Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، کہتی ہے میری نظر شکریہ ۔۔۔۔۔۔

    آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ۔۔۔۔

    جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں ۔۔۔۔

    اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔

    تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے لازوال گیتوں پہ اپنے منفرد رقص سے فلم انڈسٹری پہ دھاک بٹھانے والی ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے ۔
    غزالی آنکھوں والی رانی بیگم نے اپنے منفرد رقص اور لاجواب اداکاری سے تیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا ۔
    اپنے تیس سالہ فلمی کیریئر میں اس نے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کردار کو اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ آغاز میں بیشک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہی بات رانی بیگم پر بھی صادق آتی ہے ۔
    تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی بیگم کا اصل نام ناصرہ تھا ، لیکن فلم انڈسٹری میں شہرت اس نے اپنے فلمی نام رانی بیگم سے حاصل کی ۔
    رانی بیگم ماضی کی معروف گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں ۔ وہ 8 دسمبر 1946 ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔
    رانی کی فنی تربیت کے لئے اس کے والد نے اسے مختار بیگم کے حوالے کر دیا ۔
    ناصرہ جب سولہ برس کی ہوئی تو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اسے رانی کا نام دے کر اپنی فلم ” محبوب” میں کاسٹ کیا ۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی ۔ فلم محبوب کی طرح یکے بعد دیگرے دس فلموں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد 1967 ء میں ہدایت کار حسن طارق بٹ کی فلم
    ” دیور بھابھی ” کی کامیابی کے بعد اداکار و ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ” چن مکھناں” بھی سپر ہٹ فلم قرار پائی ، اس کے بعد رانی پہ کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
    1968 ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ” بہن بھائی” منظر عام پر آئی ، اس فلم کا ایک گیت” ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی ” بھی بہت مشہور ہوا ۔
    1970 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” انجمن ” نے رانی بیگم کی شہرت و مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا ، خاص طور پر اس فلم کے سونگ اور ان پہ رانی بیگم کے رقص نے وہ کامیابی حاصل کی جس کے بعد رانی بیگم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس فلم میں رانی کے علاوہ سنتوش کمار ، صبیحہ خانم ، دیبا اور اداکار وحید مراد نے کام کیا ۔
    رانی بیگم نے اپنے عہد کے تقریباً سبھی قد آور اداکاروں کے ساتھ کام کیا مثلاً محمد علی ، وحید مراد ، سنتوش کمار ، درپن ، کمال ایرانی ، شاہد ، سدھیر ، حبیب ، ندیم ، علی اعجاز ، غلام محی الدین اور اداکار یوسف خان شامل ہیں ۔
    ان سب اداکاروں میں اداکار شاہد اور اداکار وحید مراد کے ساتھ رانی بیگم کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا ۔

    رانی بیگم کی کچھ قابلِ ذکر اُردو فلموں میں امراؤ جان ادا ، خوشبو ، تیری خاطر ، تہذیب ، سیتا مریم مارگریٹ ، ترانہ ، شمع پروانہ ، انجمن ، دیور بھابھی ، ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساؤ ، ثریا بھوپالی ، ناگ منی ، میرا گھر میری جنت ، دل میرا دھڑکن تیری ، پیاس ، ہزار داستان ، سہیلی ، گونگا اور فلم نذرانہ اور ان کی چند ایک پنجابی فلموں میں محرم دل دا ، دیوانہ مستانہ ، سونا چاندی ، موج میلہ ، دنیا مطلب دی اور فلم بابل شامل ہیں ۔
    جب بھارت میں فلم امراؤ جان ادا بنائی گئی تو بعد میں ان کی کاسٹ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ رانی بیگم جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    رانی بیگم نے مجموعی طور پر 168 فلموں میں کام کیا ، جن میں 103 اُردو اور 65 پنجابی فلمیں شامل ہیں ۔
    ان کی آخری فلم ” کالا طوفان ” 1987 ء میں ریلیز ہوئی ۔
    رانی بیگم نے اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی دلکش مسکراہٹ ، خوبصورتی ، معصومیت ، جذباتی مکالموں ، اور منفرد رقص سے لاکھوں دلوں پر راج کیا اور اتنی مہارت سے ہر کردار ادا کیا کہ وہ کردار امر ہو گیا ۔

    انہیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ ” نگار ایوارڈ ” سے نوازا گیا ۔
    رانی بیگم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی ڈرامہ سیریلز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ، ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں خواہش اور فریب سر فہرست ہیں ۔

    اپنے فلمی کیریئر میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود رانی بیگم اپنی حقیقی زندگی میں ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی ۔
    ان کی پہلی شادی ہدایت کار حسن طارق سے ہوئی جس سے رانی بیگم کا بیٹا علی رضا پیدا ہوا ، جبکہ دوسری شادی معروف فلم ساز جاوید قمر اور تیسری شادی کرکٹر سرفراز نواز سے ہوئی ، مگر بد قسمتی سے ان کی یہ تینوں شادیاں ناکام رہیں جس کا رانی کو ساری زندگی افسوس رہا ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کیا ۔

    زندگی کے آخری دنوں میں انہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ۔ جس کے طویل علاج کے بعد بھی یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بالآخر 27 مئی 1993 ء کو 47 برس کی عمر میں رانی بیگم اِنتقال کر گئیں ۔
    (ان للہ وان الیہ راجعون)

    وہ لاہور کے مسلم ٹاؤن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
    اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ رانی بیگم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )
    آج 2025 ء میں رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے لیکن ان کی اداکاری ، انداز گفتگو اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

  • بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے
    تحریر: حبیب خان باغی ٹی وی نامہ نگار اوچ شریف
    یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے جہاں بجلی کا بل اب صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ایک کفن بن چکا ہے جو ہر ماہ غریب کے گلے میں پھندے کی طرح لٹکتا ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری اپنی پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں میں "بجلی سستی ہو گئی” کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ صارفین کے بل ہر ماہ نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ایک گھر جہاں صرف دو پنکھے، ایک بلب اور چند گھنٹوں کا واٹر پمپ چلتا ہو، وہاں 10 سے 20 ہزار روپے کے بل آ رہے ہیں۔ یہ کوئی رعایت نہیں، یہ معاشی قتل ہے، جو ایک ظالمانہ سلیب سسٹم کے ذریعے کیا جا رہا ہے جہاں 199 یونٹ تک رعایت ملتی ہے، لیکن 200 یونٹ پر تمام رعایتیں ختم ہو جاتی ہیں اور صارف پر 500 فیصد زیادہ نرخ لگ جاتے ہیں۔ ایک یونٹ کا یہ فرق ہزاروں روپے کے نقصان میں بدل جاتا ہے، گویا غریب کو سزا دی جا رہی ہو کہ اس نے بجلی استعمال کرنے کی جرات کیسے کی۔

    اس سے بھی بڑھ کر، ڈیٹیکشن بلز کا عذاب ہے، جو بغیر کسی ثبوت یا تفتیش کے صارف کو "چور” قرار دے کر لاکھوں روپے کے بل تھوپ دیتا ہے۔ اگر صارف اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہے تو اسے تھانوں، عدالتوں اور نیپرا کے چکر لگانے پڑتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ذلت اور وہی بل ہوتا ہے۔ ریاستی بجلی کمپنیوں نے صارفین کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ایک گھر میں چاہے کتنی ہی فیملیاں رہتی ہوں، دوسرا میٹر لگانے پر پابندی ہے، اور اگر میٹر خراب ہو جائے تو نیا میٹر لگوانے کے لیے صارف کو دفتروں کے چکر لگوانے پڑتے ہیں، جہاں اسے کہا جاتا ہے کہ پہلے تھانے جا کر اپنی بے گناہی ثابت کرو۔ یہ کون سا انصاف ہے جو شہری کو بغیر جرم کے مجرم بناتا ہے؟

    عید کے موقع پر کئی شہروں سے دل دہلا دینے والی خبریں آئیں، جہاں ایک باپ نے بجلی کا بل دیکھ کر زہر کھا لیا اور ایک ماں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے پیسے بل ادا کرنے میں خرچ کر دیے۔ یہ سب اس "ریلیف” کے دعوؤں کے باوجود ہو رہا ہے جو اویس لغاری ہر روز دہراتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ اس بحران پر قوم سے خطاب کیا، نہ کسی وزیر کو ہٹایا، نہ ہی ڈیٹیکشن بلز کی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ ایک منظم معاشی استحصال ہے، جہاں صارف کو پہلے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور پھر اس سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں شہریوں نے ان ناجائز بلوں اور ڈیٹیکشن چارجز کو آئین کے آرٹیکل 9 یعنی زندگی کے حق کے خلاف قرار دیا ہے، اور نیپرا نے بھی اعتراف کیا کہ کئی کیسز میں کمپنیوں نے بغیر جائز طریقہ کار کے ڈیٹیکشن بلز عائد کیے۔ لیکن اس کے باوجود نہ کوئی سی ای او معطل ہوا، نہ کوئی پالیسی بدلی، نہ ہی کوئی وزیر جواب دہ ٹھہرا۔

    یہ قوم عجیب ہے۔ وہ سسکتی ہے، روتی ہے، چیختی ہے، لیکن پھر بھی ووٹ ڈالنے قطاروں میں کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ زنجیر ٹوٹنے کے قریب ہے۔ دیہاتوں سے خواتین بجلی کے بل لے کر تھانوں کے باہر احتجاج کر رہی ہیں، بوڑھے بزرگ بل اور دوائیاں ہاتھ میں لے کر میڈیا کے سامنے اپنی داستان سنا رہے ہیں۔ یہ زنجیر اب خاموشی سے رقص نہیں کرنا چاہتی، یہ ٹوٹنا چاہتی ہے۔ اویس لغاری صاحب! اگر بجلی واقعی سستی ہوئی ہے تو بل ہر ماہ مہنگے کیوں آ رہے ہیں؟ اگر رعایت دی جا رہی ہے تو ڈیٹیکشن بلز کیوں بھیجے جا رہے ہیں؟ اگر عوام کو ریلیف مل رہا ہے تو خودکشیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ آپ کی کرسی سے اتر کر کسی غریب کے گھر کا بل ہاتھ میں لیں، اس کی کہانی سنیں، شاید آپ کا ضمیر جاگ جائے۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ 2025 میں ایک وزیر توانائی تھا جو عوام کا خون نچوڑتا رہا اور مسکرا کر کہتا رہا کہ ہم نے تو ریلیف دے دیا۔

    یہ صرف بجلی کا بل نہیں، یہ اس قوم کی بے بسی کی داستان ہے۔ یہ زنجیر بجلی کی ہے، گیس کی ہے، آٹے کی ہے، دوائی کی ہے۔ لیکن اب یہ قوم خاموش نہیں رہے گی۔ یہ زنجیر اب ٹوٹے گی کیونکہ بل اب کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے، لیکن اب یہ قوم اس کفن کو اتار پھینکنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے وزراء سے گزارش ہے کہ عوام کی آواز سنیں، ان کے بل دیکھیں، ان کی چیخیں سنیں۔ ورنہ یہ زنجیر آپ کے ایوانوں تک پہنچے گی اور پھر نہ کوئی رعایت کام آئے گی، نہ کوئی پریس کانفرنس۔

  • عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    عیدالاضحیٰ کا تہوار جو عام طور پر خوشیوں، محبتوں، ملاقاتوں اور قہقہوں کا پیغام لاتا ہے، اس سال پاکستان کے کئی گھروں میں صفِ ماتم لے کر آرہا ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو اس قدر بے حال کر دیا ہے کہ عید سے دو روز قبل ہی خودکشیوں کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔ لاہور میں ایک باپ بچوں کے سامنے خود کو آگ لگا رہا ہے، سکھر میں ایک مزدور بیوی کے لیے کپڑے نہ خرید سکنے کے دکھ میں پنکھے سے جھول کر جان دے رہا ہے، کراچی میں ایک ماں بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہے۔ یہ واقعات محض خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ریاستی بے حسی کے چیختے ہوئے ثبوت ہیں۔ یہ عید خوشبوؤں سے نہیں، جنازوں کی بو سے مہک رہی ہے۔ نہ قہقہے گونج رہے ہیں، نہ چراغاں ہو رہا ہے ،ہرطرف صرف بین ہیں، کفن ہیں اور قبرستان کی خاموشی۔

    رحیم یار خان کے سردار گڑھ میں عبدالرحمان نامی ایک باپ اپنے دو گونگے بیٹوں، 9 سالہ محمد سفیان اور 11 سالہ محمد عمر اور بیٹی آصفہ بی بی کو عید کے کپڑوں کا مطالبہ برداشت نہ کرتے ہوئے گندم کی زہریلی گولیاں کھلاتا ہے اور خود بھی زہر نگل کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ریسکیو 1122 انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کرتا ہے مگر عبدالرحمان اور اس کے دونوں بیٹوں کی زندگی نہیں بچ پاتی ہے۔ آصفہ بی بی اب بھی ہسپتال میں موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسی طرح اوچ شریف میں محنت کش امداد حسین کا بیٹا ثاقب حسین جو برف کےگولے کی ریڑھی لگا کر گھر چلاتا ہے، غربت اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لیتا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ غربت اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے پاکستانی عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔

    غربت اور ظالمانہ بجلی بلوں کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں کی ذمہ داری اویس لغاری کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف پر عائد نہیں ہوتی؟ اویس لغاری کی وزارت توانائی کی پالیسیوں نے پاکستانی عوام کے لیے عید کی خوشیوں کو زہر آلود کر دیا ہے۔ دو میٹروں پر پابندی، نان پروٹیکٹڈ سلیب کی ظالمانہ منتقلی اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے غریب اور متوسط طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ یہ عید نہیں، قیامت ہے!” عبدالرحمان جیسے باپ کو اپنے بچوں کے لیے عید کے کپڑے نہ دینے کی شرمندگی خودکشی پر مجبور کرتی ہے جبکہ بجلی کے بھاری بل اس جیسے کئی عبدالرحمان کی آمدنی کھا جاتے ہیں۔ اویس لغاری عام پاکستانی کے چولہے بجھا رہے ہیں اور ان کے جھوٹے وعدوں اور دروغ گوئی نے عوام کو صرف مایوسی دی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سرچارجز نے بل ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچا دیے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف جو غیر ملکی دوروں میں ملکی مفاد کے لیے سفارتی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں کیا وہ اس سسکتی ہوئی قوم کی چیخوں سے بے خبر ہیں؟ اویس لغاری کی وزارت وزیراعظم کے دائرہ اختیار میں ہے اور وہ ان کے فیصلوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ شہباز شریف نے اویس لغاری کے ظالمانہ اقدامات پر کیا نوٹس لیا؟ ہر موبائل کال کے آغاز میں آنے والی ریکارڈنگ، جس میں شہباز شریف کی آواز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "ہم نے بجلی سستی کر دی ہے”،عوام کیلئے بھونڈااور ایک ظالمانہ مذاق بن چکی ہے۔ یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے کیونکہ بجلی کے نرخ کم ہونے کے بجائے عوام پر بھاری بلز کی صورت میں بمباری کر رہے ہیں۔ لاہور کی ایک خاتون کہتی ہے کہ "ہمارے گھر کا بل 15 ہزار سے 40 ہزار ہو گیا۔ عید پر بچوں کے کپڑوں کے بجائے ہم قرض مانگ رہے ہیں۔” یہ حالات اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی کا نتیجہ ہیں۔

    عید جو محبت، قربانی اور خوشیوں کا تہوار ہے، اب غریبوں کے لیے ماتم کا منظر بن رہی ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے لوگوں کی خودکشیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عوام میں مزید بوجھ برداشت کرنے طاقت نہیں رہی اوپر سے بھاری بلوں کا بوجھ اب جان لیوا بن چکا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا گھرانے اس بار قربانی چھوڑ رہے ہیں کیونکہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد جانور خریدنے کی گنجائش ہی نہیں بچی۔” اویس لغاری کی پالیسیاں نہ صرف غریبوں کی عید چھین رہی ہیں بلکہ متوسط طبقے کو بھی اس حال تک پہنچا رہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے شرمندہ ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے ان ظالمانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ کیا وزیراعظم کو یہ خبر نہیں کہ ان کے وزیر توانائی کے فیصلوں نے عوام کو خودکشی پر مجبور کر دیا ہے؟

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوام کے لیے لعنت بن چکی ہے۔ ان کے فیصلوں نے نہ صرف معاشی تباہی پھیلائی بلکہ شہباز شریف کی حکومت کو بھی عوامی غیظ و غضب کے شعلوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ عروج پر ہے: "اویس لغاری کا اپنا بل چند روپے اور ہمارا 34 ہزار! یہ کیسا انصاف ہے؟” جب ایک باپ اپنے بچوں کو عید پر نئے کپڑے دینے سے قاصر ہوتا ہے تو وہ خودکشی کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کی حفاظت اور حکومت کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ عوام فوری عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں.

    بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے، ناجائز ڈیٹیکشن بلز ختم کیے جائیں، دو میٹروں پر پابندی ہٹائی جائےاور ظالمانہ نان پروٹیکٹڈ سلیب نظام کو ختم کیا جائے۔ اگر یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو عید صرف جاگیر داروں اور اشرافیہ کے لیے تہوار بن کر رہ جائے گی اور عام پاکستانی ہمیشہ کے لیے خوشیوں سے محروم ہو جائے گا۔ عبدالرحمان اور ثاقب کی المناک خودکشیوں کو روزمرہ کا واقعہ نہیں بننا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف، آپ کی ریکارڈ شدہ آواز میں بجلی سستی کرنے کا دعویٰ ایک ظالمانہ جھوٹ ہےاوراس جھوٹ اوردھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟

    عیدالاضحیٰ جو قربانی اور ایثار کا درس دیتی ہے، اس سال پاکستانی عوام کے لیے ایک امتحان بن گئی ہے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی نے غریبوں اور متوسط طبقے کی عید کی خوشیوں کو چھین لیا ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے واقعات صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخ ہیں جو اپنی حکومت سے انصاف مانگ رہی ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور عوام کو نہ سنبھالا تو عید ہر سال ماتم کا پیغام لاتی رہے گی۔ کیا شہباز شریف اور اویس لغاری اس قوم کے درد کے ذمہ دار نہیں؟ وقت ہے کہ حکومت جاگے، ظالمانہ پالیسیاں ختم کرے، بجلی کے نرخ کم کرے اور عوام کو وہ عید واپس دے جو خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لاتی ہے، نہ کہ جنازوں اور قبرستانوں کی خاموشی کا۔ اویس لغاری کو ہٹائیں اور پاکستانی عوام کو اس معاشی عذاب سے نجات دلائیں، ورنہ یہ خودکشیوں کا سلسلہ عید کے تہوار کو ہمیشہ کے لیے داغدار کر دے گا۔

  • اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد لاہور میں ہوا، جس میں شرکت کا موقع ملا، اس تقریب کے دوران اپووا کے بانی و صدر محترم ایم ایم علی سے ملاقات ہوئی، جو نہایت شفیق اور ادب دوست شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ملاقات کے دوران انہیں قصور کے دورے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ وعدے کے مطابق وہ وفد کے ہمراہ قصور پہنچے۔

    قصور پہنچنے پر اپووا کے معزز وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا،وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی کے ہمراہ حافظ محمد زاہد (سینئر نائب صدر)، سفیان علی فاروقی (نائب صدر)، اسلم سیال (نائب صدر میل ونگ) شامل تھے۔ وفد کے ہمراہ ایڈیٹر "باغی ٹی وی” ممتاز اعوان بھی اپنی فیملی سمیت موجود تھے۔استقبالیہ انتظامات میں مقامی صحافیوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی، اور مہر شوکت علی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام احباب کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور ادب دوستی کا عملی مظاہرہ قابل ستائش تھا۔ظہرانے کے بعد اپووا کے وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر لے جایا گیا جہاں پریڈ دیکھنے کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر تمام شرکاء بارڈر پہنچے۔ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جیسے ہی پریڈ کا آغاز ہوا، پاکستانی عوام کی جانب سے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے:
    "اللہ اکبر”, "پاکستان زندہ باد”, اور "پاک فوج کو سلام”۔

    پاکستانی سائیڈ پر عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر چہرے پر وطن سے محبت جھلک رہی تھی۔ جبکہ دوسری جانب یعنی بھارتی سائیڈ پر ماحول خاموش، سناٹے اور پژمردگی کا شکار نظر آیا۔ چند ہی بھارتی شہری وہاں موجود تھے، اور ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور مایوسی کے سائے نمایاں تھے۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہو، اور بھارت کی جانب سے کیے گئے "آپریشن سندور” کا حال یہ ہوا کہ سارے بھارتی ہی "بیوہ” ہو گئے

    گنڈا سنگھ بارڈر سے واپسی پر قصور میں اپووا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کیا گیا. یہ دفتر مستقبل میں ادیبوں، شاعروں، کہانی نویسوں اور لکھاریوں کے لیے ایک علمی و فکری پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اپووا کی جانب سے ادبی خدمات کی توسیع اور فروغ کے لیے یہ قدم نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ قصور میں اپووا دفتر کا قیام یقینی طور پر اہل قلم کے لئے ایک سنگ میل ہے، جو ادب، ثقافت اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔

    آخر میں ہم اپووا کی پوری ٹیم، بالخصوص بانی صدر ایم ایم علی اور ان کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قصور جیسے تاریخی اور ادبی شہر کو اپنی موجودگی سے نوازا اور خدمت کا موقع دیا، امید ہے کہ اپووا کا یہ جذبہ خدمت مستقبل میں بھی علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنے گا،اللہ کرے کہ اپووا کا یہ کارواں یوں ہی محبت، ادب اور علم کی شمعیں روشن کرتا رہے۔

    پاکستان زندہ باد

  • ایک چھوٹے  سے انقلاب کی  داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    ایک چھوٹے سے انقلاب کی داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    میں نے بڑے بڑے انقلابوں کی داستانیں پڑھی بھی ہیں ، سنی بھی ہیں – لیکن اپنی آنکھوں سے جس انقلاب کو دیکھا وہ پی ایم اے میں میری آپ بیتی ھے-
    پی ایم اے پہنچے تو فوج نے سب سے پہلے میرے نخرے کا علاج کیا- سر کے باھر بال نہیں رھنے دیئے اور سر کے اندر نخرا، نہ کوئی شک- ابھی پی ایم اے کا گیٹ کراس کئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ہم بالکل good year ٹائر کی طرح روانی سے فرنٹ رول کرنا سیکھ چکے تھ-پی ایم اے جانے سے پہلے میں گھر پر گنی چنی چیزیں ،گوشت، قیمہ ، انڈے ، سموسے، چاٹ ، گول گپّے ،بسکٹ وغیرہ ہی کھاتا تھا- اڑھائی مہینے بعد میں جب پہلی بار ،گھر مڈ ٹرم کی چھٹی آیا، تو ماں میری حیران رہ گئی، میں قربانی والے بکرے کی طرح ، سب کچھ کھا رھا تھا- والد صاحب زیر لب مسکرا رھے تھے کہ ” پتر ھون سنا، تینوں کہنا ساں نہ پڑھ لے”-

    جیسے ہی سرکاری اوقات کار ختم ھوتے ہیں ، جونیئر کیڈٹ سینئر کیڈٹ کی پناہ میں آ جاتے ہیں- یہ کیسے ھوتا ہے- جی، یہ جادوئی عمل ہر پلاٹوں میں ایک سینئر جنٹل مین کیڈٹ کے ذریعے عمل میں آتا ھے- جیسے ہر کلاس کا مانیٹر ہوتا ھے ایسے ہی ہر پلاٹوں کا اور پھر کورس کا ایک سینئر جنٹلمین کیڈٹ ( ایس جی سی) نامزد ہوتا ھے اور سارے احکامات اس کے ذریعے پوری پلاٹون تک پہنچتے ہیں- کوئی فون یا وائرلیس نہیں ہوتا – ایس جی سی ،دو ٹانگوں اور زبان کا ستعمال کر کے سارے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ھے- ہر پلاٹوں کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا والی وارث ہوتا ھے- چھوٹا تیسری ٹرم کا کیڈٹ ھوتا ھے جسے کارپورل کہتے ہیں- بڑا چوتھی ٹرم کا کیڈٹ ہوتا ھے جسے سارجنٹ کہتے ہیں- ان دونوں کا آپس میں روحانی رابطہ ہوتا ھے- چھوٹا چھوڑتا ھے تو بڑا بلا لیتا ھے اور بڑا جب کہتا ھے آپ لوگ جائیں تو چھوٹا باھر ہی مل جاتا ھے- ہمارا چھوٹا ھماری بیرک کے کنارے پہلے کمرے میں رھتا تھا-

    پی ایم اے کلچر میں میٹافورز اور سگنل کا استعمال بہت اھم ھے- ڈرل سکیئر، پی ٹی گراؤنڈ، کوت، میس، ایچ ایس، سیچل، ڈی ایم ایس، ڈرل شوز، مَفتی، مَفتی شوز، ایس ڈی، جی سی آفس ، اینٹی روم، ھینڈز ڈاؤن، رول، فراگ جمپ اور اسی طرح کے سینکڑوں میٹافور ذہن میں ایسے بیٹھے کہ آج تک ازبر ہیں-

    قیامت کی گرمی ھو یا مائنس ٹمپریچر، آپ ریگستان میں ہیں یا سیاچن پر، کھانا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا ھے، پورے ڈریس کوڈ کے ساتھ- کھانے والا ٹیبل ٹینٹ میں لگے یا باقاعدہ کمرے کے اندر ، اس کا درجہ میس کا ہی رھے گا- دال بھی ، بھنی ھوئی مرغی کی طرح کانٹے سے اور نہایت ادب سے کھائی جائے گی- کھانے کے ایک ایک نوالے کا بل آفیسر کی اپنی ذمہ داری ھے- نہ کبھی کوئی کسی کا مذھب پوچھا، نہ ذات – سب کو اپنی سینیارٹی کا پتا ہوتا ھے- چپ چاپ بغیر کرسی کی آواز نکالے بیٹھتے جاتے ہیں – اس سارے ماحول میں صرف ایک شخص ایسا ہوتا ھے جو کوئی بھی لطیفہ سنا سکتا ھے، کوئی قصہ یا تاریخی واقعہ اور اگر موڈ ھو تو کل صبح روٹ مارچ کا حکم یا آج ھی رات نائیٹ ٹرینگ اور وہ شخص بلحاظ عہدہ CO کہلاتا ھے-

    بہت ہی محدود وسائل میں سلیقے کی زندگی گزارنا بہت بڑا فن ھے- زندگی میں پیسے اتنے معنی نہیں رکھتے جتنا، جینے کا سلیقہ- پی ایم اے سے یہی ” سلیقہ” سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اس سلیقے کے قیدی بن کر رھے- فوج کی کھٹی میٹھی یادیں میری زندگی کا اثاثہ ھے-

  • کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتیں جو قلم سے لکھی جاتی ہیں، اور نہ ہی وہ جو اشاعت کی زینت بنتی ہیں۔ کچھ کہانیاں خامشی کے دبیز پردوں میں لپٹی، وقت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی کسی کتاب کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ وہ جھروکوں سے جھانکتی ہیں، گلیوں کے گرد گھومتی ہیں، اور گواہی دیتی ہیں کہ انسان صرف جیتا نہیں، جھیلتا بھی ہے۔

    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سننے کے لیے کان نہیں، دل درکار ہوتا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز مزدوری کے لیے نکلتی ہے، اور شام کو بچوں کے لیے ہنسی اوڑھ کر لوٹتی ہے — اُس کی زندگی ایک مکمل کہانی ہے، جو شاید کبھی لکھی نہ جائے۔ وہ بزرگ جو پنشن کے لیے قطار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں، وہ بچہ جو سڑک پر کتابیں بیچتے ہوئے تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو ہر در سے مایوسی لے کر بھی ہار نہیں مانتا — یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ان کے لیے کوئی مصنف نہیں۔

    ادب کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ اُن احساسات کو بھی جگہ دے جنہیں دنیا نظر انداز کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات ادب بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بیان سے انکار کرتے ہیں، اور کچھ سچ ایسے جو سننے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "کہانی جو لکھی نہ گئی” وجود پاتی ہے — اور قاری کے دل میں کوئی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

    ہم نے اکثر داستانوں کو انجام کی تلاش میں پڑھا، مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو انجام سے پہلے ہی بھلا دی گئیں۔ ان میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ قافیہ، نہ منظرنامہ — فقط حقیقت ہوتی ہے، خالص اور بے رحم۔ وہ سچائی جو صرف نظر انداز کیے گئے لوگوں کے چہروں پر لکھی جاتی ہے، یا اُن آنکھوں میں جو سوال بن کر جمی رہتی ہیں۔

    یہ کالم اُنہی خاموش کہانیوں کی ایک پکار ہے — اُن لفظوں کی جو دل میں دب کر رہ گئے، اُن خوابوں کی جو بکھرنے سے پہلے پلکوں پر اترے ہی نہ تھے۔ یہ اُن لمحوں کی ترجمانی ہے جنہیں کبھی کسی نے لکھنے کے قابل نہ سمجھا، مگر وہ آج بھی ہمارے اردگرد سانس لیتے ہیں۔ وہ گلی کا نکڑ، وہ بند دروازہ، وہ خاموشی میں لپٹی کراہ — سب کچھ زبان بننے کو بےتاب ہے۔

    جب ایک دن یہ سب کہانیاں اپنے لکھنے والے پا لیں گی، تب ادب کا دامن بھی مکمل ہوگا۔ تب شاید کوئی مصنف کہے گا:
    "میں نے وہ کہانی لکھ دی جو لکھی نہ گئی تھی۔”

    ہر درد کے نام،
    ہر بے نام آواز کے احترام میں۔

    ای میل: jabbaraqsa2@gmail.com

  • سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ
    از قلم: لاریب اقراء
    سگریٹ نوشی آج کے دور میں ایک عام عادت نہیں رہی بلکہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلتی ہوئی معاشرتی، طبی اور معاشی بیماری بن چکی ہے۔ یہ بیماری غریب اور امیر دونوں طبقوں کو ایک جیسا نقصان پہنچا رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج معاشرے کے ہر طبقے میں، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، نوجوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، سگریٹ کو نہ صرف پیا جا رہا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں اسے ایک “رواج” اور “ضرورت” سمجھ کر قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ اور اس بات کو نجانے کیوں ہلکا لیا جارہا ہے ۔

    امیر طبقہ سگریٹ کو ایک “اسٹیٹس سمبل” یعنی عیش و آرام کی علامت سمجھ کر استعمال کرتا ہے، جبکہ غریب طبقہ ذہنی دباؤ، غربت، بے روزگاری یا ماحول کے منفی اثرات کے باعث اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ امیر آدمی کے لیے شاید سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت معمولی ہو، لیکن غریب کے لیے یہی سگریٹ روزانہ اس کی جیب سے روٹی، دوا، تعلیم، اور بچوں کی خوشی چھین لیتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب ایک شخص جو دن بھر محنت مزدوری کر کے چند روپے کماتا ہے، وہ انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ میں جھونک دیتا ہے، اور یوں نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے خاندان کا مستقبل بھی برباد کرتا ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مہلک لت کو صرف غریب طبقے سے نہیں، بلکہ پورے پاکستان سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ عادت جہاں غریب کو فاقوں کی طرف لے جاتی ہے، وہیں امیر کو بیماریوں کی طرف دھکیلتی ہے۔ سگریٹ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے جُڑے ہر انسان، ہر خاندان، ہر محلے، ہر ہسپتال، اور ہر ملک کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس زہر کو معاشرے سے ختم کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ حکومت سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگائے تاکہ یہ اتنا مہنگا ہو جائے کہ کوئی بھی اسے خریدنے سے پہلے کئی بار سوچے۔ غریب آدمی کو جب یہ احساس ہو کہ ایک سگریٹ کے بدلے وہ اپنے بچے کے لیے دودھ، کتاب یا دوا خرید سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی لت پر قابو پانے کا فیصلہ کرے۔

    حکومت کو سگریٹ فروشی پر بھی سخت قوانین لاگو کرنے چاہییں۔ دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ نابالغوں کو سگریٹ فروخت نہ کریں اور ایسی دکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے جہاں یہ زہر عام مل رہا ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ دکانوں کے آس پاس اشتہارات، بورڈز یا ایسے پوسٹرز جو سگریٹ کو فروغ دیتے ہوں، انہیں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

    اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ خاص طور پر غریب اور کم تعلیم یافتہ افراد کو سمجھایا جائے کہ سگریٹ کا ہر کش ان کے جسم کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، ان کے پھیپھڑوں، دل، دانت، اور دماغ کو آہستہ آہستہ تباہ کر رہا ہے۔ وہ نادانی میں صرف اپنی ہی صحت کو نہیں بلکہ اپنے بچوں، بیوی، والدین اور آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    اس مقصد کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا، اسکول، مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور فلاحی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایسے پروگرام ہونے چاہییں جن میں عوام کو آسان زبان میں، تصویروں اور مثالوں کے ذریعے بتایا جائے کہ سگریٹ کیسے خاموشی سے زندگی چھین لیتا ہے۔

    حکومت اور فلاحی ادارے اگر نکوٹین چھوڑنے کے پروگرامز جیسے مفت مشاورت، دوا، نکوٹین پیچ اور سپورٹ گروپس فراہم کریں تو بہت سے لوگ اس عادت کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔ اصل ضرورت صرف ایک "سہارے” کی ہے — ایک ہمدرد آواز، ایک خالص نیت والا ہاتھ، جو ان لوگوں کو اس دھوئیں سے نکال کر صاف اور روشن زندگی کی طرف لے جائے۔

    نوجوان طبقہ اس کا سب سے آسان شکار بنتا ہے۔ جب وہ اپنے بڑوں کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں تو وہ اسے "معمول” سمجھ کر اپنانے لگتے ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی لیڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو ابتدا سے ہی اس لت سے دور رکھنے کی تربیت دینا ہوگی۔

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک زہر ہے جو جسم، دماغ، تعلقات، معیشت اور نسلوں کو خاموشی سے نگل رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی فرد ” چاہے وہ غریب ہو یا امیر ” اس زہر سے محفوظ رہے تو ہمیں پورے ملک میں اس کے خلاف ایک مضبوط، مسلسل، اور اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو کل ہمارے بچے بھی اسی دھوئیں میں سانس لیں گے جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک بات جو سوشل میڈیا پر کچھ دنوں پہلے بہت وائرل تھی ۔
    کہ سگریٹ مرد پیے تو پھپھڑے خراب اگر عورت پیے تو کردار خراب ۔۔۔۔ ایسا کیوں
    یہ کہاوت ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظریات کی عکاس ہے جہاں مردوں کی سگریٹ نوشی کو عموماً صحت کے نقصان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کی سگریٹ نوشی کو کردار کی خرابی اور سماجی بدنامی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق درحقیقت ہمارے معاشرے میں صنفی امتیاز اور قدامت پسند سوچ کی عکاسی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ نوشی مرد و زن، ہر انسان کے لیے ایک زہر ہے جو نہ صرف جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ شخصیت، وقار اور زندگی کے ہر پہلو کو دھوئیں میں لپیٹ لیتا ہے۔

  • اویس لغاری  ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کے محنت کش کسان نے محدود وسائل کے باوجود اپنے چھوٹے سے گھر میں دو بجلی کے میٹر نصب کیے، تو یہ کوئی چالاکی نہ تھی بلکہ مہنگائی کے عذاب میں کچھ سانس لینے کی آخری کوشش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر "پروٹیکٹڈ سلیب” میں رہے تو شاید چولہا جلتا رہے اور بچوں کی فیس ادا ہو جائے۔ مگر اویس لغاری کی وزارت توانائی نے ایسا حکم صادر کیا جس نے لاکھوں غریب گھرانوں کی آخری امید روند ڈالی۔ دو میٹروں پر پابندی لگا کر صارفین کو ظالمانہ "نان پروٹیکٹڈ” سلیب میں دھکیل دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم کی کمر واقعی ٹوٹ گئی۔

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوامی اذیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ ان کے متضاد بیانات، گمراہ کن اعلانات اور فیصلوں نے عام شہری کو نہ صرف مالی نقصان دیا بلکہ عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔ آج غریب کے بجلی کے بل مڈل کلاس کے بنک اکاؤنٹ سے زیادہ وزنی ہو چکے ہیں۔ اویس لغاری نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب وزیر اعظم کو کسی دشمن یا سازش کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اویس لغاری کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب خود دہکتا لاوا بن چکا ہے۔

    پاک بھارت جنگ کے بعد حکومت کی عالمی سطح پر سفارتی کامیابیاں بھی اس لاوے کو روکنے میں ناکام ہیں کیونکہ جب گھر کا بلب بجھ جائے، چولہا ٹھنڈا ہو اور بل ہزاروں میں ہوں تو قوم کے لیے حکومتی کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اویس لغاری کے اقدامات نہ صرف عوام پر معاشی بمباری ہیں بلکہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے بھی سیاسی بارودی سرنگ ہیں۔

    اویس لغاری کی وزارت کا آغاز ہی جھوٹے وعدوں سے ہوا۔ عام انتخابات سے قبل بلاول بھٹو نے 300 یونٹ مفت بجلی کا اعلان کیا جو غریب عوام کے لیے امید کی کرن تھا۔ لیکن جب اویس لغاری نے وزارت سنبھالی تو نہ صرف یہ وعدہ پورا نہ ہوا بلکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بل کئی گنا بڑھا دیے گئے۔ ایک عام گھرانے کا بل جو پہلے چند ہزار کا تھا، اب لاکھوں تک جا پہنچا۔ اویس لغاری کے دعوے، جیسے "ہم نے قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے ہیں” یا "بلنگ کا نظام شفاف بنایا ہے”، عملاً بے معنی ثابت ہوئے۔ پروٹیکٹڈ سے نان پروٹیکٹڈ سلیب کی منتقلی، ناجائز ڈیٹیکشن بلز اور دو میٹروں پر پابندی نے ان کے تمام دعوؤں کو جھوٹا کر دیا۔

    بلنگ سسٹم میں سلیب کی تبدیلی خاص طور پر ظالمانہ تھی۔ 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ پر صارف "نان پروٹیکٹڈ” کیٹگری میں آ جاتا، جس سے بل کئی گنا بڑھ جاتا۔ وزیر اعظم نے اوور بلنگ پر برہمی کا اظہار کیا لیکن اویس لغاری نے معاملہ نیپرا کو سونپ کر جان چھڑا لی۔ سوشل میڈیا پر شکایات عام ہو گئیں کہ بل 8 ہزار سے 25 ہزار تک پہنچ گیا حالانکہ بجلی کا استعمال وہی تھا۔

    دو میٹروں پر پابندی نے دیہی علاقوں کے صارفین کی مشکلات دوچند کر دیں۔ کئی گھرانوں میں بجلی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے دو میٹر استعمال ہوتے تھے، جس سے نہ صرف نظام بہتر چلتا بلکہ صارفین پروٹیکٹڈ سلیب سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اب یا تو وہ استعمال کم کریں یا مہنگے سلیب پر بل ادا کریں۔ ایک دیہاتی صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ دو میٹروں سے فائدہ ہو رہا تھا، لیکن ایک میٹر ہٹانے سے بل دوگنا ہو گیا۔

    ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے بھی عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ بجلی چوری کے الزامات لگا کر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، اکثر بغیر ثبوت۔ اویس لغاری نے خود تسلیم کیا کہ اوور بلنگ ہو رہی ہےلیکن ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ان پر رشوت خوری اور جاگیردارانہ ذہنیت کے الزامات لگے۔ ان کے فورٹ منرو کے گھر کا بل محض 124 روپے بتایا گیا جبکہ عوام ہزاروں روپے کے بل ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وضاحت دی گئی کہ میٹر بند تھا، لیکن معاملہ عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

    بیوروکریسی اور اشرافیہ کو دی گئی مفت بجلی کی سہولت ختم نہ کی جا سکی۔ نگران حکومت نے اسے ختم کرنے کا عندیہ دیاتھا مگر اویس لغاری نے اسے جاری رکھا۔ سالانہ 500 ارب روپے سے زائد مفت بجلی اشرافیہ کھا جاتی ہے اور بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ 2024 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے عوام کو بدترین معاشی بحران میں جھونک دیا۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی گئی یہ سہولت عوامی اشتعال کا باعث بنی۔

    اویس لغاری کے فیصلوں نے وزیر اعظم کی حکومت کو آتش فشاں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے، جو کسی بھی وقت سڑکوں پر ابل سکتا ہے۔ دشمنوں کے خلاف سفارتی کامیابیاں بھی اب عوامی بھوک، پیاس اور اندھیرے کے سامنے غیر متعلق ہو چکی ہیں۔ جب عزت نفس اور بنیادی ضروریات چھن جائیں تو صرف اشتعال باقی رہ جاتا ہے.

    اویس لغاری کی پالیسیاں قوم کی اجتماعی خود کشی کامکمل سامان پیدا کر چکی ہیں۔ عوام کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا، لیکن قربانی کے لیے اویس لغاری جیسے وزراء کی فہرست طویل ہے۔ ان کا سیاسی ماضی بھی غیر مستقل مزاجی کی گواہی دیتا ہے ، مسلم لیگ (ق) سے مسلم لیگ (ن)، پھر تحریک انصاف کی چوکھٹ تک۔ ایسے افراد سے اصول اور وفاداری کی توقع عبث ہے۔ اگر حکومت عوامی غیض و غضب کی لپیٹ میں آئی تو اویس لغاری سب سے پہلے کشتی چھوڑ دیں گے۔

    لیکن میاں صاحب! اس عوامی طوفان کا سامنا آپ کو کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف آپ کی حکومت بلکہ مریم نواز شریف کی ابھرتی ہوئی قیادت کو بھی لے ڈوبے گا۔ اویس لغاری کو برطرف کرنا، بجلی کے نرخ کم کرنا، سلیب سسٹم کی اصلاح، ناجائز ڈیٹیکشن بلز کا خاتمہ اور دو میٹروں پر سے پابندی اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ تاریخ آپ کو عوام دشمن وزیر کا محافظ لکھے گی۔

    وزیر اعظم صاحب! اب فیصلہ کن اقدام کا وقت ہے۔ یہ محض ایک وزارت کی کارکردگی نہیں بلکہ آپ کی حکومت کے وجود اور سیاسی وراثت کی بقا کا سوال ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب یا آپ عمل کریں گے یا پھر عوام کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے گا۔

  • پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔
    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔
    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔
    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ءکے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے ۔جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوتی ہے۔
    روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری ہیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی عازمین کو رخصت کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت حج کےلئے جائیں گے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے ہم کوشش کررہے ہیں جلد ہی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔
    اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔
    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔
    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔

  • پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوڈکاسٹ ویڈیو نے پیناڈول (پیراسیٹامول) اور رائزک (اومیپرازول) جیسی عام ادویات کے استعمال اور جگر کے امراض سے ان کے تعلق پر کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ویڈیو میں کچھ حیران کن دعوے کیے گئے جو ایک طرف تو عوامی صحت کے لیے تشویش کا باعث بنے تو دوسری طرف کئی غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا۔ ان دعوؤں کا حقیقت کی کسوٹی پر جائزہ لینا ضروری ہے۔

    ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانیوں نے پچھلے سال رائزک نامی دوا پر تقریباً 8 ارب روپے خرچ کیے اور یہ دوا معدے اور جگر پر "تیزاب ڈالنے” جیسا اثر رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائزک دراصل اومیپرازول ہے جو کہ ایک پروٹون پمپ انہیبیٹر (Proton Pump Inhibitor) ہے اور اس کا کام معدے میں تیزاب کی پیداوار کو کم کرنا ہے۔ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اور السر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ دوا معدے یا جگر پر تیزاب ڈالتی ہے، سائنسی طور پر درست نہیں، کیونکہ یہ دوا تیزاب کی پیداوار کو روکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں رائزک کا بے جا اور غیر ضروری استعمال عام ہے، جہاں لوگ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اسے درد کش ادویات کے ساتھ یا معمولی تیزابیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس دوا کا طویل استعمال وٹامن B12 کی کمی، گردوں کے مسائل اور جگر کے افعال میں بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس کا براہ راست تعلق جگر کے کینسر سے ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ 8 ارب روپے کے خرچ کا دعویٰ بھی غیر مصدقہ ہے کیونکہ اس کی کوئی سرکاری رپورٹ دستیاب نہیں۔

    پوڈکاسٹ میں پیناڈول کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دوا آج کل "ٹافیوں” کی طرح استعمال ہو رہی ہے اور اس کا زیادہ استعمال فیٹی لیور اور جگر کی دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ دوا دنیا میں بند ہو چکی ہے اور پاکستان میں بھی سات سال پہلے بین ہو چکی ہے۔ یہ دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ پیناڈول (پیراسیٹامول) درد اور بخار کے علاج کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ایک انتہائی عام اور مؤثر دوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے بنیادی دواؤں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ دوا آج بھی دستیاب ہے۔ البتہ، یہ بات سچ ہے کہ پیراسیٹامول کا زیادہ استعمال، خاص طور پر اگر روزانہ 4 گرام سے زیادہ مقدار لی جائے یا اسے شراب کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے مریض جو پہلے سے ہی ہیپاٹائٹس یا جگر کی کسی بیماری میں مبتلا ہوں، ان کے لیے پیراسیٹامول کا بے احتیاط استعمال مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دوا جگر کا کینسر پیدا کرتی ہے۔ جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس B اور C کے وائرل انفیکشنز ہیں۔

    ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں جگر کے کینسر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگلے 15 سالوں میں 30 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جن لوگوں کے PCR ٹیسٹ "نیگیٹو” آتے ہیں، وہ بھی کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جگر کے امراض، خاص طور پر ہیپاٹائٹس B اور C ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن 30 لاکھ افراد کو کینسر ہونے کا دعویٰ مبالغہ آمیز ہے اور اس کی کوئی سائنسی رپورٹ یا ثبوت موجود نہیں۔ جگر کے کینسر کی اصل وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشن، خون کی غیر معیاری منتقلی اور ناقص صفائی شامل ہیں۔ جہاں تک PCR ٹیسٹ کا تعلق ہے، یہ وائرس کی مقدار چیک کرتا ہے۔ اگر یہ نیگیٹو آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فی الحال وائرس موجود نہیں، لیکن یہ کینسر یا دیگر بیماریوں کی موجودگی کو رد نہیں کرتا۔ ویڈیو میں کینسر کے کچھ مخصوص ٹیسٹس (جیسے ایلفا فیٹوپروٹین، CA125، CA15-3، CA19-9، اور CEA) کا ذکر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ان سے اکثر میں کینسر کی ابتدائی علامات نکل آئیں گی۔ یہ ٹیسٹ مخصوص کینسرز کی نشاندہی میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح صرف ماہر ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ ہر مریض پر لاگو نہیں ہوتے اور ہر مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تشخیص نہیں ہوتا۔ مزید براں CA125، CA15-3، اور CA19-9 جیسے ٹیسٹ بنیادی طور پر جگر کے کینسر کے لیے نہیں، بلکہ بالترتیب رحم/بیضہ دانی، چھاتی اور لبلبہ/گال بلیڈر کے کینسر سے متعلق ہیں۔

    یہ پوڈکاسٹ اگرچہ کچھ غلط معلومات پر مبنی ہے، لیکن اس میں دواؤں کے غلط اور غیر ضروری استعمال کے بارے میں جو تشویش ظاہر کی گئی ہے وہ بالکل درست ہے۔ پاکستان میں عام لوگ اکثر معمولی بخار یا درد پر خود ہی دوا لے لیتے ہیں یا کسی کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ رویہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بات جگر جیسے نازک عضو کی ہو۔ یہ معاملہ صرف ان دو دواؤں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے مجموعی صحت کے نظام اور عوامی شعور کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اوور دی کاؤنٹر دواؤں کی فروخت پر سخت قوانین نافذ کرے، فارمیسیوں کی نگرانی کرے اور عوام کو دواؤں کے درست استعمال کے بارے میں آگاہی دے۔ ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والے طبی دعوؤں کی سچائی جانچنا اور ان پر اندھا یقین کرنے سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔

    اس طرح کی ویڈیوز میں کئی بار خوف پھیلانے کا عنصر شامل ہوتا ہے اور وہ حقیقت سے دور ہو سکتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنی صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے لیں، اپنی زندگیوں کو غیر ضروری دواؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں اور اگر کسی دوا کا استعمال کریں تو مستند ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔ جگر ایک خاموش مگر نہایت اہم عضو ہے، جب یہ بولتا ہے تو اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس B کی ویکسین لگوائیں، محفوظ انجیکشن استعمال کریں اور باقاعدہ چیک اپ کروائیں۔ سوشل میڈیا کے دعوؤں پر بھروسہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ہمیشہ بہتر ہے۔