Baaghi TV

Category: بلاگ

  • والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام  بقلم:محمد نعیم شہزاد

    والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام بقلم:محمد نعیم شہزاد

    والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام
    محمد نعیم شہزاد

    آفرینش کائنات سے نسلِ انسانی مسلسل ارتقاء کی منازل طے کرتی چلی آ رہی ہے۔ اولین بشر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے مٹی سے بنایا اور اس میں روح پھونک کر اس کو جیتا جاگتا انسان بنایا اور اسی کے جسم سے اس کی زوجہ کو پیدا کر دیا۔ ابتدائے آدمیت جن ہستیوں سے ہوئی انھیں بابائے آدم (نسل انسانی کا باپ) اور اماں حوا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھیں دونوں سے انسانی نسل جاری ہوئی اور تا قیامت ہر متنفس بشر ان کی اولاد ہی تصور ہو گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انسان اپنے وجود، اپنی شناخت اور ذات ہر اعتبار سے والدین کا محتاج ہے۔
    انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ دو شفیق ہستیوں کو بنا دیا جو اس کی راحت و تسکین کے لیے ہر مصیبت جھیلنے کو ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ اور اس کا مستقبل سنوارنے کی دھن میں مگن اپنا حال بسر کر دیتے ہیں۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کا معیار اپنی ذاتی زندگی پر منحصر ہونے کی بجائے اولاد کی زندگی سے وابستہ ہوتا ہے۔ اور ان کی خوشیوں کا مرکز و محور یہی اولاد ہی ہوتی ہے۔ اولاد کے لیے سب سے بڑی نعمت والدین کی ذات کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ والدین کے سہارے اولاد کو کسی قسم کا مسئلہ اور ضروریات پریشان نہیں کرتیں اور وہ اپنے آپ کو بے تاج بادشاہ تصور کرتے ہیں۔ اور حقیقی معنوں میں بادشاہت کے مزے لوٹتے ہیں۔
    انسان اپنی زندگی میں مخلص دوستوں کی تلاش میں رہتا ہے مگرسب سے بڑھ کر مخلص ہستیاں جو اس کے اپنے گھر میں موجود ہیں ان سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔ تصویر کا یہ ایک بھیانک رخ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ اولاد جس کو والدین آسائش و آرام سے بھری زندگی دیتے ہیں، جب خود ضعیف العمر ہو جاتے ہیں تو خود کو بے آسرا پاتے ہیں۔ ایک واعظ نے دوسروں کو معاف کرنے کے فضائل بیان کیے تو ایک بوڑھے باپ نے روتے ہوئے سوال پیش کر دیا کہ جس اکلوتے بیٹے کو پڑھا لکھا کر ایک کامیاب انسان بنایا، گھر اور گاڑی دی، ہر آسائش مہیا کی آج اسی بیٹے نے اس گھر سے مجھے نکال دیا ہے، میں کیسے اس کو معاف کر دوں؟؟؟
    اس بزرگ کے سوال کو جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ خدارا کچھ سوچیے۔ اس دنیا میں اس قدر محو ہو کر نہ رہ جائیں کہ آپ کو اس دنیا میں لانے والے والدین ہی بھول جائیں اور آسائشیں دینے والے والدین کو دکھوں اور تکلیفوں کے سپرد کر دیں۔
    یہ دنیا مکافات عمل کا گھر ہے، اگر ہم آج اپنے بوڑھے والدین کا خیال نہ کریں گے تو آج جس نو عمر اولاد کے ناز نخرے ہم اٹھاتے ہیں کل کو یہ بھی ہم سے ایسا ہی سلوک روا رکھیں گے۔ اور پھر ہمارا احساس اور پچھتاوا کچھ کام نہ آ سکے گا اور پشیمانی ہی مقدر ٹھہرے گی۔

  • والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام ، تحریر : محمد نعیم شہزاد

    والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام ، تحریر : محمد نعیم شہزاد

    والدین ، اخلاص اور محبت کا دوسرا نام
    محمد نعیم شہزاد

    آفرینش کائنات سے نسلِ انسانی مسلسل ارتقاء کی منازل طے کرتی چلی آ رہی ہے۔ اولین بشر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے مٹی سے بنایا اور اس میں روح پھونک کر اس کو جیتا جاگتا انسان بنایا اور اسی کے جسم سے اس کی زوجہ کو پیدا کر دیا۔ ابتدائے آدمیت جن ہستیوں سے ہوئی انھیں بابائے آدم (نسل انسانی کا باپ) اور اماں حوا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھیں دونوں سے انسانی نسل جاری ہوئی اور تا قیامت ہر متنفس بشر ان کی اولاد ہی تصور ہو گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انسان اپنے وجود، اپنی شناخت اور ذات ہر اعتبار سے والدین کا محتاج ہے۔
    انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ دو شفیق ہستیوں کو بنا دیا جو اس کی راحت و تسکین کے لیے ہر مصیبت جھیلنے کو ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ اور اس کا مستقبل سنوارنے کی دھن میں مگن اپنا حال بسر کر دیتے ہیں۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کا معیار اپنی ذاتی زندگی پر منحصر ہونے کی بجائے اولاد کی زندگی سے وابستہ ہوتا ہے۔ اور ان کی خوشیوں کا مرکز و محور یہی اولاد ہی ہوتی ہے۔ اولاد کے لیے سب سے بڑی نعمت والدین کی ذات کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ والدین کے سہارے اولاد کو کسی قسم کا مسئلہ اور ضروریات پریشان نہیں کرتیں اور وہ اپنے آپ کو بے تاج بادشاہ تصور کرتے ہیں۔ اور حقیقی معنوں میں بادشاہت کے مزے لوٹتے ہیں۔
    انسان اپنی زندگی میں مخلص دوستوں کی تلاش میں رہتا ہے مگرسب سے بڑھ کر مخلص ہستیاں جو اس کے اپنے گھر میں موجود ہیں ان سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔ تصویر کا یہ ایک بھیانک رخ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ اولاد جس کو والدین آسائش و آرام سے بھری زندگی دیتے ہیں، جب خود ضعیف العمر ہو جاتے ہیں تو خود کو بے آسرا پاتے ہیں۔ ایک واعظ نے دوسروں کو معاف کرنے کے فضائل بیان کیے تو ایک بوڑھے باپ نے روتے ہوئے سوال پیش کر دیا کہ جس اکلوتے بیٹے کو پڑھا لکھا کر ایک کامیاب انسان بنایا، گھر اور گاڑی دی، ہر آسائش مہیا کی آج اسی بیٹے نے اس گھر سے مجھے نکال دیا ہے، میں کیسے اس کو معاف کر دوں؟؟؟
    اس بزرگ کے سوال کو جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ خدارا کچھ سوچیے۔ اس دنیا میں اس قدر محو ہو کر نہ رہ جائیں کہ آپ کو اس دنیا میں لانے والے والدین ہی بھول جائیں اور آسائشیں دینے والے والدین کو دکھوں اور تکلیفوں کے سپرد کر دیں۔
    یہ دنیا مکافات عمل کا گھر ہے، اگر ہم آج اپنے بوڑھے والدین کا خیال نہ کریں گے تو آج جس نو عمر اولاد کے ناز نخرے ہم اٹھاتے ہیں کل کو یہ بھی ہم سے ایسا ہی سلوک روا رکھیں گے۔ اور پھر ہمارا احساس اور پچھتاوا کچھ کام نہ آ سکے گا اور پشیمانی ہی مقدر ٹھہرے گی۔

  • لداخ پر اصل حقیقت ،  تحریر احمد جواد

    لداخ پر اصل حقیقت ، تحریر احمد جواد

    لداخ پر اصل حقیقت
    احمد جواد
    اس تنازعہ سے ہماری توقعات حقیقت پسند ہونی چاہیے۔چائنہ ، انڈیا اور انٹرنیشل میڈیا میں کہیں پر بھی ایسی رپورٹنگ نہیں ہوئ جیسی ہم میڈیا اور سوشل میڈیا پر لداخ کے حوالے سےکر رہے ہیں۔ ہماری توقعات ہماری اپنی طاقت پر منحصر ہونی چاہیے۔ چین اپنے فیصلے اپنے قومی مفاد کو دیکھ کر کرے گا۔ہمیں اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ ھماری جنگ کوئ اور نہیں لڑے گا۔کشمیر ہم نے آزاد کرانا ہے، کوئ جھولی میں ڈال کر نہیں دے گا۔

    آپکا دشمن اپ نے لڑنا ہے، چین نے نہیں لڑنا۔ ہمیں قوم بننا چاہیے تماشائ نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسا تاثر دیا گیا جیسے چین نے لداخ فتح کر لیا ہو۔ انڈیا امریکہ کے بعد چین کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ۵۶ سال سے دونوں ممالک میں کوئ جنگ یا کوئ بارڈر پر شیلنگ تک نہیں ہوئ۔اپنی عضمت اور اپنی طاقت کو اپنے آپ میں پیدا کریں نا کہ دوسروں میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

    اب اصل صورتحال بھی پڑھ لیں۔
    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین – بھارت سرحد پر صورتحال "عام طور پر مستحکم اور قابل کنٹرول ہے۔”

    ژاؤ نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ، "فریقین سے بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مناسب طریقے سے حل کرنے کے لئے ، دونوں فرنٹ لائن فوجی یونٹوں اور ان کے متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے۔

    ژاؤ نے کہا ، چین فریقین کے ذریعے طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری اور "چین اور بھارت کے مابین سرحدی علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔”

    ژاؤ لیجیان: حدود کے معاملے پر چین کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ ہم دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ذریعے طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو پوری شدت سے نافذ کررہے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین طے شدہ متعلقہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرتے ہیں ، اور چین – بھارت کی سرحدی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت کی سرحد میں امن و استحکام کے لئے پرعزم ہیں۔ علاقوں. اس وقت چین – بھارت سرحدی علاقوں میں مجموعی صورتحال مستحکم اور قابل کنٹرول ہے۔ سرحد سے متعلق امور پر ، چین اور ہندوستان کے مابین رابطے کے ٹھوس طریقہ کار اور چینلز موجود ہیں ، اور دونوں فریق باہمی بات چیت اور مشاورت کے ذریعہ مناسب طریقے سے حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    مئی کے شروع میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست سکم میں ایک سرحدی محاذ پر چینی اور ہندوستانی فوجیوں میں جھگڑا ھوا-

    ہندوستانی میڈیا نے ملک کے فوجی سربراہ ، جنرل منوج مِکونڈ ناراوانے کے حوالے سے بتایا ہے کہ لداخ اور سکم میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے "دونوں اطراف سے جارحانہ ردعمل ھوا۔

    اگرچہ اس طرح کی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہیں ، لیکن حالیہ ہفتوں میں لداخ کی وادی گالان میں تعطل مزید بڑھ گیا ہے ، جہاں دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی ایک دوسرے سے صرف چند سو میٹر کیمپ میں ڈیرے ڈال چکے ہیں۔

    ہندوستان اس خطے کو ایک فضائی پٹی سے جوڑنے والی وادی گالے کے راستے اسٹریٹجک روڈ بنا رہا ہے۔

    چین اور ہندوستان کا سرحدی تنازعہ تقریبا 3500 کلومیٹر (2،175 میل) سرحد کا احاطہ کرتا ہے جسے دونوں ممالک لائن آف ایکچیولوٹ کنٹرول کہتے ہیں۔ ان ممالک نے 1962 میں جنگ لڑی لیکن اس کے بعد کبھی کوئ گولا بارود استعمال نہیں ہوا۔صرف کبھی کبھار ھاتھا پائ یا زیادہ سے زیادہ پتھراؤ ہوا۔

  • اسلام میں والدین کا مقام    از قلم۔۔مشی حیات

    اسلام میں والدین کا مقام از قلم۔۔مشی حیات

    اسلام میں والدین کا مقام
    از قلم۔۔مشی حیات

    باپ آدم سے لے کر امت محمدیہ تک۔۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو اسلام کا یا غیر مسلم ہندو ہر مذہب میں والدین کی ہستی کو عزت و مقام سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔اسلام کے آنے پر عورت کو عزت و مقام ملا بیٹی کے روپ میں رحمت۔بیوی کے روپ میں راحت اور ماں کے روپ میں جنت…
    ارشاد باری تعالی ہے۔۔
    ‘اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ان کے آگے اف تک نہ کرو’
    ماں اپنی اولاد کی خاطر نے انتہاء کی تکالیف سے گزرتی ہے پہلے وہ اپنے بچوں کو اپنی کوکھ میں 9 مہینے تک رکھ اپنی ممتا کا احساس دلاتی ہے پھر اسے جنم دے کر ہر مشکل کا سامنا کرتی ہے اور اپنی اولاد کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔
    باپ گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔۔۔
    حدیث رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے:
    باپ کی رضا مندی تیرے رب کی رضا ہے اگر تیرا باپ تجھ سے راضی ہے تو یقینا رب تعالی بھی خوش ہیں اگر باپ جیسی عظیم ہستی تجھ سے ناراض ہے تو رب بھی تجھ سے ناراض۔۔۔
    ماں کو راضی کر کے جنت ملے گی اور باپ کو راضی کر کے ہمارا رب۔۔۔
    والدین کا مقام انتہائی اعلی ہے۔۔پر شخص چاہتا ہے جنت کو پانا اور رب کا دیدار کرنا۔ ۔
    اسلام میں والدین کی تاریخ پر مبنی بے شمار موضوعات ہیں۔۔سب سے بڑھ کر قرآن مجید وہ کتاب ہے جہاں ہر جگہ والدین سے حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔۔
    ارشاد ہے۔۔۔
    اپنے رب کی اطاعت کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر وہ بوڑھے ہو جائیں تو ان کے ساتھ نیکی کرو۔۔
    والدین ہمارے بچپن سے جوانی تک ہر قسم کی مشکلوں سے گزرتے ہوئے ہماری ضروریات کا خیال رکھتے ہیں وہ ہمیں ہمارے مقام تک پہنچادیتے ہیں۔ہم اپنے قابل ہو جاتے ہیں اس وقت ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہمارے والدین کو ہوتی ہو۔۔
    مگر ہم اپنے مقام پر پہنچتے ہی ایک آزاد رویے کو اختیار کرتے ہیں۔۔بوڑھے ماں باپ نظر جمائے ہماری راہ تکتےدروازے پر منتظر ہوتے ہیں۔۔مگر جوان بیٹا اپنے کاروبار سے فارغ ہو کر دوستوں سے تفریح میں مصروف ہوتا ہے۔وہ مکمل طور پر بھول جاتا ہے کہ اس کے ماں باپ نے اس کے لیے کیا جدوجہد کی یا اسے یاد تو ہوتا مگر اگنورکر رہا ہوتا ہے۔۔
    وہ رب کے فرمان کا انکار کر رہا ہوتا ہے ۔۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تیری ماں۔سائل نے پھر پوچھا۔۔پھر فرمایا۔تیری ماں۔۔تیسری دفعہ پوچھنے پر پھر فرمایا تیری ماں۔۔۔
    اس کے بعد سائل نے جب پوچھا کہ ماں کے بعد کون حقدار ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ تیرا باپ
    اللہ اکبر
    اولاد کے حسن سلوک کے سب سے زیادہ حقدار اس کے والدین ہیں مگر آج اولاد سوشل میڈیا میں گم یہ فرمان بھول بیٹھے، اور والدین کی جگہ دوستوں کو دی جانے لگی۔۔۔۔
    اگر ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور ماں باپ کے ساتھ مثبت سلوک کریں گے ہمارے ہر کام میں مال ،اولاد اور حتی کہ زندگی میں برکت ہی برکت ہو گی اگر ہم نے ان عظیم ہستیوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا تو ذلت و رسوائی یقینق ہمارا مقدر ہوگی۔۔۔۔
    ارشاد ہے۔۔
    ماں کی دعا عرش سے ٹکراتی ہے اور ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔اور ماں کی بددعا عرش ہلا دیتی ہے۔۔۔
    اللہ تعالی ہمیں اپنے ماں باپ سے حسن سلوک۔رحم وکرم اور محبت کرنے کی توفیق دے۔۔
    والدین پر لکھنے کے لیے الفاظ تو بہت ہیں مگر یہ ادنی سا انسان کہاں اس لائق۔۔۔۔
    اللہ ہمارے والدین پر رحم کرے جس طرح بچپن سے انہوں نے ہم پر کیا۔۔

    یا رب روز محشر میں اتنا سا بھلا کرنا
    نبی کے ہاتھوں میرے والدین کو جامِ کوثر عطاکرنا۔

  • زائرہ وسیم نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا

    زائرہ وسیم نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا

    گذ شتہ سال اسلام کی خاطرشوبز کو خیرباد کہنے والی زائرہ وسیم نے گذشتہ روز اپنا ٹویٹر اور انسٹا گرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیئے تھے تاہم انہوں نے اپنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گذ شتہ سال ا سلام کی خاطرشوبز کو خیرباد کہنے والی زائرہ وسیم نے گذشتہ روز اپنا ٹویٹر اور انسٹا گرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیئے تھے تاہم انہوں نے اپنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعا ل کرلیا ہے۔ زائرہ وسیم نے ٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 133 کا حوالہ دیا تھا۔ جس پر زائرہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی وجہ سے زائرہ وسیم نے اپنا تصدیق شدہ ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا تھا لیکن آج اُن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ سامنے آیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے پوچھا کہ ’زائرہ وسیم نے اپنا اکاؤنٹ کیوں ڈیلیٹ کیا تھا؟


    صارف کے اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے زائرہ وسیم نے لکھا کہ چونکہ میں بھی ایک انسان ہوں تو میں بھی باقی سب کی طرح سوشل میڈیا سے اُس وقت وقفہ لے سکتی ہوں جب میرے اردگرد شور حد سے زیادہ بڑھ جائے۔

    زائرہ وسیم کے اس ٹوئٹ پرٹوئٹر صارفین نے اُن کے اس فیصلے کی سراہتے ہوئے ان کی حمایت کی اور سوشل میڈیا پر خوش آمدید کہا اور صارفین نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں پریشان نہ ہوں یقیناً اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے-
    https://twitter.com/adnanaltafmeer/status/1266690178040676353?s=19
    https://twitter.com/lala_sehra/status/1266693941744762881?s=19


    https://twitter.com/mdsaharul3/status/1266699732375597056?s=19


    https://twitter.com/hkalal123/status/1266698699519881216?s=19

    زائرہ وسیم کوٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑگیا

  • پاکستان، خواب سے تعبیر تک     بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک
    علی حسن اصغر ، لاہور

    عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
    عشق میری زندگی آزادی میرا ایمان ہے
    عشق پہ کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
    اور آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

    پاکستان آج سے بہتر سال پہلے 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پرابھرا۔ پاکستان کو قیام میں آنے سے پہلے اور قیام میں آنے کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ بدقسمتی سے ہم جن مسائل سے دوچار ہیں ہم انہیں مسائل سمجھتے ہی نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت کو جب ہماری ترقی برداشت نہیں ہوئی تو اس نے یکے بعد دیگرے پاکستان پر چارجنگیں مسلط کیں لیکن وہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس پر یہ بات عیاں ہوچکی کہ پاکستان کو میدان جنگ میں ہرانا ناممکن ہے تو پھراس نے سردجنگ کا سہارا لیا ۔ اس جنگ کا جس پر ہم ہنستے ہیں یعنی لطیفوں کے ذریعے پاکستان کی عوام میں تعصبات پیدا کرنا ۔
    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پشتون برادری انتہائی نازک احساسات رکھتی ہے ان احساسات کو پچھلے کئی سالوں سے مجروح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان پر اب تک ان گنت لطیفے بن چکے ہیں ۔لیکن کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ جب ہم اس لطیفے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے پٹھان بھائیوں پر اس وقت کیا بیتتی ہے؟یقیناً یہ بات ہم نے کبھی نہیں سوچی۔ اس بات سے تو ہم سب آشنا ہیں کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے خیبرپختونخوا کو ایک علیحدہ ملک پختونستان بنانے کے درپے ہے اور بلوچستان کو بھی علیحدہ کروانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر بلوچستان کی تمام معدنیات کو استعمال کیا گیا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا اور ان لطیفوں کے ذریعے وہ سب کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے یعنی
    DIVIDE AND RULE
    ہمیں چاہیے کہ ہم ان لطیفوں کو سختی سے رد کریں اور اپنے بھائیوں کے دلوں میں نفاق کا جو پودا بویا جا رہا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ دیں تاکہ کہ تعصب کی اس زہریلی ہوا کو ختم کیا جاسکے۔
    اسی طرح پاکستان کے عوام پر بھی اتنے لطیفے بن چکے ہیں کہ اگر پاکستانی عوام کا ذکر بھی آجائے تو ہمارے ذہن میں فوراً کیا سوچ آتی ہے؟ یہی کہ بے ایمان، نکمی، نالائق، ایک ایسے ملک میں رہنے والی عوام جہاں بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں، جہاں ترقی کے مواقع بھی میسر نہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔
    اپنے بارے میں ہمارا یہ نظریہ بالکل درست نہیں۔ پاکستان میں ترقی کے مواقع بھی میسر ہیں اور سہولیات بھی، پاکستانی عوام ہنر مند بھی ہے اور ایماندار بھی، اگر آج بھی کوئی عورت بغیر کسی خوف کے گھر سے باہر نکل سکتی ہے تو یہ اس کا پاکستان پر بھروسہ ہے یا پاکستانی عوام کی غیرت مندی ، اگر ہم ناساز حالات میں بغیر کسی کی مدد کے ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام ہنر مند نہیں ؟ پاکستان میں آج بھی ارفع جیسے قابل اور مند لوگ ہیں ۔ پاکستان کے متعلق جتنی بھی منفی سوچیں پائی جاتی ہیں حقیقت میں انکی کچھ بنیاد نہیں۔ پاکستان کی قوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی فوج رکھتا ہے جس میں خودکشی کی شرح 0% ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت کی فوج میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے ۔ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ دنیا کی نمک کی دوسری بڑی کان (کھیوڑا) پاکستان میں موجود ہے ۔ سوئی کے مقام پر نکلنے والی گیس کے ذخیرے کا شمار دنیا کے بڑے ذخیروں میں ہوتا ہے۔ دنیا کا بہترین نہری نظام، تھر کا کوئلہ، معدنیات سے مالامال بلوچستان، الغرض پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔
    پاکستان کو اتنے چھوٹے پیمانے پر ماپنا اور کہہ دینا کے پاکستان میں ہے ہی کیا؟ کیا یہ اس ملک کے درودیوار سے غداری نہیں ہے؟ وہ ملک جس نے ہمیں بچپن سے اب تک محفوظ پناہ گاہ دی اور ہمیں آزاد زندگی گزارنےکا موقع فراہم کیا اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ پاکستان نے آج تک ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ کیا یہ احسان فراموشی نہیں ہے؟ ہمیں ان سب باتوں پر غور کرنا چاہئے مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایسا کہنے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ پاکستان اسرائیل اور بھارت کی آنکھوں میں چبھتا کتنا بڑا کانٹا ہے اور وہ یہ پروپیگنڈا کیوں کر رہے ہیں۔
    آئیں اس پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں۔ پاکستانی عوام کا حوصلہ اور عزم بلند رکھیں ۔ یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد کے خون پسینے سے اور ان کی لاکھوں قربانیوں سے معرض وجود میں آیا۔ یہ وطن اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ یقینا یہ وہی ملک ہے جس سے متعلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
    "مشرق کی جانب سے مجھے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”
    پاکستان اسلام کا حقیقی قلعہ ہے۔ آئیں اس قلعے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

  • کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے   از:منہال زاہد سخیٓ

    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے از:منہال زاہد سخیٓ

    شاعری:منہال زاہد سخیٓ

    وہ صبح صبح اٹھ کے جو ہمیشہ ٹھنڈ میں جاتا ہے۔
    نہ اپنا خیال نہ کسی کی سوچ بچوں کیلئے کماتا ہے۔

    دن بھر تھک کر بھی اپنے لئے لیتا نہیں کچھ
    تھکا ماندا گھر پھر بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہے ۔

    پسینے میں شرابور تھکی ٹانگوں کے ساتھ آ لیٹتا ہے۔
    کہیں تھک نہ جائیں بچے وہ ٹانگیں نہیں دبواتا ہے ۔

    کھانے میں چوری چوری کچھ لقمے کھاتا ہے۔
    بچوں کو کھاتا دیکھ اس کا پیٹ بھر جاتا ہے۔

    راتوں کو اٹھ کر دیکھتا ہے کمبل کہیں اتر جائے تو ۔
    تکیے بچوں کو دے کر بن سرہانے سوجاتا ہے۔

    کسی بیماری کا تذکرہ نہیں کرتا بچوں سے
    بچوں کی خاطر ہمیشہ سب آنسو پی جاتا ہے ۔

    بچہ جو سمجھنے آجائے اسکول کا کچھ
    ایک جمع دو کر کے ریاضی بھی سکھاتا ہے ۔

    کہیں میں مر جاؤں تو کون پالے گا ان کو
    بچوں کے بارے میں سوچ کر بہت گھبراتا ہے

    ہمیشہ لمبا سایہ رکھ ہمارے سر پر باپ کا
    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے-

  • تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے  از : منہال زاہد سخی

    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے از : منہال زاہد سخی

    شاعر : منہال زاہد سخی

    ⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁩⁦❤️⁩(ماں)⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩

    ہمیشہ انتظار میں دروازے کی چوکھٹ پہ رہتی ہے
    میرے خیال میں اپنے خیال سے بھی ہٹ کے رہتی ہے

    چہرے پر وہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے رکھتی ہے
    حقیقت میں وہ اندر ہی اندر سے بٹ کے رہتی ہے

    اُس رات ایک چیخ کیا پڑ گئی اُس کے کانوں میں
    اِس رات بھی سُلاتے ہوئے لوری رٹ کے رہتی ہے

    بیٹے کی آئے دن محلہ سے آتی ہیں شکایتیں
    میرا بیٹا نہیں کر سکتا یوں وہ ڈٹ کے رہتی ہے

    کچھ لمحات ہی اضافی گزر جائیں اس کے بن
    ماں تو اپنے سے بھی ناطہ کٹ کے رہتی ہے

    پانچ وقت اس کی آنکھیں نم دیکھتا ہوں سخی
    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے

    #SAKHI

  • اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی  بقلم : عشاءنعیم

    اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی بقلم : عشاءنعیم

    اک شمع جلا ایسی
    تحریر: عشاء نعیم

    کسی بھی معاشرے میں جیسا کہ کہا جاتا ہے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو اس نوجوان نسل سے مراد صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی ہیں ۔ آج کے دور میں کسی بھی معاشرے میں لڑکی کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے بیٹی کا کردار محدود سمجھا جاتا ہے اور بیٹے کا کردار اہم ۔ سچ تو یہ ہے کہ معاشرے کی اصل روح بیٹی ہے ۔
    بیٹی ۔رحمت ،اور خوشی کا دوسرا نام ہے تو یہی بیٹی ہے جسے پاکر ان جانے خوف میں بھی گھر جاتے ہیں ۔
    اس خوف کی وجہ دنیا بھی اور بیٹی کا دنیا سے انجان ہونا بھی ہوتا ہے ۔
    والدین کا یہ خوف بہادر اور باشعور بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی ہیں اتار دیتی ہیں اور والدین خوشی و سکون محسوس کرتے ہیں ۔لیکن بھولی بھالی اور دنیا سے انجان بیٹیاں جب اس دنیا کے مکرو فریب اور داؤ پیچ کو نہیں سمجھ پاتیں، جب وہ نہیں جان پاتیں کہ اصل زندگی ہے کیا اور وہ ہر چمکتی چیز سونا سمجھ لیتی ہیں یا ہر میٹھا بول خلوص سمجھ لیتی ہیں تو یہی بیٹیاں ماں باپ کو کمزور کر دیتی ہیں۔یہی بیٹیاں جو خوشی کا باعث ہوتی ہیں ماں باپ کےلئے درد اور دنیا کے لئے بوجھ بن جاتی ہیں۔
    یہی بیٹی مثالی اور اعلی کردار پیش کر کے کئی بیٹیوں کے لئے راہیں کھول دیتی ہے اور یہی ایک بیٹی ذرا سی غلطی سے خود تو راہیں کھوتی ہی ہے لیکن کتنے ہی گھرانے اس ایک مثال کو لے کر اپنی بیٹیوں کو اندھیروں کی نظر کر دیتے ہیں۔
    ہمارے اپنے گھر کی مثال ہے کہ میرے دادا ابو بیٹیوں کو پڑھانے کے شدید مخالف تھے۔ وجہ معاشرے کی قائم کردہ مثالیں، وہ چند ایک نا سمجھ لڑکیاں تھیں جو نادانی کر بیٹھی تھیں۔میری پھوپھیاں اسی وجہ سے علم کی روشنی سے محروم رہیں، میرے بڑی بہنیں بھی سکول کا منہ نہ دیکھ پائیں ۔ لیکن والدہ کو تعلیم سے بہت محبت تھی خود بھی تھوڑا سا پڑھی ہوئی تھیں لیکن بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کا شوق تھا۔ اسی لیے ہر قسم کی رکاوٹ کو بالآخر عبور کرتے ہوئے مجھے سکول داخل کروادیا ۔
    گھر میں ہر وقت یہی سنا کہ پڑھائی لکھائی ٹھیک نہیں (ایک بہت بڑے گھر میں پورشن تھے دو تین فیمیلز اکٹھی تھیں وہ سب باتیں کرتے تھے۔)
    یہی وجہ ہے کہ جب مجھے سکول داخل کروایا گیا اور میں نے شعور کی سیڑھی پہ قدم رکھا تو اس قسم کی بات سے خوف کھانے لگی ۔پڑھائی کا جنون تھا اور کسی جھوٹی بات کے الزام سے بھی خوف زدہ رہتی۔کسی لڑکی کی ذرا سی ایسی بات پتہ چلتی دوستی ہی چھوڑ دیتی کہ کہیں اس کی وجہ سے مجھ پہ الزام نہ آ جائے یا میرا کردار نہ خراب ہو جائے۔
    ایسی ویسی بات سے ہی نفرت ہو گئی ۔
    ہر وقت اپنی عزت اور ماں باپ کی عزت ملحوظ رہتی ۔
    الحمداللہ، اللہ کی رحمت سے جب میٹرک کیا تو دادا ابو نے فخر سے کہا مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو نہیں پڑھایا ۔میری پوتی نے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔
    گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور الحمدللہ اپنے ماں باپ کو اتنا اعتماد دیا کہ بڑی آپیاں بھی پڑھنے لگیں۔
    پھر پھوپھیوں کی بچیاں بھی سکولز جا پہنچیں ۔
    جب ایک لڑکی پڑھ لکھ جاتی ہے تو اس کی اولاد لازمی پڑھی لکھی ہوتی ہے جبکہ ایک پڑھے لکھے مرد کی اولاد لازمی پڑھی لکھی نہیں ہوتی ۔
    اس کا مطلب ہے ایک لڑکی کئی نسلوں تک اپنا کردار پہنچاتی ہے۔
    یوں اک چراغ سے اگلا چراغ جلتا چلا گیا الحمدللہ۔
    علم کے زیور سے آراستہ ہونے کی بنا پر شرک و واحدانیت کا فرق سمجھ آیا، دین کی سوجھ بوجھ پختہ ہوئی تو الحمدللہ واحدانیت کو اپنایا جس سے اسی طرح روشنی بڑھی جس طرح تعلیم سے بڑھی تھی اور نہ صرف گھر میں ہر شخص موحد ہوتا چلا گیا بلکہ یہ روشنی بھی بڑھتی چلی گئی اور پھوپھیوں کے دلوں کو روشن کرتی چلی گئی۔
    اس کا مطلب ہے بیٹی کا کردار بہت ہی اہم ہے۔بیٹی، وہ فرد ہے جو اپنے کردار سے آپ کا سر فخر سے بلند تو کرتی ہی ہے کئی گھروں تک اس کے کردار کی خوشبو پہنچتی ہے جس سے وہ گھر بھی متاثر ہوتے ہیں اور اپنے کردار سے کئی گھروں کو اندھیروں میں ڈبو سکتی ہے ۔
    اس لیے اے بنت حوا!
    تو اپنے کردار سے جنت، جہنم کا فیصلہ تو کرتی ہی ہے معاشرے میں بھی دیکھ لینا تم کیا کیا اثرات مرتب کر سکتی ہو۔
    اگر پڑھتی ہو ،جاب کرتی ہو یا سوشل میڈیا پہ ہو ہر جگہ جو کردار ادا کرو گی وہ کردار صرف تمہارا ذاتی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اچھا یا برا وہ مثال بن جائے گا اور دیگر بیٹیوں کے لئے راہ متعین کر دے گا۔
    سوشل میڈیا پہ بیٹھی ہو تو ان ہاتھوں کے استعمال سے پہلے کچھ حروف کو ملا کر جو لفظ بناتی ہو تو دھیان رکھنا یہ کس کو کیا لکھ رہی ہو۔ کہیں تمہارے ہاتھوں سے نکلے چند لفظ جو جملہ بن جاتے ہیں کسی کے گھر پر بم بن کر نہ گر جائیں، کسی کے آشیانے کو آگ نہ لگا جائیں ۔
    کسی کی زندگی جہنم نہ بنادیں ۔کسی کا چین نہ لے جائیں ۔تمہارے ماں باپ کا سر شرم سے نہ جھکا جائیں ۔تمہیں اندھیروں میں نہ لے جائیں ۔
    ماں باپ جو تمہارے ناز، نخرے اٹھاتے ہیں باپ دن بھر محنت کرتا ہے اور ماں گھر میں جس طرح محنت کرتی اور گھر کو سنبھالتی ہے تم پہ وہ دونوں اعتماد کرتے ہیں تم بھی اپنے کردار سے ان کی محبتوں اور محنتوں سے اس کا سر فخر سے بلند کردو تو جنت کا ساماں بھی بنو۔
    انھیں اپنے دئیے گئے اعتماد سے رسوا کر کے پچھتاوا نہ لگاؤ کہ کیوں اعتماد کیا ۔
    صرف ماں باپ ہی نہیں روتے معاشرے کے دیگر ماں باپ بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور اس مثال کو لے کر بیٹیوں پہ اعتماد نہیں کرتے اور وہ اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔یعنی تمہارے کردار کی اک شمع سے جہاں کئی شمع جلتی ہیں وہیں اک غلط قدم اور اندھیرے میں قدم رکھ دینے سے کئی اور بھی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔سو
    ہر قدم پہ دھیان رکھنا
    یوں ہی نہ نادان بننا
    جلا کر چراغ روشنی کرنا
    کہیں بھٹک کر نہ پشیمان ہونا

  • والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں    ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام
    ازقلم:-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
    (ترجمہ)
    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔

    (بنی اسرائیل:23)

    مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُف تک بھی نہ کہو،والدین کی عزت واحترام دینی و دنیاوی بہتری کا سبب ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

    وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
    ترجمہ :-

    اور اللہ کی عبادت کرو ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ( ٢٩ ) ساتھ بیٹھے ( یا ساتھ کھڑے ) ہوئے شخص ( ٣٠ ) اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی ( اچھا برتاؤ رکھو ) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ۔

    (النساء:36)

    اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے۔
    یَسۡئَلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

    ترجمہ

    لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے ) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین ، قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہئے ۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو ، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔

    (البقرہ:215)

    رسول کریم ﷺ نے بھی ہمیں والدین سے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ بتلادوں؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اورنہ والدین کی نافرمانی کرنا۔

    والدین کی حیثیت گھر میں نگران کی ہے ۔ اولاد اگر سنجیدگی اور تدبر سے کام لے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے بعد صحیح معنوں میں قابل احترام اور لائق اطاعت اگر کوئی ہستی ہے تو وہ والدین ہیں۔والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری بھی عبادت میں داخل ہے، لیکن اگر والدین کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہو تو ان کی اطاعت فرض نہیں بلکہ شریعت کی اطاعت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور وہ دونوں (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تُو ان کا کہنا نہ ماننا ،ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا‘‘ والدین کا مقام و مرتبہ اس قدر اہم ہے کہ توحید و عبادت کے بعد اطاعت و خدمت والدین کو ضروری قرار دیا گیا کیونکہ جہاں انسانی وجود کا حقیقی سبب اللہ ہے تو وہیں ظاہری سبب والدین۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گنا ہ والدین کی نافرمانی ہے،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

    (صحیح بخاری)

    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور اپنے والدین کو جھڑک مت اور ان سے نرمی سے پیش آ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ چنانچہ فرمایا (ترجمہ) اور تو کہہ کہ اے میرے رب میرے والدین پر رحم کر جس طرح بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔

    (بنی اسرائیل: 25)

    حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا والدین کی فرمانبرداری۔

    (صحیح بخاری)

    حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ آپؐ کے ساتھ ہجرت اور جہاد کرنے کیلئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ تو اس شخص نے کہا: دونوں حیات ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے پوچھا: کیا تو واقعی اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا طالب ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے والدین کے پاس جا اور ان کی خدمت کر۔

    (صحیح مسلم)

    ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟
    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ۔

    (صحیح بخاری)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے ۔ چنانچہ تمہیں اختیار ہے خواہ ( اس کی نافرمانی کرکے اور دل دکھا کے) اس دروازہ کوضائع کردو یا ( اس کی فرمانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر) اس دروازہ کی حفاظت کرو۔

    (جامع ترمذی)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھا دیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    آپ ﷺنے ارشاد فرمایا وہ شخص ذلیل وخوار ہو۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! کون ذلیل و خوار ہو ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر(ان کی خدمت کے ذریعہ) جنت میں داخل نہ ہو۔

    (صحیح مسلم)

    حضرت ابو اسید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللہ ؐ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ ہاں کیوں نہیں ۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو،ان کے لئے بخشش طلب کرو ، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو ۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حُسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔

    (ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین)

    حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور رزق میں فراوانی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حُسن سلوک کرے (اور اپنے عزیزواقارب کے ساتھ بنا کر رکھے) اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرے ، اس کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ آنحضور ﷺ نے بیان فرمایا کہ بندے سے اللہ کا راضی ہونا بندے سے اللہ کا ناراض ہونا، والدین کی رضامندی و ناراضگی کے ساتھ وابستہ ہے۔
    ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا رب کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے،رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔

    (الجامع الصغیر)

    حضرت ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مقام جعرانہ میں دیکھا ۔ آپ گوشت تقسیم فرما رہے تھے ۔ اس دوران ایک عورت آئی تو حضور ﷺ نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی ۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون خاتون ہیں جس کی حضور ﷺ اس قدر عزت فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ حضور ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔
    قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا ہمیں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ خاص کر جب والدین یا دونوںمیں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا حتیٰ کہ ان کو اُف تک نہیں کہنا چاہئے۔ ادب و احترام محبت و خلوص کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ ان کا ادب واحترام کرنا چاہئے۔ ان سے محبت کرنی چاہئے۔ ان کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ ان کی خدمت کرنا،ان کو حتی الامکان آرام پہنچانا ، ان کی ضروریات پوری کرنا ، یہ سب ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔سال یکم جون کو دنیا بھر میں والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد والدین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ بلاشبہ ماں، باپ قدرت کی عظیم نعمت ہیں۔ وہ بچّے کو پیدائش سے لے کر اُس کی تعلیم وتربیت اور معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے تک اہم کردار ادا کرتے ہیں، اُس کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتے ہیں، اُسے زمانے کے ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں، گویا اُس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیتے ہیں، لیکن افسوس کہ جب وہی اولاد بڑی ہوجاتی ہے تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔ حالاںکہ اُس وقت اُن کو اُس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں کہ اولاد نے بڑھاپے میں ماں باپ کو گھروں سے نکال دیا، بے سہارا چھوڑ دیا، اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیا، اولڈ ہاؤسز میں داخل کرادیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بچّے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے والدین سے انتہائی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں، اُن کی نافرمانی وتیرہ بنالیتے ہیں، اولاد کے پاس والدین کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ دُنیاوی مشاغل میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ماں باپ کے پاس دوگھڑی بیٹھنا اُن کے لیے دُشوار ہوجاتا ہے۔ والدین بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ افسوس کہ نافرمان اولاد کے قصے کہانیاں زبان زدعام ہیں۔مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے جمعہ کا خطبہ والدین کے حقوق کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندگان خدا دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے پابند ہیں۔ سب سے پہلے اللہ کاحق آتا ہے۔ ہر فرد کو اللہ کے حقوق بلا کم و کاست ادا کرنے ضروری ہیں۔ جو لوگ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

    امام مسجد نبوی نے کہاکہ پانچوں نمازوں کی بروقت باجماعت ادائیگی اللہ کا حق ہے۔ اللہ او ررسول کے حقوق کے بعد سب سے پہلے والدین کے حقوق کا نمبر آتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے حق کا ذکر کرتے ہی والدین کے حقوق کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق پر اسلئے بہت زیادہ زوردیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ، والدین ہی کی بدولت انسان کو جنم دیتے ہیں۔ ماں بچے کی پیدائش کے حوالے سے غیر معمولی مشقت اور زحمت جھیلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو والدین کی خدمت کی غیر معمولی تاکید کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے کہ ایسا انسان جسے اپنے بوڑھے والدین نصیب ہوں یا ان میں سے کوئی ایک اس کی زندگی میں ہو اور پھر وہ جنت میں داخلے کا اہتمام نہ کرے تو وہ بدقسمت ہے۔ اسلام نے والدین کی اطاعت کا دائرہ بھی متعین کیا ہے۔ اگر وہ کسی معصیت کا حکم نہیں دیتے تو انکی اطاعت واجب ہے۔ معصیت میں انکی تابعداری سے اولاد کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ والدین کو اولڈ ہوم بھیجنا یا انکی نگہداشت میں کمی کرنا انکے ساتھ ظلم اور بڑا گناہ ہے۔ یہ غیر اسلامی طرز عمل ہے۔

    ادب اور اخلاق معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے، جو معاشرے کو بلند تر کرنےمیں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ کہاوت ہےکہ ’’باادب بانصیب اور بے ادب بدنصیب‘‘ یعنی ادب ایک ایسی صنف ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے۔ اسلام نے بھی ادب و آداب اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے۔

    مذہب اسلام نے ہر رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیئے ہیں۔ ادب و آداب کی تعلیم بھی دی گئی ہے، جس میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کا ادب ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق معاشرے کے ستائے ہوئے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد بھرپور توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

    خدمت خلق ہی ایک ایسا فعل ہے جس سے انسان کی عظمت کا صحیح طورپر پتا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے دو فرائض لگائے ہیں ایک اس مالک کل کی اطاعت دوسرے اس کے بندوں سے پیار۔ یعنی ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔ ہمارے نوجوان معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی اخلاقی ذمے داریوں کا معاشرے کے بزرگ افراد، والدین ، اساتذہ سے براہ راست تعلق ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ادب کے حوالے سے نوجوانوں کا منفی رویہ کافی تکلیف دہ ہے۔

    آج بوڑھے والدین کے ساتھ نوجوان جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر میڈیا پر یہ خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ چند روپوں یا جائیداد کی خاطر بزرگ والدین کو قتل کردیا۔ آج کے بچے، نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں تھوڑی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ماں باپ کسی چیز کے متعلق پوچھ لیں تو بھنویں تن جاتی ہیں مگر یہی نوجوان بچپن میں والدین سے جو کچھ پوچھتے تو والدین خوشی خوشی بتاتے تھے۔

    ماں باپ کے آگے صرف دو وقت کی روٹی رکھ دینا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ والدین کی اطاعت، فرمابرداری، ادب و آداب ہی باادب اور کامیاب انسان بناتے ہیں۔والدین کی دعائیں کامیابی کا زینہ ہیں جس کی بدولت آپ ایک کامیاب انسان بن کر ملک وقوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ والدین کے غصے کے آگے آپ کی برداشت اور غفودرگزر ادب و آداب کی بہترین قابل تعریف مثال ہے۔ والدین کی ناراضی وقتی ہوتی ہے اور آپ کے اس عملی مظاہرہ سے والدین کے دل میں آپ کی جگہ بن جائے گی اور ان کی شفقت و محبت میں مزید بہتری آئے گی۔ آپ کی تقلید میں چھوٹے بہن بھائی اور گھر کے دیگر افراد بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔
    قارئین کرام! آج اپنے رب کو گواہ بنا کر ایک عہد کریں کہ والدین کے ساتھ جو پہلے بے ادبی برتی گئی اس پر معافی مانگتے ہیں ۔اور آئندہ کے لیے ان کی عزت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔