Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشکلات سے مقابلے کا راز  تحریر:  عمر یوسف

    مشکلات سے مقابلے کا راز تحریر: عمر یوسف

    *مشکلات سے مقابلے کا راز*

    *عمر یوسف*

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو دو طرح سے بنایا ہے ۔۔۔

    پہلا طریقہ : حکم دے کر کائنات کی تخلیق کی یعنی جس چیز کو بنانے کا مقصد ہوتا اللہ کن کہتے اور وہ پلک جھپکتے ہی تیار ہوتی ۔۔۔۔

    دوسرا طریقہ : اللہ نے خود تخلیق کیا یعنی اپنے ہاتھوں سے بنایا ۔۔۔۔

    یہاں پر پوائنٹ یہ ہے کہ اللہ کن کہہ کر بھی ساری چیزوں کو بنا سکتا تھا لیکن اس نے زمین آسمان کو اور حضرت انسان کو ایک مقررہ مدت میں خود بنایا ہے ۔۔۔

    وہ اپنے بندوں سے بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ جامد بیٹھنے کی بجائے خود اپنے ہاتھ سے اپنے معاملات سنواریں ، اپنے مسائل کا حل دریافت کریں ، اپنے راستے خود بنائیں ۔۔۔

    اور ساری محنت و کوشش کے بعد بھی اپنے اللہ کو کہیں کہ اللہ کام تو میں نے کردیا اب اسے کامیابی سے نوازنا اور صلہ دینا تیرے ذمے ہے اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں کہ اب مجھے کامیابی دے ۔۔۔۔

    میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا حبیب ہے یعنی اس کا پسندیدہ ہے ۔۔۔

    انسان کی یہ محنت اللہ کو اتنی پسند ہے کہ انسان خود کماتا ہے خود کے بچوں کو کھلاتا ہے پہناتا ہے لیکن اللہ اسے صدقے کا ثواب دیتا ہے ۔۔۔۔۔

    کاہلی و سستی ، کج روی و غفلت نہ تو خدائے بزرگ وبرتر کو پسند ہے اور نہ فطرت میں قابل قبول ہے کہ انسان کو بیٹھے بیٹھائے مل جائے ۔۔۔

    انسان امتحان کی دنیا میں ہے جس میں اس کے سامنے وسیع میدان ہے۔۔۔ محنت کے لیے مقاصد ہیں۔۔۔ رہنمائی کے لیے قرآن و حدیث گائیڈ بک ہیں ۔۔۔۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ سنت خداوندی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی منازل و مقاصد حاصل کرتا ہے یا غفلت و سستی برتتے ہوئے خسارے اور گھاٹے کا سودا کرتا ہے ۔

    ایک بزرگ میرے واقف ہیں عمر کافی ہوگئی ہے لیکن اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ وہ کھیتی باڑی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ ان کی کمر جھکی ہوئی ہے ہاتھ بڑھاپے کے ظلم کا شکار ہیں ان کی عمر کے دوسرے بابے اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہیں لیکن وہ چاق و چوبند ہیں یہ محنت کی برکت ہے جو صحت قائم کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔
    ایک عورت جو شدید دمے کے مرض کا شکار ہوئیں اس نے بتایا کہ اگر وہ خود کو مریض سمجھ لیتیں اور چارپائی سے نکاح کرلیتی تو شاید وہ موجودہ حالت میں نہ ہوتیں ۔۔۔ انہوں نے کام نہ چھوڑا بلکہ شدید بیماری کے باوجود بھی سردی و گرمی میں اکیلے گھر کے سارے کام انجام دیے وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی صحت کا راز محنت بتاتی ہوں ۔۔۔۔

    یقینا محنت والا راستہ برکتوں والا ہے اور اس پر چلنے والے خیر پر ہیں ۔

  • فواد چوہدری اب اکتیس کو عید کریں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی گفتگو

    فواد چوہدری اب اکتیس کو عید کریں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی گفتگو

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا ہے کہ چاند کوئی مذاق کی بات نہیں چاند کے ذریعے ہماری عبادات کا پتہ چلتا ہے

    باغی ٹی وی : فواد چوہدری ہر مرتبہ چاند کی پیدائش پر علماء اکرام اور رویت یہال کمیٹی کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہیں اس مرتبہ بھی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے چاند کی رویت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں ذی الحج کا چاند نظر نہیں آیا اور عید الاضحیٰ بروز ہفتہ یکم اگست کو منائی جائے گی جس پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ چاند کی پیدائش ہو چکی ہے لہذا عید الاضحیٰ 31 جولائی کو منائی جائے گی۔

    فواد حسین کی اس بات پر رد عمل دیتے ہوئے علامہ ابتسام الہی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ فواد چوہدری کسی نہ کسی ایشو پر کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا کرتے ہیں –

    علامہ ابتسام الحق کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں فواد چوہدری علماء کا شغل لگانا چاہتے ہیں یا ان کا مذاق بانا چاہتے ہیں لیکن چاند کوئی مذاق کی بات نہیں ہے چاند کا ہماری عبادات کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے –

    انہوں نے کہا فواد چوہدری کا مقصد صرف اور صرف علماء کا استہزا کرنا ہے لہذا اب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ان کے رفقاء کو یکم اگست کی بجائے 31 جولائی کو عید منانی چاہیے-

    فواد چوہدری کے چاند کی تاریخوں پر علماء اور رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ جھگڑے کے سوال پر علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا کہ اس کے اندر ان کے رویے کے ساتھ بڑی قباحتیں پیدا پوئی ہیں علامہ ابتسام الحق نے مزید کہا کہ رویت ہلال کمیٹی پورے ملک سے شہادتیں اکٹھی کرتی ہے پھر وہ چاند کے نکلنے یا نہ نکلنے کا فیصلہ سناتی ہے اگر اس پر کوئی دوسرا ادارہ ان کے فیصلے کو نظر انداز کرتا ہے یا سوال اٹھاتا ہے تو یہ بہت زیادتی کی بات ہے-

    ان کہ کہنا تھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ سائنس کا کام زمین پر زیادہ سے زیادہ ان کو اسسٹ کریں ان کو مشورہ دیں کہ ہمیں لگتا ہے چاند کے نظر آنے کے امکانات ہیں لہذا آپ اس بات پر فوکس کریں اور دھیان دیں لیکن ان کو ڈکٹیٹ کرانا چاند کا ایک دن پہلے اعلان کر دینا یہ کسی طور پر بھی مناسب بات نہیں ہے

    علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ اور اس دفعہ یہ بات واضح طور پر سامنے آ گئی ہے کہ ان کی لیبارٹری جنہوں نے مشورہ دیا کسی اعتبار سے بھی ثابت نہیں ہو سکا اور پہلی تاریخ کے چاند کے بارے میں شک پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں پہلی تاریخ کا چاند 30 دن کے بعد نظر آتا ہے تو اس کی عمر 24 گھنٹے زیادہ ہوتی ہے 29 دن کے چاند کے مقابلے میں –

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا کہ لیکن اس کے باوجود عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بالکل بھی مناسب بات نہیں ہے ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنے دعوی میں سچے اور مخلص ہیں تو ان کو اور ان کے رفقاء کا یکم اگست کی بجائے 31 تارخ کو عید منانی چاہیئے جب وہ ظاہری طور پرعید بھی ہمارے ساتھ کریں گے تو اس سب ضد کا کیا فائدہ میں صرف اور صرف یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا مقصد صرف علماء کا استہزا کرنا شعائراسلامی میں اپنی من مانی اور آرا کو داخل کرنا ہےیہ بڑا حساس معاملہ ہے

    علامہ ابتسام نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں آپ لوگوں سے فرما دیجیئے کہ وقت کا تعین بھی ہے اور حج کا تعین بھی ہے،

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا چاند کوئی مذاق کی بات نہیں ہے اس کا ہماری عبادات عیدین اور حج کا گہرا تعلق ہے اگر آُ اس کو بھی استہزا کی بات بنا لیں گے تو میں یہ سمجھتا پوں کہ یہ عوام کو کنفیوز کریں گے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دو پول بن چکے ہیں جو ان کی جماعت یا فالوورز ان کو ہر صورت فولو کرنے کو تیا رہیں جبکہ دوسری جانب لوگ شریعت کے پیروکار ہیں اور ان معملات کو شریعت کے تحت ہی حل کرنا چاہتے ہیں جن چیزوں میں ان کا مداخلت کرنا بنتا ہی نہیں ہے تو وہ ان چیزوں میں مداخلت کر کے کیوں تنازے کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی فیلڈ نہیں تھی لیکن ان کو کیبنٹ یں رکھنے کے لئے ایسی وزارت دے دی گئی ہے جو ان کی زبان بندی کا بندی کا باعث ہو لیکن پھر بھی وہ اپنی زبان بند کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کسی نہ کسی ایشو کے اوپہر تنازع کھڑا کرتے ہیں وہ علماء کا شغل لگانا چاہتے ہیں جو کسی بھی طور پر ایک اسلمامی جمہوری ملک میں مناسب نہیں ہے کہ علماء شعائر اسلام کے لئے استہزا کے رویے اپنائے جائیں

    علامہ ابتسام نے کہا کہ ایسے لوگ پہلے بھی آئے ہیں اور آئندہ بھی شاید آتے رہیں گے ایسے لوگوں کو نامرادی اور رسوائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں پوا حکمےت اور بصیرت والی عقل کا تقضا یہی ہے کہ سابقہ لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور اپنے آُپ کو بُرے انجام سے بچائیں-

    کیا یہ پہلی کا چاند ہے؟ جب تھے ہی بادل توچاندکیسےنظرآتا: فواد چوہدری نے تصویر شیئر کردی

  • سفرِ محمود سے سفر آخرت تک   تحریر:ساحل توصیف

    سفرِ محمود سے سفر آخرت تک تحریر:ساحل توصیف

    ۔سفرِ محمود سے سفر آخرت تک۔
    ۔۔۔۔۔۔۔ساحل توصیف۔۔۔۔۔۔
    ِوہ وقت نہیں آنے والا ساحل
    اگر وقت کوکوئ روک لیتا تو میں زمانے کو ہی روک لیتا۔۔
    آج سے دوسال پہلے میرے ابو حج کی سعادت کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تھے۔اس سے پہلے اتنے بیمار ہو گئے تھے کہ ہم نے اةن کے زندہ رہنے کی آس چھوڑ دی تھی مگر اللہ کا کرنا کچھ اور تھا اور بلکل صحتیاب ہو گئے تھے پھر وہ دن بھی آگئے اللہ نے اُنہیں حج کرنے کی توفیق بھی بخش دی ۔میرے ذہن میں اب بھی وہ دن وہ پَل یاد ہیں جب ائرپورٹ جانے کے دوران بس میں میرے ابو ہاتھ ہلا ہلا کہہ رہے تھے کہ اب گھر جاؤ جیسے کہ رب نے ان کا انتخاب مکہ مکرمہ کے طواف کے لئے کیا تھا مدینہ سے آنے والی ہوائیں اُن کے استقبال کے لئے رب نے مقرر کی تھی اور مکہ مکرمہ کی وادیاں اُن انتظار میں بیٹھی ہیں ایسے خوش تھے جیسے رب نے بُھلاوا بیجا تھا کہ آ اب تجھے میں اپنی پاک سرزمیں کی سیرکرا کے پھر اپنے پاس بُلا لونگا۔میں بھی بہت خوش تھا کیونکہ میرے ابو کی دیرینہ خواہش تھی کہ کب میرے نصیب میں رب کے گھر کی زیارت نصیب ہو ۔وہ تو بہت خوش تھے اور دوسری طرف میری آنکھوں میں آنسو بھی رواں تھے کیونکہ میں زندگی میں اپنے ابو بہت جدجہد کرتے دیکھا تھا ۔بہت محنت ومشقت کرکے اُنہوں نے ہمیں پالا تھا اُن کی محنت وجدوجہد کا یہ عالم تھا کہ دن میں کبھی کبھار آرام فرماتے تھے۔اب وہ دن بھی آگئے تھے کہ اُنہیں سفر محمود پے روانہ ہونا تھا اور ہاتھ ہلا کر کہہ رہے تھے اب گھر جاؤ۔مکہ مکرمہ پہچتے ہی دوسرے دن جب فون کیا تو تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہو رہے تھے جوں جوں دن گُزرتے گئے وہ ہمیشہ فون پے بتاتے تھے کہ یہاں جتنا سکون مجھے ملتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اب گھر کبھی نہ آؤ پر جب فریضہ انجام دینے کے بعد گھر وآپس آگئے تو بار بار کہہ رہے تھے کہ میں پھر سے حج بیت اللہ کرنے کے لئے جانا چاہتا ہوں کیونکہ اُنہیں اُس سر زمیں سے اتنی محبت تھی کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔کیونکہ اُنہیں وہاں بہت سکون ملا تھا کیوں نہیں ملتا آخر انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کے پاس سکون قلب بھی ملتا ہے۔اور ہمیں کیا پتہ تھا کہ سفر محمود سے آکر سفر آخرت اُن کے انتظار میں بیٹھی ہیں ۔سفر محمود پے جاتے وقت اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔اور سفر آخرت پر جاکے پُرسکون نیند میں سوئے تھے جیسے کہہ رہے تھے اب رب سے ملنے کا وقت ہے میری زندگی کی سانسیں یا مہلت اس دُنیا سے ختم ہو چُکی ہیں اب رب سے ملنے کاوقت ہے پُرسکون چہرہ جس کو میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک نہیں بُھلا سکتا
    ہمیں بتا رہا تھا اب مجھے چین کی نیند سونے دو کیونکہ زندگی میں بہت سی سختیاں برداشت کی ہیں بہت سے دُکھ سہے ہیں بہت سی مشکلاتوں کا سامنا کیا ہیں بہت محنت اور جدوجہد کی ہیں میں نے اب میں پُرسکون ہو کر سونا چاہتا ہوں میں اُس ابدی زندگی کی طرف روانہ ہو رہا ہوں جہاں نہ کوئ غم ہو گا نہ کوئ پریشانی۔وہ تو پُرسکون ہو کر سو گیا اللہ کی رحمتوں میں مگر مجھے بے آسرا کر گیا مجھے تو اب ایسا لگ رہا ہے کہ اوپر چھت آسمان ہے آسمان تک مجھے کوئ آسرا دکھائ نہیں دیتا ہے ۔
    اب تو زندگی اُداس سی لگنے لگی ہے زندگی کی رونقیں ختم سی ہو گئ ہیں کیونکہ بچپن سے ماں اور باپ دونوں کا پیار ابو سے ہی ملتا تھا ماں تو بچپن میں ہی داغ مفارقت دے چُکی تھی اب تو ابو ہی ایک سہارا تھا وہ بھی داغ مفارقت دے چُکے ہیں ۔۔
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو اس دُنیا میں آتا ہے اُس کو یہاں سے جانا پڑتا ہے مگر کچھ یادیں کچھ باتیں انسان کے روح کو اثر انداز کرتی ہیں ۔میرے ابو تو چلے گئے مگر یادیں ایسی چھوڑ گیا کہ اُنہیں زندگی میں بُھلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اُن کی جدوجہد بھری زندگی کبھی بھولے سے بھی نہیں بھول سکتے۔میرے لئے وہ ایک جہاں تھا ایک دُنیا تھا کہ جس سے میں روٹھتا تھا اور وہ مناتا تھا ۔
    بچپن میں ۔میں ایک بار روٹھا تھا رات کے بارہ بجے تک میں میں ایک ڈرم میں چُھپا ہوا تھا اور وہ مجھے ڈھونڈ رہے تھے جب میں نا ملا تو وہ تھکے ہارے آکے کچن میں بیٹھ گئے تبھی مجھے بھوک لگی اور میں اُن کے سامنے نمودار ہوا ۔اُنہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور دیر تک چومتے رہے۔ تب جاکے میری امی اور ابو نے میرے ساتھ ساتھ کھانا کھایا اور پھر سو گئے۔ ایسے ہی بہت سارے واقعات جو میرے قلب وذہن کو بہت اثر انداز کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی یادیں ذہن سے جانے کا نام ہی لے رہے ہیں اور مجھے بہت تڑپا رہے ہیں اب بس اللہ سے یہ ہی دُعا ہے کہ اُنہیں جنت کے باغوں میں سے ایک باغ عطا کرے بس یہ خواہش ہے کہ جب بھی آخرت میں اُن سے ملاقات ہو تو وہ خوشی خوشی ہمارا استقبال کرے۔۔۔
    ۔آسمان اُن کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔۔۔۔

  • قربانی کی اہمیت و فضیلت   تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    قربانی کی اہمیت و فضیلت تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    عبیر عطاء الرحمٰن علوی
    قربانی کی اہمیت و فضیلت:
    ⦁ قربانی رسول کریمﷺ کا دائمی عمل، سنت مؤکدہ اور سنت ابراہیمی بھی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب استطاعت کو اس سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔
    (بخاری:5553، الصافات : 99 تا 108)
    ⦁ ایک آدمی ایک سے زائد قربانیاں کر سکتا ہے (بخاری: 5553)
    ⦁ ایک جانور پورے گھر والوں کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔(بخاری:7210)
    ⦁ کسی کو قربانی کے لیے جانور عطیہ کرنا جائز ہے ۔ (بخاری:5547)
    ⦁ جس شخص کو قرضہ ادا کرنے کی امید ہو وہ قرضہ لے کر بھی قربانی کر سکتا ہے اسی طرح استطاعت ہونے پر مقروض کے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
    (مجموع الفتاویٰ : 26/305)
    ⦁ قربانی کے لیے آدمی کا صاحب نصابِ زکوۃ ہونا ضروری نہیں کیوں کہ اس قید کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔
    ⦁ میت کی طرف سے قربانی: یہ مسئلہ اہل علم میں اختلافی ہے اور دلائل کے لحاظ سے قوی بات یہ ہےکہ میت کی طرف سے الگ جانور کی قربانی کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔ البتہ اپنی قربانی میں فوت شدگان کو اور دیگر قربانی نہ کرنے والوں کو دعا میں شامل کرنا ثابت ہے۔بعض لوگ رسول اللہﷺ کی طرف سے قربانی کرتے ہیں جب کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
    قربانی کرنے والوں کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کرنے والا عقیدہ توحید پر پختہ ہو، جس کے عقیدے میں شرک ہو اس کے اعمال مردود ہیں۔
    ⦁ خلوص سے قربانی کی جائے ، رضائے الٰہی مقصود ہو ، ریاء کاری سے اعمال برباد ہوتے ہیں ۔
    ⦁ رزق حلال ہو ۔
    ⦁ سنت پر کاربند ہو۔
    قربانی کے جانور اور ان کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کے جانور ’’بھیمۃ الانعام ‘‘ یعنی بھیڑ ، بکری، گائے، اونٹ (مذکر و مؤنث ) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر حلال جانوروں کی قربانی درست نہیں کیوں کہ وہ ثابت نہیں۔
    ⦁ بھینس کی قربانی میں علماء کا اختلاف ہے لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قربانی سے بچا جائے اور جو نبی کریمﷺ کے دور میں جانور ذبح ہوئے وہ میسر ہیں تو انہی کی قربانی کی جائے۔
    ⦁ قربانی کے لیے صحت مند ، خوب صورت، موٹے تازے جانوروں کا انتخاب کیا جائے۔(بخاری: 5565، ابوداؤد:2796) بخاری قبل حدیث :5553
    ⦁ سینگوں اور بغیر سینگوں ولے ، خصی ، غیر خصی جانوروں کی قربانی جائز ہے ۔ (ابوداؤد :2796، 2792، بخاری :5564)
    ⦁ حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے ، اس صورت میں بچہ زندہ نکل آئے تو اسے الگ ذبح کیا جائے گا، اگر مر چکا ہو تو ماں کا ذبح ہی اس کے لیے کافی ہے ، کسی کا دل چاہے تو وہ حلال ہے کھایا جا سکتا ہے۔(ابوداؤد :2827)
    ⦁ گائے میں 7 اور اونٹ میں 10 حصوں کی گنجائش ہے ایک شخص ایک سے زائد حصوں میں بھی شریک ہو سکتا ہے۔ (ترمذی :1511)
    ⦁ بعض لوگ گائے یا اونٹ میں کچھ حصے عقیقے کے ڈالتے ہیں جب کہ عقیقے میں گائے یا اونٹ ذبح نہیں کیے جا سکتے ۔ (بیہقی : 19280) اور جو لوگ اس کے متعلق روایات پیش کرتے ہیں وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابلِ حجت ہیں۔
    ⦁ قربانی کا جانور کم از کم دو دانتا ہو اس سے کم عمر کی قربانی جائز نہیں ، مجبوری کی صورت میں ایک سالہ بھیڑ کا بچہ ذبح کیا جا سکتا ہے۔ (مسلم :1963)
    ⦁ قربانی کا جانور عیوب سے پاک ہو، واضح لنگڑا ، واضح کانا، واضح کمزوری و نقاہت والا، کان کٹا (چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو) کان میں سوراخ ہونا سب عیوب ہیں۔ ان کی قربانی درست نہیں۔ (ابوداؤد:2803، نسائی :4381)
    قربانی کے ایام و اوقات:
    ⦁ قربانی کے تین دن اتفاقی ہیں چوتھے دن کی قربانی کے لیے دیکھیں صحیح الجامع الصغیر :4537۔
    ⦁ 10 ذوالحجہ کا دن قربانی کا افضل دن ہے۔ نبی ﷺ کا معمول بھی 10 ذوالحجہ کو قربانی کرنے کا تھا ۔ (بخاری :9690)
    ⦁ رات کے وقت بھی قربانی جائز ہے۔ (نیل الأوطار : 5/133)
    ⦁ قربانی کا وقت عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر کسی نے پہلے قربانی کر دی تو وہ قربانی نہیں ہو گی اسے اگر استطاعت ہو تو دوسرا جانور قربانی کے طور پر ذبح کرنا چاہیے۔(بخاری : 5563-5561)
    ⦁ بعض مقامات پر نمازِ عید کے وقت میں فرق ہوتا ہے لہٰذا جب قربانی کے جانور میں حصہ ڈالنے والے سب کے سب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں تو پھر جانور ذبح کرنا چاہیے اور جس حصے دار نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو اور اس کا جانور ذبح ہو گیا ہو تو اس کی قربانی نہیں ہو گی۔
    ذبح کے مسائل:
    ⦁ صاحب قربانی کا خود جانور ذبح کرنا افضل ہے ، البتہ ذبح کرتے ہوئے کسی دوسرے سے تعاون لینا جائز ہے۔ (بخاری:5565، مسند احمد:5/373)
    ⦁ صاحبِ قربانی کا موقع پر ہونا ضروری نہیں۔ (بخاری: 5559، 5548، مسلم:1218)
    ⦁ عورت بھی جانور ذبح کر سکتی ہے۔ (بخاری تعلیقا ً قبل حدیث :5559)
    ⦁ ذبح کرتے وقت جانور کا منہ قبل رخ کیا جائے (ابوداؤد :2795)
    ⦁ جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنا جائز ہے ۔ (ابوداؤد :1765)
    ⦁ جانوروں کو اچھے طریقے سے ذبح کیا جائے اور انھیں تکلیف سے بچایا جائے۔ (مسلم :1955)
    ⦁ جانور کو قبل رخ لٹا کر یہ دعا پڑھیں ’’ انِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا مُسْلِماً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ۔‘‘ ’’میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، یک سو اور فرماں بردار ہوتے ہوئے اور میں شرک کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت رب العالمین ہی کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سےبڑا ہے۔ اے اللہ یہ قربانی تیری ہر طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ (ابوداؤد : 2795، مسند احمد : 3/375) اس کے بعد کہے ’’ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی ‘‘ اے اللہ ! تو میری طرف سے اور میرے اہل خانہ کی طرف سے قبول فرما۔ (بخاری: 7399، مسلم :1967)
    قربانی کا گوشت:
    ⦁ قربانی کا گوشت خود کھائیں، فقراء و مساکین ، ہمسائیوں اور رشتے داروں کو کھلائیں۔ (الحج :27) چاہے زیادہ خود کھالے یا دوسروں کو کھلا دے ، ضرورت کے تحت اس کی صوابدید پر ہے۔
    ⦁ کسی کافر کو ، عیسائی کو تالیف قلب کے لیے قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے ۔ (فتاوی اسلامیہ : 2/427)
    ⦁ قربانی کا گوشت فروخت کرنا یا قصاب کو بطورِ اجرت دینا جائز نہیں۔ (مسلم: 1317)
    قربانی کی کھالیں:
    ⦁ کھالوں کا بھی وہی مصرف ہے جو گوشت کا ہے۔ لہٰذا قربانی کی کھالیں ذاتی استعمال میں لانا، صدقہ کرنا یا ہدیہ کرنا جائز ہے۔ (مسلم :1971)
    ⦁ قربانی کرنے والے کا کھال فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ وہ صدقہ کرے گا اور جس کو صدقے کے طور پر دی گئی ہے وہ فروخت کرسکتا ہے۔ (مسلم:1971)
    ⦁ قصاب کو کھال اجرت میں دینا جائز نہیں۔(مسلم:1971)
    صاحب قربانی پر پابندی:
    ⦁ قربانی کرنے والا ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد جس کے کسی حصے کے بال نہیں کٹوائے گا اور نہ ہی ناخن کٹوائے گا حتی کہ قربانی کر لے۔ (مسلم:1977)
    ⦁ کنگھی کرنے سے غیر ارادی طور پر بال گر جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
    ⦁ جو شخص قربانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس پر بال کاٹنے کی کوئی پابندی نہیں البتہ وہ اگر عید کے دن اپنے بال کاٹ لے ، ناخن تراش لے، مونچھیں کاٹ لے، زیر ناف بال مونڈ لے تو اسے بھی مکمل قربانی کا ثواب مل جائے گا۔(ابوداؤد :2789)

  • ماں وفاؤں کی جہدِ مسلسل   تحریر:جویریہ بتول

    ماں وفاؤں کی جہدِ مسلسل تحریر:جویریہ بتول

    ماں…وفاؤں کی جہدِ مسلسل…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    لفظ ماں زبان سے ادا ہوتے ہوئے بھی ایک گہرا احساس رگ و پے میں چھوڑ جاتا ہے…
    وہ ہستی جو ہم جیسوں کو نو ماہ پیٹ میں اُٹھا کر اذیتوں پہ اذیتیں سہتی ہے…
    مگر زبان پر شکوہ نہیں لاتی…
    پھر جنم دے کر اک ایک سانس کی نگرانی کرنے والی ماں بچے کی خوشی میں خوش اور دکھ میں نڈھال ہو جاتی ہے…
    جس کی رات کی نیند اور سکون،تمام ناز اور نخرے اس تربیتی توڑ پھوڑ کے بعد بکھر کر رہ جاتے ہیں اور وہ ایک نئی زندگی کے آغاز میں قدم رکھ دیتی ہے…
    اس کے رہنے سہنے کے انداز بدل جاتے ہیں اور اسے صرف ایک ہی غم ستائے رکھتا ہے کہ میری اولاد کسی نہ کسی طرح منزل سے ہمکنار ہو جائے۔
    باپ کماتا ہے گھر سے دور،بہت دور رہ کر بھی لیکن اولاد کی پرورش اور تربیت میں جس قدر قربانی ماں دیتی ہے، لاریب اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔
    خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو ماں کی عظمت کا احساس رکھتے ہیں اور دنیا میں موجود اپنی اس جنت کی عزت ،رفعت اور خدمت کا حق ادا کرتے ہیں۔
    لیکن فی زمانہ اس فکر میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے کہ ماں کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟
    بیٹے تو الگ رہے،بیٹیاں بھی ماں کی عظمت کو صحیح طریقہ سے سمجھ نہیں پاتیں۔
    ماں وہ شجرِ سایہ دار ہے جہاں دمِ آخر تک خزاؤں کا گزر نہیں ہوتا…
    پیار کا وہ سمندر جس کی گہرائی کو ناپنا ممکن نہیں ہے…
    جس کی روح میں محبت اور مہربانی کا خمیر گندھا ہوا ہے…
    انسانیت کا پہلا مکتب ماں ہے…
    پھول سے زیادہ مہک رکھنے والی ہستی،جس کی عظمت کی بلندی کو آج تک کوئی ماپ نہیں سکا…
    یہ ماں تو نام ہی ممتا،راحت،ٹھنڈک،سکون اور آسودگی کا ہے…
    جس کے بوڑھے ہاتھوں کا لمس چہرے پر تازگی اور سینے میں ٹھنڈ بھر دیتا ہے…
    میں اکثر جب بیمار ہو جاؤں تو کثرت سے مسنون دعائیں یاد ہونے کے باوجود خود دم کرلیتی ہوں لیکن حیرانگی کا عالم ہے کہ جب ماں ہاتھ پھیرتے ہوئے چند دعائیں ہی پڑھ دیں تو تپتے بخار سے بھی آنکھیں کھلنے لگتی ہیں۔
    یہ بات مجھے اس قدر شدت سے جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے اور زیادہ دعاؤں کے یاد ہونے کا فخر دم توڑنے لگتا ہے کہ واقعتًا دعا کی قبولیت،مقام،مرتبہ،پارسائی اور عظمت کو بھی دیکھتی ہے…
    اور ماں کے مرتبہ اور محبت پر آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔
    میں نے اس بات کو کثرت سے نوٹ کیا ہے…
    کوئی چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ ہو یا بڑے سے بڑا…
    اپنے تئیں بہت کچھ سمجھنے کے باوجود میں نے ماں کی دعا کے بغیر حل ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔
    ماں وہ بلند درجہ رشتہ ہے جسے دعاؤں اور مسیحائی کی قوت ملی ہے۔
    کتنی حیسن پکار ہے یہ ماں کہ جس کی ناراضگی جنت کی چابی گم کر دینے کے مترادف ہے…
    ماں محبت و اُمید کا رواں دریا ہے،جس کا غصہ صرف اور صرف وقتی ہوتا ہے، اس مطلبی اور بے مہر کھوکھلی دنیا میں رحم کا موجزن سمندر دل میں لیئے بہت جلد مان جانے والی ہستی ہے۔
    ماں کی تعظیم شاہ و فقیر تک سب کے لیئے یکساں لازم ہے۔
    دنیا میں بڑے سے بڑے مرتبہ پاکر بھی انسان اس ہستی سے غافل نہیں رہ سکتا…
    کہیں یہ حکم نہیں ملا کہ اگر تم بہت مصروف ہو جاؤ تو ماں باپ کو چھوڑ دو…
    نہیں…!!!
    ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہ آنے پائے،اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو ایسا بندوبست کرنا لازم ہے کہ والدین پریشانیوں کا سامنا نہ کرنے پائیں…!!!
    آج اکثریت تو پڑھائی اور نوکری کے نام پر سالہا سال والدین سے جدا رہتی ہے۔
    اگر چہ رابطے تو آسان ہیں مگر خدمت کا الگ معیار ہے…
    کئی لوگ شادی کرنے کے بعد ماؤں کو بوجھ تصور کر لیتے ہیں اور بیویوں کے بھڑکانے پر آئے روز ماؤں سے لڑائیاں کرتے اور توہین کے مرتکب ہوتے ہیں…
    کئی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں…
    کئی بد قسمت تو تشدد پر بھی اُتر آتے ہیں…
    العیاذ بااللہ بھاری بھرکم ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں…
    ایک دفعہ سنا تھا کہ ایک ڈگری ہولڈر بیٹے نے ماں کو گولی مار دی…
    یعنی کس قدر عدم برداشت کے رویے ہیں جو ہماری سوسائٹی میں ترویج پاتے جا رہے ہیں اور آج کی ہائپر اولاد اچھے،برے کی تمیز سے تہی دست دکھائی دیتی ہے۔
    جنہیں ان کی عظمت کا اعتراف ہے، انہیں تو ہے ہی…لیکن معاشرے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔
    منبر و محراب سے لے کر…درسگاہوں اور اعلٰی تعلیمی اداروں تک والدین کے مقام و مرتبہ کی اہمیت ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔
    زندگی کے کسی بھی موڑ پر ان کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے کی تربیت درکار ہے۔
    دین کے معاملے میں اگر والدین ہم نوا نہ بھی ہوں تو دنیوی معاملات میں ہر صورت حقوق ادا کرنے اور ساتھ نبھانے کی تعلیم ہے۔
    ان کی بات کو باقی تمام خواہشات پر فوقیت دینے کی ضرورت ہے…
    ان کی قربانی کے سفر کی لاج رکھنے کی ضرورت ہے…
    ان کی اُمیدوں پر پورا اترنے اور ان کی تھکاوٹ کو سکون سے ہمکنار کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اولاد اُن کی اُمیدوں پر پانی ہی پھیر دے…انہیں رُلا دے،تڑپا دے…!!!
    بات بے بات تنگ کرے،ناجائز اور ناممکن مطالبات کرے…
    یہ تمام چیزیں کسی بھی کردار اور خوشگوار زندگی کے لیئے گہرا ناسور ہیں…!!!
    وہ اپنا سب کچھ لٹا آتے ہیں اولاد کو جوانی کی دہلیز پار کرانے تک…!!!
    اپنی جوانی،اپنا مال،وقت اور صلاحیتیں سب نچھاور کر چکے ہوتے ہیں…
    ان عظیم محسنوں کے اسی مقام کی وجہ سے خالقِ کائنات نے عرش سے کہا:
    فلا تقل لھما اُفِِ ولا تنھرھما و قل لھما قولًا کریما¤
    [بنی اسرائیل:23)۔
    آہ جنہیں اف تک نہ کہنے کا حکم ملا تھا۔
    جن سے بات بھی انتہائی باادب اور عاجزانہ لہجے میں کرنا تھی،ہم انہیں جھڑکتے ہیں…؟؟
    وہ ہاتھ جو نرمی سے ہمارے گالوں اور سروں پر پھیرے جاتے تھے ہم انہیں جھٹکتے ہیں؟
    جو تھپکیوں سے ہمیں سکون فراہم کرتے تھے نوجوان اولاد ان پہ ہاتھ اُٹھا لے…
    یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟
    سفرِ زندگی میں چلتے چلتے اکثر ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ کئی والدین کی طرف سے عدم مساوات اور تفریق کا رویہ سامنے آتا بھی ہے تو بہر حال اولاد کا فرض ہے کہ وہ درگزر کرے،خاموشی اختیار کر لے…
    اللّٰہ تعالٰی ضرور راہیں کھول دیتا ہے،دلوں کو بدلنا اسی کی قدرت ہے…!!!
    لیکن اولاد والدین کے مقام و مرتبہ پر سودے بازی کبھی اور کبھی نہ کرے…!!!
    اپنے بازو جھکائے رہے…
    اپنے ہاتھ پھیلائے رہے…
    دعاؤں کی سوالی رہے…
    ترشی و بد اخلاقی کو چھوڑ دے…
    شکوؤں اور غلط حرکات سے خود کو بچائے رہے…
    کوئی معذرت بھی کرنا چاہے تو نہایت عمدگی و نرمی سے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    بے شک اللّٰہ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،
    پھر تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،،
    پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے…!!!(رواہ البخاری فی الادب المفرد)۔
    ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم…!!!
    میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
    آپ نے فرمایا:
    تیری ماں…
    پوچھا اس کے بعد؟
    فرمایا:
    تیری ماں…
    پھر پوچھا اس کے بعد کون؟
    فرمایا:
    تیری ماں…
    اس نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟
    فرمایا:
    تمہارا باپ…!!!
    (صحیح بخاری کتاب الادب)۔
    اللّٰہ اکبر…
    اتنی بھاری ذمہ داری کو آج اولاد کیسے نبھا رہی ہے؟
    اہلِ دانش پہ کچھ پوشیدہ نہیں ہے…!!!
    یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے…
    یاد رکھیں کہ والدین کے جھڑیوں زدہ چہروں پر آنسو جھلملاتے اچھے نہیں لگتے بلکہ ان کی دور اندیش آنکھوں میں خوشی کی چمکتی کرنیں بھلی لگتی ہیں اور اس کا احساس ہم میں سے ہر اولاد کو اپنے دل اور کردار میں بیدار کرنا ہو گا…!!!
    کہ ماں:
    تری محبتوں کے بحر وبر…
    تری اداؤں کے سب ثمر…
    تری وفاؤں کا یہ سفر…
    کیسے ہو مجھے اس سے مفر…؟
    تیرا ضبط و ربط کمال ہے…
    ترا لہجہ حُسن و جمال ہے…
    افکار بلند،ارفع خیال ہے…
    ترے مقام کو نہ کوئی زوال ہے…!!!
    ترے گزرتے پَل زندگانی کے…
    اور مٹتے آثار جوانی کے…
    ترے لڑھکتے قدموں میں مگر…
    رنگ عزم کی جولانی کے…!!!
    ہر سانس کے سنگ تو…
    دے جو دعاؤں کی خوشبو…
    ترے کپکپاتے ہونٹوں پہ…
    لکھی ہے جو تحریرِ آرزو…!!!
    تو اولاد کے درد کی رہی درماں…
    تو بلاؤں کی زد سے ہے اماں…
    ترے لہجہ کا ہے انداز ہی اور…
    تو بدلے سے بے پرواہ ہے "ماں”…
    ماں تری وفاؤں کا چاہیئے ساتھ…
    ماں کیسے کٹے سفر یہ خالی ہاتھ…؟
    ترے مشوروں کی جاری رہی گر برسات…
    تو ماں یقیں ہے سدھر جائے گی ہر بات…!!!
    ترے دامن کو تو جو جھٹک کر چلیں…
    سچ ہے کہ ہر گام وہ ہاتھ ہی مَلیں…!!!
    ماں ترے بن ہو کیسے صرف اک دن…؟
    ماں یہ خیال ہی تڑپائے روح وبدن…!!!
    ماں مری زندگی کا ہر لمحہ رہے ترے نام…
    ماں بس ترے ہی سنگ گزریں… میری زندگی کے یہ صبح و شام…
    ماں بس تری دعاؤں کی پونجی میری ہم سفر ہو…
    ماں یقیں ہے کہ پھر کسی بَلا کا نہ گزر ہو…!!!
    یاد رکھیں کہ ماں باپ کی مسرتیں اور خوشیاں پوشیدہ ہوتی ہیں،اور وہ اپنے غموں اور اندیشوں کا اظہار بھی نہیں کرتے…!!!
    ان کے بے غرض دامن میں برکتیں ہی برکتیں ہوتی ہیں کہ جہاں شبنم گرے تو لعل بن جائے اور پتھر قیمتی جواہرات…!!!
    ان کی دعاؤں سے تہی دست انسان کچھ بھی نہیں…ہاں کچھ بھی نہیں…
    اور یہ درد شدت بن کر تب ستاتا ہے اور ضمیر پر گہری ضربیں لگاتا ہے کہ جب یہ ہمیں چھوڑ کر کہیں دور منوں مٹی تلے تھک ہار کر سوجاتے ہیں…
    خدارا…ان کی قدر کیجیئے کہ یہ امتحان تھوڑے وقت کے لیئے ہوتا ہے لیکن اس کے مثبت یا منفی نتائج بہت طویل ہوا کرتے ہیں…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور
    عمر یوسف

    احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین و تبع تابعین عظام رح نے عورتوں کو پیغام نکاح بھیجا ۔۔۔ بعض کا پیغام نکاح قبول کرلیا گیا اور بعض کا رد کردیا گیا ۔۔۔

    یہاں دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ کہ اگر آپ کو کوئی عورت اچھی لگتی ہے پر کشش ہے مال کے اعتبار سے حسن و خوبصورتی کے اعتبار سے منصب و مقام کے اعتبار سے تو بجائے اس کے بارے میں برے خیال پالنے کے یا اس کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کے منصوبے بنانے کے آپ کسی بڑے کے ہاتھوں نکاح کا پیغام بھجوا دیں ۔۔۔

    ان کو مناسب لگے گا تو وہ ہاں کردیں گے اور مناسب نہ لگے گا تو وہ نہ کردیں گے ۔۔

    اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن بزرگوں کا پیغام نکاح رد کردیا گیا اور شادی کی پیشکش ٹھکردی گئی ان کے بارے میں ذخیرہ حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ وہ پاگل و مجنون بن گئے یا خود پر عاشق ہونے کا لیبل لگا گلی گلی کی چھان چھاننے لگے ۔
    بلکہ انہوں نے صبر کا دامن پکڑا اور کسی اور سے شادی کرلی ۔۔۔

    ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے بہت ہی غلط تصورات رائج ہیں ۔۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے تصور محبت کو ہی گناہ عظیم گردانا جاتا ہے اور اور اس طرح کے معاملے پر دونوں پر تشدد کیا جاتا ہے ۔۔
    یہ بات سمجھنے کے قابل ہے انسانی فطرت کے ہاتھوں اگر کوئی مجبور کسی کو پسند کر بیٹھے تو فرعون نہیں ہے اس کا مطلب وہ بھی ایک سادہ انسان ہے جو جذبات رکھتا ہے اگر کوئی اس کے دل کو بھا رہا ہے تو یہ عین فطرتی عمل ہے ۔۔۔

    موجودہ معاشرے میں اگر کوئی پیغام نکاح بھیج دے تو اگر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا جائے تو پھر ایک منفی رد عمل سامنے آتا ہے لڑکی خود کشی کرنے کی کوشش کرتی ہے لڑکا بھی نس کاٹ لیتا ہے یا منشیات کا عادی ہوجاتا ہے ۔۔۔
    جو بالکل جاہلانہ رد عمل ہے یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صبر کے علاوہ کوئی چارا نہیں۔۔
    چاہیے تو یہ کہ بندہ کوئی دوسری لڑکی ڈھونڈ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمان کو بھی سمجھے جو اس صورت حال میں رہنمائی کرتا ہے کہ جب تمہیں کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئے اور تمہارا نفس تم کو تنگ کرنا شروع کردے تو فورا اپنی بیوی کے پاس آجایا کرو کیونکہ جو کچھ اس خوبصورت لڑکی پاس ہے وہی کچھ تمہاری بیوی کے پاس ہے ۔۔۔۔
    اب اگر کوئی خوبصورت لڑکی پیغام نکاح رد کررہی ہے تو دوسری عورت جو بکاح کا پیغام قبول کرے گی اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس خوبصورت عورت کے پاس ہے ۔۔۔
    اور انسان کی نیت یہ بھی ہونی چاییے کہ اگر میں فساد و برائی سے بچتے ہوئے کسی خوبصورت لڑکی کو چھوڑ رہا ہوں تو اللہ اس پر عظیم اجر دینے پر قادر ہے دنیا میں ایسی بیوی دے دے جو وفا شعار ہو اور آخرت میں ایسی حوریں جو بے مثال ہو ۔۔۔

    برائی و فحاشی پر مبنی محبت ، محبت نہیں ہوتی یہ محض شیطانی بہکاوے ہیں جو انسان کی جوانی کو برباد کرنے اور اسے نکما و نکھٹو بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔

    اللہ ہمیں پرفتن دور میں رشتہ ازدواج کو اپنانے سمجھنے اور عمل کی توفیق دے ۔

  • عبادت میں سودے بازی؟ استغفر اللہ   از قلم: مسز ناصر ہاشمی ، بنت ربانی

    عبادت میں سودے بازی؟ استغفر اللہ از قلم: مسز ناصر ہاشمی ، بنت ربانی

    عبادت میں سودے بازی؟….استغفر اللہ

    از قلم: مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی)

    چھن چھن چھن۔۔۔گلے کی گھنٹیوں کے ساتھ پاؤں میں پڑے گھنگھرو کی آواز نے گاوں کے لڑکوں بالوں کو ہی نہیں بلکہ بڑے ،بوڑھوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا۔چھوکریاں اور ساتھ میں ان کی نانیاں دادیاں بھی بالکونیوں کے پردے ہٹا ہٹا کر نیچے جھانکنے لگیں۔
    ” شیرو” نامی بھاری بھرکم بیل تھا ہی اتنا خوبصورت۔
    ساہیوال کی اعلی نسل کا یہ بیل چھیدا پہلوان نے عید کے موقع پر قربان کرنے کے لیے خریدا تھا۔کتنے کا ہتھایا ہے بھائی؟ کسی نے پوچھنے کی جرات کی۔بس۔۔۔۔۔15 لاکھ کا چھیدا مونجھروں کو تاو دیتے ہوئے بولا۔جھوم جھوم کر لایا گیا بیل اس نے اپنی حویلی میں موجود باڑے میں باندھ دیا۔اور حویلی کا مین گیٹ کھول دیا تا کہ آنے والے اس کا اچھے طرح نظارہ بلکہ معائنہ کر سکیں۔گاوں کے وڈے وڈیرے اسے حسد سے دیکھ رہے تھے اور کمی کمین مزارع حسرت سے۔
    اس طرح کا نظارہ اس وقت بھی دیکھنے کو ملا تھا جب چھیدا پہلوان اپنے خاندان کے ہمراہ ساتواں حج کر کے لوٹا تھا۔ڈھول کی تھاپ پر رقص اور اس کی اکڑی ہوئی گردن میں پھولوں کے ہار دیکھ کر بہت سے لوگ جل رہے تھے اور چھیدا ان کی دلی کیفیت کو محسوس کر کے خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔
    گاوں کی آدھی زمین پر قبضہ کرنے،غریب مزارعوں کو اپنا غلام اور ان کی لڑکیوں کو مال مفت سمجھنے کے بعد 9 حج اور 5 عمرے کر چکا تھا۔بیت اللہ سے زیارت کرنے کے بعد وہ ہر سال قربانی بھی کرتا اور نمازیں بھی پڑھنے لگا تھا۔مگر اس شعر کے مصداق
    مسجد تو بنالی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں سے نمازی بن نہ سکا
    نماز میں بھی آن بان قائم تھی۔بوسکی کا قیمتی لباس پہنے سر پہ رنگ برنگی دستار،ہاتھ میں قیمتی موتیوں کی تسبیح پہلی صف میں نماز پڑھنے کے بعد جب وہ باہر نکلا تو مسجد کے دروازے پر میلے کچیلے کپڑوں، پراگندہ بالوں،پریشان حال غریب مزارع نے صدا لگائی،سائیں سرکار!!بابا کو فالج ہو گیا ہے۔۔۔۔دو بہنوں کی شادی۔۔۔۔۔گھر میں فاقے۔۔۔۔چھیدا پہلوان نے اسے گھوری ڈالی اور پرے دھکیلنے ہوئے بولا میں نے تمہارا ذمہ نہیں لے رکھا۔
    چند دنوں بعد ایک خبر نے سب لوگوں کو حیران کر دیا۔اچانک دل کے دورے سے چھیدا پہلوان انتقال کر گیا۔کوئی آنکھ اس کے لیے دل سے اشکبار نہ تھی۔جنازے میں شامل لوگ وڈے وڈیرے جاگیر، لمبی لمبی مونچھوں کو تاو دیتے ایسے ساتھ چل رہے تھے جیسے کسی مصیبت کو گلے سے اتارنے جا رہے ہوں اور جنہیں شاید سورہ فاتحہ تک نہ آتی تھی۔لاکھوں کا مال یتھیانے والا انسان اکیلا دنیا سے جا رہا تھا۔اور پھر قبر اور بعد میں دوزخ کے فرشتے اسے بیڑیاں پہنائے گرز مار مار کر جہنم کی طرف دھکیل رہے تھے اور ساتھ میں پوچھ رہے تھے کیا تمہاری طرف” ہادی” کی یہ آواز نہیں پہنچی؟
    "اللہ تعالی کو ان (جانوروں) کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اسے تو اس (شخص) کا تقوی پہنچتا ہے۔”
    کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ:
    ” حج کے لیے زادراہ لے لو اور بہترین زادراہ تقوی ہے”
    اور یہ بھی نہیں سنا تم نے:
    ” بےشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”
    کیا تم حقوق اللہ اور حقوق العباد سے نابلد تھے؟؟
    لیکن۔۔۔۔۔چھیدے پہلوان کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔
    عبادت میں سودے بازی سے اسے مہنگی پڑ چکی تھی۔۔۔

  • ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں  تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں

    #تحریر عشاء نعیم

    چاچا رحمت ! سنیا ای کچھ
    نئیں، کی ہویا؟ چاچا نے پوچھا
    چاچا اسلام آباد میں حکومت اپنے خرچے پہ مندر بنا رہی ہے ۔
    کیا کہہ رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی (چاچا رحمت اللہ جو نوے سال کا بوڑھا تھا کمر پہ ہاتھ اور جھکا ہوا تھا ایک دم اوپر ہوا )
    شاید تو ہندوستان کی بات کر رہا ہے وہاں حکومت مندر بنا رہی ہے ؟
    نئیں نئیں چاچا !
    پاکستان کی حکومت مندر بنا رہی ہے ۔( کریمو نے پھر بات دہرائی)
    چاچا نے جھریوں سے بند ہوتی آنکھوں کو کھولا اور پھر پوچھا مندر گرا رہی ہے حکومت اسلام آباد میں؟
    کریمو اس بار بلند آواز سے بولا
    چاچا ! پاکستان کی حکومت اسلام آباد میں اپنے خرچے پہ مندر بنارہی ہے ۔
    اب جو آنکھیں جھریوں سے چنی چنی لگتی تھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں
    جھکی کمر ایک دم جیسے سیدھی ہو گئی ۔
    چاچا کھڑا ہو گیا
    کہتا
    کیا کہتا ہے کریمو ؟
    یہ کیسے ممکن ہے ؟
    کیا بھارت نے پھر اللہ نہ کرے قبضہ کر لیا ؟
    مجھے کیوں کچھ پتہ نہیں چلا ؟
    میں اتنا تو بے خبر نہیں ابھی ۔
    کریمو نے دیکھا چاچا رحمت کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے اور جسم جیسے کانپنے لگا
    اس نے چاچا رحمت کو پکڑ کر بٹھایا، پانی پلایا
    اور کہا حوصلہ کر چاچا ایسا کچھ نہیں ہوا
    پاکستان پہ اللہ نہ کرے کسی نے قبضہ نہیں کیا ۔
    فیر یہ مندر کیوں بنا رہے ؟
    چاچا نے پوچھا
    کریمو نے جواب دیا
    چاچا !بس باہر سے جو مطالبہ ہوتا ہے حکومت وہی کرتی ہے ۔
    ہماری کون سنتا ہے۔
    اب چاچا رحمت ذارو قطار رونے لگا اور کہنے لگا
    کریمو!اگر یہاں بھی ہم نے خود مندر بنانے تھے تو پھر میری تین جوان بیٹیاں، دو بیٹے ۔ان کے 4 بچے ،میری بیوی سب میں نے کیوں کٹوایا؟
    صرف ایک پتر بچا تھا جسے میں لے کر پاکستان پہنچا
    سارے راستے میں اپنے پیاروں کے صدقے دیتا آیا ۔
    رشتہ دار بھی گاجر مولی کی طرح کاٹے انھوں نے ۔
    اور وہ ۔۔۔۔۔
    اس کے بعد چاچا سے بات نہیں کی جارہی تھی ۔
    کریمو نے کندھے پہ ہاتھ رکھا حوصلہ دیا اور پوچھا
    وہ کیا چاچا ؟
    چاچا بڑی دیر بعد سنبھلا اور بولا
    وہ میری بہن، جسے ہندو پکڑ کر لے گئے ۔۔۔ ۔
    جس کا آج تک نہیں پتہ کہاں گئی ۔۔۔زندہ ہے یا مر گئی ۔۔
    چاچا کی حالت بری ہو گئی تو کریمو نے کہا
    چاچا آرام کر ،پھر بات کریں گے ۔امید ہے مندر نہیں بنے گا ۔لوگ کافی بول رہے ہیں تو پریشان نہ ہو ۔۔۔
    لیکن چاچا رحمت کا تو دل ہی پھٹ گیا تھا ۔۔
    وہ ماضی میں کھو گیا اور 1947 میں پہنچ گیا
    جب وہ اور محلے دار گھر سے راتوں رات مارے خوف کے قافلہ بنا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔
    اس کی آنکھوں کے سامنے مناظر تھے ۔
    جب قافلہ چل رہا تھا تو ست سری اکال کے نعروں کے ساتھ برچھے ، نیزے بھالے نمودار ہوئے اور پھر نہتے مسلمان کٹنے لگے ،بچے نیزوں میں پروئے جانے لگے، ماوں کی چیخوں سے آسمان بھی کانپنے لگا ،اور ان چیختی ماوں اور جوان لڑکیوں کو بھی کاٹا جانے لگا ،کچھ کی عزت آنکھوں کے سامنے لٹی جن میں چاچا کی اپنی بہن بھی شامل تھی اور پھر اسے اور کچھ اور کو مال مفت کی طرح ساتھ لے گئے اور ماں باپ صدمے سے چور روتے پیٹتے پاکستان کی طرف چل پڑے، کچھ غم سے مر گئے ۔اور چاچا کے بھائی اور ماں باپ اگلے حملے میں کٹ گئے۔
    اور ان کے دوست نے بھی ایک دوست متین الرحمن کا واقعہ سنایا کیسے پاکستان پہنچا۔
    وہ بتاتا ہے وہ قافلے کی صورت میں پاکستان چل پڑے کہ
    کسی حادثے یا واقعے کے سبب بھگڈر مچی اور بدقسمتی سے قافلہ 2حصو ں میں بٹ گیا۔ ایک میں والدین، تیسرے چھوٹے بھائی اور بہن اور دوسرے حصے میں متین الرحمن اور ان کا بھائی معین تھے، جنہوں نے قریبی گاؤں کی جانب سفر شروع کردیا۔ اب دوسرے قافلے کی کوئی ترتیب اور حفاظتی اقدامات نہ تھے، مردوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ نہتے بھی تھے۔ رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی۔ غیر ہموار سا میدانی راستہ، جگہ جگہ جھاڑیاں کٹی ہوئی تھی اور کٹے ہوئے سرکنڈوں کے گٹھے تھے۔ سرکنڈوں کے درمیان سے گزرنا دشوارتھا کیونکہ ہاتھوں اور چہروں پر خراشیں آرہی تھیں۔ اچانک ایک موٹر کی آواز سنی جس سے قافلے میں بھگدڑ مچ گئی لوگ افراتفری میں جھاڑیوں کے اندر کود کر چھپنے لگے۔ سلطا ن چاچا(محلے دار) نے لڑکوں (متین، معین اور چاچا کا بیٹا امین اللہ) کو زمین پر لٹا کر سر کنڈوں کے گٹھے بگھیر دیے۔ جب موٹر کی آواز غائب ہوئی، لڑکوں کو نکالا گیا تو سرکنڈوں کی چھال کی پھانسوں سے جسم کے کھلے حصوں پر خراشیں آچکی تھیں اور کہیں کہیں سے خون رس رہا تھا۔ سحرکے قریب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے متین الرحمن لکھتے ہیں کہ اب ہمارا سفر نہر کے کنارے کسی سڑک پر ہورہا تھا۔ کہ اچانک پیچھے سے ایک دلدوز چیخ ابھری۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو چچی (محلے دا ر کی بیوی)5,4 سکھوں کے نرغے میں تھی۔ چچی نے نہر میں چھلانگ لگادی تھی اور ایک سکھ بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچ رہا تھا۔ چچا تیزی سے واپس بھاگے اور ایک سکھ کا گنڈاسہ چھین کر بالوں سے کھینچنے والے سکھ پر حملہ کر دیا۔ باقی سکھوں نے چچا پر حملہ کر دیا۔ قافلے کے کچھ لوگ چچا کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور دو بدو لڑائی ہوئی، قافلے میں بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ صبح کا اجالا پھیلنے پر قافلے کا سفر از سر نو شروع ہوا لیکن اس میں مجھے نہ چچا دکھائی دیے اور نہ چچی۔ سورج چڑھ آیا توغالباََ وہ گاؤں دکھائی دیا جو منزل تھی۔ گاؤں میں داخل ہونے والی گلی کے قریب پہنچے تو ’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ والی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ گلی سے ننگی پنڈلیوں تک پیلے رنگ کے چغوں میں ملبوس اکالی سکھوں کا جتھا برآمد ہوا جن کے ہاتھوں میں خون آلود تلواریں تھیں۔ کپڑوں اور ہاتھوں پر خون کے دھبے لیے وہ ست سری یا کال اور دوسرے نعرے لگا رہے تھے۔ ڈرے سہمے بچے کچے قافلے کو گھیرے میں لے کر گاؤں سے کچھ دور ہٹایا گیا۔ اکالیوں میں ایک سکھ ڈھول پیٹ رہا تھا، کبھی کبھی سنکھ بجایا جاتا۔ قافلہ سوچ رہا تھا کہ سکھ اب انتظار کس کا کررہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور پھر اس سے شعلے اٹھنے لگے۔ فضا میں نا گوار سی بو پھیلنا شروع ہوئی جو لاشوں کے جلنے کی بو تھی۔ پاکستان کی آزادی کی قیمت ادا کرنے والے ان گمنام جانثاروں کے خون اور گوشت کے بھننے کی بو جو محض مسلمان ہونے اور پاکستان کے تصور سے ہمدردی کے جرم میں جل رہے تھے، فضا دہشت ناک ترین اور جنونی انداز میں پیٹے جانے والے ڈھول کی لرزہ خیز آواز، دھوئیں، آگ، جلتی لاشوں کی بو، بستی راکھ، بھوک سے ہلکتے بچوں کی آوازیں اوراکالیوں کے نعروں سے معمور تھی۔ سنکھ کی کریہہ آواز میں اضافہ ہوا اور ایک سکھ نے نو عمر ماں کی گود میں شیرخواہ بچے کے پیٹ میں تلوار کی نوک جھونکی اور بچے کو نوک شمشیر پر فضا میں بلند کر دیا۔ ننھی سی جان سے خون کا فوارہ ابلا، ممتا تلوار کی نوک پر لٹکے بچے کو چھیننے کے لیے جھپٹی تو دوسری تلوار نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد خوفناک رقص شروع ہوا۔ ہر طرف تلواریں اور ان سے کٹتے ہوئے جسم دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے پر گررہے تھے۔ ہم دونو ں بھائی دوسروں کے خون میں نہا چکے تھے لیکن مجھ میں ایک دو منٹ سے زیادہ اس کیفیت کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ مجھ پر کوئی گرا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو ایک لاش کے نیچے میرا سر دبا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنا سر اور ریت سے دبا ہوا اپنا چہرہ نکالا، گرم ریت سے منہ، ناک اورآنکھوں میں اذیت ناک جلن ہو رہی تھی۔ طبیعت سنبھلی تو معین کی تلاش شروع کی جو کہ قریب ہی لاش کے نیچے نیم بے ہوشی میں دبا ہوا تھا۔ منظر دیکھا تو ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کچھ زخمی تھے لیکن چلنے پھرنے سے معذور اور بری طرح زخمی تھے۔ ہمیں دیکھ کر زخمیوں نے پانی مانگا قریبی کھیت میں پانی دینے والا نالہ تھا۔ جس میں قمیض ڈبو ڈبو کر ان زخمیوں کے منہ میں نچوڑتے رہے۔ کئی زخمیوں نے پانی پی کر ہمارے سامنے آخری ہچکی لی۔ متین الرحمن لکھتے ہیں کہ ’آخری ہچکی لے کر زندگی کا سفر ختم کردینے کا غم انگیز منظر ذہن کو کیسا ماؤف کر دینے والا ہوتا ہے۔ اس تاثر کو میں آج تک فراموش نہیں کر سکا‘۔ اس کے بعد متین الرحمن اور ان کے بھائی زندہ دفن ہونے سے بچے اور ایک کھیت میں کچھ عرصہ اذیت ناک حالات میں چھپ کر گزارا۔ سکھوں کے ہاتھوں زخم کھائے، پھر ایک سکھ کی پناہ میں آئے اور پھر اسی سکھ کے غلام بننے سے بچے اور آخر کار ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے جہاں انہیں انار کلی مشہور جوتوں کی دکان چاؤلہ بوٹ ہاؤس کے مالک نیک دل شخصیت شیخ افتخار الدین نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد یہ اپنے والدین سے مل گئے۔
    یہ کہانی صرف ایک متین الرحمن کی نہیں بلکہ 1947ء کا سال پاکستانیوں کے لیے بھرا پڑا ہے ان ہولناک و درد ناک واقعات سے ۔
    ایسے ایسے واقعات کہ دل پھٹ جائے ۔
    چاچا رحمت روتے روتے تقریبا بے ہوش ہو گیا ۔
    کریمو نے اسے چپ کروا کر پانی پلایا اور کہا چاچا ہم ہیں ناں آپ کے بیٹے ہم نہیں بننے دیں گے یہ مندر ۔
    چاچا رحمت پھر بولا کریمو !ہم نے پقکستان اپنے خرچے پہ مندر بنانے کے لیے عزتیں،لٹوائی تھیں ؟
    بھائی ،بہن ہر رشتہ ،جائیداد سب کچھ قربان کیا تھا ؟
    کریمو نے کہا چاچا وہ کہتے ہیں یہ مذہبی رواداری ہے ۔
    چاچا بولا
    اوئے کریمو ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور عام معافی کا اعلان کیا تو کیا آپ نے مکہ کے مشرکین کے لیے کوئی بت کدہ بنایا تھا ؟
    کیا مدینہ کے یہودیوں کے لیے کوئی معبد بنایا تھا ،کیا آپ نے عیسائیوں کے لیے کوئی گرجا بنایا تھا ؟
    نہیں ناں؟
    تو آج کا مسلمان رحمت العالمین سے بڑھ کر کیسے رحیم ہو گیا ؟
    یہ لوگ ان سے بڑھ کر انسانیت کو جانتے ہیں؟
    اللہ سے بڑھ گئی ان کی عقل یا ان کا رحم ؟
    کریمو بولا سچ کہہ رہا ہے چاچا تو ،پریشان نہ ہو ان شا اللہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
    ہم پرتھوی کے بیٹے نہیں
    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں ،ہم بت شکن ہیں ۔
    ہم سومنات توڑنے والے کبھی مندر نہیں بننے دیں گے ۔
    چاچا کو کچھ حوصلہ ملا اور نم آنکھوں سے دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا ۔

  • جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے  تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے

    رُخ بہار پہ یہ بانکپن یونہی تو نہیں

    جشن آزادی۱۴ اگست۱۹۴۷ کی یاد تازہ کرتے چلیں۔۔۔

    تحریر: ساجدہ بٹ

    میرا دلکش وطن لہلہاتا چمن قربان ہے اس پر ہمارا من و تن سرحدوں پر کھڑے ہیں وطن کے سپاہی کہ کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے میرے وطن کو کیوں کہ شامل ہے اس میں میرے آباؤ اجداد کی قربانی۔۔۔۔
    تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ برصغیر پاک وہند میں دو قومیں آباد تھیں جن کا نسب العین ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھا۔۔۔۔
    ایک طرف انگریز کی نظر میں مشکوک تھے تو دوسری جانب ہندوؤں کی مخالفانہ اقدامات کی زد میں تھے۔
    گویا مسلمان چکی کے دو پاٹوں میں پھنس چکے تھے اور ان کے وجود کو شدید قسم کے خطرات لاحق تھے ان حالات میں لامحالہ مسلمانوں میں اپنے وجود کی بقا کی خاطر قومی وحدت کا وہ احساس اُجاگر ہونے لگا جو مدت سے ان کے لاشعور میں پنہاں تھا۔پھر اس الگ قومی تصور کی بنیاد پر انہوں نے ایک متحد اور منظم جدوجھد کا آغاز کیا تا کہ اپنی طرز زندگی اور ثقافت کو مٹنے سے بچایا جائے اور مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کی جائے۔۔
    ہندوؤں کے ظالمانہ اقدامات سے مسلمان اس حد تک مایوس ہو چکے تھے کہ وہ اپنے لیے الگ راستہ اپنانے پر مجبور ہو گئے اس مُشکِل گھڑی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مسلمانوں کو اتحاد،تنظیم اور فعالیت کی اشد ضرورت تھی۔
    اس صورت حال اسلام ہی ان کے اتحاد کا موثر ذریعہ اور سہارا تھا اس لیے ہمارے قائدین نے اسلامی قومیت کی ترویج پر بھرپور توجہ دی۔۔۔۔۔
    مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے والے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح تھے
    جن کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہونے لگا مسلمان آپ پر اعتماد کرنے لگے عوام کی بڑی تعداد مسلم لیگ پرچم تلے جمع ہونے لگی ۔۔۔۔
    رفتہ رفتہ کئی قرار دادیں پاس ہونے لگی اور جلد ہی بڑی طاقت انگریز اور ہندوؤں کی سمجھ میں آ گیا۔ دو الگ نظریات کی حامل قومیں ایک ساتھ نہیں رھ سکتیں۔۔۔۔
    بات مختصر کرتے چلیں۔۔۔۔۔
    کہ اس پاک وطن میں جس ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ آج جو ہم کشمیر کی حالت زار دیکھ رہے ہیں بلکل اسی طرح کی غلامی میں اسی طرح کی اجیرن زندگی ہمارے آباؤ اجداد بسر کر رہے تھے اسی طرح اپنے لاکھوں جگر گوشوں کو قربان کیا اسی طرح ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں نیلام ہوئیں کئی بہنوں کے سہاگ اُجڑ گئے خون کی ندیاں بھیں ۔۔۔۔۔
    ہمارے بزرگوں نے آزادی کے حصول کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے جی قارئین کرام۔۔۔۔۔
    بلکل بلکل بلکل اسی طرح جیسے آج کشمیر میں خون بہہ رہا ہے آزادی کے لیے تڑپ رہا ہے پر کوئی سننے والا نہیں ۔۔۔
    میرے عزیز ہم وطنو یہ ہی حال ہمارے آباؤ اجداد کا کیا گیا تھا وہ بھی اس طرح سسک رہے تھے لیکن اُن میں متحدہ اور منظم ہونے کی خوبی پائی گئی تھی
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
    ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
    ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے
    اُس وقت مسلمان پرامید تھے اور ساتھ ہی ساتھ
    ایک سچا اور امانت دار لیڈر مل گیا تھا جسے ذاتی مفادات سے کوئی غرض نہیں تھی جسے شہرت نہیں چاہیئے تھی جسے دولت نہیں چاہئے تھی جسے صرف اقتدار نہیں پیارا تھا۔۔۔۔
    اُس عظیم الشان لیڈر کو تو بس مظلوم کا ساتھ دینا تھا مظلوم کا بازو بننا تھا حقوق انسانیت سے دنیا کو آگاہ کرنا تھا صرف سیاست جیسی آنکھ مچولی نہیں کھیلنی تھی ۔۔۔۔۔۔
    بلکہ ڈٹ گئے اپنے مقصد میں لگا جان کی بازی پھر حاصل ہوا یہ پیارا وطن جس میں اب ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں دنیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ

    سنو دُنیا والو!!!!!!…………
    ہم ہیں پاکستانی ہم ہیں آزاد ملک کے باسی۔۔۔۔۔۔
    آج اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر تلاش کرنا ہو گا ویسی متحد قوم بننا ہو گا جیسی 14 اگست1947 کے وقت تھی پھر دیکھیں کیسے ہوتا ہے بحران آٹے کا ،کیسے چینی ذخیرہ ہوتی ہے ،کیسے قیمتوں میں اضافے ہوتے ہیں کیسے جرأت ہوتی ہے قوم کے افراد کی کہ وہ مہنگائی کریں پیٹرول چھپا لیں ۔۔۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر ہو تو کیونکر ممکن ہے کشمیر آزاد نہ ہو ،کیونکر ممکن ہے کہ کشمیر پاکستان نہ ہو
    بس افسوس کہ اُن کے بعد اُن جیسا لیڈر نہیں مل پایا ورنہ مظلوم کا آج یہ حال ہر گز نہ ہوتا ۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں شعر عرض ہے۔۔۔

    کوئی تصویر نہ اُبھری تیری تصویر کے بعد

    ذہن خالی ہی رہا کاسہ سائل کی طرح
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ میرے وطن کی رونقیں سلامت رہیں پاکستانیوں میں متحدہ و منظم رہنے کی توفیق عطا فرما میرے وطن کو دشمنوں سے محفوظ فرما یا رب العزت میرے وطن کے رکھوالوں کی حفاظت فرمانا آمین ثم آمین یا رب العالمین

    خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    (جہد مسلسل)

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا   تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا
    بلوچستان کے لاشاری قبیلے کا عظیم سپوت جس نے محرومیوں کا رونا دھونے کی بجائے ان محرومیوں کو بطور پروپیگنڈہ استعمال کرکے معصوم بلوچ نوجوانوں کو دہشتگرد بنانے کے مشن پر کار بند بیرونی قوتوں اور ان کے آلہ کاروں کے عزائم کو خاک میں ملادیا وہ جری اور محب وطن بلوچ پاکستانی جس نے بلوچستان میں روٹی کپڑا مکان و دیگر سہولیات زندگی کی کمی یا بے وقعت سیاسی دنگل کو موضوعِ جرح یا مقصد زندگی نہیں بنایا بلکہ اس مرد کہن نے ان اندرون و بیرون ملک قوتوں کا قلع قمع کرنے کو مقصد حیات بنالیا جنہوں نے محب وطن پاکستانی بلوچ قوم بالخصوص اس کے نوجوانوں کو پہاڑوں کا رخ کرنے اور دشمنانِ وطن کے ہاتھوں میں کھلونا بننے پھراس غدارانہ عمل کے نتیجے میں مارے جانے بعدازں مزید پروپیگنڈہ کے لیے میسنگ پرسنز بن جانے پر مجبور کردیا اس نڈر فرزندِ وطن نے پاک سرزمین کے محافظ دستے میں شمولیت اختیار کرکے خونِ شہیداں سے مزین دھرتی کو اپنے پاکیزہ لہو سے مزید سیرابی و خوشحالی اور اس کے پریشان حال عوام کے چہروں پر خوشیاں لٹانے کا عزم کرتے ہوئے بلوچستان بالخصوص و بالعموم پاکستان بھر میں دہشتگردانہ کاروائیوں کو ترتیب دینے والی بدنامِ زمانہ انڈین انٹیلی جنس ایجنسی راء کے (پاکستان میں خللِ امن کے لیے) متعین سرکردہ دہشت گرد جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑوانے میں اہم کردار ادا کیا
    اور آخر کار وطن عزیز کا یہ سجیلا نوجوان دہشتگرد ریاست بھارت کی دہشتگرد ایجنسی کے دہشتگرد جاسوس کلبھوشن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے مشن پر کام کرتے کرتے 23 جولائی 2016 کو
    جام شہادت نوش کرکے فردوسِ بریں کی طرف عازمِ سفر ہوگیا۔
    جی میرے ہم وطنوں میرے دل کے قریب بلوچ پاکستانی بھائیوں آپ کے اس عظیم بیٹے،بھائی اور جانباز سپاہی کا نام اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی “اسامہ لاشاری شہید” تھا جس کا شمار ہمارے روشن اور پرامن مستقبل اور ہماری اصل محرومیوں کو دور کرنے کی مشن پر ڈٹے ہوئے لوگوں میں ہوتا تھا۔

    (آخر میں راقم الحروف اپنے بے ربط و بے وزن شعر کی صورت میں شہداء پاک فوج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے
    اے وطن تیری آغوش محبت کا قرض
    تیر ے بیٹے لہو کی قسطوں سے اتارتے رہے گے)