش آنے پر اللہ تعالی ہم سے خوش ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی مسلمان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ حسن سلوک میں معاف کرنا دوسروں کے ساتھ خلوص سے پیش آنا سب شامل ہے۔
    حسن سلوک تو ہو گیا ہے ہر ایک کے ساتھ اچھے انداز،اور خلوص سے پیش آنا اب بات آتی ہے معاف کرنے اور بدلہ لینے یا نہ لینے کی۔

    جب کسی سے کوئی غلطی ہو یا اس کے ہاتھ، زبان سے ہمیں تکلیف پہنچے تو ہم اسے معاف کر دیں تو اللہ تو خوش ہو گا ہی اس کے ساتھ اگلے بندے کے ذہن میں بھی خیال آئے گا کہ میں نے اس کو برا بھلا کہا اس کو تکلیف دی یا مارا پیٹا،لیکن اس نے تو مجھے معاف کر دیا۔
    ہو سکتا ہے وہ آپ کو ایک بار تکلیف پہنچائے ،دو بار، تین بار بالآخر وہ دیکھے گا کہ یہ ایک اچھا انسان ہے اور اگلی بار آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اور برا سلوک چھوڑ دے گا۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ دوسروں کو معاف کرنا لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے نہیں یا یہ سوچ کر دوسروں کو معاف کریں کہ لوگ واہ واہ کریں گے میرا نام ہوگا جب بھی معاف کریں ثواب کی نیت سے کریں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔

    اگر ہر کوئی ایک دوسرے سے اچھے طریقے سے پیش آئے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو معاف کردے تو معاشرہ کتنا اچھا ہو گا۔
    جب ایک انسان دوسرےانسان
    کو معاف کرے گا تو وہ اس سے متاثر ہوکر خود بھی دوسروں کے ساتھ ایسے ہی پیش آئے گا
    اس طرح سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے۔ اور یہ معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا اور اگر ہم کسی کے ساتھ برا سلوک کریں گے تو اس کے ذہن میں بھی شیطان بدلے کی آگ کو بھڑکائے گا اور وہ مسلسل ذہنی اذیت میں رہتے ہوئے آپ کے ساتھ برا سلوک کرنے کے ساتھ اسی غصے میں دوسروں سے بھی بد سلوکی سے پیش آئے گا۔
    یوں لا شعوری طور پر سب ایک دوسرے کے ساتھ برا کریں گے اور معاشرے میں برائی پھیل جائے گی۔ ویسے بھی جہاں ہم نے ایک نیکی کی تو ایک بدعت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سے پیش آئیں گے تو کوئی ایک دوسرے کے ساتھ برا نہیں کرے گا اور برائی اپنے آپ ختم ہو جائے۔
    (بدلہ لینا یا نہ لینا)
    بہت سے انسانوں کی فطرت ہوتی ہے ان کے ساتھ کوئی برا کرے یا زیادتی کرے تو وہ فورا بدلہ لینے پہ اتر جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب کیسے بدلہ لیا جائے؟
    اور بعض اوقات تو وہ بدلہ لیتے وقت انسانیت سے ہی گر جاتے ہیں۔

    جبکہ اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا: ‘کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ،اور ناک کے بدلے ناک۔
    یعنی کہ اگر ہم ناانصافی کیے بغیر زیادتی کیے بغیر جتنی اگلے بندے نے آپ کو اذیت دی ہے اتنی دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے تو آپ کو گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ثواب۔لیکن معاف کرنا افضل عمل ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو بدلہ لینے کا حق دیا ہے۔مگر اللہ تعالی معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
    اور ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اللہ کےاسی فرمان کو ایک شعر کی صورت میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔

    ‘کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
    خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

    جو لوگ بدلہ نہیں لیتے،دوسروں کو معاف کردیتے ہیں۔
    اللہ سبحان و تعالی ان لوگوں سے بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کو معاف کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور اللہ خود بھی تو بہت مہربان ہے،رحیم و کریم ہے۔
    اور ایک بات یہ بھی کہ جو انسان بدلہ نہیں لیتا تو دوسرا انسان یہ دیکھ کر کہ اس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا یا زیادتی کی اور آپ نے بدلہ نہیں لیا۔ تو وہ یہ دیکھ کر آپ سے معافی بھی مانگے گا۔کیونکہ اس کو احساس ہو گا کہ یہ ایک اچھا آدمی ہے اور میں نے اس کے ساتھ برا کیا۔
    سب سے بڑی مثال تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام کافروں کو معاف کردیا۔ حالانکہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کیا کیا اذیتیں نہیں دیں۔

    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں معاف کرنے،بدلہ نہ لینے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    آمین!ثم آمین!

  • پیاری ماں  بقلم:جویریہ بتول

    پیاری ماں بقلم:جویریہ بتول

    پیاری ماں…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    تو عزم کا ہے کارواں…
    اے میری پیاری ماں…
    محبّت کا دریا تیرے…
    دل میں رواں دواں…
    عفو کے موتیوں سے…
    سجا ہوا کوہ گراں…
    برداشت کے قیمتی ہیرے…
    تری رہ کا ہے سامان…
    اضطراب کی موجیں…
    ترے اندر نغمہ خواں…
    بےکلی و چاہت میں…
    تو ہے ہر دم عیاں…
    ترے مرتبہ کو کیا ہے…
    رب نے کیا خوب بیاں…؟
    احادیث کے پھول کھلے…
    بزبانِ رحمت دو جہاں…
    ترے عصا کی ٹیک میں…
    نظر آئے مجھے عزم جواں…
    ترے آہستہ آہستہ قدم…
    اٹھتے رہتے ہیں جو ہر دَم…
    تری بے لوث جذبے کا رنگ…
    یقین بنائے مرا گماں…
    مری جوانی جہاں ہار جائے…
    رہ گزر بن خار جائے…
    ترے حوصلوں کا شکریہ…
    جو بن جاتے ہیں ٹھنڈی اماں…
    جِلا کر جو سوئے ولولے…
    جگا کر دل کے ارمان…
    جیت کر ہارے حوصلے…
    ہو جاتی ہیں مشکلیں آساں…
    دعاؤں کے برس کر پھول…
    مٹا ڈالیں سبھی دھول…
    ہر سو سبزہ سا اُگے…
    یہ زندگی بن جائے گلستاں…
    ماں اے ماں،میری پیاری ماں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا   از قلم : غنی محمود قصوری

    کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا از قلم : غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ دنیا بنائی اور اس دنیا میں مختلف مذاہب، مکتبہ فکر،رنگ،نسل اور عقائد کے لوگ بسائے
    ہر کسی کا طرز زندگی اس کے عقائد کے مطابق ہے
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارا ایک اللہ اور ایک آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے اسی لئے ہم زندگی گزارنے کیلئے قدم قدم پر قرآن وسنت کے محتاج ہیں اور اسی میں ہماری نجات بھی ہے
    یقیناً ہمیں علم ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا جن میں حقوق اللہ میں نماز،روزہ،جہاد،اولاد،حج اور حقوق العباد میں صدقہ خیرات،صلح رحمی، بول چال میں عاجزی اور مخلوق الہیٰ سے پیار کرنا وغیرہ شامل ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک ایسی بھی چیز ہے جس کا حساب اللہ نے لینا ہے اور ہم اسے برباد کئے جا رہے ہیں وہ ہے ہماری صحت و جوانی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتے ہیں
    اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔ البقرہ 155
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آزمانے کا وعدہ کیا ہے اور جہاں مال سے آزمانے کا بتایا گیا ہے وہیں جان سے بھی آزمانے کا بتایا گیا ہے مال سے آزمانا راہ خدا میں خرچ کرنا،غریبوں یتیموں کی مدد وغیرہ جبکہ جان سے آزمانے کا مطلب رب کے دین کی خاطر راہ جہاد پر نکلنا اپنی جان پر شرع اللہ نافذ کرکے لوگوں کو اس پر عمل پیرا کروانا ہے اور دین کی خاطر دیگر تکالیف اپنی جان پر جھیلنا بھی جان سے آزمانے کا نام ہے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری سے مراد جنت ہے
    یعنی جہاں اللہ تعالی نے بندے کے مال کا حساب لینا ہے وہاں اس کی جان کا بھی حساب ہوگا اور جان ہوتی ہی تندرستی سے ہے اسی لئے تندرستی کے متعلق بھی جواب دہ ہونا پڑے گا اس جوانی اور تندرستی کا اللہ تعالی حساب بھی لے گا
    ہماری اسی جان و جوانی کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے شراب حرام کی تاکہ ہماری صحت اچھی رہے اور جب صحت اچھی ہو گی تب ہی ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکینگے ورنہ بستر پر لیٹ کر حقوق العباد تو بہت کم ادا ہو سکینگے مگر حقوق العباد کا ادا ہونا ناممکن سا ہو جاتا ہے
    اسی لئے جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر (شراب کی قسم) ہے اور خمر حرام ہے اب آپ جدید میڈیکل سائنس کا مطالعہ کریں وہ بھی بتائے گی کہ شراب کا نشہ انسان کو ذہنی و جسمانی بیمار کرتا ہے اور جوان بندے کو بہت جلد موت کے قریب لیجاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز کو خمر اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں شراب سے ملتی جلتی ہیں جیسے گھٹکا،پان،سپاری وغیرہ یہ سب چیزیں آج بطور فیشن استعمال ہو رہی ہیں جس سے جگر کا کینسر،امراض معدہ،دل کی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کے مریض حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں
    تو جو بندہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے اسے چاہئیے اوپر بیان کئے گئے فرمان رب تعالی فرمان محمد کریم کا مطالعہ کرے اور سمجھ جائے کہ ہم سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرح ہماری جوانی و صحت کا بھی اللہ تعالی خوب حساب لے گا لہذہ اپنی صحت کا خیال رکھیں چاہیے وہ نشہ آور چیزوں کے استعمال کے علاوہ چیزوں جیسے کولڈ ڈرنکس،بازاری کھانوں کی بکثرت عادت سے ہماری صحت بگڑ رہی ہو تو ہمیں فوری ان کو ترک کرکے اپنی صحت کا لیول اپ کرنا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی گئی ہر نعمت کا حساب لینا ہے اور وہ اللہ ہمیں آزمائے گا صحت دے کر اور بیماری دے کر وہ ہمیں آزمائے گا دولت دے کر اور دولت لے کر بھی کیونکہ وہ ہمارا صبر کا لیول چیک کرے گا جو صبر کرکے ناجائز خواہشات کے پیچھے نا چلا وہ کامیاب ہوگا اور جو ناجائز خواہشات کے تابع ہو گیا وہ ناکام ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت ہم سب کو فرمان مصطفیٰ اور فرمان الہٰی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

  • عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    تٹی وی پر نشر ہونے والی خبریں اور اخبار دیکھ کر اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری عوام کو تو بس مرنے کا اِک موقع یا بہانہ چاہئےکیونکہ ہماری عوام ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جس میں ان کے جان سے جانے کے واضح امکان موجود ہوں، اب وجہ بھلے ہی کوئی بیماری، پرانی آپسی دشمنی، ٹرین حادثہ ، ہوائی جہازحادثہ یا پھر زہریلا کھانا ہو، عام عوام اکشرہی درجنوں کے حساب مرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سیاستدانوں کی عقلمندی پر داد دینا ہوگی،وہ ایسی احمقانہ حرکتیں نہیں کرتے اور عام طور پران حادثات کاشکار بھی نہیں ہوتے۔

    کچھ گولیوں سے مرگئے کچھ وائرس سے مرگئے
    کچھ مرتے لوگوں کو دیکھ کر مرگئے

    کچھ گندا پانی پی کر مر گئے
    کچھ نہ کھانے سے مر گئے

    کچھ زیادہ کھانے سے مر گئے
    جو بچے وہ خود کو زندہ دیکھ کر مر گئے

    اگر کوئی نہیں مرا تو وہ ہے سیاستدان
    ورنہ یقین کیجئے مر گئے سارے ہی مر گئے

    نوٹ: مندرجہ بالا اشعار میں جتنےبھی لوگ اپنی جانوں سے گئے وہ تمام عام آدمی ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مر گئی دنیا ساری مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے۔