Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط خان صاحب! کس راہ پر ؟  تحریر: عشاء نعیم

    حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط خان صاحب! کس راہ پر ؟ تحریر: عشاء نعیم

    حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط
    خان صاحب! کس راہ پر ؟
    تحریر: عشاء نعیم

    ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہی
    ملک ترقی کر رہا ہے یا تنزلی؟
    اسلام کی راہ پہ چل پڑا ہے یا کفارمکہ کی؟
    بھارت کے ساتھ دوستی ہے یا دشمنی؟
    چائنہ کے ساتھ اندر ہی اندر کچھ طے ہے یا بھارت کے ساتھ ؟
    امریکہ کی نظر میں سرخرو ہو گئے ہیں یا ابھی زیر عتاب ہیں؟
    یو این او ہم سے خوش ہے یا ناراض؟
    ایف اے ٹی ایف والے ہمارے کارناموں پہ ہمیں داد تحسین دے رہے ہیں یا ڈو مور کا مطالبہ جاری ہے ؟
    جی ہاں! 2018 کے الیکشن میں جس پارٹی کی ہر طرف دھوم تھی ،جس سے پوری قوم کی امیدیں تھیں
    جو کرپشن سے پاک (اگرچہ انھیں کرپٹ پارٹیوں کے لوٹوں کی بھرمار ہے اس میں بھی )
    ہے اور کرپشن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے ۔
    محب وطن ہے ۔محب وطنوں کی حفاظت کے نعرے لگے ۔
    تو دین اسلام کی حفاظت کی قسمیں کھائی گئیں ۔
    اسلام پسندوں کو ساتھ کا یقین دلایا گیا ،بھارت کو دشمن قرار دیا گیا ۔
    مودی کو کشمیر کا دشمن قرار دیا گیا
    عوام کو سکون دینے ،مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی گئی ۔
    غیروں کی غلامی سے نجات کے مژدے سنائے گئے تو چند ماہ میں کشکول توڑنے کے خواب بھی دکھائے گئے ۔
    ملک کو ایک جدید اسلامی ریاست بنانے کے خواب بھی خوب دکھائے گئے ۔
    پھر یہ پارٹی اقتدار میں آ گئی تو اس کا سب سے خوبصورت نعرہ تھا "پاکستان ثانی مدینہ ہے ”
    اس نعرے نے پاکستان کی چونکہ اکثریت مسلمان اور اسلام پسند ہے سو ہر ایک کا دل جیت لیا ۔
    کیونکہ اس ایک نعرے میں ہر وعدہ سمٹ گیا ،اسلامی ریاست ،ترقی یافتہ ،اقلیتوں کے حقوق کی پاسدار ، عیش و عشرت سے بیزار ،خدمت کے جذبے سے آشنا، انسانی حقوق کی علمبردار غرض کچھ بھی نہ بچتا تھا جو اس نعرے میں نہ سمٹتا ۔
    کیونکہ ریاست مدینہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاست تھی جس میں ذرا نقص تو کیا جتنی پھیلی انسانیت کو سکون ملتا چلا گیا ،ظلم کے اندھیرے چھٹتے چلے گئے۔
    (اور جب سے ریاست مدینہ کو سمیٹ دیا گیا ، راہ بدل دی گئی، گھٹا ٹوپ اندھیرے ہیں ،انسانیت سسک رہی ہے)۔
    پھر وقت گزرتا رہا ،خان صاحب کی مسز نے پردہ کیا، کہیں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ،کہیں اسلام کی ایسی تصویر دنیا کو دکھائی کہ دنیا گنگ ہوگئی ،کہیں دنیا کو للکارہ کہ تم ہمیں مارو گے تو ہم بھی ماریں گے لڑیں گے چاہے شہید ہو جائیں ۔
    لگنے لگا قائد اعظم اور ضیاء الحق کے بعد پاکستان کو اب مسلمان وزیر اعظم ملا ہے ۔
    پوری قوم دیوانی ہو گئی ۔مخالفین کے منہ بند ہو گئے ۔
    پھر وقت گزرا اور مہنگائی نے طوفان اٹھایا قوم کو کہا گیا کچھ عرصہ وطن کی خاطر سہہ لو ۔
    قوم قربانی کو تیار ہو گئی ۔
    وقت گزرا اور پتہ چلا کسی عورت نے گستاخی رسول کا ارتکاب کیا ہے ۔
    5 جگہ جرم چابت ہونے والی آسیہ مسیح اچانک بے قصور ثابت ہو گئی اور وہ رہا ہو کر فالسے چننے والی کینیڈا پرواز کر گئی ۔
    کشمیریوں کے جذبات کو سلام پیش کیا جاتا تھا ،مودی کو ظالم جابر کہا جاتا تھا کہ
    5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی خان صاحب کی طرف سے بڑی آس تھی شاید فوجیں ہی اتار دیں ۔
    لیکن قوم پورا ایک دن نگاہیں لگا کر بیٹھی رہی کہ خان صاحب کی آنکھ کھلی اور تقریر کر ڈالی کہ اگر آزاد کشمیر کو میلی آنکھ سے دیکھا تو لگا پتہ دیں گے ۔
    گویا جموں کشمیر کی اور بات ہے ۔
    اس پہ چند الفاظ سازی کے سوا کچھ نہ کیا ،اور کرفیو لگے ،نٹ بند کئے مہینوں گزر گئے لیکن خان خاموش ہے ۔
    پھر آئے دن قادیانی سر اٹھانے لگے ۔
    کہیں وزیر بنانے کی کوشش، تو نہیں نصاب سے ختم نبوت کے الفاظ نکال دئیے گئے ۔
    شور مچانے پہ کچھ الفاظ کو پھر سے داخل کیا گیا ۔
    وقت اور گزرا اور ملک کی سب سےزیادہ محب وطن اور امن پسند جماعت ،جس کے سربراہ نے ہمیشہ اپنے کارکنان کو ملک میں امن قائم کرنے کا پابند کیا ،جس نے فتنہ خارج کے خلاف کئی کتابیں لکھیں، جس نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ،جس نے ہمیشہ انسانیت کا درس دیا ، ملک میں تعلیم عام کی اور جگہ جگہ سکول بنائے۔
    اس کے علاوہ ایک فلاحی تنظیم بنائی جو اس قدر تیز رفتار تھی کہ ہر مصیبت میں فوج سے بھی پہلے پہنچ جاتی تھی ۔اور جس کی کاوشوں کا اعتراف یو این نے بھی کیا ۔
    اس شخص کو جو کفار کی آنکھ کا کانٹا ہی اپنی حب الوطنی اور انسانیت پسندی کی بنیاد پہ تھا ،نظر بند کردیا ،علما کی پکڑ دھکڑ شروع کردی ۔
    اور باقاعدہ اس جماعت کو دہشت گردی کے الزامات لگا کر جرمانہ بھی کیا اور گرفتاریاں بھی کیں،جس جماعت کے خلاف دیگر پارٹی میں کوئی بات کرتا تھا تو اسے انتہائی غیر ذمہ دار اور برا سمجھا جاتا تھا ۔
    مزید کچھ دن پہلے اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ۔
    اس بہت بحث ہو رہی ہے ۔( پشاور میں بھی پرانے مندر خو پوجا پاٹ کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے)
    اب دیکھا جائے جو مسلمان بتوں کی پوجا کو گناہ کبیرہ قرار دیتا ہے ،جو مسلمان اٹھا ہی بتوں کی پوجا کے خلاف تھا ،جس نے سن سے پہلے نعرہ ہی لا الہ الا اللہ لگایا ۔جو زیر عتاب ہی لا الہ الا اللہ کی وجہ سے ہوا ،جس نے بتایا کہ پتھروں کی غلامی سے نکل کر اللہ واحد کی عبادت کرو جو خالق کائنات ہے ۔
    جس کے پیروکار تپتی دھوپ میں صحرا کی ریت میں اوپر پھر پڑے ہونے پہ بھی
    احد ،احد ‘ کہیں، وہ کس طرح بتوں کی پوجا کے لئے جگہ یا پیسہ مہیا کر سکتا ہے ؟
    مذہب اسلام انسان کو ہر غلامی سے نکال کر صرف رب واحد کے سامنے جھکنے کا درس دیتا ہے ۔
    سو اسلام میں بتوں کی پوجا حرام ہے ۔
    اب حرام کام کے لئے کوئی مسلمان حکمران نہ تو پیسہ دیتا ہے نہ ہی جگہ ۔
    بلکہ مسلمان جہاں جہاں گئے انھوں نے بت کدوں کو مسمار کیا یا مساجد میں تبدیل کردیا ۔تاکہ انسان اپنے ہی ہاتھ کے تراشے گئے پتھروں کے سامنے جھک کر اپنی توہین نہ کرے ۔
    البتہ جہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی وہاں ان کے عبادت خانے محفوظ رہنے دئیے ۔
    مسلمان ملک میں غیر مسلم کو بھی اپنے طریقے سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہے لیکن ایک تو وہ سرعام عبادت یا تبلیغ نہیں کر سکتے دوسرا وہ سب اپنے پیسے سے سن کر سکتے ہیں،مسلمانوں کے پیسے خرچ نہیں ہو سکتے ۔
    علما کرام بھی اس پہ فتوی دے چکے ہیں کہ وہ خود کچھ کر سکتے ہیں لیکن مسلمان ملک کا حکمران پیسہ نہیں دے گا ۔
    ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا کہ اسلام آباد میں ہی ایک پچیس سال سے تعمیر شدہ مسجد کو یہ کہہ کر مسمار کرنا شروع کردیا گیا کہ یہ غیر قانونی ہے ۔
    جبکہ مندر کی جگہ کے بارے میں بھی یہ معاملہ ہے کہ وہ جگہ مسلمانوں کی ہے ۔
    جبکہ مسجد کی جگہ کا کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی ہے ۔
    کیا حکومت مسجد کے لئے یہ چند کنال جگہ نہیں دے سکتی؟
    جبکہ حکومتی وزراء کے اللے تللے بھی سب کو پتہ ہے کہ کس قدر سن وزراء پہ پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ ایک ایک وزیر کروڑوں روپے میں پڑتا ہے اس غریب عوام کو ۔
    اور مسجد کی تعمیر کے بارے میں مسلمان کے لیے جنت میں محل کی خوش خبری ہے تو کیا اس کی شہادت اپنے ہی ہاتھوں کریں مسلمان تو اس کا عذاب نہ اترے گا ؟
    کیا اللہ واحد کی عبادت کی جگہ جہاں رحمت کے فرشتے اترتے ہیں، جہاں پانچ وقت موذن اذان دے کر لوگوں کو اللہ کی عبادت اور فلاح کی طرف بلاتا ہے ،جہاں پانچ وقت رب کو سجدہ کیا جاتا ہے اور اسی کو پکارا جاتا ہے اس عمارت کو ڈھانا اتنا ہی عام ہے ؟
    جبکہ مندر غیر ضروری بھی ہے کیونکہ چند ہندو آباد ہیں اسلام آباد میں، اور اسلام میں یہ حکومت کے لیے جائز بھی نہیں ہے ۔پھر کیوں یہ حکومت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ؟
    خدارا ! خان صاحب ہوش کے ناخن لیں اور اپنی راہ سیدھی کریں ۔
    شاید آپ گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سب کر رہے ہیں تو یاد رکھیں جب تک آپ مسلمان ہیں ان کے نزدیک گرے تو کیا بلیک لسٹ ہی رہیں گے ۔
    کیونکہ اللہ نے ہمیں بتادیا کے یہ کبھی تم سے خوش نہ ہوں گے حتی کہ تم ان کا دین اختیار کر لو۔
    اور یہ بھی کہ یہ کفار سب ایک ہیں تمہارے خلاف ۔
    سو اس رب کے سامنے جھکیں جو اقتدار اور ملک دے بھی سکتا ہے چھین بھی سکتا ہے ۔
    اسی کا بتایا ہوا نظام ہے اسلامی نظام
    اسی کے نام پہ ملک بنا ،اسی کے نظام پہ چلائیے ۔اقلیتوں کو ضرور ان کے حقوق دیجئے لیکن اتنے ہی جتنے اس خالق کائنات نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتائے ہیں ۔
    بیرونی آقاوں کو اتنا ہی راضی کیجئے کہ اسلام اور ملک پہ گزند نہ آئے ۔ورنہ وہ سب اکٹھے بھی ہو جائیں تو یاد رکھیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک وہ رب آپ کے ساتھ ہوگا ۔
    مساجد کی شہادت سے باز رہیں، مندر کی تعمیر سے بھی رک جائیے اور علما کو رہا کیجئے۔
    اللہ کی رحمتیں برسیں گی ۔ملک ترقی کرے گا کوئی نہ روک پائے گا ۔اللہ آپ کو بھی عزت دے گا ۔ان شا اللہ
    اللہ رب العزت آپ کو عمر فاروق رضی اللہ کی براہ پہ چلائے ۔
    آمین

  • صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟  تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟ تحریر : عمر یوسف

    صبر، استعانت خداوندی کا ذریعہ
    تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟
    صبر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے یہ مان لیا ہے کہ میں بے بس ہوں لاچار ہوں معاملات میرے کنٹرول میں نہیں حالات کو میں نہیں سنبھال سکتا ۔۔۔۔۔ اب مجھے آہ و فغاں کی بجائے چیخ و پکار کی بجائے خود کو سنبھالنا ہے ۔۔۔ کیونکہ چیخ وپکار اور جزاں فزاں کا کوئی فائدہ ۔۔۔۔ ایک ذات ہے جو سب کچھ سنبھالتی ہے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں ہیں میرے معاملات بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور میرے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا ہے نقصان کی صورت میں یا مصیبت کی صورت میں یا کسی ناپسندیدہ حالت کی صورت میں وہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے آیا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا ۔۔۔۔

    انسان جب اللہ کی رضا میں راضی ہوجاتا ہے اور خود کو محکوم اللہ کو حاکم سمجھتا ہے خود کو کمزور اور اللہ کو طاقتور سمجھتا ہے خود کو بے اختیار اور اللہ کو مختار کل سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔

    تو اللہ کو اپنے بندے کی بے بسی بے کسی لاچارگی و بے چارگی دیکھ کر فورا غیرت آجاتی ہے اور وہ خود اپنے بندے کی ڈھارس بندھانے حوصلہ بڑھانے آجاتا ہے اور بندے کو سب سے بڑا اعزاز معیت خداوندی کا حاصل ہوتا ۔۔۔ یعنی اللہ صبر کی تمام حالت اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔

    یہ اعزاز اتنا بڑا ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے لوگ سخاوتیں کرتے ہیں جہاد کرتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں نوافل ادا کرتے ہیں اور بہت سے دیگر نیک امور انجام دیتے ہیں پھر جا کر ان کے اخلاص کو دیکھ کر اللہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان کو اپنی معیت کا اعزاز بخشتا ہے ۔۔۔

    لیکن صبر کرنے والا صرف اپنے نفس کو کنٹرول کرتا ہے اللہ پر راضی ہوتا ہے اور اس عمل کی بدولت اللہ ان کو اپنے ساتھ ہونے کی گارنٹی دیتا ہے ۔۔۔۔

    جب حکم خداوندی آجائے کوئی مسئلہ پیش ہوجائے تو فورا اللہ کو کہہ دیا کرو کہ اللہ میں بے بس اور بے کس ہوں میرے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا اب تو ہی مجھے سنبھال اور میرے معاملات آسان فرما ۔۔۔۔ اللہ تمہارے اعتراف کا فورا رسپانس دے گا اور تمہارے ساتھ ہوجائے گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔

  • شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔  اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔ اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ میں ٹرین حادثہ دور دراز دیہاتی علاقے میں ہوا ۔ ریسکیو اور دیگر اداروں کے آنے سے پہلے مقامی افراد مدد کو پہنچے۔ لاشوں اور زخمیوں کو کندھوں پر اٹھا کر ۔ چارپائیوں پر ڈال کر ۔ موٹر سائیکل غرض جسے جو ملا وہ ان سکھ بھائیوں کی مدد کو پہنچا ۔ سکھ سنگت کے اہم عہدیداران کی گفتگو سن لیں ۔

    جی ایسے کرتے ہیں اہل پاکستان اپنے اقلیتی بھائیوں کی مدد ۔ سب نے انہیں بھائی سمجھا اور ان کی مدد میں تن من دھن سب لٹا دیا ۔ مساجد میں اعلانات ہوئے ۔ کوئی پانی اٹھائے بھاگا ۔ کسی نے گرمی اور مشکل راستے کی پرواہ نہیں کی ۔ کسی نے نہ سوچا کہ حادثے کا شکار ہونیوالے تو دوسرے مذہب کے ہیں ۔ گرمی میں ان متاثرین کو کندھوں اور باہوں میں اٹھائے پہنچاتے رہے ۔

    ہمارے ہاں کچھ لبرل و سیکولر بعض خالصتاً مذہبی معاملات کو لیکر پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ ہی ان کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے ۔ ہم اقلیتوں کی خدمت کو حاضر ہیں ۔ ہمارے لوگ سرکاری ادارے ہر کوئی کہیں بھی مذہبی تفریق نہیں کرتا ۔ مصیبت میں مذہب نہیں دیکھتا ۔ سب متحد ہو کر مقابلہ کرتے ہیں اور دکھ سکھ میں ساتھ بٹاتے ہیں ۔

    مسلمانان پاکستان نہ تو اقلیتوں کے خلاف ہیں ۔ ان سے تفریق نہیں رکھتے ۔ ان سے جینے اور عبادت کا حق نہیں چھینتے ۔۔ اسلام آباد مندر اور دیگر معاملات دراصل جب ایک ایجنڈے کے تحت بزور طاقت نافذ کئے جاتے ہیں ۔ تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

    شیخوپورہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل پاکستان کو اقلیتوں کو کیا مقام دیتے ہیں ۔ اس لئے کسی خالصتاً دینی مسئلے کو لیکر پروپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے ۔ بعض معاملات اقلیتوں کے جائز حقوق کی بجائے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت ہوتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار و نفرت پیدا ہوتی ہے

  • کرونا……ختم نیئں جے ہونا، تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا، تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا
    تحریر: عظمیٰ ربانی

    سوچوں میں گم… بغیر بستر کے بان کی چارپائی پر لیٹے باباجی کو بہو نے آ کر ہلا دیا- اور سودے کی لمبی لسٹ انہیں تھماتے ہوئےبولی.اباجی! کچھ مہمان انے والے ہیں- یہ سامان لا دیں- جو وہ پیسے دے رہی تھی وہ اس لسٹ کے حساب سے دکھائی دے رہے تھے- مہمان جو کبھی رحمت لگتے تھے اب زحمت لگ رہے تھے-
    نہ چاہتے ہوئے بھی بابا جی اٹھے اپنے گھسے ہوئے سیلپر پہن کر دروازے کی طرف بڑھے-
    اور پہنچ کر سب سے پہلے گوشت لینے کی باری آئی- گوشت کتنے کا بھائی!…. 360 روپے….. اتنا مہنگا….. اچھا ادھا کلو کر دو! گوشت ختم ہو گیا ہے دوکاندار نے دور سے ہاتھ ہلایا جبکہ سامنے پڑا ہوا گوشت صاف دکھائی دے رہا تھا- پھر پھرا کے دوکاندار کو ترس آ گیا- جب اس نے باباجی کو چھچھڑے اور چربی ملا کر پکڑایا تو وہ دکھ سے بولے،
    ،کرونا…..ختم نئیں جے ہونا
    پھل لینے کی باری تھی- ایک پھل فروش 40 روپے پاو، آڑو اور دوسرا 60 روپے – اس طرح وہ ایک کلو کی مد میں 80 زائد کما رہا تھا- باباجی کے استفسار پر ڈھٹائی سے کہنے لگا کسی اور سے لے لیں میں نے تو اتنے کے ہی بیچنے ہیں، باباجی پاس سے گزرتے ہوئے بولے،
    "ایتھوں کرونا نئیں مک سکدا”
    پیاز لہسن کی باری تھی- پیاز لہسن پر اپنی پسند کی قمتیں لگائے دوکاندار خوف خدا سے عاری تھے- بلخصوص ٹماٹر کی 250، 300 روپے کے ہوشربا اضافے کے ساتھ- باباجی کے بوڑھے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا – وہ سبزی خریدے بغیر وہاں سے چل دیئےاور کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے
    کرونا….. ختم نئیں جے ہونا
    لوگ باباجی کی عمیق سوچ سے بے نیاز حیرانگی، طنز اور غصے سے انہیں دیکھے جا رہے تھے-
    لسٹ کھولی تو 2 کلو آٹا ابھی باقی تھا- آٹے کو ہاتھ ڈالتے ہوئے بھی دل رونے لگا- گزشتہ روز کی نسبت 40 روپے زیادہ دے کر آٹا خریدا اور ساتھ ہی خیال آیا غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھنینے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کا اپنا بھی ہاتھ ہے
    "جس کی لاٹھی اس کی بھنیس” کے مصداق ہر کوئی ایک دوسرے کو ہانکے جا رہے ہیں- دل سے آہ نکلی
    کرونا……. کیسے ختم ہوگا؟؟؟
    تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی راہ لی – نامکمل سودے پر بہو کی کڑوی کسیلی باتیں بھی سنیں- اپنا دھیان بٹانے کے لیے Tv آون کیا…..
    ، کراچی کے پرائیویٹ ہسپتال میں کرونا سے سات لاکھ لیے گئے-
    , کرونا سے مرنے والے کی لاش 5 لاکھ میں لواحقین کے سپرد-
    ،پلازمی عطیہ کرنے کی بجائے 1 لاکھ میں فروخت-
    باباجی نے ٹھک کر کے ٹی وی بند کیا بستر سے اترے دونوں بازوں اوپر کر کے ہذیانی کیفیت سے بولے-
    کرونا……ختم نئیں جے ہونا

  • جیسی رعایا ویسا حکمران،  تحریر: ساجدہ بٹ

    جیسی رعایا ویسا حکمران، تحریر: ساجدہ بٹ

    جیسی رعایا ویسا حکمران

    تحریر: ساجدہ بٹ
    موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے ،
    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں ہی مشکلات میں گھری ہوئی ہیں ۔۔۔2020ء تو ہمارے لیے کئی مشکلات لے کر آیا ہے۔۔۔۔
    قارئین کرام وہ مشکلات کون کون سی ہیں ؟؟؟
    یہ بتانے سے پہلے میں چاہوں گی کہ بات ذرا مثال کے ساتھ کی جائے۔۔۔
    میں اکثر اوقات ذکر کیا کرتی ہُوں کہ میرے یونیورسٹی کے قابل احترام ٹیچر سر مختار صاحب کہا کرتے تھے کہ مثال سے بات ذرا جلدی سمجھ آتی ہے ۔۔۔۔
    تو چلیے میرے عزیز ہم وطنو ہم بھی ذرا بات سے بات نکالتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

    جیسی رعایا ویسا حکمران
    یہ کیسے ممکن ہے؟؟؟
    ایک بستی کے دو نوجوان روزگار کی تلاش میں کسی دوسرے ملک کے لیے نکلے۔
    ایک نوجوان نیک اور ہمدرد تھا جبکہ دوسرا ظالم اور بُرا۔
    جب دونوں دوسرے ملک کی سرحد پر پہنچے تو لوگوں کا مجمع دیکھا۔یہ بھی کھڑے ہو گئے۔اس ملک کا بادشاہ مر گیا تھا اور وہ حسب دستور کبوتر چھوڑنے والے تھے کہ جس کے سر پر بیٹھے اسے بادشاہ بنا لیں۔اتفاق سے کبوتر ان دو نوجوانوں میں سے ظالم اور برے کے سر پر بیٹھ گیا۔
    لوگوں نے اسے بادشاہ بنا لیا۔اس نے بادشاہ بن کر ظلم کی انتہا کردی۔
    عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ایک دن اس کا ساتھی نوجوان جو نیک تھا اس کے پاس آیا اور اسے احساس دلایا کہ وہ رعایا پر ظلم نہ کرے اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرے۔

    پھر اس ظالم بادشاہ نے جو جواب دیا قارئین کرام وہ بڑا دلچسپ لگا ۔۔۔۔
    اس نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
    جب لوگوں نے کبوتر اڑایا تو تُو بھی میرے ساتھ تھا اگر اللہ تعالیٰ کو قوم کی بھلائی مقصود ہوتی تو کبوتر تیرے سر پر بیٹھتا
    جی ہاں میرے عزیز ساتھیو !!!!!
    اُمید ہے کچھ کُچھ بات تو سمجھ آ ہی گئی ہو گی تو چلیے جو رھ گئی وہ اپنی مثال یعنی عوام سے اور موجودہ حکومت سے سیکھتے ہیں۔۔۔
    موجودہ حکومت میں جو مشکلات آئی اُن میں سر فہرست موزی مرض کرونا وائرس ہے جس کا علاج تاحال معلوم نہیں ہو سکا۔۔۔۔۔
    بیماری سے بچنے کیلئے حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جس پر حکومت کا رد عمل یہ تھا کہ ہم راشن گھر گھر نہیں پہنچا سکتے کیوں کہ حکومت اس قابل نہیں ہے۔۔۔اور عوام کا ردِ عمل یہ رہا کہ سب سے پہلے کے غریب عوام بھوکی مر جائے گی اگر کام نہ ہوا ۔۔اور دوسری بڑی بات یہ ہو گئی کہ عوام نے کرونا کو مذاق سمجھ لیا اور سوچا کہ حکومت پیسے بنانے کا پلان بنا رہی ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔
    حکومت اور عوام کے غیر سنجیدہ رد عمل سے یہ ہوا کہ کرونا وائرس بری طرح ملک بھر میں پھیل گیا اب صورت حال یہ ہو رہی ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد ہر طرف پھیل گئے ہیں۔۔۔
    ہسپتالوں میں وینٹیلیٹر اور دیگر طبی سامان کی کمی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
    اس نہج تک پہنچنے کے زمہ دار کون ہیں؟؟؟
    ہم صرف و صرف حکومت کو کیوں ٹھہرائیں ؟
    یہ اہم معرکہ سر انجام دینے والے عوام اور حکومت دونوں ہیں ۔۔۔۔۔
    حکومت گھر گھر بجلی کا بل،گیس کا بل پانی کا بل تو پہنچا سکتی تھی کرونا وائرس کے ہوتے ہوئے بھی لیکن راشن کیوں نہیں؟؟؟
    اور دوسری طرف عوام کی لا پرواہی نے کئی ہم وطنوں کو موت کی نیند سلا دیا۔۔۔۔
    2020 میں ہی چینی کا بحران ہوا ۔۔۔۔۔۔
    آٹے کا بحران ہوا یہاں تک آٹا 2500 کے حساب سے 20 کلو ملنے لگا ۔۔۔۔
    اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے عہدہ داروں سے لے کر عام دکاندار تک گاؤں کے چھوٹے چھوٹے کسانوں سمیت ہر ایک نے خوب کمانے کی کوشش کی گندم ذخیرہ کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب بتائیے میرے عزیز قارئین کرام یہاں قصور وار صرف حکومت ؟؟؟
    یا صرف عوام؟؟؟
    یقینا دونوں۔۔۔۔۔
    پھر اس حکومت میں اور بڑی مشکل یہ آئی کہ ٹڈی دل کا حملا ہوا اور جو فصلیں کی فصلیں چٹ کر گیا۔۔۔۔۔
    جو ابھی تک کنٹرول نہیں ہوا ۔۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ ہی صورت حال رہی تو خُدا نخواستہ غذائی بحران کا شکار نہ ہو جائیں۔۔۔۔
    ان عذابوں سے بڑھ کر ایک اور عذاب ہم پر ٹوٹ پڑھا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔
    کہ کراچی میں طیارہ تباہ ہو گیا اور بہت سے ہم وطن ساتھی موت کا شکار ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔
    خوف کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف چیخ و پکار تھی اور کچھ بے درد افراد وہاں بھی موجود تھے جو لوگوں کا بچا کچھا سامان چھپانے لگے۔۔۔۔۔۔
    اللہ ہی جانے ایسی رعایا کا آخر میں کیا انجام ہو گا۔۔
    اور حکومت تاحال صحیح سے معلوم نہ کرسکی کے اس حادثے کی وجہ کیا تھی؟؟؟؟
    گزشتہ روز حکومت نے مہنگائی سے تنگ عوام پر ایک مہربانی کی ۔۔۔۔
    پیٹرول سستا کر دیا۔۔۔۔
    پیٹرول تو سستا ہو ہی گیا،لیکن ساتھ ہی ساتھ نایاب بھی ہو گیا۔۔۔
    حکومت کا فیصلہ اور پیٹرول مافیا کا اتنا نیگیٹو رد عمل کیوں ؟؟؟؟
    عوام کو ایک خوشی صرف دکھائی ہی گئی خوشی منانے کی اجازت شاید نہیں تھی ۔
    پیٹرول 75 روپے فی لیٹر ہوا تو نایاب ہو گیا ۔۔۔ جن جن کے کاروبار ہی پیٹرول سے چلتے تھے ان غریب افراد کا کیا حال ہوا ہو شاید ہی حکومتی عہدہ دار یا اونچے درجے کے لوگ سمجھ سکیں۔۔۔۔
    پیٹرول کا بحران ہوا تو آٹے کے بحران کی طرح بڑے سے بڑے اور چھوٹے چھوٹے پیٹرول بیچنے والوں نے خوب منافع کمایا ۔۔۔۔۔
    پیٹرول میں مٹی کا تیل شامل کرکے 130 روپے فی لیٹر بیچا گیا اور کسی نے 150 فی لیٹر قیمت وصول کی خریدنے والوں نے خریدا کیوں کہ روزی کمانے کے لیے اس کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔اب حکومت نے پیٹرول کا حل یہ نکالا کہ 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا اور پٹرول مافیا بھی خوش ہو گئی اور پیٹرول اب عام ملنے لگا۔۔۔۔۔۔
    لیکن حکومت سے پھر ایک سوال کہ غریب عوام کا اس ساری صورتحال میں کیا قصور؟؟؟
    اور اب حال ہی میں ایک اور انوکھا واقعہ سننے کو ملا کہ اسلام آباد میں مسجد توحید کی جگہ غیر مسلم کی عبادت گاہ کے لئے مختص کر دی گئی۔۔۔۔۔
    یہ درست ہے کہ نہیں ،،،
    یہ حکومت کا فیصلہ ہے حزبِ اختلاف پارٹی کا یا عام عوام میں سے کسی کا ؟؟..
    ان سب باتوں کو چھوڑ کر میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کا ذکر کرنا چاہوں گی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان ہے۔۔۔۔۔۔
    قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔
    سورۃ انبیاء
    ترجمہ: پھر ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں میں سے سوائے ایک بڑے بت کے سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کہ شاید اس کی طرف رجوع کریں

    سبحان اللہ ہماری اسلامی تعلیمات کس قدر خوبصورت اور جرت و بہادری سے بھری پڑی ہیں کہ مشرکین کی عبادت گاہوں میں گھس کر اُن کے معبودوں کے ٹکڑے کر ڈالے اور کس احسن طریقہ و تدبیر کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔
    اور ہم ہیں کہ غیر مسلم کی عبادت گاہ اپنی عبادت گاہ ختم کرکے بنا رہے ہیں۔۔۔۔
    ان ساری صورت حال کو جب میں نے اپنی آنکھوں سے گزرتے ہوئے دیکھا تو فقط اتنا ہی کہہ پائی!!!!!!!!!!!!!!!!!
    جیسی رعایا ویسا حکمران

    میں اپنی تحریر کا اختتام اس شعر پر کرنا چاہوں گی کہ ۔۔۔۔۔
    کہہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہو گیا

    یہ تصور تو ہر گز ہمارا نہیں
    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین۔۔۔۔۔

    جہد مسلسل

  • امتحاں جاری ہے…!!![    تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    امتحاں جاری ہے…!!![ تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    امتحاں جاری ہے…!!!
    [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔
    اس دنیا میں جو انسان بھی آیا ہے،اس نے اسے امتحاں گاہ ہی پایا ہے…
    اور یہ دنیا واقعتًا امتحاں گاہ ہے…
    یہاں انساں جس انداز میں اپنا وقت گزار کر جاتا ہے اسی مناسبت سے اس کا رزلٹ بھی سامنے آئے گا…
    یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی آزمائش سے ضرور گزر رہا ہے…
    کوئی مال و زر کی فراوانی ہونے کے باوجود اولاد جیسی چیز کے لیئے ترس رہا ہے۔
    کوئی تنگدستی کے باوجود گھرانہ پھولتا پھیلتا دیکھ رہا ہے…
    کوئی بے اولادی کے غم میں جلتا ہے تو کوئی اولاد پا کر آزمائش میں ہے…
    کسی کو شادی میں تاخیر کا سامنا ہے تو کوئی شادی کر کے اُلجھنوں کا شکار ہے۔
    کوئی ڈگریاں ہاتھ میں لیئے خوار پھرتا ہے،تو کوئی ان پڑھ ہو کر عیش کے مزے لوٹتا ہے…
    کوئی غربت میں سکون کا حامل تو کوئی تونگری میں ڈپریشن کا مریض ہے…
    کوئی گھر بنانے کے چکر میں رُلتا ہے تو کوئی بنے گھر کو اُجاڑنے کی جستجو میں دکھائی دیتا ہے…
    کتنی ہی بہنیں اپنے مسائل شیئر کرتی ہیں کہ شوہر بیویاں رکھنے کے باوجود بے راہرو ہیں،غلط عادات کا شکار ہیں،گھر پر توجہ نہیں دیتے وغیرہ۔
    کوئی بے راہروی کو ہی زندگی سمجھتا کوئی لغویات پہ ادائے تکریم اختیار کرتا ہے…
    کوئی شکوؤں کے طومار لپیٹ دیتا ہے اورکوئی صبر و رضا کی ردا اوڑھ لیتا ہے…
    کوئی اپنی ہی ذات پر سب کُچھ لٹا دیتا ہے تو کوئی اپنی ذات پر کسی کو ترجیح کی صفت سے مالا مال ہے…
    کوئی ہر کسی پر گھٹیا تبصرے کو وتیرہ بنا لیتا ہے، کوئی سب سہہ کر بھی خاموشی کو اَدا بناتا ہے…
    کوئی کسی کی غلطی سے درگزر کر رہا ہے،کوئی کسی کی سرِ عام تذلیل کرتا ہے…
    کوئی محبتوں کے مرہم رکھ دیتا ہے تو کوئی لفظوں کے تیر کے زخم لگا دیتا ہے…
    کوئی بے غرض ملتا تھا تو کوئی مطلب کے بغیر بولتا ہی نہیں…
    کوئی عاجزی سے سدا جھکا رہتا ہے،کوئی انا کے خول سے نکلتا ہی نہیں…
    کوئی رشتوں کی قدر و قیمت کو سمجھتا،کوئی انہیں سراسر بے وقعت گردانتا ہے…
    کوئی ماں باپ کی خدمت میں مگن،کسی کو ان کی پرواہ ہی نہیں…
    اور وہ اولادوں کا چہرہ دیکھنے کو ترستے رہتے ہیں…
    کسی کو روٹی وافر ملی ہے تو ڈاکٹر تجویز نہیں کرتا،اور جسم بیماریوں کا گھر بن چکا ہوتا ہے…
    کسی کو تنگی تو ہے مگر بیماریوں کا نام نہیں…
    کوئی آسائشات کے باوجود بے خوابی میں مبتلا،کوئی زمیں پر بھی لیٹ کر خواب دیکھتا ہے…
    کسی کی اولاد غریبی میں بھی فرماں بردار،کوئی ڈگریاں دلا کر بھی تربیت سے تہی دست…
    کوئی بنگلے اور پراپرٹی بنا کر انہیں خالی چھوڑ کر جا رہا ہے تو کوئی ساری عمر واجبی سے گھر میں پر سکون گزار رہا ہے…
    کوئی حلال کے لیئے ہی جیتا ہے تو کوئی حرام اکٹھا کرنے پر مرا جا رہا ہے…
    کوئی چاہ کر بھی کوئی نعمت نہیں پا سکتا،کئی خواہشات ادھوری رہ جاتی ہیں… خواہش تب پوری ہوتی ہے جب ضرورت نہیں ہوتی…
    تب انساں کہتا ہے کہ دانت تھے تو چنے نہیں تھے،چنے ملے ہیں تو دانت نہیں رہے…!!!
    غرض جو جس مقصد کے لیئے پیدا کیا گیا ہے وہ اسی کی طرف بڑھا جا رہا ہے…
    ہر چیز کے دو رُخ ہوتے ہیں،مثبت اور منفی…!!!
    ہمیشہ امتحاں اور آزمائش میں خیر کا پہلو تلاشیں،مثبت رُخ دیکھنے کی کوشش کریں…
    یہ دنیا اللّٰہ تعالٰی نے اس لیئے بنائی ہے کہ لیبلوکم…!!!
    وہ جس حال میں بھی رکھتا ہے وہ پر حکمت ہے…
    ہماری عقل اس کی حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے…
    جب یہی بات ہم نظر انداز کر دیتے ہیں تو ہمارے اندر نا شکری،حسد،ٹکراؤ کی کیفیت جنم لیتی ہے…!!!
    وہ الحکیم ہے اور انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا کرتا،بس ہمیں کرنا یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنا کردار تلاشنا ہے،
    اپنی ذات کے مثبت اور خیر والے پہلو سے دنیا کو مستفید کرنا ہے…
    شکر کا رویہ اور انداز اپنانا ہے…
    آزمائش پر صبر اختیار کرنا ہے…
    تو پھر یاد رکھیئے کہ ان چیزوں کی جزا دنیا اور آخرت میں بے حساب ہے…
    اللّٰہ تعالٰی نے اپنی رضا کی راہیں ہمیں دکھا دی ہیں اب اپنا کردار ڈھونڈنا ہمارا کام ہے:
    اِنَّا ھَدَینٰہُ السَّبِیلَ اِمَّا شَاکِرً وَّ اِمَّا کَفُورًا¤
    "ہم نے اسے راہ دکھا دی،اب خواہ وہ شکر گزار بنے،اور خواہ ناشکرا…!!!”
    دنیاوی آزمائشوں پر ایمان کی نیت سے صبر اختیار کرنے والوں کو نوید ملی:
    وَ جَزٰھُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّۃً وَّ حَرِیرًا¤
    "اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے…”
    یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے،سورج کی حدت دیکھیں گے نہ سردی کی شدت…!!!
    (الدھر)۔
    یہ موسموں کی تلخیاں اور گرم و سرد جھونکوں کا تعلق اسی دنیا سے ہے،جو مختصر سی ہے،
    لہذا یہاں اپنی قسمت پر راضی رہنا سیکھیئے،
    رضا بالقدر،شکر،اور اُمید سحر کو اپنا زادِ سفر بنا لیجیئے…!!!
    شکوہ و شکایت کی اُٹھتی لہروں پر صبر و خاموشی کا بند باندھ دیجیئے…!!!
    کہ یہ دنیا اک جدوجہد کا نام ہے،
    سکون و آرام کا گھر رب کی جنت ہے…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • کشمیر لہو لہو     تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو
    تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    میں اپنے غم کی داستاں کہوں تو کس طرح کہوں
    مجھے بتا اے آسماں میں کیا کروں میں کیا کروں

    پاکستان کی شہہ رگ جو کہ ہندو بنیے کے قبضے میں پچھلی کئی دہائیوں سے ظلم وبربریت کا نشانہ بن رہی ہے لاکھوں بے گناہ کشمیری ان گنت مظالم کا شکار ہورہے ہیں کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن انسانی عالمی حقوق کی تنظیمیں خواب خرگوش میں محو ہیں یورپین ممالک بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ایک جانور بھی مر جاۓ تو یہ نام نہاد تنظیمیں ہاتھ میں موم بتیاں پکڑ کر سوگ منانے میں مصروف ہوجاتی ہیں لیکن ایک ایسی وادی جو کہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہورہی ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا یہ تنظیمیں تمام انسانوں کے لئے بنی ہیں یا صرف غیر مسلموں اور جانوروں کے لئے؟؟؟؟؟

    معصوم کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم بھارت کے جارحانہ حربوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    کشمیر جنت نظیر وادی جہاں پاک نفوذ عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو کبھی معصوم بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں….!!!!
    کہیں ماؤں کے لعل خون میں نہاتے ہیں تو کبھی قابل احترام بزرگ اپنی جان کی بازی ہار دیتے ہیں….

    "ہم روز بیان کرتے ہیں مصرعوں کے جال میں”
    "لفظوں کے ہیر پھیر میں امت کی سسکیاں”

    حال ہی میں ایک معصوم بچے کے ساتھ دودھ لینے کی غرض سے گھر سے نکلے ایک بزرگ کق بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ننھے بچے کے سامنے اس کے دادا جان پر خون کی ہولی کھیلی گئی….!!!
    کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر جب وہ اپنے دادا جان کو ان ظالموں سے بچا نہ پایا ہوگا…!!!!

    کیا اگر یہی بچہ جب بڑا ہوکر ظالموں کے ظلم کو روکنے کے لئے بندوق کا سہارا لے گا تو اس کو دہشت گرد قرار دیا جاۓ گا؟؟؟؟؟؟

    واہ رے دھوکے باز دنیا کیا یہ ہے تیرا انصاف؟؟؟؟؟

    "ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کریں تو چرچا نہیں ہوتا”

    کشمیری آج بھی راہیں تک رہے ہیں کسی مسیحا کی…!!!
    جو آکر ان ظالموں کے ہاتھ کو روکے گا…!!!
    کسی ارطغرل غازی کی….!!!
    جو اپنی تلوار سے ظالموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا….!!!

    ان مظالم کو روکنے کے لئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں اور کتابیں قلم چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا تاکہ بھارتی وحشیوں کے مظالم کو روک سکیں بہت سے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی اس مقدس جدوجہد میں شہادت کے رتبے کو پاگئے اور بہت سے ایسے ہیں جو اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات تگ و دو میں ہیں۔

    بطور پاکستان کی شہہ رگ کے پاکستان کی زمہ داری ہے مظلوموں کی آواز کو سن کر خاموش نہ بن جاۓ بلکہ ان کے مظالم کم کرنے کے لئے انٹرنیشنل لیول تک کاوشوں کو تیز تر کرے تاکہ معصوم کشمیریوں کا بہتا لہو رک سکے اور ظالم درندوں سے کشمیریوں کو چھٹکارا مل سکے۔

    کشمیر کی آزادی کے لئے بہایا گیا خون کا ایک ایک قطرہ رنگ لاۓ گا اور شہداء کی قربانیوں کا ثمر کشمیر کی آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • کشمیر کی وادی خون رنگ  از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ

    از قلم۔۔۔مشی حیات

    ‏میرے الہی رحم کرنا میرے کشمیر کی حالت پر۔۔!!
    کفار کے گھیرے میں کشمیر کی وادی پر۔۔!!
    ماؤں کی ممتا پر،باپ کی شفقت پر۔۔۔۔!!
    کر فرشتے نازل جو بھیجے تھے مقام بدر پر۔۔!!
    جو تقدیر بدل دیں فتح کے اجالوں سے۔۔!!
    کچھ ایسی رحمت کر کشمیر کی وادی پر۔۔۔!!

    بہت عام الفاظ بن چکے ہیں کہ جنت نظیر وادی 72 سالوں سے دشمنوں کی ظلم و سربریت کا شکار ہے۔۔۔۔
    چھوٹے سے بچے سے بھی پوچھ لیا جائے وہ بھی بتا سکتا ہے کشمیر کیا ہے۔۔۔؟وہاں ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔!!میں اس مظلوم وادی کے لیے اپنے جذبات لکھ رہی ہوں کہ جہاں الفاظ تو کم پڑھ سکتے ہیں مگر اس وادی کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!
    ناظرین۔۔!!
    کب تک۔۔!!آخر کب تک کشمیری قربانیاں دیتے رہے مائیں بیٹوں کو پیش کرتی رہیں اور بچے یتیم ہوتے رہیں۔۔۔۔!!
    سوشل میڈیا کا جدید دور ہے کیا چیز آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزرتی ہمارا ایمان ختم ہو چکا ہے۔۔۔ہم ایک کافر دشمن جو رہا ہی ازل سے جہنم کا پتلا کچھ دن پہلے حرام موت کے گھاٹ اترا تو مسلمانوں کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔۔۔کوئی کہہ رہا تھا خدا اسے سکون دے تو کوئی کہہ رہا تھا اسے جنت میں جگہ ملے۔۔۔۔!!
    ارے ہم کہاں کے مسلم۔۔۔کہاں کے مومن ہیں۔۔۔!!
    کچھ دن پہلے شوپیاں کشمیر کے علاقے میں جاری ظلم اور اس میں شہید ہونے والے امت مسلم کے جگر گوشے ان کے لیے تو کسی مسلم کا دل نہیں پگھلا سوائے چند احباب کے۔۔۔!!
    کیا ہم بھول گئے اپنی تاریخ کو۔۔۔!!
    ارے ہمارے آباواجداد نے جانیں پیش کی تھی۔۔۔اپنی گردنیں کٹائی تھی اس ملک کی کے لیے۔۔!!
    ہمیں تو ان کے نقش پہ چلنا تھا مگر ہم نے اگر راہ اپنائی تو صرف کفار کی۔۔۔غیر مسلم کی۔۔۔کوئی عملی اقدام نہیں۔۔۔!!
    اگر کچھ تنظیمیں کشمیر کے لیے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی تھی انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔۔۔!!
    کوئی دن ایسا نہیں جب مظلوم کشمیریوں نے جنازے نہ اٹھائے ہوں۔۔۔حد سے زیادہ ظلم کیا جارہا۔۔۔۔
    کون سے ہیرے جو ہم نے نہیں کھوئے۔۔۔!!
    ہم نے برہان جیسا ہیرو کھویاجو دشمنوں کی آنکھوں میں آج بھی کھٹکتا ہے۔۔۔!!

    ہم نے اشفاق جیسا سائنس دان کھویا جو اس ملک کا مستقبل تھا۔۔۔!!

    ہم نے ماجد زرگرجیسا 66 گھنٹے تک لڑنے والا بہادر کھویا

    ہم نے بشیر جیسا اٹیکر اور صدام جیسا عظیم جنگجو کھویا

    ہم نے منان کی شکل میں قلم کھویا

    ڈاکٹر ذیشان کی صورت میں PhD سکالر اور ڈاکٹر عثمان کی شکل میں باپ کھویا

    ہم نے سمیر ٹائیگر کی شکل میں شیر کھویا

    ہم نے نوید جٹ کی صورت میں اعلی فلائنگ جٹ کھویا

    ہم نے مدثر کی صورت میں 14 سال کا ننھا مجاھد کھویا

    ہم نے 8 سال محاذ پر لڑھنے والا ابو القاسم پاکستان کا لال کھویا

    اقوام کو سمجھنا ہوگا ہم نے کیاکھویا کیا پایا۔۔۔!!
    ظلم کی اور کیاحد ہو سکتی ہے کہ ایک ننھےاور معصوم پھول کے سامنے اس کے دادا جان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔۔۔!!
    تصورکریں۔۔۔خدانخواستہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھ یہ مناظر ہوں آپ کی کیا حالت ہوگی۔۔!!
    تھوڑا نہیں پورا سوچنا ہوگا۔۔!!
    ناظرین۔۔۔!!
    ہم نے بہت مہنگے ہیرے کھو دیے وہ تو جنت کے بالاخانوں میں ہیں ان شآءاللہ لیکن کیا ہم نے اپنا فرض نبھایا۔۔۔!!
    اس وقت سب سے پہلے قوم کے حاکم کو چاہیے کہ عملی نوٹس بنائے صرف باتوں سے آزادیاں نہیں ملتی۔۔۔!!
    تقریر سے ہو گا نہ تحریر سے ہوگا
    کشمیر تیرا فیصلہ شمشیرسے ہوگا
    خدارا۔۔۔!!
    محترم عمران خان صاحب ہم آپ کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں لیکن آپ کو کشمیر پر مکمل سوچنا ہو گا۔۔۔۔اب تاخیر نہیں کرنی ہوگی۔۔!!
    کشمیر 72 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔۔اس کے خواب کو تعبیر صرف اللہ رب العزت کی ذات کے بعد قوم کا حکمران دے سکتا۔۔۔!!
    اللہ کے لیے مدینہ کی ریاست میں عمر فاروق جیسا کارنامہ سرانجام دے دیا جائے۔۔۔
    ظالموں کے ہاتھوں سے شہہ رگ پاکستان کو چھڑا لیا جائے۔۔۔!!
    میرے پاس الفاظ تو بہت ہیں۔۔۔ جذبات بھی بہت ہیں مگر کشمیریوں کی اس بے انتہاء محبت اور قربانیوں کے آگے قلم سے صرف آنسو اور لہو ہی نکلتا ہے۔۔۔۔!!
    آخر کب تک اور کتنا ظلم میرے کشمیر کے مقدر میں ہوگا۔۔۔۔!!

    ‏اک وقت مقرر ہے فرعون کے ظلموں کا۔۔۔۔!!
    دجال کے آنے کا آفتوں کے بڑھانے کا۔۔۔۔!!
    ازل سے ہی کافر دشمن رہا دیں کا۔۔۔!!
    نہ گھبرانا کشمیر میرے اک وقت ابھی آنا ہے۔!!
    ظلمت کے اندھیروں کو جب جھڑ سے مٹانا ہے۔!!
    جہاد کے شعلوں سے وادی کو چھڑانا ہے۔۔!!
    ان شآءاللہ۔۔
    ================

  • کشمیری بیٹی کی فریاد   تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد
    غلام زادہ نعمان صابری

    وہ تنہا رہ گئی تھی،عذاب مسلسل نے اسے زندہ لاش بنا دیاتھا۔اسے یقین تھا کہ مصیبت میں کوئی اس کی مدد کو پہنچے گا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جن پہ وہ تکیہ کر رہی ہے وہ پتے تو کب کے سوکھ چکے ہیں وہ اب کسی کو ہوا دینے کے قابل نہیں رہے ۔
    وادی میں موت کا راج تھا۔ دن کا چین اور رات کا سکون موت کا فرشتہ یہاں سے کہیں بہت دور لے جا چکا تھا۔
    وہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر سانس لے رہی تھی۔
    اسے ان مہربانوں پر بہت غصہ تھا جو گلے پھاڑ پھاڑ کر کھوکھلے نعروں سے کام چلا رہے تھے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے تھے،وہ انہیں وقت کا منافق سمجھتی تھی۔
    اسے معلوم تھا کہ کوئی لمحہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت اس لمحے کے سپرد ہوسکتی ہے ۔اس نے وقت کے منافقوں اور بے حسوں کے نام ایک تحریر لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کاغذ قلم پکڑا اور کچھ لکھنے لگی لیکن وہ رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔سوچتے سوچتے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہوگا، جن کے نام وہ تحریر لکھے گی ان تک کون پہنچائے گا، بالفرض اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر کیا ررعمل ظاہر کریں گے۔
    بالآخر اس نے ہوا کو ضامن بنایا اور ایک تحریر لکھ کر اس کے سپرد کر دی۔
    "کشمیر کی موجودہ صورت حال اس قدر درد ناک ہے کہ اسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں درد ہو اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی سمجھتے ہوں اور اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں کہ اگر کسی مسلمان بھائی کو کاٹنا چبھے تو دوسرا بھائی اس کا درد محسوس کرے۔
    میں تنہا بیٹھی گھر کے درودیوار کو گھور رہی ہوں۔میرے سامنے میرے پیاروں کے لاشے پڑے ہیں جن میں میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں اور آسانیاں چھین لی گئی ہیں،نہ کھانے کو اناج ہے اور نہ پینے کے لئے پانی اور نہ بیماروں کے لئے دوائیاں۔
    میرا معصوم بھائی جو ایک پل بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا کئی دنوں کی بھوک پیاس سے سسک سسک کر شہید ہوگیا۔
    چھوٹے بھائی کی دردناک شہادت کا منظر میری چھوٹی بہن کے دل ودماغ پر نقش ہو کر گیا اور وہ اسی غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔
    میرا جواں سال بھائی اپنے بیمار ماں باپ کے لئے دوائیاں اورکھانے پینے کا سامان لینے کےلئے بھوکا پیاسا باہر نکلا،کچھ ہی لمحے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں آئیں میں نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو میرا بھائی خون میں لت پت پڑا تھا۔میں بے بسی کے عالم میں بے جان وجود کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ آنکھیں آنسوؤں سے خشک تھیں وجود میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا آخر روتی تو کیسے روتی۔
    رات کے اندھیرے میں چپکے سے بھائی کی لاش کو پاؤں سے گھسیٹ کر گھر میں لائی،اٹھانے کی سکت نہیں تھی ورنہ بھائی کی لاش کی یوں بے حرمتی نہ کرتی۔
    میں روازنہ رات کو گھر میں تھوڑی تھوڑی زمین کھودتی رہی تاکہ ان کو دفنانے کے لئے قبر تیار ہوجائے۔
    اب میں تھی اور میرے بوڑھے ماں باپ۔۔۔۔۔!
    میرے سامنے میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کی لاشیں پڑی تھیں۔میرے بیمار اور بوڑھے ماں باپ بھی سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر ان کے پاس آتے اور ان کی شہادت کو نذرانے کے طور چند آنسو پیش کرتے۔
    چند لمحوں بعد دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
    میں نے پانچ لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا۔
    اب میں ہوں اور میرا سایہ ہے۔
    میرا سایہ سرگوشی میں مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا؟؟
    تمہارے دو بھائی تو شہید ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ،تمہارے کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
    تمہارا ایک بھائی تم سب کی بھوک،پیاس اور بیماری کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ۔
    اپنے سائے کی باتیں اور طفل تسلیاں سن کر میں سکتے میں آ گئی ۔
    کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنائی دی کہ تمہاری مدد کے لئے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی تھی نا. میں اسے کیسے بتاتی کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟
    اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے !
    سائے کی باتوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا ۔میں اچانک چیخ مار کر اٹھی. اور کہا کہ دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. مجھے یوں لگا جیسےچراغوں میں روشنی نہ رہی

    میرے بہت سے نو جوان کشمیری بھائی کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں جن میں میرا ایک سگا بڑا بھائی بھی شامل ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
    اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی تھی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں کتنے مہینے لگیں گے؟
    کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.

    میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر اور سورما تھے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کرحکومت وقت کو للکارا کرتے تھے. اتنے دلیر تھے کہ اگر کسی مذہبی و سیاسی جلوس پر پابندی لگ جاتی تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں بھونچال آ گیا ہو گا. اور وہ ہماری مدد کو آ ہی رہے ہوں گے.
    کیا کشمیر اتنا دور ہے کہ آنے میں کئی مہینے لگ جائیں ؟
    نہیں.۔۔۔۔ کشمیر اتنا دور تو نہیں ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مہینے درکار ہوں۔

    میں نے تو پیارے آقا کریم، خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی ہوئی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
    مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ کشمیر لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟
    لیکن محسوس ہو رہا ہے بلکہ دکھائی دے رہا ہے کہ امت میں وہ دردنہیں رہا اگر درد ہوتا تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا۔
    میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرے کروڑوں مسلمان بھائی بہن گہری نیند میں ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے اپنے گھر محفوظ ہیں شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے ۔
    اگر کسی کو گہری نیند سے جگا دیا جائے تو اسے غصہ تو آتا ہے اور ساتھ ہی دل کرتا ہے کہ جگانے والے کی آواز دبا کر اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

    یا رب العالمین…!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا تھا. آج تونے دکھا دیا ہے۔اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
    تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.تیرا بے حد شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ۔
    کئی مہینے تک امت مسلمہ کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
    بس ایک کام کرنا جو میں آپ لوگوں سے التجا کی صورت میں کہہ رہی ہوں۔
    اگر تمہارے آنےسے پہلےمیں شہید ہو گئی تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کردینا. کل روز محشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں، کیوں کہ بہت حساب کتاب باقی ہے۔
    ہوا اس تحریر کو امانتاً اپنے ساتھ ساتھ لئے پھررہی ہے۔ابھی تک اسے کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ملاجہاں وہ یہ تحریر پھینک کر امانت سے سبکدوش ہو جائے۔

  • جن سے اللہ راضی ہوا     تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا
    غلام زادہ نعمان صابری

    خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں امارت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے امیر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت سخی اور نرم دل شخصیت کے مالک تھے کسی کو محتاجی اور پریشانی میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو مشکل حالات میں دیکھتے تو فوراً اس کی مالی مدد فرماتے اور یوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرتے اور ایمان کو تازگی بخشتے۔
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے بہت پیار اور محبت فرماتے یہ پیار اور محبت دنیا میں بھی قائم و دائم رہا اور دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یار غار ہونے کے ساتھ ساتھ یار مزار بھی ہیں۔
    مجاہدین اسلام کو جب بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے سب کچھ لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے مبارک قدموں میں ڈھیر کر دیا یہاں تک کہ مال و اسباب سے اپناگھر خالی کردیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ایک موقع آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ گھر میں بھی کچھ چھوڑ کر آئے ہیں یا کہ نہیں۔
    آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دست بستہ عرض کی کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک چھوڑ کر آیا ہوں۔
    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔
    پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق کے لئے ہے خدا اور خدا کا رسول بس
    ابودجانہ رضى اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كى نظريں ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا پيچھا كرتيں ، جب ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا يہى معمول رہا تو ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ كو روک كر پوچھا :

    ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟
    ابودجانہ رضی اللہ عنہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى نہيں ہوسكتا۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، تب پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے لئے دعا كيوں نہيں كرتے۔۔۔

    ابودجانہ كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايک يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس لئے جلدى نكلتا ہوں تا كہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو لوٹا دوں، مبادا وہ بچے بھوک كى شدت كى وجہ سے ان كھجوروں كو كھا نہ ليں۔۔۔

    پھر ابودجانہ رضی اللہ عنہ قسم اٹھا كر كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! ايک دن ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھا جو اس گرى ہوئى كجھور كو چبا رہا تھا، اس سے پہلے كہ وہ اسے نگل پاتا ميں نے اپنى انگلى اس كے حلق ميں ڈال كر كھجور باہر نكال دى۔ ۔۔
    اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! جب ميرا بيٹا رونے لگا تو ميں نے كہا اے ميرے بچے مجھے حياء آتى ہے كہ كل قيامت كے دن ميں اللہ كے سامنے بطور چور كھڑا ہوں۔۔۔

    سيدنا ابوبكر صدیق رضى اللہ عنہ پاس كھڑے يہ سارا ماجرا سن رہے تھے، جذبہ ايمانى اور اخوت اسلامى نے جوش مارا تو سيدھے اس يہودى كے پاس گئے اور اس سے كھجور كا پورا درخت خريد كر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور ان كے بچوں كو ہديہ كر ديا۔۔۔
    پھر كيوں نہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ ان مقدس ہستيوں كے بارے يہ سند جارى كرے:
    ﴿رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾
    "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے-”

    چند دنوں بعد جب يہودى كو اس سارے ماجرے كا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام اہل خانہ كو جمع كيا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پاس جا كر مسلمان ہونے كا اعلان كر ديا۔