Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زادِ سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول

    زادِ سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول

    زادِ سفر…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    عجز و کردار…
    حسنِ گفتار…
    آسان بنیں گے ہم…
    اور جب دلدار…
    اخلاق کی زینت سے…
    لہک کر…
    نرمی کی خوشبو
    سے مہک کر…
    دلوں کو رہ گزر…
    تب ملے گی…
    یہ زندگانی تو…
    تب چلے گی…
    یہ غربت اور
    امارت کی ریل…
    فقط ہیں سب یہ…
    قسمت کےکھیل…
    ان میں جو تم…
    الجھو گے…
    کبھی نہ پھر
    سلجھو گے…
    ہر سو…شکوہ
    شکایت ہو گی…
    اخوت نہ کوئی…
    رحمت ہو گی…
    انسانیت منہ
    چھپائے گی…
    اور یہ زندگی بھی
    شرمائے گی…
    یہ زندگی رنگین
    رہے یا سادہ…
    ہوا میں اُڑو…
    یا چلو پیادہ…
    سوچ کو بلندی سے
    ہم آہنگ رکھنا…
    کردار کی رفعت سدا
    اپنے سنگ رکھنا…
    انسانیت کے درد سے
    رہیں نہ تہی دست…
    تھوڑی ملے یہ…
    دنیا یا بہت…
    آدمی سے ملناہے…
    آدمی بن کر…
    اس کردار کو اجالنا ہے…
    اک مسلمان بن کر…
    اُس کردار کی قیمت
    بہت بھاری ہو گی…
    اپنےعملوں کے تُلنے…
    کی جب باری ہو گی…
    ایمان بھی تب جا…
    اپنا ہو گا کامل…
    یہ سانسوں کا سفر جو…
    ہوحسنِ خلق کا حامل…
    عجز کواس زندگی کا
    سامان کرنا…
    بااخلاق رہنے کا
    ہی پیمان کرنا…
    کہ تواضع کا صلہ
    ہے سدا بہار بلندی…
    غرور و تکبر سے
    دور رہے یہ زندگی…!!!
    ===========================

  • شعلہ اور شمع دونوں کا کام ایک ہی صرف کردار میں ہے فرق…!!!

    شعلہ اور شمع دونوں کا کام ایک ہی صرف کردار میں ہے فرق…!!!

    کردار میں فرق…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    شعلہ اور شمع…
    دونوں کا کام ہےجلنا…
    صرف کردار میں ہے فرق…
    اک کے انداز میں بھڑک…
    ایک میں متانت کی جھلک…
    ایک کا کام ہے جلانا…
    اک کا ہے راہ دکھانا…
    راستوں کی رکاوٹوں کو…
    واضح کر کے بتانا…
    راستوں اور محبتوں میں…
    فاصلوں اور قربتوں میں…
    ایسی تپش نہ تُم دکھاؤ…
    کہ رستے کے نشیب میں…
    گہرائیوں تک گِر جاؤ…
    مثلِ شعلہ کہیں نہ بھڑکو…
    کسی کو جلانے تُم نہ کڑکو…
    اک شمع کی مانند تُم جھلملاؤ…
    رستوں میں روشنی بچھاؤ…
    یاد کے جگنو کی صورت…
    دل کے دریچوں میں مسکراؤ…
    پھولوں کی لطیف خوشبو کی طرح…
    ذہن کی گہرائی میں اُتر جاؤ…
    پھر کئی وقت تک…
    رہتی سکت تک…
    حدِ رفعت تک…
    کسی کی یادوں کے پوٹلی میں…
    اک ہیرا بن کر جگمگاؤ…
    شعلہ اور شمع…
    دونوں کا کام تو ہے جلنا…
    صرف کردار میں ہے فرق…!!!
    ==============================
    (جویریات ادبیات)۔

  • خوشی, آسودگی, سکون اور خودکشی!!! سوشانت سنگھ کی خودکشی سے متعلق لکھا گیا بلاگ از قلم : بلال شوکت آزاد

    خوشی, آسودگی, سکون اور خودکشی!!!

    خبر ہے کہ بھارتی ابھنیتر سوشانت سنگھ راجپوت کی لاش چھت سے جھولتی پائی گئی جسے اولین تفتیشی نتیجے میں خودکشی کی موت بیان کیا گیا ہے۔

    خودکشی کی بابت تمام مذاہب, دنیاوی قوانین اور اخلاقی اصول بلکل واضح ہیں کہ یہ ایک قبیح اور غلط فعل ہے پر پھر بھی انسان اس کو سرذد کرنے سے باز نہیں آتے۔

    کیوں؟

    اگر غریب خودکشی کرتا ہے تو وجہ غربت بتائی جاتی ہے۔

    مفلس خودکشی کرتا ہے تو وجہ مفلسی بتائی جاتی ہے۔

    عاشق خودکشی کرتا ہے تو وجہ عاشقی بتائی جاتی ہے۔

    مقروض خودکشی کرتا ہے تو وجہ قرض بتائی جاتی ہے۔

    مجرم خودکشی کرتا ہے تو وجہ جرم بتائی جاتی ہے۔

    بھوکا خودکشی کرتا ہے تو وجہ بھوک بتائی جاتی ہے۔

    طالبعلم خودکشی کرتا ہے تو وجہ تعلیمی بتائی جاتی ہے۔

    بے عزت خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے عزتی بتائی جاتی ہے۔

    پشیمان خودکشی کرتا ہے تو وجہ پچھتاوہ بتائی جاتی ہے۔

    امیر خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے سکونی وغیرہ بتائی جاتی ہے۔

    الغرض خودکشی کے جتنے کیس اٹھالیں کوئی بھی کسی وجہ کے بغیر نہیں ملے گا لیکن کیا بتائی گئی وجوہات اتنی اہم اور خودکشی کے قابل ہوتی ہیں کہ انسان اللہ کی دی گئی تمام نعمتوں اور رحمتوں بشمول زندگی کو خود سے اللہ کی مرضی کے بغیر جدا کردے؟

    اگر آسودگی اور آسائش, دولت, شہرت اور عزت خوشی اور سکون کے لیے جزو لاینفک ہے تو سوشانت اور اس جیسے دیگر خودکشی کرنے والے افراد کو کیا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ خودکشی کرگزرتے ہیں؟

    ویسے سکون اور آسودگی کیا ہے؟

    میرے خیال میں غریب کے لیے آسودگی اور سکون غربت سے چھٹکارہ ہے,

    مفلس کے لیے آسودگی اور سکون مفلسی سے چھٹکارہ ہے,

    عاشق کے لیے آسودگی اور سکون عشق کی تکمیل ہے,

    مقروض کے لیے آسودگی اور سکون قرض سے چھٹکارہ ہے,

    مجرم کے لیے آسودگی اور سکون جرم کی سزا سے چھٹکارہ ہے,

    بھوکے کے لیے آسودگی اور سکون بھوک سے چھٹکارہ ہے,

    طالبعلم کے لیے آسودگی اور سکون تعلیمی تکمیل ہے,

    بے عزت کے لیے آسودگی اور سکون بے عزتی سے چھٹکارہ ہے,

    پشیمان کے لیے آسودگی اور سکون پچھتاوے سے چھٹکارہ ہے,

    اور

    امیر کے لیے آسودگی اور سکون نا آسودگی اور بے سکونی سے چھٹکارہ ہے۔

    لیکن کیا یہ سب وجوہات اور ان کے ممکنہ حل خودکشی کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟

    نہیں, کیوں کہ میرے خیال میں ہماری آسودگی, سکون, دولت یا قیمتی متاع کی تعریفات سراسر غیر معنوی اور وجود حقیقی اور عارضی ہیں اس لیے لیکن انسان خودکشی پر آمادہ ان مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے جن کی تعریفات معنوی اور وجود غیر حقیقی ہے۔

    کیسے؟

    وہ ایسے کہ آپ مثال کے طور پر سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو ہی لے لیں۔

    کیا وہ غریب, مفلس, عاشق, مقروض, مجرم, بھوکا, طالبعلم, بے عزت, پشیمان یا بے سکون تھا؟

    ہوسکتا ہے وہ ان میں سے کچھ بھی نہ ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ ان مذکورہ عنوانات میں سے ایک یا ایک سے زائد عنوانات کا حامل ہو پر اس کی خبر خود سوشانت اور سوائے اللہ کے کسی کو نہ ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کا راز کھل نہ جائے یا پھر اس کے نزدیک سکون اور آسودگی کی تعریف وہ نہ ہو جو عمومی طور پر دنیا میں رائج ہے جیسے کہ دولت, شہرت, عزت اور آزادی و خودمختاری۔ ۔ ۔

    پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

    پھر یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ جنت کے تمام مزے بھی کسی انسان کو اللہ اس فانی زندگی میں اسی دنیا میں مہیا کردے تب بھی اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی تشنگی, ہوس اور حرص کو ایک وجہ بنادیا ہے کہ انسان کو جنت بھی فانی زندگی کے ساتھ زیادہ دن خوش اور مائل بہ زندگی اور آسودہ و پرسکون نہیں رکھ سکتی لہذا قیمتی اور اہم کسی انسان کے سکون اور آسودگی کے لیے دولت, شہرت اور عزت نہیں بلکہ وہ شہ, انسان یا عقیدہ و تظریہ ہے جس کی کسی انسان کو سب کچھ ہوکر بھی چاہ ہو لیکن وہ حاصل نہ کرپائے اپنی تمام تر کوششوں اور طاقت کے باوجود۔

    مجھے سوشانت سمیت کسی امیر غریب کی خودکشی پر رتی برابر افسوس نہیں ہوتا کہ میرے نزدیک خودکشی ویسے تو مذہبی و قانونی جواز کے ساتھ بھی قابل نفرت ہے پر ذاتی وجوہات میں مجھے خودکشی ایک چڑانے والا اور مایوسی والا فعل لگتا ہے۔

    چڑانے والا فعل اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی طرف سے آئی مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی جان لیکر اپنی جان چھڑاتا ہے اور اللہ و اللہ والوں کو چڑاتا ہے کہ لو مجھ سے نہیں ہوتا صبر اور شکر تو میں چلا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو مجھے کیا؟

    اور مایوسی والا اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے خود تو مایوس ہوکر چلتا بنتا ہے پر ساتھ ہی معاشرے کو بھی مایوس, بے چین اور بے سکون کرجاتا ہےکہ کوئی اللہ نہیں اور انسان کبھی صبر اور شکر کی منزل نہیں طے کرسکتا۔

    بہرحال خودکشی بھی ریپ اور دیگر مذہبی, قانونی اور اخلاقی جرائم کی طرح ایک گناہ کبیرہ اور جرم عظیم ہے جس کی تشہیر اور اس پر افسوس اور رنجیدگی قطعی ہمیں زیب نہیں دیتی بلکہ اس کو بھی تمام گناہوں اور جرائم کی طرح ڈیل کرنا چاہیے پر اب رواج الٹے پڑگئے ہیں کہ ہم مثبت باتوں پر پردہ ڈالتے اور شرمندہ ہوتے ہیں جبکہ منفی باتوں کی تشہیر اور ان پر من پسند ردعمل دینے میں سخی ہوگئے ہیں۔

    جو بھی ہو خواہ عین وقت قیامت ہو تب بھی خودکشی کا کوئی بھی مذہبی, قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں لہذا جو ایسا کرتا ہے وہ جس طرح اللہ کا مجرم ہے بلکل اسی طرح ہمارا بھی مجرم ہے اس لیے مجرموں سے ہمدردی جتا کر خود بھی ایک جرم کا ارتکاب مت کریں کیونکہ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ جو اسے ناپسند ہے وہ ہمیں پسند ہو۔

    خوشی, آسودگی اور سکون چاہتے ہو تو امیر ہو یا غریب بس اللہ کے صابر اور شاکربندے بن جاؤ تو سب مل جائے گا ورنہ خودکشی ہی تمہارا مقدر ٹھہرے گی۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی   بقلم : فردوس جمال !!!

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    سرفراز دھوکہ دے گیا

    اپنے آپ کو
    اپنی ابھرتی جوانی کو
    اپنے والدین کو
    خود سے جڑے سب رشتوں کو
    تمام تعلقات کو
    سبھی توقعات کو
    مستقبل کے خوابوں کو
    شہرت اور مقبولیت کو

    سوشانت سنگھ راجپوت
    خودکشی کر گیا
    وہ کہ جس نے خودکشی کے خلاف
    فلم میں کام کیا تھا

    سرفراز نے دھوکہ دیا
    سوشانت نے خودکشی کر ڈالی

    یہ شہرت،یہ رنگینیاں،یہ دولت
    یہ ہالی وڈ یہ بالی وڈ یہ لالی وڈ
    سب فیک،تمام فراڈ ،سبھی دھوکہ

    حقیقی سکون،دائمی خوشی،ہمیشہ کی کامیابی اللہ تعالٰی کی بندگی اور رب رحمان کے ذکر میں ہے.

    بقلم فردوس جمال !!!

  • پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    ایک مریض کو جب منع کیا کہ کرونا سے ٹھیک ہونے کے بعد پلازما کیلئے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پانچ پانچ لاکھ کی تجارت نہ کرے تو اس نے ” یہاں یہی دستور ہے ” کہہ کر بات سنی ان سنی کردی – پلازما دینے سے پہلے لازمی ہوتا ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سی چیک کرایا جایے- سو جب اس نے ٹیسٹ کرایا تو ہیپاٹائٹس بی مثبت آیا – ایسا ہو تو اگلا قدم پیٹ کا الٹرا ساونڈ ہوتا ہے – جب وہ کروایا تو اس میں جگر کا سرطان (کینسر) بیٹھا انسان کی اس حسابی فطرت کا مذاق اڑا رہا تھا جس کا علاج کسی پلازمہ سے بھی ممکن نہی تھا ……..!

    الله کی رحمت سے کرونا سے ٹھیک ہونے والے لوگ جب اپنے پلازمہ پر وینٹیلیٹر پر پڑے مریضوں سے پانچ لاکھ مانگتے ہیں تو وہ کاروبار نہیں کرتے بلکہ الله کی رحمت پر کمیشن مانگ کراس کی خدائی پردلالی کرتے ہیں- یاد رکھیے ! کوئلوں کی دلالی میں بس منہ کالا ہوتا ہے لیکن اس دلالی میں روح کالی سیاہ اور دل جگر گل سڑ جاتے ہیں جس کی باس میں انسانیت کا دم گھٹتا ہے – خون میں شفا پیدا ہوئی ہے تو اس میں اس باس کی ملاوٹ نہ کیجیے – ایسا نہ ہو کہ اس کا تعفن آپ کے اپنوں کے پھیپھڑوں کا سرطان بن جایے جس کا علاج کسی پلازما سے بھی ممکن نہ ہو – کیوں کہ جس ذات نے اس خون میں شفا دی ہے وہ اس بات پر بھی قادر مطلق تھی کہ آپ آج "بروکر”کی کرسی پر نہیں بلکہ "وینٹیلیٹر” پر پڑے ہوتے اور آپ کے گھر والے اسی پلازمہ کیلئے جگہ جگہ رل رہے ہوتے –

    #قلم کی جسارت وقاص نواز 399

  • رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا  از:ظفر مسعود انصاری

    رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا از:ظفر مسعود انصاری

    HISTORICAL SOLAR ECLIPSE IN PAKISTAN:
    #تاریخی سورج گرہن #دن میں رات کاسماء:
    🔴 آج سے ٹھیک 11 دن بعد 21 جون کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے کے درمیان پاکستان میں تاریخی سورج گرہن متوقع ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں دن میں مغرب جیسا سماء ہو جائے گا۔ اس بار سورج گرہن 26 دسمبر 2019 والے کے مقابلے زیادہ گہرا ہوگا۔

    ◾سب سے زیادہ سورج گرہن بلوچستان کے ساحلی علاقوں، شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب میں دیکھا جا سکے گا جہاں 95-100 فیصد تک سورج کا حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور مغرب/رات جیسا سماء ہوگا۔ پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں اس دوران سورج 75-90 فیصد چاند کے پیچھے ڈھک جائے گا اور 1999 والے گہن کے بعد یہ سب سے تگڑا سورج گہن ہوگا۔

    #کراچی میں سورج_گرہن:
    🔴 کراچی میں سورج گرہن کی شروعات 21 جون کی صبح 9:29AM سے ہوگی جبکہ سب سے زیادہ گہن صبح 10:59AM پر لگے گا جب سورج کا %92 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن میں مغرب جیسا سماء بندھ جائے گا۔ اس والے سورج گرہن میں کراچی میں اندھیرا 26 دسمبر 2019 والے گہن کے مقابلے کافی زیادہ ہوگا۔ سورج گرہن کا کراچی میں اختتام دوپہر 12:36PM پر ہوگا۔

    #لاہورمیں سورج_گرہن:
    🔴 لاہور میں سورج گرہن کی ابتداء صبح 9:48AM پر ہوگی جبکہ صبح 11:26AM پر سب سے زیادہ گہن لگے گا، اس دوران سورج کا %91 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ سورج گرہن کا اختتام دوپہر 1:10PM پر ہوگا۔

    #پاکستان کےباقی شہروں کی_تفصیلات:
    ♦️ پاکستان کے باقی بڑے شہروں میں کتنے فیصد سورج گرہن ہوگا اور کس وقت سب سے زیادہ گہن ہوگا اسکی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    🔷 Gawadar: 98.5% (Peak Time 10:48AM)
    🔷 Larkana: 98.7% (Peak Time 11:05AM)
    🔷 Sukkur: 98.7% (Peak Time 11:07AM)
    🔷 Bahawalpur: 96.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Rahimyarkhan: 98.6% (Peak Time 11:12AM)
    🔷 Khuzdar: 96.0% (Peak Time 11:02AM)
    🔷 Nawabshah: 94.5% (Peak Time 11:04AM)
    🔷 Multan: 93.4% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Hyderabad: 91.4% (Peak Time 11:03AM)
    🔷 Faisalabad: 90.6% (Peak Time 11:22AM)
    🔷 Quetta: 87.9% (Peak Time 11:06AM)
    🔷 Sialkot: 87.9% (Peak Time 11:27AM)
    🔷 DI Khan: 86.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Islamabad: 82% (Peak Time 11:25AM)
    🔷 Muzzafarabad: 79.9% ( Peak Time 11:26AM)
    🔷 Peshawar: 79.4% (Peak Time 11:21AM)
    🔷 Gilgit: 74.8% (Peak Time 11:32AM)

    #ضروری_احکامات:
    ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف” ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    نماز کسوف پڑھنے کا طریقہ:
    سورج گہن کی نماز سنت موکدہ ہے-دو رکعت نماز باجماعت پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو-الگ الگ بھی نماز پڑھ سکتے ہیں-بہرحال قرات آہستہ ہو گی-حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں آفتاب میں گہن لگا تو آپ نے نما زپڑھی جس میں سورۃ بقرہ جتنا لمبا قیام کیااور اسی طرح رکوع و سجود لمبا کیاپھر فرمایا سورج یا چاند گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا لہذا جب تم ایسا دیکھو تو خدا کا ذکر کرو اوع دعا و استغفا ر میں مشغول ہو جاؤ-
    منقول
    والسلام ظفر مسعود انصاری

  • کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟
    ہم بھی عجیب قوم ہیں۔ جب پاکستان میں کورونا کیسز چند سو تھے تو روز چھت پر چڑھ کر آذان دیتے تھے۔ اب سوا لاکھ سے زیادہ ہوگئے ہم مانتے ہی نہیں کہ یہ کوئی بیماری ہے۔

    ہمیں ابھی تک یقین ہے یہ کوئی عالمی سازش ہے۔ سرکار جتنے زیادہ کیس شو کرے گی۔ عالمی امداد اتنی زیادہ ملے گی۔ اسی لیے میڈیا سب کچھ چھوڑ کر دن رات کورونا کا رونا رو رہا ہے

    ہمیں لوگوں کی سنی ہوئی باتوں سے یہ بھی یقین ہے کہ اچھا بھلا بندا ہسپتال لے جاو وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں۔ چند ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس میں ورثاء کا دعوہ ہے کہ ان کے پیارے کو کورونا کا مریض کہ کر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا۔ اب لاش دینے کے لیے 5 لاکھ مانگ رہے ہیں۔ کسی نے ہسپتال انتظامیہ یا ڈاکٹر کا موقف لینے کی زحمت نہ کی کہ انہیں نے یہ رقم مانگی بھی یے یا نہیں۔

    یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے آگر آپ کے پیارے کو کچھ نہیں تھا تو اسے ہسپتال لایا ہی کیوں گیا؟

    اس وقت ملک بھر میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مثبت کیسز بھی زیادہ ریکارڈ ہورہے ہیں۔ جبکہ بہت بڑی تعداد مثبت کورونا ہونے کے باوجود بازاروں میں گھوم رہی ہے۔ مفت ٹیسٹ کروانے کو بھی تیار نہیں۔

    یہاں ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ مریض جن کی حالت خراب ہے جنھیں کورونا ٹیسٹ کے بغیر کوئی ہسپتال نہیں لے رہا۔ ان کے فیملی ممبرز کورونا ٹیسٹ کروانے کے لیے کسی طور تیار نہیں۔

    خوف یہ ہے کہ رپورٹ مثبت آگئی تو مریض کو سرکاری لوگ اٹھا کر لے جائیں گے اور پھر لاش بھی حوالے نہیں کی جائے گی۔ ان کے لیے عرض ہے کہ مریض اتنے زیادہ ہیں کہ سرکار کے پاس انہیں قرینطینیہ کرنے کی گنجائش نہیں اور ہسپتالوں میں مزید مریضوں کی جگہ نہیں۔ وہ آپ کے پیاروں کو کیوں اٹھاکر لے جائیں گے؟ اگر آپ کے پاس گھر میں انتظام ہوتو ڈاکٹرز یہی کہتے ہیں گھر پر قرینطینیہ سب سے بہتر ہے۔

    ایک دوست کے والد کئی دن سے بیمار تھے۔ سانس لینے میں کافی دشواری تھی۔ مگر کورونا ٹیسٹ نہیں کروا رہے تھے۔ کراچی کے 9 سے زائد ہسپتالوں میں گئے کسی نے کورونا ٹیسٹ کے بغیر ایڈمٹ نہ کیا۔ انہیں سمجھایا ٹیسٹ کروائیں۔ اللہ کرے منفی آجائے۔ اور اگر مثبت ہوا تو علاج تو کروا رہے ہیں مزید احتیاط کرلیں گے۔ ٹیسٹ کروایا گیا رزلٹ منفی آیا اسی دن ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کو دکھایا مزید کچھ ٹیسٹ ہوئے معلوم ہوا پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا تھا جو اسی دن نکال دیا گیا۔

    اسی طرح ایک دوست کی اہلیہ کئی دن سے علیل ہیں۔ ہسپتال والے کورونا ٹیسٹ کے بغیر قریب نہیں آرہے۔ انہیں سمجھایا آپ کی مریضہ کی تکلیف کورونا نہیں۔ مگر آپ ٹیسٹ کروائیں۔ رپورٹ منفی آئی تو آپ بھی مطمعن ہوجائیں گے اور ڈاکٹر بھی تسلی سے معائنہ کرلیں گئیں۔ باقی تسلی رکھیں سرکار نے گھر سے نہیں آٹھانا آپ پہلے ہی سرکاری ہسپتال میں موجود ہیں۔

    رہا یہ سوال کہ کیا ڈاکٹر کورونا مریض کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں۔ یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ جو بھی قصہ سناتا ہے پوچھیں کیا آپ جانتے ہیں۔ آئیں اس ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس چل کر بات کریں تو جواب ملتا ہے نہیں میں خود تو نہیں جانتا البتہ میرے ایک جاننے والے کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔

    سوچیں اپنے ہاتھ سے کسی کو قتل کرنا کتنا مشکل کام ہے اور ایسی صورت میں جب اس معصوم کی آپ کے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہ ہو اور قتل کے بدلے آپ کو کچھ اضافی بھی نہ مل رہا ہو۔

    انجیکشن لگانے والے اسٹاف کی تنخواہیں بیس سے تیس ہزار ہیں۔ اور وہ خود اپنی جانیں خطرے میں ڈال فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں

    آج کل سوشل میڈیا پر تسلسل سے پیاروں کے فوت ہونے کی خبریں نظر آرہی ہیں۔ خدارا اسے اپنے لیے موقع سمجھیں۔ پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی بجائے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیجئے یہ جان بہت قیمتی ہے۔ احتیاط کیجئے اپنے آپ اور پیاروں کو بچا لیجئے۔

  • کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے  از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے

    از قلم: عاقب شاہین

    نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ، ہمت اور جذبہ اُن میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوتا ہے ، وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی قوم کے عروج اور زوال کی ڈور ہوتی ہے ۔۔۔ قوم کی ترقی کی ضمانت باحیا ،، با کردار اور با عمل شاہین صفت نوجوانوں میں ہی مضمر ہے ۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی اِسی عمر کو غنیمت سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے ، کیونکہ بڑے بڑے معرکے اور کارنامے اسی عمر میں انجام دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ حضرت عمر بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری سے پہلے ، خوش حالی کو ناداری سے پہلے ،فراغت کو مشغولیت سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔۔۔ ( ترمذی)
    اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ نوجوان کسی قوم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی بُت توڑ کر اپنے آباؤاجداد کی غلط روایات کو ختم کیا ، حضرت یوسف علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی ، صلاح الدین ایوبی ،طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے جنھوں نے قرآن وسنت کی بالادستی اور معاشرے کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔۔
    قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران نوجوانوں سے ہی خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
    میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جوان کر رکھا ہے ، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے۔۔۔

    کسی بھی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں بھی انہی شاہین صفت نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔۔۔ یہ نوجوان جب اپنا تازہ اور گرم لہو پیش کرتے ہیں تو ملت کے مقدر کا ستارہ جاگ اُٹھتا ہے اور آزادیاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔۔۔

    اگر جواں ہوں میری قوم کے جسور و غیور

    قلندری میری کچھ کم ، سکندری سے نہیں

    اِس کے برعکس اگر یہی نوجوان اپنے فرض سے بےخبر ، کاہل ، سست ، غدار اور بدکردار ہوں گے تو قومیں خود بخود بربادی کی طرف رواں دواں ہو جائیں گی ۔۔۔ واضح ہوا کسی بھی قوم میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ اِن کی تربیت بھی اِس قدر ہی ضروری ہے ، اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر ہی منحصر ہے ۔۔ اگر قوم اپنے قیمتی سرمائے کی تربیت سے ذرا برابر بھی غفلت برتے گی تو یہی سرمایہ اُس کےلیے ناسور کی صورت اختیار کر جائے گا ، قوم تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہو گی ۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم سے اپنے قیمتی سرمایہ کی تربیت اور حفاظت نہ ہو سکی، اُس کی نوجوان نسلیں لہوولعب ، کھیل کود اور منفی رجحان کی نذر ہو گئیں اور وہی قومیں پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گریں۔۔۔ اِس کے برعکس جن قوموں نے اپنے قیمتی سرمایہ کی حفاظت کی ، اُن کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی ، اُنہی قوموں کے نوجوان اقوامِ عالم پر شاہین بن کر اُبھرے اور اپنی بلند پروازوں سے دنیائے عالم کو تسخیر کر لیا۔۔۔
    آج ایک بار پھر سے اقوامِ مسلم کو نوجوان شاہینوں کے جوش ، جذبے اور اُن کی صلاحیتوں کی بے حد ضرورت ہے ، اور یہ نوجوان تب ہی قوم کے کام آ سکتے ہیں جب اِن کی تربیت صحیح اسلامی بنیادوں پر کی جائے ، آج کے نوجوان گفتار کے غازی تو بن گئے لیکن کردار کے غازی بننا بھول گئے ۔۔ اُنہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اُن کی جوانی قوم کی امانت ہے ، قوم کی نظریں اُن پر لگی ہوئی ہیں ،اندھیروں میں ڈوبی قوم کےلیے وہی روشنی کی کرن ہیں ، اگر نوجوان اسلام کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو رب کی نصرت بھی آسمان سے اُترے گی اور ظلمتوں کے گھپ اندھیرے چھٹ جائیں گے ، سحر کی روشنیاں نمودار ہوں گی بس ذرا ہمت ، حوصلے اور سچے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

    اگر ہم اپنی روش بدل کر راہِ ہدایت پہ ہوں روانہ

    خُدائی نصرت بھی ساتھ ہو گی ،مٹے گا یہ دور جابرانہ

  • ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب__!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    اچھی ہمسائیگی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔
    اور برے ہمسائے سے ہمیں پناہ مانگنے کی تعلیم ملی۔۔۔
    کسی کا بھی ہمسایہ اس کی خوشی،غمی میں ڈھارس کا ضامن ہوتا ہے،کیونکہ سگے رشتہ دار میلوں،شہروں بلکہ بعض اوقات ملکوں دور بھی ہوتے ہیں__!!!!
    یہی وجہ ہے کہ ہمسائے کی اسی افادیت اور اہمیت کے پیشِ نظر دینِ فطرت اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے،ارشاد ربانی ہے:
    وَالجَارِذِی القربٰی وَالجارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ۔۔۔۔
    (النسآء:36)۔
    "اور پڑوسی رشتہ دار اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی سے(احسان کا معاملہ کرو)۔۔۔”

    یعنی اللّٰہ رب العزت خود مسلمانوں کو پڑوسی سے حسنِ سلوک کا حکم دے رہے ہیں تو کیا اللّٰہ کے حکم کے بعد پڑوسی کا حق کچھ پوشیدہ رہ جاتا ہے۔۔۔؟

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر ہمسائے کے حقوق کی اہمیت بتلائی۔۔۔
    کچھ وقت پہلے تک واقعی پڑوس کی افادیت قائم تھی،
    خوشی،غمی کے مواقع مل کر ڈیل کیئے جاتے تھے۔
    جو کچھ میسر ہوتا،کھلے دل سےپیش کر دیا جاتا تھا۔
    دیہات میں تو یہ رواج زیادہ ہی مضبوط تھا۔
    کھلے گھر اور حویلیاں شادی بیاہ کے مواقع پر بہت کام دیتے تھے۔۔۔
    مگر آہستہ آہستہ کھلے گھروں کے مکینوں کے دل بھی تنگ ہونے لگے اور دیہاتیوں نے بھی چار و ناچار میرج ہالز کا رُخ کر لیا اور یوں چند لاکھ کے اخراجات بھاری بھرکم بکنگ کے ساتھ کئی گنا زیادہ اضافے کے ساتھ برداشت کیئے جاتے ہیں۔۔۔ !!!
    اور یہ سب حسنِ معاشرت کی نفی اور نفسا نفسی کے عالم والی بات ہے۔۔۔ !!!!
    پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حق یہ ہے کہ اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جائے۔۔۔
    اس کا حال بانٹا جائے__
    اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔۔۔
    اس کے گھر جو کچھ پکے،بخوشی اور حق سمجھ کر بھیجا جائے__!!!!
    آج ہم دن میں کئی کئی ڈشز بناتے ہیں مگر پڑوس میں بسنے والے کا کچھ خیال نہیں آتا۔۔۔
    اب یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کا پڑوسی واقعی مستحق ہونا چاہیئے بلکہ یہ اس کا خصوصی حق ہے جو ہمارا دین اُسے دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    اور کسی بھی سوسائٹی کے احساس اور مثبت پہلو کی خوب عکاسی بھی۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اے مسلمان عورتو!!!!
    کوئی پڑوسن اپنی کسی پڑوسن کے لیئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے،خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔”
    (صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    کوکنگ کا زیادہ تر کام عورتیں ہی کرتی ہیں تو انہی کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی پڑوسن کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہ کریں۔۔۔
    بلکہ ثواب کی نیت سے،پڑوسی کا بھی حق ادا کریں۔۔۔ !!!!

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے،اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔۔۔”
    {رواہ البخاری فی الادب المفرد}۔

    حضرت عائشہ راویہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید اسے وراثت میں شریک نہ کر دیں۔”
    [صحیح بخاری_کتاب الادب]۔

    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا کے پوچھنے پر کہ کسے پہلے ہدیہ بھیجوں،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس کا دروازہ تم سے قریب ہے__!!!”

    خود بھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے معاملات رکھیں اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیئے کسی اذیت کا باعث نہ بنیں۔

    چھوٹے بچوں کے معمولی اور معصوم جھگڑوں کو طول نہ دیں اور طرفین کو پیار سے سمجھائیں۔۔۔
    کیونکہ بچے فوراً دل صاف کر کے اکھٹا کھیلنا کودنا چاہتے ہیں۔۔۔

    چھوٹے چھوٹے مسائل پر پڑوسی سے جھگڑنے سے گریز کریں۔۔۔
    کبھی اس کے حصے کا کام خود کر دیں۔۔۔
    جیسے صفائی کا مسئلہ ہو یا پودوں وغیرہ کو پانی دینا۔۔۔۔
    پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی حفاظت کریں اور اسے کسی نقصان کی پہنچ سے دور رکھنے کا خیال کریں۔
    بچوں کو سمجھائیں کہ پڑوسیوں کی کسی بھی چیز کو نقصان نہیں پہنچانا یا اٹھا کر گھر نہیں لے آنا۔۔۔

    پڑوسی کے حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیرس پر گھومتے ہوئے تاکاجھانکی سے بچا جائے۔۔۔
    بلاوجہ بار بار چھتوں پر نہ چڑھا جائے۔۔۔
    اگر ضرورت ہی ہو تو پہلے سے پڑوسی کو اطلاع کی جائے تاکہ خواتینِ خانہ اپنا خیال کر لیں__
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "وہ شخص جنت میں نہ جائے گا،جس کا ہمسایہ اس کے مکر و فریب سے محفوظ نہ ہو۔”
    {صحیح مسلم)
    شہروں میں مختلف النوع لوگوں کا ساتھ رہتا ہے۔۔۔
    اور زیادہ تر لوگوں کو سالوں تک یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پڑوس میں کون بس رہا ہے۔۔۔
    لیکن اس پڑوسی کا حق بھی ادا کرنا چاہیئے ،ہاں اگر کوئی شناسائی یا بول چال رکھنا ہی نہ چاہے تو زبردستی بھی جائز نہیں ہے۔۔۔
    لیکن ہر پڑوسی پر اندھا اعتماد بھی نہیں کر لینا چاہیئے۔۔۔
    بچوں کو ماموں،چاچو اور بھائی بنا کر ساتھ کبھی نہیں بھیجنا چاہیئے__
    اسی طرح عورتیں،پڑوس کے مردوں اور مرد،پڑوس کی عورتوں سے بے تکلفی سے گریز کریں۔۔۔
    کیونکہ یہ کھلم کھلا بات چیت بعض اوقات خطرناک افیئرز پر منتج ہوتی ہے__!!!!
    محرم،غیر محرم کے لیئے ہر میدان اور معاملہ میں کلیہ ایک ہی ہے۔۔۔

    گھر کی چیزیں زور زور سے پھنکنے اور گھسیٹنے سے اجتناب کرنا چاہیئے،کیونکہ پڑوس میں کوئی بزرگ یا بیمار ہماری اس حرکت سے تکلیف محسوس یا پریشان ہو سکتا ہے۔۔۔

    اونچی آواز میں ڈیک چلانے اور فُل آواز میں ٹیلی ویژن آن رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔۔۔

    چیخنے چلانے اور بچوں کو اونچی آواز میں ڈانٹ پلانا آپ کے پڑوسی کو ڈسٹرب اور ذہن کو منقسم کر سکتا ہے__!!!!

    اسی طرح پڑوس میں چلنے والے کسی مسئلہ یا جھگڑے کی تشہیر کی بجائے خاموشی سے صلح کی کوشش کرنی چاہئیے اور پھر اسے راز میں بھی رکھیں۔۔۔ !!!
    بیمار کی عیادت کریں__دوا کھِلا آئیں،کوئی اس کے پاس نہ ہو تو کچھ دیر دلجوئی کے لیئے اس کے پاس چلے جائیں۔۔۔
    پڑوسی اگر بے راہرو،بے نمازی اور غلط راہوں پر ہے تو اخلاص کے ساتھ نرمی سے نصیحت بھی کرتے رہیں۔۔۔ !!!
    غرض ان حقوق و آداب کا خیال رکھتے ہوئے ہم سب ایک بہتر پڑوسی کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "پڑوسیوں میں بہتر پڑوسی وہ ہے،جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔”(رواہ الترمذی)۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے ،آمین ثم آمین۔

  • شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی جمعرات سے بیمار تھے۔آن کا کہنا ہےکۂ میرے جسم میں بری طرح درد ہو رہا تھا۔
    آج ان کا کوروناواہرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو بدقسمتی سے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا.
    شاھد آفریدی کی عوام الناس سے گزارش ہے کۂ مجھے صحت یابی کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے.