Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    عید الاضحیٰ کا تہوار جہاں قربانی، ایثار اور محبت کا پیغام لے کر آتا ہے، وہیں یہ صفائی و ستھرائی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے۔ لاکھوں جانوروں کی قربانی کے بعد آلائشوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں ٹھکانے لگانا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے عموماً کئی شہری ادارے نمٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر سال 2025 میں، پنجاب حکومت اور خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی ہدایات پر قائم کی گئی "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی انتھک محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

    لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آلائشوں کا ٹھکانے لگانا ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اس بار "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی جانفشانی سے نہ صرف بروقت آلائشیں اٹھائیں بلکہ گلی گلی، محلہ محلہ جا کر جراثیم کش اسپرے بھی کیا، جس سے نہ صرف بدبو سے نجات ملی بلکہ بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس بار لاہور کی گلیاں، بازار، چوراہے اور پارکس عید کے ایام میں بھی صاف ستھرے، خوشبودار اور قابل دید رہے۔ لاہور کی عوام نے اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی عید کی خوشیاں ہمارے لیے قربان کر دیں۔

    یہ صرف لاہور تک محدود نہیں تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں صفائی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، بہاولپور، سیالکوٹ، سرگودھا سمیت ہر علاقے میں "صاف ستھرا پنجاب” کی ٹیمیں دن رات متحرک رہیں۔ ہر کال پر فوری رسپانس، ہر گلی میں حاضری، اور ہر شکایت پر فوری ایکشن نے اس پروگرام کو عوام میں بے حد مقبول کر دیا۔

    صفائی صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ "صاف ستھرا پنجاب” کی کامیابی اسی وقت دیرپا اور مؤثر ہو سکتی ہے جب عوام بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ گندگی سڑک پر پھینکنے، نالیاں بند کرنے، اور کچرا عوامی مقامات پر ڈالنے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔عوامی شعور کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مقامی تنظیمیں صفائی کے موضوع پر مسلسل آگاہی مہمات چلائیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ کچرے کو ری سائیکلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ کے جدید طریقوں سے ٹھکانے لگایا جائے۔کچرا جلانے یا زمین میں دبانے کی بجائے ماحول دوست طریقے اپنائے جائیں۔شہری علاقوں کے قریب ڈمپنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اب صرف ایک صفائی مہم نہیں رہا بلکہ یہ ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے جس پر دیگر صوبوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا سہرا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت، ٹیم کے اخلاص، اور عوام کے تعاون کو جاتا ہے۔ہم بحیثیتِ شہری دل کی گہرائیوں سے "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم، حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک صاف، ستھرا اور صحت مند عید کا تحفہ دیا۔

  • سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ اور سادات بخاریہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے، جن کا تعلق سرائیکی وسیب کے روحانی مرکز اوچ شریف (تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان) سے تھا۔ ان کی زندگی دین اسلام کی اشاعت، فلسفہ تصوف، اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف رہی۔ ان کا لقب "جہانیاں جہانگشت” ان کی عالمگیر سیاحت اور دین کی تبلیغ کے لیے وسیع سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

    آپ کی ولادت 14 شعبان 707ھ (9 فروری 1308ء) اوچ شریف میں حضرت سید سلطان احمد کبیر بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے گھر ہوئی، اور آپ کا سلسلہ نسب 17 واسطوں سے حضرت امام حسین علیہ السلام تک جاتا ہے۔ آپ کے دادا حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ تھے، جن کے نام پر آپ کا نام رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اوچ شریف میں قاضی بہاؤالدین سے حاصل کی، پھر ملتان شریف میں شیخ موسیٰ اور مولانا مجد الدین سے فیض اٹھایا۔ مزید تعلیم کے لیے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، جہاں قرآنی علوم، حدیث، تفسیر، فقہ، اور تصوف کی تکمیل کی۔

    مکہ میں حضرت شیخ عبداللہ یافعی اور شیخ عبداللہ مطری سے صحاح ستہ اور عوارف المعارف کا مطالعہ کیا۔ آپ سلسلہ سہروردیہ، قادریہ، چشتیہ، اویسیہ، اور نقشبدیہ سے منسلک تھے اور اپنے والد، چچا، اور 14 عظیم روحانی ہستیوں سے خرقہ خلافت حاصل کیا، جن میں حضرت خضر علیہ السلام کا خصوصی خرقہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور حضرت شیخ رکن الدین عالم ملتانی سے بھی اجازت حاصل کی۔

    دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آپ نے مکہ، مدینہ، بیت المقدس، یمن، ایران، عراق، افغانستان، اور برصغیر سمیت دنیا بھر کا سفر کیا اور ہزاروں غیر مسلموں کو کلمہ طیبہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ سرائیکی وسیب میں رجپوت قبیلہ منج کی آپسی لڑائی ختم کروائی اور گجرات و کاٹھیاواڑ کے نوابوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ آپ نے متعدد دینی مدارس، مساجد، اور خانقاہیں تعمیر کروائیں۔ آپ کی کرامات میں ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک ظالم حاکم کو دعا سے دیوانگی میں مبتلا کیا اور معافی مانگنے پر اسے شفا دی۔

    آپ کے ملفوظات میں چند اہم فرمودات شامل ہیں: اللہ کا ولی صرف رب سے ڈرتا ہے؛ جاہل صوفیوں سے دور رہو، وہ دین کے چور ہیں؛ علم لدنی کے لیے تقویٰ شرط ہے؛ اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کو یاد کرو۔ یہ ملفوظات "خزانہ جلالیہ”، "سراج الہدایہ”، اور "جامع العلوم” کے نام سے مشہور ہیں۔

    آپ کا وصال 10 ذوالحجہ 785ھ (2 فروری 1384ء) اوچ شریف میں ہوا، اور آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے، جہاں ہزاروں زائرین فیض حاصل کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اوچ شریف میں آپ کے نام سے عالمی صوفی انسٹی ٹیوٹ، لائبریری، میوزیم، اور پارک قائم کیا جائے تاکہ آپ کا فلسفہ جلال ہر خاص و عام تک پہنچے۔

  • قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    عید الاضحی، جسے "بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تقویم میں ایک اہم تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف قربانی کی علامت ہے بلکہ ایمان، ایثار، اور اللہ کی رضا کے لیے خود کو وقف کرنے کا مظہر بھی ہے۔

    اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے میں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کے لیے تیاری کی۔ یہ واقعہ اللہ کی رضا کے لیے مکمل اطاعت کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتا ہے۔ اللہ نے ان کی نیت کو قبول کیا اور قربانی کے بدلے ایک مینڈھا بھیج دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

    آج کے دور میں، جب دنیا مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، عید الاضحی کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، سماجی عدم مساوات، اور انسانی ہمدردی کی کمی جیسے مسائل کے بیچ یہ تہوار ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ غزہ کے موجودہ حالات، جہاں معصوم لوگ ظلم و ستم کا شکار ہیں، ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی کے جذبے کو محض رسم تک محدود نہ رکھیں بلکہ مظلوموں کی مدد اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

    عید الاضحی کے موقع پر مسلمان قربانی کرتے ہیں، جو صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عمل کے ذریعے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے مال و دولت کو معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ بانٹیں۔ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے، اور تیسرا غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق مساوات، اخوت، اور دوسروں کے حقوق کی یاد دہانی ہے۔

    معاشرتی طور پر، یہ تہوار ہمیں اتحاد اور محبت کا درس دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود وسائل کے باوجود ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شامل کریں۔ غزہ کے معصوم بچوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں، مالی تعاون، اور اخلاقی حمایت کے ذریعے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عید الاضحی کا حقیقی مقصد قربانی کے ظاہری عمل سے زیادہ دل کی حالت اور نیت کی پاکیزگی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، لیکن اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۂ حج: 37)۔ لہٰذا، ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

    آج کے حالات میں، عید الاضحی ہمیں یہ عزم کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر قربانی، ایثار، اور خدمت خلق کی صفات پیدا کریں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں عملی تبدیلی لاتے ہوئے دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ غزہ کے مظلوم عوام کی حالت پر غور کرتے ہوئے، ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم ان کے لیے دعا کے ساتھ عملی اقدامات بھی کریں گے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔ اگر ہم عید الاضحی کے حقیقی پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں شامل کریں، تو نہ صرف ہماری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک مثالی معاشرہ بن سکے گا۔

    عید الاضحی کے اس بابرکت موقع پر، ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں قربانی کے اسباق کو نافذ کریں اور اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کریں۔ دعا ہے کہ یہ عید ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنے اور غزہ کے مظلوموں کے لیے امید اور سکون کا پیغام لے کر آئے۔ عید مبارک!

  • ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    پنجاب میں عید کے تینوں دن ناصرف الائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا گیا بلکہ پنجاب کی گلیاں بازار اور وہ جگہیں بھی صاف سھتری اور اجلی نظر آئیں جہاں اس سے قبل میونسپل کارپوریشن والے کبھی پہنچے ہی نہیں تھے، عید کے تینوں دن”ستھرا پنجاب“ اور ”شکریہ مریم نواز شریف“ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ صفائی کے بہترین انتظامات پر پنجاب کا ہرشہری تعریف کیے بن نہ رہ سکا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس دفعہ جب عید پر پنجاب کی گلی کوچوں کی مکمل صفائی کا اعلان کیا اور انتظامی افسران نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب کا تاریخی گرینڈ صفائی آپریشن شروع ہونے لگا ہے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشن اتنی جلدی اور واقعی کامیاب ہوجائے گا لیکن حکومت پنجاب نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر ماضی میں بہت تنقید ہوتی رہی کہ اتنے زیادہ وسائل کے باوجود صفائی والا عملہ کام نہیں کر رہا لیکن اس ایک ہفتے میں ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ کام چوری کی وجہ سے گالی بنے ویسٹ مینجمنٹ والے ہر طرف ایکٹو اور کام کرتے نظر آئے جبکہ پنجاب کی عوام تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔ فرق صرف فیصلہ سازی، فوکس، چیک اینڈ بیلنس اور عوامی فیڈ بیک کیلئے وزیراعلیٰ شکایات سیل فعال کرنے کا تھا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کی کامیابی کیلئے ستھرا پنجاب، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی اس مہم کو کامیاب بنانے کا واضح ٹاسک دیا تھا۔ صفائی اور الائشوں کو ٹھکانے لگانے میں کوتاہی کی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا کہ جسے بھی شکایات ہو وزیراعلیٰ شکایات سیل پر واٹس ایپ کردے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک الفاظ اور زیرو ٹالرینس کے تحت صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا حکم اور عوامی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کرنے سے سب کو احتساب کا ڈر تھا اس لیے مشن امپاسیل پاسیبل ہوگیا۔

    تاریخی اور کامیاب ترین صفائی مہم اور حقیقی ستھرا پنجاب کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ناصرف مبارکباد بلکہ دل سے شکریہ بھی لیکن گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ستھرا پنجاب کو کامیاب کروایا اسے صرف پانچ دن کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ باقاعدگی سے فالواپ لیتی رہیں اور اسی طرح عوامی شکایات اور فیڈبیک کیلئے وزیراعلیٰ سیل فعال رہنا چاہئے تاکہ محکمہ صفائی اور انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر موجود رہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی پنجاب کی عوام نے آپ کو بہت زیادہ شاباش اور دعائیں دی تھیں لیکن ستمبر 2024سے شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے اعلان کو انتظامی افسران نے سابقہ حکومت کی طرح محض اعلان سمجھا اور فارگرانٹڈ لیتے ہوئے رسمی کاروائی کا جعلی فوٹو شوٹ کیا۔

    رواں سال جنوری میں مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف زیروٹالرینس کا حکم دیا تو یہ آپریشن بڑی کامیابی سے شروع ہوا، ہر کوئی تعریف کرنے پر مجبور ہوا کہ یہ پہلی وزیراعلیٰ ہیں جو قبضہ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اشرافیہ کی سرپرستی میں بدمعاشیہ کے زیراثر چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمین کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کر ابھریں۔ انتظامی افسران کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کئی مہینوں سے جاری آپریشن کے باوجود بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ہوسکا وجہ وہی کہ انتظامی افسران تجاوزات لگوا کر ملنی والی ریگولر کمائی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ رسمی آپریشن کے بعد تجاوزات وہیں واپس آجاتی ہیں۔ میڈم وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب ایک ہفتے میں اس لیے کامیات ہوا کہ عوامی فیڈ بیک کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا تھا جس سے انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر تھا۔ یہاں چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کی واگزاری کا مشن ہے اس مشن کی کامیابی کیلئے وزیراعلیٰ انکروچمنٹ مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہئے پھر اثر دیکھیے گا کہ تجاوزات دنوں میں ختم ہوں گی کیونکہ عوام بتائے گی کہ کس کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے اور کون سے سیاسی اور انتظامی افراد یہاں سے بھتہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سال سے مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب کی ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ، بلانمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کاروائی نہیں کرتی کہ یہ بنا نمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹرز اور پارکنگ مافیا پنجاب کی ٹریفک پولیس، پنجاب ہائی ویز پولیس اور چیف ٹریفک آفیسرز کو مجموعی طور پر سو ارب سے زائد کی رقم ماہانہ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں سب سے زیادہ جعلی اور کیمیکل ملادودھ پنجاب میں فروخت ہوتا ہے، گدھوں اور مردہ گوشت کی کہانیاں اس قدر عام ہیں کہ دوسرے صوبوں والے ہم پر میمز بناتے ہیں لاہور اور پنجاب والوں کو بکرے کا گوشت صرف عید پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی وجہ سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی والے سارا دن ریسٹورنٹس سے خصوصی ڈسکاؤنٹ کیلئے مارے مارے پھر ہوتے ہیں اور بعد میں انکی چاکری کرتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی میلوں ٹھیلوں کیلئے سپانسرشپ لیکر انھی فوڈ پراڈکٹس مالکان کے بینیفشری ہوکر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ میڈم وزیراعلیٰ، صحت مند پنجاب، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات فری پنجاب بھی آپ کے فلیگ شپ پروگرامات ہیں ان کیلئے بھی وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل قائم کریں جہاں عوام واٹس ایپ کے زریعے فوری فیڈ بیک اور شکایات درج کروا سکیں۔ شکایات سیل اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کی کامیابی کیلئے اس سیل کی سربراہی کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کو دی جائے تاکہ زیروٹالرینس کے ساتھ جدید، صاف ستھرے، صحت مند، ماحول دوست اور تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    maliksalman2008@gmail.com

  • شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ1992 کی بات ہے جب راقم الحروف میٹرک کا طالب علم تھاتو اس وقت ذرائع ابلاغ نہایت محدود تھے۔ ٹیلی ویژن چند گھرانوں تک محدود تھا، لیکن ریڈیو ہر گھر کی چوپال کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ رات آٹھ بجے بی بی سی اردو پر خبریں اور مشہور زمانہ پروگرام سیربین نشر ہواکرتاتھا جس میں رضاعلی عابدی کا پروگرام شیر دریا ایک منفرد اور دلکش اضافہ تھا۔ اس پروگرام نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی کہانیاں سنائیں بلکہ ان سے جڑی تہذیبوں، تمدنوں اور ان میں سانس لیتی زندگیوں کو بھی بیمثال انداز میں اجاگر کیاتھا۔

    جب رضا علی عابدی نے بی بی سی اردو سروس کے لیے ایک دستاویزی پروگرام ترتیب دیا تو اس کا مقصد دریائے سندھ کے منبع سے لے کر بحیرہ عرب تک اس کے سفر کو ایک زندہ جاوید داستان میں ڈھالنا تھا۔ یہ عظیم دریا ہمالیہ کی بلند گھاٹیوں اور تنگ گزرگاہوں سے ہوتا ہوا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں اترتا ہے۔ اس کے کناروں پر آباد لوگوں کی معاشرت، سماجی تغیرات اور تہذیبی رنگوں کو رضا علی عابدی نے اپنی مسحور کن آواز اور بے مثال اسلوب میں نہایت مہارت سے پیش کیا۔

    انہوں نے اس پروگرام کا نام دریائے سندھ کے قدیم تبتی نام سنگھے کھا بب سے مستعار لیتے ہوئے شیر دریا رکھا۔ یہ دریا واقعی شیر کی مانند ہے، جو صدیوں سے ہمالیہ کی برفانی بلندیوں سے جھاگ اُڑاتا، غُراتا اور گرجتا ہوا میدانی علاقوں کی طرف بہتا چلا آتا ہے۔ انڈس ویلی سویلائزیشن ہو یا اپر انڈس ویلی، اس دریا کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کا رنگ جداگانہ ضرور ہے مگر ان کی باہمی ہم آہنگی قابل دید ہے۔

    اس پروگرام میں رضا علی عابدی نے لداخ کے بالائی گاؤں اپشی میں پشمینہ بکریوں کے چرواہے محمد علی خان سے لے کر بحیرہ عرب کے قریب شاہ بندر گاؤں کے گل محمد تک 1500 میل کے سفر کو عام انسانوں کے مکالموں، روزمرہ تجربات اور ذاتی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا۔ یہ سفرنامہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اس ڈیلٹا تک پہنچتا ہے جہاں یہ دریا سمندر سے بغلگیر ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران سندھ کے کناروں پر آباد نئی اور پرانی بستیوں کی سیاحت ہوتی ہے اور قدیم و جدید تمدن کے کئی راز وا ہوتے ہیں۔

    اردو ریڈیائی سفرناموں کا سہرا بلاشبہ رضا علی عابدی کے سر جاتا ہے۔ بی بی سی اردو سروس میں ان کی مسحور کن اور پراثر آواز نے برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں سامعین کو اپنا گرویدہ بنایا۔ شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں تک ان کی آواز گونجتی تھی اور سامعین ان کے لفظوں سے بندھی تصویروں میں کھو جایا کرتے تھے۔

    رضا علی عابدی نے اپنے اسی پروگرام میں پاکستان کے سرائیکی خطہ کے اہم شہر ڈیرہ غازی خان کی ایک منفرد روایت ہماچا کو متعارف کرایا، جو ایک ایسی بڑی چارپائی ہے جس پر ایک وقت میں دو سو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے ہماچا اسمبلی کا نام دیا گیا۔ پاکستانی چوک کے قریب ایک رہائشی بلاک میں رکھی یہ چارپائی محلے داروں کے لیے ایک سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں روزانہ رات کو چھوٹے بڑے، بوڑھے اور نوجوان جمع ہوتے۔ مذہب، سیاست، محلے کے دکھ سکھ، شادی بیاہ، خوشی و غم کی خبریں سب یہیں شیئر ہوتیں۔ یہ ہماچا نہ صرف ایک چارپائی تھی بلکہ ایک مضبوط سماجی بندھن کی علامت تھی جو لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔

    اسی پروگرام کے ذریعے رضا علی عابدی نے ڈیرہ غازی خان کی ایک عظیم شخصیت حاجی غلام حیدر عرف پتھر حلوائی کو بھی متعارف کرایا۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں پتھر کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل جب تحریک آزادی زوروں پر تھی، وہ اس تحریک کا ایک سرگرم کارکن تھے۔ پاکستانی چوک پر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ ایک دن ایک جلوس کے دوران ہندوؤں نے حملہ کیا، ان پر تشدد کیا، ان کی چادر اتر گئی، قمیض پھٹ گئی لیکن انہوں نے پاکستان کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ وہ بے ہوش ہوگئے مگر پرچم زمین پر نہ گرنے دیا۔ اس بے مثال جرات اور استقامت پر انہیں پتھر کا لقب ملا۔

    پاکستان بننے کے بعدغلام حیدرپتھر ایک عام حلوائی بن کر رہ گئے، مگر ان کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں ان کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔بقول ان کے ایک دن اچانک پولیس نے ان کی دکان کو گھیر لیا اور انہیں گرفتار کرکے اسلام آباد کے صدر ہاؤس لے جایا گیا، جہاں صدر جنرل ضیا الحق نے ان سے خصوصی ملاقات کی، ان کی خدمات کو سراہا اور بطور اعزاز انہیں حج پر سعودی عرب بھیجا۔ واپسی پر انہوں نے اہلِ محلہ کو بتایا کہ صدر پاکستان نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔

    شیر دریا جیسے پروگراموں نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی داستانیں عام کیں بلکہ ایسے گمنام ہیروز کو بھی منظرِ عام پر لایا جنہیں تاریخ نے نظر انداز کیا تھا۔ اگر رضا علی عابدی ڈیرہ غازی خان نہ آتے اور بی بی سی پر یہ پروگرام نشر نہ ہوتا تو شاید ہم پتھر حلوائی جیسے مجاہدوں سے ناواقف ہی رہتے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ہر ضلع اور تحصیل میں تحریک پاکستان کے ان گمنام ہیروز کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام شروع کرے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے آگاہ ہو سکے اور ان کی جدوجہد سے سبق لے کر اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکے۔

  • ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    صحرائے تھر کی سنہری ریتوں میں بسی ایک ایسی کہانی گونجتی ہے جو صدیوں سے سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ داستان ہے ماروی کی، تھرپارکر کے گاؤں بھالوا کی ایک سادہ، باوقار اور نڈر لڑکی کی، جس نے جبر، طاقت اور لالچ کے سامنے نہ جھکتے ہوئے اپنی مٹی سے محبت، عزتِ نفس اور وفاداری کی لازوال مثال قائم کی۔ ماروی کی یہ لوک داستان صرف ایک روایت نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، مزاحمت اور ثقافتی شناخت کا آئینہ ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتی ہے۔

    ماروی کی کہانی تھرپارکر کے صحرائی خطے سے جڑی ہے، جو اپنی سادگی، روایات اور مزاحمتی جذبے کے لیے مشہور ہے۔ تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں بھالوا میں پیدا ہونے والی ماروی اس خطے کی ثقافتی روح کی عکاس ہے۔ بھالوا ایک ایسی دیہاتی بستی ہے جہاں زندگی ریت کے ذروں، روایات کے رنگوں اور معاشرتی اقدار کے سائے میں سانس لیتی ہے۔ یہ خطہ جو قدرتی وسائل کی کمی کے باوجود اپنی ثقافتی دولت سے مالا مال ہے، ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز بنا۔ آج بھی بھالوا کا وہ کنواں، جہاں سے یہ داستان شروع ہوئی، ایک زیارت گاہ کی مانند ہے، جہاں لوگ ماروی کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے آتے ہیں۔

    ماروی کے والد، پالنو پنہوار، ایک معزز دیہاتی تھے جنہوں نے روایات کے مطابق اپنی بیٹی کی منگنی ایک دیانت دار اور سادہ نوجوان کھیت سین سے طے کی۔ یہ فیصلہ علاقے کے ایک بااثر شخص پھوگ کو ناگوار گزرا، جو ماروی سے شادی کا خواہشمند تھا۔ اپنی ناکامی سے بھڑک کر پھوگ نے انتقام کی آگ سلگائی اور عمرکوٹ جا پہنچا۔ وہاں اس نے سومرو خاندان کے حکمران عمر سومرو کے سامنے ماروی کے حسن، سادگی اور دلکش شخصیت کی ایسی داستانیں بیان کیں کہ عمر اسے دیکھنے اور حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ پھوگ کا یہ عمل نہ صرف ذاتی حسد کا نتیجہ تھا بلکہ اس نے ایک ایسی زنجیر کو حرکت دی جس نے ماروی کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

    ایک دن، جب ماروی اپنی سہلیوں کے ساتھ گاؤں کے کنویں پر پانی بھر رہی تھی، عمر سومرو نے موقع پاکر اسے زبردستی اغوا کر لیا اور اپنے شاہی محل میں لے آیا۔ محل کی چمک دمک، ریشمی لباس، قیمتی زیورات اور اقتدار کی پیشکش ماروی کے قدموں میں رکھ دی گئی۔ عمر سومرو نے اسے شہزادی بنانے کا خواب دکھایا، مگر ماروی کے دل میں اپنی مٹی کی خوشبو، اپنی جھونپڑی کی چھاؤں اور اپنے منگیتر کھیت سین کی محبت کی حرارت تھی، جو کسی بھی شاہی جاہ و جلال سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

    ماروی نے نہایت سادگی لیکن پرعزم لہجے میں عمر کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس نے کہا، "میں اپنی دھرتی، اپنے لوگوں اور اپنی عزت کو کسی تخت یا دولت سے نہیں بدل سکتی۔” اس کے اس انکار نے نہ صرف عمر سومرو کی طاقت کو للکارا بلکہ وہ جبر، ظلم اور لالچ کے خلاف ایک عظیم مزاحمت کی علامت بن گئی۔ ماروی کی یہ ثابت قدمی اس بات کی گواہ ہے کہ اصل طاقت دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے اور اپنی شناخت کی حفاظت میں ہے۔

    ماروی کی یہ بہادری سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دل تک جا پہنچی۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "شاہ جو رسالو” میں "سر ماروی” کے ذریعے اس کردار کو امر کر دیا۔ بھٹائی نے ماروی کی اپنی دھرتی سے محبت، غیرت اور وفاداری کو اپنے اشعار میں سمو دیا:

    ماروی نہ وٹھی محل، نہ مانی سومر سنگ،
    سونھن ساندھی سچ میں، مٹ نہ ویئی منگ!

    یہ اشعار صرف شاعری نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہیں جو سچائی، عزت اور ثقافتی شناخت کی حفاظت کا درس دیتے ہیں۔ بھٹائی نے ماروی کے کردار کو ایک عالمگیر پیغام بنا دیا، جو نہ صرف سندھ کی خواتین بلکہ ہر اس فرد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو جبر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ "سر ماروی” میں بھٹائی نے ماروی کی جدوجہد کو ایک روحانی سفر کے طور پر پیش کیا، جہاں وہ اپنی ذات سے بالاتر ہوکر اپنی قوم اور ثقافت کی آواز بن گئی۔

    روایت کے مطابق ماروی کی ثابت قدمی اور سچائی نے بالآخر عمر سومرو کے دل کو موم کر دیا۔ اس کی بہادری اور وفاداری سے متاثر ہوکر عمر نے اسے عزت کے ساتھ رہا کیا اور اسے اپنے گاؤں واپس جانے کی اجازت دی۔ ماروی اپنے منگیتر کھیت سین اور اپنی دھرتی پر واپس آئی، جہاں اس کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔ اس کی کہانی نے نہ صرف اس کے گاؤں بلکہ پورے سندھ میں ایک عظیم مثال قائم کی کہ محبت اور عزت کی حفاظت ہر شے سے مقدم ہے۔

    ماروی کی کہانی صرف ایک لوک داستان نہیں بلکہ سندھ کی خواتین کی خودمختاری، ثقافتی شناخت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک نظریہ اور فلسفہ ہے، جو انہیں اپنی مٹی، زبان اور روایات سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ماروی کا کردار ایک ایسی عورت کا ہے جو اپنی مرضی، اپنی عزت اور اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے ایک بادشاہ کی طاقت کو چیلنج کرتی ہے۔ اس کی کہانی صنفی برابری، عزت نفس اور سماجی انصاف کے موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو آج کے دور میں بھی انتہائی متعلقہ ہیں۔

    بھالوا کا وہ کنواں، جہاں ماروی اغوا ہوئی، آج بھی موجود ہے اور ایک تاریخی و ثقافتی مقام کے طور پر سیاحوں، ادیبوں، محققین اور طلبہ کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ کنواں نہ صرف ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کی مزاحمتی تاریخ کا ایک نشان بھی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ اس مقام پر جاتے ہیں، ماروی کی کہانی سنتے ہیں اور اس کی وفاداری و بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    آج کے دور میں، جب مادیت پرستی، مفاد پرستی اور جبر ہر سطح پر غالب ہیں، ماروی کی کہانی ایک روشن مینار کی طرح ہے۔ یہ ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے

    عزت نفس کی حفاظت کیلئے ماروی نے ہر لالچ کو ٹھکرا کر ثابت کیا کہ عزت اور خودداری کسی بھی مادی دولت سے بڑھ کر ہیں۔ اپنی مٹی اور روایات سے محبت وہ سرمایہ ہے جو کسی تخت یا سلطنت سے زیادہ قیمتی ہے۔سچائی اور وفاداری کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ عزت اور احترام کی شکل میں پھل لاتا ہے۔
    ماروی کی محبت نہ صرف اپنی کی طرف سے تھی بلکہ اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنی کے لوگوں سے بھی تھی جو محبت کی ایک عظیم اور جامع شکل ہے۔

    ماروی کی کہانی ہر اس فرد کے لیے ایک سبق ہے جو اپنی شناخت، اپنی عزت اور اپنی اقدار کی حفاظت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ خاص طور پر آج کی خواتین کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جو سماجی، معاشی اور ثقافتی چیلنجوں کا سامنا کرتی ہیں۔

    ماروی، صحرائے تھر کی بیٹی، آج سندھ کی تاریخ، ادب اور عوامی شعور کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ وہ ایک کردار سے بڑھ کر ایک نظریہ، ایک فلسفہ اور ایک ثقافتی اثاثہ بن چکی ہے۔ اس کا نام صحرائے تھر کی ریت میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور سچائی کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتا ہے۔

    ماروی کی لوک داستان سندھ کے لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو حق کے لیے ڈٹتا ہے، جبر کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے، اور اپنی دھرتی، ثقافت اور عزتِ نفس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ماروی صدیوں تک زندہ رہے گی ، وہ سندھ کی بہادر بیٹی، سچ کی علامت اور وفا کا استعارہ تھی۔

  • عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    عید الاضحی کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے "خوشی”—اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی، سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سرِفہرست ہے۔ اسی لیے اس دن ایک ناقابلِ بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔

    اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں۔ اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں حاصل کی جا سکتی۔

    ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ ڈاکیا موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ چاہے بچے ہوں، بوڑھے یا عورتیں، سب کارڈ کو چھو کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرا رہا ہوتا تھا، یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوں کو لگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔

    بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے۔ عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی۔ مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔ کارڈ تو رہا ایک طرف، کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ البتہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی کہ جو کارڈ 20 روپے میں مل جاتا تھا، وہ 10 پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔

    اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔ بچوں کو عید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی "عیدی” کا بھی ہوتا ہے۔ نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

    عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی، پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے، جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔

    لیکن اب ان کی قدر (ویلیو) اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے۔ اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

    ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے چارے اور آرائشی اشیاء کے اسٹال سج گئے ہیں۔ مویشی منڈیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد اپنے من پسند جانور کی تلاش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

    پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد، لاہور، ملتان، گجرات، سرگودھا، حیدرآباد، نوابشاہ، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام شہروں میں لگنے والی منڈیوں میں مویشیوں کی آمد اور خرید و فروخت کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔ بیوپاری اپنے مویشی ٹرکوں میں بھر کر مویشی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

    مویشی منڈیوں میں موجود اعلیٰ نسل کے بیل، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مویشی منڈی میں نئے قوانین نے بیوپاریوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث مویشیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث شہریوں کے لیے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے اور اجتماعی قربانی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔

    پاکستان میں عید الاضحی پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیادہ کے مویشیوں کا کاروبار ہوتا ہے، تقریباً 24 ارب روپے قصائی مزدوری کے طور پر کماتے ہیں۔ 4 ارب روپے سے زیادہ چارے کے کاروبار والے کماتے ہیں۔

    پاکستان میں عید الاضحی ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جس کے باعث پاکستان کو اور خاص طور پر حکومت کو بھی ڈھیر سارا فائدہ سمیٹنے کا موقع ملتا ہے۔ ویسے تو بیرون ملک سے ہونے والی ترسیلاتِ زر کے باعث حکومت کو ہر وقت فائدہ ملتا ہی رہتا ہے، تاہم عین عید الاضحی سے ایک ڈیڑھ یا دو ماہ قبل جو ترسیلات زر ہوتی ہیں، اس کا فائدہ سال بھر کے سیزن میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر صورت اس عید کے موقع پر جانور کی قربانی کے لیے پاکستان اپنے گھرانوں میں پیسہ بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ زرمبادلہ پاکستان بھیجیں گے، بے شک اس کا استعمال پاکستانی کرنسی میں آپ کا گھرانہ ہی کرے گا، تاہم بینکنگ اصطلاح میں اس کا فائدہ ملک کے خزانے کو ہی پہنچے گا۔

    اسی طرح وہ لوگ جو خاص طور پر عید الاضحی کے لیے مہینوں پہلے سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان کو بھی اس کا خوب فائدہ پہنچتا ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد جانوروں کی قربانی کی گئی، جس میں 35 لاکھ گائے، بیل، 55 لاکھ دنبے و بکرے، اور 80 ہزار کے قریب اونٹ قربان کیے گئے۔

    قربان کیے گئے جانوروں کی اوسط قیمت کے اعتبار سے پاکستان میں عید الاضحی کی معیشت اربوں روپے بنتی ہے۔ یہ محض جانوروں کے خرید و فروخت کے اعداد و شمار کا ایک اندازہ ہے، جبکہ چارے کا کاروبار، جانوروں کی نقل و حرکت، کھالوں کی خرید و فروخت اور دیگر کئی چھوٹی بڑی سرگرمیاں بھی اس عید سے منسلک ہیں۔

    اس کے نتیجہ میں ہونے والے کاروبار کا اندازہ لگانا بہت دشوار ہے۔ یہ بھی تو دیکھئے کہ بڑی عید پر غیر ہنر مند افراد کی ایک بڑی تعداد کو بھی روزگار ملتا ہے۔ ان میں مویشی پالنے والے، فروخت کرنے والے، ٹرانسپورٹرز، لوڈنگ کرنے والے اور قصاب بھی شامل ہیں جن کے لیے یہ تہوار روزگار کے مواقع لے کر آتا ہے۔

    پاکستانی کاروبار کی دنیا میں سب سے بڑا کاروبار عید پر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریبوں کو مزدوری ملتی ہے، کسانوں کا چارہ فروخت ہوتا ہے، دیہاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملتی ہے۔ اربوں روپے گاڑیوں اور ٹرکوں میں جانور لانے لے جانے والے کماتے ہیں۔

    بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیے مہنگا گوشت مفت میں ملتا ہے۔ کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت ہوتی ہیں، چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملتا ہے۔ یہ سب پیسہ جس جس نے کمایا ہے وہ اپنی ضروریات پر جب خرچ کرتے ہیں تو نہ جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوبارہ ہوتا ہے۔

    یہ قربانی غریب کو صرف گوشت نہیں کھلاتی، بلکہ آئندہ سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست ہوتا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں آن لائن مویشیوں کی خریداری کے رجحان میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے قربانی کے جانور کی فروخت اور آن لائن قربانی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    روایتی طریقے میں مویشی منڈی کا رخ کر کے اپنی پسند کی گائے، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ کا انتخاب ایک مشکل عمل ہے، تاہم انٹرنیٹ نے اب یہ مشکل بھی آسان بنا دی ہے اور قربانی کا فریضہ ادا کرنے والے گھر بیٹھے ہی جانور خرید سکتے ہیں۔

    شہری اپنے جانوروں کو خوبصورت بنانے کے لئے دیدہ زیب مورے، گلے کے پٹے، گھنگھرو، گھنٹیاں، ہار، مصنوعی پھول، چمڑے کی نکیل اور چارے کے لئے ہری گھاس، سوکھی گھاس، کٹی، لوسن، بھوسا، بھوسی، جنتر، چوکر دانہ، کھل، چنا اور دیگر اشیاء خرید رہے ہیں جن کی قیمتوں میں بھی پچھلے سال کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس مہنگائی میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن جانوروں کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔

  • سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت
    تحریر۔ اقصی یونس رانا
    سگریٹ نوشی پاکستان میں ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جو نہ صرف صحت عامہ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں، جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، اور سانس کی خرابی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی نہ صرف خود پینے والے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اُس کے اردگرد موجود افراد کو بھی "تمباکو نوشی کے دھوئیں” کے ذریعے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، جسے "passive smoking” کہا
    ‎جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 164,000 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور صحت عامہ پر تمباکو کے تباہ کن اثرات سے ملکی معیشت کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

    ‎31 مئی کو انسدادِ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں تمباکو کی خرید و فروخت اور استعمال پر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک 2030 تک پائیدار ترقی کے طبی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ ادارے نے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف صحت کے شعبے کے لیے وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ ترقیاتی ترجیحات کو بھی تقویت ملے گی۔ ڈبلیو ایچ او نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ تمباکو سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مکمل معاونت جاری رکھے گا۔

    ‎پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن یہ اقدامات اکثر مؤثر طریقے سے نافذ نہیں ہو پاتے۔ حکومت نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری وارننگ، اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم ان قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

    ‎سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے سب سے اہم کردار آگاہی کا ہے۔ لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے، خاص طور پر نوجوانوں کو جو جلدی سے اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں تمباکو مخالف مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو ابتدا ہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ میڈیا کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اور تمباکو نوشی کو "فیشن” کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک خطرناک عادت کے طور پر دکھانا ہوگا۔

    ‎علاوہ ازیں حکومت کو تمباکو انڈسٹری پر مزید سخت پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں، ان کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو، اور سگریٹ کی دستیابی کو مشکل بنایا جائے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے۔والدین، اساتذہ، اور مذہبی رہنما بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں اور خود بھی سگریٹ نوشی سے گریز کریں تاکہ ایک مثبت مثال قائم ہو۔ اساتذہ اور مذہبی شخصیات نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں اس لت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کریں۔

    ‎ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ تمباکو کی تمام مصنوعات انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہیں، اور ان کے منفی اثرات خاص طور پر بچوں اور نوعمر افراد پر زیادہ تیزی سے مرتب ہوتے ہیں۔ نوجوانی میں تمباکو نوشی کا آغاز مستقبل میں مستقل صحت کے مسائل اور لت میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے۔

    ‎تحقیقی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے دوہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: ایک طرف حکومت کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اور دوسری جانب تمباکو کا استعمال کم ہونے سے اس سے جڑی بیماریوں کا بوجھ اور صحت کے نظام پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ یہ حکمت عملی صحت عامہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مالیاتی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

    ‎سال 2023 میں پاکستان میں تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اعداد و شمار کے مطابق تمباکو نوشی میں 19.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 26.3 فیصد سگریٹ پینے والوں نے تمباکو کا استعمال کم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں 66 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2023-24 کے مالی سال میں ٹیکس آمدنی 237 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال 2022-23 میں یہ آمدنی 142 ارب روپے تھی۔ یہ واضح پیش رفت ٹیکس پالیسی کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    ‎تاہم فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت سگریٹ پر عائد ٹیکس کی شرح ‘ڈبلیو ایچ او’ کی سفارش کردہ حد یعنی خوردہ قیمت کے 75 فیصد سے کم ہے، جو کہ عالمی معیار سے کمزور حکمت عملی تصور کی جاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کو عالمی معیارات کے مطابق بڑھایا جائے تاکہ عوام کو تمباکو نوشی سے بچایا جا سکے اور صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔

    آخر میں، سگریٹ نوشی صرف ایک شخصی عادت نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اگر ہم آج اقدامات نہ اٹھائیں تو کل ہمیں صحت، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ایک سگریٹ فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

    ‎مجموعی طور پرپاکستان کو تمباکو کے خلاف پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس میں مسلسل اضافے اور سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستانی سنیما کی تاریخ میں "یہ امن” (1971) ایک ایسی فلم ہے جو نہ صرف فنکارانہ بصیرت کی حامل تھی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کی بھی عکاس تھی۔ ہدایت کار ریاض شاہد نے اس فلم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کیا۔ ابتدا میں اس فلم کا نام "امن” تھا لیکن سنسر بورڈ کی سخت پابندیوں نے اسے "یہ امن” میں تبدیل کر دیا۔ فلم میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کو جرات مندانہ انداز میں پیش کیا گیا، لیکن سنسر بورڈ کی مداخلت نے اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا۔ اس صدمے کا اثر ہدایت کار ریاض شاہد پر اتنا گہرا پڑا کہ وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ فلم کے نغموں کی شاعری معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے لکھی، جن کے اشعار ظلم کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ ان میں سے گیت "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” جو میڈم نور جہاں کی سحر انگیز آواز میں گایا گیا اور اداکارہ سنگیتا پر فلمایا گیا، نہ صرف فلم کا مرکزی خیال تھا بلکہ آج بھی اس کی معنویت قائم ہے۔ یہ گیت ظلم کے مقابلے میں امن کی خواہش اور اس کی ناممکنات کو بیان کرتا ہے جو نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین، غزہ اور پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل کے تناظر میں ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے۔

    فلم "یہ امن” نے کشمیر کے مظلوم عوام کی داستان کو اجاگر کیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانا معمول بن چکا ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور فوجی چھاؤنیوں نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اسی طرح فلسطین اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ غزہ پر ناکہ بندی نے 20 لاکھ سے زائد افراد کو بنیادی اشیاء جیسے خوراک، ادویات اور ایندھن سے محروم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں ہزاروں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں خطے ظلم کی ایسی داستانیں ہیں جو عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” آج بھی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    پاکستان میں آج کے دور میں ظلم کی ایک نئی شکل عوام کو ناجائز بجلی کے بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور بے لگام مہنگائی کی صورت میں جھیلنی پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں وزارت توانائی پر الزام ہے کہ وہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بجائے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے ایماندار صارفین کو بھی غیر منصفانہ ڈیٹیکشن بلز اور طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سلیب سسٹم جو بظاہر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا عملاً ایک غیر منصفانہ نظام بن چکا ہے۔ اس کے تحت بجلی کے بلز میں اضافہ اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ خاندان اپنی بچیوں کا جہیز بیچ کر، اپنی جمع پونجی خرچ کر کے اور حتیٰ کہ قرض لے کر یہ بلز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور کئی افراد اس معاشی بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔

    عوام پر ہونے والا یہ وحشیانہ ظلم کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف کو دکھائی نہیں دیتا؟ کیا اویس لغاری اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ وزیراعظم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے؟ جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج گولیوں اور تشدد سے معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے اور غزہ میں اسرائیلی بربریت بمباری سے ہزاروں جانیں لے رہی ہے، وہیں پاکستان میں اویس لغاری کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی پالیسیوں نے عوام کو معاشی موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی شکل گولی اور بمباری ہے لیکن پاکستان میں یہ ظلم ناجائز بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور معاشی دباؤ کی صورت میں ہے۔ عوام اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے رہے ہیں کیونکہ وہ اس معاشی بربریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کی اس بربریت کا حساب کون لے گا؟ کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف اس قابل ہیں کہ وہ عوام پر مسلط کردہ اس واپڈا گردی کے خلاف ایکشن لیں؟ کیا وہ ایک عوامی لیڈر ہونے کا حق ادا کر پائیں گے؟

    حبیب جالب کا شعر "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” آج بھی ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم اس ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے؟ کیا ہم میاں شہباز شریف اور اویس لغاری کی پالیسیوں کو چپ چاپ سہتے رہیں گے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ ظلم صرف دوسرے ممالک میں ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ سلیب گردی اور واپڈا گردی محض ایک "نارمل” عمل ہے؟ فلم "یہ امن” ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنا ایک فنکار، شاعر اور شہری کا فرض ہے۔ اگر میاں شہباز شریف عوام کو اویس لغاری کی معاشی بربریت سے بچا سکتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو عوام کو خود اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    جب تک غیر منصفانہ پالیسیاں، ناجائز بلز اور معاشی دباؤ عوام پر مسلط رہیں گے، امن ایک سراب ہی رہے گا۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی طرح پاکستان کا عام شہری بھی ظلم کا شکار ہے۔ فلم "یہ امن” کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد ہی امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ صرف ایک گیت نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی چیلنج ہے جو ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اس معاشی ظلم اور سلیب گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانی ہوگی کیونکہ خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے۔ آئیے، ہم حبیب جالب کے پیغام کو اپنائیں اور اس معاشی بربریت کے خلاف جدوجہد کریں۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو، یہ ممکن نہیں،یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم خاموش رہیں یا اپنی زبان کو آزاد کریں۔

  • خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    لفظوں کی پکار

    غزہ کی زمین سرخ ہو چکی ہے۔ ملبے کے نیچے دبی ہوئی ننھی لاشیں، ماؤں کی سسکیاں، اور ویران مسجدیں… یہ سب ایک سوال بن کر اُمت مسلمہ کے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں، مگر افسوس! یہ ضمیر شاید سو چکا ہے — یا بدتر، مر چکا ہے۔

    اسرائیلی بمباری صرف عمارتوں کو نہیں گرا رہی، بلکہ انسانیت کے دعووں کو بھی خاک میں ملا رہی ہے۔ عالمی ادارے، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں، اور نام نہاد مہذب دنیا سب تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک کردار خود اسلامی دنیا کا ہے، جو محض بیانات، قرار دادوں اور تصویری مذمتوں تک محدود ہو چکی ہے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

    "المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله”
    یعنی: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
    (صحیح بخاری)

    مگر ہم نے اپنے بھائیوں کو چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے خاموشی اوڑھ لی۔ ہماری زبانیں مصلحت کے تالے میں بند ہیں، اور دل مفاد کی زنجیروں میں قید ہیں۔

    آج اسلامی ممالک کی طاقت صرف عسکری نمائشوں تک محدود ہے۔ اتحاد صرف کانفرنس ہالز کی میزوں پر موجود ہے۔ اور بیت المقدس کی اذیت…؟ وہ چیخ چیخ کر ہمیں پکارتی ہے، مگر ہم تجارتی معاہدوں اور سفارتی توازن کے نشے میں بے حس ہو چکے ہیں۔

    یہ کیفیت نئی نہیں۔ جب تک صلاح الدین ایوبی کی آنکھوں میں بیت المقدس کی غلامی کا دکھ تھا، وہ سکون سے سو نہیں سکتا تھا۔ مگر ہم…؟ ہم ہنستے ہیں، خریداری کرتے ہیں، تفریح کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں… ہم زندہ ہیں۔

    نہیں!
    ہم زندہ لاشیں ہیں، جو نہ بولتی ہیں، نہ تڑپتی ہیں، اور نہ ہی اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نیند سے جاگیں۔ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔ فلسطینی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ظالموں کی معیشت کو کمزور کریں۔ دعائیں کریں، شعور پھیلائیں، اور اپنی نسلوں کو سچ سکھائیں۔

    ورنہ وہ دن دور نہیں جب تاریخ ہمیں اسی عنوان سے پکارے گی:
    "خاموش اُمت… زندہ لاشیں!”

    jabbaraqsa2@gmail.com