اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔
تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔۔ آباد رہی نمازیں ہوتی رہیں ۔ لیکن اب خستہ حالی ویرانی کا شکار ہے ۔۔ اس کے بلکل قریب موجود گوردوارہ اور شیولنگ اس لسٹ میں شامل ہیں جنہیں 400 مندروں کی بحالی کے پروگرام کے تحت تعمیر و مرمت کئے جانا ہے ۔ یہ سب تاریخی عمارات موڑ ایمن آباد ضلع گوجرانولہ میں ہیں ۔
لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔ یہ بحالی پروگرام میں شامل نہیں ہو سکتی ۔
اب تصویر کا ایک دوسرا رخ دیکھیں ۔ گزشتہ دنوں اس کی تصاویر شئیر کیں گئیں تو ملک بھر اور بیرون ملک سے کئی شخصیات اور ادارے اس تاریخی مسجد کو بحال کرنے پر خرچ کے لئے تیار ہوئے ۔ ڈپٹی کمشنر کے وفد نے وزٹ بھی کیا ۔ لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ جگہ محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے ۔ آثار قدیمہ کے ہیڈ آفس میں رابطہ ہوا ۔ تو بتایا گیا کہ کوئی بھی پرائیویٹ شخص یا ادارہ اس پر خرچ نہیں کر سکتا ۔ صرف محکمہ ازخود خرچ کر سکتا ہے ۔یا پھر اقوام متحدہ یا کسی دوسری گورنمنٹ کا پراجیکٹ حکومت پاکستان کے ذریعے ہو ۔ جبکہ محکمے کے پاس فنڈ ہی نہیں ہیں ۔۔ حالانکہ سیالکوٹ ۔ پشاور ۔راج کٹاس سمیت دیگر مندروں کو اسی محکمہ آثار قدیمہ نے تعمیر و بحال کیا ہے ۔ لیکن اس مسجد کی باری نہیں آ سکی ۔۔
المیہ دیکھیں کہ ایک تاریخی مسجد جسے اہل خیر اپنے پیسوں سے بحال کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر سکتے ۔ محکمہ اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن دوسری جانب وہی محکمہ مندر و گوردواروں پر کروڑوں خرچ کر رہا ہے ۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ مسلمان ایک مسجد کو اپنے پیسوں پر بھی بحال نہیں کر سکتے لیکن مندر گوردوارے سرکاری خرچ پر تعمیر و بحال کئے جا رہے ہیں ۔۔
(ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)
Category: بلاگ
-

اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ
-

محمدعلی جناح، امت مسلمہ اور "سب سے پہلے” کیا؟ از بلال شوکت آزاد
محمدعلی جناح، امت مسلمہ اور "سب سے پہلے” کیا؟
بلال شوکت آزادایک نظریہ اتنا اٹل اور لاثانی ہونا چاہیے عقیدے کی طرح کہ اس کی حقانیت سمجھانے اور منوانے کے لیے بحث اور تذلیل کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔
جس نظریہ کی حقانیت مشکوک ہوگی وہ سرراہ مباحث کا شکار ہوگا اور اس پر اعتراض اٹھتے رہیں گے تاآنکہ دلیل سے اس کی حقانیت واضح کردی جائے یا پھر لاجواب ہوکر تذلیل سے خود نظریہ کو بدنام کروالیا جائے۔
دوقومی نظریہ اور نظریہ پاکستان حقیقی اور لاثانی نظریات کے عکاس ہیں عقیدے کی طرح لہذا ان کو چیلنج کرنے والے کبھی سرخرو نہیں ہوئے جبکہ یہ نظریات دن بہ دن دلوں میں راسخ اور اذہان میں صیقل ہوتے گئے اور ہو رہے ہیں۔
اور برسبیل تذکرہ بتادوں کہ ان نظریات میں اسلام ضرورت نہیں بلکہ بنیاد کے طور پر موجود تھا, ہے اور رہے گا جس سے یہ پتہ چلا کہ اسلام نے الگ وطن کی چاہ دی نہ کہ الگ وطن نے اسلام کی تو یہ بات یہیں ختم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے کیا؟
محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تحریک آزادی دراصل اسلام کے بطن سے ہی پھوٹی ہے کہ مسلمان برصغیر کی ایک قوت بنیں اور اپنے اسلامی تشخص کے ساتھ امت مسلمہ کے رہبر و محافظ بنیں لیکن ان کی پوری زندگی اور تحریک کے مطالعے کے دوران یہ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ برصغیر کے مسلمان آزاد وطن لیکر اس کی سرحدوں میں خود کو قید کرلیں گے بلکہ اگر قائدآعظم کے آخری ایام کا مشاہدہ و مطالعہ کریں تو انہیں پاکستان کی بطور رہنما فکر تھی لیکن بطور مسلمان اور ایک نوزائیدہ اسلامی ملک کے مختار کل وہ امت مسلمہ کے لیے فکر مند تھے۔
شاید آپ احباب کو یہی پتہ ہو کہ فلسطین کی حالت زار پر وہ پریشان اور فکر مند تھے جبکہ اسرائیل کے لیے شدید اور سخت افکاررکھتے تھے جوکہ یہ سمجھانے کو کافی ہے کہ اس وقت کٹی پھٹی حالت میں بھی انہوں نے امت مسلمہ کو اسلام کے مضبوط رشتے اور نظریہ کی وجہ سے اول رکھا نا کہ حاصل شدہ وطن کو لیکن وہ اس کے علاوہ بھی مسلم ممالک کی دلجوئی اور عسکری مدد کے خواہاں رہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ
—انڈونیشیا کے قومی انقلاب کے دوران ، محمد علی جناح نے برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے والے مسلمان فوجیوں کو انڈونیشیا کے ڈچ امپیریل نوآبادیات کے خلاف اپنی لڑائی میں انڈونیشیا کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں ، برطانوی ہندوستانی فوج کے 600 مسلم فوجیوں نے نوآبادیاتی قوتوں کو اپنا حصہ داؤ پر لگاتے ہوئے ، اور انڈونیشیا کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان 600 فوجیوں میں سے 500 فوجی جنگ میں شہید ہوئے۔ جبکہ بچ جانے والے افراد پاکستان واپس آئے یا انڈونیشیا میں رہتے رہے۔
پاکستان سے مسلمان فوجیوں کی مدد کے اعتراف کے طور پر ، 17 اگست ، 1995 کو انڈونیشیا کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوران ، انڈونیشیا نے زندہ سابق پاکستانی فوجیوں کو آزادی جنگ ایوارڈز دیئے اور پاکستان کے بانی والد محمد علی جناح کو انڈونیشیاء کے سب بڑے ایوارڈ "آدیپورا” سے نوازا, یہ سب "سب سے پہلے اسلام” (امت مسلمہ) کی بہترین مثال پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔
اس کے بعد بات کرتے ہیں جناح اور اسرائیل کی کہ
—اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریان نے مئی 1948 میں پاکستان کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی, جب اس نے محمد علی جناح کو ایک ٹیلیگرام بھیجا تھا۔ محمد علی جناح کی جانب سے کوئی خاص کیا بلکہ کوئی جواب ہی نہیں ملا۔ جناح ، جو در حقیقت صحت کے شدید مسائل میں مبتلا تھے ، ستمبر 1948 میں اپنی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔
1949 تک ، اسرائیل کی وزارت خارجہ کا خیال تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کے دارالحکومت ، کراچی میں اسرائیلی سفارت خانہ کھول سکیں گے یا کم از کم تجارت کو کھل کر کرنا شروع کریں گے۔
اور دوسری جانب لندن میں پاکستانی سفارتکاروں اور مختلف یہودی تنظیموں کے ساتھ منسلک اسرائیل کے نمائندوں کے مابین ابتدائی رابطہ 1950 کے اوائل میں ہوا تھا۔
پاکستانی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو کچھ سو یہودیوں کے لئے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے جو افغانستان چھوڑ کر اسرائیل ہجرت کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے 1948 میں فلسطین کے فلسطینیوں کے انخلاء اور اسرائیل سے ان کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پاکستان کے راستے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ، جس کے بعد افغان یہودی ایران کے راستے روانہ ہوگئے۔
1952 میں ، پاکستانی وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان (احمدی) نے اسرائیل کے خلاف (محمد علی جناح کی آخری ایام زندگی کے وقت متجوزہ پالسیز کی روشنی میں) سخت گیر پالیسیوں کو فروغ دیا ، اور 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کی روشنی میں فلسطین کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی وکالت کی۔
اس طرح ، ایوب خان کی پالیسی نے عرب ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات کی بنیاد رکھی اور دنیائے عالم اور تاقیامت پاکستانی مسلم عوام کو باور کروادیا کہ "سب سے پہلے اسلام” (امت مسلمہ)۔
اسی طرح بانی پاکستان محمد علی جناح نے دیگر پڑوسی اور مسلمان ریاستوں کے ساتھ اسلام کے رشتے سے مضبوط تعلقات کی داغ بیل ڈالنے کی خواہش اور کوشش کی تاکہ امت مسلمہ آگے چل کر متحد, منظم اور مجہد کردار ادا کرے اور مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرلیں کہ بیشک قیام پاکستان نشاتہ ثانیہ کے دیگر ابواب کی طرح ایک اہم اور بڑا باب تھا اور اس وقت مضبوط اور بااختیار پاکستان نشاتہ ثانیہ کا اگلا اہم اور بڑا باب ہے جس کو ہمیں مکمل کرنا ہے پر یاد رہے نشاتہ ثانیہ ایک ایسی بحالی عروج کی مبارک جدوجہد ہے جس میں پاکستان کا اپنا کردار متعین ہے جو اس نے ادا کرنا ہی کرنا ہے جس سے یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کہنا کافی نہیں بلکہ موجودہ حالات اور وقت کے غیر متقاضی ہے البتہ جس وقت مشرف سر نے یہ غنچہ اقوام عالم بلخصوص طاغوت کو دیا تھا تب اسی کی ضرورت تھی لیکن یہ کوئی صد سالہ یا تاقیامت نظریہ نہیں تھا جس کو کھونٹا بنا کر ہم اس سے بندھ جائیں۔
پاکستان نے جب ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش کی تو کیا مسلم اور کیا غیر مسلم سب نے جو نعرہ اور الزام دہرایا وہ قطعی یہ نہیں تھا کہ "پاکستانی بم” بلکہ جب بھی بات ہوئی وہ یہی ہوئی کہ "اسلامی بم” لہذا اس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ہی محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ترجیحات اور مقاصد طے اور واضح تھے جو سرحدوں کی قید سے بالاتر تھے اس لیے یہ بحث اپنا وجود ویسے ہی کھوجاتی ہے کہ سب سے پہلے اسلام یا سب سے پہلے پاکستان کیونکہ اسلام ہی اس ملک کے قیام کی وجہ بنا اور اسلام ہی اس کے وجود کا ضامن ہے اور اسلام ہی اس کی عزت و سربلندی کی کنجی ہے تو بات ہی ختم کہ اسلام جیسے الہامی و لافانی عقیدے کے سامنے کسی کمزور نظریہ کو کھڑا کیا جائے جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہر اس فیصلے اور اقدام پر سوالیہ نشان لگادے جس کا پس منظر اسلام اور امت مسلمہ تھے۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
-

کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟ تحریر:- محمد عبدالله اکبر
کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟
تحریر:- محمد عبدالله اکبراس دنیائے ہست و بود میں کامیاب انسان وہی سمجھا جاتا ھے جو کسی کام کے آغاز کے بعد اس پر دوام حاصل کرتا ھے، اور دنیا بھی ایسے ہی لوگوں کو فالو کرتی ھے۔ جبکہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر کسی کام کو ادھورا چھوڑ دینے والے کو یہ دنیا بہت پیچھے چھوڑ جاتی ھے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو اس دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لئے، خود کو کامیاب ترین شخص کہلوانے کے لئے مستقل مزاجی کی عادت کو اپنانا ھوتا ھے۔۔۔!!
یہ دنیا جو فانی ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اتنا سخت اصول اپنانا ھوتا ھے تو ھم کیسے یہ تصور کر سکتے ھیں کہ جہاں ہمیشگی کی زندگی ھوگی اس کی تیاری میں ھم بغیر مستقل مزاجی اختیار کیے ہی کامیاب ھو جائیں گے۔
لا شک کہ ھدایت جیسی عظیم نعمت جس کے حصے میں آ جائے اس جیسی خوش نصیبی اور کہاں حاصل ھو لیکن صرف ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں ھے بلکہ شریعت اسلامی میں اصلاً مقصود ھدایت پر استقامت ھے۔۔
ھدایت بہت سوں کو مل جاتی ھے لیکن ھدایت پر استقامت ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔
ھدایت حاصل ھوئی اور اس پر سختی سے ڈٹ جانا، شریعت اس چیز کی متقاضی ھے۔
جیسا کہ الله سبحانه و تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
((فاستقم کما امرت و من تاب معک))
” اپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ھے اور وہ بھی جس نے آپکی معیت میں رجوع الی الله کو اختیار کیا”اسی طرح بار ہا رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے جیسا کہ شداد بن اوس رضی الله عنه کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونا و چاندی کو ذخیرہ کررہے ھوں تو تم ان کو کلمات کو ذخیرہ کرنا ((اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد))
"یا الله میں تجھ سے سوال کرتا ھوں دین پر ثابت قدمی کا اور بھلائی پر پختگی کا۔”
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ھے کہ سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کے استفسار پر جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلّم نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کا حکم دیا۔
آیات اور احادیث سے یہ بات مترشح ھوتی ھے کہ دین پر سختی سے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی کا ذریعہ ھے۔ جب دین پر استقامت اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر اس چیز کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دن میں ایک آدھی نماز پڑھ لی یا آئے روز کوئی نا کوئی نماز چھوڑ دی جائے اور دلیل میں یہ پیش کیا جائے کہ الله بڑا معاف کرنے والا ھے، بڑا غفور رحیم ھے۔ھمارے ایمان ہی اتنے پختہ ھیں کہ برادری کو وجہ بنا کے ھم دین پر قائم نہیں رہ سکتے، ھمارے ذہنوں میں ایک بات رچ بس گئی ھے، بہت معذرت کے ساتھ ھم نے اسی بات کو خدا بنا لیا ھے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
ھم دین کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا چاہتے ھیں لیکن برادری، معاشرہ ھماری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ھے۔
ایک طرف ھمارا ایمان ھے اور ایک طرف ان لوگوں کا ایمان ھے کہ جن کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پہلے لوگوں کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی کو پکڑا جاتا، زمین میں گاڑا جاتا، آرا چلایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر چیر دیا جاتا، لوھے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو نوچا جاتا۔ لیکن یہ چیزیں بھی ان کے ایمان کو ڈگمگا نا سکیں۔
اسلام ایسی ہی استقامت کا تقاضا کرتا ھے کہ کسی بھی تنگی، مصیبت کو دیکھ کر دین اسلام سے پیچھے نا ہٹا جائے بلکہ دوام اختیار کیا جائے۔
استقامت حاصل کرنے میں اگرچہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے، یہ کوئی آسان فعل نہیں ھے اور یہ رب تعالیٰ کی اعانت و نصرت کے بغیر ممکن نہیں ھے لیکن ان میں ھمیں خود بھی آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیے۔
نفس امارہ کو نفس مطمئنہ میں بدلنے کے لئے بہت لمبا سفر کرنا پڑتا ھے، بہت محنتیں درکار ھوتی ھیں لیکن ھمیں گھبرانا نہیں ھے بلکہ جس چیز کو ایک دفعہ اختیار کر لیا اس پر ڈٹ جانا ھے اور پھر اللہ کریم ھمارے لئے رستے کھولتا جائے گا اور پھر نعیم سرمدی میں ان شاءاللہ کامیابی ھمارا مقدر ھوگی اور انعام میں ھمیں جنت الفردوس عطا کی جائے گی اور اس کامیابی کا اصل انعام دیدارِ الٰہی کی صورت میں دیا جائے گا۔ ان شاءالله -

خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول
خود پر صدقہ کریں…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
کسی کا بھلا نہ چاہ سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں…؟
کسی کو اچھا مشورہ دے دینا…
اخلاص بھرا مشورہ جو اس کے لیئے فائدے کی راہیں ہموار کرنے کا باعث بن جائے…
ایسا مشورہ جو آپ کے ذاتی مفاد یا بدلہ بازی کے گرد نہ گھُومتا ہے…
کسی سے مسکرا دینا…
کسی سے اللّٰہ کے لیئے ملاقات کرلینا…
کسی کی کوئی ضرورت پوری کر دینا…
کسی کے پاس بیٹھ کر دُکھ سُکھ شیئر کر لینا…
کسی کو دوسروں کی نظروں میں حقیقت کے آئینہ میں پیش کرنا…
کسی کی غیبت،برائی اور بدخواہی نہ کرنا…
کسی کے بے غرض تعلق رکھنا…
کسی کے خلاف سازش نہ بُننا…
کسی کو تعلیمی،کاروباری،معاشی و معاشرتی طور پر کامیاب دیکھتے ہوئے رنجیدہ نہ ہونا…
کسی کے بارے میں کوئی جاننا چاہے تو مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالنا…
خامیوں پر اگر حد سے بڑھی ہوئی نہ ہوں تو پردہ ڈالنا…
ہر چھوٹی چھوٹی بات چھُپانا کہ کوئی برابر کے لیول پر نہ آ جائے،چاہے وہ سوٹ یا جوتا ہی کیوں نہ ہو…یہ دل کی گھٹن کا باعث ہے،ایسی باتوں سے دل تنگ ہو جاتے ہیں،ظرف وسعت کی بجائے سکڑنے لگتے ہیں…
کہیں پروفیشنل جیلسی کا شکار ہو جانا،کسی کو آگے بڑھتا دیکھ کڑھنا…
کسی سے کُچھ سیکھ کر اسی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا…
یہ سب چیزیں خیر پھیلانے اور پہنچانے میں رکاوٹ بنتی ہیں…
تب ہم من پسند کی کیٹیگری کے ساتھ چلتے ہیں…
ہم نا پسند لوگوں تک خیر پہنچانے سے ہی رُک جاتے ہیں…
جبکہ تعلیم کیا ملی تھی؟
جو برے ہیں ان سے بھی بھلائی کرنی ہے…
تلخی کو نرمی سے ٹالنا ہے…
نفرتوں کو محبتوں سے مٹانا ہے…
تب کیا صورتحال سامنے آتی ہے؟
فاذالذی بینک و بینہ عداوۃٌ کَاَنَّہ ولی حمیم¤
تبدیلی تب آتی ہے…
معاشرے تب بدلتے ہیں…
جب انا اور میں کی قربانی دے کر اخلاقیات اور برداشت کا پرچار کیا جائے…!!!
جب بھلائیوں کے بانٹنے میں منہ ملاحظہ نہ کیا جائے…
جب ججمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے…!!!
بے لوث ہو کر…
بے غرض بن کر…
خیر خواہی کے جذبے سے…
نیکی کی اُمنگ کے ساتھ…
اپنی خیر کا لوگوں کو مستحق بنا کر…
اپنے نفس کے شر سے لوگوں کو بچا کر…
ہم ذہنی اور قلبی اطمینان پا سکتے ہیں…
جب آپ کسی کا بُرا نہیں چاہیں گے…
کسی کی رہ میں روڑے نہیں ڈالیں گے…
تو کوئی لاکھ آپ کی راہ میں رکاوٹیں بنے…
خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا…
احسان و بھلائی کا بدلہ مل کر رہتا ہے،
چاہے کُچھ دیر بعد سہی…خیر لَوٹ کر ضرور آتی ہے…!!!
ناشتہ کے وقت ایک چڑیا روزانہ روٹی چگنے آتی ہے،
ابھی میرا پراٹھا تیار نہیں تھا،تھوڑی دیر ادھر اُدھر پھدکنے کے بعد چڑیا نے ایک نظر مُجھ پر ڈالی…
میں نے اُٹھ کر اندر سے دوسرے پراٹھے سے نوالہ توڑ کر اسے دینا ہی چاہا مگر وہ اُڑ گئی…
غصہ بھی آیا،لیکن خاموشی سے وہیں بیٹھ گئی…
دو منٹ بعد چڑیا پھر میرے پاس تھی اور وہی روٹی میں نے اُس کے سامنے ڈال دی…
یہ بالکل چھوٹی سی بات یہ سمجھانے کے لیئے کافی تھی کہ چند لمحات کا صبر اپنے پیچھے وہ چیز لیئے ہوتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہی ہوتی اور اس کی رہ گزر صرف صبر سے گزرتی ہے…!!!
ہم بسا اوقات صرف بے صبری سے اپنی خیر سے دوسروں کو محروم کر دیتے اور نیکی کی راہیں معدوم کر دیتے ہیں…
ہم وہ وقت چیخ و واویلا سے بھی گزار سکتے ہیں…
اور صبر و استقامت سے بھی…
ہاں سچ ہے کہ خیر کا بدلہ مل کر رہتا ہے…
دنیا میں بھی اور آخرت کی جزا تو محفوظ ہی ہے ناں ان شآ ءَ اللّٰہ…
لیکن آغاز ہی بدلہ کی اُمید پر نہ کیجیئے…
جو کیجیئے بس اپنا فرض سمجھتے ہوئے ادا کرتے جایئے…
خود سے ممکن حد تک بھلائیوں کو تقسیم کیجیئے…
اور اگر کسی کا بھلا نہ کر سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں؟؟؟
پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابی رضی اللّٰہ عنہ کو افضل اعمال کی وضاحت کے بعد فرمایا اگر یہ نہ کر سکے تو:
"لوگوں کو اپنی برائی سے بچا،تو بے شک یہ صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے…!!!”
(صحیح بخاری)۔
آیئے !!!
اپنے شر سے دوسروں کو بچائیں۔
چھوٹی چھوٹی سہی مگر بھلائیوں کو ہی پھیلائیں…
کسی کے لیئے اذیت اور وبال نہیں بلکہ امن و محبّت ،اُمید و حوصلہ اور اخلاص و خیر خواہی کی ایک کِرن بننے کی کوشش کریں…!!!
یہی اپنے پر صدقہ کے ساتھ دوسروں کا بھی بھلا ہے…!!!
==============================
{جویریات ادبیات}۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ -

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں …از…اسد عباس
ریاست مدینہ اپنے دارلخلافہ میں سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کرے گی جس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات میں مکمل آزادی ہو یا انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال میں کامل خود مختاری۔ غیر مسلموں کو جو حقوق اسلام نے دئیے ہیں کوئی اور مذہب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی انسانی تاریخ سے اسلام کے انصاف جیسی مذہبی رواداری و ہم آہنگی کی کوئی نظیر پیش کی جا سکتی ہے۔
ریاست اسلامی پر لازم ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے مساجد کی تعمیر و دیکھ بھال مانگے ہوئے عوامی چندے پر ہو اور ریاست مدینہ چرچوں، گردواروں اور مندروں کی تعمیر شاہی خزانے سے کرے۔ مملکت خداداد جسے خالصتاً اسلام نے نام پر بنایا گیا۔
آج اس اسلامی ریاست کے حکمران ان اغیار کی قربت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے جا رہے ہیں جو مساجد کو شہید کر کے اس جگہ بت خانوں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ کشمیر میں ایک طرف ہندو ریاست کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم عروج پر ہیں
جبکہ دوسری طرف مساجد کی تالہ بندی بھی۔ تمام بین الاقوامی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فقط نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مہینوں تک نہ ہو سکی۔ جبکہ اسلامی پاکستان میں ریاست کی طرف سے مساجد کی نگہبانی تو درکنار، مسجدوں میں بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن فیس وصول کرنے کی بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔
لاحول ولا قوۃ
کئی دہائیوں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے شکار معاشرے میں اس طرح کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام سے شدت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکمران طبقے کو سمجھنا ہو گا کہ غیر مسلموں کی محرومیوں کا ازالہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر نہیں کیا جا سکتا۔ -

احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان
لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔
ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔
اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔
-

اہل دل نے اُسے ڈھونڈا اُسے محسوس کیا، سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہےکہ نہیں تحریر: ساجدہ بٹ
اہل دل نے اُسے ڈھونڈا،اُسے محسوس کیا
سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہے،کہ نہیں
تحریر: ساجدہ بٹ
حال ہی میں ہمارے ساتھ کیا ہو گیا شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں،دیکھتے ہی دیکھتے علمی سرمایہ ہمارے علماء اکرام کی صورت میں ہم سے اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرونا،ٹڈی دل اور دیگر سزاؤں کے بعد اور بڑی سزا ہمیں ملنے لگی کہ ہم سے علم کے تارے جدا ہونے لگے یعنی ہم گناہگاروں کو جو تھوڑا بہت علم دین سے جوڑنے کی تلقین کرتے تھے ہمیں اسلامی تعلیمات سے وقتاً فوقتاً آگاہ رکھتے تھے وہ لوگ حال ہی میں ہم سے جُدا ہو گئے۔۔۔
جب یہ علماء اکرام آئے روزہم سے بچھڑنے لگے تو میرے ذہن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث پاک آئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بے شک (یہ باتیں) قیامت کی علامات میں سے ہیں کہ علم اٹھ جائے اور جہالت باقی رہ اور شراب نوشی کثرت سے ہونے لگے اور علانیہ زنا ہونے لگے(صحیح بخاری)۔اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیامت کے نزدیک علم اٹھ جائے گا میرے عزیزقارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
علم اٹھ جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری کتابیں ختم ہو جائیں گی یا اُن کے صفحے سفید ہو جائیں گے بلکہ اس کا مطلب ہے علم دین پھیلانے والے علماء اکرام اللہ کو پیارے ہو جائیں گے۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخش دیں کہ اب یہ ہو رہا ہے ہمارے بزرگ دین ہم سے جُدا ہوئے۔۔۔
ذرا سوچیے قارئین کرام جب ایک گھر کا بزرگ اس دارے فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو ہمارے گھر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سگے بھائیوں بہنوں میں سلوک و اتفاق کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں جائیداد کے ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لیے نفرتوں کے بیج بونے لگتے ہیں۔۔۔
لالچ و حرص میں مبتلا ہو جاتے ہیں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے ،جبکہ یہ ہی جب والدین کے زیرِے سایہ تھے تو اُلفت محبت کا پیکر تھے ایک دوسرے کا احساس کرتے تھے ۔۔۔۔
یہ ہی حال اس دنیا کا ہے ہم مسلمانوں کو آپس میں جوڑے رکھنے والے چاند کی مانند چمکنے والے ہمارے دلوں میں ر
روشنیاں بکھیرنے والے ہم سے جُدا ہو گئے اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہ ہم بھی ایک گھر کے بچوں کی طرح بکھر نہ جائیں کہیں ہم میں بھی نفرت پیدا نہ ہو جائے ۔
دین سے دوری پیدا نہ ہو ،،،،،ہم لوگ تو ایسے ہیں کہ کئی فرقوں میں بٹے ہیں دین اسلام سے کم اور اپنے فرقے سے زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں حالانکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ تو بہت آسان اور واضح ہے بس بات تو وہی ہے نہ کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی ہو تو اُسے محسوس بھی جلد کر لیتا ہے اُس تک پہنچنے کے راستے بھی نکال لیتا ہے اور گناہ گار تو یہ ہی سوچتا رہا کہ خدا ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔؟ -

کہ یہی تو زندگی ہے بقلم : جویریہ بتول
دُعا…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
مِری زندگی کے رنگ سے…
مرے رشتوں کے دل میں…
اک قرار جگہ پائے…
لب اُن کا مسکرائے…
یہ چشم بھی جگمگائے…
کہیں سفرِ زندگی میں…
میری وجہ سے کسی پر…
کوئی آثارِ رنج نہ آئے…
کوئی دل دُکھ نہ پائے…
نہ چشم آنسو بہائے…
مُجھ سے جڑا ہر وقار…
کہیں نہ خم کھائے…
کہیں بھول کوئی پاؤں…
کوئی غلطی کر بھی جاؤں…
لہجے میں عاجزی سے…
معذرت کو اپناؤں…
خوشبو کے سمندر میں…
یادوں کے یہ جھونکے…
اُڑتے ہوئے آئیں…
دلوں میں اُتر جائیں…
کہیں کسی دل پر…
کوئی زخم نہ چِلّائے…!!!
یہی دُعا ہے مری یا رب…
اسی کلیہ سے گزرے…
یہ زندگانی کا سفر…
بڑھتے ہوئے موت تک…
کہ نہیں ہےجس سے مفر…
یہی مقصدِ بندگی ہے…
میں رہوں وجۂ ہنسی…
کہ یہی تو زندگی ہے…!!!
============================= -

برداشت اور درگزر سکونِ روح کا سامان ہے بقلم:جویریہ بتول
برداشت و عفو…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
ذہنوں میں ہمارے یہ خیال جو مچلتے ہیں…
جب ہوش کے رنگ جنوں میں بدلتے ہیں…
کوئی سا بدلہ لینےکو،اور سخت جواب دینے کو…
دلوں میں رہ رہ کر جذبات جو اُبلتے ہیں…
مگرخود کو کھوجو ناں،اک پَل کو سوچو ناں…
جوش کے سمندر کی کُچھ لہریں موڑو ناں…
رب کی رضا کی خاطر، عفو کا دامن تھام کر…
برداشت کی ردا اوڑھے،کچھ بھی نہ بولو ناں…
یہ اُس سے کہیں بڑھ کر،اور ذائقہ میں چڑھ کر ہے…
لفظوں کی توپ میں جو ہم لفظ پروتے ہیں…
دلوں کے لیئے ہے سقم،یہ ذہنوں کا خلجان ہے…
اچھی،بھلی قربتوں کے چھوٹنے کا امکان ہے…
برداشت اور درگزر سکونِ روح کا سامان ہے…
لفظوں کے یہ وقتی تیر،کر لیں جو کسی کو اسیر…
سکوں چھین لیتے ہیں،ملامت کرتا ہے ضمیر…
کسی کے دل پہ لگائے زخم بہت دیر سے بھرتے ہیں…
اِن واروں کے مجروح ذرا ٹھہر کر سنبھلتے ہیں…
یہی ایک اندازہ ہے،رویوّں میں تفاوت کا…
کہیں دل میں بستے ہیں،کُچھ دل سے اترتے ہیں…!!!
==============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ -

بڑے شہروں کی اجارہ داری بقلم : عدنان عادل
بڑے شہروں کی اجارہ داری
از:عدنان عادلپاکستان میں اڑتالیس ہزار بڑے دیہات اور تقریباً چار سو چھوٹے شہر ہیں لیکن ان سب پر پانچ بڑے شہروں کی حکمرانی ہے۔ اسلام آباد‘لاہور‘ کراچی ‘پشاور اور کوئٹہ میں بیٹھے حکمرانوں نے تمام حکومتی اختیارات اورریاست کے مالی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ملک کے دو تہائی شہری دیہات اورقصبوں میں رہتے ہیں ‘وہ چند بڑے شہروں کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ملک کے انتظام و انصرام اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ چار صوبائی حکومتیں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نیم خود مختار حکومتیں قائم ہیں۔ملک کے چار صوبوں کی جسامت بہت بڑی ہے اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔1947میں قیام پاکستان کے وقت اس خطہ کی آبادی تقریباً تین کروڑ سینتیس لاکھ تھی۔ بہتر برسوں میں ملک میں رہنے والوں کی تعداد تو چھ گنا سے زیادہ ہوگئی لیکن اس عرصہ میں حکومت کے ڈھانچہ اور طاقت کے مراکز میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی گئی جس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کوبہتر انداز میں پورا کیا جاسکتا۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچہ میں بہتری کی بجائے خرابی آتی گئی جسکا مظاہرہ ہم ہر طرف پھیلی کرپشن‘ بدانتظامی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ صرف انتظامی اختیارات کی بات نہیں ‘ معاشی وسائل پر بھی بڑے شہروں کا قبضہ ہے۔ عرصہ دراز سے دیہات کی دولت بڑے شہروں کو منتقل کی جارہی ہے۔ زمیندار دیہات کی آمدن سے کراچی‘ لاہور‘ پشاور میں بنگلے بناتے ہیں ‘ پر تعیش زندگی گزارتے ہیں ۔ حکومت جو ٹیکس وصول کرتی ہے اسکا بیشترحصہ اسلام آباد‘ لاہور‘ پشاور میں خرچ کیا جاتا ہے۔ دیہات اورچھوٹے شہربھینس کو چارہ کھلاتے ہیں جبکہ اسکا دودھ بڑے شہر پیتے ہیں۔ اگلے روز وفاقی حکومت کے ترجمان شہباز گل نے سندھ کے ضلع جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹرہسپتال کا دورہ کیا تو دیکھا کہ ہسپتال کا وجود برائے نام تھا ‘ کوئی ڈاکٹر تک موجودنہ تھا۔ ان کی آمد کی خبر سن کر ایک ڈاکٹر گھر سے بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔ شہباز گل نے شکوہ کیا کہ اس ہسپتال میں کورونا وبا تو دُور کی بات ہے کسی عام مرض کا علاج بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کم و بیش یہی حال سندھ کے دیگر ضلعی‘ تحصیل ہسپتالوں ‘ رورل ہیلتھ سنٹروں اوردیہی صحت مراکز کا ہے۔ سندھ حکومت ضلعی ہسپتالوں پر ہر سال اربوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن ان کی بد انتظامی ‘ غیر موثر نگرانی کے باعث عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ دیگر صوبوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ انیس بیس ہی کا فرق ہے۔دیہات اور چھوٹے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں ایکسرے مشینیں خراب اور ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی پڑی رہتی ہیں‘ دواؤں کی قلت رہتی ہے۔ ان سب چیزوںکے لیے فائلیں ہسپتال انتظامیہ سے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ اور پنجاب سیکرٹریٹ میں گھومتی رہتی ہیں۔ افسر شاہی کا ایک گھن چکر ہے جس میں ہسپتال ہوں یا تعلیمی ادارے عوام کو سہولت پہنچانے کے بجائے اِنکے لیے اذیت رسانی اور رشوت خوری کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے پچیس لاکھ ملازمین کی تنخواہوں پر قومی خزانہ سے اس سال اڑھائی ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے لیکن اس رقم کے بدلے عوام کو سروس کی بجائے ذلت و رسوائی ملتی ہے۔ ملک میں پھیلی بدانتظامی کی ایک بڑی وجہ اقتدار کے مراکز یعنی پانچ بڑے شہروں کی عوام سے دُوری اور فاصلہ ہے۔ ملک کی نصف آبادی تقریبا اڑتالیس ہزار دیہات میں رہتی ہے اور پچیس فیصد آبادی چھوٹے شہروں میں۔ گویا ملک کے دو تہائی شہری حق حکمرانی سے محرو م ہیں۔ صوبائی دارلحکومتوں میںبیٹھی اشرافیہ انکی قسمت کے فیصلے کرتی ہے۔ کسی چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی اسلام آباد‘لاہور یا کراچی کی بیوروکریسی اور وزرا ء کی رضا مندی درکار ہوتی ہے۔ ایک دُور دراز علاقہ میں کسی ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کا تقرر ہو یا اسکول میں کلاس روم بنانا ہو اسکی حتمی منظوری اور فنڈز صوبائی دارلحکومت سے آتے ہیں ۔ لاہور سے سینکڑوں کلومیٹر دور کسی علاقہ میں محکمہ ماحولیات یا محکمہ زراعت کا افسر رشوت خوری کا بازار گرم کیے ہوئے ہو تو شکایت کا ازالہ لاہور میں بیٹھا سیکرٹری کرسکتا ہے۔ اختیارات کی چند بڑے شہروں میں ارتکاز پر مبنی یہ ایک بہت تکلیف دہ ‘ غیر موثرنظامِ حکومت ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میںاقتدار کی مرکزیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی حکومتوںکا نیا نظام لایا گیا جس میں گیارہ صوبائی محکموں کے اختیارات ضلعی سطح تک منتقل کیے گئے ۔ سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اسکی سخت مزاحمت کی اور موقع ملتے ہی یہ نظام ختم کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مشرف دور کے مقامی حکومتوں کے نظام کی کمزوریوں کو دُور کیا جاتا اور مزید اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جاتے لیکن نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ایسے بلدیاتی قوانین بنائے جن میںانکے اختیارات انگریز دور کے نظام سے بھی کم ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسیع اختیارات حاصل ہوگئے لیکن صوبے اختیارات ضلعوں‘ تحصیلوں اور دیہات میں منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاق کی مجموعی ٹیکس آمدن سے ستاون فیصد حصہ مل جاتا ہے لیکن صوبہ کے اندر جو ضلعے اور دیہات ہیں ان کو انکا منصفانہ حق نہیں ملتا۔ اسکا حل یہی ہے کہ آئین میںواضح طور پر درج کیا جائے کہ صوبائی حکومتیں اپنی آمدن میں ہرضلع کا حصّہ مقرر کرنے کی پابند ہوں گی۔ امریکہ ‘ یورپ کے جن ملکوں میںجمہوری نظام قائم ہے وہاں مقامی حکومتیں بہت بااختیار ہیں‘ عوام کے مسائل مقامی ادارے حل کرتے ہیں۔ پاکستان میں اقتدار پانچ بڑے شہروں میں مرتکز ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے گروہ کی اجارہ داری کا نظام ہے۔اختیارات کی مرکزیت بے شمار مسائل کا باعث ہے۔اس نظام کے باعث ملک کے کئی حصّوں میں احساس محرومی نے جنم لیا ہے۔ ریاست سے بیگانگی پیدا ہوئی ہے۔ اس غیر مؤثر‘ ناکارہ نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔دیہات اور چھوٹے شہروں میں رہنے والی ملک کی دو تہائی اکثریت کو اس وقت تک اپنے حقوق نہیں مل سکتے جب تک حکومتی نظام میں تبدیلی لا کر مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں با اختیار نہیں بنایا جاتا۔