Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ.تحریر:نمرہ امین ،لاہور

    سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ.تحریر:نمرہ امین ،لاہور

    سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ
    تحریر:نمرہ امین ،لاہور
    قوموں کی ترقی کا انحصار صرف معیشت پر ہی نہیں بلکہ صحت مند افراد پر ہوتا ہے کیوں کہ ایک صحت مند فرد ہی کامیاب معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
    پاکستان میں تمباکو نوشی جیسے مہلک رجحانات ہماری نوجوان نسل اور غریب طبقے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد کی اموات تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سگریٹ صرف ایک نشہ ہی نہیں ہے بلکہ بیماریوں کی جڑ ہے۔ دل، پھیپھڑے، سانس کی تکلیف، کینسر جیسی مہلک بیماریاں انسان کو جکڑ لیتی ہیں اور ان بیماریوں کا علاج بھی پھر مہنگا ہوتا ہے جو غریب کی پہنچ سے دور ہے اور اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    سگریٹ صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی زہر بھی ہے۔ جس سے گھر کے ماحول، بچوں کی تربیت پر اثر پڑتا ہے اور آس پاس کہ افراد بھی اس کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    اسلام میں بھی جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنے کا حکم ہے۔ اسی لیے تمباکو نوشی سے بھی پرہیز ضروری ہے جس سے انسان صحت و توانا رہے گا اور بیماریوں سے بچا رہے گا۔
    حوالہ۔ سورۃ البقرہ۔ آیت نمبر 195 "اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔”

    حکومت کی جانب سے "سگریٹ پر ٹیکس” لگا کر قیمت بڑھانے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ سگریٹ کا نشہ نوجوانوں اور غریب لوگوں میں سے کم ہو سکے گا۔ اگر حکومت کی مثبت سوچ ہو کہ تمباکو نوشی کے زہر سے سب کو بچا کر ایک صحت مند زندگی کی طرف راغب کرنا ہے۔ ان کو بے شمار بیماریوں سے بچانا ہے۔ تو یہ حکومت کی بہت اچھی نیکی ہے ساری عوام کے ساتھ۔ جو سگریٹ پر ٹیکس لگا کر چھوٹے طبقے کے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھ سکیں۔ جس کی وجہ سے وہ اور ان کے اہل و عیال صحت مند خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے۔ کیوں کہ غریب عوام کو زیادہ تر بیماریاں، تمباکو نوشی کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ سگریٹ پر ٹیکس کا مقصد غریب لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں ہے بلکہ ان کو صحت مند زندگی گزارنے پر آمدہ کرنا ہے۔

    "سگریٹ پر ٹیکس” واقعی اس کی قیمت بڑھا دیتا ہے جو نوجوان اور غریب طبقے کے لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتا ہے اور ان کے خریدنے کی سکت کو ختم کر دیتا ہے۔
    لیکن بعض اوقات مہنگا سگریٹ پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے جس انسان کو نشے کی لت اتنی زیادہ ہوتی ہے وہ سستے کے چکر میں نسوار، پان اور اس قسم کے دیگر نشے کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

    حقیقت یہی ہے کہ "سگریٹ پر ٹیکس” ہی اس وجہ سے لگایا جاتا ہے کہ لوگ اس کو خرید نہ سکیں اور خود کو صحت مند رہنے کا عادی بنائیں۔
    ٹیکس لگنے سے غریب کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ جب سگریٹ مہنگا ہوگا تو وہ سگریٹ کو خرید نہیں سکے گا۔ اس کے پیسے ضائع ہونے سے بچ سکیں گے جس سے اس کی آمدنی میں بچت کے ساتھ ساتھ ہر کام بخوبی نبھایا جا سکے گا۔ وہ بیمار نہیں ہو سکے گا۔ اس کی بیماری کا خرچ بچ سکے گا۔ دو وقت کا کھانا عزت کے ساتھ اس کو ملتا رہے گا۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکے گا۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بہتر پرورش اور معیاری زندگی گزار سکے گا۔

    تمباکو نوشی صرف نوجوان نسل اور غریب طبقے کی صحت کے لیے مضر ہی نہیں ہے بلکہ ہر انسان کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ نشہ کسی بھی طرح کا ہو وہ انسان کی موت کا ذمہ دار ضرور بنتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کو اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ عوامی آگاہی کے لیے مہمات ہونی چاہیے۔ تاکہ لوگوں کو اس کی عقل، سمجھ اور طریقے بتا کر تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ ہر نشے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اگر حکومت "سگریٹ پر ٹیکس” سے حاصل ہونے والی رقم کو غریبوں کی مدد کرنے ان کے علاج کے لیے، تمباکو نوشی سے بچاؤ کی مہمات کے لیے، کسی کی تعلیم کے لیے اور عوامی فلاحی کاموں کے منصبوں کے لیے استعمال کرے تو بہت سے لوگوں کی امداد کے ساتھ ان کی پریشانیاں بھی حل ہو سکیں گی اور یہ غریب عوام اور معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی رہے گی۔

    اگر حکومت کا یہ ایک قدم عوام کو اس نشے کی لت سے، بیماریوں سے بچا سکتا ہے تو یہ کوئی غلط فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے۔ حکومت عوام کو تمباکو نوشی سے ہوئی اموات سے بچا رہی ہے۔ ان کے اہل و عیال کو یتیمی کی زندگی گزارنے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
    نوجوان نسل کو صحت مند معاشرہ دینا چاہ رہی ہے تاکہ ہر نوجوان تعلیم حاصل کر کے ایک با شعور افسر بن کر اپنے ملک پاکستان کی حفاظت کر سکے۔

    "سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ۔” !

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: عبدالمحسن

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: عبدالمحسن

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: عبدالمحسن
    تمباکو نوشی ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف ہمارے جسم کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی آہستہ آہستہ تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ میرے ایک جاننے والے کا قصہ یاد آتا ہے، جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس نے پہلی سگریٹ محض چودہ سال کی عمر میں آزمائی، جب وہ صرف تجسس اور دوستوں کی صحبت میں آیا تھا۔ ابتدا میں تو سب کچھ معمولی لگتا رہا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ عادت اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ نو سال مسلسل تمباکو نوشی کے بعد اسے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا۔

    بیماری کا پتہ چلتے ہی اس کے والدین کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ نہ صرف وہ جسمانی اذیت میں مبتلا ہو گیا بلکہ مالی بوجھ بھی اس کے غریب والدین کے لیے ناقابل برداشت بن گیا۔ chemotherapy، دوائیں، ہسپتال کے بلز، اور ہر لمحہ زندگی کی امید قائم رکھنے کی کوشش… سب کچھ اُن کے خوابوں، جمع پونجی، حتیٰ کہ گھر کے برتنوں تک کو نگل گیا۔ وہ نوجوان جو کبھی والدین کے لیے سہارا بننے والا تھا، آج اُن کے آنسوؤں کا سبب بن چکا تھا۔ آخرکار ڈیڑھ سال کی تکلیف اور بے بسی کے بعد وہ دم توڑ گیا، مگر اپنے پیچھے درد، پچھتاوا اور ایک سبق چھوڑ گیا کہ سگریٹ کی ایک عادت کس طرح زندگی برباد کر سکتی ہے۔

    میرے خیال میں، اگر سگریٹ مہنگی ہو جائے تو یہ ایک مؤثر قدم ہوگا۔ صرف یہ لکھ دینا کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کافی نہیں۔ ہر سگریٹ کے پیکٹ پر "یہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے” لکھا ضرور جاتا ہے، مگر اس تحریر کا اثر تب تک محدود رہتا ہے جب تک اس کے پیچھے عملی اقدامات نہ ہوں۔ یہ تحریریں لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے تو ہیں، لیکن ان کی عادت کو بدلنے کے لیے کمزور ثابت ہوتی ہیں۔

    ہمیں صرف تنبیہ کرنے سے آگے بڑھ کر تمباکو کے استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط اور عملی فیصلے لینے ہوں گے۔ اگر مکمل طور پر تمباکو پر پابندی ممکن نہیں، تو کم از کم اتنا ضرور کیا جا سکتا ہے کہ اس کی قیمت میں اضافہ کر کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، کو اس کی طرف مائل ہونے سے روکا جائے۔ قیمت میں اضافہ ایک آپشن کے طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ جب چیز مہنگی ہو جاتی ہے تو لوگ خود بخود اس سے دور ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کی آمدنی محدود ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قیمت بڑھانے سے تمباکو نوشی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن اس کے استعمال میں نمایاں کمی ضرور آ سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: مبشر حسن شاہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: مبشر حسن شاہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: مبشر حسن شاہ
    تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت حکومت پاکستان۔ یہ الفاظ پی ٹی وی کی نشریات کے دوران ان گنت مرتبہ سنے، بچپن سے نوجوانی، پھر جوانی اور پھر اب گزرتے دن، تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔

    پاکستان میں سالانہ 81 ارب روپے کے سگریٹ خریدے جاتے ہیں۔ اس رقم کا 7 فیصد سمگل شدہ یا امپورٹڈ سگریٹ ہے۔ آبادی کا 20 فیصد تمباکو نوشی کا عادی ہے۔ حالیہ مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تھی جس کا 20 فیصد ہے 5 کروڑ 20 لاکھ۔ اور خریداری 81 ارب کی۔ فی کس 1557 روپے۔ یہ رقم اتنی بڑی نہیں کہ اس کو کوئی بھی شخص جو پاکستان میں رہتا ہو اس کی جیب پر بوجھ ہو۔ سگریٹ پر ہر بجٹ سے پہلے ٹیکس لگائے جانے کا شور بپا ہوتا ہے اور ہر سال سگریٹ کچھ مہنگا بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ مہنگائی یا قیمت میں اضافہ برائے نام ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے یہاں سگریٹ کی ڈبیا کی قیمت 550 روپے سے 50 روپے تک ہے۔ ٹوبیکو کنٹرول سیل کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹر اجمل شاہ کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً پانچ ہزار افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی یومیہ اموات کی تعداد 274 سے بڑھ کر 460 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ سگریٹ کو عام آدمی اور غریب کی پہنچ سے دور کرنا ہے تو اس کا واحد حل بھاری شرح سے ٹیکس کا نفاذ ہے۔

    معیشت کے مروجہ قاعدے بھی اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ معاشیات کی رو سے انسان ہمیشہ اپنی امدن اور اشیاء کی قیمت کو مدنظر رکھ کر خریداری کرتا ہے اور اپنی امدن اور بازار میں موجود مصنوعات کی قیمت کا موازنہ کرکے اپنی ترجیحات مقرر کرتا ہے، اسے معاشی انتخاب کہتے ہیں۔ ٹیکس کا نفاذ جب سگریٹ کی قیمتوں میں واضح اضافہ کرے گا تو عام آدمی کی پہنچ سے یہ باہر ہوگا اور تمباکو نوشی کے خاتمے کی طرف یہ پہلا اور مؤثر قدم ہوگا کیونکہ سگریٹ کی طلب پر معاشی انتخاب بہرحال قیمت کی زیادتی سے تبدیل ہونا لازم و ملزوم ہے۔

    ہمارے ہاں تمباکو نوشی کی عادت اکثر کم عمری یا نوجوانی میں دوستوں کے ساتھ چھپ کر پینے یا بطور ایڈونچر پینے سے شروع ہوتی ہے جو فوراً جسم کی ضرورت بن جاتی ہے۔ نکوٹین کی کمی پر جسم کی طلب اور قوت ارادی کی کمزوری ہمیں فوراً عادی تمباکو نوش بنا دیتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سٹائلش لگنا اور فلموں، ڈراموں، افسانوں کے کرداروں سے متاثر ہونا ہے جن کی سگریٹ نوشی کو ہمیشہ گلوریفائی کیا جاتا ہے۔

    غریب آدمی کے پاس تفریح یا ذہنی سکون کے مواقع تقریباً صفر ہیں لیکن سگریٹ نوشی سے جڑی ذہنی سکون کی الف لیلا نے اسے غریب آدمی کے لیے سستا ترین سکون بنا دیا ہے۔ نکوٹین سے ذہنی سکون نہیں ملتا، اصل میں یہ دماغی ہارمون ڈوپامین کی ریلیز سے حاصل ہونے والی خوشی کا احساس ہے جو سگریٹ پینے والے پر نفسیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ بدلے میں پھیپھڑوں، دل، منہ، زبان اور جسم کے دیگر اندرونی اعضاء کو بدترین نقصان پہنچتا ہے۔

    اشتہارات، میڈیا، عوامی مقامات پر لوگ، عام آدمی کی رائے اور سگریٹ کی عام دستیابی نے اس کی روک تھام کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ صرف ٹیکس ریٹ میں اضافہ اس کی لت سے نجات کا وہ واحد حل ہے جو قابل عمل تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ کم وقت میں بہترین نتائج کا ضامن بھی۔ سمگل شدہ سگریٹ کم قیمت پر مل جاتے ہیں لیکن ان کی روک تھام کے لیے حکومتی رویہ سخت ہے لہٰذا سگریٹ کو ہیوی ٹیکس نیٹ میں لانے کے بعد سمگل شدہ سگریٹ کا معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔

    پہلے ہمارے یہاں پان، حقہ اور سگریٹ تمباکو نوشی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اب شیشہ، ویپ، الیکٹرانک سگریٹ اور فلٹر پاوچ بھی عام دستیاب ہیں جبکہ نسوار کا رواج بھی عام ہے۔ اگر صرف سگریٹ کو بھاری ٹیکس کی مد میں نشانہ بنایا گیا تو متبادل اشیاء کی فروخت میں اضافہ ہوگا اور تمباکو نوش جو معاشی بوجھ کی وجہ سے ترک سگریٹ پر آمادہ ہوں گے، متبادل ذرائع سے نکوٹین لینے لگیں گے۔ جبکہ کسی بھی شکل میں تمباکو کا استعمال نقصان دہ ہے، لہٰذا ان تمام درج بالا اشیاء کو ٹیکس نیٹ سے ٹارگٹ کرنا ہوگا۔

    اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کی حوصلہ افزائی بذریعہ تشہیر اور ایسے تمام ادارے جو اس مہم کا حصہ ہیں، ان کی سرپرستی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان میں ٹیکس اہداف اکثر حاصل نہیں ہو پاتے جبکہ دوسری طرف تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے ٹیکس بڑھانے میں نہ صرف بہتر ریونیو حاصل ہوگا بلکہ عام آدمی کے لیے بھی معاشی بوجھ میں کمی ہوگی کیونکہ قوت خرید متاثر ہوتے ہی سگریٹ نوشی کے عادی جب اس کا استعمال ترک یا کم کریں گے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ رقم کی بچت کا موقع ہوگا۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:سعد یہ عمران لاہور

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:سعد یہ عمران لاہور

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:سعد یہ عمران لاہور
    دنیا بھر میں سگریٹ نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف انفرادی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معیشت، معاشرہ اور خاندانوں کو بھی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ حکومتیں جب سگریٹ پر ٹیکس عائد کرتی ہیں یا اس کی قیمت میں اضافہ کرتی ہیں تو بعض لوگ اسے غریب کے خلاف اقدام سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں سگریٹ مہنگی ہونے سے غریب آدمی، جو پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے، اس “سکون” کے واحد ذریعے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس پہلو کو صرف معاشی تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ صحت، معاشرتی فلاح اور قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے جانچا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

    سگریٹ کو عموماً ایک معمولی عادت یا سماجی رواج سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک جان لیوا نشہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں لوگ سگریٹ نوشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، ہائی بلڈ پریشر، سانس کی تکالیف اور دیگر خطرناک امراض سگریٹ نوشی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں لاکھوں افراد، خصوصی طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ، اس لت میں ملوث ہیں اور علاج کا بوجھ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً ایک بیمار گھرانہ، ایک خالی باورچی خانہ اور ایک ٹوٹا ہوا خواب۔

    سگریٹ پر ٹیکس صرف سرکاری خزانے میں اضافہ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکمتِ عملی ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو صارف، خاص طور پر وہ جو روزانہ اجرت سے وابستہ ہے، سگریٹ نوشی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہوتا ہے: “یہ ٹیکس غریب پر ظلم ہے!” لیکن اگر یہ ایک غریب کو اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ کر دے تو کیا اسے ظلم کہا جائے؟ یا اس کو ایک احسان؟

    فرض کریں ایک مزدور روزانہ 100 روپے کی سگریٹ پیتا ہے، مہینے میں اس کا بل بنتا ہے 3,000 روپے۔ اگر قیمت بڑھنے سے وہ سگریٹ چھوڑ دے، تو یہی رقم بچوں کی فیس، رہائش کا کرایہ یا بیکار دوا کی جگہ صحت مند خوراک میں استعمال ہو سکتی ہے۔

    غریب آدمی جب سگریٹ پی رہا ہوتا ہے تو دراصل اپنی محنت کی کمائی کو فنا کر رہا ہوتا ہے۔ مہنگائی، کم آمدنی اور بنیادی ضروریات کے بوجھ کے باوجود وہ اپنا قیمتی پیسہ دھوئیں میں اڑا دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ ترک کرنے پر ایک عام مزدور اپنی روزمرہ کی ضروریات بہتر طور پر پورا کر سکتا ہے۔ اس رقم سے بچوں کی تعلیم، تندرست غذائی خوراک اور حفظانِ صحت کی سہولیات ممکن ہو جاتی ہیں۔

    غربت اور ذہنی دباؤ کے عالم میں سگریٹ وقتی سکون کا بہانہ بن جاتی ہے، لیکن یہ سکون دھوکہ ہوتا ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو بندہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے: “کیا واقعی یہ عادت میرے لیے فائدہ مند ہے؟” پہلے قدم پر ہی نجات کا آغاز ہوتا ہے۔ معاشرتی دباؤ یا فیشن کے تحت سگریٹ نوشی کرنے والے نوجوان بھی مہنگائی کی دیوار سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور یوں گھریلو ماحول میں خاموش نجات شروع ہو جاتی ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پہلے ہی صحت کا نظام کمزور ہے۔ لاکھوں لوگ سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث اسپتالوں کے چکر کاٹتے ہیں، جس سے قومی صحت کا بوجھ اور بڑھ جاتا ہے۔ ٹیکس کے نتیجے میں اگر سگریٹ نوشی میں کمی آئے تو افراد کی صحت بہتر ہوگی، اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا، اور سرکاری صحت کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

    سگریٹ پر ملنے والا ٹیکس اگر شفاف انداز میں صحت، تعلیم اور آگاہی مہمات پر خرچ کیا جائے، سکولوں میں بچوں کو صحت کی تعلیم دی جائے، کمزور طبقے کے لیے اسپیشل ہیلپ لائنز قائم ہوں، اور معاشرے کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے روشناس کرایا جائے، تو اس کا دوہرا فائدہ ہوگا: کم سگریٹ نوشی اور غریب طبقے کی بہبود۔

    ہمارے محلے کے “چاچا منور” جو ہمیشہ دھوئیں میں گم رہتے تھے، جب سگریٹ کی قیمت بڑھ گئی تو بولے: “حکومت نے تو سکون پر بھی سیلز ٹیکس لگا دیا!” ہم نے کہا: “چاچا، سکون تو قبر میں ہے، یہ زہر ہے!” یہ مزاحیہ پہلو اس بات کی علامت ہے کہ مہنگائی کس طرح ایک قدرتی رکاوٹ بن جاتی ہے، اور ہمیں صحت مند انتخاب پر مجبور کرتی ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے اگرچہ وقتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ غریب کی پہنچ سے سگریٹ دور ہو گئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مثبت انقلاب ہے۔ یہ نہ صرف اس کی صحت، کمائی اور خاندان کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے معاشرے کی بھلائی کا باعث بنتا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام مالی پالیسی نہیں بلکہ ایک سماجی، صحت مند اور فلاحی حکمتِ عملی ہے۔ اس لیے ہمیں اسے ظلم نہیں بلکہ ایک قابلِ ستائش قدم سمجھنا چاہیے۔

    “اگر سگریٹ مہنگی ہو کر غریب کی پہنچ سے دور ہو گئی تو شاید اس کی سانسیں بھی کچھ عرصے کے لیے آزاد ہو جائیں!”

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: زینب نور، اوکاڑہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: زینب نور، اوکاڑہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: زینب نور، اوکاڑہ
    سگریٹ ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے، اور اس بات کا احساس متاثرہ شخص کو ذرا بھی نہیں ہوتا۔
    ایک عام آدمی، جس کے گھر دو وقت کی روٹی نہیں بنتی، وہ ایک دن میں دو تین ڈبیاں سگریٹ کی پی لیتا ہے۔
    محنت مزدوری کرنے والا عام طبقہ بھی اس لعنت سے باز نہیں آیا۔ سارا دن مزدوری کرکے شام کو سگریٹ پینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
    روٹی چاہے مرچ کے ساتھ کھا لیں، مانگ تانگ کے کھا لیں، لیکن سگریٹ کے بغیر گزارہ کرنا مشکل ہے۔

    یہ ایک انتہائی مضر عادت ہے جو نہ صرف پینے والے کو نقصان دیتی ہے بلکہ ارد گرد کے افراد کو بھی متاثر کرتی ہے۔
    صحت پر اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    اس میں موجود نکوٹین اور دیگر کیمیائی مادے پھیپھڑوں کے خلیات کو تباہ کر دیتے ہیں۔
    دمہ کے مریضوں کو اس کے دھوئیں سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں۔
    بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اس میں موجود کیمیکلز خون کو گاڑھا کر دیتے ہیں۔
    منہ کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    مسوڑھوں اور دانتوں کے مسائل جنم لیتے ہیں، دانت گرنے لگتے ہیں اور منہ میں ہر وقت بدبو رہتی ہے۔
    سگریٹ کا دھواں نہ صرف دوسروں کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود کی صحت کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔

    اس سے بچاؤ کے لیے گھر سے شروع کریں۔ اپنے آپ کو، اپنے خاندان کو بچائیں۔
    مناسب وقت پر علاج کروائیں۔ ابتدا میں مشکل ہوتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس عادت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر دیکھا جائے تو ٹیکس لگانے سے نوجوان طبقہ چوری اچکاری میں پڑ سکتا ہے۔
    یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کو پورا کرنے کے لیے مانگنا یا لوٹ مار عام ہو سکتا ہے۔
    گداگری میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
    دیکھا جائے تو پڑھا لکھا طبقہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہے، اور جو انسان اس عادت میں ڈوبا ہوگا، اسے بروقت یہ نشہ نہ ملنے پر ڈکیت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

    میری رائے میں اس کی پیداوار کو بتدریج کم کرتے کرتے بالکل زیرو فیصد کر دینا چاہیے۔
    "نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری”

    دوسری طرف، جتنا وقت پیداوار کی شرح میں کمی لانے میں لگے گا، اتنا ہی وقت ایسے مریضوں کو پکڑ کر ان کا علاج کروا کے مناسب روزگار پر لگایا جائے۔
    آج کل کے نوجوان جس ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس طرف آتے ہیں، اس جڑ کو سرے سے ختم کر دینا چاہیے۔
    کچھ نوجوانوں نے فیشن کے طور پر بھی اس کو اپنایا ہوا ہے۔
    نہر کنارے، پارکوں میں ٹولیاں بنا بنا کر یہ شغل فرمایا جا رہا ہے۔
    انسانی جان اتنی ارزاں نہیں کہ اسے خود اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

    حکومت مناسب روزگار مہیا کرے۔ نوجوان پڑھا لکھا طبقہ بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں۔
    ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کو بچانا ہے۔

    "نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں”

  • تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں "تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس مہلک عادت کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 1.7 لاکھ اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو خود سگریٹ نہیں پیتے بلکہ دوسروں کے دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔

    تمباکو نوشی ایک مہلک، مہنگی اور معاشرتی لعنت ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے ہر معاشرے کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ اگر ہم آج سے اس کے خلاف بھرپور جہاد کا آغاز کریں تو آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند زندگی دی جا سکتی ہے۔

    آج کا ہمارا موضوع ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ غریب عوام کو اس لعنت سے نجات دلائی جا سکے۔ پاکستان میں اکثریتی غریب طبقہ سگریٹ نوشی کو بطور دوا استعمال کرتا ہے اور اسے ٹینشن کم کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، جو سراسر غلط اور غیر صحت مند رویہ ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے آگاہی نہایت ضروری ہے، لیکن پاکستان میں میڈیا اور مختلف محفلوں میں اس کی تشہیر ایک فیشن یا سٹیٹس سمبل کے طور پر کی جاتی ہے، جس کی کوئی مناسب روک تھام موجود نہیں۔ تمباکو مصنوعات کی کھلے عام تشہیر سے نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویپنگ اور شیشہ کیفے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسے ایک نیا فیشن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

    ملک میں انسداد تمباکو قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ سگریٹ نوشی آج ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو انسانیت کو آہستہ آہستہ نگل رہا ہے۔ غریب طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ناقص منصوبہ بندی، سستی اور غیر معیاری تمباکو مصنوعات، اور تمباکو نوشی کی عام مقبولیت شامل ہیں۔

    آج تمباکو نوشی کئی مختلف شکلوں میں موجود ہے، جو معاشرتی، جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے تباہ کن ہے۔ نوجوان نسل کو "فیشن”، "دوستی” اور "تفریح” کے نام پر ان لتوں کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان پر قابو پانے کے لیے قانونی اقدامات، عوامی شعور، والدین کی نگرانی، اور میڈیا کی مثبت مداخلت نہایت ضروری ہے۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ پبلک سیکٹر، اساتذہ، علما، والدین اور سماجی تنظیموں کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرتی نظام میں آگاہی کی کمی اور تمباکو نوشی کی غیر ضروری تشہیر ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    اگر سگریٹ پر ٹیکس بڑھا دیا جائے اور اس کی قیمت دو یا تین گنا ہو جائے، تو امیر طبقہ شاید متاثر نہ ہو، لیکن غریب ضرور متاثر ہوگا۔ وہ یا تو غیر معیاری اور سستی مصنوعات کی طرف جائے گا یا اپنی دیگر ضروریات قربان کر کے اس عادت کو برقرار رکھے گا۔ یہ صورتحال صحت کے مزید بگاڑ اور معاشی بدحالی کو جنم دے گی۔

    لہٰذا، صرف ٹیکس بڑھانا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک متوازن اور جامع حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:

    تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق بھرپور آگاہی مہمات
    نشے کی لت چھڑانے کے لیے مفت مراکز کا قیام
    نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنا، جو کورونا وبا کے بعد 80 فیصد تک ختم ہو چکے ہیں
    تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی
    اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انسدادِ تمباکو تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا

    اگر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو ہم کافی حد تک تمباکو نوشی کے ناسور سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اور آئندہ نسلوں کو ایک صحت مند، باوقار اور با شعور معاشرہ دے سکتے ہیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ
    تمباکو نوشی صحت عامہ کے لیے ایک عالمی چیلنج ہے، جو خاص طور پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد تمباکو سے منسلک بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس وقت ایک ارب سے زائد افراد تمباکو کی لت کا شکار ہیں، جن میں 25 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں آٹھ جان لیوا امراض میں سے چھ کا تعلق براہ راست سگریٹ نوشی سے ہے، جن میں عارضہ قلب، دمہ، ٹی بی، اور پھیپھڑوں کا کینسر جیسے موذی امراض سرفہرست ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، روزانہ 11 ہزار افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر اس وبا کے خلاف موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعدادوشمار ایک خطرناک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی نہ صرف انسانی جانوں کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کو بھی تباہ کر رہی ہے۔

    سگریٹ نوشی کی لت چھوڑنا ایک مشکل عمل ہے۔ ایک لطیفے میں اس کی شدت کو کچھ یوں بیان کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنے تمباکو نوش دوست سے فخر سے کہا، "تم سے ایک بار سگریٹ نہیں چھوڑی جاتی، جبکہ میں نے تو کئی بار چھوڑی!” یہ محض ایک لطیفہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، 90 فیصد تمباکو نوش اسے چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ناکامی ان کا مقدر بنتی ہے۔ اس کی وجہ نکوٹین کی شدید لت ہے، جو دماغ کو اس قدر جکڑ لیتی ہے کہ چھوڑنے کی خواہش رکھنے والے بھی بار بار ناکام ہو جاتے ہیں۔ اگر حکومتیں اس وبا کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھائیں، تو لاکھوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مالی طور پر بھی افراد اور خاندانوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ایک عام پاکستانی گھرانے کا بجٹ، جو پہلے ہی محدود ہوتا ہے، سگریٹ کی خریداری پر خرچ ہونے سے مزید دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ غریب طبقہ، جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس لت کی وجہ سے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ضائع کر دیتا ہے۔

    حکومت اگر سگریٹ پر دوگنا ٹیکس عائد کر دے تو اس وبا پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق، جن افراد کو سگریٹ چھوڑنے کے لیے مالی ترغیبات دی گئیں، ان میں سے بڑی تعداد نے ایک سال کے اندر یہ لت ترک کر دی۔ ٹیکس بڑھانے سے سگریٹ کی قیمت غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی، جس سے نہ صرف اس کی کھپت کم ہوگی بلکہ صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں صحت کے شعبے کو پہلے ہی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اگر سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگایا جائے تو نہ صرف صحت کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کے فوائد صرف صحت تک محدود نہیں ہیں۔ یہ معاشی اور معاشرتی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ غریب طبقہ، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے، اس ٹیکس کے نتیجے میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرے گا۔ مثال کے طور پر، ایک غریب مزدور جو روزانہ 100 روپے سگریٹ پر خرچ کرتا ہے، سالانہ تقریباً 36,500 روپے ضائع کر دیتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اس رقم کو اپنے بچوں کی تعلیم، گھریلو ضروریات، یا صحت پر خرچ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے حکومت شعور بیدار کرنے کی مہمات چلا سکتی ہے، جن میں عوام کو تمباکو کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ ایسی مہمات خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنائیں، جو فیشن یا سماجی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کے خلاف جنگ صرف ٹیکس بڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، مساجد، اور میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مساجد کا کردار خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ خطبہ جمعہ کے دوران علماء عوام کو سگریٹ کے شرعی اور صحت کے نقصانات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، اسکولوں اور کالجوں میں نصاب کا حصہ بناتے ہوئے طلبہ کو تمباکو کے خطرات سے روشناس کرایا جائے۔ میڈیا پر نشر ہونے والے اشتہارات میں سگریٹ نوشی کے خوفناک نتائج کو دکھایا جائے، جیسے کہ پھیپھڑوں کے کینسر یا دل کے دورے کے مناظر۔ یہ تصاویر لوگوں کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور انہیں اس لت سے دور رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے غیر قانونی تجارت کو فروغ ملے گا۔ یہ ایک جائز خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان میں پہلے ہی اسمگل شدہ سگریٹ کی مارکیٹ موجود ہے۔ تاہم، اس کا حل سخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ سرحدی علاقوں میں چیکنگ کو سخت کیا جائے اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت پر سخت سزائیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ، تمباکو کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ ان کی معاشی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، تمباکو کی کاشت کے بجائے کسانوں کو دیگر منافع بخش فصلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے سبسڈی دی جا سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی سے انکار زندگی سے پیار کا عکاس ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا:

    نشے کی لذتوں نے ہم کو کہیں کا نہ چھوڑا
    زندگی کو برباد کر دیا، موت کو قریب کر دیا

    یہ شعر تمباکو نوشی کے تباہ کن اثرات کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے۔ سگریٹ نہ صرف جسم کو کھوکھلا کرتی ہے بلکہ خاندانوں کو معاشی طور پر کمزور اور معاشرے کو تقسیم کرتی ہے۔ اگر ہم ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہر سطح پر اس وبا کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرنا اس جنگ کا ایک اہم ہتھیار ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف غریب کی پہنچ سے سگریٹ کو دور کرے گا بلکہ صحت عامہ کے تحفظ اور معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، خاندان، اور ادارے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ شعور بیدار کرنے، سخت قوانین نافذ کرنے، اور متبادل معاشی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم مل کر اس وبا کا مقابلہ کریں تو نہ صرف لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: عائشہ اسحاق
    سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر اسے غریب کی پہنچ سے دور کرنے کا مقصد لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کروانا ہے تو یہ طریقہ نہایت نامناسب ہے کیونکہ ٹیکس میں اضافہ غریب سے سگریٹس تو واقعی دور کر سکتا ہے مگر یہ طریقہ غریب کو سمگلنگ شدہ ناقص گھٹیا درجے کا سستا سگریٹ پینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے خلاف مختلف پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے غریب کا فائدہ نہیں بلکہ مزید نقصان ہوتا ہے۔ 2024 کے اختتام پر پیش کی جانے والی مالی رپورٹ کو دیکھیں تو 63 فیصد تک غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار عروج پر رہا۔ ماہر ٹیکس امور کے مطابق 2021 میں قانونی طور پر سگریٹ کا کاروبار 80 فیصد اور غیر قانونی سیگرٹس کا کاروبار 20 فیصد تھا جو کہ 2024 میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہونے کی باعث سمگلنگ شدہ غیر قانونی سگریٹ 63 فیصد تک جا پہنچا۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی لت ہے جو امیروں اور غریبوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے مگر ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے جب سیگرٹ کے پیکٹ کہ قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو امیر ادمی کے لیے اسے خریدنا کچھ مشکل نہیں ہوتا مگر اس کے برعکس غریب سیگرٹ نوشی کے عادی افراد قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں اور برانڈز کے سگریٹ کو خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد سمگلنگ شدہ اور لوکل کمپنیوں کی طرف سے تیار کیے جانے والے سگریٹ سستے داموں خرید لیتے ہیں۔ ان سیگرٹس میں کوئی نہیں جانتا کہ اجزا کس طرح کے استعمال کیے جاتے ہیں تمباکو کون سا استعمال کیا جاتا ہے لہذا یہ رجسٹرڈ برانڈز کے سگریٹ کی نسبت کہیں زیادہ مضر صحت ثابت ہوتے ہیں۔

    اول تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیگرٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ہلکا نشہ ہے اور یہ عمل اہستہ اہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں ہمارے مذہب دین اسلام میں کسی قسم کا بھی نشہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک مکروہ عمل ہے اور پھر یہ حقیقت واضح ہے کہ سگرٹ امراض کلب پھیپھڑوں کے امراض کینسر اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لہذا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں سگریٹ بنانے، خریدنے اور بیچنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

    لیکن اگر حکومت پاکستان ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی اور ٹیکس بڑھا کر سیکرٹ کے استعمال میں کمی واقعہ کرنے کی خواہاں ہے تو میری ذاتی طور پر رائے ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں کمی واقع کر دی جانی چاہیے تاکہ سمگلنگ جیسے گنھوونے دھندے کو مات ہو سکے۔
    کسٹمز انٹیلیجنس نے رواں سال مختلف کاروائیوں میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ کے تقریبا چار لاکھ سے زائد پیکٹ پکڑے۔ غیر قانونی سگریٹس کی خرید و فروخت سے 300 ارب سے زائد ٹیکس چوری ہوا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ غیر قانونی سمگلنگ شدہ سگریٹ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ملکی مالی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔

    ارٹیکل 6 کے تحت سیگرٹس بنانے والی تمام کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کی بھی رجسٹریشن کرنی چاہیے پاکستان میں دکانداروں کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی جس کی وجہ سے یہ بات معلوم نہیں ہو پاتی کہ کون پیڈ سگرٹ فروخت کر رہا ہے اور کون نان پیڈ فروخت کرتا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز کا رجسٹرڈ نہ ہونا لوکل کمپنیوں اور سمگلرز کی چاندی چمکانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ عمل لوگوں کی خاص کر نوجوانوں کی صحت اور ان کی زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ اس معاملے میں مختصرا یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض ٹیکس بڑھا کر سگریٹ کو غریبوں کی پہنچ سے دور کرنا کوئی مثبت حکمت عملی نہیں یا تو پاکستان میں سگریٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے یا پھر لوکل کمپنیوں اور غیر قانونی سگریٹ کی خرید و فروخت پر روک تھام کے لیے سیگرٹس کے تمام مینوفیکچرز اور ڈسٹری بیوٹرز حتی کہ تمام دکانداروں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: اقصیٰ جبار
    تمباکو نوشی وہ زہر ہے جو مہذب پیکٹ میں چھپا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ زندگی کو نگل لیتا ہے۔”
    سگریٹ کا ہر کش بظاہر ہلکا سا لگتا ہے، مگر اس کا دھواں جسم کی رگ رگ میں بیماری، بربادی اور بےحسی گھول دیتا ہے۔ تمباکو نوشی اب صرف ایک فرد کی عادت نہیں، بلکہ معاشرے کا ناسور بنتی جا رہی ہے ، خاص طور پر ان طبقات میں، جو لاعلمی، غربت اور تھکن کا شکار ہیں۔

    جب سگریٹ سستی ہو تو یہ زہر عام ہوتا ہے، جب مہنگی ہو تو رکاؤٹ بنتی ہے۔ ایک مزدور، جو روز دو وقت کی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، اگر سگریٹ آسانی سے خرید سکتا ہے تو وہ اپنے بچوں کی روٹی، تعلیم اور علاج کو اس دھویں میں جھونک رہا ہے۔ لیکن جب یہی سگریٹ مہنگی ہو، جب اس پر ٹیکس ہو، تو وہ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور ہوتا ہے — اور یہی "مجبوری” ایک نئی زندگی کا آغاز بن سکتی ہے۔

    بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ٹیکس سے غریب متاثر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سستا زہر ہی اصل بربادی ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت اس قدر ہو کہ ایک عام فرد اسے خریدنے سے پہلے دس بار سوچے، تو یہ سوچ ہی اس کے بچاؤ کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو شخص چند لمحوں کی تسکین کے لیے اپنی صحت دائو پر لگا دیتا ہے، اس کے لیے قیمت بڑھانا شاید واحد عملی روک ہو۔

    ٹیکس ایک معاشی اصطلاح سہی، مگر اس کا اطلاق اگر انسانی فلاح کے لیے ہو تو یہ محض "رقم” نہیں، بلکہ "رحمت” بن جاتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس، دراصل آئندہ نسل کو بیماری سے، ماؤں کو غم سے، اور گھروں کو ویرانی سے بچانے کی ایک مؤثر تدبیر ہے۔

    یہ تحریر صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں، بلکہ شعور برائے بیداری ہے۔ اگر ہم ایک ایسی عادت پر خاموش رہیں جو روز سینکڑوں زندگیوں کو نگل رہی ہے، تو ہمارا سکوت بھی جرم بن جائے گا۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، تو ہو سکتا ہے:
    کوئی باپ اپنے بیٹے کی کتاب خرید لے،
    کوئی مزدور دوا خرید لے،
    یا شاید کوئی نوجوان زندگی کو سنجیدہ لینا سیکھ لے۔

    اگر ٹیکس سے کوئی سگریٹ چھوڑ دے، تو یہ ٹیکس نہیں… نجات کی کنجی ہے۔

  • تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک.تحریر: سید شاہزیب شاہ

    تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک.تحریر: سید شاہزیب شاہ

    تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک
    تحریر: سید شاہزیب شاہ
    تمباکو نوشی نہ صرف ایک انفرادی صحت کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ایک قومی بحران بن چکا ہے، جس کا دائرہ اثر مقامی بازاروں سے نکل کر عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا ہر شہری روز مرہ کی زندگی میں اس تباہ کن عادت کے اثرات کو کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    میرپورخاص، سندھ کا ایک مشہور شہر، جہاں تمباکو کی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹیں دن بہ دن فروغ پا رہی ہیں۔ ہلال مارکیٹ جو کہ تمباکو کی خرید و فروخت کا مرکزی مرکز بن چکی ہے، نہ صرف ہول سیل ڈیلروں کا گڑھ ہے بلکہ اس کے اطراف کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں بھی تمباکو کی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہیں۔ یہی نہیں، پان کے کیبن، جنرل اسٹورز اور عام دکانیں تک اس زہر کو بیچنے میں مصروف ہیں، گویا ہر موڑ پر ایک "قتل گاہ” بنی ہوئی ہے – خاموش، مگر مسلسل۔

    یہ صورت حال اس وقت اور زیادہ افسوسناک ہو جاتی ہے جب ہم عالمی ادارہ صحت (WHO) کی حالیہ رپورٹ پر نظر ڈالتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سگریٹ نوشی کے باعث 1,64,000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے بکھرنے کی داستان ہے، بچوں کے یتیم ہونے کی حقیقت ہے، اور بیواہوں کی آہوں کا عکس ہے۔

    مزید برآں تمباکو نوشی سے قومی خزانے کو سالانہ 700 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس مالی نقصان کو اگر تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں میں لگایا جائے تو پاکستان کئی حوالوں سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی ترجیحات میں تمباکو مافیا کو شکست دینے سے قاصر ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس المیے پر قابو پانے کے لیے حکومتِ پاکستان کو سفارش کی ہے کہ تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ اس کے استعمال کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک طرف یہ عوام کو اس مہلک عادت سے روکنے میں مدد دے گا، تو دوسری طرف اس سے حاصل شدہ محصولات کو صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی سنجیدہ ہے؟ کیا ہلال مارکیٹ جیسے مراکز پر چھاپے مار کر، تمباکو کی غیر قانونی فروخت پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ کیا پان کے کیبنز پر کم عمر بچوں کو تمباکو بیچنے پر پابندی واقعی نافذ کی جا سکتی ہے؟ اگر حکومت ان سوالات کے جواب میں عملی اقدامات نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ تمباکو مافیا حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ صرف اعلانات اور رپورٹوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، اور والدین سب کو مل کر اس معاشرتی بیماری کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ ہم سب کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ایک صحت مند، صاف اور محفوظ پاکستان چاہیے — جہاں زندگی تمباکو کے دھوئیں میں نہ لپٹی ہو۔