Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے  (والد محترم کی یاد میں)  از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے (والد محترم کی یاد میں) از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    انمول ستارہ،
    (والد محترم کی یاد میں)
    از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    میں نے دیکھا
    پار افق کے۔۔۔۔۔
    جگ مگ کرتا ایک ستارہ
    ہاتھ بڑھا کے پکڑ نا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھڑا کےوہ مجھ سےبھاگا

    اک سسکی نکلی۔۔۔۔
    دل سے میرے۔۔۔۔۔۔۔
    کیسےتم تک میں پہنچوں ؟؟؟؟

    میرے کانوں میں آواز یوں اک آئی ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈوبتے ہوئے تارے نے۔۔۔۔۔۔۔یہ راہ مجھے دکھائی ۔۔۔۔۔۔۔

    میرے رستے پر تم۔۔۔۔۔
    چل کر۔۔۔۔۔۔
    مجھ تک پہنچ تم پاؤ گے۔۔۔۔۔
    عروج کی بلندیوں کو تم چھو لو۔۔۔۔۔
    سیدھی راہ کبھی نہ بھولو ۔۔۔۔۔۔۔چلتے رہنا صبح شام ۔۔۔۔۔۔۔

    رکنا نہیں چلنا ہے مادام ۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کو مہکا دینا۔۔۔۔۔۔
    اندھیر نگر کو چمکا دینا۔۔۔۔۔
    دنیا کو گلزار بنا کر۔۔۔۔۔۔
    اپنے آپ کو گہنا کر۔۔۔۔۔۔
    جب پار افق کے آؤ گے۔۔۔۔۔۔۔سمجھو مجھ تک پہنچ چکے تم۔۔۔۔۔
    پھر تم مجھ کو پاؤ گے

  • انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    انسان بڑا جلد باز،گھبرا جانے والا،تھڑدلا اور ناشکرا ہے۔
    قرآن حکیم میں انسانی فطرت کے بارے میں یہ مثالیں جابجا بیان کی گئی ہیں۔
    نعمتیں ملنے پر عطا کرنے والے کو بھول جانے والا ہے،
    فخر و تکبر کی ردا اوڑھ کر پھولا نہ سمانےوالا ہے…
    میں حسبِ معمول قرآنی آیات کا مطالعہ کر رہی تھی کہ سورۂ یونس کی آیات نے مجھے انسانی فطرت کے دو عکس دکھائے…
    اللّٰہ تعالٰی نے اس فطرت کی ایک مثال ان الفاظ میں بیان کی ہے:
    وَ اِذَا اََذقنَا النَّاسَ رَحمَۃً مِّن بَعدِ ضَرَّآءَ مَسَّتھُم اِذَا لَھُم مَکرٌ فِی اٰیَاتِنَا قُلِ اللّٰہُ اَسرَعُ مَکرًا،اِنَّ رُسُلَنَا یَکتُبُونَ مَا تَمکُرُون¤
    "اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہوتی ہے،کسی نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چال چلنے لگتے ہیں،آپ کہہ دیجیئے کہ اللّٰہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے،بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.”(سورۂ یونس)۔
    یعنی انسان نعمت ملنے پر ناشکری کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور جب اللّٰہ تعالٰی کی گرفت میں آئے تو فوراً اس کی رگِ فطرت پھڑک اُٹھتی ہے۔
    جس کی مثال اللّٰہ تعالٰی نے ما بعد کی آیت میں دی ہے:
    کہ اللّٰہ تعالٰی نے تمہیں چلنے کے لیئے پاؤں عطا کیئے،سواریاں مہیا کی ہیں،
    جن پر دور دراز کے سفر کرتے ہو،
    پھر عقل کا استعمال کرتے ہوئے کشتیاں اور جہاز بنا لیئے،اور سمندر کی لہروں پر محوِ سفر ہوتے ہو…!!!
    لیکن کیسی بے بسی کا عالم ہوتا ہے جب اُحیط بھم
    یعنی جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھِر جاتے ہیں اور موت سامنے نظر آتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟
    دعو اللّٰہ مخلصین لہ الدین…
    اس وقت خالص اعتقاد کے ساتھ اللّٰہ کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔
    یعنی انسان جب شدائد میں گھِر جاتا ہے تو تب سارے فلسفے بھول کر اللّٰہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے،اسی کو پکارتا ہے،کیونکہ انسانی فطرت میں اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا۔
    انسان ماحول اور تربیت سے متاثر ہو کر اس جذبۂ فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن کسی ناگہانی آفت اور مصیبت میں یہ جذبہ پھر عود کر آتا ہے۔
    رب کی توحید انسانی فطرت کی آواز ہے،جس سے انحراف کر کے انسان فطرت سے انحراف کرتا ہے۔
    لیکن جب انسان کو اللّٰہ تعالٰی ان تمام مصائب سے بچا لے آئے تو چاہیئے تو یہ ہے کہ شکر کا مفہوم اقوال و اعمال سے بیان ہوتا نظر آئے لیکن انسانوں کی اکثریت نجات پا جانے کے بعد تکبر میں مبتلا ہو جاتی ہے…
    شکر کے مفہوم و انداز سے نابلد رہ جاتی ہے۔
    عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ کہ جب وہ فتح مکہ کے موقع پر فرار ہو کر ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آ گئی،ملاح نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ اللّٰہ واحد کو پکارا، تب ہی نجات مل سکے گی…
    یہ بات عکرمہ کے دل پہ لگی کہ اگر سمندر کی تُند ہواؤں میں نجات دینے والا اللّٰہ ہے تو خشکی کی مشکلات حل کرنے والا بھی وہی ہے…
    اور یہی بات تو محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں،چنانچہ مکہ واپس آ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔(رضی اللّٰہ عنہ)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مومن کی مثال بڑے خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے کہ:
    "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے،بے شک اس کے ہر معاملے میں اس کے لیئے خیر ہےاور یہ صرف مومن ہی کے لیئے ہے،اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر اَدا کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے اور اگر اُسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے…”
    (صحیح مسلم)۔
    ہر حال میں اللّٰہ تعالٰی سے اُمید مومن کی صفت ہے،
    نعمتیں ملنے پر شکر…
    مصائب آنے پر صبر…
    لیکن کہیں بھی نا امیدی،اس کے ساتھ شرک اور شکوؤں کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی…
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی مومنین کی صفات سے متصف فرمائے آمین ثم آمین…!!!
    ہر راحت میں تو…
    گھبراہٹ میں تو…
    نہیں کوئی میرا…
    بس تیرے سوا…
    میں جاؤں کہاں۔…؟
    اے حقیقی الٰہ…!!!
    جب جب بھی پکارا…
    تو نے ہر کام سنوارا…
    ملی فطرت کو تسکین…
    اور جھکی یہ جبین…
    جھکی رہے یہ سدا…
    جب آئے بُلاوا ترا…
    تو راضی ہو مُجھ سے…
    مجھےمعرفت ہو تُجھ سے…!!!
    یہی تو ہے مقصدِ ایماں…
    یہی ہے بندگی کا ساماں…!!!
    ==============================

  • وادی کشمیر اور آتشِ نمرود    تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود
    سفیر اقبال

    سوچا تھا اس بار کچھ نہیں لکھوں گا…..
    تا کہ ہاتھ باندھنے، روڑے اٹکانے اور حوصلہ توڑنے والوں کو بھی علم ہو کہ ذہنی شکست کیا ہوتی
    لیکن پھر خیال آیا جب لڑنے والے شکست قبول نہیں کر رہے تو میں لکھنے سے کیوں ہاتھ پیچھے کروں…اور جنہیں گھر سے باہر نکل کر افق کا منظر دیکھنے کی ہمت و جرات تک نہیں کیوں ان چند لوگوں کی وجہ سے ذہنی شکست قبول کروں.

    تو عرض یہ ہے کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس طرح کے مناظر اور اس طرح کے معرکے دکھا کر ڈرا دھمکا کر انہیں اپنے ساتھ ملا لیں گے. یہی خوش فہمی لاک ڈاون شروع کرتے وقت بھی تھی کہ جب تک اقوام متحدہ یا پاکستان کی طرف سے شدید ری ایکشن نہیں آتا تب تک ہم نیٹ سروس بند کر کے دنیا سے ان کا رابطہ ختم کروا لیں گے اور لاک ڈاون کا بہانہ بنا کر اندر کھاتے انہیں خوراک و آسائش مہیا کرتے رہیں گے اور بالآخر انہیں اپنا گرویدا بنا لیں گے. اور بعد میں دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم ایک ہیں اور بھائی بھائی ہیں. اور اب آزادی کی کوئی ضرورت نہیں.

    لیکن ان گائے کا پیشاب پینے والوں کی قسمت میں جنت اور جنت نظیر کی دودھ کی نہریں کبھی نہیں تھیں. اتنا عرصہ گزر گیا نیٹ سروس بحال ہو گئی لیکن اس بستی میں آج تک کوئی ترنگا لہراتا نظر نہیں آیا… جہاں سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آتا تھا آج بھی لہرا رہا ہے مگر جبری طور پر اپنا بنا لینے والی قاتل و بے رحم حکومت وہاں پر ترنگا نہیں لہرا سکی. وہ مظلوم لیکن غیرت مند لوگ اپنا غم اپنی خوشیاں، اپنے روزے اور اپنی عیدیں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ منانا پسند کرتے ہیں… اب بھی! اور جابر و قاتل حکومت یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی انہیں روکنے میں ناکام ہے.

    وہ مزاحمت کاروں کو بھون رہے ہیں اور بچوں بزرگوں کو دھمکا رہے ہیں. ہو سکتا ہے لالچ بھی دے رہے ہوں اور عین ممکن ہے کہ اس لالچ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ لوگ ہتھیار ڈال کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوں اور تحریک کے خلاف سرگرم ہو چکے ہوں اور غداروں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تحریک ختم ہو رہی ہے.

    مائیں اپنے بیٹے گنوانے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں. اندازہ کریں پاکستان کے اندر پاکستان کا کھانے والے ہلکی سی اونچ نیچ کی وجہ سے پاکستانی پرچم جلانے پر آ جاتے ہیں، مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا اور اردگرد کی ساری فضا میں ڈھکے چھپے الفاظ میں گالیوں کے پھول بکھیر دیتے ہیں لیکن جو نہ تو پاکستان کا کھاتے ہیں، نہ ہی کسی معاہدے کے پابند ہیں وہ اس قدر درد سہنے کے باوجود اس درد کو پاکستان کے ساتھ نہیں جوڑتے… پاکستانی پرچم جلا کر ہندو ریاست کے ساتھ وفاداری ثابت نہیں کرتے… پاکستان کے خلاف طنزیہ پوسٹیں اور طنزیہ کمنٹس کر کے مشہور ہونے کی کوشش نہیں کرتے.

    اللہ تحریک آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں کو اور ان کی کوششوں کو جانتا ہے اور جو لوگ اس جدوجہد میں دانستہ و نادانستہ طریقے سے رکاوٹ ڈال رہے ہیں اللہ انہیں اور ان کی کوششوں کو بھی خوب جانتا ہے. بس یہی دعا ہے کہ اللہ سب کو ان کی کوششوں کے مطابق اجر عطا فرمائے.

    کا شمیر کی آزادی کب ہے… کتنی قریب ہے اس سوال کا جواب جاننے کی پاداش میں کتنی آنکھیں نکال دی گئیں کتنے جسم بھون دئیے گئے لیکن مائیں آج بھی دودھ پیتے بچوں کو آزادی کا ہی سبق پڑھاتی ہیں. زمینی حقائق جو بھی ہوں لیکن ایمان یہی ہے کہ جب حالات ایسے ہوں کہ اونٹ کو چرانے والا عبدالمطلب بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والے ہاتھیوں کو نہ روک سکے تو اللہ تعالیٰ ابابیل بھیجتا ہے اور جب اللہ کا رسول رو رو کر اللہ سے منت اور دعا کرے کہ اگر یہ پیدل اور غیر مسلح تین سو تیرہ افراد دنیا سے مٹ گئے تو تیرا نام لینے والا دنیا میں کوئی نہیں بچے گا تو تب اللہ تعالیٰ تلواروں نیزوں والے مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی مدد کے لیے نظر نہ آنے والے فرشتے بھیجتا ہے.

    تحریر : سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    *دنیا کی ہر اک شئے…!!!*
    *[بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔*
    ہے باقی جو ذات وہ ہے بس اک الٰہ…
    دنیا کی ہر اک شئے کو ہے فنا …
    عروج والے، زوال والے …
    حقیقتوں کہ خیال والے …
    آ رہے ہیں کئی،اور کئی جا رہے …
    یہ شہرت و نام سب جو کما رہے…
    محبتوں کے سمندر میں ہیں جو…
    سدا جوش و ولولہ ہی پھیلاتے…
    اور نفرتوں کے اسیر ہیں جو…
    انسانیت کی ہیں دھجیاں اڑاتے…
    دائم رہے گا نہ یاں کوئی باقی…
    سمجھنے کو ہر روز یہ نقطہ ہے کافی…
    اک قافلہ خامشی سے ہے رواں…
    کوئی بہانہ ہے چلتا نہ آہ و فغاں…
    چپکے سے مٹی تلے ہیں جو سوئے…
    کیسے تھے گوہر،ہم نے جو کھوئے؟
    وہ چشمِ نم میں آنسو جھلملانے والے…
    وہ دل کی دُنیا میں اُتر جانے والے…
    وہ یادوں کا جو رہ جاتے ہیں خزینہ…
    وہ دعاؤں کی لڑی کا جو دُر ثمینہ…
    اس جہاں میں آنے کا مقصد ہے سمجھنا…
    کتابِ زندگی پہ وہ عمل ہے لکھنا…
    کہ آنے کا مقصد ہو نظر آتا حل…
    اب چل تو جب کہے آ کر اجل …
    واں ملیں اعزاز جب تو ہیں شاد کام …
    جہاں رہنا سدا، اور دائم ہے قیام…!!!
    ==============================

  • حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

    حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

    حکمران جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔
    گزشتہ روز حکومت نے شوگر مافیا کے بعد پیٹرول مافیا کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیے۔ پیٹرولیم کی قیمتوں میں نئے اضافے کے بعد حکومتی وزراء مسلسل دفاع کی کوششیں کر رہے ہیں جن میں شہباز گِل سر فہرست ہیں۔ آج کی اننگز فواد چوہدری نے شروع کی اور وہ جلد ہی ہار مان گئے۔ انھوں نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے 25 روپے تک ڈیفنڈ نہیں ہو رہے۔ یہ الفاظ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ بہت سے معاملات میں خود کو اور پارٹی کو ڈیفنڈ کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف پیٹرولیم اضافے پر پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم کے استعفیٰ کی قرارداد جمع کرا دی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے وزیراعظم کے قول و فعل کا تضاد سامنے آ گیا ہے لہذا وزیر اعظم کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مسلم لیگ ن کی ایم پی اے سعدیہ تیمورکی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے استعفی کے مطالبہ کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔

    سعدیہ تیمور کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس فری قرار دیا، پھر مالی سال مکمل ہونے سے قبل ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا گیا، اس اقدام سے وزیراعظم کے قول فعل میں تضاد واضح ہوگیا۔ سعدیہ تیمور کا کہنا تھا کہکے قول فعل میں تضاد واضح ہوگیا ہے جس کے بعد ان کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں، ایم پی اے سعدیہ تیمور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنی عہدے سے استعفی دیں۔

  • امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player   تحریر: معاذ انور

    امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player تحریر: معاذ انور

    امت کا محافظ بنا PUBG کا Pro-Player
    معاذ انور

    تاریخ گواہ ہے جب بھی مسلم امت پر کوئی آزمائش آئی۔ جب بھی کفار اور دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی سازشوں کے جال میں پھنسایا تو امت کے غیور نوجوان آگے بڑھے اور مظلوم و مجبور مسلمانوں کا سہارا بنے۔
    پانچویں صدی ہجری کے آخری دور میں جب مسلمان آپس میں خانہ جنگی کا شکار ہوئے تو صلیبیوں اور یہودیوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا۔ تو انگلینڈ٫ اٹلی ، جرمنی ،فرانس سمیت کئی ممالک نے مل کر اپنی فوج بنائی۔ اور لاکھوں کی فوج لے کر مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ مسلمان بد ترین شکست سے دوچار ہوئے ۔ اس دور میں بڑے بڑے صلیبی گاڈفری، ریمون جیسے کمانڈروں نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ فرانسیسی مورخ میشو لکھتا ہے کہ پہلی صلیبی جنگ کے دوران مسلمانوں کو اونچے اونچے مقامات سے نیچے کرا کر مار دیا۔ انہیں ذندہ آگ میں جلایا گیا۔ فلسطین کے بازاروں میں انہیں جانوروں کی طرح گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ستر ہزار مسلمانوں کو بیت المقدس (اقصیٰ) میں شہید کر دیا گیا۔ مؤرخ لکھتا ہے۔ مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی کے لیے اتنا بتانا کافی ہے کہ جب صلیبی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔ کئی سال تک امت مسلمہ اس ظلم کا شکار رہی۔ مسلمان مسجد اقصیٰ میں سجدوں کے لیے ترس گئے تھے۔ ایسے حالات میں اللّہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ باہمت ترک نوجوان عماد الدین زنگی ،اور صلاح الدین ایوبی کو اس مقصد کے لیے کھڑا کیا۔
    پھر تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان صلاح الدین ایوبی نے ان صلیبیوں کی ایسی ٹھکائی کی کہ آج تک صلیبی اور یہودی صلاح الدین ایوبی کے نام سے کانپتے ہیں۔ ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا اور وہاں کئی سالوں بعد مسجد اقصیٰ میں آذان دی گئی۔ مسلمانوں سجدے میں گر کر زاروقطار رونے لگے۔ نماز کے بعد ایوبی نے وہاں ایسا ایمان افروز درس دیا کہ مسلمان نوجوانوں کا خون کھول اٹھا۔ اور پھر وہ دن بھی آیا کہ مؤرخ لکھتا ہے ان نوجوانوں کا کفار پر اتنا رعب تھا۔ کہ جب بھی کوئی قلعہ فتح ہوتا تو صلیبیوں کو قیدی بنایا جاتا اور ایک رسی سے چالیس چالیس صلیبیوں کو باندھ کر ایک مسلمان نوجوان چالیس چالیس صلیبیوں پر مسلط ہوتا۔ اور کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس ایک مسلمان نوجوان پر ہاتھ تک اٹھا سکے۔
    اس دور کی طرح آج بھی امت کو ایسے ہی باہمت نوجوان درکار ہیں۔مگر اس بار کفر کامیاب ہوا۔ اور جدید دور میں ٹک ٹاک سے لے کر پبجی گیم تک ہر طرح کا جال پھینکا گیا۔ مسلمان نوجوان اس کے جال میں بری طرح پھنستے چلے گئے۔ کبھی جن نوجوانوں کا مشن میدان جنگ میں شہادت ہوا کرتا تھا آج اسی امت کے نوجوان ٹک ٹاک پر ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور پبجی گیم کے diamond level اور Ace level تک پہنچنے کو اپنا زندگی کا سب سے بڑا مشن سمجھتے ہیں۔ جی ہاں میں اسی پبجی گیم کی بات کر رہا ہوں جس نے ہمارے نوجوانوں کی راتوں کی نیند چھین لی۔ پبجی گیم میں pro player بننے کی پاداش میں ان نوجوانوں نے ماؤں بہنوں کو خود بازار سے سامان لانے پر مجبور کردیا۔ بوڑھا باپ جو ساری زندگی اس اولاد کی خاطر کام کرتا رہا اس باپ نے اگر اولاد سے دوائی لانے کو کہا تو آگے سے اولاد کا جواب ملا کہ ابا جی مجھے بس گیم میں دو تین دشمن مارنے ہیں۔ پھر میں آپ کی دوائی لاؤں گا۔ باپ انتظار کرتا کرتا سو گیا مگر اس نوجوان کی گیم ختم نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گیم کا نشہ دماغ پر اس قدر سوار ہوا کہ اب نہ تو نیند آتی ہے اور نہ ہی نمازوں کی کوئی فکر رہتی ہے۔ سارا سارا دن موبائل فون کی سکرین پر نظر جمائے گیم کھیلنے کے بعد یہی نوجوان بڑی خوشی سے اپنے دوستوں کو بتاتا ہے ” یار اب تمہارا بھائی pro player بن گیا ہے”۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اب یہ نشہ جنون کی حد تک اس نوجوان پر سوار ہو جاتا ہےاور جب اس کے والدین اس جنون کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسے پبجی گیم سے روکتے ہیں ۔ اس سے موبائل چھین لیتے ہیں تو اس کا یہ نشہ اسے خود کشی تک پہنچا دیتا ہے۔ دن رات ایک کر کے اس نے پبجی گیم میں ایک لیول بنایا۔ اور جب گیم ان سے چھینی جاتی ہے تو یہ نوجوان سمجھتے ہیں جس گیم کے لیے اتنی محنت کی اس کے بغیر زندگی گزارنے کا کیا فائدہ۔ ایسی زندگی سے بہتر خودکشی کرکے مرجاؤ۔ اور پھر یہی نوجوان جو امت کا محافظ بنایا گیا تھا لمحہ بھر میں بوڑھے ماں باب کو اکیلا چھوڑ کر ،ماں کو اتنا بڑا صدمہ دے کر زلت کی موت مر گیا۔ میں اس پبجی گیم پر بات کیوں نہ کروں کہ جس نے ہمارے نوجوانوں کو کہاں سے کہاں لا کر کھڑا کر دیا۔ جس گھر میں نوجوان صبح اٹھ کر قرآن کی تلاوت کی بجائے پبجی گیم کا ایک میچ لگانا ضروری سمجھتے ہوں اس گھر میں کہاں سے رحمت آئے۔ وہ بھی راتیں تھیں جب سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے نوجوانوں کے ساتھ مل کر راتوں کے اندھیرے میں صلیبیوں کے قلعوں پر منجنیقیں نصب کرتا اور صبح ہوتے ہی ان پر ایسی یلغار کرتا کہ ان کو گمان تک نہ ہوتا۔مگر یہ کیسی راتیں ہیں کہ اسی امت کے نوجوان ساری ساری رات پبجی کھیلنے میں گزار دیتے ہیں۔ آج پھر امت کو ایسے نواجوانوں کی ضرورت ہے جو راتوں کے اندھیروں میں جہاد کی پلاننگ کرتے ہوں۔ تو آئیے میرے ملت کے نوجوانوں آج پھر انہی صلیبی جنگوں کی یاد تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمن نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب ہم اپنی زمہ داریوں کو سمجھیں اور امت کٹی پھٹی امت کا سہارا بن جائیں۔ اللّہ تعالیٰ ہم سے زیادہ سے زیادہ اپنے دین کا کام لے لے۔ (آمین).

  • گلراں آلی سرکار ۔۔۔۔۔ سیاسی وابستگیوں اور مفاد پرستی پر ایک تمثيلی تحریر: ابو عبدالہادی

    گلراں آلی سرکار ۔۔۔۔۔
    (سیاسی وابستگیوں اور مفاد پرستی پر ایک تمثيلی تحریر)
    ابو عبدالہادی

    ایٹھےکئی فقیراں دی بھنگ لتھی۔۔۔ تے کئی گئے متھیریاں کھا ھیرے ۔۔۔۔۔۔!!! ۔۔۔۔
    پڑپہ دے کول ایس دربار تے رنگ رنگ نسل نسل دے گلر سرکار ہوراں پالے ہوئے ۔۔۔باو باو کرن الے پخ کرن ،بس چاوں چاوں کرن آلے ،دوروں ویکھ کے کھورن آلے ،تے ایک لمی چیخ مار کے چپ کر جان آلے ۔۔۔ایناں سارے گلراں دی اک گل مشترک اے سارے سرکار دا دتا ہویا راطب کھاندیاں اپنا رنگ نسل تے خاندان بھل جاندے نیئں ۔۔ ۔
    ۔عام طور تے وڈی سرکار ہوراں دے کامے تے ملنگ ہی ایناں گلراں دا دھیان رکھدے نئیں اوہ ای ایناں دے کھان پیںن تے آرام دا خیال رکھدے نئیں ۔۔وڈی سرکار ہوراں تے سال وچ اک دو واری ایناں گلرران نو دیدار کروادنیاں نئں ۔۔ اوی اوس ویلے جدوں کسے خاص جانور دی طبیعت وگڑ جاوے یا سرکار ہورا کسی شکار تے جاناں ہوے ۔۔اودوں ایناں گلران وچوں جیندی قسمت جاگ پوے وڈی سرکار اہہنوں جن لیندے نئیں تے اوہنوں اہس خصوصی مہم تے جان دا شرف ملدا اے ۔۔سمجھ لوو اوس گلر دی قسمت بن گئی ناصرف اوہدیاں ست نسلاں دی عیش ہو گئی ۔۔کیوں جے وڈی سرکار دی نظر وچ اوناں کوئی نکی گل نئیں ۔۔۔جیس گلر نوں وڈی سرکار دا اشارہ مل جوے اوہ بندیاں توں وے اتے ہوجاندا اے ۔۔ایتھوں تیک کہ عام لوکی اوس گلر دے ہتھ پیر جمن لگ پیندے نئیں ۔۔اوس گلر دے ٙٹھوٹھے دا پانی وی متبرک تے آبشفا سمجھیا جاندا اے ۔

    ۔ایتھوں پتا لگدا. اے کہ ایس سرکار دا گلر ہونا کنے نصیبے دی گل اے ۔
    ۔۔سر عام والے اقرار الحسن نے وی اینا گلراں دیاں موجاں لگیاں ناصرف آپ ویکھیاں تے سارے جگ نو وخایاں نیئں۔۔ایتھے ملک کونے کونے دا گلر ملدا اے
    ۔ایتھے ہند ،سندھ،پنجاب خیبر پختونخواہ،بلوچستان تک دے گلر پالے گئئے نیئں ۔۔سرکار دے ملنگ ایناں گلراں دی نسل،خاندان ،عمر ، قد کاٹھ ۔تے کارکردگی دے لحاظ نال ایناں دی خوراک تے رہین سہن دا بندوست کردے نئیں ۔کس راطب خور نوں کناں کھوانا پیانا اییں ۔۔۔۔تے . . اودے کولوں عام حالات وچ کی کم لینا ایں ایے سارے کم وڈی سرکار دے کارندیاں نوں پتا اے ۔۔۔ جدوں کوئی راطب خور بہتا پی، کھا کے آکڑی لین لگ پوے ۔۔۔تے اوہدیاں اکھاں وچ خمار دوروں نظر آون لگ پوے ۔۔۔تے اور کدی کدی اپنی سنبھالواں نو کھورن لگ پوے تے فیر وڈی سرکار اوس جانور نوں واڑیوں کڈن توں دیر نئیں کردی ۔۔۔۔کراچی دا اک گلروڈی سرکار ہوراں پڑے چاواں نال پالیا سی تے ۔۔تے اوہنے وی وڈی درکار دے اکھ دے اشارے انج سمجھے کہ جدوں سرکار ہوراں اوہنوں شکار لئی جھڈیا تے اوہنے اپنے سامنے اون ہر اوہ جانور اپنی جوہ وچوں مکا چھڈیا کدی وڈی سرکار ول اکھ چک وہ ویکھا سی ۔۔۔تے فیر نصیب ہر گئے ایس نازاں نال پالے ہوئے گلر دے ۔۔کہ ایک دن اور سرکار دے حریف گدی ٹھاکر صاحب دے کتیاں نال مل کے اہناں دا راطب پی لیا ۔۔۔بس اوس گلر دے آہر ای بدل گئے ۔۔۔اوہنے کنے ای کامیاں تے ملنگاں نوں وڈ کھتیا۔۔تے وڈی سرکار بڑی سوچ وچار تو بعد اہنوں ۔۔ڈیریوں باہر بنھ دتا تے اوہنوں وی چنگا نہ لگا ۔۔سنیا اے اوہ ہن ہلکا ہو گیا اے ۔۔کجھ دناں بعد اوہ وی کتے دی موت مر جاوے گا ۔۔۔ایسے طراں سرکار ہوراں اہنے جانور. دی صحت تے کدی وسا نئیں کھناندیاں ۔۔ذراکسے جانور دامزاج وگڑیا نیئں سرکار نوں بنا وی اوہ جانور پسند ہووے ۔۔سرکار گدی دا ناں بدنام ہون توں پہلاں اوس نوں تتر کرادیندیاں نیئں ۔۔۔۔اجکل سرکار ہوراں دی نظر اک نویں امریکن بل ڈاگ اتے سولی اے ۔۔ایس بختاں الے جانور تے سرکار نیئں ٹریننگ تے بڑی کرائی اے ۔۔۔تے پورے پڑپے دے بنڈاں وچ ایس جانور دیاں دھماں وی بڑیآں سن ۔۔پر سرکار ہوراں دل ایندے ولوں حالے کجھ بہتا راضی نئیں ۔۔کیوں جے حالے تیک سرکار ہوراں جہڑے شکار تے وی اہنوں چھڈیا اینے ہلاشیری دین دے باوجود شکار ہتھوں گنوا دتا سو۔۔۔سنیا اے کہ سرکار ہوراں دے اک پرانے مرید نیئں ولائیتوں ایک ہائبرڈ نسل دا جانور گھلیا اے سرکار دے شوق دے واسطے ۔۔۔پر حالے وڈے سرکار ایس جانور نوں ہور آزمانہ چاہوندیاں نئیں ۔۔۔اے ویسے وکھن نوں بڑا سوہنا تے سمارٹ اے تے سرکاردا دل ایندے نال لگدا ۔۔پر سرکار اپنے کماں تے شوق دے اگے کسی دا حسن تے سمارٹ نس نوں بوہتی وقعت نئیں دیندیاں ۔۔بس جس دن اوہناں نوں لگیا کہ نال دیاں گدیاں توں کم بہت بچھاں رہ گیا اے ۔۔سرکار کسے نویں گلر نوں تیار کر لین گیاں بس اک اشارہ ہونا ایں تے سندھ ،پنجاب تے الکھ ملکھ دے گلراں پچھلا ہلاندیاں چوں چوں کردیاں سرکار دے پیر چٹن لگ پینا ایں ۔۔۔۔اللہ دڈی سرکار دا فیض دھدائی رکھے ۔۔عام لوکاں لئی تے وڈی سرکار رب دی رحمت اے۔ہرچن دے دے چن یاری شریف دیاں دیگاں آل دوال داپیٹ بھرن لئی وادو نئیں ۔۔۔۔سرکار ہوراں دا وی اے ای نعرہ ۔۔۔۔

    اٹ کھرکا دکڑ وجے تتا ہووے چلھا ۔۔۔۔۔۔ان فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بلھا۔۔۔۔۔
    ایس گلی دے جٹ برے اے لیندے پھائیو پھا ۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از سرعام "

  • ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے  بقلم:احمد جواد

    ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے بقلم:احمد جواد

    ہر وہ چیز جو اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی آتی ہے۔

    احمد جواد

    پی آی اے کے پائیلٹ شاید اسی تیکنیک پر جہاز چلا رہے تھے، لیکن پھر تکنیک میں تبدیلی آگئ۔ پی آی اے کے جہاز اوپر جا کر نیچے تو آتے تھے لیکن اب وہ نیچے گرنے لگے۔ تیس سالوں کی کرپشن ، اقربا پروری نے آخرکار اپنا رنگ دکھا دیا۔

    ہمارے سسٹم میں سنگین خرابیاں ہیں۔ جب تک ہم ان کی شناخت اور اعتراف نہیں کرتے ہیں ، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

    ہاں جگ ہنسائ ہو گی لیکن کینسر کی سرجری لازمی ہے۔ پی آئی اے کے پائلٹ بین الاقوامی مارکیٹ میں طویل عرصے تک قبول نہیں کئے جائیں گے۔ لوگ پی آئی اے کا سفر نہیں کریں گے۔ اگر میں نے پاکستان کے اندر سفر کرنا ہے تو میں بھی شایدخود روڈ سے سفر کروں گا۔

    لیکن عمران خان یا ایئر مارشل ارشد اس کے ذمہ دار نہیں ہیں وہ تو صرف قالین کے نیچے چھپاۓ ہوۓ مسلوں کی نشاندہی اور اُن کا حل تلاش کر رہے ہیں-ںمسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ملٹری ڈکٹیٹروں نے اداروں کو تباہ کر دیا۔

    ایسے جعلی پائیلٹس کو مثالی سزا دینی چاہیے لیکن یہ مت بھولیں کہ اسکا ذمہ دار ادارہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے۔ وہ ادارہ جہاں ٹاپ پوزیشن پر پاکستان ایر فورس سے ایر مارشلوں اور دوسرے افسروں کی ایک فوج آتی ہے۔ ان تمام افسروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

    احتساب جب تک جرنیلوں، ججوں، بیورکریٹ اور ٹاپ بزنس مینوں کا بھی نہیں ھو گا، احتساب کو سیاسی ہی سمجھا جاۓ گا۔
    ہر ریٹائرڈ پبلک آفس ہولڈر کے بچوں اور بیوی کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کو چیک کریں تو قاضی عیسی فائز کا کیس معمولی لگے گا۔

    ہر مافیا اور کارٹل کے پیچھے آپ کو انہی کیٹیگری کے لوگ ذمہ دار نظر آئیں گے۔پاکستان کو بچانا ہے تو صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ بلا امتیاز احتساب ہے اور ایسا احتساب صرف عمران خان کر سکتا ہے کیونکہ شاید صرف وہ اکیلا سیاستدان جو احتساب کے اس عمل میں اپنی مثال پیش کر سکتا ہے۔

    پچاس سال کا گند عمران خان کے کھاتے میں ڈالنے کی سازش ہو رہی ہے۔

  • سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔  ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ

    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔ ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ

    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)

    سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے آخری انٹرویو کی ویڈیو سن لیں تو آبدیدہ ہو جائیں گے۔ ایک ملک گیر جماعت جس کے تحت اربوں کا سالانہ ریلیف ورک ہوتا ہو ۔ جس جماعت کے ٹکٹ پر ممبران اسمبلی اور سینیٹر بنتے ہوں ۔ اسی جماعت کے وہ امیر رہے ۔ وہ اپنے اثاثے ظاہر کر رہا ہے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو ۔
    "کہا کہ چھوٹے سے گھر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ ہاں البتہ قرضہ ہے جسے اتارنے کی استطاعت بھی نہیں ۔ کوئی اگر ہمدردی رکھتا ہے تو رابطہ کر لے” ۔
    یہاں کوئی کونسلر بن جائے تو اس کی نسلیں سنور جاتی ہیں ۔ سیاست کے نام پر لوگ ارب پتی بن جاتے ہیں ۔ لیکن یہ دینی طبقے کی ایمانداری اور اعلی ترین اخلاقیات کا اظہار ہی تو ہے ۔ ایک جماعت میں پوری زندگی گزارنے والا زندگی کی بنیادی سہولیات نہ پوری کر سکا ۔۔۔ قرض ہے تو اتارنے کی استطاعت ہی نہیں ۔۔ ہمارے ہاں ایسے مناظر کسی معجزے سے کم نہیں کہ جہاں سیاست امارت کے حصول کا ذریعہ ہو ۔
    سیاست و دین یکجا ہوں تو ایسے ہی مناظر سامنے آتے ہیں ۔ اگر سیاست کو واقعی دینی فریضہ سمجھ کر کیا جائے ۔یہی دینی سیاست کا خاصہ ہے ۔۔
    کاروبار کرنا ۔ حلال ذرائع سے رزق کمانا ہر ایک کا حق ہے وہ دیندار ہو یا کوئی اور لیکن کمال صرف یہ کہ اختیار ملے ۔ فنڈز وافر ہوں اور پھر بھی ایمانداری کی مثال قائم کی جائے۔ ایسا نہیں کہ دیندار ہوتے ہوئے اچھا کاروباری یا امیر ہونا منع ہے ۔ لیکن یہاں بات ہو رہی ہے ایک کارکن کی بے لوث خدمات کی ۔ جس نے زندگی بھر صرف اپنی جماعت تحریک کا سوچا خود اپنے بارے نہیں ۔۔۔
    دوسری جانب دینی جماعتوں کے بڑوں ۔ ان میں موجود ایسے افراد کہ جنہیں اللہ نے صاحب ثروت بنایا ہے ۔ ان کےلئے بھی ایک سبق ہے کہ جو اپنی زندگی کسی تحریک کو وقف کر دے ۔ بے لوث ہو کر ہمہ وقت جماعت اور تحریک کی سربلندی کے لئے سرگرم رہے ۔ کبھی تھوڑا وقت ملے تو اس کے حالات پر بھی نظر ڈال لیا کریں ۔ یقین مانیں افراد قیمتی ہوتے ہیں ۔ اگر وہ آپکے ادارے ۔ جماعت یا تحریک کیساتھ جڑے ہیں ۔ باصلاحیت ہیں تو کچھ ان کے حالات پر بھی نظر رکھیں۔
    کہیں وہ تحریک ۔ جماعت کی خاطر زندگی کی بنیادی سہولیات سے تو محروم نہیں ہو چکے ۔۔ یہ نہیں کہ جماعت کی امارت سے فارغ ہوے تو ایک سوٹ کیس میں روانہ ہونیوالے اس درویش کو کسی نے زندگی بھر بعد میں کسی نے پوچھا تک نہیں ۔ وہ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں پتہ نہیں کس جبر کیساتھ قرض کا ذکر کر رہا ہے
    سید منور حسن کے اثاثے ۔۔ یقین مانیں جہاں اس مرد درویش نے ایمانداری ۔ بے لوث جماعت کی خدمت ۔ یہ ایک روشن مثال ہے ۔ وہ اہم رہنما ۔ بعد ازاں امیر جماعت رہے ۔ ہر کوئی ان سے ملنا اور انہیں اپنے پاس بلانا چاہتا ہو گا ۔ لیکن شائد کبھی کسی نے غور ہی نہیں کیا ان کے وسائل اس سب کی اجازت دیتے بھی ہیں کہ نہیں ۔ انہوں نے تو جو کچھ تھا جماعت کی خدمت میں لگا دیا اور اپنے لئے کوئی ” اثاثہ” نہ بنا سکے ۔۔
    سید منور حسن کا روشن کردار دینی جماعتوں ۔ دینی اداروں اور دینی طبقے کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ اگر کوئی باصلاحیت ۔ بے لوث ہمہ وقت سرگرم تحریک ادارے یا جماعت کے لئے زندگی وقف کر بیٹھا ہے تو اس کی قدر کریں ۔ یہ نہ ہو کہ وہ زندگی کے آخری ایام میں یوں اظہار کرنے پر مجبور ہو کہ ” مجھ پر قرض ہے ۔ کسی کو مجھ سے ہمدردی ہو تو رابطہ کرے ” ۔ ۔ ایسے دینی جماعتوں ۔اداروں اور تحریکوں سے منسلک باصلاحیت نوجوانوں ۔ بے لوث ۔ ایماندار عہدیداروں کی قدر کریں ۔۔ افراد کے متبادل نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی اپنی صلاحیتیں ۔ وقت اور خلوص وقف کر بیٹھا ہے تو اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا اس کے احباب کا بھی فرض ہے ۔۔کتنے ہی باصلاحیت ہیرے جب ان کو گھریلو مجبوریوں نے جکڑ کر رکھ دیا تو وہ تحریک و جماعت کی بجائے معاش کےلئے فکر مند ہو گئے ۔ جن کے منسلک رہنے سے جماعت ادارہ مضبوط بن جاتا وہ ساتھ نہ چل سکے اور ان کی جگہ خوشامدی ۔ نو دولتیے اور کم صلاحیت کے حامل افراد نے بھاگ دوڑ سنبھال لی۔ اور شائد یہی ہمارے ہاں دینی جماعتوں اداروں اور تحریکوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہاں باصلاحیت افراد کو منسلک نہیں رکھا جا سکا ۔

  • رب کی رضا…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    رب کی رضا…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    رب کی رضا…!!!
    [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔
    رب کی جو رضا ہے…
    وہ ہی تو بڑی عطا ہے…
    یاں محبتوں کا سفر…
    ہر حال میں وفا ہے…
    ملتا ہے کُچھ یا کھوئیں…
    شکر کی ہی صدا ہے…
    ہم کر بھی ہیں کیا سکتے؟
    بے بسی کی اک نَوا ہے…
    اُس کی رضا میں جینے کا…
    الگ سا ہی اک مزہ ہے…
    زندگی گزرتی ہے جب ہماری…
    آزمائش کے پاٹوں سے…
    وہاں سے نکل کر زندگی…
    ہوتی عزم و برداشت کا دِیا ہے…
    پھر سفر کی صعوبتوں سے…
    ٹکرانے کی سیکھتی اَدا ہے…!
    نا شکری کے کلمات سے…
    ہوتا وجود یہ کھوکھلا ہے…
    بہادری کی صفت ہے چھِنتی…
    شکوؤں کی ہی مالا ہے…
    کسی پَل نہیں ملتا سکوں…
    اُلجھنوں کی ہی ردا ہے…
    جو نصیب ہے، نہیں اس سے مفر…
    جو نصیب نہیں، ملے وہ کیونکر؟
    دامن میں اپنے رہیں سدا…
    بھرے خیر کے ہی موتی…
    نشیب و فراز سے گزرتے…
    دل کی یہی دُعا ہے…!!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔