Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    اکثر ہم سنتے ہیں یا خود کہتے ہیں کہ "یہ دنیا بہت بری ہے۔ یہاں اچھے لوگ نہیں رہے۔” لیکن کبھی ہم نے خود سے پوچھا ہے کہ آخر یہ دنیا بری کیوں بنی؟ کیا واقعی دنیا اپنے آپ میں بری ہے یا ہم انسانوں نے اسے ایسا بنا دیا ہے؟

    ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں سے نفرت کرتے ہیں، بغض رکھتے ہیں، حسد کرتے ہیں، پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں، اور موقع ملتے ہی کسی کو نقصان پہنچانے سے نہیں کتراتے۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دوسروں کی عزت، آرام اور سکون کو قربان کر دیتے ہیں۔اور جب کوئی ہمارے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا ہم نے دوسروں کے ساتھ کیا، تو ہم چیخ اٹھتے ہیں "دنیا بہت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ خودغرض ہو گئے ہیں۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں رہی۔”

    یہ دنیا تو ہماری ہی عکاسی کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ دنیا وہی ہے جو ہم خود اسے بناتے ہیں۔ دنیا میں محبت ہو، اخلاص ہو، خیرخواہی ہو، یا نفرت، بغض، اور فریب ، یہ سب ہم انسانوں کے رویوں کا عکس ہے۔ دنیا ایک آئینے کی مانند ہے۔ ہم جو اس میں دکھاتے ہیں، وہی ہمیں واپس دکھاتا ہے۔ہم ظلم کرتے ہیں، اور الزام دنیا پر،ایک شخص اگر اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، انہیں دھوکہ دیتا ہے، زبان سے زخم دیتا ہے، اور دل آزاری کرتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا بری ہے۔ وہ یہ سوچے کہ اس نے خود کتنا برا ماحول پیدا کیا ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کی روشنی بجھا دے گا تو اندھیرا خود بخود چھا جائے گا۔

    بد اخلاقی، حسد، تکبر، اور نفرت وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم اپنی زبان سے لوگوں کو کاٹتے ہیں، اپنی آنکھوں سے نفرت کرتے ہیں، اور دل سے دشمنیاں پالتے ہیں۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن ہو، محبت ہو، اور بھائی چارہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ دنیا ایک بہتر جگہ بنے، تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے رویے، اپنی نیت، اپنے الفاظ اور اعمال کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب ہر شخص اپنے آپ کو درست کرے گا، تبھی یہ دنیا درست ہو سکتی ہے۔دنیا ویسی ہی ہے جیسا ہم اسے بناتے ہیں۔ اگر ہم اسے محبت، رحم دلی، اخلاص اور حسنِ سلوک سے سجائیں گے، تو یہ خوبصورت ہو جائے گی۔ اور اگر ہم نفرت، بغض، فریب اور ظلم کو عام کریں گے، تو پھر اس میں شکایت کا کوئی حق نہیں رہتا۔تو آئیے، آج سے یہ عہد کریں کہ ہم دنیا کو برا کہنے سے پہلے خود کو بہتر بنائیں گے۔ کیونکہ تبدیلی ہمیشہ خود سے شروع ہوتی ہے۔

  • ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    کینیڈا سے تشریف لائے معروف باکمال شاعر ڈاکٹر اسد نصیر کے اعزاز میں کل شام ادبی فورم انحراف انٹرنیشنل اور چیپٹرز کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جسے لاہور رنگ ٹی وی نے اپنی سکرین کی زینت بنایا۔
    محترمہ یاسمین حمید کی صدارت اور جناب شہزاد نیر کی خوبصورت نظامت نے محفل کو سحر انگیز بنا دیا۔ جناب شہزاد نیر کا دلی شکریہ انہوں نے مجھے مدعو کیا۔ بینر بنوانے کے لئے شرکت کنفرم کرنے کی بات پر میں نے ان سے درخواست کی کہ بینر پر میرا نام نہ لکھوائیں اور دعوت کو اوپن رہنے دیں، تاکہ اگر کسی مجبوری کے باعث شرکت نہ ہو سکے تو شرمندگی نہ ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شہزاد صاحب نے نہ صرف میری بات کو سمجھا بلکہ نہایت خوش دلی سے قبول بھی کیا — اور شاید یہی بات تھی جو مجھے اس شام اس خوبصورت محفل تک کھینچ لائی۔
    سچ کہوں تو کئی بار کی عدم حاضری کے باعث اکثر احباب نے بلانا بھی کم کر دیا تھا۔ لیکن شہزاد نیر صاحب کے خلوص نے ایک بار پھر ادبی محفل سے جوڑ دیا۔ یہ کافی عرصے بعد کسی مشاعرے میں شرکت تھی —
    تمام شعراء سے بہترین کلام سننے کو ملا اور دل جیسے پھر سے زندگی سے بھر گیا۔
    بے حد مبارک باد جناب افتخار الحق اور شہزاد نیر صاحب کو، جنہوں نے نہایت عمدگی سے اس ادبی تقریب کا اہتمام کیا، جو یقینی طور پر ایک یادگار مشاعرہ رہا ۔۔
    اور ہاں ثمینہ سید سے ملاقات کی خوشی الگ سے ہے ۔ اللہ کریم انھیں صحت مند ہنستا مسکراتا رکھے ۔۔
    میرے میڈیا کے دوستوں خاص طور پر محترم عامر نفیس کی شفقت کے لئے بھی ممنون ہوں جنھوں نے اپنی دیرینہ کولیگ کو دوبارہ ایکٹو دیکھ کر نہ صرف بہت خوشی کا اظہار کیا بلکہ بہت سے دعاؤں کے ساتھ میڈیا رپورٹ کو خصوصی طور پر ارسال کیا ۔۔

  • یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی خوابیدہ قوم کی بیداری اور بہبود کے لیے اپنی زندگی تیاگ دی، مگر ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟
    کہاں تک ان کی شاعری کی اور ان کے خیالات کی تقلید کی ہے ؟
    ہم آج ان کی تصانیف اور ان کے نظریات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو نفس کے حوالے کر بیٹھے ہیں۔ اور یوں خود کو دنیا میں غیر حاضر قرار کر دے کر ہم اللّٰہ تعالیٰ کے اس بیش قیمت تحفے سے سراسر انحراف کر رہے ہیں۔
    ہم میں سے ہر شخص کے لیے اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ” خودی” کو نہ پا لے۔
    آخری خودی ہے کیا ؟
    خودی انسان میں پوشیدہ خوبیاں ہیں، اس میں پنہاں طاقتیں ہیں، جو انسان ان گوہر نایاب تک پہنچ جاتا ہے، اسے کامیابی سے کوئی نہیں تھام سکتا۔
    کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں خودی کی تربیت اور پرورش کامیابی کے حصول کے لیے شرطِ اول ہے، چوں کہ خودی زندہ اور پائندہ ہوگی تو کائنات آپ کے آگے جھک جائے گی، اور اگر خودی بیدار نہ ہو تو وہی ہوگا جو آج ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
    ڈپریشن، ڈپریشن اور ڈپریشن!
    ہائے! میری دنیا، میری دنیا، میری دنیا۔
    دنیا کو پانا ہے تو خودی کو پانا ہوگا، خود کو ڈھونڈیے دنیا خود آپ کو ڈھونڈے گی۔
    اقبال اپنی قوم پر مہربان تھے، وہ اپنے عوام کو باشعور، کامران اور اونچا اونچا اڑتے دیکھنے کے خواست گار تھے۔ مگر ہم ہیں فرنگیوں کے پیروکار، آخر یہ بات کب ہمارے شعور کا حصہ بنا گی کہ وہ ہمیں تلف کر دینا چاہتے ہیں، اور ہمارے رہ نما ہمیں سرفراز دیکھنا چاہتے تھے۔
    اقبال نے فرمایا:
    "خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
    خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ ”
    خودی تک انسان تب پہنچتا ہے جب وہ اللّٰہ کو پہچاننے لگتا یے، چوں کہ خودی کی تلوار کو توحید آب دار اور طاقت ور بناتی ہے، ہم جتنا اللّٰہ کا قرب پاتے جائیں گے خودی کو اتنا ہی استحکام نصیب ہوتا جائے گا، پھر ہر خوف پس و پیش بکھر جائے گا، کیوں کہ ہر وقت زباں پر ہوگا:
    ” لا الہ الااللہ، لا الہ الااللہ”

  • اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی تناؤ اور اضطراب کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ اور جسم پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، اور ہمیں سکون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں ہم مختلف طریقے آزمانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز وہ جادوئی نسخہ ثابت ہو سکتی ہے جو آپ کے عصاب کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ آواز نہ صرف دل کو سکون دیتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کر دیتی ہے۔آواز کا دماغ پر اثر ایک قدرتی عمل ہے جو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب ہمیں کسی پسندیدہ شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، تو دماغ میں ایک قسم کا سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہ آواز ہمارے دماغ کو ایک محفوظ اور محبت بھری حالت میں لے آتی ہے، جو کہ ہمارے جسم میں اینڈورفنز (یعنی خوشی کے ہارمونز) کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

    اینڈورفنز، جو کہ قدرتی درد کش دوا کی طرح کام کرتے ہیں، ہمارے جسم کو سکون فراہم کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آواز آپ کے اندر ایک خاص احساس پیدا کرتی ہے جو آپ کے دماغ کو خوشی اور سکون کی حالت میں لے آتی ہے۔جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آپ کے دماغ میں ان یادوں کو تازہ کرتی ہے جو آپ نے اس شخص کے ساتھ گزاری ہیں۔چائے کی محفلیں،کھانے کی دعوتیں،دفتر میں گزرے پل،تنہائی کے حسین لمحے، وہ یادیں،باتیں اور تعلقات آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور جب وہ آواز آپ کے کانوں میں گونجتی ہے، تو وہ احساسات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ان یادوں اور تعلقات کا دماغ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ صرف آپ کو خوشی اور سکون نہیں دیتے، بلکہ آپ کو ایک محفوظ جگہ کا احساس بھی دلاتے ہیں، جو کہ ذہنی سکون کے لئے ضروری ہے۔ یہ تعلقات اور یادیں آپ کے جسم میں ایک حفاظتی نظام کی طرح کام کرتے ہیں، جو کہ اضطراب اور پریشانی کو کم کرتا ہے۔

    آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز کا دماغ پر اثر صرف ذہنی سکون تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا جسمانی اثر بھی ہوتا ہے۔ جب آپ کو سکون ملتا ہے، تو آپ کا جسم بھی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور آپ کے جسم میں تناؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سانسوں کا رفتار بھی نارمل ہو جاتا ہے، اور آپ کا جسم مکمل طور پر ریلیکس ہوتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق، جب ہم کسی کو اپنی پسندیدہ آواز میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں، تو ہمارے جسم میں ایک طرح کی فلاحی حالت پیدا ہوتی ہے جو ہماری صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    آج کل کے جدید دور میں ہم اپنی زندگی کے بیشتر حصے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے گزار رہے ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو کالز، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع نے ہمیں اپنے پیاروں سے میلوں دور ہونے کے باوجود جڑا رکھا ہے۔ جب ہم ان ذرائع کے ذریعے اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو ہمیں وہی سکون ملتا ہے جو ہم انہیں قریب محسوس کرنے پر پاتے ہیں۔یہی نہیں، بلکہ اب ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی اپنے پسندیدہ شخص سے بات کر سکتے ہیں، اور یہ آوازیں ہمیں زندگی کے دباؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے میلوں دور رہ کر بھی وہ احساسات اور سکون ہمیں فراہم کیا ہے جو ہم کبھی اس طرح سے نہیں محسوس کر پاتے تھے۔آخرکار، یہ کہنا کہ میلوں دور سے آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز آپکے عصاب کو پرسکون کرنے کی طاقت رکھتی ہے، محض ایک خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ جب آپ کے اندر سکون اور سکون کا احساس آتا ہے، تو آپ کا دماغ اور جسم دونوں بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔ یہ آپ کو اپنی زندگی کی مشکلات کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے توانائی فراہم کرتا ہے۔یاد رکھیں کہ زندگی میں پرسکونیت اور سکون کے لمحے بہت اہم ہیں، اور یہ صرف آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز سے ہی نہیں، بلکہ ان لمحوں سے جڑے ہوئے جذبات سے بھی ملتا ہے جو آپ کے اندر موجود ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی آواز ایک عجیب جادوئی اثر رکھتی ہے جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ شخص ہمارے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہو، تو اس کی آواز ہمارے اندر ایک سکون کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا دماغ پرسکون ہوتا ہے، بلکہ ہمارا جسم بھی ایک توانائی محسوس کرتا ہے جو ہمیں روزمرہ کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں، یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آپ کا پسندیدہ شخص آپ کو اپنی آواز کے ذریعے سکون دینے آتا ہے، اور اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کبھی بھی نہیں، غلطی سے بھی نہیں، اور اگر نظر انداز کر دیں تو سمجھیں…..بہت کچھ کھو دیا…

  • تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    ” وہ جس سے بھی محبت کرتا تھا، وہ اسے چھوڑ جاتا تھا۔ ”
    ماں باپ کی موت، بھائی کی دھتکار، نیلی کی بے وفائی، جان نثار کر دینے والے دوست کا دکھ، ہریرہ کا ہجر، منہ بولی بہن (تمکین) سے جدائی اور لاحاصل خوابوں نے اسے بے خود کر دیا تھا۔
    آخر زندگی نے اسے کیا دان کیا؟
    محض محرومیاں، کلفتیں اور اذیتیں ؟
    یہ کہانی ہے جنید کی، اور اس کی حرماں نصیبی کی۔
    اور یہ کہانی ہے ابوذر کی اور اس کے بلند بخت کی۔
    ” آخری خط، آخری ملاقات، آخری جملہ، آخری امید، اور آخری لمس اس کی زندگی کھا گیا تھا۔
    جنید کے اذیتوں بھرے کردار کے لیے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر موزوں رہے گا۔
    ” اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں مَیں
    اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے”
    اور مسیحا ابوذر کے کردار کا یہ شعر ترجمان ہے۔
    "کسی کے زخم پہ مرہم لگا دینا
    مسیحائی ہے، خدا کو پا لینا”

    یہ جدا جدا دو کردار نہیں، بلکہ ایک ہی کردار کے دو رخ ہیں۔ جنید کو ابوذر بنانے اور ذہنی اور روحانی طور پر مضبوط کرنے والوں میں ڈاکٹر زبیر خان، ڈاکٹر بہروز، رومیصہ، جلال بابا اور چاچا رفیق نے کلیدی کردار ادا کیا۔
    ماضی کے لوگوں نے اس حساس دل انسان کو ذہنی مریض بنا دیا تھا، ہمہ وقت وہ اسی آواز کے ساتھ چیختا چلاتا۔
    ” ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
    مرے دکھ کی دوا کرے کوئی”
    "قلب مضطر ” حنا وہاب صاحبہ کے قلم سے لکھا اصلاحی ناول ہے، اس ناول میں سماج میں بکھرے کئی موضوعات کو سمیٹ دیا گیا یے، جیسے، پیٹ پالنے کے لیے حرام کاموں میں ملوث ہونا، محبت اور اپنائیت کے اظہار میں کنجوسی کرنا اور پھر بعد میں پچھتاوا کرنا، ٹک ٹاک پر ناچ کر شہرت پانا، اور آئے روز لڑکیوں کو اچھی شکل و صورت نہ ہونے کی وجہ سے ٹھکرا دینا، لوگوں کی مسیحائی کرنا اور ہم سفر کا انتخاب کرتے وقت ظاہر سے زیادہ باطن کو مقدم رکھنا، مگر اس کا اساسی موضوع "ڈپریشن” ہے۔ جو ان تمام وجوہات کا نتیجہ یے۔ جس نے آج ہر دماغ پر راج کر رکھا ہے۔

    اکیسویں صدی کا ہر دوسرا شخص نفسیاتی مرض ( ڈپریشن) میں مبتلا ہے۔ جہاں امید اور آس نہ ہو وہاں ویرانی ہوتی یے، دل پر قنوطیت کے بادل چھائے رہتے ہیں اور ہمہ وقت یاسیت کی برکھا برستی رہتی ہے جو دل کو کلی طور کھوکھلا کر کے رکھ دیتی یے۔

    ہر مرض کی مانند ڈپریشن کا بھی علاج موجود ہے، جنید کے روحانیت پر مبنی سیشنز ہوتے رہے، اسے رنگوں سے کھیلنا پسند تھا، وہ رنگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا۔ برابر سیشن ہوتے رہے اور وہ کشاں کشاں اپنے آپ کو سنبھالنے لگا، اس مرض سے فرار کے بعد وہ لوگوں کا مسیحا بن گیا، انہیں ڈپریشن جیسے مرض سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ، اور اس نے ایک سیشن ایسی لڑکی کا کیا، جس کو گھر آئے ہر رشتے نے ٹھکرا کر ذہنی مریض بنا دیا تھا، ابو ذر نے اسے کھلے دل سے اپنایا اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام دے کر اسے معاشرے میں معتبر کر دیا۔
    ادب میں بہت سے ادیب معاشرے میں پھیلی برائیوں کو یکجا کر دیتے ہیں، مگر اس کا سدّباب قارئین کے سامنے پیش نہیں کرتے ہیں، یہ حنا وہاب صاحبہ کا خاصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف معاشرے میں پھیلتی بیماری کو بیاں کیا بلکہ اس کا تریاق بھی قلمبند کیا تاکہ قارئین اپنی زندگیوں کو اللّٰہ سے جوڑ کر تباہی اور زوال سے بچ سکیں۔

    آج معاشرے میں مقابلہ زیادہ ہے، گھٹن زیادہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے دور جا رہے ہیں، اور دلوں کو عناد اور نفاق ایسی خوارک فراہم کر رہے ہیں۔
    ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے ثابت کیا ہے کہ ڈپریشن ایسا ذہنی مرض خوراک کی تبدیلی، دواؤں، یا جھاڑ پھونک سے صحیح نہیں ہوتا بلکہ اس کا علاج ” گفت گو” سے ہوتا یے۔
    ٹاک تھراپی سے مریض اپنے اندر کی بھڑاس نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا۔
    پس معاشرے کو پُرامن اور لوگوں کو پُر سکون کرنے کے لیے۔۔۔۔
    ” بات سنتے رہو، بات کہتے رہو۔”
    صفحہ نمبر 68
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے دن میں رات کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    کیا اس جملے کی ترتیب صحیح ہے؟
    ریس تو رات میں شروع ہوئی تھی پھر دن میں رات کا سماں؟
    کچھ سمجھ نہیں آیا۔
    شاید جملہ کچھ اس طرح ہوگا :
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے رات میں دن کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    صفحہ نمبر 27
    ” اس کے داہنے ہاتھ پر برنولہ لگا ہوا تھا”
    برنولہ یا کینولا ؟
    صفحہ نمبر 37
    پرواہ یوں لکھا ہوا ہے، جب کہ پروا کے املا میں آخر میں "ہ ” نہیں آتا۔ ” پروا”
    صفحہ نمبر 78
    بارش کی آمد سے قبل باد نسیم کو محسوس کرتے۔
    بادِ نسیم صبح کی یا شام کی تازہ ہوا کو کہتے ہیں۔ جب کہ بارش سے قبل ہوا میں نمی اور زیادہ ٹھنڈک ہوتی یے تو اسے "بارانی ہوا” کہتے ہیں۔
    کتاب کے صفحات اور طباعت بہتر یے جب کہ سرِ ورق بہترین ہیں۔
    اصلاحی اور وقت کی ضرورت پر مبنی اس ناول کی اشاعت پر حِنا صاحبہ کو دلی مبارکباد۔
    اسی طرح اپنے قلم سے معاشرے کی اصلاح کرتی رہیے، اور اپنے حصّے کے دیپ روشن کرتی جائیے ان شاءاللہ آپ کی کاوشوں سے معاشرے میں ضرور سدھار آئے گا۔
    مشاہدہ کرتی رہیے، سوچتی رہیے اور لکھتی رہیے۔

  • عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    یو ایم ٹی میں ایک ادبی نشست منعقد کی گئی جو معروف ادبی شخصیت عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں تھی اس میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سمیت شاعروں ادیبوں اور عطا الحق قاسمی کی تحریروں کو پسند کرنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی یونیورسٹی کا سیمینار ہال کھچا کھچ بھرا تھا ،سٹیج پر عطا الحق قاسمی کے ساتھ معروف صحافی سہیل وڑائچ موجود تھے جنہوں نے عطاء الحق قاسمی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں دئیے، کئی موقعوں پر ہال کشت زعفران بن گیا عطا الحق قاسمی کی کتابوں اور تحریروں کا زکر رہا ،

    تقریب میں بیگم عطا الحق قاسمی اور ان کے صاحب زادے عمر قاسمی نے بھی شرکت کی عطا الحق قاسمی کے دوست احباب بھی بڑی تعداد میں موجود تھ،ے ایرانی قونصلیٹ آ غاے اصغر مسعودی نے بھی شرکت کی فارسی اور اردو میں اظہار خیال کیا اور عطا الحق قاسمی کو خراج تحسین پیش کیا عطا الحق قاسمی کے کالم ،، روزن دیوار سے ،، کا زکر رہا ،پروگرام کے بعد ایک فنکار نے اپنی خوبصورت آ واز میں عطا الحق قاسمی کا کلام پیش کیا اور علی امام من است و منعم غلام علی ، ہزار جان گرامی فداے نام علی منقبت پیش کی ، اس موقع پر سونیر بھی پیش کییے گئے اور آ خر میں کھانے کا بھی عمدہ انتظام تھا یونیورسٹی انتظامیہ اس عمدہ ادبی نشست کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے –

  • اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    تحریر: سید شاہزیب شاہ

    محبت ایک ایسا منفرد اور کمزور احساس ہے جو اس دنیا میں موجود کروڑوں لوگوں میں سے چند لوگوں کی زندگی میں دستک دیتا ہے۔ ویسے تو ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے احساس پیدا کر رکھا ہے جو ہر جاندار چیز کے لیے ہمدردی کے روپ میں محسوس کیا جاتا ہے، مگر محبت ایک ایسا احساس ہے کہ جب کوئی ہمارے معاشرے میں اسے سنتا ہے تو اُس کے ذہن میں ایک مختلف خیال پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہم لوگ بچپن سے بزرگوں سے، کتابوں کے مطالعے سے اور ماحول و معاشرے سے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ محبت وہ احساس ہے جو کسی کو کسی کی اجازت کے بغیر ہو جاتا ہے۔ جب کسی کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو اُس محبوب کے علاوہ اُسے کچھ نظر نہیں آتا۔ دن ہو یا رات، خوشی ہو یا غم، آندھی ہو یا طوفان، اُسے اُس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک عاشق اپنے محبوب کے خیال و فکر میں مدہوش و مگن رہتا ہے، اُس کے لیے جانے کیسی کیسی اور بڑے سے بڑے مشکلات کو خوشی خوشی مول لے لیتا ہے اور اُس کو حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف ہو جاتا ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اُسے محبت نہیں کھلاتی۔ زندگی کے سفر میں جیسے محبت کا سفر ہوتا ہے، ویسے ہی نجی زندگی میں بھی اور بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو پہلے اپنے گھر سے تین چار سال کی عمر میں بہت کچھ گھر و خاندان کی دیکھی سُنی چیزیں اپنے دماغ میں سما لیتے ہیں اور پھر ہمیں سکول یا مدرسے میں دین و دنیا کی کامیابی کے لیے داخلہ دلوایا جاتا ہے۔ پھر جوانی کی عمر میں، آج کے دور میں، ہم کالج، یونیورسٹی میں بڑی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تاکہ ہم اپنی اس زندگی میں کچھ کر سکیں، کامیاب بن سکیں، دنیا کو کچھ کر کے دکھا سکیں، والدین کی محنت کا نتیجہ دیکھا سکیں۔ لیکن یہ زندگی ہے، اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جب ہم محبت کے سمندر میں ڈبکی لگاتے ہیں تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سمندر کا پانی کھارا ہے۔ محبت کے اس سفر میں بہت کچھ حاصل کرنا پڑتا ہے اور بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ عاشق کی زندگی صرف محبت پر نہیں گزرتی۔ عاشقی تب ٹھکانے لگتی ہے جب اُسے رشتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رشتے ناتے سنبھالنا ایک عاشق کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ محبت کرنے والا جب پریشانیوں، دکھ، تکلیفوں اور رکاوٹوں کو ذہنی طور پر دیکھتا اور محسوس کرتا ہے تو وہ بےبس، کمزور اور بےحال ہو جاتا ہے۔ اور سب سے زیادہ کمزور تب ہوتا ہے جب اُسے اپنے ذاتی رشتوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور یہاں سے عاشق کی ناکامی شروع ہوتی ہے۔ اور وہی بات ہے کہ عاشق ناکام ہی اچھے لگتے ہیں۔

    لیکن یہ صرف منہ زبانی بات ہے۔ میری نظر میں عاشق کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ جب آج ہم محبت کی بات کرتے ہیں تو پنوں، مجنوں اور بھی بڑے بڑے نام کامیابی کے طور پر لیے جاتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی نوجوان محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میں ناکام ہوں یا مجھے ذاتی رشتوں یا پھر ناکامیوں کی وجہ سے کوئی مشکل درپیش ہے۔ نہیں بلکہ تم ناکام نہیں ہو، بلکہ تم محبت کر کے کامیاب ہو گئے ہو اور اس محبت سے تم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور بہت کچھ حاصل کیا ہے اور سب سے زیادہ محبت کا سلیقہ سیکھا ہے، جو عظیم ہے۔ اگر آج بھی آپ کی خواہش ہے کہ محبوب کو حاصل کیا جائے تو پھر میں یہاں فیض احمد فیض کا لکھا ہوا شعر کہنا چاہوں گا:

    "اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”

  • فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا علاقہ فلسطین آج ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں 12 ہزار سے زائد اجتماعی قتل عام، 51 ہزار سے زائد معصوم جانوں کا ضیاع، جن میں 18 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہیں یہ اعدادوشمار نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر پڑنے والے زخم ہیں۔یہ صرف چند سرخیاں نہیں، یہ ہر اس شخص کی چیخ ہے جو ظلم کا نشانہ بنا۔ یہ صرف فلسطینیوں کی آزمائش نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔ یہ ظلم صرف غزہ پر نہیں، انسانیت پر حملہ ہے۔

    فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کوئی حادثاتی جنگ نہیں بلکہ ایک منظم نسل کشی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں پوری کی پوری نسلیں صفحہ ہستی سے مٹادی گئیں۔20 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔طبی عملہ، صحافی، طلبا، سیکیورٹی اہلکار اور شہری دفاع کے کارکنان کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ وہ اقدامات ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مگر افسوس، عالمی برادری کی خاموشی اس ظلم کی سب سے بڑی پشت پناہی بن چکی ہے۔غزہ کی گلیاں آج بھی شہداء کے خون سے تر ہیں، مائیں اپنے بچوں کو ملبے تلے سے نکال رہی ہیں، بچے اپنے والدین کی لاشیں تھامے بیٹھے ہیں، اور نوجوان اپنی برباد بستیوں میں امید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔

    ہم فلسطینیوں کے جذبہ قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کے بدلے عزت و وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں حضرت حسینؑ کی کربلا یاد دلاتی ہے، کم تعداد، بے سروسامانی، مگر سچائی کے لیے سر کٹانے کا حوصلہ،لیکن سوال یہ ہے کہ …ہم کہاں کھڑے ہیں؟آج سوال فلسطین کا نہیں، سوال ہمارے ایمان، ہماری غیرت اور ہمارے ضمیر کا ہے۔ کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے دعاؤں، مالی امداد، شعور و آگہی پھیلانے اور آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں؟ہمیں یاد رکھنا ہوگا
    "جو ظلم کے خلاف خاموش رہے، وہ بھی ظالم کے ساتھ کھڑا ہے۔”

    ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہم تمہاری قربانیوں کو ضائع نہیں جانے دیں گے۔ہم ہر ممکن پلیٹ فارم پر تمہارے لیے آواز اٹھائیں گے۔ہم دنیا کو بتائیں گے کہ فلسطین کی جنگ، انسانیت کی جنگ ہے۔یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، یہ وقت دنیا کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے۔ ہمیں ان طاقتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس بربریت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ہمیں عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نسل کشی کو روکے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے۔فلسطین کی سرزمین لہو رنگ ہے، وہاں کی فضائیں سسکیوں سے بھری ہوئی ہیں، لیکن وہاں کے لوگوں کا حوصلہ بلند ہے۔ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یقیناً ایک دن فتح ان کا مقدر بنے گی۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب فلسطین آزاد ہو اور وہاں امن و امان قائم ہو۔آئیے مل کر دعا کریں، آئیے مل کر آواز اٹھائیں، آئیے مل کر ان مظلوموں کا ساتھ دیں، یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔

  • پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اور الحمد اللّٰہ میں اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتی ہوں۔
    اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قرآن میں وعدے کرتا یے، ان تمام عہدوں میں سے ایک عہد یہ بھی ہےکہ آپ جیسے ہوں گے، ہم سفر بھی ویسا ملے گا۔
    اگر آپ خبیث ہیں، تو خباثت آپ کی منتظر ہے۔ اور اگر آپ نیک ہیں اور نیکی آپ کے لیے محو انتظار ہے۔
    خبیث کو خبیث ملنا ہے اور طیب کو طیب !
    یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے۔
    اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ۔ ( سورہ نور)
    ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے۔
    پس اسی کے پیشِ نظر اس قسم کی باتیں میری بشاشت کا ساماں نہیں بن پاتیں۔ میں ہر بار یہی کہتی ہوں کہ میں اپنی ہم عمر لڑکیوں بالیوں سے بہت مختلف ہوں، مجھے اپنی تعریف اور توصیف سن کر ذرا خوشی نہیں ہوتی، میرے پاس لٹوں کو سنبھالنے کا وقت نہیں اور فیشن کرنے میں میری کوئی دل چسپی نہیں، البتہ کوئی دل سے تعریف کرے تو میں پہچان لیتی اس میں کتنا صدق اور اخلاص ہے، بس پھر ذرا مسکرا دیتی ہوں۔ جھوٹی تعریفوں پر مسکرایا نہیں جاتا۔
    میری خواہشات کی فہرست میں پہلی خواہش یہی ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی پسندیدہ بن جاؤں۔
    پس اللّٰہ تعالیٰ نفیس ہے اور نفاست کو پسند کرتا یے، وہ لطیف ہے اور لطافت کو پسند ہے۔ وہ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔
    لہذا انہی پسند کے تعاقب میں زندگی رواں ہے۔