Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی

    جب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی

    جہاز بند ہونے کے بعد زمینی ذرائع سفر کی گنجائش پیدا کی جائے۔

    15 اپریل 1957 کے راستے لندن اور کلکتہ کے درمیان بس جرمنی اور آسٹریا یا پیرس اور وینس پھر بلگراد ، استنبول ، سمسن ، ٹربزون ، تبریز ، تہران ، مشید ، ہرات ، کابل پشاور ، لاہور ، امرتسر دہلی ، کلکتہ … آج کوئی امکان؟ واقعتا ایک بس سروس موجود تھی جو لندن اور کلکتہ کے مابین ’’ 70 کی دہائی کے اوائل تک موجود تھی۔

    کلکتہ کا سفر پانچ دن کا تھا اور اس کا ایک ہی کرایہ 85 پاؤنڈ (1957) سے 145 پاؤنڈ (1972–73) تھا-

    یہ وہ وقت تھاجب بس صرف پچاسی پاونڈ کرایہ میں لندن سے کلکتہ پانچ دنوں میں پہنچاتی تھی-

  • سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور  پاکستان کی فتح  تحریر:اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح تحریر:اسد عباس خان

    سٹاک ایکسچینج مارکیٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی فتح
    صدائے اسد
    اسد عباس خان

    جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے آج اس ضرب المثل کو سمجھنے میں اس وقت آسانی ہوئی جب کراچی اسٹاک ایکسچینج پر چار دہشتگردوں نے حملہ کیا اور آناً فاناً مارے گئے۔ اس واردات کی ذمہ داری ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم نے قبول کی جس کی ڈوریں ہمارے مشرقی ہمسائے کے ہاتھوں میں اور تربیتی مراکز مغربی ہمسایہ ممالک میں ہیں۔ آئیے اس حملہ کے محرکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی مودی سرکار روز اول سے ہی یک نکاتی ایجنڈا پاکستان دشمنی پر قائم ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان مخالف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اقوام عالم میں اپنے سفارتی مشن، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ، غرض ہر پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا۔ مودی نے بذات خود بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے اور ہر ملک میں جا کر دہشتگردی اور اس سے پاکستان کو نتھی کر کے ایک ہی رونا روتا رہا۔ مغربی ممالک کے علاوہ پاکستان کے دوست خاص طور پر عرب ریاستوں کو چنا گیا۔ ایک سو بیس کروڑ افراد کی بڑی عالمی منڈی اور تجارت کا لولی پاپ کسی حد تک کارگر بھی ثابت ہوا۔ کمزور پاکستانی معیشت اور عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کی یک طرفہ غنڈہ گردی کے ذریعے وہ محب وطن جماعتیں جو کشمیر پر آواز بلند کرتی تھیں ان پر پابندیاں لگوائیں اور بزرگ رہنما پابند سلاسل ہونے لگے۔ ادھر پاکستان کو جنگ کی کھلی دھمکیوں کے ساتھ سرحدوں پر روزانہ کی چھیڑ چھاڑ، کشمیر میں جاری مظالم میں شدت اور پھر دلی سے یکطرفہ قانون سازی کے ذریعے کشمیر ہڑپ کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے۔ پہلے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے اور پھر بالا کوٹ اسٹرائیک کی ڈرامہ بازی رچائی گئی۔ حالانکہ واقعہ بالا کوٹ کے دوسرے روز دن کی روشنی میں نہ صرف دو جہاز تباہ کروا لیے بلکہ اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو خود ہی اڑا کر جگ ہنسائی مول لی۔ ابھینندن کا Fantastic tea والا جملہ تاریخ کا حصہ بن کر ہندوستان کے لیے تا قیامت ذلت و رسوائی کی مثال بن چکا ہے۔ ایشیاء کی تمام چھوٹی ریاستوں کو رعب و دبدبے اور غنڈہ گردی سے اپنے زیر اثر رکھنے والے ہندوستان کی دھوتی چائنہ نے لداخ میں سرعام کھول دی۔گھس کر مارنے والے فلمی ڈائیلاگ بولنے والوں کی سرزمین پر چین گھس آیا اور مودی برگیڈ کو اپنے ہی ملک میں کہیں گھس کر چھپنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی
    پیپلز لبریشن آرمی نے بغیر گولی چلاۓ ڈنڈوں، گھونسوں اور مکوں سے بہار رجمنٹ کو اڑا کر رکھ دیا۔ ہندوستانی کرنل سمیت 20 فوجی جوان بشمول دیگر افسران مارے گئے اور 80 سے زیادہ شدید زخمی اور ایک لیفٹیننٹ دو میجرز سمیت باقی ماندہ گرفتار کر لیا گیا جن کی رہائی ابھینندن کی طرح بعد میں عمل میں آئی۔ شاید بی جے پی سرکار اور دن رات مودی کی مدح خوانی میں مصروف ہندوستانی میڈیا کے وہم و گمان میں بھی چین کی طرف سے اس شدید رد عمل کی توقع نہ تھی۔ بات بات پر پاکستان کا راگ الاپنے والے مودی کے ہونٹ سِل گئے۔ ریاست نے چپ کا روزہ رکھ لیا اور پاکستان پاکستان بول کر ہلکان ہونے والا میڈیا اُف تک بولنے کی جرات نہ کر سکا۔ مردہ کانگریس پارٹی میں یکخت جان پڑ گئی راہول گاندھی اور سونیا گاندھی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا خودساختہ طاقت و غرور کا گھمنڈ ٹوٹا اور "56 کا سینہ "5,6 کا نکلا۔ ملکی داخلی سیاست میں "مودی ہے تو ممکن ہے” نامی غبارے سے ہوا نکل گئی۔ خالصتان تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہو کر ریفرنڈم کی جانب گامزن ہے۔ بین الاقوامی سطح پر معاملہ سبکی سے بھی زیادہ خراب صورتحال تک پہنچ گیا۔ عرب ممالک کی عوام مودی کی مسلم کش پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ نیپال کے ساتھ سرحدی حدود کا معاملہ گرم ہوا۔ اور آنے والے امریکی انتخابات کی ریلیوں میں بھی کشمیر کا ذکر سنائی دینے لگا۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں کامیاب و کامران ہو کر معاشی معاملات کو بہتر بنانے کی تگ ودو میں لگ چکا تھا کہ کروناء نے پوری دنیا سمیت پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ ایسے وقت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ سے دشمن نے جہاں ایک طرف اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ موڑنے کے لیے زبردست چال چلی اور اس واقعہ کے ذریعے مودی بھگت میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ وہیں پاکستان کے معاشی حب کراچی اور تمام تر کاروباری سرگرمیوں کے مرکز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنا کر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ڈرانے اور خوف و ہراس سے معیشت کا پہیہ روکنے کی کوشش کی۔ الطاف حسین، منظور پشتین، ٹی ٹی پی، جسقم، اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد جو آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد سے مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے دوبارہ روح پھونکے کی کوشش بھی کی گئی۔ حملہ آوروں سے ملنے والا جدید اسلحہ اور وافر مقدار میں گولہ بارود و کھانے کا سامان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ممبئی حملوں کی طرز پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن سالہا سال کی محنت اور منصوبہ بندی فقط آٹھ منٹ میں ڈھیر ہو گئی۔ سندھ پولیس کے شیر دل جوانوں نے پرفیکٹ ہیڈ شارٹ لے کر دشمن کو پیغام دیا کہ سندھ دھرتی کے بیٹے اپنے ملک کا دفاع کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ سندھ رینجرز اور باقی سیکورٹی فورسز کے اداروں نے بھی اتنی برق رفتاری سے آپریشن کو مکمل کیا کہ ٹریڈنگ فلور پر کسی قسم کا اثر تک نہ ہوا۔ نہ تو کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑا اور نہ ہی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی بلکہ اس کے بازار حصص میں اضافہ ہوا۔ دشمن کے منصوبے خاک میں مل گئے اور وہ ہر میدان میں پٹ چکا تھا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے باہر زمین پر پھیلی دہشت گردوں کی بدبودار لاشیں ہندوستان کو پیغام دے رہی تھیں کہ پاکستان ⁦دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے۔ الحمد للہ

  • انسانیت کہاں ہے؟؟؟  تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟ تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟
    عشاء نعیم

    انساں کہاں ہیں ؟انسانیت کہاں ہے ؟
    ہمیں نوچتے ہیں درندے ۔
    کیا یہ انسانوں کا جہاں ہے ؟
    مہینوں سے قید کر کے جو ظلم ہم روا ہے ۔
    بیوی بھی رو رہی ہے بہنا بھی رو رہی۔
    کہاں ہےجگر کا ٹکڑا پوچھتی ہر ماں ہے۔
    بیماروں کا علاج ہے نہ بھوکوں کے لئے کھانا
    بس رات دن ادھر چلتی گولیاں ہیں
    پکاریں امت مسلمہ کو یا اہل کفر کو ہم
    بندھے ہاتھ امت کے،بند کفار کی زباں ہے
    سینکڑوں ملک اور اک دہشت گرد ریاست
    سب ہاتھ باندھے کھڑے بن کر ناتواں ہیں۔
    ہمارا حق تو تسلیم کرتے ہو اے دنیا والو!
    دینے کو تیار نہیں ،کہ ہم مسلماں ہیں ۔
    اے دنیا والو ! اے دنیا کے سوداگرو !
    ڈرو اس رب سے جو مالک دو جہاں ہے۔
    ٹکرا گئیں آسماں سےجب ہماری آہیں
    مل جائے گا خاک میں جو تم کو گماں ہے
    ہماری جانیں، ہماری عزت، ہمارے آنسو ۔
    بیکار سمجھتے ہو تو تم جیسے ناداں ہیں
    ذرا یاد کرو فرعون و نمرود کو بھی
    کیسے پلٹائی میرے رب نے بازیاں ہیں
    تم بھی ،ہاں تم بھی ہو جاؤ گے برباد ۔
    جو رقم کر رہے ہو داستان خونچکاں ہے
    ہمیں بھی انتظار ہے اب قاسم و ایوبی کا
    ہوگی ختم جو یہ ظلم کی داستاں ہے

  • داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی   تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی
    تحریر سفیر اقبال

    یہ ہے نصف صدی پر محیط ظلم و جبر کی وہ ساری داستاں جو صرف چار تصاویر تصاویر میں نظر آ رہی ہے.

    حملہ کیسے شروع ہوا کہاں سے شروع ہوا نہیں معلوم. بے بنیاد الزام آتنک وادیوں پر لگ گیا بہرحال تصاویر کے مطابق ایک بیگناہ کشمیری شہید ہو گیا جس کا تین چار سال کا پوتا چلتی گولیوں کے درمیان اس کے سینے پر بیٹھا رہا کہ دادا جان ابھی شاید نیند سے بیدار ہو جائے اور مجھے واپس گھر لے جائے.

    اگلی تصویر میں بے یار و مددگار دادا کی لاش پڑی ہے اور اس کے ساتھ فوجی اس انداز میں کھڑے ہیں جیسے یہ انسان کی نہیں کسی جانور کی لاش ہو…. (کچھ انسانی رمق باقی ہو تو جانور کی لاش کے پاس بھی اس انداز میں بے فکری سے کھڑے ہونا مشکل ترین کام ہوتا ہے )

    اس سے اگلی تصویر میں بچے کو اٹھا کر پیار کیا جا رہا ہے اور اس سے اگلی تصویر میں اس کو ٹافیاں عنایت کر دی گئیں.


    یہ ہے کہانی ہر اس کاشمیری نوجوان کی جو بچپن میں اپنے باپ دادا، چاچو، ماموں کو بے قصور مرتا دیکھتا ہے اور اپنے دل میں انتقام پالنا شروع کر لیتا ہے. یہ مناظر بھولنے والے نہیں. یہ زخم کسی مرہم سے ٹھیک ہونے والے نہیں.

    برہمن آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نہ تو سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی زمین سے نکال سکتا ہے. صرف ایک ہی طریقہ پے اس کے پاس کہ کسی طرح ان کا دل جیتا جائے لیکن دل جیتنے کا طریقہ بے قصور باپ کو قتل کرنے کے بعد بیٹے کو ٹافیاں دینا کبھی نہیں ہو سکتا. جس زمین پر آگ بوئی جائے وہ پھول پیدا نہیں کر سکتی.

    نوجوان وقتی طور پر خاموش ہو بھی جائیں لیکن باپ یا دادا کے قاتل کبھی نہیں بھلائے جا سکتے…..! ظالم بنیا اپنی تدبیریں کرتا ہے مگر کچھ تدبیریں اللہ رب العزت کرتا ہے اور اسی کی تدبیر سب سے کارگر ہے.

    آرمی کے غنڈے لاکھ دنیا کو دکھاتے رہیں کہ ہم کشمیری بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر کشمیری شہداء کے چھینٹوں سے تر اپنے سرخ دامن نہیں چھپا سکتے. انتقام کی آگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے جو دلوں میں اگر ایک بار بھڑک اٹھے تو چند ٹافیاں اس آگ کو کبھی نہیں بجھا سکتیں.

  • اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی  ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی
    ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی نے اپنا غاصبانہ جما رکھا ھے۔دن بدن ان درندوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ھے۔1947ء سے لے کر اب تک ہزاروں بے قصور عام شہریوں کو انڈین آرمی نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ھے۔لیکن آج کے دن جس شہری کو نشانہ بنایا گیا اس کی حالت مختلف تھی۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ شہر سے دودھ لینے گیا اور اس کو بلاوجہ قتل کر دیا گیا۔وہ بے سپہ و اسلحہ تھا۔اس میں اس عام شہری کے بنیادی حقوق جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں اسے وہ پامال کیے گئے.اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق جو بنیادی حقوق ہے وہ یہ "بنیادی حقوق مشترکہ اقدار جیسے وقار ، انصاف پسندی ، مساوات ، احترام اور آزادی پر مبنی ہیں۔ یہ اقدار اقوام متحدہ کے قانون کے ذریعہ بیان اور محفوظ ہیں”
    پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈین آرمی کا کشمیر پر قبضہ اقوام متحدہ کی 1947ء کی قرار دادوں کے بلکل خلاف ہے۔لیکن 73 برس بیت گئے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا۔لیکن امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کا قتل ہوا تو سارے عالمی قوانین بیدار ہو گئے۔ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں
    "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”
    بھارتی حکومت نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے ،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔یہ کرفیو دوسو روز سے جاری ہے۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں ،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔ستم بالائے ستم کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے ، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگار کوئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں کیا ھے اگر کوئی 2 سے 3 ماہ بعد بیان بھی دیا جاتا ہے تو یہ کہ دیا جاتا ہے
    "ہم کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی مدد کے لیے تیار ہیں۔”
    اگر یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟

    سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں۔ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آج شام، فلسطین اور کشمیر میں دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنا، ایک دوسرے کے دکه سکه میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں۔ پیغمبرؑ گرامی اسلام کا یہ صریح ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں۔ نیز آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مظلوم کسی مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتهہ چھوڑتا ہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتا ہے۔

    اس کے بعد کچھ قصور اپنوں کا بھی ھے۔کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں نہ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح ان کے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہے کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر ریے۔
    اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس کا تو یہ حال ہے کہ ظلم و بربریت کے خلاف اجلاس منعقد ہونے میں ہی تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔اس ظلم و ستم کے خلاف فوری طور پر اجلاس منعقد ہونا چاہیے اور تمام
    مسلم ممالک کو بھارت کے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔

  • تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام   تحریر:عاشق علی بخاری

    تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام تحریر:عاشق علی بخاری

    ترے وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام
    (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت خاتم الانبیاء پر بلاگ )
    عاشق علی بخاری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا گھر بنایا لیکن اس نے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چارو طرف سے دیکھتے ہیں اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں کاش اس ایک اینٹ کی جگہ بھی پُر کردی جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا پس وہ اینٹ میں ہوں. الحدیث
    عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید میں 100 بار اور احادیث میں 200 بار بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس نبوت کی عمارت میں کسی طرح کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ اسے کسی اور نبی کے ذریعے پورا کیا جاسکے. عقیدہ ختم نبوت اس قدر اہم ہے کہ اللہ رب العالمین نے وہ تمام دروازے بند کردیئے جو کسی طرح بھی نبوت کے لئے کھلے رہ سکتے تھے. جب اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین بیان کی تو ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ اللعاملين رکھی. صحابہ کرام نے بھی نبوت کی اس عمارت کو مکمل سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی پیش کیا، عہدِ صدیقی میں جنگِ یمامہ جو نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی اس میں تقریبا بارہ سو صحابہ و تابعین نے جام شہادت نوش کیا. حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے جسم کے ٹکڑے کروانا برداشت کیا اور یہ برداشت نہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جھوٹے مسیلمہ کو نبی تسلیم کروں.عقیدہ ختم نبوت کو اللہ تعالی نے خاص اور عام دونوں طریقے سے مکمل اور کامل کر دیا ہے. اور ہر دور میں صرف علماء ہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے بھی ختم نبوت کے دفاع کے لیے کام کیا جو صرف عام لوگ ہی تھے بلکہ نبوت کے دفاع میں اپنی جان بھی پیش کردی.
    امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ جھوٹے مرزا قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں. اگر مرزے میں کوئی کمزوری نہ ہوتی وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، بہادر، مرد میداں ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ اگر ابوبکر و عمر عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں نبی نے خود جنت کی بشارتیں شہادت کے پروانے سنائے وہ بھی نبوت کا دعوی کرتے تو ہم کبھی بھی قبول نہ کرتے.ختم نبوت کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اور آپ کا دین و ایمان محفوظ رہتا ہے، اس عقیدے کے بغیر اس دنیا سے جانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سفارش سے ہاتھ دھونا پڑیں.

    شاعر نے کیا خوب کہا
    ترے وجود پہ فہرستِ انبیاء ہے تمام
    تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری
    پاکستان کے آئین و قانون کے لحاظ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا اور اس کی مخالفت کی صورت میں شریعت اور قانون دونو اعتبار سے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، جیسا کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم ڈکلییئر کیا گیا. اسی طرح حالیہ دنوں میں ختم نبوت کے حوالے سے قرارداد پاس ہونا بھی انتہائی خوشی کی بات ہے. جس کی رو سے تحریری و تقریری دونوں حالتوں میں لفظِ خاتم النبیین لکھا اور بولا جائے نیز نصابی کتب میں بھی اس کا اضافہ کیا جائے گا.
    یقیناً یہ ان عالمی استعماری طاقتوں کے منہ پہ زور دار تھپڑ سے کم نہیں جو بلاوجہ انسانی حقوق کے نام پر ہمارے دینی و ملکی قوانین میں چھیڑ چھاڑ اور ترمیم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں. ان عالمی گماشتوں کو مظلوم مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے کیوں نظر نہیں آتے؟ انڈیا و اسرائیل اور یورپی ممالک کی اسلامی شعائر پر پابندیاں کیوں اس اندھے، بہرے، گونگے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو نظر نہیں آتی؟
    ہم ایسی کسی بھی سازش کی ہرگز قبول نہیں کریں گے جو اسلام اور ملک پاکستان کے خلاف ہوگی اور ہم حکومت وقت سے بھی یہی مطالبہ کریں گے تمام مقدس شخصیات کی ذات میں توہین آمیز رویہ اپنانے والوں کو سخت سے سخت سزاؤں کے قانون پاس کیے جائیں.

  • چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    بارش کے چھوٹے چھوٹے قطرے جب مل کر برستے ہیں تو تُند و تیز لہروں میں بدل جاتے ہیں…
    ریت اور مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر ہی ہموار اور زرخیز زمین تشکیل پاتی ہے…
    زینہ زینہ چڑھ کر ہی بلندیوں پر پہنچا جاتا ہے ناں؟
    قدم قدم اُٹھا کر ہی منزل سے ہمکنار ہوا جاتا ہے…
    سو ہمیشہ اپنی قدر کیجیئے،یہ نہ سمجھیئے کہ میں کر بھی کیا سکتی ہوں/سکتا ہوں؟
    مجھ میں بھلا کیا صلاحیتیں ہیں،جنہیں استعمال میں لاؤں؟
    میرے پاس بڑے بڑے منصوبے اور مال ہو گا شاید تب ہی دنیا کو مجھ سے کوئی فائدہ ہو سکے گا؟
    تب تک مجھے مایوسی میں ہی رہنا ہے…
    سوچتے ہی چلے جانا ہے…
    اپنے آپ کو کوستے ہوئے افسوس ہی کرتے رہنا ہے…!!!
    نہیں بلکہ آپ نے اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا تہیہ کر لینا ہے…
    سب سے اوّلین مستحق ہمارے گھر کے افراد ہوتے ہیں… الاوّل فالاوّل…
    ہمارے والدین،اولاد،رشتہ دار،پھر وہ جگہیں جہاں ہم کام کرتے ہیں،ہمارا معاشرہ،قوم،اور اُمت یہ سبھی کیٹیگریز ہمارے کردار کی مستحق ہیں…
    ہم اس دین کے ماننے والے ہیں ناں جہاں اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے…
    جہاں مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے باغوں میں گھومتا ہے…
    جہاں للہ کسی کی زیارت کرنے والے کو فرشتہ ندا دیتا ہے تُجھے مبارک ہو،تیرا چلنا خوشگوار ہو اور جنت میں تُجھے ٹھکانہ نصیب ہو…
    جہاں رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا،کسی بھولے اور اندھے کو رستہ دکھا دینا صدقہ ہے…
    کسی کو نیکی کی طرف رہ نمائی کر دینا نیکی کرنے کی مثل ہے…
    بس اپنی سوچ مثبت رکھیئے،
    منفی سوچ،بدگمانیوں اور نفرت و حسد کے جذبات دل کے دریچوں سے نکال باہر پھینکیں…
    کسی کے راز کی حفاظت…
    کسی کے عیوب کی پردہ پوشی…
    کسی کی مصیبت کی گھڑی میں ہمدردی کے چند بول…
    خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے دینا…
    کسی کو معاف کر دینا…
    زیادتی پر درگزر کر جانا…
    یقین جانیئے یہ بڑے عزم اور درجہ والے کام ہیں…
    ہم اکثر بڑی بڑی نیکیاں کر کے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کر کے بڑی نیکیوں کو بھی ضائع کر دیتے ہیں…
    اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر چلنا…
    ماؤں کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیجیئے…یہ نہیں کہ ہم سوشل بنے پھرتے ہوں اور ماں دھوپ میں تڑپتی اور کام سنبھالتی رہے…
    ماں کا دور تھکاوٹ سے چُور گزر چکا ہے اب ہماری جوانی کے عمل کا دور ہے…
    اسے موبائل کی غیر ضروری مصروفیات کی نذر ہر گز نہ ہونے دیجیئے…
    مانا کہ ہمارے للہ ہی سہی،محبتوں کے حصار بہت وسیع ہوں،لیکن ماں باپ جیسے رشتے سے بڑھ کر ہر گز نہیں ہو سکتے…
    ہماری عبادات،رب کے ذکر اور تعلیم و تعلم سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے…
    اپنا حق بھی پہچانیں…!!!
    اپنی لائف کو مینیج کیجیئے اور اس کے مطابق تمام معاملات ڈیل کرنے کی کوشش کیجیئے…
    اہم چاہے چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو،اسے اولیت دیجیئے…
    غیر اہم بڑا ہی سہی،ثانویت کے درجہ پر رکھیں…
    فراغت کے لمحات میسر ہوں تو انہیں بھی ضائع نہ جانے دیں،اپنے دوست احباب سے، رشتہ داروں سے حال احوال بانٹ لیجیئے…
    کُچھ وقت اُن کے ساتھ بِتایئے…
    انہیں اپنا ہونے کا احساس دلایئے…!!!
    اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال سے زندگی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی مشق جاری رکھیئے…
    روزانہ قرآن کی ایک آیت ہی خود یا کسی سے سمجھنے کی کوشش کریں…
    ایک حدیث کا مطالعہ کر لیں،زندگی گزارنے کے بہت سے اصولوں سے شناسائی ملے گی…
    تاریخ کا ایک ورق ہی پلٹ کر دیکھ لیں…
    پانچ،سات منٹ نکال کر حالاتِ امت سے آگہی حاصل کریں…
    استغفراللہ،الحمدللہ،سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہِ العظیم یہ وہ کلمات ہیں جن کے بارے میں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    کہ یہ زبان پر بہت ہلکے لیکن میزان میں بہت بھاری ہیں…کی حاضر دل سے تسبیح پڑھ لیں…
    غرض چراغِ رہ بنیں…
    اُمیدِ سحر بنیں…
    خیر کی قربت…
    شر سے دوری بنیں…!!!
    مسافر ہیں تو زادِ سفر سمیٹیں…
    سب تو تو،میں میں کا کھیل ختم ہو جانے والا ہے اور کام آنے والی چیز فقط بھلائیاں ہیں…!!!
    چھوٹے کاموں کو حقیر نہ سمجھیں…:
    سب سارا دن پانی بہا بہا کر ضائع کر دیتے تھے…
    ایک دن میں نے سوچا کہ جتنا پانی بہہ جاتا ہے اگر کسی پودے کی کیاری میں ہاتھ دھو لیئے جائیں تو ایک تو پودے کی زمین نرم رہے گی،دوسرا کیچڑ سے بھی بچت…
    اب بات مانتے مانتے تو دیر لگتی…
    میں نے یہ ذمہ داری خود اُٹھا لی ،اور صرف ایک دن میں مجھے چودہ مرتبہ صرف ہاتھ دھونے کے لیئے لوٹا بھر بھر کر کیاری کے پاس رکھنا پڑا…
    لیکن فائدہ یہ ہوا کہ سب کی ایک عادت سی بن گئی کہ اب ہاتھ باری باری کیاریوں میں ہی دھونے ہیں…!!!
    زندگی کی خوشیوں سے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو کبھی دیس نکالا نہ دیں،ورنہ یہ زندگی بے رنگ،بے ذائقہ اور پھیکی پھیکی رہ جاتی ہے…
    یاد ہے ناں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنے پیارے صحابی کو نصیحت:
    لَا تَحقِرَنَّ مِنَ المَعرُوفِ شَیئًا…
    ہاں بس اسے یاد رکھیئے،زندگی کا اصول بنا لیجیئے…!!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • مظلوم مسجد   تحریر: عبدالسلام فیصل

    مظلوم مسجد تحریر: عبدالسلام فیصل

    ” مظلوم مسجد ”
    مسجد توحید اہلحدیث ماڈل ٹاؤن 1988 میں تعمیر ہوئی۔۔ابھی مکمل ہی نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے صرف ایک دن میں شیعہ کی عبادت گاہ کہہ کر شہید کر دیا۔
    اسکے بعد 1997 میں اس مسجد کی تعمیر کی گئی ۔ مسجد تقریبا 20 سال سے قائم و دائم تھی ۔ اسکے بعد اسکی تعمیر رکوا دی گئی ۔۔
    جگہ چونکہ شام لاٹ تھی ۔ اس لئے موجودہ گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب کے ذریعے بار بار کوشش کی گئی کہ مسجد کو اتھارٹی لیٹر جاری ہو جائے ۔۔لیکن انہوں نے بھی بعد میں ہاتھ اٹھا دیئے ۔۔
    اس مسجد پر تعمیراتی لاگت تقریباً 3 کروڑ سے زائد ہے ۔
    دوسری بات یہ مسجد ” محکمہ اوقاف ” میں رجسٹرڈ ہے۔
    تیسری بات ماڈل ٹاؤن اسلام آباد کی تمام کی تمام مساجد کے پاس سی ڈی اے سے متعلقہ کوئی بھی ڈاکومینٹیشن مکمل نہیں ۔۔۔
    بغیر کسی نوٹس دیئے ۔۔۔ ایک ہی روز میں اچانک آ کر اس مسجد کو شہید کرنا ۔ ظلم عظیم ہے ۔۔۔
    سوال یہ ہے ! اس حکومت سے سرکاری سطح پر 80 ایکڑر کی جگہ خرید کر 40 ارب کی خطیر رقم خرچ کر کے گردوارہ بنایا ۔۔ اسی حکومت نے 4 کنال جگہ ہندوؤں کو دیکر اس پر مندر کے لئے سرکاری بجٹ منظور کیا ۔۔۔
    کیا وجہ ہے کہ پانی کے نالے کے قریب کی فضول جگہ جس پر اللہ کا گھر بنا کر اسکو قیمتی بنایا گیا چند مرلوں کے حصول کے لئے اس مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے ؟؟؟
    کیا حکومت وقت اتنی غریب ہو چکی ہے کہ ریاست مدینہ میں اللہ کے گھر کے لئے چند مرلے برداشت نہیں کر سکتی ؟؟؟
    خان صاحب !!! مدینے والے کے رب کا سامنا کیسے کرو گے ؟
    علمائے کرام سے مشاورت کئے بغیر شرک کے اڈے تعمیر کئے جا رہے ہیں اور توحید کے باغات کو اجاڑا جا رہا ہے۔۔
    اللہ سے ڈر جاؤ ۔۔۔
    اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔۔۔
    ازقلم : عبدالسلام فیصل

  • آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی معروف کامیڈین اداکار سنیل گروور کی آن لائن کلاسز سے متعلق بنائی گئی مزاحیہ ویڈیو سوسل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی کامیڈی شو ’ دی کپل شرما شو‘ میں گُتھی کا دلچسپ اور مزاحیہ کردار ادا کرنے والے سنیل گروور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ہے کہ ورچوئل کلاسز میں بدمعاش بچے کیا کرتے ہیں

    سنیل گروور کی جانب سے شئیرکی گئی ویڈیو میں کامیڈین اداکار طالب علم اور استانی بن کر دُہرا کردار نبھا رہے ہیں ۔
    https://www.instagram.com/p/CCFoWgYHiCX/?igshid=1go18me6b5igh
    سنیل گوروور نے ویڈیو میں آن لائن کلاسز کے دوران طالب علموں کی جانب سے نیٹ خرابی کا نہ بنا کر نہ پڑھنے والوں طُلبہ کی شرارتوں سے پردہ اٹھا دیا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ کیسے ٹیچر کے مشکل سوالوں سے بچنے کے لیے نیٹ کنکشن کمزور ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے ویڈیو کے پھنس جانے کی اداکاری کر رہا ہوتا ہے مگر پیچھے کے منظر میں کام والی ماسی کمرے میں آتی ہے اور جھاڑ پونچھ کر کے چلی جاتی ہے۔ٹیچر کے پوچھنے پر بچہ بتاتا ہےے کہ پیچھے زیادہ اچھے سگنل آرہے ہیں یہاں کے سگنل کم ہیں اسی لئے سٹک ہو گیا-

    سنیل گرور کی اس ویڈیو سے صارفین خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں-

  • بجٹ منظوری کے بعد   تحریر: عدنان عادل

    بجٹ منظوری کے بعد تحریر: عدنان عادل

    بجٹ منظوری کے بعد
    تحریر: عدنان عادل

    نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری سے پہلے میڈیا میں ایک سنسی خیزی کا ماحول تھا۔ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ حکومت کو قومی اسمبلی میں بجٹ پاس کرانے کے لیے مطلوبہ ووٹ ملنا مشکل ہونگے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنے عہدہ پر قائم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ بجٹ مسترد ہونے کو پارلیمانی طرز حکومت میں وزیر اعظم پر عدم اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں دونوں نے حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا گو بجٹ منظور ہونے کے بعد پتہ چل گیا کہ شور شرابا زیادہ تھا‘حقیقت میںمعاملہ کچھ خاص نہ تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کے موقع کو اپنے حق میں بہت مہارت سے استعمال کیا۔ ایک تو حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں۔ سب نے مل کربجٹ کے خلاف ایک اعلامیہ جاری کردیا۔ یوں اپوزیشن جو گزشتہ بیس ماہ سے اکٹھی نہیں ہورہی تھی پہلی بار متحد ہوکر کھیلی۔ حکومت کو اسکا دباؤ محسوس ہوا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹیلی فون کرکے اور بعد میں انکا مشترکہ اجلاس بُلاکر خود کو سب سے اہم اپوزیشن لیڈر کے طور پرپیش کیا‘ پارلیمان میں حکومت اور وزیراعظم کے خلاف دھواں دھار تقریریں کیں۔چونکہ موجودہ دورِ حکومت میں پارلیمان کی کارروائی پارلیمنٹ کے لیے مختص سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہوتی ہے اس لیے دونوں طرف کے ارکانِ اسمبلی خوب تیاری کرکے آتے ہیں‘ایک دوسرے پر گرجتے برستے ہیں تاکہ عوام میں انکا اِمیج بنے‘ انکی واہ واہ ہو۔ پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل بھی اپوزیشن اور حکومت کے اہم رہنماوں کی تقریریں براہِ راست نشر کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں جمہوری کلچر کی پختگی کی علامت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں حال یہ تھا کہ اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کی تقریر بھی کسی ٹیلی ویژن چینل پر براہِ راست نہیںدکھائی جاتی تھی۔ اگراپوزیشن کو ٹیلی ویژن پر کوریج دینے کی روایت جڑ پکڑ جائے تو ملک میں ایک دوسرے کے مخالف نقطہ نظر کو سمجھنے اور برداشت کرنے کا ماحول بننے لگے گا۔ اچھا ہے کہ اپوزیشن اپنی بھڑاس پارلیمان میںنکالے نہ کہ سڑکوں پرفساد پھیلائے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ عوام تک اپنا نقطہ نگاہ موثر طریقے سے پہنچائے ‘ اپنے موقف کے لیے نئے الیکشن تک رائے عامہ ہموار کرتی رہے۔ اپوزیشن کی سخت تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ البتہ ہمارے میڈیا کو ایک چسکا پڑا ہُوا ہے کہ پیشین گوئیاں کرتا رہے کہ حکومت اب گئی یا تب گئی۔ اپوزیشن کی موجودہ تیز رفتاریوں کے پیچھے بیرونی عوامل کا بھی عمل دخل ہے۔پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ بھی دخیل رہتا ہے۔ امریکی لابی ہمارے ملک میں خاصی مضبوط ہے۔ ان دنوں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں مصروف ہے۔ پاکستانی ریاست امریکی انخلا میں اسکی مدد کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ افغانستان میں امریکہ کی شرائط پر اسکی مدد کرتی رہے۔ امریکہ کو پاکستان اور چین کے تزویراتی (اسٹریٹجک) اتحاد پر بھی شدید اعتراض ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان سی پیک کو ختم کرے اور امریکہ کے انڈو پیسیفک اتحاد میں شریک ہوجس میں جنوبی ایشیا میںبھارت کا قائدانہ کردار ہوگا۔امریکہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اپنی لابی کو استعمال کررہا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیوں میں ایسے عناصر موجودہیں جن کے امریکی اداروں سے گہرے روابط ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈرزامریکہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں تاکہ پاکستانی ریاست کو بلیک میل کیا جاسکے ۔ چھپا ہوا پیغام یہ ہے کہ انکی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کیے جائیں یا کم سے کم انہیں کولڈ اسٹوریج میں ڈال دیا جائے ورنہ وہ ریاست کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ اپنی ناجائز دولت کو بچانے اور اقتدار کی ہوس میں ہمارے بعض سیاستدان کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ اُصول۔ اسکا اندازہ تو اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی آج ایک دوسرے کی حلیف بن چکی ہیں۔ حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے کچھ ناراض اتحادیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ بجٹ پیش ہونے کے موقع پراختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی جو تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے لیے ایک دھچکا تھا۔ رہی سہی کسرمسلم لیگ(ق) نے پوری کردی جس نے وزیر اعظم کی دعوت میں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ حکومت کی بچت یہ ہوئی کہ ق لیگ نے اعلان کیا کہ وہ بجٹ میں حکومت کے حق میں ووٹ دے گی۔سرکاری ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے چار ارکان قومی اسمبلی کے لیے نئے مالی سال میں سترہ ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں۔ دراصل جب بھی مخلوط حکومت بنتی ہے چھوٹی جماعتیںوزیراعظم کو دباؤمیں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبے منوانا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ اگر وہ حمایت سے ہاتھ کھینچیں گے تو حکومت گِرجائے گی۔ مونس الہی چودھری برادران کے سیاسی جانشین ہیں ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی اپنے سیاسی وارث کو قومی سطح پراہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بجٹ پاس ہونے سے حکومت کے خلاف مہم کمزور تو پڑ گئی ہے لیکن کرپشن مقدمات سے تنگ اپوزیشن آنے والے دنوں میں اپنا دباؤ پھر بڑھائے گی۔ بلاول زرداری جلد ہی اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ جب تک عمران خان احتساب کے معاملہ پر حزب اختلاف کا موقف تسلیم نہیں کرتے اُنکے مخالفین انہیں سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف اتنا سخت بیانیہ اختیار کرچکے ہیں کہ اگر وہ اس سے پیچھے ہٹیں گے‘ کوئی سمجھوتہ کریں گے تو انکی ساکھ اور سیاست کو بہت نقصان ہوگا۔ ان حالات میںقومی سیاست ہچکولے کھاتی رہے گی۔جب تک وزیر اعظم عمران خان کوچھوٹی اتحادی جماعتوں خصوصاً ایم کیو ایم (پاکستان) اور ق لیگ کا تعاون حاصل ہے انکی حکومت چلتی رہے گی ۔