Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی ایکسپرٹ کی حقیقت بیان کرتی تحریر از احمد قریشی

    پاکستانی ایکسپرٹ کی حقیقت بیان کرتی تحریر از احمد قریشی

    ابھی ایک بڑے پاکستانی ٹی وی چینل سے کال آئی. پروڈیوسر نے کہا کہ کل پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے پر ہم ماراتھون ٹرانسمشن کر رہے ہیں. آپکا وقت چاہئے ایک گھنٹہ کیلئے. میں نے کہا کہ آپکے چینل پر بیٹھنے پر مجھے بہت خوشی ہوگی لیکن ایک مسئلہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ میں بجٹ اور معاشیات کا خبیر اور ماہر نہیں ہوں. بہت حد تک میں ایک پاکستانی شہری کے طور پر بات کر سکتا ہوں لیکن اس سے زیادہ نہیں. آگے سے آواز آئی، کوئی بات نہیں ایک دو آرٹیکل پڑھ کر آ جائیں کچھ نہیں ہوتا. میں نے مسکرا کر کہا کہ میرا یہ سبجیکٹ ہی نہیں ہے، میرا فیلڈ نہیں ہے.

    فون رکھنے کے بعد مجھے یاد آیا جب 2015 میں پاکستانی چینلز پر یمن جنگ پر مباحثے ہو رہے تھے. ایسے ایسے لوگ آ کر تجزیے دے رہے تھے جنھیں یمن کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا. ایسے ماہا پاکستانی سٹریٹجست اینکر صحافی سیاستدان عسکری ماہر اور مولوی بیٹھے ہوئے تھے یمن پر ایکسپرٹ رائے دینے جنھیں سلطنت ‘عمان’ اور اردن کا دارالحکومت ‘عمان’ میں فرق نہیں پتہ، بلکہ وہ قطر 🇶🇦 اور بحرین 🇧🇭 کے پرچم میں فرق نہیں بتا سکتے تھے لیکن ما شاء اللہ… بس شکر ہے کہ مشرق وسطی اور انٹرنیشنل میڈیا پاکستانی میڈیا کو فالو نہیں کرتا. (ویسے دو سال قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے بحرین کے أمیر یا وزیر اعظم کی پاکستان آمد پر پورے اسلام آباد میں قطر کے پرچم لگا دیئے، یہ حال ہے ان لوگوں کا جو ایک ایٹمی پاور کی خارجہ پالیسی کے نگہبان ہیں.)

    خیر، اصل بات کی طرف واپس، سوچیں کہ سالانہ بجٹ کتنا اہم موضوع ہے، اور پھر سوچیں کہ ہمارے میڈیا میں ٹی وی جرنلزم کا سٹینڈرڈ کتنا گرا ہوا ہے کہ یہ چینلز کچھ پیسے دے کر اچھے معاشیات کے ماہرین کو ایک دن کے لئیے مدعو نہیں کر سکتے، بلکہ مفتے میں کوئی بھی آ جائے ایک دو اخباری آرٹیکل پڑھ کر. الٹے سیدھے لوگ جب قومی معاملات پر بات کرتے ہیں تو پھر عوام کا بھی ریاست پر اعتماد ختم ہوتا ہے. یہ ہے پاکستانی دو نمبری. اچھا کام نہیں کرنا، بس گزارا کرنا ہے.

    میں آپکو یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ کل بجٹ پر سارے پاکستانی چینلز لمبی نشریات کر رہے ہوں گے. بہت سی مہمان شخصیات گفتگو کر رہی ہوں گی. باقی آپ خود سمجھدار ہیں.

    أحمد قریشی

  • 20 ڈالر کا قصہ…… غلام زادہ نعمان صابری

    20 ڈالر کا قصہ…… غلام زادہ نعمان صابری

    20 ڈالر کا قصہ…… غلام زادہ نعمان صابری
    اسلام واحد دین ہے جو انسانیت کو مقدم رکھتا ہے اور نسل پرستی سے منع کرتاہے۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں ارشادِفرمایا کہ "کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں اللہ کے ہاں وہ مقرب ہے جسے تقوی حاصل ہے۔”
    پوری عالم انسانیت کے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری خطبہ مبارک ” اسلامک ورلڈ آرڈر” کی کامل حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسلامک ورلڈ آرڈر پورےعالم انسانیت کے حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لایا جانے والاصیہونی نیو ورلڈ آرڈر انسانیت کا استحصال کرتا ہے۔ آخری خطبہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی اسلامک ورلڈ آرڈر کے مقابلے میں جو صہیونی نیو ورلڈ آرڈر لانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے اس کا نتیجہ امریکہ میں نکلنا شروع ہو گیاہے
    ایک جملے کا اضافہ کرتا چلوں جو ابھی ابھی ذہن کے ایک کونے میں پھدک رہا ہے اورجو کہہ رہا ہے کہ مجھے بھی باہر نکالو
    وہ جملہ یہ ہے کہ "نیو ورلڈ آرڈر "یہودیوں کی ذہنی اختراع ہے جو یہودیوں کے علاوہ پوری عالم انسانیت کے لیے موت کا پیغام ہے۔
    چند روز پہلے امریکہ میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ایک سیاہ فام امریکی جس کانام جارج فلویڈ تھا وہ کچھ خریدنے کے لئے ایک دکان میں داخل ہوا۔ یہ دکان فلسطین سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی محمود ابو میالہ کی تھی۔ جارج فلویڈ نے دکان سے کوئی چیز خریدی اور اس نے 20 ڈالر اس کی قیمت ادا کی۔
    محمودابو میالہ کو شک ہوا کہ یہ نوٹ جعلی ہے۔ اس نے پولیس کو فون کیا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور جارج فلویڈ پر الزام لگایا کہ اس کے پاس جعلی ڈالر ہیں۔ پولیس موقعہ پر پہنچی اور اس نے جارج فلویڈ کو گرفتارکر لیا پھر وہ واقعہ پیش آیا جس نے امریکہ کو ہلا کر رکھا ہوا ہے۔
    پولیس نے جارج فلویڈ کو گرفتار کیا اس کے مزاحمت کرنے پر پولیس نے اسے سڑک پر نیچے گرا لیا اور ایک پولیس والے نے اس کی گردن کو گھٹنوں سے دبا لیا، جارج فلویڈ مسلسل چیختا رہا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے وہ مرجائے گا لیکن سفید فام پولیس آفیسر نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ مسلسل اسے گھٹنوں کے نیچے سختی سے دبائے رکھا حتیٰ کہ وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔
    جارج فلویڈ ایک سیاہ فام تھا جو سفید فام امریکی پولیس کے گھٹنوں کے نیچے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گیا جب کہ وہ مسلسل چیخ رہا تھا پلیز، میری سانسیں رک رہی ہیں،میری مدد کیجئے،میں مرجاؤں گا ۔
    ایک سیاہ فام کو اتنی بےدردی سے موت کی گھاٹ اتارنے پر امریکی عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور پورا امریکہ سڑکوں پر آ گیا۔عوام نے اپنا غصہ گھیراؤ جلاؤ کی صورت میں نکالا جس سے کئی اہم عمارتیں جل کر خاکستر ہو گئیں اور امریکہ کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا
    امریکی عوام نے محمود ابومیالہ کی دکان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور لوٹ کھسوٹ کر کے اسے کباڑخانہ بنا دیا۔
    جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی توبعد میں پتہ چلا کہ جارج فلویڈ کا دیا ہوا 20 ڈالر کا نوٹ اصلی تھا اور محمود ابومیالہ کا الزام درست نہیں تھا۔
    یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا یا فلسطینی یہودی کی سازش تھی اس کی کوئی مزید تحقیق ہوگی نہ کوئی کرنے دے گا۔ محمودابو میالہ کی ذرا سی جاہلانہ حرکت نےایک سیاہ فام کو موت کی گھاٹ اتروا دیا جس کے بدلے میں پورا امریکہ لرز اٹھا۔
    صرف20 ڈالر کی بات تھی یہ 20 ڈالر شاید امریکہ کی جھولی میں 20ارب ڈالر کا خسارہ ڈالیں گے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ابتدا اتنی خطرناک ہے تو انتہا کیا ہوگی، آخر سپر پاور نے اپنی انتہا کی طرف بھی توجاناہے کیوں کہ عروج کو ایک دن زوال میں بدلنا ہوتا ہے۔ کیا یہ 20 ڈالر کا قصہ امریکہ کو قصہ پارینہ بنا دےگا۔اس سوال کا جواب پانے کے لیے وقت کا انتظار کیجئے۔

  • خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    قارئین…!!!
    دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت دل کی خوشی بھی ہے۔۔۔۔
    دل خوش ہوتا ہے تو استقرار،سکون،ذہنی ثبات،روحانی مسرت و شادمانی ملتی ہے۔۔۔۔!!!!
    جدت و اختراع کی صلاحیت ابھرتی ہے۔۔۔
    لیکن یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ خوش رہنا ایک فن ہے آپ اسے سیکھیں گے تو خوش رہ سکیں گے۔۔۔
    اب سوال یہ ہے کہ ہمیں خوش تو اس دنیا میں رہنا ہے۔۔۔۔اس کے لیئے ہم سرگرداں رہتے ہیں۔۔۔
    کیونکہ ان شآ ء اللّٰہ اپنے اعمال کی بدولت جنت میں پہنچ گئے تو وہاں تو فکر و اندیشوں کا کوئی ڈر اور تصور بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔
    تو کامیاب ہم تبھی کہلائیں گے جب یہاں خوش رہنے کے فن سے آشنا ہو جائیں گے!!!

    اس سلسلے میں یہ جانیئے کہ سفر زندگی طے کرتے ہوئے انسان کو نشیب بھی دیکھنے پڑتے ہیں،
    فراز بھی۔۔۔۔
    خیر خواہ بھی ملتے ہیں۔۔۔
    رکاوٹیں کھڑی کرنے والے حاسد بھی۔۔۔۔
    آپ کامیابی کی طرف قدم بڑھانا چاہیں گے تو کئی ہمدردی کے روپ میں راہ کے روڑے بن جانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر ہمارے اندر قوت برداشت ہو گی،
    دل مضبوط ہو گا،،
    چھوٹی چھوٹی باتوں پر مضطرب نہیں ہوں گے۔۔۔!!!!
    تو راہ کی سب پریشانیاں اور بحران سمٹتے چلے جائیں گے۔۔۔
    کیونکہ انسان جب موت کا عادی ہو جائے اسے یقین ہو جائے کہ میری زندگی،میرا نصیب مجھے مل کر رہے گا۔۔۔۔
    میری موت کا وقت مقرر ہے تو وہ کبھی مصائب سے دلبرداشتہ نہیں ہو گا۔۔۔۔
    وہ خوشی کو کسی قیمت پر فروخت کرنے پہ آمادہ نہیں ہو گا۔۔۔۔!!!!!
    کیونکہ خوشی تب رخصت ہو جاتی ہے جب ہمارا ذہن تنگ ہو جاتا ہے۔۔۔
    بس اپنے آپ کو ہی دیکھنا۔۔۔
    اپنا ہی فائدہ سوچنا۔۔۔
    ساری کائنات کو خود میں ہی محصور سمجھنا۔۔۔۔۔
    اور کسی کی پرواہ نہ کرنا۔۔۔۔
    کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد یہ بھی ہے کہ کبھی اپنی ذات سے نکل کر بھی کچھ سوچیں۔۔۔اپنے خول سے باہر آ کر
    کسی کے ساتھ کچھ خوشی والا معاملہ کریں۔۔۔۔!!!!!
    خوشیاں بانٹنے سے ملتی ہیں۔۔۔۔
    زندگی میں اپنی فکر کو کبھی بے لگام نہ چھوڑیں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو آپ ماضی کی فائل میں جیتے رہیں گے۔۔۔۔
    اپنوں کے دیئے گئے دکھ،کرب،رکاوٹیں،پریشانیاں ہی سوچتے رہیں گے۔۔۔۔
    تفکرات کے غلبے تلے دب جائیں گے۔۔۔۔
    ذہن بٹ جائے گا۔۔۔۔!!!!!!!
    جب آپ صرف اپنے آج پر نظر رکھیں گے۔۔۔آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کریں گے تو آپ خوشیوں کے حصار میں رہیں گے۔۔۔۔
    امید کے چراغوں کے سنگ ٹمٹمائیں گے۔۔۔۔جھلملائیں گے۔۔۔۔!!!!
    اپنے ہدف پر نظر ہو گی۔۔۔
    ایسا نہ کرنے والے کے سامنے بس زخم خوردہ ماضی۔۔۔۔
    اندیشہ ناک مستقبل جلتا بجھتا رہے گا۔۔۔۔!!!!!
    احساسات کو ٹھیس پہنچے گی۔۔۔۔ہم کسی کے دیئے گئے دکھوں کو ہی روتے رہیں گے۔۔۔۔
    جذبات مجروح ہو جائیں گے۔۔۔
    تو ہم ہل کر۔۔۔۔بکھر کر رہ جائیں گے۔۔۔۔!!!!!
    چونکہ خوشی کا تعلق آپ کی نفسیات سے ہے۔۔۔
    یہ اندر کی کیفیت کا نام ہے۔۔۔!!!
    اس سلسلے میں خود کو حسد کی بیماری سے بھی دور رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔تب جا کر آنگن میں خوشیاں اٹھکیلیاں کرتی ہیں۔۔۔۔۔
    خوشگوار لمحات منڈلاتے ہیں۔۔۔!!!!!
    دل کو سکون ملتا اور دماغ کی سوچنے کی صلاحیت مثبت رخ پر محوِپرواز ہوتی ہے۔۔۔۔!!!!!
    خوشی کے اصول میں یہ بھی شامل ہے کہ اس دنیا کو اتنی ہی اہمیت دیجیئے جتنی اہمیت کی یہ حامل ہے۔۔۔۔
    یہاں اک پل خوشی آئے گی تو کیا خبر اگلا لمحہ کیا رنج لائے گا۔۔۔۔
    مگر سب کو تقدیر سمجھ کر سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کیجیئے۔۔۔۔
    اپنی خوشی کو کسی شخص،چیز وغیرہ کے ساتھ وابستہ نہ کیجیئے کیونکہ ایسا کرنے سے اس چیز کی رخصتی کے ساتھ ہی خوشی بھی رخصت ہو جائے گی۔۔۔۔اور یہ خوش رہنے کا اصول نہیں۔۔۔

    یہ بات بھی سچ ہے کہ بلکلیہ غموں کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔۔۔
    کچھ غم زندگی میں پیوست ہو کر رہ جاتے ہیں
    مگر اس دنیا کی فطرت اور حقیقت کو سمجھنا بھی تو ہمارا کام ہے ناں۔۔۔؟
    جب کبھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں تو گھر کے لوگوں سے گپ شپ کریں۔۔۔۔والدین کی مجلس کریں۔۔۔۔
    کسی خوشگوار جگہ چلے جائیں اور ذہن پر سوار غم کی کیفیت کو کم کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    یا دماغی سکون کے لیئے سو جائیں۔۔۔۔
    ایک ہی ڈھرے پر نہ چلتے چلے جائیں۔۔۔
    کائنات کے ذرے ذرے میں تغیر ہے۔۔۔۔
    عبادت کو ہی لے لیں۔۔۔۔آپ ان میں ایک تنوع اور جدت پائیں گے۔۔۔۔۔
    کچھ اعمال قلبی ہیں،کچھ عملی۔۔۔
    کچھ مالی۔۔۔۔
    تو اپنی زندگی میں خوشیاں کشیدنے کے لیئے مختلف سرگرمیوں کو اپنائیے۔۔۔۔
    لوگوں سے ملیئے۔۔۔۔
    مطالعہ کیجیئے۔۔۔۔
    کسی بیمار کی عیادت کیجیئے۔۔۔۔
    کسی کو مال دیجیئے۔۔۔۔
    کسی کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کیجیئے۔۔۔۔!!!!!!
    ذکر الہی کو لازم پکڑیئے کہ وہ دلوں کا سکون ہے اہل ایمان کے لیئے۔۔۔
    سجدے میں چلے جائیں اور راز و نیاز اپنے پروردگار کے سامنے رکھ کر مدد اور ہمت کا سوال کریں۔۔۔۔
    خوشی کے لمحے از خود لوٹ آئیں گے۔۔۔!!!
    کسی کے بارے میں فضول میں نہ سوچتے رہیں۔۔۔۔
    فلاں کے پاس کیا ہے،کیا نہیں؟
    فلاں نے یہ کیا،کیوں کیا۔۔۔؟
    فلاں کے پاس وہ ہے۔۔۔۔میرے پاس نہیں۔۔۔۔؟؟؟؟
    تو یہ ساری چیزیں اور سوچیں خوشیاں خرید لے جاتی ہیں۔۔۔۔
    اور ہم اتنے ارزاں نرخوں پر اپنی زندگی کا آکسیجن فروخت کر کے تہی دست ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    اضطراب کے اندھیروں میں۔۔۔۔
    بے چینی کے تھپیڑوں میں۔۔۔۔
    خوشی کے اسباب ہمارے اندر رہتے ہیں۔۔۔
    مگر ہم انہیں تلاشتے نہیں۔۔۔۔
    دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں
    اور ہماری ناکامی اور پریشانی کے اسباب بھی ہمارے اندر ہوتے ہیں مگر ہم ان کی وجہ بھی ہمیشہ دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔۔۔!!!!
    زندگی میں چار چیزوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں۔۔۔۔
    1)تقدیر سے گلہ۔
    2)معاصی کی لت میں مبتلا ہونا
    3)حسد کی عادت۔
    4)ذکر الٰہی سے اعراض۔
    یہ چاروں چیزوں آپ کی خوشی کی دشمن ہیں۔۔۔
    ہمیشہ مثبت سوچتے رہیں کہ
    یہ چیز خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوش رہنا آپ کی مثبت قوتوں میں اضافہ کرتا ہے۔۔۔۔کہا جاتا ہے ناں کہ
    "Happiness always gives you positive energies…”
    زندگی میں جو آیا وہ بھی ہمارے خالق کا فیصلہ تھا۔۔۔۔
    جو گیا وہ بھی اسی کی رضا۔۔۔۔
    اور ہمارا یقین ہو کہ وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے۔۔۔۔!!!!!!
    مسکراتے رہیں۔۔۔۔خوش رہیں۔۔۔۔
    کہ یہی زندگی کی کامیابی اور آگے بڑھنے کا اصول ہے۔۔۔ورنہ۔۔۔۔
    یہ زندگی بوجھ لگتی ہے۔۔۔۔
    طوق سی محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔
    اور ہم نے آذادی و خوشی کے ساتھ جینا ہے ناں۔۔۔۔؟
    کیونکہ ہمارا رنج۔۔۔۔
    خوشی کی رخصتی۔۔۔۔
    ہمارے حاسدین اور دشمنوں کے لیئے شادمانی بن جاتی ہے۔۔۔۔
    اور ہم نے ہر بلا سے لڑنا ہے۔۔۔۔
    کیوں ناں۔۔۔۔؟
    ایسا ہی ہے ناں۔۔۔۔!!!!
    تو پھر آئیے
    تیار ہو جائیں خوش رہنے کے لیئے۔۔۔۔
    اپنے آپ سے۔۔۔۔
    اپنے اردگرد سے۔۔۔۔
    اپنے چاہنے والوں کے درمیان۔۔۔۔
    اپنے ناقدین کے سامنے۔۔۔۔!!!!!!!
    ایک عربی شاعر کہتا ہے:
    ترجمہ
    "میں اپنے حاسدوں کے سامنے بھی سخت صبر کا مظاہرہ کرتا ہوں تاکہ یہ جتا دوں کہ میں گھبرایا نہیں۔۔۔۔”
    "کتنے لوگوں نے میرے شر کی تمنا کی مگر ان کی تمنا پوری نہ ہوئی۔۔۔۔”

    خوش رہنے کے فن کو سیکھ کر ہم ان لوگوں کو یہ پیغام دے سکتے ہیں جو ہمیں زندگی میں ناکام دیکھنا چاہتے ہوں کہ:
    "تم جب بھی ہمیں ملو،آنکھیں میچ کر ملنا پڑے۔۔۔ہمارے فن کو کبھی شکست نہ ہو۔۔۔”!!!!!
    >دن گزریں زندگی کے،
    سدا اس فن کے سنگ۔۔۔۔
    ہر رنج پاش پاش ہو۔۔۔
    کبھی نہ لمحہ یاس ہو۔۔۔۔
    خوشیوں کا سمندر پاس ہو
    خالق سے اپنے آس ہو۔۔۔
    میں جیؤں بھی۔۔۔
    تو اس فن کے سنگ۔۔۔۔!!!
    میں مروں بھی۔۔۔۔
    تو اس فن کے سنگ۔۔۔۔آمین !!!
    ===========================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور پولیس والا رہا کردیا ، یہ قیدی اس تبادلے کا حصہ ہے جس کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے قیدی رہا کریں گے . افغان ترجمان کے مطابق یہ قید صوبہ زابل میں‌قید تھے ان کے ساتھ رہائی کے وقت بہتر سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو نئے کپڑے اور پانچ پانچ ہزار افغانی کرنسی بھی دی گئ ہے ، یہ قیدن اب اپنے اہل خانہ کے ہاں پہنچ چکے ہیں.


    اس کے علاوہ حکومت افغانستان نے بھی طالبان قیدی رہا کیے تھے ان بارے اطلاعات ہیں‌ کہ ریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت افغانستان کی جیلوں سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔ رہائی پانے والے بعض قیدیوں نے دوبارہ محاذ جنگ میں جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد افغانستان میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ان طالبان جنگجوؤں کا مستقبل کیا ہو گا۔

    رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے لگ بھگ پانچ ہزار طالبان قیدی جب کہ طالبان نے ایک ہزار سے زائد افغان حکومت کے قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اب تک افغان حکومت 3000 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 750 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والوں میں خود کش حملہ آور، خود کش جیکٹس تیار کرنے کے ماہر، اغوا کاروں سمیت کئی غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں۔

  • بیانیہ کی جنگ میں کہیں قوم نہ ہار جاۓ؟‏ تحریر:احمد جواد

    بیانیہ کی جنگ میں کہیں قوم نہ ہار جاۓ؟‏ تحریر:احمد جواد

    بیانیہ کی جنگ میں کہیں قوم نہ ہار جاۓ؟‏ احمد جواد

    قومی غیرت،نیشنل سیکیورٹی،سب ایک جھٹکے میں ایک گوری چمڑی کی مار ھے۔لٹکی ھوئی زبانیں اور گوری چمڑی کے اندھے پرستار ایک غلامانہ سوچ اور ٹھرکی بابوں کی کہانی ھے۔گوری چمڑی ،ٹھرکی بابے، اندھے پرستار ان سب کو آپ جانتے ھیں۔کوشش کریں، اس میں کسی کا حصہ مت بنیں،کہیں تو قوم بن جائیں -کہیں تو خودی پیدا کریں۔احساس کمتری کی شکار قومیں بھٹکتی رہتی ہیں۔سوشل میڈیا پر گوری چمڑی کے پرستار صرف گورے نام اور گوری شکل پر ھی فدا ہو جاتے ھیں۔

    سنتھیا رچی کا جس قوم سے تعلق ھے وہاں کتوں کو بہت پسند کیا جاتا ھے، اتفاق سےکتے کی بھی زبان لٹکی ھوتی ھے۔

    قوم کی تربیت کس کی ذمہ داری ھے؟ حکومت،اپوزیشن، اسٹیبلشمینٹ،عدلیہ،بیورکریسی یا میڈیا کی؟قوم بننے میں کون رکاوٹ ھے؟

  • دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ  …!!! تحریر:جویریہ بتول

    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ …!!! تحریر:جویریہ بتول

    صدائے ضمیر:فلاح کی رہ گزر …!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    فلاح کی رہ گزر۔۔۔دلوں کا بوجھ ہلکا کر دینے والی۔۔۔۔خوشی و غمی کے موقع پر صبر و شکر کرنے کا طریقہ۔۔۔۔ !!!
    آزمائش و فتح کی گھڑیاں ہوں۔۔۔۔یا قحط و خشک سالیاں۔۔۔
    سفر ہو یا حضر۔۔۔۔بیماری ہو یا تندرستی۔۔۔جنگ ہو یا امن
    جوانی ہو کہ بڑھاپا۔۔۔
    یہ فرض ہر حال ادا کرنا ہے۔۔۔دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی جس رکن کی ادائیگی پھر تادمِ آخر فرض ہو جاتی ہے۔۔۔۔
    جو کسی صورت معاف نہیں ہے۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔۔۔گواہی دینا کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صحیح بخاری_کتاب الایمان)۔
    جسے دین کا ستون کہا گیا کہ اس ستون کی مضبوطی سے عمارت قائم ہے،یہ ستون گرا تو عمارت گئی۔۔۔ !!!!
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "تمام معاملات کی اصل اسلام ہے،اور اس کا ستون نماز ہے۔”
    (ترمذی_کتاب الایمان)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ:
    "اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا پابند کیجیئے۔۔۔”(طٰہٰ:132)۔
    پیارے نبی کی خدمت میں جو بھی پہنچ کر اسلام قبول کر لیتا تو اسے سب سے پہلے نماز سکھائی جاتی۔۔۔
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینۂ اطہر پر اترنے والے قرآن کی تعلیم تھی:
    "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر پڑھنا فرض ہے”۔
    (النسآء:103)۔
    ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اللہ کے محبوب عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
    اوّل وقت پر نماز۔
    (رواہ البخاری)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوراً نماز کی طرف رجوع کرتے۔۔۔اس رجوع کا مطلب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اپنے راز و نیاز دل کھول کر رکھ دینا ہے۔۔۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے،جب وہ سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے”۔
    (رواہ مسلم)۔
    مگر آج ہم نام کے مسلمان ہو کر بھی گھرانوں کے گھرانے بے نماز۔۔۔۔بچوں کی تربیت میں یہ چیز شامل ہی نہیں کرتے۔۔۔
    مسائل و پریشانیوں کے گھیروں میں گھِرے،ان سے نکلنے کے فن سے نا آشنا۔۔۔
    وقت پر وقت گزرتے ہیں نماز کے۔۔۔
    مگر ہمیں وقت نہیں ملتا۔۔۔
    وہ اللہ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے والی ڈوری۔۔۔اپنے معاملات و مسائل شیئر کرنے اور ان سے نجات کی التجائیں کرنے کے مواقع۔۔۔جن سے ہمارا پروردگار خوش ہوتا اور اپنے بندے کے اس عمل کی قدر فرماتا ہے۔۔۔۔ !!!

    خشوع و خضوع سے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے،بابِ قبولیت سے ضرور گزرتی ہے۔۔۔
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے،جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون:1،2)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پسندیدہ بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    "جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔۔۔”
    (المعارج)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    قیامت والے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔۔۔۔(ترمذی_کتاب الصلوۃ)۔
    اب سوچیئے کہ اگر پہلے سوال کا ہی جواب نہ دے سکے تو۔۔۔۔؟؟؟
    نماز بے حیائی و فحاشی کے کاموں سے رکاوٹ،چہرے کا نور،روح کا سرور ہے۔۔۔
    اپنے پروردگار کی قربت کی علامت اور محبوب پیغمبر محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کا سامان ہے۔۔۔
    کہ اپنے صحابی کی جنت میں قربت کی خواہش پر فرمایا:
    کثرتِ سجدہ سے میری مدد کر۔۔۔
    (صحیح مسلم_کتاب الصلوۃ)۔

    واقعی بات گراں ہے۔۔۔۔تھوڑے سے وقفے کے بعد پھر نماز کی تیاری مشکل لگتی ہے مگر اس کی وضاحت بھی اللہ تعالی نے خود فرما دی کہ
    انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین¤
    (البقرۃ)۔
    یہ خشیت الٰہی سے سرشار دلوں پر گراں نہیں،بلکہ راحت و آسودگی کا ذریعہ ہے۔۔۔ !!!
    چاہیئے کہ موقع خوشی کا ہو یا غم کا،ہماری اور ہمارے بچوں کی نمازیں ضائع نہ ہوں،
    بلکہ وہ ان مواقع کو خوب صورتی سے ڈیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔۔۔۔
    کیسے نا معقول اور نا قابلِ قبول بہانے ہم بناتے ہیں کہ وقت نہیں ملتا۔۔۔
    ہم کاروبار،روزگار کی جگہوں پر ایک منٹ لیٹ پہنچنا گوارہ نہیں کرتے یا اسے ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں تو کیا ہمارا رب ہم سے نظم و ضبط اور مقررہ وقت پر نماز ادا کرنے کا مطالبہ کرے تو ہم اپنے رازق و مالک کی بات کی پرواہ نہیں کرتے۔۔۔؟؟؟
    نہیں یہ سب محبتوں کی سوداگری ہے ناں ؟
    جتنی محبّت شدید ہو گی۔۔۔اُتنی ہی فرض کی ادائیگی بھی خوش دلی سے ہو گی۔۔۔ !!!!!
    پتہ ہے ناں۔۔۔جب کڑاکے کی سردی میں نرم و گرم بستر سے نکل کر ٹمٹماتے تاروں سے بھرے اسمان اور روشن چاند پر ہم نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔
    یا گرمی میں اے سی کی ٹھنڈ سے اُٹھ کر عارضی سکوں سے ابدی سکون کا سفر کرتے ہیں…
    تو ہواؤں کے سُر میں تالیاں بجاتے درختوں کے پتے اوقاتِ سحر میں رگوں میں کیسی پیاری ٹھنڈ بھر دیتے ہیں۔۔۔؟
    وہ ٹھنڈ اپنے پروردگار کے حکم پر عمل کرنے کی خوشی کی ٹھنڈک ہوتی ہے ناں۔۔۔؟
    جو دل کے دریچوں میں اُتر کر سرور و انبساط کی دولت سے مالا مال کر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
    اور فرش پر رکھی پیشانی۔۔۔۔
    سجدہ کی حالت میں نکلتی بخشش و فلاح اور رب کی رحمت و رضا کی دعائیں۔۔۔ابدی بہاروں کا سامان پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
    فاذکرونی اذکرکم واشکرولی ولا تکفرون¤
    (البقرۃ:152)۔
    پھر یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے رب کو یاد کر رہے ہوں اور وہ ہمیں یاد نہ کرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اسے بھُلا دیں اور وہ اس بات کا حساب نہ رکھتا ہو۔۔۔۔ :
    استحوذ علیھم الشیطنُ فَاَنسٰھم ذکراللّٰہ۔۔۔۔(المجادلہ:19)۔
    "شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا،اور انہیں اللّٰہ کا ذکر بھُلا دیا۔”
    کوشش کیا کیجیئے کہ آپ کی نمازوں میں خلل واقع نہ ہونے پائے۔۔۔اپنے زیرِ نگرانی لوگوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کیجیئے۔۔۔
    یہ دنیا متاعِ قلیل ہے۔۔۔اور موت بغیر اطلاع کے آنے والی حقیقت ہے۔۔۔۔
    سب مصروفیات ختم ہو جائیں گی اور پھر۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    یاد رکھیئے کہ بہت سے مسائل کا حل صرف پیشانی اور زمین کے درمیان معلق ہوتا ہے…
    اور فلاح کی بہترین رہ گزر یہ نماز ہے،اسے فارغ رہ کر بھی،وقت پاکر بھی غفلت،سستی اور بہانوں کی نذر نہ کیا کیجیئے…
    یہ روح کا سکون اور اطمینان ہے…
    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ ہے کہ جب اپنے غم و پریشانی کا حال کھول کر رکھ دیا جائے…
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے رب کی بندگی کا حق ادا کریں تاکہ روزِ محشر ہمارا شمار ان خوش نصیبوں میں ہو،جن کے بارے میں اعلان ہو۔۔۔
    "اے میرے بندو !!!
    آج تم پر کوئی خوف و ہراس ہے نہ تم غمناک ہو گے۔
    جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے،اور تھے بھی(فرمانبردار)مسلمان۔
    تم اور تمہاری بیویاں،خوشی و راضی جنت میں داخل ہو جاؤ۔۔۔”(الزخرف :68،69،70)۔
    آمین ثم آمین۔
    {جویریات ادبیات}۔
    ==============================

  • آخری کھلاڑی کے لیے تالی    تحریر:فلک شیر چیمہ

    آخری کھلاڑی کے لیے تالی تحریر:فلک شیر چیمہ

    ٭٭٭آخری کھلاڑی کے لیے تالی٭٭٭

    زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں !

    آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔

    قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ڈویژن سطح کے مقابلہ جات میں مختلف انعامات جیت چکا تھا اور اب سلیم صاحب نے بھی اپنے سکول کی طرف سے مقابلے کے لیے مجھے بھیجا۔ان دنوں عجیب بات تھی، کہ ایک دو بندوں سے بات کرنا مجھے قیامت ہوتی تھی ، لیکن مجمع سینکڑوں سے ہزاروں میں بڑھتا ، تو اعتماد ، گلا اور بدن مثل ربڑ کے کھلتا تھا بحمدہ تعالیٰ۔اچھی بات یہ تھی کہ اس دن ہال میں سینکڑوں بچے، اساتذہ اور دیگر مردوزن جمع تھے ۔

    پہلے ملی نغموں کے مقابلے ہوئے ، ایک نہم دہم ہی کی لڑکی نے ، جو شاید حافظ آباد ہی کے کسی پرائیویٹ سکول سے تھی، غالباً "اے جذبہ دل گر تو چاہے ” پڑھا۔ بہزاد لکھنوی کی یہ غزل عجیب چیز ہے ، کسی پہنچے ہوئےے بندے نے راجا عزیز بھٹی شہید ؒ پہ بننے والے پی ٹی وی ڈرامے میں یہ شامل کی ہے ، بس یہ محسوس کرنے کی چیز ہے اور بیت جانے کی بات ۔ سب نغمے سننے کے بعد مجھے لگا ، کہ اول انعام اسی لڑکی کو ملے گا ۔ خیر جب تقاریر کی باری آئی ، تو مجھے تقریباً آخری تین چار مقرروں میں بلایا گیا ، جیسا اللہ کو منظور تھا، میں بولا ۔جب تقریر مکمل کر کے میں وسیع سٹیج سے نیچے اترا، تو پورا ہال ضرور کھرا ہو گیا ، ظاہر ہے مجھے اچھا لگا اور امید بھی کہ اپنے ادارے اور خاص طور پہ سلیم صاحب کے لیے عزت کا سامان کروں گا ، سلیم صاحب کی شخصیت میں ایسی ہی کشش تھی، کہ یہ خواہش میرے اندر پیدا ہوئی تھی ۔ میری تقریر کے بعد باقی کے دو مقرر بھی بولے ، میں اتنی دیر میں ہال سے نکل کر لاشعوری سے انداز میں ہال کی عقبی اوپری بالکونی میں چلا گیا ، وہاں پہنچا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ، شاید نتائج کے انتظار میں جو ذہنی دباؤ تھا، اسے کم کرنے کے لیے ۔مجھے اپنی تقریر کے ہنگام سامعین اور سٹیج پہ بیٹھے مقامی سیاست دان مہدی بھٹی اور ان کے اردگرد منصفین و منتظمین کے ردعمل اور دیگر مقررین کی تقاریر کے تقابلی تجزیہ سے کچھ نہ کچھ اندازہ تھا، کہ مجھے وکٹری سٹینڈ پہ اول پوزیشن مل ہی جائے گی بتوفیق الٰہی ۔

    اب وقت ہوا نتائج کے اعلان کا ، تو ملی نغموں میں غالباً وہی لڑکی اول آئی ، انعام لے کر وہ اور اس کے سکول فیلوز اپنے ایک دو استاد کے ساتھ وہیں ہال کی پچھلی سیڑھیوں پہ کھڑے ہو گئے ۔ جب تقاریر کے انعامات کا اعلان ہوا، تو سوم کے بعد دوم کا بھی اعلان ہو گیا ، مجھے یقین ہو گیا کہ پہلی پوزیشن مجھے ہی ملے گی ، خون سارا سر کی طرف اور پسینہ پاؤں کی طرف رواں دواں تھا ، کہ اچانک پہلی پوزیشن کے لیے بھی کسی اور بچے کے نام کا اعلان ہو گیا ۔ مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔

    بس پھر، گھر، ماں اور مزعومہ کامیابی سے دور بچہ بے اختیار رونے لگا. 🙂

    ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ حیران کھڑے تھے اور وہ نغمے والی لڑکی رو رہی تھی ۔ میں خستہ و خجالت زدہ ہارے ہوئے جواری کی طرح باہر کی طرف نکلنےلگا ، کہ ہال میں بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور شور مچانے لگے کہ فلاں فلاں لڑکے کی تقریر سب سے اچھی تھی اور اس کی کوئی پوزیشن نہیں ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ہال کافی بڑا ہے اور ہنگامہ و حیرت بھی اتنی ہی زیادہ تھی ۔پتہ نہیں کیا ہوا، کہ سٹیج سیکرٹری نے روسٹرم سے معذرت کی اور ایک منٹ بعد دوبارہ نتائج کا اعلان کیا ، شاید انہیں سہو ہوا تھا ۔ نئے نتائج کے مطابق میری پہلی پوزیشن تھی ، انعام وصول کرتے ہوئے ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا ، اچھا لگا، شاید پہلے انعام جس طرح سے ملتا ، اس سے کافی زیادہ خوشی ہوئی ۔

    باہر نکلتے ہوئے میں نے اسی لڑکی کو زور زور سے تالیاں بجاتے اور خوش ہوتے دیکھا ، ظاہر ہے وہیں سے ، دور سے شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا ، کہ مصری شاہ محلہ متصل حافظ آباد ریلوے جنکشن ، علی گڑھ پائیلٹ سکول، جسے ابھی اپنی بقا اور قدم جمانے کے لیے ایسے کئی پر اپنے ماتھے پہ سجانے کی ضرورت تھی ، کی خدمت میں اپنی طرف سے ایک پر پیش کروں ۔

    آج بھی اپنے لیے ہال میں کھڑے ہونے والے ان نامعلوم سامعین ، آنسو اور تالی والی اس لڑکی اور استاد کہلانے کا حق رکھنے والے سلیم صاحب مجھے یاد ہیں ، جو کچھ کروانے کا گُن اور اس کے لیے لازم اپنا کردار پیش کرنے کے اہل تھے ۔ میں عمر کے جس حصے میں تھا ، وہ اس لڑکی کے کسی "اور تاثر ” والے نہ تھے ، کیونکہ یہ دن پچھلی صدی کے ختم ہونے سے تین برس قبل کےتھے ۔ یہ شاید شروع میں بیان کیے گیے جذبے کی وجہ سے یاد رہ جانے والی چیز ہے ۔

    یار! نیچے گرے ہوئے کا ہاتھ تھامنے سے بندہ زندہ رہتا ہے ، دوسروں کی دعاؤں اور یادوں میں ۔ ریس میں آخری نمبر پہ آنے والے کے لیے بھی تالی بجانا ، سادے سپاہی اور بے تمغے کے دلاور کے لیے بھی نعرہ تحسین بلند کرنا ، بندوں اور خدا کے ہاں اس کی گواہی دینا ، یہ بڑا کام ہے ۔

    خدا ان سب کو سلامت رکھے ، جنہیں اس "یاد گیری” میں اس فقیر نے یاد کیا ہے ، بہت آسانیاں اور بہت برکتیں ہوں ان سب آوازوں ، آنکھوں اور ہاتھوں کے لیے ۔

    فلک شیر چیمہ

  • اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی اور بُرائی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار…
    جس انداز میں بھی ہو اقرار…
    گر کرے نہ کوئی عمل بُرا…
    لیکن برائی کے ساتھ ہو کھڑا…
    تو ہے وہ بھی برائی کرنے جیسا…
    جو سوچ ہو،ہوتا ہے عمل ویسا…
    اچھائی کا جو رہے معاون…
    وہ اچھائی کا ہی رہے گا ضامن…
    اسی سے جاتے ہیں پرکھے کردار…
    اسی پہ بنتے ہیں عملوں کےمینار…
    اسی سے ہوتا ہے کوئی معتبر…
    کوئی ہوتا ہے زیر اور کوئی زبر…
    اصلاح و فساد بھی نہیں ہیں برابر…
    حق و باطل بھی نہیں ہیں برادر…
    علم کی راہوں پہ جلائے جو شمع…
    انسانیت کی بھلائی کی جو رکھے طمع…
    علوم و فنون کی جو رہ دکھائے…
    دنیا والوں کے لیئے دِیا اُمید کا جلائے…
    اٹھائے کانٹے راہوں سے،اور پھول سجائے…
    حُسنِ خلق کی خوشبو سے جہاں کو مہکائے…
    بھٹکائے انسانوں کو اور کرے بے راہ…
    حدوں کا ہو پاس نہ خیالِ حیاء…
    لیا جس نے سدا ہی غلط مفہومِ وفا…
    سیدھی راہ پر بنا جو رکاوٹ رہا…
    سب کا الگ ہے مقام و وقار…
    الگ الگ راہوں کے ہیں یہ سوار…
    ایک نہیں ہیں نا انصافی اور عدل…
    ہو نہیں سکتے ایک دوسرے کا بدل…
    خالق کے احکامات ہیں سب سے برتر…
    دُنیا یہ مانے یا انکار کرے یکسر…
    اسی معیار پہ تُلیں گے اعمال…
    یہی سے بنیں گے عروج و زوال…!!!
    عقائد کی بنیاد پر ہوتا ہے یہ سفر…
    کوئی تو پہنچتے ہیں ابدی منزل تک…
    اور راہوں میں بھٹکے رہ جاتے ہیں اکثر…!!!
    =============================

  • ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    فلسطین کے عظیم رہنما ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح سے متعلق معلوماتی کالم

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح فلسطین کے علاقہ غزہ میں الشجاعیہ نامی علاقہ میں یکم جنوری 1958ء کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم، اسی علاقہ میں ہی حاصل کی اور پرائمری اسکول سے پاس ہونے کے بعد میٹرک بھی اسی علاقہ کے ایک اسکول سے کیا ۔ آپ نے اعلی تعلیم مصر میں حاصل کی اور معاشیات میں گریجویٹ ہونے کے بعد غزہ میں واپس مقیم ہو گئے اور یہاں پر آپ نے غزہ کی ایک اسلامی جامعہ میں معاشیات کے مضمون کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شروع کیں ۔ یہ سنہ1981کی بات ہے اور اس وقت فلسطین کے متعدد علاقوں پر غاصب صہیونیوں کا قبضہ تھا او ر فلسطین روزانہ صہیونیوں کے مظالم سے گزر رہا تھا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہہ زمانہ طالب علمی سے ہی فلسطین میں سرگرم عمل ’’جہاد اسلامی فلسطین‘‘ نامی تنظیم سے متاثر تھے اور آپ خود بھی فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط اور فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف تھے ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں تدریس کے دوران طلباء کو حریت پسندی کا درس دیتے تھے اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور مزاحمت کی تدریس کرتے تھے ۔ یہی وجہ بنی کہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ کی اس یونیورسٹی میں آپ کو تدریس کا عمل جاری رکھنے سے روک دیا اور رمضان عبد اللہ کو ان کے گھر میں ہی نظر بند کر دیا گیا ۔ اس زمانہ میں آپ کو شدید تکالیف برداشت کرنا پڑی لیکن آپ نے نوجوانوں کے لئے اسلامی مزاحمت کا درس جاری رہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ سنہ 1986ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے جہاں سے انہوں نے لندن کی مشہور جامعہ ڈرم سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ لندن میں مقیم رہتے ہوئے بھی آپ نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلہ کو اجاگر کرتے رہنے کی کوشش کی اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ۔ یہاں بہت سے دوستوں کے ساتھ آپ نے قریبی تعلقات قائم کئے اور ان کو فلسطین کے حالات پر نظر رکھنے اور فلسطین کے لئے سرگرم عمل جہاد اسلامی فلسطین کی خدمات پر ان کی مدد کرنے کے لئے آمادہ کیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ نے لندن سے اعلی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کویت میں شادی کی اور اس کے بعد واپس لند چلے گئے اور وہاں سے امریکہ کا سفر اختیار کیا ۔ آپ نے سنہ 1993اور سنہ1995 میں جنوبی فلوریڈا میں تدریسی فراءض انجام دئیے ۔ آپ مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے جن میں سے ایک زبان عبری زبان بھی ہے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ جس زمانہ میں مصر میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اسی زمانہ میں ان کی ملاقات فلسطین کی جد وجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے ایک عظیم مجاہد اور جہاد اسلامی فلسطین کے بانی ڈاکٹر فتحی شقاقی سے ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شہید فتحی شقاقی کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے حالانکہ رمضان عبد اللہ معاشیات کے شعبہ میں تھے جبکہ فتحی شقاقی طب کے شعبہ میں تھے ۔ ڈاکٹر فتحی شقاقی نے رمضان عبد اللہ کو اس زمانے کے اسلامی قائدین جن میں امام حسن البنا، سید قطب کی کتابوں سے آشنا کروایا ۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب تازہ تازہ رونما ہوا تھا اس دوران فتحی شقاقی ایرا ن کے اسلامی انقلاب کو بھی دقیق نگاہ سے مشاہدہ کر رہے تھے اور انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی سے بے حد متاثر تھے ۔ فتحی شقاقی نے رمضان عبد اللہ کو امام حسن البنا، سید قطب اور امام خمینی کی کتب اور افکار ونظریات سے آشنا کیا ۔ اس زمانہ میں دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی چلی گئی اور بات یہاں تک آن پہنچی کہ دونوں نے مشور ہ کیا کہ فلسطین کی آزادی کی جد وجہد کے لئے جہاد اسلامی فلسطین نامی تنظیم کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

    اس زمانہ میں فتحی شقاقی اخوان المسلمون سے منسلک تھے اور طلاءع الاسلامیہ نامی ایک چھوٹے سے گروپ کی قیادت کررہے ہیں ۔ رمضان شلح بھی اس تنظیم میں شامل ہوگئے ۔ اس کے بعد اس تنظیم کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اوراس میں مزید فلسطینی طلبا کی بڑی تعداد شامل ہوگئی ۔ وہیں سے اسلامی جہاد کی بنیاد پڑی مگر رمضان شلح غزہ واپسی کے بعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ۔

    ڈاکٹر فتحی شقاقی اور ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کی دوستی گہری سے گہری تر ہوتی رہی اور دونوں کی فکر اور نظریات بھی فلسطین کو صہیونی شکنجہ سے نجات دلوانے کے لئے یکساں تھے ۔ ڈاکٹر الشقاقی اور رمضان شلح برطانیہ اور اس کے بعد امریکا میں بھی ایک دوسرے سے جا ملے اور انہوں نے مل کر ایک جہاد فلسطین کے لیے ایک تنظیم کے قیام پرکام شروع کیا ۔ اس طرح باقاعدہ جہاد اسلامی فلسطین کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    غاصب صہیونی دشمن ہمیشہ سے ڈاکٹر فتحی شقاقی کی سرگرمیوں سے خوفزدہ تھا اور جہاد اسلامی فلسطین کے قیام کے بعد سے اسرائیل کو مختلف موقع پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مجاہدین کی کاروائیوں میں اسرائیل کو اکثر نقصان اٹھانا پڑتا تھا اور اس ساری کامیابی کا سہرا شہید رہنما ڈاکٹر فتحی شقاقی اور ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے سر تھا ۔ سنہ1990ء میں صہیونی غاصب اسرائیل کی بدنامہ زمانہ دہشت گرد ایجنسی موساد نے ایک بزدلانہ کاروائی میں جہاد اسلامی فلسطین کے بانی رہنما ڈاکٹر فتحی شقاقی کومالٹا کے دورے کے دوران شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کے بعد تنظیم کی قیادت کی ذمہ داری ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے کاندھوں پر آن پڑی جس کو انہوں نے اپنی وفات تک نبھایا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح نے جہاد اسلامی فلسطین کے بطور سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریوں کو احسن انداز سے نبھایا اور اپنے عزیز رفیق شہید فتحی شقاقی کے چھوڑے ہوئے نقش قدم پر چلتے ہوئے صہیونی دشمن کی نیندیں حرام کر دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اعتراف کیا کہ فلسطینیوں کی دوسری تحریک انتفاضہ کے دوران جہادی کاروائیوں میں بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی واصل جہنم ہوئے جس کے لئے براہ راست اسرائیل نے ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان تمام کاروائیوں کے احکامات خود ڈاکٹر رمضان شلح نے دئیے تھے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے لئے فلسطین کی زمین تنگ کر دی گئی اور صہیونی دشمن نے ان کے قتل کی منصوبہ بندی میں تیزی لاتے ہوئے جلد از جلد ان کو راستے سے ہٹانے کا پلان بنا لیا تھا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کو اپنے وطن سے جلا وطن ہونا پڑا اور آپ دمشق تشریف لے گئے جہاں پر آپ کو دمقش حکومت سے والہانہ انداز سے اپناتے ہوئے دمشق میں جہاد اسلامی فلسطین کا دفتر جو پہلے سے قائم تھا اسے مزید تقویت دی گئی اور اس طرح آپ بیروت اور دمشق میں رہنے لگے اور صہیونی دشمن کی بزدلانہ کاروائیوں سے خود کو محفوظ کرتے ہوئے مجاہدین کی قیادت انجام دیتے رہے ۔ آپ کی فلسطین کے لئے کی جانے والی جہاد پسندانہ کوششوں کے جرم پرسنہ 2017ء میں امریکی ادارے ایف بی آئی نے آپ کو بلیک لسٹ قرار دیا تھا ۔ اس سے قبل سنہ 2003ء میں امریکا کی ایک عدالت نے 53 بین الاقوامی اشتہاریوں میں ڈاکٹر رمضان شلح کو شامل کردیا تھا ۔ سنہ 2007ء کو امریکی محکمہ انصاف نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح نے جہاں فلسطین کے لئے مزاحمت کی قیادت کی وہاں آپ نے فلسطین میں بعد میں قائم ہونے والی تنظیم حما س کے ساتھ بھی بھرپور تعاون جاری رکھا ۔ آپ شیخ احمد یاسین کے ساتھ دلی عقیدت رکھتے تھے ۔ آپ نے جہاد اسلامی فلسطین کو لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے ساتھ بھی بہترین رشتہ میں جوڑ کر رکھا اور اسرائیل مخالف کاروائیوں میں ہمیشہ جہاد اسلامی اور حزب اللہ نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دشمن کو نقصان پہنچایا ۔ یہ ڈاکٹر رمضان عبدا للہ کی قائدانہ صلاحیت ہی کا نتیجہ تھا کہ خطہ کی دیگر اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ بہترین تعلقات اور تعاون قائم کیا گیا ۔ نہ صرف مزاحمتی تنظیموں بلکہ ہر اس حکومت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار کئے جس نے فلسطین کے لئے بھرپور حمایت اور مدد کی، اس میں سب سے زیادہ ایران اور شام سر فہرست تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ اکثر و بیشتر ایران کا دورہ کرتے تھے اور وہاں اعلی قیادت کے ساتھ ملاقات کرتے اور موجودہ حالات پر گفتگو کرتے تھے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح سنہ2018ء میں علیل ہو گئے اور آپ کی علالت کے بعد تنظیم نے زیاد النخالہ جو کہ آپ کے نائب تھے ان کو تنظیم کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا ۔ آپ تین سال بیروت کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 6اور 7جون کی درمیانی شب ہفتہ کو دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ طویل علالت کے بعد انتقال کرنے والے اسلامی جہاد کے عظیم مجاھد رمضان شلح نے پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ، اپنے وطن اور قضیہ فلسطین کی خدمت میں گذاری ۔ ان کی زندگی جود سخا، جہاد، مزاحمت اور خدمت خلق کا مجموعہ تھی ۔ آپ نے سوگواروں میں دو بچے اور دو بچیاں چھوڑی ہیں ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کی وفات صرف فلسطین کا ہی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کا نقصان ہے اور ہر آنکھ آپ کے لئے اشک بار ہے ۔

  • سفر کے مقصد کو نہ بھُلاؤ…!!! بقلم:جویریہ بتول

    سفر کے مقصد کو نہ بھُلاؤ…!!! بقلم:جویریہ بتول

    خیر خواہی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    کسی کو نظروں سے گراؤ…
    نہ یونہی کبھی نیچا دکھاؤ…
    انسان سے انسانیت کے…
    احترام کا تعلق سدا نبھاؤ…
    خطاؤں سے دُھلا نہیں کوئی…
    کبھی خوبیوں پر پردہ نہ اوڑھاؤ…
    محبتوں کا درس دو سدا…
    نفرتوں کو جڑ سے ہی مٹاؤ…
    وفاؤں کی تاثیر دیرپا ہے…
    جفاؤں سے نہ اسے دھندلاؤ…
    کہیں کسی چشمِ تر کا آنسو…
    جو گناہوں کا بنے وضو…
    رب سے کہا جو راز ہو…
    دلوں میں بجتا ساز ہو…
    اُسے رفعتوں پہ جھلملائے…
    جی بھر کر وہ مسکرائے…
    قدم وہ اپنے کر کے سیدھے…
    ہم سے بھی آگے نکل جائے…
    تو اپنے لہجوں کے درد سے…
    کسی کو نہ کہیں تُم رلاؤ…
    وقت گزرتے نہیں دیر لگتی…
    غلطی کہیں بھی ہے ہو سکتی…
    کسی کے دل پر وار کر کے…
    خود شرمندگی کا نہ ساماں بناؤ…
    انسانوں سے روا رہے انسانیت…
    غالب نہ آئے کہیں رعونت…
    فلاح کی طرف رواں دواں رہے…
    سفر کے مقصد کو نہ بھُلاؤ…!!!
    اسی کا نام ہے خیر خواہی…
    یہی تو ہے بھلی ہمراہی…
    اسی کو کہیں رنگِ وفائی…
    جلد بازی کے فیصلوں سے…
    صدائے ضمیر کو نہ دباؤ…!!!
    کسی کو نظروں سے گراؤ…
    نہ یونہی کبھی نیچا دکھاؤ…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤