Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر لہو لہو     تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو
    تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    میں اپنے غم کی داستاں کہوں تو کس طرح کہوں
    مجھے بتا اے آسماں میں کیا کروں میں کیا کروں

    پاکستان کی شہہ رگ جو کہ ہندو بنیے کے قبضے میں پچھلی کئی دہائیوں سے ظلم وبربریت کا نشانہ بن رہی ہے لاکھوں بے گناہ کشمیری ان گنت مظالم کا شکار ہورہے ہیں کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن انسانی عالمی حقوق کی تنظیمیں خواب خرگوش میں محو ہیں یورپین ممالک بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ایک جانور بھی مر جاۓ تو یہ نام نہاد تنظیمیں ہاتھ میں موم بتیاں پکڑ کر سوگ منانے میں مصروف ہوجاتی ہیں لیکن ایک ایسی وادی جو کہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہورہی ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا یہ تنظیمیں تمام انسانوں کے لئے بنی ہیں یا صرف غیر مسلموں اور جانوروں کے لئے؟؟؟؟؟

    معصوم کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم بھارت کے جارحانہ حربوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    کشمیر جنت نظیر وادی جہاں پاک نفوذ عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو کبھی معصوم بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں….!!!!
    کہیں ماؤں کے لعل خون میں نہاتے ہیں تو کبھی قابل احترام بزرگ اپنی جان کی بازی ہار دیتے ہیں….

    "ہم روز بیان کرتے ہیں مصرعوں کے جال میں”
    "لفظوں کے ہیر پھیر میں امت کی سسکیاں”

    حال ہی میں ایک معصوم بچے کے ساتھ دودھ لینے کی غرض سے گھر سے نکلے ایک بزرگ کق بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ننھے بچے کے سامنے اس کے دادا جان پر خون کی ہولی کھیلی گئی….!!!
    کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر جب وہ اپنے دادا جان کو ان ظالموں سے بچا نہ پایا ہوگا…!!!!

    کیا اگر یہی بچہ جب بڑا ہوکر ظالموں کے ظلم کو روکنے کے لئے بندوق کا سہارا لے گا تو اس کو دہشت گرد قرار دیا جاۓ گا؟؟؟؟؟؟

    واہ رے دھوکے باز دنیا کیا یہ ہے تیرا انصاف؟؟؟؟؟

    "ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کریں تو چرچا نہیں ہوتا”

    کشمیری آج بھی راہیں تک رہے ہیں کسی مسیحا کی…!!!
    جو آکر ان ظالموں کے ہاتھ کو روکے گا…!!!
    کسی ارطغرل غازی کی….!!!
    جو اپنی تلوار سے ظالموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا….!!!

    ان مظالم کو روکنے کے لئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں اور کتابیں قلم چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا تاکہ بھارتی وحشیوں کے مظالم کو روک سکیں بہت سے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی اس مقدس جدوجہد میں شہادت کے رتبے کو پاگئے اور بہت سے ایسے ہیں جو اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات تگ و دو میں ہیں۔

    بطور پاکستان کی شہہ رگ کے پاکستان کی زمہ داری ہے مظلوموں کی آواز کو سن کر خاموش نہ بن جاۓ بلکہ ان کے مظالم کم کرنے کے لئے انٹرنیشنل لیول تک کاوشوں کو تیز تر کرے تاکہ معصوم کشمیریوں کا بہتا لہو رک سکے اور ظالم درندوں سے کشمیریوں کو چھٹکارا مل سکے۔

    کشمیر کی آزادی کے لئے بہایا گیا خون کا ایک ایک قطرہ رنگ لاۓ گا اور شہداء کی قربانیوں کا ثمر کشمیر کی آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • کشمیر کی وادی خون رنگ  از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ

    از قلم۔۔۔مشی حیات

    ‏میرے الہی رحم کرنا میرے کشمیر کی حالت پر۔۔!!
    کفار کے گھیرے میں کشمیر کی وادی پر۔۔!!
    ماؤں کی ممتا پر،باپ کی شفقت پر۔۔۔۔!!
    کر فرشتے نازل جو بھیجے تھے مقام بدر پر۔۔!!
    جو تقدیر بدل دیں فتح کے اجالوں سے۔۔!!
    کچھ ایسی رحمت کر کشمیر کی وادی پر۔۔۔!!

    بہت عام الفاظ بن چکے ہیں کہ جنت نظیر وادی 72 سالوں سے دشمنوں کی ظلم و سربریت کا شکار ہے۔۔۔۔
    چھوٹے سے بچے سے بھی پوچھ لیا جائے وہ بھی بتا سکتا ہے کشمیر کیا ہے۔۔۔؟وہاں ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔!!میں اس مظلوم وادی کے لیے اپنے جذبات لکھ رہی ہوں کہ جہاں الفاظ تو کم پڑھ سکتے ہیں مگر اس وادی کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!
    ناظرین۔۔!!
    کب تک۔۔!!آخر کب تک کشمیری قربانیاں دیتے رہے مائیں بیٹوں کو پیش کرتی رہیں اور بچے یتیم ہوتے رہیں۔۔۔۔!!
    سوشل میڈیا کا جدید دور ہے کیا چیز آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزرتی ہمارا ایمان ختم ہو چکا ہے۔۔۔ہم ایک کافر دشمن جو رہا ہی ازل سے جہنم کا پتلا کچھ دن پہلے حرام موت کے گھاٹ اترا تو مسلمانوں کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔۔۔کوئی کہہ رہا تھا خدا اسے سکون دے تو کوئی کہہ رہا تھا اسے جنت میں جگہ ملے۔۔۔۔!!
    ارے ہم کہاں کے مسلم۔۔۔کہاں کے مومن ہیں۔۔۔!!
    کچھ دن پہلے شوپیاں کشمیر کے علاقے میں جاری ظلم اور اس میں شہید ہونے والے امت مسلم کے جگر گوشے ان کے لیے تو کسی مسلم کا دل نہیں پگھلا سوائے چند احباب کے۔۔۔!!
    کیا ہم بھول گئے اپنی تاریخ کو۔۔۔!!
    ارے ہمارے آباواجداد نے جانیں پیش کی تھی۔۔۔اپنی گردنیں کٹائی تھی اس ملک کی کے لیے۔۔!!
    ہمیں تو ان کے نقش پہ چلنا تھا مگر ہم نے اگر راہ اپنائی تو صرف کفار کی۔۔۔غیر مسلم کی۔۔۔کوئی عملی اقدام نہیں۔۔۔!!
    اگر کچھ تنظیمیں کشمیر کے لیے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی تھی انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔۔۔!!
    کوئی دن ایسا نہیں جب مظلوم کشمیریوں نے جنازے نہ اٹھائے ہوں۔۔۔حد سے زیادہ ظلم کیا جارہا۔۔۔۔
    کون سے ہیرے جو ہم نے نہیں کھوئے۔۔۔!!
    ہم نے برہان جیسا ہیرو کھویاجو دشمنوں کی آنکھوں میں آج بھی کھٹکتا ہے۔۔۔!!

    ہم نے اشفاق جیسا سائنس دان کھویا جو اس ملک کا مستقبل تھا۔۔۔!!

    ہم نے ماجد زرگرجیسا 66 گھنٹے تک لڑنے والا بہادر کھویا

    ہم نے بشیر جیسا اٹیکر اور صدام جیسا عظیم جنگجو کھویا

    ہم نے منان کی شکل میں قلم کھویا

    ڈاکٹر ذیشان کی صورت میں PhD سکالر اور ڈاکٹر عثمان کی شکل میں باپ کھویا

    ہم نے سمیر ٹائیگر کی شکل میں شیر کھویا

    ہم نے نوید جٹ کی صورت میں اعلی فلائنگ جٹ کھویا

    ہم نے مدثر کی صورت میں 14 سال کا ننھا مجاھد کھویا

    ہم نے 8 سال محاذ پر لڑھنے والا ابو القاسم پاکستان کا لال کھویا

    اقوام کو سمجھنا ہوگا ہم نے کیاکھویا کیا پایا۔۔۔!!
    ظلم کی اور کیاحد ہو سکتی ہے کہ ایک ننھےاور معصوم پھول کے سامنے اس کے دادا جان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔۔۔!!
    تصورکریں۔۔۔خدانخواستہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھ یہ مناظر ہوں آپ کی کیا حالت ہوگی۔۔!!
    تھوڑا نہیں پورا سوچنا ہوگا۔۔!!
    ناظرین۔۔۔!!
    ہم نے بہت مہنگے ہیرے کھو دیے وہ تو جنت کے بالاخانوں میں ہیں ان شآءاللہ لیکن کیا ہم نے اپنا فرض نبھایا۔۔۔!!
    اس وقت سب سے پہلے قوم کے حاکم کو چاہیے کہ عملی نوٹس بنائے صرف باتوں سے آزادیاں نہیں ملتی۔۔۔!!
    تقریر سے ہو گا نہ تحریر سے ہوگا
    کشمیر تیرا فیصلہ شمشیرسے ہوگا
    خدارا۔۔۔!!
    محترم عمران خان صاحب ہم آپ کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں لیکن آپ کو کشمیر پر مکمل سوچنا ہو گا۔۔۔۔اب تاخیر نہیں کرنی ہوگی۔۔!!
    کشمیر 72 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔۔اس کے خواب کو تعبیر صرف اللہ رب العزت کی ذات کے بعد قوم کا حکمران دے سکتا۔۔۔!!
    اللہ کے لیے مدینہ کی ریاست میں عمر فاروق جیسا کارنامہ سرانجام دے دیا جائے۔۔۔
    ظالموں کے ہاتھوں سے شہہ رگ پاکستان کو چھڑا لیا جائے۔۔۔!!
    میرے پاس الفاظ تو بہت ہیں۔۔۔ جذبات بھی بہت ہیں مگر کشمیریوں کی اس بے انتہاء محبت اور قربانیوں کے آگے قلم سے صرف آنسو اور لہو ہی نکلتا ہے۔۔۔۔!!
    آخر کب تک اور کتنا ظلم میرے کشمیر کے مقدر میں ہوگا۔۔۔۔!!

    ‏اک وقت مقرر ہے فرعون کے ظلموں کا۔۔۔۔!!
    دجال کے آنے کا آفتوں کے بڑھانے کا۔۔۔۔!!
    ازل سے ہی کافر دشمن رہا دیں کا۔۔۔!!
    نہ گھبرانا کشمیر میرے اک وقت ابھی آنا ہے۔!!
    ظلمت کے اندھیروں کو جب جھڑ سے مٹانا ہے۔!!
    جہاد کے شعلوں سے وادی کو چھڑانا ہے۔۔!!
    ان شآءاللہ۔۔
    ================

  • کشمیری بیٹی کی فریاد   تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد
    غلام زادہ نعمان صابری

    وہ تنہا رہ گئی تھی،عذاب مسلسل نے اسے زندہ لاش بنا دیاتھا۔اسے یقین تھا کہ مصیبت میں کوئی اس کی مدد کو پہنچے گا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جن پہ وہ تکیہ کر رہی ہے وہ پتے تو کب کے سوکھ چکے ہیں وہ اب کسی کو ہوا دینے کے قابل نہیں رہے ۔
    وادی میں موت کا راج تھا۔ دن کا چین اور رات کا سکون موت کا فرشتہ یہاں سے کہیں بہت دور لے جا چکا تھا۔
    وہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر سانس لے رہی تھی۔
    اسے ان مہربانوں پر بہت غصہ تھا جو گلے پھاڑ پھاڑ کر کھوکھلے نعروں سے کام چلا رہے تھے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے تھے،وہ انہیں وقت کا منافق سمجھتی تھی۔
    اسے معلوم تھا کہ کوئی لمحہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت اس لمحے کے سپرد ہوسکتی ہے ۔اس نے وقت کے منافقوں اور بے حسوں کے نام ایک تحریر لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کاغذ قلم پکڑا اور کچھ لکھنے لگی لیکن وہ رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔سوچتے سوچتے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہوگا، جن کے نام وہ تحریر لکھے گی ان تک کون پہنچائے گا، بالفرض اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر کیا ررعمل ظاہر کریں گے۔
    بالآخر اس نے ہوا کو ضامن بنایا اور ایک تحریر لکھ کر اس کے سپرد کر دی۔
    "کشمیر کی موجودہ صورت حال اس قدر درد ناک ہے کہ اسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں درد ہو اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی سمجھتے ہوں اور اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں کہ اگر کسی مسلمان بھائی کو کاٹنا چبھے تو دوسرا بھائی اس کا درد محسوس کرے۔
    میں تنہا بیٹھی گھر کے درودیوار کو گھور رہی ہوں۔میرے سامنے میرے پیاروں کے لاشے پڑے ہیں جن میں میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں اور آسانیاں چھین لی گئی ہیں،نہ کھانے کو اناج ہے اور نہ پینے کے لئے پانی اور نہ بیماروں کے لئے دوائیاں۔
    میرا معصوم بھائی جو ایک پل بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا کئی دنوں کی بھوک پیاس سے سسک سسک کر شہید ہوگیا۔
    چھوٹے بھائی کی دردناک شہادت کا منظر میری چھوٹی بہن کے دل ودماغ پر نقش ہو کر گیا اور وہ اسی غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔
    میرا جواں سال بھائی اپنے بیمار ماں باپ کے لئے دوائیاں اورکھانے پینے کا سامان لینے کےلئے بھوکا پیاسا باہر نکلا،کچھ ہی لمحے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں آئیں میں نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو میرا بھائی خون میں لت پت پڑا تھا۔میں بے بسی کے عالم میں بے جان وجود کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ آنکھیں آنسوؤں سے خشک تھیں وجود میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا آخر روتی تو کیسے روتی۔
    رات کے اندھیرے میں چپکے سے بھائی کی لاش کو پاؤں سے گھسیٹ کر گھر میں لائی،اٹھانے کی سکت نہیں تھی ورنہ بھائی کی لاش کی یوں بے حرمتی نہ کرتی۔
    میں روازنہ رات کو گھر میں تھوڑی تھوڑی زمین کھودتی رہی تاکہ ان کو دفنانے کے لئے قبر تیار ہوجائے۔
    اب میں تھی اور میرے بوڑھے ماں باپ۔۔۔۔۔!
    میرے سامنے میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کی لاشیں پڑی تھیں۔میرے بیمار اور بوڑھے ماں باپ بھی سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر ان کے پاس آتے اور ان کی شہادت کو نذرانے کے طور چند آنسو پیش کرتے۔
    چند لمحوں بعد دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
    میں نے پانچ لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا۔
    اب میں ہوں اور میرا سایہ ہے۔
    میرا سایہ سرگوشی میں مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا؟؟
    تمہارے دو بھائی تو شہید ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ،تمہارے کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
    تمہارا ایک بھائی تم سب کی بھوک،پیاس اور بیماری کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ۔
    اپنے سائے کی باتیں اور طفل تسلیاں سن کر میں سکتے میں آ گئی ۔
    کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنائی دی کہ تمہاری مدد کے لئے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی تھی نا. میں اسے کیسے بتاتی کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟
    اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے !
    سائے کی باتوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا ۔میں اچانک چیخ مار کر اٹھی. اور کہا کہ دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. مجھے یوں لگا جیسےچراغوں میں روشنی نہ رہی

    میرے بہت سے نو جوان کشمیری بھائی کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں جن میں میرا ایک سگا بڑا بھائی بھی شامل ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
    اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی تھی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں کتنے مہینے لگیں گے؟
    کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.

    میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر اور سورما تھے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کرحکومت وقت کو للکارا کرتے تھے. اتنے دلیر تھے کہ اگر کسی مذہبی و سیاسی جلوس پر پابندی لگ جاتی تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں بھونچال آ گیا ہو گا. اور وہ ہماری مدد کو آ ہی رہے ہوں گے.
    کیا کشمیر اتنا دور ہے کہ آنے میں کئی مہینے لگ جائیں ؟
    نہیں.۔۔۔۔ کشمیر اتنا دور تو نہیں ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مہینے درکار ہوں۔

    میں نے تو پیارے آقا کریم، خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی ہوئی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
    مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ کشمیر لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟
    لیکن محسوس ہو رہا ہے بلکہ دکھائی دے رہا ہے کہ امت میں وہ دردنہیں رہا اگر درد ہوتا تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا۔
    میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرے کروڑوں مسلمان بھائی بہن گہری نیند میں ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے اپنے گھر محفوظ ہیں شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے ۔
    اگر کسی کو گہری نیند سے جگا دیا جائے تو اسے غصہ تو آتا ہے اور ساتھ ہی دل کرتا ہے کہ جگانے والے کی آواز دبا کر اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

    یا رب العالمین…!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا تھا. آج تونے دکھا دیا ہے۔اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
    تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.تیرا بے حد شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ۔
    کئی مہینے تک امت مسلمہ کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
    بس ایک کام کرنا جو میں آپ لوگوں سے التجا کی صورت میں کہہ رہی ہوں۔
    اگر تمہارے آنےسے پہلےمیں شہید ہو گئی تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کردینا. کل روز محشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں، کیوں کہ بہت حساب کتاب باقی ہے۔
    ہوا اس تحریر کو امانتاً اپنے ساتھ ساتھ لئے پھررہی ہے۔ابھی تک اسے کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ملاجہاں وہ یہ تحریر پھینک کر امانت سے سبکدوش ہو جائے۔

  • جن سے اللہ راضی ہوا     تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا
    غلام زادہ نعمان صابری

    خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں امارت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے امیر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت سخی اور نرم دل شخصیت کے مالک تھے کسی کو محتاجی اور پریشانی میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو مشکل حالات میں دیکھتے تو فوراً اس کی مالی مدد فرماتے اور یوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرتے اور ایمان کو تازگی بخشتے۔
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے بہت پیار اور محبت فرماتے یہ پیار اور محبت دنیا میں بھی قائم و دائم رہا اور دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یار غار ہونے کے ساتھ ساتھ یار مزار بھی ہیں۔
    مجاہدین اسلام کو جب بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے سب کچھ لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے مبارک قدموں میں ڈھیر کر دیا یہاں تک کہ مال و اسباب سے اپناگھر خالی کردیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ایک موقع آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ گھر میں بھی کچھ چھوڑ کر آئے ہیں یا کہ نہیں۔
    آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دست بستہ عرض کی کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک چھوڑ کر آیا ہوں۔
    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔
    پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق کے لئے ہے خدا اور خدا کا رسول بس
    ابودجانہ رضى اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كى نظريں ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا پيچھا كرتيں ، جب ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا يہى معمول رہا تو ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ كو روک كر پوچھا :

    ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟
    ابودجانہ رضی اللہ عنہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى نہيں ہوسكتا۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، تب پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے لئے دعا كيوں نہيں كرتے۔۔۔

    ابودجانہ كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايک يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس لئے جلدى نكلتا ہوں تا كہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو لوٹا دوں، مبادا وہ بچے بھوک كى شدت كى وجہ سے ان كھجوروں كو كھا نہ ليں۔۔۔

    پھر ابودجانہ رضی اللہ عنہ قسم اٹھا كر كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! ايک دن ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھا جو اس گرى ہوئى كجھور كو چبا رہا تھا، اس سے پہلے كہ وہ اسے نگل پاتا ميں نے اپنى انگلى اس كے حلق ميں ڈال كر كھجور باہر نكال دى۔ ۔۔
    اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! جب ميرا بيٹا رونے لگا تو ميں نے كہا اے ميرے بچے مجھے حياء آتى ہے كہ كل قيامت كے دن ميں اللہ كے سامنے بطور چور كھڑا ہوں۔۔۔

    سيدنا ابوبكر صدیق رضى اللہ عنہ پاس كھڑے يہ سارا ماجرا سن رہے تھے، جذبہ ايمانى اور اخوت اسلامى نے جوش مارا تو سيدھے اس يہودى كے پاس گئے اور اس سے كھجور كا پورا درخت خريد كر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور ان كے بچوں كو ہديہ كر ديا۔۔۔
    پھر كيوں نہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ ان مقدس ہستيوں كے بارے يہ سند جارى كرے:
    ﴿رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾
    "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے-”

    چند دنوں بعد جب يہودى كو اس سارے ماجرے كا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام اہل خانہ كو جمع كيا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پاس جا كر مسلمان ہونے كا اعلان كر ديا۔

  • جب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی

    جب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی

    جہاز بند ہونے کے بعد زمینی ذرائع سفر کی گنجائش پیدا کی جائے۔

    15 اپریل 1957 کے راستے لندن اور کلکتہ کے درمیان بس جرمنی اور آسٹریا یا پیرس اور وینس پھر بلگراد ، استنبول ، سمسن ، ٹربزون ، تبریز ، تہران ، مشید ، ہرات ، کابل پشاور ، لاہور ، امرتسر دہلی ، کلکتہ … آج کوئی امکان؟ واقعتا ایک بس سروس موجود تھی جو لندن اور کلکتہ کے مابین ’’ 70 کی دہائی کے اوائل تک موجود تھی۔

    کلکتہ کا سفر پانچ دن کا تھا اور اس کا ایک ہی کرایہ 85 پاؤنڈ (1957) سے 145 پاؤنڈ (1972–73) تھا-

    یہ وہ وقت تھاجب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی-

  • سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور  پاکستان کی فتح  تحریر:اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح تحریر:اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح
    صدائے اسد
    اسد عباس خان

    جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے آج اس ضرب المثل کو سمجھنے میں اس وقت آسانی ہوئی جب کراچی اسٹاک ایکسچینج پر چار دہشتگردوں نے حملہ کیا اور آناً فاناً مارے گئے۔ اس واردات کی ذمہ داری ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم نے قبول کی جس کی ڈوریں ہمارے مشرقی ہمسائے کے ہاتھوں میں اور تربیتی مراکز مغربی ہمسایہ ممالک میں ہیں۔ آئیے اس حملہ کے محرکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی مودی سرکار روز اول سے ہی یک نکاتی ایجنڈا پاکستان دشمنی پر قائم ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان مخالف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اقوام عالم میں اپنے سفارتی مشن، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ، غرض ہر پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا۔ مودی نے بذات خود بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے اور ہر ملک میں جا کر دہشتگردی اور اس سے پاکستان کو نتھی کر کے ایک ہی رونا روتا رہا۔ مغربی ممالک کے علاوہ پاکستان کے دوست خاص طور پر عرب ریاستوں کو چنا گیا۔ ایک سو بیس کروڑ افراد کی بڑی عالمی منڈی اور تجارت کا لولی پاپ کسی حد تک کارگر بھی ثابت ہوا۔ کمزور پاکستانی معیشت اور عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کی یک طرفہ غنڈہ گردی کے ذریعے وہ محب وطن جماعتیں جو کشمیر پر آواز بلند کرتی تھیں ان پر پابندیاں لگوائیں اور بزرگ رہنما پابند سلاسل ہونے لگے۔ ادھر پاکستان کو جنگ کی کھلی دھمکیوں کے ساتھ سرحدوں پر روزانہ کی چھیڑ چھاڑ، کشمیر میں جاری مظالم میں شدت اور پھر دلی سے یکطرفہ قانون سازی کے ذریعے کشمیر ہڑپ کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے۔ پہلے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے اور پھر بالا کوٹ اسٹرائیک کی ڈرامہ بازی رچائی گئی۔ حالانکہ واقعہ بالا کوٹ کے دوسرے روز دن کی روشنی میں نہ صرف دو جہاز تباہ کروا لیے بلکہ اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو خود ہی اڑا کر جگ ہنسائی مول لی۔ ابھینندن کا Fantastic tea والا جملہ تاریخ کا حصہ بن کر ہندوستان کے لیے تا قیامت ذلت و رسوائی کی مثال بن چکا ہے۔ ایشیاء کی تمام چھوٹی ریاستوں کو رعب و دبدبے اور غنڈہ گردی سے اپنے زیر اثر رکھنے والے ہندوستان کی دھوتی چائنہ نے لداخ میں سرعام کھول دی۔گھس کر مارنے والے فلمی ڈائیلاگ بولنے والوں کی سرزمین پر چین گھس آیا اور مودی برگیڈ کو اپنے ہی ملک میں کہیں گھس کر چھپنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی
    پیپلز لبریشن آرمی نے بغیر گولی چلاۓ ڈنڈوں، گھونسوں اور مکوں سے بہار رجمنٹ کو اڑا کر رکھ دیا۔ ہندوستانی کرنل سمیت 20 فوجی جوان بشمول دیگر افسران مارے گئے اور 80 سے زیادہ شدید زخمی اور ایک لیفٹیننٹ دو میجرز سمیت باقی ماندہ گرفتار کر لیا گیا جن کی رہائی ابھینندن کی طرح بعد میں عمل میں آئی۔ شاید بی جے پی سرکار اور دن رات مودی کی مدح خوانی میں مصروف ہندوستانی میڈیا کے وہم و گمان میں بھی چین کی طرف سے اس شدید رد عمل کی توقع نہ تھی۔ بات بات پر پاکستان کا راگ الاپنے والے مودی کے ہونٹ سِل گئے۔ ریاست نے چپ کا روزہ رکھ لیا اور پاکستان پاکستان بول کر ہلکان ہونے والا میڈیا اُف تک بولنے کی جرات نہ کر سکا۔ مردہ کانگریس پارٹی میں یکخت جان پڑ گئی راہول گاندھی اور سونیا گاندھی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا خودساختہ طاقت و غرور کا گھمنڈ ٹوٹا اور "56 کا سینہ "5,6 کا نکلا۔ ملکی داخلی سیاست میں "مودی ہے تو ممکن ہے” نامی غبارے سے ہوا نکل گئی۔ خالصتان تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہو کر ریفرنڈم کی جانب گامزن ہے۔ بین الاقوامی سطح پر معاملہ سبکی سے بھی زیادہ خراب صورتحال تک پہنچ گیا۔ عرب ممالک کی عوام مودی کی مسلم کش پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ نیپال کے ساتھ سرحدی حدود کا معاملہ گرم ہوا۔ اور آنے والے امریکی انتخابات کی ریلیوں میں بھی کشمیر کا ذکر سنائی دینے لگا۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں کامیاب و کامران ہو کر معاشی معاملات کو بہتر بنانے کی تگ ودو میں لگ چکا تھا کہ کروناء نے پوری دنیا سمیت پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ ایسے وقت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ سے دشمن نے جہاں ایک طرف اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ موڑنے کے لیے زبردست چال چلی اور اس واقعہ کے ذریعے مودی بھگت میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ وہیں پاکستان کے معاشی حب کراچی اور تمام تر کاروباری سرگرمیوں کے مرکز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنا کر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ڈرانے اور خوف و ہراس سے معیشت کا پہیہ روکنے کی کوشش کی۔ الطاف حسین، منظور پشتین، ٹی ٹی پی، جسقم، اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد جو آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد سے مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے دوبارہ روح پھونکے کی کوشش بھی کی گئی۔ حملہ آوروں سے ملنے والا جدید اسلحہ اور وافر مقدار میں گولہ بارود و کھانے کا سامان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ممبئی حملوں کی طرز پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن سالہا سال کی محنت اور منصوبہ بندی فقط آٹھ منٹ میں ڈھیر ہو گئی۔ سندھ پولیس کے شیر دل جوانوں نے پرفیکٹ ہیڈ شارٹ لے کر دشمن کو پیغام دیا کہ سندھ دھرتی کے بیٹے اپنے ملک کا دفاع کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ سندھ رینجرز اور باقی سیکورٹی فورسز کے اداروں نے بھی اتنی برق رفتاری سے آپریشن کو مکمل کیا کہ ٹریڈنگ فلور پر کسی قسم کا اثر تک نہ ہوا۔ نہ تو کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑا اور نہ ہی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی بلکہ اس کے بازار حصص میں اضافہ ہوا۔ دشمن کے منصوبے خاک میں مل گئے اور وہ ہر میدان میں پٹ چکا تھا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے باہر زمین پر پھیلی دہشت گردوں کی بدبودار لاشیں ہندوستان کو پیغام دے رہی تھیں کہ پاکستان ⁦دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے۔ الحمد للہ

  • انسانیت کہاں ہے؟؟؟  تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟ تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟
    عشاء نعیم

    انساں کہاں ہیں ؟انسانیت کہاں ہے ؟
    ہمیں نوچتے ہیں درندے ۔
    کیا یہ انسانوں کا جہاں ہے ؟
    مہینوں سے قید کر کے جو ظلم ہم روا ہے ۔
    بیوی بھی رو رہی ہے بہنا بھی رو رہی۔
    کہاں ہےجگر کا ٹکڑا پوچھتی ہر ماں ہے۔
    بیماروں کا علاج ہے نہ بھوکوں کے لئے کھانا
    بس رات دن ادھر چلتی گولیاں ہیں
    پکاریں امت مسلمہ کو یا اہل کفر کو ہم
    بندھے ہاتھ امت کے،بند کفار کی زباں ہے
    سینکڑوں ملک اور اک دہشت گرد ریاست
    سب ہاتھ باندھے کھڑے بن کر ناتواں ہیں۔
    ہمارا حق تو تسلیم کرتے ہو اے دنیا والو!
    دینے کو تیار نہیں ،کہ ہم مسلماں ہیں ۔
    اے دنیا والو ! اے دنیا کے سوداگرو !
    ڈرو اس رب سے جو مالک دو جہاں ہے۔
    ٹکرا گئیں آسماں سےجب ہماری آہیں
    مل جائے گا خاک میں جو تم کو گماں ہے
    ہماری جانیں، ہماری عزت، ہمارے آنسو ۔
    بیکار سمجھتے ہو تو تم جیسے ناداں ہیں
    ذرا یاد کرو فرعون و نمرود کو بھی
    کیسے پلٹائی میرے رب نے بازیاں ہیں
    تم بھی ،ہاں تم بھی ہو جاؤ گے برباد ۔
    جو رقم کر رہے ہو داستان خونچکاں ہے
    ہمیں بھی انتظار ہے اب قاسم و ایوبی کا
    ہوگی ختم جو یہ ظلم کی داستاں ہے

  • داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی   تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی
    تحریر سفیر اقبال

    یہ ہے نصف صدی پر محیط ظلم و جبر کی وہ ساری داستاں جو صرف چار تصاویر تصاویر میں نظر آ رہی ہے.

    حملہ کیسے شروع ہوا کہاں سے شروع ہوا نہیں معلوم. بے بنیاد الزام آتنک وادیوں پر لگ گیا بہرحال تصاویر کے مطابق ایک بیگناہ کشمیری شہید ہو گیا جس کا تین چار سال کا پوتا چلتی گولیوں کے درمیان اس کے سینے پر بیٹھا رہا کہ دادا جان ابھی شاید نیند سے بیدار ہو جائے اور مجھے واپس گھر لے جائے.

    اگلی تصویر میں بے یار و مددگار دادا کی لاش پڑی ہے اور اس کے ساتھ فوجی اس انداز میں کھڑے ہیں جیسے یہ انسان کی نہیں کسی جانور کی لاش ہو…. (کچھ انسانی رمق باقی ہو تو جانور کی لاش کے پاس بھی اس انداز میں بے فکری سے کھڑے ہونا مشکل ترین کام ہوتا ہے )

    اس سے اگلی تصویر میں بچے کو اٹھا کر پیار کیا جا رہا ہے اور اس سے اگلی تصویر میں اس کو ٹافیاں عنایت کر دی گئیں.


    یہ ہے کہانی ہر اس کاشمیری نوجوان کی جو بچپن میں اپنے باپ دادا، چاچو، ماموں کو بے قصور مرتا دیکھتا ہے اور اپنے دل میں انتقام پالنا شروع کر لیتا ہے. یہ مناظر بھولنے والے نہیں. یہ زخم کسی مرہم سے ٹھیک ہونے والے نہیں.

    برہمن آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نہ تو سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی زمین سے نکال سکتا ہے. صرف ایک ہی طریقہ پے اس کے پاس کہ کسی طرح ان کا دل جیتا جائے لیکن دل جیتنے کا طریقہ بے قصور باپ کو قتل کرنے کے بعد بیٹے کو ٹافیاں دینا کبھی نہیں ہو سکتا. جس زمین پر آگ بوئی جائے وہ پھول پیدا نہیں کر سکتی.

    نوجوان وقتی طور پر خاموش ہو بھی جائیں لیکن باپ یا دادا کے قاتل کبھی نہیں بھلائے جا سکتے…..! ظالم بنیا اپنی تدبیریں کرتا ہے مگر کچھ تدبیریں اللہ رب العزت کرتا ہے اور اسی کی تدبیر سب سے کارگر ہے.

    آرمی کے غنڈے لاکھ دنیا کو دکھاتے رہیں کہ ہم کشمیری بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر کشمیری شہداء کے چھینٹوں سے تر اپنے سرخ دامن نہیں چھپا سکتے. انتقام کی آگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے جو دلوں میں اگر ایک بار بھڑک اٹھے تو چند ٹافیاں اس آگ کو کبھی نہیں بجھا سکتیں.

  • اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی  ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی
    ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی نے اپنا غاصبانہ جما رکھا ھے۔دن بدن ان درندوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ھے۔1947ء سے لے کر اب تک ہزاروں بے قصور عام شہریوں کو انڈین آرمی نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ھے۔لیکن آج کے دن جس شہری کو نشانہ بنایا گیا اس کی حالت مختلف تھی۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ شہر سے دودھ لینے گیا اور اس کو بلاوجہ قتل کر دیا گیا۔وہ بے سپہ و اسلحہ تھا۔اس میں اس عام شہری کے بنیادی حقوق جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں اسے وہ پامال کیے گئے.اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق جو بنیادی حقوق ہے وہ یہ "بنیادی حقوق مشترکہ اقدار جیسے وقار ، انصاف پسندی ، مساوات ، احترام اور آزادی پر مبنی ہیں۔ یہ اقدار اقوام متحدہ کے قانون کے ذریعہ بیان اور محفوظ ہیں”
    پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈین آرمی کا کشمیر پر قبضہ اقوام متحدہ کی 1947ء کی قرار دادوں کے بلکل خلاف ہے۔لیکن 73 برس بیت گئے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا۔لیکن امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کا قتل ہوا تو سارے عالمی قوانین بیدار ہو گئے۔ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں
    "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”
    بھارتی حکومت نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے ،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔یہ کرفیو دوسو روز سے جاری ہے۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں ،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔ستم بالائے ستم کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے ، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگار کوئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں کیا ھے اگر کوئی 2 سے 3 ماہ بعد بیان بھی دیا جاتا ہے تو یہ کہ دیا جاتا ہے
    "ہم کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی مدد کے لیے تیار ہیں۔”
    اگر یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟

    سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں۔ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آج شام، فلسطین اور کشمیر میں دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنا، ایک دوسرے کے دکه سکه میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں۔ پیغمبرؑ گرامی اسلام کا یہ صریح ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں۔ نیز آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مظلوم کسی مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتهہ چھوڑتا ہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتا ہے۔

    اس کے بعد کچھ قصور اپنوں کا بھی ھے۔کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں نہ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح ان کے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہے کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر ریے۔
    اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس کا تو یہ حال ہے کہ ظلم و بربریت کے خلاف اجلاس منعقد ہونے میں ہی تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔اس ظلم و ستم کے خلاف فوری طور پر اجلاس منعقد ہونا چاہیے اور تمام
    مسلم ممالک کو بھارت کے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔

  • تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام   تحریر:عاشق علی بخاری

    تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام تحریر:عاشق علی بخاری

    ترے وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام
    (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت خاتم الانبیاء پر بلاگ )
    عاشق علی بخاری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا گھر بنایا لیکن اس نے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چارو طرف سے دیکھتے ہیں اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں کاش اس ایک اینٹ کی جگہ بھی پُر کردی جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا پس وہ اینٹ میں ہوں. الحدیث
    عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید میں 100 بار اور احادیث میں 200 بار بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس نبوت کی عمارت میں کسی طرح کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ اسے کسی اور نبی کے ذریعے پورا کیا جاسکے. عقیدہ ختم نبوت اس قدر اہم ہے کہ اللہ رب العالمین نے وہ تمام دروازے بند کردیئے جو کسی طرح بھی نبوت کے لئے کھلے رہ سکتے تھے. جب اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین بیان کی تو ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ اللعاملين رکھی. صحابہ کرام نے بھی نبوت کی اس عمارت کو مکمل سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی پیش کیا، عہدِ صدیقی میں جنگِ یمامہ جو نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی اس میں تقریبا بارہ سو صحابہ و تابعین نے جام شہادت نوش کیا. حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے جسم کے ٹکڑے کروانا برداشت کیا اور یہ برداشت نہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جھوٹے مسیلمہ کو نبی تسلیم کروں.عقیدہ ختم نبوت کو اللہ تعالی نے خاص اور عام دونوں طریقے سے مکمل اور کامل کر دیا ہے. اور ہر دور میں صرف علماء ہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے بھی ختم نبوت کے دفاع کے لیے کام کیا جو صرف عام لوگ ہی تھے بلکہ نبوت کے دفاع میں اپنی جان بھی پیش کردی.
    امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ جھوٹے مرزا قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں. اگر مرزے میں کوئی کمزوری نہ ہوتی وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، بہادر، مرد میداں ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ اگر ابوبکر و عمر عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں نبی نے خود جنت کی بشارتیں شہادت کے پروانے سنائے وہ بھی نبوت کا دعوی کرتے تو ہم کبھی بھی قبول نہ کرتے.ختم نبوت کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اور آپ کا دین و ایمان محفوظ رہتا ہے، اس عقیدے کے بغیر اس دنیا سے جانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سفارش سے ہاتھ دھونا پڑیں.

    شاعر نے کیا خوب کہا
    ترے وجود پہ فہرستِ انبیاء ہے تمام
    تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری
    پاکستان کے آئین و قانون کے لحاظ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا اور اس کی مخالفت کی صورت میں شریعت اور قانون دونو اعتبار سے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، جیسا کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم ڈکلییئر کیا گیا. اسی طرح حالیہ دنوں میں ختم نبوت کے حوالے سے قرارداد پاس ہونا بھی انتہائی خوشی کی بات ہے. جس کی رو سے تحریری و تقریری دونوں حالتوں میں لفظِ خاتم النبیین لکھا اور بولا جائے نیز نصابی کتب میں بھی اس کا اضافہ کیا جائے گا.
    یقیناً یہ ان عالمی استعماری طاقتوں کے منہ پہ زور دار تھپڑ سے کم نہیں جو بلاوجہ انسانی حقوق کے نام پر ہمارے دینی و ملکی قوانین میں چھیڑ چھاڑ اور ترمیم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں. ان عالمی گماشتوں کو مظلوم مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے کیوں نظر نہیں آتے؟ انڈیا و اسرائیل اور یورپی ممالک کی اسلامی شعائر پر پابندیاں کیوں اس اندھے، بہرے، گونگے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو نظر نہیں آتی؟
    ہم ایسی کسی بھی سازش کی ہرگز قبول نہیں کریں گے جو اسلام اور ملک پاکستان کے خلاف ہوگی اور ہم حکومت وقت سے بھی یہی مطالبہ کریں گے تمام مقدس شخصیات کی ذات میں توہین آمیز رویہ اپنانے والوں کو سخت سے سخت سزاؤں کے قانون پاس کیے جائیں.