Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس کے رویوں میں بہتری اور رشوت کے خاتمے کیلئے مختلف تجربے کیے جاتے رہے کبھی وردی کا رنگ تبدیل کیا گیا تو کبھی چار، چھے ماہ بعد آئی جی کی تبدیلی لیکن نہ تو پولیس کے رویے بہتر ہوسکے اور نہ ہی رشوت کلچر کا خاتمہ۔ پی ٹی آئی کی بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پولیس احتساب سے بالا تر مخلوق بن چکی ہے۔ ناکوں پر تعینات پولیس والوں کو دیکھ کر تحفظ سے زیادہ لٹنے کا احساس ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ خطرناک اور شرمناک پہلو یہ تھا کہ پولیس افسران عوامی تحفظ کے اصل کام کی بجائے سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں میں پڑ کر ٹک ٹاک سٹار بننے پر لگے ہوئے تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کی غیر قانونی سیلف پروجیکشن پر پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریٹک مارشل لاء کا خاتمہ کرتے ہوئے عوامی طرز حکومت کی طرف پیش قدمی کی۔
    مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی محکمہ پولیس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے پر توجہ مبذول کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، قیام امن اور بہترین سروس ڈیلیوری کیلئے محکمہ پولیس کیلئے ”کی پرفارمنس انڈیکیٹرز“ (KPIs)متعارف کروائے۔ مریم نواز نے اس بنیادی مرض کو بھی سمجھ لیا کہ نمبر گیم اور سب اچھا دکھانے کیلئے پولیس مقدمات کا اندراج ہی نہیں کرتی اس لیے وزیراعلیٰ نے سختی سے ہدایات کیں کہ جعلی نمبر گیم کیلئے عوام کو مقدمے کے اندراج کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ مریم نواز کے عوامی طرز عمل کے باعث عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ اگر پولیس کی کسی بھی زیادتی کی شکایت وزیراعلیٰ آفس تک پہنچ جائے تو اس پر فوری کاروائی ہوتی ہے۔ اس اعتماد سازی کو پختہ اور فیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ایڈیشنل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر سیف انور جپہ کا ہے جو وزیراعلیٰ آفس میں آنے والی ہر شکایت کو ذاتی حیثیت میں ”فالو“ کرتے ہیں اور گھنٹوں اور دنوں میں دادرسی کو ممکن بناتے رہے ہیں، اسی بے مثال کرگردگی کی وجہ سے سیف انور جپہ کو سپیشل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس تعینات کردیا گیا ہے تاکہ اور موئثر انداز میں عوامی شکایات کا ازالہ اور پولیس کو عوام دوست پولیس بنایا جاسکے۔ ماضی میں لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس کی سیٹ پر جونئیر پولیس افسران کی تعیناتی سے پولیس کے جرائم فائلوں میں دب جاتے تھے اور حکمرانوں تک سب اچھا کی جعلی رپورٹس جاتی تھیں جس وجہ سے پولیس میں بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ چکیں تھیں۔
    لاہور پولیس میں کڑے احتساب، ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کی عوام کیلئے بنا سفارش اوپن ڈور پایسی کی وجہ سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران خان، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل اور آرپی او گوجرانوالہ طیب حفیط چیمہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔
    پنجاب میں مجموعی امن عامہ کے قیام، کریمینل گینگز کے خلاف آپریشن کلین اپ اور قانون شکن عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کارروائیوں کیلئے کرائم کنڑول ڈیپارٹمنٹ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت اور بہترین فیصلہ ہے۔ پنجاب کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر کرپٹ افراد کے خلاف قابل زکر کاروائیاں کرنے اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنانے والے سہیل ظفر چٹھہ اور وقاص حسن کی قیادت میں بننے والی سی سی ڈی پنجاب کو جرائم فری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے تحت تھانوں کے روایتی کلچر کو عوامی خدمت مراکز میں تبدیل کیا۔ عالمی معیار کے سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس اسٹیشنز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو ضروری خدمات برق رفتاری سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ پولیس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں، نائٹ ویژن ڈرون سمیت جدید تقاضوں کے عین مطابق ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ خدمت مراکز پر ایک چھت تلے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویری فکیشن، وہیکل ویری فکیشن، گمشدگی رپورٹ، کرائم رپورٹ، خواتین کی قانونی راہنمائی، ایف آئی آر کی نقول، کرایہ داری اور گھریلو ملازمین کے اندراج، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خدمات فراہم کی گئیں۔

    پنجاب کو جرائم اور کرپشن فری صوبہ، پولیس کو کرپشن اورجرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے کیلئے مجرموں سے ساز باز کرنیوالے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کوسزائیں دے کر مثال بنایا جارہا ہے، سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب احمد عزیز تارڑ پراسیکیوشن محکمہ کی مکمل اوورہالنگ اور مضبوطی پر کام کررہے ہیں تاکہ ہر طرح کے عدالتی مقدمات میں حکومت پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ٹریفک پولیس کی کارگردگی ابھی تک زیرو ہے خاص طور پر لاہور میں تیز فلیشر لائٹ، بنا نمبر پلیٹ رکشوں، گاڑیوں اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔

  • بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز

    بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز

    بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، اپنے اندر ایک تاریک حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت ہے بھارت میں بسنے والی اقلیتیں بالخصوص مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف منظم ظلم و ستم جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسی سیاسی چال کا نتیجہ ہے جو بھارت کے سماجی تانے بانے کو کمزور کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں نفرت کی سیاست اور قومی سلامتی کے نام پر پروپیگنڈا اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ بھارت اپنی اقلیتوں کے خلاف ایک خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ظلم کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1947ء میں بھارت کے قیام سے لے کر بابری مسجد کی شہادت (1992ء)، گجرات فسادات (2002ء) اور دہلی فسادات (2020ء) تک، یہ واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہندوتوا کا نظریہ جو ہندو قوم پرستی کو فروغ دیتا ہے، اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ بی جے پی کی سرپرستی میں یہ نفرت نہ صرف سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہے بلکہ اس سے بھارت کی جمہوری اقدار بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ معروف بھارتی اخبار "سیاسی تقدیر” کے مطابق بی جے پی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے مذہبی منافرت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں غیر محفوظ ہو رہی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم نے ایک بھیانک شکل اختیار کر لی ہے۔ 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق کو ختم کر دیا جس کے بعد تشدد، گرفتاریوں، اور کرفیو کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ پلوامہ (2019ء) اور پہلگام (2025ء) بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز جن کا مقصد پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا اور کشمیریوں کے خلاف مظالم کو جواز فراہم کرنا تھا۔ یہ حملے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان سے جوڑے گئے جو بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں کی سری نگر آمد اور بھارتی فورسز کے ساتھ ان کا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے ایک منظم منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرنے والوں میں معروف بھوجپوری گلوکارہ اور بلاگر نیہا سنگھ راٹھور بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے ویلاگ میں بی جے پی کے اس رویے کو بے نقاب کیا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ نیہا نے واضح کیا کہ پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوامی جذبات کو بھڑکایا جائے اور ملکی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی یہ حکمت عملی غریب عوام کی قربانیوں پر مبنی ہے۔ نیہا کی تنقید کے جواب میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت میں تنقید کی آوازوں کو کس طرح دبایا جا رہا ہے۔

    عالمی برادری کی خاموشی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ بھارت کی اقتصادی طاقت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث بڑی طاقتیں اس کے مظالم پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی عالمی انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت کے ہندوتوا کے نظریہ والے یہ اقدامات جاری رہے تو نہ صرف کشمیریوں بلکہ دیگر اقلیتوں کی نسل کشی امکانات بڑھتے جارہے ہیں جن کامستقبل خطرے میں پڑچکا ہے ، نفرت کی سیاست نے بھارتی میں معاشرے میں اقلیتوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے جو ایک بڑی سماجی تباہی کا باعث بن چکی ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں بالخصوص کشمیریوں کے خلاف ظلم ایک ایسی حقیقت ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پلوامہ اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے نسل کشی کا منصوبہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اقدامات کا نوٹس لے اور اسے اپنی اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے۔ انسانیت کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے فوری عمل کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ظلم نہ روکا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

  • کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    زندگی انمول ہے۔زندگی پیدا ہونے سے شروع ہوتی ہے ۔اور اس کا اختتام موت سے ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر نظر ثانی کی ہے۔ کیا زندگی بادشاہی ہو یا فقیری میں ہی گزاری ہو۔کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا۔ یہ سوال ہر بنی نوع انسان کو خود سے کرنا چاہیے۔اگر مجھ سے پوچھیں تو کیا ہم مال و دولت عیش عشرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نکل پائے۔ کیا اللّٰہ پاک رب العالمین کے احکامات کے مطابق ہم نے زندگی گزاری؟ ہمارا مقابلہ مال و دولت اور آسائش میں آگے بڑنا نہیں ہے۔ بلکہ بحثیت اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے نیک کاوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہی انسانیت یہی اصل زندگی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ شائد اس زمانے کے لیے لکھا تھا۔ ،،نیکی میں جو کام نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے، اس بے فیض سنگی سے بہتر یار اکیلے،، کچھ عرصہ قبل تک ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوا کرتی تھیں، روزمرہ کے کام کاج اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقے ، ہماری روٹین سب کچھ ایسا تھا جس میں ہم خود کو پُرسکون محسوس کرتے تھے ، ہمارے اردگرد کے لوگ اور اب کی صحبتیں ایسی ہوا کرتی تھیں جس سے ہم اور ہمارے پیارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے، مثال کے طور پر، مل جل کر رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے پیاروں اور آس پاس بسنے والوں کا خیال کرنا، بڑوں کی عزت و احترام اور چھوٹوں سے پیار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ حیات میں تلخی ہے مگر خیر چل زری شکوہ جو تُو کرے، تو خدا روٹھ جائیگا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ہم دورِجدید میں داخل ہوتے گئے، نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف ہر سُو افراتفری کا عالم ہے جہاں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہر شخص بے سکونی میں مبتلا ہے سب کے پاس زندگی گزارنے کی تمامتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی بے چینی کی کیفیت طاری ہے، یہاں تک کے نماز ادا کرنے میں بھی ہر شخص جلدبازی کر رہا ہے ۔ لوگ نماز کی اہمیت بھول رہے ہیں اور بس اس فرض کو بھی کسی صورت سر سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں.. اس دنیا میں رہتے ہوئے ۵ منٹ کی نماز ادا کرنے گھر کے ساتھ تعمیر کی گئی مسجد میں جایا نہیں جاتا اور مرنے کے بعد ہم جنت کے طلبگار ہیں ۔۔ زمانہ بھی کیا سے کیا ہوگیا، بھلا کر انسانیت خدا سے جدا ہوگیا، ہماری کچھ عرصے پہلے کی زندگی میں ہمارے حال کی نسبت کافی حد تک فرق تھا ،اور وہ فرق ایسے تھا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی بہت بہترین طریقے سے بسر کر رہے تھے، ہر کام کے لئے مکمل فرصت تھی، گھر کے سب کام وقت پر ہوتے تھے سب کے پاس اپنے پیاروں کو دینے کے لئے ڈھیروں محبتیں ہوتی تھیں ۔۔

    اس دور میں اتنی مشینری بھی میسر نہ تھی اس کے باوجود بھی کام اپنے مقررہ وقت پر ہوجاتے تھے ۔۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اُس محنت اور لگن سے کام کرنے والے دورہِ حیات میں جب ہم خوش اسلوبی سے جی سکتے تھے تو آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں جی پاتے ؟؟ جبکہ ابھی تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اعلی سے اعلی مشینری بھی موجود ہے ۔۔ دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا میرے خیال میں وہ دور ہی سنہرا تھا ۔۔ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دلوں میں گنجائش پیدا کریں کسی کی بات کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کریں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر محسوس کرنا سیکھیں تو انشاءاللہ اس دور میں بھی پرسکون زندگی گزار سکیں گے ۔

  • موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ
    ازقلم:ارم سعید
    اردو زبان برصغیر کی ایک مایہ ناز، شیریں، دلکش اور ہمہ گیر زبان ہے۔ اس نے اپنے دامن میں نہ صرف شاعری، نثر، تاریخ، فلسفہ اور سائنس کی دولت سمیٹی ہے، بلکہ تہذیب، ثقافت، شائستگی، اور محبت کی زبان بھی کہلائی ہے۔ اردو نے ہندو مسلم یکجہتی، صوفی ازم، اور عوامی مزاحمت کی آواز بن کر صدیوں تک ایک روشن کردار ادا کیا۔ لیکن آج کے تیز رفتار، ٹیکنالوجی کے غالب، اور عالمی زبانوں کے غلبے والے دور میں اردو زبان کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو زبان آج ایک نفسیاتی، تہذیبی اور سماجی جنگ لڑ رہی ہے—ایک ایسی جنگ جس کا میدان تعلیمی ادارے، سوشل میڈیا، حکومتی پالیسیاں، اور ہماری روزمرہ زندگی ہے۔ یہ مضمون اردو زبان کی اس جنگ کا جائزہ لیتا ہے، اس کے اسباب، اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتا ہے۔

    اردو زبان: ایک تاریخی پس منظر
    اردو زبان کی جڑیں دکن سے دہلی تک اور پنجاب سے لکھنؤ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس نے فارسی، عربی، ترکی، سنسکرت اور مقامی بولیوں سے الفاظ لے کر ایک منفرد اسلوب اختیار کیا۔ مغلیہ دور میں اسے درباری زبان کی حیثیت حاصل ہوئی اور بعد ازاں یہ عوام الناس کی زبان بن کر ابھری۔ اردو نے تحریک آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سرسید، حالی، اقبال اور قائداعظم نے اسے ایک قومی شناخت کی علامت بنایا۔

    1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے محض علامتی طور پر اپنایا گیا، عملی طور پر انگریزی کا غلبہ قائم رہا۔

    موجودہ دور کے تقاضے اور اردو زبان
    موجودہ دور میں دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ انگریزی زبان بین الاقوامی رابطے، تعلیم، تجارت، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زبان بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو زبان جو کبھی علم و تہذیب کی علامت تھی، اب کمزور طبقات، پسماندہ علاقوں یا صرف جذباتی نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    تعلیمی نظام اور اردو کا حاشیہ نشین ہونا
    پاکستان کا تعلیمی نظام طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف انگلش میڈیم، کیمبرج اور آئی بی جیسے ادارے ہیں جو مغربی معیار تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں، دوسری طرف اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں جو وسائل کی کمی، ناقص نصاب اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے باعث پسماندگی کا شکار ہیں۔

    اردو میڈیم تعلیم کو حقیر، کم درجے کی اور "ناکام لوگوں” کا راستہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی سوچ اردو زبان کی وقعت کو گھٹا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے اردو بولنے سے کتراتے ہیں، اردو لکھنے سے قاصر ہیں اور اردو ادب سے ناواقف ہیں۔

    میڈیا، انٹرنیٹ اور زبان کا استحصال
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زبان کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ "رومن اردو” یعنی انگریزی حروف میں اردو لکھنے کا رجحان عام ہو گیا ہے۔ نوجوان طبقہ "Ap kya kr rhy ho?” جیسے جملے استعمال کر کے زبان کی ساخت اور جمالیات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

    ٹی وی چینلز، ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات میں اردو کی جگہ ایک مخلوط زبان نے لے لی ہے جو نہ مکمل اردو ہے، نہ مکمل انگریزی۔ یہ زبان دراصل "انگریزی زدہ اردو” ہے، جو اردو کی اصل روح کو مجروح کر رہی ہے۔

    اردو زبان کے خلاف سازش یا ہماری بے حسی؟
    کیا اردو زبان کے ساتھ زیادتی دانستہ ہو رہی ہے؟ یا ہم خود اپنی زبان سے بے وفائی کر رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اردو کے خلاف کوئی خارجی سازش نہیں، بلکہ ہماری اپنی نیت، رویہ اور ترجیحات اس کے زوال کے ذمہ دار ہیں۔ ہم نے اسے صرف شاعری، جذبات، تقریروں اور تقریبات تک محدود کر دیا ہے۔

    ہماری جامعات میں تحقیق انگریزی میں ہوتی ہے، دفاتر میں مراسلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ اردو کو صرف ترجمے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جب کہ اسے خود علمی زبان بننے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    اردو زبان کی بقا: روشن مثالیں اور امید کی کرن
    اگرچہ مجموعی صورتحال مایوس کن ہے، لیکن کچھ روشن مثالیں اب بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ نوجوان اردو شاعری، ادب، اور تحریر کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوٹیوب چینلز، اردو بلاگز، پوڈکاسٹس اور آن لائن لٹریچر پلیٹ فارمز اردو کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔

    اردو ادب کی نئی صنف "اردو افسانوی وی لاگنگ” ابھر رہی ہے، جہاں نوجوان اپنی کہانیوں کو ویڈیو کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اردو کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑ سکتی ہے۔

    حکومت، تعلیمی ادارے اور معاشرتی کردار
    اردو زبان کے فروغ کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے:

    قومی نصاب میں اردو زبان کی تدریس کو مضبوط کیا جائے۔
    سائنسی و تکنیکی مواد اردو میں ترجمہ کیا جائے۔
    دفاتر اور عدالتوں میں اردو کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
    اردو ادب اور زبان کے ماہرین کو قومی سطح پر پذیرائی دی جائے۔
    اردو زبان کی ترقی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔

    اسی طرح تعلیمی اداروں کو اردو زبان کی تدریس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا چاہیے۔ اردو کو بوریت یا مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور موثر زبان کے طور پر پیش کیا جائے۔

    ہمارا انفرادی اور اجتماعی فرض
    ہر فرد کا بھی فرض ہے کہ وہ اردو زبان کو صرف جذباتی یا قومی فخر کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اس کے عملی استعمال کو فروغ دے۔ گھر میں اردو بولی جائے، کتابیں اردو میں پڑھی جائیں، اردو اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس کو فروغ دیا جائے۔
    والدین اپنے بچوں کو اردو ادب سے روشناس کرائیں۔ اساتذہ اردو کو صرف نصاب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے تخلیقی پہلو کو اجاگر کریں۔

    اردو زندہ ہے، لیکن خطرے میں ہے
    اردو زبان محض ایک لسانی اظہار نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک تاریخ کا نام ہے۔ موجودہ دور میں اسے مختلف محاذوں پر جنگ لڑنی پڑ رہی ہے تعلیم، میڈیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قومی پالیسی کی سطح پر۔
    اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والے وقت میں اردو صرف کتب خانوں اور ماضی کی یادگاروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے اس زبان کی حفاظت، ترقی اور فروغ کو اپنا مشن بنا لیا تو یہ زبان نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ دنیا میں اپنا مقام بھی واپس حاصل کرے گی۔

    اردو کو بچانا صرف زبان کو بچانا نہیں، بلکہ اپنی شناخت، ثقافت، تاریخ اور تہذیب کو بچانا ہے۔

  • شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہر دلعزیز اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے انچاس برس بیت گئے لیکن وہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے اپنے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    منور ظریف 2 فروری 1940 ء کو گوجرانولہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے صرف 36 سال عمر پائی ۔ آج سے ٹھیک انچاس برس قبل فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ اپنے کیریئر کے عروج میں ہی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔
    منور ظریف نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 ء میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان فلم انڈسٹری پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پچاس برس بیت گئے لیکن ان کی خود ساختہ اداکاری اور ان کے فی البدیہ جملوں کی برجستگی کی آج بھی دنیا معترف ہے ۔
    دنیائے ظرافت میں یوں تو رنگیلا ، معین اختر ، ایم اسماعیل ، زلفی ، نرالا ، خلیفہ نذیر ، دلجیت مرزا ، علی اعجاز ، ننھا اور اداکار لہری نے خوب نام کمایا لیکن جو نام اور مقام منور ظریف کا ہے وہ کسی اور کامیڈین کا نہیں ہے ۔
    اپنے فنی سفر کا آغاز انہوں نے فلم ” اونچے محل” سے کیا ، جس میں انہوں نے مزاحیہ کردار ادا کر کے حاضرین و ناظرین کی خوب داد سمیٹی اور اس کے بعد ان کی ایک پنجابی فلم ڈنڈیاں اور چاچا خواہ مخواہ منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد تو ایک سے بڑھ کر ایک فلم اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، جس میں پیار کا موسم ، بہارو پھول برساؤ ، استاد شاگرد ، چکر باز ، دیا اور طوفان ، بد تمیز ، ہتھ جوڑی ، زمیندار ، ہیر رانجھا ، زینت ، نمک حرام ، پردے میں رہنے دو ، دامن اور چنگاری ، رنگیلا اور منور ظریف ، بدلہ ، ملنگی ، چڑھدا سورج اور بابو جی جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں ۔
    ابتدا میں منور ظریف کو چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کو ملے ، لیکن جلد ہی منور ظریف نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جگہ ان بڑے بڑے اداکاروں میں بنا لی جن کا اس دور میں ایک نام تھا ۔
    اپنے مخصوص انداز ، لب و لہجے اور منفرد کام کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی فلم انڈسٹری پر اپنے کام کے گہرے نقوش چھوڑے ۔ فیس ایکسپریشن ، باڈی لینگوئج ، برجستہ کلمات کی ادائیگی اور اپنے منفرد لب و لہجے سے انہوں نے شہنشاہِ ظرافت کا خطاب اپنے نام کیا ،

    منور ظریف مزاحیہ اداکاری کی ان تمام جملہ اصناف میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔
    منور ظریف جب بھی پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو حاضرین و سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا جو ملکہ منور ظریف کو حاصل تھا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
    اپنے سولہ سالہ فلمی کیریئر میں منور ظریف نے لگ بھگ 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا ۔
    ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لئے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان موجود ہوتا ۔ ان کے پرستار ان کی ہر ادا اور ہر ڈائیلاگ پر جھوم جھوم جاتے ۔
    منور ظریف ایک حیرت انگیز مزاحیہ اداکار تھے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے جیسا اداکار دور دور تک نظر نہیں آتا ۔

    منور ظریف سمیت ان کے بھائیوں نے فلمی دنیا میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے لیکن جو کامیابی ظریف اور منور ظریف کے حصے میں آئی وہ باقی تین بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی ۔
    50 کی دہائی میں اداکار ظریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے جو شہرت حاصل کی منور ظریف نے اس سے کئی گنا زیادہ شہرت و مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔
    منور ظریف دنیائے ظرافت اور لالی وڈ سینما کا وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔
    لالی وڈ انڈسٹری چاہ کر بھی کوئی منور ظریف ثانی پیدا نہیں کرسکی ۔
    منور ظریف کا کوئی گیت یا کوئی کلپ سامنے آ جائے تو ہم اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتے ۔
    دنیائے ظرافت کا بے تاج بادشاہ منور ظریف اپنی حرکات و سکنات اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔
    منور ظریف کے کیریئر میں چند ایک ایسی فلمیں بھی ہیں جن کے ذکر کے بغیر ان کے فنی سفر کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ، جن میں جیرا بلیڈ ، نوکر ووہٹی دا ، اج دا مہینوال ، بنارسی ٹھگ اور فلم خوشیا شامل ہے ۔ ان فلموں میں منور ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا ۔
    منور ظریف کی فلم ” نوکر ووہٹی دا ” کو بھارت نے بھی کاپی کیا ، جس میں بھارتی اداکار دھرمیندر نے منور ظریف کا کردار ادا کیا ۔
    بعد میں دھر میندر نے اعتراف بھی کیا کہ وہ منور ظریف جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    منور ظریف ہر سال اوسطاً 20 سے زائد فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ہر فلم میں ان کا انداز دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ۔ انہوں نے کبھی خود کو مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ہیرو ، ولن اور سائیڈ ہیرو کے کردار میں بھی جلوہ گر ہوئے ۔
    منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گیت فلمائے گئے ۔
    منور ظریف اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی انجمن تھے ، ایسے باصلاحیت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔
    فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کر کے صرف 36 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا ۔
    اللّٰہ تعالیٰ منور ظریف کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

  • ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    یہ ایک اہم نقطہ تھا جو اکثر خاندانوں میں مسئلہ جس پر مجھے لکھنا مناسب لگا۔ لیکن اس عنوان کو اکثر ہلکل پھلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کزن کا مطلب ہی نہیں جانتے میں ایک بار اپنے عزیز و اقارب کے رشتہ داروں کے پاس گیا! وہاں کزن کا ذکر چھڑا تو انہوں نے برا منایا پھر میں نے بتایا کہ بھئی یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے ہمارے دور پار کے بہن بھائیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ پھر کزن سسٹر اور کزن پر بحث ہوتی رہی کہ کزن سسٹر جو ہے چچازاد ہے اور کزن ماموں پھپھو خالہ زاد میں نے کہا بھئی نظریہ ہے ورنہ خالہ زاد اور دوسرے کزنز کو بھی بہن بھائی کہتے ہیں۔ پھر فرسٹ سکینڈ تھرڈ کزنز پر بات ہونے لگی۔ میں نے بتایا کہ یہ بھی نظریہ ہے حقیقت نہیں کزن کزن ہی ہوتا ہے اکثر ہم کزنز کے ساتھ فرینک ہونے لگ جائیں تو ہم پر شک کیا جاتا ہے اور چچازاد پر نہیں۔ بات محبت کی ہے تو محبت تو کچھ بھی نہیں دیکھتی اور کزنز کا رشتہ دوستانہ ہے یہ انجیل بتاتی ہے کہ یوحنا یسوع کا خالہ زاد تھا۔ محبت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے ہم روک نہیں سکتے جہاں ہونی ہوتی ہے ہو جاتی ہے! ایک مثال ہے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ ہے جو کہ بہن بھائی کی شادی بھی کر دیتا ہے تو کیا ہم ان سے بھی پرہیز کریں ؟ لیکن قانون قدرت ہے کہ ان رشتوں میں ویسی محبت نہیں ہوتی اگر ہو تو ہوس کہلاتی ہے سو مسیحیت میں کزنز میرج نہیں کزن فرینڈ شپ جائز ہے کزن میرج ہماری وہ غلطی ہے جس نے ہمیں نہ صرف شک بلکہ آپس میں دوریاں رکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اور یہ تو میڈیکل میں بھی غلط ہے اور خروج میں بھی لکھا ہے

    یورپ میں ہر رشتے کا دن منایا جاتا ہے ہر جنس کا بھی چوبیس جولائی کو کزنز ڈے بھی منایا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ان کا اور ہی مطلب لیا جاتا ہے
    ” تو اپنے کسی قریبی رشتے دار کے پاس نہ جانا خواہ وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی کیونکہ وہ تیرا اپنا خون ہے ” خروج 17 باب ” اور لفظوں پر غور ضرور کریں لیکن انکی پکڑ سے گریز کریں کیونکہ وہ ہمارے بس میں نہیں اور بچوں کی چھیڑ چھاڑ نہ کیجئے کیونکہ اس سے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرد و عورت کا ایک ہی رشتہ ہے اور عشق انتہا ہے اس لیے صرف خدا سے ہے
    ” فی امان اللہ "

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سری نگر, پہلگام حملے کے بارے میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے واقعات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکورٹی ذرائع مودی انتظامیہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے "جھوٹے فلیگ آپریشن” کا نام دے رہے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق، ایف آئی آر – پہلگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی – ان تضادات کو ظاہر کرتی ہے جس سے حملے کی صداقت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن مبینہ واقعہ کی جگہ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ دوپہر 1:50 سے 2:20 کے درمیان ہوا، لیکن حیران کن طور پر، ایف آئی آر سرکاری طور پر صرف 10 منٹ بعد 2:30 بجے درج کی گئی۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ غیر معمولی طور پر تیزی سے ایف آئی آر کا اندراج پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، ایف آئی آر میں نامعلوم "سرحد پار دہشت گردوں” کو مجرم قرار دیا گیا ہے – ایک بیانیہ جو ہندوستانی حکومت اکثر بیرونی عناصر سے حملوں کو منسوب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایف آئی آر میں اس حملے کو اندھا دھند فائرنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے اسے مسلسل "ٹارگٹ کلنگ” کے کیس کے طور پر بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں استعمال کی گئی اصطلاحات، بشمول "غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے مشتبہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر کی رہائی نے مبینہ طور پر پہلگام کے جھوٹے فلیگ آپریشن کو سیاسی جوڑ توڑ کی ایک ناقص کوشش کے طور پر بے نقاب کردیا ہے، جس کا مقصد ایک اسٹریٹجک بیانیہ کے طور پر تھا جسے مودی حکومت کے لیے قومی شرمندگی میں بدل دیاہے۔بھارتی حکومت کی جھوٹ پر مبنی پالیسیوں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ اس بار مقام ہے مقبوضہ کشمیر کا خوبصورت مگر زخم خوردہ علاقہ "پہلگام” اور وقت ہے 22 اپریل 2025۔ کہنے کو یہ ایک عام دن تھا لیکن چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی پنڈت ایک طوفان برپا کر چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام میں "سرحد پار سے آئے دہشت گردوں” نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایف آئی آر سامنے آئی جو اس سارے ڈرامے کی حقیقت کو نہ صرف بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد سیاسی مفادات سمیٹنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور جھوٹے دعوے نئی بات نہیں۔ لیکن اس بار ایف آئی آر ہی نے مودی سرکار کا پردہ چاک کر دیا۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے جو ایف آئی آر درج کی گئی، اس میں وقت، ردعمل، اور الفاظ کے انتخاب نے سیکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 پر شروع ہوا اور 14:20 پر ختم ہوا۔ حیرت انگیز طور پر صرف دس منٹ بعد یعنی 14:30 پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 6 کلومیٹر دور پولیس اسٹیشن تک اطلاع پہنچی، وہاں سے ٹیم آئی، جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، رپورٹ تیار کی گئی اور صرف دس منٹ میں مکمل ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ یا پھر یہ سب کچھ پہلے سے ہی تیار شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا؟ یہ پہلے سے لکھی کہانی تھی؟ایف آئی آر کے متن میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ایک "ریہرسل شدہ” اسکرپٹ تھی۔ ’’نامعلوم سرحد پار دہشت گرد‘‘، ’’بیرونی آقاؤں کی ایماء‘‘، ’’اندھا دھند فائرنگ‘‘ جیسے الفاظ چند منٹ میں کسی سپاہی یا محرر کے ذہن میں نہیں آتے جب تک انہیں پہلے سے لکھا نہ گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ ایسے فالس فلیگ آپریشنز سے بھری پڑی ہے جنہیں یا تو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا یا پھر کسی سفارتی دباؤ سے بچنے کے لیے۔یہ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے،اب سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کو اس فالس فلیگ سے کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب بھی ایف آئی آر کے فوراً بعد سامنے آ گیا۔ بھارت نے اگلے ہی روز سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی ایک دن پہلے پہلگام میں "حملہ”، اگلے دن "معاہدہ معطل”۔ یہ واضح ہے کہ فالس فلیگ حملے کو بنیاد بنا کر ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا ہمیشہ سے مودی سرکار کا ترجمان رہا ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے بغیر تحقیق کے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر ڈال دیا۔ حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹا ایف آئی آر کی زبان اور جلدبازی نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا۔ ایک طرف ایف آئی آر میں "اندھا دھند فائرنگ” کا ذکر ہے، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اسے "ٹارگٹڈ کلنگ” کہہ رہا ہے۔ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کہیں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار تھا۔ یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی دوران بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ کا ناٹک رچا کر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے، مظلوم ہے، اور پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ایف آئی آر کی قبل از وقت تیاری اور اس میں شامل الفاظ نے ان کا بیانیہ زمین بوس کر دیا۔تاریخی جھوٹ اور فالس فلیگز ،یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پٹھان کوٹ، اوڑی، اور پلوامہ جیسے واقعات میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد تو باقاعدہ الیکشن جیتنے کے لیے فضائی حملہ کیا گیا، جس میں نہ کوئی ہلاکت ہوئی، نہ نقصان۔ بس ایک درخت گرا۔ آج تک دنیا بھارت سے سوال کرتی ہے کہ پلوامہ میں آخر کیا ہوا تھا؟ اور اب پہلگام اس جھوٹ کی تازہ ترین قسط ہے۔پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ اس کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا یہ نیا ڈرامہ دراصل اصل مسئلے یعنی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ عالمی برادری کے سامنے لائے، صرف الزامات کافی نہیں۔کشمیری عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پر مسلط حکمران جھوٹ کے کتنے ماہر ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں نے جس انداز میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ قابل ذکر ہے۔ ’’یہ حملہ ہم پر نہیں، ہماری سچائی پر ہے‘‘ جیسے جملے وائرل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ ان کا اصل مجرم کون ہے اور اصل نجات کہاں سے آئے گی۔

    پہلگام واقعہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، شفاف تحقیقات، اور امن کی دعوے دار ہے تو اسے اس واقعے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ فالس فلیگ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے جائز تصور کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خطرناک مثال بنے گی۔

    پہلگام فالس فلیگ واقعہ مودی حکومت کے لیے ایک نیا ہتھیار ضرور تھا، مگر ایف آئی آر کی جلد بازی نے اس ہتھیار کو خود انہی کے خلاف استعمال کر دیا۔ اب نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان جان چکے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر جھوٹ کے پہاڑ پر چڑھ کر خود ہی پھسل گیا ہے۔ ایسے جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ آج اگر ایف آئی آر ہی نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، تو کل کوئی عالمی فورم ان کے خلاف فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ فالس فلیگ کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، اور سچائی کی کرنیں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں

  • پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل
    ایک سیر حاصل تجزیہ: ڈاکٹر عتیق الرحمان
    تجزیہ کار کا تعارف
    ڈاکٹر عتیق الرحمان قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، بھارت پاکستان تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی ڈائنامکس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیے علاقائی تنازعات، واٹر سیکیورٹی اور بھارتی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گہرے اور بصیرت افروز ہیں۔

    پہلگام واقعہ کیا ہے؟

    مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل 22 اپریل کی دوپہر کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ مارے جانے والے فوجی یا سیکیورٹی اہلکار نہیں بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاح تھے۔ بھارت ابھی تک مکمل شواہد اکٹھے نہیں کر پایا اور نہ ہی واقعے کی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ لیکن واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام تراشی شروع ہو گئی۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق پہلگام حملہ دوپہر 3 بجے ہوا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے 3:05 بجے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ حملے کے 30 منٹ بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے #PakistanTerrorError ہیش ٹیگ بنایا۔ واقعے کے 30 سے 60 منٹ کے اندر بی جے پی لیڈرز جے پی نڈا اور امیت شاہ نے ٹویٹس کر دیے۔

    واقعے کے 1 سے 3 گھنٹوں بعد جعلی انٹیلی جنس رپورٹس لیک کی گئیں جنہیں آر ایس ایس کے ٹرول اکاؤنٹس نے بڑے پیمانے پر ری ٹویٹ کیا۔ حیران کن طور پر پہلگام واقعے کے پہلے 15 منٹ میں بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹویٹس کیے گئے اور 30 منٹ میں #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں جعلی کشمیری ناموں سے ٹویٹس کیے گئے۔

    یاد رہے کہ پہلگام لائن آف کنٹرول سے تقریباً 397 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی
    پہلگام واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مودی سرکار نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا، جس سے پہلگام واقعہ مزید سنگین صورت حال اختیار کر گیا۔ بھارتی حکومت کا سندھ طاس معاہدے کو فوری ختم کرنے کا اعلان اس واقعے کو مشکوک بناتا ہے۔

    قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر راجہ قیصر نے 27 اپریل کو انڈیپنڈنٹ اردو کے کالم میں لکھا:

    "6 نومبر 2019 کو میں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کا غیر متوقع اور سنگین اقدام اٹھا سکتی ہے، جس کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو اگلے پانچ سال میں اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ انڈیا کسی داخلی سیکیورٹی واقعے کو بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد انڈیا میں ہندوتوا کی نظریاتی تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت تھی جو موجودہ پالیسیوں کو چلا رہی ہے اور جس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔”

    کیا بھارت دریائے سندھ کا پانی روک پائے گا؟
    بھارت تکنیکی اعتبار سے بھی دریائے سندھ کا پانی روکنے سے قاصر ہے۔ آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ
    "اپریل سے ستمبر کے دوران دریاؤں میں پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو مقبوضہ کشمیر ڈوب جائے گا۔ سندھ کا پانی ہمالیہ ریجن سے انتہائی اونچائی سے نیچے آتا ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ دریائے سندھ کا 95% پانی گلگت بلتستان کے دریائی سلسلے اور دریائے کابل سے آتا ہے۔ بگلیار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم چلتے پانی سے بجلی بناتے ہیں، پانی نہیں روک سکتے۔ کراکرم ریجن ٹیکٹونک پلیٹس پر ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آئے گا۔”

    انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کی ٹیل پر اگر پاکستان ہے تو بھارت چین کی ٹیل پر ہے۔ جو کرے گا، بھگتے گا۔ بھارت ایڈونچر کرے گا تو چین براہم پترا دریا کا پانی روک سکتا ہے، جو سندھ سے بڑا دریا ہے۔ بھارت کے لیے دریائے سندھ کا پانی روکنا قابل عمل ہی نہیں۔”

    بھارت کی بڑی گیم
    بھارت کی اپنے ملک میں دہشت گردی کروا کر پاکستان پر الزام لگانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی چالوں کو سمجھنے کے لیے بھارت کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی کے اہداف کو سمجھنا ضروری ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کے چار بڑے مقاصد ہیں:
    1.معاشی ترقی اور ملٹری طاقت کا حصول (یہ ہدف شاید امریکہ کو پسند نہ ہو)،2.جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے ذریعے چین کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ،3.انفارمیشن وار میں برتری،4.بحر ہند پر تسلط۔
    اپنے معاشی ہدف تک پہنچنے کے لیے بھارت نے فارورڈ ڈیفنس سٹریٹجی اپنائی ہے کہ اپنے ملک سے باہر دشمن ریاستوں کو الجھاؤ۔ پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔ پچھلے ایک سال میں دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 45% اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کی بھارتی پشت پناہی ہے۔

    بحر ہند پر بھارت اور امریکہ کیوں تسلط چاہتے ہیں؟
    بحر ہند وسائل سے مالا مال ہے۔ سیاسی طور پر، یہ تیسرا بڑا سمندر اسٹریٹجک مقابلے کا ایک اہم تھیٹر بن چکا ہے کیونکہ موجودہ دور کی 70% تجارت بحر ہند سے ہوتی ہے۔ یہ عالمی تجارت کی شریان کے طور پر مرکزی تجارتی راستے فراہم کرتا ہے۔ اس میں دنیا کے چار بڑے اسٹریٹجک چوک پوائنٹس ہیں آبنائے ہرمز، باب المندب، ہارن آف افریقہ اور آبنائے ملاکا کے ذریعے سوئز کینال۔ یہ راستے خام ہائیڈرو کاربن کی تجارت کے لیے اہم ہیں۔ بحر ہند اپنے کنارے پر 47 ممالک اور دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہے جو اب جیو پولیٹیکل ٹگ آف وار کا میدان بن چکا ہے۔ دنیا کے معلوم تیل کے ذخائر کا 65% اور گیس کا 35% بحر ہند سے وابستہ ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ فوجی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    بھارتی پیراڈاکس
    دنیا کی تیسری بڑی معیشت، سب سے زیادہ جنگی ہتھیار اور اسلحہ خریدنے والی جمہوریت، لیکن جنوبی ایشیا میں بھی تھانیدار نہیں بن پا رہی اور کوئی بڑا کردار ادا کرنے سے محروم ہے۔ شاید یہی بھارت کی بے چینی کی بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف چین، دوسری طرف پاکستان اور اب بنگلہ دیش بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ بھارت تلملائے نہ تو کیا کرے؟

    بھارت کے مستقبل کی ڈور مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ کے ہاتھ میں ہے۔ منموہن سنگھ کی محنت سے بنائی گئی جی ڈی پی کو مودی سرکار تباہ کرنے پر تلی ہے۔ بی جے پی حکومت کے تین بڑے ہینڈیکیپ ہیں،ہندو انتہا پسندی، جو تیس کروڑ مسلمانوں، دلیت، اور شودروں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، جو مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ لکیر میٹی کھیلنے پر مجبور کرتی ہے، ورنہ کانگریس میدان مار لے گی۔ہندو انتہا پسندی مودی سرکار کی طاقت بھی ہے اور اس کے گلے کی ہڈی بھی۔

    بھارت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ میں نہیں، سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کبڈی کی طرح ہاتھ لگا کر بھاگ سکتا ہے۔ بالی ووڈ اور آئی پی ایل بھارتی عوام کی تفریح بھی ہیں اور پاکستان کے خلاف غصے کو ہوا دینے کے ہتھیار بھی۔ بھارت نے آئی ٹی سروسز کے علاوہ دنیا کو فیک نیوز اور کرکٹ کو شدید نقصان پہنچانے کا تحفہ دیا ہے۔ بھارت نے کرکٹ کو محدود، انڈین سینٹرک اور سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

    بھارت یہ سب شرارتیں صرف اپنی عوام کو ورغلانے کے لیے کرتا ہے۔ تقریباً ایک ارب ہندو ووٹوں کو کہیں تو مصروف رکھنا ہے۔ بی جے پی کی سوچ بیک وقت ترقی پسندانہ بھی ہے اور رجعت پسندانہ بھی۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت اپنے آپ کو گلوبل پاور دیکھنا چاہتی ہے، لیکن اپنے ملک میں مسلمانوں، کشمیریوں اور ہندو دلیت ذات کو کچلنا بھی چاہتی ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان، جو ایٹمی طاقت ہے، اسے دبانا چاہتی ہے۔ چین سے بھی ٹکر لینا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کے چنگل سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی بنانا چاہتا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی انتہا تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات چھپا کر مشرق وسطیٰ اور ایران سے پینگیں بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے، سپورٹ کرتا ہے، بڑھاوا دیتا ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بھی بننا چاہتا ہے۔ یہ ہے بھارت کا پیراڈاکس۔

    رجعت پسندانہ اپروچ بھارت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ ریاست کے استحکام کے لیے فوکسڈ اپروچ چاہیے۔ تھانیداری والی پالیسی ریاستی معاملات میں نہیں چلتی۔ اگر بھارت کی معاشی اور ملٹری طاقت اسے پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کی تحریک دے رہی ہے تو بھارت کو یہ بھی علم ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں سب سے پہلے جی ڈی پی اڑے گی، پھر باقی چیزوں کی باری آئے گی۔ پاکستان کے ساتھ جنگ دراصل تباہی کا اعلان ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی اور آئی ٹی سروسز گئیں تو پیچھے صرف آر ایس ایس یا اڈانی گروپ بچتا ہے۔ بھارت کو اپنی معیشت کو بچا کر رکھنا چاہیے۔

    بھارت کو اس وقت پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ 600 ملین لوگ انتہائی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ بھارت کو دنیا کے کل آبی وسائل کا 18% چاہیے، جبکہ اس کے پاس صرف 4% آبی وسائل ہیں۔ بھارتی سماجی رویے اور حکمرانوں کی تاریخی ہٹ دھرمی بھارت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ اگر دنیا کی تیسری بڑی معیشت بار بار ایک ہی جگہ اٹک رہی ہے، تو یقیناً کوئی گڑبڑ ہے۔ بھارت اندرونی ڈرامے کر کے جنگ کا ماحول بناتا ہے، دنیا کی توجہ حاصل کرتا ہے اور پھر پروپیگنڈے کو اپنے ڈسکورس کا حصہ بناتا ہے۔

    بھارت کا ڈسکورس اس کے دور رس قومی اہداف سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بھارت کا ڈسکورس فیک نیوز، ہندو انتہا پسندی کی ترویج، فالس فلیگ آپریشنز اور انڈین کرونیکلز سے جڑا ہے جبکہ قومی اہداف معیشت کی بہتری، عالمی تجارتی روابط میں بہتری، آزاد خارجہ پالیسی اور خطے میں حاکمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عمل اور کردار کا یہ تضاد بھارت کا المیہ ہے۔

    بھارت: دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار
    بھارت ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے جو اس کے 70 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ سے الگ ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی وجوہات میں حکمران جماعت کی انتہا پسند سوچ، جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے عزائم، کشمیر پر قابض پالیسی اور پاکستان دشمنی شامل ہیں۔ مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مذہبی انتہا پسندی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ بھارت کی داخلہ، خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر ہندو انتہا پسند قابض ہو گئے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے۔

    بھارت کے امریکہ اور فرانس سے اچھے مراسم ہیں کیونکہ بھارت ان دونوں ممالک سے اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت کی آئی ٹی سروسز کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی امریکہ ہے۔ ظاہر ہے، اسلحہ بیچتے ہیں تو کچھ نہ کچھ خریدنا بھی پڑتا ہے۔

    بھارت کا کمزور حساب کتاب
    بھارت کا گیم تھیوری میں حساب کتاب کمزور ہے۔ اس کھیل میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا چال چلی جائے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ کیا دو نیوکلیئر ہمسایہ ممالک جنگ لڑ سکتے ہیں؟ بھارت کی نان سٹیٹ ایکٹرز کی پشت پناہی نے خطے کی سیکیورٹی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پرورش کرتا ہے۔ یہ تضادات کی بھرمار ہے۔

    امریکہ کا ردعمل اور چین کا کردار
    صدر ٹرمپ کے پہلگام واقعے پر دیے گئے بیان کا بغور جائزہ لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹکراؤ کو سیریس نہ لیا جائے۔ اگر بھارت کی الزام تراشیوں میں کوئی دم ہوتا تو دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ کو کچھ فکر تو ہوتی، خاص طور پر جب بھارت امریکہ کا اتحادی اور خطے میں چین کے خلاف اہم پارٹنر ہے۔

    جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے کردار کو مت بھولیں۔ چین اس خطے کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔ چین پاکستان کا اتحادی اور یوریشین ریجن میں امن کا خواہش مند ہے۔ بھارت اب یکطرفہ فیصلوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواب بھول جائے۔ عالمی سیاست کے تمام جز معیشت، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، کرنسی، تجارت، ریاستیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں، نان سٹیٹ ایکٹرز، اور عالمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت-پاکستان کی جنگ پوری دنیا کی تباہی کا عندیہ ہو گی۔ کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے؟

    بھارتی ڈسکورس
    جنگیں لڑنے کے تبدیل ہوتے طریقہ کار میں انفارمیشن کی بالادستی بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا ڈسکورس قابل توجہ ہے۔ بھارتی سینما 2014 کے بعد نئی کروٹ لے چکا ہے۔ محبت اور رومانس کی جگہ انتہا پسندی اور پروپیگنڈے نے لے لی ہے۔

    ہر ریاست اپنی کہانی اپنے ملک کے گرد بُنتی ہے، لیکن بھارت وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی کہانی پاکستان کے گرد جھوٹ سے بنائی ہے۔ دنیا میں ہیرو اور ولن کی کہانی بہت بکتی ہے۔ بھارت اپنے آپ کو ہیرو اور پاکستان کو خطرہ پیش کرتا ہے۔ یہ سیاسی کہانی اب بھارتی فلم انڈسٹری کی ہٹ سٹوری بن چکی ہے۔

    پاکستان کا سینما اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی کمزور ہے۔ ہم اپنی کہانی نہیں بیچ پائے، جس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور ثقافتی و عالمی سیاسی محاذ پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب بھارت OTT پلیٹ فارمز استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے ابھینندن کی سبکی کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے فلم "Fighter” بنائی۔ ایسی بے ربط کہانی کا حقیقت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
    2010 سے اب تک لگ بھگ 103 بھارتی فلمیں اور ان گنت ویب سیریز پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کے لیے بنائی جا چکی ہیں۔ بھارت نے 2005 سے پاکستان کے خلاف انڈین کرونیکلز آپریشن جاری کر رکھا ہے، جس کا مقصد پاکستان مخالف ایجنڈا ہے۔ یہی کہانی بھارت پوری دنیا کو سنا رہا ہے۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک طالب علم نے 2018 میں بھارتی فلم انڈسٹری پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، جس میں چار فلموں”26/11″، "بیبی”، "ویلکم ٹو کراچی” اور "فینٹم”کا تجزیہ کیا۔ طالب علم نے تحقیق کے مروجہ طریقوں سے ثابت کیا کہ بھارتی فلم انڈسٹری پاکستانی عوام، ریاست اور اداروں کو دہشت گردوں کا سہولت کار پیش کرتی ہے۔ ان کی فلموں کے ڈائیلاگ اور کہانی تحقیق سے نہیں گزرتے بلکہ سیدھے باکس آفس پر جاتی ہیں اور ہٹ کرائی جاتی ہیں۔ عوام کو ورغلانے کے لیے سٹارڈم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ہالی ووڈ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی افغانستان پر بننے والی درجنوں فلمیں اور ویب سیریز پاکستان کو ایک خاص رخ سے دکھاتی ہیں،پہلگام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    انڈین کرونیکلز کے بغیر بھارتی پروپیگنڈے کی اصل کہانی ادھوری ہے۔ انڈین کرونیکلز دراصل ڈیجیٹل میڈیا میں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا بانی پروگرام ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے 2020 میں اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ 119 ممالک میں 750 جعلی میڈیا نیٹ ورک، 550 ویب سائٹس اور 10 این جی اوز سے شروع ہونے والا یہ نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔

    پاکستان اور پاکستانی فوج کی برتری
    ہر قوم کا ایک کردار ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کا خاصہ یہ ہے کہ وہ بحران میں یکجان ہو جاتی ہے، خاص طور پر بھارت کی طرف سے کسی خطرے کے وقت۔ پاکستانی قوم پورے جوش و جذبے سے متحد ہوتی ہے۔میدان حرب سے شناسائی سپاہی کے خوف کو ختم کر دیتی ہے۔ اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے حالت جنگ میں ہے، وہ کس حد تک بے خوف ہو چکی ہو گی۔
    جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا، انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ یہ حرکت پاک فوج کو ناقابل تسخیر بنا دے گی۔ ہمارے افسران اور جوان بیس سالہ جنگ سے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے لڑاکا سپاہی بن کر نکلے ہیں۔ یہ بے خوف، تربیت یافتہ اور انتہائی پیشہ ور فوج آہنی اعصاب کی مالک ہے۔

    ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں کہ سپاہی میدان حرب میں کیسے بے خوف بنتا ہے:
    جنرل جارج ایس پیٹن، امریکہ کے معزز فوجی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد امریکی انقلاب اور دیگر اہم جنگوں میں داد شجاعت دے چکے تھے۔ ان کی بہادری کی داستانوں سے متاثر ہو کر پیٹن نے فوج میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پیٹن ایک حساس شخص تھے اور انہیں خوف تھا کہ جنگ میں بزدلی سے ان کے خاندان کا نام بدنام نہ ہو جائے۔
    1918 میں ٹینک ٹروپس کی کمان کرتے ہوئے ایک موقع آیا جب پیٹن کے اعصاب شکست کے خوف سے شل ہو گئے۔ اسی لمحے ان کا دھیان اپنے بزرگوں کی دلیری کی طرف گیا، جو انہیں کہہ رہے تھے کہ لڑتے ہوئے ہمارے پاس آ جاؤ۔ اس ایک لمحے نے پیٹن کی زندگی بدل دی۔ وہ خوف پر قابو پا گئے، نعرہ مارا اور دشمن پر چڑھ دوڑے۔اس کے بعد حتیٰ کہ جب وہ جنرل بن گئے، پیٹن خوفناک وارفرنٹ لائنوں پر جاتے تاکہ خوف ختم ہو جائے۔ انہوں نے خود کو بار بار آزمایااور ہر بار خوف پر قابو پانا آسان ہوتا گیا۔

    پیٹن کی کہانی سے سبق ملتا ہے کہ خوف کا سامنا کریں، اسے سطح پر آنے دیں، نہ کہ نظر انداز کریں۔

    اب اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے صبح شام موت کا سامنا کر رہی ہے، وہ ایک اور جنگ سے کیا گھبرائے گی؟