Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟  تحریر:  سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟
    سعدیه خورشید

    ھمارے معاشرے میں ایک بڑا معروف جملہ ھے کہ "جہیز ایک لعنت ھے”
    شریعت میں اسکی اجازت نہیں ھے لہذا جہیز نہیں دینا لینا چاہیے ۔۔
    لیکن اس بات کی دلیل کہ جہیز کی ممانعت کسی حدیث میں ائی ھے؟؟؟؟؟
    دوسری بات یہ ھے کہ اگر جہیز نہیں دیا جائے گا تو ظاھر سی بات ھے گھریلو زندگی میں بہت سی چیزیں بہت ضروری ھوتی ھیں جن کے بغیر اس جدید دور میں گزارہ نہیں ھے وہ کہاں سے آئیں گی۔۔۔۔؟؟ جواب یہی ھے کہ جو لڑکا بیاہ کے لے جارہا ھے پھر وہی سب کچھ بنائے گا ۔۔۔!!!
    اگر اس بات کو لیا جائے کہ لڑکا ہی جہیز میں سب کچھ بنائے گا تو سب سے پہلے وہ کہیں نوکری تلاش کرے اور پھر بینک بیلنس بنائے یا بہت سارا روپیہ پیسہ جوڑے شادی کے انتظامات کرے بری بنائے، لڑکی کے لئے سونا بنائے اور پھر اس کے بعد شادی کے بعد رہنے کے لئے فرنیچر ھو مشینری اور دیگر چیزیں۔۔۔۔
    لیکن اگر کوئی یہ نا بنا سکے یا شادی کرنے کے لئے ان سب اصولوں پہ پورا اترنے کی کوشش کرے تو اسکی عمر تو اسی کام میں گزر جائے گی۔۔۔ شادی کب ھوگی؟؟

    جہاں تک مسئلہ یہ ھے کہ لڑکی کے والدین کے لئے یہ بہت سنگین مسئلہ اختیار کر جاتا ھے کہ بعض لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دے سکیں یا آپکی لسٹوں کے مطابق سب کچھ دے سکیں جس وجہ سے کئی لڑکیاں گھر بیٹھے بوڑھی ھو جاتی ھیں۔۔۔۔

    جہیز نا لینے دینے کے نعرے مارلینا ہی کافی نہیں ھے بلکہ اس کے لئے وہ سب رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے جو کہ ایک بڑا مشہور ھے کہ لڑکے والے جہیز کے نام پہ لسٹیں دے کر بھیک مانگتے ھیں یا ہر فنکشن پہ سسسرال والوں کو طرح طرح کے جوڑے، شال، جرسیاں جیکٹس جو بھی ھوتا ھے اصل میں تو یہ رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے لڑکے کی ماں کو، بہنوں کو سونا پہنایا جا رہا ھے۔۔۔ یہ سب کس وجہ سے ھے؟؟ غریب باپ کی تو یہ سب کرتے میں کمر ٹوٹ گئی اور آپ ھیں کہ خوش ھونے کا نام نہیں لے رہے۔۔
    جہیز ایک لعنت ھے
    کہے جا رہے ھیں، لئے جا رہے ھیں
    کوئی بھی نہیں چاھتا کہ اسکی بیٹی اسکے گھر سے خالی ہاتھ جائے، وہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ دے کے ہی بھیجنا چاھتا ھے لہٰذا جو وہ اپنی استطاعت کے مطابق، ساری عمر کی جمع پونچی کو لوٹا کے اپنی بیٹی کو دے دے اسی پہ راضی رہنا سیکھیے۔۔۔!!
    بات یہ ھے کہ دنیاوی کاموں میں اباحت ھے لہٰذا ایسے مسائل کو بلا سوچے سمجھے نا اچھالا کریں۔۔۔
    اگر آپ نے آواز اٹھانی ہی ھے تو لسٹس اور ایسے بڑے بڑے مطالبات کے خلاف اٹھائیے اور اس پہ سب سے پہلے خود عملدرآمد کیجئے ۔۔۔۔ صرف جہیز ایک لعنت ھے یہ نعرے مار لینا کافی نہیں ھے!!!

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

  • ہواؤں نے رُخ موڑ لیا  از قلم :  ایمان کشمیری

    ہواؤں نے رُخ موڑ لیا از قلم : ایمان کشمیری

    ہواؤں نے رُخ موڑ لیا از قلم : ایمان کشمیری

    آج کل وادی ِ کشمیر کے علاقہ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان کافی کشیدگی چل رہی ہے ، ایسی صورتِ حال سے بھارت بہت پریشان لگ رہا ہے ۔۔۔ یہی وہ بھارت ہے جو ہر وقت پاکستان سے جنگ کےلیے بے چین رہتا تھا ، کئی بار لائن آف کنڑول پر جنگ چھیڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔۔۔ دوسری طرف بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت گری کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے وہ بھی دُنیا کی نظروں سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔۔۔۔ امریکہ کے کہنے پر چل کر اب بھارت ایک بڑی مشکل میں پھنس چکا ہے ، جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں نکلتا ۔۔۔ امریکہ تو چاہتا ہی یہی ہے کہ کسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھے اور نوبت جنگ تک پہنچ جائے ، ایٹمی ہتھیار چل جائیں ، اربوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جائیں ،اِن سب سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں وہ صرف دُنیا کی نظروں کا رُخ اپنی طرف سے ہٹا کر پاکستان اور بھارت کی جنگ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے تاکہ افغانستان سے اپنے اوپر شکست کا بدنما داغ لگے بغیر نکل جائے ۔۔۔ بھارت کو اسرائیل کی حمایت درکار ہے اِس لیے وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان کھلی جنگ کی طرف آ جائے اور وہ اسرائیل کی مدد سے پاکستان کا نام و نشان دُنیا کے نقشے سے مٹا دے (جو کہ ناممکن ہے، دُنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو نہیں مٹا سکتی اگر کسی نے ایسی احمقانہ کوشش کی تو وہ خود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ۔۔۔۔ ان شاءاللہ ) اسرائیل تو ویسے ہی پاکستان کا کھلا دشمن ہے جو ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ختم کر دے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پوری دُنیا میں اُس کےلیے اگر کوئی خطرے کا باعث ہے تو وہ ملکِ پاکستان ہے ۔۔۔ بھارت نے پچھلے ستر سالوں سے مقبوضہ کشمیر پر جبری تسلط قائم رکھا ہے مگر پچھلے چھ مہینوں سے جو سلسلے چل نکلے ہیں اُس کی کڑیاں اوپر بیان کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں سے جا ملتی ہیں۔۔۔ پاکستان اپنے دشمنوں کی سب سازشوں کو بھانپ چکا ہے اور حکمت عملی کی راہ اختیار کیے ہوئے ہے ، وہ جانتا ہے کہ جنگ دونوں ملکوں کی بربادی ہے اِس لیے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے بھارت کو موقع ملتا ۔۔۔ امریکہ یہی سمجھتا رہا کہ اُس کی سازشوں سے متعلق پاکستان ، کشمیر ، چین اور نیپال بےخبر رہیں گے لیکن اب یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ جیسا بڑا شیطان کوئی دوسرا نہیں ہے ۔۔۔۔ اب آتے ہیں کشمیر اور بھارت کے معاملے کی طرف ۔۔۔۔ بھارت کشمیر میں جو گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے اُس کی بِنا پر دُنیا نے بھارت کا مکروہ چہرہ اچھی طرح پہچان لیا ہے ، کشمیری ظلم و ستم سہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کی طرف رواں دواں ہیں ۔۔۔۔ بھارت اسی کشمیر کی وجہ سے ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے ، جہاں سے نکلنا اُس کے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ۔۔۔ اب بھارت کسی کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پاکستان ، کشمیر ، چین اور نیپال سے بچاؤ ، بھارت ایک ساتھ کئی مصیبتوں سے دو چار ہے جو اُس کی خود کی کمائی ہوئی ہیں ۔۔۔

    بچا کوئی مکافاتِ عمل سے

    وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا

    بنگلہ دیش نے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ بھارت کے زیرِ تسلط ویسٹ بنگال اصل میں اُن کا حصہ ہے دوسری طرف بھارت کا اپنے بالکل ساتھ واقع نیپال کے ساتھ بھی اختلاف شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ بھارت کو ہمیشہ سے یہی خوش فہمی تھی کہ میری مدد کو امریکہ اور اسرائیل آئے گا مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ کشمیر جو کہ گھنے جنگلوں اور پہاڑوں پر مشتمل وادی ہے ، یہ گوریلا جنگ کےلیے بے حد موزوں ہے جس سے بھارت کو اُس کی سوچ سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا ہے ، اِسی لیے اب بھارت شدید غم و غصے کا شکار ہے ، جنگ اُس کی بربادی کا باعث ہے مگر کم عقل مودی پھر بھی جنگ چاہتا ہے حالانکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ، اِس سے صرف جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

    مکافاتِ عمل خود راستہ تجویز کرتی ہے

    خدا قوموں پہ اپنا فیصلہ جاری نہیں کرتا

  • جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔  از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔ از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    ۔۔۔۔جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔

    از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    جہیز ایک سماجی ناسور ہے جس نے ہزاروں کی تعداد میں زندگیاں ضائع کی ہوئی ہیں۔ یہ کینسر کی طرح ہمارے سماج میں سرایت کر گیا ہے۔یہ وہ بیماری ہے جس کا علاج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پہلے پہل یہ رسم ہندوؤں میں رائج تھی اور آج بھی ہے ہندوؤں کی زُبان میں جہیز دان کہتے ہیں مگر اب یہ لعنت مسلمانوں میں بھی پھیل چُکی ہے۔ جہیز کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں اپنی زندگی کے سنہرے دن کھو چُکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے شہر سرینگر میں پنتیس ہزار لڑکیاں ایسی ہیں۔ جن کی عمر تیس سے پینتیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہے ابھی اپنے ہاتھوں میں مہندی لگنے کے انتظار میں ہیں مگر جہیز کی لعنت نے ان کی شادی پہ قدغن لگا دی ہے کیونکہ وہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ اتنا انتظام نہیں کر سکتے جتنا شادی پر اُن سے ڈیمانڈ کیا جاتا ہے۔نتیجتاً لڑکیاں اپنے والدین پر بوجھ بننے لگتی ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں رحمت ہوتی ہیں مگر جب وہ ہی لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اس بدعت کی وجہ سے بچیاں ماں باپ پر اس قدر گراں گُزرتی ہیں جیسے وہ ان کی بیٹیاں نہیں۔رحمت نہیں ایک زحمت ہوں(اللہ بچائے)۔
    دور جہالت میں پہلے بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ۔اسلام نے بیٹیوں کو وہ حقوق دیے جو آج تک کوئی بھی مذہب نہ دے سکا اسلام نے بیٹیوں کے لئے باضابطہ طور پہ باپ کی جائیداد میں بھی حصہ رکھا ہے مگر اس کے برعکس ہم جہیز کی لعنت پر عمل پیرا ہیں ۔ہندو مذہب میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے کہ باپ کے جائیداد میں بیٹی کا کوئی حصہ ہے اس لئےوہ شادی کے موقعے پر اپنی بیٹی کے لئے جہیز کا انتخاب کرتے ہیں مگر اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں ملتا کہ جس کو ہم جہیز کی بدعت سے تعبیر کرتے۔مگر ہمارے مسلم سماج میں بھی اس لعنت نے پزیرائی حاصل کر لی ہے۔
    جہیز کی اس لعنت نے ہزاروں کی تعداد میں لڑکیوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا ہے۔ایک طرف شادی سے پہلے لاکھوں کی ڈیمانڈ تو دوسری طرف وازواں کا خرچہ غریب تو قرض لینے یا زمین بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔نتیجتاً عمر بھر کی کمائی ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو جاتی ہے۔اور لڑکی کے گھر والے عُسرت کی زندگی گُزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کشمیر میں اس بدعت نے گہری جڑ پکڑ لی ہے یہاں پر شادی کے نام پر بہت سے غیر اخلاقی مراسم نے جنم لیا ہے۔ پہلے دن جب شادی طے ہو جاتی ہے تو ایک دو آدمی چائے پینے کے لئے جاتے ہیں اور پیالے میں گیارہ سو روپے ڈال دیتے ہیں یعنی رشتہ پکا اس کے بعد مہمان نوازی یعنی دس بیس مہمان لڑکی والوں کے گھر چلے جاتے ہیں اور لاکھوں روپیوں کا خرچہ کرواتے ہیں اور بعد میں لڑکی والے لڑکے والوں کے ہاں چلے جاتے ہیں جس سے بھی لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے اس کے بعد الوداعی تقریب ہوتی ہے جس میں بھی لاکھوں کا خرچہ آتا ہے اور پھر لڑکی والوں کو جہیز کا اہتمام کرنا ہوتا ہے ۔جس کی قیمت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ کئ جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ باراتیوں کی پلیٹوں میں بھی سونے کی کچھ چیزیں رکھی جاتی ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ہزاروں لڑکیاں شادی کا خواب سجائے اپنی آرزوؤں کو اپنے سینے میں دفن کر چُکی ہیں اور شادی کے نام سے بھی ڈر جاتی ہیں ۔۔۔
    اور دوسری طرف کچھ جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں کو بچانے کی کوشش میں خود مالی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں وہاں چاہیے کہ لڑکی والے بھی ان کے لئے آسانی کا سامان پیدا کریں مگر ایسے معاملے ہمارے سماج میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔
    غرض یہ کہ جہیز جیسی بدعت کی ہر جگہ ہر پلیٹ فارم پہ مذمت کرنی چاہیے تاکہ یہ ناسور ہمارے سماج سے قطعی طور پر ختم ہو جائے اور ہماری بیٹیاں سکون محسوس کریں اور اُجڑے ہوئے دل کے باغ سرسبز وشاداب ہو جائیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔ آمین یا رب

    ساحل توصیف۔۔
    محمد پورہ کولگام۔۔

  • کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟  تحریر:غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟ تحریر:غنی محمود قصوری

    اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے بنایا اور اس کیساتھ دوسروں کی مدد اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی بڑی سختی سے حکم دیا ہے
    اس دور میں ہر انسان ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بنی ہوئی ہے
    اللہ تعالی نے قرآن مجید کو پچھلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے لئے سمجھنے کو آسان بنایا ہے
    پچھلی قومیں جب اپنے انبیاء کی بتائی گئی باتوں پر سر کشی کرتیں تو فوری ان پر کوئی نا کوئی عذاب نازل ہو جاتا اور وہ قومیں تباہ و برباد ہو جاتی تھیں ہر پچھلی قوم کے اندر کوئی ایک آدھ جرم ہوتا تھا جس کی بدولت ان پر کبھی پتھروں کی برسات،کبھی آسمان سے آگ،کبھی سیلاب کبھی قحط سالی اور کبھی وبائی امراض کی شکل میں عذاب آتے رہتے تھے
    ہم اللہ کے آخری نبی کی آخری امت ہیں اور ہمارا مقام دوسری امتوں سے افضل ہے مگر افسوس کہ ہم پہلی امتوں سے بڑھ کر معزز تو ہیں مگر ہم میں پہلی امتوں والی ساری برائیاں موجود ہیں حالانکہ پہلی امتوں میں ایک آدھ برائی ہوتی تھی مگر وہ پھر بھی ہلاک وبرباد ہو جایا کرتی تھیں مگر ہم میں سب برائیاں ہیں مگر ہم پھر بھی قائم ہیں تو اس کی وجہ میرے نبی ذیشان نبی رحمت کی وہ دعا ہے کہ جس میں میرے نبی نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ تو ان سب کو ایک ساتھ بھوک و افلاس و قحط سے نا مارنا سو آج دیکھ لیجئے ساڑھے چودہ سو سال سے کئی عذاب آئے مگر میرے نبی کی دعا کے مطابق سارے ایک دم ہلاک نا ہوئے مگر افسوس کہ ہم اپنی برگزیدہ نبی خاتم النبیین کی دعا کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اپنے رب کو ناراض کر رہے ہیں
    اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں
    اس نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی ۔۔الحج 78
    اس آیت میں اللہ تعالی اپنے نبی کے ذریعے ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ ہم امت محمدی دوسری امتوں سے بہتر اور اعلی ہیں اور ہمارے ساتھ دین میں کوئی تنگی بھی نہیں اور جو آسانیاں ہمیں اس دین میں عطا ہوئیں وہ پہلی امتوں کو نا تھیں
    مگر آج پہلی امتوں کی طرح ہم میں بھی سرکشی و تکبر ،چوری و زنا ،شراب و شباب اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم عام ہو گئے ہیں اسی لئے ہمارے سمجھانے کیلئے اللہ تعالی نے فرقان حمید میں فرمایا ہے
    اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو ( کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر ( عذاب کی ) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔ بنی اسرائیل 16
    آج اس آیت کو سامنے رکھ کر دیکھیں اللہ نے ہمیں ساری نعمتوں سے نوازہ مگر پھر بھی ہم حد سے بڑھ گئے ہیں ہم اللہ کے عذاب کو بھول گئے ہیں سو اللہ نے ہمیں سمجھانے کیلئے ہلکا سا عذاب کرونا اور ٹڈی دل کی شکل میں بیجھا تاکہ ہم توبہ کر سکیں اور معاشرتی برائیوں سے تائب ہو جائیں خوش قسمتی سے ہم سب نبی کی مانگی گئی دعا کے مطابق بچے ہوئے ہیں ورنہ ہم سارے کے سارے پہلی امتوں کی طرح ہلاک ہو جاتے مگر افسوس ہم پھر بھی نہیں سمجھ رہے ہمارے اندر ،زنا،چوری،ڈکیتی،قتل و غارت گیری،ذخیرہ اندوزی،شرک و بدعت اور پہلی امتوں کی سی ہر برائی آ گئی ہے
    انہیں برائیوں پر اللہ نے فرمایا ہے
    پھر ہم نے ان پر طوفان بیجھا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون ،کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ ۔۔الاعراف 133
    اللہ تعالی ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ باز آ جاؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے جرائم پیشہ نا بنو اور تکبر سے بچوں تو اس لئے آج ہم پر کرونا وائرس کی شکل میں وباء مسلط ہے اور ٹڈیاں ہمارے کھیت کھلیان چاٹ رہی ہیں لہذہ اب وقت ہے عذاب الٰہی سے ڈرنے کا توبہ کرنے کا اور جرائم سے بچنے کا
    یہاں ایک وضاحت کرتا چلو کہ اللہ نے ہمیں عذاب دے کر بھی ایک احسان ہی کیا ہے جیسے کرونا سے صحت یاب ہونے پر ہمیں پلازمہ کی شکل میں اللہ کی طرف سے احسان ملا اسی طرح ٹڈی دل کے لشکر غریب اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں کیلئے احسان بن کر آئے کہ ہم اس حلال ٹڈی دل کو پکڑ کر کھا سکیں یا پھر اس کو پکڑ کر جانوروں اور پرندوں کی فیڈ بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ کر کمائی کر سکیں کیونکہ ٹڈی دل پروٹین،کیلشیم،فاسفورس اور دیگر قدرتی اجزاء ہر مشتمل ایک انمول خزانہ ہے تو اب یہ ہمارے لئے سمجھنا انتہائی لازم ہے کہ اللہ تعالی ناراض ہیں اور ہم پر ہلکا سا عذاب مسلط کرکے ہماری اصلاح کر رہے ہیں سو ہمیں بھی اصلاح کی طرف آنا چاہئیے تاکہ ہم اخروی زندگی اچھی کر سکیں اللہ تعالی ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • سیکھ لو یا کیڑے نکال لو-  بقلم:احمد جواد

    سیکھ لو یا کیڑے نکال لو- بقلم:احمد جواد

    سیکھ لو یا کیڑے نکال لو
    بقلم:احمد جواد

    دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ کی شکست اور مکمل تباہی کے بعد کیسے زندہ رہنا اور واپس کامیابی کی طرف آنا ہے ، ہمیں جرمنی اور جاپان سے سیکھنا چاہئے۔

    تصادم سے کیسے بچیں اور صحیح لمحے کا انتظار کریں ، ہم چین سے سیکھ سکتے ہیں۔

    غیر دوستانہ یا دشمن اوراپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی سے کیسے بچنا ہے ، ہم اسرائیل اور سنگاپور سے سیکھ سکتے ہیں۔

    کسی صحرا کو نخلستان میں تبدیل کرنے کا طریقہ ، ہم دبئی سے سیکھ سکتے ہیں۔

    علیحدہ ہو کر اور ایک نئی شناخت کے ساتھ
    ترقی کرنا ، ہم بنگلہ دیش سے سیکھ سکتے ہیں۔

    ۲۰ سال میں دُنیا میں ۶۹ نمبر سے جی ۲۰ میں کیسے آتے ہیں، ترکی سے سیکھ سکتے ہیں۔

    پچاس سالوں میں ملک کو ایشین ٹائیگر سے انتہائی کمزور ملک بنانے کا طریقہ ، پاکستان کے پچھلے 50 سالوں سے سیکھا جاسکتا ہے۔

    مسلۂ یہ ہے کہ ہمیں سیکھنے کی مثالیں ہی پسند نہیں آتی۔ہر مثال میں کیڑے نکال لیتے ہیں – اس ملک کے نظام میں تبدیلی لانی ھو گی۔ طاقت ور کو عوام کے تابع لانا ھو گا۔

  • کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟  تحریر:  سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟
    سعدیه خورشید

    ھمارے معاشرے میں ایک بڑا معروف جملہ ھے کہ "جہیز ایک لعنت ھے”
    شریعت میں اسکی اجازت نہیں ھے لہذا جہیز نہیں دینا لینا چاہیے ۔۔
    لیکن اس بات کی دلیل کہ جہیز کی ممانعت کسی حدیث میں ائی ھے؟؟؟؟؟
    دوسری بات یہ ھے کہ اگر جہیز نہیں دیا جائے گا تو ظاھر سی بات ھے گھریلو زندگی میں بہت سی چیزیں بہت ضروری ھوتی ھیں جن کے بغیر اس جدید دور میں گزارہ نہیں ھے وہ کہاں سے آئیں گی۔۔۔۔؟؟ جواب یہی ھے کہ جو لڑکا بیاہ کے لے جارہا ھے پھر وہی سب کچھ بنائے گا ۔۔۔!!!
    اگر اس بات کو لیا جائے کہ لڑکا ہی جہیز میں سب کچھ بنائے گا تو سب سے پہلے وہ کہیں نوکری تلاش کرے اور پھر بینک بیلنس بنائے یا بہت سارا روپیہ پیسہ جوڑے شادی کے انتظامات کرے بری بنائے، لڑکی کے لئے سونا بنائے اور پھر اس کے بعد شادی کے بعد رہنے کے لئے فرنیچر ھو مشینری اور دیگر چیزیں۔۔۔۔
    لیکن اگر کوئی یہ نا بنا سکے یا شادی کرنے کے لئے ان سب اصولوں پہ پورا اترنے کی کوشش کرے تو اسکی عمر تو اسی کام میں گزر جائے گی۔۔۔ شادی کب ھوگی؟؟

    جہاں تک مسئلہ یہ ھے کہ لڑکی کے والدین کے لئے یہ بہت سنگین مسئلہ اختیار کر جاتا ھے کہ بعض لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دے سکیں یا آپکی لسٹوں کے مطابق سب کچھ دے سکیں جس وجہ سے کئی لڑکیاں گھر بیٹھے بوڑھی ھو جاتی ھیں۔۔۔۔

    جہیز نا لینے دینے کے نعرے مارلینا ہی کافی نہیں ھے بلکہ اس کے لئے وہ سب رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے جو کہ ایک بڑا مشہور ھے کہ لڑکے والے جہیز کے نام پہ لسٹیں دے کر بھیک مانگتے ھیں یا ہر فنکشن پہ سسسرال والوں کو طرح طرح کے جوڑے، شال، جرسیاں جیکٹس جو بھی ھوتا ھے اصل میں تو یہ رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے لڑکے کی ماں کو، بہنوں کو سونا پہنایا جا رہا ھے۔۔۔ یہ سب کس وجہ سے ھے؟؟ غریب باپ کی تو یہ سب کرتے میں کمر ٹوٹ گئی اور آپ ھیں کہ خوش ھونے کا نام نہیں لے رہے۔۔
    جہیز ایک لعنت ھے
    کہے جا رہے ھیں، لئے جا رہے ھیں
    کوئی بھی نہیں چاھتا کہ اسکی بیٹی اسکے گھر سے خالی ہاتھ جائے، وہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ دے کے ہی بھیجنا چاھتا ھے لہٰذا جو وہ اپنی استطاعت کے مطابق، ساری عمر کی جمع پونچی کو لوٹا کے اپنی بیٹی کو دے دے اسی پہ راضی رہنا سیکھیے۔۔۔!!
    بات یہ ھے کہ دنیاوی کاموں میں اباحت ھے لہٰذا ایسے مسائل کو بلا سوچے سمجھے نا اچھالا کریں۔۔۔
    اگر آپ نے آواز اٹھانی ہی ھے تو لسٹس اور ایسے بڑے بڑے مطالبات کے خلاف اٹھائیے اور اس پہ سب سے پہلے خود عملدرآمد کیجئے ۔۔۔۔ صرف جہیز ایک لعنت ھے یہ نعرے مار لینا کافی نہیں ھے!!!

  • کیوں رو رہے ہیں ہم  بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم
    بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیا کھو رہا ہے جو رو رہا ہے۔۔!
    وہی کاٹے گا تو جو بو رہا ہے۔۔!

    کتنی تھی سلطنت سکندر کی۔۔!!
    جو دوگز زمیں میں سو رہا ہے۔۔!!

    بھول چکا ہے اپنے آنے کا مقصد۔۔!!
    تو خواب غفلت میں سو رہا ہے۔۔!!

    جو لکھا ہے نصیب میں وہ مل کہ ہی رہے گا۔۔!!
    کیوں تو اپنا ایمان کھو رہا ہے۔۔!!

    دکھا کر دل مخلوق خدا کا۔۔!!
    تو حرکت پہ اپنی اس خوش ہو رہا ہے۔۔!!

    جھٹلاتا رہا جس مکافات عمل کو۔۔!!
    تیرے سامنے آج وہ سچ ہو رہا ہے۔۔!!

    زمانے میں اب تو جو خوار ہو رہا ہے۔۔!!
    کوئی تیرا نام لے کہ رب کہ آگے رو رہا ہے۔۔!!

  • کیوں رو رہے ہیں ہم  بقلم✍🏻۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم بقلم✍🏻۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم
    بقلم✍🏻۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیا کھو رہا ہے جو رو رہا ہے۔۔!
    وہی کاٹے گا تو جو بو رہا ہے۔۔!

    کتنی تھی سلطنت سکندر کی۔۔!!
    جو دوگز زمیں میں سو رہا ہے۔۔!!

    بھول چکا ہے اپنے آنے کا مقصد۔۔!!
    تو خواب غفلت میں سو رہا ہے۔۔!!

    جو لکھا ہے نصیب میں وہ مل کہ ہی رہے گا۔۔!!
    کیوں تو اپنا ایمان کھو رہا ہے۔۔!!

    دکھا کر دل مخلوق خدا کا۔۔!!
    تو حرکت پہ اپنی اس خوش ہو رہا ہے۔۔!!

    جھٹلاتا رہا جس مکافات عمل کو۔۔!!
    تیرے سامنے آج وہ سچ ہو رہا ہے۔۔!!

    زمانے میں اب تو جو خوار ہو رہا ہے۔۔!!
    کوئی تیرا نام لے کہ رب کہ آگے رو رہا ہے۔۔!!

  • قیدی، از سلیم اللہ صفدر

    قیدی، از سلیم اللہ صفدر

    قیدی
    سلیم اللہ صفدر

    اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجرہ پنجرہ ہی ہوتا ہے چاہے سونے کا ہو…. چاہے لوہے کا. اور اس سزائے قید و بند پر پر جتنا دکھ کا اظہار کیا جائے، کم ہے…! لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ ہماری تاریخ میں کون سا ایسا عالمِ دین ہے جسے حاکم وقت نے قید نہیں کیا.عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لیکر امام احمد بن حنبل تک… محمد بن قاسم سے لیکر امام ابن تیمیہ تک…. کون سا بزرگ ہے جو قید نہ ہوا ہو لیکن اس موقع پر کسی نے بھی اپنے ساتھیوں کو خروج کی دعوت نہیں دی بلکہ چپ چاپ قید برداشت کر لی.

    میں یہ نہیں کہتا کہ ہر موقع پر حاکم وقت نے درست کیا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تاریخ میں ہر موقع پر حاکم وقت کی ہی طرف سے ظلم نظر آتا ہے…. خاص طور پر جب محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کو ہندوستان کے محاذ جنگ سے واپس بلایا گیا تھا تو ان کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ ہمیں اس حکم میں سازشوں کی بو آ رہی ہے اور خلیفہ وقت آپ کے ساتھ اچھا نہیں کرے گا لیکن محمد بن قاسم نے قید قبول کر لی لیکن خلیفہ وقت کے خلاف خروج قبول نہیں کیا اور نہ ہی لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ اس ظلم و زیادتی کے خلاف ہر سطح پر بولنا شروع کر دو. وہ اپنے نظریئے پر صبر و استقامت سے قائم رہے اور ایک دن اسی قید کے دوران انہیں شہید بھی کر دئیے گئے.

    مجھے نہیں معلوم کہ حاکم وقت کی کیا مجبوری ہے…. کیسا پریشر ہے… یا کیا حکمت عملی ہے اور نہ میں اس کا وکیل ہوں… لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ اگر وہ چاہے تو صرف ایک بزرگ کو نہیں سب کو قید میں ڈال دے… چاہے تو صرف قید میں ڈالنے کی بجائے دشمن کے حوالے کر دے. اس وقت اسے اللہ کے علاوہ روکنے والا کوئی نہیں. لیکن یہ بھی یقین ہے کہ اس سے پوچھنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے. اللہ تعالیٰ نے اسے حکمرانی دی ہے اور قیامت والے دن اس سے اس حکمرانی کا سوال بھی ہونا ہے.

    میں اس وقت اپنے بیوی بچوں یا چند افراد کا ذمہ دار ہوں اور مجھ سے انہی کے بارے میں قیامت کے روز پوچھا جائے گا لیکن وہ اس وقت پورے ملک کا ذمہ دار ہے اور اس کی گردن میں چند نہیں لاکھوں طوق ہوں گے جو اس نے قیامت والے دن اپنی گردن سے آزاد کروانے ہیں. اگر اسے احساس ہے تو اچھی بات ہے… نہیں تو اسے احساس ہو جائے گا. لیکن ہمارا کام اس کے خلاف رائے عامہ قائم کرنا نہیں… اس کے خلاف کسی قسم کا محاذ کھڑا کرنا نہیں.
    یعنی جب تک حاکمِ وقت کرسی پر موجود ہے تب تک ہمارے اسلاف نے کسی حاکم کے خلاف تحریکیں کھڑی نہیں کیں… خروج نہیں کیا چاہے جو کچھ بھی ہو جائے. لیکن جب وہ حاکم نہیں رہا اور ایک معاشرے کا عام فرد بن گیا تو پھر ہماری شریعت منع نہیں کرتی کہ اس کے فتنے کے خلاف لوگوں کو آگاہ نہ کیا جائے. عین ممکن ہے کہ میں آج اس کی وکالت کرتا نظر آ رہا ہوں تو کل اس کی کرسی سے اترتے ہی سب سے زیادہ میں ہی اس کے خلاف لکھوں لیکن فی الحال میں یہی کہوں گا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اسے اس کام سے روکنا مشکل ہے اور اس سارے منظر کے پیچھے چھپی ہوئی اس کی مجبوریاں وہی زیادہ بہتر جانتا ہے۔ رعایا ہونے کے ناطے جائز امور میں اس کی اطاعت اور ملکی سلامتی و استحکام ہم پر لازم ہے۔
    اب آخری بات… میرے وہ احباب جو اس بات پر شدید دکھی ہیں اور طعنہ زنی کر رہے ہیں کہ پچھلی حکومت کے دوران مودی کے یار کے خلاف تو خوب کمپین چلائی گئی لیکن اس بار زبان کو تالے پڑے ہوئے ہیں تو وہ ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں… کمپین اس وقت شروع ہوئی جب حلقہ NA 120 خالی ہوا. ورنہ اس سے قبل تو وہ ہمارا حکمران تھا اور ہم نے اس کے بارے میں ہر معاملے میں خاموشی ہی اختیار کی . لیکن جب اسے حکمرانی سے ہٹا دیا گیا… تب اسے بیشک مودی کا یار کہہ لیں یا یہودی ایجنٹ… اس سے ملکی استحکام میں کوئی فرق نہیں پڑتا. اور اس کے خلاف بعد میں کمپین چلانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ اگلی بار اسے ووٹ نہیں ملے اور وہ مقصد کافی حد تک کامیاب بھی رہا.

    اس لیے گزارش ہے کہ ایسے موقع پر دکھ کا اظہار ضرور کریں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں مگر مہذب قومکے فرد کے ناطے اور کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائیں جس میں قومی خسارہ ہو. کیونکہ جب نظریہ واضح طور پر موجود ہو اور اپنا دل مطمئن ہو تب اس طرح کے طعنے نہ تو کوئی فائدہ دیتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ابال پیدا کر سکتے ہیں.

    تحریر :سلیم اللہ صفدر

    #صفدریت

    #غبارِ_دل

  • رویّے…!!! (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔

    رویّے…!!! (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔

    رویّے…!!!
    (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔
    کام کی تھکاوٹ سے…
    انساں یہ نہیں کبھی تھکتا…
    اس تھکن کا درد کبھی…
    سدا تنگ نہیں کرتا…
    چند لحظوں کی نیند بھی…
    اُتار دیتی ہے سب غم…
    یہ بدن پھر سے ہے اُٹھتا…
    سدا ہی ہو کے تازہ دم…!!!
    چہرے کی بشاشت ہے…
    یہ محنت کی جو تھکاوٹ ہے…
    مگر یہ انساں کب تھک جاتا ہے؟
    کمزوری سے یہ جھک جاتا ہے؟؟
    جب منفی رویوّں کے ہیں تیر چلتے…
    دل کی دھڑکن میں زخم ہیں بھرتے…!!!
    ذہنی خلجان کروٹ ہیں لیتے…
    رویوّں کے سائے جو ہیں منڈلاتے…
    تو یہ مضبوط انسان…
    تب ہار جاتا ہے…
    زندگی کے روز و شب سے…
    ہو بیزار جاتا ہے…!!!
    دل کے بڑھتے بوجھ سے…
    آنکھوں کی نمی سے…
    اضطراب و بے کلی سے…
    ہمت ہار جاتا ہے مگر…
    رکو ذرا…!!!
    یہ جو رویوّں کا زوال ہے…
    اندر کا جو اُبھرتا سوال ہے…؟
    تو اس کا جواب بھی…
    تو ہے بہت آساں…
    اے دلِ مضطرب سنبھل ذرا۔۔۔
    کہ یہ دنیا ہے جو امتحاں…
    اگر یاں نشیب و فراز نہ ہوں…
    سفر کا انجام و آغاز نہ ہوں…
    تو اچھے،بھلے کی پرکھ ہو کیسے؟
    اپنے،پرے کی سمجھ ہو کیسے ؟
    ہاں کھوٹے،کھرے کا فرق ہو کیسے…؟
    پھر شروع اپنا سفر ہو کیسے…؟
    ہاں یہ سچ ہے کہ…
    منفی رویّے تھکا تو دیتے ہیں…!!!
    مگر اپنے آپ کی…
    پہچان کروا تو دیتے ہیں…!!!!!
    =============================
    (جویریات ادبیات)
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤