Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر  از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو کشمیریوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان قربانیوں میں سے ایک قربانی ایسی بھی ہے کہ جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کیساتھ اسلام سے محبت کی انوکھی مثال بھی ملتی ہے جس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی اور اس قربانی پر دنیا عش عش کر اٹھتی ہے
    13 جولائی 1931 کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن 22 کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اسلام کے فریضہ اذان کو مکمل کیا اور یوں دنیا میں یہ پہلی اذان بن گئی کہ جس کی تکمیل کیلئے 22 جانیں اللہ کی راہ میں دے کر اذان کو مکمل کیا گیا
    اس قربانی سے کشمیری قوم نے ثابت کر دیا کہ تحریک آزادی کا فرض ادا کرنے کیلئے فرائض اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے چاہے کوئی بھی قربانی پیش کرنی پڑے وہ دریغ نہیں کرینگے
    یوم شہداء کشمیر کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ آج سے تقریباً 89 سال قبل 25 جون 1931 کو سری نگر میں مسلمانان کشمیر نے اپنی آزادی کی خاطر ظالم قابض مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء نے آزادی کیلئے خطاب کیا اس دوران ایک نامعلوم جوان عبدالقدیر آگے بڑھا اور سٹیج پر جا کر کشمیریوں کو قرآن و حدیث سے آزادی کیلئے ابھارا جس پر پورا مجمع پرجوش ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف نعرے لگانے لگا اور آزادی کشمیر کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوتا دکھائی دینے لگا اس پر سیخ پا ہو کر متعصب سرکار نے عبدالقدیر کو گرفتار کرکے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا جس پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی
    13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کو عدالت پیش کیا جانا تھا اس لئے ہزاروں کشمیری اپنے محسن عبدالقدیر کے دیدار کے جمع تھے اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا ظاہری بات ہے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے فریضہ اذان لازم ہے سو اسلام پسند غیور کشمیریوں میں سے ایک اذان کیلئے آگے بڑھا ابھی اس نے اذان شروع کی ہی تھی کہ بغض و حسد میں مبتلا ڈوگرہ سپاہی نے مؤذن پر گولی چلا دی مؤذن کے گرتے ہی دوسرا کشمیری آگے بڑھا اور آذان کہنا شروع کر دی اس ظالم و متعصب سپاہی نے پھر گولی چلائی اور مؤذن کو شہید کر دیا اتنے میں بغیر خوف اور نتیجے کی پرواہ کئے تیسرا کشمیری اٹھا اور آذان جاری رکھی یوں مسلمانوں کی آزادی سے خوف زدہ ڈوگرہ فوج نے گولیاں چلائیں اور مؤذنوں کو شہید کرتے رہے ادھر کشمیری بھی جذبہ اسلام سے سر شار تھے وہ بھی ایک ایک کرکے سینے پر گولی کھاتے گئے اور آخر کار 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے
    تحریک آزادی کے شروع سے ہی اتنی بڑی قربانی دے کر کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ چاہے جتنی بڑی قربانی دینی پڑے وہ تیار ہیں اور بغیر سوچے قربانی دینگے اور تب سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی کشمیر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
    ادھر موجود قابض ہندو مودی گورنمنٹ نے ڈوگرا راج کی طرح ظلم و تشدد کا راج قائم کرتے ہوئے پچھلے سال 5 اگست سے کرفیو لگا رکھا ہے تاکہ کشمیری آزادی کو بھول جائیں مگر کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ہندو فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں
    ہم چھین کے لینگے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    شاید کشمیر کی صورتحال پر ہی شاعر نے یہ شعر کہا تھا
    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں
    ان شاءاللہ بہت جلد آزادی کشمیر اپنی تکمیل کو ہے اور یہی آزادی کشمیر بربادی ہند میں بدل جائے گی ان شاءاللہ کیونکہ دنیا کشمیریوں کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہے
    کشمیری کٹ تو سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے کیونکہ کشمیریوں کا نعرہ ہے تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ

  • کیسے بھول جائیں تجھے   ازقلم:منہال زاہد سخی

    کیسے بھول جائیں تجھے ازقلم:منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    تجھے کبھی نہیں بھول پائیں گے
    ہم تیرا ہی رستہ چاہیں گے
    کہ کیسے بھول جائیں تجھے
    اندھیرے میں چمکتا اک ستارہ تھا
    ارض پاک کے سہاروں میں مضبوط اک سہارا تھا
    تو دل جان ہمارا تھا
    امیدوں کا دھارا تھا
    کہ کیسے بھول جائیں تجھے
    تو وطن کی خاطر جیا ہمیشہ
    تو وطن کی خاطر دشمنوں سے لڑا ہمیشہ
    اس ارض پاک کی خاطر ہی بڑھا ہمیشہ
    تو شہید ہوکر ہے اب زندہ ہمیشہ
    کہ کیسے بھول جائیں تجھے
    تو نے دشمن کو اپنی اوقات میں رکھا
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات میں رکھا
    دشمن کو ہمیشہ ہی مات میں رکھا
    قوم نے تجھے ہمیشہ یاداشت میں رکھا
    کہ کیسے بھول جائیں تجھے
    تیرے اہداف تیری منزل ابھی بھی ہم کو یاد ہے
    تیرا خون رائیگاں نہیں جائے گا دھرتی یہ آباد ہے
    تیرے جیسے وطن کے بیٹے پائندہ باد ہے
    تہرے خون سے رنگین پاکستان زندہ باد ہے ۔

    #قلم_سخی
    #SAKHI
    #PAKISTANI🇵🇰
    #SHAHEED❤️
    #PakistanZindabad

  • سردار سراج خان رئیسانی ایک محب وطن پاکستانی  ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    سردار سراج خان رئیسانی ایک محب وطن پاکستانی ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    سردار سراج خان رئیسانی_ایک محب وطن پاکستانی
    ازقلم محمد عبداللہ گِل
    جس جس خاص و عام نے وطن عزیز پاکستان کی فلاح اور ترقی کی بات ہے وہ دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند کھٹکھٹا ہے۔پھر چاہے پاکستان کے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔1971ء میں بھارت جو کہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے پروپیگنڈا کر کے ہمارا پانچواں بازو یعنی کہ مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا۔اسی طرح اب بھارت نے بلوچستان جو کہ معدنیات سے مالامال ہے،رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔اس میں بلوچوں کو پاکستان کے مخالف کرنا شروع کر دیا لیکن جب اس وہاں سے منہ کی کھانی پڑی تو اس نے کچھ ایسے نمک حرام انسانوں کو تلاش کیا جو کہ تھوڑے سے ٹکوں کی خاطر وطن عزیز پر حملے کر سکتے ہیں ان کو خرید لیا۔جو کہ آج کل( بی ایل اے ) بلوچستان لبریشن آرمی اور ٹی ٹی پی کے نام کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کر رہی ہے لبادہ تو پاکستان کا ہوتا ہے اسلام کا ہوتا ہے لیکن در حقیقت وہ را RAW کے پالتو ہوتے ہیں۔جس میں یہ حال ہی کا واقعہ ہے کراچی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ پر حملہ ہوا اور اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے لی۔
    اس طرح ان کے مد مقابل ایسے بھی محب وطن بلوچ بھائی ہیں جنھوں نے اپنی ہر شے وطن کے لیے قربان کر دی۔انھی شیروں میں سے ایک شہید سراج رئیسانی بھی تھے

    ۔سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    یہ وہی میر سراج رئیسانی تھے جنہوں نے وطن کی محبت میں آزادی ریلی نکالی اور دو کلومیٹر طویل پاکستانی پرچم تیار کراکے بلوچستان کے گلی کوچوں میں آزادی مارچ کروایا جب بلوچستان میں سبز ہلالی پرچم لہرانا اور ترانا گانا ایسا سنگین جرم بنا دیا گیا تھا جس کی سزا موت سے کم نہ تھی وہ ایسا محب وطن تھا جو تقاریر کا اختتام پاکستان زندہ باد کے نعرے سے کرتا تھا۔ ویسے اس ملک میں محب وطن ہی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ نواب سراج رئیسانی وہ شیر تھا جو اکیلا پاکستان کا پرچم لئے سارے بلوچستان میں لہرانے نکل پڑا تھا۔

    شہید سراج بلوچ باغیوں کے مقابل سینہ تانے کھڑا تھا وہ فراری کیمپوں پر قہر بن کر نازل ہوتا تھا وہ ہر محاذ پر پاکستان دشمنوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہا تھا اداروں کی ترجیحات ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہوں گی لیکن شہید سراج کا مرکز و محور اوّل و آخر صرف اور صرف پاکستان رہا وہ پاکستان کے لئے جیا اور اسی کےلئے جام شہادت نوش کیا۔ حب الوطنی کی میراث کے امین نوابزادہ سراج رئیسانی شہید کے دو سنگین ”جرائم“ تھے۔ بھارتی ترنگے کے جوتے بنوانا اور دو کلومیٹر طویل سبز ہلالی پرچم لہرانا۔
    کیا خوب کہا جاتا ہے

    شہید کی جو موت ہے
    وہ قوم کی حیات ہے

    سراج جان رئیسانی شہید رحمتہ اللہ کی شہادت کے بعد بلوچوں کو بھی سمجھ آئی کہ یہ سارا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔اور یہ سراج خان رئیسانی شہید کی شہادت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے وگرنہ دشمن قوتیں پرپیگنڈا سے ہمارا یہ بازو بھی چھین لیتی
    کہا جاتا ہے

    وطن کے بیٹوں کے لئے ان کی وفا وسرفروشی پر فیض احمد فیض کے الفاظ میں خراج عقیدت پیش ہے۔

    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے

    یہ جان توآنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

    میدانِ وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں

    عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں

    گربازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

    گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

    سچا پاکستانی بہادر بلوچ سردار بھارتی ترنگے کا جوتا بنانے والے کٹر پاکستانی نواب سراج رئیسانی شہید کو سلام’ صد سلام، جو سب سے پہلے مسلمان تھا۔…. پھر پاکستانی تھا۔۔۔ پھر بلوچ تھا۔۔۔۔۔ یہ شہید رئیسانی تھا۔۔۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ سراج رئیسانی کی شہادت پر ہندوستانی کیوں جشن منا رہے ہیں۔

    شہید کا خون بھی رائیگاں نہیں جاتا،
    اللہ ان کی شہادت کو قبول فرما کر ان کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور ملک عزیز پاکستان کو دشمن قوتوں سے محفوظ رکھے
    آمین

  • کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب  تحریر: حفیظ اللہ سعید

    کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب تحریر: حفیظ اللہ سعید

    میری تربت بھی نہ ملے تجھ کو آنسو بہانے کے لیے
    اب تجھے وقت میسر ہوا مجھ کو منانے کے لیے

    تہی دامن کر دیا جب مجھے عشق نے تیرے
    کیا دست سوال دراز پھر مجھے آزمانے کے لیے

    میں اپنے راہ پہ گامزن تو اپنے مدار میں محو گردش
    اب تو مراسم ہیں فقط دنیا کو دکھانے کے لیے

    خطاء ہے گر کوئی میری تو الزام لگایے بھری بزم میں
    یہ مناسب نہیں چپ ہو جائیے تعلق پرانے کے لیے

    کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب
    کب تلک خود کو بیچے گا غریب پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے

    حفیظ اللہ سعید
    #نوائے_حفیظ
    #سچیاں_گلاں

  • والدین قدرت کا ایک عظیم  نشان   تحریر:اخت عمیر

    والدین قدرت کا ایک عظیم نشان تحریر:اخت عمیر

    والدین

    از قلم۔۔۔۔۔اخت عمیر

    ہوں والدین جس گھر میں وہاں جنت کا سماں ہے۔۔۔!!
    جہاں موجود نہ ہوں وہ تو ویران مکاں ہے۔۔۔۔!!
    بخوبی نبھا کر گھر کی ساری ذمہ داریاں امی جان۔۔۔!!
    وہ خبر بھی نہیں ہونے دیتیں کہ ان کو بھی تھکان ہے۔۔۔!!
    ہر ایک غم کو مسرت میں تبدیل کر دیتی ہیں وہ۔۔۔۔!!
    سنا نہ لوں جب تک درد دل ہوتا ہی نہیں اطمینان ہے۔۔۔!!
    سہہ کر اولاد کا ہر ایک دکھ اپنی ذات پر بابا جان۔۔۔۔!!
    مہیا کرتے وہ کس قدر خوبصورت امان ہیں۔۔۔۔!!
    راستے کی ہر ایک اذیت کو ہٹا دیتے ہیں وہ۔۔۔!!
    معاشرے کی ستم ظریفیوں کے سامنے بمثل چٹان ہیں۔۔۔!!
    اولاد کے ہر ایک درد پر تڑپ اٹھنے والے والدین۔۔۔۔!!
    مسکرا کر یہ بھی چھپا جاتے ہیں کہ وہ پریشان ہیں۔۔۔۔!!
    زندگی کی ہر ایک الجھن کو سلجھا دیتے ہیں وہ۔۔۔۔!!
    والدین تو قدرت کا ایک عظیم نشان ہیں۔۔۔!!
    سلامت رکھنا ان کو ہمیشہ یہ التجا ہے تجھ سے یا رب۔۔۔!!
    محبت کا سمندر ہیں وہ ایک عظیم سائبان ہیں۔۔۔۔۔!!

  • تھانہ کی اصلاح  تحریر :عدنان عادل

    تھانہ کی اصلاح تحریر :عدنان عادل

    تھانہ کی اصلاح
    اتوار 12 جولائی 2020ء

    پاکستان کی پولیس کو جو بیماری لاحق ہے ا سکا مرکز تھانہ ہے لیکن جب بھی پولیس اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو پولیس اسٹیشن کونظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے تقریباًڈیڑھ ہزار تھانے وہ ستون ہیں جن پر نہ صرف پولیس اسٹبلیشمنٹ کی عمار ت کھڑی ہے بلکہ پاکستانی ریاست کی عملداری بھی اِن کے دم سے قائم ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں‘آزاد کشمیر‘ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ پولیس فورس ہے جس میں اکثریت جونئیر افسروں اور اہلکاروں کی ہے۔ عوام کا واسطہ اُنہی سے پڑتا ہے۔ اعلیٰ افسران تک تو بہت کم لوگوں کی رسائی ہوتی ہے ۔جب کوئی عام آدمی کوئی شکایت لیکر تھانہ جاتا ہے ‘اُسکی پہلی ملاقات پولیس اسٹیشن کے محرر سے ہوتی ہے۔ عام آدمی تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی)سے بھی آسانی سے نہیں مل سکتا۔پولیس اصلاحات کا بڑا مقصد تھانہ میں بہتری لانا ہونا چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پولیس کا نیا قانون بنایا گیا جس کے تحت تھانہ میں اصلاحات لانے کی بجائے اعلیٰ افسروں کی پوسٹیں بڑھا دی گئیں ‘ انکے نام بدل دیے گئے‘ پولیس بیوروکریسی کو مضبوط بنادیا گیا۔ پولیس بیوروکریسی کے اخراجات بے تحاشا بڑھ گئے لیکن عوام کی پولیس سے بنیادی شکایات کا ازالہ نہیں ہوسکا۔ ہمارا پولیس اسٹیشن رشوت اور سفارش کی دو ٹانگوں پر کھڑا ہے۔چوری کا پرچہ بھی درج کروانے کے لیے تگڑی سفارش درکار ہوتی ہے ۔ اُوپر سے دباؤ آئے گا تب پولیس اسٹیشن آپکی ایف آئی آر درج کرے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ رشوت د یکر پرچہ کٹوالیں۔ پولیس اسٹیشن میں کوئی کام رشوت یا سفارش کے بغیر نہیں ہوتا۔ پرچہ درج ہونے کے بعد تفتیش شروع نہیں ہوتی۔ جب تک آپ مال لگاتے رہیں گے تفتیش جاری رہے گی۔ جیسے ہی پیسے دینا بند کریں گے تفتیش رُک جائے گی۔ جو فریق زیادہ رقم لگائے گا یا جس فریق کی سفارش زیادہ زوردار ہوگی تفتیش اسکے حق میں مڑ جائے گی۔ ظاہر ہے اِکاّدُکّا مستثنیات بھی ہوتی ہیں۔چیلنج یہ ہے کہ تھانہ کو کیسے میرٹ پر ‘ قانون کے مطابق کام کرنے کا پابند بنایا جائے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تھانہ سفارش اور رشوت کے بغیرمیرٹ پر ‘ قانون کے مطابق کام کرے؟ عوام اور پولیس اسٹیشن کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوجائے۔ پولیس کا سارا فیلڈ ورک تھانہ کی سطح پر ہوتا ہے۔کانسٹیبل سے انسپکٹر تک عہدہ کے پولیس اہلکار تھانہ کا نظام چلاتے ہیں۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر‘ سب انسپکٹر اور انسپکٹر کے تین کلیدی عہدے ہیں جوایف آئی آر کا اندراج‘ ملزموں کی گرفتاری اور تفتیش کے مراحل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس کے ادارہ میں سب سے بُرا حال تھانہ میں تعینات ہونے والے اہلکاروں کا ہے۔ تھانہ میںکام کرنے والے اہلکاروں اور جونئیر افسروںکے حالات ِکار اتنے خراب ہیںکہ وہ نارمل طریقہ سے کام کر ہی نہیں سکتے۔پولیس اسٹیشنوںمیں مناسب حالت میں واش روم تک موجود نہیں‘کچن نہیں ہیں جبکہ پولیس اسٹیشن کا عملہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے کا پابند ہے۔انہیں اِن سہولتوں کی لازمی حاجت رہتی ہے۔ ان ملازمین کو گھڑی دو گھڑی آرام کرنے کے لیے کوئی ریٹائرنگ روم دستیاب نہیں ہوتا۔ ان جونئیر افسروں کے سر پہ پولیس کا سارا نظام کھڑا ہے۔لیکن انکے گریڈ بہت چھوٹے اور تنخواہیں بہت کم رکھی گئی ہیں۔کسی جونئیر افسر کی بیوی یا بچہ بیمار ہوجائے تو اسکے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اسکا علاج کروالے۔ تھانہ کے یہ طاقتور‘ بااختیار افسران اپنے بچوں کواپنی جائز آمدن سے کسی درمیانہ سے پرائیویٹ اسکول میںتعلیم نہیں دلواسکتے۔ شہر میں کسی متوسط طبقہ کے علاقہ میں مکان کرائے پر نہیں لے سکتے۔ توقع یہ کی جاتی ہے کہ غیر انسانی صورتحا ل میںرہنے والے یہ اہلکار برطانیہ اور جاپان کے پولیس والوںکی طرح کام کریں گے۔ان جونئیر اہلکاروں کے حالات کا مقابلہ آپ کسی اعلیٰ پولیس افسر کے ٹھاٹھ باٹھ سے کریں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اور تھانہ کے اہلکار دو مختلف دنیاؤں میں رہتے ہیں۔اعلیٰ افسران کی تنخواہیں مناسب اور مراعات بہت زیادہ ہیں۔ ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کی تنخواہ اور مراعات پر بیس کانسٹیبلوں سے زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ سب انسپکٹر اور انسپکٹر عہدہ کے ایک تفیشی افسر کے پاس پچاس سے سو مقدموں کی فائلیں ہوتی ہیں۔ کسی نارمل انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنی تعداد میں مقدمات کی تفتیش کرسکے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس کیس پر بڑی سفارش آجائے یا زیادہ رشوت مل جائے پولیس اہلکار اس پر کام کرنے لگتا ہے‘ باقی مقدمات لٹکتے رہتے ہیں۔ ان تفتیشی افسروں کے پاس ملزموں سے بیان لینے اور جائے وقوعہ پر جانے کے لیے ٹرانسپورٹ تک نہیں ہوتی‘ پیٹرول نہیں ہوتا۔ یہ سارا خرچ مدعی مہیا کرتا ہے۔توقع ہم یہ رکھتے ہیں کہ یہ اہلکار سائنسی انداز میں تفتیش کریں۔ تھانہ میں مسلسل چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پولیس ملازمین میں غیرانسانی روّیے پیدا کرتی ہے۔ وہ عام معاشرہ سے کٹ جاتے ہیں۔ ہر وقت مجرموں‘ جھوٹ بولنے والوں سے ڈیل کرتے رہنے کی وجہ سے وہ انسانوں کے بارے میں ایک عمومی منفی روّیہ اختیار کرلیتے ہیں۔ ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے کہ پولیس اسٹیشن میںکام کرنے والوں کو ہر چھ ماہ بعد جبری طور پر دس پندرہ روز کی چھٹی پر بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے گھر والوں‘ دوستوں کے ساتھ میل جول کریں اور تھانہ میں رہنے کی وجہ سے جو منفی خیالات ‘ روّیے ان کی شخصیت میں پیدا ہوتے ہیں ان سے نجات پاسکیں‘ ڈی ٹوکسی فائی ہوسکیں ۔ اگر ہمارے حکمران پولیس کے نظام میں واقعی بہتری لانا چاہتے ہیں تو جونئیر افسروں کی تعداد میںمناسب اضافہ کریں اور انکی تنخواہیں بہتر بنائیں۔ پولیس اسٹیشن پر فوکس کیا جائے۔ جونئیر پولیس افسران کی ورکنگ کنڈیشنز بہتر بنائی جائیں۔ انہیں بچوں کی تعلیم اور اہل خانہ سمیت صحت انشورنس مہیا کی جائے۔ تھانہ کو ایک اعلیٰ معیار کی با وقار سروس بنانے کی ضرورت ہے جسے جوائن کرنا تعلیم یافتہ‘ باکردار افراد کے لیے فخر کا باعث ہو ۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ ایک پولیس اہلکار ہمیں تحفظ اور عزت دے تو ہمیں بھی اُسکو اور اُسکے خاندان کو تحفظ اور عزت دینی ہوگی۔ اسکے بعدہم حقدار ہونگے کہ پولیس کے کڑے احتساب کی بات کریں۔

  • بحث مباحثہ سے بچیں، بات کرنا سیکھیں ،  تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    بحث مباحثہ سے بچیں، بات کرنا سیکھیں ، تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    بحث مباحثہ سے بچیں، بات کرنا سیکھیں

    تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    آپ نے عموماََ دیکھا ہوگا کہ دو آدمی بحث و تکرار کرتے ہوئے لڑ پڑتے اور ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں ایسا صرف فن مکالمہ سے نا واقفیت کی وجہ سے ہوتا ہے
    بحث و مباحثہ کرنے والا دشوار گزار پہاڑ کے کوہ پیما کی طرح ہوتا ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہاتھ ڈالنے اور پاؤں رکھنے کی جگہوں کو دھیان میں رکھے
    وہ جس چٹان پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہو پہلے اسے غور سے دیکھتا اور اندازہ کرتا ہے کہ یہ چٹان اپنی جگہ پر کتنی مضبوطی سے قائم ہے جس پتھر پر اس نے پاؤں ٹکانا ہو اسے بھی اچھی طرح ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے پھر جس پتھر سے قدم اٹھانا ہو وہاں بھی احتیاط سے کام لیتا ہے
    کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ درست طور پر پیر نہ اٹھا سکے اور چٹان نیچے سے سرک کر اسے گہری کھائی میں پہنچا دے ۔

    بحث و تکرار میں پڑنا دراصل کوئی قابل تعریف فعل نہیں شاید آپ مجھ سے اتفاق کریں کہ نوے فیصد سے زائد مباحثے بالکل بے فائدہ موضوعات پر ہوتے ہیں
    اس لئے اول تو بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں
    اگر کہیں بحث و تکرار کے آنگن میں انگڑائی لینی پڑ جائے تو غصے میں نہ آئیے معاملہ کو وسیع الظرفی اور کھلے دل ودماغ سے لیجیئے

    قریش نے حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے آپ نے اللہ سے دعا کی کہ قریش مکہ کو ہماری پیش قدمی کی اطلاع نہ ہو ۔ آپ چاہتے تھے کہ انھیں جنگ کی تیاری کا موقع دیئے بغیر اچانک ہلا بول دیا جائے ۔
    اسلامی لشکر مکہ پہنچ کر ایک قریبی مقام پر خیمہ زن ہو گیا قریش کو کچھ خبر نہیں تھی کہ اسلامی لشکر سر پر آپہنچا ہے
    پھر بھی وہ سن گن لے رہے تھے جس رات اسلامی لشکر وہاں اترا اسی رات
    ابو سفیان چند افراد کے ہمراہ اردگرد کا جائزہ لینے نکلا ادھر قریش پر حملہ آور ہونے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے منتظر تھے
    عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو کہا
    قریش کی یہ صبح بہت بری ہو گی
    واللہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آکر امان حاصل نہ کی تو قریش کا نام مٹ جائے گا
    عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی
    وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفید خچری پر سوار ہوئے اور چل دئیے
    ابو سفیان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ادھر آ نکلا مسلمانوں نے آگ کے الاؤ روشن کر رکھے تھے
    ابو سفیان نے آگ دیکھی تو کہنے لگا اتنی آگ اور اتنا بڑا لشکر میں نے آج تک نہیں دیکھا یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں ایک ساتھی نے جواب دیا یہ واللہ خزاعہ کا قبیلہ ہے جو جنگ کرنے آئے ہیں ابو سفیان بولا نہیں خزاعہ کی تعداد اس سے کہیں کم ہے آگ کے اتنے الاؤ اور اتنا بڑا لشکر ان کا نہیں ہو سکتا ابو سفیان دھیرے دھیرے قریب آگیا تو مسلمان پہرے داروں نے اسے پکڑ کر رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا خچری پر سوار عباس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی چند مسلمان گھڑ سواروں کے گھیرے میں ہیں ۔ ابو سفیان کی نظر عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی تو وہ گھبراہٹ کے عالم میں ان کی طرف آیا اور عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے خچری پر سوار ہو گیا ابو سفیان کے ساتھی انتہائی پریشانی کی حالت میں خچری کے پیچھے پیچھے چلنے لگے اور مسلمان ان کے پیچھے ہو لیے ۔ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خچری کو ایڑ دی اور ابو سفیان کو لے کر تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دئیے
    آگ کے کسی الاؤ کے پاس سے گزرتے تو مسلمان کہتے کہ یہ کون ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچری اور اس پر عباس رضی اللہ عنہ کو سوار دیکھ کر کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا رسول اللہ کی خچری پر ہیں ( لہذا کوئی خطرہ نہیں)

    عباس رضی اللہ عنہ خچری کو تیز دوڑا رہے تھے کہ کہیں مسلمانوں کو ابو سفیان کا پتہ نہ چل جائے
    عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریب سے گزرے تو انھوں نےکہا یہ کون ہے اور اٹھ کر آگے آ گئے انھوں نے ابو سفیان کو دیکھا تو چیخ اٹھے ، ابو سفیان ، اللہ کا دشمن اللہ کا شکر ہے جس نے بغیر کسی معاہدے کے تمھیں ہمارے قابو میں دے دیا ہے

    عباس رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو منع کیا کہ ابو سفیان کو کچھ نہ کہیں
    عمر رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی طرف دوڑ لگا دی ادھر عباس رضی اللہ عنہ نے بھی خچری کو ایڑ لگائی اور عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اسی وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے اور کہنے لگے،، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ابو سفیان ہے اللہ نے اسے بغیر کسی معاہدے کے ہمارے قابو میں دے دیا ہے اجازت دے دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں،،،
    عباس رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا ،، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسے پناہ دی ہے

    یہ کہہ کر عباس رضی اللہ عنہ قریب آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں سر گوشی کرنے لگے

    عمر رضی اللہ عنہ باربار یہی کہتے رہے،،،

    اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے قتل کر دیجیے،،،

    عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا،، عمر،، ٹھہرو واللہ اس کا تعلق بنو عدی بن کعب ( عمررضی اللہ عنہ کا قبیلہ) سے ہوتا تو تم یہ بات نہ کرتے ۔

    عمر رضی اللہ عنہ کو ادراک ہو گیا کہ وہ ایک ایسی بحث میں پڑنے جا رہے ہیں جو فی الحال بے فائدہ ہے انھوں نے اطمینان سے کہا ٹھہرو عباس ٹھہرو واللہ تمھارا اسلام جس دن تم مسلمان ہوئے، مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسند تھا اگر وہ مسلمان ہو جاتے

    اس لئےکہ مجھے معلوم ہے کہ تمھارا اسلام لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسند تھا

    عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو خاموش ہو گئے اور یہ بحث اختتام کو پہنچی ۔

    عمر رضی اللہ عنہ چاہتے تو بات کا بتنگڑ بنا سکتے تھے. کہ کیا مطلب ہے تمھارا تم میری نیت پر شک کرتے ہو؟ کیاتم میرے دل کی حالت جانتے ہو؟ قبائلی نعرے بازی کرنے کی کیا تک بنتی ہے ؟؟

    لیکن انھوں نے ایسا نہیں کہا شیطان کو اتنی جرات نہیں تھی کہ ان کے درمیان یوں آسانی سے پھوٹ ڈال سکے
    عمر اور عباس رضی اللہ عنہما خاموش ہو گئے
    ابو سفیان کھڑے دیکھتے رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں
    آپ نے فرمایا عباس ابھی انہیں اپنے خیمے میں لے جایئے صبح میرے پاس لائیے گا ۔
    عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان کو اپنے خیمے میں لے گئے اس نے وہاں رات گزاری
    فجر کو آنکھ کھلی تو دیکھا کہ لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہیں اور طہارت کر رہے ہیں ابو سفیان نےحیران ہو کر عباس سے پوچھا کہ انھیں کیا ہوا
    انھوں نےبتایا ان لوگوں نے اذان کی آواز سنی یے اور اب نماز کے لئے نکل رہے ہیں

    جماعت کھڑی ہوئی لوگوں نے صفیں باندھیں رسول اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور تکبیر کہہ کر نماز شروع کی ابو سفیان نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے ہیں تو مسلمان بھی رکوع میں جاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے ہیں تو مسلمان بھی سجدے میں چلے جاتے ہیں
    اسے اس قدر شدید پیروی پر نہایت تعجب ہوا
    نماز کے بعد عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان کو لینے آئے ابو سفیان نے کہا عباس محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کا حکم دے یہ لوگ بجا لاتے ہیں
    کہا ہاں واللہ اگر وہ انھیں کھانا پینا چھوڑ دینے کا حکم بھی دیں گے تو لوگ ان کی اطاعت کریں گے
    ابو سفیان نے کہا میں نے تو قیصر وکسری’ کی بادشاہت میں بھی اطاعت اور جان نثاری کا یہ عالم نہیں دیکھا

    عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان کو لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں آئے تو آپ نے دریافت فرمایا ۔
    ابو سفیان ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ کو یقین آ جائے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں :؟
    ابو سفیان نے جو رات مسلمانوں میں گزاری تھی وہ اس کے دل میں بھڑکتی عداوت کی آگ بجھانے کے لئے کافی تھی اس نے کہا

    میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کس قدر متحمل مزاج و کریم اور صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں واللہ میں سوچتا ہوں کہ اگر اللہ کے علاوہ میرا کوئی معبود ہوتا تو وہ میرے کسی کام ضرور آتا،،
    اس پر آپ نے دریافت کیا ۔
    ابوسفیان کیا وہ وقت نہیں آیا کہ آپ کو یقین ہو جائے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
    ابو سفیان صاف گو آدمی تھا اس نے جواب دیا

    میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کس قدر برد بار و عزت دار اور صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں. واللہ اس بارے میں ابھی تک دل میں خلش سی باقی ہے

    اس پر عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو سفیان سے کہا
    ابو سفیان اسلام قبول کر لو یہ شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں
    ابو سفیان تھوڑی دیر خاموش رہا پھر گویا ہوا

    آشھد ان لا الہ الا اللہ وآشھد آن محمد رسول اللہ

    ابو سفیان کی زبان سے یہ کلمات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔

    عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان اعزاز پسند آدمی ہے اسے کوئی اعزاز دے دیجئے

    *آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے
    جو شخص ابو سفیان کے گھر چلا گیا اسے امان ہے ۔*

    📜 آخری بات 💫
    ✍🏻 یہ ذہانت نہیں کہ آپ بحث و مباحثے میں مد مقابل کو چت کر دیں ۔
    بلکہ قابلیت یہ ہے کہ آپ سرے سے بحث ہی میں نہ پڑیں،،

    🌷🌷🌷

  • سفر آخرت کی گھنٹی، تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    سفر آخرت کی گھنٹی، تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    سفر آخرت کی گھنٹی
    تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    2 جولائی بروز جمعرات شام 7 بجے میں مرکز طیبہ کے العزیز ہسپتال میں ام سمیع اللہ کے گھر ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب سے اختر صاحب اللہ کو پیارے ہوئے میں پہلی مرتبہ ام سمیع اللہ کو ملنے گئی تھی اختر صاحب ام سمیع اللہ کے شوہر تھے
    حال احوال پوچھنے کے بعد اختر بھائی کی ناگہانی موت کا تذکرہ شروع ہوا ابھی 5 منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے میرے بیٹے ابوبکر کی کال آگئی میں نے کال سنی تو کہنے لگا امی جان فائزہ کی امی فوت ہو گئی ہیں، فائزہ میری بڑی بہو ہے

    انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور پوچھا جنازہ کب ہے کہنے لگا عشاء کے بعد 9 بجے ہم نے مریدکے سے پسرور جانا تھا کم از کم 2 گھنٹے کا سفر تھا میں پریشان ہو گئی ابھی کال اور اتنی جلدی جنازہ

    خیر جلدی جلدی رینٹ والے بھائی کو کال کی کہ اپنی گاڑی لے کر جلدی آجائیں ہم نے پسرور فوتگی پہ جانا ہے
    جنازے میں ٹائم بہت کم ہے فوراََ آجائیں
    گھر آکر بچوں کو تیار کیا
    فائزہ رو رہی تھی کہ ابھی تو میں نے صبح امی سے بات کی تھی اور کل میں نے ماں کو ملنے جانا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ میں ماں کو مل ہی نہیں پاؤنگی اور بھاگم بھاگ آج ہی مجھے ماں کا جنازہ پڑھنے جانا پڑے گا
    خیر ہم 9 بجے تک پسرور پہنچ گئے
    جو بیٹیاں قریب تھیں وہ ہم سے پہلے پہنچ چکی تھیں اور انھوں نے غسل دے کر ماں کو آخری سفر کے لئے تیار کر دیا تھا
    عزیز واقارب 6 بیٹیاں اور 3 بہو ماں کو دیکھ دیکھ کر آنسو بہا رہی تھیں لیکن بے بس تھیں
    جنازے کا ٹائم ہو چکا تھا بیٹے اور داماد آئے اور ماں کی میت والی چار پائی کو اٹھا کر اس کے اصلی گھر اسے خالی ہاتھ تین چادروں میں لے جا کر رات کے گھپ اندھیرے میں شہر خاموشاں میں چھوڑ آئے

    اللہ تعالیٰ ہماری اس بہن کی مغفرت فرمائے اس کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور اسے کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے آمین ثم آمین

    ایسے ہی عیدالفطر والے دن ہم ابھی عید کی نماز پڑھ کر گھر آئے ہی تھے تو مجھے 9 بجے وزیر آباد سے میرے بھائی کی کال آگئی کہ شمائلہ فوت ہو گئی ہے
    اور 11 بجے اس کا جنازہ ہے

    شمائلہ میری بھتیجی تھی

    مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرے کان کیا سن رہے ہیں میں نے کہا بھائی کیا کہہ رہے ہیں
    کہنے لگے سچ کہہ رہا ہوں
    یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گری
    میں نے کہا ہم ابھی آرہے ہیں کہنے لگے نہیں آنا
    کرونا سے فوت ہوئی ہے ہم نے سب کو روک دیا ہے کوئی نہ آئے ہم بھی باہر قبرستان میں ہی جا رہے ہیں
    دفن کرنے کے بعد بھائی کی کال دوبارہ آئی کہ اب آپ آجائیں
    دل پھٹا جارہا تھا کہ میں اپنی لاڈلی کو دیکھ بھی نہیں سکی اور غسل بھی نہیں دے سکی ( ماں اور بیٹیوں نے غسل دیا تھا )

    اللہ اکبر کبیرہ یہ ہے ہماری زندگی کی حقیقت
    بعد میں گھر پہنچے تو شمائلہ کی امی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے رو رہے تھے کہ اےاللہ ہم نے سارا رمضان روزے رکھے نمازیں پڑھیں قرآن پڑھا عبادتیں کیں ہماری ماں نے بھی کیں اللہ تو اس کا صلہ عید والے دن دیتا ہے
    اے ہمارے پیارے اللہ تو نے اس کا صلہ عید والے دن ہمیں یہ دیا کہ ہم سے ہماری ماں کو جدا کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے پاس بلا لیا
    یہ تو بچے ہیں ناں جو اپنے اللہ جی سے شکوہ کر رہے ہیں
    اے میرے مالک تیری مرضیاں
    تیری حکمتیں تو ہی جانے جیسے تو چاہے کرے تجھے کون پوچھنے والا ہے
    ہم تیری رضا پہ راضی ہیں

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ میری شمائلہ کی مغفرت فرمائے اس کے درجات بلند کرے اس کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور اس کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنا دے اور اس کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

    آنے جانے کا کھیل جاری ہے
    کوئی کیاجانے اب کس کی باری ہے

    سر پہ منڈلا رہا ہے ملک الموت
    دل میں موت کا خوف طاری ہے

    آخر کار ہم سب جدا ہونگے
    چار دن کی یہ رشتہ داری ہے

    یوں تو بہت میٹھا ہے جام حیات
    مگر آخری گھونٹ اس کا کھاری ہے

    موت کی آخری ہچکی کو ذرا غور سے سن
    زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہے

    کل نفس ذائقۃ الموت

    میری عزیزات یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں

    جب ایسا ہی ہے توپھر ہم نے کبھی غور کیا کہ میرے پاس سفر آخرت کی کیا تیاری ہے؟؟

    ہمارا رب سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے

    ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں قیامت کے دن تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا
    پس جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور یہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے
    آیت نمبر 185

    یعنی موت تو ہر ایک کو آکر رہے گی اور ہر ایک کو قیامت کے دن اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا
    عزیزات یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں جو چیز بوئیں گے وہی کل کو کاٹیں گے عذاب و ثواب مرنے کے ساتھ ہی عالم برزخ میں شروع ہو جاتا ہے اور کامیابی کا معیار یہ ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو جائے

    اس دنیا کی عارضی بہاریں اور ظاہری زیب وزینت میں اتنی کشش ہے اور اتنی پر فریب ہے جس میں مگن ہو کر انسان بسا اوقات آخرت سے غافل ہو جاتا ہے اور غافل رہتا ہے یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے. تب اس کی آنکھیں کھلتی ہیں کہ مجھے دنیا میں رہ کر کرنا کیا چاہئے تھا اور میں کرتا کیا رہا

    اب پچھتاوے کیا ہوت
    جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

    عزیزات یہ دنیا ہر انسان کے لئے دار الامتحان ہے اس کی زندگی عیش وعشرت میں گزر رہی ہو یا تنگی ترشی میں وہ خود صحت مند ہو یا بیمار ہو عالم ہو یا نادان غرضیکہ انسان کی کوئی بھی حالت ہو وہ امتحانی دور سے گزر رہا ہے
    امتحانی پرچے کا آخری وقت اس کی موت ہے موت کے ساتھ ہی اسے از خود معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس امتحان میں کامیاب رہا یا ناکام؟؟

    ساتھ ہی اس کی کامیابی اور ناکامی کے اس پر اثرات مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور آخرت میں اس کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا
    اس لحاظ سے یہ دنیا اور اس دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے لمحات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے

    ہم دنیاوی اسٹیٹس دنیا کے مال و متاع اور ڈگریوں میں اپنا فائدہ اور کامیابی ڈھونڈتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی کا معیار یہ بالکل بھی نہیں ہے
    اللہ کہتا ہے جو دوزخ سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا ایسا بندہ کامیاب ہے

    یہ دنیا ہمارے کام نہیں آئے گی دنیا یہاں ہی رہ جائے گی اور ہم خالی ہاتھ اپنی منزل ( قبر ) کی طرف روانہ ہونے والے ہیں

    آخری بات

    اس زندگی کا کوئی بھروسا نہیں آخرت کی گھنٹی بجنے والی ہے
    موت سر پر منڈلا رہی ہے
    جب پیغام اجل آجائے گا تو سب سے پہلے ہم سے ہمارا نام چھین لیا جائے گا ہم میت میں تبدیل ہو جائیں گے ہر کوئی پوچھ رہا ہوگا جنازہ کب ہے
    چند لمحوں کی بات ہے ہم اپنے پیاروں کے کتنے ہی پیارے ہیں لیکن ہمارے پیارے بے بس ہو جائیں گے اور ہمیں خالی ہاتھ شہر خاموشاں میں چھوڑ آئیں گے
    بہنو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سفرآخرت کی تیاری کرنے کی فکر عطا فرمائے اور ہمیں اخروی کامیابی کا راز سلجھا دے آمین ثم آمین

    تیرا کیا بنے گا بندے تو سوچ آخرت کی
    تو سوچ آخرت کی

    جیتنے دنیا سکندر تھا چلا
    جب گیا دنیا سے خالی ہاتھ تھا
    لہلہاتے کھیت ہوں گے سب فنا
    خوشنما باغات کو ہے کب بقا
    تو خوشی کے پھول لے گا کب تلک
    تو یہاں زندہ رہے گا کب تلک

    تیرا کیا بنے گا بندے تو سوچ آخرت کی تو سوچ آخرت کی

  • پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے  تحریر:اخت شیرازی

    پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے تحریر:اخت شیرازی

    اخت شیرازی
    *دعا*

    خدا تیرا مقدر بدلے
    پھر تو آفتاب سی کرنیں بخشے
    تو اک جرات و بہادری کا نشاں بنے
    اور قاسم و ایوبی کی پہچاں بنے

    تو رہے سلامت ہمیشہ یونہی
    تیری عبادتوں میں کمی نہ آئے
    تیری عزت و رفعت رہے سلامت
    تیرے جذبوں میں یونہی قرار آئے

    پھر یوں ہو اک دن
    تیرے جذبے ابھریں
    تلک ذمین سے فلک تک جائیں
    تیرے خیال حقیقت میں بدلیں
    پھر تو اک روشن ستارہ بن جائے
    *آمین*
    —————————————-

  • اے کالی سہمی سی راتو   تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو!
    کچھ ٹھہرو سورج نکلے گا
    کچھ ٹھہرو اے زنجیر مری
    ہے آزادی تقدیر مری
    یہ آگے بڑھتے ظالم ہاتھ
    اب کاٹے گی شمشیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    کچھ ٹھہرو، تھام کے دل دیکھو
    اے قاتل ! اے بزدل! دیکھو
    یہ خون کا دریا بہتا ہے
    یہ تم سے بھی کچھ کہتا ہے
    اب بچہ بچہ وادی کا
    برہان سا بن کے نکلا ہے
    تم روک سکو گے کتنوں کو
    تم خون کرو گے کتنوں کا
    یہ خون محبت والوں کا
    آزادی کے متوالوں کا
    سب شرق پہ جمتا جائے گا
    اور آزادی کا سورج پھر
    اس اور نکل کے آئے گا
    یہ خون تو ہے توقیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    تم دیکھو گے ،ہاں دیکھو گے
    اب خون سے لپٹے سب لاشے
    اس سبز ہلالی پرچم میں
    یہ سبز ہلالی پرچم ہی
    اب وادی میں لہرائے گا
    کہ وادی میں ہے آئی جاں
    اب جاگ اٹھا کشمیر میاں
    سب بچے بوڑھے اور جواں
    صبح شام پکاریں ایک زباں
    کشمیر بنے گا پاکستاں
    کشمیر بنے گا پاکستاں

    قلمِ خود
    ثمرین اختر اصباح