Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 343فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 2700روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔

    یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حسب سابق اہل قلم کانفرنس اس سال بھی شاندار رہی ملک بھر سے بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والے ادبیوں نے بھر پور شرکت کی ,اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع تھا ،، تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار ،، اور بحوالہ 21 اپریل یوم اقبال ، 23 اپریل عالمی یوم کتاب ،یہ نویں کانفرنس تھی جو 3 مئی کو فاؤنٹین ہاوس میں منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام اور سہرا ہر سال کی طرح شعیب مرزا صاحب کے سر ہےجو ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر اور چیرمین اکادمی ادبیات اطفال ہیں ان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے یہ کانفرنس ہر سال کامیاب ٹھہرتی ہے اور اس میں لکھاریوں کے علاوہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں گیسٹ سپیکرز شرکت کرتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ا س کے بعد شعیب مرزا صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا فاؤنٹین ہاوس میں کانفرنس منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا مہمان مقررین نے بچوں کے ادب کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوے جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مافوق الفطرت کرداروں کی کہانیوں سے بھی بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں اس لیے سائنس کے ساتھ ساتھ لوک کہانیوں کی طرز پر بھی کہانیاں ہونی چاھیں ، فاؤنٹین ہاوس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے والد کے نام سے سید مرتضٰی کیش ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو اس بار بھی دو لکھاریوں کو دیا گیا اخوت یونیورسٹی کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اظہار خیال کیا اور اگلی کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں کروانے کی پیش کش کی ان کو تسنیم جعفری صاحبہ نے ادیب نگر کی طرف سے لایف، ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جبکہ ادیبوں کو ان کی کتب اور ادب اطفال کی خدمات پر تسنیم جعفری ایوارڈ ، مسلم ایوارڈ ، اور مسرت کلانچوی ایوارڈ دینے گئے ، کیش ایوارڈ ز حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر فوزیہ سعید ، تسنیم جعفری، شعیب مرزا ، نذیر انبالوی ،فہیم عالم شامل تھے,اور تسنیم جعفری کیش ایوارڈ اس بار پندرہ ادیبوں کو دیا گیا سب اس حوصلہ افزائی پر خوش تھے کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فارسی کی سکالر عظمی زریں نازیہ ، نیڈل آرٹسٹ ساجدہ حنیف، اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال، شمیم عارف ، امان اللہ نیر شوکت ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی اور ملک بھر سے آئے ادیبوں نے شرکت کی

    فاؤنٹین ہاوس کی عمارت ہمیشہ اداس کر دیتی ہے یہاں داخل مریضوں کے شب وروز اپنوں کے بغیر نہ جانے کیسے گزرتے ہیں لیکن فاؤنٹین ہاوس کا عملہ ویل ٹرینڈ اور مہربان نظر آتا ہے عمارت میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کا معیار بھی عمدہ ہے آخر میں فاؤنٹین ہاوس کے عملے کو بھی باری باری بلا کر ان کی خدمات کے بارے میں بتایا گیااور ان کا تعارف کروایا گیا اور شیلڈز دی گئیں ، اہل قلم کو فاؤنٹین ہاوس کا وزٹ بھی کروایا گیا مریضوں کو ان کے ہنر کے مطابق آرٹ ورک بھی کروایا جاتا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو وہاں کام بھی مل جاتا ہے ، فاؤنٹین ہاوس کی انتظامیہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی اور ڈاکٹر عائشہ عمران لائق تحسین ہیں کہ وہ اتنے بڑے ادارے کو بخیر وخوبی چلا رہے ہیں اور مریضوں کی سہولیات کے لیے دن رات کوشاں ہیں اللہ تعالٰی انہیں کامیاب کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین

    کانفرنس کے شرکاء کو سرٹیفکیٹ ، شیلڈز اور ڈاکٹر امجد صاحب کی کتاب کا تحفہ دیا گیا ، سیشن میں وقفہ کے دوران پرتکلف چاے اور پھر لنچ سے تواضع کی گئی ، نارمل انسانوں کی دنیا الگ ہے ان کے مسائل الگ ہیں اور فاؤنٹین ہاوس میں داخل مریضوں کی دنیا بالکل الگ اور مسائل بھی بالکل الگ ہیں جہاں تک ہو سکے ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے _

  • "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    ہم سب علم کی اہمیت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں اور بہت جوش و جذبے کے ساتھ علم حاصل کرتے بھی ہیں۔ علم حاصل کرنا ضروری ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری اس پر عمل پیرا ہونا ہے کیونکہ علم بغیر عمل کے جہالت ہے۔ بد قسمتی سے اکثر ایسا دیکھنے میں ملتا ہے کہ علم تو زور و شور سے حاصل ہو رہا ہے مگر عمل اس کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ آخر اتنا علم حاصل کرنے کے بعد عمل اس کے مطابق کیوں نہیں کیا جا رہا؟ دراصل ہر بات ہر غلطی ہر برائی سیاست دانوں، اداروں اور حکومت کے پلے میں ڈال دینا اور اپنے ہاتھ جھاڑ لینا عوام کا معمول بن چکا ہے۔ عوام کبھی یہ بات سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو مسئلے مسائل کرپٹ سیاست دانوں اور افسران کی وجہ سے پاکستان پر مسلط ہیں ان کو تقویت دینے میں عوام کا اپنا بھی ہاتھ شامل ہے۔ یاد رہے معاشرہ سیاستدان یا کوئی ادارہ نہیں بناتا ،معاشرہ اس تربیت سے تشکیل پاتا ہے جو ایک نسل دوسری نسل کی کرتی ہے۔ اعمال علم کے مطابق اس لیے نہیں ہو پا رہے ہیں کیونکہ علم اور عمل کے درمیان سب سے اہم چیز تربیت اور نیت آتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے بعد انسان کی نیت سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے نیت کی اہمیت اس حدیث مبارکہ سے لگائی جا سکتی ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” ہم اس حدیث مبارک سے سمجھ سکتے ہیں کہ اعمال کا تعلق انسان کی نیت پر ہوتا ہے اور نیت بنانے میں تربیت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔اسی سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس حوالے سے ہم کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہر کوئی صرف دولت کمانے کے پیچھے بھاگتا چلا جا رہا ہے ۔ دولت کمانے کی دھن وہ اندھا کنواں بن چکی ہے جس میں لوگ گرتے چلے جا رہے ہیں اور لالچ کے اس دوڑ میں امیر غریب برابر کے شریک ہیں۔ عدالتوں کے باہر قرانی آیات لکھی گئی ہے مگر انہی عدالتوں میں رشوت خوری کرتے ہوئے مظلوم کو مجرم بنانا اور مجرم کو مظلوم ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے، دکانوں پر خیر الرازقین اور دیگر آیات و احادیث درج کروا کر دکاندار حضرات ملاوٹ شدہ اشیاء مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں یہ سب علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ نیت کی کھوٹ اور تربیت میں کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ ان حضرات کی نیت حلال حرام کی تمیز کیے بغیر پیسہ کمانے کی ہوتی ہے۔ گھروں پر مختلف آیات اور دیگر کلمات لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب لوگ دین اور دنیا کا علم بخوبی رکھتے ہیں مگر دولت کا لالچ اور ہوس اس حد تک گمراہ کیے ہوئے ہے کہ وہ کسی کا حق مار کر جائیدادیں بنانا کامیابی تصور کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ پھل سبزیاں فروخت کرنے والا غریب طبقہ بھی کچھ کم نہیں ناپ تول میں کمی کرنا سستی چیز مہنگی کر کر بیچنا ان کا معمول ہے۔ مختصر یہ کہ امیر سے لے کر غریب تک دولت کمانے کی دھن میں بے ایمانی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

    جھوٹ دھوکہ دہی ناانصافی بے ایمانی کر کے کمائی گئی دولت پر فخر کیا جاتا ہے۔ اور یہی چیز اگلی نسل کو بھی سکھائی جاتی ہے۔ یاد رکھیں بچے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں جب بڑے اس طرح کی حرکتیں کر کے فخر محسوس کرتے ہیں تو بچوں کے اندر یہ سب خباثتیں خود بخود پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ یہ وہ تربیتی عمل ہے جو ہمارے گھروں سے نکل کر ایک معاشرے کو تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح لالچ اور ہوس پر منحصر سوچ رکھنے والی قوم کس طرح کرپٹ سیاستدانوں اور غدار افسران کا گریبان پکڑ سکتی ہے جب کہ وہ خود اپنے حصے کی بے ایمانی کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ حرام طریقے اپنا کر کوئی خیر کیسے حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اللہ ایسے لوگوں کے دلوں سے جرات اور ہیبت ختم کر دیتا ہے ایسے لوگوں پر ظالم حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر ایسی قوم کا مستقبل پسپائی اور ذلت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

    لہذا اپنے بچوں کی تربیت پر خاص طور پر توجہ دیں اور صحیح غلط حلال حرام اور جائز ناجائز چیزوں کا فرق کرنے کی تمیز خود عملی طور پر اپنائیں۔ ظلم نا انصافی کے خلاف حق اور سچ کے راستے پر ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ بچے خود بخود سیکھنا شروع کر دیں گے۔ یہ وہ اصل میراث ہے جو ایک نسل اگلی نسل کو سونپتی ہے اور جس سے مہذب قومیں اور معاشرے بنتے ہیں۔ اس کے بغیر حاصل کیا گیا علم اور ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

  • یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! یہاں صرف اشیاء ہی نہیں، ضمیر بھی بکتے ہیں۔ بولیاں لگتی ہیں، سودے طے پاتے ہیں، اور سچائی کا نرخ مقرر کیا جاتا ہے۔ دیانت داری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اصولوں کو مصلحت کے ترازوں میں تولا جاتا ہے، اور وفاداری کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی سچائی کو وقار حاصل تھا، انصاف کو برتری حاصل تھی، اور اصولوں پر سودے بازی کرنے والے معتوب گردانے جاتے تھے۔ مگر آج! آج ہر چیز کی قیمت ہے—حتیٰ کہ انسانیت کی بھی۔

    یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں کردار پر قیمت چسپاں کی جاتی ہے، جہاں حقیقت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے ضمیر کو بیچنے سے انکار کر دے۔ وقت کے جبر کے سامنے سر جھکا دینا کامیابی کہلاتی ہے، اور اصولوں پر ڈٹ جانا حماقت۔ عدل کی کرسی پر وہی بیٹھتا ہے جو انصاف کو اپنے مفادات کے تابع کر لے، اور عزت کے تمغے اسے ملتے ہیں جو خودداری کے لباس کو اتار پھینکیں۔

    یہ ضمیر فروش کون ہیں؟

    یہ ہم سب ہیں، ہاں! ہم سب! کوئی خاموش رہ کر، کوئی ظلم سہہ کر، کوئی مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر، اور کوئی دنیاوی فائدے کی خاطر سچائی سے نظریں چرا کر۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کا ضمیر سونے چاندی میں تولا جاتا ہے اور کسی کا محض چند کھوکھلے وعدوں میں۔

    یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم نے سچائی کو خاموش کر دیا ہے؟ وہ جو حق پر ڈٹنے والے تھے، وہ بھی مصلحت کے قیدی بن چکے ہیں۔ وہ جو روشنی کے مینار تھے، آج وہی اندھیروں میں راستہ گم کر چکے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی صورت میں اس گناہ میں شریک ہیں—یا تو اپنی بے عملی سے، یا پھر اپنی خاموشی سے۔

    کیا یہ سکوت ہمیشہ رہے گا؟

    یہ وقت جاگنے کا ہے! وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی روحوں کو جھنجھوڑیں، اور اپنے ضمیروں کو آواز دیں۔ ہمیں وہ چراغ جلانے ہوں گے جو اندھیروں کو چیر کر روشنی کا پیام دیں، وہ مینار بننا ہوگا جو راہ گم کردہ مسافروں کے لیے دلیل بنے، اور وہ صدا بننا ہوگا جو باطل کے ایوانوں میں لرزش پیدا کر دے۔

    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "سب سے بڑا فقیر وہ ہے جس کا ضمیر مر چکا ہو۔”

    اگر ہم نے آج بھی اپنے ضمیر کو جگانے کی کوشش نہ کی، اگر ہم نے حق پر ڈٹنے کی جرأت نہ کی، تو یہ معاشرہ ایک ایسی لاش میں بدل جائے گا جس کی روح مر چکی ہوگی۔ آئیے! اس نیلام گھر میں اپنے ضمیر کو بکاؤ نہ ہونے دیں! اپنے اصولوں کو اس قدر مضبوط کر لیں کہ کوئی بھی طاقت ہمارے کردار کی قیمت لگانے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہی اصل فلاح ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمارے زوال پذیر معاشرے کو پھر سے بامِ عروج تک لے جا سکتی ہے۔

  • حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    کبھی الفاظ روشنی کے مینار ہوا کرتے تھے—حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچنے والے، بیداری کی صدا، انقلاب کی نوید۔ مگر آج، یہ الفاظ اپنی روح کھو چکے ہیں۔ وہ جو کبھی ضمیر کو جھنجھوڑتے تھے، آج سنسنی خیزی اور تجارت کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ سچائی اور دانش کی جگہ مقبولیت اور وائرل ہونے کی صلاحیت نے لے لی ہے۔

    آج تقریریں گونجتی ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے ہیں، اور سیاسی بیانات شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں، مگر ان میں سے اکثر حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جو الفاظ جتنے چکاچوند ہوں، وہی زیادہ مقبول ہوتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی کھوکھلے کیوں نہ ہوں۔

    کیا ہم سب ذمہ دار نہیں؟

    یہ سوال کسی فردِ واحد کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

    جب ہم بغیر تصدیق کے خبریں آگے بڑھاتے ہیں، تو کیا ہم الفاظ کے ساتھ ناانصافی نہیں کر رہے؟

    جب ہم دلیل کی بجائے نعرے بازی اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں، تو کیا الفاظ کا قتل نہیں کرتے؟

    جب ہم سننے اور سمجھنے کے بجائے صرف بولنے پر زور دیتے ہیں، تو کیا مکالمے کو دفن نہیں کر رہے؟

    ایک تحقیق کے مطابق، 70 فیصد لوگ بغیر تحقیق کے خبریں شیئر کر دیتے ہیں۔ مباحثے دلیل کی بجائے جذباتی ردِعمل پر مبنی ہوتے ہیں، اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ الفاظ کو بے اثر اور بے قدر کر دیتا ہے۔

    تاریخی پس منظر

    الفاظ کے اثرات ہمیشہ سے واضح رہے ہیں۔

    امام غزالی نے اپنی تصانیف میں الفاظ کے ذریعے فکری انقلاب برپا کیا۔

    مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تقریروں کے ذریعے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلائی۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی مدلل گفتگو اور الفاظ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے یکجا کر دیا۔

    مگر آج، الفاظ کی وہ حرمت باقی نہیں رہی۔ جو چیز پہلے اصلاح کا ذریعہ تھی، اب صرف تفریح اور پروپیگنڈے کا آلہ بن چکی ہے۔

    نتائج اور خطرات

    اگر الفاظ اپنی طاقت اور اثر کھو دیں تو یہ صرف زبان و بیان کا نقصان نہیں، بلکہ یہ معاشرتی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔

    ✅ جب الفاظ بے اثر ہو جائیں تو سچائی دب جاتی ہے اور جھوٹ غالب آ جاتا ہے۔
    ✅ جب الفاظ محض نعرے بن جائیں تو معاشرے میں فکری مفلسی پھیلتی ہے۔
    ✅ جب اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے تو علمی ترقی رک جاتی ہے۔

    مثال:

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات یا جعلی خبروں کے ذریعے پوری قوم کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ 2016 کے امریکی انتخابات میں دیکھا گیا، جہاں جھوٹی خبروں نے رائے عامہ پر گہرا اثر ڈالا۔

    بھارت میں "WhatsApp لنچنگ” جیسے واقعات میں جعلی خبروں کی بنیاد پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    یہی رویہ ہمارے معاشرے میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ آج کا نوجوان کتابوں سے دور ہو چکا ہے۔ وہ تحقیق سے زیادہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی رائے بنانے سے پہلے گہرائی میں جانے کی زحمت نہیں کرتا۔ یہی رویہ سیاست، صحافت اور عام زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    اگر ہمیں الفاظ کو ان کی اصل طاقت واپس دلانی ہے، تو ہمیں چند بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی:

    ✔ سچائی کو معیار بنانا ہوگا، نہ کہ مقبولیت کو۔
    ✔ مطالعے اور تحقیق کی عادت ڈالنی ہوگی، تاکہ ہر لفظ حقیقت پر مبنی ہو۔
    ✔ بغیر تصدیق کے معلومات پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا، تاکہ الفاظ جھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
    ✔ جذباتی نعروں کے بجائے دلیل اور منطق کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ معاشرے میں شعور پیدا ہو۔
    ✔ مکالمے کی ثقافت کو زندہ کرنا ہوگا، تاکہ اختلاف دشمنی کے بجائے سیکھنے کا ذریعہ بنے۔

    مثال:

    فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا تاکہ نوجوان جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کو سمجھ سکیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ہمیشہ ذمہ دار الفاظ کا استعمال کیا اور بحران کے دوران سچائی کو ترجیح دی۔

    حدیثِ مبارکہ:

    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پہنچا دے۔” (مسلم)

    یہ حدیث آج کے دور میں خاص طور پر قابلِ غور ہے، جہاں غیر مصدقہ اطلاعات کا سیلاب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر چکا ہے۔

    اختتامیہ

    اگر الفاظ بے توقیر ہو جائیں تو سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب معاشرے میں غور و فکر ختم ہو جائے، تو پھر صرف اندھی تقلید اور جذباتی اشتعال باقی رہ جاتا ہے۔

    "الفاظ کی عزت وہی معاشرے کر سکتے ہیں، جہاں سچائی اور علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔”

    اگر ہم الفاظ کی حرمت کو بحال نہیں کریں گے، تو ایک ایسا وقت آئے گا جب سچائی، حکمت اور دلیل صرف کتابوں میں رہ جائیں گے، مگر عملی زندگی سے غائب ہو جائیں گے۔

    سوچنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، اور پھر بولنا ہوگا—تاکہ الفاظ پھر سے زندہ ہو سکیں اور ان کی تاثیر لوٹ آئے۔

  • مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اعلیٰ سول و پولیس افسر وزیراعلیٰ کے بازو،کاش !وزراء بھی عوام کے خادم بن جائیں
    بجٹ پر پی پی بھی نالاں،اپوزیشن صرف بانی تک محدود،جماعت اسلامی عوام کی آواز
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    وفاقی بجٹ کو لے کر پیپلزپارٹی اور وزیر دفاع کے بیانات کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، اپوزیشن کے وہی پرانے بیانات عمران سے لے کر عمران تک ہی سامنے آئے ،عام آدمی کی نمائندگی جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق، موجودہ امیرجماعت اسلامی اورنائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے بجٹ کو لے کر کررہے ہیں، جماعت اسلامی جیسی بڑی اور نظریاتی جماعت سے یہی توقع تھی جماعت اسلامی کی قیادت ماضی اور حال میں بھی صاف ستھری ہے ،جماعت اسلامی کی درویشی ایک پرانی روایت ہے جو اب تک چلی آرہی ہے ،جماعت اسلامی کے ماضی اور حال کے عمائدین کی درویشانہ زندگی کوئی راز نہیں، میں خود اس کا گواہ ہوں، ملکی تاریخ میں درجنوں بجٹ پیش کئے گئے ، بجٹ کے سینکڑوں صفحات اور کاغذوں کے ڈھیر پارلیمنٹ میں موجود ارکان اسمبلی بھی نہیں پڑھتے ، عام آدمی بجٹ کے ان ڈھیروں کا غذات کو کیا پڑھے گا،عام آدمی کو صرف یہ پتا ہے کہ وہ اپنے کچن اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کیسے پوری کرے گا؟ پنجاب میں مریم نواز کی پذیرائی کی بنیادی وجہ بنیادی ضروریات کی اذیت ناک کی محرومی میں سلگتے ہوئے عوام کی مظلومیت کے ساتھ ان کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیںیہ بھی ممکن ہے مریم نواز جس زور اندازسے سیاست میں اُبھر رہی ہیں اور سیاست کی انتہا پر جار ہی ہیں۔ مستقبل میں سیاسی گلیاروں میں اہم کردار ادا کریں ۔ پولیس سے لے کر سول انتظامیہ وزیراعلی پنجاب کے ہمسفر ہیں۔ بالخصوص آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کی جانب سے کھلی کچہریاں میرٹ ، گڈ گورننس ، پولیس کے اعلی افسران اور سول انتظامیہ کے اعلی افسران تک عوام کی رسائی نے وزیراعلی پنجاب کی مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

    اگر پنجاب میں صوبائی کابینہ کے وزراء بھی اپنے ٹیلی فون عوام کے لئے کھلے رکھیں تو وزیراعلی پنجاب کی گڈ گورننس ایک مثالی ہو سکتی ہے مگر صوبائی وزراء عوام سے دور ہیں ۔ اسی طرح صوبائی سیکرٹری بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ پنجاب میں وقت پر دفاتروں میں افسران کا نہ ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ وزیراعلی کو اپنے وزراء اور وقت کی پابند ی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے، اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات کی بنیاد پابندی وقت پر رکھی ہے

  • دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان میں سالانہ بجٹ عام طور پر ترقیاتی اہداف، عوامی ریلیف اور خزانے کے توازن کا آئینہ ہوتا ہے مگر حالیہ بجٹ جسے ’ترقی کا بجٹ‘ قرار دیا گیا ہے، متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مشکلات کا نیا در وا کر رہا ہے۔ اس بجٹ میں جہاں دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹیکسوں کا ہدف ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 12.9 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک اضافے کی پیشگوئی کی جا چکی ہے جبکہ عوام کی قوت خرید پہلے ہی کم ترین سطح پر ہے۔

    حکومتی دستاویزات کے مطابق درآمدی دالوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.85 فیصد کر دی گئی ہے۔ دال جو ہر غریب پاکستانی کے دسترخوان کی واحد عزت ہوا کرتی تھی، اب وہ بھی آسودہ حال لوگوں کی چیز بنتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب دال چنا 250–280 روپے میں دستیاب تھی مگر اب اس کی قیمت 360 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دیگر اقسام، جیسے مسور، ماش اور مونگ بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیکٹ دودھ، چینی، گھی، چاول، آٹا سب پر بلاواسطہ سیلز ٹیکس کا نفاذ غریبوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔

    مہنگائی صرف خوراک تک محدود نہیں رہی بجلی، گیس اور متبادل توانائی جیسے شعبے بھی اب عوام کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کا خواب بھی مہنگائی کے کچرے دان میں پھینک دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے بحران میں اضافہ کرے گا بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی دھچکا ہے جو بلوں سے بچنے کے لیے سولر نظام کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور پنشن میں 7 فیصد کا اعلان کیا گیا ہے، وہیں نجی شعبے، مزدور طبقے، دیہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے نہ کوئی مراعات دی گئیں نہ کسی ریلیف کی کوئی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت کے ترقیاتی دعوے اُس وقت کھوکھلے لگتے ہیں جب عام آدمی اپنی تنخواہ سے مہینہ مکمل نہیں کر پاتا اور بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔

    بجٹ میں محصولات بڑھانے کی حکمتِ عملی غیرپیداواری طبقات پر بوجھ ڈال کر کی گئی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے یا بے نامی جائیدادوں اور آف شور اثاثوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ دال اور دودھ پر ٹیکس لگا کر عوام سے قربانی مانگنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست نے سہولت کے بجائے آسان شکار کو چنا ہے ، وہ طبقہ جو سڑک پر آ کر احتجاج بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالت سے رجوع کی سکت رکھتا ہے کیونکہ عدالتوں سے عام آدمی کو کبھی ریلیف نہیں مل سکتا کیونکہ عدلیہ بھی مراعات یافتہ طبقہ پر مشتمل ہے ۔

    اس سب کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بجٹ معیشت کو استحکام دے گا، معاشی اصلاحات کو فروغ دے گا اور قرضوں پر انحصار کم کرے گا۔ مگر جب بنیادی اشیاء ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں، جب بجلی، گیس، دال، دودھ اور چینی پر ٹیکس لگ جائے تو استحکام کے خواب عام آدمی کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

    یہ بجٹ خزانے کے لیے تو ممکن ہے کہ مثبت ہومگر عوام کے لیے یہ ایک زخم ہے جو ہر دن تازہ ہوتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف ریونیو کا حصول نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔ جب دال بھی مہنگی ہو جائے تو اس کا مطلب صرف خوراک کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی رسوائی ہے، ایک پوری قوم کی بنیادی ضرورتوں کی توہین ہے۔

    ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ کیا کھائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ آخر جیئیں گے کیسے؟ دال وہ آخری چیز تھی جو غریب کے چولہے کو جلائے رکھتی تھی، اب وہ بھی چھن گئی ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ جب چولہا بجھ جائے تو صرف گھر نہیں، ریاستیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ دال کی مہنگائی محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے جنازے کی پہلی گھنٹی ہے۔ اگر ریاست کو اب بھی ہوش نہ آیا تو آنے والا وقت صرف احتجاج کا نہیں، خدانخواستہ بغاوت کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بغاوت دال کے پیالے سے شروع ہوگی اور سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

  • غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب خوشیوں کی نوید بننے والی عید، عام شہری کے لیے یوں بوجھ، خوف اور کرب کی علامت بن گئی ہو۔ عیدالاضحیٰ جو کبھی بھائی چارے، ایثار اور قربانی کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج بجلی کے بلوں، ہوشربا مہنگائی اور معاشی جبر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ اس بار لاکھوں پاکستانی اس دلی کرب سے گزرے کہ وہ قربانی جیسے دینی فریضے سے بھی محروم رہ گئے اور ان کی محرومی کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نظام کو عوام دشمن بنا ڈالا ہے۔

    عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ نئے عالمی معیار کے مطابق روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور کیا جاتا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تعداد پہلے 39.8 فیصد تھی اور موجودہ معاشی دباؤ کے تحت یہ تناسب بڑھ کر 9 کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 3 ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ 88 فیصد سے زائد عوام 8.50 ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خالی دسترخوان، ادھوری خوشیاں اور خون کے آنسو روتی کہانیاں ہیں۔

    اسی تناظر میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی رپورٹ مزید افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق رواں برس عیدالاضحیٰ پر کھالوں کے حصول میں 30 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور قربانی میں واضح کمی ہے۔ جہاں پہلے ہر گلی میں اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگتے تھے، اب وہ یا تو خالی نظر آئے یا صرف نام کی سرگرمیوں تک محدود رہے۔ یہ صرف ایک مذہبی روایت کا زوال نہیں بلکہ ایک معاشرتی بحران کی عکاسی ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بل، نیپرا کی ناقابل فہم پالیسیاں اور وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں جاری سلیبز سسٹم نے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ صرف 199 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو 3 ہزار کا بل، اور 200 یونٹس ہوتے ہی 10 ہزار سے زائد کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسے بلز جو نہ صرف آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ جعلی ڈیٹیکشن چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، آج لاکھوں پاکستانیوں کی خودکشیوں، بیماریوں اور ذہنی اذیتوں کا بنیادی سبب بن چکے ہیں۔

    فیصل آباد کا حمزہ، بہاولنگر کا ساجد، ٹیکسلا کا طاہر، گوجرانوالہ کی رضیہ بی بی، اور جہانیاں کی ایک ماں،یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بجلی کے بل صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ظلم کی مہر ثبت کیے ہوئے وہ فرمان ہیں جو زندگی چھین لیتے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ واپڈا؟ نیپرا؟ وزیر توانائی؟ یا اس پورے نظام پر جو بجائے عوام کو ریلیف دینے کے، ان کے گلے میں قرض، مہنگائی اور مایوسی کا طوق ڈال دیتا ہے؟

    اور جب کوئی مظلوم آواز بلند کرتا ہے تو ریاستی ردِعمل صرف لاٹھی، آنسو گیس اور جھوٹے مقدمات کی صورت میں آتا ہے۔ گوجرہ، دیپالپور، کمالیہ، سرگودھاجیسے شہروں میں بجلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کی روشنی اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی جسارت کی۔

    ان سب کہانیوں کے بیچ سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ عدالتوں، تھانوں اور انتظامیہ کے رویے بتاتے ہیں کہ اس ملک کا غریب صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہے،اسے سننے والا، بچانے والا یا سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انصاف کے نام پر صرف فیسیں، تاریخیں اور ذلت کی راہیں ہیں۔

    اس بار عیدالاضحیٰ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے بہت مشکل حالات میں گزری۔ کئی گھرانوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ جو لوگ گزشتہ سالوں میں دو سے تین قربانیاں کیا کرتے تھے، وہ اس بار قربانی سے قاصر رہے۔ ایک جاننے والے سے پوچھا کہ آپ نے قربانی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مہنگائی نے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے بل نے کچومر نکال دیا۔ سوچا تھا کہ اس بار اجتماعی قربانی میں شامل ہو جاؤں گا لیکن واپڈا نے 45 ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ قربانی کے پیسے بھی بجلی کے بل کی نذر ہو گئے، اس لیے قربانی نہ کر سکا۔‘‘ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانی اسی طرح قربانی سے محروم رہے۔

    اس عید پر لاکھوں گھروں میں موت کا سناٹا چھایا رہا۔ نہ نئے کپڑوں کی چمک دکھائی دی، نہ گوشت کی خوشبو، نہ بچوں کی ہنسی۔ بس بجلی کے بل، نوٹس اور دھمکیاں ہیں۔ عید، جو کبھی خوشیوں کی علامت تھی، اب غریب کی زندگی، عزت اور خوابوں کی قربانی بن چکی ہے۔

    یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔ یہ کرب قلم سے نکل کر قانون بننا چاہیے۔ اگر بجلی کا بل کسی کی قربانی، کسی کی تعلیم، کسی کی دوا یا کسی کی زندگی چھین لے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران ہے۔ جب 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہوں اور ریاست انہیں نہ تحفظ دے، نہ ریلیف تو وہ ریاست کس کام کی؟ وہ پالیسی ساز جو صرف قرضے، مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا ان کے دل میں کبھی ایک عید نہ منا سکنے والے پاکستانی کا درد جاگا ہے؟

    غریب کی عید کون کھا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ جب عید بھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، جب قربانی بھی بجلی کے بل کھا جائیں، جب کھالیں بھی جمع نہ ہو سکیں، جب گوشت سے زیادہ آنکھوں میں آنسو ہوں، تو پھر عید کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غریب کی عید کون کھا گیا؟ وہ نظام، وہ وزیر، یا وہ پوری ریاست جو خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟

  • سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ

    سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ

    سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ
    تحریر: منصور بلوچ،تنگوانی
    سندھ، خصوصاً سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع شکارپور، گھوٹکی، کشمور، کندھ کوٹ، جیکب آباد، خیرپور، قمبر شہدادکوٹ اور لاڑکانہ اس وقت بدترین بدامنی، اغوا برائے تاوان، اور جرائم کی لپیٹ میں ہیں۔ خیبرپختونخواکے کچھ علاقے جو ماضی میں شدت پسندی کا شکار رہے، آج امن و امان کے لحاظ سے سندھ سے کہیں بہتر نظر آتے ہیں۔ پولیس کے اختیار، وقار اور کردار پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے پولیس کو بےاختیار اور بےوقعت کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس صلاح الدین پنہور کی فروری،مارچ 2023ء کی عدالتی ججمنٹس میں امن و امان کی خرابی کے اصل اسباب اور سیاسی سرپرستی میں سرگرم مجرموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان فیصلوں میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کس طرح مجرموں کو سیاسی تحفظ دیا جا رہا ہے اور کیسے ریاستی ادارے ان کے خلاف مؤثر کارروائی سے قاصر ہیں۔

    ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں، جس کی صدارت صدر آصف علی زرداری نے کی، سیکیورٹی اداروں نے واضح طور پر بتایا کہ بدامنی کے مرکزی کردار خود حکمران جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس اعتراف کے باوجود نہ رینجرز آپریشن ہوا، نہ پولیس کو بااختیار بنایا گیا اور نہ ہی جدید اسلحہ یا وسائل فراہم کیے گئے۔

    آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کردہ "پلان اے” اور "پلان بی” پر بھی کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی حالانکہ اربوں روپے کا بجٹ امن و امان کے لیے مختص کیا گیا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے ان فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

    ان حالات میں جمعیت علماء اسلام واحد جماعت ہے جس نے مسلسل عوامی سطح پر آواز بلند کی۔ مولانا راشد محمود سومرو نے متعدد بار احتجاج، جلسے اور امن مارچ کے ذریعے حکومت کو متوجہ کیا۔ سکھر میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں انہوں نے جرأت سے مطالبہ کیا کہ "پولیس کو بااختیار بنایا جائے ورنہ عوام خود سڑکوں پر نکلیں گے۔”

    سندھ میں جب تک اصل کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر پولیس کو مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے، امن و امان ایک خواب ہی رہے گا۔ مولانا راشد محمود سومرو جیسے بےلاگ اور بہادر رہنما ہی سندھ جیسے محروم خطے کی حقیقی ضرورت ہیں۔

  • شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    عید الاضحیٰ کا تہوار جہاں قربانی، ایثار اور محبت کا پیغام لے کر آتا ہے، وہیں یہ صفائی و ستھرائی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے۔ لاکھوں جانوروں کی قربانی کے بعد آلائشوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں ٹھکانے لگانا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے عموماً کئی شہری ادارے نمٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر سال 2025 میں، پنجاب حکومت اور خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی ہدایات پر قائم کی گئی "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی انتھک محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

    لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آلائشوں کا ٹھکانے لگانا ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اس بار "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی جانفشانی سے نہ صرف بروقت آلائشیں اٹھائیں بلکہ گلی گلی، محلہ محلہ جا کر جراثیم کش اسپرے بھی کیا، جس سے نہ صرف بدبو سے نجات ملی بلکہ بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس بار لاہور کی گلیاں، بازار، چوراہے اور پارکس عید کے ایام میں بھی صاف ستھرے، خوشبودار اور قابل دید رہے۔ لاہور کی عوام نے اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی عید کی خوشیاں ہمارے لیے قربان کر دیں۔

    یہ صرف لاہور تک محدود نہیں تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں صفائی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، بہاولپور، سیالکوٹ، سرگودھا سمیت ہر علاقے میں "صاف ستھرا پنجاب” کی ٹیمیں دن رات متحرک رہیں۔ ہر کال پر فوری رسپانس، ہر گلی میں حاضری، اور ہر شکایت پر فوری ایکشن نے اس پروگرام کو عوام میں بے حد مقبول کر دیا۔

    صفائی صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ "صاف ستھرا پنجاب” کی کامیابی اسی وقت دیرپا اور مؤثر ہو سکتی ہے جب عوام بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ گندگی سڑک پر پھینکنے، نالیاں بند کرنے، اور کچرا عوامی مقامات پر ڈالنے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔عوامی شعور کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مقامی تنظیمیں صفائی کے موضوع پر مسلسل آگاہی مہمات چلائیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ کچرے کو ری سائیکلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ کے جدید طریقوں سے ٹھکانے لگایا جائے۔کچرا جلانے یا زمین میں دبانے کی بجائے ماحول دوست طریقے اپنائے جائیں۔شہری علاقوں کے قریب ڈمپنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اب صرف ایک صفائی مہم نہیں رہا بلکہ یہ ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے جس پر دیگر صوبوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا سہرا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت، ٹیم کے اخلاص، اور عوام کے تعاون کو جاتا ہے۔ہم بحیثیتِ شہری دل کی گہرائیوں سے "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم، حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک صاف، ستھرا اور صحت مند عید کا تحفہ دیا۔