Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    :اسلام آباد:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 43 ویں اجلاس کے موقع پر عالمی مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی) کے تعاون سے کشمیر ٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کےآئی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار میں مقررین نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت فاشسٹ حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے وحشیانہ مظالم کو مزید تیز کرنے کے علاوہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی لاک ڈاؤن کو بڑھانے کے بہانے بے شرمی کے ساتھ کوویڈ 19 کی وبائی بیماری کا استعمال کیا ہے۔

    اس ویبنار میں برطانوی پارلیمنٹیرین جناب خلیل محمود، برطانیہ کے سائے وزیر جناب سلیمان الیاس خان، جنوبی افریقہ سے انسانی حقوق کی کارکنوں محترمہ کلیئر بڈویل، مسٹر حسن اشرف برطانیہ، لبنان کی تجربہ کار انسانی حقوق کارکن لنڈیا کینن سید فیض نقشبندی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ویبینار کے مقررین نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے دوہرے لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیریوں کو بھارتی قابض حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وبا کی آڑ میں خطے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی ایک شرمناک کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوچکا ہے۔ کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور کشمیر کے اسپتالوں میں دیگر ضروری صحت کے آلات کی کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وبائی بیماری کے دوران ہندوستان نے خطے کے صحت کے شعبے کو مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وبائی امراض کے دوران اسپتالوں میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس کے علاوہ صحت کے سامان کی بھی شدید قلت تھی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کے باوجود جان بوجھ کر ہوا ہے۔ کشمیر کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے کے ہندوستان کے مذموم ڈیزائنوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 ذیلی شق 6 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قبضہ کرنے والی طاقتیں کشمیر کے علاقے کی حیثیت یا آبادی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی اس طرح کی کوئی بھی کوشش چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 146 اور 147 کے تحت جنگی جرائم کی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بہت ساری عالمی حکومتوں نے خطے کی غیر معمولی صورتحال پر خاموش اور خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔ بااثر حکومتوں کی جانب سے یہ مجرمانہ خاموشی انہوں نے کہا کہ IOK میں مودی کے اقدامات کی ایک مکمل حمایت ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیش کش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ پرامن حل تلاش کریں لیکن ہندوستان جس کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہراس اقدام کو روکا جائے جس کا مقصد ایک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ہے نے ایک بار پھراس پیش کش سے انکار کر دیا۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا   تحریر :غنی محمود قصوری

    دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا تحریر :غنی محمود قصوری

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا اس کی شاخیں ستون جتنا زیادہ اچھا اور مضبوط ہوگا عمارت اتنی کی مضبوط ہو گی بصورت دیگر وہ گرنے لگے گی
    دنیا کے ہر میڈیا کا اندازہ اس کی آزادی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا جانبدار اور سچا ہے اگر میڈیا آزاد ہوگا تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہے گا اگر دنیا کے تمام میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو صف اول کا بکاؤ اور بے غیرت میڈیا انڈیا کا ہے کہ جس کا کام انڈین را اور اسرائیلی موساد کے علاوہ دیگر اینٹی پاکستان حکومتوں سے پیسے لے کر کتے کی طرح پاکستان پر بھونکنا ہے مگر جب پروف مانگا جائے تو اس کی حالت اس کتے کی سی ہوتی ہے کہ جسے کوئی آنکھے دکھائے تو وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھوڑا آگے جاکر کر پھر بھونکنا شروع ہو جاتا ہے
    انڈیا کے چینلز کا کام ہی اینٹی پاکستان ہے پاکستان میں اگر کوئی ذاتی دشمنی کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کر دے تو یہ شور مچانا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں شورش عروج پر پہنچ چکی اب پاکستان نہیں بچے گا ٹوٹ جائیگا گا
    اگر دیکھا جائے تو میڈیا کا کام اپنے باشندوں کی ضروریات کو اجاگر کرنا بھی ہوتا ہے مگر افسوس اس ذلیل انڈین میڈیا پر کہ اس سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار کے باشندے لیٹرین جیسی اس سہولت سے محروم ہیں کہ جو پاکستان میں خانہ بدوشوں کو بھی حاصل ہے ان کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک انڈین فوجی آفیسر اپنے جوانوں کو لیٹرین بنانے اور پھر اس لیٹرین کے استعمال کا طریقہ سمجھا رہا ہے
    ہندو اور اس کے میڈیا کا کام صرف پاکستان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنا ہے رواں 2 جولائی کو کراچی میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن و عالم دین مجیب ادریس المعروف شیخ مجیب الرحمٰن زامرانی کو شرپسندوں نے ان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا اس پر انڈین بکاؤ میڈیا نے شور کرنا شروع کر دیا کہ زامرانی کا تعلق جماعت الدعوہ سے تھا اور وہ حافظ سعید کا دست راست ہونے کیساتھ بلوچستان میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کا ذمہ دار بھی تھا نیز وہ داعش کیساتھ مل کر معصوم بلوچیوں کو قتل کرتا تھا اگر دیکھا جائے تو انڈین سرکار کی طرح انڈین میڈیا کی بھی زبان کتے والی ہے
    آج دن تک انڈین میڈیا شور ڈالتا رہا کہ ذکی الرحمان لکھوی حافظ سعید کا دست راست ہے اور اس کی گورنمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کو جماعت الدعوہ کے تمام مرکزی راہنماؤں کے نام بھی دیئے جس پر پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ان افراد پر مقدمات درج کئے گئے اور حافظ سعید سمیت ان کے دیگر راہنماء سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوہ کے تمام مراکز گورنمنٹ کی تحویل میں ہیں تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ بلوچستان میں جماعت الدعوہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور پوری دنیا جماعت الدعوہ کے قائدین سے واقف ہے جبکہ ایک عدم ثبوتوں کی بناء پر انڈین میڈیا نے واویلا شروع کر دیا کہ زامرانی جماعت کا بڑا اہم ہے اور وہ ممبئی حملوں کا ذمہ دار ہے کوئی بھی ذی شعور بندہ انڈیا کی باتوں کو نہیں مانے گا کیونکہ آج دن تک ممبئی حملوں میں زامرانی کا نام نہیں لیا گیا اب اچانک پھر سے ان کو پاگلوں کی طرح خواب آنا شروع ہو گئے
    جو باتیں زامرانی کے متعلق سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زامرانی سعودی عرب سے پڑھ کر وطن واپس آ کر اپنے علاقے میں انڈین پے رول پر کام کرنی والی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف کام کر رہے تھے وہ امن جرگہ کے اہم رکن تھے اور لوگوں کو بی ایل اے کی اوقات سے آشکار کرکے لوگوں کو وطن کی محبت میں رنگ رہے تھے اسی بدولت بی ایل اے کے درندوں نے ان کو انڈین را کے کہنے پر شہید کیا تاکہ ان کو آسانی ہو مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نا تو 1971 ہے اور نا ہی بنگلہ دیش آج کا جوان سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام و پاکستان سے وفاداری کرکے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرآت نہیں بزدلی ہے اسی لئے انڈین گورنمنٹ اپنی را کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہی ہے
    اگر انڈین میڈیا میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بلوچستان کے مسئلے کو اچھالنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر 4 درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکوں کو دنیا کے سامنے لاتا جن میں سے سب سے مضبوط تحریک خالصتان اور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے مگر یہ خنزیر بکاؤ دلال انڈین میڈیا پیسوں کی خاطر حق اور سچ کو چھپا رہا ہے حالانکہ انڈین سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں مسلمان،سکھ اور عیسائیوں کے علاوہ ہندو ہی اپنے اچھوت ذات ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر افسوس پیسے کے پجاری بکاؤ میڈیا کو پاکستان پر ہی بھونکنا آتا ہے

  • منزل کی آس میں      تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کشمیری قوم نے کئی راجوں کا سامنا کیا،ڈوگرہ راج،سکھ راج،فرنگی راج اور اب ہندو راج سے نبرد آزما یہ قوم آزادی کی اُمید لیئے اپنے خونِ جگر سے لاکھوں قربانیاں دے کر جہدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہے…
    یہ وہ جدوجہد آزادی ہے کہ جسے عالمی برادری کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعزاز حاصل ہے اور اقوامِ متحدہ جیسے عالمی طاقتوں کے مجموعے کے فورم اور ریکارڈ پر درجنوں منظور شدہ قراردادیں آج تک عالم انسانیت کا منہ چڑا رہی ہیں…!!!
    ہر موسم اور ہر انداز میں لہو سے راہ کے چراغ روشن کرتی یہ تحریک عشروں سے جانبِ منزل چل رہی ہے…
    13 جولائی 1935ء میں سرینگر جیل میں جن بائیس افراد نے اذان کی تکمیل کے لیئے جانیں دے دی تھیں،اس طوفان نے آزادئ کشمیر کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا…
    ایسے اندوہ ناک واقعات کشمیر کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور ہزاروں یتیم بچے،بیوائیں اور ہاف وڈوز جن کے شوہر لاپتہ ہونے کے بعد گھروں کو نہیں لوٹے…
    اجتماعی قبروں کی دریافتیں اور تعلیم و صحت کی انتہائی ابتر صورتحال کی ایک تصویر کشمیر ہے…
    اسی ماہِ جولائی 2016ء میں اس تحریک کو ایک نیا رنگ،ولولہ اور مہمیز ملی جب 8 جولائی کو نوجوان کشمیری برہان مظفر وانی کو قابض افواج نے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا…
    ایک سکول پرنسپل کا بچہ جسے تعلیم و قلم سے پیار تھا…آخر کس احساس نے گن تھما دی تھی کہ سوشل میڈیا کا کھلاڑی کشمیریوں کی ایک مضبوط آواز بن گیا تھا…؟
    اور ظالم فورسز نے اسے شہید کر کے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور یہ سوچ اور تجزیہ ایک آواز بن گئے کہ قبر میں لیٹا برہان زندہ برہان سے زندہ وانی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا…
    برہان مظفر وانی کی تاریخی نمازِ جنازہ نے قابضین کے ہوش اڑا دیئے تھے،جس میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور نمازِ جنازہ 45 مرتبہ ادا کی گئی تھی۔
    کشمیری نوجوان برہان وانی کو شہید کر کے بھارتیوں نے تحریکِ آزادی کو کچلا نہیں بلکہ پروان چڑھاتے ہوئے قافلے کو رواں اور نوجوانوں کو عزم و ہمت فراہم کر دیئے ہیں…
    یہ بے گناہ اور مظلوم لہو تہہِ خاک سے آزادی کی پر نور صبح تک زادِ سفر بن چکا ہے…!!!
    گزشتہ گیارہ مال سے طویل لاک ڈاؤن کا سامنا کرتی قوم کے حوصلے اب بھی پست نہیں ہیں،اگر چہ ان کی آوازوں کو پابندِ سلاسل کیا جا چکا ہے،مگر آزادی کے مقصد کی خاطر بہایا گئے لہو کی گونج زندانوں سے ایوانوں تک ٹکرا رہی ہے…!!!
    کشمیری نوجوان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک طرف رکھ کر راہِ آزادی کا مسافر جس چیز نے بنایا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اسی ظلم اور ظلمت کی اوٹ سے صبحِ انقلاب کا ظہور دکھائی دیتا ہے…
    پیلٹ گن کے چھروں کے وار اور نابینا آنکھیں اب انسانیت سوز مظالم پر اتمامِ حجت بن چکے ہیں…
    اس سفرِ آزادی کے کارواں میں بوڑھے،جواں،بچے اور عورتیں سبھی شامل ہو کر ہم کیا چاہتے ہیں…”آزادی” کی پکار سے دنیا کے ضمیر پر ایک ضرب بن کر لگ رہے ہیں…!!!
    اور تمام عالمی اداروں اور حقوقِ انسانی کے کنونشنز سے سوال کناں ہیں…!!!
    کشمیر کے نوجوان کی جوانی،کاروبار اور تعلیم سب اس راہ میں ہار چکی ہیں مگر وہ صبحِ آزادی کے تعاقب سے پلٹ نہیں رہا ہے…
    منزل کی آس میں پیہم چل رہا ہے…
    جس کی واضح مثال برہان وانی شہید ہے…!!!
    اُمید سحر کی آس میں…
    میں چلا گیا ہوں آبلہ پا…
    میں نے ہر صلاحیت دے کر…
    چراغِ رہ دیا ہے جَلا…
    مجھے جاں سے بھی پیاری…
    ہے یہ اپنی صبح آزادی…
    میں نے نقد جاں ہار کر…
    اَدا سفرِ وفا کا کیا تقاضا…
    مرے ہاتھ میں قلم کی جگہ…
    جس نے نعرۂ آزادی دیا…
    اسی وجہ کو کھوج لو…
    کرتا ہے سوال یہ بچہ بچہ…؟
    رہِ وفا میں ہواؤں سے…
    شبِ ظلمت کی گھٹاؤں سے۔۔…
    اُلجھ کر جو چلتے رہے…
    ہم وہ دِیے جلا چلے ہیں…
    جنہیں کوئی بھی نہ سکے گا بُجھا…!!!
    ==============================

  • "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”
    بقلم : شعیب بھٹی
    آج سے تقریبا پون صدی پہلے جب ٹی وی سکرین کی ایجاد ہوٸی تو یہ ایک تفریح کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعے تھا اور معاشرے میں موجود براٸیوں کو دور کرنے کے لیے اس پہ پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ دوسروں تک اپنے خیالات و آرا پہنچانے اور دوسری کی سوچ میں اپنے نظریاتی منتقل کرنے کا عمل ریڈیو کی ایجاد سے ہی شروع ہوچکا تھا اس کو مزید تقویت ٹی وی کی ایجاد نے دی۔
    اب اس جدید ٹیکنالوجی(کمپوٹر، انٹرنیٹ، موباٸل) کی ایجادات نےاس کو مزید پھیلایا۔ اب دنیا ایک گاٶں کی حثیت اختیار کرچکی ہے۔
    ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جنگ کے طریقہ کار بدل دٸیے ہیں۔
    شروع دنیا سے اب تک جنگ میں مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے افواہوں کا سہارا لیا جاتا تھا تاکہ قوم کو ذہنی طور شکست دی جاۓ اس سے ان کے حوصلے کمزور ہوجاتے تھے۔
    دشمن کو عصابی طور پہ کمزور کرنے اور اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شروع سے ہی کوٸی نا کوٸی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

    اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوۓ یہ کام میڈیا انڈسٹری سے لیا جارہا ہے۔
    میڈیا وار کے ذریعے اپنے خیالات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہترین اور پرکشش شکل دے کر دوسروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
    ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ اور مخالف قوم کی تاریخ دیکھاٸی جارہی ہے اور اس میں کرداروں کو مسخ کرکے دیکھایا جاتا ہے اور تاریخ سے ناعلم لوگوں کو آسانی سے بے وقوف بنادیا جاتا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے مخالف حکمرانوں کی ذاتی زندگی کے واقعات میں رنگ بھر کر انکی کردار کشی کی جاتی ہے۔
    فلمز اور ڈراموں کے ذریعے عوام کو دشمن کے خلاف کھڑے کرنا اور دشمن ممالک کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کا کام بہت عرصے سے عروج پہ ہے۔
    امریکہ سمیت یورپ کے اکثر ممالک،روس،انڈیا اور اب عرب ممالک بھی اس ساٸبر اور میڈیا وار میں تیزی لاۓ ہیں۔
    حالیہ وقت میں بہت سے یورپی ممالک نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو اسلام مخالف استعمال کیا ہے اور اسلاموفوبیا مہم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی کردار کشی اور مسلمانوں کے پیارے نبی ﷺ کے خلاف کارٹون مقابلےکرواۓ اور سیریز بناٸی گٸی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوٸی۔ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑا اور مسلمانوں کے اس احتجاج کو دہشتگردی کہا گیا اور اظہار راۓ کی آزادی کے خلاف گردانا گیا۔ اسی طرح انڈین میڈیا اور فلم انڈسڑی نے بھی اسلام و پاکستان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے۔
    انڈیا نے گزشتہ سال "پانی پت” کے نام پر فلم ریلیز کی ہے۔ پانی پت ایک تاریخی لڑاٸی ہے جو افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ہندٶ مرہٹوں کے خلاف لڑی تھی اور اس جنگ میں مرہٹوں کو شکست ہوٸی تھی۔ اس متنازعہ فلم کو انڈیا نے بابری مسجد کی شہادت کے دن ریلیز کیا۔ اس میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان کے قاٸمقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے انڈین سفارتکار ونے کمار کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
    میڈیا کے ذریعے اسلام دشمنی کے بعد مسلمان نے بھی اس کے ازالہ کی کوشش کی اور عمر بن خطاب پر عمر سیریز بناٸی لیکن علما نے اس کو دیکھنا حرام قرار دیا۔
    اب موجودہ وقت میں ترکی سیریز ارطغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
    ارطغل سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سلطان عثمان کا والد تھا۔
    یہ سیریز ارطغل کی زندگی پر مشتمل ہے۔ قاٸی قبیلے کی سلطنت کے قیام کے لیے جہدوجہد کو اسکا موضوع بنایا گیا ہے۔ 1191 عیسوی کی تاریخ کو ترکی کی بے مثال تاریخی جدوجہد کے طور پر دیکھایا جارہا ہے۔ دوسرے بہت سارے ممالک کی طرح پاکستان میں اسے سرکاری ٹی وی پہ ڈبنگ کرکے دیکھایا جارہا ہے پاکستان میں اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی یوٹیوب پر پہلی قسط کو 16 گھنٹوں میں 34 لاکھ افراد نے دیکھا اور پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کو صرف 15 دنوں میں ریکارڈ 10 لاکھ لوگوں نے سبسکراٸب کیا۔
    دوسری طرف عرب میں ترک عثمانیہ سلطنت کے حوالے سے ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ جس کا نام "ممالکة النار” یعنی آگ کی بادشاہت ہے۔ جسے انگلش میں
    #Kingdom_Of_Fire
    کہا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 17 سے معروف عالمی چینل #MCB پر دیکھایا جارہا ہے۔
    ترکی سیریز ارطغل کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو مصری راٸٹر نے لکھا، برطانوی ڈاٸریکٹر نے ڈاٸیریکٹ کیا، تیونس میں شوٹ ہوا، متحدہ عرب امارات نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی مصر پر قبضہ اور سلیم اول کے ہاتھوں مملوک سلطنت کے خاتمے کی منظر کشی کی گٸی ہے۔
    یاد رکھیں مملکوک سلاطین بھی ترک ہی تھے۔

    اسی طرح مصر میں بھی ایک سیریز یکم رمضان سے شروع کی گی جس کا نام "النہایہ” ہے۔ جوکہ مستقبل کے بارے میں ہے جب 2120ٕ میں امریکہ کے تقسیم اور برباد ہوجانے کے بعد صیہونی ریاست اسراٸیل تباہ کردی جاتی ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک ڈرامہ ہے لیکن اس سے اسراٸیل کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اسراٸیلی وزیر خارجہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو مخاطب کرکے اسے رکوانے کا کہا ہے۔ اس ڈرامے کو پروڈکشن کمپنی سینرجی نے تیار کیا ہے اور اسے معروف ٹی وی چینل (آن) پر دیکھایا جارہا ہے۔
    دوسری طرف یکم رمضان کو ہی عرب ممالک میں ایک ڈرامے کی پہلی قسط نشر ہوٸی۔ جس کا نام "ام ہارون” ہے۔ اسکی 30 اقساط ہیں یہ ڈرامہ کویت کی پروڈکشن کمپنی نے بنایا، اس میں کام کرنے والوں کا تعلق بحرین سے، اس میں کرداروں میں رنگ بھرنے والے اداکاروں کا تعلق کویت سے ہے اور اس کی شوٹنگ متحدہ عرب امارات میں کی گٸی ہے۔
    اس ڈرامے کے بارے کہا گیا کہ یہ عرب اسراٸیل تعلقات کے متعلق ہے لیکن یہ کہانی بحرین کی ایک یہودی نرس کے متعلق ہے جو فلسطین سے جبرا نکالے گٸے خاندانوں کا علاج کرتی ہے جو بحرین اور کویت میں پناہ لیتے ہیں اس میں ام ہارون کا کردار حیات الفہد نامی مسلم اداکارہ نے کیا ہے۔
    یہ حالیہ وقت میں مقبول اور متنازعہ ڈراموں کا تعارف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اسی طرح عوامی تاثر کو تبدیل کرنے اور نظریات کی منتقلی کے لیے میڈیا اور فلم انڈسڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ کو توڑ مروڑ اور جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا کر کہانیاں بنا کر ممالک اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ فلمز اور ڈراموں کے ذریعے سوچوں پہ یلغار کا یہ سلسلہ اس وقت مکمل عروج پہ ہے۔
    دنیا میں میڈیا جنگ کے ایک مہرے کے طور پہ اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اس کو ہتھیار کے طور پہ استعمال کررہے ہیں۔

  • موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح   تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!![طنز و مزاح]
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    (نوٹ:یہ تحریر حس لطافت کے پیرائے میں مزاح و اصلاح کی ایک کاوش ہے)۔
    ایک وقت تھا جب ہم سکول جاتے تھے تو جب ٹیچرز کو گھر میں کسی سے رابطہ کرنے کے لیئے کوئی سورس چاہیئے ہوتا تھا تو محلے کے کسی گھرانے کا نمبر دیا جاتا تھا، وہاں سے پیغام گھر پہنچتا ہے۔
    تب کی پیڈ موبائل نئے نئے دیہات تک پہنچنا شروع ہوئے تھے۔
    آہستہ آہستہ پاکستان نے ترقی کے مدارج طے کیئے اور سیل فون ہر گھر اور پھر گھر کے ہر فرد کی ضرورت بن گیا،چاہے وہ چھوٹا تھا یا بڑا…
    پڑھا لکھا تھا یا اَن پڑھ…
    وسیع رابطوں والا تھا کہ محدود…
    ہمارے گھر بھی جب کی پیڈ موبائل نے انٹری کی تو پہلے پہل تو اتنا ڈر لگتا تھا کہ پتہ نہیں اس کو ہاتھ لگ گیا تو کچھ غلط نہ ہو جائے،
    بلکہ سیل کسی اونچی جگہ رکھا جاتا تھا کہ گھر کے بچے اور بالخصوص بچیاں اس سے دور ہی رہیں…
    الحمدللہ ہر کام کو فوراً سمجھ لینے کی صلاحیت کے باوجود مجھے سیل فون کی بہت کم ہی سمجھ آتی تھی۔
    شروع شروع میں لوگ مس بیل دینا ایک فیشن سمجھتے تھے،
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شعور نے باور کرایا کہ یہ اولڈ فیشن بن چکا ہے،اب مس کال بھلا کون دیتا ہے؟
    جب ایس ایم ایس کا سلسلہ شروع ہوا تو گھر کے سیل پر آئے کمپنی کے میسیجز اوپن کرنا رسک لگتا تھا…
    ہم کبھی دیکھتے،کہ کھول کر دیکھیں مگر کس بٹن کو دبانا ہے،اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
    یوں وہ ایک چھوٹا سا خط جو سکرین پر جھلملاتا رہتا تھا،
    کبھی مٹ نہ پاتا کیونکہ جب تک میسیجز پڑھ کر ان بکس میں یا ڈیلیٹ نہ کیئے جاتے،اسے تو بہر حال اپنا دیدار کراتے رہنا تھا۔
    وقت گزرتا گیا کہ گھر کے لیئے ایک الگ سیل لایا گیا جو گھر میں ہی رہنا تھا…
    اچانک ایک دن کسی ضروری کال کے لیئے ٹرائی کیا گیا تو بیلنس ناکافی تھا…
    اب مسئلہ یہ تھا کہ بیلنس ری چارج کیسے کیا جائے؟
    کارڈ کیسے اسکریچ کرتے ہیں اور کوڈ کونسا لگانا پڑتا ہے…؟
    والدہ کو منایا کہ آپ سیل سمیت دکان پر جائیں اور بیلنس چارج کروا لائیں…
    پھر کسی نے معلومات میں اضافہ کیا کہ اب گھر بیٹھے ایزی لوڈ بھی کروا سکتے ہیں…
    لیکن دکاندار کو نمبر بتانا پڑے گا…؟
    چلیں اس چیز کو رہنے دیا جائے اور خود ہی ری چارج کر لیا جائے…
    ہر ایسی کیفیت میں مجھے وہ آنٹی یاد آتیں کہ جن کے بیٹے نے پہلے پہل جب کی پیڈ موبائل لیا تھا،
    تو ایک دن کہنے لگیں کہ وہ سیکھنے جاتا ہے کسی کے پاس کہ کیسے کال کرتے اور سنتے ہیں،ایس ایم ایس وغیرہ…
    تب ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار ہنسی مچلتی اور اندازِ بے نیازی سے دل میں کہتے ارے یہ بھی کوئی سیکھنے والی بات ہے؟
    لیکن حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں کارڈ اسکریچ کرنا بھی سکھا دیا…
    ایک دن ایک سہیلی کو کال کی تو کالر ٹیون اسماء الحسنیٰ کی سیٹ تھی،ہمارے معصوم دل میں بھی خواہش اُبھری کہ ہم بھی یہ کالر ٹیون سیٹ کریں…
    لوگ تو انڈین سانگز لگاتے ہیں…
    اب مرحلہ ٹیون سیٹنگ کا تھا…
    جس کے لیئے بیلنس چاہیئے تھا،ہم نے سو روپے کا اس وقت میں چارج کروا کر جب لوگ بیس کے ایزی لوڈ میں بھی کام چلا لیتے تھے،کالر ٹیون سیٹ کرنا چاہی…
    ٹیون کیا سیٹ کی کہ صرف پسند کرتے کرتے ہی کہ کون سی سیٹ کرنی چاہیئے،سنتے سنتے سو روپیہ اُڑ گیا…
    جبکہ ٹیون سیٹنگ کے لیئے تو صرف بارہ روپے چاہیئے تھے…
    اب تقریباً رونی شکل بنا کر والدہ کی مجلس میں پہنچ کر روداد سنائی تو ماں نے ممتا کا اظہار کرتے ہوئے تسلی دی کہ میں اپنی بیٹی کو اور کارڈ منگوا دیتی ہوں،پریشانی کی کونسی بات ہے…
    پھر جب میسیجز ٹائپ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تو سادگی کا یہ عالم تھا کہ سالوں بغیر کسی پیکج کے بیلنس پھونکتے ہوئے سہیلیوں کو جواب دیا جاتا تھا کہ دن کے اینڈ تک بیلنس پھر ریڈ جھنڈی دکھا کر رخصت ہو جاتا…
    کُچھ عرصہ بعد یہ عقدہ ہم پر بھی کھلا کہ پیکج کر لینے سے میسیجز زیادہ بھی ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کم…
    مگر وہ تو میسیج کرو نہ کرو،
    پیکج اپ ڈیٹ ہو کر بیلنس کو چاٹتا ہی جاتا، ہم نے بھلا اتنے میسیجز کہاں کرنے ہیں؟
    جبکہ پیکج کے علاوہ دس روپے بھی ہوں تو محفوظ تو رہتے ہیں…
    بجٹ اور بچے پر دل میں بحث ہوتی تھی…
    کال پہ بات کرنے کی تو ہمت تو خیر آج تک بھی بہت کم آئی ہے…
    کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی ان ناؤن نمبر آتا تو ڈیوٹی بڑھ جاتی کہ پہلے ڈائری کی ورق گردانی شروع ہو جاتی کہ آیا یہ نمبر ڈائری میں موجود ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہی تڑپ جاتا،کال ریسیو نہیں کرنی…
    مطلب احتیاط کی حد تھی…
    پھر یہی ہوتا کہ اکثر شکوے آ جاتے کہ کال ریسیو نہیں کی…!!!
    بس ضرورت کی بات کو لازمًا ریسپانڈ کرنا ہوتا تھا…!!!
    وقت کا پہیہ چلتا رہا…
    کانوں میں گونج پڑتی وٹس ایپ،فیس بک…
    اب پتہ نہیں یہ کیا بلا اور ترقی کا کوئی بہت ہی اونچا زینہ ہے شاید؟
    دل ہی دل میں سوچتے…
    اچھا یہ کی پیڈ میں بھی چلتے ہیں؟
    جی نہیں اس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری ہے…
    اچھا…
    ہم معصومیت سے جواب دیتے…
    آہستہ آہستہ واٹس ایپ اور فیس بک نے بھی قدم جمانے شروع کیئے اور شہروں سے دیہات تک یہ ایپس پہنچنے لگیں تو…
    اب مسئلہ اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری تھا…
    ایک دم اتنی بڑی فرمائش ظاہر ہے چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف تھی اور پھر پندرہ سے بیس ہزار کا سیٹ ایک دم سے ممکن ہو بھی سکتا تھا،نہیں بھی…
    اور وہ بھی بچوں کے لیئے جن کی تربیت سنجیدگی کے اصولوں پر ہوئی ہو…
    جب بھی کہیں لکھنے کے حوالے سے بات ہوتی تو ہر ذمہ دار کی طرف سے یہ مشورہ ضرور سننے کو ملتا کہ آپ لکھ کر واٹس ایپ کر دیں…
    اب واٹس ایپ ہماری بلا سے…
    لکھنا تو ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو…
    طویل عرصہ ہمارا اور ڈاک کا تعلق قائم رہا…
    ہم نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر کے رکھنا اور بھائی کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر آہستگی سے نکالنا…
    کبھی منتوں ترلوں تک بھی نوبت جاتی تھی لیکن صد شکر کہ فرمائش کبھی مسترد نہیں کی گئی…
    اب ہمارے اس شوق کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے گلو خلاصی کروانے کا ایک یہی آپشن باقی تھا کہ اب آپ آرام سے ادب تحریر کر کے بھیج دیا کرو…جس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہمیں تحفہ میں ملا…
    اچھا بھائی اب اس پہ تو واٹس ایپ ہو جائے گی ناں؟
    اور فیس بک بھی؟
    بھائی پیار و ڈانٹ کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھتے کہ شریف لڑکیوں کے لیئے فیس بک پہ ہونا کوئی ضروری چیز بھی نہیں ہے اب…!!!
    اچھا کیوں اگر مثبت استعمال کی جائے تب بھی…؟
    ہم آگے سے خاموشی پا کر دل مسوس کر رہ جاتے کہ لگتا ہے گزارہ اب ایک ہی ایپ پہ کرنا پڑے گا…!!!
    ارے یہ انسٹا کیا ہے؟
    اور IMO اور BOTIM کیا چیز ہیں؟
    ایک دن بہت ہی پیاری دوست سے پوچھ ہی لیا…
    تب جواب نے مجھے ہنسی کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا کہ بہنا یہ ان کے لیئے ہے جو جانو وانو پہ مریں اور دوری کی وجہ سے بآسانی باہر بھی بات کر سکیں…
    اچھا یہ تو پھر بالکل ہی غیر اہم ہیں اور میرے شیڈول میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے…!!!
    یو ٹیوب پر تو کچھ دیکھ لینا چاہیئے،کیا مشورہ دیتی ہیں آپ؟
    ایک فرینڈ سے مشورہ کیا…
    ہاں یو ٹیوب پر کافی فائدہ مند مواد اور وڈیوز ہیں، آپ دیکھ لیا کریں…
    اچھا کوئی پیکج کا طریقہ بتا دیں…؟
    ہم پاکٹ منی کی ایک خطیر رقم خرچ کر کے ابھی پیکج کا طریقہ آنے کے انتظار میں تھے کہ اتنی دیر میں بیلنس ہوا ہو چکا تھا…!!!
    دل گھبرایا کہ ایپس کے لنڈا بازار میں گھومنا ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں ہے جنہوں نے ہماری زندگی میں داخل ہو کر ہمیں عبادات،رشتوں اور حقیقی کردار سے یقیناً دور کر دیا ہے…
    اب ہماری خوشی،غم،پیار اور نفرت بھی فیس بک،اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ہی گھومتے ہیں…
    نیٹ کی سپیڈ 4G نے آسانیاں بھی بہت کر دی ہیں ہر میدان میں…!!!
    آہ…!!!
    مگرہم زندگی کی فطری اور حقیقی خوشیوں سے بہت دور صرف تنہائی کا شکار ہو کر سکرین پر محبتیں اور رشتے ڈھونڈتے رہ گئے ہیں؟
    گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی اجنبی بن چکے ہیں؟
    اک گہرے درد نے انگڑائی لی…
    یہ سب بے شک ضروری تو ہے…
    مگر اسے ضرورت ہی سمجھیئے…
    اس سب کو اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد پر کبھی اثر انداز نہ ہونے دیجیئے اور کھوکھلی اور مصنوعی نگوں کی ریزہ کاری کے خول سے کبھی باہر نکل کر قدرت کی ٹھنڈی اور تازہ فضا میں بھی سانس لیتے رہنا چاہیئے…
    کہ یہ بھی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہے…!!!
    ،اپنی آنکھوں کے گرد پھیلتے سیاہ حلقوں اور اتری رنگت کا بھی خیال کر لیا کیجیئے…
    اپنی پُر سکون نیند کو محض وقت گزاری اور فریب کی نذر نہ کر دیا کیجیئے کہ آج کی نوجوان نسل کے اس رویّے نے بڑے بزرگوں کو ایک سنجیدہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے…!!!
    مثبت استعمال کیجیئے مگر وہ بھی ایک حد تک…
    قانونِ فطرت کے دائرہ میں رہتے ہوئے…
    ایک ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ…
    اپنے اہم اور ضروری فرائض کی بجا آوری کے بعد…!!!!
    کہ زندگی بہت ہی مختصر اور آگے سفر بڑا طویل ہے…
    کہیں ہم ظاہریت کو سجاتے ہوئے باطن کو داغدار اور بے وقعت تو نہیں کر رہے؟
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے اداکار اور گلوکار فرحان سعید نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں پہلی ونہوں نے شوبز کی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا تاہم اب انہوں نے اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان اورلیجنڈری قومی کرکٹر جاوید میاںداد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سمجای رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں جہانگیر خان کی طرح چند ہی ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے کھیل کو نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا میں متعارف کروایا میں آج لیجنڈ جہانگیر خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہوں۔
    https://www.instagram.com/p/CB-cNPhFdow/
    فرحان سعید نے لکھا کہ جہانگیرصاحب کی کامیابیوں کی فہرست لامتناہی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جہانگیر خان نے چھ بار ورلڈ اوپن ، اور برٹش اوپن دس بار جیتا ہے۔ وہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے صدر تھے جس کے بعد ان کے لئے ‘ایمریٹس کے صدر’ کا عہدہ تشکیل دے دیا گیا تھا – جو دفتر آج تک ان کے پاس ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ ان کے ساتھ میری چند ملاقاتوں میں ، ان کی کامیابیوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ کوئی ایسا شخص جس نے کئی دہائیوں میں اتنی کامیابی دیکھی ہے اور اب بھی ایسے ریکارڈ رکھے ہوئے ہیں جو ٹوٹ نہیں سکے ہیں ۔

    فرحان سعید نے کہا کہ یہ جہانگیر خان اور پھر جان شیر خان کی ہی وجہ سے ممکن ہوا کہ پاکستان اسکواش میں کئی دہائیوں تک ٹاپ پوزیشن پر رہا۔

    انہوں نے لکھا کہ جہانگیر خان آپ کا شکریہ میرے لیے آپ بے مثال مہارت اور عزم و حوصلے کی ایک مثالی شخصیت رکھتے ہیں آپ کی لازوال میراث پاکستان کے لئے ایک تحفہ ہے اور رہے گی۔

    فرحان سعید نے اپنی ایک دوسری پاسٹ میں لیجنڈری قومی کرکٹر جاوید میانداد کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے اُنہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CB3fJhiFuLk/
    فرحان سعید نے انسٹاگرام پر جاوید میانداد کی چند یادگار تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں کرکٹ ایک جنون ہے اور آج ، میں لیجنڈری کرکٹر کی غیر معمولی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وہ واحد جاوید میانداد صاحب ہیں۔

    اُنہوں نے لکھا کہ ’جاوید میانداد کا کیریئر اور کارناموں کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں شارجہ میں مقابل حریف بھارت کے خلاف جاوید صاحب کی آخری گیند چھکے کا جادو ابھی بھی برقرار ہے۔

    فرحان سعید نے لکھا کہ جاوید میانداد 1992 میں پاکستان کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنےکیریئر میں پاکستان کی جو شان و شوکت بڑھائی ہے اس کی وضاحت کے لئے الفاظ کافی نہیں ہیں۔

    فرحان سعید نے مزید لکھا کہ وہ ایک سچا دوست ہے اور اپنے آس پاس کے ہر فرد پر محبت اور پیار کا مظاہرہ کرتا ہے میری طرف سے جاوید صاحب کا شکریہ ادا کرنے کی یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ ہم کرکٹ اور ہمارے ملک میں ان کی شاندار شراکت کے لئے ہمیشہ ان کے مشکور ہوں گے۔

    انہوں نے لکھا کہ جاوید صاحب ، آپ سدا خوش رہیں ، سلامت رہیں ۔ پاکستان کے لئے آپ کی خدمات کا بہت شکریہ۔

    انہوں نے ہیش ٹیگ LivingLegends #PakistaniHeroes# بھی استعمال کئے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل فرحان سعید نے ملک کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا جن میں اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف شامل تھے۔

    فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین

  • وقت کا تقاضاہے کہ امریکی نواز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جگہ فواد چودھری کو ملک کا وزیر خارجہ بنایا جائے  تحریر اجمل ملک

    وقت کا تقاضاہے کہ امریکی نواز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جگہ فواد چودھری کو ملک کا وزیر خارجہ بنایا جائے تحریر اجمل ملک

    جب ایک چائینیز فوجی نے بھارتی فوجی کے چوتڑ پر لات ماری تو ڈیرھ ارب مسلمانوں کے سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی کیونکہ مودی سرکار پچھلے کچھ عرصے سے مسلمانوں کے خلاف انتہائی گھٹیا حرکتوں پر اتری ھوئی ھے اب پاکستان کو چاھیئے کہ وہ اس خطے کے مفاد میں امریکہ کے چوتڑ پر ایک زور دار لات مار کر اسے اس خطے سے بھگا دے کیونکہ امریکہ ھی اس خطے میں فساد کی اصل جڑ ھے اور وھی بھارت کو شہہ دے رھا ھے کہ وہ سی پیک کے خلاف گڑ بڑ کرے-

    لیکن مسلئہ یہ ھے کہ ھماری اپنی بیوروکریسی میں ایسے لوگ موجود ھیں جو امریکی مفاد کیلیئے کام کرتے ھیں حالانکہ امریکہ نے ھمیشہ ھمیں دھوکا دیا ھے اور چین نے ھمیشہ ھمارا ساتھ دیا ھے جب پاکستان ایٹم بم بنا رھا تھا تو سب سے زیادہ تکلیف امریکہ کو تھی اور امریکی وزیر خارجہ ھنری کیسنجر نے بھٹو کو کھلے عام دھمکیاں دیں جب نواز شریف ایٹمی دھماکہ کر رھا تھا تو اسوقت بھی امریکہ سے دھمکی آمیز فون آ رھے تھے اس امریکہ نے ھمیشہ ھمیں ٹشو پیپر کیطرح استمعال کیا ھے لیکن ھمارے شاہ محمود قریشی جیسے مغرب کے ذھنی غلام آج بھی کہہ رھے ھیں کہ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کیلیئے ضروری ھیں امریکہ ھمارے لیئے کوئی ضروری نہیں ھے ھماری نہ تو اس سے کوئی سرحد ملتی ھے اور نہ ھی ھمارا اسکے ساتھ اور کوئی مشترکہ مفاد ھے آج اسے ھماری ضرورت ھے تو اس نے دو سال سے عائد مشترکہ فوجی ٹرینگ پر سے پابندی ختم کر دی ھے اور ھمارے ساتھ مشترکہ ٹریننگ چاھتا ھے لیکن اب ھمیں اپنے خطے کے ممالک کیساتھ مراسم بڑھانے چاھیئے 29 جون کو ایران نے امریکہ کی طرف سے اپنے مارے جانے والے جنرل قاسم کے قتل کا مقدمہ سرکاری طور پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دائر کر دیا ھے اور ٹرمپ کی گرفتاری کیلیئے انٹر پول سے بھی رابطہ کیا ھے ھمیں بھی چاھیئے کہ ھم اسوقت جرائت کا مظاھرہ کرتے ھوئے امریکہ پر عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کریں کہ اس نے خود ایک سازش کے ذریعے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو دھماکے سے اڑایا اور پھر 9/11 کی آڑ میں کئی مسلمان ملکوں کو تہنس نہس کیا اور لاکھوں کروڑوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا اب اگر ھم اپنی اور اس خطے کی سلامتی اور ترقی چاھتے ھیں تو ھمیں امریکی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ھوگا ۔ وقت کا تقاضا ھے کہ فوری طور پر امریکی نواز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جگہ فواد چودھری جیسے جرائت مند شخص کو ملک کا وزیر خارجہ بنایا جائے تاکہ اس خطے میں ھونے والی امریکی سازشوں کا سدباب کیا جا سکے-
    اجمل ملک

  • بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ دیا مرزا سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر بی جے پی رہنما کا انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان دیکھ کر برہم ہو گئیں اور کھری کھری سنا دیں کہا کہ کیا آپ میں ہمدردی کا کوئی جذبہ باقی نہیں بچا ہے؟

    دیا مرزا کے اس ٹویٹ ہر بی جے پی رہنما نے لکھا کہ انہیں اپنی فورسز سے ہمدردی ہے، تمام بھارتیوں سے ہمدردی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔


    انہوں نے دیا مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یا د رکھنا میں سیلیکٹڈ پلاک ہولڈر نہیں ہوں میں آپ کا بڑا پرستار ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ آپ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں نا کہ مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام سے ہمدردی دکھائیں۔

    بی جے پی رہنما کے اس ٹویٹ کے جواب میں اداکارہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ ہمدردی کسی خاص لوگوں کیلئے مختص نہیں، یا تو ہم کسی سے ہمدردی کرتے ہیں یا نہیں کرتے-


    دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوپور میں پیش آنے والے واقعے جس میں 3سالہ ننھے بچے کے سامنے اُس کے نانا کو گولیاں مار دی گئیں تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی بھی بچہ اس دُکھ اور بربریت کو نہیں سہہ سکتا۔

    انہوں نے لکھا کہ آپ ان معاملات میں سیاست ترک کردیں تو پھر ہی میرا تعاون اور حمایت حاصل کرسکیں گے۔

    واضح رہے دو روز قبل ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جس میں ایک چھوٹا، تقریباً 3 سالہ بچہ خون میں لت مت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔

    کشمیر پر بھارتی ظلم و تشدد پر دنیا کی خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں، کشمیریوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، مہوش حیات

    بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

    مقبوضہ کشمیر میں پوتے کے سامنے داداکو گولی مار کر بھارتی فوج نے بچے کا بچپن چھین لیا، مشعال ملک

    ننھا کشمیری بچہ تحریک آزادی کا نیا استعارہ، دنیا بھر میں غم کی لہر

    شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

  • کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ    تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ

    صالح عبداللہ جتوئی

    گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے معصوم بچوں نوجوانوں اور بوڑھوں عورتوں پہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور وحشیانہ سلوک سے انہیں ذہنی و جسمانی تشدد سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

    لیکن اس تشدد میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب وہاں بھارت ناجائز قبضہ قائم کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور کشمیریوں کی شہریت تک کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ظالم افواج بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 میں سخت کرفیو لگا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نے بس و بے یارومددگار کشمیری گھروں میں محصور ہو کے رہ جاتے ہیں اور انٹرنیٹ سروس تک بند کر دی جاتی ہے تاکہ ان کا پوری دنیا سے رابطہ کٹ جاۓ اور اس نتیجے میں نے چارے کشمیری اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور مخلص بہن بھائیوں سے دور ہو جاتے ہیں اور کئی بھوک پیاس سے بلک بلک کے خالق حقیقی سے جا ملے ہوں گے لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔

    تب سے لے کر اب تک تقریباً 11 ماہ بیت چکے ہیں لیکن مودی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی اور دنیا کی کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم یا اقوام متحدہ نے اس پہ ٹھوس ایکشن نہیں لیا اور نہ ہی بھارت پہ پابندیاں لگیں اور نہ ہی انہیں کسی دھمکی کا سامنا ہوا کیا کشمیر میں مرنے والے انسان نہیں ہیں یا پھر انسانیت کے دائرے میں صرف کفار آتے ہیں کیونکہ یورپ میں تو جانور بھی مرے تو اس پہ سوگ منایا جاتا اور ہزاروں لیکچرز دئیے جاتے لیکن یہاں تو کبھی پیلٹ گنوں کا استعمال ہوا اور آنکھوں کی بینائیاں چھین لی گئیں بچوں کا قتل عام کیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور بوڑھوں تک کو پکڑ کے گرفتار اور نظر بند کیا گیا اور آزادی مانگنے پہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے لیکن یہاں نہ اقوام متحدہ کا بس چلا اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں یہاں پہنچ پائیں حالانکہ امریکہ میں نسل پرستی کی وجہ سے ایک کالے کو قتل کر دیا گیا تو پورا امریکہ بند ہو گیا تھا لیکن یہاں تو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان پہ کسی قسم کی اقتصادی معاشی پابندی نہیں لگی اور جو بھی پابندیاں ہوتی وہ صرف پاکستان کے لیے رہ گئی ہیں جو بلاوجہ ایف اے ٹی ایف کو بنیاد بنا کے لگا دی گئیں اور دہشتگردی کا الزام دیا جاتا رہا حالانکہ اصل دہشتگرد تو گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا مودی ہے جو شاید اقوام متحدہ کے ساۓ تلے ہی پل رہا ہے۔

    ہمارے معزز وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی سفارتی سطح پہ بہت سی ناکام کوششیں کیں اور پاکستان میں موجود کشمیریوں کے نمائندوں کو پابند سلاسل کر کے یہ منطق دی کہ ہم کشمیر کو آزاد کروائیں گے حالانکہ یہ کشمیر کے حوالے سے تنزلی کی طرف پہلا قدم تھا خیر اس کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کو گانے چلا چلا کے دھوپ میں بھی کھڑا کیا اور کانفرنسز بھی منعقد کیں اور جنرل اسمبلی میں بھرپور انداز میں تقریر بھی کی اور اس میں بھارت کو ایکسپوز بھی کیا اور بھارت کو ان ہی کی زبان میں جواب دینے کا بھی عندیہ دیا اور اس موقع پہ نام نہاد اقوام متحدہ نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نہ ہی مودی کو اس سے فرق پڑا بلکہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کئی ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات بڑھ گئے ہوں اور اس کا ظلم کم ہونے کی بجاۓ مزید بڑھ گیا اور اس نے کئی نہتے کشمیریوں کو خون سے رنگ دیا اور تو اور بھارتی ظالم فوج نے ایک معصوم بچے کے سامنے اس کے دادا کو شہید کر دیا جو کہ دودھ لینے جا رہے تھے اب یہ دنیا کو نظر نہیں آیا کہ ایک بچے کے سامنے یوں گولیاں چلیں گی اور اس کے اپنوں کو قتل کیا جاۓ گا تو اس کے ننھے دماغ پہ کیا بیتے گی کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور آج کی دنیا میں کون ہے جو مغلوب ہو کے زندگی گزارے گا کیا کشمیری مسلمانوں کے حقوق نہیں ہیں کیا یہ آزاد نہیں رہنا چاہتے کیا یہ انسان نہیں ہیں؟

    یہی بچہ بڑا ہو کے بندوق اٹھانے پہ مجبور ہو گا لیکن پھر اس کو دہشت گرد کہنے والے سرٹیفائڈ درندے جو بھارتی وردیوں میں ملبوس ہیں سامنے آ جائیں گے اور پوری دنیا ان کے تماشے دیکھ کے مظلوم کو ہی ظالم کہہ گی کہ انہوں نے ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی ہے۔

    بھارت سے اگر کشمیر لینا ہے تو ہمیں بھی چین کی پالیسی اپنانا ہو گی کیونکہ مذاکرات سے کبھی بھی یہ معاملہ حل نہیں ہو گا اور مذمتوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا چاہے نغمے بناۓ جائیں یا سالہا سال دھوپ میں ہی کیوں نہ کھڑے رہیں ایسے کشمیر آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی اس معاملے میں دوسرے ممالک پہ امید لگانی ہو گی کیونکہ بھارت کے ساتھ کئی مسلم دشمن ممالک کا اشتراک ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے ختم کرنے کے درپے ہیں اس لیے وہ کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں گے کیونکہ وہ کبھی بھی مسلمانوں کو ترقی کرتا اور آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اس لیے کافروں کی تعداد سے گھبرانے کی بجاۓ اللہ کی نصرت پہ یقین بڑھے گا تب ہی سرخروئی عطا ہو گی وگرنہ ہم ہر سطح پہ ناکام و نامراد لوٹیں گے اور غلامی ہمارا مقدر بنے گی۔

    اللہ ملک پاکستان اور تمام عالم کے مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور کشمیر کو جلد از جلد آزادی کی خوشیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب العالمین-

  • کرونا……ختم نیئں جے ہونا    تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا
    تحریر: عظمیٰ ربانی

    سوچوں میں گم… بغیر بستر کے بان کی چارپائی پر لیٹے باباجی کو بہو نے آ کر ہلا دیا- اور سودے کی لمبی لسٹ انہیں تھماتے ہوئےبولی.اباجی! کچھ مہمان انے والے ہیں- یہ سامان لا دیں- جو وہ پیسے دے رہی تھی وہ اس لسٹ کے حساب سے دکھائی دے رہے تھے- مہمان جو کبھی رحمت لگتے تھے اب زحمت لگ رہے تھے-
    نہ چاہتے ہوئے بھی بابا جی اٹھے اپنے گھسے ہوئے سیلپر پہن کر دروازے کی طرف بڑھے-
    اور پہنچ کر سب سے پہلے گوشت لینے کی باری آئی- گوشت کتنے کا بھائی!…. 360 روپے….. اتنا مہنگا….. اچھا ادھا کلو کر دو! گوشت ختم ہو گیا ہے دوکاندار نے دور سے ہاتھ ہلایا جبکہ سامنے پڑا ہوا گوشت صاف دکھائی دے رہا تھا- پھر پھرا کے دوکاندار کو ترس آ گیا- جب اس نے باباجی کو چھچھڑے اور چربی ملا کر پکڑایا تو وہ دکھ سے بولے،
    ،کرونا…..ختم نئیں جے ہونا
    پھل لینے کی باری تھی- ایک پھل فروش 40 روپے پاو، آڑو اور دوسرا 60 روپے – اس طرح وہ ایک کلو کی مد میں 80 زائد کما رہا تھا- باباجی کے استفسار پر ڈھٹائی سے کہنے لگا کسی اور سے لے لیں میں نے تو اتنے کے ہی بیچنے ہیں، باباجی پاس سے گزرتے ہوئے بولے،
    "ایتھوں کرونا نئیں مک سکدا”
    پیاز لہسن کی باری تھی- پیاز لہسن پر اپنی پسند کی قمتیں لگائے دوکاندار خوف خدا سے عاری تھے- بلخصوص ٹماٹر کی 250، 300 روپے کے ہوشربا اضافے کے ساتھ- باباجی کے بوڑھے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا – وہ سبزی خریدے بغیر وہاں سے چل دیئےاور کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے
    کرونا….. ختم نئیں جے ہونا
    لوگ باباجی کی عمیق سوچ سے بے نیاز حیرانگی، طنز اور غصے سے انہیں دیکھے جا رہے تھے-
    لسٹ کھولی تو 2 کلو آٹا ابھی باقی تھا- آٹے کو ہاتھ ڈالتے ہوئے بھی دل رونے لگا- گزشتہ روز کی نسبت 40 روپے زیادہ دے کر آٹا خریدا اور ساتھ ہی خیال آیا غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھنینے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کا اپنا بھی ہاتھ ہے
    "جس کی لاٹھی اس کی بھنیس” کے مصداق ہر کوئی ایک دوسرے کو ہانکے جا رہے ہیں- دل سے آہ نکلی
    کرونا……. کیسے ختم ہوگا؟؟؟
    تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی راہ لی – نامکمل سودے پر بہو کی کڑوی کسیلی باتیں بھی سنیں- اپنا دھیان بٹانے کے لیے Tv آون کیا…..
    ، کراچی کے پرائیویٹ ہسپتال میں کرونا سے سات لاکھ لیے گئے-
    , کرونا سے مرنے والے کی لاش 5 لاکھ میں لواحقین کے سپرد-
    ،پلازمی عطیہ کرنے کی بجائے 1 لاکھ میں فروخت-
    باباجی نے ٹھک کر کے ٹی وی بند کیا بستر سے اترے دونوں بازوں اوپر کر کے ہذیانی کیفیت سے بولے-
    کرونا……ختم نئیں جے ہونا-