Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے  تحریر: صابر ابو مریم

    پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے تحریر: صابر ابو مریم

    پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    انبیاء کی سرزمین مقدس فلسطین پر بسنے والے فلسطینی عرب گذشتہ ایک سو سال یعنی جس دن سے برطانوی استعمار کے عہدیدار بالفور نے Rothschild کو ایک خط کے ذریعہ اعلان نامہ پھیجا کہ سرزمین فلسطین پر یہودیوں کے لئے ایک ریاست بنام اسرائیل قائم کی جائے، اس دن سے آج تک ایک سو سالہ تاریخ میں فلسطینی عرب صہیونیوں کے ظلم و ستم کے رحم و کرم پر ہے۔ غاصب صہیونیوں نے پہلے جنگوں اور قتل و غارت کیے ذریعہ فلسطین کا استحصال کیا بعدمیں امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کے دباؤ کو فلسطین کی تنظیم پی ایل او کے ساتھ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نام نہاد امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ بہر حال ہر دو صورتحال میں اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہا اور نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ فلسطین کی اراضی پر مسلسل صہیونیوں نے قبضہ جاری رکھا۔صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صہیونی آباد کاری کے ذریعہ فلسطین کے مغربی کنارے کو صہیونی آبادی کے تناسب سے فلسطینی آبادی پر برتری کی کوشش کی جا رہی ہے۔غزہ کے علاقہ کو مغربی کنارے سے پہلے ہی جدا کر دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ یہاں گذشتہ بارہ برس سے غاصب اسرائیل کا مصری حکومت کے ساتھ مشترکہ محاصرہ کیا گیا ہے جو تاحال جاری ہے۔
    موجودہ زمانہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کہ جو خود امریکی عوام کے لئے بھی ایک مصیبت اور عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ پیش کرتے ہوئے پہلے فلسطین کے ابدی دارلحکومت قدس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں اسی کوشش کو یقینی بنانے کے لئے امریکی حکومت نے تل ابیب سے قدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا۔دراصل ان سب باتوں کا مقصد امریکی صدر یہ بتانا چاہتے تھے کہ فلسطین پر اب مکمل اسرائیل کا قبضہ ہے۔حالانکہ ماضی میں امریکہ کی پیش رو انتظامیہ نے فلسطینی پی ایل او کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل کی ضمانت دی تھی کہ اسرائیل امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے سنہ1967ء کی سرحدوں تک چلا جائے گا۔بعد ازاں یہ ہونا بھی آج تک اسی طرح سے نا ممکن رہا ہے کہ جس طرح اعلان بالفور میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل قائم کیا جائے گالیکن غیریہودیوں قوموں کو فلسطین سے نہیں نکالا جائے گا۔ حقیقت اس کے بھی بر عکس ثابت ہوئی، اسرائیل قائم کر لیا گیا لیکن فلسطینی عربوں کو فلسطین سے نکال پھینکا گیا۔اسی طرح اقوام متحدہ میں 29نومبر 1947ء کو منظور ہونے والی بڑی قرار داد میں طے پایا کہ فلسطینی آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن اس پر بھی آج تک اقوام متحدہ عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے البتہ اسرائیل کو قائم کر دیا گیا۔
    اب حالیہ دنوں اسرائیل امریکی سرپرستی میں امریکی صدر کے شیطانی منصوبہ صدی کی ڈیل پر تکیہ لگائے ہوئے ہے۔اب غرب اردن کے علاقہ کو اسرائیل میں ضم کرنے یا الحاق کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔یعنی صدی کی ڈیل نامی منصوبہ کے مطابق فلسطین کا مغربی کنارا اب اسرائیل کے ساتھ شامل کیا جانے کا ناپاک ارادہ کیا جا چکا ہے۔اس حوالہ سے امریکہ اور اسرائیل مسلسل اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ جولائی سنہ2020ء میں غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا۔
    یہاں پر یقینا ایک سوال ضرور ہے اور لمحہ فکریہ ان سب قوتوں اور عناصر کے لئے ہے کہ جو ماضی سے اب تک فلسطین کے مسئلہ کا حل امریکی فارمولہ کے مطابق دو ریاستی حل میں سمجھ رہے تھے۔ یعنی وہ حکومتیں اور ادارے جو فلسطین کے لئے امریکی فارمولہ کے مطابق کہا کرتے ہیں کہ سنہ1967ء کی سرحدوں تک اسرائیل واپس ہو جائے اور فلسطین کی آزاد ریاست قائم ہو جائے۔ ایسے تمام عناصر اور حکومتوں کے لئے لمحہ فکر ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اس طرح کے کسی منصوبہ کو مانتے ہی نہیں ہیں بس یہ تو مسلم دنیا اور فلسطین کی نام نہاد حامیوں کو ایک لالی پاپ دیا گیا تھا جسے آج تک ہماری مسلم حکومتیں لئے گھوم رہی ہیں۔
    اسی عنوان پر فلسطین کے سابق وزیر اور تجزیہ نگار وصفی قبہا نے کہا ہے کہ وہ تمام عناصر اور لیڈر جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ آج فلسطینی قوم کو بتائیں کہ ان کے مذاکرات کا کیا فائدہ ہوا ہے؟۔اسرائیلی دشمن نے ماضی میں فلسطینی قوم کو دھوکہ دیا اور آئندہ بھی وہ اسی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کی توسیع کے عمل میں امریکا سمیت ہر وہ حکومت اور ادارہ اور عناصر بھی برابرکے شریک مجرم ہیں جنہوں نے فلسطین کے لئے امریکہ کے منصوبہ یعنی دو ریاستی حل اور نام نہاد مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
    اب اصل مسئلہ کی بات کرتے ہیں کہ اسرائیل غرب اردن کو اپنے ساتھ ملحق کرنا چاہتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب فلسطین باقی نہیں رہے گا۔ایسے حالات میں مسلم دنیا کی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا کر اپنے مفادات کی خاطر مسلم امہ کے مفادات کونقصان پہنچا رہے ہیں۔ایسے حالت میں فلسطینیوں کے لئے سنگین مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔
    ایک طرف امریکہ اسرائیل اور ان کے حواری ہیں جو اس منصوبہ کی اعلانیہ اور مخفیانہ طور پر حمایت کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف فلسطینی قوم ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہے اور واضح طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ فلسطین کے ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ فلسطینی عربوں میں صرف مسلمان اکیلے نہیں بلکہ عیسائی فلسطینی اور ایسے وہ تمام یہودی فلسطینی بھی موجو دہیں کہ جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسرائیل کو ایک جعلی ریاست تصور کرتے ہیں۔فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی تحریک حما س سمیت دیگر گروہوں نے غرب اردن کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے صہیونی منصوبہ کو شدت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ فلسطینی عوام مزاحمت کریں گے۔ فلسطینی ریاست کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ظالمانہ اور غاصبانہ پروگرام کا مقابلہ صرف مسلح مزاحمت سے ممکن ہے۔فلسطینیوں نے اپنا موقف دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ارض فلسطین میں فلسطینی قوم کے سوا اور کسی قوم کے لیے کوئی جگہ نہیں۔تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دریائے اردن سے بحر متوسط تک پورا فلسطین صرف فلسطینی قوم کا ہے۔غرب اردن سے متعلق اسرائیلی غاصب حکومت کے فیصلہ اور اعلان پر آج تک عالمی انسانی حقوق کے اداروں سمیت اقوام متحدہ خاموش ہے۔اسرائیلی جرائم کی داستان طویل سے طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔
    تاریخی اعتبار سے غرب ردن، غزہ اور القدس فلسطین کے حصے ہیں۔ اگر اسرائیل غرب اردن پرقبضہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں یہ علاقہ سات حصوں میں بٹ کررہ جائے گا۔ ہرحصہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہوگا اور غرب اردن کے 30 فی صد علاقے صہیونی ریاست کا حصہ ہوں گے۔القدس دیوار فاصل کے عقب میں ہوگا  اور یوں فلسطینی ریاست ایک ایسا ملک بن جائے گی جس  کا کوئی دارالحکومت نہیں ہوگا۔یہ وہ اصل سازش ہے جس کا آغاز عالمی شیطان امریکہ کی سرپرستی میں انجام دیا جا رہاہے۔
    عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگاروں کا اس تمام تر صورتحال پر کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہاہے اور ساتھ ساتھ خطے کی متعدد عرب ریاستیں بھی اسرائیل کے اس منصبوبہ کی حمایت کر رہی ہیں ایسی صورتحال میں فلسطین کی حمایت میں باقی ماندہ ایک دو ممالک یا حکومتوں کے کوئی سامنے نہیں ہے۔ماضی کے تجربات کی روشنی میں فلسطینی عوام کی مزاحمت ہی اس وقت ایسا مضبوط ہتھیار ہے جو فلسطین کی سرزمین اور یہاں امت کے مقدسات کا دفاع کر سکتی ہے وہ ہتھیار فلسطینیوں کی مزاحمت ہے۔اسی مزاحمت نے ہی فلسطین کو باقی رکھا ہے ورنہ امریکی و صہیونی اتحاد کئی سال پہلے ہی فلسطین کا مسئلہ نابود کر چکے ہوتے۔ فلسطینی قوم کی سماجی، سفارتی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر فلسطین کے دفاع کے لیے کام کے ساتھ ساتھ ساتھ مسلح مزاحمت بھی جاری رہنا ضروری امر ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین فلسطینی عوام کا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی با ضمیر حکومتیں اور عالمی ادارے انصاف کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ حل کی کوشش کریں کہ جس کا مقصد فلسطین فلسطینیوں کے لئے ہو۔غاصب دشمن کو حق نہ دیا جائے کہ وہ فلسطین پر مزید غاصب و قابض رہے۔مسلم دنیا کو اسرائیل کی کاسہ لیسی سے بھی اجتناب ضروری ہے۔

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • دِپسَینگ وادی میں کشیدگی  تحریر: عدنان عادل

    دِپسَینگ وادی میں کشیدگی تحریر: عدنان عادل

    دِپسَینگ وادی میں کشیدگی

    چین اور بھارت کے درمیان مقبوضہ لداخ میں جوفوجی کشیدگی چل رہی ہے اُسکا دائرہ اب بھارت کے اہم فوجی اڈہ دولت بیگ اولڈی کے نواح میں واقع دِپسَینگ وادی تک پھیل چکا ہے۔ چین اور بھارت کی عارضی سرحد پر پین گونگ جھیل اور گلوان وادی کے بعد یہ تیسرا مقام ہے جہاں بھارت کو چین کے ہاتھوں پسپائی کا سامنا ہے۔د ِپسَینگ وادی لدّاخ کے بالکل شمال مشرقی کونہ میں ایک بہت ہی بلنداور انتہائی سرد مقام ہے ۔یہ علاقہ دفاعی اعتبار سے اس لیے اہم ہے کہ اس سے متصل شمال میں بھارت کا فوجی اڈہ دولت بیگ اولڈی واقع ہے جوچین اور بھارت کی سرحدسے صرف آٹھ نو کلومیٹر دُور ہے ۔ پین گونگ اور گَلوان کے واقعات کے بعدبھارت اور چین کے مقامی فوجی کمانڈر وں نے تناؤ کم کرنے کی غرض سے دو مرتبہ بات چیت کی لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ اسکے برعکس دونوں ملکوں نے سرحد پر اپنی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر سرحد کے قریب اپنے اپنے فوجی اڈوں پر بھیج دیے ہیں جو اس علاقہ میں پروازیں کرتے رہتے ہیں۔تناؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ گزشتہ دنوں روس میں اکٹھے ہوئے لیکن انہوں نے سرحدی تنازعہ کو سلجھانے کے لیے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی پرانکے ملک میں سخت تنقید ہورہی ہے کہ گلوان وادی میں بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے لیکن وہ چین کو جواب نہیں دے سکے۔ چین کے حالیہ اقدامات سے بھارت کی چین کے مقابلہ میں فوجی کمزوری اور کمتری کھُل کر سامنے آگئی ہے۔ کچھ عرصہ سے بھارتی حکمران اپنی اوقات سے باہر ہوگئے تھے ۔ چین نے انکا دماغ ٹھکانے لگا دیا ہے۔ لدّاخ میںچین اور بھارت کے درمیان جو سرحدی تنازعہ ہے اس میں جنگی اعتبار سے چار اہم مقامات ہیں جہاں دونوں ملکوں کی فوجوں کا ماضی میں آمنا سامنا ہوچکا ہے اور آئندہ بھی ہوسکتا ہے۔ جنوب میں گرم چشمہ (ہاٹ اسپرنگ) ہے۔ اِس سے اُوپر پین گونگ جھیل ہے۔ تیسرا مقام جھیل کے شمال میںچوشُول اور گلوان وادی کے علاقے ہیں۔ ان سب سے اُوپرانتہائی شمال میں دریائے چِپ چاپ کی دِپسَینگ وادی ہے ۔چِپ چاپ سندھ کے معاون دریا شیوک میں ضم ہوجاتا ہے۔گزشتہ ماہ مئی کے شروع میں پین گونگ جھیل میں چینی فوجیوں نے بھارتی فوجوں کو پیچھے دھکیلا تھا اور انکی مکوں‘ لاتوں اور لاٹھیوں سے اچھی خاصی پٹائی کی تھی۔ پندرہ جون کو گلوان وادی میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کا ٹکراؤ ہوگیا تھا جس میں بھارت کے بیس فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اب دِپسَینگ کا محاذ گرم ہورہا ہے۔ اس وادی میں چین نے بھارتی فوج کو گشت کرنے سے روک دیا ہے۔یُوں تو تقریباًساری دپسَینگ وادی چین میں شامل ہے لیکن یہاں پربیس کلومیٹر کا علاقہ کسی ایک ملک کے قبضہ میں نہیںتھا۔ دونوں ملکوں کی فوجیں اس ‘نو مین لینڈ‘ پر پیٹرولنگ کیا کرتی تھیں۔ چین نے بھارتی فوج کی گشت پرکبھی اعتراض نہیں کیا۔البتہ اب چین کا روّیہ بدل گیا ہے۔ حالیہ برسوں میںدو اہم واقعات ہوئے جن سے چین کو اپنے تحفظ کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی اور اسے فوجی اقدامات کرنے پڑے۔ ایک تو بھارت نے شمال میںاپنے فوجی اڈہ دولت بیگ اولڈی کو جنوبی مقام دمچوک سے ملانے کے لیے ایک بڑی شاہراہ بنالی جس کاواحد مقصد فوجیوں کی نقل و حرکت اور فوجی ساز و سامان لانا لیجانا ہے کیونکہ یہاں سینکڑوں میل تک انسانی آبادی نہیں ہے ۔ دوسرے ‘ بھارت نے فوجی اڈہ دولت بیگ اولڈی کو عارضی سرحد پر واقع پیٹرولنگ مقامات سے ملانے کے لیے چھوٹی سڑکیں (فیڈرز) بنانی شروع کردیں۔ پیٹرولنگ مقامات تو چین کی طرف سے بھارت کو ’نو مین لینڈ‘ میں دی گئی ایک طرح کی رعایت تھے تاکہ دونوں فوجوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم رہے۔ لیکن بھارت نے انکو اپنامستقل حصّہ سمجھنا شروع کردیا ‘ وہاں ایسی سرگرمیاں شروع کردیں جنکا مقصدتھا کہ چین کی سرحد تک بھارتی فوج کی نقل و حرکت کوآسان بنایا جاسکے۔یہ متنازعہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ بھارت نے گزشتہ سال اگست میں ریاست جموں و کشمیر اور لدّاخ کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے انہیں اپنا وفاقی علاقہ قرار دے دیا حالانکہ لداخ ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔ بھارت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے وزراء بار بار یہ بیان دیتے رہے کہ بھارت اکسائے چن کا علاقہ بھی چین سے چھینے گا۔ ان اشتعال انگیز بیانات نے چین کو اپنی سلامتی کے بارے میں چوکنا کردیا۔ چین نے سرحد پر اُن مقامات کو محفوظ بنانا شروع کردیا جہاں سے اکسائے چن پربھارتی فوج حملہ کرسکتی ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ لداخ اور چین کے درمیان قراقرم کا پہاڑی سلسلہ ایک قدرتی سرحد کی طرح ہے جو شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف ایک ٹیڑھی لکیر کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ تاہم بھارت کے قبضہ میں کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جو قراقرم کے مشرق میں چینی علاقہ سے متصل ہیں۔ ان میں ایک دِپسینگ کی وادی بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان عارضی سرحد (لائن آف ایکچوئل کنٹرول )اس وادی میں سے گزرتی ہے۔انیس سو باسٹھ میں چین اور بھارت کے درمیان جن علاقوں میں جنگ ہوئی تھی ان میں دِپسینگ وادی بھی شامل تھی۔ اپریل دو ہزار تیرہ میں بھی یہاں دونوں ملکوں کی فوجوں میں کشیدگی ہوگئی تھی اور وہ ایک ماہ تک آمنے سامنے کھڑی رہیں۔ تاہم سفارتی مذاکرات کے ذریعے یہ کشیدگی دُور ہوگئی تھی۔ دِپسینگ وادی سے جُڑا ہوا دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او) کا فوجی اڈہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا بڑا مرکز ہے جسے انیس سو باسٹھ میں تعمیر کیا گیاتھا۔اگر بھارت کے عزائم نیک ہوتے تو اس دور دراز‘ سرد علاقہ میں فوجی سرگرمیاں بڑھانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ سردی کے موسم میں یہاں درجہ حرارت منفی پچپن تک گر جاتا ہے۔ ساڑھے سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ دنیا کی بلند ترین ائیر فیلڈ سمجھی جاتی ہے ۔جب سے بھارت اور امریکہ کے درمیان اتحاد ہوا ہے دِلّی کے حکمران اس فوجی اڈّہ کو مسلسل توسیع دے رہے ہیں۔اسکاصاف مطلب یہ ہے کہ بھارت اس جگہ کو عالمی سیاست اور چین‘ امریکہ سرد جنگ میں استعمال کرنے کی تیاریاں کررہا ہے۔ ان عزائم کو بھانپتے ہوئے دپسینگ وادی میں چین نے کاروائی کی ہے اور فوجی نوعیت کے اہم مقامات پر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے ۔

  • جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے  (والد محترم کی یاد میں)  از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے (والد محترم کی یاد میں) از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    انمول ستارہ،
    (والد محترم کی یاد میں)
    از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    میں نے دیکھا
    پار افق کے۔۔۔۔۔
    جگ مگ کرتا ایک ستارہ
    ہاتھ بڑھا کے پکڑ نا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھڑا کےوہ مجھ سےبھاگا

    اک سسکی نکلی۔۔۔۔
    دل سے میرے۔۔۔۔۔۔۔
    کیسےتم تک میں پہنچوں ؟؟؟؟

    میرے کانوں میں آواز یوں اک آئی ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈوبتے ہوئے تارے نے۔۔۔۔۔۔۔یہ راہ مجھے دکھائی ۔۔۔۔۔۔۔

    میرے رستے پر تم۔۔۔۔۔
    چل کر۔۔۔۔۔۔
    مجھ تک پہنچ تم پاؤ گے۔۔۔۔۔
    عروج کی بلندیوں کو تم چھو لو۔۔۔۔۔
    سیدھی راہ کبھی نہ بھولو ۔۔۔۔۔۔۔چلتے رہنا صبح شام ۔۔۔۔۔۔۔

    رکنا نہیں چلنا ہے مادام ۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کو مہکا دینا۔۔۔۔۔۔
    اندھیر نگر کو چمکا دینا۔۔۔۔۔
    دنیا کو گلزار بنا کر۔۔۔۔۔۔
    اپنے آپ کو گہنا کر۔۔۔۔۔۔
    جب پار افق کے آؤ گے۔۔۔۔۔۔۔سمجھو مجھ تک پہنچ چکے تم۔۔۔۔۔
    پھر تم مجھ کو پاؤ گے

  • انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    انسان بڑا جلد باز،گھبرا جانے والا،تھڑدلا اور ناشکرا ہے۔
    قرآن حکیم میں انسانی فطرت کے بارے میں یہ مثالیں جابجا بیان کی گئی ہیں۔
    نعمتیں ملنے پر عطا کرنے والے کو بھول جانے والا ہے،
    فخر و تکبر کی ردا اوڑھ کر پھولا نہ سمانےوالا ہے…
    میں حسبِ معمول قرآنی آیات کا مطالعہ کر رہی تھی کہ سورۂ یونس کی آیات نے مجھے انسانی فطرت کے دو عکس دکھائے…
    اللّٰہ تعالٰی نے اس فطرت کی ایک مثال ان الفاظ میں بیان کی ہے:
    وَ اِذَا اََذقنَا النَّاسَ رَحمَۃً مِّن بَعدِ ضَرَّآءَ مَسَّتھُم اِذَا لَھُم مَکرٌ فِی اٰیَاتِنَا قُلِ اللّٰہُ اَسرَعُ مَکرًا،اِنَّ رُسُلَنَا یَکتُبُونَ مَا تَمکُرُون¤
    "اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہوتی ہے،کسی نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چال چلنے لگتے ہیں،آپ کہہ دیجیئے کہ اللّٰہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے،بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.”(سورۂ یونس)۔
    یعنی انسان نعمت ملنے پر ناشکری کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور جب اللّٰہ تعالٰی کی گرفت میں آئے تو فوراً اس کی رگِ فطرت پھڑک اُٹھتی ہے۔
    جس کی مثال اللّٰہ تعالٰی نے ما بعد کی آیت میں دی ہے:
    کہ اللّٰہ تعالٰی نے تمہیں چلنے کے لیئے پاؤں عطا کیئے،سواریاں مہیا کی ہیں،
    جن پر دور دراز کے سفر کرتے ہو،
    پھر عقل کا استعمال کرتے ہوئے کشتیاں اور جہاز بنا لیئے،اور سمندر کی لہروں پر محوِ سفر ہوتے ہو…!!!
    لیکن کیسی بے بسی کا عالم ہوتا ہے جب اُحیط بھم
    یعنی جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھِر جاتے ہیں اور موت سامنے نظر آتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟
    دعو اللّٰہ مخلصین لہ الدین…
    اس وقت خالص اعتقاد کے ساتھ اللّٰہ کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔
    یعنی انسان جب شدائد میں گھِر جاتا ہے تو تب سارے فلسفے بھول کر اللّٰہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے،اسی کو پکارتا ہے،کیونکہ انسانی فطرت میں اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا۔
    انسان ماحول اور تربیت سے متاثر ہو کر اس جذبۂ فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن کسی ناگہانی آفت اور مصیبت میں یہ جذبہ پھر عود کر آتا ہے۔
    رب کی توحید انسانی فطرت کی آواز ہے،جس سے انحراف کر کے انسان فطرت سے انحراف کرتا ہے۔
    لیکن جب انسان کو اللّٰہ تعالٰی ان تمام مصائب سے بچا لے آئے تو چاہیئے تو یہ ہے کہ شکر کا مفہوم اقوال و اعمال سے بیان ہوتا نظر آئے لیکن انسانوں کی اکثریت نجات پا جانے کے بعد تکبر میں مبتلا ہو جاتی ہے…
    شکر کے مفہوم و انداز سے نابلد رہ جاتی ہے۔
    عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ کہ جب وہ فتح مکہ کے موقع پر فرار ہو کر ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آ گئی،ملاح نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ اللّٰہ واحد کو پکارا، تب ہی نجات مل سکے گی…
    یہ بات عکرمہ کے دل پہ لگی کہ اگر سمندر کی تُند ہواؤں میں نجات دینے والا اللّٰہ ہے تو خشکی کی مشکلات حل کرنے والا بھی وہی ہے…
    اور یہی بات تو محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں،چنانچہ مکہ واپس آ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔(رضی اللّٰہ عنہ)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مومن کی مثال بڑے خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے کہ:
    "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے،بے شک اس کے ہر معاملے میں اس کے لیئے خیر ہےاور یہ صرف مومن ہی کے لیئے ہے،اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر اَدا کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے اور اگر اُسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے…”
    (صحیح مسلم)۔
    ہر حال میں اللّٰہ تعالٰی سے اُمید مومن کی صفت ہے،
    نعمتیں ملنے پر شکر…
    مصائب آنے پر صبر…
    لیکن کہیں بھی نا امیدی،اس کے ساتھ شرک اور شکوؤں کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی…
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی مومنین کی صفات سے متصف فرمائے آمین ثم آمین…!!!
    ہر راحت میں تو…
    گھبراہٹ میں تو…
    نہیں کوئی میرا…
    بس تیرے سوا…
    میں جاؤں کہاں۔…؟
    اے حقیقی الٰہ…!!!
    جب جب بھی پکارا…
    تو نے ہر کام سنوارا…
    ملی فطرت کو تسکین…
    اور جھکی یہ جبین…
    جھکی رہے یہ سدا…
    جب آئے بُلاوا ترا…
    تو راضی ہو مُجھ سے…
    مجھےمعرفت ہو تُجھ سے…!!!
    یہی تو ہے مقصدِ ایماں…
    یہی ہے بندگی کا ساماں…!!!
    ==============================

  • وادی کشمیر اور آتشِ نمرود    تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود
    سفیر اقبال

    سوچا تھا اس بار کچھ نہیں لکھوں گا…..
    تا کہ ہاتھ باندھنے، روڑے اٹکانے اور حوصلہ توڑنے والوں کو بھی علم ہو کہ ذہنی شکست کیا ہوتی
    لیکن پھر خیال آیا جب لڑنے والے شکست قبول نہیں کر رہے تو میں لکھنے سے کیوں ہاتھ پیچھے کروں…اور جنہیں گھر سے باہر نکل کر افق کا منظر دیکھنے کی ہمت و جرات تک نہیں کیوں ان چند لوگوں کی وجہ سے ذہنی شکست قبول کروں.

    تو عرض یہ ہے کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس طرح کے مناظر اور اس طرح کے معرکے دکھا کر ڈرا دھمکا کر انہیں اپنے ساتھ ملا لیں گے. یہی خوش فہمی لاک ڈاون شروع کرتے وقت بھی تھی کہ جب تک اقوام متحدہ یا پاکستان کی طرف سے شدید ری ایکشن نہیں آتا تب تک ہم نیٹ سروس بند کر کے دنیا سے ان کا رابطہ ختم کروا لیں گے اور لاک ڈاون کا بہانہ بنا کر اندر کھاتے انہیں خوراک و آسائش مہیا کرتے رہیں گے اور بالآخر انہیں اپنا گرویدا بنا لیں گے. اور بعد میں دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم ایک ہیں اور بھائی بھائی ہیں. اور اب آزادی کی کوئی ضرورت نہیں.

    لیکن ان گائے کا پیشاب پینے والوں کی قسمت میں جنت اور جنت نظیر کی دودھ کی نہریں کبھی نہیں تھیں. اتنا عرصہ گزر گیا نیٹ سروس بحال ہو گئی لیکن اس بستی میں آج تک کوئی ترنگا لہراتا نظر نہیں آیا… جہاں سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آتا تھا آج بھی لہرا رہا ہے مگر جبری طور پر اپنا بنا لینے والی قاتل و بے رحم حکومت وہاں پر ترنگا نہیں لہرا سکی. وہ مظلوم لیکن غیرت مند لوگ اپنا غم اپنی خوشیاں، اپنے روزے اور اپنی عیدیں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ منانا پسند کرتے ہیں… اب بھی! اور جابر و قاتل حکومت یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی انہیں روکنے میں ناکام ہے.

    وہ مزاحمت کاروں کو بھون رہے ہیں اور بچوں بزرگوں کو دھمکا رہے ہیں. ہو سکتا ہے لالچ بھی دے رہے ہوں اور عین ممکن ہے کہ اس لالچ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ لوگ ہتھیار ڈال کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوں اور تحریک کے خلاف سرگرم ہو چکے ہوں اور غداروں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تحریک ختم ہو رہی ہے.

    مائیں اپنے بیٹے گنوانے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں. اندازہ کریں پاکستان کے اندر پاکستان کا کھانے والے ہلکی سی اونچ نیچ کی وجہ سے پاکستانی پرچم جلانے پر آ جاتے ہیں، مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا اور اردگرد کی ساری فضا میں ڈھکے چھپے الفاظ میں گالیوں کے پھول بکھیر دیتے ہیں لیکن جو نہ تو پاکستان کا کھاتے ہیں، نہ ہی کسی معاہدے کے پابند ہیں وہ اس قدر درد سہنے کے باوجود اس درد کو پاکستان کے ساتھ نہیں جوڑتے… پاکستانی پرچم جلا کر ہندو ریاست کے ساتھ وفاداری ثابت نہیں کرتے… پاکستان کے خلاف طنزیہ پوسٹیں اور طنزیہ کمنٹس کر کے مشہور ہونے کی کوشش نہیں کرتے.

    اللہ تحریک آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں کو اور ان کی کوششوں کو جانتا ہے اور جو لوگ اس جدوجہد میں دانستہ و نادانستہ طریقے سے رکاوٹ ڈال رہے ہیں اللہ انہیں اور ان کی کوششوں کو بھی خوب جانتا ہے. بس یہی دعا ہے کہ اللہ سب کو ان کی کوششوں کے مطابق اجر عطا فرمائے.

    کا شمیر کی آزادی کب ہے… کتنی قریب ہے اس سوال کا جواب جاننے کی پاداش میں کتنی آنکھیں نکال دی گئیں کتنے جسم بھون دئیے گئے لیکن مائیں آج بھی دودھ پیتے بچوں کو آزادی کا ہی سبق پڑھاتی ہیں. زمینی حقائق جو بھی ہوں لیکن ایمان یہی ہے کہ جب حالات ایسے ہوں کہ اونٹ کو چرانے والا عبدالمطلب بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والے ہاتھیوں کو نہ روک سکے تو اللہ تعالیٰ ابابیل بھیجتا ہے اور جب اللہ کا رسول رو رو کر اللہ سے منت اور دعا کرے کہ اگر یہ پیدل اور غیر مسلح تین سو تیرہ افراد دنیا سے مٹ گئے تو تیرا نام لینے والا دنیا میں کوئی نہیں بچے گا تو تب اللہ تعالیٰ تلواروں نیزوں والے مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی مدد کے لیے نظر نہ آنے والے فرشتے بھیجتا ہے.

    تحریر : سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    *دنیا کی ہر اک شئے…!!!*
    *[بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔*
    ہے باقی جو ذات وہ ہے بس اک الٰہ…
    دنیا کی ہر اک شئے کو ہے فنا …
    عروج والے، زوال والے …
    حقیقتوں کہ خیال والے …
    آ رہے ہیں کئی،اور کئی جا رہے …
    یہ شہرت و نام سب جو کما رہے…
    محبتوں کے سمندر میں ہیں جو…
    سدا جوش و ولولہ ہی پھیلاتے…
    اور نفرتوں کے اسیر ہیں جو…
    انسانیت کی ہیں دھجیاں اڑاتے…
    دائم رہے گا نہ یاں کوئی باقی…
    سمجھنے کو ہر روز یہ نقطہ ہے کافی…
    اک قافلہ خامشی سے ہے رواں…
    کوئی بہانہ ہے چلتا نہ آہ و فغاں…
    چپکے سے مٹی تلے ہیں جو سوئے…
    کیسے تھے گوہر،ہم نے جو کھوئے؟
    وہ چشمِ نم میں آنسو جھلملانے والے…
    وہ دل کی دُنیا میں اُتر جانے والے…
    وہ یادوں کا جو رہ جاتے ہیں خزینہ…
    وہ دعاؤں کی لڑی کا جو دُر ثمینہ…
    اس جہاں میں آنے کا مقصد ہے سمجھنا…
    کتابِ زندگی پہ وہ عمل ہے لکھنا…
    کہ آنے کا مقصد ہو نظر آتا حل…
    اب چل تو جب کہے آ کر اجل …
    واں ملیں اعزاز جب تو ہیں شاد کام …
    جہاں رہنا سدا، اور دائم ہے قیام…!!!
    ==============================

  • حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

    حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

    حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔
    گزشتہ روز حکومت نے شوگر مافیا کے بعد پیٹرول مافیا کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیے۔ پیٹرولیم کی قیمتوں میں نئے اضافے کے بعد حکومتی وزراء مسلسل دفاع کی کوششیں کر رہے ہیں جن میں شہباز گِل سر فہرست ہیں۔ آج کی اننگز فواد چوہدری نے شروع کی اور وہ جلد ہی ہار مان گئے۔ انھوں نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے 25 روپے تک ڈیفنڈ نہیں ہو رہے۔ یہ الفاظ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ بہت سے معاملات میں خود کو اور پارٹی کو ڈیفنڈ کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف پیٹرولیم اضافے پر پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم کے استعفیٰ کی قرارداد جمع کرا دی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے وزیراعظم کے قول و فعل کا تضاد سامنے آ گیا ہے لہذا وزیر اعظم کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مسلم لیگ ن کی ایم پی اے سعدیہ تیمورکی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے استعفی کے مطالبہ کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔

    سعدیہ تیمور کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس فری قرار دیا، پھر مالی سال مکمل ہونے سے قبل ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا گیا، اس اقدام سے وزیراعظم کے قول فعل میں تضاد واضح ہوگیا۔ سعدیہ تیمور کا کہنا تھا کہکے قول فعل میں تضاد واضح ہوگیا ہے جس کے بعد ان کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں، ایم پی اے سعدیہ تیمور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنی عہدے سے استعفی دیں۔

  • امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player   تحریر: معاذ انور

    امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player تحریر: معاذ انور

    امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player
    معاذ انور

    تاریخ گواہ ہے جب بھی مسلم امت پر کوئی آزمائش آئی۔ جب بھی کفار اور دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی سازشوں کے جال میں پھنسایا تو امت کے غیور نوجوان آگے بڑھے اور مظلوم و مجبور مسلمانوں کا سہارا بنے۔
    پانچویں صدی ہجری کے آخری دور میں جب مسلمان آپس میں خانہ جنگی کا شکار ہوئے تو صلیبیوں اور یہودیوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا۔ تو انگلینڈ٫ اٹلی ، جرمنی ،فرانس سمیت کئی ممالک نے مل کر اپنی فوج بنائی۔ اور لاکھوں کی فوج لے کر مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ مسلمان بد ترین شکست سے دوچار ہوئے ۔ اس دور میں بڑے بڑے صلیبی گاڈفری، ریمون جیسے کمانڈروں نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ فرانسیسی مورخ میشو لکھتا ہے کہ پہلی صلیبی جنگ کے دوران مسلمانوں کو اونچے اونچے مقامات سے نیچے کرا کر مار دیا۔ انہیں ذندہ آگ میں جلایا گیا۔ فلسطین کے بازاروں میں انہیں جانوروں کی طرح گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ستر ہزار مسلمانوں کو بیت المقدس (اقصیٰ) میں شہید کر دیا گیا۔ مؤرخ لکھتا ہے۔ مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی کے لیے اتنا بتانا کافی ہے کہ جب صلیبی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔ کئی سال تک امت مسلمہ اس ظلم کا شکار رہی۔ مسلمان مسجد اقصیٰ میں سجدوں کے لیے ترس گئے تھے۔ ایسے حالات میں اللّہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ باہمت ترک نوجوان عماد الدین زنگی ،اور صلاح الدین ایوبی کو اس مقصد کے لیے کھڑا کیا۔
    پھر تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان صلاح الدین ایوبی نے ان صلیبیوں کی ایسی ٹھکائی کی کہ آج تک صلیبی اور یہودی صلاح الدین ایوبی کے نام سے کانپتے ہیں۔ ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا اور وہاں کئی سالوں بعد مسجد اقصیٰ میں آذان دی گئی۔ مسلمانوں سجدے میں گر کر زاروقطار رونے لگے۔ نماز کے بعد ایوبی نے وہاں ایسا ایمان افروز درس دیا کہ مسلمان نوجوانوں کا خون کھول اٹھا۔ اور پھر وہ دن بھی آیا کہ مؤرخ لکھتا ہے ان نوجوانوں کا کفار پر اتنا رعب تھا۔ کہ جب بھی کوئی قلعہ فتح ہوتا تو صلیبیوں کو قیدی بنایا جاتا اور ایک رسی سے چالیس چالیس صلیبیوں کو باندھ کر ایک مسلمان نوجوان چالیس چالیس صلیبیوں پر مسلط ہوتا۔ اور کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس ایک مسلمان نوجوان پر ہاتھ تک اٹھا سکے۔
    اس دور کی طرح آج بھی امت کو ایسے ہی باہمت نوجوان درکار ہیں۔مگر اس بار کفر کامیاب ہوا۔ اور جدید دور میں ٹک ٹاک سے لے کر پبجی گیم تک ہر طرح کا جال پھینکا گیا۔ مسلمان نوجوان اس کے جال میں بری طرح پھنستے چلے گئے۔ کبھی جن نوجوانوں کا مشن میدان جنگ میں شہادت ہوا کرتا تھا آج اسی امت کے نوجوان ٹک ٹاک پر ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور پبجی گیم کے diamond level اور Ace level تک پہنچنے کو اپنا زندگی کا سب سے بڑا مشن سمجھتے ہیں۔ جی ہاں میں اسی پبجی گیم کی بات کر رہا ہوں جس نے ہمارے نوجوانوں کی راتوں کی نیند چھین لی۔ پبجی گیم میں pro player بننے کی پاداش میں ان نوجوانوں نے ماؤں بہنوں کو خود بازار سے سامان لانے پر مجبور کردیا۔ بوڑھا باپ جو ساری زندگی اس اولاد کی خاطر کام کرتا رہا اس باپ نے اگر اولاد سے دوائی لانے کو کہا تو آگے سے اولاد کا جواب ملا کہ ابا جی مجھے بس گیم میں دو تین دشمن مارنے ہیں۔ پھر میں آپ کی دوائی لاؤں گا۔ باپ انتظار کرتا کرتا سو گیا مگر اس نوجوان کی گیم ختم نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گیم کا نشہ دماغ پر اس قدر سوار ہوا کہ اب نہ تو نیند آتی ہے اور نہ ہی نمازوں کی کوئی فکر رہتی ہے۔ سارا سارا دن موبائل فون کی سکرین پر نظر جمائے گیم کھیلنے کے بعد یہی نوجوان بڑی خوشی سے اپنے دوستوں کو بتاتا ہے ” یار اب تمہارا بھائی pro player بن گیا ہے”۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اب یہ نشہ جنون کی حد تک اس نوجوان پر سوار ہو جاتا ہےاور جب اس کے والدین اس جنون کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسے پبجی گیم سے روکتے ہیں ۔ اس سے موبائل چھین لیتے ہیں تو اس کا یہ نشہ اسے خود کشی تک پہنچا دیتا ہے۔ دن رات ایک کر کے اس نے پبجی گیم میں ایک لیول بنایا۔ اور جب گیم ان سے چھینی جاتی ہے تو یہ نوجوان سمجھتے ہیں جس گیم کے لیے اتنی محنت کی اس کے بغیر زندگی گزارنے کا کیا فائدہ۔ ایسی زندگی سے بہتر خودکشی کرکے مرجاؤ۔ اور پھر یہی نوجوان جو امت کا محافظ بنایا گیا تھا لمحہ بھر میں بوڑھے ماں باب کو اکیلا چھوڑ کر ،ماں کو اتنا بڑا صدمہ دے کر زلت کی موت مر گیا۔ میں اس پبجی گیم پر بات کیوں نہ کروں کہ جس نے ہمارے نوجوانوں کو کہاں سے کہاں لا کر کھڑا کر دیا۔ جس گھر میں نوجوان صبح اٹھ کر قرآن کی تلاوت کی بجائے پبجی گیم کا ایک میچ لگانا ضروری سمجھتے ہوں اس گھر میں کہاں سے رحمت آئے۔ وہ بھی راتیں تھیں جب سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے نوجوانوں کے ساتھ مل کر راتوں کے اندھیرے میں صلیبیوں کے قلعوں پر منجنیقیں نصب کرتا اور صبح ہوتے ہی ان پر ایسی یلغار کرتا کہ ان کو گمان تک نہ ہوتا۔مگر یہ کیسی راتیں ہیں کہ اسی امت کے نوجوان ساری ساری رات پبجی کھیلنے میں گزار دیتے ہیں۔ آج پھر امت کو ایسے نواجوانوں کی ضرورت ہے جو راتوں کے اندھیروں میں جہاد کی پلاننگ کرتے ہوں۔ تو آئیے میرے ملت کے نوجوانوں آج پھر انہی صلیبی جنگوں کی یاد تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمن نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب ہم اپنی زمہ داریوں کو سمجھیں اور امت کٹی پھٹی امت کا سہارا بن جائیں۔ اللّہ تعالیٰ ہم سے زیادہ سے زیادہ اپنے دین کا کام لے لے۔ (آمین).

  • گلراں آلی سرکار ۔۔۔۔۔ سیاسی وابستگیوں اور مفاد پرستی پر ایک تمثيلی تحریر: ابو عبدالہادی

    گلراں آلی سرکار ۔۔۔۔۔
    (سیاسی وابستگیوں اور مفاد پرستی پر ایک تمثيلی تحریر)
    ابو عبدالہادی

    ایٹھےکئی فقیراں دی بھنگ لتھی۔۔۔ تے کئی گئے متھیریاں کھا ھیرے ۔۔۔۔۔۔!!! ۔۔۔۔
    پڑپہ دے کول ایس دربار تے رنگ رنگ نسل نسل دے گلر سرکار ہوراں پالے ہوئے ۔۔۔باو باو کرن الے پخ کرن ،بس چاوں چاوں کرن آلے ،دوروں ویکھ کے کھورن آلے ،تے ایک لمی چیخ مار کے چپ کر جان آلے ۔۔۔ایناں سارے گلراں دی اک گل مشترک اے سارے سرکار دا دتا ہویا راطب کھاندیاں اپنا رنگ نسل تے خاندان بھل جاندے نیئں ۔۔ ۔
    ۔عام طور تے وڈی سرکار ہوراں دے کامے تے ملنگ ہی ایناں گلراں دا دھیان رکھدے نئیں اوہ ای ایناں دے کھان پیںن تے آرام دا خیال رکھدے نئیں ۔۔وڈی سرکار ہوراں تے سال وچ اک دو واری ایناں گلرران نو دیدار کروادنیاں نئں ۔۔ اوی اوس ویلے جدوں کسے خاص جانور دی طبیعت وگڑ جاوے یا سرکار ہورا کسی شکار تے جاناں ہوے ۔۔اودوں ایناں گلران وچوں جیندی قسمت جاگ پوے وڈی سرکار اہہنوں جن لیندے نئیں تے اوہنوں اہس خصوصی مہم تے جان دا شرف ملدا اے ۔۔سمجھ لوو اوس گلر دی قسمت بن گئی ناصرف اوہدیاں ست نسلاں دی عیش ہو گئی ۔۔کیوں جے وڈی سرکار دی نظر وچ اوناں کوئی نکی گل نئیں ۔۔۔جیس گلر نوں وڈی سرکار دا اشارہ مل جوے اوہ بندیاں توں وے اتے ہوجاندا اے ۔۔ایتھوں تیک کہ عام لوکی اوس گلر دے ہتھ پیر جمن لگ پیندے نئیں ۔۔اوس گلر دے ٙٹھوٹھے دا پانی وی متبرک تے آبشفا سمجھیا جاندا اے ۔

    ۔ایتھوں پتا لگدا. اے کہ ایس سرکار دا گلر ہونا کنے نصیبے دی گل اے ۔
    ۔۔سر عام والے اقرار الحسن نے وی اینا گلراں دیاں موجاں لگیاں ناصرف آپ ویکھیاں تے سارے جگ نو وخایاں نیئں۔۔ایتھے ملک کونے کونے دا گلر ملدا اے
    ۔ایتھے ہند ،سندھ،پنجاب خیبر پختونخواہ،بلوچستان تک دے گلر پالے گئئے نیئں ۔۔سرکار دے ملنگ ایناں گلراں دی نسل،خاندان ،عمر ، قد کاٹھ ۔تے کارکردگی دے لحاظ نال ایناں دی خوراک تے رہین سہن دا بندوست کردے نئیں ۔کس راطب خور نوں کناں کھوانا پیانا اییں ۔۔۔۔تے . . اودے کولوں عام حالات وچ کی کم لینا ایں ایے سارے کم وڈی سرکار دے کارندیاں نوں پتا اے ۔۔۔ جدوں کوئی راطب خور بہتا پی، کھا کے آکڑی لین لگ پوے ۔۔۔تے اوہدیاں اکھاں وچ خمار دوروں نظر آون لگ پوے ۔۔۔تے اور کدی کدی اپنی سنبھالواں نو کھورن لگ پوے تے فیر وڈی سرکار اوس جانور نوں واڑیوں کڈن توں دیر نئیں کردی ۔۔۔۔کراچی دا اک گلروڈی سرکار ہوراں پڑے چاواں نال پالیا سی تے ۔۔تے اوہنے وی وڈی درکار دے اکھ دے اشارے انج سمجھے کہ جدوں سرکار ہوراں اوہنوں شکار لئی جھڈیا تے اوہنے اپنے سامنے اون ہر اوہ جانور اپنی جوہ وچوں مکا چھڈیا کدی وڈی سرکار ول اکھ چک وہ ویکھا سی ۔۔۔تے فیر نصیب ہر گئے ایس نازاں نال پالے ہوئے گلر دے ۔۔کہ ایک دن اور سرکار دے حریف گدی ٹھاکر صاحب دے کتیاں نال مل کے اہناں دا راطب پی لیا ۔۔۔بس اوس گلر دے آہر ای بدل گئے ۔۔۔اوہنے کنے ای کامیاں تے ملنگاں نوں وڈ کھتیا۔۔تے وڈی سرکار بڑی سوچ وچار تو بعد اہنوں ۔۔ڈیریوں باہر بنھ دتا تے اوہنوں وی چنگا نہ لگا ۔۔سنیا اے اوہ ہن ہلکا ہو گیا اے ۔۔کجھ دناں بعد اوہ وی کتے دی موت مر جاوے گا ۔۔۔ایسے طراں سرکار ہوراں اہنے جانور. دی صحت تے کدی وسا نئیں کھناندیاں ۔۔ذراکسے جانور دامزاج وگڑیا نیئں سرکار نوں بنا وی اوہ جانور پسند ہووے ۔۔سرکار گدی دا ناں بدنام ہون توں پہلاں اوس نوں تتر کرادیندیاں نیئں ۔۔۔۔اجکل سرکار ہوراں دی نظر اک نویں امریکن بل ڈاگ اتے سولی اے ۔۔ایس بختاں الے جانور تے سرکار نیئں ٹریننگ تے بڑی کرائی اے ۔۔۔تے پورے پڑپے دے بنڈاں وچ ایس جانور دیاں دھماں وی بڑیآں سن ۔۔پر سرکار ہوراں دل ایندے ولوں حالے کجھ بہتا راضی نئیں ۔۔کیوں جے حالے تیک سرکار ہوراں جہڑے شکار تے وی اہنوں چھڈیا اینے ہلاشیری دین دے باوجود شکار ہتھوں گنوا دتا سو۔۔۔سنیا اے کہ سرکار ہوراں دے اک پرانے مرید نیئں ولائیتوں ایک ہائبرڈ نسل دا جانور گھلیا اے سرکار دے شوق دے واسطے ۔۔۔پر حالے وڈے سرکار ایس جانور نوں ہور آزمانہ چاہوندیاں نئیں ۔۔۔اے ویسے وکھن نوں بڑا سوہنا تے سمارٹ اے تے سرکاردا دل ایندے نال لگدا ۔۔پر سرکار اپنے کماں تے شوق دے اگے کسی دا حسن تے سمارٹ نس نوں بوہتی وقعت نئیں دیندیاں ۔۔بس جس دن اوہناں نوں لگیا کہ نال دیاں گدیاں توں کم بہت بچھاں رہ گیا اے ۔۔سرکار کسے نویں گلر نوں تیار کر لین گیاں بس اک اشارہ ہونا ایں تے سندھ ،پنجاب تے الکھ ملکھ دے گلراں پچھلا ہلاندیاں چوں چوں کردیاں سرکار دے پیر چٹن لگ پینا ایں ۔۔۔۔اللہ دڈی سرکار دا فیض دھدائی رکھے ۔۔عام لوکاں لئی تے وڈی سرکار رب دی رحمت اے۔ہرچن دے دے چن یاری شریف دیاں دیگاں آل دوال داپیٹ بھرن لئی وادو نئیں ۔۔۔۔سرکار ہوراں دا وی اے ای نعرہ ۔۔۔۔

    اٹ کھرکا دکڑ وجے تتا ہووے چلھا ۔۔۔۔۔۔ان فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بلھا۔۔۔۔۔
    ایس گلی دے جٹ برے اے لیندے پھائیو پھا ۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از سرعام "