تا ابد سلامت مان رہے…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
چودہ اگست کا دن جوں جوں قریب آتا ہے تو دل میں شکر کے جذبات شدت سے انگڑائی لینا شروع کر دیتے ہیں…اور وہ داستانِ کرب اس احساس کے زخم کو پھر جگا دیتی ہے کہ ہمارے آباء نے اس وطن کی تعمیر میں کتنی گراں تکالیف برداشت کی تھیں…؟اور آج ہم اک آزاد وطن کے باسی ہیں…!!!
یہ خنک ہوائیں،گاتی فضائیں،طوفانوں کو روکتے ساحل، آزاد ،اُڑتے اور گاتے طیور،
چہکتے مکین،لہلہاتی فصلیں،
عبادات کی آزادی، پرسکون معمولات،آسان معاملات،خوشگوار سفر،دلکش تفریح گاہیں،آزاد اقلیتیں دل میں بہاروں کے خوشگوار جھونکوں کا احساس بھر بھر دیتے ہیں…
اور اتھاہ گہرائیوں سے اللّٰہ تعالٰی کے شکر کے کلمات لبوں پر مچلنے لگتے ہیں…
بانیانِ پاکستان کے درجات کی بلندی کے لیئے دعائیں نکلنے لگتی ہیں کہ جن کی دور اندیشی، حکمت اور تدبر نے ہماری کشتی انگریز و ہندو کی دوہری غلامی کے منجدھار سے نکال کر ساحل تک پہچانے کی لازوال کوششیں کیں…
اس سفرِ آزادی میں شریکِ سفر لوگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں ان کا احاطہ کسی مختصر سی تحریر میں ہر گز ممکن نہیں ہے۔
وہ ایک خونچکاں داستاں تھی جس میں گھرانوں کے گھرانے،
خاندانوں کے خاندان لُٹ گئے۔
لاکھوں مسلمانوں کو سفاک ہندو اور سکھ جتھوں نے جس بے دردی سے صفحۂ ہستی سے مٹایا تھا تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا ہر طالب علم اس کو بخوبی تلاش اور پڑھ سکتا ہے…
تب آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جاتی ہیں کہ یہ آزادی کس قدر گراں قیمت ہے کہ جان کی بازی ہار دینا بھی پھر مشکل نہیں لگتی…!!!
یہ کتنی عظیم نعمت ہے مگر یہ بے مول نہیں ملا کرتی…
وہ کربناک اور دلدوز داستان پڑھنے کے بعد زندہ ضمیر انسان تمام عمر کے سجدوں سے بھی اس نعمت کا شکر بجا نہیں لا سکتا…
یہ کوئی ہفتوں یا مہینوں کی تحریک نہیں تھی بلکہ عشروں کی جہدِ مسلسل کا نتیجہ تھا یہ پاک وطن…!!!
لیکن قیام پاکستان کے قریب کی تحریک میں
شاعرِ مشرق نے 1930ء میں خطبہ الٰہ آباد میں اس ضرورت پر زور دیا تھا۔
لفظ پاکستان کے خالق چودھری رحمت علی نے 1933ء میں ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں لفظ پاکستان پہلی دفعہ استعمال کیا گیا۔
23 مارچ 1940ء لاہور میں منٹو پارک کے مقام پر پاس ہونے والی قرارداد لاہور جو بعد میں قراردادِ پاکستان مشہور ہوئی نے مسلمان لیڈران کو ایک خاص نظریہ پر مجتمع کر دیا تھا۔
جس کی بنیاد پر اس سفر کا آغاز کیا گیا۔
محمد علی جناح رحمہ اللّٰہ پر ہندو کی تنگ نظری کھل کر واضح ہو گئی تھی۔
یہ بابرکت اور عظیم تر مقصد سے مزین سفر اپنی بنیاد کی مضبوطی پر اپنے واضح مطالبے 1940ء کے بعد جلد ہی پایۂ تکمیل تک جا پہنچا لیکن اس سفر کی داستانِ عزیمت کو مدنظر رکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے کہ کس مقصد کی خاطر ہم نے یہ پاک وطن حاصل کیا تھا؟
اور اس کی بنیادوں میں کتنا پاکیزہ لہو بہا اور اس دھرتی کے سینے پر کتنے آنچل قربان ہوئے؟
آج بھی ہمارا ازلی دشمن اور ہمارے وجود کے درپے رہنے والا ملک کبھی سرحدوں پر،کبھی ملک کے اندر،کبھی بھائی چارے اور دوستی کے ڈھونگ سے دنیا کو دھوکہ دینے میں مصروفِ عمل ہے:
مجھے مغلوب کرنے کو مرے دشمن کی جانب سے
کبھی نفرت کے تیر آئے،کبھی چاہت کا دام آیا…
لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کا سفر بے معنی شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے واضح مقاصد اور لازوال نظریات ہوا کرتے ہیں اور ہم نے جس لازوال نظریہ کی بنیاد پر یہ وطن حاصل کیا تھا اسی کا دفاع کر کے ہم اپنے دیس کی جغرافیائی،معاشی،معاشرتی،
اخلاقی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں…
ہمارے تمام مسائل کا حل اس نظریہ میں ہی پوشیدہ ہے…
ہمارے نوجوانوں کو دشمن کے واروں کا اسیر ہونے کی بجائے اس وطن اور سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کے لیئے دن رات ایک کر دینا چاہیئے کہ جس وطن نے ہمیں آزاد سانسیں لینے کے لیئے یہ صاف ہوا فراہم کی…
ہماری پہچان،آن اور شان ہے…!!!
ہمارا ایک نام،وقار اور کردار ہے…
جس اتحاد و یکجہتی سے کل اس کا قیام ممکن ہوا تھا،آج اسی سے اس کا دفاع اور مضبوط ہونا ممکن ہے…
ہم سب کو وطنِ عزیز کے مسائل مل بیٹھ کر قومی یکجہتی سے حل کرنا ہوں گے۔
مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔
یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اور یہاں کے باسیوں نے دنیا میں اپنا آپ منوایا ہے اسے ذرا نم کرنے کی اور اپنے اپنے فرائض کی بجا آوری کا بھر پور احساس زندہ کرنے کی ضرورت ہے…
حکمران ہوں یا عوام ہر اس اقدام سے گریز لازم ہے کہ جس سے ملک کے اندر انتشار یا عدم اتفاق کی فضا بننے لگے…!!!
ہر میدان میں اس کی کامیابی کے لیئے وہ طب کا ہو یا تعلیم کا…
ایجادات کا ہو یا دفاع کا…
سیاست کا ہو یا معاشرت کا سنجیدگی سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں اس پیارے دیس کا وقار بلند ہو…
دشمن کی سوچ اور ایجنڈوں کے آلۂ کار بننے کا نتیجہ سراسر رسوائی ہے…
ہمیں اپنے قلوب و اذہان کو صاف کر کے اس عظیم نظریاتی سرزمین کے لیئے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کا عہد کرنا ہو گا کہ یہ گھر بڑی بھاری قربانیوں کے عوض ملا تھا اور اب اس کی حفاطت کا بوجھ ہم میں سے ہرہر شہری کے کندھوں پر ہے…ہمیں دل کی نامحکمی کو دور کر کے ان پھیلتی دیرینہ بیماریوں کا علاج دریافت کر کے آگے کی جانب قدم بڑھانا چاہئیں…
محب وطن لوگوں کی قدر و قیمت اور ان کے مسائل کو بھر پور طریقے سے حل کیا جائے…
کہ کثرت ہم مدعا وحدت شود…
اور یہی وحدت کسی بھی قوم کی مضبوطی،وقار اور بقاء کی علامت بن جایا کرتی ہے…!!!
اسے سینچا خوں سیاروں نے
اور جان لُٹائی پیاروں نے…
تا ابد سلامت مان رہے…
میرے دیس کی اُونچی شان رہے…!!!
اس کے رُخ پر بہاریں مسکرائیں…
اس کی کلیاں اور شگوفے سدا چٹکیں…
یہ چمن یونہی لہلہاتا رہے اور خزاؤں کو کبھی یہاں گزرنے کی بھی مجال نہ ہو…
ہمیں صدقِ دل،عملِ پیہم اور وفا کے جذبات سے معمور ہو کر اس گلستان کی آبیاری میں کردار ادا کرنا ہے…
یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتح عالم…
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں…!!!
==============================
Category: بلاگ
-

تا ابد سلامت مان رہے تحریر:جویریہ بتول
-

قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد تحریر:مریم وفا
میں پاکستان ہوں…!!!
[تحریر:مریم وفا]۔
14 اگست کی روشن صبح اور ایک گہری یاد…
قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد…
وطن عزیز پاکستان کے قیام
کے پیچھے قربانیوں کی ایک انمٹ داستان پوشیدہ ہے….جوانوں نے اپنی جوانیاں لٹائیں،ماوں نے اپنے جگر گوشے قربان کئے….معصوم پھول انیوں میں پروئے گئے….عفت مآب آبگینے کرچی کرچی ہوئے….گھر بار قربان ہوئے….مال ودولت سے ہاتھ دھونے پڑے….ہجرت کی صعوبتیں سہنا پڑیں….غرضیکہ ہر دکھ درد کے راستے سے گزر کر یہ ملک خداداد پاکستان ہمارا مقدر بنا…
وطن عزیز کے قیام کے پیچھے ایک لمحے، دن، ہفتوں یا پھرمہینوں کی جدوجہد پوشیدہ نہیں بلکہ عشروں کی جہدمسلسل کے بعد یہ آذاد وطن معرض وجود میں آیا….لیکن دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی یہ ارض وطن اپنے قیام سے لےکر آج تک ایک ایسے المیے سے دوچار رہی کہ جس کے رد کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دیں….اور آج بھی اسی غلط سوچ کی تشہیر بڑے شدومد سے کی جاتی ہےاور یہ بات ازبر کروانے کی ایک سعی لاحاصل کی جاتی ہے کہ الگ قیام کے بغیر بھی پڑوسی ملک کے ساتھ رہا جا سکتا تھااور وہی غیر اسلامی وغیراخلاقی رسومات بڑےپیمانےپر پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے نجات کے لئے خون کی ندیاں عبور کی گئیں….دشمنان وطن،وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیےقیام پاکستان سے لےکر آج تک ہر میدان میں سرگرداں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس اسلامی قلعے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اپنے عزائم کی تکمیل کی جائے….اب یہ اہلیان وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے ہر وار کاشدومد سے ہی مقابلہ کریں وہ وار چاہے اسلامی اقدار پر ہو،رنگ ونسل کی بنیاد پر کیا جائے یاصوبائیت کی آگ بھڑکا کر کیا جائے،ہمیں ہر حال میں اس دھرتی کی حفاظت کا عزم لے کر آگے بڑھنا ہے کہ یہ پاک وطن ہے تو سب کچھ ہے ورنہ ہماری سب پہچان نا مکمل ہے…..یہ وطن قربانیوں کی بدولت ملا اب اسے سنبھالنے کے لیے بھی قربانیاں ہی درکار ہیں….یہ قربانیاں چاہے اغیار کی رسومات کے بائیکاٹ کی صورت دینا پڑیں….چاہے یہ مالی ہوں یا جانی….ہمیں ہر صورت اپنی ملی ومذہبی اقدار کوسینے سے لگا کر آگے بڑھنا ہے چہ جائیکہ اپنے اور اسلام کے دشمنوں کی اندھی تقلید میں اندھے ہو کر اپنی پیاری روایات کو پس پشت ڈالا جائے…. وطن عزیز کی یہی صدا ہے…!!!
میں پاکستان ہوں!
اپنوں کا مان ہوں
غیروں کی آنکھ میں
کٹکھتا تھان ہوں
میں بنا شہیدوں کے خوں سے
میں بڑھا شہیدوں کے خوں پہ
میں قربانیوں کی اک
عظیم داستان ہوں
میں پاکستان ہوں
میں پاکستان ہوں
میرے محسن مجھ پہ واری ہیں
میرے دشمن مجھ سے عاری ہیں
میں اپنوں کی چاہت کی اک
روشن پہچان ہوں
میں پاکستان ہوں
میں پاکستان ہوں!!!
====_====_====__==== -

تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو تحریر:عمر یوسف
تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو
تحریر :عمر یوسف
گھنی چھاوں والے درخت کا کام مسلسل آکسیجن اور چھاوں فراہم کرنا ہے ۔۔
اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ چھاوں سے فائدہ حاصل کریں یا نہ کریں۔۔۔
اور یہ لوگوں کا ظرف ہے کہ وہ اس چھاوں کی تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔بہتے ہوئے سمندر دریا نہروں کا کام تو بہتے ہی جانا ہے اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ بہتے پانی کو قابل استعمال بنائیں یا نہ بنائیں اور پانی جو عظیم نعمت ہے اس پر مشکور ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔
مضبوط پہاڑوں نے زمین کو ہلنے سے روکنا ہے اور زمین پر توازن و بیلنس قائم کرنا ہی ہے لوگ اس کو برا کہیں یا بھلا کہیں ۔۔
سورج کی تمازت نے سردیوں میں لوگوں کو گرمائش فراہم کرنی ہی ہے اور گرمیوں میں لوگوں کی فصلوں پکانا ہی ہے چاہے لوگ تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔۔
چلتی ہواوں نے انسانیت کو آکسیجن فراہم کرنی ہی ہے وہ ہوائیں لوگوں کو اچھی لگیں یا نہ لگیں ۔۔۔
یہ سب مخلوقات اللہ کی فوجیں ہیں جو صرف انسانیت کو فائدہ پہنچانے میں محو ہیں ۔۔۔
انہیں تعریف وتنقید سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔تم بھی اگر کوئی اچھا کام کررہے ہو تو نیت کو خالص کرو اخلاص پیدا کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہو اور خدائی فوجوں میں شامل ہوجاو ۔۔۔
تنقید تمہارے حوصلے پست نہ کرے ۔۔
تعریف تمہارے اندر گھمنڈ پیدا نہ کرے ۔۔۔
حوصلہ افزائی کا نہ ملنا تمہیں بددل نہ کرے ۔۔لوگ برا کہہ رہے ہیں یا لوگ تعریف نہیں کررہے ہیں ۔۔۔
یہ سب سوچیں آپ کو اچھے کام سے روکتی ہیں ۔۔خدا کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ عزم مسلسل کر لو کہ جیسے یہ چیزیں انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہیں تمہارے فیض کا سلسلہ بھی منقطع نہ ہو
-

مصروف حضرات اور خواتین کیلئے عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل از مفتی محمد تقی عثمانی
مصروف حضرات اور خواتین کیلئے عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب:
اگر وقت کی قلت یا گھریلو اور کاروباری زمہ داریوں کی بنا پر زیادہ وقت عبادات کو نہ دے سکیں تب بھی مندرجہ زیل اعمال کے اہتمام سے ان شاءاللہ اس عشرہ کی برکات کسی حد تک حاصل کی جاسکتی ہیں
5 وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں (خواتین گھر میں اول وقت میں ادا کریں)
ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام کریں ورنہ محنت کے باوجود عبادات کا نور اور حقیقی نفع حاصل نہیں ہوگا
بالخصوص اپنی نظروں اور زبان کی حفاظت کریں
ذولحجہ کا چاند دیکھنے سے لیکر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ تراشیں, یہ مستحب عمل ہے
فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمی (33 سبحان اللہ، 33 الحمدللہ، 34, اللہ اکبر
کم از کم یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ، ورنہ اس عشرے میں جتنے روزہ رکھ سکیں اتنا بہتر ہےچلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ الله اكبر، الله اكبر، لا اله الا الله والله اكبر، الله اكبر ولله الحمد کا ورد کریں
چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ تیسرے کلمے کا ورد سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر. چلتے پھرتے درود شریف کا ورد کریں
–کم از کم 15-10 منٹ روزانہ ترتیب سے تلاوت قرآن کا اہتمام کریں.
– نماز مغرب میں 3 فرض، 2 سنت اور 2 نفل کے بعد 2 نفل مزید نماز اوابین کی نیت سے ادا کرلیں
– نماز عشاء میں 4 فرض، 2 سنت کے بعد وتر سے پہلے 2-4 رکعات تہجد کی نیت سے ادا کرلیں اسکے بعد وتر ادا کرلیں۔ اگر رات میں توفیق ہوجائے تو مزید رکعات تہجد ادا کرلیں لیکن عشاء کے ساتھ ادا کرنے سے کم از کم تہجد سے محرومی نہیں ہوگی
– حسب استطاعت صدقہ و خیرات کا اہتما م کیا جائے
– رات کو سونے سے پہلے تسبیح فاطمی، درود شریف، استغفار اور دعا جائے
– اور سب سے بڑھ کر کوشش کریں کہ اپنی زبان یا کسی عمل سے کسی دوسرے کو ادنیٰ تکلیف بھی نہ پہنچے اور پہنچ جائے معافی مانگنے میں دیر نہ کریں
یاد رکھیں، اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنچاکر اللہ کی رضا کا حصول ناممکن ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اس پیغام کو اپنے دوست احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں شامل ہوجائیں
-

مثبت اشاریے بقلم : عدنان عادل
مثبت اشاریے
بدھ 22 جولائی 2020ءملک پر چھائے کالے بادل چھٹ رہے ہیں۔ روشنی کی کرنیں نمودار ہورہی ہیں۔کورونا وبا تیزی سے کم ہورہی ہے۔ معیشت میں مثبت رجحانات واضح ہورہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ملک میں آنے والی ترسیلاتِ زر بڑھ گئی ہیں۔ چین کی شراکت سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہوگیا ہے۔ ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بینکوں کی شرح ِسود بہت کم کردی گئی ہے۔ دوبرس پہلے ملک زر مبادلہ کے شدید بحران کا شکار تھا۔ بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے قومی خزانہ میں ڈالرز نہیں تھے۔ نئے منتخب وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی بیرونی ممالک کے دورے شروع کیے ‘ دوست ملکوں سے زرِمبادلہ کا بندوبست کیا ‘ ملک کو نا دہندہ ہونے سے بچایا۔ حکومت نے حد سے بڑھی ہوئی درآمدات پربھی کٹوتی لگائی تاکہ آنے والے وقت میں ڈالرز کی مزید قلت نہ ہو۔ پاکستانی روپیہ کی قدر مصنوعی طور پر بلند سطح پر رکھی گئی تھی اسے گرا کر اُسکی قدرتی حد پر لایا گیا ۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈز سے معاہدہ کیا جسکے تحت حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا گیا۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار آہستہ ہوگئی۔ ان اقدامات سے مہنگائی کا سیلاب آیا۔ تجارت کو بریکیں لگیں۔ شرح ترقی کی رفتار سست ہوگئی۔ مندی کا ماحول بن گیا۔ خیال تھا کہ ایک دو سال کی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔ معیشت مستحکم ہوجائے گی تو زیادہ مضبوط و مستحکم بنیاد پر استوار ہونے کے بعد آگے بڑھے گی۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔اس سال کے شروع میں دنیا کورونا وبا کی زد میں آگئی۔ پوری دنیا کے ساتھ پاکستان کی بھی اُلٹ بازی لگ گئی۔ کاروبار‘تجارت تقریبا ًبند ہوگئے۔معیشت کا پہیہ جو پہلے ہی سست رفتاری کا شکار تھا بالکل ہی رُک گیا۔معاشی ترقی کی شرح تین فیصد کے بجائے منفی نصف (0.5)ہوگئی۔ تاہم پاکستان کی معیشت ہمیشہ کی طرح سخت جان ثابت ہوئی ہے۔ یہ موجودہ بحران سے بھی توقع سے پہلے باہر نکل رہی ہے۔ مثبت اشاریے سامنے آرہے ہیں۔ اندیشہ تھا کہ بیرونی ممالک سے پاکستانی جو رقوم ملک میں بھیجتے ہیں ان میں کمی آجائے گی مگر یہ بھی نہیں ہوا۔ تیس جون کوختم ہونے والے مالی سال میں ترسیلاتِ زر اس سے گزشتہ برس کی نسبت دو ارب ڈالر زیادہ رہی۔تئیس ارب ڈالر ز ملک میں وصول ہوئے۔ وبا کے باوجود بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں اضافہ بہت خوش آئند بات ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محنت کش پاکستانی خطرناک عالمی وبا سے گھبرائے نہیں اُن کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ملک پر اُن کے اعتماد میں کمی نہیں آئی۔ بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی پہلے سے زیادہ پُر امید ہیں۔ جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ رہی جو اس سے پہلے آنے والے سال میںسوا ارب ڈالر سے کچھ زیا دہ تھی۔ یعنی اس میں تقریباًنوّے فیصد اضافہ ہوگیا۔ دوسرے الفاظ میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ حالانکہ ہمارا میڈیا ملکی معیشت کی اتنی تاریک تصویر پیش کررہا تھا کہ لگتا تھا کہ اس ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں۔اسٹاک مارکیٹ بھی گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل آگے بڑھتی جارہی ہے۔ اسکی ترقی کی رفتار حالیہ برسوں میںایک ریکارڈ ہے۔گزشتہ ایک ماہ میں چار ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں مندی کا تاثر بھی پوری طرح درست نہیں۔ عید کے موقع پر عوام نے وبا کے باوجود کھُل کر خریداری کی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس جون میں پاکستان نے بیرون ملک سے تین گنا زیادہ مالیت کے موبائل فون درآمد کیے ہیں۔ موبائل فون بنیادی ضرورت کی شے نہیں۔ اسکی خریداری اور درآمد میں زبردست اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا متوسط طبقہ اچھی حالت میںہے اور پہلے کی طرح شاپنگ کی طرف مائل ہے۔چار ماہ سے کورونا وبا کے باعث ملک میں کاروبار جزوی طور پر بند ہیں لیکن غریب لوگ بھوک سے دوچار نہیں ہوئے۔ حکومت نے تقریبا ڈیڑھ سو ارب روپے سوا کروڑ سے زیادہ خاندانوں میں تقسیم کرکے انکو روٹی پانی سے محروم نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ بارہ ہزار فی خاندان کی رقم بہت کم ہے لیکن حکومت کے محدود وسائل دیکھتے ہوئے یہ بھی جرات مندانہ اقدام تھا۔ حکومت نئے مالی سال میں دو سو ارب روپے بانٹنے کااعلان کرچکی ہے۔سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بنک نے بنیادی شرح سود کو پونے چودہ سے کم کرکے سات فیصد کردیا ہے تاکہ بزنس میں آسانی ہو۔ مکان خریدنے کے لیے حکومت نے قرضوں کو آسان بنادیا ہے۔ عوام صرف پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرض لیکر مکان خرید سکتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں حکومت نے اپنی پالیسی میں مستقل مزاجی کا ثبوت دیا تو روزگار پیدا ہوگا اور مکانات میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ سب سے اہم‘ وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر ایکسی لیٹر دبا دیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہونا ایک بڑا اِشارہ ہے کہ ریاست اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ سکھر سے حیدرآباد موٹر وے کا منصوبہ وفاقی حکومت نے منظورکرلیا ہے جس پر کام شروع ہونے جارہا ہے۔ چین کے تعاون سے کراچی سے پشاور تک نئے ‘ جدید ریلوے ٹریک کا منصوبہ جسے ایم ایل ون کہا جاتا ہے منظوری کے حتمی مراحل میں ہے ۔ فیصل آباد میں قائداعظم معاشی زون کا قیام ملک میں صنعتی عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس صنعتی شہر میںلگنے والی صنعتوں کو دس سال کے لیے متعدد ٹیکسوں سے چھوٹ ہوگی۔ پنجاب حکومت بہاولپور سمیت متعدد شہروں میںنئے انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر یہ کام سست رفتاری کا شکار نہ ہوا تو ملک میں پائیدار معاشی ترقی کا راستہ کوئی روک نہیں سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی عائد کردہ بندشوں کو توڑتے ہوئے چین کے ساتھ شراکت داری میں سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکا ہے ۔اگر شورش پسند سیاستدان قوم کو سکون کا سانس لینے دیں تو ملک کے تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔
-

کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟ از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری
گورنمنٹ آف پاکستان نے کلبوشن یادیو ہندوستانی دہشت گرد کا کیس خود ہائیکورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا
یہ فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے واضع رہے رواں سال 29 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی نے غیر ملکی قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے ہوئی سزا پر اپیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بل پاس کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی دہشت گرد،جاسوس جو کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسے حق مل گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اندر اپنی سزا کیخلاف درخواست دائر کر سکے واضع رہے کہ اس سے قبل ایسا نا تھا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ قیدی کسی بھی سول کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج نہیں کر سکتے تھے
سوچنے کی بات ہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صدر کو غیر ملکی سزا یافتہ دہشت گردوں کی اتنی زیادہ فکر کیوں لاحق ہوئی؟
آخر اتنی خاموشی سے بل کیوں پاس کروا لیا گیا؟
جبکہ عوام کی سہولت کیلئے اور اسلام کے دفاع کیلئے پیش کئے جانے والے درجنوں بل ابھی بھی زیر التواء ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کہ جن پر اس ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی گواہ نہیں اور پاکستان کی عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے جس سے ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ملتا ہے ان افراد کو غیر ملکی دباؤ پر جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور الزام یہ لگایا گیا کہ بیرون ملک ان افراد نے آزادی کی تحریک لڑنے والے افراد کی مالی معاونت کی تھی
پچھلے سال بڑے فخر سے خود میڈیا پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آسیہ ملعونہ کو پاکستان سے باہر بھجوانے کیلئے ہم نے مولویوں کو گرفتار کیا جو کہ آسیہ کی رہائی میں رکاوٹ تھے
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدر پاکستان سے منظور شد بل صرف کلبوشن یادیو کی رہائی کی نوید ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نا رہے گا خاص کر انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاران مذید غیر محفوظ ہو جائینگے
پاک فوج کا کیپٹین قدیر جس اللہ کے شیر نے کلبوشن یادیو کو پکڑا تھا اسے اسی جرم میں بیرونی ایجنسیوں نے شہید کیا کلبوشن کے ہاتھوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے جس کا اقرار وہ خود اپنے ویڈیو بیان میں کر چکا ہے تو پھر گورنمنٹ کو اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟ کیا سابقہ گورنمنٹس کی طرح پی ٹی آئی بھی دباؤ کا شکار ہے؟
کیا خان صاحب کے سارے کے سارے دعوے محض دکھلاوا تھے ؟
سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے دن رات محنت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں انہیں ملٹری کورٹس سے سزا دلواتے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان ہو سکے کسی کا سہاگ،کسی کا لخت جگر پھر کسی کلبوشن جیسے دہشت گرد کی تخریب کاری کا نشانہ نا بن سکے مگر افسوس کہ ریاست مدینہ اور تبدیلی کے دعوے دار ایک دہشت گرد کی رہائی کیلئے خود بل پاس کروا کر خود ہی ہائیکورٹ میں کیس بھی لڑینگے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ دہشت گردوں تم اپنا کام کرو ہم اپنے بل پاس کروا کر تمہیں رہا کرواتے رہینگے
شاید کہ اگر یہی حالات رہے تو آپریشن فیئر پلے کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جائے گی کیونکہ سب سے پہلے اسلام و پاکستان
کلبوشن نے اسلامی ملک کے اسلامی باشندوں کو شہید کیا ہے
جہاں اپنے لوگوں کو جیلوں میں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کی رہائی کیلئے حکمران بے تاب ہوں وہاں عوام بھی مایوس ہو جاتی ہے پھر وہاں بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار اپنے ہی لوگ اس لئے بن جاتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا لہذہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں -

غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر بقلم :عمر یوسف
غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر
عمر یوسف
انسان عزت چاہتا ہے اس لیے تکبر کو اپناتا ہے تاکہ لوگ میری عزت کریں
حالانکہ عزت غرور میں ہے ہی نہیں بلکہ عزت تو عجز و انکساری اور تواضع میں ہے ۔۔۔۔۔۔انسان چاہتا ہے کہ میرا مال محفوظ و سلامت رہے اور بڑھتا ہی جائے اس لیے وہ پیسہ سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اور خرچ نہیں کرتا مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔
حالانکہ مال کا محفوظ ہونا اور اس کے بڑھنا کا راز صدقہ کرنے میں ہے ۔۔۔۔۔۔انسان چاہتا ہے کہ میرے سارے کام حل ہوجائیں میرے پاس فراغت ہو اور ایک وقت میں زیادہ کام نمٹا لوں اس لیے وہ اپنے رب کی یاد اور عبادت سے غفلت و سستی برتتا ہے۔۔
حالانکہ کاموں کا احسن طریقے سے انجام پانا اور فراغت ملنا یہ اللہ کی عبادت میں ہے اللہ وعدہ کرتے ہیں کہ۔جو بندہ کام چھوڑ کر عبادت کی طرف مشغول ہو اس کے سارے کام حل کردیے جاتے ہیں اور اسے کے دل کو غنی اور بے پرواہ کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔انسان چاہتا ہے کہ روحانی سکون حاصل ہو دماغ پرسکون رہے اس لیے وہ موسیقی سنتا ہے۔۔۔۔
حالانکہ روح کو سکون پہنچانے کا حقیقی راز تو ذکر خدا اور تلاوت قرآن میں ہے موسیقی تو ایسے ہی ہے جیسے شراب ہے وقتی نشہ دیتی ہے لیکن بعد میں شراب جگر کو کسی قابل نہیں چھوڑتی اسی طرح موسیقی بھی دل پر ایسی مہریں لگاتی ہے کہ بعد میں انسان غور و فکر اور تدبر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔
بدقسمتی سے میرے معاشرے میں ان جائز چیزوں کے حصول کا غلط راستہ اپنایا جاتا ہے منزل تو ملتی نہیں الٹا انسان ذہنی و روحانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے
-

آئیے!دلوں کو زندہ کریں بقلم : مریم وفا
آئیے!دلوں کو زندہ کریں…!!!
(بقلم : مریم وفا)
دل،انسانی جسم کا بادشاہ…یہ شاداں و فرحاں ہو تو پورا جسم خوش باش،اور اگر یہ ملول وغمزدہ تو سارا جسم پریشاں حال…!!!
لیکن آج ہم میں سے اکثر کا یہی شکوہ ناں کہ کیا کریں کہ اللہ کا دیا بہت کچھ لیکن نہ جانے کیوں دل بہت پریشان،
کسی چیزکی کمی نہیں لیکن دل کو قرار نہیں ،اور یہی حقیقت بھی ہے کہ آج ہمارےگھروں میں کسی چیز کی کمی نہیں…مال ودولت کی فراوانی،آرائش و زیبائش کی کثرت،الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بھرمار،سوشل میڈیاکا چسکا اور نہ جانے کیا کچھ کہ سب نعمتیں اور لذتیں بیان سے باہر…لیکن ذہنی سکون اور دلی قرار سے ہم پھر بھی تہی دست…مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود بھی ہم بے قرار…؟؟؟
ذہنی آسودگی ہم سے دور بھاگتی ہے…دل کی آلائشیں برھتی ہی جارہیں…لیکن ہم پھر بھی دنیاوی لذات میں سکون ڈھونڈنے کے متلاشی…
حقیقت سے پھر بھی منہ موڑے ہوئے ہیں کہ قلب کی آسودگی اور ذہنی اطمینان کا علاج آخر کوئی تو ہو گا…نعمتوں کی بارش کرنے والا رب ہمیں یہ بھی تو یاد کروا رہا ہے ناں کہ نعمتوں کی کثرت کے باوجود بھی دل کی زمین پر بہار لانے کے لئےایک نسخہ لاجواب ہے،کہ میری یاد سے ہی تمہارے خزاں رسیدہ دلوں پر بہار آئے گی…تمہاری زندگیوں میں سکون در آئے گا…میری نعمتیں تمہارے لیے باعث صد سکون ثابت ہوں گی…بس میری یاد کی شمع اپنی زندگی میں روشن کرو, تمہاری زندگی کی اندھیر نگری چمک اٹھے گی…خزاں زدہ دلوں پر بہاریں لوٹ آئیں گی…کہ یہی توایک نسخہ!شافی ہے,بے سکون زندگیوں میں سکون و قرار کی روح پھونکنے کا…کرب واضطراب سے مضمحل دلوں میں راحت ونشاط کے گل کھلانے کا…!!!
یہ مال و دولت کے انبار،یہ سونے چاندی کے ڈھیر مانا کہ دنیاوی نعمتوں میں عظیم سہی لیکن قلبی سکون و اطمینان کے لیے ہمیں نعمتوں کے عطاکرنے والے رب کی یاد سے دلوں کو بسانا ہے کہ یہی ایک صورت ہے ہماری زندگیوں میں سکون و اطمینان لانے کی،ورنہ دنیاوی لذات کی کثرت ہمارے لئے کبھی بھی قلبی سکون کا موجب نہیں بن سکتی جب تک کہ ہم اپنے دلوں کو اپنے رب کی یاد سے نہ بسالیں….!!! -

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے تحریر:جویریہ بتول
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو چکی ہے کہ مسلمان ایک مہذب،فیاضی،اور خدا ترسی و دردِ انسانیت سے مالا مال امت ہیں…
ان کی تعلیمات اس قدر ارفع ہیں کہ باقی اقوام بھی قوانین اور ضابطے یہاں سے مستعار لیتی رہی ہیں…
جب جب بھی مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا تب تب مفتوحہ علاقوں کے مکینوں کے ساتھ مسلمان لیڈرز کا حسنِ سلوک،رواداری اور فیاضی تاریخ کی روشن اور تابندہ مثالیں بنتا چلا گیا…!!!
لیکن ملتِ اسلامیہ پر ظلم و ستم کی خونچکاں داستاں اور خونِ مسلم کے ارزاں ہونے کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔
اپنے تئیں مہذب کہلانے والی اقوام نے جب بھی غلبہ پایا تو اخلاقی گراوٹ اور ذہنی پستی اور درندگی کی انمٹ تاریخ رقم کر دی…!!!
ساٹھ کی دہائی میں عربوں کے سینے میں خنجر پیوست کرتے ہوئے اسرائیل اور یہودی آباد کاری کی بنیاد رکھی گئی اور فلسطین کے نہتے مظلوم مسلمانوں کی سر زمیں پر ناجائز قبضہ،مکانات کی مسماری،فصلوں کی تباہی اور بے در و گھر کر دینا اب ایک معمول کی بات بن چکی ہے…
مسئلہ کا دو ریاستی حل ایک خواب بنتا جا رہا ہے اور اسرائیلی ستم ظریفی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے…
گزشتہ روز گوگل اور ایپل ایپلیکیشن میپ سے فلسطین کا نام حذف کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت پہلے کے آغاز کا ایک تسلسل ہے…
وہ قبلہ اوّل جو غیر مسلموں کے ہاتھوں تاریخ میں بار بار تاخت وتاراج ہوا،
پون صدی سے ایک بار پھر کسی عمررضی اللّٰہ یعنی اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی راہ تک رہا ہے…
کہ جب عمر اپنے غلام کو سواری پر بٹھائے اپنی چلنے کی باری پر سواری کی لگام تھامے پیوند زدہ لباس کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عیسائی سربراہان ششدر رہ گئے تھے کہ یہ ہے مسلمانوں کا خلیفہ؟
اور بیت المقدس کی چابیاں عمر کے حوالے کر دی گئیں۔
اے تاریخ کےورقِ روشن…
ہمیں تُجھ پر ناز ہے…!!!
تاریخ نے ٹھہر کر وہ داستان بھی اپنے سینے میں محفوظ کر لی تھی جب 1176ء میں ایک صلیبی سردار کی حرکات جو یروشلم کے عیسائی بادشاہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی تھی تو سلطان حرکت میں آیا…
جو اس کی اخلاقی،سیاسی،ملی اور مذہبی نقطۂ نظر سے بہترین حکمتِ عملی تھی۔
اور اس نے یروشلم کو عہد شکن قوم کے شکنجے سے آزاد کروا لیا تھا۔
مگر فاتح بن کر ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں رقم نہیں کی گئی تھیں،بلکہ محکوم عیسائیوں کے ساتھ سلطان کا حسنِ سلوک تاریخ کا جھومر بن گیا اور عیسائی مؤرخین اس بات کا اعتراف کیئے بغیر نہیں رہ سکے کہ:
Even the Christian Europe,Saladin was justly celebrated and admired for his generous treatment of his defeated enemies…
(Bernard Lewis).
لیکن آج امت قحط الرجال کے دور سے گزر رہی ہے…
کڑا اور عجب وقت درپیش ہے،بحرانوں کا تسلسل ہے…اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے اور زخم ہیں کہ بڑھے جا رہے ہیں…
حالیہ سالوں میں لاکھوں بے گناہ مسلمان موت کے گھاٹ اتر گئے،
اتنے بڑے انسانی المیے پر انسانی حقوق کے داعی بھی مہر بہ لب رہے…
ہاں یقینًا کہ ان کا کام صرف مشاہدہ ہے،دخل اندازی نہیں…!!!
کیا صرف مشاہدے کیئے جاتے رہیں گے اور مسلمان ممالک ایک ایک کر کے ظلم و تباہی کی نت نئی رنگینیوں میں رنگے جاتے رہیں گے…؟؟؟
دنیا کے نقشہ پر موجود حل طلب دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے کیا نقشے سے ہی حذف کر دیا جائے گا…؟
ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ اپنے مسائل کا حل ہمیں خود تلاشنا ہو گا…
انسانیت کے حقوق کا عَلم ہم نے خود تھامنا ہو گا…
تاریخ کی نظر کسی عمر و ایوبی کے حقوقِ انسانی اور حسن و فیاضی سے لبالب بھرے کردار کو تلاش رہی ہے…!!!
ہمیں آوازِ ضمیر کو شدت سے دبا دینے کی بجائے اسے دنیا میں بلند کرنا ہو گا تبھی ہم اپنا معیار،مقام اور وقار بچا اور بحال رکھ پائیں گے ورنہ سازشوں کا دیو ہیکل اژدھا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا…!!!
حکیم الامت نے اس درد کو کیا خوب بیان کیا تھا:
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے،
یہ مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے۔
اے لا الہ الا اللّٰہ کے وارث،باقی نہیں ہے تجھ میں…
گفتارِ دلبرانہ…کردارِ قاہرانہ…!!!
=============================== -

خلیل اللّٰہ کی یاد تحریر:جویریہ بتول
خلیل اللّٰہ کی یاد…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
ذو الحجہ کا چاند طلوع ہونے والا ہے اور یہ وہ حرمت والا مہینہ ہے کہ جس کی عظمت فضیلت اور اس میں بجا لائے گئے اعمال کی اہمیت بہت ارفع ہے…
استغفار و انابت…
تسبیح و تہلیل اور تحمید…
مالی قربانی…
اللّٰہ کی رضا کے لیئے سب کچھ قربان کرنے کے عہد…
حج بیت اللّٰہ…
اور یومِ عرفہ کا روزہ…
جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یکفر السنۃ الماضیۃ والباقیۃ…(صحیح مسلم)۔
یعنی” گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…!!!”
لیکن یہ مہینہ اور اس کےان دس ایام میں بجا لائی جانے والی عبادات اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک کسی بھی دن میں کیئے گئے عمل سے اس قدر محبوب اور افضل ہیں کہ اللّٰہ کی راہ میں لڑنے والا بھی اس فضیلت کو نہیں پا سکتا،لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو اپنے مال و جان کے ساتھ نکلا اور لوٹ کر نہ آیا تو وہ لاریب بہت فضیلتوں کا مستحق ہے۔
کیونکہ یہ وہ فضیلت بھرے ایام ہیں جن میں تمام عبادات نماز،روزہ،حج،مالی قربانی،تسبیحات و تکبیرات جمع ہو جاتی ہیں…!!!!
یہ مہینہ ہمیں خواہشاتِ نفس کی قربانی،اللّٰہ کی رضا کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا عہد کرنے والے ابراہیم علیہ السلام کی یاد بھی دلاتا ہے…
وہ ابراہیم علیہ السلام جن کے بارے میں اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل…
[الانبیآء]۔
"اور یقینًا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس سے پہلے ہی سوجھ بوجھ عطا کی تھی…”
وہ لڑکپن میں ہی غور و فکر کے عادی…
رب کی وحدانیت کا پرچار کرنے والے…
جو اپنے باپ اور قوم سے سوال کرتے کہ یہ مورتیاں جنہیں تم پوجتے ہو…تمہارے نفع و نقصان کی مالک ہیں؟
وہ جواب دیتے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے،
تب ابراھیم علیہ السلام پکار اٹھتے کہ تم اور تمہارے آباء سبھی گمراہ ہو…!!!
اللّٰہ تعالٰی کو اپنے ابراھیم کی یہ ادائیں اس قدر پسند آئیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو آزماتا چلا گیا…
اور رب کا موحد بندہ اور پیغمبر ان تمام آزمائشوں پر پورا اترتا چلا جاتا ہے تاوقتیکہ امام الناس اور خلیل اللّٰہ کے منصب پر فائز دکھائی دیتا ہے…!!!
وہ جوانی میں قوم کے تراشیدہ بتوں کو کلہاڑے کی ضرب سے پاش پاش کرنے والا بت شکن ان سے سوال کرتا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ کھاتے نہیں ہو؟
تمہیں کیا ہے کہ بولتے بھی نہیں؟
تب ابراہیم اپنی انہی اداؤں سے قوم کو لاجواب کر دیتا ہے،اور وہ آنکھیں جھکائے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بات تو اس کی واقعی ٹھیک ہے لیکن اس کو مان لینا اَنا پر گہری ضرب تھی…!!!
وہ ابراہیم جو انتہائی بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے سرفراز کیئے جانے کے بعد امتحانات کے ایک تسلسل سے گزرتے ہیں…
یہاں تک کہ اپنے لاڈلے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا خواب آتا ہے…
وہ ابراہیم جن کے امتحانات کا تذکرہ اللّٰہ تعالٰی نے خود یوں فرمایا کہ:
"جب ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں میں آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللّٰہ نے فرمایا میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا…”
(البقرۃ)۔
وہ نو مولود کو اپنے سے دور تنہا بے آب و گیاہ وادی میں بیوی سمیت چھوڑنے سے لے کر اب اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے تک کا سفر ابراہیم علیہ السلام نے، نہایت صبر،کمال استقامت اور حوصلے سے کاٹا تھا…
اب اس آزمائش پر بھی پورا اترنے کے بعد اللّٰہ تعالٰی نے اس بہت بڑی آزمائش قرار دے کر اس پر پورا اترنے پر ابراہیم علیہ السلام کو سرخرو فرمایا اور اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں مینڈھا نازل فرما دیا…!!!
ذرا سوچو کہ وہ بیتِ عتیق،نور و رحمت کے گھر کی طرف دیوانہ وار لپکتے لوگوں کا رش بھلا کس کی دعا کا ثمر ہے؟
وہ کعبہ کی بنیادوں کو بلند کرنے والے ابراہیم اور اس کی آبادی کے لیئے اللّٰہ کے حضور دعائیں مانگنے والے ابراھیم کی یاد کے مناظر…
واذ یرفع القواعد من البیت…
"اورجب وہ اس گھر کی بنیادیں بلند کر رہے تھے…
واتخذو من مقام ابراھیم مُصَلًّی…
"اور تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو…(البقرۃ)۔
وہ صفا و مروہ کے چکر کس عظیم گھرانہ کی یاد سے وابستہ ہیں…؟
ان الصفا والمروۃ من شعائر اللّٰہ…
بھلا یہ جانوروں کی قربانی کس کا فدیہ قرار پائی تھی؟
آہ…!!!
وہ جو سارے کا سارا گھرانہ صبر و ثبات ،عزم و حوصلہ،برداشت و استقامت اور ایمان و عمل کی واضح نشانی تھا…
رب کی وحدانیت اور رضا پر سب کچھ لٹا دینے کا عہد کیئے جانبِ منزل رواں دواں رہا کہ امر ہو گیا…
وہ ابراہیم جس نے قوم کو شروع میں ہی کھرا کھرا جواب دے دیا تھا کہ:
انی ذاھبٌ الی ربی سیھدین¤
"میں تو ہجرت کر کے اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں،وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا…(الصفّٰت)۔
اور پھر تا قیامت رہبری اور امامت کا تاج سج گیا…
ملتِ ابراہیم کے حقیقی پیروکار رب کے محبوب کہلائے…
آگ کے گلزار بننے سے ابد تک سلامتیاں ہی سلامتیاں ابراہیم علیہ السلام کا خاصہ کہلائیں:
"ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہو،
ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں،بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے…”
(الصفّٰت)۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی ان ایام میں بہترین طریقے سے عبادات بجال لانے اور ابراہیم علیہ السلام سےوابستہ خصوصی یادوں کو اپنا ایمان و عمل بنانے کی توفیق نصیب فرمائے کہ خواہشات کے حصار نے ہمیں اپنے جالوں میں پھنسا رکھا ہے…
آج ہم منزل سے بہت دور بھٹکتے مسافر اور مقصدِ حیات سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں…
امامت کے منصب پر فائز ہونے کے لئی کن راستوں پر سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے؟سیرتِ ابراہیم اس کی بہتر راہ نما ہے…!!!
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے…
صنم کدہ ہے جہاں،لا الہ الا اللّٰہ…
یہ مال و دولت،دنیا یہ رشتۂ پیوند…
بتانِ وہم و گماں،لا الہ الا اللّٰہ…!!!
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤