Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملکی خود مختاری اور امریکی اجارہ داری از محمد نعیم شہزاد

    ملکی خود مختاری اور امریکی اجارہ داری از محمد نعیم شہزاد

    ملکی خود مختاری اور امریکی اجارہ داری
    محمد نعیم شہزاد

    "شرافت کا زمانہ ہی نہیں ہے”
    اور "ہم شریف کیا ہوئے پوری دنیا ہی بدمعاش ہو گئی ”
    زبان زد عام یہ چھوٹے سے دو فقرے اپنے اندر بڑے پتے کی بات رکھتے ہیں۔ مشاہدے سے یہ بات اب تو مستقل قانون کی شکل اختیار کر چکی ہے اور دستور حیات ایسے ہی چلا کرتا ہے۔ اسی شرافت کے ہاتھوں مسلم کمیونٹی کو دنیا بھر میں دو طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ جہاں یہ کمزور ہیں جیسے فلسطین، کشمیر، عراق اور شام وغیرہ وہاں کوئی ان کی سنتا نہیں اور جہاں مسلم ریاست قائم ہے جیسے پاکستان، سعودی عرب وغیرہ وہاں انھیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ اور مسلم ریاستیں اسی شرافت کے زعم میں سب کچھ برداشت کرتی ہیں۔ ستم در ستم کہ ان کی اس شرافت کو کبھی اچھی نظر سے بھی نہیں دیکھا گیا اور "ڈو مور” کے مطالبات بدستور جاری رہتے ہیں۔ تو ہوش کے ناخن لیں اور ایسی شرافت کے بغیر ہی بھلے کی پالیسی اپنائیں۔

    17 جون بروز بدھ امریکی صدر نے اویغور مسلم کمیونٹی کے حوالے سے چین پر پابندی عائد کرنے نے
    ایک بل پر دستخط کئے ہیں جس پر اگلے ہی دن چین کے حکومتی ترجمان نے اعتراض کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا چین کے مفاد میں نہیں ہے ۔ مزید ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندی عائد کرتا ہے تو چین اس کی بھرپور مخالفت کرے گا اور اس کے نتائج امریکہ کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔

    قطعہ نظر اس بات کے کہ اویغور مسلم کمیونٹی بارے امریکہ اور چین میں سے کس کا مؤقف زیادہ درست ہے ہم اس بات پر غور کریں کہ چین کو جو بات اپنے مفاد کے خلاف نظر آئی اس پر فوراً ردعمل ظاہر کر دیا۔ زندہ قومیت کی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کی راہ میں حائل کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرتیں اور اپنے قومی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھتی ہیں۔

    عالمی قوانین اور ذاتی خودمختاری کی حدود کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا اور اپنے خلاف ہونے والی سازشوں اور پروپیگنڈہ پر احتجاج اور اس کو کاؤنٹر کرنا بالکل درست اور متناسب عمل ہے۔ اس سلسلے میں خوامخواہ کی ایکسٹرا شرافت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے سوا اور کچھ معنی نہیں رکھتی۔ اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگا کر کچھ فائدہ حاصل کرنا کسی طور دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔

    گزشتہ برس 17 جولائی 2019 کو عبدالشكور قادیانی چشمے والے کی ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کا شاخسانہ یو ایس سی آئی آر کی 2020 کی رپورٹ میں واضح طور پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی کمیشن کی قادیانیوں کے لیے شناختی کارڈ میں مذہب ظاہر کرنے پر تشویش اور پاکستان میں قانون ناموس رسالت کے خاتمے کی کوشش ایک سنگین سازش ہے۔ جس کا واضح مقصد اسلام کا ہومیوپیتھک ماڈل تخلیق کرنا ہے۔ اس ملاقات پر پاکستانی قوم کی تشویش بجا تھی اور پاکستانیوں کو ایسا کوئی ماڈل قبول نہ ہونے کی واضح دلیل اور علامت بھی۔ تاہم 27 ستمبر 2019 کو وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک شاندار اور پرجوش تقریر کر کے پاکستانیوں کے جذبات کو تسکین پہنچائی۔

    حالات و واقعات متقاضی ہیں کہ حکومت پاکستان بھی یو ایس سی آئی آر کی رپورٹ 2020 پر اپنا واضح احتجاج ریکارڈ کروائے اور آئین پاکستان کے خلاف کسی بھی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کا دفاع کرے۔ اسلام بین المذاہب رواداری کا درس دیتا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اس کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جائے اور ایک علامتی مذہب کی صورت پیش کیا جائے۔

    دوسری طرف ریاست پاکستان انسداد دہشت گردی کے ضمن میں عام مح. وطن شہریوں جو پابند سلاسل کر رہی ہے۔ اور اس کے پیچھے بھی بیرونی دباؤ کارفرما ہے۔ 73 برس سے میرا وطن اپنی خودمختاری کا منتظر ہے۔ خدارا ایسی پالیسیاں اپنائیے جو پاکستان کے آئین و قانون اور اس کی خودمختاری کی پاسداری کریں ورنہ سابقہ عوامی لیڈروں کا جو حال ہوا آپ کے سامنے ہے۔ خود مختاری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ خود مختاری کی قیمت پر ملنے والی ترقی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ قومی سالمیت اور خود مختاری ہی اولین نصب العین ہونا چاہیے اور اسی کی بنیاد پر حاصل ہونے والے ثمرات اصل میں ترقی کہلانے کے لائق ہیں۔

  • امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آرایف) نے 28 اپریل 2020 کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے پاکستان چیپٹر کے مطابق کمیشن کے پاکستان میں مذہبی آزادی بارے اقدامات پر ردعمل ملاجلا تھا۔ گزشتہ سالوں کے مقابل 2019 اور مابعد حالات پر کافی تسلی بخش رائے کا اظہار کیا گیا۔ جبکہ کچھ اہم نکات ابھی توجہ طلب اور جلد حل کے متقاضی ہیں۔

    اس سالانہ رپورٹ کے بعد گزشتہ منگل 16جون کو واشنگٹن میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ اسے ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے جہاں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے تو پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت پاکستان میں توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ اور شہریت کی شناختی دستاویزات اور نادرا شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو بھی ختم کیا جائے۔

    سال 2002 سے کمیشن ہر سال پاکستان کو Country of Particular Concern یا سی پی سی کی لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کرتا آ رہا ہے تاہم امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے پہلی بار پاکستان کو 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا۔

    کمیشن نے کہا ہے کہ اگرچہ اس نے اپنی اس سال کی رپورٹ میں پاکستان کوان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے واشنگٹن کو خاص تشویش ہے، تاہم کمیشن نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے اس دوران مذہبی اقلیتوں کے حوالےسے کئی مثبت اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

    کمیشن نے خاص طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی، وجیہہ الحسن کیس، سیالکوٹ میں شوالہ تیجا سنگھ مندر کو ہندوؤں اور کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے کھولنے اور سپریم کورٹ کی حمایت یافتہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو سراہا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے: ‘خارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات کی روشنی میں کمیشن یہ سفارش کرتا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ (ایفرا) کے تحت پاکستان اور امریکہ ایک ایسا معاہدہ کریں جس کے تحت حکومت پاکستان کو ایسے معنی خیز اقدامات اٹھانے کو کہا جائے جس سے مذہبی اقلتیوں کی حالت بہتر ہو۔ اس دوطرفہ معاہدے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے پاکستان میں مذہبی اقلتیوں کے حالات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خود پاکستان کو سی پی سی سے نکلنے کا راستہ واضح طور پرمعلوم ہو گا۔

    کمیشن نے پاکستان سےسی پی سی سے نکلنے کے لیے کئی قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس خصوصی رپورٹ میں مطالبہ کیے گئے اقدامات کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بنیادی طور پر دو باتیں ہی سامنے آتی ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قادیانی مذہب کے پیروکاروں کی بات کی گئی ہے اور وہ خود کو غیر مسلم ماننے کو تیار ہی نہیں جبکہ آئین پاکستان ان کو واضح طور پر اقلیت قرار دیتا ہے۔ جب کہ رپورٹ میں یہ اصرار بھی کیا گیا ہے کہ اگر وہ خود کو مسلم قرار دیں تو ان کو روکنا یا اس عمل کو قابل تعزیر قرار دینا غلط ہے۔

    شاید اس رپورٹ کا ہی اثر ہے کہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے استقبالیہ پر نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ ایک آزاد ریاست کا شہری ہونے کے ناطے ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اپنی سالمیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اگر کمیشن کو اپنے قوانین پسند ہیں تو ہماری ریاست کے قوانین کا احترام بھی لازم ہے۔ اور بالخصوص قادیانی گروہ کے حوالے سے مسئلہ کو الجھایا نہ جائے۔ قادیانی اگر پاکستان کے آئین کی رو سے مسلمان کی تعریف میں داخل نہیں ہیں تو بلا وجہ کیوں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ریاست کا دیا ہوا درجہ قبول کریں اور بغاوت نہ کریں۔

    دوسرا اہم نکتہ جو اس رپورٹ میں پوری شد و مد سے اٹھایا گیا وہ قانون توہین رسالت کے حوالے سے ہے اور اس قانون کو بھی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ شخصی آزادی یا آزادی اظہار رائے کسی دوسرے کی دل آزاری کی اجازت ہرگز نہیں دیتی بلکہ یہ ایک قبیح حرکت ہے۔ سوشل میڈیا سائٹس پر بھی لوگ offensive میٹیریل کو رپورٹ کرتے ہیں اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انسانی فطرت جس چیز کو ناپسند کرتے اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست کا قانون جس چیز کی مخالفت کرے اس کا احترام بھی سر آنکھوں پر۔ تو ایک ایسا عمل جو ریاست پاکستان میں آئینی حیثیت رکھتا ہے کیا اسے صرف اس لیے رد کر دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کے ایمان کی علامت ہے؟ یہ دو رنگی نہ تو انسانی حقوق کی منطق سے سمجھ آتی ہے اور نہ رواداری کے کسی تقاضے کی رو سے۔

    لہٰذا کمیشن کی رپورٹ کو قانون کا درجہ نہ دیا جائے بلکہ اپنی قومی و ملی امنگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے، قابل قبول امور کو اختیار کیا جائے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے امور کی طرف التفات نہ کیا جائے۔

    امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

  • سازشوں سے سرجیکل سڑاٸیک تک   بقلم:شعیب بھٹی

    سازشوں سے سرجیکل سڑاٸیک تک بقلم:شعیب بھٹی

    سازشوں سے سرجیکل سڑاٸیک تک
    ✍️#شعیب بھٹی کےقلم سے
    ====================
    یہ سن 1971 کی بات ہے انڈین نے مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) میں ہندٶوں اساتذہ اور غداروں کے ذریعے مغربی پاکستان میں بغاوت کھڑی کردی تھی۔ مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) کے سانحہ کے بعد وہاں سے پاکستانی رہاٸشیوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا تو انڈیا نے پاکستان کو فضاٸی راستہ دینے سے انکار کردیا پاکستان نے سری لنکا کے راستے مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) تک رساٸی حاصل کی جس سے فوجی آپریشن میں مشکل ہوٸی۔ پاکستانیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے پاکستان نے نیپال اور نیپال سے بذریعہ اٸیر لاٸن دبٸی اور دبٸی سے پاکستان کا لمبا روٹ اختیار کرنا پڑا۔ ان اجڑے لوگوں اور دیس بدر ہوۓ۔ لوگوں کے روپ میں انڈیا نے اپنے ایجنٹس کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش شروع کردی۔ پاکستان کے ایک ایجنٹس سلیم شاہ نے وہاں درجنوں ایجنٹس کو جہنم کا راستہ دیکھایا اور پاکستان پہنچنے والے ایجنٹس کے متعلق متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کیا۔ یہ پاکستان پر نہایت سخت قسم کا وقت تھا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) سازشوں کا شکار ہوکر کٹ چکا تھا پاکستان اپنے بازو سے محروم ہوا اور ساتھ ہی ہزاروں فوجی انڈین قید میں چلے گٸے۔ روس اس وقت انڈیا کا اتحادی تھا۔ پاکستان کے اتحادی امریکی نے ہمیشہ کی طرح بے وفاٸی کی تھی۔ روس اس وقت اقتصادی سپر پاور تھا۔ اسی گھمنڈ میں روس نے گرم پانیوں تک رساٸی حاصل کرنے کے لیے افغانستان پہ حملہ کردیا پاکستانی اداروں نے اس کے خلاف بروقت حکمت عملی تشکیل دی اور اس جنگ کو افغانستان میں لڑنے کا فیصلہ کیا۔
    پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے افغان جہاد میں شرکت کی۔ جذبہ ایمانی کے تحت لڑی گٸی اس دفاعی جنگ میں روس کو شکست ہوٸی اور اسے مشرق وسطی کے بہت سارے مسلم ممالک کو آزاد کرنا پڑا۔ اس وقت افغانیوں اور پاکستانیوں نے اپنے دفاع کی جنگ لڑی تھی۔ اللہ نے ان مجاہدین کی نصرت فرماٸی اور روس کے جنرل کلاشنکوف کی بناٸی گن SMG ان سے چھین کر انہی پہ استعمال کی گٸی۔ اس وقت انڈیا نے پاکستان پہ رعب جمانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے جس کے جواب میں اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا۔ انڈیا کو پاکستان کی ترقی کھبی بھی ہضم نہیں ہوٸی۔ اس لیے انڈیا نے سندھ اور بلوچستان میں عیلحدگی کی تحاریک کو پروان چڑھانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس کا سلسلہ اس وقت بڑھا جب امریکہ نے 9/11 کے بہانے افغانستان پہ حملہ کیا اور انڈیا نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ شروع کی اور افغانستان میں ان کے لیے ٹریننگ کیمپ بناۓ۔ لیکن اللہ کی رحمت اور پاکستانی مارخور کی بہترین حکمت عملی سے بھارت کے منصوبے دھرے رہ گٸے۔ افغانیوں کی ثابت قدمی نے دوسری سپر پاور کو گھٹنے لگانے پہ مجبور کردیا اور پاکستان پہ ڈبل گیم کا الزام لگانے والے امریکہ کو جب اپنی ہی بناٸی M_16 سے افغانی شیروں سے مار پڑی تو پاکستان کے ذریعے مذاکرات کی میز پہ بیٹھ کر معافی تلافی کی کوشش شروع کردی۔ اب اس وقت امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کو واپس نکال رہا ہے تو انڈیا کا افغانستان میں کردار ختم ہوگیا ہے۔ انڈیا سے افغان طالبان نے بھی باغی قوت کی مدد کرنے کی وجہ سے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ نیپال نے اپنی اسمبلی میں قرارداد کے ذریعے نیپال کا نیا نقشہ پاس کیا ہے جس میں ان علاقوں کو نیپال کا حصہ قرار دیا ہے جن کو بھارت اپنے علاقے سمجھتا تھا نیپال کی بھارت کے ساتھ جھڑپ بھی ہوٸی۔ جس میں انڈیا کے فوجی ہلاک بھی ہوۓ اور گرفتار بھی ہوۓ ہیں۔ دوسری طرف انڈیا کشمیر میں اپنے8 لاکھ سے زاٸد فوج کو بیٹھا کر پون صدی سے اس پہ قابض ہے۔ انڈیا نے کشمیر و جموں کی خصوصی حثیت 370A کو ختم کرکے اسکی متازعہ حثیت ختم کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی پاکستانی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ کہنا شروع کردیا۔اس سے قبل گزشتہ سال کشمیری شخص کے فداٸی حملے کے بعد جب 100 سے زاٸد انڈین فوجی جہنم رسید ہوۓ تو اس الزام بھی پاکستان پہ لگا دیا گیا بعد میں بدلے لینے کے طور پر جھوٹی سرجیکل سڑاٸیک کا دعوی کیا گیا۔ جس کا بانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔ انڈیا نے دوبارہ سے اٸیر سڑاٸیک کی کوشش کی جس کے جواب وار میں 26 فروری 2019 کو انڈیا کے دو طیارے گرا دٸیے گٸے اور ایک پاٸلٹ ابھیندن کو گرفتار کرلیا جس کو جذبہ خیر سگالی کے تحت اگلے دن رہا کردیا گیا۔ لیکن اس تذلیل ہونے کے بعد بھی انڈیا لاٸن آف کنٹرول پہ مسلسل گولہ باری کررہا ہے جس کا اسکو بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔ وادی کشمیر کے اندر حریت قیادت کو نظر بند کرنے اور مسلسل لاک ڈاٶن کے باوجود کشمیری عوام اور مجاہدین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا ہے۔ ادھر لداخ پہ چاٸنہ نے انڈیا کے گندے ارادوں کو جانتے ہوۓ گلگت بلتستان کو آنے والے راستے پر قبضہ کرلیا ہے۔ چاٸنہ نے متنازعہ علاقہ وادی گولان کے اونچے پہاڑوں پہ اپنے جھنڈے لہرا دٸیے ہیں۔
    دریاۓ گیلون جو دریاۓ شیوک میں گرتا ہے اس حصہ پر بھی چاٸنہ کی پپلز لبریشن آرمی نے اپنے جھنڈے لہرا دٸیے ہیں۔ چاٸنہ کے ساتھ انڈیا کے حالات غیر معمولی حد تک خراب ہیں۔ انڈیا اور چاٸنہ کے درمیان ایک معاہدہ پایا جاتا ہے جس کے مطابق فرنٹ لاٸن پہ رہنے والی سیکیورٹی فورسز اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھے گٸ۔ اگر ان کے پاس کوٸی ہتھیار ہو بھی تو اس کا رخ زمین کی طرف ہوگا۔ اس لیے حالیہ تصادم میں یہاں لاتوں اور ڈنڈوں کی ویڈیوز واٸرل ہورہی ہیں۔ بروز منگل 16 جون کو انڈینز کی طرف سے بارڈر لاٸن کراس کرنے پر جھڑپ کا آغاز ہوٸی۔ جس کے بعد انڈین آرمی کے میجر سنتوش بابو سمیت ایک حوالدار اور سپاہی جہنم یاترا کو روانہ ہوۓ۔ لیکن بہت سارے انڈین زخمی تھے۔ جن میں 17 زخمی فوجی اگلے دن ہلاک ہوگٸے۔ اس طرح کل تعداد 20 ہوگی۔ ایک انڈین اخبار نے اسے چاٸنہ کی سرجیکل سڑاٸیک قرار دیا۔ چینی فوجیوں نے یہاں خار دار لپٹی تاروں والی لاٹھیوں اور لوہے کے سریہ کا استعمال کیا۔ کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں کو بغیر گولی چلاۓ جہنم روانہ کردیا۔اس کے علاوہ انڈین آرمی کے 34 فوجی لاپتہ بھی ہیں جن کے بارے خدشہ ظاہر کیا جارہاہے
    کہ وہ چاٸنہ کی قید میں ہیں۔ چین نے 3 دن میں 5 دفعہ بھارت کو وارننگ دی ہے کہ وہ سرحدی پروٹوکول کی خلاف ورزی نہ کرے۔ چین اور انڈیا کے فوجی افسران کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوگٸے ہیں۔ پاکستان کو ایٹم کی دھمکیاں دینے والا انڈیا اب چاٸنہ سے سب معاملات میں تحمل سے کام لینے کا راگ الاپ رہا ہے۔
    انڈین اور چاٸنہ کے درمیان 45 سال میں یہ سب سے زیادہ کشیدہ حالات ہیں۔ لداخ کے سرحدی علاقے اور تبت کے اونچے پہاڑوں پر چاٸنہ کی فوجی مشقیں جاری ہیں جن میں بھاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ انڈین کو سانپ سونگ گیا ہے کیونکہ چاٸنہ عددی اعتبار سے اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انڈیا سے بہت آگے ہے۔ پاکستان کی لاٸن آف کنڑول پر بھی حالات بہت زیادہ سخت ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم سیمت تینوں فورسز کے چیف کی آٸی ایس آٸی ہیڈ کواٹر میں اعلٰی سطح کی میٹنگز ہورہی ہیں۔ پچھلے تین ہفتوں میں تین دفعہ آٸی ایس آٸی کے ہیڈ کواٹر میں میٹنگ اور ڈی جی آٸی ایس آٸی سمیت آرمی چیف کے افغانستان کا دورہ حالات کی سنگینی کا پتہ دیتے ہیں۔ کور کمانڈر کانفرنسز بھی ہورہی ہیں۔ انڈیا افغانستان میں تنہا ہوچکا ہے۔ کشمیر،نیپال اور لداخ پر تین ہمسایوں کے ساتھ شدید قسم کے تعلقات بگاڑ چکا ہے۔ انڈیا کی سیون سسڑز ریاستوں میں پہلے سے ہی علیحدگی پسند تحاریک عروج پہ تھی جن کو لداخ واقعے کے بعد مزید توقیت ملے گی۔ پنجاب میں خالصتان کی گونج، کشمیر میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی گونج سے بھی انڈیا کے کان پھٹ رہے ہیں۔ انڈین وزیراعظم اور فورسز کے چیف کے درمیان شدید اختلافات کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ انکی چھوٹی سی غلطی اب آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگی۔ جس کا خمیازہ انڈیا کو کشمیر اور لداخ سے ہاتھ دھونے کی صورت اٹھانا پڑے گا۔ ان شاء اللہ
    بھارت اس وقت تین ہمسایوں میں سینڈوچ بنا ہوا ہے۔ بھارت کے اپنے باقی ہمسایوں سے بھی تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
    ====================
    ✒️✍️ #شعیب_بھٹی

  • ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

    صد احترام : پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ

    باغی ٹی وی :ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف -پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے –

    جس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔

    یہ سسٹم ابتدائی طور پر راولپنڈی میں متعارف کروایا گیا ہے ۔پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی آپریشنز فیصل یوسف ودیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

  • قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان  بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان۔

    Cataracts(موتیے کی بیماری)
    دماغی تناو سے مماثلت رکھتی ہے.

    کیٹاریکٹس(موتیےبند کی بیماری) کا مطلب آنکھوں کا دھندلاپن ہے.

    Reference:- Wikipedia, Cataract, 2019
    "کیٹاریکٹ آنکھ کے ڈیلے کا دھندلا جانا ہے جو نظر میں کمی کا باعث بنتا ہے. کیٹاریکٹ کی بیماری آہستگی سے بڑھتی ہے اور ایک یا دونوں آنکھوں پہ اثرانداز ہوسکتی ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں دھندلا رنگ, دھندلاپن (بلَر) یا ڈبل وِژن(یعنی ایک چیز کا دو دو دفع نظر آنا), روشنی کے اردگرد ہالوز کا نظر آنا(جیسا کہ کمنٹ میں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو دیکھا جا سکتا ہے), تیز لائیٹ دیکھنے میں دقت ہونا اور رات کو دیکھنے میں دقت ہونا شامل ہے. اس میں ڈرائیونگ کرنے میں, کتاب پڑھنے میں اور چہرے پہچاننے میں بھی دقت ہونا شامل ہے. کیٹاریکٹ کی وجہ سے نظر میں کمی گرنے کے رجحان اور تناو کے رجحان کے بڑھنے کا بھی سبب بن سکتی ہے.”

    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹ کی بیماری تناو کے ساتھ بھی مماثلت رکھتی ہے.

    Reference:- Vesan Health, Cataracts In Older Adults Linked To Depression, 2017
    "نئ سائنسی تعلیم کے مطابق جو آپٹومیٹری اینڈ وِژن سائنس کی طرف سے ایک جریدے میں شائع ہوئی ہے کہ
    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹس کی بیماری تناو کی بیماری کی نشانیوں سے مماثلت رکھتی ہے. پوری دنیا میں, کیٹاریکٹ(موتیے) کی بیماری نظر کم کرنے میں پہلے نمبر پہ ہے. مایو کلینِک کے مطابق, تقریباً آدھے امریکیوں کو ساٹھ سال کی عمر میں جا کر کچھ ڈگری کا موتیابند(کیٹاریکٹس) ہوجاتا ہے. تناو, جس سے ہر عمر کے لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے, عموماً بڑی عمر کے بالغ لوگوں میں یہ کچھ زیادہ ہی پایا جانے لگا ہے.”

    یعنی بڑی عمر کے لوگوں یعنی بزرگوں میں موتیےبند کی بیماری تناو کی بیماری سے بھی مماثلت رکھتی ہے.
    لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ بات کہہ دی گئی تھی,
    یوسف علیہ کے واقعے میں, انکے والد کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں جبکہ وہ تناو کا شکار تھے.

    Quran: 12:84
    وَتَوَلّـٰى عَنْـهُـمْ وَقَالَ يَآ اَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْـمٌ (یوسف 84#)

    اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں(موتیےبند کا شکار ہوگئیں, نظر چلی گئی) جب وہ سخت غمگین(تناو کا شکار) ہوا۔

    جب انکی آنکھیں موتیےبند کا شکار ہوئی تھیں تو وہ تب کافی بوڑھے تھے.
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ بڑھاپے میں موتیےپن(کیٹاریکٹس) کی بیماری کا تعلق تناو کی بیماری سے بھی ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار  تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ

    تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ

    تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار۔
    تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
    عقیدہ ختم نبوت ایک ایسا متفق علیہ قانون اور عقیدہ ہے جس پر امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کا کامل اتفاق ہے۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے بعد امت مسلمہ نے جس طرح اس کی گرفت کی اور علماء نے جس طرح اس کا تعاقب کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا جو اس نے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے لگایا تھا۔لیکن اس کا یہ وار اس لیے ناکام گیا کہ بلاتفریق مسلک علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور انہوں نے ہر محاذ پر اس کو شکست فاش دی 1953 کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی گئی۔کئ دیگر علمائے کرام بھی پابند سلاسل رہے۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں علماء اور عوام نے مل کر ایسا کردار ادا کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی ،مفتی محمود احمد رضوی،ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری،مولانا منظور احمد چنیوٹی،مولانا اللہ وسایا،شورش کاشمیری ،چوہدری ظہور الٰہی جیسے اکابر علماء صف اول میں شامل تھے۔ختم نبوت کے تحفظ کے لیے لیے علماء و مشائخ اور عوام نے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کی۔ایوانوں سے باہر پاکستان کے گلی کوچوں میں ختم نبوت کے شیدائیوں نے اپنے خون سے وطن عزیز کی گلیوں کو رنگ دیا۔۔عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے صرف علما ہی میدان میں نہیں تھے بلکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے اپنے اپنے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ جس طبقے کو جو کردار سونپا گیا تھا وہ انہوں نے بخوبی سرانجام دیا۔ملک کے اہل قلم نے قلم کے ذریعے اس کا تعاقب کیا۔شعراء نے نظمیں کہیں،۔لکھاریوں نے کتب لکھیں۔عوام نے اپنا جان مال مال اور وقت سب کچھ قربان کیا اسی طرح ملک کے سیاست دانوں نے بھی اس نے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو تاریخی طور پر غلط نہ ہوگا کہ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ملک کے سیاستدانوں نے ہی ٹھونکی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان کو کافر قرار دے کر تاریخ میں اپنا نام محفوظ کروا دیا۔یوں تو ان خوش بخت سیاستدانوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اس وقت قومی اسمبلی میں جن لوگوں نے اس مسئلہ میں را ہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ان میں مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا مفتی محمود،خان عبدالولی خان،چوہدری ظہور الہی،پروفیسر غفور احمد،نمایاں تھےجبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے اپنے دستخط سے اس ترمیم کو دستور پاکستان کا حصہ بنایا۔
    ایں سعادت بزور بازو نیست
    قادیانی لابی کے اثر کو محسوس کرتے ہوے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ میں نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کیے ہیں۔۔پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی عائد کی گئی۔انہوں نے پاکستان کی مختلف عدالتوں میں جا کر اپنا موقف بیان کیا۔جس طرح قومی اسمبلی میں قادیانیوں کا موقف بڑے تحمل کے ساتھ سنا گیا تھا اور قادیانیوں نے کئ دن تک مسلسل اپنے عقائد بیان کیے تھے اسی طرح پاکستان کی ہر سطح کی عدالتوں میں ان کے وکلا نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا۔پاکستان ہر عدالت نے ان کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں بنائے گئے قانون کی توثیق کی اور جو پابندیاں ان پر لاگو کی گئی تھیں ان کو بحال رکھا۔
    پاکستان سے مایوس ہونے کے بعد قادیانیوں نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کوبدنام کرنے کی کوشش شروع کی۔ان کی اس کوشش کو ناکام بنانے کا سہرا بھی ہمارے بزرگوں کے سر رہا۔جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری جو اس وقت سپریم کورٹ کے جج بھی تھے وہ جنیوا شریف لے گئے اور اس بین الاقوامی فورم پر قادیانیوں کے جھوٹ کا پول کھولا۔ان کے موقف کو جھوٹا ثابت کیا۔ان کو غیر مسلم قرار دینے کی منتطقی وجوہات پیش کیں اور پاکستان کے موقف کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ویسے۔سارے عمل کی تفصیل قبل ازیں ہم الگ کالم میں بیان کر چکے ہیں جو روزنامہ نوائے وقت میں ہی شائع ہوا تھا۔مختلف ادوار میں قادیانیوں نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا لیکن عوامی سطح پر ان کو کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ملک کے کئی کلیدی عہدوں پر ان کے حمایت یافتہ افراد پہنچے اور قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی قادیانیوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو مسلمانان پاکستان نے جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔
    2018 کہ انتخابات کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔۔یہ تاثر پایا جانے لگا فیصلہ ساز اداروں میں ان کا اثر نفوذ بڑھ رہا ہے۔اور اہم عہدوں پر قادیانیوں کی تعیناتی کی جارہی ہے۔وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی واضح موقف نہ آنے کے باعث شبہات کی فضا مزید گہری ہو گئی۔ان حالات میں اقلیتی کمیشن کا معاملہ اٹھا۔اور بڑی چابکدستی سے قادیانیوں کو اس کمیشن کا رکن بنانے کی کوشش کی گئی۔خبروں کے بروقت لیگ ہوجانے کے باعث بے پناہ عوامی رد عمل سامنے آیا اس کی وجہ سے اس لابی کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔لیکن شکوک و شبہات کی فضا قائم رہی۔وفاقی وزیر مذہبی امور کی باربار وضاحت کے بعد ایک گونہ اطمینان نصیب ہوا۔وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنے ایک پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور کسی ایسی سرگرمی کی پشت پناہی نہیں کی جائے گی جو قادیانیت کی تقویت دینے کا باعث بنے ۔
    موجودہ حکومت کی سیاسی ہیئت ترکیبی میں مسلم لیگ ق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔پنجاب میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے تجربہ کار سیاستدان چوہدری پرویز الہٰی بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کام کر رہے ہیں۔قانون ختم نبوت کے ساتھ ساتھ چوھدری ظہورالہی فیملی کا ایک خاص تعلق بھی ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے تمام سیاستدانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی نے ایک اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔یقینا اس فیصلے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی مکمل رضامندی اور تائید شامل تھی۔مئ 2020 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب کی حکومت کے وزیر اور چوہدری برادران کے قریبی ساتھی حافظ عمار یاسر نے یہ سعادت حاصل کی اور انہوں نے حضور خاتم النبیین کی عظمت و شان کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔قرارداد پیش کرنے سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہماری جان بھی قربان ہے۔جب تک قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے تب تک ان کو اقلیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔پنجاب کے وزیر معدنیات کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے،اے مسلمانو،حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں۔اور خاتم النبیین ہیں۔قرآن میں واضح طور پر بیان ہوگیا کہ نبوت کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔اب کسی اور نبوت کے اجراء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں جامع ترمذی اور سنن ابی داود میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک اور روایت بھی بیان کی گئی جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت میں سے 30 افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب یعنی جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔قرار داد میں مزید کہا گیا گیا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا پہلو اس اعتبار سے کہ نبوت آپ پر کامل ہو گئی ہے رسالت کی آپ پر تکمیل ہوگئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں خاص طور پر تکمیل اکمل جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے۔قرارداد میں وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ایوان وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے قادیانیوں کو اس بنا پر اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا ۔قادیانی نہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں نہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ آئے روز ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔کبھی حج فارم میں تبدیلی کر دی جاتی ہے کبھی کتب میں سے خاتم النبیین کا لفظ نکال دیا جاتا ہے لیکن آج تک ان سازشیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن ہمیں تحفظ ناموس رسالت کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔یہ ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
    قرار داد میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ ان سازشوں میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔اقلیتی کمیشن میں ہندو سکھ اور مسیحی بیٹھے ہیں ، ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے ۔ ہم اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ یہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے کمشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔تحفظ ختم نبوت،تحفظ ناموس رسالت،تحفظ ناموس اصحاب رسول،تحفظ ناموس اہل بیت اطہار،اور تحفظ ناموس امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔۔
    یہ قرارداد موجودہ پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے ماتھے کا جھومر ہے۔اس کی منظوری پر پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان عثمان بزدار اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف مبارکباد کے مستحق ہیں۔یہ وہ سعادت ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامرانی کا باعث بنے گی۔۔اس سارے عمل کے پس منظر میں میرے دوست ، چوہدری راسخ الہی کا بھر پور کردار رہا۔جن کا دل محبت رسول کے جزبے سے معمور ہے۔انکے خاموش لیکن موثر کردار نے اس قرارداد کی تیاری اور منظوری میں بنیادی کردار ادا کیا۔عثمان بزدار کی حکومت بجا طور پر اس کارنامہ پر فخر کر سکے گی۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک پرعزم،جہاندیدہ سیاستدان ہیں بلکہ وہ اپنے سینے میں محبت رسول سے بھرپور ایک دل بھی رکھتے ہیں۔ان دنوں ان کے بیانات اور تقاریر ان کے درد دل کی نشاندہی کرتے ہیں۔گستاخانہ مواد پر مبنی کتب کی پابندی بھی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب حکومت کا اہم کارنامہ ہے.پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیرمین راے منظور ناصر راسخ العقیدہ مسلمان اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔انکی موجودگی بھی موجودہ نظام کیلیے خوش آئند ہے۔بے یقینی،مایوسی،نالائقی،بے حکمتی کہ اس ماحول میں صوبہ پنجاب کی طرف سے یہ اقدامات ٹھندی ہوا کی مانند ہیں۔پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے یہ اقدامات تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ایسے ہی اقدامات مرکز میں بھی ہونے چاہیں۔اسی نوعیت کی قرارداد سندھ اسمبلی سے بھی منظور ہوی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔یہ اقدامات عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔۔-

  • ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر نے ایک نئے فیچر کا تجربہ کیا ہے جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، جس میں 140 سیکنڈ تک آڈیو پیغام ریکارڈ ہو سکے گا-

    باغی ٹی وی: مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "ویولینگتھ” آئیکن استعمال کرکے اپنا ٹویٹ صوتی شکل میں شئیر کر سکیں گے-
    https://twitter.com/Twitter/status/1273313100570284040?s=20
    گذشتہ روز ٹویٹر انچارج کا کہنا تھا کہ وہ ایک نئی خصوصیت کی جانچ کر رہے ہیں جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، ایک ہی ٹویٹ میں 140 سیکنڈ تک آڈیو حاصل کرسکیں گے۔

    ٹویٹر نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ، فیچر ایپل کے آئی او ایس پلیٹ فارم پر محدود تعداد میں صارفین کے لئے دستیاب ہوگا اور آئندہ ہفتوں میں مزید آئی او ایس صارفین کے لئے تیار کیا جائے گا۔

    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "طول موج” آئیکن استعمال کرکے صوتی(آڈیو) ٹویٹ شئیر کر سکیں گے۔

    ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں پر طویل عرصے سے دباؤ رہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بدسلوکی ، ہراساں کرنے اور غلط معلومات جیسے مواد کو روکنے کے لئے پریشر میں ہیں۔

    ٹویٹر کے ترجمان ایلے پاویلا نے کہا ، "ہم سب کو اس تک پہنچانے سے پہلے مانیٹرنگ کے اضافی نظام کو شامل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔”

    "ہم کسی بھی اطلاع شدہ آڈیو ٹویٹس کا اپنے قواعد کے مطابق جائزہ لیں گے ، اور ضرورت کے مطابق لیبلنگ سمیت کارروائی کریں گے۔”

    ٹویٹر ، جس میں جوڑ توڑ یا مصنوعی میڈیا پر مشتمل مواد پر لیبل شامل کیا جاتا ہے ، نے بعض قسم کے کورونا وائرس اور انتخابات سے متعلق غلط معلومات پر بھی حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے لیبل شامل کرنا شروع کردیئے ہیں ، بشمول میل ان بیلٹس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں۔

    پچھلے مہینے ، ٹویٹر نے بھی منیپولیس احتجاج کے بارے میں ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں ایک انتباہ شامل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے۔

    واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

  • کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے
    از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    دنیا کو روشن کیا جس نعرہ تکبیر نے۔۔!!
    اس نعرہ پر ایمان رکھنے والے انسان تھے ہم۔۔!!

    کفر و شر بھی لرز جاتے تھے جس کے نام پہ۔۔!!
    اس مذہب سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے ہم۔۔!!

    وہ جو عشق تھا بلال کا محبت کی اذان میں۔۔۔!!
    مذہبی احیا کی خاطر کرتے تھےجان تک قربان ہم۔۔۔!!

    پھر یوں ہوا کہ فرقوں میں پڑ گئے ۔۔۔!!
    ایک ہی رب کو لے کر ٹکڑوں میں بکھر گئے۔۔۔!!

    ذکر رہتا تھا جاری پیاسے ہونٹوں سے بھی۔۔!!
    نیزے پر بیٹھ کر پڑھتے تھے قرآن ہم۔۔!!

    اہل حدیث تھے اہل سنت تھے اہل قرآن تھے ہم۔۔!!
    یہ فرقے نہیں تھے جب تو مسلمان تھے ہم۔۔۔!!

  • فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ  بقلم:منہال زاہد سخی

    فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بقلم:منہال زاہد سخی

    فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    منہال زاہد سخی

    آپکا وقت ضرور لگے مگر بے فائدہ نہیں جائے گا ۔ پڑھیں اور جتنا ہوسکے وائرل کریں ۔

    کل فیسبک پر اک پوسٹ نظروں کے سامنے آئی ۔ پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے 200 سزا یافتہ مجرموں کو رہا کردیا یے ۔ اس اک پوسٹ نے پھر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔

    کیا پاکستان کا عدالتی نظام مغربی دنیا کا عکس پیش نہیں کررہا ہے ۔ ؟ کیا پاکستان کے عدالتوں سے انصاف صرف برائے نام ہی نہیں ہے ۔ ؟ کیا ثبوتوں کے ہوتے ہوئے طاقتور اور اثر رسوخ رکھنے والے مجرم کو سزا سے بری نہیں کیا جاتا ۔ ؟ کیا بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے بجائے چھوڑا نہیں جاتا ؟ کیا پھر معصوم لوگوں کا قتل کرنے والے مجرموں کو سزائے موت سے دور نہیں رکھا جاتا ؟ کیا ملک کو لوٹ کر اندر سے کھوکھلا کرکے اور ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کے برعکس ان کے ساتھ عزت سے پیش نہیں آیا جاتا ۔ کیا ان عدالتوں سے فوج کو للکارا نہیں جاتا ۔ کیا ان عدالتوں سے محب وطن لوگوں پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی ؟

    یہ سوالات ہیں اور آپ ان کا بخوبی جواب دے سکتے ہیں ۔ آپ بھی پاکستانی ہیں کیا آپ کو پتا ہے آپ کا انصاف کو ڈوبانے میں کتنا کردار ہے ؟ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے تو میرا جواب ہوگا پاکستانی عوام کا انصاف کو ڈبانے 95 ٪ کرادار ہے ۔ اور کردار اس طرح ہے کہ نہ آپ کو پتا ہے نہ مجھے مگر کردار ادا ہورہا ہے ۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کا کردار کیا ہے ۔ جمہوری نظام سے آپ سب واقف ہیں ۔ ووٹ دال کر اپنے حکمرانوں کو چنا جاتا ہے ۔ اور آپ سب بھی تقریباً کسی نہ کسی تنظیم کے ساتھ ضرور کھڑے ہونگے ۔ آپ نے ووٹ ڈالا اور حکمران بنے جس کو جتنی سپورٹ تھی اس کو اتنا بڑا عہدہ مل گیا ۔ ملا کس کی بدولت آپ کی بدولت کیونکہ آپ نے ووٹ دالا تھا ۔ اور آپ نے ہی انھیں حکمران بنایا اب حکمران ہمارے نکلے دو نمبر، چور نکلے تو ہمارے حکمران، قاتل نکلے تو ہمارے حکمران، شرابی ہمارے حکمران، قبضہ مافیا ہمارے حکمران، غدار ہمارے حکمران ۔ جس ملک کے حکمران چور ہوں تو رعایا میں سے کوئی چوری کرتا ہے بڑی بات نہیں ۔ جس ملک کا حکمران قاتل ہو تو اس ملک میں قاتل ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔ جس ملک کا حکمران شرابی ہو تو اس ملک میں شراب خانے ہونا بڑی بات نہیں ۔ آپ کی غلطی آپ نے ایسے لوگوں کو چنا ہے ۔

    جس صوبے میں جس تنظیم کا اثر و رسوخ ہے عدالتیں بھی اس کی ہیں ۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ کی IG سندھ سے تکرار چلتی رہی اور وزیر اعلیٰ نے کیا کچھ نہیں کہا اور IG تبدیل ہوا ۔ کس کے کہنے پر مراد علی شاہ کے کہنے پر ۔ زرداری اور PPP غندہ گردی کرتی ہے قبضہ کرتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں اب آتے ہیں پشاور پر پاکستان میں جتنے دہشت گردانہ حملے ہوئے ان حملوں میں تقریباً ملوث افغانی تھے جو پشاور سے آتے جاتے تھے ۔ اور حالیہ بات ہی 200 سزا یافتہ مجرموں کو پشاور ہائیکورٹ نے بری کردیا ۔ اب آجائیں بلوچستان پر بلوچستان کا سارا بجٹ کہاں جاتا ہے وڈیرے کھاتے ہیں لوٹتے ہیں جیبیں بھرتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بلوچستان کو حقوق نہیں ملے اور کیا سب کچھ ریاست نے ہے ۔ اور اندر کا کچھ پتا نہیں اور ریاست پر الزام آگے آجاتے ہیں۔ اب پنجاب پر آتے ہیں لاہور ہائیکورٹ نے کتنی دفعہ ضمانتوں پر رہا کیا PMLN والوں کو کبھی نواز کبھی شہباز کن کن کو بری کیا لاہور ہائیکورٹ نے آپ کو پتا ہے جنہوں فوج سے ٹکر لی بھارت میں بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگایا اور کارگل کی جیتی جیتائی جنگ پر پانی پھیر دیا ملک پر قرضے کے انبار لگادئے اور ملکی خزانہ صاف کردیا لاہور ہائیکورٹ نے ان کو بری کیا ثبوت ہوتے ہوئے یہ ۔ جس کی حکومت اس کی عدالتیں ۔

    آئیے آپ کو بتائیں عدالتیں آرمی کو کیسے للکارتی ہیں سزا یافتہ مجرموں کو چھوڑ کر ۔ پاک فوج کے جرنیلوں کو غدار پکار کر اور انھیں سزائے موت کے نوٹیفکیشن جاری کر کے فوج کو للکارتی ہے اور کئی طریقوں سے طنز مار کر اپنا گندا غلیظ باطن ظاہر کرتی ہے ۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام تاریخ اسلام پر دھبہ کیسے ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ایک جج ہے اربوں روپوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہے اور جب حساب مانگا جائے تو جواب آتا ہے یہ میرے بیوی بچوں کے نام ہے میں اس کا ذمہ دار نہیں ۔ تو آپ جج بن کر کیسے پورے وطن کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں آپ سے آپ کا سرکش گھر تو سنبھالا نہیں گیا اور آپ جج بن کر ملک کے فیصلے کریں گے ۔ عمر (رض) کے دور خلافت میں ایک شخص نے آپ سے مسجد نبوی میں پوچھا کہ آپ نے سوٹ جوڑا کیسے بنالیا جب سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ نے جواب دیا میرے بیٹے اور میری چادد سے یہ جوڑا بنا ہے ۔ امیر المومنین نے جواب دیا خلیفہ وقت نے جواب دیا تو جواب نہیں دے سکتا ۔ امیر المومنین جواب دے سکتے ہیں پر فائز عیسیٰ جواب نہیں دے سکتا ۔ عمر (رض) کے دور خلافت میں سب کو انصاف سے نوازا گیا ہر مجرم پر ہاتھ ڈالا گیا ایک عیسائی گورنر مسلمان ہوا آپ کے دور خلافت میں حج یا عمرے کے دوران کسی کا پاؤ اس کی چادر پر آیا اس حکمران نے زور سے تھپڑ مارا اور زخمی کردیا ۔ بات امیر المومنین تک پہنچی آپ نے کہا انصاف ہوگا حکمران کو تھپڑ مارا جائے گا ۔ کیا نبی ص نہیں فرمایا تھا اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹتا ۔ یہ ہے اسلام کے انصاف کا تقاضہ ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا دور خلافت ہے عید پر بچوں کے نئے سوٹ بنانے کو رقم نہیں ہے اور اس ڈر سے بیت المال سے رقم نہ لی کہ لوٹا پاؤںگا کہ نہیں زندہ رہوں گا کہ نہیں ۔ چند درہم دینار نہیں لئے خلیفہ تھے چاہتے تو لے سکتے تھے نہیں لیا ۔ اور ہمارے حکمرانوں نے ملکی خزانہ خالی کردیا ۔ انصاف دینے والے فائز عیسیٰ خود مجرم ہیں ۔ کلمہ کی بنیاد پر بننے والا ملک کن لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا اللہ رحم فرمائے ۔

    برطانیہ میں ایک 9 سال پرانی ویڈیو نکالی گئی جس میں ایک وزیر ٹریفک کا قانون توڑ کر نکلا ہے ۔ 9 سال بعد اس کو 9 سال کیلئے جیل کے نظر کردیا گیا ۔ یہ ہوتا ہے انصاف برطانیہ میں اور کئی ممالک میں عمر لاء کے نام سے کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ اور ان قوانین کو اپنایا جاتا ہے ۔ جب بھارت وجود میں آیا تو گاندھی نے اپنی کابینہ سے کہا کہ میں تمہیں اپنوں میں سے کسی کی مثال نہیں دیتا ۔ میں تمہیں عمر اور ابوبکر (رض) مثال دیتا ہوں ان کی طرح چلنا ۔ اسلام کو ہر جگہ اپنایا جا رہا ہے مگر پاکستان میں نہیں ۔

    پاکستان میں کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس پہنچتی ہے ۔ ہماری پولیس ہی چائے پانی اور رشوت پر چلتی ہے انصاف دینے والے خود مجرم ہیں ۔ راؤ انوار 400 لوگوں کا قاتل ہے کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا ایک پولیس انسپکٹر نے 400 سے زائد قتل کئے کسی نے کچھ پوچھا نہیں ۔ چوروں کو سزا دینے والے ججز خود چور ہیں کچھ نہیں ہوسکتا ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے کوئی کچھ نہیں بولتا جیسے کہ یورپ ہو کسی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالو ۔ سانحہ ساہیوال کے مجرموں کو ثبوت ہوتے ہوئے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یہ ہے عدالتی نظام ۔

    اگر کسی نے پاکستان کو انصاف فراہم کیا تو وہ پاک فوج نے کیا ۔ MQM کا صفایا پاک فوج نے کیا مافیا کو پکڑا تو پاک فوج نے پکڑا ملک کو فسادات سے بچایا تو پاک فوج نے بچایا ۔ بچوں سے زیادتی کرنے پر پھانسی پر لٹکایا تو ضیاء الحق نے لٹکایا ۔ چوروں اور غداروں کو جیل میں ڈالا اور ملک بدر کیا تو پرویز مشرف نے کیا ۔ ملک میں بغاوت کرنے والے نواب اکبر بگٹی کو سبق سکھایا تو فوج نے سکھایا پرویز مشرف نے سکھایا ۔ ضرب عضب آپریشن کرکے ملک کو بچایا تو راحیل شریف نے بچایا اور کوئی پاکستان کو لے کر چل رہا ہے تو قمر جاوید باجوہ لے کر چل رہا ہے ۔ اور رضوان راکا جیسے ملک غداروں کو پھانسی پر لٹکایا تو پاک فوج نے ۔ بلوچستان کو علیحدہ ہونے سے بچایا تو پاک فوج نے ۔

    ملک میں جب جمہوری نظامِ حکومت کا خاتمہ ہوگا ۔ پھر انشاللہ پاکستان ترقی کی جانب سفر کرے گا ۔ میری نظر میں جو پاکستان اس وقت عزت اور وقار کے ساتھ کھڑا ہے اس کے پیچھے لگنے والے تین مارشل لاء ہیں اور پاک فوج ہے جب انصاف فراہم ہی پاک فوج نے کرنا ہے تو ان عدالتوں کا کیا فائدہ ایسی جگہوں کا کیا فائدہ جہا مظلوم کو انصاف نہ ملے اور ظالم بچ جائے ۔ پھر ہمیں فوج ہی طلب ہے گر فوج طلب ہے تو انصاف طلب ہے ۔ آئیں عہد کریں اور جمہوری نظام حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔

    اب آپ نے پڑھ لی ہے تو شیئر بھی کردیں تاکہ صدقہ جاریہ بن سکے اور پاکستان عدل و انصاف کی جانب چل پڑے ۔ شکریہ 🥰

    #قلم_سخی
    #پاکستان
    #پاک_فوج
    #SAKHI
    #PAKISTAN
    #PakFouj

  • تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ  صدائے اسد بقلم: اسد عباس خان

    تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ صدائے اسد بقلم: اسد عباس خان

    تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ

    صدائے اسد: اسد عباس خان
    صدیوں پرانا تاریخی قلعہ نندنا پنڈ دادنخان سے 30 کلومیٹر دور باغانوالا گاؤں کے پاس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ ہم نے وہاں تک پہنچنے کے لیے نسبتا لمبا راستہ چنا۔ جو جہلم پنڈ دادنخان روڈ سے براستہ پنن وال اور پھر کوٹلی پیراں سے ہوتا ہوا شمال کی جانب کوہستان نمک کے پہاڑی سلسلے کی جانب جاتا ہے۔ اس لمبے راستے کو چننے کا واحد مقصد کچھ دوستوں اور عزیزوں کو شامل سفر کرنا مقصود تھا۔ یہاں سے ہمارے اس سفر کے گائیڈ و میزبان محترم ندیم خان بھائی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ ندیم بھائی نے ہماری ضیافت کا سامان موٹر سائیکل پر لادا اور ہمارے ساتھ ہی عازم سفر ہوئے۔ کوٹلی پیراں سے ہی مزید ایک موٹر سائیکل پر میصم شاہ صاحب بھی ہمارے ساتھ مل گئے یوں تین عدد موٹر سائیکلوں کا قافلہ بن گیا۔ کوٹلی پیراں کی گلیاں بارش کے بعد پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ کیچڑ اور ٹوٹے ہوئے راستے پر موٹر سائیکل پھسل جانے کا بھی ڈر تھا۔ لیکن منزل کا دلکش خیال کسی ڈر پر غالب نہ آ سکا۔ اور سفر احتیاط کے ساتھ سنبھل سنبھل کر جاری رہا۔ کوٹلی کے بعد کوٹ عمر نسبتا پرانا گاؤں ہے۔ وہاں بھی ٹوٹی پھوٹی گلیاں پانی سے لبریز تھیں اور وہی کیچڑ اور پھسلن ہمارے استقبال کے لیے منتظر۔ جوں ہی کوٹ عمر قصبے سے نکلے تو سامنے کارپٹ روڈ دیکھ کر حیرت کے ساتھ ہی بے انتہا خوشی ہوئی۔ ضلع جہلم میں پسماندگی کی علامت تحصیل پنڈ دادنخان کے عام سے گاؤں میں ایسی سڑک دیکھ کر اس کی تعمیر میں شریک ہر حصہ دار کے لیے دل سے دعا نکلی۔ موٹر سائیکل جو پہلے ہچکولے کھاتی ہوئی چیخو پکار کر رہی تھی یکایک اس کی بے ڈھنگی آواز میں بھی کمال کا سر آ گیا۔ خوبصورت کھیتوں کے بیچو بیچ کبھی سیدھی اور کبھی بل کھاتی پختہ سڑک سے آس پاس کا نظارہ خوبصورت ترین منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ زرعی زمین بے حد زرخیز ہے۔ یہاں گندم، مکئ، آلو، مٹر، اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جو یہاں کے گاؤں باسیوں کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ کوٹ عمر سے تقریبا 3 کلومیٹر کے بعد دو راستے ہو جاتے ہیں ایک جنوب کی طرف ورنالی گاؤں کی طرف جبکہ دوسرا شمال میں باغانوالا کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جو ہماری منزل تھا۔ علی الصبح ہونے والی بارش کے بعد موسم خوب سہانا ہو چکا تھا عین سامنے باغانوالا کے سرسبز و شاداب پہاڑ اور ہوا کے دوش پر اڑتی موٹر سائیکلوں پر دلکش نظارہ ناقابل یقین حد تک دل کو موہ لینے والا تھا۔ یوں چند کلومیٹر کا سفر پل بھر میں طے ہو گیا۔ اور ہم باغانوالا گاؤں میں پہنچ گئے۔ قلعے کی طرف جانے کا راستہ گاؤں کے اندر سے ہی گزرتا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر گھر پرانے طرز تعمیر پر ہی بنے ہوئے ہیں۔ کچھ مکمل کچی مٹی سے بھی اور کچھ کشمیری و گلگتی طرز پر بڑے بڑے پتھروں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گاؤں کی گلیاں انتہائی تنگ ہیں جہاں سے موٹر سائیکل کا گزر بھی بمشکل ہی ہوتا ہے تنگ اور بل کھاتی گلیوں سے ہوتے جب ہم پہاڑ کی جانب نکلے تو سامنے حسین و و دلکش نظارے دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ باغانوالا گاؤں سے ہمارے ساتھ ایک اور دوست میاں صاحب بھی اپنے موٹر سائیکل پر ہمراہی بن گئے یوں ہمارے ساتھ موٹر سائیکلوں کی تعداد چار ہو گئی۔ ندیم خان بھائی نے مشورہ دیا کہ موٹر سائیکل یہیں گاؤں میں کسی کے سپرد کر دئیے جائیں اور آگے کا سفر پیدل چل کر طے کیا جائے لیکن میصم شاہ صاحب موٹر سائیکل پر ہی جانے کو بضد تھے۔ جب انہیں قائل کرنے کی تمام کوششیں بے سود رہیں تو یہ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی کہ اب آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو رہا ہے۔ جہاں پیدل چلنا بلکہ چڑھنا بھی دشوار ہے۔ ہم سب بھی جوش میں آ کر ایک بڑی غلطی کر بیٹھے جس کا ذکر آگے آۓ گا یوں موٹر سائیکلوں پر ہی آگے کا سفر کرنا طے پایا۔
    اب اس خطرناک ترین راستے پر سفر شروع ہوا تو بے جان موٹر سائیکل بھی معافی مانگنے پر آ گئے لیکن جب ابن آدم ضد پر آ جاۓ تو اسے کون روکے۔ کچھ منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد سرپھروں پر یہ راز بھی فاش ہوا کہ پتھریلا ٹریک دشوار اور کٹھن راہ کے ساتھ چڑھائی پر جب موٹر سائیکل چلائیں تو اسے ہموار رکھنا انتہائی مہارت اور دقت طلب مشقت ہے۔
    خیر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے پر ایمان پختہ رکھے اور سانسیں بند کیے ہوئے کہ کہیں سانس لینے سے جو حرکت پیدا ہو تو کہیں دو چکے کی سواری اپنا توازن ہی نہ کھو دے۔ یہ سفر جاری رہا۔
    پانی کا ایک چشمہ اوپر پہاڑوں سے نکل کر باغانوالا کو سیراب کرتا ہے اس کا صاف شفاف بہتا ہوا پانی اس سرسبز وادی میں جنت کا سماں پیش کر رہا تھا۔ یہ چشمہ صدیوں سے مکمل خاموشی کے ساتھ مستقل چلنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہاں البتہ راستے میں کہیں کہیں جب اونچائی سے اس کا پانی نیچے گرتا ہے تو پر سکون ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور وادی کی خاموشی کا سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔
    سامنے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر قلعہ نندنا کے دو ڈھانچے واضح دیکھے نظر آ رہے تھے۔
    یہ قلعہ ہندو شاہی کے زمانے میں جے پال راجہ نے بنوایا تھا جبکہ نندنا کا شیو مندر جے پال کے بیٹے انند پال کی تعمیر ہے۔ 1114ء میں سلطان محمود غزنوی نے جب اس پر حملہ کرکے فتح کرلیا تو ابو ریحان البیرونی نے اس قلعہ میں قیام کے دوران سائنسی تجربات کے لیے رصد گاہ بنائی اور زمین کا قطر ناپا البیرونی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”کتاب الہند” کا بیشتر حصہ یہیں بیٹھ کر لکھا۔ یہ وہی البیرونی ہیں جنہیں ہندوستان کے لوگوں نے ” ودیا ساگر” یعنی علم کا سمندر کا لقب دیا۔ البتہ (بعض تاریخ دان ٹلہ جوگیاں بارے بھی یہی دعوی کرتے ہیں یہ بھی ضلع جہلم میں ہی موجود ہے)
    سلطان محمود غزنوی کے بعد نندنا قلعہ تیرہوی صدی میں قمر الدین کرمانی حاکم کے قبضے میں آگیا اس کے بعد جلال الدین خوارزم کے ایک جرنیل نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا پھر چنگیز خان کے ایک افسر ترتی مغل نے یہ قلعہ فتح کر لیا بعد میں اس قلعہ کو التتمش نے فتح کیا۔ مغل بادشاہ بابر نے بھی اس قلعہ کو فتح کیا- اکبر بادشاہ نے یہاں ایک باغ لگایا تھا موجودہ گاؤں باغانوالا اسی باغ کے نام سے ہے جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ مندر کے سامنے ایک مسجد بھی موجود ہے جو کچھ مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی جبکہ کچھ کے خیال میں التتمش دور کی ہے۔ اس قلعے کے شاندار ماضی اور اس پر بدلتے حاکموں کو یاد کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ انسان جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس کی حیثیت اس فانی دنیا میں فقط مہمان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ زندہ حقیقت ہمارے حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل کیوں ہے ؟ شاید انسانی فطرت میں ہی دنیا کا لالچ طاقت کا گھمنڈ اور اختیارات کا نشہ اس چھوٹے سے نقطے پر بھاری ہو۔ خیر انہی خیالات کے سمندر میں ڈوبا ہوا سفر اس وقت تھم گیا جب ایک مقام پر اچانک ندیم خان بھائی نے موٹر سائیکل روک دیا اور تقریبا حکم دیتے ہوئے بتایا کہ اسی جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ تاکہ کھانا پکانے کا کام نمٹایا جا سکے۔ ویسے موٹر سائیکلوں پر ہونے والی اچھل کود نے شکم میں بل ڈال دئیے تھے۔ سو ان کی بات من وعن تسلیم کرنے میں ہی راحت محسوس ہوئی اس وقت دوپہر ڈھل چکی تھی۔ چونکہ قلعہ نندنا دیکھنے کے اشتیاق میں صبح کا ناشتہ بھی بھول گئے تھے لہذا بھوک اگر جوبن پر نہ سہی لیکن کچھ کم بھی نہ تھی۔ کھانا بنانے کی تیاریاں شروع ہوئیں تو سب اپنی اپنی ذمہ داری میں جُت گئے۔ چونکہ پڑاؤ چشمے کے عین قریب تھا لہذا پانی کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ البتہ سرسبز جگہ سے لکڑی تلاشنا مشکل امر تھا۔ چونکہ میزبان ندیم خان بھائی تھے لہذا کھانا بنانے کی اصل ذمہ داری بھی انہیں کے ناتواں کندھوں پر تھی۔ باقی لوگ تو اپنے اپنے ذمہ کے کام نمٹا کر جلدی سے فارغ ہو گئے۔ اور گرمی کی شدت مٹانے کے لیے چشمہ پر موجود قدرتی تالاب میں گود گئے۔ جب چشمے کا ٹھنڈا پانی سردیوں کی یاد دلانے لگا تو باہر آنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس سارے عمل میں دو گھنٹے کا وقت بیت گیا۔ کھانا تیار ہو چکا تھا اور دیسی مرغ کڑاہی کی دل موہ لینے والی خوش کن مہک سے یوں لگتا جیسے پوری وادی کی فضاء بھی معطر ہو گئی ہو۔ کھانے کی مہک اور بھوک سے برا حال اب مزید انتظار ناقابل برداشت تھا۔ جلدی جلدی سب قدرتی دستر خواں یعنی "کھلی زمین” پر براجمان ہو گئے اور کھانا سامنے تیار پڑا تھا۔ بسم اللہ پڑھتے ہی نان کڑاہی کے ساتھ خوب انصاف کیا نان آتے وقت ہی ساتھ لاۓ گئے تھے۔ کھانا کھاتے وقت اس بات کا عقدہ بھی کھلا کہ ندیم خان بھائی کھانا بنانے کے فن سے خوب آشنا اور کسی پیشہ ور طباخ کی طرح بہت اچھے ماہر ہیں۔ ما شاء اللہ ذائقہ ایسا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے اس وقت تک عصر نصف گزر چکی تھی۔ اب اگلے سفر کی تیاری شروع ہوئی تو ندیم خان بھائی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس مقام سے آگے موٹر سائیکلوں پر سفر ناممکن ہے۔ ہمیں پیدل جانا ہو گا۔ اور قلعہ تک پہنچنے کا راستہ پہاڑ کا پورا چکر کاٹ کر طے ہو گا جو پیدل چلنے پر ایک گھنٹے کی مسافت ہے۔ اب ہمیں اس غلطی کا احساس ہوا جو نیچے باغانوالا سے اوپر آتے وقت ہم سے سرزد ہوئی۔ یعنی موٹر سائیکل اب ہم پر وہ بوجھ بن گئے جو ہم اٹھانے سے قاصر تھے۔ اور اس ویرانے میں انہیں سپرد خدا چھوڑنا بھی بےوقوفی کے زمرے میں آتا تھا۔ اب قلعہ نندنا اور ہمارے درمیان موٹر سائیکل ٹانگ کا پھندہ بن گئے اور اس بات پر سب میصم شاہ کو گھورنے لگے۔ جبکہ وہ نظیریں چرائے پراعتماد آواز میں واپسی کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق چارونا چار ہمیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ سامان سمیٹا اور پھر بوجھل دل کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ پیچھے پلٹنے کا سفر بھی آسان نہ تھا جبلی پگڈنڈیوں پر سواری کی اترائی کبھی کبھار موت کے منہ میں جانے کے مترادف لگا۔
    اللہ اللہ کرتے جب نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچے تو چشمے کے صاف پانی سے شاہ صاحب کو بطور ڈنڈ تمام موٹر سائیکل سروس کرنے پڑے۔ اور باقی افراد ہوا خوری، عکس بندی اور نندنا قلعے کو دور سے ہی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ باغانوالا پہنچ کر ایک دوسرے کو اس وعدے کے ساتھ الوداع کیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو اگلی بار نندنا کا قلعہ ضرور مسخر کریں گے۔