Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑے شہروں کی اجارہ داری  بقلم : عدنان عادل

    بڑے شہروں کی اجارہ داری بقلم : عدنان عادل

    بڑے شہروں کی اجارہ داری
    از:عدنان عادل

    پاکستان میں اڑتالیس ہزار بڑے دیہات اور تقریباً چار سو چھوٹے شہر ہیں لیکن ان سب پر پانچ بڑے شہروں کی حکمرانی ہے۔ اسلام آباد‘لاہور‘ کراچی ‘پشاور اور کوئٹہ میں بیٹھے حکمرانوں نے تمام حکومتی اختیارات اورریاست کے مالی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ملک کے دو تہائی شہری دیہات اورقصبوں میں رہتے ہیں ‘وہ چند بڑے شہروں کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ملک کے انتظام و انصرام اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ چار صوبائی حکومتیں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نیم خود مختار حکومتیں قائم ہیں۔ملک کے چار صوبوں کی جسامت بہت بڑی ہے اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔1947میں قیام پاکستان کے وقت اس خطہ کی آبادی تقریباً تین کروڑ سینتیس لاکھ تھی۔ بہتر برسوں میں ملک میں رہنے والوں کی تعداد تو چھ گنا سے زیادہ ہوگئی لیکن اس عرصہ میں حکومت کے ڈھانچہ اور طاقت کے مراکز میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی گئی جس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کوبہتر انداز میں پورا کیا جاسکتا۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچہ میں بہتری کی بجائے خرابی آتی گئی جسکا مظاہرہ ہم ہر طرف پھیلی کرپشن‘ بدانتظامی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ صرف انتظامی اختیارات کی بات نہیں ‘ معاشی وسائل پر بھی بڑے شہروں کا قبضہ ہے۔ عرصہ دراز سے دیہات کی دولت بڑے شہروں کو منتقل کی جارہی ہے۔ زمیندار دیہات کی آمدن سے کراچی‘ لاہور‘ پشاور میں بنگلے بناتے ہیں ‘ پر تعیش زندگی گزارتے ہیں ۔ حکومت جو ٹیکس وصول کرتی ہے اسکا بیشترحصہ اسلام آباد‘ لاہور‘ پشاور میں خرچ کیا جاتا ہے۔ دیہات اورچھوٹے شہربھینس کو چارہ کھلاتے ہیں جبکہ اسکا دودھ بڑے شہر پیتے ہیں۔ اگلے روز وفاقی حکومت کے ترجمان شہباز گل نے سندھ کے ضلع جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹرہسپتال کا دورہ کیا تو دیکھا کہ ہسپتال کا وجود برائے نام تھا ‘ کوئی ڈاکٹر تک موجودنہ تھا۔ ان کی آمد کی خبر سن کر ایک ڈاکٹر گھر سے بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔ شہباز گل نے شکوہ کیا کہ اس ہسپتال میں کورونا وبا تو دُور کی بات ہے کسی عام مرض کا علاج بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کم و بیش یہی حال سندھ کے دیگر ضلعی‘ تحصیل ہسپتالوں ‘ رورل ہیلتھ سنٹروں اوردیہی صحت مراکز کا ہے۔ سندھ حکومت ضلعی ہسپتالوں پر ہر سال اربوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن ان کی بد انتظامی ‘ غیر موثر نگرانی کے باعث عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ دیگر صوبوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ انیس بیس ہی کا فرق ہے۔دیہات اور چھوٹے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں ایکسرے مشینیں خراب اور ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی پڑی رہتی ہیں‘ دواؤں کی قلت رہتی ہے۔ ان سب چیزوںکے لیے فائلیں ہسپتال انتظامیہ سے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ اور پنجاب سیکرٹریٹ میں گھومتی رہتی ہیں۔ افسر شاہی کا ایک گھن چکر ہے جس میں ہسپتال ہوں یا تعلیمی ادارے عوام کو سہولت پہنچانے کے بجائے اِنکے لیے اذیت رسانی اور رشوت خوری کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے پچیس لاکھ ملازمین کی تنخواہوں پر قومی خزانہ سے اس سال اڑھائی ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے لیکن اس رقم کے بدلے عوام کو سروس کی بجائے ذلت و رسوائی ملتی ہے۔ ملک میں پھیلی بدانتظامی کی ایک بڑی وجہ اقتدار کے مراکز یعنی پانچ بڑے شہروں کی عوام سے دُوری اور فاصلہ ہے۔ ملک کی نصف آبادی تقریبا اڑتالیس ہزار دیہات میں رہتی ہے اور پچیس فیصد آبادی چھوٹے شہروں میں۔ گویا ملک کے دو تہائی شہری حق حکمرانی سے محرو م ہیں۔ صوبائی دارلحکومتوں میںبیٹھی اشرافیہ انکی قسمت کے فیصلے کرتی ہے۔ کسی چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی اسلام آباد‘لاہور یا کراچی کی بیوروکریسی اور وزرا ء کی رضا مندی درکار ہوتی ہے۔ ایک دُور دراز علاقہ میں کسی ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کا تقرر ہو یا اسکول میں کلاس روم بنانا ہو اسکی حتمی منظوری اور فنڈز صوبائی دارلحکومت سے آتے ہیں ۔ لاہور سے سینکڑوں کلومیٹر دور کسی علاقہ میں محکمہ ماحولیات یا محکمہ زراعت کا افسر رشوت خوری کا بازار گرم کیے ہوئے ہو تو شکایت کا ازالہ لاہور میں بیٹھا سیکرٹری کرسکتا ہے۔ اختیارات کی چند بڑے شہروں میں ارتکاز پر مبنی یہ ایک بہت تکلیف دہ ‘ غیر موثرنظامِ حکومت ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میںاقتدار کی مرکزیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی حکومتوںکا نیا نظام لایا گیا جس میں گیارہ صوبائی محکموں کے اختیارات ضلعی سطح تک منتقل کیے گئے ۔ سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اسکی سخت مزاحمت کی اور موقع ملتے ہی یہ نظام ختم کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مشرف دور کے مقامی حکومتوں کے نظام کی کمزوریوں کو دُور کیا جاتا اور مزید اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جاتے لیکن نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ایسے بلدیاتی قوانین بنائے جن میںانکے اختیارات انگریز دور کے نظام سے بھی کم ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسیع اختیارات حاصل ہوگئے لیکن صوبے اختیارات ضلعوں‘ تحصیلوں اور دیہات میں منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاق کی مجموعی ٹیکس آمدن سے ستاون فیصد حصہ مل جاتا ہے لیکن صوبہ کے اندر جو ضلعے اور دیہات ہیں ان کو انکا منصفانہ حق نہیں ملتا۔ اسکا حل یہی ہے کہ آئین میںواضح طور پر درج کیا جائے کہ صوبائی حکومتیں اپنی آمدن میں ہرضلع کا حصّہ مقرر کرنے کی پابند ہوں گی۔ امریکہ ‘ یورپ کے جن ملکوں میںجمہوری نظام قائم ہے وہاں مقامی حکومتیں بہت بااختیار ہیں‘ عوام کے مسائل مقامی ادارے حل کرتے ہیں۔ پاکستان میں اقتدار پانچ بڑے شہروں میں مرتکز ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے گروہ کی اجارہ داری کا نظام ہے۔اختیارات کی مرکزیت بے شمار مسائل کا باعث ہے۔اس نظام کے باعث ملک کے کئی حصّوں میں احساس محرومی نے جنم لیا ہے۔ ریاست سے بیگانگی پیدا ہوئی ہے۔ اس غیر مؤثر‘ ناکارہ نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔دیہات اور چھوٹے شہروں میں رہنے والی ملک کی دو تہائی اکثریت کو اس وقت تک اپنے حقوق نہیں مل سکتے جب تک حکومتی نظام میں تبدیلی لا کر مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں با اختیار نہیں بنایا جاتا۔

  • کیا خان حکومت نے اقوام متحدہ میں بھارت کی حمایت کی ؟  پروپیگنڈا کرنے والوں کا پوسٹ مارٹم ، تحریر :انعام الرحمن بھٹی

    کیا خان حکومت نے اقوام متحدہ میں بھارت کی حمایت کی ؟ پروپیگنڈا کرنے والوں کا پوسٹ مارٹم ، تحریر :انعام الرحمن بھٹی

    کیا خان حکومت نے اقوام متحدہ میں بھارت کی حمایت کی ؟ پروپیگنڈا کرنے والوں کا پوسٹ مارٹم
    تحریر انعام الرحمن بھٹی

    بغضئیے ، پٹواری ، جماعتیے سب پروپیگنڈا کررہے کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ ڈالا ہے ۔۔۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔

    یہ بات شروع ہوتی ہے نومبر 2019 میں جب بھارت سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے انتخابات کے لئے بطور امیدوار سامنے آیا ۔ پاکستان نے بھارت کے بطور امیدوار ہونے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاؤن ، بھارت کے اندر اقلیتوں سے ناروا سلوک کرنے والے بھارت کو سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پہ قبول نہیں کرسکتے ۔۔

    ثبوت نمبر 1 ۔ اکنامک ٹائمز امریکہ کی نومبر کی ہیڈلائن ملاحظہ کریں۔

    Pakistan opposes India’s candidacy to UNSC membership

    ثبوت نمبر 2 ۔

    بزنس سٹینڈرڈ کی ہیڈلائن ملاحظہ فرمائیں جس میں واضح لکھا ہے کہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان کی بھارت کی بطور امیدوار مخالفت ۔

    Pakistan opposes India’s candidacy to UNSC membership, cites Kashmir issue.

    اب آتے ہیں اصل مدعا کی جانب جس کے اوپر تمام بغضئے پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کو ووٹ ڈالا ہے ۔۔ اوپر سیاق و سباق بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جو بھارت کو امیدوار بھی نہیں دیکھنا چاہتا وہ اسے ووٹ کیونکر ڈالے گا ؟ پاکستان نے تو بھارت کی بطور امیدوار ہی مخالفت شروع کردی تھی ۔۔ خیر پاکستان کی مخالفت کام نا اسکی بھارت امیدوار بن گیا ۔

    اب بات کرتے ہیں الیکشن سے کچھ دن پہلے کی جب پاکستان ایک بار پھر کوششوں میں مصروف تھا کہ ممبران بھارت کو ووٹ نا ڈالیں ۔ پاکستان سفارتی سطح پہ یہ کوششیں کررہا تھا کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اسکو ووٹ نا ڈالا جائے ۔ میری اس بات کا ثبوت میں نیچے The Express Tribune کی خبر کی صورت میں ہے ۔۔

    ہیڈلائن :
    Pakistan plans to discredit India’s UNSC membership۔

    اوپر دو چیزیں واضح ہوگئی ہیں کہ پاکستان پہلے بھارت کی بطور امیدوار مخالفت کرتا رہا پھر الیکشن سے قبل بھی کوشش کرتا رہا کہ بھارت منتخب نا ہو ۔ اس صورتحال میں یہ پروپیگنڈہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو ووٹ ڈالا ہوگا ۔

    خیر کوئی بات نہیں اس بات کے ثبوت ہیں کہ پاکستان نے بھارت کو ووٹ نہیں ڈالا ہے ۔ امریکی اخبار The Diplomat میں آرٹیکل چھپا ہے کہ پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بھارت کے منتخب ہونے کے بعد اس آرٹیکل میں بھی واضح لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے ہر سطح پہ بھارت کی مخالفت کی ہے ۔

    ہیڈلائن :

    What Does India’s Election as a Non-Permanent Member of the UNSC Mean For Pakistan?

    آرٹیکل کا لنک :

    میرے خیال سے میں نے ہر حوالے سے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی مخالفت کی ہے نا ووٹ ڈالا ہے ۔ اب آخری حوالہ دیتا ہوں بھارتی اخبار Hindostan Times سے جس نے پاکستان کی مخالفت کا ذکر کیا ہے ۔

    ہیڈلائن ملاحظہ فرمائیں ۔

    Seen such behaviour since past many years’: MEA on Pak not felicitating India’s unopposed win at UNSC

    خبر کا لنک :

    یہ تمام تر حوالہ جات ماسوائے ایک میں نے انٹرنیشنل میڈیا سے دینے کی کوشش اس لئے کی ہے کوئی انکار نا کرسکے اور ویسے بھی پاکستانی میڈیا کی کریڈبلٹی سب کے سامنے ہے ۔ اب بھی کوئی انکار کرے تو اسے جوتے مارے جانے چاہئیں ۔ یہ آپ کا فرض جہاں کوئی پروپیگنڈا کررہا ہو اس کے منہ پہ یہ سب ماریں اور اس شخص کو بلاک کردیں آئندہ کے لئے ۔۔

    یہ جواب میں نے بطورِ پاکستانی لکھا ہے کیونکہ پروپیگنڈا میرے ملک کے خلاف ہورہا تھا ۔ اس کو شئیر کرکے پروپیگنڈا کرنے والوں سے زیادہ پھیلائیں ۔۔

    انعام الرحمٰن بھٹی

  • کرونا اور توبہ النصوح    بقلم:مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    کرونا اور توبہ النصوح بقلم:مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    کرونا اور توبہ النصوح
    (مسز ناصر ہاشمی )بنت ربانی

    کرونا۔۔۔۔۔۔۔کرونا۔۔۔۔۔۔کرونا یہ بھیانک لفظ لا کھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کے دل و دماغ پر خو فناک انداز میں چھا چکاہے ۔ اس بیماری نے بچوں، جوانوں اوربوڑھوں ہر ایک کے حواس پر قابوپا لیا ہے۔ کرونا ۔۔۔۔۔۔۔۔جو2019 کےاواخر میں آیا۔ جسے19 covid کا نام دیا گیا۔چائنہ سے شروع ہونے والی یہ تکلیف دہ بیماری چند ماہ کے اندر اندر انٹر نیشنل لیول تک جا پنہچی اور اس نے ہر ملک میں پنجے گاڑ کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب۔۔۔۔۔۔۔کوئی اسےیہودی ایجنڈے کی سازش کہ رہا ہے۔کوئ اسے انسانی وائرس بتا رہا ہے۔کوئ اسے اللہ کا عذاب سمجھ رہا ہے۔ جو کچھ بھی ہے۔۔۔۔ہے تو ہمارے لیےوبال جان۔ جس نے عا لمی سطح پر معیشت کو ڈگمگا دیا۔ جو بنی نوع انسان کی سیاسی ، سماجی، معا شی اور ماحو لیاتی سرگر میوں پر نہ صرف حاوی ہوا بلکہ گلوبل ورلڈ کو تبد یل کر کے رکھ دیا۔ نہیں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ انسان ابھی یہاں تک نہیں پہنچا۔ وہ ا یک قوم کو تباہ کر ے گا۔ ایک ملک یا ایک قوم پر اپنی جا رحیت قائم کرے گا مگر پوری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوری دنیا کا حاکم، آقا،مالک و خالق وہی رب السموات والارض ہے۔۔۔۔جو آج کائنات میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔ جس نےدورحاضر کی جاہلیت اور گناہوں سے لتھری ہوئ انسانیت کو بتادیا کہ”الملک للہ والحکم للہ” جس نے سپر پاور طاغوتی طاقتوں اور فرعونیت سےلبریز دماغوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    "جس نے میرا جسم میری مرضی ” کہنے والوں کو دن میں تارے دکھا دیے لا شک فی ذالک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان بطش ربک لشدید واللہ عزیز ذو انتقام”(القران) ابھی بھی وقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنبھل جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خدارا۔۔۔۔سنبھل جائیں سچے اور کھرے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔شرک وبدعت چھوڑ کرایک الہ کی طرف مائل ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو رب العالمین ہے ۔ جو رب العرش والعظیم ہے ہمیں اسی کو منانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی کے آکے گڑ گڑانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبت النصوح کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ النصوح ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی سچی اور کھری توبہ۔۔۔جس کے بعد انسان گناہ نہ کرنے کا عزم کرلے24گھنٹوں میں ایک وقت اپنا محا سبہ کیجیئے کہ آج میں نے اللہ کو راضی کرنے والے کتنے کام کیےاور اس کے غضب کو دعوت دینے والے کونسے اعمال ہم سے سرزد ہوے ۔ یاد رکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب ہم عملی اقدام اٹھائیں گے۔اپنے برے رویوں کو تبد یل کریں گے۔حقو ق اللہ اور حقو ق العباد دونوں کا خیال رکھیں گےتو۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔ا للہ ہماری مدد کرے گا۔ ہمارے ہمارے لیے دنیا وآخرت میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ بصورت دیگر۔۔کرونا۔۔۔ کے خوف سے پڑھنے والی نمازیں اور تسبیحات ہمیں کچھ فائدہ نہ دیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انداز بیاں اگرچہ میرا شوخ نہیں ہے——————شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات

  • سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ( پی آئی ٹی بی) نے اساتذہ کی سہولت کیلئے سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پلے سٹور پر انسٹال کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب آئی ٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے اور لاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے۔

    پنجاب آئی ٹی بورڈ نے مزید کہا کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی جاری یے جبکہ اساتذہ یا طلبا کا ڈیٹا ہیک یا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ایپ مینٹیننس کیلئے پلے سٹور سے ہٹائی گئی جو کہ پلے سٹور پر دوبارہ بحال ہو چکی ہے۔

    پی آئی ٹی بی کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہےلاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے

    پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی بھی جاری ہے-

    پی آئی ٹی بی نے مزید کہا کہ اساتذہ کا ڈیٹا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا ہےجس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔

    پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا تھا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

  • بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    باپ__!!!
    تری شفقتوں کے سہارے__
    گزرتے ہیں درد سارے__
    راتیں ہیں بھی ہیں سہانی__
    اور دن بھی کتنے پیارے__!!!
    تری چاہتوں کا سمندر__
    سدا رہے میرے سنگ__
    بِن آپ کے اے بابا__
    ملیں گے کیسے کنارے__؟؟؟
    تری رضا میں چھپی__
    مرے رب کی رضا ہے__
    ہوتا ہے وہ بھی ناراض__
    گر تو مجھ سے خفا ہے__!!!
    جنت میں داخلے کا__
    تو میرا دروازہ ہے__
    گر اس کی نہ ہو حفاظت__
    تو راہوں کا ضیاع ہے__!!!
    موسم کے گرم و سرد سے__
    تو مرے لیئے نبرد آزما ہے__
    بچوں کی خوشی کی خاطر__
    تو برسرپیکار ہر بلا ہے__!!!
    سفرِ زندگی میں چلتے__
    تپتی سی دھوپ میں جلتے__
    تو چھایا مثلِ سایہ ہے__!!!
    ترے مضبوط حصار میں__
    محبّت کی گفتار میں__
    مری سانسوں کا سفر__
    زیست کا یہ چکر__
    ہاں سکوں سے بھرا ہے__!!!
    مرے لبوں کی دعا ہے__
    دل سے نکلتی صدا ہے__
    تری خیر خواہی کے جذبوں__
    _کا ساتھ طویل تر ہو_
    یہ زندگی جمیل تر ہو__!!!!![آمین]۔
    ===============================

  • ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    وطنِ عزیز اس وقت کئی بحرانوں کی زد میں ہے، کورونا وبا جہاں بے قابو ہو کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے وہیں وطنِ عزیز میں بھی متاثرین کی بڑھتی تعداد تشویشناک بات ہے۔
    لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی پرواہ نہ کرنے کا خمیازہ قوم اس تیزی سے پھیلتے ہوئے مرض کی صورت میں بھگت رہی ہے۔
    اور آئے دن متاثرین کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔
    کُچھ وقت کاروبار بند رہنے کی وجہ سے اربوں روپے کے نقصانات الگ ہیں جن کا حل کاروباری حضرات نے ضرورت کی تمام اشیاء بشمول ملبوسات وغیرہ کی ہوشربا قیمتیں بڑھا کر نکالا ہے۔
    پیٹرول مافیا نے الگ ایشو کھڑا کر کے پمپس پر شہریوں کی ذلت کو ہوا دی ہے کہ جہاں لمبی لمبی قطاریں ہوش بھلا دیتی ہیں،دیہاڑی دار ڈرائیور جو اپنے رکشوں اور گاڑیوں کا پہیہ رواں رکھ کر دن بھر کی روزی کماتے ہیں،پریشانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آ رہے ہیں،
    جو اپنے گھر والوں اور بچوں کے اخراجات کی مد پوری کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔
    قومی نوعیت کے مسائل قومی جذبہ سے ہی حل ہونے چاہئیں۔
    دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مجبور مسافروں کو بھی بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے نے زرعی پیداوار کے شعبے میں بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
    اور ایک غذائی بحران کا بھی قوم کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    دوسری طرف آٹے اور چینی کے بحران وقتًا فوقتًا پیدا ہو کر شہریوں کے لیئے الگ پریشانی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔
    گندم کی فصل اس بار ویسے بھی اکثر علاقوں میں بے موسمی بارش اور ژالہ باری سے نقصان سے دو چار ہوئی ہے۔
    پاکستان کسان اتحاد کے مطابق گندم کی کاشت کے اکثر علاقوں میں جو پیدوار فی ایکڑ پچاس سے ساٹھ من تھی،وہ ان بارشوں کی وجہ سے اس بار تیس سے پینتیس من رہ گئی ہے۔
    یعنی کورونا کی اس وبا کے پیچھے بحرانوں میں شدت آ گئی ہے اور ان کا تعلق بھی ضروریاتِ زندگی اور عام آدمی سے ہے،
    کیونکہ سکولز،کالجز بند ہونے کی وجہ سے پڑھائی تو آن لائن ممکن ہے لیکن غذائی قلت کی صورت میں غریب کے لیئے آن لائن خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
    ٹڈی دل کے حملوں سے متاثرہ فصلوں میں گنا،کپاس اور سبزیوں کی فصل بھی شامل ہیں۔اور زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا بیس فیصد ہے،جہاں معاشی نمو میں کمی کا سامنا ہے۔
    نئے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنز میں بھی اضافہ نہ ہونے کی نوید سنائی دے رہی ہے تو یہ ساری کیفیات اور صورتِ حال ذہنی دباؤ اور اُلجھن کا باعث ضرور ہیں لیکن بحیثیت ایک قوم کے ہم سب کو ان مسائل پر ہی سر پکڑ کر بیٹھنے اور بحث کی بجائے ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
    اپنی ترجیحات کو کم کر کے فی الحال ضروریات پر فوکس کرنا ہوگا۔
    اپنے بجٹ اور اخراجات کا ازسر نو جائزہ لے کر اس میں ترمیم کرنا ہو گی تاکہ گھروں کے اندر گزرتا یہ وقت کسی تلخی کی بجائے حلاوت سے گزرے۔
    ہم صرف مہنگائی کا رونا روتے ہیں،لیکن اپنے گھر یا کھیت کی زمین پر موسمی سبزیاں اُگا کر اُن کی دیکھ بھال کر کے فائدہ اٹھانے سے کنی کتراتے ہیں۔
    ہم بجلی کے بلز پر نالاں دکھائی دیتے ہیں مگر بجلی کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال کی طرف توجہ نہیں کرتے…
    ہم پانی کے بحران سے آگاہ رہ کر چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی طریقہ سے یہ وائٹ گولڈ ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔
    ہم فصلوں کی وسیع پیداوار کے باوجود چند روپوں کے منافع کی خاطر غریب کے لیئے مصنوعی بحران پیدا کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
    حالانکہ ہنگامی حالات کے تقاضے ہنگامی ہوا کرتے ہیں،اپنے خاندان،اپنے ارد گرد، مستحقین کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے،
    جو لوگ بھی اس وبا کے پیشِ نظر معاشی مسائل میں ہیں ان کی اعانت بھی اخلاقی فریضہ ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللّٰہ اور توبہ و انابت سے تیر آنسوؤں کے ساتھ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں پر صدقِ دل سے معافی بھی مانگیں کہ اللّٰہ تعالٰی ہمیں ان آفات اور وباؤں سے نجات دے،وہی ہمارا خالق،رازق اور مالک ہے۔
    ہم جتنی مرضی ترقی کے زینے طے کر لیں لیکن قانونِ قدرت کے آگے بے بس ہی دکھائی دیتے ہیں۔
    قومیں افراد سے بنتی ہیں،اور سبھی افراد کا اپنے اپنے شعبے اور میدان میں ادا کیا جانے والا کردار ہی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
    ورنہ سستی، کاہلی و بے عملی اور صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہنے سے معاملات نہیں سُلجھا کرتے…!!!
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
    نہ ہو جس کو خیال،آپ اپنی حالت کے بدلنے کا…!!!
    بلکہ مسائل سے نکلنے کے لیئے ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جہدِ مسلسل اور عزمِ پیہم کی ضرورت بہر حال موجود رہتی ہے۔
    اپنی دنیا آپ پیدا کر،اگر زندوں میں ہے…!!!
    ہمیں محض تنقید برائے تنقید کی سوچ سے آگے بڑھ کر بھی سوچنا چاہیئے،
    تعمیری،ترقی اور مملکت کی فلاح کی سوچ پیدا کر کے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے،بس ہم نے وہ جذبہ بیدار کرنا اور رکھنا ہے جو سازشوں کے جال کاٹ کر رکھ دے،حقائق کا ساتھ دے،قومی مفادات ترجیح بنیں اور ہم ذاتی مفادات کے بھنور سے باہر نکل کر سوچنے والی متحد و مضبوط قوم بن کر سامنے آئیں۔
    اپنی اپنی سوچ مسلط رکھنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور جلد یا بدیر اُس کے نقصانات واضح ہو کر رہتے ہیں۔
    اگر ہم صرف وطنِ عزیز کے لیئے سوچنے والے بن جائیں تو کوئی مسئلہ ایسا نہیں رہے گا جو قابلِ حل نہ ہو،کیونکہ اس مملکت کے قیام کے مقصد کے اندر تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اس سے پہلو تہی اختیار رکھے ہوئے ہیں۔
    جب قومیں مضبوط اور ایک پیج پر متفق ہو جاتی ہیں تو بڑے سے بڑے بحران سے بھی بآسانی نمٹ جایا کرتی ہیں،یہی تاریخ کے صفحے پر درج سبق ہے…
    اسباب کا قحط اتنا نقصان دہ نہیں ہوا کرتا،جتنا نقصان دہ قحط الرجال ہوا کرتا ہے…
    مشکل اور آسان ادوار آتے جاتے رہتے ہیں اور تربیت و کردار ہی ان سے نمٹنا بھی سکھاتے ہیں۔
    گفتار کی وضاحت بعد میں بھی کی جا سکتی ہے،مگر کردار ادا ہو کر ایک انمٹ باب بن جایا کرتا ہے۔
    ہمیں اس چیز کو ہر زاویہ نگاہ سے دیکھ کر آگے بڑھنے کا عزم کرنا ہے…اور اس وطن کے دفاع کے لیئے ہمہ وقت کمر بستہ رہنے کا عہد کرنا ہے وہ دفاع نظریاتی ہو یا دفاعی،
    منفی سازشوں کے خلاف تعمیری اور اصلاحی سوچ کا دفاع ہو یا اپنے وسائل کا دفاع،
    امانت و دیانت کا سبق پڑھ کر جب ہم عزم بالجزم سے لیڈ کرنے کی ٹھان لیں گے تو یقینِ کامل ہے ہم سے امامت کا کام لیا جا سکے…
    ورنہ محض باتوں اور بے عملی سے ہوائی قلعے تو تعمیر ہو ہی جاتے ہیں…
    مضبوط بنیاد کی حامل عمارت کبھی استوار نہیں کی جا سکتی کہ جس کی مضبوطی کا انحصار اس کی بنیاد میں ناقص اور خیالی نہیں بلکہ کامل اور مضبوط تعمیری میٹیریل کے استعمال پر ہوتا ہے…!!!!!
    ہم میں سے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہے اور ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ…!!!
    ================================

  • کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے  بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

    فیکٹریوں کے دھوئیں سے گلوبل وارمنگ ڈسٹرب ہورہی ہے اور گلوبل وارمنگ کے بڑھنے سے ایٹماسفئیر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے(یعنی گرمی بڑھ رہی ہے)، جسکی بدولت گلیشیرز بہت تیزی سے پگھل کر سمندر بنتے جارہے ہیں۔

    لیکن سائنسدانوں کے مطابق انٹارٹکا اور سائیبریا میں موجود ہزاروں سال پرانے برف والے گلیشیرز کے نیچے ایسے وائرسز موجود ہیں جو سائز میں بڑے ہیں اور انکا سر پیر بھی انسان نہیں جانتے، اگر انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پگھلنا شروع ہوگئے تو یہ وائرسز وہاں سے تیزی سے پھیل جائیں گے،

    ہر جاندار میں اچھے وائرسز بھی موجود ہوتے ہیں۔
    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر طرح کے جانور میں کئی طرح کے وائرسز ہوتے ہیں جو کہ جسم کو انرجی دینے میں مدد کرتے ہیں جیسا کہ ایک چمکاڈر 137 وائرسز لیے گھوم رہا ہوتا ہے تو اسے کھانے سے انسان میں جانوروں کے وائرسز منتقل ہوتے ہیں جس سے بیماریاں جنم لیتی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو حلال جانور کھانے کا حکم ہے،

    تو تحقیق کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز کے نیچے ہزاروں سال پہلے جو جانور ان وائرسز کا شکار تھے وہ برف تلے دب کر مرگئے لیکن ان کی لاشوں کے ساتھ ساتھ انکے وائرسز بھی محفوظ حالت میں اب بھی وہاں موجود ہیں۔
    اس لیے ہمیں فیکٹریوں کے دھوئیں کے متبادل کوئی راستہ نکالنا ہوگا جو گلوبل وارمنگ کو ڈیمیج نہ کرے اور جس سے انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز پگھلنے سے محفوظ رہ سکیں۔
    ورنہ انسانوں کی نسلیں انہی وائرسز کا متبادل ڈھونڈنے اور لاشیں اٹھانے میں گزریں گی۔
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سورج گرہن، سبب اور کرنے کے کام، از محمد نعیم شہزاد

    سورج گرہن، سبب اور کرنے کے کام، از محمد نعیم شہزاد

    سورج گرہن، سبب اور کرنے کے کام
    محمد نعیم شہزاد

    خالق ارض و سما نے اپنی قدرت کے بیشمار مظاہر پیدا فرمائے ہیں تاکہ انسان کو اس کی زندگی کا مقصد یاد رہے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت اس کے دل و دماغ میں گھر کر لے۔ انھیں مظاہر میں ایک بڑا حصہ اجرام فلکی ہیں۔ زمین پر رہتے ہوئے ہم دن میں سورج اور رات کے وقت چاند اور ستارے دیکھ سکتے ہیں ان کے علاوہ باقی اجسام اس قدر دور ہیں کہ عام آنکھ سے ان کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔

    سورج زمین کے لیے ازحد اہمیت کا حامل ہے۔ یہ زمین اور اہل زمین کے لیے توانائی اور روشنی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ ہے۔ سورج کا بےنور ہو جانا قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ قیامت سے قبل بھی اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس کی روشنی کو جزوی طور پر یا مکمل ختم کر دیتے ہیں جسے عرف عام میں سورج گرہن ( Solar Eclipse) کہا جاتا ہے۔ قدیم مذاہب میں اسے اللہ ناراضگی تصور کیا جاتا تھا جبکہ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں عرب اسے زمین پر ہونے والے کسی ظلم یا کسی کے فوت ہو جانے کا نتیجہ مانتے تھے۔ پاکستان میں بھی لوگ اس حوالے سے تواہم پرستی کا شکار ہیں اور بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گرہن کے وقت حاملہ عورت کو اور اس کے خاوند کو بیٹھنا یا لیٹنا نہیں چاہیے اور نہ ہی چھری، چاقو یا کسی کاٹنے والے اوزار کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے پیدا ہونے والے بچے میں کوئی جسمانی نقص واقع ہو جائے گا ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہَا فَصَلُّوا.

    سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

    بخاري، الصحیح، 1: 353، رقم: 995، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
    مسلم، الصحیح، 2: 630، رقم: 914، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
    اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.

    سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب ایسا دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

    بخاري، الصحیح، 1: 359، رقم: 1008

    آپ ﷺ نے فرمایا ! ” بے شک سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کہ اللہ انکے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔ جب سورج گرہن یا چاند گرہن ہو جائےتو نماز کی طرف متوجہ ہو جاؤ "۔[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]​

    سورج گرہن کے وقت کیا کرنا چاہیے:

    سرورکائنات (ص) کا شمس و قمر کے گہنائے جانے پر عالم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھتے اور نماز پڑھتے ۔
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا :
    ” نماز جمع کرنے والی ہے ۔” (صحیح بخاری : 1045)

    اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز میں معمول کی نماز سے لمبا قیام، رکوع اور سجود کیے اور اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔

    جیسا کہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ہمیں سورج گرہن کے وقت ہمیں توبہ، استغفار کرنی چاہیے اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دو رکعت نفل نماز ادا کرنی چاہیے اور اگر لوگ جمع ہو سکیں تو باجماعت نماز کے بعد امام ان کو نصیحت بھی کرے۔

    بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلم قوم میں اس نماز بارے بھی کئی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جو ہمارا موضوع نہیں ہے۔ مگر حالات سخت سے سخت تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قریب تین ماہ سے کرونا وائرس کی عالمی وبا نے گھیرا ہوا ہے جس سے بے پناہ جانی و معاشی نقصان پہنچا، کرونا وائرس کی پیچیدگی کم نہ ہوئی تھی کہ ٹڈی دل نے بھی آ لیا اور اب سورج گرہن کا موقع ہے۔ انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اجتماعی اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ انفرادی سطح پر اپنے نفس اور اجتماعی سطح پر نظام کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے۔ یہ آفات اور گرہن ہمیں اسی بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہم درست راہ سے بھٹک چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے سیکھنے اور اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی   راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی
    راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    دل بھر جاتا ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب ان کے نام کے آگے رحمتہ اللہ علیہ لکھنا پڑتا ہے۔
    جب میری شادی ہوئی تو وہ ہمارے گھر تشریف فرما تھے کھانا کھانے کے بعد انہوں نے قمیص کے سامنے کا بٹن کھولا اندر ہاتھ داخل کیا اور کچھ پیسے نکال کر مجھے تھما دئیے میں ضبط نہ کر پایا اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے میرے والد بزرگوار محترم قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ بھی پاس ہی موجود تھے ان سے آہستہ سے پوچھنے لگے یہ کیوں روتا ہے انہیں بات کا علم تھا فرمانے لگے اس کی بڑی خواہش تھی کہ میں اپنی بارات کے ساتھ اپنے دادا محترم عنایت اللہ خادم رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر جاؤں گا آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں یہ آپ کو اپنے دادا کے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے ۔اس لئے رو دیا ۔
    پوری بات سن کر مولانا اٹھے مجھے تھپکی دی اور نم آنکھوں اور کانپتی آواز کے ساتھ فرمانے لگے
    پتر میں تیرا دادا ہی آں تے تیرا دادا تیری بارات نال صبح جائے گا۔ان شاءاللہ۔
    وقت گزرتا گیا اور پھر وہ کھڑی آن پہنچی جب ہمارے والد بزرگوار بھی اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے تب بہت سارے شفیق ہاتھوں کے درمیان وہ ہاتھ بھی میرے سر پر سایہ فگن ہوا جس ہاتھ کی شفقت سے ہم آج محروم ہو گئے ہیں۔جب بھی ملاقات کرتے بڑا حوصلہ بڑھاتے لمبی دعائیں دیا کرتے ۔ حال احوال پوچھتے نصیحتیں کرتے اور آخر میں اپنے لئے دعا کی درخواست ضرور کیا کرتے کم و بیش 12 سال مسلسل کمر کی تکلیف میں مبتلا رہے لیکن دعوت دین کا کام ہمیشہ اپنی زمہ داری سمجھتے تھے کوئی مسئلہ پوچھنے آتا تو جب تک اس کی تسلی نہ ہو جاتی اس کو حق بات سمجھاتے کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔
    جمعہ کے دن میری خصوصی ڈیوٹی لگائی کہ جمعہ کی آذان تم نے کہنی ہے کبھی لیٹ ہوتا اور کوئی دوسرا جمعہ کی آذان کہ دیتا تو جمعہ کے بعد بلا کر کہا کرتے
    2منٹ پہلے آ جایا کر پتر ۔
    جب آنکھیں بند کرکے کوئی مسئلہ شروع کرتے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا کہ ان کے اندر علم کا ٹھاٹھیں مارتا کوئی سمندر ہے جو ابلنے کو بے قرار ہے پھر وہ دنیا وما فیہا سے بے پرواہ ہو کر اس مسئلہ پر بڑی ضخیم علمی گفتگو فرمایا کرتے اور عالم یہ ہوتا تھا کہ میرے بزرگوار چچا محترم مشتاق احمد شیرانی حفظہ اللہ تعالیٰ مجھے اشارہ کرتے کہ جمعہ کا ٹائم اوپر ہو گیا ہے مولانا کو بتاؤ پھر میں بڑی ہمت جمع کرتے ہوئے جب ان کے پاؤں کو ہاتھ لگاتا تو وہ جیسے چونک کر کھڑی کی طرف دیکھتے اور سمجھ جاتے کہ ٹائم زیادہ ہو گیا ہے ۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اندر ابلنے والے علم کے بحر بے قراں کو قابو کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کر دیتے ۔
    ان کی زندگی جہد مسلسل تھی دین کیلئے ان کی کوششیں کاوشیں بے مثال تھیں ان کے زندگی کے جس بھی پہلو پر لکھنا شروع کروں تو اپنے آپ میں پوری کتاب ثابت ہو
    میں کسی کام سے لاہور سے باہر تھا جب چھوٹے بھائی حافظ ذیشان کا فون آیا
    مولانا رحمت اللہ ربانی
    فی ذمۃ اللہ۔
    سننے کے بعد میں بہت دکھی ہوا ۔
    جمعہ والے دن جمعہ سے پہلے ان کا جنازہ جب اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی ۔
    الشیخ مولانا امیر حمزہ حفظ اللہ نے انکا جنازہ پڑھایا میں نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا(جگہ کی کم یابی کی بنا پر)عجیب منظر تھا جنازگاہ باوجود لاک ڈاؤن کے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور دوران جنازہ مولانا امیر حمزہ صاحب سمیت سب کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اشک رواں تھے اس عظیم انسان کے لیے رب تعالیٰ کی طرف ہاتھ باندھے دعائیں مانگتے جا رہے تھے اور روتے جا رہے تھے ۔
    انکو لحد میں انکے بڑے صاحبزادے اور میرے پھوپھا محترم طاہر ربانی صاحب ۔
    چھوٹے صاحبزادے مولانا طیب مسعود ربانی اور راقم نے خود اتارا ۔
    میں نے تب جی بھر کر اپنے بزرگ مولانا رحمت اللہ ربانی رحمۃ اللہ علیہ۔
    کی طرف دیکھا کہ یہ چہرہ اب دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور ان کی لحد کو بند کر دیا ۔
    اللہ پاک مولانا رحمت اللہ ربانی کی مغفرت فرمائے ۔
    انکے درجات بلند فرمائے۔
    انکی قبر کو تاحد نگاہ وسیع فرمائے۔ انکی قبر کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔
    انکی نیکیوں کو قبول فرمائے اور اس اضافہ فرمائے۔
    انکی غلطیوں کوتاہیوں کو درگزر فرمائے اور انہیں نیکیوں میں تبدیل فرمائے ۔
    انہیں اعلی علیین میں انبیاء اتقیاء شہداء صلحاء اولیاء کے درمیان جگہ عطاء فرمائے۔
    سارا دن وہ جنت سے اپنا رزق کھائیں اور رات کو عرش الٰہی تلے لٹکتی قندیلوں میں آرام کریں۔

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

  • قرآن مجید میں زلزلے کا بیان   بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان

    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا، زلزلہ کہلاتا ہے۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16
    اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (الملک 16#)

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    يَوْمَ تَـرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (6)

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔

    تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (7)

    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟


    بقلم سلطان سکندر!!!