Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کبھی اُن کو آہنگِ صدا کرو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    کبھی اُن کو آہنگِ صدا کرو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آہنگِ صدا…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    تم چپ یوں ہی نہ رہا کرو…
    کبھی رقم کوئی حرفِ وفا کرو…
    جذبات کو نہ دو یوں اذیتیں…
    کبھی اُن کو بھی آہنگِ صدا کرو…
    جو فن ملا ہے،جو ہنر ہے پاس…
    کبھی اُس کو عملی بھی ادا کرو…
    کاندھوں پہ اٹھائے جو قرض ہیں…
    کبھی ادائیگی میں نہ دغا کرو…
    گر بولنے کی ہو رکھتے سکت…
    کبھی کوئی لفظِ سچ کہا کرو…
    برائیوں کے ہاتھوں تنگ ہو گر…
    کبھی خود بھی ان سے رُکا کرو…
    کسی کی چاہتے ہو گرکرنا رہبری…
    کبھی انداز مثلِ آئینہ صفا کرو…
    گر چاہتے ہو منزل تک راہوں کی رسائی…
    کبھی کانٹے اوروں کی راہ سے چُنا کرو…
    اپنے لیئے تو جیتا ہے یاں ہر کوئی…
    کبھی کسی کے لیئے بھی زندگی میں جیا کرو…
    ملتی اذیتوں پہ صبر کا بھی اجر ہے…
    کبھی جیتے جی نہ خود کو تنہا کرو…
    تم چُپ یوں ہی نہ رہا کرو…
    کبھی رقم کوئی حرفِ وفا کرو…
    جذبات کو نہ دو یوں اذیتیں…
    کبھی اُن کو آہنگِ صدا کرو…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہان کو  بقلم: جویریہ بتول

    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہان کو بقلم: جویریہ بتول

    آفتیں…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    مشرق و مغرب کے ہر اک انساں کو…
    کورونا کی وبا میں گھِرے ہوئے ہیں ہم سب…
    آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس چمنِ ویراں کو…
    کہیں ٹڈیوں کے غول اُجاڑتے ہیں فصلیں…
    کہیں کرتے ہیں اَولے ماند حُسن کے سماں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    بھوک اور افلاس کے سائے منڈلا رہے ہیں ہر سو…
    کیا ہے اداس جنہوں نے مکیں اور مکاں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    روٹھی ہیں رحمتیں،گناہوں سے زمیں اٹی ہے…
    درِ مغفرت پہ جھکنے کا شعور ہو مسلماں کو…
    سانسوں کی ڈوری میں موتی ہوں استغفار کے…
    اسی حصار میں ملے، پھر پناہ ہر بے اماں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    الٰہی ہم گناہ گار ہیں،مانا کہ خطا کار ہیں…
    تو ہی بخشتا ہے بس ہر بے کس و عاصیاں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    لائے ہیں ہم کاسۂ خالی،شجر کی جیسے ہو سوکھی ڈالی…
    ابرِ مغفرت سے مہکا ہمیں ،دور کر دے اس خزاں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    بے بسی کا عالم ہے،جو اس دنیا پر طاری ہے…
    اپنے کُن کے اشارہ سے دے ٹال ہر بلائے ناگہاں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…
    مشرق و مغرب کے ہر اک انساں کو…
    آفتوں کا سامنا ہے اس سارے جہاں کو…!!!
    ===============================

  • کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے……!!! تحریر:جویریہ بتول

    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے……!!! تحریر:جویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • آسمانِ علم کے ستارے…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    آسمانِ علم کے یہ ستارے…
    کیوں ڈوب رہے ہیں سارے…
    شیوخ کی برکتوں سے خالی…
    کیوں ہو رہے ہیں دامن ہمارے…؟
    اس امت کو ہے بہت ضرورت…
    ابھی تو پھرتے ہیں مارے مارے…
    میری قوم کے نوجواں کو…
    اور بھٹکے ہوئے ہر انساں کو…
    ابھی دینا ہے شعور روشنیوں کا…
    درس انسانیت سے محبتوں کا…
    محبتوں اور روشنیوں کے پیامبر…
    جا رہے ہیں اک ایک کر کے پیارے…
    جہل کے پھیلنےاورعلم کے اُٹھنے کے…
    بہہ رہے ہیں اندر ہی اندر درد کے دھارے…
    انبیاء کے وارثوں کی خدارا قدر کریں ہم…
    علم کے موتی اپنے دامن میں بھریں ہم…
    اس روشنی سےسینے روشن اپنے کریں ہم…
    کہیں کھو نہ جائیں ہم سے وقت کے اشارے…
    علم کی مجلسوں میں پیدا جو ہوئے خلاء…
    بھر دے وہ رحمتوں سے اے ہمارے الٰہ…
    علم کی راہوں کے سفر پہ چلیں ہم…
    شعور اور عمل کے ماہتاب بنیں ہم…
    لحدیں ہوں پُر نور سب کی…
    وہ جو روشنیاں پھیلا گئے…
    توحید اور رسالت کے مفہوم…
    دین،دنیا کے لیئے سمجھا گئے…
    کھُلیں رحمت و مغفرت کے باب…
    سب کا ٹھکانہ ہو خلدِ بریں…
    محشر کے میداں میں ملے…
    سب کو سایۂ عرشِ بریں…!!!
    ==============================

  • رب کی محبّت…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رب کی محبّت…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رب کی محبّت…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اُس پر رب کی محبّت حاوی ہے…
    یہ جو کھیل تماشہ دنیاوی ہے…
    یہ نشانی ہے ایمان والوں کی…
    خلوص و وفا کے حوالوں کی…
    یہ صورت نارِ ابراہیم ہے…
    یہ صدائے موسیٰ کلیم ہے…
    گواہ جس کا سرِ طور ہے…
    دریا کی لہروں پر رواں…
    "ان معی ربی” کا سرور ہے…
    یہ اک خواہش ہے دیدار کی…
    جنت کے باغ و بہار کی…
    وہ بلال کی تپتی ریت پر…
    جو لذت ہے پکار کی…
    خباب کے ڈھلتے بدن کی…
    جو تاریخ ہے مہکار کی…
    ہجرت کی راہوں پر جو…
    داستاں ہے محبّت و پیار کی…
    طائف کی گھاٹیوں میں جو…
    صدا لا الہ الا اللہ کے پرچار کی…
    یہ سب محیطِ محبّتِ رب ہے…
    ملے یہ محبّت تو پاس سب ہے…
    دل کا چین،متاعِ حیات بھی…
    دنیا کا سرور،سکونِ ممات بھی…
    گرعملِ صالح سے یہ زندگی گزاری ہے…
    توحید سے محبّت، رہی شرک سے بیزاری ہے…
    رب بھی ایسے بندوں سے چاہتا ملاقات ہے…
    نصیب ہو دیدارِرب،کیا ہی عظمت کی بات ہے…!!!
    ( فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا و لا یشرک بعبادۃ ربہ احدًا¤ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسأَلُکَ حُبَّکَ…🤲🏻)
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ   قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
    قلمکار: عاشق علی بخاری

    نام عمر کنیت ابو حفص اور لقب خلیفہ راشد، اشج ( زخمی) بنی امیہ اور زاہد ہے. بچپن میں گھوڑے نے آپ کو زخمی کردیا تھا اس لیے آپ بنو امیہ کے زخمی کے لقب سے مشہور ہوگئے، بعض روایات کے مطابق امیر المومنین خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خواب بھی دیکھا تھا کہ کاش میں اپنے بچوں میں سے اس بیٹے کو دیکھ سکتا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا.
    آپ کی والدہ کا نام لیلی ام عاصم اور والد کا نام عبدالعزيز ہے، آپ مدینہ طیبہ میں 61 ہجری کو پیدا ہوئے. آپ والدین کی طرف سے بڑے بہترین خاندان اور حسن سیرت کے مالک تھے. آپ کی والدہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں، فاروقی گھرانا آپ کا ننھیال اور ددھیال اموی حکمران ہیں، آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بہت بہادر اور بے حد سخی ہونے ساتھ ساتھ پختہ ارادے کے مالک تھے یعنی جس چیز کا ارادہ کرتے اسے حاصل کیے بغیر نہیں رہتے تھے. جب آپ رحمہ پیدا ہوئے اس وقت آپ کے والد مصر کے گورنر اور چچا خلیفہ تھے، منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والی مثال تو آپ نے سن رکھی ہوگی آج تاریخ کے اوراق سے پڑھ بھی لیں. آپ رحمہ اللہ کے لیے سب سے بڑی خوش نصیبی کی بات یہ ہے کہ آپ کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتویں پشت میں ملتا ہے.
    بات کی جائے اگر آپ کے حلیے کی تو آپ جوانی میں انتہائی خوبصورت اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے. جسم بھرا ہوا، داڑھی سے مزین چہرہ جو دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے. ماتھے پر گھوڑے کی لات سے لگا زخم کا نشان اور سر کے بالوں میں سفید بالوں کی لکیر. جوانی والی رونق آپ کے کم کھانے، کم سونے اور زیادہ وقت آخرت کی فکر کرنے اور ہر وقت اسی سوچ میں گم رہنے کی وجہ سے ختم ہوگئی جس کی جگہ اللہ کا خوف اور تقوے والا رنگ نظر آنے لگا. جسم کمزور اور آنکھیں اندر کو دھنس گئیں. بھلے آپ دیکھنے میں کمزور ہی تھے لیکن اعصاب کے لحاظ سے انتہائی مضبوط تھے.
    آپ کی تین شادیاں تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی.جس طرح آپ کی والدہ نے آپ کا نام عمر رکھا اسی طرح آپ نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر اور دوسرے کا ابوبکر رکھا جو شیخین خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے محبت کی دلیل ہے. اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی اور امت کو پھر سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت سے مالا مال کردیا. امت مسلمہ میں پھر سے ایک نئی جان آگئی لیکن وہ لوگ جن کی دکانیں اور جیبیں بند ہوچکی تھیں وہ ہر وقت آپ کی زندگی کا چراغ بجھانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے بالآخر آپ کے غلام کے ذریعے آپ کو زہر دی گئی اور اس چراغ کی روشنی ہمیشہ کے لیے بجھادی گئی. حکمرانی جسے آپ بڑی بھاری ذمے داری سمجھتے تھے اس سے بہت جلد شہادت کے ساتھ بری ہوگئے.

  • قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریرجویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • راجہ داہر کے پیروکار ۔۔  جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔ تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)
    سندھ کے کٹر قوم پرست مقامی رہنما عطا بھنبھرو کی وصیت کے مطابق انکی تدفین انوکھے انداز میں کی گئی
    وصیت کے مطابق جنازہ نماز ادا نہیں کی گئی اوندھے منہ دفن کر کے انکی قبر کو زنجیروں سے باندھا گیا
    عطا محمد بھنبھرو نے وصیت میں لکھا تھا کہ وہ اسلام کو ایک فریب سمجھتے ہیں اسلئے انکا جنازہ نہ پڑھا جائے اور جب تک سندھ آزاد نہ ہو انکی قبر کے اطراف زنجیریں باندھکر انہیں قید رکھا جائے اور قبر میں اوندھے منہ لٹایا جائے ۔۔ ان کی تدفین میں ان کے خیالات کے حامی کئی نام نہاد دانشور بھی شریک ہوئے جن میں شاہ عبد الطیف بھٹائی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ساجد سومرو بھی شامل تھے جنہوں نے زنجیریں باندھیں ۔۔
    کچھ عرصہ قبل راجہ داہر کو دھرتی کا بیٹا ثابت کرنے ۔ محمد بن قاسم کو ظالم و جابر قرار دینے اور راجہ داہر کا مجسمہ نصب کرنے کا تماشہ لگایا گیا ۔
    اور اب یوں سرعام شعائر اسلام کی توہین و انحراف ۔ سندھ کو مقبوضہ قرار دینے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ اس انوکھے واقعے کی خوب تشہیر بھی کی گئی ۔
    سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے ۔ کیا یوں شعائر اسلام کی توہین کرنا اور ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا آسانی سے قبول کر لیا جائے گا ۔ ایک سرکاری ملازم پروفیسر سندھ کے مقبوضہ ہونے کی اس ساری کارروائی کا روح رواں ہے ۔۔ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کے بڑے عہدے کن ہاتھوں میں ہیں ۔ یہ اپنے طلبہ و طالبات کو کیا سیکھا رہےہیں۔۔ کیسی نسل تیار کی جا رہی ہے۔۔ یہ ایک بڑا سوال ہے ؟؟
    اگر کسی داڑھی والے دیندار نے ایسی حرکت کی ہوتی کہ ایک حصے کو مقبوضہ قرار دیکر علامتی احتجاج کرے تو اب تک ادارے حرکت میں آ چکے ہوتے ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا چیخ چیخ کر گلے پھاڑ چکا ہوتا ۔۔۔ لیکن چونکہ وہ قوم پرست اور لبرل و سیکولر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سب جائز ہے اور کوئی ایکشن نہیں ہو گا ۔۔۔

  • یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ مٹی مجھے القدس کی مریمات بیٹیوں نے پچھلے سال ترکی میں دی تھی اور کہا تھا سنا ہے پاکستان مٹی سے محبت کرنے والوں کی سر زمین ہے
    انہوں نے کہا تھا آپ یہ مٹی پاکستانی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے لے جائیں انہیں ہماری طرف سے پیش کرکے کہیئے گا اس مٹی کے غیرت مند مسلمانوں پر کچھ قرض ہیں وہ بھلا نہ دینا
    انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا ہم روز جان ہتھیلی پر رکھ کر اسرائیلی فوجیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس مٹی کی حرمت کے لئے مسجد اقصی جاتی ہیں آپ سب کے لئے ممکن ہو تو اپنی اپنی جگہ پر اس مٹی کا قرض چکائیے گا غیرت مند قومیں ہزاروں برس بھی اپنا دعوی نہیں بھولتیں القدس کے لئے کوئی نیا صلاح الدین ایوبی پیدا ہونے تک اسے یاد کرتے رہئیے گا اسے نئی نسل کو منتقل کرتے رہئیے گا
    میری عزیز بہنوں اور بھائیو
    میں نے تو اس مٹی پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے جب تک جان میں جان ہے القدس کی آزادی کے لئے اپنا حصہ ادا کر تی رہوں گی آپ بھی اس مٹی کو تھام کر یہ عہد کرنا چاہیں تو یہ میرے پاس آپ سب کے لئے امانت ہے
    ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
    ڈائیریکٹر امور خارجہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی

  • کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    *سرکاری مفتی؟ ***

    موجودہ وبا کے ہنگام،ایک آئینی اسلامی ریاست کے متفقہ اجتماعی نظام رہنمائی (فتوا، شرعی رائے ) کی جس قدر ضرورت محسوس ہو رہی ہے ـــــــ شاید قریب قریب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی….! ایک ایک مسلک میں ایک سو اسی درجہ کی رائے سامنے آتی رہی اور پورے تیقن کے ساتھ…. مخالف رائے کو قریب قریب ردی قرار دے کر… حتی کہ لوگوں کو منبر سے شرم تک دلائی گئی احتیاط کرنے پہ.. قسمیں کھلائی گئیں احتیاط سے دور رہ کر "پختہ” ایمان کے مظاہرے کی…. یقیناً جید علماء کرام نے اس کے برعکس انتہائی ذمہ داری اور شرعی بصیرت کا مظاہرہ بھی کیا…لیکن وہ کنفیوژن اور عوامی سطح پر میسج اس حلقے سے ہمیں پہنچا، کیا وہ ایک اور حقیقت پسندانہ تھا؟؟

    لیکن مجھے تو جو کمی محسوس ہو رہی ہے ـــــــ وہ اوپر عرض کر دی ہے…. ہم لوگوں نے "سرکاری مفتی” کے لقب اور عہدے کو، جو موجود ہی نہیں ہے کہیں…. خود ہی اس قدر نیچ بنا دیا ہے اپنی نجی گفتگو اور کتب و رسائل میں… کہ کل کو اس کی کوئی گنجائش نہ رہے… پیدا ہو جائے، تو credible نہ ہو…
    خلافت، سیاسی اجتماعیت اور کیا کیا کچھ چاہنے والوں میں سے کتنے ہیں، جنہوں نے اپنے ہاتھوں یہ” خیر” کمائی ہے!

    فرد واحد کی ایسے کسی عہدے پر تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے پانچوں وفاقوں سے علماء کی نمائندگی لے کر سرکاری "مجلسِ کبار علماء” بنانی چاہیے، جو شرعی امور میں متفقہ رائے پیش کرے، جو ریاست کا مؤقف ہو… یوں اسے سلطہ بھی میسر ہو جائے گا اور حالیہ وبا کے دنوں میں مذہبی مواقف میں باہم فاصلے اور کنفیوژن سے بچا جا سکے گا…. اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے….

    اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی مذکورہ بالا شکل میں تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے