Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے  بقلم:احمد جواد

    ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے بقلم:احمد جواد

    ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے۔

    احمد جواد

    پی آی اے کے پائیلٹ شاید اسی تیکنیک پر جہاز چلا رہے تھے، لیکن پھر تکنیک میں تبدیلی آگئ۔ پی آی اے کے جہاز اوپر جا کر نیچے تو آتے تھے لیکن اب وہ نیچے گرنے لگے۔ تیس سالوں کی کرپشن ، اقربا پروری نے آخرکار اپنا رنگ دکھا دیا۔

    ہمارے سسٹم میں سنگین خرابیاں ہیں۔ جب تک ہم ان کی شناخت اور اعتراف نہیں کرتے ہیں ، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

    ہاں جگ ہنسائ ہو گی لیکن کینسر کی سرجری لازمی ہے۔ پی آئی اے کے پائلٹ بین الاقوامی مارکیٹ میں طویل عرصے تک قبول نہیں کئے جائیں گے۔ لوگ پی آئی اے کا سفر نہیں کریں گے۔ اگر میں نے پاکستان کے اندر سفر کرنا ہے تو میں بھی شایدخود روڈ سے سفر کروں گا۔

    لیکن عمران خان یا ایئر مارشل ارشد اس کے ذمہ دار نہیں ہیں وہ تو صرف قالین کے نیچے چھپاۓ ہوۓ مسلوں کی نشاندہی اور اُن کا حل تلاش کر رہے ہیں-ںمسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ملٹری ڈکٹیٹروں نے اداروں کو تباہ کر دیا۔

    ایسے جعلی پائیلٹس کو مثالی سزا دینی چاہیے لیکن یہ مت بھولیں کہ اسکا ذمہ دار ادارہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے۔ وہ ادارہ جہاں ٹاپ پوزیشن پر پاکستان ایر فورس سے ایر مارشلوں اور دوسرے افسروں کی ایک فوج آتی ہے۔ ان تمام افسروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

    احتساب جب تک جرنیلوں، ججوں، بیورکریٹ اور ٹاپ بزنس مینوں کا بھی نہیں ھو گا، احتساب کو سیاسی ہی سمجھا جاۓ گا۔
    ہر ریٹائرڈ پبلک آفس ہولڈر کے بچوں اور بیوی کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کو چیک کریں تو قاضی عیسی فائز کا کیس معمولی لگے گا۔

    ہر مافیا اور کارٹل کے پیچھے آپ کو انہی کیٹیگری کے لوگ ذمہ دار نظر آئیں گے۔پاکستان کو بچانا ہے تو صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ بلا امتیاز احتساب ہے اور ایسا احتساب صرف عمران خان کر سکتا ہے کیونکہ شاید صرف وہ اکیلا سیاستدان جو احتساب کے اس عمل میں اپنی مثال پیش کر سکتا ہے۔

    پچاس سال کا گند عمران خان کے کھاتے میں ڈالنے کی سازش ہو رہی ہے۔

  • سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔  ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ

    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔ ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ

    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)

    سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے آخری انٹرویو کی ویڈیو سن لیں تو آبدیدہ ہو جائیں گے۔ ایک ملک گیر جماعت جس کے تحت اربوں کا سالانہ ریلیف ورک ہوتا ہو ۔ جس جماعت کے ٹکٹ پر ممبران اسمبلی اور سینیٹر بنتے ہوں ۔ اسی جماعت کے وہ امیر رہے ۔ وہ اپنے اثاثے ظاہر کر رہا ہے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو ۔
    "کہا کہ چھوٹے سے گھر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ ہاں البتہ قرضہ ہے جسے اتارنے کی استطاعت بھی نہیں ۔ کوئی اگر ہمدردی رکھتا ہے تو رابطہ کر لے” ۔
    یہاں کوئی کونسلر بن جائے تو اس کی نسلیں سنور جاتی ہیں ۔ سیاست کے نام پر لوگ ارب پتی بن جاتے ہیں ۔ لیکن یہ دینی طبقے کی ایمانداری اور اعلی ترین اخلاقیات کا اظہار ہی تو ہے ۔ ایک جماعت میں پوری زندگی گزارنے والا زندگی کی بنیادی سہولیات نہ پوری کر سکا ۔۔۔ قرض ہے تو اتارنے کی استطاعت ہی نہیں ۔۔ ہمارے ہاں ایسے مناظر کسی معجزے سے کم نہیں کہ جہاں سیاست امارت کے حصول کا ذریعہ ہو ۔
    سیاست و دین یکجا ہوں تو ایسے ہی مناظر سامنے آتے ہیں ۔ اگر سیاست کو واقعی دینی فریضہ سمجھ کر کیا جائے ۔یہی دینی سیاست کا خاصہ ہے ۔۔
    کاروبار کرنا ۔ حلال ذرائع سے رزق کمانا ہر ایک کا حق ہے وہ دیندار ہو یا کوئی اور لیکن کمال صرف یہ کہ اختیار ملے ۔ فنڈز وافر ہوں اور پھر بھی ایمانداری کی مثال قائم کی جائے۔ ایسا نہیں کہ دیندار ہوتے ہوئے اچھا کاروباری یا امیر ہونا منع ہے ۔ لیکن یہاں بات ہو رہی ہے ایک کارکن کی بے لوث خدمات کی ۔ جس نے زندگی بھر صرف اپنی جماعت تحریک کا سوچا خود اپنے بارے نہیں ۔۔۔
    دوسری جانب دینی جماعتوں کے بڑوں ۔ ان میں موجود ایسے افراد کہ جنہیں اللہ نے صاحب ثروت بنایا ہے ۔ ان کےلئے بھی ایک سبق ہے کہ جو اپنی زندگی کسی تحریک کو وقف کر دے ۔ بے لوث ہو کر ہمہ وقت جماعت اور تحریک کی سربلندی کے لئے سرگرم رہے ۔ کبھی تھوڑا وقت ملے تو اس کے حالات پر بھی نظر ڈال لیا کریں ۔ یقین مانیں افراد قیمتی ہوتے ہیں ۔ اگر وہ آپکے ادارے ۔ جماعت یا تحریک کیساتھ جڑے ہیں ۔ باصلاحیت ہیں تو کچھ ان کے حالات پر بھی نظر رکھیں۔
    کہیں وہ تحریک ۔ جماعت کی خاطر زندگی کی بنیادی سہولیات سے تو محروم نہیں ہو چکے ۔۔ یہ نہیں کہ جماعت کی امارت سے فارغ ہوے تو ایک سوٹ کیس میں روانہ ہونیوالے اس درویش کو کسی نے زندگی بھر بعد میں کسی نے پوچھا تک نہیں ۔ وہ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں پتہ نہیں کس جبر کیساتھ قرض کا ذکر کر رہا ہے
    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔ یقین مانیں جہاں اس مرد درویش نے ایمانداری ۔ بے لوث جماعت کی خدمت ۔ یہ ایک روشن مثال ہے ۔ وہ اہم رہنما ۔ بعد ازاں امیر جماعت رہے ۔ ہر کوئی ان سے ملنا اور انہیں اپنے پاس بلانا چاہتا ہو گا ۔ لیکن شائد کبھی کسی نے غور ہی نہیں کیا ان کے وسائل اس سب کی اجازت دیتے بھی ہیں کہ نہیں ۔ انہوں نے تو جو کچھ تھا جماعت کی خدمت میں لگا دیا اور اپنے لئے کوئی ” اثاثہ” نہ بنا سکے ۔۔
    سید منور حسن کا روشن کردار دینی جماعتوں ۔ دینی اداروں اور دینی طبقے کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ اگر کوئی باصلاحیت ۔ بے لوث ہمہ وقت سرگرم تحریک ادارے یا جماعت کے لئے زندگی وقف کر بیٹھا ہے تو اس کی قدر کریں ۔ یہ نہ ہو کہ وہ زندگی کے آخری ایام میں یوں اظہار کرنے پر مجبور ہو کہ ” مجھ پر قرض ہے ۔ کسی کو مجھ سے ہمدردی ہو تو رابطہ کرے ” ۔ ۔ ایسے دینی جماعتوں ۔اداروں اور تحریکوں سے منسلک باصلاحیت نوجوانوں ۔ بے لوث ۔ ایماندار عہدیداروں کی قدر کریں ۔۔ افراد کے متبادل نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی اپنی صلاحیتیں ۔ وقت اور خلوص وقف کر بیٹھا ہے تو اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا اس کے احباب کا بھی فرض ہے ۔۔کتنے ہی باصلاحیت ہیرے جب ان کو گھریلو مجبوریوں نے جکڑ کر رکھ دیا تو وہ تحریک و جماعت کی بجائے معاش کےلئے فکر مند ہو گئے ۔ جن کے منسلک رہنے سے جماعت ادارہ مضبوط بن جاتا وہ ساتھ نہ چل سکے اور ان کی جگہ خوشامدی ۔ نو دولتیے اور کم صلاحیت کے حامل افراد نے بھاگ دوڑ سنبھال لی۔ اور شائد یہی ہمارے ہاں دینی جماعتوں اداروں اور تحریکوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہاں باصلاحیت افراد کو منسلک نہیں رکھا جا سکا ۔

  • رب کی رضا…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    رب کی رضا…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    رب کی رضا…!!!
    [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔
    رب کی جو رضا ہے…
    وہ ہی تو بڑی عطا ہے…
    یاں محبتوں کا سفر…
    ہر حال میں وفا ہے…
    ملتا ہے کُچھ یا کھوئیں…
    شکر کی ہی صدا ہے…
    ہم کر بھی ہیں کیا سکتے؟
    بے بسی کی اک نَوا ہے…
    اُس کی رضا میں جینے کا…
    الگ سا ہی اک مزہ ہے…
    زندگی گزرتی ہے جب ہماری…
    آزمائش کے پاٹوں سے…
    وہاں سے نکل کر زندگی…
    ہوتی عزم و برداشت کا دِیا ہے…
    پھر سفر کی صعوبتوں سے…
    ٹکرانے کی سیکھتی اَدا ہے…!
    نا شکری کے کلمات سے…
    ہوتا وجود یہ کھوکھلا ہے…
    بہادری کی صفت ہے چھِنتی…
    شکوؤں کی ہی مالا ہے…
    کسی پَل نہیں ملتا سکوں…
    اُلجھنوں کی ہی ردا ہے…
    جو نصیب ہے، نہیں اس سے مفر…
    جو نصیب نہیں، ملے وہ کیونکر؟
    دامن میں اپنے رہیں سدا…
    بھرے خیر کے ہی موتی…
    نشیب و فراز سے گزرتے…
    دل کی یہی دُعا ہے…!!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔

  • اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔
    تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔۔ آباد رہی نمازیں ہوتی رہیں ۔ لیکن اب خستہ حالی ویرانی کا شکار ہے ۔۔ اس کے بلکل قریب موجود گوردوارہ اور شیولنگ اس لسٹ میں شامل ہیں جنہیں 400 مندروں کی بحالی کے پروگرام کے تحت تعمیر و مرمت کئے جانا ہے ۔ یہ سب تاریخی عمارات موڑ ایمن آباد ضلع گوجرانولہ میں ہیں ۔
    لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔ یہ بحالی پروگرام میں شامل نہیں ہو سکتی ۔
    اب تصویر کا ایک دوسرا رخ دیکھیں ۔ گزشتہ دنوں اس کی تصاویر شئیر کیں گئیں تو ملک بھر اور بیرون ملک سے کئی شخصیات اور ادارے اس تاریخی مسجد کو بحال کرنے پر خرچ کے لئے تیار ہوئے ۔ ڈپٹی کمشنر کے وفد نے وزٹ بھی کیا ۔ لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ جگہ محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے ۔ آثار قدیمہ کے ہیڈ آفس میں رابطہ ہوا ۔ تو بتایا گیا کہ کوئی بھی پرائیویٹ شخص یا ادارہ اس پر خرچ نہیں کر سکتا ۔ صرف محکمہ ازخود خرچ کر سکتا ہے ۔یا پھر اقوام متحدہ یا کسی دوسری گورنمنٹ کا پراجیکٹ حکومت پاکستان کے ذریعے ہو ۔ جبکہ محکمے کے پاس فنڈ ہی نہیں ہیں ۔۔ حالانکہ سیالکوٹ ۔ پشاور ۔راج کٹاس سمیت دیگر مندروں کو اسی محکمہ آثار قدیمہ نے تعمیر و بحال کیا ہے ۔ لیکن اس مسجد کی باری نہیں آ سکی ۔۔
    المیہ دیکھیں کہ ایک تاریخی مسجد جسے اہل خیر اپنے پیسوں سے بحال کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر سکتے ۔ محکمہ اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن دوسری جانب وہی محکمہ مندر و گوردواروں پر کروڑوں خرچ کر رہا ہے ۔
    یہ کیسا تضاد ہے کہ مسلمان ایک مسجد کو اپنے پیسوں پر بھی بحال نہیں کر سکتے لیکن مندر گوردوارے سرکاری خرچ پر تعمیر و بحال کئے جا رہے ہیں ۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)

  • محمدعلی جناح، امت مسلمہ اور "سب سے پہلے” کیا؟ از بلال شوکت آزاد

    محمدعلی جناح، امت مسلمہ اور "سب سے پہلے” کیا؟ از بلال شوکت آزاد

    محمدعلی جناح، امت مسلمہ اور "سب سے پہلے” کیا؟
    بلال شوکت آزاد

    ایک نظریہ اتنا اٹل اور لاثانی ہونا چاہیے عقیدے کی طرح کہ اس کی حقانیت سمجھانے اور منوانے کے لیے بحث اور تذلیل کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔

    جس نظریہ کی حقانیت مشکوک ہوگی وہ سرراہ مباحث کا شکار ہوگا اور اس پر اعتراض اٹھتے رہیں گے تاآنکہ دلیل سے اس کی حقانیت واضح کردی جائے یا پھر لاجواب ہوکر تذلیل سے خود نظریہ کو بدنام کروالیا جائے۔

    دوقومی نظریہ اور نظریہ پاکستان حقیقی اور لاثانی نظریات کے عکاس ہیں عقیدے کی طرح لہذا ان کو چیلنج کرنے والے کبھی سرخرو نہیں ہوئے جبکہ یہ نظریات دن بہ دن دلوں میں راسخ اور اذہان میں صیقل ہوتے گئے اور ہو رہے ہیں۔

    اور برسبیل تذکرہ بتادوں کہ ان نظریات میں اسلام ضرورت نہیں بلکہ بنیاد کے طور پر موجود تھا, ہے اور رہے گا جس سے یہ پتہ چلا کہ اسلام نے الگ وطن کی چاہ دی نہ کہ الگ وطن نے اسلام کی تو یہ بات یہیں ختم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے کیا؟

    محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تحریک آزادی دراصل اسلام کے بطن سے ہی پھوٹی ہے کہ مسلمان برصغیر کی ایک قوت بنیں اور اپنے اسلامی تشخص کے ساتھ امت مسلمہ کے رہبر و محافظ بنیں لیکن ان کی پوری زندگی اور تحریک کے مطالعے کے دوران یہ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ برصغیر کے مسلمان آزاد وطن لیکر اس کی سرحدوں میں خود کو قید کرلیں گے بلکہ اگر قائدآعظم کے آخری ایام کا مشاہدہ و مطالعہ کریں تو انہیں پاکستان کی بطور رہنما فکر تھی لیکن بطور مسلمان اور ایک نوزائیدہ اسلامی ملک کے مختار کل وہ امت مسلمہ کے لیے فکر مند تھے۔

    شاید آپ احباب کو یہی پتہ ہو کہ فلسطین کی حالت زار پر وہ پریشان اور فکر مند تھے جبکہ اسرائیل کے لیے شدید اور سخت افکاررکھتے تھے جوکہ یہ سمجھانے کو کافی ہے کہ اس وقت کٹی پھٹی حالت میں بھی انہوں نے امت مسلمہ کو اسلام کے مضبوط رشتے اور نظریہ کی وجہ سے اول رکھا نا کہ حاصل شدہ وطن کو لیکن وہ اس کے علاوہ بھی مسلم ممالک کی دلجوئی اور عسکری مدد کے خواہاں رہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ

    —انڈونیشیا کے قومی انقلاب کے دوران ، محمد علی جناح نے برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے والے مسلمان فوجیوں کو انڈونیشیا کے ڈچ امپیریل نوآبادیات کے خلاف اپنی لڑائی میں انڈونیشیا کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں ، برطانوی ہندوستانی فوج کے 600 مسلم فوجیوں نے نوآبادیاتی قوتوں کو اپنا حصہ داؤ پر لگاتے ہوئے ، اور انڈونیشیا کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان 600 فوجیوں میں سے 500 فوجی جنگ میں شہید ہوئے۔ جبکہ بچ جانے والے افراد پاکستان واپس آئے یا انڈونیشیا میں رہتے رہے۔

    پاکستان سے مسلمان فوجیوں کی مدد کے اعتراف کے طور پر ، 17 اگست ، 1995 کو انڈونیشیا کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوران ، انڈونیشیا نے زندہ سابق پاکستانی فوجیوں کو آزادی جنگ ایوارڈز دیئے اور پاکستان کے بانی والد محمد علی جناح کو انڈونیشیاء کے سب بڑے ایوارڈ "آدیپورا” سے نوازا, یہ سب "سب سے پہلے اسلام” (امت مسلمہ) کی بہترین مثال پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔

    اس کے بعد بات کرتے ہیں جناح اور اسرائیل کی کہ

    —اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریان نے مئی 1948 میں پاکستان کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی, جب اس نے محمد علی جناح کو ایک ٹیلیگرام بھیجا تھا۔ محمد علی جناح کی جانب سے کوئی خاص کیا بلکہ کوئی جواب ہی نہیں ملا۔ جناح ، جو در حقیقت صحت کے شدید مسائل میں مبتلا تھے ، ستمبر 1948 میں اپنی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔

    1949 تک ، اسرائیل کی وزارت خارجہ کا خیال تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کے دارالحکومت ، کراچی میں اسرائیلی سفارت خانہ کھول سکیں گے یا کم از کم تجارت کو کھل کر کرنا شروع کریں گے۔

    اور دوسری جانب لندن میں پاکستانی سفارتکاروں اور مختلف یہودی تنظیموں کے ساتھ منسلک اسرائیل کے نمائندوں کے مابین ابتدائی رابطہ 1950 کے اوائل میں ہوا تھا۔

    پاکستانی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو کچھ سو یہودیوں کے لئے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے جو افغانستان چھوڑ کر اسرائیل ہجرت کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے 1948 میں فلسطین کے فلسطینیوں کے انخلاء اور اسرائیل سے ان کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پاکستان کے راستے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ، جس کے بعد افغان یہودی ایران کے راستے روانہ ہوگئے۔

    1952 میں ، پاکستانی وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان (احمدی) نے اسرائیل کے خلاف (محمد علی جناح کی آخری ایام زندگی کے وقت متجوزہ پالسیز کی روشنی میں) سخت گیر پالیسیوں کو فروغ دیا ، اور 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کی روشنی میں فلسطین کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی وکالت کی۔

    اس طرح ، ایوب خان کی پالیسی نے عرب ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات کی بنیاد رکھی اور دنیائے عالم اور تاقیامت پاکستانی مسلم عوام کو باور کروادیا کہ "سب سے پہلے اسلام” (امت مسلمہ)۔

    اسی طرح بانی پاکستان محمد علی جناح نے دیگر پڑوسی اور مسلمان ریاستوں کے ساتھ اسلام کے رشتے سے مضبوط تعلقات کی داغ بیل ڈالنے کی خواہش اور کوشش کی تاکہ امت مسلمہ آگے چل کر متحد, منظم اور مجہد کردار ادا کرے اور مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرلیں کہ بیشک قیام پاکستان نشاتہ ثانیہ کے دیگر ابواب کی طرح ایک اہم اور بڑا باب تھا اور اس وقت مضبوط اور بااختیار پاکستان نشاتہ ثانیہ کا اگلا اہم اور بڑا باب ہے جس کو ہمیں مکمل کرنا ہے پر یاد رہے نشاتہ ثانیہ ایک ایسی بحالی عروج کی مبارک جدوجہد ہے جس میں پاکستان کا اپنا کردار متعین ہے جو اس نے ادا کرنا ہی کرنا ہے جس سے یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کہنا کافی نہیں بلکہ موجودہ حالات اور وقت کے غیر متقاضی ہے البتہ جس وقت مشرف سر نے یہ غنچہ اقوام عالم بلخصوص طاغوت کو دیا تھا تب اسی کی ضرورت تھی لیکن یہ کوئی صد سالہ یا تاقیامت نظریہ نہیں تھا جس کو کھونٹا بنا کر ہم اس سے بندھ جائیں۔

    پاکستان نے جب ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش کی تو کیا مسلم اور کیا غیر مسلم سب نے جو نعرہ اور الزام دہرایا وہ قطعی یہ نہیں تھا کہ "پاکستانی بم” بلکہ جب بھی بات ہوئی وہ یہی ہوئی کہ "اسلامی بم” لہذا اس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ہی محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ترجیحات اور مقاصد طے اور واضح تھے جو سرحدوں کی قید سے بالاتر تھے اس لیے یہ بحث اپنا وجود ویسے ہی کھوجاتی ہے کہ سب سے پہلے اسلام یا سب سے پہلے پاکستان کیونکہ اسلام ہی اس ملک کے قیام کی وجہ بنا اور اسلام ہی اس کے وجود کا ضامن ہے اور اسلام ہی اس کی عزت و سربلندی کی کنجی ہے تو بات ہی ختم کہ اسلام جیسے الہامی و لافانی عقیدے کے سامنے کسی کمزور نظریہ کو کھڑا کیا جائے جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہر اس فیصلے اور اقدام پر سوالیہ نشان لگادے جس کا پس منظر اسلام اور امت مسلمہ تھے۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟  تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟ تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟
    تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    اس دنیائے ہست و بود میں کامیاب انسان وہی سمجھا جاتا ھے جو کسی کام کے آغاز کے بعد اس پر دوام حاصل کرتا ھے، اور دنیا بھی ایسے ہی لوگوں کو فالو کرتی ھے۔ جبکہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر کسی کام کو ادھورا چھوڑ دینے والے کو یہ دنیا بہت پیچھے چھوڑ جاتی ھے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو اس دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لئے، خود کو کامیاب ترین شخص کہلوانے کے لئے مستقل مزاجی کی عادت کو اپنانا ھوتا ھے۔۔۔!!
    یہ دنیا جو فانی ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اتنا سخت اصول اپنانا ھوتا ھے تو ھم کیسے یہ تصور کر سکتے ھیں کہ جہاں ہمیشگی کی زندگی ھوگی اس کی تیاری میں ھم بغیر مستقل مزاجی اختیار کیے ہی کامیاب ھو جائیں گے۔
    لا شک کہ ھدایت جیسی عظیم نعمت جس کے حصے میں آ جائے اس جیسی خوش نصیبی اور کہاں حاصل ھو لیکن صرف ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں ھے بلکہ شریعت اسلامی میں اصلاً مقصود ھدایت پر استقامت ھے۔۔
    ھدایت بہت سوں کو مل جاتی ھے لیکن ھدایت پر استقامت ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔
    ھدایت حاصل ھوئی اور اس پر سختی سے ڈٹ جانا، شریعت اس چیز کی متقاضی ھے۔
    جیسا کہ الله سبحانه و تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    ((فاستقم کما امرت و من تاب معک))
    ” اپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ھے اور وہ بھی جس نے آپکی معیت میں رجوع الی الله کو اختیار کیا”

    اسی طرح بار ہا رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے جیسا کہ شداد بن اوس رضی الله عنه کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونا و چاندی کو ذخیرہ کررہے ھوں تو تم ان کو کلمات کو ذخیرہ کرنا ((اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد))
    "یا الله میں تجھ سے سوال کرتا ھوں دین پر ثابت قدمی کا اور بھلائی پر پختگی کا۔”
    اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ھے کہ سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کے استفسار پر جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلّم نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کا حکم دیا۔
    آیات اور احادیث سے یہ بات مترشح ھوتی ھے کہ دین پر سختی سے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی کا ذریعہ ھے۔ جب دین پر استقامت اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر اس چیز کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دن میں ایک آدھی نماز پڑھ لی یا آئے روز کوئی نا کوئی نماز چھوڑ دی جائے اور دلیل میں یہ پیش کیا جائے کہ الله بڑا معاف کرنے والا ھے، بڑا غفور رحیم ھے۔

    ھمارے ایمان ہی اتنے پختہ ھیں کہ برادری کو وجہ بنا کے ھم دین پر قائم نہیں رہ سکتے، ھمارے ذہنوں میں ایک بات رچ بس گئی ھے، بہت معذرت کے ساتھ ھم نے اسی بات کو خدا بنا لیا ھے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    ھم دین کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا چاہتے ھیں لیکن برادری، معاشرہ ھماری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ھے۔
    ایک طرف ھمارا ایمان ھے اور ایک طرف ان لوگوں کا ایمان ھے کہ جن کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:-
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پہلے لوگوں کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی کو پکڑا جاتا، زمین میں گاڑا جاتا، آرا چلایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر چیر دیا جاتا، لوھے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو نوچا جاتا۔ لیکن یہ چیزیں بھی ان کے ایمان کو ڈگمگا نا سکیں۔
    اسلام ایسی ہی استقامت کا تقاضا کرتا ھے کہ کسی بھی تنگی، مصیبت کو دیکھ کر دین اسلام سے پیچھے نا ہٹا جائے بلکہ دوام اختیار کیا جائے۔
    استقامت حاصل کرنے میں اگرچہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے، یہ کوئی آسان فعل نہیں ھے اور یہ رب تعالیٰ کی اعانت و نصرت کے بغیر ممکن نہیں ھے لیکن ان میں ھمیں خود بھی آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیے۔
    نفس امارہ کو نفس مطمئنہ میں بدلنے کے لئے بہت لمبا سفر کرنا پڑتا ھے، بہت محنتیں درکار ھوتی ھیں لیکن ھمیں گھبرانا نہیں ھے بلکہ جس چیز کو ایک دفعہ اختیار کر لیا اس پر ڈٹ جانا ھے اور پھر اللہ کریم ھمارے لئے رستے کھولتا جائے گا اور پھر نعیم سرمدی میں ان شاءاللہ کامیابی ھمارا مقدر ھوگی اور انعام میں ھمیں جنت الفردوس عطا کی جائے گی اور اس کامیابی کا اصل انعام دیدارِ الٰہی کی صورت میں دیا جائے گا۔ ان شاءالله

  • خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کسی کا بھلا نہ چاہ سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں…؟
    کسی کو اچھا مشورہ دے دینا…
    اخلاص بھرا مشورہ جو اس کے لیئے فائدے کی راہیں ہموار کرنے کا باعث بن جائے…
    ایسا مشورہ جو آپ کے ذاتی مفاد یا بدلہ بازی کے گرد نہ گھُومتا ہے…
    کسی سے مسکرا دینا…
    کسی سے اللّٰہ کے لیئے ملاقات کرلینا…
    کسی کی کوئی ضرورت پوری کر دینا…
    کسی کے پاس بیٹھ کر دُکھ سُکھ شیئر کر لینا…
    کسی کو دوسروں کی نظروں میں حقیقت کے آئینہ میں پیش کرنا…
    کسی کی غیبت،برائی اور بدخواہی نہ کرنا…
    کسی کے بے غرض تعلق رکھنا…
    کسی کے خلاف سازش نہ بُننا…
    کسی کو تعلیمی،کاروباری،معاشی و معاشرتی طور پر کامیاب دیکھتے ہوئے رنجیدہ نہ ہونا…
    کسی کے بارے میں کوئی جاننا چاہے تو مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالنا…
    خامیوں پر اگر حد سے بڑھی ہوئی نہ ہوں تو پردہ ڈالنا…
    ہر چھوٹی چھوٹی بات چھُپانا کہ کوئی برابر کے لیول پر نہ آ جائے،چاہے وہ سوٹ یا جوتا ہی کیوں نہ ہو…یہ دل کی گھٹن کا باعث ہے،ایسی باتوں سے دل تنگ ہو جاتے ہیں،ظرف وسعت کی بجائے سکڑنے لگتے ہیں…
    کہیں پروفیشنل جیلسی کا شکار ہو جانا،کسی کو آگے بڑھتا دیکھ کڑھنا…
    کسی سے کُچھ سیکھ کر اسی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا…
    یہ سب چیزیں خیر پھیلانے اور پہنچانے میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    تب ہم من پسند کی کیٹیگری کے ساتھ چلتے ہیں…
    ہم نا پسند لوگوں تک خیر پہنچانے سے ہی رُک جاتے ہیں…
    جبکہ تعلیم کیا ملی تھی؟
    جو برے ہیں ان سے بھی بھلائی کرنی ہے…
    تلخی کو نرمی سے ٹالنا ہے…
    نفرتوں کو محبتوں سے مٹانا ہے…
    تب کیا صورتحال سامنے آتی ہے؟
    فاذالذی بینک و بینہ عداوۃٌ کَاَنَّہ ولی حمیم¤
    تبدیلی تب آتی ہے…
    معاشرے تب بدلتے ہیں…
    جب انا اور میں کی قربانی دے کر اخلاقیات اور برداشت کا پرچار کیا جائے…!!!
    جب بھلائیوں کے بانٹنے میں منہ ملاحظہ نہ کیا جائے…
    جب ججمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے…!!!
    بے لوث ہو کر…
    بے غرض بن کر…
    خیر خواہی کے جذبے سے…
    نیکی کی اُمنگ کے ساتھ…
    اپنی خیر کا لوگوں کو مستحق بنا کر…
    اپنے نفس کے شر سے لوگوں کو بچا کر…
    ہم ذہنی اور قلبی اطمینان پا سکتے ہیں…
    جب آپ کسی کا بُرا نہیں چاہیں گے…
    کسی کی رہ میں روڑے نہیں ڈالیں گے…
    تو کوئی لاکھ آپ کی راہ میں رکاوٹیں بنے…
    خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا…
    احسان و بھلائی کا بدلہ مل کر رہتا ہے،
    چاہے کُچھ دیر بعد سہی…خیر لَوٹ کر ضرور آتی ہے…!!!
    ناشتہ کے وقت ایک چڑیا روزانہ روٹی چگنے آتی ہے،
    ابھی میرا پراٹھا تیار نہیں تھا،تھوڑی دیر ادھر اُدھر پھدکنے کے بعد چڑیا نے ایک نظر مُجھ پر ڈالی…
    میں نے اُٹھ کر اندر سے دوسرے پراٹھے سے نوالہ توڑ کر اسے دینا ہی چاہا مگر وہ اُڑ گئی…
    غصہ بھی آیا،لیکن خاموشی سے وہیں بیٹھ گئی…
    دو منٹ بعد چڑیا پھر میرے پاس تھی اور وہی روٹی میں نے اُس کے سامنے ڈال دی…
    یہ بالکل چھوٹی سی بات یہ سمجھانے کے لیئے کافی تھی کہ چند لمحات کا صبر اپنے پیچھے وہ چیز لیئے ہوتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہی ہوتی اور اس کی رہ گزر صرف صبر سے گزرتی ہے…!!!
    ہم بسا اوقات صرف بے صبری سے اپنی خیر سے دوسروں کو محروم کر دیتے اور نیکی کی راہیں معدوم کر دیتے ہیں…
    ہم وہ وقت چیخ و واویلا سے بھی گزار سکتے ہیں…
    اور صبر و استقامت سے بھی…
    ہاں سچ ہے کہ خیر کا بدلہ مل کر رہتا ہے…
    دنیا میں بھی اور آخرت کی جزا تو محفوظ ہی ہے ناں ان شآ ءَ اللّٰہ…
    لیکن آغاز ہی بدلہ کی اُمید پر نہ کیجیئے…
    جو کیجیئے بس اپنا فرض سمجھتے ہوئے ادا کرتے جایئے…
    خود سے ممکن حد تک بھلائیوں کو تقسیم کیجیئے…
    اور اگر کسی کا بھلا نہ کر سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں؟؟؟
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابی رضی اللّٰہ عنہ کو افضل اعمال کی وضاحت کے بعد فرمایا اگر یہ نہ کر سکے تو:
    "لوگوں کو اپنی برائی سے بچا،تو بے شک یہ صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔
    آیئے !!!
    اپنے شر سے دوسروں کو بچائیں۔
    چھوٹی چھوٹی سہی مگر بھلائیوں کو ہی پھیلائیں…
    کسی کے لیئے اذیت اور وبال نہیں بلکہ امن و محبّت ،اُمید و حوصلہ اور اخلاص و خیر خواہی کی ایک کِرن بننے کی کوشش کریں…!!!
    یہی اپنے پر صدقہ کے ساتھ دوسروں کا بھی بھلا ہے…!!!
    ==============================
    {جویریات ادبیات}۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں  …از…اسد عباس

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں …از…اسد عباس

    ریاست مدینہ اپنے دارلخلافہ میں سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کرے گی جس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات میں مکمل آزادی ہو یا انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال میں کامل خود مختاری۔ غیر مسلموں کو جو حقوق اسلام نے دئیے ہیں کوئی اور مذہب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی انسانی تاریخ سے اسلام کے انصاف جیسی مذہبی رواداری و ہم آہنگی کی کوئی نظیر پیش کی جا سکتی ہے۔

    ریاست اسلامی پر لازم ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے مساجد کی تعمیر و دیکھ بھال مانگے ہوئے عوامی چندے پر ہو اور ریاست مدینہ چرچوں، گردواروں اور مندروں کی تعمیر شاہی خزانے سے کرے۔ مملکت خداداد جسے خالصتاً اسلام نے نام پر بنایا گیا۔

    آج اس اسلامی ریاست کے حکمران ان اغیار کی قربت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے جا رہے ہیں جو مساجد کو شہید کر کے اس جگہ بت خانوں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ کشمیر میں ایک طرف ہندو ریاست کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم عروج پر ہیں

    جبکہ دوسری طرف مساجد کی تالہ بندی بھی۔ تمام بین الاقوامی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فقط نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مہینوں تک نہ ہو سکی۔ جبکہ اسلامی پاکستان میں ریاست کی طرف سے مساجد کی نگہبانی تو درکنار، مسجدوں میں بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن فیس وصول کرنے کی بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

    لاحول ولا قوۃ
    کئی دہائیوں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے شکار معاشرے میں اس طرح کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام سے شدت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکمران طبقے کو سمجھنا ہو گا کہ غیر مسلموں کی محرومیوں کا ازالہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر نہیں کیا جا سکتا۔

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

  • اہل دل نے اُسے ڈھونڈا اُسے محسوس کیا،  سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہےکہ نہیں   تحریر: ساجدہ بٹ

    اہل دل نے اُسے ڈھونڈا اُسے محسوس کیا، سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہےکہ نہیں تحریر: ساجدہ بٹ

    اہل دل نے اُسے ڈھونڈا،اُسے محسوس کیا

    سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہے،کہ نہیں

    تحریر: ساجدہ بٹ

    حال ہی میں ہمارے ساتھ کیا ہو گیا شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں،دیکھتے ہی دیکھتے علمی سرمایہ ہمارے علماء اکرام کی صورت میں ہم سے اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کرونا،ٹڈی دل اور دیگر سزاؤں کے بعد اور بڑی سزا ہمیں ملنے لگی کہ ہم سے علم کے تارے جدا ہونے لگے یعنی ہم گناہگاروں کو جو تھوڑا بہت علم دین سے جوڑنے کی تلقین کرتے تھے ہمیں اسلامی تعلیمات سے وقتاً فوقتاً آگاہ رکھتے تھے وہ لوگ حال ہی میں ہم سے جُدا ہو گئے۔۔۔
    جب یہ علماء اکرام آئے روزہم سے بچھڑنے لگے تو میرے ذہن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث پاک آئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بے شک (یہ باتیں) قیامت کی علامات میں سے ہیں کہ علم اٹھ جائے اور جہالت باقی رہ اور شراب نوشی کثرت سے ہونے لگے اور علانیہ زنا ہونے لگے(صحیح بخاری)۔

    اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیامت کے نزدیک علم اٹھ جائے گا میرے عزیزقارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علم اٹھ جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری کتابیں ختم ہو جائیں گی یا اُن کے صفحے سفید ہو جائیں گے بلکہ اس کا مطلب ہے علم دین پھیلانے والے علماء اکرام اللہ کو پیارے ہو جائیں گے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخش دیں کہ اب یہ ہو رہا ہے ہمارے بزرگ دین ہم سے جُدا ہوئے۔۔۔
    ذرا سوچیے قارئین کرام جب ایک گھر کا بزرگ اس دارے فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو ہمارے گھر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سگے بھائیوں بہنوں میں سلوک و اتفاق کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں جائیداد کے ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لیے نفرتوں کے بیج بونے لگتے ہیں۔۔۔
    لالچ و حرص میں مبتلا ہو جاتے ہیں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے ،جبکہ یہ ہی جب والدین کے زیرِے سایہ تھے تو اُلفت محبت کا پیکر تھے ایک دوسرے کا احساس کرتے تھے ۔۔۔۔
    یہ ہی حال اس دنیا کا ہے ہم مسلمانوں کو آپس میں جوڑے رکھنے والے چاند کی مانند چمکنے والے ہمارے دلوں میں ر
    روشنیاں بکھیرنے والے ہم سے جُدا ہو گئے اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہ ہم بھی ایک گھر کے بچوں کی طرح بکھر نہ جائیں کہیں ہم میں بھی نفرت پیدا نہ ہو جائے ۔
    دین سے دوری پیدا نہ ہو ،،،،،ہم لوگ تو ایسے ہیں کہ کئی فرقوں میں بٹے ہیں دین اسلام سے کم اور اپنے فرقے سے زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں حالانکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ تو بہت آسان اور واضح ہے بس بات تو وہی ہے نہ کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی ہو تو اُسے محسوس بھی جلد کر لیتا ہے اُس تک پہنچنے کے راستے بھی نکال لیتا ہے اور گناہ گار تو یہ ہی سوچتا رہا کہ خدا ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔؟