Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی معروف کامیڈین اداکار سنیل گروور کی آن لائن کلاسز سے متعلق بنائی گئی مزاحیہ ویڈیو سوسل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی کامیڈی شو ’ دی کپل شرما شو‘ میں گُتھی کا دلچسپ اور مزاحیہ کردار ادا کرنے والے سنیل گروور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ہے کہ ورچوئل کلاسز میں بدمعاش بچے کیا کرتے ہیں

    سنیل گروور کی جانب سے شئیرکی گئی ویڈیو میں کامیڈین اداکار طالب علم اور استانی بن کر دُہرا کردار نبھا رہے ہیں ۔
    https://www.instagram.com/p/CCFoWgYHiCX/?igshid=1go18me6b5igh
    سنیل گوروور نے ویڈیو میں آن لائن کلاسز کے دوران طالب علموں کی جانب سے نیٹ خرابی کا نہ بنا کر نہ پڑھنے والوں طُلبہ کی شرارتوں سے پردہ اٹھا دیا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ کیسے ٹیچر کے مشکل سوالوں سے بچنے کے لیے نیٹ کنکشن کمزور ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے ویڈیو کے پھنس جانے کی اداکاری کر رہا ہوتا ہے مگر پیچھے کے منظر میں کام والی ماسی کمرے میں آتی ہے اور جھاڑ پونچھ کر کے چلی جاتی ہے۔ٹیچر کے پوچھنے پر بچہ بتاتا ہےے کہ پیچھے زیادہ اچھے سگنل آرہے ہیں یہاں کے سگنل کم ہیں اسی لئے سٹک ہو گیا-

    سنیل گرور کی اس ویڈیو سے صارفین خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں-

  • بجٹ منظوری کے بعد   تحریر: عدنان عادل

    بجٹ منظوری کے بعد تحریر: عدنان عادل

    بجٹ منظوری کے بعد
    تحریر: عدنان عادل

    نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری سے پہلے میڈیا میں ایک سنسی خیزی کا ماحول تھا۔ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ حکومت کو قومی اسمبلی میں بجٹ پاس کرانے کے لیے مطلوبہ ووٹ ملنا مشکل ہونگے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنے عہدہ پر قائم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ بجٹ مسترد ہونے کو پارلیمانی طرز حکومت میں وزیر اعظم پر عدم اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں دونوں نے حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا گو بجٹ منظور ہونے کے بعد پتہ چل گیا کہ شور شرابا زیادہ تھا‘حقیقت میںمعاملہ کچھ خاص نہ تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کے موقع کو اپنے حق میں بہت مہارت سے استعمال کیا۔ ایک تو حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں۔ سب نے مل کربجٹ کے خلاف ایک اعلامیہ جاری کردیا۔ یوں اپوزیشن جو گزشتہ بیس ماہ سے اکٹھی نہیں ہورہی تھی پہلی بار متحد ہوکر کھیلی۔ حکومت کو اسکا دباؤ محسوس ہوا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹیلی فون کرکے اور بعد میں انکا مشترکہ اجلاس بُلاکر خود کو سب سے اہم اپوزیشن لیڈر کے طور پرپیش کیا‘ پارلیمان میں حکومت اور وزیراعظم کے خلاف دھواں دھار تقریریں کیں۔چونکہ موجودہ دورِ حکومت میں پارلیمان کی کارروائی پارلیمنٹ کے لیے مختص سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہوتی ہے اس لیے دونوں طرف کے ارکانِ اسمبلی خوب تیاری کرکے آتے ہیں‘ایک دوسرے پر گرجتے برستے ہیں تاکہ عوام میں انکا اِمیج بنے‘ انکی واہ واہ ہو۔ پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل بھی اپوزیشن اور حکومت کے اہم رہنماوں کی تقریریں براہِ راست نشر کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں جمہوری کلچر کی پختگی کی علامت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں حال یہ تھا کہ اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کی تقریر بھی کسی ٹیلی ویژن چینل پر براہِ راست نہیںدکھائی جاتی تھی۔ اگراپوزیشن کو ٹیلی ویژن پر کوریج دینے کی روایت جڑ پکڑ جائے تو ملک میں ایک دوسرے کے مخالف نقطہ نظر کو سمجھنے اور برداشت کرنے کا ماحول بننے لگے گا۔ اچھا ہے کہ اپوزیشن اپنی بھڑاس پارلیمان میںنکالے نہ کہ سڑکوں پرفساد پھیلائے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ عوام تک اپنا نقطہ نگاہ موثر طریقے سے پہنچائے ‘ اپنے موقف کے لیے نئے الیکشن تک رائے عامہ ہموار کرتی رہے۔ اپوزیشن کی سخت تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ البتہ ہمارے میڈیا کو ایک چسکا پڑا ہُوا ہے کہ پیشین گوئیاں کرتا رہے کہ حکومت اب گئی یا تب گئی۔ اپوزیشن کی موجودہ تیز رفتاریوں کے پیچھے بیرونی عوامل کا بھی عمل دخل ہے۔پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ بھی دخیل رہتا ہے۔ امریکی لابی ہمارے ملک میں خاصی مضبوط ہے۔ ان دنوں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں مصروف ہے۔ پاکستانی ریاست امریکی انخلا میں اسکی مدد کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ افغانستان میں امریکہ کی شرائط پر اسکی مدد کرتی رہے۔ امریکہ کو پاکستان اور چین کے تزویراتی (اسٹریٹجک) اتحاد پر بھی شدید اعتراض ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان سی پیک کو ختم کرے اور امریکہ کے انڈو پیسیفک اتحاد میں شریک ہوجس میں جنوبی ایشیا میںبھارت کا قائدانہ کردار ہوگا۔امریکہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اپنی لابی کو استعمال کررہا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیوں میں ایسے عناصر موجودہیں جن کے امریکی اداروں سے گہرے روابط ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈرزامریکہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں تاکہ پاکستانی ریاست کو بلیک میل کیا جاسکے ۔ چھپا ہوا پیغام یہ ہے کہ انکی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کیے جائیں یا کم سے کم انہیں کولڈ اسٹوریج میں ڈال دیا جائے ورنہ وہ ریاست کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ اپنی ناجائز دولت کو بچانے اور اقتدار کی ہوس میں ہمارے بعض سیاستدان کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ اُصول۔ اسکا اندازہ تو اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی آج ایک دوسرے کی حلیف بن چکی ہیں۔ حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے کچھ ناراض اتحادیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ بجٹ پیش ہونے کے موقع پراختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی جو تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے لیے ایک دھچکا تھا۔ رہی سہی کسرمسلم لیگ(ق) نے پوری کردی جس نے وزیر اعظم کی دعوت میں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ حکومت کی بچت یہ ہوئی کہ ق لیگ نے اعلان کیا کہ وہ بجٹ میں حکومت کے حق میں ووٹ دے گی۔سرکاری ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے چار ارکان قومی اسمبلی کے لیے نئے مالی سال میں سترہ ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں۔ دراصل جب بھی مخلوط حکومت بنتی ہے چھوٹی جماعتیںوزیراعظم کو دباؤمیں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبے منوانا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ اگر وہ حمایت سے ہاتھ کھینچیں گے تو حکومت گِرجائے گی۔ مونس الہی چودھری برادران کے سیاسی جانشین ہیں ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی اپنے سیاسی وارث کو قومی سطح پراہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بجٹ پاس ہونے سے حکومت کے خلاف مہم کمزور تو پڑ گئی ہے لیکن کرپشن مقدمات سے تنگ اپوزیشن آنے والے دنوں میں اپنا دباؤ پھر بڑھائے گی۔ بلاول زرداری جلد ہی اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ جب تک عمران خان احتساب کے معاملہ پر حزب اختلاف کا موقف تسلیم نہیں کرتے اُنکے مخالفین انہیں سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف اتنا سخت بیانیہ اختیار کرچکے ہیں کہ اگر وہ اس سے پیچھے ہٹیں گے‘ کوئی سمجھوتہ کریں گے تو انکی ساکھ اور سیاست کو بہت نقصان ہوگا۔ ان حالات میںقومی سیاست ہچکولے کھاتی رہے گی۔جب تک وزیر اعظم عمران خان کوچھوٹی اتحادی جماعتوں خصوصاً ایم کیو ایم (پاکستان) اور ق لیگ کا تعاون حاصل ہے انکی حکومت چلتی رہے گی ۔

  • ہم جانے کیوں بکھر گئے   بقلم:اقصی عامر

    ہم جانے کیوں بکھر گئے بقلم:اقصی عامر

    ہم بکھر گئے
    بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر
    ہم ہواؤں جیسے بکھر گئے ۔۔!!
    کیا پتا کسی کو کدھر گئے۔۔!!

    ہم بھول کر حرف مسلم کو۔۔!!
    ہم مسلکوں میں یو ں پڑ گئے۔۔!!

    ہم چھوڑ کر اس راہ کو۔۔!!
    جانے کس گلی میں نکل گئے۔۔!!

    ثریا سی تھی مثال اپنی۔۔!!
    خود ہی تاروں کی طرح بکھر گئے ۔۔!!

    اک باغ کے تھے سب ہی شجر۔۔!!
    جانے کس طوفاں میں اجڑ گئے۔۔!!

    دیکھا جو سچے شاہد کو۔۔!!
    ہم شہادت ہی سے مکر گئے۔۔!!

  • سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور  پاکستان کی فتح  تحریر: اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح تحریر: اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح
    صدائے اسد
    اسد عباس خان

    جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے آج اس ضرب المثل کو سمجھنے میں اس وقت آسانی ہوئی جب کراچی اسٹاک ایکسچینج پر چار دہشتگردوں نے حملہ کیا اور آناً فاناً مارے گئے۔ اس واردات کی ذمہ داری ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم نے قبول کی جس کی ڈوریں ہمارے مشرقی ہمسائے کے ہاتھوں میں اور تربیتی مراکز مغربی ہمسایہ ممالک میں ہیں۔ آئیے اس حملہ کے محرکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی مودی سرکار روز اول سے ہی یک نکاتی ایجنڈا پاکستان دشمنی پر قائم ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان مخالف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اقوام عالم میں اپنے سفارتی مشن، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ، غرض ہر پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا۔ مودی نے بذات خود بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے اور ہر ملک میں جا کر دہشتگردی اور اس سے پاکستان کو نتھی کر کے ایک ہی رونا روتا رہا۔ مغربی ممالک کے علاوہ پاکستان کے دوست خاص طور پر عرب ریاستوں کو چنا گیا۔ ایک سو بیس کروڑ افراد کی بڑی عالمی منڈی اور تجارت کا لولی پاپ کسی حد تک کارگر بھی ثابت ہوا۔ کمزور پاکستانی معیشت اور عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کی یک طرفہ غنڈہ گردی کے ذریعے وہ محب وطن جماعتیں جو کشمیر پر آواز بلند کرتی تھیں ان پر پابندیاں لگوائیں اور بزرگ رہنما پابند سلاسل ہونے لگے۔ ادھر پاکستان کو جنگ کی کھلی دھمکیوں کے ساتھ سرحدوں پر روزانہ کی چھیڑ چھاڑ، کشمیر میں جاری مظالم میں شدت اور پھر دلی سے یکطرفہ قانون سازی کے ذریعے کشمیر ہڑپ کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے۔ پہلے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے اور پھر بالا کوٹ اسٹرائیک کی ڈرامہ بازی رچائی گئی۔ حالانکہ واقعہ بالا کوٹ کے دوسرے روز دن کی روشنی میں نہ صرف دو جہاز تباہ کروا لیے بلکہ اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو خود ہی اڑا کر جگ ہنسائی مول لی۔ ابھینندن کا Fantastic tea والا جملہ تاریخ کا حصہ بن کر ہندوستان کے لیے تا قیامت ذلت و رسوائی کی مثال بن چکا ہے۔ ایشیاء کی تمام چھوٹی ریاستوں کو رعب و دبدبے اور غنڈہ گردی سے اپنے زیر اثر رکھنے والے ہندوستان کی دھوتی چائنہ نے لداخ میں سرعام کھول دی۔گھس کر مارنے والے فلمی ڈائیلاگ بولنے والوں کی سرزمین پر چین گھس آیا اور مودی برگیڈ کو اپنے ہی ملک میں کہیں گھس کر چھپنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی
    پیپلز لبریشن آرمی نے بغیر گولی چلاۓ ڈنڈوں، گھونسوں اور مکوں سے بہار رجمنٹ کو اڑا کر رکھ دیا۔ ہندوستانی کرنل سمیت 20 فوجی جوان بشمول دیگر افسران مارے گئے اور 80 سے زیادہ شدید زخمی اور ایک لیفٹیننٹ دو میجرز سمیت باقی ماندہ گرفتار کر لیا گیا جن کی رہائی ابھینندن کی طرح بعد میں عمل میں آئی۔ شاید بی جے پی سرکار اور دن رات مودی کی مدح خوانی میں مصروف ہندوستانی میڈیا کے وہم و گمان میں بھی چین کی طرف سے اس شدید رد عمل کی توقع نہ تھی۔ بات بات پر پاکستان کا راگ الاپنے والے مودی کے ہونٹ سِل گئے۔ ریاست نے چپ کا روزہ رکھ لیا اور پاکستان پاکستان بول کر ہلکان ہونے والا میڈیا اُف تک بولنے کی جرات نہ کر سکا۔ مردہ کانگریس پارٹی میں یکخت جان پڑ گئی راہول گاندھی اور سونیا گاندھی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا خودساختہ طاقت و غرور کا گھمنڈ ٹوٹا اور "56 کا سینہ "5,6 کا نکلا۔ ملکی داخلی سیاست میں "مودی ہے تو ممکن ہے” نامی غبارے سے ہوا نکل گئی۔ خالصتان تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہو کر ریفرنڈم کی جانب گامزن ہے۔ بین الاقوامی سطح پر معاملہ سبکی سے بھی زیادہ خراب صورتحال تک پہنچ گیا۔ عرب ممالک کی عوام مودی کی مسلم کش پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ نیپال کے ساتھ سرحدی حدود کا معاملہ گرم ہوا۔ اور آنے والے امریکی انتخابات کی ریلیوں میں بھی کشمیر کا ذکر سنائی دینے لگا۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں کامیاب و کامران ہو کر معاشی معاملات کو بہتر بنانے کی تگ ودو میں لگ چکا تھا کہ کروناء نے پوری دنیا سمیت پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ ایسے وقت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ سے دشمن نے جہاں ایک طرف اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ موڑنے کے لیے زبردست چال چلی اور اس واقعہ کے ذریعے مودی بھگت میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ وہیں پاکستان کے معاشی حب کراچی اور تمام تر کاروباری سرگرمیوں کے مرکز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنا کر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ڈرانے اور خوف و ہراس سے معیشت کا پہیہ روکنے کی کوشش کی۔ الطاف حسین، منظور پشتین، ٹی ٹی پی، جسقم، اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد جو آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد سے مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے دوبارہ روح پھونکے کی کوشش بھی کی گئی۔ حملہ آوروں سے ملنے والا جدید اسلحہ اور وافر مقدار میں گولہ بارود و کھانے کا سامان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ممبئی حملوں کی طرز پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن سالہا سال کی محنت اور منصوبہ بندی فقط آٹھ منٹ میں ڈھیر ہو گئی۔ سندھ پولیس کے شیر دل جوانوں نے پرفیکٹ ہیڈ شارٹ لے کر دشمن کو پیغام دیا کہ سندھ دھرتی کے بیٹے اپنے ملک کا دفاع کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ سندھ رینجرز اور باقی سیکورٹی فورسز کے اداروں نے بھی اتنی برق رفتاری سے آپریشن کو مکمل کیا کہ ٹریڈنگ فلور پر کسی قسم کا اثر تک نہ ہوا۔ نہ تو کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑا اور نہ ہی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی بلکہ اس کے بازار حصص میں اضافہ ہوا۔ دشمن کے منصوبے خاک میں مل گئے اور وہ ہر میدان میں پٹ چکا تھا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے باہر زمین پر پھیلی دہشت گردوں کی بدبودار لاشیں ہندوستان کو پیغام دے رہی تھیں کہ پاکستان ⁦دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے۔ الحمد للہ

  • انسان از وہاب ادریس خان

    انسان از وہاب ادریس خان

    دنیا چاند پر پانی ڈھونڈنے میں مصروف ہے اور ہم کراچی کے گٹروں کے پانی کو لے کر پریشان ہیں۔ ہر سال مون سون کا موسم آتے ہی کراچی کے گٹر اُبل پڑتے ہیں اور حسبِ معمول شہری چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔ سینکروں ٹی وی شوز بھی اس موضوع پر کر دئے جاتے ہیں اور اس سال محکمہ موسمیات نے بھی بیس فیصد زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے گٹر صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ سننا تھا کہ بس ہمارا دھیان فوراَ اس بات پر چلا گیا کہ ہم نے ایٹم بم بنا یا بھی ہے یاایسے ہی غلط بیانی کی ہے، لیکن پھر جب چاغی کے پہاروں کا بدلہ رنگ یاد آیا تو یقین ہوا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنایا ہےاور وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گٹر صاف نہیں کر سکتے۔ بات صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے، اسلام آباد میں تو ورلڈ ریکارڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ دنیا کہ تمام ممالک اب تک صرف جہاز اڑانے میں کامیا ب ہوئے ہمارا تو ائیر پورٹ اڑتے اڑتے رہ گیا۔ پچھلے دنوں اِک ہلکی سی آندھی نے جو تباہی مچائی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ سب دیکھ کر تو حیرانی ہی ہوئی تھی لیکن سخت پریشانی اس وقت ہوئی جب لاہور میں دو بزرگوں کا مکالمہ سُنا۔ ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھ رہے تھے اڑے بھائی کورونا وائرس کو تم کہیں دیکھے ہو کیا؟ اور جواب تو اور بھی متا ثر کُن تھا؛ نہیں میاں پتہ نہیں کیا ڈرامہ ہے ہمیں تو کہیں نہیں ملا ابھی تک، تمہیں ملے تو ضرور بتانا۔

    یکِ بعد دیگرِ تین بڑے شہروں کے واقعات بیا ن کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے مسائل علاقائی یا شہری نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، اور یہ مسائل ہماری سوچ اور ذہنیت میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی سی گورنمنٹ ہو یا کوئی کنٹریکٹر جو تھوڑے سے پیسے بچانے کی خاطر پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور منافع اور سیاست کوانسانیت پر ترجیح دیتے ہیں اور یا چاہےوہ پاکستان کا عام آدمی ہو جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسی باتیں پھیلا دیتا ہےجس کے نتائج بہت خطر ناک نکل سکتے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان نے احساس پروگرام تو شروع کر دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان میں "انسان” پروگرام شروع کیاجائے جس پر انسانوں کی ذہنی سوچ پرکام ہونا چاہئےجس کے تحت انسانوں کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا جائے۔ میرا ایمان ہےجس دن ہم مکمل انسان بن جائیں گے پاکستان دن دُگنی رات چُگنی ترقی
    کرے گا

    غالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔

    بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

  • ہمیں اپنی قومی زبان اردو لکھے اور بولے جانے پر شرمندگی کیوں؟  تحریر :غنی محمود قصوری

    ہمیں اپنی قومی زبان اردو لکھے اور بولے جانے پر شرمندگی کیوں؟ تحریر :غنی محمود قصوری

    زبان اللہ کی طرف سے عطاء کردہ ایک خاص نعمت ہے جو کہ معاشرتی ضرورت کے تحت بولی جاتی ہے تاکہ ہمارا مخاطب ہماری بات کو سمجھ سکے
    ہر علاقے ملک کی مختلف زبانیں ہیں اور اس کرہ ارض پر تقریبآ 6800 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں مذید ان کے لہجے الگ سے ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی ہے
    ہماری قومی زبان اردو ہے جو کہ پورے پاکستان میں لکھی،پڑھی اور بولی جاتی ہے اس کے علاوہ تقریبآ 70 زبانیں مذید بھی پاکستان میں بولی جاتی ہیں مگر ان تمام کی طرز اور الفاظ بڑی حد تک اردو سے ہی مماثلت رکھتے ہیں
    پاکستان کی کل آبادی کے 8 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں اور یوں اردو پاکستان کی پانچویں بڑی اور دنیا کی نویں بڑی زبان ہے ماہرین لسانیات کے مطابق ہندی،ہندوی،ہندوستانی،دہلوی اور ریختہ بھی اردو کے قدیم نام ہیں اسی لئے اردو اتنی معروف اور دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہے کہ ہم بنگلہ دیش،انڈیا،نیپال غرضیکہ پورے برصغیر میں کہیں بھی اردو بولیں تو مخاطب کو بڑی حد تک سمجھ آ جاتی ہے اور ہماری معاشرتی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے
    دور غلامی میں 1849 میں انگریز نے معاشی ضرورت کے تحت پنجاب میں اردو کو دفتری زبان قرار دیا تھا اور 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان بھی اردو میں ہی نشر کیا گیا تھا تاکہ ہم انگریز و ہندو کو باور کرا سکیں کہ ہم آزاد ہیں اب اپنی تہذیب و تمدن پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور ہماری نسلیں اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت و مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونگی اسی لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اردو ہے حالانکہ قائد اعظم معاشی ضرورت کے تحت انگریز کے سامنے انگریزی بولتے تھے مگر جب وہ اپنے ہم وطنوں سے ہمکلام ہوتے تو اردو ہی بولتے تھے بطور دلیل ان کی کئی آڈیو،ویڈیو ریکارڈنگ اب بھی موجود ہیں مگر افسوس کہ لاکھوں شہادتوں ،کھربوں روپیہ کی جائیدادوں اور لاکھوں عزتوں کی قربانی دے کر حاصل کرنے والے ملک پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبآ 74 برس بیت گئے مگر افسوس کہ اب بھی ہماری سرکار اور ادروں سے انگریزی نا نکل سکی آج بھی ہمارے دفاتر میں نوٹیفیکیشن انگریزی میں جاری کئے جاتے ہیں اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ روانی سے انگریزی بولتا ہے اور لکھتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اب بھی کم پڑھا لکھا یا پھر ان پڑھ ہے اس لئے ان کو انگریزی کی ہرگز سمجھ نہیں آتی اور وہ اسے سمجھنے کیلئے کسی پڑھے لکھے کے محتاج بن جاتے ہیں
    پورے پاکستان میں لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں اور وہ تمام مادری زبانیں اردو سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اس لئے جب کسی سے اردو میں بات کرتے ہیں تو وہ بندہ کافی حد تک اردو کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے اور بڑی حد تک اردو بول بھی لیتا ہے
    زندہ قوموں کی پہچان ان کی تہذیب و ثقافت سے ہوتی ہے اور ہم دنیا کی نویں بڑی زبان اردو ہونے کے باوجود انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں حتی انسانی حقوق کا رونا رونے والی این جی اوز ہمارے لوگوں کو انگریزی میں ہدایات دے کر چلی جاتی ہیں اور وہ غریب ان پڑھ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ آخر انہیں کہا کیا گیا ہے
    اس کام میں ہماری سرکار بھی کسی سے کم نہیں اب جبکہ پوری دنیا کرونا کی لپٹ میں ہے اور پوری دنیا اپنے باشندوں کو اپنی قومیں زبانوں میں ہدایات جاری کر رہی ہیں وہیں آج ہماری گورنمنٹ نہایت افسوس کیساتھ انگریزی میں ہدایات جاری کر رہی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ ان پڑھ و کم پڑھے لکھے لوگوں نے بڑی مشکل سے ہلاک کو انگریزی میں ایکسپائر Expire ,Death رٹا ہوا تھا اب اس کی جگہ Deceased نے لے لی جبکہ تشویشناک کو لوگوں نے سیریس Serious رٹا تھا اب اس کی جگہ کریٹیکل critical نے لے لی اسی طرح Infected, Symptoms اور کئی الفاظ آ گئے جس سے عام لوگ بہت پریشان ہیں کہ بھئی یہ کیا بلا ہیں یہی وجہ ہے کہ قوم کرونا پر جاری ہدایات پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہیں ہو رہی کیونکہ ان کو ان الفاظ کا علم ہی نہیں اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھانے کا زیادہ وقت ہی نہیں سو انگریز کی غلامی کا طوق اتارتے ہوئے ہمیں اپنے دفتروں،بازاروں،گھروں اور سرکاری اداروں میں سو فیصد اردو بولنی،لکھنی اور پڑھنی چاہیے تاکہ دو قومی نظریے اور آزادی پاکستان کا مقصد واضع ہو سکے اور ہم ایک زندہ و جاوید آزاد قوم کہلوا سکیں اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ یہ ہماری قوم زبان ہے ہاں معاشی ضرورت کے تحت انگریزی،ہندی،فارسی،اور دیگر زبانوں کے بولنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہیں معاشی ضروت کے تحت سیکھا اور بولا جائے نا کہ قومی زبان سمجھ کر

  • محبت کس سے کریں؟   تحریر: سعدیہ بنت  خورشید

    محبت کس سے کریں؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    محبت کس سے کریں؟؟؟
    (جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں)
    تحریر:- سعدیہ بنت خورشید

    جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں جس کے بعد ھم اس کی ہر بات پہ بلا چون و چراں عمل بھی کرنے لگ جاتے ھیں اور پھر وہ وقت بھی آتا ھے جب ھمیں اس کے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی مثل ِ عذاب لگ رہا ھوتا ھے۔۔
    دنیا جہاں چار دن کی ذندگی ھے اور فانی دنیا میں فانی لوگوں کی اپس میں ایسی محبت ھو سکتی ھے تو وہ جو "الحی” ھے اس کے ساتھ محبت کے کیا تقاضے ھوں گے۔۔۔۔؟؟؟

    "اللہ سے محبت” یہ سنتے ہی دل میں ایک بہترین احساس جاگزیں ھوتا ھے۔
    اللہ سے محبت کے لئے سب سے پہلے اللہ کے بارے معرفت ضروری ھے کہ اللہ کون ھے؟

    الله، وہ ذات جس کے اسم الجلالہ میں سے الف حذف کیا جائے تو "لله” بچتا ھے، لله سے لام حذف کیا جائے تو له بچتا ھے، له سے لام کو حذف کیا جائے تو اسم ضمیر "ھو” وجود میں آتا ھے۔۔ "ھو”(( وہ ذات))۔ جو ھمیشہ سے ھے ھمیشہ رہے گی۔
    اس اسم گرامی کی وسعت اتنی ہے کہ ہر حرف اسکی ذات کی تعریف کا مؤجب بنتا ھے۔

    ((ھو علَمُ لذات الواجب الوجود

    المستجمع لجمیع صفات الکمال ))

    غرضیکہ ہر قسم کی صفات کی حامل ھے و ذات ۔۔۔۔!!

    محبت، حب سے ھے۔ مح کا معنیٰ خالص اور بت کا معنیٰ توشہ، محبت یعنی خالص توشہ ۔۔۔!!
    محبت ایک انتہائی عظیم اور پاکیزہ رشتہ ھے جس میں چاھنے اور چاھے جانی کی خواہش ھوتی ھے، جس میں ایک طرف کے تعلق کی بجائے طرفین کا مابین بہت گہرا تعلق ھوتا ھے، محبت مانندِ نور ھے.

    الله سے محبت کے تقاضے کیا ھیں؟
    محبت اطاعت مانگتی ھے جس میں نفی و شریک کی قطعاً گنجائش نہیں ھوتی۔
    الله تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:-
    ((قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی، یحببکم الله))
    الله نے اپنے سے محبت کیے جانے کا قاعدہ بھی خود ہی مقرر فرما دیا اور حکم صادر فرمادیا۔ کہ "اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری پیروی کرو بدلے میں اللہ بھی تم سے محبت کرے گا”
    کتنا خوبصورت انعام ھے۔۔۔!!! یعنی یہ صرف یکطرفہ محبت نہیں ھے، بلکہ اس کے لئے اصول و ضوابط مقرر فرما دئیے کہ اگر میرے بندے ان ان اصولوں پر پورا اتریں گے تو بدلے میں اس عظیم ہستی کی محبت ملے گی جو آسمانوں اور زمینوں کا نور ھے۔
    اسی طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:- من اطاعنی فقد اطاع الله
    "جس نے میری اطاعت کی اس نے الله کی اطاعت کی۔”
    یعنی کامیابی حاصل کرنی ھے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول دونوں کو خود پر لازم پڑے گا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کے درمیان ایک گہری نسبت ھے جن میں سے کسی ایک کو چھوڑ کے انسان کامیابی و کامرانی کی راہ ہموار نہیں کر سکتا لہٰذا اللہ کی محبت کے حصول کے لئے لئے قرآن اور حدیث کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا ھوگا

    کیونکہ صرف زبانی کلامی باتوں سے محبت حاصل نہیں ھوجاتی۔ جب محبت کی جاتی ھے تو محب پر لازم ھوجاتا ھے کہ اپنے محبوب کی باتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور اس کے بعد اس میں کسی قیل و قال کی گنجائش نا بچتی ھے
    (( لو کان حبک صادقا لاطعته
    ان المحب لمن یحب یطیع))
    اگر تو سچی محبت کرتا ھے تو اسکی اطاعت کر کیونکہ محبت تو یہی ھے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی اطاعت کی جائے۔ اصل محبت ہی یہ ھے کہ فاعل، مفعول به کے احکام کو (سَمِعتُ و اطعتُ)) کہتے ھوئے بجا لائے اور اس میں کسی چون و چرا کی گنجائش نا ھو۔ جن میں برادری، معاشرہ، اور ایسے ہی دیگر عوامل اثر انداز نا ھونے پائیں۔ ایسی محبت جس کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ھے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ھو سکتا جب تک میں اس کے اہل و عیال سے زیادہ اسکو عزیز نا ھو جاؤں۔ خالصتاً طریقے سے چاھے جانا، محبت اس چیز کی متقاضی ھے کیونکہ محبت اپنے ساتھ شریک برداشت نہیں کر سکتی۔

    اس سب کو جان لینے کے بعد محبت قربانیاں مانگتی ھے اور محبت میں ایک مقام وہ بھی آتا ھے جب یہ محبت ابراہیم علیه السلام کو آگ میں چھلانگ لگوا دیتی ھے، اسماعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو جنگل بیابان میں تنہا چھڑوا دیتی ھے، بلال رضی الله عنه کو تپتی ریت پر لٹا دیتی ھے،۔
    جب محبوب کی محبت پر بے انتہا یقین کا یہ مقام آتا ھے (ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا)) کا مصداق بنا دیتی ھے۔
    "یجعل اللہ مخرجا” کو صرف کہنے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اسکو عملی جامہ پہنا کر آنے والی انسانیت کے لئے اسکو بطور نمونہ پیش کردیا

    اور پھر وہ رب ابراہیم کو آگ میں چھلانگ لگوا کے اگ کو ٹھنڈی کردیتا ھے، اسماعیل علیہ السلام کی گردن پہ چُھری کو چلنے نہیں دیتا اور اس کی جگہ جانور کو لٹا دیتا ھے، حبشی بلال کی قدموں کی چاپ کو جنت میں سنا دیتا ھے۔
    اللہ سے محبت کتنی عظیم محبت ھے جس میں کسی قسم کا کوئی خسارہ نہیں۔ لیکن سب سے بنیادی اصول جو ھیں ، محبت یقین مانگتی ھے، قربانی مانگتی ھے کہ جب رات کو دوسرے لوگ آرام سے نرم و گرم بستر پر لیٹ کر مزے کی نیند سوئے ھوں تو یہ ( تتجافی جنوبھم عن المضاجع) کا عملی نمونہ بن جائے۔ مؤذن ابھی یہ صدا بلند کررہا ھو حی الفلاح اور یہ کاروبار، گاہک سب کچھ چھوڑ کے کامیابی کو ڈھونڈنے اس مالک کے گھر ( مسجد میں ) چل نکلے۔

    من ذاق حب الله ارتویٰ
    "جس نے اللہ کی محبت کا ذائقہ چکھ لیا وہ سیر ھوگیا۔”

    جو اس محبت کا مزہ چکھ لیتا ھے اس پر دنیا کے سامنے دنیا کے مصائب، تکالیف، تنگیاں کوئی وقعت نہین رکھتیں وہ صرف اس باری تعالیٰ کا ھو کے رہ جاتا ھے جس کی محبت کے سامنے یہ دنیاوی زیبائش بے معنیٰ ھو کر رہ جاتی ھے۔ اور پھر اسی طرح یہ محب اپنے محبوب کو ایک نظر دیکھنے کے لئے ہر وقت کسی نا کسی طریقے سے اس کو یاد کرنے میں مگن رہتا ھے اور آخر تک اس کی اپنے محبوب کے دیدار کی تڑپ کم ھونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ھے جس وجہ سے اس کو یہ دنیا قید خانہ لگنے لگتا ھے اور وہ اس قید سے رہائی کے انتظار میں برسوں گزار کر آخر کو اپنے اپنے رب کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ھو جاتا ھے۔
    اللہ اپنے سے محبت کرنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لٹاتا بلکہ اس کو دونوں جہانوں میں عزتوں، کامرانیوں سے نوازتا ھے۔
    الله تعالیٰ ھمیں بھی ان مؤمنین کی صفوں میں شامل کردے جو اللہ سے محبت کرتے ھیں اور ھمارا شمار ان لوگوں میں بھی ھو جن سے اللہ بھی محبت کرتا ھے۔امین

  • "سندھ سے سندھڑی چلا اور لاہور پہنچا” آم (Mango) کی کہانی محمد عبداللہ کی زبانی

    "سندھ سے سندھڑی چلا اور لاہور پہنچا” آم (Mango) کی کہانی محمد عبداللہ کی زبانی

    "سندھ سے سندھڑی (آم , Mango) چلا اور لاہور پہنچا”

    آم(Mango) اس موسم میں چونکہ "عام” ہوتا ہے اور ہر بندہ جو گھر سے نکلتا ہے "امب”کے اس سیزن میں نہایت ارزاں قیمت پر قدرت کے اس عظیم تحفے کو فروخت ہوتا دیکھ کر "امب” لے ہی لیتا ہے. بچوں اور بڑوں کی یکساں پسند یہ پھل انفرادیت رکھتا ہے اور (مقامی روایات کے مطابق) آم (Mango) ہے بھی پھر پھلوں کا بادشاہ ( البتہ اس کی ملکہ اور آل اولاد کا کچھ پتا نہیں ہے).
    آم (Mango) کی ورائٹی اور پاکستان کے میدانی علاقوں کا مقامی پھل ہونے کی وجہ سے یہ مناسب قیمت پر دستیاب ہوتا ہے تو متوسط اور غریب طبقہ بھی دل کا "رانجھا راضی” کر سکتا ہے وگرنہ تو بعض پھل یا خشک پھل ایسے بھی ہیں جن کے بارے صرف سوچا ہی جاسکتا ہے اور خیالوں ہی خیالوں میں ان کو کھایا جاسکتا ہے لیکن جیسے ہی حواس کی دنیا میں واپس آتے ہیں تو ہمارے ایسوں کی جیب اور بٹوہ دونوں شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ "پائن اپنی حیثیت دیکھو اور خواب دیکھو” .
    لیکن قدرت کا خاص کرم ہے کہ پھلوں کے یہ "بادشاہ سلامت” وافر میسر ہوتے ہیں اور یار دوست تو نہروں ، دریاؤں، ٹویب ویلز اور سویمنگ پولز کے کناروں پر درختوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر آم (Mango) سے نہایت "عامیانہ” سلوک کرتے ہیں. اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب مرحوم سے کئی روایات منسوب ہیں کہ ان کا فرمانا تھا کہ آم (Mango) ہوں اور عام ہوں مطلب چوکھے ہوں. اسی طرح ایک اور روایت جو ہمارے یہاں لطیفے کی شکل میں بیان کی جاتی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ مرزا صاحب کا فرمانا تھا کہ بےشک "گدھا” آم نہیں کھاتا.
    اگر انسانوں کی بات کریں تو کچھ تو آم کے اس قدر شیدائی ہوتے ہیں اور آم (Mango) کی گٹھلی سے اس انداز سے میں انصاف کرتے ہیں کہ بےچاری گٹھلی بھی شرما کر کہتی ہے ” اجی اب بس بھی کیجیئے نا”. آم (Mango) سے خاطر خواہ انصاف کرنے والے دوستوں کا یہ کلیہ ہے کہ آم (Mango) کھاتے وقت جھجھک، شرم اور کپڑوں (ستر کو ڈھانپنا ضروری ہے) کو ایک سائڈ پر کردینا چاہیے تبھی آپ "آم” سے انصاف کرسکتے ہیں.
    اگر آپ آموں کی اقسام پر بات کریں تو یقین جانیے اللہ کی قدرت کے ایسے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بندہ پکار اٹھتا ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”. سندھ کے شہر میرپور خاص میں سالانہ آموں کی نمائش لگتی ہے جس میں آم کی تین سو کے قریب قسمیں پیش کی جاتی ہیں. پنجاب کا سرائیکی علاقہ بالخصوص ملتان بھی آم (Mango) کی پیداوار میں سرفہرست ہے.
    ہمارے حیدرآباد کے دوست ہیں سیف اللہ سعید چلبلے اور شرارتی مزاج کے ایک دن کہنے لگے کہ بھائی آپ لاہور کے دوستوں کے لیے "سندھڑی” آموں کا تحفہ بھیج رہا ہوں تو یوں یہ سندھڑی سندھ سے چلا اور ملتان میں لنگڑے سے راہ و رسم بڑھاتا ہوا لاہور پہنچا جہاں ہم اس کے ساتھ انصاف کرنے میں مشغول ہیں.
    محمد عبداللہ

  • سیکیورٹی اداروں نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ آور دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈ کاسراغ لگا لیا

    سیکیورٹی اداروں نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ آور دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈ کاسراغ لگا لیا

    سیکیورٹی اداروں نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ آور دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈ کا پتا لگا لیا ہے

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کا بشیر زیب نامی کمانڈر دہشتگرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ بشیر زیب ہلاک دہشتگرد اسلم اچھو کے بعد کمانڈر بنا تھا۔اسلم اچھو چائینز قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ کالعدم تنظیم نے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘’را’’ کی فنڈنگ سے چائنیز قونصلیٹ پر حملہ کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں ‘’را’’ فنڈنگ کے شواہد ملے ہیں۔ دہشتگرد بشیر زیب اپنے ساتھی اللہ نظر کیساتھ افغانستان کے شہر قندھار میں ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ معاملے کی تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ حملے کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جائے گا۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ پر دہشت گرد حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی جس کے مطابق دہشتگردوں کی شناخت تسلیم بلوچ، شہزاد بلوچ، سلمان اور سراج کے نام سے ہوئی ہے اور ان کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ دہشتگرد باقاعدہ تربیت یافتہ تھے۔ واقعے میں استعمال شدہ گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی نکلی ہے جس کا انجن نمبر اور نمبر پلیٹ الگ الگ ہیں، گاڑی نجی بینک کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
    واضح‌رہے کہ آج دہشت گردوں نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا جسے کراچی سٹاک مارکیٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، حملے میں ‌ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد شہید ہو گئے جبکہ چاروں دہشتگردوں‌ کو ہلاک کر دیا گیا۔

    4 دہشتگردوں نے آج صبح سٹاک مارکیٹ پر دستی بموں سے حملہ کر دیا جبکہ آٹو میٹک ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار اور 4 سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گئے، اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ تبادلے میں چاروں حملہ آور مارے گئے۔

    سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ تحقیقاتی اداروں نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔ کراچی پولیس چیف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ حملہ کرنے والے چاروں دہشتگردوں کو بروقت کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔

  • عالمی مافیا کااالائینس اور تقسیم در تقسیم عوام   تحریر: اجمل ملک

    عالمی مافیا کااالائینس اور تقسیم در تقسیم عوام تحریر: اجمل ملک

    عالمی مافیا کااالائینس اور تقسیم در تقسیم عوام

    اس وقت ملکی اور عالمی سیاست کی صورتحال یہ ھے کہ ایک طرف رائیٹ ونگ ھے جو جناعت در جماعت تقسیم ھو کر اپنے سبز جھنڈے تلے طرح طرح کی آوازیں اور نعرے بلند کر رھا ھے اور دوسری طرف لیفٹ ونگ کے لوگ ھیں وہ بھی جماعت در جماعت تقسیم ھیں اور ھر گروہ سرخ سلام پیش کر رھا ھے اور دونوں کا یہ دعوی ھے کہ ھم ایک عظیم انقلابی جدوجہد کر رھے ھیں اور ان کا مقابلہ کن قوتوں کیساتھ ھے تھوڑا سا اسکا بھی تجزیہ کر لیتے ھیں ۔

    آپ نے ملکی سیاست میں ” ملا ملٹری الائنس ” کا نام تو یقینا سنا ھوگا اور جہاد افغانستان کا ایک کردار جنرل اختر عبدالرحمن بھی آپکو یقینا یاد ھوگا جس پر "خاموش مجاھد” نامی کتاب بھی لکھی گئی آج اس خاموش مجاھد کا بیٹا ھمایوں اختر پاکستان میں ایک ملٹی نیشنل پروڈکٹ ” پیپسی کولا ” کی فرنچائس چلا رھا ھے اور دوسری طرف ھمارے ملک کا مفتی اعظم تقی عثمانی عالمی سودی نظام کا محافظ بنکر بینکنگ کے عالمی سودی نظام پر ” مہر شریعیت ” ثبت کر رھا ھے یہ ملا ملٹری الائنس سے بھی بہت بڑا ملٹی نیشنل الائنس ھے دنیا کے بڑے بڑے مالیاتی ادارے ، دنیا کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور انٹر نیشنل میڈیا سب ان کے کنٹرول میں ھے یہ بے پناہ طاقت ور ھیں اور ان چند ھزار خاندانوں نے اسوقت دنیا کی تقریبا %75 دولت پر قبضہ جما رکھا ھے اور بقیا %25 دولت پر زندہ رھنے کیلیئے،6 ارب انسان ایک دوسرے کو نوچ رھے ھیں-

    ملک میں حالیہ پیٹرول بحران کے دوران آپ نے دیکھا کہ پاکستان کی آئل کمپنی PSO تو لوگوں کو پیٹرول دے رھی تھی لیکن غیر ملکی کمپنیوں نے آئل دینے سے انکار کر دیا اور پھر اپنے مطلوبہ ریٹ یعنی 100 روپئے سے زائد کرنے کے بعد ھی پیٹرول مہیا کیا ھم نے واضع طور پر اپنی حکومت کو بھی ان مافیا کے سامنے بے بس پایا بعض لوگ حسب عادت اسکا الزام اپنی فوج کے سر تھوپنے کی کوشش کرینگے حالانکہ فوج تو عوام کیساتھ چلتی ھے –

    جب فوج نے افغان جہاد میں حصہ لیا تو یہ پوری قوم خود طالبان کیساتھ تھی یقینا فوج کے مٹھی بھر لوگوں اور مولویوں نے مال بھی بنایا لیکن فوج کے اکثر لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور عوام نے بھی جانیں دیں لیکن آج عوام کا شعور اجاگر ھو چکا ھے اور وھی اسامہ بن لادن جسے پوری پاکستانی قوم ھیرو کہتی تھی آج اگر وزیر اعظم اسے شہید بھی کہتا ھے تو اس پر اعتراض ھوتا ھے آج اگر یہ قوم مذید شعور اور سمجھداری کا مظاھرہ کرے اوراپنی گروہ در گروہ تقسیم سے بالاتر ھوکر ملک کو غربت اور قرضوں کے چنگل سے نکالنے کیلیئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرے تو یقینا فوج بھی انکا ساتھ دے گی ورنہ اگر ھمیں ملکی مفاد سے زیادہ اپنا جماعتی اور گروھی مفاد عزیز ھے تو پھر جعلی لیڈر جعلی نعرے لگاتے رھینگے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور یہی سب کچھ ھوتا رھے گا –
    اجمل ملک ایڈیٹر نوشتئہ دیوار