Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    از قلم: رفعت شوکت کھرل
    تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے جو کہ ایک سالانہ فصل ہے، جو عام طور پر سگریٹ، نسوار اور دیگر مواد بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سائنسی ریسرچ کے مطابق تمباکو میں نیکوٹین موجود ہوتا ہے جو نشہ آور ہوتا ہے۔ تمباکو کے پتوں سے مزید نشہ آور ادویات بنائی جاتی ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس طرح، سگریٹ بھی تمباکو کے پتوں کو خشک کر کے تیار کی جاتی ہے۔ سگریٹ کو جلانے اور اس کے دھویں کو سانس لینے سے نیکوٹین مادے کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو نشہ آور ہے اور جسم میں مختلف نقصان دہ اثرات پیدا کرتا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی سگریٹ کا استعمال عروج پر ہے۔ یہ ایسی خاموش موت کا سبب بنتی ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر سے ختم کر دیتی ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے امیر و غریب طبقہ موت کے موت میں دھنسا جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقات ہی اس نشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو  آگاہی ہی نہیں ہوتی کہ جو سگریٹ کا استعمال وہ کثرت سے کر رہے ہیں تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

    اس لیے لوگ نقصان کی پرواہ کیے بغیر سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ مگر سگریٹ بنانے والے اس بات سے با خبر ہوتے ہیں کہ وہ جو مواد استعمال کر رہے ہیں، وہ نہایت ہی زہریلا ہے۔ مگر اس کے برعکس ، سگریٹ بنانے والی کمپنیز دن رات ہی یہ زہریلا مواد تیار کر رہی ہیں اور سستے داموں بیچ رہی ہیں، تاکہ معاشرے کو جسمانی طور پر نقصان ہو۔

    سگریٹ نوشی لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے شدید مضر اثرات ہیں۔ یہ جسم کو نقصان دہ کیمیکلز سے بے نقاب کرتی ہے جو پھیپھڑوں، دل اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے سانس کی بیماریاں، قلبی مسائل اور کینسر ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال سے عوام گاہے بگاہے مفلوجیت کا شکار ہو رہی ہے، مگر پھر بھی حکمران اس بات سے ناواقف ہیں کہ غلط پروڈکٹس کو زیادہ ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟

    سگریٹ نوشی کے نقصانات جاننے کے باوجود بھی عوام اسکو استعمال کر رہی ہے۔ اب غریب عوام کو اس نشے کی لت لگ چکی ہے، وہ تو ہر صورت خرید کر استعمال کریں گے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس پروڈکٹ کو سستے داموں بیچ کر عادی بنایا جا رہا ہے۔ جس سے غریب طبقہ مزید غربت کا شکار ہو رہا ہے۔ عوام اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کے استعمال کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

    حکمران ریاست سے درخواست ہے کہ وہ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دے اور جو پروڈکٹس تیار شدہ ہیں، ان پر مزید ٹیکس لگا دیں تاکہ یہ زہریلا مواد عوام کی پہنچ سے دور رہے۔ ایسا کرنا نہایت مشکل کام ہے مگر ان اقدامات سے معاشرے میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: روبینہ اصغر
    آج کل سگریٹ اور تمباکو نوشی کو فیشن سمجھا جاتا ہے۔یہ لت موجودہ دورمیں ہر عمر کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔مرد تو مرد آج کل بچے،نوجوان بوڑھے،جوان بچیاں اور خواتین بھی محفوظ نہیں۔یہ ایک ایسا شکنجہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ اس میں پھنس جائے تو مشکل سے ہی خلاصی ملتی ہے۔جو شخص ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھ لے اسےبار بار اس کی طلب ہوتی ہے۔یوں یہ زہر آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں سرایت کرنے لگتا ہے۔آخر کار نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ وہ اس کا اس حد تک رسیا ہوجاتا ہے۔کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر وہ بِن موت مرجائے گا۔حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔سگریٹ اور تمباکو کسی بھی سگریٹ نوش کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

    موجودہ معاشرے میں جہاں ہر دوسرا شخص اس لعنت میں مبتلا نظر آتا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق اس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس سے نجات اور بچاؤ ممکن تو ہے مگر کیسے؟

    اگر موجودہ موضوع کو لیا جائے کہ”سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تو میں اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتی۔کیونکہ اس موضوع کے حوالے سے پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا سگریٹ نوشی میں صرف غریب طبقہ ہی مبتلا ہے؟ یا امراء بھی اس کے عادی ہیں؟ایک لمحے کے لیے اگر سوچ لیا جائے کہ سگریٹ کا مہنگاپن غریب کو تو سگریٹ سے دور رکھ دے گا تو امراء کا کیا ہوگا؟ان کے لیے بھی کوئی ایسا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔جس سے سگریٹ امیر طبقہ بھی ترک کرنے پر مجبور ہوجائے۔

    سگریٹ اور تمباکواستعمال کرنے والے احباب اس کے نقصانات سے بخوبی واقف بھی ہیں۔پھر بھی وہ اسے دھڑا دھڑ استعمال کررہے ہیں اور جانتے بوجھتے یہ زہر اپنے اندر انڈیل رہے ہیں۔وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنہائی،غم،دکھ،ذہنی پریشانی اور تناؤ اس کےاستعمال کا سبب بنتے ہیں۔جب ان کا خاتمہ ہوگا تو یہ اسباب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

    اس زہر قاتل سے نجات صرف ایک فرد کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ہرشخص کو اپنے معاشرے کے بچاؤ کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کے لیے امیر، غریب اور متوسط ہر طبقہ کو آگے بڑھنا ہوگا۔تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط،صحتمند اور خوشحال قوم بن کر ابھریں۔

    اس کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
    1-تمباکو کی کاشت اور اس کی درآمد پر پابندی لگانا حکومتِ وقت کا فرض ہے اور سنجیدگی سے اس پر غور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔
    2-سگریٹ تیار کرنے والے کارخانوں کو فی الفور بند کیا جائے۔تاکہ اس کی ترسیل کا خاتمہ ہوسکے۔
    3-جب ایسی مضر صحت اشیاء کی پیداوار کم ہوگی تو تمباکو اور سگریٹ نوشی کی عادت بھی رفتہ رفتہ کم ہو جائے گی۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارا معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے گا۔
    4-سگریٹ مہنگا کرنے کی بجائے اس کی تیاری اور تمباکو کی پیداوار کو روک کر کیوں نہ اس نشے کا جڑ سے ہی خاتمہ کردیا جائے۔نہ رہے گابانس نہ بجے گی بانسری
    5-سگریٹ اور تمباکو کے استعمال میں امیر اور غریب دونوں طبقات ملوث ہیں لہذا ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے اس طرح دوررس اثرات مرتب ہوں کہ تمباکو اور سگریٹ دونوں طبقات کی پہنچ سے دور ہوجائیں۔کیونکہ دونوں طبقات ہمارے معاشرے کی ضرورت ہیں۔ان میں سے کسی کوبھی ہم تباہی میں نہیں دھکیل سکتے۔
    6-یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے سگریٹ کی ڈبیہ تیار کرتے ہیں پھر اس پر”خبردار!تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے”لکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا۔بھئی! ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا یہ اندھوں کا دیس ہے۔بِن دیکھے اور سمجھے سب ایک ہی رو میں بہتے جارہے ہیں۔کوئی تو وقت کا مسیحا ہو جو اس معاشرے کو اندھے کنویں میں گرنے سے بچا لے۔
    7-تمباکو اور سگریٹ نوشی معاشرے کا ایک ناسور ہیں۔صرف "ایک” دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ہمیں ہر روز اس غلط عادت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور کرتے رہنا چاہیے تاوقتیکہ اس کا کاروبار ٹھپ ہو جائے اور معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے۔اس سلسلے میں ہمارے مصنفین اور ادباء کو بھی اپنے قلم کا زور آزمانے کی ضرورت ہے۔برقی اور اشاعتی ذریعے سے عوام کو اس کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
    8-یہ دونوں انسانی جسم کو اندرونی طور پر مکمل کھاجاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں انسان پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر کئی عوارض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔نتیجتاً بیمار معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔سگریٹ نوش کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد بیٹھے لوگ بھی اس کے زہریلے دھویں سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔سانس کے ذریعے ہوا میں شامل یہ دھواں ان کے اجسام میں سرایت کرکے اپنا اثر دکھاتا ہے۔جس سے کئی قسم کی سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
    9-یہ غلط لت معاشرے میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس زہریلے درخت کو چوٹی سے کاٹنے کی بجائے جڑ سے ہی اکھاڑ کر ختم کردینا چاہیے۔تاکہ ہمارے معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔
    10-تمباکو نوشی چونکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔اس میں ہرملک و ملت کو بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ملک اپنے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درآمد و برآمد پر پابندی عائد کرے۔اس سلسلے میں چور بازاری کو ہوا نہ دے۔تو "ان شاءاللہ”وہ وقت دور نہیں جب ان زیریلی چیزوں کا خاتمہ ہوگا اور ایک مثالی صحت مند معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔جو ملکی خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔جس سے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔نہ۔صرف ملک بلکہ ہرشخص خوشحال ہوگا۔

  • کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    سوراب جوکہ بلوچستان کے قلب میں واقع ایک چھوٹا سا شہرہے جہاں شہری امن سے اپنی روزمرہ زندگی گزار رہے تھے، اچانک دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔بھارتی پراکسی دہشت گردوں نے بازاروں، بینکوں اور معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں کا بلوچوں سے یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف بھارتی پیڈ اور قاتل ہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اس خونریز حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی نے شہریوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی زندگی قربان کر دی۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسے "فتنہ الہندوستان” کا نام دیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی حمایت یافتہ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے پراکسی دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ یہ حملے نہ صرف بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہیں بلکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں جو پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    یہ تنازع کوئی نیا نہیں ہے بلکہ مئی 2025 میں بھارتی زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میںمودی کے فالزفلیگ اپریشن کے نتیجہ میں 26 افراد کے قتل کے بعد انڈیا نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا نے "آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کے اندر شہری آبادی پر حملے کیے، پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا سے ٹھوس ثبوت مانگے لیکن بھارت کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور یہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا تاکہ عالمی برادری میں پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ اس کے برعکس پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔تین مارچ 2016کو پاکستانی ایجنسیوں نے چمن کے علاقے ماشخیل سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔ 53 سالہ کلبھوشن یادیو 2003 سے بھارتی ایجنسی را کے لیے پاکستان میں منظم دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ RAW کے لیے کام کر رہا تھا اور بلوچستان میں بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

    2020 میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے سامنے ایک ڈوزیئر پیش کیا، جس میں RAW کی بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں کے شواہد شامل تھے۔ مزید برآں 2023 میں بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی نے ہتھیار ڈالتے ہوئے بھارتی مالی اور لاجسٹک حمایت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جن میں تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈنگ اور زخمی بھارتی پراکسی دہشت گردوں کو بھارت میں طبی امداد فراہم کرنے کے ثبوت شامل تھے۔

    ان ثبوتوں کے باوجود عالمی برادری کا دوہرا معیار پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب انڈیا بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر حملہ آور ہو سکتا ہے، تو کیا پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو جیسے واضح ثبوتوں کے ساتھ جوابی کارروائی کا حق نہیں؟ چین کے ماہر لیو زونگئی نے بھارت کے دوہرے معیار کی نشاندہی کی، جو ایک طرف دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف بلوچستان میں بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔ جب پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت مغربی ممالک کے سامنے پیش کیے ہوئے ہیں تو ان کی خاموشی ان کے تعصب کو عیاں کرتی ہے۔

    یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اب وقت ہے کہ اپنی سفارتی اور فوجی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی فورمز پر زیادہ جارحانہ انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے کیسز کو عالمی عدالت انصاف میں لے جا کر بھارت پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کو کم کیا جا سکے، جن کا بلوچستان یا اس کے عوام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ صرف بھارت کے ایجنڈے کے آلہ کار ہیں۔ CPEC جیسے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانا پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    بھارت کی چانکیہ سیاست اور اس کے ناپاک ہتھکنڈوں نے اب صبر کے پیمانے لبریز کر دیے ہیں۔ مودی، اجیت ڈوول، جے شنکر، راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس جیسے عناصر کی سرپرستی میں RAW کی تخریبی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی دبائو اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بھارت کو اس کے جرائم کی سزا دی جائے۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پر بھارتی پراکسی دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں بھارت کے اندر جا کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

    آخرہم کب تک اپنے شہریوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک سوراب جیسے شہروں میں خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے؟ ہم کب تک عالمی برادری کو ثبوت پیش کرتے رہیں گے جبکہ وہ بھارت کے جرائم پر خاموش رہتی ہے؟ پاکستانی قوم کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ ہر پاکستانی کے دل سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ بھارت کو اس کی دہشت گردی کا جواب دینا فرض بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم اب "آپریشن بنیان مرصوص II” کا مطالبہ کر رہی ہے جو نہ صرف بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجائے بلکہ اس کی تخریبی سازشوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔ یہ ہمارے شہیدوں کا قرض ہے، یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی امانت ہے اور یہ ہماری قوم کی عزت کی جنگ ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان ایک آہنی طاقت بن کر بھارت کو سبق سکھائے اور اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے۔

  • "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بچپن کی ایک دھندلی یاد آج بھی میرے حافظے میں دھوئیں کی طرح اڑ رہی ہے۔ لاری اڈے کے باہر ایک بوڑھا فقیر اکثر دکھائی دیتا تھا۔مٹی سے اٹے کپڑے، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں تھکن کی نمی، اور ہونٹوں میں دبی ہوئی ادھ جلی ایک سگریٹ۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا،”بابا جی، پیسے ملنے کے بعد سب سے پہلے کیا لیتے ہیں؟”۔ اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا، پھر دھواں چھوڑتے ہوئے کہا،”سگریٹ۔۔۔۔کیونکہ ایک کش لگ جائے تو بھوکے پیٹ بھی نیند آسان ہو جاتی ہے”۔ یہ لمحہ میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ اور آج جب میں ریاست کی انسدادِ تمباکو پالیسیوں کا جائزہ لیتا ہوں، تو وہی فقیر یاد آتا ہے۔کیونکہ ہمارا ریاستی رویہ بھی اسی بھکاری جیسا ہے۔ہاتھ میں کشکول، اور ہونٹوں پر سگریٹ کا دھواں۔

    ہر سال 31 مئی کو "یوم انسداد تمباکو” منا کر حکومت خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ اشتہارات چلتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، اور تمباکو کے خلاف ایک دن کی جنگ لڑی جاتی ہے۔مگر اگلے دن سب کچھ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔مگر اس حکومتی آگاہی مہم سے زیادہ موثر تو "کرومیٹک” کی آگاہی مہم ہے، کرومیٹک وہ واحد غیر سرکاری تنظیم ہے جو ہر وقت آپ کو تمباکو نوشی کے خلاف جہاد کرتی نظر آئے گی۔ حکومت ایک دن جبکہ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان پورا سال اس لعنت کے خلاف جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔

    معزز قارئین! تمباکو نوشی کوئی انفرادی مرض نہیں، یہ ایک اجتماعی لعنت ہے۔ یہ صرف پھیپھڑوں کو نہیں کھاتا، یہ پورے معاشرے کا جگر چاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرتا ہے، اور بڑوں کو قبل از وقت قبر کی دہلیز پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہ دھواں ہے، جو صرف پھپھڑوں کو کالا نہیں کرتا، بلکہ نسلوں کو برباد کردیتا ہے۔
    پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورت حال خاصی الم ناک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہاں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے ان اموات کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟

    کیا سگریٹ کمپنیوں کی بے لگام تشہیر پر قدغن لگائی؟
    کیا نوجوانوں کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی؟۔حکومتیں بس اتنا کرتی ہیں کہ کچھ اشتہارات، چند تقریبات، اور چند دکھاوے کی مہمات چلا دیتی ہیں۔ جیسے کسی مریض سرطان کو پیناڈول کی گولی دے کر تسلی دی جاتی ہے۔ اس لعنت سے چھٹکارے کا واحد اور آخری حل یہی ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹیکس لگایا جائے، اور اسے روٹی کو ترستی نوجوان نسل کی پہنچ سے دور کر دیا جائے۔

    یہ کہنا کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگے گا تو غریب متاثر ہوگا، دراصل ایک خودساختہ مفروضہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سگریٹ نوشی کی شرح نچلے طبقے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی روزی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے تو ترستا ہے، مگر روزانہ اوسطاً پچاس سے دو سو روپے تک سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھا دی جائے، اگر اس پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو سب سے پہلے، فائدہ اسی غریب کو ہی ہوگا۔کیونکہ جب چیز مہنگی ہوتی ہے تو خواہشیں ماند پڑنے لگتی ہیں، لت کمزور پڑ جاتی ہے، اور آدمی اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جب وہاں سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا تو تمباکو نوشی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ فلپائن، برطانیہ، جنوبی افریقہ، جیسے کئی ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سگریٹ پر ٹیکس کی بات آتے ہی سیاسی و معاشی مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔

    ریاست کی یہ مجرمانہ خاموشی قاتل پولیسی دراصل ان قوتوں کے سامنے شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے،جو تمباکو کو ایک منافع بخش صنعت سمجھتی ہیں۔ چند کمپنیاں، چند لابی گروپس، اور چند کرسیوں کے غلام جب مل کر پالیسی بناتے ہیں تو اس میں عوام کے حق کی بجائے سرمایہ دار کی تجوریاں ہی محفوظ کی جاتی ہیں۔سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دن رات سوشل میڈیا اور روایتی اشتہارات کے ذریعے نئی نسل کو اپنی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔جبکہ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو اس قدر فنٹاسائز کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اسے فیشن سمجھنے لگتی ہے۔ جبکہ حکومت ایسی سرگرمیوں کے خلاف کمر کسنے کی بجائے ان کے پر "18+، صحت کے لیے مضر” کی چھاپ لگا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس محض مالیاتی پالیسی کا حصہ نہیں، بلکی یہ ایک اصلاحی اقدام ثابت ہوگا ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو صحت عامہ کے شعبے میں ٹیکس کولیکشن کی مد میں بھاری سرمایہ بھی میسر آئے گا۔ اور اس سرمائے کو مختلف طریقوں سے خرچ کیا جاسکتا ہے،جیساکہ؛

    * سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کےلیے مفت کونسلنگ سنٹرز
    * نوجوانوں کے لیے انسداد تمباکو نصاب
    * سرکاری اسپتالوں میں تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے مفت علاج کی سہولت
    * اور تمباکو ساز اداروں کے اشتہارات پر سخت پابندی۔

    اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو محض چند سالوں میں ہی تبدیلی ممکن ہے، مگر اس تبدیلی کےلیے اقدامات خان صاحب کی طرح جذبات سے نہیں، بلکہ عقل سے کرنے ہونگے۔

  • ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    30 مئی 2025 کو پاکستان نے ہانگ کانگ میں قائم ہونے والی عالمی ثالثی تنظیم (International Organization for Mediation – IOMed) کے کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ اقدام عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی اور چین کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے عالمی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے تنازع کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق چین IOMed کو عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے ہم پلہ ادارے کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد ہانگ کانگ کو تنازعات کے حل کا ایک معتبر عالمی مرکز بنانا ہے۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے دعویٰ کیا کہ یہ تنظیم دی ہیگ کی اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration – PCA) کے مساوی حیثیت رکھے گی۔ اس تنظیم کا صدر دفتر ہانگ کانگ کے وان چائی علاقے میں ایک سابقہ پولیس اسٹیشن میں قائم کیا جائے گا جو 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل میں فعال ہوگا۔ دستخطی تقریب میں چین، پاکستان، انڈونیشیا، لاؤس، کمبوڈیا، سربیا اور اقوام متحدہ سمیت 20 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    ہانگ کانگ کا انتخاب اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے اہم ہے کیونکہ اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک "سپر کنیکٹر” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم ہانگ کانگ کی چین کے خصوصی انتظامی علاقے کی حیثیت اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر مغربی ممالک کے نقطہ نظر سے جو اس کی عالمی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 2019-2020 کے احتجاج اور چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے ہانگ کانگ کی بین الاقوامی ساکھ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جو IOMed کی قبولیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    IOMed کا مقصد عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو موجودہ اداروں جیسے کہ ICJ اور PCA سے عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ چین کی حالیہ سفارتی کامیابیاں جیسے کہ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان صلح کرانا، اس کی ثالثی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ تنظیم ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پرکشش فورم ہو سکتی ہے کیونکہ موجودہ عالمی اداروں پر مغربی ممالک کا غلبہ بعض اوقات غیر مغربی ممالک کے لیے تحفظات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس کی غیر جانبداری اور شفافیت پر ہوگا۔ اگر یہ تنظیم چین کے سیاسی ایجنڈے سے وابستہ سمجھی گئی تو مغربی ممالک اور ان کے اتحادی اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے IOMed ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے علاقائی تنازعات، خاص طور پر جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے اور پاکستان میں بھارت کی پراکسی وار اور دہشت گردی سے متعلق مسائل کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ گہری شراکت، جو سی پیک (CPEC) اور 1963 کے سرحدی معاہدے جیسے منصوبوں سے ظاہر ہوتی ہے، اسے اس تنظیم میں ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔ تاہم پاکستان کی معاشی کمزوریاں اور چین پر بڑھتا ہوا انحصار اس کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اسے اس پلیٹ فارم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشی اور اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنا ہوگا۔

    IOMed کی عالمی تنازعات کے حل میں صلاحیت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے تنازعات کے لیے ایک مؤثر فورم بن سکتی ہے، لیکن اس کی عالمی سطح پر قبولیت اس کی غیر جانبداری پر منحصر ہوگی۔ ICJ کے ہم پلہ ادارے کے طور پر اسے تسلیم کیے جانے کے لیے اسے ایک طویل مدتی عمل سے گزرنا ہوگا۔ IOMed کے لیے PCA کے مساوی حیثیت حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اسے عالمی برادری کی حمایت اور ایک مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہوگی۔ IOMed کے لیے ICJ یا PCA کا مکمل متبادل بننے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کرنا زیادہ عملی ہوگا۔ یہ تنظیم ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتی ہے، لیکن عالمی تنازعات کے حل کے لیے اسے موجودہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ پاکستان کو اس تنظیم کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ صرف چین یا پاکستان کے ایجنڈے تک محدود نہ رہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا. تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا. تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ نوشی دنیا بھر میں ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک کے غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان میں بھی سگریٹ نوشی ایک عام عادت بن چکی ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور دیہی علاقوں کے افراد میں۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنا ایک اہم پالیسی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ اس سے سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے گا، جو کہ ایک مثبت پہلو بھی ہو سکتا ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ، خاص طور پر نوجوان اور غریب افراد، اس مہنگی عادت کو ترک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اقدام انہیں مہلک بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔ ٹیکس میں اضافے سے سگریٹ ساز کمپنیاں مجبور ہوتی ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں، جو کہ بالآخر صارفین کو کم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے نہ صرف صارفین کی تعداد کم ہوتی ہے بلکہ نئی نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہسپتالوں میں سہولیات بہتر بنائی جا سکتی ہیں اور تمباکو کے خلاف آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس لگنے سے غریب متاثر ہوں گے، لیکن دراصل سگریٹ کی قیمت بڑھنے سے غریب افراد اسے خریدنے سے گریز کریں گے۔ اس طرح ان کی آمدنی تمباکو جیسے نقصان دہ شوق کے بجائے خوراک، تعلیم اور صحت پر خرچ ہو گی۔

    اسکولوں، کالجوں، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ عوام خود اس بری عادت سے دور رہیں۔ نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ سگریٹ جیسی منفی عادات کا شکار نہ ہوں۔ ٹی وی، اخبارات اور دیگر میڈیا پر سگریٹ یا تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مفت یا کم لاگت والے "Quit Smoking Centers” قائم کرے جہاں لوگ ماہرین کی مدد سے سگریٹ نوشی ترک کر سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود تمباکو نوشی سے گریز کریں اور بچوں کو بچپن سے ہی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے کا مقصد غریب طبقے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ انہیں ایک بہتر، صحت مند زندگی کی طرف راغب کرنا ہے۔ یہ قدم نہ صرف صحت عامہ کے لیے مفید ہے بلکہ معیشت اور معاشرتی بہبود کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر حکومت، معاشرہ اور فرد، سب مل کر تمباکو نوشی کے خلاف کام کریں تو ہم ایک صحت مند نسل اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا” کسی حد تک یہ بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے مکمل طور پر درست نہیں مانتی۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس پر زیادہ ٹیکس لگا دینا اس کی روک تھام نہیں ہو سکتا ہاں کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کی دسترس سے دور ہو سکتا ہے لیکن ایسا صرف کچھ وقت کے لیے ہو سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی ایک بہت بری لت ہے دراصل ایک بہت بری عادت، بہت بری بیماری ہے جو ایک بار کسی کو لگ جائے تو اس کا بچنا مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں انسان دھنستا ہی جاتا ہے ہاں ایک کام ضرور ہو سکتا ہے اگر انسان پختہ ارادہ کر لے تو کسی بھی مشکل یا دلدل سے باہر آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو اس کے علم کی بنا پر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یاد رہے علم کی بنا پر اسے فرشتوں سے سجدہ کروایا تو اس کا مطلب ہے کہ علم ہی درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت قران پاک میں فرماتے ہیں:
    "اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔”(سورہ الفاطر:28)

    علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس سے انسان کے دل میں آگاہی اور شعور کا پودا لگتا ہے اور روز بروز علم کی بنیاد پر ہی اس کی آبیاری ہوتی ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس کے باعث انسان رب کی معرفت حاصل کرتا ہے ذہن و دل میں رب کی محبت اور اس کے خوف کو بٹھاتا ہے اور پھر غلط کاموں سے رک جاتا ہے۔

    حدیث کے مطابق ایمان، امید اور خوف کے بین بین ہے۔ جس دل میں ایمان ہوگا وہیں پر اللہ کا خوف بھی ہوگا اور انسان برائی کرتے ہوئے ڈرے گا بھی اور وہ رب کی ناراضگی سے گھبرائے گا بھی، جس دل میں ایمان ہوگا وہی دل رب سے امید بھی باندھے گا کہ اگر میں برائیوں سے رکوں گا تو رب کے انعام کا حقدار بنوں گا۔ فرمان نبوی کے مطابق: "ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہ اس کے والدین ہیں جو اس کو یہودی مجوسی اور عیسائی بناتے ہیں۔” تو ثابت ہوا کہ کوئی بھی بچہ برائی کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا یہ والدین کی تربیت اور ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ وہ برائیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ سگرٹ نوشی بھی ان برائیوں میں سے ایک برائی ہے جو اچانک سے کسی انسان کی زندگی میں نہیں آتی۔ سگریٹ نوشی کے خاتمے سے پہلے آئیے جانیے کہ اس برائی کا اغاز کہاں سے ہوا تھا؟ کون تھا جس نے آج کی نوجوان نسل کو اس جگہ کھڑا کر دیا جہاں وہ اچھے برے کی تمیز بھول گیا۔ جہاں وہ حلال اور حرام کی پہچان بھول گیا۔ دیکھنے میں یہ تین انچ لمبی اور ایک چھوٹے بچے کی انگلی جتنی معمولی نظر آنے والی شے دراصل معمولی نہیں ہے 19ویں صدی کی اوائل میں امریکہ کے جیمز بکانن ڈیوک نے اس برائی کی بنیاد رکھی پہلے وہ سگرٹ کو ہاتھ سے بناتا رہا بعد ازاں اس نے مشین ایجاد کی جہاں وہ ہاتھ سے ایک دن میں 200 سگرٹ بناتا تھا اب وہاں وہ ایک دن میں ایک لاکھ بیس ہزار سگرٹ بنانے لگ گیا اور وہاں کے رہائشیوں کے لیے یہ تعداد بہت زیادہ تھی لہذا اس نے سگرٹ کو دنیا میں اشتہارات کے ذریعے اور بعض دفعہ مقابلہ حسن میں مفت بانٹنا شروع کر دیے اور اس طرح برائی اتنے سستے طریقے سے پھیل گئی کہ جس کا خمیازہ آج بھی نسلیں بھگت رہی ہیں۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جس نے کسی برائی کی بنیاد رکھی یا آغاز کیا وہ گناہ گار ہے۔”
    برائی کا آغاز کرتے وقت انسان یہ سوچتا نہیں کہ یہ برائی نسلوں تک جائے گی اور رہتی دنیا تک جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کی سزا ساری کی ساری ایجاد کرنے والے اور بنیاد رکھنے والے کو ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”(سنن ترمزی1864) اسی طرح قران پاک میں شراب کی حرمت کو لے کر جو احکامات بیان کئے گئے ہیں ان کے مطابق شراب خریدنا، اس کا پینا، اس کا کاروبار کرنا سب حرام ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ حلال و حرام میں فرق کیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سگرٹ نوشی حرام کے زمرے میں نہیں آتی لیکن روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بھی چیز نشے کے طور پر استعمال ہوتی ہے وہ چاہے سگریٹ ہو چاہے وہ اس سے ملتی جلتی کوئی بھی چیز وہ سب حرام کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پذیر جتنے بھی ممالک ہیں ان میں سگریٹ کی طلب میں ہر سال 3.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ انسانی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ لوگ ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ان میں سے 80 فی صد غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ پاکستان میں بھی تمباکو کی صنعت کا مجموعی حجم تقریبا ایک ارب روپیہ ہے اور اس میں مختلف اقسام منظر عام پر آتی ہیں جن میں کچھ نقلی ہیں کچھ اصلی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب سگریٹ کو مہنگا کیا جاتا ہے تو اس کے بعد دو طرح کی کوالٹی سامنے آتی ہیں کیونکہ مہنگا سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہوتا ہے تو وہ بہت ہلکی اور سستی کوالٹی کا سگریٹ استعمال کرتا ہے۔ ایسے سگریٹ بہت سستے داموں میں بکتے ہیں۔ حکومت اگر اس پر ٹیکس بھی لگائیں گے تو ہمارے پاس اتنی زیادہ ایسی کمپنیز اور اتنے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو سگریٹ کی نقل بنانے میں ماہر ہیں تو ہر وہ چیز جس کی اصل پر ٹیکس لگے گا وہ ہر چھوٹے چھوٹے علاقوں کے اندر بننی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حکومتی طور پہ تو سگریٹ پر ذیادہ ٹیکس لگے کی اپیل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے لیول پر اپنے بچوں کو، اپنے سکولز میں، اپنے کالجز میں سگریٹ کے نقصان کے بارے میں آگاہی دیں۔ اسی طرح جو غریب طبقہ ہے اس کے لیے بھی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔

    حکومتی اداروں کے لیے میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    "تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(صحیح بخاری) حکومت وقت بھی شریعت کے نظام و قانون سے دور، خوف الہٰی سے دور، دولت اور عہدوں کے نشے میں چور، روز محشر کو گئی بھول۔ یاد کیجیے! حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تھا: "دریائے دجلہ و فرات کے کنارے کوئی پیاسا کتا بھی مر گیا تو پکڑ عمر کی ہو گی۔” کیسے تھے وہ لوگ؟ نہ عہدوں کی ہوس، نہ دولت کی لالچ، نہ زندگی کے حریص بس خدمت حلق تھا ان کا کام۔ دور حاضر میں حکومت وقت کو عہدوں کا جنون ہے۔ وہ یہ فراموش کر چکے کہ یہ عہدے نہیں ذمہ داریاں ہیں اور ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لاپرواہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے یہ نہ سمجھا کہ ایک دن آئے گا جہاں سورج سوا نیزے پر ہو گا۔ جہاں ہر ایک کے اعمال کا حساب ہوگا۔ جہاں ماتحتوں اور رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ جہاں حکومت رب کعبہ کی ہو گی اور دنیا کا ہر طاقت ور بادشاہ ہر حکمران تھر تھر کانپ رہا ہو گا۔ وہاں سوال ہو گا کہ جوانی کہاں گزاری اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہاں سوال ہو گا تمہیں حکومت دی گئی تھی امت محمدیہ کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں تھا تم نے کیا کیا؟ اپنے تھوڑے سے عہدوں کے نشے میں چور نوجوانوں کے ہاتھوں میں نشہ تھما دیا۔ عوام حکومت کی ماتحت ہوتی ہے اس کی رعیت ہوتی ہے اس کے ایک ایک عمل کے بارے میں حکمرانوں سے پوچھا جائے گا۔ جہاں کہیں برائیوں کے اڈے ہیں، جہاں کہیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں سگریٹوں کے دھوئیں ہیں سوال تو ہو گا۔ زندگی ایک نعمت ہے، رب کا عطیہ ہے، رب کا تحفہ ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ رب کی امانت ہے اور رب امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بالکل برداشت نہیں کرتا۔ بچہ دین فطرت پر پیدا ہوا تم نے اس سے کیا بنا دیا؟ میں تو کہتی ہوں سگریٹ پہ زیادہ ٹیکس کی بات چھوڑیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہی ہو جانا چاہیے۔ مسلمان نوجوان نسل اپنے ارادوں و عزائم میں بہت مضبوط ہے۔ ایک مسلمان کو اللہ نے دس کافروں پر فوقیت دی ہے۔
    اس کا وقار ایسا تو نہیں جو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑ جائے۔
    اس کا کردار ایسا تو نہیں کہ سگریٹ کی چنگاری کی طرح پاؤں تلے مسلا جائے۔
    اس کی گفتار ایسی تو نہیں جو ہوا میں لہرا جائے۔
    اس کے افکار ایسے تو نہیں جو ایک تین انچ کے ٹکڑے کے محتاج ہوں۔

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ شریعت کے قانون کی پاسداری کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں۔ آج عہدوں کے نشے میں چور حکمرانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ روز محشر جب رعیت کے بارے میں سوال ہوگا تو کیا جواب دیں گے؟ افسوس صد افسوس! اپنے چند ٹکوں کے لیے امت مسلمہ کو سگرٹ کے دھوئیں کے حوالے کر دیا. برائیاں تبھی جنم لیتی ہیں جب انسان کا دل خوف الہٰی سے خالی ہو جاتا ہے۔ جب اس کا یقین روز محشر کے بارے میں ڈگمگا جاتا ہے۔
    "ہمارے لیے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال۔”(سورہ البقرہ:139) حکمرانوں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسان کو اللہ نے عقل و شعور سے نوازا ہے انہیں خود بھی چاہیے کہ وہ برے اعمال سے دور رہیں۔ صاحب علم و فہم سے گزارش ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ہمیں بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
    تو آئیے! بارش کا وہ پہلا قطرہ بن جائے جو ہمت کرتا ہے اور اپنے پیچھے ڈھیروں بوندا باندی کو لے کر آتا ہے۔
    آئیے! ہاتھ بڑھائیے اٹھیے اور نفع مند مومن بن جائیں جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و بھلائی کے نور سے آگاہی دیتا ہے۔
    آئیے! سگرٹ نوشی کی روک تھام کے لیے آگاہی پروگرام کا انعقاد کریں اور کم پڑھے لکھے لوگوں تک بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ اس کے نقصانات بتائیں اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کریں۔
    تو کون بنے گا؟
    انصار اللہ!

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی ،تحریر: ممتاز خان کھوسہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی ،تحریر: ممتاز خان کھوسہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی
    تحریر: ممتاز خان کھوسہ
    سگریٹ نوشی ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندان، معاشرے اور معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف اقدامات کرتی آئی ہیں، جن میں نمایاں ترین قدم سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں بھی یہی پالیسی زیرِ غور ہے کہ سگریٹ پر مزید ٹیکس لگایا جائے تاکہ تمباکو مصنوعات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں۔

    مگر اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے صرف غریب طبقہ متاثر ہوگا، کیونکہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھنے سے قیمتیں بڑھیں گی اور امیر طبقہ تو پھر بھی خرید سکتا ہے، جبکہ غریب کے لیے یہ شے "لگژری” بن جائے گی۔ اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ سگریٹ "ضرورت” نہیں بلکہ "عادت” ہے، اور اگر یہ عادت کسی پالیسی سے چھوٹ جائے تو وہ پالیسیاں معاشرتی بھلائی کے لیے ضروری ہیں۔

    سگریٹ نوشی صحت کا دشمن ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماریاں، سانس کی تکالیف اور دیگر مہلک امراض اسی ایک عادت سے جنم لیتے ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج بھی مہنگا ہے، اور سب سے زیادہ نقصان انہی غریبوں کو ہوتا ہے جو نہ تو مکمل علاج کروا سکتے ہیں، نہ ہی بیماری کی حالت میں اپنا گھر چلا سکتے ہیں۔ یوں سگریٹ ایک غریب کو بظاہر وقتی تسکین دیتا ہے مگر انجام میں اسے مزید غربت کی گہرائی میں دھکیل دیتا ہے۔

    ٹیکس کا مقصد آمدن اکٹھی کرنا نہیں بلکہ رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔ اگر سگریٹ مہنگی ہو جائے تو نئے نوجوانوں کا اس لت میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ پہلے سے اس عادت میں مبتلا ہیں، ان کے لیے ترک کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، جب قیمت جیب سے باہر ہو۔

    یہ کہنا کہ ٹیکس صرف غریب کو متاثر کرے گا، ایک سطحی دلیل ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ غریب طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے جب وہ صحت سے جڑی خراب عادات کا شکار ہوتا ہے۔ اگر حکومت کی پالیسیوں سے تمباکو کی عادت کم ہو جائے تو یہ غریب کے لیے کسی سزا نہیں بلکہ انعام کی مانند ہے۔ اس کے بچے، اس کا گھر اور اس کا مستقبل اس عادت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

    لہٰذا، سگریٹ پر ٹیکس لگانا ایک مثبت اور دور رس پالیسی ہے جو تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ اس کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک صحت مند، باشعور اور خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا،تحریر :ظفر اقبال ظفر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا،تحریر :ظفر اقبال ظفر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    کرومیٹک اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے نقصانات کی آگاہی مہم کے تناظر میں موضوع دیا گیا ہے۔ (سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا )جناب عالیٰ آپ نے تمباکونوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے دفاع میں صحت مند معاشرے کے لیے فکری سوچ کا اظہار تو کر دیا ہے مگر موضوع پوچھ رہا ہے کہ سگریٹ پرٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا؟آج تک کوئی بجٹ ایسا نہیں آیا جس میں سگریٹ پربھاری ٹیکس نہ لگا ہواس کے باوجود سگریٹ کی فروخت میں نہ کمی آئی نہ ہی نئے پینے والوں کو سگریٹ سے دُوررکھا جا سکا معاشرے کے بچے نوجوان بوڑھے اپنی صحت اور دولت سگریٹ ساز کمپنیوں کے آگے ہارتے ہی چلے جا رہے ہیں آپ تمباکو کاغذ اور روئی کے فلٹر سے تیار ہونے والی سگریٹ کی بناوٹ پرآنے والے خرچے اور ٹیکس کی جانچ پڑتال کریں گئے تو علم ہوگا کہ بھاری ٹیکس اور قیمت میں حکومت اور سگریٹ ساز کمپنیاں کتنی پرُکشش آمدن حاصل کر رہے ہیں اس لیے سگریٹ پر مکمل پابندی کی بات کرنا سرکاری اور کاروباری لوگوں کو ناگوار گزرے گامگر کیا کروں میراقلم سچ پر مبنی حقائق لکھنے پر مجبور کرتا ہے تو لکھناہی پڑے گا۔

    سگریٹ نشے سے بڑھ کر ایک بری عادت کا نشہ بن چکا ہے اور جس عادت کو سرکار ی اجازت ہو اسے روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے ریاست نے سگریٹ کو نشہ قرار نہیں دیا ہے جبکہ نشے کی معاون سگریٹ کے بغیر چرس کا نشہ ہو ہی نہیں سکتاسگریٹ خود سے بڑے ہرنشے میں اپنی شراکت بھی رکھتی ہے یعنی سگریٹ نشے کی دنیا کاپہلا قدم بھی ہے ہمارے معاشرے کے کثیر تعداد کے شرفاء بھی اس کے استعمال میں پھنسے ہوئے ہیں جو اسے غلط تسلیم کرکے اس تک ہی محدود رہتے ہیں وہ سگریٹ کی نفرت و مخالفت سے اپنے آپ کو یہاں ہی روک لیتے ہیں مگر یہ سگریٹ اپنی پیدا کردہ بیماریوں میں کہاں محدود رہتی ہے یہ اپنے پینے والے کو کتنی خاموشی سے پیتی رہتی ہے اس کا علم نقصان کے بعد ہی ہوتا ہے اس لیے تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم پر جتنا بھی کام کیا جائے کم ہے۔

    قوت خودارادی کو ختم کرنے والی اس دشمن عادت کی گرفت میں آیا ہوا بندہ بڑے بڑے نشے کرکے چھوڑ دیتا ہے مگر سگریٹ نہیں چھوڑ پاتا جس کی وجہ یہی ہے کہ یہ غیر اخلاقی تو ہے مگر غیرقانونی نہیں ہے اگر سگریٹ بنانے بیچنے والوں پر یہ قانون و زمہ داری لاگو کر دی جائے کہ سگریٹ پینے سے پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کا علاج بھی ان ہی کے زمے ہوگا تو یہ سگریٹ کا وجود ختم کرکے انسانیت کے صحت مند وجود کی فکر میں عملی کردار ہو سکتا ہے بھلے محکمہ صحت نے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو اس کی فروخت پر منع کیا ہوا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا آج بھی بدقسمتی سے سکول کالج یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں سگریٹ کا حفیہ استعمال ہمارے مستقبل بنتے افراد کو اپنی لپیٹ میں لیے جا رہا ہے۔

    ہرسرکاری ادارے میں سگریٹ استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کی صحت بھی اتنی ہی قابل اہمیت ہے جتنی ایک بالغ ہوتے بچے کی ہوتی ہے ڈاکٹرز سے بڑھ کر اس کے نقصانات سے کون واقف ہوگا ان کی بھی بڑی تعداداس کا شکار اسی وجہ سے ہے کہ ریاست نے اسے نشہ سمجھ کر غیرقانونی قرار نہیں دیا معاشرے کے فکرمند احباب جتنی بھی سگریٹ نقصانات پر آگاہی مہم چلا لیں وہ اتنی فائدہ مند نتائج سے ہمکنار نہیں ہو سکتیں جتنی ریاست کی پابندی ہو سکتی ہے ریاست تمباکو سے بننے والی تمام مضر صحت مصنوعات پان گٹکا سگریٹ پر پابندی لگا کر سرکاری ہسپتالوں پر وہ خرچ بچا سکتی ہے جو سگریٹ کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔

    بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا باپ نئی نسل کو سگریٹ کا تعارف ہی کروا رہا ہوتا ہے اور اس کے استعمال کی گنجائش بھی بتا رہا ہوتا ہے بھلے ہی وہ دل سے نہیں چاہتا کہ اس کے بچے سگریٹ کی جانب مائل ہوں مگرآزادانہ استعمال سگریٹ کی جو فضاء بن چکی ہے اسے بدلنے کے لیے حکومت پاکستان کو سگریٹ کے پیکٹوں پہ تمباکو نوشی کا انجام گینگرین لکھنے کی ناکام نفرت ڈالنے کی بجائے تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ تمباکو سے تیار ہونے والی ہر بیماریوں کی ماں پرپابندی لگا کر صحت مند معاشرے کی تشکیل سے دنیا کو حیران کرنا چاہیے۔

    نفسیاتی و زہنی امراض دماغی کمزوری پھیپھڑوں کی تباہی سانس کی بیماریاں دل کی کمزور ی ہا رٹ اٹیک معدے و جگر کا متاثر ہونا معدے کاکھانا ٹھیک سے ہضم نہ کرنااورسگریٹ سے متاثرہ جگر کا نیا خون پیدا نہ کرنے سے جسمانی کمزوری بڑھتے بڑھتے انسان کو مرنے سے پہلے مار دیتی ہیں جو انسانی قتل کے زمرے میں آتا ہے مگرقاتل تمباکو کی دی ہوئی موت کو خدا کا حکم قرار دے کر جان لیوادشمن کو تحفظ دینے کی بجائے اس کے خلاف معاشرے کو صحت بچاؤ جنگ لڑنی چاہیے۔پریشانی دُکھ غم تکلیف وغیرہ جیسی کیفیات کو بہانہ بنا کر یاشوقیہ طور پر شروع کی گئی سگریٹ نوشی قوت خودارادی کونشانہ بناتے ہوئے ا نسانی اعصاب پر قابض ہو کر اپنے شکار انسان کو بے بس کرتی ہے جس کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر ہر صاحب احساس شہری اپنے معاشرے کو سگریٹ کے دھوئیں سے پاک کرنا چاہتا ہے

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:اقراء نثار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:اقراء نثار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:اقراء نثار
    تمباکو نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی صحت، دولت اور زندگی کو نگل جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے جڑی بیماریوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو معاشی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سگریٹ پر ٹیکس لگایا جائے تو کیا یہ قدم غریبوں کے لیے نقصان دہ ہوگا یا فائدہ مند؟

    حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مقصد صرف آمدنی حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کو تمباکو نوشی سے دور رکھنا ہے۔ جب سگریٹ مہنگی ہوگی، تو غریب طبقہ اسے خریدنے سے باز رہے گا یا کم از کم اس کا استعمال کم کرے گا۔ اس طرح نہ صرف ان کی صحت بہتر ہوگی بلکہ وہ اپنی قیمتی کمائی کو تعلیم، خوراک اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر خرچ کر سکیں گے۔

    تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوشی کے اخراجات، علاج کے اخراجات سے کئی گنا کم ہیں، لیکن جب یہی تمباکو بیماریوں میں بدلتا ہے تو غریب آدمی اپنی پوری جمع پونجی دوا، علاج اور اسپتالوں پر خرچ کر دیتا ہے۔ اگر سگریٹ اس کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو وہ ان مہلک بیماریوں سے بھی بچ سکتا ہے۔

    یہ دلیل کہ "غریب کو سگریٹ مہنگی پڑے گی” دراصل ایک غلط تاثر ہے۔ صحت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، اور اگر ٹیکس کی مدد سے ہم غریب عوام کو اس زہر سے دور رکھ سکتے ہیں تو یہ قدم ضرور اٹھایا جانا چاہیے۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانا ایک دانشمندانہ اور فلاحی فیصلہ ہے۔ یہ قدم غریب کو تمباکو کی لت سے نکال کر صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ حکومت، میڈیا اور معاشرہ مل کر ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف، صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ پا سکیں۔

    اگر تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگایا جاتا ہے، تو اس سے غریب لوگوں کے لیے سگریٹ کی رسائی کم ہو جائے گی۔ اس سے تمباکو نوشی کی شرح کم ہو سکتی ہے، جو صحت عامہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ تاہم، اس سے غریب لوگوں پر غیر متناسب اثر پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ٹیکسوں میں اضافے سے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جو حکومت کے لیے محصولات کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے حکومت کے لیے محصولات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صحت کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی خدمات کے لیے فنڈز مل سکتے ہیں۔

    مجموعی طور پر، سگریٹ پر ٹیکس لگانے کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ اس سے تمباکو نوشی کم ہو سکتی ہے اور صحت عامہ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے غریب لوگوں پر غیر متناسب اثر بھی پڑ سکتا ہے اور اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔