Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ   بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ
    محمد نعیم شہزاد

    "ابتدا ہے رب جلیل کے نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے”
    زمانہ طالب علمی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر کیے جانے والے سوال و جواب کے انعامی شو نیلام گھر کے میزبان طارق عزیز کے یہ الفاظ آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستانی 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کی پاکستان سے والہانہ محبت اور لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے سے ہی اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔آپ نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی مایہ ناز صداکاری کے لیے بہت عروج پایا اور یہی وجہ تھی کہ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز ہی پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

    طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور صاحب کمال تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔

    انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے صدارتی تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا 1970 کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں ان کافعال کردار تھا۔ بعدازاں وہ اپنی پی ٹی وی اور فلم کی مصروفیات کے باعث سیاست کو وقت نہ دے سکے۔ بھٹو کے وارثان و قائمقامان کی سیاست سے دل برداشتہ ہو گئے اور پی پی پی سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بعدازاں میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور 1997ء میں لاہور سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ طارق عزیز علم و ادب اور کتاب سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وسیع مطالعہ والے اور صاحب قرطاس ہیں
    ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔

    نمونہ کلام: پنجابی غزل

    گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
    میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
    جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
    ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
    ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
    تے حکم عالی جناب کیہ اے

    نمونہ کلام از اردو شاعری: آزاد نظم سے اقتباس

    دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید
    اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
    ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
    تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
    خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
    جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
    زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید

    طارق عزیز مسحور کن شخصیت کے مالک تھے اور ناظرین و حاضرین کو اپنی گفتگو کے سحر میں لینے کا ملکہ رکھتے تھے۔ پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔

    "ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے،طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔”

    علم و ادب اور فن اداکاری و صداکاری کی عہد ساز شخصیت 84 برس کی عمر میں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی اور اس دار فانی کو خیر باد کہہ دیا۔

  • نوجوان نسل کے مسائل   تحریر: ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    نوجوان نسل کے مسائل تحریر: ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    نوجوان نسل کے مسائل
    ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر
    نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور مستقبل کی تمام تر ذمہ داریاں انہی نوجوانوں کے کندھوں پر ہوتی ہیں ۔اگر یہی نوجوان راہ راست سے بھٹک جائیں تو قوم کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے اور دوسری قومیں اس پر ٹوٹ پڑتی ہیں ۔
    ہمارے نوجوان آج کل ہر قسم کی بُرایئوں میں ملوث پائے جاتے ہیں مثلاً فحاشیت’ جُوا بازی’ منشیات وغیرہ ہمارے نوجوانوں میں ایسے بہت سارے مسائل جنم لے چکے ہیں جن کا تدراک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بحثیت قوم ہم پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اِن مسائل کا بروقت تدراک کریں ۔
    انسانی زندگی کے تین ادوار ہیں۔ بچپن۔ جوانی۔اور بڑھاپا۔
    لیکن ان تین ادواروں میں انسانی زندگی کا جو کٹھن دور ہوتا ہے وہ جوانی کا دور ہے ۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کے اندر عزم’ ہمت اور ولولے انگڑائیاں لینے لگتے ہیں اور یہی سے اس کی بلوغت کا دور بھی شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہماری وادی میں لوگ اپنے بچوں کی شادیاں تیس(30) پنتیس(35) سال کی عمر میں کرتے ہیں یہ ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔کبھی ماں بات ٹال دیتی ہے اس لئے کہ ہمارا بچہ ابھی پڑھ رہا ہے روزگار ملے گا تو اچھی طرح سے شادی کریں گے اور کبھی باپ ۔۔۔ مگر دیر سے شادی کرنے سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کا نفسیات پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے خواہشات کا بڑھتے جانا۔ یا ان کا پورا نہ ہونا بڑا تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔اور جب اُن کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔جنہیں اعصابی امراض یعنی (HYSTERIA) کہتے ہیں
    ان جانے خوف۔ گھبراہٹ۔وحشت۔مایوسیی ، چڑچڑاپن۔تشویش۔وحشتناک خواب وغیرہ وغیرہ اور ان کی وجہ سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔نیند کم آتی ہے رنگ زرد ہو جاتا ہے۔گیس اور بدہضمی سےکھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔نظر کمزور ہوتی ہے پڑھنے لکھنے کو دل نہیں کرتا ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ صحت خراب رہنے لگتی ہے اور یہی سے انسان چور دروازے ڈھونڈنا شُروع کر دیتا ہے اور سماج میں بھی اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔ اس سب کے ذمہ دار وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کی نفسیات کو پس پُشت ڈال دیتے ہیں اُن کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور نتیجتاً بہت سی بُرائیوں کو دعوت دیتے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ یہی سے سب بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔ نفسانی خواہش کا پورا نہ ہونا انسان کو منشیات کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اب نشے میں ہی وہ سکون حاصل کرسکتا ہے۔ہمارے سماج میں اکثر جوان ان جرائم میں ملوث ہو چُکے ہیں کوئی نشے کا عادی ہے تو کوئی فحاشی کا اور یہ جرائم روز بہ روز بڑھتے ہی جاتے ہیں ۔
    دوسری اہم بات جو جوان منشیات کے عادی ہو چکے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ چوریوں میں ملوث پائے جاتے ہیں نشہ نہ ملنے کی صورت میں وہ گھر کی کوئی بھی چیز بیچ کر یا دوسروں کی چوری کرکے اپنے نشے کو جلا بخشتے ہیں۔
    چونکہ ہماری وادی میں نوجوانوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں ان میں بے روزگارنوجوانوں کی تعدا میں اضافہ ہونا۔ روز روز ہڑتالیں ۔خوف و ہراس ۔ بہت سے ایسے مسائل ہیں جس نے یہاں کے نوجوان پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔غرض کہ ہر طرح سے ہمارے جوانوں کو ، ہمارے سرمائے کو ایک منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ۔ اب بحثیت قوم ہم پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو ہم سے بن سکے وہ ہم کریں، اگر ہم زیادہ نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنے حصے کی کوشش ضرور کریں پھر فیصلہ اللہ پہ چھوڑدیں ، اللہ کرے کہ ہمارے نوجوان جن کے ہاتھوں میں ہمارا مستقبل ہے وہ سنور جائیں اور ترقی کی منازل طے کرتے چلیں ، میری اپنی قوم سے یہی گُزارش ہے کہ اپنے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور مستقبل کے معماروں کو راہ راست پر لانے کی بھرپور کوشش کریں ۔اللہ ہمارے مستقبل کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔
    جوانوں کو میری آہِ سَحر دے
    پھر ان بچوں کو بال وپَر دے
    خدایا آرزو میری یہی ہے
    میرا نورِ بصیرت عام کردے

  • حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور   تحریر:عاشق علی بخاری

    حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور تحریر:عاشق علی بخاری

    میں نانا جیسا بنوں گا!!!
    تحریر:
    عاشق علی بخاری

    تاریخ میں جسے بھی بڑا کردار ادا کرنا ہو اس کی تعلیم و تربیت بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے اللہ تعالی کو ہی معلوم ہوتا ہے کہ کب کس نے اور کس وقت تاریخ کے رخ کو تبدیل کرے گا اور وہی یہ سارا انتظام کرتا ہے. جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے والد مصر کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ بیٹے کو لے کر مصر آجاؤ. عمر رحمہ اللہ کی والدہ ام عاصم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے مشورہ کریں. انہوں نے کہا بالکل تمہیں جانا چاہیے وہ تمہارا شوہر ہے لیکن عمر کو یہیں چھوڑ جاؤ یہ تم میں ہم سب سے زیادہ مشابہ ہے. تاکہ مدینہ جو علم کا گھر ہے یہاں رہ کر تمہارے بچے کی بہتر تربیت ہو سکے گی لہذا اسے ہمارے پاس چھوڑ جاؤ. خود ابن عمر رضی اللہ عنہ خود وقت کے محدث اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں. بچپن میں جب عمر رحمہ اللہ پڑھ کر آتے تو اپنی والدہ سے کہتے "میں نانا جیسا بنوں گا” والدہ بھی ان سے مذاق کرتی اور حیران ہوتیں. تقدیر انسان کو ہمیشہ اس راستے پر چلاتی رہتی ہے جہاں اس کی منزل ہوتی ہے، آپ اپنے نانا جیسا بننا چاہتے تھے لیکن اللہ رب العالمین نے آپ کو اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رحمہ اللہ جیسا بنا دیا یہی وجہ آج آپ کو لوگ عمر ثانی کے نام سے یاد کرتے ہیں.
    جن اساتذہ سے علم حاصل کیا ان میں سے ہر ایک علم کا سمندر ہے، انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ، ابو بکر بن عبد الرحمن بن ابو بکر، آپ کے استاذ خاص صالح بن کیسان اور عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ ہیں. آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بھی اپنے پیارے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ رہتی تھی. صالح بن کیسان رحمہ اللہ سے خط و کتابت اور جب کبھی مدینہ آتے یا راستے سے گزر رہے ہوتے ان سے اپنے بیٹے کی تعلیم کے متعلق سوال و جواب کرتے، جہاں کمی نظر آتی وہاں سختی کا حکم دیتے. آپ کے اساتذہ بھی آپ پر خاص توجہ دیتے سعید بن مسیب رحمہ اللہ خلیفہ وقت کے لئے بھی کھڑے نہ ہوتے لیکن جب اپنے شاگرد کا بلاوا آتا تو ضرور جاتے. اللہ تعالی نے آپ کو یہ شرف بخشا کہ آپ نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا، اس کے ساتھ ساتھ عربی ادب، شعر و شاعری پر بھی عبور حاصل کیا. احادیث کا بھی علم حاصل کیا اگرچہ آپ نے احادیث صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے حاصل کی لیکن زیادہ تر فقیہ و مفتی مدینہ عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں. آپ کی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت کا خاص نتیجہ تھا کہ لڑکپن میں ہی قرآن پڑھ کر زار و قطار روتے. اپنے اساتذہ کا ادب اور ان جیسے اخلاق اپنانے کی کوشش کرتے اور اپنے ساتھیوں میں انہیں یاد کرتے اور کہتے استاد محترم عبیداللہ کی مجلس میں بیٹھنا 1000 درہم سے بہتر ہے. گورنر مدینہ بننے کے بعد بھی اپنے اساتذہ کی مجلس میں آتے. حتی کہ جب آپ خلیفہ بن گئے اس وقت بھی اپنے اساتذہ کو نہیں بھولے اور جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو اپنے اساتذہ کو یاد کرتے کہ اگر آج میرے استاد و مربی عبیداللہ رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو میں ان کی رائے کو مقدم رکھتا. یہی وجہ ہے کہ ان مختصر ترین دور بھی بنی امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہرا دور کہلاتا ہے.
    ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری دنیا و آخرت بہتر ہو. اپنے بچوں دین کی تعلیم ضرور دیں اس لیے کہ یہ علم دنیا و آخرت میں رب کی رضا کا باعث ہے.

  • استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    سوشل میڈیا آج کل ہمارے اذہان پر بری طرح سے حاوی ہے، جہاں ہر طرف فرضی میدان جنگ سجے رہتے ہیں ، مختلف ٹرینڈز اور مہمات چلتی رہتی ہیں ۔ اس جنگ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ، لیکن عموما ہمارے ہاں فریقین اپنے ذاتی تعصب ،رجحان اور مسلکی ، سیاسی و معاشی وابستگی کی بنیاد پر نبرد آزما رہتے ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ دنوں ایک مہم یا ٹرینڈ #الحجر_الأسود_مكانه_الكعبة_فردوه ( حجر اسود کا مقام کعبہ ہے اسے وہاں لوٹا دو )کے نام سے بڑے زور وشور سے گردش کرتا رہا ، اگرچہ اردو حلقوں میں اس کی ابتداء ابھی ہوئی ہے اور اس شدت سے اس بارے میں گفتگو نہیں کی جارہی مگر عرب اور ترک حلقوں میں اس بارے میں کچھ عرصہ قبل سے کافی زور و شور سے مباحثے چل رہے تھے ۔
    اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ کہ سلطنت عثمانیہ کو قرامطہ کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے کہ جیسے قرامطہ نے حرم مکی سے بزور قوت حجر اسود اٹھایا ، بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا اور حجر اسود اپنے ساتھ لے گئے ، وہی طرز عمل سلطنت عثمانیہ کا تھا۔یقینا حجرا سود کی چوری ایک ایسا معاملہ ہے جس سے مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ مشتعل اور ان کے جذبات کو بھڑکایا جا سکتا ہے ۔
    اس معاملے میں زیادہ گرمجوشی اس وقت آئی جب سعودیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ترکی کو حجر اسود کے ٹکڑے واپس کرنے چاہئیں ، کیونکہ یہ دو ارب مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور اس عمل کو اس شخص نے ایسی چوری کا نام دیا جس پر ترک بڑی ڈھٹائی سے فخر کرتے ہیں ۔
    یہاں اس معاملے کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ابتداء میں دو تین باتیں گوش گزار کرنا ضروری ہیں: پہلی بات تو یہ کہ سلطنت عثمانیہ انسانوں کی ہی قائم کردہ ایک حکومت تھی جس میں نہ تو فرشتوں کی سی معصومیت تھی اور نہ ہی وہ شیطان کی مانند مجسم شر ۔
    خیر و شر دونوں معاملات اس میں موجود تھے ، چنانچہ نہ تو ان کی غلطیوں کا بے جا دفاع کرنا چاہئے اور نہ ہی غلطیوں کو بنیاد بنا کر اس سلطنت سے حاصل ہونے والی تمام تر خیر و بھلائی کو بیک جنبش قلم رد کرنا چاہئے ۔
    دوسرا یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حالیہ عرصے میں اس مسئلہ کو ہائی لائیٹ کرنے کی وجہ دینی حمیت و غیرت یاشرعی بنیادنہیں بلکہ سیاسی وجوہات ہیں ۔
    ورنہ ماضی میں ترک مساجد میں حجر اسود کے ٹکڑوں کی موجودگی سے متعلق شور کیوں نہ اٹھایا گیا؟ سعودیہ وترکی کے مابین حالیہ کشمکش سے قبل اس طرح کا مطالبہ کبھی کیوں نہ سنا گیا؟
    ایسا تو نہیں تھا کہ یہ کوئی راز ہو جو لوگوں کی نظروں سے مخفی تھا اور اچانک ہی اس کا انکشاف ہوا اس بات سے تو سبھی واقف تھے ، بلکہ شاید آپ کو تعجب ہو کہ سعودی میڈیا میں اس سے قبل اس کا ذکر ایک تاریخی واقعے کے طور پر ہوتا تھا جس کے ساتھ کسی کی مذمت و تنقیص یا حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔جس کا لنک آخر میں دیا گیا ہے )
    لیکن حالیہ کچھ عرصے میں چونکہ سعودی عرب اور ترکی کے باہمی معاملات کچھ بگڑ گئے تو فریقین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
    اس سلسلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بنیادی مسئلہ کا علم تو ہو کہ مسئلہ ہے کیا …؟ حجر اسود کے ٹکڑے استنبول پہنچے کیسے …؟اور ان کا حجم کتنا ہے… ؟
    مجھے بڑی حیرت ہوئی جب ایک اچھے خاصے دانشور شخص کی پوسٹ میں پڑھا کہ سلطان سلیمان قانونی 1571 ء میں حجر اسود کے چھ ٹکڑے ترکی لے گئے، اچھے خاصے سمجھدار شخص کا یہ حال ہے ، جسے یہ تک علم نہیں کہ سلطان سلیمان ایک تو خود اپنی زندگی میں کبھی مکہ مکرمہ گئے ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ 1571ء سے قبل ہی وہ وفات پا چکے تھے ۔
    بہرحال اس سلسلے میں سعودی نیوز ایجنسی "الوکہ ” کی جانب سے ہی نشر کردہ ایک رپورٹ سے معلومات ذکر کرتاہوں جس میں وہ سکوللو محمد پاشا مسجد کے امام محمد سانجاک کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    یہ پانچ ٹکڑے ہیں جن میں سے چار کا قطر لگ بھگ ایک سینٹی میٹر ہے جبکہ سب سے بڑا پانچواں ٹکڑا جو سلیمان قانونی کے مزار پر نصب ہے اس کا حجم 3 سینٹی میٹر ہے۔
    اس کی آمد کی تفصیل یہ ہے کہ کعبہ کی ترمیم و مرمت کے دوران کچھ ٹکڑے حجر اسود سے الگ ہو کر گر گئے ، کام کرنے والے کاریگر ان ٹکڑوں کو اپنے ہمراہ استنبول لے آئے ۔جب ان کی آمد کا چرچا ہوا تو انھیں تلاش کیا گیا کہ یہ ٹکڑے کن کے پاس ہیں انھیں انعام دے کر ان ٹکڑوں کو واپس اس کی جگہ پر نصب کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس دوران سنان پاشا معروف معمار نے تجویز دی کہ یہ ٹکڑے معزز مہمان کے طور پر ہمارے ہاں ہی باقی رہیں ۔
    پھر سنان پاشانے ان میں سے چار ٹکڑوں کو سونے کے فریم میں سجا کر سکوللو محمد پاشا مسجد میں( جسے وہ اس وقت تعمیر کر رہا تھا) مختلف مقامات پر نصب کیا جہاں آج تک یہ موجود ہیں ۔
    جبکہ چھٹا ٹکڑا جو ادرنا کی اسکی مسجد میں منبر و محراب کے درمیان موجود ہے یہ ان پتھروں کا حصہ ہے(جبکہ کچھ کے نزدیک حجر اسود کا ہی حصہ ہے ) جو کعبہ میں نصب تھے اور شدید بارشوں کی وجہ سے گر گئے ۔
    اس سلسلے میں قابل غور یہ کہ کیا سلطنت عثمانیہ کے اس عمل کو قرامطہ کے طرزعمل کے ساتھ تشبیہ دینا درست ہے ؟
    قرامطہ جنہوں نے یوم ترویہ (8 ذوالحجہ)کو بیت اللہ پر حملہ کر کے حجاج کرام کو شہید کیا ، ان کے اموال کو لوٹا اور حجر اسود کو اکھاڑ کر اپنے ہمراہ لے گئے۔
    قرامطہ نے وحشیانہ جارحیت ، بدترین مظالم کے ساتھ بیت اللہ کی حرمت اور دیگر کئی حرمات کو پامال کرتے ہوئے لوٹ مار کر کے اسے غصب کیا.
    جبکہ عثمانیوں نے مرمت کے دوران اس کے کچھ ٹکڑوں کو تبرک کے طور پر اپنے پاس پورے اعزاز کے ساتھ رکھا اور اسے ایک معزز مہمان کے طور پر جانتے ہوئے اس پر کی اپنی ہاں موجودگی کو باعث شرف سمجھتے ہیں ۔
    قرامطہ کے اس گھناؤنے عمل کا محرک کعبہ اور مسجد حرام سے ان کی نفرت و بغض تھا اور وہ کعبہ کے گرد طواف کو بتوں کی عبادت کی مانند سمجھتے تھے ، جبکہ عثمانی حرمین کے محافظ ، اس کی توقیر کرنے والے تھے ۔ ان دونوں کے درمیان بھلا کیسے برابری ہو سکتی ہے ؟
    یہاں ہمارا مقصد عثمانیوں کے اس عمل کا دفاع کرنا یا اس پر حسن و قبح کا حکم لگانا نہیں بلکہ محض حقیقی واقعہ سے آگاہی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرہم اس واقعتا دینی حمیت کی بنیاد پر شرعی تقاضوں کے ساتھ حل کرنے کے خواہش مند ہیں تو امت کے حقیقی رہنما ، علماء حق اس مسئلے پر مل کر بیٹھیں اور اس کا حل پیش کریں ، نا کہ اپنے سیاسی مقاصد اور حریف کونیچا دکھانے کیلئے الزام تراشی اور حقیقی صورتحال سے کہیں زیادہ واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے ۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی روز بروز اہمیت پکڑتا جا رہا ہے کہ اس مسئلے میں ہمیں سعودی شاہی خاندان یا اردگان کے کھینچے ہوئے محدود دائرے سے نکلنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہم تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں لیکن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کیلئے نہیں اس سے سیکھنے کیلئے !
    ان غلطیوں کے اعادے سے بچنے کیلئے جنہوں نے ہمیں آج اس حال تک پہنچایا۔

    الوکۃ نیوز ایجنسی پر حجر اسود کے ٹکڑوں کی إسطنبول آمد کے پس منظر پر تحریر کا لنک
    https://www.alukah.net/translations/0/35944/
    ماضی میں سعودی اخبار میں حجر اسود کے ان ٹکڑوں کے بارے میں رپورٹ کا لنک
    https://www.al-madina.com/article/119533

  • فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ہ لفظِ دُعا…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رب سے ملتی ہے یہ کال…
    دُعا کے لفظوں کے ہیں جو جال…
    دل کے یہ سب احساسات…
    کبھی اشکوں میں بہتے جذبات…
    دل کھول کر کبھی سب بتانا…
    کبھی خاموشی سے کُچھ کہنا…
    وہ جانتا ہے سبھی خیال…
    خوش کریں جو رہیں محال…
    اسے پھر بھی بلانا اچھا ہے لگتا…
    ایسے بندوں کی وہ دیتا ہے مثال…
    اُن کے لفظوں کو بنا کر چراغِ رہ…
    منزلوں کے حصول کی دلاتا ہے چاہ…
    میں تو شہ رگ بھی ہوں قریب…
    میں سنتا ہوں دعائیں اور مجیب…
    کرتا ہوں مقدر جو خیر ہو…
    پسند ہے مجھے دُور شر سے رہو…
    کبھی تو ملتا ہے ہمیں فائدہ فوری…
    کہیں کر دی جاتی ہے شر سے دوری…
    کہیں بنتی التجا ہے ذخیرۂ آخرت…
    جان سکے نہ نہیں یہ بندۂ حضرت…
    دعا تو نام ہے اک پکار کا…
    مجیب سے تعلق کی مہکار کا…
    بندے کا کام ہے کرنا التجا…
    اپنے معبود کو ہی پکارنا سدا…
    اُسے اچھی لگتی ہے یہ ادا…
    وہ دعاؤں کا ضرور دیتا ہے صلہ…
    یہ لفظوں کے جال نہ ٹوٹنے پائیں…
    دعا کے اثرات نہ چھوٹنے پائیں…
    پاس آئے نہ کبھی اپنے مایوسی…
    یہ دُعا ہی درد سے دیتی ہے خُلاصی…
    یہ نسخہ تجویز کردہ مالکِ شفا کا…
    جو باعثِ قرار،دلوں کی صدا کا…
    اس تعلق و ربط میں…
    اشک و ضبط میں…
    کبھی آئے نہ کوئی خلل…
    سفرِ رواں کی کہانی میں…
    لمحات مشکل آئیں یا کہ سہل…!!!!!
    بس جاری رہے یہ لفظِ دُعا…
    کہ یہی تو ہے اندازِ وفا…
    جو بے قراریوں کی ہے دوا…!!!
    کہ کسی مشکل کے حل میں…
    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • گلوان وادی کی جنگ  تحریر:عدنان عادل

    گلوان وادی کی جنگ تحریر:عدنان عادل

    گلوان وادی کی جنگ
    بہت سے موضوعات پاکستان کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ ہماری بقا اور سلامتی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان پر بات نہیں کی جاتی۔ مثلاً ہماری زندگی اور تہذیب کا انحصاربہت حد تک دریائے سندھ اورا سکے معاون دریاؤں سے ملنے والے پانی پرہے۔ لوگوں کوسندھ کے بارے میں تو کچھ معلومات ہیں لیکن اسکے معاون دریاؤں کا ذکر ہمارے تعلیمی نصاب کی کتابوں تک میں نہیں۔ خاص طور سے وہ دریا اور ندیاںجو دریائے سندھ کے بالائی‘ پہاڑی مقامات پر واقع ہیں۔ ایسا ہی ایک اہم معاون دریا گلوان ہے جو چین میں اکسائے چن کے علاقہ میںقراقرم کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور بھارت کے مقبوضہ لداخ میں جا کر ایک اور معاون دریا شیوک میں ضم ہوجاتا ہے۔ شیوک دریا ہمارے بلتستان میں آکر دریائے سندھ کا حصّہ بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب بھارت میں ہندو قوم پرست پاکستان کے دریاؤںکا پانی روکنے کی منصوبہ بندی اور اقدامات کررہے ہیں ہمیں ان تمام ندیوں‘ جھیلوں اور چھوٹے دریاؤں کا علم ہونا چاہیے جو ہمارے بڑے دریاؤں کو پانی پہنچاتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے چین اور بھارت کے درمیان جن مقامات پر سرحدی کشیدگی چل رہی ہے ان میں ایک جگہ گلوان وادی بھی ہے۔گزشتہ سوموار کو یہاں دونوں افواج کے درمیان جھڑپ میں ایک کرنل سمیت تین بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ گلوان ایک چھوٹا لیکن تیز بہاؤ کا اسیّ کلومیٹر طویل دریا ہے۔ مشرق سے شمال مغرب کی طرف بہتا ہے۔ اس دریا کی وادی کوہِ ِقراقرام کا جنوبی حصّہ ہے اور مقبوضہ لیہہ (لداخ)کے شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ہمارے بلتستان کے جنوب مشرق میں پڑتاہے۔وادی کا بیشتر حصّہ چین میں لیکن تھوڑا سا علاقہ بھارت کے غاصبانہ قبضہ میں ہے۔گلوان اور اسکے ارد گرد کا علاقہ سطح سمندر سے ساڑھے تیرہ ہزارسے اٹھارہ ہزارفٹ بلندی پر واقع ہے‘یہاں آکسیجن کم ہے اور سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ گرمی کے چار پانچ مہینوں میں اس علاقہ کا موسم کچھ قابل ِبرداشت ہوتا ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کیا جاسکتا ہے۔ گلوان کے بالکل شمال میں ڈیڑھ سو فٹ چوڑا قراقرم کا درّہ ہے جو تاریخی گزرگاہ ہے جو چین کے صوبہ سنکیانگ کوتبت سے منسلک کرتاہے۔ اس کے مغرب میں کچھ دُورسیاچن گلیشئیر واقع ہے۔ گلوان دریا کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسکا نام اسے دریافت کرنے والے لیہہ (لداخ )کے ایک باشندہ غلام رسول گلوان کے نام پر رکھا گیا جو برطانوی دور میں انکے ملازم تھے اور اِس دُور دراز‘ پہاڑی علاقہ میں مہم جوئی کرنے والے انگریزوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ برطانوی عہد تک اس غیر آباد مقام پر گلوان دریا کی مسافت کا کسی کو پتہ ہی نہیں تھا۔ غلام رسول نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دریا کے ساتھ ساتھ سفر کیا اور اس وادی کے بارے میں انگریزوں کو آگاہ کیا جس کے اعتراف کے طور پر برطانوی حکمرانوں نے اس دریا اور اسکی وادی کا نام اُن سے موسوم کردیا۔ جولائی 1962ئمیں بھارت کی گورکھا فوج نے گلوان وادی کے شمال میں ایک فوجی چوکی قائم کی جو درّہ قراقرم سے صرف اٹھارہ انیس کلومیٹر فاصلہ پر اور پونے سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسے دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او) کہتے ہیں۔اکتوبر اور نومبر 1962ء میں دونوں ملکوں کے درمیان لیہہ کے مختلف مقامات پر جنگ شروع ہوگئی۔ ان میں ایک گلوان وادی بھی تھی۔ چینی افواج کا پلہ بھاری رہا۔ چین نے اس علاقہ تک قبضہ کرلیا جسے وہ عارضی سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول قرار دیتا تھا۔ اس نے وادی میں اہم درّوں(پہاڑوں میں سے گزرنے والے قدرتی راستوں) اور اونچے پہاڑی کناروں پر قبضہ کرلیا جو فوجی برتری قائم رکھنے کے لیے اہم تھے۔ تاہم باسٹھ کی جنگ میں چین نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ بھارت کی درّہِ قراقرام کے پاس فوجی چوکی کو قائم رہنے دیا۔ اب بھارت اس چوکی کو باقاعدہ ایک فوجی اڈہ بناچکا ہے۔وہاں ایک ائیر فیلڈ بھی ہے جس پر جنگی جہاز اُتر سکتے ہیں۔ اس مقام سے بھارت اکسائے چن پر حملہ کرسکتا ہے جسے وہ چین کی بجائے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ حال ہی میں بھارت نے گلوان وادی کے ساتھ متصل دریائے شیوک کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اور سردی میںبرف سے جمے دریاؤں پر پینتیس پُل بنا کر ایک بڑی شاہراہ بنائی ہے ۔ چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ سڑک ایسے علاقوںسے گزرتی ہے جہاں سینکڑوں کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں ہے۔اسے صرف فوجی مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سڑک کے ذریعے بھارت دلت بیگ اولڈی کے فوجی اڈہ پر سارا سال زمینی راستے سے فوجی سپاہی اور ساز و سامان بھیج سکتا ہے جبکہ پہلے وہ صرف مخصوص ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی یہ کام کرسکتا تھا۔دولت بیگ اولڈی وہ مقام ہے جو کسی وقت گلگت بلتستان پرحملہ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب بھارت اس فوجی اڈہ سے لیکر اکسائے چن سے متصل فوجی چوکی (پی پی چودہ) تک ایک اور سڑک بنا رہا ہے۔ بھارت کی ان سرگرمیوں سے عیاںہے کہ وہ مستقبل میںچین کے ساتھ کسی فوجی معرکہ کی تیاریاں کررہا ہے ۔یہ خدشہ بھی ہے کہ امریکہ اور چین کی سرد جنگ بڑھ جائے تو بھارت اس علاقہ میںچین کے خلاف اپنے قریبی اتحادی امریکہ کو فوجی اڈے استعمال کرنے دے۔ اسی وجہ سے چینی فوجوں نے گزشتہ ماہ مئی کے شروع میںگلوان وادی میں چند میل آگے پیش قدمی کرکے اُس علاقہ میں بھی اپنی فوجی چوکیاں بنادیں جو اُس نیـ ’نو مین لینڈ ‘کے طور پر چھوڑاہُوا تھا۔ مئی میں ہونے والی جھڑپ کے بعد گلوان وادی میں چین اور بھارت دونوں نے اپنی اپنی افواج اور فوجی ساز و سامان میں اضافہ کردیا ہے۔ اس معاملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دِلّی کے حکمران گلوان وادی میں فوجی طاقت بظاہر چین کے خلاف بڑھا رہے ہیں لیکن وہ اپنی فوجوں کا رُخ کسی وقت اچانک بلتستان کی طرف بھی موڑ سکتے ہیں کیونکہ بھارتی پارلیمنٹ گلگت بلتستان کو اپنا حصّہ قرار دے چکی ہے ‘ حکمران جماعت کے وزراء بار بار یہ اعلان کررہے ہیں کہ بھارت گلگت بلتستان کو پاکستان سے چھین کر اپنی حدود میں شامل کرے گا۔ اس لیے گلوان میں جاری چین‘ بھارت کشمکش کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

  • کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    محلے کی بزرگ خاتون فوت ہوگئیں۔ بہو نے اسٹیٹس لگایا۔ میری ساس کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا ہے۔ نماز جنازہ فلاں مسجد میں ادا کی جائے گی۔ ساتھ ہی کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ کا عکس لگایا گیا جو نیگیٹیو تھی۔

    چند روز قبل ایک دوست کے بھائی جنوبی پنجاب میں فوت ہوگئے۔ جنازے میں چند قریبی دوست و رشتہ داروں نے اس لیے شرکت نہیں کی کہیں کورونا سے نہ مرا ہو۔ کچھ نے تو کال کرکے پوچھ لیا کیسے فوت ہوئے؟ گھر میں سب خیریت ہے کسی کو بخار تو نہیں؟ گھر والوں کو اس رویہ پر شدید دکھ تھا۔

    ایسا کیوں ہے؟ ایک طرف ہم کورونا کو وبا مانتے نہیں؟ ہاتھ ملانے میں احتیاط کرتے ہیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر جانے سے باز آتے ہیں۔ فیس ماسک کو زحمت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جنازوں میں شرکت سے خوفزدہ ہیں۔

    یہ خوف سرکاری اقدامات کی وجہ سے زیادہ بڑھا ہے کہ مرنے والے کی لاش مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ صرف چند افراد جنازہ پڑھ کر دفن کریں۔

    ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی شیئر ہوئیں اور ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں جس سے خوف پروان چڑھا۔

    میڈیا پر آگاہی مہم میں بتایا جارہا ہے اگر عام افراد ماسک کا استعمال کریں۔ چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ بار بار ہاتھ دھوئیں۔ تو وہ کورونا سے بچ سکتے ہیں۔

    اگر کورونا مریض ماسک استعمال کرے تو وائرس پھیلنے کا خدشہ کم ہے اور دو طرفہ ماسک ہوتو خدشہ کافی کم ہوجاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر جیتے جاگتے مریض سے فاصلہ رکھا جائے اور ماسک پہن لیا جائے تو بچا جاسکتا ہے۔

    تو میت کا منہ تو کفن سے بند ہے۔ وہ بول رہی ہے نہ چھینک رہی ہے اور آپ نے بھی چہرے پر ماسک پہنا ہوا ہے تو پھر آپ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    پانچ وقت نماز کی طرح سماجی فاصلے و دیگر احتیاط کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنا کیوں ناممکن ہے؟؟؟

    کورونا سے بچاو کے لیے پوری احتیاط کیجئے۔ احتیاط نہ کرنا خودکشی ہے جو اسلام میں حرام ہے۔

    احتیاط کے ساتھ جہاں آپ اپنے دیگر ضروری کام سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح فوت ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بھی ضرور شرکت کیجئے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے مسلمان پر 6 حق بتائے جن میں سے ایک نماز جنازہ ادا کرنا ہے۔

    ان دنوں فوت ہونے والے سب کورونا مریض نہیں۔ خدارا میت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسلمان بھائی کا آخری حق ضرو ادا کیجئے۔ اللہ رب العزت سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس وبا سے بچائے۔ آمین

  • پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا ہے ہم سب باخبر رہنے کیلئے ان کا سہارا لیتے ہیں جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے
    ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے افراد اور مہذب افراد کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے
    پاکستانی پرنٹ میڈیا پر انتہائی گندے اور غیر مہذب اشتہار دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے ہی پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر مختلف چینلز پر اشتہارات اور ڈراموں کی شکل میں قوم کی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے
    افسوس کہ اس وقت ان پر مثبت کی بجائے منفی پہلو زیادہ اجاگر کئے جا رہے ہیں خاص طور پر پاکستانی ٹیلی میڈیا ہماری نسلوں کو ڈرامے دکھا کر اسلام سے دور کر رہا ہے
    پکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ماضی میں کئی ڈرامے ایسے بنائے اور دکھائے گئے جن میں مقدس رشتوں جیسے،دیور،بھابھی،ساس کی پامالی کی جاتی رہی جس کے دیکھنے سے پاکستانی معاشرے پر بہت برے اثرات پڑے اب ایک بار پھر ایسا ہی جلن نامی ڈرامہ نجی ٹی وی چینل پر 17 جون سے دکھایا جائے گا جس میں بہن اپنے بہنوئی یعنی بہن کے خاوند پر فریفتہ ہے ،آفس میں کام کرنے والی کی بیوی پر آفس کا باس دل پھینک چکا جبکہ اللہ معاف کرے سسر اپنی بہو پر فدا ہے افسوس کی بات ہے کہ ان پاکستانی چینلز کو کنٹرول کرنے کیلئے پیمرا نامی ادارہ بھی موجود ہے مگر ماضی میں بھی اس ادارے کی جانب سے کوئی خاص قابل ذکر کاروائی نا سامنے آئی اور اب جبکہ اس جلن ڈرامے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے تب بھی اس ادارے کی طرف سے کوئی بھی ایکشن سامنے نہیں آیا جس پر اس ادارے کے کردار پر شکوک وشبہات مذید بڑھ رہے ہیں
    اللہ معاف فرمائے کہ سالی اور بہنوئی کا ایک مقدس رشتہ ہے اور سالی بہنوئی کیلئے غیر محرم ہے اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردہ لازم ہے
    اسلام نے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے مگر سگی بہنوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری کو اس کی سوتن بننے سے بچانا ہے تاکہ بہنیں آرام اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں
    اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔۔
    اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو ۔۔سورہ النساء آیت 32
    فطری طور پر ہر عورت کو اپنی سوتن سے جلن محسوس ہوتی ہے اسی لئے بہنوں میں بگاڑ سے بچاؤ کیلئے اللہ نے دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں حرام کر دیا مگر یہاں پاکستانی چینل اس مقدس رشتے کو پامال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں بیوی کے زندہ اور نکاح میں ہونے تک بیوی کی بہن یعنی سالی نکاح کیلئے حرام ہے یعنی بہنوں کی طرح ہے مگر افسوس کہ یہاں اسی بہن کیساتھ عاشقی معشوقی دکھائی جارہی ہے جس کا زیادہ تر اختتام زنا پر ہوتا
    اور پھر ڈرامے کا نام بھی رکھا ہے جلن یعنی کہ بہن کو بہن سے جلن ہے.
    سسر وہ رشتہ ہے کہ جس میں بہو اپنے والد کے بعد سسر کو ابو یا ابا جان کہتی ہے اور سسر بہو محرم ہیں بہو خاوند کی غیر موجودگی میں سسر کیساتھ سفر کر سکتی ہے اس کیساتھ حج و عمرہ پر جا سکتی ہے کیونکہ بیٹی کے بعد بیٹی بہو ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس مقدس ترین رشتے کی بھی پامالی دکھائی جانے لگی اور لوگوں کو گمراہ کر کے اسلام سے دور کیا جانے لگا ہے مگر افسوس کہ آزاد مملکت پاکستان میں اس سرعام اسلام سے دوری کرنے پر کوئی ایکشن لینے والا نہیں خاص کر پیمرا کو چاہیے کہ اس ڈرامے کو رکوائے تاکہ مقدس رشتوں کی پامالی ہونے سے بچ جائے اور ہمارا پاکستانی معاشرہ دین اسلام کی روشنی میں گزر بسر کر سکے
    کچھ لوگ کہتے ہیں جی ایسا کچھ تو انڈین فلموں ڈراموں میں بھی دکھایا جاتا ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ تو ایک کافر ملک ہے وہاں کے پروڈیوسر ہدایتکار،گلوکار،فنکار غرضیکہ زیادہ تر کافر ہیں اور ان میں سزا ،جزاء،قبر قیامت کا تصور نہیں تو پھر ان پر گلہ کیسا گلہ تو اپنوں پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور کام کفار جیسا کرتے ہیں

  • پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو  از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی”
    از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    کون جانتا تھا؟؟؟
    انڈیا کے گاؤں انبالہ سے اپنی بیوہ ماں کی انگلی پکڑ کر آنے والا یتیم بچہ اگلے وقتوں میں دعوت دین کا داعی بنے گا۔اور ہر جا توحید وسنت کا پرچار کرے گا۔
    میری نظریں اس نیک صفت انسان کو ڈھونڈتی ہیں جس کے بارے میں ابا جان کہتے تھے کہ اس رحم دل انسان نے مجھے لاوارث اور بے سہارا سمجھ کر ایک مدرسہ میں داخل کروا دیا اور یوں سات سال کی عمر میں ہی آپ ایک اعلی مشن پر گامزن ہو گئے ۔اور پھر "ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات” کے مصداق بچپن سے ہی اپنے خاندان سے کہیں مختلف ،جاہلانہ خرافات سے بہت دور عالمانہ ذہنیت کے حامل بن گئے ۔
    پھر۔۔۔۔۔۔۔چل سو چل علم کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت سے علماء بلخصوص احسان الہی ظہیر شہید اور پروفیسر حافظ سعید آپ کے ہم جماعت اور ہم عصر رہے ۔
    میرے بابا جان کے پاس ایک درجن سے زائد علم و ادب کی اسناد موجود تھیں۔ حرمین شریفین میں بھی معلم رہے۔ مزید یہ کی مختلف مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیئے۔گورنمنٹ سکول میں عربی کے استاد رہے۔ اپنی زندگی میں دو مساجد تعمیر کیں اور ان کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا بلکہ دن رات ایک کر دیا۔
    آپ ایک مثالی باپ،دعوت حق کے داعی، با عمل عالم ،مفتی شفیق استاد ،ادیب اور شاعر بھی تھے۔آپ نے بہت سی نظمیں اور کم وبیش پندرو کتابیں تصنیف کیں۔
    میرے سسر محمد بشیر ھاشمی اللہ پاک ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے 1983 میں فوج سے ریٹائر ہو کر مسجد بلال کے پاس گھر لے لیا اور مولانا ربانی صاحب سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے لگے تو پھر دنیا چھوڑ کر ان کے ہی ہو گئے۔مجھے اکثر کہتے تمھارے والد نے مجھے بتایا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔انہوں نے میری اصلاح کی۔
    ایک مثال تو میرے گھر میں موجود تھی اور اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ملک بھر میں پھیلی ہوئ ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں بھت کم پیدا ہوتے ہیں۔
    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    اللہ ایسے بندوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کا نام بلند کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔ وہ انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔اسی لئے تو۔۔۔۔۔
    جب میرے عظیم بابا۔۔۔۔۔
    4 جون 2020 کو ہم سے جدا ہو کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے
    تو۔۔۔۔آگے آگے مسافر کی بارات تھی
    پیچھے پیچھے زمانہ تھا روتا
    چلا
    اک شورش ہی گھر سے اکیلا
    چلا
    شہر کا شہر جیسے روانہ ہوا
    میرے پیارے بابا جان!!!
    ہم آپ کو روک نہیں سکے کیونکہ جو دنیا میں آیا اس نے اس دارفانی سے جانا ہی ہے۔
    لیکن یہ سوچ کر دل غم سے بھر جاتا ہے کہ اب وہ ہاتھ کبھی نظر نہیں آئیں گے جو حق بات کو ثابت کرنے کے لئے سٹیج پر لہراتے تھے ۔
    ان قدموں کی چاپ کبھی سنائ نہ دے گی جو دعوت دین پھیلانے کے لئے اٹھا کرتے تھے۔
    وہ آواز کبھی سنائ نہ دے گی جس میں اطعیواللہ و اطعیو الرسول کی گونج سنائ دیتی تھی
    وہ آنکھیں کہاں گم ہو گئیں جو اپنی پیاری بیٹی کی راہ تکتی تھیں
    وہ آہیں وہ سسکیاں وہ ہاتھ جو وقت تہجد ہمارے لیے اٹھا کرتے تھے……سب ختم ہو گیا
    خاک مرقد پر میں لے کر
    تیری یہ فریاد آؤں گی
    دعاء نیم شب میں میں کس
    کو یاد آؤں گی
    توحید وسنت کا یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔لیکن ہمارے لیے دین اسلام کی بہت سی راہیں ہموار کر گیا۔
    اللہ تعالی میرے والد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ان کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کرے اور ان کی اولاد اور ان کے تلامزہ کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے( آمین )
    آسمان تیری لحد پہ شبنم
    افشانی کرے
    سبزہ نور ستہ اس گھر کی
    نگھبانی کرے

  • بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    نئی دہلی: بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو رپورٹنگ کے جرم میں نشانہ بنایا گیا,اطلاعات کےمطابق رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاون کے دوران 55 صحافیوں کو رپورٹنگ اوراپنی رائے کا اظہار کرنے پر کے لئے نشانہ بنایا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں، 10 کو گرفتار کیا گیا اور 9پر حملہ کیا گیا۔

    آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کم از کم 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ان تارکین وطن کی حالت زار ، انتظامیہ کی بدانتظامی ، اور سیاسی رہنماں پر تنقید کی وجہ سے ان کی رپورٹ پر درج کی گئیں۔

    اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 صحافی گرفتار ہوئے اور چار دیگر کو سپریم کورٹ نے گرفتار ہونے سے بچایا۔ جبکہ سات صحافیوں کو سمن جاری کرنے یا شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ نو افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو پولیس تحویل میں تھے۔

    ذرائع کے مطابق اترپردیش میں 11 صحافیوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا ، اس کے بعد جموں و کشمیر (6)، ہماچل پردیش (5)، اور تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں سے ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔