سارے حساب…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر …
دلوں میں اُٹھتے ہیں جو سب خیالات…
ہیں تلاش کرتے ہیں جو اُن کی تعبیر…
عملِ صالح کی ہر اک اَدا…
اور ریا کاری کے انداز حقیر…
مخلصی کے رنگ کی وسعتیں…
اور جو ہوتے ہیں ظاہریت کے سفیر…
اس کی یاد سے دھڑکتے ہوں دل…
یا پھر غفلتوں کے ہوں مارے خمیر…
وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
جزا کے ضیاع کا ہے نہیں کوئی ڈر…
سزا سے ہو سکے گا کیسے مفر…؟
اک یومِ حساب ہے اور وہ محتسب…
پھر جنت کے سکوں ہوں یا عذابِ سعیر…؟
وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
جو ظاہر ہیں ہم اور جو ہیں درِ پردہ…!!!
اک ایک پَل کے عمل ہیں جو کردہ…
لکھتے ہیں ساتھ ساتھ کِرامًا کاتبین…
واں ہوں گے جواب دہ کھڑے غریب و امیر…
آؤ کہ کریں نیتوں کے ہم سیدھے رُخ…
زندگی کے ایام میں نہ دیں کسی کو دُکھ…
رب کی رضا کو کریں اپنا ایماں…
وقت ہے بہت کم،جمع کر لیں ساماں…
سفر ہے طویل اور یہ زندگی ہے قلیل…
رہیں حق کے ہی داعی اور حق کے مشیر…
آتے ہوئے ہر خیال سے، قدم نہ ڈگمگائے یہ…
اُٹھے سدا وہ قدم،کہ مطمئن رہے پھر اپنا ضمیر…
میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر…!!!!!!!
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
Category: بلاگ
-

وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول
-

ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ از قلم۔۔۔مشی حیات
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
از قلم۔۔۔مشی حیات
اے دنیا تے دنیا دی ہر چیز فانیاے دنیا ہے صرف چند دن دی زندگانی
دنیا میں آنکھ کھولی تو اذان کانوں میں سنائی گئی کہ میں مسلمان ہوں۔۔۔
اور جب دار فانی سے کوچ کیا تو نماز پڑھادی گئی کہ مسلمان آیا تھا رب کی امانت تھا واپس چلا گیا۔۔۔۔
پچپن سے جوانی۔۔جوانی سے بڑھاپا۔۔۔یہ سفر طے ہوا اے انسان تیرا۔۔
اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اور لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا۔۔
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔
میرا گھر والوں کے ساتھ قبرستان کی طرف جانا ہوا۔۔
امی جان سے اسرار کیا کہ ابو جی کی قبر پر دعا کر آتے ہیں۔۔
انتہائی زیادہ اموات اور وہ بھی اللہ کے دین کے علماء کی۔۔ان سب سے دل پر بہت زیادہ غم تھا جو صرف اس خاموش اور سنسان جگہ جہاں نجانے کہاں میری جگہ بھی لکھی میرے رب نے۔۔وہاں پر ہی کم ہو سکتا تھا ۔۔۔گھر سے روانہ ہوئے۔ سوچوں کا سفر بھی جاری ہوا۔۔
میرے ذہن میں تمام مرحوم علماء اکرام گردش کرنے لگے۔۔کتنے اچھے اللہ کے بندے تھے دین کا کام کر گئے۔۔ہر کوئی انکی اچھائی پر مبنی سٹیٹس لگاا رہا۔۔ہر کسی کی زبان سے سنا کہ شیخ بہت اچھے دل کے مالک تھے۔۔آپ نے خالص اللہ کے لیے کام کیا۔۔۔
صرف چند میں 7 علماء اکرام کا اس دور فانی سے کوچ کر جانا انتہائی صدمہ تھا۔۔یہ صدمہ صرف دین کے پاسبانوں کو تھا۔۔
میرے ذہن میں جو سب سے زیادہ سوال تھا وہ یہی تھا کہ اے بنت آدم۔۔۔
آج فلاں شخص اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور دنیا اس کی خوبیاں،اس کا اخلاق،اور اس کے کردار کے بارے کتنی سچائیاں دے رہی۔۔یقینا اللہ کو بھی پسند آئیں ہونگے اپنے برگزیدہ بندے۔۔۔
سوشل میڈیا کے جدید دور میں معلومات ملتے ہی سٹیٹس لگ جاتے ہیں۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعونآج معزز شخص وفات پاگئے ۔۔۔
وفات ہونے والی شخصیت صرف چند سیکنڈ میں ماضی بن جاتی ہے۔۔
ایک دن وہ بھی ہے جب میرا رب مجھے اس دار فانی سے اٹھا لے جائے گا۔۔میری زندگی کے بھی سٹیٹس لگ جائیں گے کہ بنت فلاں اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔بہن اچھی تھی ۔۔عمدہ اخلاق کی مالک تھی۔۔یا پھر غلطی سے جن کا دل دکھا وہ میری اپنے انداز سے زندگی کا سٹیٹس لگائیں گے۔۔۔۔مگر تو کیا جانے سٹیٹس لگانے والے جب تو لکھے کہ بنت فلاں کا جنازہ بعد نماز ادا کیا جائے گا۔۔۔تیرا سٹیٹس لگ جائے گا تیرے سیل میں موجود لوگ دیکھ لیں گے۔۔مگر میری زندگی کا حقیقی سٹیٹس اس وقت میرے رب کے فرشتے لے رہے ہونگے۔۔۔ وہ پوچھے گے بتا۔۔۔۔
تیرا رب کون ہے؟
تیرا نبی تیرا دین کون ہے۔۔۔؟
تو کیا جانے گا اس وقت کا عالم۔۔۔
کوئی بھی جان نہیں سکتا وہ لمحہ نہ وہ سٹیٹس ہی کوئی لکھ پائے گا کہ فلاں شخص نے فلاں جواب دیا۔۔۔۔۔
فرشتے مجھے جنجھوڑے گے۔۔اگر میرا کردار اسلام کے مابین اور اسوہ رسول کے مطابق ہوا تو میں کہہ دوں گی۔۔
میرا رب اللہ ہے۔۔۔
میرا نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اور میرا دین اسلام ہے۔۔
اگر میں نے اسلام کو چھوڑا اور غلط رستہ اپنایا تو مجھے کیا معلوم۔۔۔میں جواب دے پائوں بھی یا نہیں۔۔۔۔
یہ دنیا عارضی ہے۔۔یہ دنیا محض کھیل تماشہ ہے۔۔زندگی رب کی امانت ہے اور امانت لوٹانی پڑتی ہے ہر حال میں۔۔
کیوں نہ ہم کچھ اچھا کر گزرے۔۔
اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے ۔۔اللہ کے آگے سر سجدہ ہو جائے۔۔یا رب مجھے معاف کردے۔۔
اپنے گناہوں کو صاف کروا کر نیکیوں میں بدل لیں ۔۔
زندگی موقع نہیں دیتی۔۔
اگر ابھی جسم میں روح ہے تو رب کا ہم پر انعام ہے۔۔۔
اللہ نے ہمیں مہلت دی گناہوں سے معافی کی۔۔۔
آئیے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔۔
اللہ ہمیں بخش دے۔۔ہمیں معاف کردے
یا رب ہمیں نیک اور شہادت کی موت عطا کرنا۔۔
ہمیں زندہ اسلام پر رکھنا اور موت کلمہ شہادت پر دینا ۔۔
آمین یا رب العلمین۔۔۔
اگر ہم نے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیا اگر ہماری بخشش ہوگئی تو یقینا ہم اپنے رب سے سرخرو ہو جائیں گے۔۔۔۔۔ان شآءاللہ العزیز۔۔۔۔
-

آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول
آسمانِ علم کے ستارے…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
آسمانِ علم کے یہ ستارے…
کیوں ڈوب رہے ہیں سارے…
شیوخ کی برکتوں سے خالی…
کیوں ہو رہے ہیں دامن ہمارے…؟
اس امت کو ہے بہت ضرورت…
ابھی تو پھرتے ہیں مارے مارے…
میری قوم کے نوجواں کو…
اور بھٹکے ہوئے ہر انساں کو…
ابھی دینا ہے شعور روشنیوں کا…
درس انسانیت سے محبتوں کا…
محبتوں اور روشنیوں کے پیامبر…
جا رہے ہیں اک ایک کر کے پیارے…
جہل کے پھیلنےاورعلم کے اُٹھنے کے…
بہہ رہے ہیں اندر ہی اندر درد کے دھارے…
انبیاء کے وارثوں کی خدارا قدر کریں ہم…
علم کے موتی اپنے دامن میں بھریں ہم…
اس روشنی سےسینے روشن اپنے کریں ہم…
کہیں کھو نہ جائیں ہم سے وقت کے اشارے…
علم کی مجلسوں میں پیدا جو ہوئے خلاء…
بھر دے وہ رحمتوں سے اے ہمارے الٰہ…
علم کی راہوں کے سفر پہ چلیں ہم…
شعور اور عمل کے ماہتاب بنیں ہم…
لحدیں ہوں پُر نور سب کی…
وہ جو روشنیاں پھیلا گئے…
توحید اور رسالت کے مفہوم…
دین،دنیا کے لیئے سمجھا گئے…
کھُلیں رحمت و مغفرت کے باب…
سب کا ٹھکانہ ہو خلدِ بریں…
محشر کے میداں میں ملے…
سب کو سایۂ عرشِ بریں…!!!
============================== -

ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
محمد عبداللہ -

محفوظ بچے بہتر مستقبل—- از—–عاشق علی بخاری
آپ کا معمول تھا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر اکثر جایا کرتے تھے ایک بار ایسا ہوا کہ چھوٹا عمیر اپنی چ|یا کے مرجانے کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کا دل بہلانے کے لیے) فرمایا: ياأباعمير مافعل النغیر تیری چڑیا کیا کرگئی؟
یہی نہیں بلکہ جہاد سے واپس آتے یا گلی میں کھیلتے بچے نظر آتے آپ انہیں سلام کہتے، سواری پہ بٹھالیتے، حسن و حسین رضی اللہ عنہما دوران نماز آپ کی پیٹھ چڑھ جاتے جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا کہ میرے ساتھیوں میں سے کسی کے ہاں اولاد ہوئی ہے آپ انكے گھر جاتے برکت کی دعا کرتے، اپنے ہاتھ سے بچے کو گھٹی دیتے خود نام رکھتے.
ایک بار أقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حسن یا حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دے رہے ہیں أقرع رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے دس بچے ہیں میں کبھی ان سے پیار نہیں کیا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل سے اللہ تعالیٰ نے محبت نکال دی ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بچوں سے متعلق فرمان ہےجو ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں.
اس سے بڑھ کر دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ باری اور حق تو تمہارا ہی کیا میں تم سے بڑے شخص کو دودھ دے دوں؟یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ بچوں اور بالخصوص بچیوں کو حقوق عطا کیے اور معاشرے میں برابری کا حق بھی دیا، اولاد کی بہتر تربیت کے فضائل بھی بتائے. ان اصولوں کو دیکھیں اور دوسری طرف انسانوں کے ظلم اور زیادتیوں کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، کیا بس دنوں کا خاص کردینا ہی معصوم کلیوں پر کیے جانے والے ظلم، جبر اور زیادتیوں کے داغ مٹانے کے لیے کافی ہیں؟
بچے کو معصوم پھول ہیں جو ہاتھ لگانے سے میلے ہوجائیں آج درندوں وحشیوں سے محفوظ نہیں اور ان وحشیوں کی پشت پناہی کرنے والے ہی ان معصوم جانوں کے لیے خصوصی دن منارہے ہوتے ہیں.
عالمی ادارہ بہبود اطفال کی رپورٹس پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیںعالمی ادارہ لکھتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں دس لاکھ بچے جیلوں میں قید ہیں اور ان کے جرم قتل، ڈکیتی فسادات نہیں بلکہ معمولی معمولی جرائم پر انہیں قید کررکھا ہے.
کشمیر، افغانستان، عراق شام، فلسطین کے بچے تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں کیونکہ وہ کونسا کسی جیل میں قید ہیں.ادارہ اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کرتا ہے کہ ایک کروڑ سترہ لاکھ بچے ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جاتی ہی ہے. یہ مہذب کہلانے والی اقوام کے کالے کرتوت ہیں.
یہی نہیں بلکہ ہر سال تین لاکھ بچے اسمگل کیے جاتے، جنہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، میں پوچھتا ہوں کون کسے بیچتا ہے؟کیا دنیا میں کوئی قانون نہیں؟ کیا اہل دنیا یہ سب نہیں جانتے؟
یقیناً سب جانتے ہوئے ہر ایک آنکھیں بند کیے ہوئے ہے.سب سے بڑھ کر حیرت ناک اور پتی ان کردینے والے اعداد و شمار ان بچوں سے متعلق ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں رہتے ہیں. یہ تعداد 415 ملین ہے جی ہاں 415 ملین!
یعنی دنیا میں موجود ہر چھ میں سے ایک بچہ ایسی جگہ رہنے پہ مجبور ہے جہاں ہر طرف باردود ہی بارود ہے.؛ اور یہی نہیں بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے. انتقام کی آگ تو الگ ہے لیکن یہاں جوان ہونے والے بچوں میں سے اکثر کن کن جرائم میں ملوث ہوتے ہوں گے اس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا.
اغواء، جنسی زیادتی، قتل اسمگلنگ، جسم فروشی، نشے کا کاروبار یہ سب جرائم ان سے جڑے ہیں جنہیں ہم بچے کہتے ہیں. اور یہ ان مہذب اقوام کے منہ پہ سیاہ کالک ہے جو کسی بھی طرح صاف نہیں کی جاسکتی. مشرق وسطیٰ کہ جہاں سب سے زیادہ بچے جنگوں کا شکار ہیں کس نے مسلط کی ہیں؟ افغانستان، عراق، شام کے لاکھوں بچوں کا قاتل کون ہے؟ انڈیا کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں جو گھناؤنے کھیل کھیل رہے ہیں ان کی پشت پناہی کرنے والے سے بھی اہل دانش ناواقف نہیں ہیں.
چاہے امن ہو جنگ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں اگر آج ہم نے انہیں محفوظ اور بہتر مستقبل نہ دیا تو کل یہی بچے ہمارے مستقبل کو برباد کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، ضروت اس بات کی ہے والدین اور حکومتیں اپنا اپنا کردار ادا کریں.
قلمکار: عاشق علی بخاری
ای میل: abuhurerrabukhari@gmail.com
موبائل نمبر: 03013582389 -

جارج فلوئڈ، جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن اور ہمارا احتجاج تحریر محمد نعیم شہزاد
جارج فلوئڈ، جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن اور ہمارا احتجاج
محمد نعیم شہزاداس دنیا کے رنگ نرالے ہیں، امریکہ میں ایک سیاہ فام پولیس سے کی انتظامی کاروائی سے ہلاک ہوتا ہے تو اس پر پوری دنیا میں احتجاج بپا کیا جاتا ہے۔ دنیا کرونا وائرس کی زد میں ہے اس کے باوجود لوگ گھروں سے نکلتے ہیں اور احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ پوری دنیا میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ دوسری طرف دس ماہ سے زیادہ مدت سے کشمیری بدترین کرفیو اور لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں، وہی کشمیری جہاں بھارت گزشتہ 73 برس سے ناجائز قبضہ کیے ہوئے ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ دوبارہ سے بدترین خود ساختہ encounter میں گزشتہ دو دن میں 18 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد کسی اقلیتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے یہ مظلوم افراد قریب 60 ممالک کے سرکاری مذہب کے ماننے والے کلمہ گو ہیں۔ اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے مگر یہ کلمہ پڑھنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد سے نا آشنا اور بیگانہ ہو گئے ہیں، انھیں فلسطین اور شام میں بے گھر اور بے سہارا بچے نظر نہیں آتے، ان کے دل ان کے دکھ سے نہیں پسیجتے اور یہ ان کے لیے ایک آواز بلند کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ آج کا دن ہم عالمی طور جنگ کا شکار معصوم بچوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ تاریخ کی ورق گردانی کیجیے تو معلوم ہو گا 19 اگست 1982 میں اقوام متحدہ میں کیوں قرارداد پاس کی گئی اور اس دن کے منانے کا آغاز کیا گیا۔ انتہائی کسمپرسی کا عالم ہے کہ یہ دن اسرائیلی جنگی جارحیت کا شکار ہونے والے معصوم فلسطینی اور لبنانی بچوں کے نام پر منایا گیا جو تاحال اسی کرب اور جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے شب و روز اب بھی ویسے ہیں اور ان کی شنوائی کسی فورم پر نہیں ہو پاتی۔ اور ہو بھی کس طرح جب اپنی قوم کے لوگ بیگانہ ہو گئے اور ان تکالیف پر بے چین نہ ہوئے تو دوسرا کوئی کیوں مضطرب ہو گا اور اس کا مداوا کرے گا۔ divide and rule کی پالیسی کا شکار مسلم ممالک اور شہریوں میں طرح طرح کی ناچاقیاں اور نا اتفاقیاں ہیں اور مسلم حکومتیں اور ایوان ان سازشوں کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ سبق اللہ تعالیٰ نے اپنی الہامی کتاب کے ذریعے بھی سکھا دیا تھا کہ آپس کی ناچاقی اور بے اتفاقی کا نتیجہ دنیا میں کمزوری اور بے توقیری کی صورت بھگتنا پڑے گا۔
اتحاد کی کوششوں کو دیکھا جائے تو اس میں بھی واضح گروپ بندی اور بلاکس نظر آتے ہیں۔ کہیں لوگ اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ان کے لیے اپنے معاشی پلان اور پروگرام سب سے بڑھ کر ہیں۔ اپنے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کر کے آج ہم مغربی اقوام متحدہ کی جانب امید سے دیکھتے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کی مظلومیت پر ان سے انصاف اور مساوات کا سوال کرتے ہیں کبھی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں سے سوال کرتے نظر آتے ہیں اور خود اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ یہ ادارے رسمی کاروائی کرتے ہیں ان کی کارکردگی رپورٹس جاری کرنے سے بڑھ کر کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی تو پھر ہم کیوں انہیں اداروں کے سامنے اپنے مسائل اجاگر کرنے پر مجبور ہیں؟ کیا دھوکہ یہ عالمی ادارے دے رہے ہیں یا ہم خود کسی اور دھوکے میں مبتلا ہیں؟
اسی کتاب ہدی جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں کہ لاریب ہے ہمیں یہ بھی سکھا دیا کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپنی حالت بدلنے کی خود سے فکر نہ ہو۔ تو آخر ہم کب تک خواب غفلت میں پڑے رہیں گے؟ اللہ تعالیٰ کی پکڑ شدید اور اس کا عذاب بڑا دردناک ہے۔ کرونا کا وبال سب کے سامنے ہے۔ یہ وقت توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے اور متحد ہونے کا وقت ہے۔ جب تک اپنی صفوں میں اتحاد کی فضا قائم نہیں کی جائے گی اور امت اسی طرح بٹی رہے گی مسلم قوم کی حالت درست نہیں ہو سکے گی۔ ظالم کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو گا اور رسول عربی کے ماننے والے ابتلاء کا شکار رہیں گے۔ -

دن منانا جاری و ساری ہے…!!! بقلم:جویریہ بتول
دن منانا جاری و ساری ہے…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
واں خون کی ہولی جاری ہے…
اور سو رہی دنیا ساری ہے…
زباں بھی گنگ ہے سب کی…
اور سماعت پہ پردہ بھاری ہے…
واں جوانیوں کی قربانی ہے…
اور آزادی جاں سے پیاری ہے…
اسی نعرے کی گونج ہے واں…
جو عدو پہ ضرب بہت کاری ہے…
واں سلسلہ ٹوٹا،تھما نہیں ہے…
صف بہ صف رزم سے یاری ہے…
واں نہتوں پہ لاکھوں کا پہرا…
عقل کی یوں مت ماری ہے…!!!
یوں حقوق کی گونج تو ہے ہر سُو…
مگر وہاں سننے سے دنیا عاری ہے…
واں انسانوں کے چہرے چھلنی ہیں…
اور انسانیت وہاں بے چاری ہے…
عورتیں اور بچے سہمے ہوئے ہیں…
اور دن منانا جاری و ساری ہے…
واں دیپ آزادی کا تو ہے جل رہا…
اور اسی خوشی سے سرشاری ہے…
واں ماؤں کے لعل کٹ رہے ہیں…
اور جنگ آزادی کی جاری ہے…!!!
=============================== -

بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!! بقلم سلطان سکندر!!!
بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!
Sea Breeze
(سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
یعنی
ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.
Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
"ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے
اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.
یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
Quran 81:18
وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ (التکویر 18#)
اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)
اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.
1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!
-

پاکستان کے لیے لیہہ کی اہمیت تحریر:عدنان عادل
پاکستان کے لیے لیہہ کی اہمیت
بدھ 03 جون 2020ء
تین ہفتوں سے بھارت اور چین کی فوجیں لدّاخ کے علاقہ لیہہ میں چار مختلف مقامات پرآمنے سامنے کھڑی ہیں۔اگر کسی بھی ملک کی فوج نے اپنی پوزیشن سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہ کشیدگی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ دونوں ملکوں نے فوجوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے ‘بھاری ہتھیار سرحد پر پہنچا دیے ہیں۔ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر فضا میں نگرانی کے لیے چکر لگا رہے ہیں۔ جنگ نہ سہی لیکن یہ سرحدی تناؤ طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔لیہہ پر بھارت اور چین کا جھگڑا پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کا مقبوضہ علاقہ لیہہ بہت اونچائی پر واقع ایک برفانی صحرا ہے جس میں ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ اس میں بہت بلند میدان اورگہری گہری گھاٹیاں ہیں۔ آبادی بہت کم ہے ‘ سوا لاکھ سے کچھ زیادہ جس میں ستّر فیصد بدھ مت کے ماننے والے ہیں‘ لدّاخی بولی بولتے ہیںجو تبتی زبان کا ایک لہجہ ہے۔سترہ فیصد آبادی مسلمان اور گیارہ فیصد ہندو ہیں۔ لوگ نسلی اعتبار سے تبتی ہیں‘انکا کلچر‘ رہن سہن بالکل تبت جیسا ہے جو لیہہ کے مشرق میں واقع ہے۔ چین لیہہ کو تبت کا ہی حصہ سمجھتا ہے اور اسے متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے۔تاہم بھارت نے اسے حال ہی میں اپنی ریاست قرار دیا ہے۔ انگریز دور میں یہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔قانونی طور پر اسکا تصفیہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے منسلک ہے۔لیہہ کے مغرب میں کشمیر کی وادی‘ شمال مغرب میں کارگل کا علاقہ ہے۔شمال میں مشرق کے جانب پاکستان کا علاقہ اسکردو(بلتستان) ہے۔سب سے اہم ‘اسکے شمال میں بالکل مشرق کی جانب چین میں واقع درّہ قراقرم ہے جہاں سے گزرنے والی سڑک چین کے صوبہ سنکیانگ کو تبت سے ملاتی ہے۔ اسی درّہ سے مزید آگے شمال کے جانب چین اور پاکستان کو ملانے والی شاہراہِ ریشم یاقراقرم ہائی وے گزرتی ہے۔جنوب میں بھارت کا صوبہ ہماچل پردیش ہے۔لیہہ شہر تک پہنچنے کے لیے سری نگر سے لیہہ تک ایک بڑی شاہراہ موجود ہے۔ دوسری دشوار گزارسڑک جنوب میں بھارت کے ہماچل پردیش کے شہر منالی سے شمال کی جانب چلتی ہو ئی لیہہ تک پہنچتی ہے۔ دلی اور چندی گڑھ سے مسافر طیارے لیہہ کے ائیر پورٹ پر آتے جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے پینتالیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا لیہہ کا علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ہماری زراعت اور پانی کا سب سے بڑا وسیلہ دریائے سندھ تبت کے جنوب میں ایک جھیل سے شروع ہوکر لیہہ کے علاقہ میں داخل ہوتا ہے اورشمال کے جانب سینکڑوں کلومیٹر سفر کرتا ہو ا بلتستان میں داخل ہوتا ہے۔لیہہ کا چھوٹا سا شہر بھی دریائے سندھ کے بالکل قریب واقع ہے۔ دریائے سندھ کے کئی معاون دریا اور ندیاںجیسے دریائے شیوک‘ گلوان‘ زاسکروغیرہ لیہہ میں بہتے ہیں۔ یہ دریا گلیشیروں کے پگھلنے اور بارشوں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ بھارت ان دریاؤں اور ندی نالوں پر ڈیم بناکر دریائے سندھ کا بہاؤ کم کرسکتا ہے جیسا کہ اس نے چناب اور جہلم پر کیا ہے۔ گزشتہ دس بیس برسوں میں بھارت نے اس علاقہ میں اپنی سرگرمیاں تیزی سے بڑھا دی ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی جگہوں پر نئی نئی سڑکیں ‘ فوجی چوکیاں‘جنگی طیاروں کیلیے ائیر فیلڈ بنائے ہیں۔ بھارتی لیڈرز بار بار پاکستان کو دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ خطرہ موجود ہے کہ بھارت جلد یا بدیر دریائے سندھ کے پانی سے چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے۔جب بھارت نے دریائے چناب پر منصوبے بنانے شروع کیے تو پاکستانی بے خبر سوتے رہے۔ جب پراجیکٹ مکمل ہوگئے تو پاکستان نے ان کے خلاف شور مچانا شروع کیا۔ اگرلیہہ میں دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاؤںپر ہم نے کڑی نظر نہ رکھی تو یہاں بھی بھارت وہی کھیل دہرا سکتا ہے۔ بھارت نے لیہہ کے مشرقی کنارے کے قریب انجینئرنگ کا شاہکار سمجھے جانے والی بڑی بڑی نئی سڑکیں بنائی ہیں جو اسکے شمال مشرق میں واقع آخری فوجی اڈہ تک جاتی ہیں۔ اس فوجی پوسٹ کو دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او)کہا جاتا ہے۔ یہ اڈ ہ چین میں واقع درّہ قراقرم سے صرف آٹھ کلومیٹر نیچے جنوب میں واقع ہے۔ مطلب ‘ بھارت اگر چاہے تو اس فوجی اڈہ سے کارروائی کرکے درہ قراقرم کو بند کرسکتا ہے جس سے تبت اور سنکیانگ کا رابطہ کٹ جائے گا۔ اسکا نقصان صرف چین کو نہیں بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا کیونکہ ہماری شاہراہ قراقرم بھی غیر محفوظ ہوجائے گی۔یہ سڑک سی پیک منصوبہ کا اہم ترین حصہ ہے۔ لیہہ کے مشرقی کنارے پر تبت کی سرحد کے قریب بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاںاس کے خطرناک عزائم کا پتہ دیتی ہیں۔ خاص طور سے جب وہ یکطرفہ طور پر جموں کشمیر ریاست اور لدّاخ کو اپنا باقاعدہ حصہ قرار دے چکا ہے۔ یہ خدشات موجود ہیں کہ دِلّی سرکار لیہہ میں امریکی فوجوںکو بھی سہولیات مہیا کرنا چاہتا ہے جنہیں چین کے خلاف استعمال کیا جاسکے گا۔ انہی خدشات کے پیش نظر چین نے لیہہ کے شمال مشرق میں واقع دریائے گلوان کے وادی میں پیش قدمی کرکے تقریبا چالیس مربع کلومیٹر کے علاقہ پر اپنی فوجی چوکیاں بنادی ہیں۔ پاکستان کے لیے لیہہ دفاعی اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اسکے شمال میںقریب ہی اسکردو واقع ہے اور ذرا مغرب کی جانب سیاچن گلیشئیرکو بھی راستہ جاتا ہے۔لیہہ اور اسکردو شہر سوا دو سو کلومیٹر فاصلہ پر ہیں لیکن ان کے اضلاع کی سرحد متصل ہے۔ اس کے قریب ہی ہمارا دیا مربھاشا ڈیم تعمیر ہورہا ہے۔ بھارت نے گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ قرار دیا ہوا ہے۔ اس کے وزیر داخلہ امیت شاہ اپنی پارلیمان میں کھڑے ہوکر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا ملک گلگت بلتستان پر قبضہ کرے گا۔ دلی سرکار دیامر بھاشا ڈیم کی بھی مخالف ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین اکثر یہ کہتے ہیں کہ اُنکی فوج اسکردو پرآسانی سے قبضہ کرسکتی ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کی لیہہ میں سرگرمیوں کا ایک بڑا ہدف پاکستان میں واقع بلتستان کا علاقہ بھی ہے۔چین کی موجودہ بروقت فوجی کارروائی صرف اسکی اپنی سلامتی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع کے لیے بھی اہم ہے۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کو بھی بلتستان میں اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانا پڑے گا۔ -

مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال، شہادتوں میں اضافے کی وجوہات اور پاکستان کا کردار !!! محمد عبداللہ
مقبوضہ وادی کشمیر کے ایشو پر اگر لالی پاپس چاہیں تو ہزار مل جائیں گے، ہم مانتے اور جانتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کے انبار ہیں جن میں گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے کچھ کرنے سے سے قاصر ہے لیکن جو حقیقت ہے وہ تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم نے بھارت کو کشمیر پر ٹینشن فری کردیا ہے اور فری ہینڈ دے دیا ہے اور وہ مقبوضہ سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے. سب اچھا کی گردان کرنے والوں کو بتلاتا چلوں کہ کشمیر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پندرہ حریت پسند شہید ہوچکے ہیں، صرف اپریل میں کشمیر میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس سے زیادہ تھی اور جنوری دو ہزار بیس سے لے کر آج 2 جون تک سو سے زائد کشمیری ماؤں کے لخت جگر اپنی قیمتی جانیں اس آزادی کی خاطر قربان کرچکے ہیں. تین سو سے زائد دنوں پر مشتمل ٹرپل لاک ڈاؤن نے جہاں اہل کشمیر کی رہی سہی معیشت کو تباہ و برباد کردیا ہے وہیں حریت پسندوں کی موومنٹ وغیرہ محدود ہونے اور بھارتی فوج کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی کثرت نے حریت پسندوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے. کشمیر کی سنجیدہ حریت قیادت ساری کی ساری بھارتی قید و بند میں ہے آجاکے یہی نوجوان تھے جو قافلہ آزادی کشمیر کی بھاگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے ایسے میں ان قیمتی ترین نوجوانوں کی مسلسل شہادتیں اور گرفتاریاں دیکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور تحریک آزادی کشمیر سے جڑے افراد تو اس پر سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے. بھارت جہاں فوجی آپریشن کے ساتھ مسلسل کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہا ہے وہیں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے قانونی پہلوؤں سے بھی کشمیریوں کے ہاتھ کس کر باندھ رہا ہے. دوسری طرف ایک ایف اے ٹی ایف کے خوف کو لے کر ہم لوگوں نے اہل کشمیر کی مدد کے ممکنہ سبھی آپشنز ایک ایک کرکے بند کردیئے لیکن ایف اے ٹی ایف کا رانجھا پھر بھی راضی نہ ہوا. ایف اے ٹی ایف سے ہمیں خوف تھا کہ ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی پابندیاں لگ جائیں گی، کوئی ملک تجارت نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن کرونا اس سے بھی بڑی بلا ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف تو فقط ہم پر عالمی پابندیاں ہی لگا پاتی (جوکہ ہرگز نہیں لگاسکتے تھے جب تک امریکہ افغان چنگل سے نکل نہیں جاتا) جبکہ کرونا نے تو آپ کی دکانیں تک بند کروا دیں لیکن آپ مرے نہیں ہیں زندہ ہیں تو اہل کشمیر کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیے. ٹویٹس اقوام عالم پر حجت تمام کرنے کو ضرور کیجیئے (ٹویٹس کرنے کو ایکٹوسٹس ہزار ہیں جو روزانہ ٹرینڈز کرکے کسی حد تک کشمیر ایشو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں) لیکن اگر ان عالمی اداروں اور سپر پاورز نے کشمیر کے حوالے سے کچھ کرنا ہوتا تو اب تک کرچکے ہوتے یہ مسئلہ بلکہ جنگ آپ کی ہے جو آپ کو ہی لڑنا ہے. ٹویٹس اور تقاریر سے آگے بڑھیے اور ممکنہ سبھی آپشنز کو استعمال کیجیئے. جو کرسکتے ہیں وہ تو کریں اللہ آسمانوں سے مدد نازل کرے گا لیکن فضائے بدر پیدا کرنا پڑے گی.
وما توفیقی الا باللہ
محمد عبداللہ