کرونا کی وبا اور بحیثیت مسلمان ہمارا کردار
غلام زادہ نعمان صابری
چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی وبا کورونا نے ساری دنیا میں تباہی مچادی۔ اس مصیبت کی گھڑی میں غیر مسلموں نے اپنی قوم کےلئے ہرطرح کی سہولیات پیدا کیں،تمام شعبہ ہائے زندگی نے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کسی نے ایک دوسرے کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا۔
پاکستان بھی اس موذی وبا کا شکار ہوا یہاں بھی لوگ اس سے متاثر ہوئے۔
حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت عوام کو کچھ تجاویز پر عمل کرنے کا کہا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچا جاسکے اور اس سے بچنے کا واحد حل احتیاطی تدابیر تھیں جن پر عمل کر کے بچا جاسکتا تھا۔
ان احتیاطی تدابیر میں ماسک اورسینیٹائزر کااستعمال اور سماجی رابطوں سے پرہیز کرنا تھا۔
بحیثیت مسلمان ہم نے آپس میں ایک دوسرے کی سہولت کے لئے کیا سوچا اور ایک دوسرے کی کتنی مدد کی اور خاص کر ان حالات میں ہمارے کاروباری طبقے کا کیا کردار رہا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
الاماشاءاللہ کچھ لوگوں نے بہت اچھا کردار ادا کیا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے انسانیت کو پس پشت ڈال کر شیطانیت کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے پہلے ماسک اور سینیٹائزر بلیک کئے
10 روپے میں ملنے والا ماسک 100 روپے سے بھی بڑھ کر بیچا گیا، 50 روپے والا سینیٹائزر 200روپے میں بیچا گیا
ڈیٹول کو بازار سے ایسے غائب کر دیا گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔
ڈرگ مافیا نےکلوروکوئین ٹیبلٹ کی ڈبی 3000 روپے کی کردی. کسی حکیم نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سناء مکی کا قہوہ پینے کا مشورہ دیا سناء مکی کے درختوں سے پاکستان بھرا پڑا ہے اس کی کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن سناء مکی 200 روپے کلو سے 2400 روپے کلو تک بک رہی ہے بلکہ بعض علاقوں میں یہ کئی گنا زیادہ مہنگی بیچی جا رہی ہے۔
پھر ڈرگ مافیا نے ایک انجکشن بارے میں شوشہ چھوڑا کہ یہ کورونا کےلئے مفید ہے جس کی قیمت 3 لاکھ سے 6 لاکھ تک پہنچا دی گئی.
پلازمہ جو مفت امدادی طور پر دیا جارہا تھا اسے لاکھوں روپے میں بیچا جانے لگا.
پھر ناجائز منافع خوروں اور انسانیت کے دشمنوں کو پتہ چلا کہ پرائیویٹ سکولوں کو N95 ماسک اور ٹمپریچر گن لینا لازم ہے تو 800 والی گن مارکیٹ میں 22000 روپے میں بکنے لگی.
انسانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانےوالوں نےکبھی آٹا مہنگا کردیا تو کبھی چینی ، کورونا کو بہانہ بنا کر غریب عوام کا مہنگائی کر کے خون چوسا گیا۔ حکومت اگر کوئی چیز سستی کرتی بھی ہے تو اسے بازار سے غائب کر دیا جاتاہے ۔
ایمان کے دعویدار ایمانداری کالبادہ اوڑھ کرغریب اور مظلوم عوام کا بڑی بے دردی سے استحصال کر رہےہیں کیا ان کو کورونا سے کوئی خوف نہیں یا کورونا ان کا کوئی خالو پھوپھا لگتا ہے۔
بحیثیت مسلمان ہم اسلام کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں لیکن ہمارے کرتوت دیکھ کر یہودو نصاری بھی شرماتے ہیں
جنہیں ہم اسلام سے خارج سمجھتے ہیں وہ اپنی قوم کےلئے کس قدر مخلص ہیں ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہم مسلمانوں کا سارا کردار وہ سمیٹ کرلے گئے ہیں۔
ہم ایسی بےحس اور مردہ ضمیر قوم ہیں کہ
اللہ کے عذاب کو سامنے دیکھ کر بھی بے ایمانی اور بے غیرتی سے باز نہیں آتے
کورونا کی وبا کے ان دنوں میں بحیثیت مسلمان ہمارا کردار نہایت منافقانہ رہا ہے جو شرمناک ہے۔
Category: بلاگ
-

کرونا کی وبا اور بحیثیت مسلمان ہمارا کردار بقلم :غلام زادہ نعمان صابری
-

بالی وڈ فلم انڈسٹری کا دور حاضر میں کیا کردار ہے؟ بقلم:منہال زاہد سخی
بھارتی بالی وڈ اور پاکستان
منہال زاہد سخیآپ کے 5 یاں 6 منٹ ضرور لگیں گے مگر بے فائدہ نہیں جائیں گے ضرور پڑھیں اور جہاں تک ہو سکے شیئر کریں ۔
کل جب جاگنے کے بعد موبائل اٹھایا اور واٹساپ سٹیٹس دیکھے تو چونک سا گیا اور سوچ میں پڑ گیا ایسا کیوں ۔ بظاہر یہ کوئی چھوٹی بات ہوگی ۔ مگر اس بات سے مجھے سخت دھچکا لگا ۔ میرے دوست احباب نے RIP سشنات سنگھ راجپوت کے سٹیٹس لگائے ہوئے تھے ۔ جب اگلے سٹیٹس دیکھے تو پتا چلا اس نے خودکشی کی ہے ۔ اور آگے کیا اس کی ناچ گانوں کی ویڈیوز بھی لگائی ہوئی تھی ۔
اور ابھی چند دن گزرے ہیں لوگ RIP عرفان خان اور رشی کپور کے سٹیٹس لگارہے تھے ۔ اور حالیہ RIP سشنات سنگھ راجپوت کے سٹیٹس اور پوسٹس لگارہے تھے۔
یہ لوگ کون ہیں ؟ یہ لوگ بالی وڈ انڈسٹری کے اداکار ہیں ۔ بالی ووڈ بھارت کی فلم انڈسٹری ہے ۔ جس انڈسٹری کو چلانے والے نامور اداکاروں میں مسلمان اداکار سر فہرست ہیں ۔ سلمان خان شاہ رخ خان عامر خان سیف علی خان اور نواز الدین صدیقی وغیرہ وغیرہ ہیں ۔ جن کو بالی ووڈ کی ریڑھ کی ہڈی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ ہے ان کی اہمیت ۔
لوگ کیوں اتنے بے عقل ہوگئے ہیں جہالت میں ڈوبے ہیں ۔ ان کو سپورٹ کررہے ہیں ۔ اور ان کو سپورٹ کرنے والوں میں پاکستانی عوام آگے آگے ہیں ۔ اور اس طرح سپورٹ کررہے ہیں کہ ان کی پھپھی کا بیٹا مرگیا ہو ۔
بالی وڈ فلم انڈسٹری کا دور حاضر میں کیا کردار ہے ۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے ۔ جس دن سے یہ دونوں ملک بنے ہیں پاکستان اور بھارت دونوں کے مابین شروع دن سے کشیدگی ہے 3 بڑی جنگیں ہو چکی ہیں ۔ اور بھارت نے پاکستان کی شہہ رگ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ الحمداللہ پاکستان ہمیشہ بھارت سے آگے رہا اور بھارت کو ہر محاز پر شکست سے دوچار کیا ہے ۔
بالی وڈ فلم انڈسٹری کا بھارت کی آرمی کا بجٹ اور ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ہے ۔ وہ موویز بناتے ہیں طرح طرح کے رسم و رواج کی وہ ڈرامے بناتے ہیں طرح طرح کے اور ان کو پاکستان میں بڑی تعداد میں دیکھا جاتا ہے انڈین چینلز SONY اور STAR PLUS وغیرہ پر بھارت کی موویز اور ڈرامے چلتے ۔ اور پاکستانی عوام کے دماغوں پر اثر انداز ہونا شروع ہوگئے ۔ اور پھر پاکستانی عوام اگلی قسط کے انتظار میں پورا ہفتہ گزار دیتی ۔ پھر پاکستانی عوام کی DP انڈین اداکاروں کا عکس پیش کرنے لگی ۔ اور آگے پاکستانیوں صبح سب سے پہلے اٹھ کر جو 30 سیکنڈ کا سٹیٹس لگانا وہ T_series کا کوئی Song ہی ہوتا تھا ۔ اور آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ مرتے انڈین اداکار اور سوگ یہ مناتے ۔ چاہے مرنے والا کوئی کافر اداکار ہی کیوں نہ ہو ۔ حال کی تو بات ہی RIP سشنات سنگھ کے سٹیٹس نہیں لگے کیا پوسٹس نہیں ہوئی کیا ۔ پھر ان کے ذہنوں پر اتنا اثر ہوگیا ۔کہ انھیں مسلمان تاریخ کے نامور کردار صلاح الدین ایوبی ٹیپو سلطان اور ارطغرل غازی اور خالد بن ولید یاد ہی نہیں رہے اور انھیں گر یاد رہے تو Hero بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان یاد رہے اگر انھیں یاد رہے تو سشنات سنگھ راجپوت یاد رہے انھوں نے تاریخ کو پس پشت ڈال دیا ۔ پھر ان پر اتنا اثر ہوا کہ Hair saloon کے بالوں کے سٹائل میں بھی بھارتی اداکاروں کی تصاویر لگی نظر آتی ۔ اور انھی کے جیسے بال کٹوائے جاتے ۔ پھر ڈریسنگ میں بھی ایسا ہی ہوا پھٹی پینٹس کے برینڈ آئے اور انھوں نے فیشن کے طور پر پہنی ۔ پھر آگے کیا ہوا ان کے ذہن میں مجاہد اور دہشت گرد برابر ہوگئے ۔ اللہ کے دین کی خاطر لڑنے والے کو بھی دہشت گرد کہا جانے لگا ۔ اور فلم انڈسٹری بالی وڈ نے اس میں کردار ادا کرتے ہوئے BABY اور PHANTOM جیسی موویز بنائی ۔ جس میں مجاہدوں کو دہشت گرد دکھایا گیا ۔ پھر آگے کیا ہوا انھیں کشمیر کا خون نہیں نظر آیا اور انھوں نے کبھی کشمیر کے سٹیٹس نہیں لگائے ۔ اور پروپیگنڈا شروع کردیا کشمیر اب آزاد نہیں ہوگا ۔ یہ سب بالی وڈ کا کردار ہے ۔ انھیں مسلمانوں کا خون تو نظر نہیں آتا پر انھیں انڈین موویز میں ہیرو کو مار پڑنے پر بہت افسوس ہوا ۔ پھر آگے کیا ہوا جو مووی دیکھتے اور اس کے Dialogue تب تک دہراتے جب تک اگلی مووی نہ دیکھ لیتے ۔ اور پھر بالی وڈ کے ذریعے سے ان کے ذہنوں کو قابو کرلیا گیا ۔ اور انھیں قرآن مجید کی وہ آیت بھی یاد نہیں رہی۔ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں ، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جب کہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنّم کے مستحق ہیں (القرآن)۔ پھر انھیں قرآن نہیں گانے یاد ہونے لگے ۔ اور آگے کیا ہوا یہ لوگ ان کے مووی کلپس پر اداکاری اور اور ان کے گانوں پر ہونٹ ہلانے لگے جس کا ثبوت ٹک ٹاک ہے ۔ پھر یہ نام کے ہی مسلمان رہے اور نام کا پاکستان رہا پورے سال میں رمضان المبارک میں روزے رکھ کر اور عید منانے کو انھوں نے پورا اسلام سمجھ لیا اور 14 اگست منانے کو پاکستان سے محبت سمجھ لیا ۔ اس جگہ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان SM_Activists کو جو پاکستان کا دفاع بھر پور طریقے سے کررہے ہیں ۔
پاکستان کراچی میں MQM وزیرستان میں TTP بلوچستان میں BLA اور ANP وغیرہ کو فنڈنگ ہوئی اور آئے دن پاکستان میں دھماکے ہوئے ۔ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازشیں رچائیں گئی ۔ پر ہر سازش پاک فوج نے ناکام بنادی ۔ بھارت کو یہ بات سمجھ آئی کہ پاک فوج کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہوسکتا ۔ پھر پاک فوج کو عوام کی نظروں میں گندا کرنا شروع کردیا اور نت نئے پروپیگنڈے شروع ہوگئے پاک فوج دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہے پاک فوج ملک کا 80 ٪ بجٹ کھاتی ہے ۔ اور پاک فوج کے سابقہ جرنیلوں کے بارے میں ایوب خان نے یہ کردیا ضیاء الحق نے یہ کردیا پرویز مشرف نے یہ کردیا ۔ اور پھر پاکستانی جرنیل عوام کی نظروں میں گندے ہوگئے ۔ ان پروپیگنڈوں کو باقاعدہ فنڈنگ ہوتی کون کرتا بھارت کرتا تھا ۔
بالی وڈ فلم انڈسٹری میں بننے والی موویز سے اتنا کمایا جاتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے بھارتی اداکار سلمان خان کی بجرنگی بھائی جان فلم نے صرف چائینہ سے 850 کڑوڑ کا بزنس کیا ہے ۔ اور بھارت ایک سال میں اتنی موویز بناتا ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ بھارت نے ہالی وڈ فلم انڈسٹری کو ایک سال میں زیادہ موویز بنانے میں بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اطلاع کے مطابق بھارت ایک سال میں 1500 سے زائد موویز بناتا ہے ۔
موویز کی کمائی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے ۔ موویز کی کمائی سے بھارت کی آرمی وسائل اور اسلحہ خریدتی ہے ۔ پھر کشمیر میں ظلم کرتی ہے ۔ LOC پر قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔ موویز کی کمائی سے دہشتگردوں کو فنڈنگ کرکے آرمی پبلک اور اس جیسے کئی سانحات کرواتی ہے ۔ اور پاکستان کو مٹانے کا ہر حربہ آزماتی ہے ۔ لیکن جسے اللّٰہ رکھے اسے کون چھکے ۔ یہ اسلام کا قلعہ ابھی تک قائم دائم ہے ۔ اور دنیا کے 206 ممالک میں سینہ تان کر کھڑا ہے اور سر اٹھا کر عزت سے دشمن کے دانت کھٹے کر رہا ہے ۔
اور تو اور یہ کمائی ہوتی کہاں سے ہے ۔ مزے کی بات بھارتی موویز کو سب سے زیادہ پاکستان میں ہی دیکھا جاتا ہے سینما حال کی ٹکٹ خریدی جاتی ہے اور موویز کو بڑے اشتیاق سے دیکھا جاتا ہے ۔ بھارت ایک تیر سے دو شکار کررہا ہے پر ناکام ہے پاک فوج اور محب وطن لوگوں کی بدولت ۔ پہلا شکار ہمارے ذہنوں پر حملے کررہا ہے اور جو کمائی ہوتی ہے اس کمائی کو دوسرے شکار کیلئے استعمال کرتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔
اس ملک نے بڑی اذیتیں جھیلیں ہیں اس ملک کے حکمران غدار ہوگئے یہ ملک 30 سال کے طویل دورانیے بڑی مشکلات سے گزرا ہے 15 سال PML N اور 15 سال PPP کے ہاتھوں میں رہا ہے اس 30 سالہ عرصے میں حکمرانوں نے بھارت سے گٹھ جوڑ کئے اور ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
جب حکمران عیاش پرست اور شرابی بے دین چور اور غدار ہونگے تو عوام کیسے درست ہوگی اور اگر حکمران لیڈر محمد ص جیسے ابوبکر صدیق رض جیسے عمر فاروق جیسے اور صلاح الدین ایوبی جیسے ہونگے پھر عوام بھی درست سمت چلے گی رعایا بھی بہتری کی طرف گامزن ہوگی ۔ لیڈر اک مقصد کا آدھا حصہ ہوتا ہے اگر لیڈر کی سمت درست نہیں تو کسی کی سمت درست نہیں ۔
حکمرانوں نے بھارت سے گٹھ جوڑ کرلیا ۔ اور ان کی مشکلات آسان کردی ۔ عوام کے ذہنوں کو قابو کرلیا گیا ۔ اور انھیں اہداف کے نظر کیا گیا ۔ اور پھر ان کی سوجھ بوجھ چھین لی گئی کہ وہ اتنا بھی فرق نہ کرسکیں کہ اک حرام کی موت اور حلال کی موت میں فرق کیا پھر وہ اتنا بھی فرق نہ کرسکے مسلمان کے خون اور بھارتی کافر اداکار کی موت میں فرق کیا ہے ۔ کیسے پتا لگے گا جب ذہنوں کو جکڑا ہوا کیسے پتا لگے کا جب اپنی تاریخ یاد نہیں ۔ جب اپنا کلچر یاد نہیں اپنا رسم و رواج یاد نہیں تو پھر کیسے غلط اور صحیح کی تمیز کر سکیں گے ابھی تو یہ چھوٹے اداکار مرے ہیں رشی کپور عرفان خان اور سشنات سنگھ جس دن شاہ رخ خان اور سلمان خان اود عامر خان جیسے اسلام کے نام پر دھبے مریں گے اس دن تو قیامت برپا ہوگی ۔
تو براہ کرم دشمن کی چالاکیوں کو سمجھیں اور اپنے نفس کو اس کے مطابق مقابلے کیلئے تیار کریں ۔
-

پی سی بی نے انگلینڈ روانگی سے متعلق اپنی گزارشات ای سی بی کو پیش کردیں
پی سی بی نے انگلینڈ روانگی سے متعلق اپنی گزارشات ای سی بی کو پیش کردیں
باغی ٹی وی :پی سی بی اور ای سی بی حکام کے درمیان ٹیلی فونک کانفرنس ہوئی ہے جس میں دورہ انگلینڈ کے حوالے سے دونوں بورڈز کے درمیان گفتگو مثبت رہی ہے .
پی سی بی نے انگلینڈ رونگی سے متعلق اپنی گزارشات ای سی بی کو پیش کردیں ، پی سی بی کو رواں ہفتے کے آخری میں ای سی بی سے انتظامات پر مکمل جواب کی امید ہے . ادھر انگلش کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ میں قیام کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کی مکمل انشورنس کرانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی بی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے جہاز میں سفر ،کوڈ 19 کے خطرات ، گرائونڈ یا ہوٹل میں ہونے والی دہشت گردی کی مکمل انشورنس کرائے گا۔ 43رکنی دستے کی انگلینڈ میں قیام کے دوران مکمل انشورنس ہوگی۔ پریمیم بھی انگلش کرکٹ بورڈ برداشت کرے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ معمول کے مطابق کھلاڑیوں کی انجری اور مالی نقصان کی الگ انشورنس کرائے گا۔ اگر کوئی کھلاڑی سیریز میں زخمی ہوجاتا ہے تو اس کی انجری پر آنے والے تمام اخراجات کی میڈیکل انشورنس ہوگی۔ کھلاڑی کو انجری سے میچ فیس اور دیگر مالی نقصانات کو بھی پی سی بی انشورنس سے کور کرے گا۔انگلینڈ میں اگر کوئی کھلاڑی کورونا سے متاثر ہوتا ہے یا کسی گرائونڈ پر دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے جس سے ٹیم کا کوئی رکن متاثر ہوتا ہے تو اس کے نقصان کا ازالہ انگلش بورڈ کے انشورنس سے کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے سیریز کا مالی نقصان بھی انشورڈ ہوگا جبکہ کسی پاکستانی کھلاڑی کو اگر مالی نقصان ہوتا ہے یا اس کا مہنگا علاج کرایا جاتا ہے تو اس کی ادائیگی بھی انشورنس کمپنی کرے گی۔ جبکہ ساتھ ہی کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلش بورڈ سے منافع بخش ڈیل کرکے کروڑوں روپے بچالئے ہیں۔ دورہ انگلینڈ پر آنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات پاکستان ادا نہیں کرے گا۔
-

کیا ہوتا ہے مفاد کی محبّت کا انجام…؟ بقلم:جویریہ بتول
مفاد کی محبّت…؟
[بقلم:جویریہ بتول]۔
حقیقتیں ہو جاتی آشکار ہیں…
محبّتیں بھی بے اعتبار ہیں…
مفاد کے رو میں بہتے ہیں سب…
عجب کھلتے یاں افکار ہیں…
ہر رشتہ بھی آئینہ ہے دکھاتا…
جن پہ ہوتے گُمانِ سدا بہار ہیں…
جب تک ذات کی نفی رہے…
واں تک اعزاز بھی بے شمار ہیں…
جہاں اس میں ذرا کوتاہی ہوئی…
واں شروع طنز کے طومار ہیں…
خود کو بھُلا کر جیئو تو سب…
دلوں کو جوڑتے معمار ہیں…
کہیں اپنا بھی کوئی احساس جاگے…
کیا ہے کُچھ پیچھے اور آگے…
تو سب کے سکوں کو لگتا ہے دھچکا…
تو سب پردے ہوتے تار تار ہیں…
نہیں محبتیں ہوتی یک طرفہ…
یہ پھولتی ہیں دو طرفہ…
تبھی پاتی ہیں یہ چرچہ…
تبھی ہوتی یہ ورثہ ہیں…
بنتی ہیں ہیں سکونِ زندگی…
دل سے کھل کر جب ہوتی خرچہ ہیں…
ورنہ آتے نشیب و فراز میں…
ٹوٹتے دل اور سوز و گداز میں…
محبتیں بہت کُچھ سہہ جاتی ہیں…
مگر اندازِ اظہار میں…
ادائے بے اعتبار میں…
ہوتی حقیقت آشکار میں…
عمل سے سب کہہ جاتی ہیں…
مشکل ہوتا ہے پھر پلٹنا…
دلوں میں کوئی جگہ ملنا…
اک بار جب یہ بہہ جاتی ہیں…!!!
پھر ایسی محبتوں کا …
رہتا ہے نہ نشاں کوئی…
کوئی فخر،امر اور آثار…
کہیں زادِ سفر نہ ساماں کوئی…
مفاد کی دلدل میں جو متزلزل رہیں…
منزل تک پہنچتی ہیں،نہ اماں کوئی…!!!
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ -

واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا
واٹس ایپ کپمنی نے ای کرنسی کا آغآز کر دیا جس میں واٹس ایپ کے ذریعے کسی بھی چیز کی ادائگی خود کر سکتے ہیں جبکہ برازیل میں چھوٹے کاروبار کا لین دین واٹس ایپ کے ذریعے کرنے کا آغاز کیا گیا ہے-
باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق آج سے برازیل میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے لوگوں کے لئے ادائیگی شروع کرنا شروع کر رہے ہیں۔ اس طریقہ سے اتنا ہی آسان رقم بھیجنا اور وصول کرنا ہیں جیسے فوٹو شیئر کرنا۔
اس طریقہ کار کو شروع کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم چھوٹے کاروباروں کو بھی واٹس ایپ میں ہی فروخت کرنے کے قابل بنارہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ، ہم فیس بک پر کام کررہے ہیں ، جو ہمارے ایپس میں ادائیگی کرنے کا ایک محفوظ اور مستقل طریقہ فراہم کرتا ہے۔ میں اپنے تمام شراکت داروں کو یہ ممکن بنانے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مقامی بینکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، جن میں بینکو ڈو برازیل ، نوبینک ، سکریڈی نیز برازیل میں کاروباری افراد کے لئے معروف ادائیگی پروسیسر سییلو بھی شامل ہیں۔ برازیل پہلا ملک ہے جہاں ہم واٹس ایپ میں بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں۔ -

ہم آسمان پر خدا اور زمین پر پاکستانی فوج سے امیدیں لگا کر دن گزارتے رہے،بوسنیا سے ایک خاتون ڈاکٹر کی آپ بیتی
میں 1995 میں یو این پیس کیپنگ مشن میں بوسنیا کے شہر Tuzla کے قریب Visca کیمپ میں پاک فیلڈ ہاسپیٹل کمانڈ کر رہا تھا ۔ یونائٹڈ نیشن مشن کے مطابق ہم صرف وہاں کے شہریوں کا علاج معالجہ اپنے فیلڈ ہاسپیٹل میں رہ کر کر سکتے تھے
ہمارے ساتھ پاکستان سے لیڈی ڈاکٹرز یا نرسز نہیں گئی تھیں ۔ ہمیں UN سے اجازت ملی کہ ہاسپیٹل میں Bosnian Nurses کو ملازم رکھ لیں ۔ بہت کوشش کی نرسز تو نہ ملیں مگر 18 میڈیکل اسٹوڈنٹس مل گئیں جو یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ سے فارغ بیٹھی تھیں ۔ وہ انگلش بھی بولتی تھیں تو اس طرح ہمارے اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کا مسلہ بھی حل ہو گیا ۔
ایک لڑکی جو میرے ساتھ ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتی تھی نے بتایا کہ ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے Tuzla Hospital کا حال بہت برا ہے ۔ بوسنیا کے زخمی لوگ وقت پر آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں اور انکو آپ کے پاس بھی نہیں لایا جا سکتا ۔ میں نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ہم تو صرف UN Charter کے مطابق کام کرتے ہیں کہ یہاں لے آو تو آپریشن کردیں گے ۔ کہنے لگی ہماری ایک پروفیسر آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔ بہرحال دوسرے دن شام ڈھلے ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی ۔ بات کرتے ہوئے وہ بمشکل اپنے آنسو چھپا رہی تھی ۔ وہ انیستھیسیا کی پروفیسر تھی اور مدد مانگنے آئی تھی ۔ کہنے لگی کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہمارے 15 سے 20 لوگوں کے آپریشنز ہاسپیٹل میں آکر کردیں کہ وہ اپاہج ہونے سے بچ جائیں ۔ میں نے اپنے پاکستانی فورس کمانڈر سے بات کی تو انہوں نے لا پرواہی سے کہا کہ کر سکتے ہو تو ضرور کرو لیکن اگر شکایت ہوئی تو میں بچاونگا نہیں ۔ سزا کے لئے تیار رہنا ۔
دوسرا مرحلہ میرے اپنے سرجن اور بیہوشی والے ڈاکٹر کو منانا تھا ۔ دونوں سے الگ الگ بات کی کہ انکے ہاسپیٹل میں وقت نکال کر جانا ہوگا ۔ میجر جنجوعہ تو فورا مان گیا مگر سرجن نے ڈرتے ڈرتےحامی بھری ۔ میں نے اپنے کمانڈر کو بتایا کہ آج رات ہم مشن پر جائیں گے ۔ کہنے لگے واپسی پر مجھے اطلاع کردینا ۔ ہم تینوں رات کے کھانے کے بعد واک کے لئے نکلے اور دور کھڑی گاڑی میں بیٹھ کر کیمپ سے غائب ہوگئے ۔
اس رات Tuzla Hospital میں اس پروفیسر کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ ہم کون ہیں ۔ وہ زخمیوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار سے دلاسے دے رہی تھی کہ اب تم ٹھیک ہو جاو گے ۔ اس رات تین لوگوں کا آپریشن ہوا ۔ میں ایک آفس میں بیٹھا دعائیں کرتا رہا کہ خدا خیر کرے ۔باہر بلا کی سردی تھی ۔ رات کے تین بجے واپسی پر میں نے کمانڈر کو فون کیا تو انہوں نے پہلی گھنٹی پر فون اٹھایا اور صرف اتنا کہا اوکے اب میں سونے لگا ہوں ۔
پھر یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک انکے تمام زخمیوں کے آپریشن مکمل نہ ہوگئے بلکہ کبھی کبھار ہم خود بھی پوچھ لیتے ۔ میں اور میجر جنجوعہ پاکستان واپس آنے سے پہلے اس پروفیسر سے ملنے گئے ۔ ہمیں رخصت کرتے ہوئے وہ اپنے آنسو صاف کرتی رہی اور کہنے لگی کہ ہم آسماں پر خدا سے اور زمین پر پاکستانی فوج سے امیدیں لگا کر دن گزارتے رہے ہیں ۔ آپ خیریت سے اپنے ملک جائیے ۔ صرف میں نہیں میری پوری قوم آپ کی احسان مند رہے گی اور پھر جب بوسنیا سے پاکستان آرمی واپس آرہی تھی تو تزلہ شہر کے لوگ باہر سڑکوں پر کھڑے پھول پھینک کر ہمیں الوداع کہہ رہے تھے ۔
واپسی پر دوران فلائیٹ میں نے اپنے کمانڈر سے شکوہ کیا کہ سر اگر ہماری شکایت ہو جاتی کہ ہم اپنے ہاسپیٹل سے باہر جاکر لوگوں کے آپریشن کرتے تھے تو کیا واقعی آپ ہمارا ساتھ نہ دیتے ۔ کہنے لگے بوسنیا کے ایک سینیر ڈاکٹر نے یہ بات پہلے مجھ سے کی تھی ۔ اسے میں نے ہی راستہ دکھایا تھا کہ یہ غلط کام خوش اسلوبی سے کون سر انجام دے سکتا ہے ۔ میں پوچھتا رہا کہ سر یہ بات میں اپنی تعریف کے زمرے میں لوں یا سدھرنے کیلئے وارننگ سمجھوں ۔
اس قوم کی دعائیں کچھ تو لگیں ہونگی کہ ہم چاروں میں سے ایک میجر جنرل اور تین برگیڈیر رینک سے ریٹائر ہوئے ۔

بشکریہ
#برگیڈئربشیرآرائیں -

"جان ہے تو جہان ہے” تحریر: اسد اللہ ، فیصل آباد
"جان ہے تو جہان ہے”
اسد اللہ ، فیصل آبادیہ ضرب المثل ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں لیکن اس کا حقیقی معنی صرف وہ جانتا تھا جسے کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ گزرے ہوئے وقت کو یاد کرکے سوچتا کہ وہ بھی کیا وقت تھا جب مجھ میں توانائیاں تھیں میں جوان تھا اور آج میرا توانا جسم بے جان پڑا ہے اور آج مجھے دنیا و مافیہا سے کیا لینا دینا۔ پہلے زمانے میں اس کہاوت سے بہت تھوڑے لوگ واقف تھے لیکن جیسے ہی دنیا نے کیلنڈر کا صفحہ سنہ دو ہزار بیس کیلئے پلٹا تو پوری دنیا کو ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ چائنا سے سر اٹھانے والے کرونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر کے ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور ہر طرح کی کاروباری و سفارتی سرگرمیاں دنیا بھر میں جمود کا شکار ہو گئیں۔ دنیا کے بیش تر ممالک نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے شہریوں کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے لاک ڈاؤن حتیٰ کہ کرفیو تک لگا دیا۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکام نے بھی ملک بھر میں لاک ڈاون لگایا جو کہ باقی دنیا کے برعکس ایک انوکھا لاک ڈاون تھا۔ باقی دنیا میں لاک ڈاون کے دوران ہر طرح کی تجارتی و معاشرتی سرگرمیوں پر سختی سے پابندی تھی لیکن پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران چھپ چھپا کے کاروبار جاری رہا اور لوگ حسب معمول بے دھڑک سڑکوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ اس دوران پولیس اور دکانداروں کے درمیان بلی چوہے کا کھیل بھی جاری رہا جس کا فائدہ پولیس کو ہوا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دکانداروں کو کام کی اجازت کے عوض انہیں کافی کچھ ملتا رہا۔ لاک ڈاون تقریباً دو ماہ تک جاری رہا لیکن ملکی سطح پر شدید عوامی ردعمل کی وجہ سے حکومت کو لاک ڈاؤن کھولنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے عید سے قبل کھولے گئے لاک ڈاؤن کے حولناک نتائج اب سب کے سامنے آچکے ہیں ہر روز ہزاروں لوگوں میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے اور بہت سے علاقوں میں روزانہ اموات کی خبریں بھی زبان زد عام ہیں۔
اس طرح کے بہت سے واقعات بھی دیکھنے کو آئے ہیں کہ لواحقین کرونا ٹیسٹ کروانا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے مریض نزلہ، بخار اور سانس میں دشواری جیسی پیچیدگیوں کے باوجود بھی گھروں میں پڑے رہتے ہیں اور اس طرح ایسے لاپرواہ لوگ چند دن میں ہی اپنے پیاروں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ سوچئے کہ یہ کس قسم کا بخار ہے جس کے ساتھ مریض دو چار دن میں ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ محض بخار ہی ہوتا ہے یا ان مریضوں کی موت میں کرونا کا بھی عمل دخل بھی ہے۔
حال ہی میں ایک واقعہ میرے علم میں آیا کہ ایک مریض کو انجیکشن لگا کر مار دیا گیا ہے۔ ایسے واقعات پہلے بھی نظر سے گزرے تھے لیکن جب یہ واقعہ میرے خود کے حلقہ احباب میں ہوا تو اس کی تہہ تک جانے کی ٹھانی۔ تھوڑی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ایکٹمرا نامی انجیکشن فی الوقت سب سے اچھا علاج مانا جاتا ہے جو اس وقت کرونا کے مریضوں کے علاج کیلئے امید کی آخری کرن بن چکا ہے۔ یہ انجیکشن جس کی قیمت کافی زیادہ ہے سرکاری ہسپتالوں میں مفت بھی لگایا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں یہ انجیکشن مفت ملتا ہے لیکن پرائیویٹ ہسپتالوں میں جب کوئی کرونا کا مریض آتا ہے تو اسے عالمی تجاویز کے مطابق یہی انجیکشن تجویز کر دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس انجیکشن کی فی الوقت قیمت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ آجکل ہماری عوام اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں اور جب وہ اپنا مریض پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرواتے ہیں تو ڈاکٹروں کی جانب سے باقی ادویہ کے ساتھ انجیکشن بھی منگوائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پلازمہ لگانے کی تجویز بھی دی جاتی ہے۔ یہ انجیکشن اس وقت پاکستان میں بری طرح کمیاب ہوچکا ہے اس لئے اس کی تلاش میں مریض کے ورثاء پہلے خود جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں سے، شہر بھر کی فارمیسی والوں سے اور آخر میں ہول سیل کی بلیک مارکیٹ مافیا والوں سے منتیں کرتے ہیں کہ یہ انجیکشن ہمیں ہر صورت چاہیے۔ زیادہ تر کو وہ مارکیٹ سے نہیں ملتا کیونکہ یہ انجیکشن صرف کرونا کیلئے مختص ہسپتالوں کو دیا جا رہا ہے مریض کے لواحقین کو جب یہ انجیکشن نہیں ملتا تو ہسپتال انتظامیہ خود سے اس انجیکشن کا انتظام کرکے مریض کو لگا دیتی ہے۔ جب سے ٹیکہ لگا کر مارنے کا معاملہ زور پکڑنے لگا ہے تب سے اکثر پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹر یہ انجیکشن لگانے سے پہلے ورثا سے اجازت نامے پر دستخط بھی لینے لگے ہیں تاکہ ورثاء کو علم ہو کہ دراصل ان کے مریضوں کو لگائے جارہے انجیکشن اور ادویہ کونسی ہیں اور یہ ادویہ انکے مریض کی بہتری کیلئے لکھی جاتی ہیں ناکہ اس میں ڈاکٹرز کا کوئی ذاتی فائدہ و لالچ ہے۔
ایسے لوگ جو اپنے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جاتے ہیں انہیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہر پرائیویٹ ہسپتال کا یومیہ بل پانچ سے دس ہزار تک ہوسکتا ہے جو کہ عام فہم و معمول کی بات ہے اور جب یہی مریض انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا جاتا ہے تو ہر دن کا بل دوگنا سے بھی کہیں بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ہوتا یہ ہے کہ قریب المرگ مریض جوکہ مقامی طور پر تمام ٹوٹکے اور تمام حربے آزما کر ہسپتال میں لایا گیا ہوتا ہے وہ چار پانچ دن انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد اپنی سانسوں کی روانی کھو دیتا ہے۔ جیسے ہی مریض مرتا ہے، زہر کے ٹیکے کا اصل کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
مریض کے مرنے کے فوراً بعد پرائیویٹ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈیڑھ دو لاکھ کے ایکٹمرا انجیکشن اور آئی سی یو چارجز کے ساتھ چار پانچ لاکھ کا بل ورثاء کو تھمایا جاتا یے اور اس بل کو دیکھتے ہی ورثاء واویلہ شروع کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے ٹیکہ لگا کر ہمارا مریض مار دیا اور اب یہ ڈاکٹر ہم سے میت کے پانچ لاکھ مانگتے ہیں۔ سستی شہرت کے متلاشی سوشل میڈیائی ہیرو جو آجکل ہر جگہ وافر موجود ہیں وہ اپنا موبائل کیمرہ لے کر میدان میں آ ٹپکتے ہیں اور رپورٹنگ کر کے عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھئے اس مریض کے ورثاء سے میت کے پانچ لاکھ مانگے جارہے ہیں یہ لوگ اچھا بھلا مریض لے کر آئے تھے اور ڈاکٹروں نے ہمارے مریض کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا ہے۔ ہماری بھولی بھالی عوام اس متوفی کے غم میں یہ بات بھول ہی جاتی ہے کہ اگر یہ اچھا بھلا بندہ تھا تو ہسپتال لایا ہی کیوں گیا اور اگر مریض کے ورثاء مہنگے علاج کی سکت نہ رکھتے تھے تو مہنگے ہسپتال میں لے کر ہی کیوں گئے؟
میں یہ نہیں کہتا کہ پرائیویٹ ہسپتال والے دودھ کے دھلے ہیں لیکن یہ بات تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج سستا نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کا مفت علاج اور مفت کرونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن ڈر کے مارے لوگ اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانا ہی نہیں چاہتے
اور جب پرائیویٹ ہسپتال میں مریض مرجاتا ہے تو لواحقین پرائیویٹ ہسپتال کے اس بل سے جان خلاسی کروانا چاہتے ہیں۔
اب تک سوشل میڈیا پر ایسی جتنی بھی ویڈیوز دیکھنے میں آئیں جن میں مبینہ طور پر میت کے بدلے پانچ لاکھ کا تقاضہ یا ذہر کا ٹیکہ لگانے کی جذباتی رپورٹنگ کی گئی اس کا کوئی سر پیر نہیں ملتا اور ان رپورٹروں کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے نام والے لوگو کے ساتھ وائرل ہوئی ویڈیو کے بابت جب اس چینل سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ شخص نہ تو انکا نمائندہ ہے اور نہ ہی انکا ادارہ اسے جانتا ہے۔
یہ وقت غلط خبریں پھیلانے کا نہیں ہے کیونکہ کرونا کا مرض اس وقت ملک پاکستان میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ اب ہر خاص و عام اس کی لپیٹ میں ہے لیکن عوامی غفلت اپنے عروج پر ہے۔ لوگ ڈر کے مارے اپنے مریضوں کا ٹیسٹ نہیں کرواتے بلکہ کرونا کی تمام تر علامات ظاہر ہونے کے باوجود مریض کو گھر پر ہی رکھے رکھتے ہیں اور جب صورتحال قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو ہسپتال کا رخ کرتے ہیں اور جب انکا مریض جان سے جاتا ہے تو اپنی لاپرواہی و غفلت کی خفت مٹانے کیلئے کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے مریض کی رپورٹ تو نیگیٹو تھی۔
شروع شروع میں کرونا کے وجود سے انکاری عوام کو اب سمجھ آجانی چاہیے کہ اس وقت ملک میں ہر روز کرونا کیسز کا ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہا ہے۔ صرف گزشتہ 24گھنٹوں میں 6ہزار 825 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس طرح ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 39ہزار 230 ہوچکی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے اب تک 2632 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا کے نئے کیسز کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر آ چکا ہے اور ایکٹیو کیسز کے لحاظ سے بھی پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔
یاد رہے کہ دسیوں پاکستانی ڈاکٹرز اب تک اس مرض سے لڑتے لڑتے اپنی جان دے چکے ہیں اور سیکڑوں ڈاکٹر اس وائرس کا شکار ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمارے مریضوں کا علاج کرنے میں لگے ہیں لیکن ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ ہم انہی ڈاکٹروں پر ڈالر لینے اور ٹیکہ لگا کر مارنے جیسے بے تکے الزامات لگاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی کے حلقہ احباب میں کئی ڈاکٹر ہوں گے زرا آنکھیں بند کر کے دل پر ہاتھ رکھ کر ان ڈاکٹروں کے متعلق سوچئے کہ ان میں سے کون ایسا ہے جو کسی دکھی شخص کی جان اپنے ہاتھوں سے لینے کی ہمت رکھتا ہو؟ کون اتنا سنگدل و ظالم ہے جو کسی کو ذہر کا ٹیکہ لگا سکتا ہو؟
پانچ لاکھ کا شور تو سنتے ہیں لیکن پانچ لاکھ دے کر میت لانے والا کوئی شخص ملے تو ہمیں بھی بتائیے یا کوئی شخص مجھے اس بات کا ثبوت ہی لا دے کہ ان ڈاکٹروں کو کسی کی جان لینے پر ڈالرز کہاں سے ملتے ہیں تاکہ اپنی جیب سے ماسک اور حفاظتی لباس خریدنے والے تمام ڈاکٹروں کو ان ڈالروں کا پتہ چل سکے۔
خدارا کوشش کیجئے کہ مایوسیوں اور افراتفری کے اس دور میں آپکی پھیلائی ہوئی کسی خبر کی وجہ سے کسی کا نقصان نہ ہو جائے۔ کوئی بھی خبر ہو اس کی جانچ کیجیے، اس کو ہر طرح سے پرکھئے اور یہی قرآن کا اسلوب ہے کہ:
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔
(سورہ الحجرات آية : 6) -

وہ بہادری کی زندہ مثال ، چمکتے آسماں کا رُوشن ستارا تھا، شہید حریت، ریاض نائیکو کے نام از قلم: عاقب شاہین میر
شہید حریت، ریاض نائیکو کے نام
عاقب شاہین میراے وادئ خوں رنگ جِسے تُو نے قربانی کےلیے پکارا تھا
تُجھے معلوم ہے کیا؟وہ شخص مجھے جان سے بھی پیارا تھاہر آنکھ اشکبار ہے ، کیسے بولوں تسلی کے دو بول تو مجھے بتا
وہ بہنوں کی آنکھوں کا تارا ، اپنی ماں کا اکلوتا راج دُلارا تھایہ نظامِ قُدرت ہے کسی کے جانے سے بھلا کب رُکتا ہے
مگر ایک رب کے بعد وہ ہماری اُمیدوں کا پُرزور سہارا تھااپنے مُحسن کی جاں کا سودا کرنے والو! ہائے ستم یہ تم نے کیا کِیا
اُس جواں نے تمہاری ہی خاطر خود کو ہر تکلیف سے گزارا تھاکیسے بُھولے گا شاہیں اُس کی باتوں ، ساتھ گزرے لمحاتوں کو
وہ بہادری کی زندہ مثال ، چمکتے آسماں کا رُوشن ستارا تھا -

"وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”—از—✍️#اخت_عمیر
پاکستان ان دنوں وباٶں اور بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف وبائی امراض اپنا قہر برسا رہے ہیں گزرتے وقت کے ساتھ کورونا بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرین کی تعداد 1لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اموات 2500 سے بڑھ چکی ہیں۔ تو دوسری طرف رواں سال کے صرف چند ماہ میں اچانک رونما ہونے والی شدید موسمیاتی تبدیلیوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ باقی کسر فصلوں پر ٹڈی دل کی یلغار نے پوری کردی ہے۔ دہشت گردی غیر محدود کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی صورتحال پہلے ہی گھمبیر تھی۔ کہ کورونا وبا کے ہنگامے اور لاک ڈاون کی سختیوں نے ہماری معاشی مشکلات کو دو چند کر دیا ہے۔ تین ماہ سے جاری لاک ڈاون کے باعث پیداواری عمل معطل ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ سبزی اور فروٹ مارکیٹ کھلی رہنے کی وجہ سے امید کی جا رہی تھی کہ زرعی معیشت لاک ڈاون کے اثرات سے بچ جائے گی۔ لیکن بے موسمی بارشوں اور اور ٹڈی دل کی یلغار نے فصلوں کو ناقابل یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے گندم کی کاشت کے علاقوں ملتان، ڈیرہ غازی خان، لاہور، گجرات، سرگودھا اور فیصل آباد کے علاقوں میں گندم کی کٹائی کے موسم میں ہونے والی بارشوں نے نہ صرف فی ایکڑ گندم کی پیداوار کو نقصان پہنچایا بلکہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا اس لیے کٹائی کے موسم میں ہی گندم کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گندم کی کٹائی کا موسم آتے ہی گرمی کی شدت میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ عموماً گندم کی کٹائی اور اسے سمیٹنے کا موسم خشک ہی رہتا ہے۔ گذشتہ دو سال سے عین کٹائی کے موسم میں شدید بارشیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے سیکرٹری جنرل عمیر مسعود کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں فی ایکڑ پیداوار 50 سے 60 من کے درمیان ہوتی ہے۔ بے موسمی بارشوں کے باعث یہ کم ہو کر 30 سے 33 من رہ گئی جس سے رواں برس گندم اور آٹے کے بحران کا شدید خدشہ ہے۔ کپاس کی ڈیڑھ لاکھ بیلوں میں سے صرف 90 لاکھ بیلیں حاصل ہو سکیں مزید برآں مکئی کی پیداوار میں 40 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 50 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ بھکر جو کہ چنے کی کاشت اور پیداوار کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری نے اس فصل کو بھی تباہ کر دیا صرف کپاس کی بیلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے ہونے والا نقصان ایک ارب ڈالر ہے۔ کسان بارشوں کے اس سلسلے کی وجہ سے شدید پریشان تھے کہ ایک اور بحران ٹڈی دل کی صورت میں پاکستان میں داخل ہو گیا یہ ٹڈی دل زراعت کے میدانوں پر اس قدر شدت سے حملہ آور ہوٸی کہ قحط کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
ٹڈی جمع ٹڈیوں کو عربی میں الجراد کہا جاتا ہے اور واحد کے لیےجَرَادَةٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہےاس لفظ کا استعمال نر اور مادہ دونوں کے لیے ہوتا ہے۔ ٹدی دل ہجرت کرنے والا کیڑا ہے جو غول کی شکل میں ہجرت کرتا ہے ایک غول کئی لاکھ ٹڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
ایک ٹڈی ایک وقت میں 1200 انڈے دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک کے مطابق اگر ان کو قابو نہ کیا گیا تو ان کی تعداد میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو سکتاہے۔
ٹڈی حشرات الارض میں سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والی بے رحم اور خوفناک قسم ہے۔ یہ انتہائی منظم طریقے سے کسی تربیت یافتہ فورس کی طرح کھیتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور کھیت کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے سرے تک پہنچتے ہوئے سارا کھیت اجاڑ دیتی ہیں یہ ایک دن میں 93.2 میل کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چھال سے بیجوں اور پھولوں تک سب کچھ کھاتی ہیں۔اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کی ایک داستان چھوڑ جاتی ہیں۔ایک غول 35 ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں کھا سکتا ہے۔ٹڈی دل کا انڈے دینے کا طریقہ بھی عجیب ہوتا ہے یہ انڈے دینے کے لیے سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کرتی ہیں پھر اس زمین میں اپنی دم سے انڈے کے سائز کے برابر سوراخ کرتی ہیں۔ جس میں وہ انڈے دیتی ہیں۔ اس لیے یہ سپرے کے باوجود بھی دوبارہ افزائش کر جاتی ہیں کیونکہ زمین کی سطح پر کیا جانے والا سپرے زمین کے اندر موجود انڈوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ زمین کی گرمی سے ہی انڈوں سے ٹڈیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جھنڈ بنا کر فصلوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔
اپریل اور مئی میں جس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کپاس اور اور چاول کی کاشت اور گرمیوں کے میوہ جات خاص کر آم کے درخت پھل دے رہے ہوتے ہیں عین اسی موسم میں ٹڈی دل افریقہ سے یمن اور پھر سعودی عرب اور پھر عمان سے ایران اور وہاں سے پاکستان میں ایک خاموش قاتل اور دہشتگرد تنظیم کی شکل میں داخل ہوا اور یلغار کر کے چاول اور کپاس کی فصلوں اور اور میوہ جات کے وسیع باغ اجاڑ دیے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں آم کے باغوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں آلو بخارہ، آڑو،آلوچہ اور خرمانی کے باغ بھی ٹڈی دل کے حملوں سے نا بچ سکے۔
ٹڈی دل چاروں صوبوں کے 60 اضلاع میں بڑی مقدار میں فصلوں کو کھا چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بیشتر کسان یہ سمجھ رہے تھے کہ غیر موسمی بارشوں سے ہونے والے نقصان کو وہ کپاس کی فصل اگا کر پورا کر لیں گے مگر جیسے کپاس کے پتے نمودار ہوئے ٹڈی دل ان پر حملہ آور ہو گیا۔ ٹڈی دل نے تین سو ہزار مربع کلو میٹر علاقے کو متاثر کیا جو مملکت کے کل رقبہ کا 37 فیصد بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کے زراعت کے 38فیصد شعبے کیڑوں کی افزائش کے میدان ہیں۔ عالمی ماہرین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹڈی دل کو روکنے کا بندوبست نہ ہوا تو تھرپارکر سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلے ہوئے وسیع رقبوں میں لگائی گئی فصلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔اگر ٹڈی دل ربیع کی فصل کو 25 فیصد نقصان پہنچاتی ہے تو 400 ارب کا نقصان ہوگا اور فصل خریف کی صورت میں 600 ارب نقصان ہو گا اور 50 فیصد نقصان ہونے پر فصل ربیع کی صورت میں 700 ارب اور خریف کی صورت میں 900 ارب سے زائد نقصان کا خدشہ ہے۔
ٹڈیوں نے پہلے ہی ملک بھر میں روئی، گنے اور سبزیوں کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اگر یہ سبزیوں کی فصلوں پر بھی حملہ آور ہوتی ہیں۔ تو تباہی کی مقدار کئی گنا زیادہ ہو جائے گی۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے اور ٹڈیوں کے نقصان سے جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی معاشی نمو دو فیصد سے بھی کم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
محکمہ تحفظ نباتات کے ڈائریکٹر جنرل فلک ناز نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس سال ٹڈیوں سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ اس قدر شدید ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر اس حوالے سے فروری 2020 میں قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر کے ٹڈی دل کے خلاف ریاستی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی سطح کی ایمرجنسی ایک انتہائی اہم اقدام ہوتا ہے۔ جو قومی سطح کے کرائسز میں اٹھایا جاتا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ کس قدر بھیانک اور خطرناک ہے۔
جس طرح کورونا کی وبا انسانیت کے لیے وبال بنی ہوئی ہے اسی طرح ٹڈی دل بھی انسانیت کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں کسانوں کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے کہاکہیہ ٹڈی حملہ کورونا وائرس سے بڑا خطرہ ہے اگر آپ گھر میں رہ کر حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں تو وائرس حملہ نہیں کرے گا لیکن بھوک آپکو کسی بھی طرح ہلاک کر دے گی
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک اور زراعت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ایگریکلچرل ورکنگ گروپ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر حبیب وردگ کے بقول پاکستان کے 34 اضلاع ایسے ہیں جن میں 40 فیصد لوگ شدید غذائی تحفظ یا درمیانے درجے کے غذائی تحفظ کا شکار ہیں لیکن اب معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں کی خوراک کے علاوہ قدرتی چرا گاہوں پر بھی حملہ آور ہیں جس سے شدید غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہےکیا کبھی سوچا ہم نے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک آفت سے تو ابھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے کہ نئی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں؟؟؟ ایک طرف کورونا کی وبا ہمارے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف ٹڈیوں کے غول فصلوں کو اجاڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بھوک اور خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔۔۔ہم سے وہ کون کون سے گناہ سرزد ہوئے کہ اللہ تعالی کی رحمت ہم سے روٹھ چکی ہے؟؟
ہم نے اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی فلموں کے تھیٹروں میں ہم جاتے رہے، نمازوں کو ضائع ہم کرتے رہے، سودی لین دین ہم کرتے رہے، یتیموں کامال ہڑپ کرنا ہمارے معاشرے میں عام گناہ بن گیا فحاشی کے پروگرام ہم چلاتے رہے۔
ان حالات میں ہم پر اللہ تعالی کی رحمت کا نزول ہو تو کیسے ہو؟؟ ایک طرف کشمیر میں ہندو بنیے نے دنیا کا بدترین کرفیو مسلط کیا لیکن عالم اسلام خواب غفلت میں مدہوش رہا۔کشمیر میں روز جنازے اٹھتے رہے معصوم بچے یتیم ہوتے رہے۔سہاگنوں کے سہاگ لٹتے رہے بہنیں اپنے بھائی اسلام اور پاکستان پرقربان کرتی رہیں مسلمان بیٹیوں کی عصمتیں پامال ہوتی رہیں دوسری طرف انڈین اداکار ہماری نوجوان نسل کے آئیڈیل بنے رہے اور انڈین فحش فلمیں ڈرامے اور گانے زندگی موت کا سوال مسلمان ممالک نے بھی اپنی اپنی معیشت کو بچانے کی خاطر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی پاکستان بھی چند مذمتی بیانات سے آگے نا بڑھ سکا یہاں تک کہ مظلوموں کی آہوں نے عرش الہی ہلا دیا اور خواب خرگوش کے مزے لوٹتی ہوئی دنیا خود کورونا وائرس کا شکار ہو کر لاک ڈاون کی مصیبت میں پھنس گئی اور وہ معیشت تہس نہس ہو گئی جس کو بچانے کے لیے ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ایسا محسوس ہوا جیسے اللہ رب العزت سوال کر رہے ہوں کہ کہاں گئی اب تمھاری معیشت جس کو بچانے کے تم نے قرآن پاک کی آیات سے منہ موڑا؟؟
کاش کہ ہم اس وقت ہی سمجھ جاتے اور توبہ کا راستہ اختیار کر لیتے لیکن افسوس ہم نے اللہ تعالی کی پکڑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی اصلاح اور محاسبے کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ کورونا وائرس کو ڈرامہ اور سازش کہنا شروع کر دیا ہم نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ سازش کامیاب کیسے ہو گئی ہمیں قرآن پاک کی آیت یاد نہیں رہی
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالی کے اذن سے
"سورہ التغابن آیت نمبر11”اور ہم حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور کورونا وائرس سے لڑ کر اس کو شکست دینے کی باتیں کرنے لگے۔۔ ہم بھول گئے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا قصہ جس نے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کی اسلام کی دعوت دینے پر کہا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ کے بچ جاوں گا اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دی اور عبرت کا نشان بن گیا ۔۔۔سوچیے اپنے آپ سے سوال کیجئے کیا ہم بھی اس نافرمان اور اور مشرک بیٹے کا عمل نہیں دھرا رہے تھے؟؟ کیا ہم بھی اپنی نافرمانی کے ذریعے اللہ تعالی کو نہیں للکار رہے تھے؟
ہم نے اللہ تعالی کے غضب کو خود دعوت نہیں دی؟ ہماری ان اجتماعی نافرمانیوں کی وجہ سے ہم پر بے موسمی بارشوں اور ٹڈیوں کی مصیبت مسلط کر دی گئی اور اب قحط کے خوف سے پوری قوم پریشان ہے۔۔
سوچ لینا چاہیے اگر یہ آفات سازش ہیں تو سازش کامیاب ہو چکی ہے۔ اگر وبا ہیں تو اثر انداز ہو چکی ہے اور اگر بلاء ہیں تو ہمارے سر پر آ چکی ہیں اور ان سے نجات کا واحد حل رجوع الی اللہ ہے۔۔
توآئیے ہم پلٹ آئیں نماز کے راستے کی طرف، استغفار کے راستے کی طرف، توکل کے راستے کی طرف، صبر کے راستے کی طرف، توبہ کے راستے کی طرف، انابت الی اللہ کے راستے کی طرف، یہ راستے کھلے ہیں اگر ہم ان راستوں کے ذریعے پناہ طلب کریں تو اللہ تعالی بیماریوں کو مٹا دے آفات کو دور فرما دے گا ان شآءاللہاللہ تعالی سے دعا ہے بیشک ہم گناہگار ہیں خطا کار ہیں لیکن آپکی طرف رجوع کرتے ہیں ہمیں اس آفت سے بچا لے یہ ہمارے لیے عذاب نا بنا اور ہمیں اس سے نجات دے دے۔۔۔۔۔۔۔
آمییین یارب العالمین🤲
===================="وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”
✒️✍️تحریر=”اخت عمیر”
-

کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار از قلم :ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر
کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار
ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیروادی کشمیر میں حالت روز بروز بد سے بد تر ہوتی جارہی ہیں ۔ ایک طرف یہاں کے حالات جس کی وجہ سے زندگی دشوار بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف منشیات میں مبتلا ہمارے نوجوان۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔جوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔ یہی نوجوان کل کو کسی بھی قوم کے ڈاکٹر۔ انجینئر اور سیاست دان بنتے ہیں ۔قوم کا مستقبل انہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ نوجوان طبقے سے ہی قوم کی اُمیدیں وآبستہ ہوتی ہیں اگر یہ نوجوان ہی بگڑ جائیں، راستہ بھول جائیں، اندھیرے میں بھٹک جائیں تو قوم کی اُمیدیں بھی اندھیروں میں بھٹکتی ہیں ۔
قوم کے روشن مستقبل کے لئے جوان ہمت، شاہین صفت نوجوان درکار ہوتے ہیں جو قوم کا مستقبل سنوار سکیں ۔قوم کو ترقی کی سمت لے جاسکیں ۔
مگر وادی کشمیر میں آج اُسی قوم کے جوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے جن پر ہماری اُمیدیں وآبستہ تھیں کہ کل کو یہ جوان ہماری قوم کے قائد بنیں گے۔ مگر یہ نوجوان منشیات کی لت میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کب اور کس جگہ نشے کی حالت میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔کشمیری نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس کا تدراک بروقت نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں اس کا اثر پورے سماج کو دیکھنا پڑے گا۔ اور بعد میں ہمیں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں پو گا۔
نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچُکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون۔چرس۔ہیروئین۔کوکین۔بھنگ۔براؤن شوگر۔گوند۔رنگ پتلا کرنے والے محلول اور کئ دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چُکے ہیں۔
اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔
علاوہ ازیں وادی کشمیر میں صورتحال بہت گمبھیر ہے کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ بہت سی ایجنسیاں پہلے پہل جوانوں میں مفت منشیات سپلائی کرتی ہیں اور بعد میں عادی ہونے کے بعد ان سے ہی پھر فروخت کیا جاتا ہے اور یہ عمل بھی کافی تشویشناک ہے۔
یہ سرمایہ بہت سے طریقوں سے یہاں لوٹا جارہا ہے اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو آنے والا وقت ہمارے لئے بہت خطرناک ثابت ہو گا۔ نہ کہ ہم بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوں گی ۔
یہ وبا اگر چہ پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دُنیا میں منشیات کی مانگ سب سے زیادہ یورپ میں ہے۔ جہاں تقریباً ٧٥ فیصد لوگ ذہنی دباؤ اور دیگر امراض کے شکار لوگ وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔کیونکہ ان لوگوں میں بے سکونی زیادہ دولت کی حرص اور باقی چیزیں کی بدولت پائی جاتی ہے۔اور اگر پوری دُنیا کی بات کی جائے تو دُنیا میں تقریباً ستایئس کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال ٢٦ جون کو دُنیا بھر میں منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی تجارت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اور اب وہ دن بھی آنے والا ہے اس دن کی مناسبت سے بڑے پیمانے پر سیمنارس منعقد ہونے چاہییں اور اس بات پر زور دینا چاہئیے کہ کیا وجہ ہے کہ پوری دُنیا میں منشیات میں کیوں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔کون سے محرکات کارفرما ہیں جن کی وجہ سے اس کاروبار کو فروغ مل رہا ہے اور منشیات کی روک تھام کرنے کے لئے کون سے لائحہ عمل اختیار کرنے ہیں۔اور ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے منشیات کی روک تھام ہو سکے اور پوری دُنیا کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ہماری وادی کشمیر کا بھی نوجوان اس لت سے محفوظ ہو سکےاور قوم کو ان نوجوانوں سے جو اُمیدیں وآبستہ ہیں وہ اُن پر پورا اُتر سکیں۔۔۔
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند