Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برصغیر کی تاریخ کبھی ایک متحدہ سیاسی اکائی کی نہیں رہی۔ مختلف سلطنتوں، ریاستوں اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل یہ خطہ ہمیشہ ثقافتی، لسانی، نسلی اور مذہبی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مرہٹہ کنفڈریسی، سکھ سلطنت، میسور، حیدرآباد اور دیگر چھوٹی بڑی طاقتیں وجود میں آئیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے طاقت کے زور پر برصغیر کو اپنے قبضے میں لے لیا تاہم 565 سے زائد پرنسلی اسٹیٹس کو نیم خودمختاری کے ساتھ باقی رکھا۔ "ہندوستان” محض جغرافیائی شناخت تھی، کبھی ایک حقیقی متحدہ قوم یا ملک نہیں تھا۔

    1947 میں برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی۔ محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے واضح کر دیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جن کی تہذیب، ثقافت، دین اور تاریخ جداگانہ ہے۔ انگریزوں نے تقسیم کے وقت اصول بنایا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو کہ جواہر لال نہرو کی قربت کا فائدہ اٹھا رہے تھے نے بدنیتی سے گورداسپور جیسے علاقے بھارت کے حوالے کر دیے تاکہ کشمیر پر قبضے کی راہ ہموار ہو۔ اس عمل کی نشاندہی برطانوی مؤرخ الیسٹر لیم نے اپنی کتاب "Kashmir: A Disputed Legacy (Alastair Lamb, 1991)” میں بھی کی ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
    "The transfer of Gurdaspur to India was a political decision to enable access to Kashmir, and not an objective boundary demarcation.”

    پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاستوں میں قلات، مکران، خاران، لسبیلہ، دیر، سوات، چترال، ہنزہ اور نگر جیسی اہم ریاستیں شامل تھیں، جو اپنی اسلامی شناخت اور جغرافیائی قربت کی بنیاد پر پاکستان کا حصہ بنیں۔اس کے برعکس بھارت نے جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ جوناگڑھ کے نواب مہابت خان جی نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تو بھارت نے فوجی کارروائی کر کے ریاست پر قبضہ کر لیا اور جعلی ریفرنڈم کرایا جس کی کوئی بین الاقوامی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 39 (1948) اور 47 (1948) کے تحت کشمیر اور دیگر متنازعہ علاقوں میں غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے بھارت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

    بھارت کی اس جارحانہ فطرت نے آج بھی اس کے اندر کئی علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دے رکھا ہے۔ پنجاب میں خالصتان تحریک، مشرقی ہندوستان میں ناگا لینڈ، منی پور، میزورم اور آسام کی تحریکیں، جنوبی ہندوستان میں تامل ناڈو کی علیحدگی کی خواہش اور چھتیس گڑھ و جھاڑکھنڈ میں ماو نواز بغاوتیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ بھارت محض فوجی طاقت سے اپنی مصنوعی وحدت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی رپورٹ "India: Human Rights Challenges” (2022) کے مطابق
    "India faces widespread allegations of human rights abuses in regions like Kashmir, Punjab, and the Northeast, where separatist movements are met with disproportionate force and suppression of dissent.”
    مودی سرکار جو کہ انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی فکری تربیت یافتہ ہے، نے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
    آر ایس ایس، جس کے بارے میں بی بی سی نے اپنی تحقیق ("The Men Who Killed Gandhi”, BBC Documentary, 2017) میں کہا
    "The ideology that led to Gandhi’s assassination continues to influence India’s political mainstream through organizations like the RSS and its political wing, BJP.”
    مودی کے ہاتھ پہلے بھی بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہیں۔ 2002 کے گجرات فسادات جن میں 2000 سے زائد مسلمانوں کا قتل عام ہوا، مودی کی وزارت اعلیٰ میں ہوئے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ "India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims” (Amnesty, 2012) میں لکھا
    "The Gujarat government, under Narendra Modi, failed to protect minority communities and later obstructed justice for victims of the 2002 pogrom.”

    اسی پس منظر میں امریکہ نے 2005 میں مودی کا ویزہ منسوخ کر دیا تھا، جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا
    "Modi was denied entry to the United States under a provision of the Immigration and Nationality Act which bars entry to foreign officials responsible for severe violations of religious freedom.”

    پلوامہ حملہ 2019 میں بھی مودی سرکار کی سازش کی ایک کڑی تھی۔ دی گارڈین (The Guardian, 2020) نے اپنی رپورٹ میں اشارہ دیا کہ
    "Pulwama attack was exploited by the ruling party to stir nationalist fervor and distract from domestic economic issues.”

    اب ایک بار پھر پہلگام میں فالس فلیگ حملہ کرایا گیا جس کا مقصد بہار سمیت دیگر ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینا ہے۔ اس حملے کے بعد مودی سرکار نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور ساتھ ہی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے،سندھ طاس معاہدہ جو 1960 میں صدر ایوب خان اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے درمیان ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حق دیتا ہے۔

    ورلڈ بینک کی رپورٹ "Indus Waters Treaty: A History” (2015) میں وضاحت کی گئی ہے کہ
    "The Indus Waters Treaty is regarded as one of the most successful water-sharing endeavors in the world, surviving wars and hostilities.”
    اگر بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی آبی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق”Weaponization of water resources during conflicts is considered a violation of international humanitarian law and may amount to a war crime.”

    پاکستان نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی بینک کو باضابطہ شکایات جمع کرائی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ پانی روکنے کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور پاکستان نے اپنی مسلح افواج کو الرٹ کردیا ہے ،محکمہ سول ڈیفنس کو بھی ایکٹیو کردیا گیا ہے ،پاکستانی عوام کی مثالی یکجہتی اور جذبہ جوان ہے اگربھارت نے پاکستان کاپانی بند کرنے یاحملہ کرنے کی حماقت تو اسے ایسا جواب دیاجائے گا جس کے بارے میں مودی سرکار نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا.

    بھارت کی تاریخ زبردستی، جارحیت اور بدنیتی پر مبنی پالیسیوں سے بھری پڑی ہے۔ تقسیم کے وقت جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور کشمیر پر قبضے سے لے کر پہلگام فالس فلیگ حملے اور سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی دھمکیوں تک، بھارت اپنے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان دشمنی کو ہتھیار بناتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکا یا جنگ مسلط کی تو جنوبی ایشیا ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ پاکستان ایک قدرتی، مستحکم ریاست ہے جو اپنے پانی، اپنے وقار اور اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ عالمی برادری کو بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

    حوالہ جات (References):
    Alastair Lamb, Kashmir: A Disputed Legacy (1991)
    United Nations Security Council Resolutions 39 and 47 (1948)
    Human Rights Watch, India: Human Rights Challenges (2022)
    BBC Documentary, The Men Who Killed Gandhi (2017)
    Amnesty International, India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims (2012)
    U.S. Department of State, Statement on Modi’s Visa Denial (2005)
    The Guardian, Pulwama Attack and BJP Strategy (2020)
    World Bank, Indus Waters Treaty: A History (2015)
    United Nations Environment Programme (UNEP), Water and Armed Conflicts Report (2017)

  • کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان
    تحریر: منصور بلوچ، پریس کلب تنگوانی
    ضلع کشمور میں اس وقت امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں عام زندگی مفلوج اور عذاب بن گئی ہے اور علاقے کا امن و امان تباہ ہو گیا ہے۔
    ضلع کشمور میں کئی طاقتور ڈاکو گینگز موجود ہیں لیکن یہاں ہم تحصیل تنگوانی کے ڈاکو گینگز کی بات کریں گے۔

    طاقتور ڈاکو گینگز کے ہاتھوں علاقے کی عوام یرغمال بنی ہوئی ہے، جن میں خاص طور پر بھلکانی گینگ، بھیہ گینگ، کوکاری گینگ، جعفری گینگ، بنگلانی گینگ اور بہت سارے چھوٹے بڑے گروہ شامل ہیں۔ ان گروہوں نے خاص طور پر تحصیل تنگوانی کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔
    یہ ڈاکو گینگز بغیر کسی خوف کے دن دہاڑے اور رات کو سڑکوں، دیہاتوں اور بستیوں پر چوری، رہزنی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں اور کئی وارداتوں میں مفرور ہیں۔

    یہ ڈاکو ہائی ویز اور لنک روڈز پر روزانہ سرعام پولیس کے سامنے ڈاکہ ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ان گینگز کی دہشت گردی اور ظلم کی وجہ سے مقامی لوگ مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں، اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کاروباری طبقہ کاروبار کرنے سے ڈر رہا ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ ان سب کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

    سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصاً پولیس اور رینجرز، کہیں نظر نہیں آتے۔پولیس کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس ان طاقتور گینگز کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے یا اس کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔نتیجتاً گینگز کے ملزم ڈاکو بہت خوفناک ہو چکے ہیں اور پولیس نے عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔

    کیا کشمور کے عوام پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان لوگوں کو پرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں ہے؟

    اس وقت تنگوانی کے کتنے ہی گھر اُجڑ چکے ہیں، کتنے ہی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ کتنے ہی افراد اغوا ہو چکے ہیں جن کی بازیابی کے لیے ریاست کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔

    ہم سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا کشمور ضلع کی عوام پر رحم کریں اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جائے۔ ڈاکو گینگز کا خاتمہ کیا جائے۔پولیس فورس کو مزید مضبوط اور بااختیار بنایا جائے، پولیس کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ پولیس اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کرے۔

    کشمور کی عوام اس عذاب سے نجات چاہتی ہے، امن و امان چاہتی ہے پر سکون زندگی گزارنا چاہتی ہے اور ڈاکو گینگز اور دہشت گردی کے عذاب سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے۔کوئی ہے جو عوام کو ڈاکوؤں سے آزادی اور تحفظ دلائے؟؟؟

  • مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تاہم کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی حکومت خود پھنس چکی ہے بلاشبہ عالمی دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی مگر عالمی دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ بغیر ثبوت بھارت کس طرح پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے بھارت کو اب عالمی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ وطن عزیز کی علاقائی و صوبائی سیاسی جماعتیں پانی کی نہروں کو لے کر سینہ کوبی کرتی نظر آرہی ہیں کالا باغ ڈیم جیسے عظیم قومی منصوبے کی مخالفت کس نے کی اس قومی منصوبے کو پیپلزپارٹی نے دفن کیوں کیا؟ کون سی سیاسی جماعت یہ نہیں جانتی تھی کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ڈیمز بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں ایک ٹیم کی رپورٹ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریت کے نیچے پانی ہے پر عمل کرنا چاہا جس سے چولستان کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے سیاسی افراتفری کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنے دیا گیا پھر دوبارہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نوازشریف نے قدم بڑھایا تو نام نہاد پانامہ لیکس اور سیاسی افراتفری نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا۔ پانی کو لے کر سینیٹر پرویز رشید اس وقت بار بار اپنی آواز بلند کرتے رہے مگر حوس اقتدار اور حکومت کرنے کے خواہشمندوں نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا نہروں کو لے کر پیپلزپارٹی اج سینہ کوبی کر رہی ہے 1990ء میں نہروں کو لے کر جو منصوبہ نوازشریف نے بنایا تھا اس پر صوبہ سندھ سے لے کر تمام صوبوں کا اتفاق تھا۔

    2022ء میں ایک آبی ماہر حسن عباس نے ایک رپورٹ بنائی جس کو گرین پاکستان کا نام دیا گیا تھا اس منصوبے پر جناب آصف زرداری نے اتفاق کیا تھا منصوبے کے تحت چار نہریں پنجاب دو سندھ تھرپارکر میں بنائی جانی تھیں پی پی پی آج سیاسی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی یاد رکھے گرین پاکستان منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا اس میں وطن عزیز اور کروڑوں پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ ہے ویسے بھی دریائے سندھ پر صرف سندھ کا لفظ ہونے کی بنا پر سندھ کا قبضہ نہیں ہو جاتا یہ دریا کے پی کے بالائی علاقوں سے نکلتا ہے اس منصوبے سے پاکستان کی بھلائی ہے، یاد رکھیئے! پاکستان اور عوام کی ضروریات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا ہماری سیاست اور جمہوریت کیسی ہے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں آپ نوازشریف سے اختلاف کر سکتے ہیں نوازشریف کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن وطن عزیز اور قوم کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملک و قوم کے لئے خدمات کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں بلاول بھٹو اگر اپنے نانا اور اپنی والدہ محترمہ کی سیاسی زندگی پر عمل کریں تو پیپلزپارٹی دوبارہ قومی جماعت بن سکتی ہے ورنہ ایک صوبے تک ہی محدود رہے گی۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ خونی، دھوکے اور بداعتمادی کی داستان ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر آج تک بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگوں، دراندازی اور دہشت گردی کے ذریعے اپنی دشمنی کو بارہا ثابت کیا ہے۔ حالیہ پہلگام حملہ اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نے بھارتی عزائم کا پول ایک بار پھر کھول دیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان بھارتی خطرے کا مقابلہ پوری قوت، جرأت اور عزم کے ساتھ کرے کیونکہ اب خاموشی یا دفاعی پوزیشن کوئی آپشن نہیں!

    1947 کی تقسیم کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف چار بڑی جنگیں لڑیں 1948، 1965، 1971 اور 1999 کی کارگل جنگ۔ کشمیر کا تنازعہ ان جنگوں کا مرکز رہا، سوائے 1971 کے جب بھارت نے مکتی باہنی کو ہتھیار اور تربیت دے کر مشرقی پاکستان کو دولخت کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود اس "فتح” کا ڈھنڈورا پیٹا۔ بھارت نے 1965 میں مغربی پاکستان پر حملہ کیا، جو ناکام رہا اور کارگل میں پاکستانی فوج کی محدود پیش قدمی کو عالمی دباؤ سے روکا لیکن اس تنازعے نے بھارتی فوج کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔

    بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کا ہاتھ ہے۔ 2016 میں گرفتار بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو فنڈز اور ہتھیار دے رہا تھا۔ یہ ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بناتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کو بھارتی سرپرستی کے شواہد بھی عیاں ہیں۔ جعفر ایکسپریس جیسے واقعات بھارتی کردار کی گواہی دیتے ہیں۔

    بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ شرمناک ہے۔ 2007 کے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں میں 68 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ ابتدا میں پاکستان پر الزام لگایاگیا لیکن ثابت ہوا کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے یہ حملہ کیا تاکہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے ہموار ہو اور امن عمل تباہ ہو۔ 2019 کا پلوامہ حملہ بھی ایک ڈرامہ تھا۔ بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا کر بالاکوٹ میں نام نہاد "سرجیکل سٹرائیک” کی۔ جس پرپاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا۔ ارنب گوسوامی کی لیک چیٹ نے ثابت کیا کہ پلوامہ ڈرامہ انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے رچایا گیا۔

    حالیہ پہلگام حملہ جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے۔ تھانے کی ایف آئی آر نے اس ڈرامے کا پردہ چاک کر دیا۔ بھارت نے اسے جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا جو بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا اور اس کی معطلی کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی درکار ہے۔ بھارت کا یہ اقدام پاکستان کی زراعت اور معیشت کے خلاف آبی جارحیت ہے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔

    پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے اور پاکستانی سفارتی عملے کو "ناپسندیدہ” قرار دے کر واپس جانے کا حکم دیا۔ واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش اور سارک ویزوں کا خاتمہ بھارتی دشمنی کا عروج ہے۔ یہ سفارتی اصولوں کی توہین اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے۔

    اب وقت ہے کہ پاکستان بھارت کے اس جارحانہ رویے کا مقابلہ پوری طاقت سے کرے۔ پاکستان نے حال ہی میں فضائی حدود بند کیں، میزائل تجربہ کیا اور بھارتی دہشت گردی کا سخت جواب دیا۔ یہ اقدامات درست ہیں لیکن کافی نہیں۔ پاکستان کو عالمی فورمز پر بھارت کی غیر قانونی معطلی اور آبی جارحیت کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ فوج کو ہائی الرٹ پر رکھ کر ایل او سی، انٹرنیشنل بارڈر پر کسی بھی قسم کی بھارتی حرکت کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ بھارتی ہائی کمیشن کو بند کیا جائے اور بھارتی شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگائی جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر معطل ہو اور سارک جیسے فورمز میں اس کی شرکت روکی جائے۔ چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سفارتی اور اسٹریٹجک اتحاد مضبوط کیا جائے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بھارت فریب کاری، ریاستی دہشت گردی اور علاقائی جارحیت سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہا۔ پہلگام میں نہتے کشمیریوں پر بزدلانہ حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی، اسی مذموم سلسلے کی ناقابل تردید کڑیاں ہیں۔ یہ واقعات خطے میں بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    اب یہ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ سفارتی، عسکری اور اقتصادی محاذوں پر انتہائی سنجیدگی اور دوراندیشی کے ساتھ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔ یہ لمحہ کسی بھی قسم کی تذبذب یا کمزوری دکھانے کا نہیں، بلکہ قومی یکجہتی، بے مثال اتحاد اورغیر متزلزل عزم کا متقاضی ہے۔ بھارتی خطرے کا مؤثر اور دائمی سدباب صرف اور صرف ناقابل تسخیر قوت کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

    پاکستان کا استحکام اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اب نہ کسی مصلحت آمیز سمجھوتے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی قسم کی پسپائی اختیار کی جا سکتی ہے۔ وقت کاتقاضا ا ہے کہ ہم ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیں کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب صرف سخت اور مؤثر جوابی کارروائی سے دیا جائے گا۔ یہ ہماری بقا، ہماری خودمختاری اور ہمارے قومی وقار کا معاملہ ہے۔ اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی، صرف سخت جوابی کارروائی!

  • بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دینا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن پر کھلا وار اور آبی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام بھارت کے اُس توسیع پسندانہ عزائم کی ایک نئی قسط ہے جس کی ابتدا مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات سے ہو چکی ہے۔ اب پانی جیسی قدرتی نعمت کو ہتھیار بنا کر بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پروا ہے اور نہ ہی انسانیت کا لحاظ۔
    1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس، راوی) بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو وہ پانی فراہم کیا جس پر ہماری لاکھوں ایکڑ زمین انحصار کرتی ہے۔ بھارت کو اس معاہدے کی بدولت مشرقی دریا مکمل طور پر ملے، جب کہ پاکستان نے اعتماد، مروت اور عالمی ثالثی پر بھروسا کرتے ہوئے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے۔بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان، دراصل اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی عام دو طرفہ مفاہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ثالثی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا مطلب ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا آغاز کر رہا ہے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں تباہ کن تنازع کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
    پاکستان کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی، لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اگر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، تو وہ محض الفاظ یا احتجاج تک محدود نہ ہوگا۔ اگر ہماری زمینیں بنجر ہوئیں، تو بھارت کی فضائیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ اگر ہمارے کسان پیاسے مرے، تو بھارتی معیشت بھی پانی کے ایک قطرے کو ترسے گی۔ جنگ ہم نہیں چاہتے، لیکن اگر دشمن ہم پر مسلط کرے گا تو ہم تاریخ کو یہ بھی دکھا دیں گے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کیسے دیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے بین الاقوامی طاقتیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر بیان بازی کرتی ہیں، آج بھارت کے اس سنگین اقدام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو اب جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا کے کئی خطوں میں آبی وسائل کی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔
    بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان صرف زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا تو یہ اُس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے کسی بھی مغربی دریا پر پانی روکا، تو یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ہم نہ صرف بھرپور سفارتی، قانونی اور عسکری جواب دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو آبی دہشتگرد اور معاہدہ شکن ملک کے طور پر بے نقاب کریں گے۔سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، بقاء کا مسئلہ ہے۔ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو زیر کر لے گا تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے بھی اپنے دفاع میں کیے تھے، پانی کے ایک قطرے کے لیے بھی ہم وہی جذبہ رکھیں گے۔ دشمن کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم متحد ہو جائے تو نہ صرف دریاؤں کا رخ موڑ سکتی ہے بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہے۔
    اب جب کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی بھارت کو سخت جواب دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب صرف الفاظ سے کام نہیں چلے گا۔ قومی سلامتی کے ادارے، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سب ایک صفحے پر ہیں اور یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم امن پسند ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہر میدان، ہر محاذ اور ہر دریا پر پاکستان کی جیت ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے — چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا سرحدی مورچے۔

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی ترک کرنے کا فیصلہ زندگی بدل دینے والا قدم ہے، جو آپ کو ایک صحت مند مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ بلاشبہ اس عادت سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے کے سفر میں نکوٹین کی طلب، اس کی کمی کی علامات اور رویے میں تبدیلی جیسے کئی چیلنجز حائل ہیں۔ اگرچہ یہ مشکلات ترکِ تمباکو کو کٹھن بناتی ہیں، لیکن صحیح حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے ان پر قابو پانا ممکن ہے۔ ایک پختہ ارادے والا شخص ان ابتدائی رکاوٹوں کو عبور کر کے تمباکو سے پاک زندگی گزار سکتا ہے۔

    سب سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صحت کی بہتری، مالی بچت یا اپنے عزیز و اقارب کو سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ اس وجہ کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جب ترکِ تمباکو کا عزم کمزور پڑنے لگے، تو یہ یاد دہانی ایک مضبوط سہارا ثابت ہو۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کو اپنی اولین ترجیح بنانے سے ایک سگریٹ نوش کا مقصد واضح رہتا ہے، ورنہ ایک معمولی سا کش بھی اسے دوبارہ اس عادت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

    جب ایک تمباکو نوش اس عادت کو چھوڑنے یا یوں کہیے کہ نکوٹین سے چھٹکارا پانے کا عزم کرتا ہے تو اس کے جسم پر تین طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جسمانی اثرات، رویے میں تبدیلیاں اور نکوٹین کی طلب۔ نکوٹین کی عدم موجودگی کے باعث سگریٹ نوش کو بنیادی طور پر سر درد، تھکاوٹ اور متلی جیسے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چڑچڑاپن اور اضطراب جیسے رویے میں بدلاؤ جذباتی اثرات ہیں۔ یہ عارضی ضرور ہیں لیکن ان پر مناسب طریقے سے قابو پانا ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ایک تمباکو نوش کے دوبارہ تمباکو نوشی شروع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    ان علامات کا سامنا کرنے پر روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی لیکن اہم تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے، زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں۔ زیادہ مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، صحت بخش غذا کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ پھلوں، سبزیوں اور پروٹین سے بھرپور متوازن غذا خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑاپن اور طلب میں بھی کمی لاتی ہے۔روزمرہ کے معمولات میں ایک اور مثبت تبدیلی باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ جسمانی سرگرمی اینڈورفنز (Endorphins) نامی کیمیکل خارج کرتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتی ہے اور بے چینی کو دور کرتی ہے۔

    کامیابی کے ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے محتاط، ہوشیار اور پرسکون رہنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گہری سانسیں لینا، توجہ مرکوز کرنا، یا یوگا کرنا تناؤ اور اضطراب سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ، دوستوں اور خاندان کی مدد بھی تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس طرح دوست تمباکو نوشی شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں، اسی طرح وہ اس عادت کو دوبارہ شروع کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ لہٰذا، دوست، خاندان اور معاون گروپس ترکِ تمباکو کی اس جدوجہد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ تمباکو کا استعمال نہ کریں۔

    ایک تمباکو نوش کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف رکھے۔ مطالعہ کرے، نئی چیزوں یا مشاغل میں دلچسپی لے اور خود کو ان میں مشغول رکھے۔ جب تمباکو کی طلب محسوس ہو گی، تو نئی دلچسپیوں کی تلاش اس کی توجہ کو تمباکو کے استعمال سے ہٹانے میں معاون ثابت ہو گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر گزارے گئے ہر دن یا ہفتے کو یاد رکھیں، کیونکہ یہ آپ کی کامیابی ہے۔ اپنی ان چھوٹی بڑی کامیابیوں کا جشن منائیں اور اپنے آپ کو کسی بامعنی چیز سے نوازیں۔

    اگر ان اقدامات کے باوجود بھی ترکِ تمباکو کے اثرات پر قابو پانا مشکل ہو جائے تو کسی ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ مشاورت، تھراپی اور ویرینکلن (Varenicline) جیسی ادویات اضافی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے حیران کن فوائد ہیں۔ تمباکو کا استعمال چھوڑنے کے بعد ہفتوں میں سانس لینے میں بہتری آتی ہے، مہینوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور سالوں میں زندگی کی متوقع مدت میں اضافہ ہوتا ہے۔بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کا مطلب صرف تمباکو کا استعمال ترک کرنا نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرنا بھی ہے۔

  • رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے ہر رشتے میں اختلافات ایک فطری عمل ہے۔ دوستوں کے درمیان، والدین اور اولاد کے درمیان، شوہر اور بیوی کے درمیان، یا حتیٰ کہ ہمسایوں کے درمیان بھی کبھی نہ کبھی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غلط فہمی یا ناراضی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو کیسے لیتے ہیں؟ کیا ہم ہر بات پر رشتہ توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ہم ایک لمحہ رک کر سوچتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا انسان ہمارے خلاف ہے، یا وہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف صرف نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچنے کی صلاحیت، اس کی پرورش، تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم بغیر سوچے سمجھے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم وہ دروازے بند کر دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑ سکتے تھے۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر رشتہ قیمتی ہوتا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دل سے ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں اگر ہم تھوڑا سا تحمل، برداشت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، تو شاید ہم بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اکثر اوقات چھوٹی باتوں پر ناراضی شروع ہوتی ہے، اور پھر وہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ برسوں پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور افواہوں کا دور ہے، وہاں "تفرقہ ڈالنے والے” عناصر بہت سرگرم ہیں۔ ایک کامیاب رشتہ یا مضبوط تعلقات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایسے موقعوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، اور پیغام رسانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کو رک کر یہ سوال کریں کہ "کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟” تو شاید ہم بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکیں۔

    غلط فہمیاں اکثر ان لوگوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں جو ہماری زندگی میں منفی سوچ لے کر آتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات پر برا ماننے لگیں، بغیر تصدیق کے کسی کی بات پر یقین کر لیں، تو ہم خود اپنے رشتوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی بات خود کریں، وضاحت طلب کریں، اور دل صاف رکھیں۔آخری بات یہی ہے کہ”اس سے پہلے کہ ہم کسی سے اختلاف کریں یا رشتہ توڑیں، ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟”یہ سوال نہ صرف ہمارے فیصلے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمیں اندر سے مضبوط، باشعور اور بالغ نظر بھی بنائے گا۔