Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات   تحریر:سفیر اقبال

    ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات تحریر:سفیر اقبال

    ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات
    سفیر اقبال

    #قومِرسولہاشمی

    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

    اس شعر کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آتی تھی. ایک بار زمانہ طالب علمی میں اپنے ایک استاد محترم سے مسلمانوں اور کافروں کے آپسی معاملات پر بات ہو رہی تھی کہ اگر محمود غزنوی سومنات کا مندر توڑ سکتے ہیں تو ہندو اس کے مقابلے میں بابری مسجد توڑیں گے. اگر ہمارے اسلاف کافروں کو قتل کریں گے، ان کی بہنوں بیٹیوں کو لونڈیاں بنائیں گے تو اسی کو جواز بنا کر ہندو بھی ہمیں اور ہماری بہنوں بیٹیوں کو ماریں گے. لیکن اگر ہم کسی جنگ میں بزور شمشیر فاتح بن گئے تو اسلام کی خوبصورتی پیش کر کے اخلاق کے ذریعے سے انہیں اپنا گرویدا کریں نہ کہ ان کی بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر یا ان کے بت خانے توڑ کر ان کے دلوں میں نفرت پیدا کریں.

    اس موقع پر استاد محترم نے یہ شعر پڑھا

    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

    یعنی اسلامی قوانین کا موازنہ کبھی کافروں کے قانون سے نہیں کرنا. انسانیت ایک الگ مذہب ہے اور اسلام الگ. اسلام کے اپنے قانون ہیں اور خوبصورت ترین قانون ہیں. اسلام سے بڑھ کر اخلاق سکھانے والا کوئی نہیں اور اللہ کے نبی سے بڑھ کر عادل کوئی نہیں. مذہب انسانیت کے قوانین بظاہر بہت خوب صورت ہیں لیکن ناقابل عمل ہیں. اللہ کے نبی نے اگر لونڈیاں رکھنے کی اجازت دی ہے اور بت توڑنے کا حکم دیا تو یہی ہمارے لیے اخلاق ہے نہ کہ ہم بین الاقوامی اخلاقیات کو دیکھ کر ڈرتے رہیں کہ اگر ہم نے ایسا کچھ کیا تو وہ بھی کریں گے.

    پھر مزید بابری مسجد کی بات چلی کہ کافر اگر بابری مسجد گرانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مذہب پر سچے ہیں لیکن ہمارا دین اس معاملے میں ان سے جنگ کرنے یا کمزور ہونے کی صورت میں ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ ہم مضبوط ہو کر دوبارہ نئے عزم کے ساتھ بابری مسجد کو بزور طاقت چھڑوا سکیں….!

    لیکن ہمیں ان اندیشوں کو دماغ میں جگہ دینے کی بالکل ضرورت نہیں کہ اگر ہم نے اپنے ملک میں ان کے بت خانے گرائے( یا انہیں عبادت کے لئے نئے بت خانے نہ بنانے دئیے) تو کل ہماری مسجدیں ان کے ملکوں میں محفوظ نہیں رہیں گی.

    مسجد گراؤ مندر بناؤ مہم کے بعد کچھ احباب #آیہ_صوفیہ کی مسجد کی بحالی پر ماتم کناں ہیں کہ ابتدا میں یہ عیسائیوں کی عمارت تھی (جو سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں بنائی گئی بیت المقدس کے مقابلے میں تعمیر گئی تھی) اس لیے اسے مسجد کا درجہ دینا مناسب نہیں. کیونکہ ہمارے اسلاف کافروں کی عبادت گاہیں نہیں توڑتے تو عرض ہے کہ طیب اردگان نے تو اسے میوزیم سے دوبارہ مسجد کا درجہ دیا اور الحمد للہ بہترین کام کیا. اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ پہلے کلیسا تھا تو اس کلیسا کو محمد الفاتح کے دور میں مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا( اس لیے اعتراض محمد الفاتح رحمہ اللہ پر بننا چاہیے.) اور اس تبدیلی کی وجہ وہ اللہ کے نبی کی پیشین گوئی ہے جس میں ایک قیصر کے شہر کو فتح کرنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی گئی تھی.

    یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے دریائے دجلہ پار کر کے قصر ابیض کو فتح کرنے کے بعد کسری کے تخت کو منبر کے طور پر استعمال کیا تھا اور محمود غزنوی نے ہندو برہمنوں کی منتوں کے باوجود سومنات کا مندر توڑ دیا تھا.

    پاکستان میں مسجد کا انہدام ہو یا مندر کی تعمیر… بھارت میں بابری مسجد کا معاملہ ہو یا مسجد اقصی کے گرائے جانے کا ڈر یہاں مذہب ِ انسانیت یا بین الاقوامی قوانین کی بجائے اسلامی قوانین کو مدنظر رکھنا ضروری ہے.
    اسلام نے صرف ان عبادت گاہوں کو گرانے سے منع کیا جس کے راہب اسلام کے خلاف سازشیں نہیں کرتے اور صرف اپنی عبادت میں مصروف رہتے ہیں. لیکن اگر کسی بت خانہ یا کلیسا میں صبح سے لیکر شام تک مسلسل اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشیں ہوتی ہوں تو اس کو گرا دینا یا اسے مسجد میں تبدیل کر دینا اسلام کے ضابطہ اخلاق میں شامل ہے. واللہ اعلم بالصواب

  • حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اس راہ زندگی میں چلتے ہوئے…
    ان پگڈنڈیوں پہ مچلتے ہوئے…
    کہیں صحراؤں کی آغوش میں…
    کبھی تند ہواؤں کے دوش میں…
    کہیں دریا کی لہروں کا نظارہ کرتے…
    کبھی رفعتوں پہ چمکتا ستارہ دیکھتے…
    کبھی مسکرانا چاند کی چاندنی سے…
    یا کہیں کھلکھلانا گلشن کی جوانی سے…
    کوئی سمجھ سکا یا بھُلا گیا…
    رہا سدا کا وفادار کہ کردغا گیا…
    موسم کے سرد و گرم سے…
    حالاتِ خوشی و غم سے…
    حسن اخلاق کے سفرِ پیہم میں…
    رویوں کی نرمی و خم سے…
    کوئی دل کے تار ہلا گیا…
    لہجے کی تلخی و ضرب سے…
    سرِ بزم کوئی نیچا دکھا گیا…
    کوئی رازِ دل کا امین ہوا…
    دل کی گہرائی کا مکین ہوا…
    کوئی ظاہر کی مسکراہٹ میں…
    جوش کی اُٹھتی آہٹ میں…
    وفاداری کے روپ میں…
    تپتی،تڑپتی دھوپ میں…
    کوئی کر جب وارِ جفا گیا…
    ہاں جگا گیا…
    کُچھ سکھا گیا…
    آنکھوں کے سامنے آئے…
    پردے سب ہٹا گیا…
    قدموں پہ اپنے چلنے کا…
    سلیقہ بھی بتا گیا…
    کہ اس جہاں میں سب سہارے…
    عارضی ہیں…
    بیوپاری ہیں…
    مداری ہیں…
    مخلصی کی پانیوں میں…
    بے غرض سی روانیوں میں…
    حقیقی چہرہ دکھانے والے…
    اندر باہر مسکرانے والے…
    حقیقت کی رہ دکھانے والے…
    _بہت کم ہیں__
    جو چلچلاتے زخموں کا…
    ہوتے دیرپا مرہم ہیں…
    ان رنگ برنگی راہوں پر…
    طغیانی کہ ساحلوں پر…
    ہیں تماشائی بہت…
    اور جو گہرا زخم ہیں…!!!
    حقیقت کے روپ میں چہرے…
    یاں بہت کم ہیں…
    ہاں بہت کم ہیں…!!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟   بقلم:جویریہ بتول

    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟ بقلم:جویریہ بتول

    کہاں ہیں…؟؟؟
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    قربتوں میں قیمت کے پیام کہاں ہیں…؟
    میسر چیزوں میں چاہت کے کام کہاں ہیں…؟
    گزر ہی جائے گی یہ حبس کی رُت بھی…
    زندگی میں موسموں کو دوام کہاں ہیں…؟
    یہ زندگی حسیں ہے اب اک حد اور فاصلے سے…
    اُلفتوں کے مشروب کے وہ جام کہاں ہیں…؟
    اخلاص کو دیکھتی ہے دنیا مطلب کے آئینہ میں…
    مخلصی و خیرخواہی کے اب نام کہاں ہیں…؟
    سوچوں کی وسعتوں نے کیوں سمیٹ لیئے دامن…
    شعور کی بلندی کے قدر و دام کہاں ہیں…؟
    ہر اک مسافر چلتا ہے اب اپنی ہی راہوں پر…
    وہ اتفاق کے قافلے کے آثار و گام کہاں ہیں…؟
    ظاہر کی آزادی نے کر لی ہے باطن پہ گرفت کڑی…
    دل کی سیاہیوں کے اب درد و آلام کہاں ہیں…؟
    شہرت کے ہوئے ہم رسیا،اور داد و تحسین کے حریص…
    وہ دورِ عمر جیسے خواص و عوام کہاں ہیں…؟
    چھپ چھپ کر جو اپنے عمل و فرض ادا کریں…
    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں…؟
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • پس ثابت ہوا کہ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے  تحریر:سفیر اقبال

    پس ثابت ہوا کہ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے تحریر:سفیر اقبال

    پس ثابت ہوا کہ #نظریہ_پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے

    اس ملک کی بنیاد کلمہ توحید پر تھی… لاکھوں ہجرتیں اس ملک کے لیے… لاکھوں قربانیاں اس عرض پاک کے لیے اور لاکھوں شہادتیں اس گھر کے لیے

    اس لیے کیوں کہ یہ اسلام کا قلعہ ہے. یہاں مسلمان کو تحفظ ہے. یہاں اسلام کو آزادی ہے. مان لیا کہ اعلیٰ عہدوں پر لبرل اور قادیانی بیٹھے ہیں…تسلیم کہ رشوت سود زنا بدکاری فسق و فجور بھی بہت ہے اس دیس میں لیکن بس ایک امید ان سب برائیوں پر بھاری ہے کہ یہاں کی عوام اسلام سے محبت کرتی ہے اور اس دیس کی بنیاد اسلام پر ہے.

    جب تک بنیاد قائم ہے آپ کی عمارت کو جتنی بار بھی گرایا جائے اس کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے… اگر گرانے والا ایک ہاتھ ہو گا تو اینٹیں دوبارہ رکھنے والے دس ہاتھ ہوں گے. اگر گرانے والے ہاتھ کرین استعمال کریں گے تو اینٹیں دوبارہ رکھنے والے ہاتھوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہو گی اور جس کے ساتھ اللہ کی مدد ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی.

    اس لیے اگر اپنی بھلائی عزیز ہے تو اس ارض پاک کی قدر کریں . اس کی بنیاد اسلام پر ہے تو اس پر اسلام کی عمارتیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں اور اس بات سے پریشان مت ہوں کہ اس پاکستان میں اسلام کا نام لینا جرم ہے. کل تک اس مسجد کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا لیکن آج پورا پاکستان جان چکا ہے اور اس مسجد کے لیے آواز بلند کر رہا ہے اور اس کی وجہ کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر ہے اور اسلام کی فطرت میں قدرت نے ایسی لچک دی ہے کہ یہ اتنا ہی ابھرتا ہے جتنا دبانے کی کوشش کریں. اسلام کی اس فطرت کی وجہ سے نہ اس بنیاد پر کوئی مندر تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ کوئی مسجد گرائی جا سکتی ہے.

    اپنی آواز اسلام کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کے لیے اٹھائیں. لوگوں کو امید دلائیں…اور اپنی آواز کے دب جانے کا خوف دل میں مت پالیں. آپ کی آواز کی شدت اتنی ہو کہ اس ارض پاک کے ہر کونے میں پہنچے اور وہ آواز اللہ کا پیغام اس انداز میں پہنچائے کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کر دے.

    تحریر :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • کیا صرف سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے  تحریر:اسد عباس خان

    کیا صرف سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے تحریر:اسد عباس خان

    کیا صرف سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے
    (امریکہ میں ایک سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر "بلیک لائیوز میٹر” تحریک بپا ہوئی، مگر کیا کشمیر اور ہندوستان میں جاری ہندتوا کسے متاثر افراد کی زندگیاں بھی کچھ اہمیت رکھتی ہیں ؟ )

    صدائے اسد، از: اسد عباس خان

    کون جانتا تھا کہ جدید ترقی یافتہ اور تیز رفتار دنیا کھلی آنکھوں سے نظر تک نہ آنے والے حقیر سے وائرس کے سامنے بے بس ہو کر یوں رک جائے گی کہ تمام معمولات زندگی معمول سے ہٹ جائیں گے۔ باقی سب معاملات کی طرح کھیل اور کھلاڑی بھی اس وباء کے بھنور میں پھنس گئے۔ پاکستان سپر لیگ کا سپر ہٹ میلہ عین اس وقت روک دینا پڑا جب ٹاکرے اپنی انتہاؤں کو چھو رہے تھے۔ کھیل کو اپنے گھر "پاکستان” میں دیکھنے کی آس میں برسوں سے ترسے ہوئے پرجوش تماشائیوں کی امیدوں کے چراغ اس وقت گل ہوۓ جب کسی چیمپئن کا فیصلہ تک نہ ہو سکا۔ تمام قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے پابندی کا شکار ہوئے تو کھلاڑیوں سمیت شائقین بھی اپنے اپنے اہل و عیال کے ساتھ گھروں میں قید ٹھہرے۔ کھیلوں کے تمام بڑے بڑے ایونٹ مؤخر یا پھر کینسل کر دیئے گئے۔ باقی کھیلوں کے برعکس کرکٹ کا کھیل حفاظتی انتظامات کے حوالہ سے پیچیدہ اور مشکل ترین ہے لہذا اس کھیل کی بحالی کے لیے اس کے بنیادی قوانین میں کئی تبدیلیاں لائی گئیں۔ کرکٹ کے جد امجد انگلستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچز کی سیریز نئے قوانین اور حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ شروع ہو چکی ہے۔ تقریبا چار ماہ کے وقفے کے بعد کھیل کا میدان بغیر تماشائیوں کے سج گیا۔ لیکن اس دوران ایک عجیب معاملہ پیش آیا کھلاڑیوں کے ذہنوں پر کورونا کی وبا کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب کے خلاف بین الاقوامی مہم ’بلیک لائیوز میٹر‘ بھی چھائی ہوئی تھی۔ میچ کے آغاز پر کھلاڑی جب میدان میں اترے تو ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے ہاتھ میں کالا دستانہ پہنا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سیاہ فام افراد کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف گھٹنا ٹیک کر کھیل کا آغاز کیا۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر ’بلیک پاور سلوٹ‘ بھی کیا۔ امریکہ میں چھ ہفتے قبل سیاہ فام شخص "جارج فلائیڈ” کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت اور اس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے عوامی مظاہروں کی گونج گراؤنڈ میں بھی سنائی دے رہی تھی۔ اور کمنٹری کرنے والے ماہرین نے بھی سیاہ فام اقلیت کے خلاف نسلی تعصب کے خلاف آواز اٹھائی جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر میرا حافظہ ایک سال پیچھے چلا گیا۔ پچھلے سال ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف رانجی میں کھیلے جانے والے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ میں روایتی نیلے رنگ کے بجائے ہندوستانی فوج کی ٹوپی استعمال کی۔ جو بظاہر کشمیری حریت پسندوں کے حملے میں مارے جانے والے قابض ہندوستانی فوجیوں سے علامتی اظہار یکجہتی تھی۔ اس ٹوپی پر بی سی سی آئی کا آفیشل لوگو بھی بنا ہؤا تھا۔ لیکن میں سوچ میں پڑ گیا کہ کرکٹ جیسے مہذب اور شرفاء کے کھیل میں بھی آئی سی سی اور باقی دنیا کا دوغلہ پن کیوں عیاں ہوتا ہے۔ 2014ء جولائی کے مہینے میں ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے انگلش کرکٹر معین علی پر اس وقت پابندی عاید کر دی گئی جب وہ ہندوستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں رسٹ بینڈ پہن کر میدان میں اترے جس پر محض سیو غزہ اور فری فلسطین لکھا ہوا تھا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے معین علی کو خبردار کیا کہ وہ فلسطین کی حمایت والے رسٹ بینڈ نہیں پہن سکتے کیونکہ یہ کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ آئی سی سی نے مزید کہا کہ قوانین کے مطابق کسی بھی پلیئر کو انٹرنیشنل میچز کے دوران جرسی یا دیگر چیزوں پر سیاسی، مذہبی یا نسلی بیانات دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نسلی تعصب اور ظلم کا سب سے زیادہ شکار تو مسلمان ہیں لیکن ان سے ہمدردی قوانین کی خلاف کیونکہ ٹھہرتی ہے؟ کیا انسان صرف وہ گورے یا کالے ہی ہیں جو مسلمان نہیں ؟ کیا مذہب کی بنیاد پر رواء رکھے جانے والے تعصب اور غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھانا قوانین کے خلاف ہے؟ پاکستان کرکٹ ٹیم بھی ان دنوں انگریزوں کے دیس میں موجود ہے۔ اور چند ہفتوں بعد اسی انگلینڈ ٹیم سے مقابلے میں اترے گی جو ویسٹ انڈیز کے کالے کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کالے افراد کے خلاف نسلی تعصب کے معاملہ میں مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہی تھی۔ اگر ٹیم پاکستان مقبوضہ کشمیر سمیت پورے ہندوستان میں ہندؤ توا کے شکار مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے یا ہندوستانی ریاستی جبر اور پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کی کاروائیوں کے خلاف کوئی آواز اٹھاتی ہے تو کیا یہی گورے ہمارے ساتھ بھی کندھے سے کندھا ملائیں گے؟ امریکی شہر مینا میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے سیاہ فام جارج فلائیڈ نے تو کھلاڑیوں کے گھٹنے ٹکوا دیئے کیا
    مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے بشیر احمد کے سینے پر بیٹھا ہوا ان کا تین سالہ نواسا بھی کسی مہذب کھیل اور کھلاڑی کو نظر آۓ گا؟
    یا آئی سی سی کے قوانین آڑے آئیں گے؟ کیونکہ تاریخ یہی ہے کہ انسانیت کے سینے میں مسلمان مظلوموں کے لیے کوئی دل نہیں ہے۔

  • نظریہ پاکستان کا تحفظ، روشن پاکستان کی ضمانت   تحریر: شعیب بھٹی

    نظریہ پاکستان کا تحفظ، روشن پاکستان کی ضمانت تحریر: شعیب بھٹی

    نظریہ پاکستان کا تحفظ، روشن پاکستان کی ضمانت
    شعیب بھٹی

    میں ریاست پاکستان کا باشندہ ہو۔ یہ ریاست نظریہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ میرے لڑکپن میں اس اسلامی ریاست میں مارشل لا کا راج تھا کشمیر میں جہاد کرنے والے اور جہاد کے نام لیوا لوگ پابند سلاسل تھے۔ اسلامی ریاست میں موجود مساجد پر پابندیاں لگائی جارہی تھیں۔ مساجد سے صبح فجر کے وقت قرآن کے دروس کی آواز فضا کو معطر کردیتی تھی مگر یہ آواز فرقہ ورانہ انتشار کے نام پر بند کردی گئی ۔ مارشل لا کا وقت گزرا تو بینظیر کے قتل کے بعد عوام سے مظلومیت کا ووٹ لیکر پیپلزپارٹی برسر اقتدار آ گئی ۔ ان کے دور میں بھی میں نے جہاد کے نام لیوا لوگوں کو پابند، لسلاسل دیکھا۔ یہ حکومت خالص امریکی غلام تھی اس دور میں آرمی چیف کو عدالت میں بلاکر بیان حلفی لیا گیا کہ چاہے جو بھی حالات ہوں آپ مارشل لا نہیں لگائیں گے۔ اسی زرداری حکومت میں سلالہ چیک پوسٹ کا واقعہ ہوا۔ انہیں کے دور میں امریکی فورس پاکستانی علاقوں میں داخل ہوئی اور ایبٹ آباد کا شرمناک واقعہ رونما ہوا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی اور حسین حقانی جیسے غدار اسی حکومت کے دور میں پرورش پا رہے تھے اور زرداری حسین حقانی کو فرار کرانے میں بھی پیش پیش تھا اسی پیپلز پارٹی نے جب ایک مذہبی جماعت نے تھر کے ریگستانوں میں فلاحی کام کیے اور ہندوؤں کی بھی بلا تفریق مذہب مدد کی تو نوجوان ہندو متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے لگے۔ تب اس پیپلزپارٹی نے بیرونی آقاؤں کی ایما پر سندھ میں ایک بل پاس کیا کہ 18 سال سے کم عمر شخص اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ میں حیران تھا کہ یہ کیسی اسلامی ریاست ہے۔ جوانی میں قدم رکھا شناختی کارڈ کا حامل قرار پایا۔ تو نواز شریف کو برسر اقتدار پایا۔ نواز شریف کے بارے سنتا تھا کہ یہ شخص مذہبی رجہان رکھتا ہے مگر یہ کیا اس نواز شریف نے ہندوؤں کی ہولی میں شرکت کی اور اس ریاست کے نظریہ کی دھجیاں اڑا دی جس ریاست کا وہ خود سربراہ تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہندو مسلم میں کوئی فرق نہیں نواز شریف نے نظریاتی سرحد کو نفرت کی باڑ قرار دیا۔ اسی نواز شریف کے دور میں ختم نبوت ﷺ کے قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ مسلم لیگ کے اس سربراہ نے قادیانیوں کو بھائی قرار دیا۔ اسی مسلم لیگ کے دور میں غیر ملک کا وزیراعظم پاکستان میں بغیر ویزا کے داخل ہوا۔ جب اس ملک کے خدمت گار کو ملک سے بے وفائی اور کرپشن کے الزام میں اقتدار سے اتارا گیا تو دشمن کے پاکستان کو دہشتگرد قرار دینے کے لیے لگائے گئے ممبئی حملوں کے الزام کو درست کہا۔ یہ اسلامی ریاست تھی اور برسر اقتدار پارٹی مسلم لیگ تھی کہ عورت کے حقوق کے نام پر غیر اسلامی غیر آئینی بل پاس کیا گیا اور مرد کو محکوم بنانے کی کوشش کی گئی ۔ اسی مسلم لیگ کی حکومت میں مندروں کی تزئین و آرائش کی گئی ۔ اور ایک نئے مندر کے لیے زمین بھی الاٹ کی گئی ۔ اب ایک دفعہ پھر سے ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی و صوبائی الیکشن ہونے جارہا تھا۔
    تبدیلی کے نام پر سابق کرکٹر عمران خان کی پارٹی کو مقبولت حاصل تھی اور میں بھی اس دفعہ اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کرنے جا رہا تھا مجھے بتایا گیا تھا کہ ووٹ ضمیر کی آواز ہوتا ہے اور قوم کی امانت ہوتا ہے۔ میں نے ووٹ قوم کی امانت سمجھ کر اور ضمیر کی آواز سمجھ کر کاسٹ کیا اور انتخابی نشانات کو غور سے دیکھا اور ہر ایک کے کردار کو سامنے رکھ کر ووٹ کاسٹ کیا۔ اس انتخابی مرحلے کے بعد عمران خان نے ریاست اسلامی کا اقتدار سنبھالا۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حرکتوں کے بعد لوگوں کی امیدیں اب عمران خان سے وابستہ تھی لیکن یہ کیا عمران خان نے اپنا مشیر خزانہ ایک قادیانی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ عوامی دباؤ کی وجہ سے اس کو ہٹانا پڑا۔ لیکن پھر کیا دیکھتا ہوں کہ قوم کے آئیڈیل شخص کے دور میں فلاحی اور رفاحی اداروں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نام پر حکومتی تحویل میں لے لیا جاتا ہے جنہوں نے تھر سے آوران تک اور کراچی سے خیبر تک قوم کی خدمت کی ہے۔ ان رہنماؤں کو بھی قید کردیا جاتا ہے۔ ابھی حکومت کو بنے ایک سال ہوتا ہے کہ یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کے لیے تیار ہوجاتی ہے اور مرتد اور واجب القتل لوگوں کو ایک مذہب تسلیم کرنے کی تیاری کرلیتی ہے لیکن عوامی دباؤ پر یہ قانون بھی روک لیا جاتا ہے اس تبدیلی حکومت کے لوگ لبرل اور عورت مارچ کو سپورٹ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ دو سال کا عرصہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت مندر کی تعمیر کے لیے فنڈ منظور کرلیتی ہے۔ میں نے بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی کا عرصہ یہ دیکھتے گزارا کہ اس ریاست میں بننے والی حکومت ریاست کے نظریہ کے خلاف جا کر بیرونی آقاؤں کی تابعداری فرض سمجھتی ہے۔ میں نے اس عرصہ میں کسی کو پاکستانیت کی خاطر متحد نہیں دیکھا ہر پارٹی اپنے ایجنڈے اور مفادات کو ملک و قوم سے مقدم سمجھتی ہے۔ میرے ملک کا ہر شہری شخصیت اور پارٹی کو ملک سے عزیز جانتا ہے۔ میں تذبذب اور شک و شبہات کا شکار ہوں ایسی قوم اور ایسے نمائندوں کے ہوتے ہوئے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا کیا ہوگا؟ کیا اس ملک کی سمت درست ہو پائے گی۔ کیا یہ ریاست اپنے حقیقی مقاصد تک پہنچنے کے لیے ایسے ہی نمائندوں کی محتاج ہوگی؟ میں نے اس عرصے میں ملک سے مخلص اور بے لوث خدمت گاروں کو پابند سلاسل ہوتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جو اس ملک کے دشمن ہیں ان کے دباؤ میں میری اپنی ریاست کے وفاداروں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس ملک کے مخلص لوگوں کو انصاف کے لیے ترستا دیکھا اور انصاف کو بیرونی آقاؤں کی لونڈی پایا۔ اگر ملک میں انصاف کی بات ہوتو غریب شخص ثبوتوں کے ہوتے ہوۓ اپنا کیس ہار جاتا ہے لیکن امیر ثبوتوں کے ہوتے ہوئے کبھی شک اور کبھی رحم کے نام پر بری کردیا جاتا ہے۔ امیر کے لیے قانون و ضوابط بدل دیے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر ریاست حق پرستوں کا دفاع نہیں کر پاتی۔ مجھے میری ریاست بے بس اور کمزور نظر آئی۔ مجھے نظریاتی لوگ جیل میں ملے اور دشمن کے ایجنٹ اسمبلیوں میں پاۓ گئے ۔
    مجھے میری ریاست کا مستقبل دھندلا دکھتا ہے۔ میں اپنے نمائندوں سے زیادہ اپنی قوم سے پریشان ہو۔ میری قوم ریاست کو پارٹی پر قربان کردیتی ہے۔ دینی احکامات کو شخصی محبت میں قربان کردیتی ہے۔ لیکن پھر بھی میں پر امید ہو اک دن میری قوم کے فرزند نظریاتی ریاست کو کسی پارٹی یا شخصیت پر قربان نہیں کریں گے۔ جس دن ایسا ہوگیا اس دن میری ریاست اپنے مقاصد کی طرف قدم بڑھا دے گی۔ امید بہار رکھے ہوۓ منتظر ہوں۔ کہ میری ریاست کے قید خانوں میں نظریاتی لوگ قید نہیں کاٹیں گے اور سزا یافتہ لوگ اسمبلیوں کی زینت نہیں بنیں گے۔ تذبذب اور شک و شبہات کے یہ بادل چھٹ جانے کے لیے ضروری ہے میری ریاست کے باشعور لوگ نظریہ پاکستان سے وفا کا عہد کریں۔

  • سفر آخرت کی گھنٹی،  تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    سفر آخرت کی گھنٹی، تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    سفر آخرت کی گھنٹی
    تحریر ✍🏻 ام حمزہ

    2 جولائی بروز جمعرات شام 7 بجے میں مرکز طیبہ کے العزیز ہسپتال میں ام سمیع اللہ کے گھر ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب سے اختر صاحب اللہ کو پیارے ہوئے میں پہلی مرتبہ ام سمیع اللہ کو ملنے گئی تھی اختر صاحب ام سمیع اللہ کے شوہر تھے
    حال احوال پوچھنے کے بعد اختر بھائی کی ناگہانی موت کا تذکرہ شروع ہوا ابھی 5 منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے میرے بیٹے ابوبکر کی کال آگئی میں نے کال سنی تو کہنے لگا امی جان فائزہ کی امی فوت ہو گئی ہیں، فائزہ میری بڑی بہو ہے

    انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور پوچھا جنازہ کب ہے کہنے لگا عشاء کے بعد 9 بجے ہم نے مریدکے سے پسرور جانا تھا کم از کم 2 گھنٹے کا سفر تھا میں پریشان ہو گئی ابھی کال اور اتنی جلدی جنازہ

    خیر جلدی جلدی رینٹ والے بھائی کو کال کی کہ اپنی گاڑی لے کر جلدی آجائیں ہم نے پسرور فوتگی پہ جانا ہے
    جنازے میں ٹائم بہت کم ہے فوراََ آجائیں
    گھر آکر بچوں کو تیار کیا
    فائزہ رو رہی تھی کہ ابھی تو میں نے صبح امی سے بات کی تھی اور کل میں نے ماں کو ملنے جانا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ میں ماں کو مل ہی نہیں پاؤنگی اور بھاگم بھاگ آج ہی مجھے ماں کا جنازہ پڑھنے جانا پڑے گا
    خیر ہم 9 بجے تک پسرور پہنچ گئے
    جو بیٹیاں قریب تھیں وہ ہم سے پہلے پہنچ چکی تھیں اور انھوں نے غسل دے کر ماں کو آخری سفر کے لئے تیار کر دیا تھا
    عزیز واقارب 6 بیٹیاں اور 3 بہو ماں کو دیکھ دیکھ کر آنسو بہا رہی تھیں لیکن بے بس تھیں
    جنازے کا ٹائم ہو چکا تھا بیٹے اور داماد آئے اور ماں کی میت والی چار پائی کو اٹھا کر اس کے اصلی گھر اسے خالی ہاتھ تین چادروں میں لے جا کر رات کے گھپ اندھیرے میں شہر خاموشاں میں چھوڑ آئے

    اللہ تعالیٰ ہماری اس بہن کی مغفرت فرمائے اس کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور اسے کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے آمین ثم آمین

    ایسے ہی عیدالفطر والے دن ہم ابھی عید کی نماز پڑھ کر گھر آئے ہی تھے تو مجھے 9 بجے وزیر آباد سے میرے بھائی کی کال آگئی کہ شمائلہ فوت ہو گئی ہے
    اور 11 بجے اس کا جنازہ ہے

    شمائلہ میری بھتیجی تھی

    مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرے کان کیا سن رہے ہیں میں نے کہا بھائی کیا کہہ رہے ہیں
    کہنے لگے سچ کہہ رہا ہوں
    یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گری
    میں نے کہا ہم ابھی آرہے ہیں کہنے لگے نہیں آنا
    کرونا سے فوت ہوئی ہے ہم نے سب کو روک دیا ہے کوئی نہ آئے ہم بھی باہر قبرستان میں ہی جا رہے ہیں
    دفن کرنے کے بعد بھائی کی کال دوبارہ آئی کہ اب آپ آجائیں
    دل پھٹا جارہا تھا کہ میں اپنی لاڈلی کو دیکھ بھی نہیں سکی اور غسل بھی نہیں دے سکی ( ماں اور بیٹیوں نے غسل دیا تھا )

    اللہ اکبر کبیرہ یہ ہے ہماری زندگی کی حقیقت
    بعد میں گھر پہنچے تو شمائلہ کی امی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے رو رہے تھے کہ اےاللہ ہم نے سارا رمضان روزے رکھے نمازیں پڑھیں قرآن پڑھا عبادتیں کیں ہماری ماں نے بھی کیں اللہ تو اس کا صلہ عید والے دن دیتا ہے
    اے ہمارے پیارے اللہ تو نے اس کا صلہ عید والے دن ہمیں یہ دیا کہ ہم سے ہماری ماں کو جدا کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے پاس بلا لیا
    یہ تو بچے ہیں ناں جو اپنے اللہ جی سے شکوہ کر رہے ہیں
    اے میرے مالک تیری مرضیاں
    تیری حکمتیں تو ہی جانے جیسے تو چاہے کرے تجھے کون پوچھنے والا ہے
    ہم تیری رضا پہ راضی ہیں

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ میری شمائلہ کی مغفرت فرمائے اس کے درجات بلند کرے اس کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور اس کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنا دے اور اس کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

    آنے جانے کا کھیل جاری ہے
    کوئی کیاجانے اب کس کی باری ہے

    سر پہ منڈلا رہا ہے ملک الموت
    دل میں موت کا خوف طاری ہے

    آخر کار ہم سب جدا ہونگے
    چار دن کی یہ رشتہ داری ہے

    یوں تو بہت میٹھا ہے جام حیات
    مگر آخری گھونٹ اس کا کھاری ہے

    موت کی آخری ہچکی کو ذرا غور سے سن
    زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہے

    کل نفس ذائقۃ الموت

    میری عزیزات یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں

    جب ایسا ہی ہے توپھر ہم نے کبھی غور کیا کہ میرے پاس سفر آخرت کی کیا تیاری ہے؟؟

    ہمارا رب سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے

    ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں قیامت کے دن تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا
    پس جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور یہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے
    آیت نمبر 185

    یعنی موت تو ہر ایک کو آ…

  • آزادی کا استعارہ     تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ
    تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    کشمیر جنت نظیر وادی جو کہ ہندو بنیے کی قید میں ہے اور آزادی کی خاطر اٹھنے والے ہر قدم کو اپنے ظلم کا نشانہ بنانا بزدل بھارتی وحشیوں کا پرانہ وطیرہ ہے۔

    آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے بھارت نے کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن جس قدر ظلم و ستم کئے گئے آزادی کی تحریک اس قدر مضبوط ہوتی گئی۔

    آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکنے اور نوجوان نسل کو ایک نئی مشعل راہ پر گامزن کرنے والے مجاھد برھان مظفر وانی نے جو کہ بھارت کے ظلم وبربریت سے تنگ آکر ظالموں کا ہاتھ روکنے اور بنیے سے چھٹکارا پانے کے لئے قلم کتابیں چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا۔
    برھان وانی نے تحریک آزادی کو مضبوط اور مستحکم کیا اور نوجوانوں میں آزادی کا شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کا اصلی چہرہ اور کشمیر پر ہونے والے مظالم کو پوری دنیا پر ویاں کیا۔
    برھان مظفر وانی جیسے عظیم مجاھد کو دیکھ کر بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگی ظالموں کو روکنے اور آزادی کی خاطر جان قربان کرنے کا عظم مصمم کیا جس سے مظلوم کشمیریوں کی آس کے دیے ظلم کی آندھیوں سے بجھنے کے بجاۓ اپنے لڑکھڑاتے قدم جمانے میں کامیاب ہوۓ۔
    نئی امیدوں اور امنگوں نے کشمیریوں کو ظلم کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجاۓ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بنا دیا۔

    بھارتی بزدل فوج برھان مظفر وانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آزادی کی جدوجہد سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہر طرف سے بھارت کو جب شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو برھان وانی ان پر ایک بپھرے طوفان کی مانند نمودار ہوئے اور بھارتیوں کو چَھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

    جبکہ بھارت برھان مظفر وانی کو شہید کرکے آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا بلکہ اس شہادت نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت بخشی۔

    اس مرد مجاھد کا جنازہ تاریخی جنازہ تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور کئی دفعہ جنازہ پڑھایا گیا۔

    "جس دھج سے کوئی مقتل سے گیا وہ شان سلامت رہتی ہے”
    "یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    بھارتی بزدل فوج نے ان کے جنازے پر انکے نواحی گاؤں کی طرف راستوں کو بند کردیا اب جبکہ ان کی برسی کے موقع پر بھی بھارت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے کہ اس مرد مجاہد کے نواحی گاؤں کی طرف جانے والے رستوں کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اس فوج کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    بھارت نے اگر ایک برھان وانی کو شہید کیا ہے تو کشمیر سے ہزاروں برھان وانی شہادت کی تمنا دل میں لئے اور ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے حق کی راہوں پر نکل چکے ہیں۔

    برھان مظفر وانی کو شہید کرکے مٹانے والوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں اور برھان مظفر وانی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے ان کی سوچ انکا نظریہ اور مقصد قائم و دائم رہا اور نئے جوش و جذبے سے پروان چڑھا برھان وانی ایک سوچ بن چکا ہے جس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    بھارتی فوج کشمیریوں کی انکھیں تو چھین سکتی ہے لیکن آزادی کے خوابوں کو کبھی نہیں چھین سکتی جس قدر مظالم زیادہ ہوں گے آزادی کی تحریک بھی اس قدر تقویت پکڑے گی اور مستحکم ہوگی شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں جاۓ گا اس کا صلہ آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    ہم بحیثیت پاکستانی شہری اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ بھارت کے مظالم کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ مظلوم کشمیریوں کو ظلم سے بچایا جاسکے اور انکا حق خودارادیت دیا جاۓ تاکہ وہ بھی ہندو بنیے کے مظالم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد فضاؤں میں اپنی زندگی بسر کرسکیں۔

    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

  • جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور    تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور…!!!
    تحریر:جویریہ بتول

    ایک بہت ہی گھٹیا اور اخلاقی برائی جو ہماری نجی زندگیوں سے لے کر سماجی رویوّں میں اس حد سرایت کر چکی ہے کہ ہمیں اس کے مضر اور انتہائی منفی اثرات کا احساس تک نہیں ہوتا…!!!
    بحیثیت مسلمان ہمیں تو اور ہی زیادہ اس برائی سے بچنے کی تعلیم ملی ہے:
    اللّٰہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
    "بے شک اللّٰہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا،جو جھوٹا اور منکر حق ہے…”(الزمر)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور چاہیئے کہ جھوٹی بات سے پرہیز کرو…”(الحج)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ…”(التوبہ)۔
    احادیث میں جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
    شرک،عقوقِ والدین کے بعد بڑا کبیرہ گناہ کہا گیا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بار بار جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی…
    ایک مجلس میں بار بار یہ بات دہراتے جاتے کہ جھوٹ سے بچو اور جھوٹی گواہی…
    صحابہ حیران ہوئے کہ شاید آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہی بات دہراتے رہیں گے(صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو نفاق کی ایک خصلت قرار دیا کہ منافق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے…(صحیح بخاری)۔
    سنی سنائی باتیں آگے پھیلانے والوں،تحقیق سے دامن بچانے والوں کو بھی جھوٹے شمار کیا گیا ہے…
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے…”(صحیح مسلم)۔
    لیکن آج ہم جس طبقہ کا بھی جائزہ لے لیں،جھوٹ عام ہے…
    وہ سیاسی ہو یا کاروباری…
    مذہبی ہو یا معاشرتی…
    انفرادی ہو یا اجتماعی…
    ہم جھوٹ کی آمیزش سے ہر معاملہ کو آلودہ کر دیتے ہیں…
    تاجر جھوٹ کی بنیاد پر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کاروبار کرتا ہے…
    سیاست کے میدان میں جھوٹے وعدے کر کے ان سے مکر جایا جاتا ہے…
    عدالتوں میں جھوٹی گواہی کے لیئے لوگ تیار ہو جاتے ہیں…
    جھوٹ کی بنیاد پر مخالفین کو پھنساتے اور مقدمات بنا دیتے ہیں…
    ذاتی زندگی کے حوالے سے جھوٹ کی بنیادوں پر ہوائی قلعے اور جھوٹے سٹیٹس بناتے ہیں…
    جو آہستہ آہستہ رازوں سے پردہ اٹھا کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں…!!!
    کیوں نہ خود کو سیدھے اور صاف طریقے سے متعارف کروا کر تمام اُلجھنوں کو سلجھا دیا جائے…
    جو ہوں بس اس پر فخر کرنے کی عادت رہے…دنیاوی مال و متاع کم ہو یا زیادہ یہ بڑائی کا کہیں بھی معیار نہیں بتایا گیا…
    ہاں دنیا کی زینت ضرور ہے…اور اسے بھی اپنے لیئے صدقہ جاریہ بنانا چاہیئے…
    اپنے بارے میں جھوٹ پر مبنی مصنوعی اونچائی والا تعارف نہیں دینا چاہیئے…
    اس طرح کہیں رشتہ مانگنے چلے جائیں تو درست اور سچی معلومات دینے سے گریز کیا جاتا ہے…
    کہیں کسی سے کوئی رہنمائی چاہی جائے تو ملاوٹ دکھائی دے گی،اخلاص اور سچ کی بنیاد پر کوئی بات کرنے پر تیار نہیں ہو گا…
    کسی سے جھوٹی باتیں منسوب کر دینا عام ہے…
    بدگمانی اور حسد کی بنیاد پر تہمتیں لگانا…
    اور بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے…!!!
    اولاد والدین کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں اور درِ پردہ بہت کچھ منفی جا رہا ہوتا ہے…
    بلکہ بعض اوقات میاں بیوی جیسا قربت والا رشتہ بھی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی دکھائی دیتا ہے اور اپنا اپنا مفاد بس…
    سچ ہمیشہ سکوں،راحت اور دل کا اطمینان دیتا ہے اسی لیئے حدیث میں سچ کو اطمینان کہا گیا اور جھوٹ کو شک کا سبب…
    سچ بول کر انسان ہواؤں کے سنگ آزادی سے اُڑ سکتا ہے…
    جبکہ جھوٹ پر ضمیر ملامت کرتا رہتا ہے…
    سچی بات میں اگر وقتی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ جائے لیکن اس کے روشن اثرات بدیر سہی اثر انداز ضرور ہوتے ہیں…
    ہم صرف جھوٹی انا کے قیدی بن جاتے ہیں اور سچ کا اعتراف و اقرار گراں محسوس ہوتا ہے…
    حالانکہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے…(صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    سچ ایک بار بولنا پڑتا ہے اور اس کی تصدیق کی راہیں اللّٰہ تعالٰی خود ہی ہموار اور آسان کر دیتا ہے جبکہ جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے…
    یہ ہر موڑ پر ہر انداز میں وضاحتیں مانگتا ہے اور دامن میں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں بچتا…
    پچھلے دنوں بہت سی بہنوں کے ساتھ لکھنے کے حوالے سے واقعات پیش آتے رہے جو انہوں نے دلچسپی کے لیئے شیئر بھی کیئے کہ ان کی تحاریر کو دوسرے لوگوں نے من و عن کاپی کر کے اپنے نام سے شائع کیا،جب وضاحت مانگی گئی تو دھڑلے سے کہتے کہ نہیں یہ چیز ہماری ہے…
    مذید سمجھایا گیا تو مان گئے مگر جھوٹی وضاحتیں دے دے کر تھکے اور شہرت کا طعنہ دیتے ہوئے بھڑاس نکالی…
    حالانکہ شہرت کے رسیا تو وہ لوگ ہیں جو کسی کی محنت اور کاوشوں کو محض ایک کلک سے اپنے نام کر لیتے ہیں اور جھوٹی داد کے حقدار بنتے ہیں…
    یقیناً اس پر اُن کا ضمیر انہیں ملامت بھی کرتا ہو گا…؟
    اگر کسی کی چیز ہمیں بہت ہی پسند آئے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم خیانت سے بچتے ہوئے…دل ذرا بڑا کر کے اس چیز کو اس کے لکھنے والے کے نام سے ہی آگے کر دیں،تب ثواب کے مستحق بھی رہیں گے اور خیانت کے ارتکاب سے بھی بچ جائیں گے…
    اور حقیقی محنت کار کے لیئے کسی پریشانی کا باعث بھی نہیں بنیں گے… ورنہ تو نیکی برباد گناہ لازم والی صورت حال ہی ہو گی ناں…
    آج کل سوشل میڈیا نے اس بات کو اور ہی آسان بنا دیا ہے اور آگے کا پیچھے،پیچھے کا آگے اور رد و بدل کا کام سیکنڈز میں کر لیا جاتا ہے…
    ایک انتہائی بہترین قلم کار بہن بتا رہی تھیں کہ میں نے ایک دفعہ شاعری کے مقابلے میں اپنی شاعری بھیج دی تو آگے سے جواب آیا یہ تو کاپی ہے…
    یعنی ان کی شاعری پہلے ہی چوری ہو کر مقابلے کی زینت بن چکی تھی…!!!
    اُن کے بقول جب اپنے پاس موجود پوسٹرز تصدیق اور ثبوت کے لیئے بھیجے تو تب بات ان کی سمجھ میں آئی کہ معاملہ کیا ہوا؟
    ایک اور دلچسپ واقعہ نے تو آنکھیں ہی کھول دیں کہ ایک محترم نے ایک صاحب کا کالم اٹھا کر آٹھ دس اخبارات میں بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ چھپوا لیا…اور داد وصول کی…
    یہ بہت بڑی ادبی خیانت ہے جس کا ادراک کرنے کی ہمیں ضرورت ہے…!!!
    ہمیں چاہیئے کہ ہم ترقی کے جس زینے تک بھی پہنچ جائیں سچ اور امانت ہمارا زادِ سفر رہیں تبھی ہم ایک مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں اور وقار و مرتبہ بھی بنا سکتے ہیں…!!!
    اس معاشرے میں اصلاح کے بیج کو بار آور ہوتا دیکھ سکتے اور رہبری کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں.
    ہم جتنی دیر میں بے چینی کا سودا کرتے ہیں،اس سے ذرا زیادہ دیر سہی اطمینان اور حقیقی خوشی کی تجارت بھی کر سکتے ہیں…
    فریب کی ملمع کاری اور جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہمارے اندر کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے…
    پھر ہم جھوٹ پر اُٹھتی عمارت سے کچھ وقت کے لیئے مستفید ہو بھی جائیں تو ایک بھاری جوابدہی کا بوجھ کندھوں پر ضرور لاد لیتے ہیں…!!!!!
    ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی اور اس معاشرے کی سچ اور انصاف کے اصولوں پر تربیت اور رہ نمائی کرنی ہے تاکہ معاشرہ میں مثبت سوچ، حقیقی تبدیلی،محنت اور شفافیت کے پھول کھِلیں…
    ایسی امیں فضائیں چلیں کہ جہاں سانس لے کر دل گہرے سکوں کی وادی میں اُتر جائے اور اپنی معاشرتی سوچ پر بجا طور پر فخر محسوس کرنے لگے…آمین…!!!!!

  • کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟  تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟ تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟

    نادیہ بٹ

    سچ کہہ دوں اے برہمن اگر برا نہ مانے
    تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے.

    القرآن:
    کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکرو وتومنون بالله
    ترجمہ
    "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو”
    اسلام سراسر خیر اور معروف ہے معروف ہر وہ اچھائی ہے جس کو فطرت سلیمہ اچھائی مانتی ہے اور منکر ہر وہ برائی ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کر دے۔
    اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کی صرف دعوت تو دی جائے گی لیکن امر’آرڈر یا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا. کسی غیر مسلم کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا, لیکن اگر وہ امن و امان میں خلل ڈالے تو امر کی قوت کو ضرور حرکت میں لایا جائے گا۔
    لا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض و فساد کبیر (سورة توبہ ٧٣پ ١٠)
    ترجمہ "یعنی اگر تم نے یہ نہ کیا تو زمیں میں فتنہ فساد پھیل جائے گا”

    دشمنانِ اسلام کہتے چلے آئے ہیں کہ "اسلام تلوار کے زور سے پھیلا” ان کو اعتماد ہے اپنے زبردست پراپیگنڈا اور تحریری قوت پر وہ جانتے ہیں کہ جھوٹی بات بھی اگر بار بار دھرائی جائے اور مسلسل کہی جائے تو سننے والوں کے دل میں شک پیدا کر ہی دیتی ہے اس لیے کتنے مسلمان نوجوان ہیں تفصیلات سے بے خبر اور نا واقف ہونے کے باعث ان کے پراپیگنڈے سے کم و بیش متاثر ہو جاتے ہیں
    مگر حق یہ ہے کہ دشمنوں میں سے کوئی بھی آج تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

    ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ …….عہد رسالت میں جو لڑائیاں پیش آئیں ان کے بیان کے بارے میں ہمارے مورخین نے بڑی بے احتیاطی کی ہے جس کی وجہ سے مخالفین کو بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور نا واقف لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں آنحضور ﷺ کے سامنے جتنے معرکے پیش آئے وہ دو قسم کے ہیں
    (١) جس میں آپ ﷺ نے شرکت فرمائی وہ غزوہ ہے۔
    (١١)جس میں آپ خود شریک نہ تھے وہ سریہ کہلاتا ہے۔

    اکثر جماعتیں جو لڑنے کے علاؤہ کسی دوسرے کام کے لیے بھیجی گئیں ان کو بھی مورخین نے سریات کے ذیل میں شامل کر لیا ہے حالانکہ اصل لڑائیوں کی تعداد کم ہے ان کو بھی سریہ میں شامل کر لیا جو صرف دو تین افراد پر مشتمل تھیں یا ان کے بھیجنے کے مقاصد کچھ اور تھے.
    تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی 6564 اور کل مقتول 759تھے اور مسلمانوں میں سے کل 259 شہید اور صرف ایک بزرگ قید ہوئے
    6348 قیدیوں کو آنحضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے غزوہ حنین کے بعد آزاد فرما دیا ستر قیدی بدر کے تھے جن کو فدیہ ادا کرنے پر رہا کر دیا

    اب ان اعداد کے مقابلے میں دنیا کی دوسری مذہبی و سیاسی لڑائیوں کے قیدیوں اور مقتولین کی تعداد دیکھی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے صرف مدافعت کے لیے مجبور ہو کر تلوار ہاتھ میں اٹھائی تھی کسی اور مقصد کے لیے نہیں لڑے تھے
    غیر مسلم کے مقتولین کے خوفناک اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔۔
    جنگ عظیم اول جو کہ چار سال تک جاری رہی ان اعداد و شمار میں قیدی اور زخمی سپاہیوں کا شمار داخل نہیں مقتولین کی تعداد قریباً چار کروڑ بنتی ہے ۔

    مدعی نبوت ﷺ گو بظاہر بشریت میں تھے لیکن اپنی معنوی زندگی،اپنے معجزانہ اخلاق،اپنے علم و معرفت اپنے ربانی کرشموں کی بناء پر اخلاق کے بہت بلند مرتبہ پر فائز تھے…
    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب عرب میں آپ ﷺ کی نبوت چرچا سنا تو اپنے بھائی انیس کو تحقیق کے لیے بھیجا انہوں نے واپس آ کر پیکر نبوت کا نقشہ ان الفاظ میں کھنیچا "میں ایک ایسے شخص کو دیکھ کر آیا ہوں جو بھلائیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکتا ہے (بخاری)
    اسلام کے سب سے اول اعلان دعوت کے موقع پر دشمن قریش نے خود گواہی "محمد ﷺ ! تیری بات ہم نے آج تک جھوٹ نہ پائی

    ہجرت کے آٹھ سال بعد ہرقل قیصر روم کے دربار میں ابو سفیان کی نبی کریم ﷺ کی صداقت پر گواہی (صحیح بخاری) فتح مکہ پر صفوان بن امیہ کا اسلام لانے کا واقعہ ۔۔۔۔ (صحیحح مسلم)
    ہندہ رضی اللہ عنھا قبل از اسلام خاندان نبوت کی قدیم ترین دشمن فتح مکہ پر بھیس بدل کر گستاخی سے باز نہیں آئی لیکن دربار رسالت میں پہنچ کر
    آپ ﷺ کے حسن خلق سے متاثر ہوئے بے اختیار بول اٹھی یا رسول اللہ ﷺ سطح زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے مبعوض نہ تھا لیکن آج آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں ہے آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم ہمارا بھی یہی خیال ہے۔
    یہودی عالم جو قرض کی معافی پر مسلمان ہوا اور اپنا نصف مال صدقہ کر دیا (مشکوۃ)
    ثمامہ بن آثال یمامہ کا رئیس اسلام کا مجرم تھا گرفتار ہو کر آیا تو مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تین دن بعد آنحضرت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کی بند گرہ کھول دی اور رہا کر دیا اس واقعہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔(بخاری شریف)
    یہودی عالم عبداللہ بن سلام آپ ﷺ کا فرمان۔۔۔۔ سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو۔۔۔۔۔سن کر مسلمان ہو گئے. (بخاری شریف)
    ضماد زمانہ جاہلیت میں آپکے دوستانہ تعلقات رہ چکے تھے وہ جنون کا علاج کرتے، آپ ﷺ نے ایک تقریر کی ان الفاظ سے شروع کیا
    الحمدللہ نحمدہ و نستعینه من یھدہ اللہ فلا مضل له ومن یضلله فلا ھادی له واشھدان الا اله اللہ وحدہ لا شریک له واشھدان محمدا عبدہ ورسوله
    اس پر ان فقروں کا یہ اثر ہوا وہ بار بار سننے کا مشتاق ہوا اور کہا ہاتھ لائیں میں بیعت کرتا ہوں (صحیح مسلم)
    ایسے لا تعداد واقعات سے اسلام کی عظمت کا ثبوت ملتا ہے۔
    آج امریکہ اور یورپی ممالک میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا دین ہے دیکھا جا رہا ہے اُن کو کون تلوار کے زور پر اسلام قبول کروا رہا ہے؟
    یہ تو اللہ سبحان و تعالیٰ کا وعدہ ہے:
    هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله