Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف نے عوامی فلاح و بہبود کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ اُن کی قیادت میں پنجاب حکومت ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں ہر طبقہ فکر، خاص طور پر پسماندہ اور نظر انداز کیے گئے افراد، کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعلانات اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیراعلیٰ کی توجہ صرف اعلانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام سرکاری عمارتوں میں خصوصی افراد کے لیے ریمپ بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اُن افراد کو بھی معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جو جسمانی معذوری کے باعث محدود ہیں۔یہ سہولت نہ صرف سرکاری دفاتر تک ان کی رسائی کو آسان بنائے گی بلکہ انہیں احساسِ شمولیت بھی دے گی۔

    مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلے پانچ ماہ میں 30 ہزار گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو کہ "اپنی چھت، اپنا گھر” پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ یہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں ایک مثال بن چکا ہے، کیونکہ اس سے پہلے کوئی بھی حکومت عوام کے لیے تین ہزار گھر بھی نہ بنا سکی۔ان کا ہدف ہے کہ سال کے آخر تک 1 لاکھ گھر مکمل کیے جائیں تاکہ ہر بے گھر کو چھت فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا”میں ہر اس شخص تک پہنچنا چاہتی ہوں جو ریاست کا انتظار کر رہا ہے۔”یہ جملہ نہ صرف ان کے وژن کا عکاس ہے بلکہ اُن کی فلاحی سوچ کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکومت اب صرف دفتر کے دروازے کھول کر انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود عوام کے دروازے تک پہنچے گی۔

    معذور اور جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔جو افراد جسمانی کمزوری کا شکار ہیں وہ اس پورٹل پر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔حکومت ضرورت کے مطابق معاون آلات ان کے گھروں تک پہنچائے گی۔یہ اقدام ان افراد کو زندگی میں مزید آزادی اور خود مختاری دے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے یکم مئی کو ایک اور تاریخی قدم اٹھایا جا رہا ہے،پاکستان کا سب سے بڑا راشن کارڈ پروگرام لانچ کیا جائے گا۔اس پروگرام کے تحت 12.5 لاکھ خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد رقم فراہم کی جائے گی۔یہ اسکیم مہنگائی کے مارے افراد کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف بن کر سامنے آئے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن مضبوط ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ معذور افراد کی سہولت، بے گھر افراد کو چھت، اور غریب طبقے کیلئے معاشی امداد ، یہ سب ایک ہمہ گیر فلاحی وژن کا حصہ ہیں۔اب یہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں، خود بھی رجسٹریشن کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

  • ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎موسم گرما کی ایک ایسی دوپہر جب چیل بھی انڈا چھوڑ جاتی ہو، سکول بس سے اترنے والی بچی نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف کو چل دی۔ ہر روز بس معمول کے مطابق رکتی، وہ بس سے چھلانگ لگا کے اترتی، بستہ کمر پہ بندھا ہوتا اور تیزی سے چلتی ہوئی اس گلی میں داخل ہو جاتی جو دو تین موڑ مڑتی اس کے گھر تک جاتی تھی۔‎وسیع سڑک پہ دو رویہ دکانیں تھیں جو دوپہر کے وقت عموماً خالی پڑی ہوتیں اور ددوکاندار گرمی کی شدت سے بیزار گاہکوں کے انتظار میں اونگھ رہے ہوتے۔‎اس دوپہر وہ بچی گلی میں داخل ہونے کی بجائے اس جنرل سٹور کی طرف مڑ گئی جس کے برآمدے میں بہت سے ایسے ریک پڑے ہوتے جو مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کے ہمراہ رکھوا دیتیں۔ ہر ریک کے اوپر اس چیز کا بڑا سا اشتہار بھی لگا ہوتا جس سے ریک کے اندر موجود شے کا علم ہو جاتا۔‎بچی برآمدے میں پڑے اس ریک کے پاس رکی جس کے اوپر لگے اشتہار میں ایک خوبصورت عورت ایک جھولے پہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ نیچے ریک کے شیلف پہ بہت سے پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔
    ‎بچی کو آتے دیکھ کے اونگھتا دوکاندار سیدھا ہو کے بیٹھ گیا،
    ‎“بیٹا، کونسی چاکلیٹ دوں”
    ‎“نہیں انکل، چاکلیٹ نہیں چاہیے” بچی با اعتماد لہجے میں بولی۔
    ‎“پھر کیا چاہیے بیٹا آپ کو؟” دوکاندار نے شفقت سے پوچھا۔
    ‎“وہ”
    ‎بچی کی انگلی اس ریک کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس پہ وہ مسکراتی ہوئی عورت براجمان تھی۔
    ‎دوکاندار نے حیران ہو کے بچی کی طرف دیکھا۔ شاید بچی کو اس کی بڑی بہن یا ماں نے خریدنے کو کہا ہو، کہ خواتین شرم کے مارے کہنا مشکل سمجھتی تھیں اور اس کی دکان پہ اس ریک کی سیل بہت ہی کم تھی۔ بغیر کچھ کہے اس نے ایک خاکی لفافے میں پیکٹ لپیٹ کر بچی کو تھما دیا جو اس لفافے کو سکول بیگ میں رکھ کر جلدی سے سیڑھیاں اتر گئی!

    ‎ہمارا سن ہو گا یہی کوئی بارہ تیرہ برس کا اور ہم محسوس کر چکے تھے کہ کلاس میں ہم جماعتوں کی کھسر پھسر بڑھ چکی ہے۔ دبی دبی آواز میں رازو نیاز، شرمائی لجائی مسکراہٹ، دوپٹہ اوڑھنے میں احتیاط اور پابندی، اٹھتے بیٹھتے دامن کو جھٹکنا اور پشت سے قمیض سیدھی کرنا تو تھا ہی مگر کچھ اور بھی تھا جس کی پردہ داری تھی اور وہ ہم پہ کھلتا نہیں تھا۔
    ‎اب ماجرا یہ تھا کہ ہم کلاس کی اکژیت سے معصوم اور کم عمر دکھائی دیتے تھے سو کئی موضوعات ہمارے لئے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔ گو یہ سمجھنے والے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہماری آگہی کا درجہ بیشتر ہم جماعتوں سے اوپر ہی تھا۔
    ‎کبھی کبھار کچھ لڑکیاں ٹوہ لینے کے انداز میں ہماری طرف دیکھتیں گویا اندازہ لگا رہی ہوں کہ ہم کیمپ میں ساتھی بنے کہ نہیں۔ سیدھے سبھاؤ لوگ ہماری معصومیت کو داغدار کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے تھے۔
    ‎کتابیں اور رسائل پڑھ کے کچھ اندازے تو ہم لگا چکے تھے سو ایک روز آپا کے سر ہوئے کہ مخفی امور و رموز کی مزید تفصیلات سے دلچسپی تھی۔ آپا سے ہم نے بات کچھ یوں شروع کی کہ نہ جانے کیوں ہم جماعتیں ٹٹولتی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہتی ہیں؟ آپس میں تو کچھ کہتی ہیں لیکن جب ہم پاس پہنچتے ہیں تو خاموش ہو جاتی ہیں؟
    ‎آپا نے پہلے کچھ ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری ضد کے سامنے بھلا کب تک ٹھہرتیں۔ چلیے جی انہیں بتانا ہی پڑا کہ ہمیں بھی ایک ناگہانی کا سامنا کرنا ہو گا لیکن یہ علم نہیں کہ کب؟ کہاں؟ کس وقت؟

    ‎منصوبہ ساز تو ہم شاید پیدائشی طور پہ تھے کہ ہر بات پہلے سے سوچ کے رکھتے۔ اب دماغ اس جوڑ توڑ میں مصروف تھا کہ ہم نے اس آفت سے نبٹنا کیسے ہو گا؟ آپا کے مطابق تو وقت پڑنے پر ہمیں روئی کا ایک بنڈل فراہم کیا جانا تھا جس کے ساتھ ڈاکٹری پٹی بھی ہو گی۔ حسب ضرورت روئی اور اس پہ لپٹی جالی نما پٹی…. بھئی یہ تو بہت فضول آئیڈیا ہے، روئی اور پٹی سے تیاری … کچھ اور ہونا چاہئے، ہم نے دل میں سوچا۔
    ‎اسی سوچ بچار میں کچھ دن گزرے کہ ہمیں حل سمجھ آ گیا اور اس کا سہرا اخبار کے سر بندھا جس میں چھپے اشتہار ہم بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
    ‎اب اگلا مرحلہ کہاں سے اور کیسے کا تھا۔ وہ بھی ہماری عقابی نظر کی بدولت سر ہوا کہ سکول واپسی پہ جس سڑک پہ ہم بس سے اترا کرتے تھے ، وہیں ایک جنرل سٹور کے برآمدے میں ایک ریک پہ ہماری مشکل کا جواب رکھا ہوا تھا۔ یہ ہماری اور سینٹری پیڈز کی پہلی شناسائی تھی، جانسن اینڈ جانسن کے بنائے ہوئے موڈیس پیڈز!

    ‎اس دن جنرل سٹور سے پیڈز خرید کر لانے کے بعد گھر میں انہیں چھپا کر رکھنا بھی ہمارا ایک کارنامہ تھا۔ اپنی تیاریوں کی خبر ہم اماں اور آپا کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ پیڈز خرید کر اب ہماری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو محاذ جنگ پہ سرحد کے پاس چوکنا ہو کے دشمن کا انتظار کر رہا ہو اور دشمن ہو کہ آ ہی نہ چکتا ہو۔‎کچھ ہی ماہ کے بعد وہ وقت آ ہی گیا جس کے لئے ہم کمر کس کے تیار بیٹھے تھے۔ بنا پریشان ہوئے یا روئے دھوئے ہم نے اس صورت حال سے بخوبی نمٹ لیا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اماں اور آپا کو اگلے چھ ماہ تک پتہ ہی نہ چل سکا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟

    ‎یہ راز یوں اگلنا پڑا جب اماں نے پریشان ہو کر ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ علم ہونے پہ ہم کھلکھلاتے ہوئے بولے، ہم بالکل نارمل ہیں اور ہمیں ماہواری ہوتے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔
    ‎اماں اور آپا کی حیرت زدہ پھٹی پھٹی آنکھیں ہمیں آج تک نہیں بھول پائیں!
    ‎ان کی لاپروا الہڑ بیٹی معاشرتی دباؤ کے ساتھ جنگ کا آغاز کر چکی تھی۔

  • دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل منظوری نے ہماری زندگیوں پر راج قائم کر لیا ہے، وہاں اصلیت اور بناوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔ اب زندگی ایک ذاتی سفر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی کارکردگی بن چکی ہے جو ایک "نظر نہ آنے والے” سامعین کے لیے مسلسل پیش کی جا رہی ہے۔ فلٹر شدہ خوشیوں سے لے کر بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی بیماریوں تک، ہم ایک ایسی ثقافت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جہاں احساسات سے زیادہ ظاہری تاثر اہمیت رکھتا ہے۔

    ایک وقت تھا جب ذاتی دکھ درد صرف قریبی اور مخلص لوگوں سے شیئر کیے جاتے تھے، اور خوشیاں ان کے ساتھ منائی جاتی تھیں جن کا ساتھ اصل ہوتا تھا۔ آج، زندگی کی معمولی باتیں — ہلکا سا سر درد، ایک کپ چائے، اُداس لمحہ یا زبردستی کی مسکراہٹ — سب کچھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہم زندگی گزار نہیں رہے، بلکہ اسے اسٹیج پر دکھا رہے ہیں —وہ بھی محض توجہ، تعریف اور تالیوں کے لیے۔

    اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے لمحے کی اطلاع دوسروں کو دینا صرف عادت نہیں، بلکہ ایک اندرونی خلا کو ظاہر کرتا ہے — وہ خلا جو تسلی، اہمیت اور تسکین کی تلاش میں ہے۔ لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، کامیاب دکھنے کے لیے جھوٹی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور خود کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے جعلی طرزِ زندگی اپناتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس مجمع کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے، اسے درحقیقت آپ کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    چلیے سچ تسلیم کریں — لوگوں کو واقعی آپ کی زندگی کی اونچ نیچ سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ وہ ایک لائک، ایک تبصرہ، یا ایک ایموجی ضرور دے سکتے ہیں، مگر ان کے ذہن اپنے مسائل، اپنی فکریں اور اپنی اہمیت کی تلاش میں الجھے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کامیابی یا ناکامی پر کوئی نیند نہیں کھوتا۔ یہ تلخ حقیقت اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے — جب آپ کئی سال اپنی زندگی صرف دوسروں کو متاثر کرنے میں گزار چکے ہوتے ہیں۔

    اپنی زندگی دوسروں کو اپڈیٹ کرنے کے لیے جینا ایسے ہی ہے جیسے کسی خالی ویرانے میں پکارنا — شاید آواز گونجے، لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ یہ دکھاوٹی رویہ نہ تو عزت دلاتا ہے اور نہ ہی وقار، بلکہ ترس یا مذاق کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی شخصیت میں بدل دیتا ہے جو اندر سے کھوکھلی، مگر باہر سے چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    جعلی زندگی کا جذباتی بوجھ
    ظاہری دکھاوے کو برقرار رکھنا آسان نہیں — یہ ذہنی سکون، اصلیت اور حقیقی تعلقات کی بھاری قیمت پر ہوتا ہے۔ ہر وقت ‘ٹھیک’ یا ‘کامیاب’ نظر آنے کی کوشش انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ جب آپ وہ بننے کی اداکاری کرتے ہیں جو آپ ہیں ہی نہیں، تو آپ کی اصل خوشیاں بھی کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ، جب لوگ جذباتی کمزوری یا بیماری کو ڈرامہ بنا کر پیش کرتے ہیں، تو وہ ان لوگوں کی حقیقی تکلیف کو کم تر کرتے ہیں جو واقعی درد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہمدردی ایک وقتی ردعمل بن کر رہ جاتی ہے — ایموجیز اور ری ایکشنز کی شکل میں۔

    خاموشی اور نجی زندگی کی طاقت

    خاموشی میں حکمت ہے۔ ہر بات کو شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ نجی زندگی کوئی راز نہیں بلکہ خود احترام کی علامت ہے۔ نہ ہر کامیابی تالی مانگتی ہے، نہ ہر درد ہمدردی۔ زندگی کے کچھ باب صرف اپنے لیے ہوتے ہیں — انہی میں اصل سکون پوشیدہ ہے۔بالغ سوچ یہ ہے کہ ہر کوئی آپ کی زندگی کی اسکرین پر بیٹھا تماشائی نہیں ہونا چاہیے۔ گہرائی کو اپنائیں، دکھاوے کو چھوڑیں، اور ظاہری کارکردگی کی بجائے اندرونی سکون کو اہمیت دیں۔

    زندگی گزاریں، اسٹیج ڈرامہ نہ بنائیں
    یہ دوسروں کو خوش کرنے کا معاملہ نہیں — اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے ساتھ سچے ہیں یا نہیں۔ خواہ وہ جھوٹی خوشی ہو، فرضی تکلیف ہو یا مصنوعی کامیابی — دکھاوا صرف آپ کو چھوٹا اور بے وقوف بناتا ہے۔جنہیں واقعی آپ کی پرواہ ہے، انہیں آپ کی زندگی کا ثبوت سوشل میڈیا پر نہیں چاہیے۔ اور جنہیں پرواہ نہیں، ان کے لیے جینا دانشمندی نہیں۔ اس لیے اسٹیج سے اتر جائیں، اور اصل زندگی گزارنا شروع کریں۔”آپ کی قدر اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس سے طے ہوتی ہے کہ آپ اسے کتنی سچائی سے گزار رہے ہیں۔”

  • خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    زندگی کا سفر جب بچپن اور جوانی کی دہلیز سے نکل کر شعور، تجربے اور سکون کی تلاش کی طرف بڑھتا ہے تو بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کی ترجیحات، اس کے رشتے، اس کی باتیں، اس کی خاموشیاں ، سب کا مطلب بدل جاتا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”میرے پاس بے معنی دوستیاں، جبری تعلق اور غیر ضروری گفتگو کرنے کی توانائی نہیں ہے”

    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات، تھکن، سچائی، اور اندرونی امن کی ایک چیخ ہے۔ بے معنی دوستیاں ، جب دل کا رشتہ صرف نام کا رہ جائے،بچپن میں ہم بہت سے لوگوں کو دوست کہتے ہیں۔ ہر ساتھ کھیلنے والا، ہر ہم جماعت، ہر ہنسی بانٹنے والا دوست بن جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتی ہے کہ سچی دوستی بہت نایاب ہوتی ہے۔ ایسی دوستیاں جو،صرف وقتی فائدے پر مبنی ہوں،جہاں سننے والا صرف اپنی کہتا ہو، دوسروں کی نہ سنے،جہاں آپ کا دکھ مذاق بن جائے،یا آپ کا سکون، ان کی حسد کی آگ میں جلنے لگے،ایسی دوستیاں، تعلقات نہیں بلکہ ایک ذہنی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اصل دوستی وہ ہے،جو خاموشی میں بھی آپ کو سمجھ لے،جو آپ کے بغیر بولے دل کا حال جان لے،جس کے ساتھ آپ "خود” بن کر رہ سکیں، بنا دکھاوے کے

    ہماری زندگی میں کچھ رشتے صرف اس لیے موجود ہوتے ہیں کہ معاشرہ کہتا ہے، یا ہماری پرورش میں یہ سکھایا گیا ہوتا ہے کہ رشتہ کبھی توڑنا نہیں چاہیے، خواہ وہ آپ کو اندر سے توڑتا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے رشتے جہاں،عزت نہیں، صرف زبردستی ہو،دل سے نہیں، صرف فرض سے نبھایا جا رہا ہو،جہاں آپ کی ذات کا انکار ہو، مگر تعلق کا دکھاوا باقی ہو،ایسے رشتے قید بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھار خود کو بچانے کے لیے رشتے سے فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بے وفائی نہیں، بلکہ خود سے وفاداری ہے۔

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاموشی کو کمزوری اور مسلسل بولنے کو "ملنساری” سمجھا جاتا ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان خود سے جڑتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے،”ہر بات ضروری نہیں، اور ہر خاموشی اداسی نہیں۔”لوگوں کے فالتو تبصرے،بیکار گپ شپ،جھوٹی تعریفیں،روزمرہ کے رسمی سوالات جن کا کوئی مقصد نہ ہو، کب بات کی جائے؟جب بات دل سے ہو،جب بات کا مقصد ہو،جب خاموشی سے زیادہ بات ضروری ہو

    ہم دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ خود کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ چیخ کر نہیں، خاموشی سے کہتا ہے،”اب مجھ میں باقی سب کے بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔”یہ خود غرضی نہیں، بلکہ خود شناسی ہے۔ یہ احساس کہ سکون ہر قیمت پر ضروری ہے،تنہائی بہتر ہے بجائے جھوٹے ہجوم کے،”نہیں” کہنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے، اب بس سادگی، خلوص اور سکون چاہیے،میری زندگی اب ان لوگوں اور باتوں کے لیے کھلی ہے جو سچے ہوں،جو زبردستی نہ ہوں،جو خاموشی کو بھی سمجھ سکیں،اور جو میرے ساتھ مجھے ہی رہنے دیں،”زندگی چھوٹی ہے، اور دل نازک، دونوں کو سنبھالنا ہے تو خود پر رحم کرنا سیکھنا ہوگا۔ اور اس کی پہلی سیڑھی ہے،بے معنی لوگوں اور باتوں سے کنارہ کشی،

  • انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کا سفر سیدھا نہیں ہوتا۔ یہ اونچ نیچ، خیر و شر، محبت و نفرت، وفا و بےوفائی سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی ایسے لمحات ضرور گزارے ہیں جہاں کسی نے ہمیں دھوکہ دیا ہو، ہماری نیکی کا غلط فائدہ اٹھایا ہو، ہمارے جذبات کو پامال کیا ہو یا پھر …. ایسے وقت میں انسان کے دل میں فطری طور پر انتقام کی آگ بھڑکتی ہے۔جب کوئی ہمیں تکلیف دے، تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے کہ "میں بھی اس کو وہی دکھ دوں گا، جو اس نے مجھے دیا ہے۔” ہم سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینے سے ہمیں سکون ملے گا، ہماری روح کو قرار آئے گا، لیکن سچ یہ ہے کہ انتقام ایک ایسا زہر ہے جو سب سے پہلے خود انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔انتقام ہمیں اس شخص سے جوڑ کر رکھتا ہے جس نے ہمیں تکلیف دی، اور یوں ہم اس سے نجات نہیں پا سکتے۔ ہماری توانائیاں، ہمارے خیالات، ہمارا سکون سب کچھ اس ایک انسان کی گرفت میں آ جاتا ہے، اور ہم زندگی کے اصل حسن سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    قدرت کا نظام خاموش ضرور ہوتا ہے، مگر اندھا نہیں،یاد رکھو، ہر انسان کا ایک خدا ہے، جو دیکھ رہا ہے۔تمہاری خاموشی، تمہارے آنسو، تمہارے صبر کا ایک ایک لمحہ اُس کے علم میں ہے۔جب تم کسی پر ظلم کرتے ہو تو تم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہو، لیکن جب تم ظلم برداشت کرتے ہو اور بدلہ نہیں لیتے، تو تم اپنے کردار کی بلندی کا مظاہرہ کرتے ہو۔

    اکثر لوگ خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن دراصل خاموشی بہت بڑی طاقت ہے۔ جب تمہارا دل ٹوٹا ہو، آنکھیں نم ہوں، دل انتقام کی آگ سے بھر جائے، لیکن تم صرف اللہ پر چھوڑ دو ، یہ ایمان کی معراج ہے۔تم بس دور ہو جاؤ۔مشاہدہ کرتے رہو۔اور ایک دن تم دیکھو گے کہ وہی شخص، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ تقدیر کے ہاتھوں کیسا بےبس ہوتا ہے۔تمہارا کام صبر ہے، حساب اللہ کا کام ہے،تم اپنا دامن صاف رکھو، اپنی نیت درست رکھو، اپنی محنت جاری رکھو۔تمہارے ساتھ جو ہوا، وہ تمہیں روکنے کے لیے نہیں، تمہیں بلند کرنے کے لیے تھا۔جو تمہارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے لیے برا بیج بوتے ہیں۔اور یاد رکھو، قدرت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتی۔

    زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے بدلے، نفرت یا غصے میں ضائع کیا جائے۔سکون صبر میں ہے، خاموشی میں ہے، اللہ پر چھوڑ دینے میں ہے۔جب تم کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرو، انتقام نہ لو، تو اللہ تمہاری حفاظت خود کرتا ہے، تمہیں عزت دیتا ہے، اور تمہیں ایسے مقام پر پہنچاتا ہے جہاں تمہارا دشمن صرف تمہیں دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔تو بس یاد رکھو،
    "وہ مہلت دیتا ہے… مگر نظر انداز نہیں کرتا۔”

  • اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9ماہ میں 28 بلین ڈالر جبکہ مارچ میں ریکارڈ4.1بلین ڈالر ترسیلات زر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام کا کریڈٹ چیف آف آرمی سٹاف اور حکومتی ٹیم کے ساتھ ساتھ اورسیز پاکستانیوں کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کو درپیش فارن ایکسچینج کے چیلنج کے گیپ کو پورا کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کی جلد پروسیڈنگ کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں جبکہ پنجاب میں بھی ایسی عدالتوں کے قیام کا عمل جاری ہے، پنجاب میں قانون سازی ہوچکی ہے اور دیگر صوبوں میں بھی بہت جلد یہ کام ہوگا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے شواہد کی ای ریکارڈنگ کی سہولت بہت جلد دی جائے گی تاکہ آپ کو پاکستان نہ آنا پڑے اور مقدمات کی بھی ای فائلنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، یہ کام انشااللہ 90 دن کے اندر مکمل ہوجائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی چارٹر یونیورسٹیز میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے 5 فیصد جبکہ میڈکل کالجز میں 15 فیصد کوٹہ دینے کی خوشخبری بھی سنائی۔ ٹیکس ادائیگی میں بڑا ریلیف دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کو فائلرز کے طور پر ٹریٹ کرنے کا اعلان کیا جبکہ سرکاری نوکری کی حد عمر میں 10 سال کی خصوصی رعائیت کا اعلان کیا۔ زیادہ ترسیلات زر بھیجنے اور بیرون ممالک پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کیلئے سول ایوارڈ کی خوشخبری بھی سنائی گئی۔

    ماضی میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کی تکلیف کو سب سے پہلے شہباز شریف نے محسوس کیا تھا اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2014ء میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب قائم کیا۔ آن لائن کمپلینٹ پورٹل بنایا گیا جہاں اوورسیز پاکستانی دنیا بھر سے اپنی شکایات کا اندرج کراسکتے ہیں۔ شہباز شریف خود ہر ماہ اس کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے تھے جس کی بدولت او پی سی پنجاب کے ذریعے ہزاروں اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل حل ہوئے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کنوشن سے خطاب کیلئے آئے تو حال عاصم منیر زندہ آباد پاک آرمی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا آپ کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ آپ کیلئے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، آپ پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمیشہ اپنا سرفخر سے بلند رکھیں کیونکہ آپ ایک عظیم اور طاقتور ملک کے نمائندے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دشمن کو غلط فہمی ہے کہ مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان یا پاکستان کی تقدیرکا فیصلہ کرسکتے ہیں؟بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، غیور عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ کی فوج ہر مشکل سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہے۔ کسی کو بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    مختلف ممالک سے آئے اوورسیز سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے درخواست کی کہ وزیراعظم تک یہ بات بھی ضرور پہنچایئے گا کہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک کسی تکلیف یا مسئلے کیلئے پاکستانی سفارت خانے جائیں تو کوئی بھی سرکاری بابو ان کی بات سننا تو درکنارملنا گوارا نہیں کرتا۔ فارن آفس کے سفارتی افسران کمیونٹی کی خدمت اور پاکستان کے مثبت ایمج کیلئے سفارتی کوششیں کرنے کی بجائے تحائف اکٹھے کرنے اور اپنے خاندان کے افراد کیلئے وہاں کی نیشنیلٹی لینے کیلئے جان لڑا رہے ہوتے ہیں۔ سفارتی افسران کا ایک ہی طریقہ واردات ہے رشتے داروں کے نام پر ویزہ انویٹیشن لیٹر مانگتے ہیں۔ گفٹ اور ویزہ انویٹیشن دینے کی سکت نہ رکھنے والے عام پاکستانیوں کو حقیر سمجھ کر ملنا بھی گواراہ نہیں کرتے جبکہ بڑے کاروباری افراد کے آگے پیچھے دم ہلاتے ہیں۔ ویزہ پالیسی میں سختی اور پاکستانیوں کی بے قدری کی سب سے بڑی وجہ سفارت خانے کا عدم تعاون ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آرمی افسر بطور سفیر تعینات کیا جاتا ہے تو ناصرف تحفے تحائف والا سلسلہ رک جاتا ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے بلا روک ٹوک سفارت خانے کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں اس لیے سفارتی سطح پر آرمی افسران کی تقرری سے نہ صرف کرپشن اور عام پاکستانیوں کی تذلیل رکتی ہے بلکہ وہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی عزت و وقار میں اضافے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے تمام اہم ممالک میں آرمی افسران کو سفیر مقرر کرکے دنیا بھر میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی عزت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کسی ہائوسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لیتے ہیں تو انکو دکھایا کچھ جاتا ہے اور دیا کچھ ۔قیمت سب سے قیمتی پلاٹ کی لی جاتی ہے اور دیا سب سے ارزاں والا جاتا ہے ۔ لینڈ مافیااور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے جعلی کاغذات کے ذریعے اوورسیز کے گھر اور پلاٹوں پر قبضے ہونامعمول بن چکا۔ اوورسیز اسی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر دوبارہ پاکستان میں انویسٹمنٹ نہ کرنے کا تہیہ کرکے نکل جاتے تھے لیکن ابھی وزیراعظم کی طرف سے خصوصی عدالتوں کے قیام سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر ایف آئی اے اہلکاروں کا سخت رویہ اور کسٹم والوں کا قیمتی تحائف رکھنا معمول ہے، اتنے کی چیز نہیں ہوتی جتنا کسٹم ٹیکس ڈال کر قبضے میں رکھ لیتے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ سے کرپٹ اور بدتمیز افسران اور اہلکاروں کو فوری ہٹایا جائے اور تمام ایئرپورٹس پر اوورسیز فیسلیٹیشن ڈیسک بنائے جائیں۔

  • "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔
    یہ تین لفظ بظاہر چھوٹے ہیں، لیکن عورت کی زندگی میں ان کی طاقت بے حد بڑی ہوتی ہے۔ ہماری معاشرتی روایات میں خواتین کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ وہ نرم مزاج، برداشت کرنے والی، اور خاموش رہنے والی ہوں۔ لیکن کیا ہم کبھی یہ سکھاتے ہیں کہ عورت کو "نہیں کہنا” بھی آنا چاہیئے؟”نہیں” کہنا کمزوری نہیں، شعور ہے،عورت جب کسی چیز سے انکار کرتی ہے، تو اکثر اُسے ضدی، خودسر یا بدتمیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ "نہیں” کہنا، ایک مضبوط ذہن، خود اعتمادی اور حد بندی کی نشانی ہے۔ جب ایک عورت نہیں کہتی ہے، تو وہ دراصل خود کو، اپنے جذبات کو، اور اپنی زندگی کو ترجیح دے رہی ہوتی ہے۔

    کب "نہیں” کہنا ضروری ہے؟
    جب دل راضی نہ ہو،خواہ وہ کسی رشتے کی بات ہو، شادی، یا کسی تعلق کی نوعیت، اگر دل مطمئن نہیں ہے، تو نہیں کہنا حق ہے۔ عورت کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ محض خاندان یا سماج کے دباؤ میں فیصلے کرے۔ جب جسمانی یا ذہنی حدود کی خلاف ورزی ہو،اگر کوئی عورت کی جسمانی یا ذہنی حدوں کو پار کرنے کی کوشش کرے، چاہے وہ قریبی ہو یا اجنبی، تو "نہیں” کہنا ایک حفاظتی دیوار ہے۔ اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینا بزدلی نہیں بلکہ عقلمندی ہے۔ہر بار "ہاں” کہنا، عورت کو تھکا دیتا ہے۔ اگر کوئی کام آپ کی ذہنی یا جسمانی صحت پر اثر ڈال رہا ہے، تو اسے رد کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ اپنی حدوں کو سمجھنا اور ان کا دفاع کرنا زندگی کو متوازن بناتا ہے۔کبھی کبھی لوگ عورت کی نرم دلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بار بار جذباتی بلیک میلنگ، یا فائدہ اٹھانے کی کوشش پر خاموش رہنا خود کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایسے وقت میں "نہیں” کہنا ضروری ہوتا ہے۔

    "نہیں” کہنا سیکھنا کیسے ممکن ہے؟سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی رائے، احساسات اور حدود اہم ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں "نہیں” کہنے کی مشق کریں، جیسے غیر ضروری وعدے، یا ایسے کام جن کا آپ پر بوجھ ہو۔دوسروں کی ناراضی کا خوف چھوڑ دیں،سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی خوشی کو ترجیح دیں۔صاف گوئی سے بات کریں،”نہیں” کہنے کے لیے بے احترامی یا سختی کی ضرورت نہیں، بلکہ نرمی سے لیکن واضح انداز میں انکار کرنا سیکھیں۔

    عورت کا "نہیں” کہنا، اُس کی خودمختاری، شعور اور طاقت کی علامت ہے۔ یہ صرف انکار کا لفظ نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ "میری زندگی، میرے فیصلے میرے ہاتھ میں ہیں۔”یاد رکھیں، جب عورت "نہیں” کہنا سیکھ جاتی ہے، تو وہ اپنی تقدیر خود لکھنا شروع کر دیتی ہے۔نہیں، نہیں، نہیں،یہ الفاظ کمزور نہیں، بہادر لوگوں کے ہوتے ہیں۔

  • منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ
    تحریر: محمد سعید گندی
    پاکستانی معاشرہ منشیات کے زہر کے ہاتھوں سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے۔ خاص طور پر دو نمبر سستی آئس غریب سے امیر تک بے دریغ استعمال کی جا رہی ہے۔ پنجاب، یعنی جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ڈیرہ غازی خان ہے، جس کے مغرب میں صوبہ بلوچستان شروع ہو جاتا ہے۔ شہر ڈیرہ غازی خان کے مغربی علاقے میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ ویسے تو صوبہ بلوچستان کے تمام علاقوں سے منشیات پنجاب بآسانی پہنچ جاتی ہے، جن میں گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین اور میختر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ملحقہ علاقوں سے بھی منشیات بلوچستان آرام سے پہنچ جاتی ہے، پھر بلوچستان کے علاقے رکنی سے بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج اور سخی سرور تک تو آرام سے پہنچ جاتی ہے، اور یہاں سے مختلف علاقوں سے منشیات ڈیرہ غازی خان شہر میں بآسانی پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو اور راستے بھی ہیں جہاں سے ان کو آسانی ہوتی ہے۔

    سیکورٹی فورسز امن بحال کرنے والے مختلف ادارے کارروائی کرتے ہیں، بڑی بڑی کھیپ پکڑی جاتی ہے، مگر پھر بھی شہر اور گرد و نواح میں منشیات بآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ گلیوں، محلوں، روڈ کنارے منشیات کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے، آخر ان کو نشہ پہنچ کیسے رہا ہے؟ اگر پہنچ رہا ہے تو کون مہیا کرتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ یہ منشیات اتنی وافر ملتی ہے جیسے کریانہ کی دکان پر چائے کی پتی اور چینی۔ ڈیرہ غازی خان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جن کی بڑی تعداد نوجوان نسل ہے۔

    آئس کا نشہ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو وہ موٹر سائیکل اور کاروں کے بلب نکال کر اس کو توڑ کر اس کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر آپ کے گرد و نواح میں کوئی ایسی واردات نظر آئے تو سمجھ لیں آپ کے قریب ہی کوئی آئس کا نشہ کرنے والا موجود ہے جو کہ آپ کے لیے اور آپ خاندان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    آئس نشہ کیا ہے؟ اس میں مبتلا افراد کیا محسوس کرتے ہیں؟ آئس نشہ کرتے کیوں ہیں؟ اس نشے پر بات کرنے سے پہلے آپ سب کو ایک پرانی کہاوت گوش گزار کرنا چاہتا ہوں گو کہ کہاوت کا اس تحریر سے کوئی ربط تو نہیں بنتا مگر بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہتے ہیں پرانے وقتوں کی بات ہے سچ اور جھوٹ اکٹھے بیٹھے تھے تو جھوٹ نے کہا یہ سامنے کنواں ہے اس کا پانی بھی صاف شفاف ہے ہم دونوں اس میں ننگا ہو کر نہاتے ہیں۔ سچ نے پہلے سوچا پھر کنویں کے پانی کو چیک کیا تو وہ واقعی صاف شفاف تھا۔ پھر دونوں سچ اور جھوٹ اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو کر کنویں میں نہانے لگے، جھوٹ نے موقع پاتے ہی کنویں سے باہر نکل کر سچ کے کپڑے پہن کر بھاگ گیا۔ سچ بے چارہ ننگا کنویں میں رہ گیا۔ اب سچ بے چارہ جہاں بھی جاتا ہے ننگا ہونے کی وجہ سے شرمسار ہوتا ہے، آخر وہ تنگ آ کر کنویں میں بے نامی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جھوٹ کیوں کہ سچ کے کپڑوں میں ملبوس ہے لہذا وہ اب بھی اپنی زندگی دیدہ دلیری سے گزار رہا ہے۔ دو نمبر لوگ اپنا دھندہ دھڑلے سے کر رہے ہیں، نشان دہی کرنے والوں کو اکثر پولیس اور مافیا کے ہاتھوں پریشانی میں مبتلاء ہونا پڑتا ہے ۔ بہرحال چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔۔۔

    ماہرین کے مطابق بعض اوقات ڈپریشن میں مبتلا لوگ نشے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ مزید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ آئس کا نشہ کرنے کے بعد بھوک و پیاس سے مبرا انسان 24 سے 48 گھنٹے بآسانی جاگ سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نسل بالخصوص لڑکیوں میں منشیات کا استعمال وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ منشیات فروشوں کی ہٹ لسٹ پر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ ہیں کیونکہ امیر اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں سے رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کو پہلی بار استعمال کرنے سے انسان کے اندر خوشی کے ہارمونز انتہائی ایکٹیو ہو جاتے ہیں، جاگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ آئس کا نشہ 36 سے 72 گھنٹے تک ہوتا ہے اور وہ انسان 72 گھنٹوں تک جاگتا رہتا ہے۔ پہلی دفعہ انسان کو آئس استعمال کرنے سے جو لذت اور خوشی ملتی ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ انسان آئس کی ڈوز بڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ پہلی والی خوشی محسوس کر سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آئس انسان کی ہڈیوں کو پکڑ لیتا ہے اور پھر وہ انسان اس قبیح عمل کا عادی بن جاتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان کے ہاتھوں سے کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے جب وہ نشے کی حالت میں ہو۔ آئس نشہ نہ استعمال کرنے کی علامت یہ ہے کہ بندہ 24 گھنٹے سویا رہتا ہے۔ اس میں کوکین، چرس، ہیروئن کی طرح بدبو بھی نہیں ہوتی، شفاف شکل اور بے بو خاصیت نے اس نشے کو دنیا بھر میں مقبولیت بخشی ہے۔

    جب اس نشے سے پیدا ہونے والے احساسات ختم ہوتے ہیں تو اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے نشے کا عادی شخص دماغی خلل، چڑچڑے پن، گھبراہٹ، تھکاوٹ، ڈپریشن اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ مایوس کن کیسز وہ ہیں جن میں کم عمر افراد سمجھتے ہیں کہ آئس سے ڈپریشن میں کمی لائی جا سکتی ہے اور امتحانات میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ آئس کے مسلسل استعمال سے گھبراہٹ، غصہ اور شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ طبیعت میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے اور فیصلے کی قوت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا شخص اپنی نظر میں انتہائی خود اعتماد بن جاتا ہے اور اسی لیے کچھ بھی کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ یہی نہیں یہ نشہ پرتشدد طبیعت کو جنم دیتا ہے۔ ویسے تو منشیات کی ساری اقسام ہی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرکے اس کو موت کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں لیکن ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق آئس نشہ دیگر تمام منشیات کی اقسام سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے۔

    حال ہی میں ایک نوجوان نے علی الصبح اپنے ہی گھر میں فائرنگ کر کے اپنے والد سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر ملزم کے بھائی کی مدعیت میں درج کروائی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملزم بھائی آئس کے نشے کا عادی تھا جس کے باعث اس کی ذہنی حالت ناکارہ ہو چکی تھی۔ نشے کا عادی ایک ایسا نوجوان بھی لایا گیا جس کی ذہنی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ اس پر جنوں کا سایہ ہے۔ آئس کے نشے سے انسان کئی گنا زیادہ متحرک اور چست ہو جاتا ہے اور اس کے حواس اتنے متحرک ہوتے ہیں کہ جو چیز اور بات وجود نہیں بھی رکھتی، وہ انھیں نظر آنے لگتی ہے اور وہ اس پر بضد ہوتے ہیں اور بعض اوقات قتل تک کرنے سے نہیں کتراتے۔ آئس کے نشے میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں اور بڑی عمر کے تمام لوگ شامل ہیں۔

    اگر آپ یہ نشہ شروع کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ کو اور کچھ نہیں چاہیے ہوتا۔ بس یہی آئس آپ کی ساتھی ہوتی ہے، محبت کو چھوڑیے باقی تمام تر احساسات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ نشہ چھٹنے کے بعد اس نشے کی طلب پھر بڑھ سکتی ہے کم نہیں۔ پنجاب میں سے خیبرپختونخوا میں نشے کی لت میں مبتلا افراد کی تعداد اس لیے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نشے کے عادی افراد بھی وہاں جاتے ہیں اور اس کی وجہ خیبرپختونخوا میں نشے کی آسانی اور سستے میں دستیابی ہے۔ خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے نشہ پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیروئن کا نشہ کرتے تھے جو اب بہت مہنگی ہو چکی ہے جبکہ ایک گرام تک آئس پشاور میں صرف 400 روپے میں مل جاتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کی 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت نشے کے شکار افراد کی مجموعی طور پر لگ بھگ 67 لاکھ کے قریب ہے جن میں 78 فیصد مرد جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔ بعض دیگر اداروں کی رپورٹس میں یہ تعداد 76 لاکھ تک بتائی گئی ہے۔ آئس نشے کا عادی ماں، بہن، بیٹی، بیوی، دوست میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر وہ جرم کی جانب مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کے اندر سماج کے خلاف نفرت بیدار ہوتی ہے جو اسے جرم کے دوران سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کئی سال تک آئس کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہر نشے کا انجام دردناک موت ہی ہوتا ہے لیکن آئس کے نشے کا عادی پاگل پن کا شکار ہو کر اپنے خاندان و معاشرے کے لیے کسی پاگل کتے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان جو جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ہے، منشیات کی ترسیل کے حوالے سے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔ اس کے مغرب میں بلوچستان شروع ہوتا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر کوہِ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں جیسے لورالائی ،موسی خیل ،گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین، اور میختر سے منشیات کی بڑی مقدار آسانی سے پنجاب پہنچتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے راستے منشیات کی ترسیل کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ رکنی، بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج، اور سخی سرور جیسے علاقے منشیات کی نقل و حمل کے لیے معروف گزرگاہیں ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ان راستوں پر چیکنگ اور کارروائیوں کے باعث اب منشیات کے سمگلروں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع موسی خیل سے تونسہ کے علاقے تک کئی متبادل خفیہ راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں بارتھی روڈ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مزید یہ کہ اطلاعات ہیں کہ بارتھی روڈ اور دیگر راستوں پر بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے بعض اہلکار منشیات فروشوں کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایم پی کے کچھ افسران، جو اہم چیک پوسٹوں کے انچارج ہیں، خود بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک واقعہ میں بی ایم پی کے ایک نائب دفعدار جو اب دفعدار ہے اور ایک اہم تھانہ کا ایس ایچ او بھی ہے ،کے بیٹے کو پنجاب پولیس نے منشیات سمیت گرفتار کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید منظرِ عام پر آیا۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے منشیات صرف ڈیرہ غازی خان شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں تک آسانی سے پہنچائی جا رہی ہے۔جوکہ ارباب اقتدار اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

  • پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات

    پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات

    پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی معاشی حالت پر حالیہ دنوں میں جو خبریں سامنے آئی ہیں، وہ بظاہر حوصلہ افزا ہیں۔ عالمی ادارہ فچ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ’ٹرپل سی پلس‘ سے ’بی مائنس‘ تک بہتر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ فچ کی رپورٹ میں افراط زر میں کمی، مالیاتی پالیسیوں میں بہتری اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ فچ نے پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں تین فیصد تک کی شرح سے ترقی متوقع ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک بجٹ خسارہ 6فیصد کی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کی سخت اصلاحات و معاشی اقدامات اور آئی ایم ایف کے ساتھ مؤثر اشتراک کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بہتری زمینی حقائق کی بھی عکاسی کرتی ہے یا صرف اعداد و شمار کی جادوگری ہے؟

    وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ بلوچستان میں شاہراہوں اور کچھی کینال جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا، ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ فیصلہ ریاستی ترقی کی ترجیحات کا درست عکاس ہے یا پھر عوامی ریلیف کی قیمت پر سیاسی و علاقائی ترجیحات کو فوقیت دینا؟ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کو معاشی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا مگر جب ایندھن جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں ممکنہ کمی روک دی جائے تو عام شہری کے لیے یہ کامیابیاں کس قدر معنی خیز رہ جاتی ہیں؟ کیا پاکستان کا عام فرد واقعی ان پالیسیوں کا براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہے؟

    اسی دوران ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک چلے گئے جن میں اکثریت ہنر مند اور نیم ہنر مند مزدوروں کی تھی جب کہ ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز اور ٹیچرز بھی بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اگر ملک میں واقعی معاشی استحکام آرہا ہے تو یہ انسانی وسائل کی مسلسل ہجرت کیوں جاری ہے؟ کیا نوجوانوں کے لیے پاکستان اب بھی ایک امید بھرا مستقبل پیش کرنے میں ناکام ہے؟ کیا یہ رجحان ترقی ہے یا ہمارے معاشی نظام سے فرار کا راستہ؟

    ترسیلات زر یقیناً پاکستانی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر وطن بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای، برطانیہ اور امریکہ سے آنے والی ترسیلات نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ترسیلات زر کا یہ انحصار ایک پائیدار معاشی ماڈل فراہم کرتا ہے یا یہ صرف وقتی سہارا ہے؟ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس جیسے اقدامات ضرور قابل ستائش ہیں مگر کیا ریاست اس انسانی سرمایہ کو صرف زرِ مبادلہ تک محدود رکھنا چاہتی ہے یا ان کی صلاحیتوں سے داخلی معیشت میں بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کا کوئی منظم منصوبہ موجود ہے؟

    دوسری جانب بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹیز نہ صرف اقتصادی شعبے میں بلکہ سفارتی اور تعلیمی میدان میں بھی پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو رہی ہیں۔ ان کی میزبان ممالک میں سیاسی و سماجی سرگرمیاں، پاکستان کی عالمی شبیہ بہتر بنانے، تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ مگر کیا ریاست پاکستان اس ممکنہ طاقت کو قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر طور پر شامل کر رہی ہے؟ کیا بیرون ملک پاکستانیوں کو صرف سرمایہ کاری تک محدود رکھنا دانشمندی ہے یا ان کے تجربات، مہارتوں اور عالمی نیٹ ورکس کو بھی قومی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جانا چاہئے؟

    یہ تمام حقائق مل کر ایک پیچیدہ مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر عالمی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہ رہے ہیں اور قرض دہندگان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے تو یہ ضرور ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ مگر جب تک اس معاشی بہتری کے اثرات براہ راست عام شہری کی زندگی پر مرتب نہیں ہوتے ان کامیابیوں کو مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں کہا جا سکتا۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل گراوٹ جیسے بنیادی مسائل ابھی بھی موجود ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی معاشی پالیسیاں واقعی دیرپا تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں یا یہ سب محض وقتی ریلیف اور بیرونی دباؤ کے تحت لیے گئے اقدامات ہیں؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ معیشت کے اصل مرکز یعنی عوام کو براہِ راست ان پالیسیوں کے فوائد پہنچائے جائیں اور ترقی کا پیمانہ صرف رپورٹوں اور اشاریوں کے بجائے عام آدمی کی حالتِ زار کو بنایا جائے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے واضح اور دیانت دارانہ جوابات ہی پاکستان کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہم بہت سے چہروں سے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن کبھی کبھار وہی چہرے ہمیں سب سے زیادہ دکھ دے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ رو لیا جائے، کسی سے شکوہ کیا جائے، لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”اتنی سی انا تو ہونی چاہئے”

    محبت کا مطلب زبردستی تھوڑی ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے، تو اُس کی خواہش کا احترام کرو۔ دل کا تعلق زبردستی سے نہیں جڑتا۔ ایسے تعلق کو نبھانے کا فائدہ کیا جس میں دوسرا فریق دل سے آپ کے ساتھ نہ ہو؟اکثر ہم اُسی شخص کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہمیں توڑ چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہ خود پر ظلم ہے۔ خودداری کا مطلب یہی تو ہے کہ جس نے ایک بار آپ کو گرا دیا، اُس کے ہاتھ پھر سے پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ سہارے تلاش کرنا کمزوری نہیں، لیکن غلط سہارے بار بار چننا خود پر ظلم ضرور ہے۔جب کسی کا لہجہ اجنبی سا لگنے لگے، اُس میں محبت کی بجائے طنز، سختی اور بیگانگی نظر آئے، تو سمجھ جاؤ کہ احساسات یک طرفہ ہو چکے ہیں۔ اپنے مخلص جذبات کو وہاں ضائع نہ کرو جہاں ان کی قدر نہیں۔ مخلصی کا جواب اگر خاموشی یا سختی ہو، تو وہ تعلق زہر بن جاتا ہے۔

    محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عزت مانگتا ہے۔ اگر بار بار آپ کی قدر نہیں کی جا رہی، اگر آپ کے جذبات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے، تو پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ خود کو اتنا سستا نہ کرو کہ کوئی آپ کو استعمال کرے اور آپ خاموش رہو۔زندگی کا راستہ طویل ہے۔ کبھی کبھی ساتھی راستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ اکیلے بھی چل سکو، خود سے جڑ سکو، اور خود کو مکمل محسوس کر سکو۔تعلق میں سب سے بڑی بے رُخی یہ ہے کہ جب آپ کسی کو پوری اہمیت دیتے ہو اور وہ آپ کو نظر انداز کرے۔ ایسے میں بار بار اُس کی توجہ کے لیے خود کو پیش کرنا خودداری کے خلاف ہے۔ بس نظریں ہٹا لو، خود کو مصروف رکھو، اور اُن لوگوں کے ساتھ جڑو جو تمہیں اہم سمجھیں۔

    "انا” اور "غرور” میں فرق ہوتا ہے۔انا وہ وقار ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھاتا ہے، جو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ یہ خود کو عزت دینا ہے، اپنی ذات کو مقام دینا ہے۔تو بس…اتنی سی انا تو ہونی چاہئے کہ خود کو ہر بار قربان نہ کرنا پڑے، اور جب وقت آئے، تو خاموشی سے، وقار سے، رخصت ہو جاؤ۔