Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسلمان بیٹی کی پہچان …!!!  بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی کی پہچان …!!! بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    ہے مسلمہ بیٹی۔۔۔۔
    کی پہچان۔۔۔۔
    حنیفہ و ضو افشاں
    تعلیمِ اسلام ہے۔۔۔
    جس کی شان۔۔۔۔
    چراغِ رہ ہیں۔۔۔
    نبی کے فرمان۔۔۔۔
    حیا ہوتی ہے۔۔۔۔
    جس کی چادر۔۔۔۔
    حجاب بنتا اپنا ایمان۔۔۔۔
    باپ کی وہ چشمِ نور
    شوہر کی آنکھ۔۔۔
    کا سرور۔۔۔۔۔
    کردار اُس کا۔۔۔
    ہوتا ہے ازکیٰ۔۔۔۔
    چال رہتی ہے۔۔۔
    جس کی ذکریٰ۔۔۔۔
    آزمائش کی ۔۔۔۔
    گھڑی میں بھی۔۔۔
    آسودگی و۔۔۔
    خوشی میں بھی۔۔۔
    رب کی یاد میں۔۔۔
    رطب اللسان۔۔۔۔
    صوم و صلوۃ کی
    روشنی سے۔۔۔
    صدقہ و خیرات کی
    چاشنی سے۔۔۔۔
    ڈھونڈتی ہے وہ
    اپنی امان۔۔۔۔
    فحاشی کی سب
    راہوں سے۔۔۔۔
    بے حیائی کی
    آماجگاہوں سے۔۔۔
    خود کو بچاتی ہے
    سدا۔۔۔
    حیا کے حسنِ لازوال۔۔۔۔
    سے وہ خود کو۔۔۔
    بناتی ہے با وفا۔۔۔
    ظلمت کی لہریں جب
    سفیدی پر آ لگتی ہیں
    میلاہٹ سی آ جاتی ہے۔۔۔؟
    اکتاہٹ سی ستاتی ہے
    اوصاف کو۔۔۔۔
    دھندلاتی ہے۔۔۔؟؟؟
    ان سب سے۔۔۔۔
    بچ بچا کر وہ۔۔۔۔
    حسن اپنا بڑھاتی ہے۔۔۔ !!!
    بن کر جو رہ کی شمع…
    اوروں کو رستہ دکھاتی ہے…
    نہیں ہوتی ظلمتوں کی پیامبر…
    نہ اوروں کو بھٹکاتی ہے…
    اسلام کی ایسی بیٹی۔۔۔
    ہی آگے۔۔۔۔
    جب بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔ !!!
    اور ماں جب یہ کہلاتی ہے۔۔۔
    اس کی باوفا گود میں…
    پھر ہیرے ایسے پلتے ہیں۔۔۔
    کردار ایسےکھِلتے ہیں۔۔۔۔
    کہ جن کے عمل کی
    روشنی میں۔۔۔۔
    اک دنیا سنورتی ہے۔۔۔
    رنگ رفعت کا بھرتی ہے۔۔۔
    ایسی ہی مسلمہ ۔۔۔۔
    بیٹی پر۔۔۔۔
    زمانہ ناز کرتا ہے۔۔۔۔
    خود کو اک جہاں۔۔۔
    اس کے ہم انداز۔۔۔
    کرتا ہے۔۔۔ !!!!!
    ایسی ہی بیٹیاں۔۔۔
    بہت نادر ہوتی ہیں۔۔۔
    بہت نایاب ہوتی ہیں۔۔۔
    قوموں کی وہ آبرو۔۔۔۔
    عزت مآب ہوتی ہیں۔۔۔ !!!
    یہی ہوتی ہیں تابندہ۔۔۔
    یہی تاباں ہوتی ہیں۔۔۔۔
    یہی ہوتی ہیں تاجور۔۔۔۔
    یہی دُر افشاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    =========================

  • اسلام میں والدین کا مقام   بقلم:  ندا خان

    اسلام میں والدین کا مقام بقلم: ندا خان

    اسلام میں والدین کا مقام
    بقلم. ندا خان
    دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک رکھنا چاہیے قرآن پاک میں جہاں الله تعالٰی اپنی فرمانبرداری کی طرف توجہ دلائی ہے
    اس کے بعد والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کی تعلیم دی ہے
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت کا مفہوم ہے
    ” اے بندو تم میرا ( الله) کا شکر ادا کرو اور والدین کا شکر ادا کرو تم تمام کو میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے” سورة لقمان ١٤
    یاد رکھے جس طرح الله کے حقوق ہم پر فرض ہے اسطرح انسانوں کے حقوق بھی ہم پر فرض ہے اور انسانوں میں سب سے بڑھ کر والدین کے حقوق اہم ہے
    سورة الأحقاف ١٥ میں الله فرماتے ہیں
    ” اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ ایسے نیک عمل کرو جن سے تو خوش ہوجائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمان میں سے ہوں ”
    اور جو والدین کی نافرمانی کرتے دنیا اور آخرت کی زلت ان کا مقدر بنتی ہے
    حدیث کا مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ” جس نے رمضان کو پایا اور الله سے اپنی بخشش نہ کروائی اس پر لعنت جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے اس پر لعنت اور جس نے اپنے ماں باپ کو
    بڑھاپے کی حالت میں پایا ان کی خدمت نہ کی اس پر لعنت”
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا تم مجھ سے یہی کہتے رہتے رہو گے کہ میں نے مرنے کے بعد زندہ کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں وہ دونوں جناب باری تعالیٰ میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے تجھے خرابی ہو ایمان لے آ بیشک الله کا وعدہ حق ہے وہ جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں”
    سورة الأحقاف ١٧
    اسلام ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرمانبرداری کی تعلیم دیتا ہے
    لیکن دورہ حاضر میں آپ مسلم معاشرے کا مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ بات عیاں ہوگی کہ بہت کم لوگ ہے جو والدین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور ان سے شفقت سے بیش آتے ہیں بلکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی
    میں انہیں برائی محسوس نہیں ہوتی
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے کسی نے سوال کیا مجھ پر سب سے زیادہ کس کا حق ہے
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں کا یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دوہرائے پھر سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیرے باپ کا ” والله اعلم
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کریں اور
    بیوی پر فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کریں”
    قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر جہاں اللّٰه تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ ہی والدین سے حسن سلوک اور ان کے ساتھ خوش معاملہ کرنے کا ذکر ہے
    سوة النساء ٣٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ” اور الله کہ عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک و احسان کرو”
    قرآن پاک میں دوسرے مقام پر الله تعالٰی فرماتے ہیں
    سورة البقرة ٨٣
    ، اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم الله تعالٰی کے سوا دوسرے کی عبادت
    نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تمہارے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق تمہارے والدین کا ہے اگر ان میں سے کوئی نہیں ہے تمہاری ماں کے بعد حسن سلوک کا حق تمہاری ماں کی بہن کا اور اس کی سہیلی کا اور باپ کے بعد حسن سلوک کا حق چچا کا اور باپ کے دوست ہے”
    والله اعلم
    میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔ Sahih Bukhari#527
    الله رب العزت ہمیں والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا ارحم الراحمين

  • دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو  تحریر: ساجدہ بٹ

    دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو تحریر: ساجدہ بٹ

    دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو
    تحریر: ساجدہ بٹ

    آج ہم بات کریں گے عزت و وقار کے بارے میں چونکہ ہر۔ انسان دنیا میں اپنا ایک مقام و مرتبہ چاہتا ہے انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے پیار و محبت سے پیش آئیں اُسے اچھا جانیں مال و دولت سب کچھ ہمارے پاس ہو ہم سکون کی زندگی جیئیں ۔۔۔۔۔۔
    آپ قارئین سوچیں گے یہ سب ایک ساتھ کیسے ممکن ہے ؟؟؟؟؟
    جی ہاں قارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ذرا توجہ و دلچسپی سے اس تحریر کو پڑھیئے کہ ہمارے مذہب نے ہمیں ترقی کا راز کیا بتایا ہے جس پر چل کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔

    جی ہاں میرے عزیز ہم وطنو ترقی کا راز والدین کی خدمت میں ہے ۔۔۔
    دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اپنے پروکاروں کو والدین کی خدمت اور اطاعت گزاری کی تاکید نہ کی ہو۔۔
    عیسائیت ہو یا یہودیت،ہندومت یا بدھ مت۔
    ہر مذہب نے والدین کی تابعداری اور خدمت ضروری قرار دی ہے مگر اسلام کو دیگر مزاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اس نے اپنی تعلیمات میں والدین کی صرف خدمت کی ہی تلقین نہیں کی۔بلکہ احسان کی تاکید کی ہے اور احسان کا درجہ خدمت سے بڑھ کر ہے
    سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔۔
    وبلوالدین احساناً
    یعنی والدین کی صرف اتنی خدمت نہیں کرنی جتنی انہوں نے کی بلکہ اتنی زائد ہو کہ وہ تمہارا احسان نظر آنے لگے۔۔۔
    قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے بڑے بڑے فرائض احسان احترام،شکرگزاری اور دعائے خیر بیان کیے۔۔۔
    سورۃ الاسرا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔۔۔۔۔۔

    اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو اور ماں باپ سے احسان کرو ،
    اور ان کے سامنے نرمی اور رحم سے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو
    اُنھیں اف تک نہ کہو اُنھیں نہ جھڑکو اور ان سے ادب سے گفتگو کرو
    ۲۳٫۲۴٫۲۶
    دیکھیں کس قدر خوبصورتی سے اسلام نے والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی ہے
    *حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
    ،،خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟فرمایا،وقت پر نماز پڑھنا ،پوچھا پھر کون سا،،فرمایا والدین سے حسن سلوک،،
    سوچیں جب ہم اس قدر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو کیونکر نہ ترقی کریں گے،
    کہتے ہیں مثال سے بات سمجھ آتی ہے تو چلیے مثال ہی سے بات کرتے ہیں ہم اگر اپنے اِرد گِرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔
    ہمارے ہمسایوں میں جو فیملی رہتی ہیں اُن کے 6 بیٹے ہیں جن میں چار شادی ہیں گھروں میں اکثر لڑائی وغیرہ تو ہو ہی جاتی ہے لیکن یہاں میں بات صرف والدین اور اولاد کے سلوک پر کروں گی ۔۔۔
    اُن کے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی گھر میں ماں باپ بیوی کے درمیاں تلخ کلامی ہو بھی جاتی تو اُن کے بیٹے نے ماں باپ کی خدمت میں کوئی فرق نہیں آنے دیا کبھی پلٹ کے کسی بات کا غصے میں جواب نہیں دیا مسکرا کے والدین سے ملتے رہے۔۔۔۔۔پھر اُن کے بچے ہوئے الحمدللہ وہ بھی والدین کے فرمانبردار ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں بہت بہت ترقی دی بہت جلد وہ ترقی کی کئی منازل تہ کرنے لگے گاؤں کے لوگ اُس لڑکے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں میرے والدین سمیت سب اُس کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    آپ کے خیال میں اُس آدمی کو یہ سب کچھ کیوں ملا ؟؟؟
    آپ ذرا یہ سوچئے۔۔۔
    اور میں بات کرتی ہوں اب اُن کے دیگر بیٹوں کے بارے میں تو جی ہاں قارئین کرام اُن کے باقی بیٹوں کی شادیاں ہوئی والدین میں سے کسی سے بیوی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو وہ بھائی پورا پورا والدین سے مقابلہ کرتے اُن سے ناراض ہو جاتے کھانا الگ بنانے لگے ۔۔۔حلاں کے بڑے بھائی کی نسبت یہ سب ہنر مند تھے لیکن پھر بھی کاروبار میں کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بس دو ٹائم روٹی کھانے کو با مشکل گزارا کرتے ہیں اُن میں سے کوئی گلی میں کبھی فضول کھڑا بھی ہو جائے تو محلے والے اچھا نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک ہی والدین کی اولاد ہونے کے باوجود اس طرح بچوں کے درمیان کیوں ہوا؟؟؟
    یقینا والدین کی خدمت اور نافرمانی کی واضح مثال میرے عزیز قارئین کرام کی سمجھ میں ضرور آئی ہو گی۔۔۔۔
    بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی اس عمر میں آنا ہے ہم نے بھی کمزور جسم میں ڈھل جانا ہے اگر ہماری اولاد نے ہمارے ساتھ یہ سب رویہ اختیار کیا تو یقینا ہمیں بہت افسوس ہو گا ۔۔۔

    شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

    کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
    "””””””””””””””””””””””””””””

  • پین گونگ سو جھیل کی لڑائی   بقلم : عدنان عادل

    پین گونگ سو جھیل کی لڑائی بقلم : عدنان عادل

    پین گونگ سو جھیل کی لڑائی اتوار 31 مئی 2020ء

    جن لوگوں نے عامر خان کی مشہور فلم تھری ایڈیٹ دیکھی ہے انہیں اسکا آخری کلائمیکس منظر یاد ہوگا جو ایک حسین و جمیل قدرتی جھیل کے کنارے فلمایا گیا ہے۔پانچ اور چھ مئی کوچین اور بھارت کے فوجیوں میں جن پانچ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں ان میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری یہ جھیل بھی ہے جسے’ـ پین گونگ سو‘ کہتے ہیں (سو کے سین پر زبر ہے) ۔دونوں ملکوں کی فوجیں تین ہفتوں سے یہاں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ یہ کوئی معمولی خوبصورت جھیل نہیں بلکہ خطّہ کی سیاست اور سلامتی میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سطحِ سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پین گونگ سو جھیل لدّاخ کے شہر لیہہ سے مشرق کی جانب چوّن کلومیٹرپر واقع ہے ۔ یہ دشوار گزار مسافت پانچ گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔چھ سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ جھیل لداخ کے نہ بالکل شمال میں ہے نہ جنوب میں بلکہ درمیان میں ہے۔ ایک سو چونتیس کلومیٹر طویل یہ جھیل مشرق میں چین کے صوبہ تبت سے نکل کرمغرب کے جانب لداخ کے ضلع لیہہ تک آتی ہے۔اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر دو سے چھ کلومیٹر تک ہوجاتی ہے۔ دسمبر سے اپریل تک اسکا پانی برف بن جاتا ہے۔اس پر سکیٹنگ کی جاتی ہے‘ پولو کھیلی جاتی ہے۔ اکسائے چِن(تبت) میں اسکا پانی میٹھا ہے‘ لداخ میں کھارا۔ جھیل کے ایک سو کلومیٹر حصّہ پر چین کا قبضہ ہے‘ باقی حصہ پر بھارت کا۔ چین کا دعوی ہے کہ پوری جھیل تبت کا حصہ ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ پوری جھیل اسکی ہے۔ پین گونگ سو جھیل کے شمال میںہمالیہ کے سنگلاخ‘بنجرپہاڑ ہیں۔ کئی مقامات پر اس پہاڑی سلسلہ کے جھیل کے اندرکی طرف انگلی کی شکل میںسِرے نکلے ہوئے ہیں۔ چین اور بھارت کی فوجیں ان پہاڑی انگلیوں سے جھیل کے مختلف مقامات کا تعین کرتی ہیں۔پہلی انگلی مغرب میں بھارت کے زیرِ قبضہ علاقہ سے شروع ہوتی ہے۔ انیس سو باسٹھ میں اس جھیل پر قبضہ کے لیے دونوں ملکوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی تھی۔ بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جھیل کے بیشتر حصہ پر چین کا قبضہ ہوگیا تھا۔ دونوں ملکوں کی فوجیں جدیدجنگی کشتیوں کے ذریعے اس جھیل میں گشت کرتی ہیں۔ بھارت آٹھویں انگلی کوعارضی سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول قرار دیتا ہے جبکہ چین دوسری انگلی کو۔حالیہ جھڑپ پانچویں انگلی پر ہوئی۔ چین کی فوجیںجھیل میں اپنے سابقہ مقام سے آٹھ سے دس کلومیٹرآگے تک بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے متصل پہاڑ پر اپنی چوکیاں بنا لی ہیں۔بھارت پہاڑ کی دوسری انگلی تک محدود ہوگیا ہے۔یُوں اس محاذ پرتقریباً چالیس مربع کلومیٹر کاوہ علاقہ بھارت کھو چکا ہے جسے وہ اپنا حصّہ سمجھتا تھا ۔ چین کے لیے پین گونگ سو جھیل کی اہمیت اکسائے چِن کے علاقہ کی وجہ سے ہے جہاں اس جھیل کا مشرقی حصہ واقع ہے۔اکسائے چن اڑتیس ہزار مربع کلومیٹر کی ہموار سطح مرتفع ‘ ایک برفانی صحرا ہے۔ اسکی آبادی صرف دس ہزار ہے لیکن فوجی اعتبار سے بہت اہم مقام ہے۔ بھارت کا دعوی ہے کہ یہ اسکا علاقہ ہے‘ لداخ کا حصہ ہے ۔ گزشتہ سال اگست میں بھارت نے لداخ کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی یونین کا حصہ قرار دیا تو چین نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ بھارت کی حکمران جماعت کے رہنماؤں نے دعوے کیے تھے کہ وہ اکسائے چن کو بھی چین سے لیکر بھارت میں شامل کریں گے۔ ان اعلانات سے چین میں تشویش پیدا ہوئی کہ بھارت کے ارادے خطرناک ہیں۔ خاص طور سے ایسے حالات میں جب بھارت امریکہ کا قریبی اتحادی بن چکا ہے۔بھارت کے ان توسیع پسندانہ ارادوں کو ناکام بنانے کی غرض سے چین میں پیشگی اقدام کے طور پر جھیل میں پیش قدمی کرکے اسکا اتنا حصہ اپنے کنٹرول میں کرلیا جو فوجی اعتبار سے یہاں اسکی پوزیشن مستحکم کردے۔ چین نے اب جھیل کے جس علاقہ پر قبضہ کیا ہے وہ اونچائی پر واقع ہے ۔ یہاں سے اسکی فوجیں بھارتی فوجوں کی نقل و حرکت اور فوجی تنصیبات پر نظر رکھ سکتی ہیں۔ جھیل کے شمال میںبھارت کی ایک بڑی فوجی پوسٹ ہے۔ جھیل کے قریب ہی چوشول وادی ہے ۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاںسے اُنیس سو باسٹھ میں چین کی فوجوں نے حملہ کرکے بھارت کی پٹائی کی تھی۔ اسی وادی میں بھارت نے جنگی جہازوں کے لیے ائیر فیلڈ بنایا ہوا ہے۔ چین کے لیے پین گونگ سو جھیل بہت تزویراتی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مشرق میںچین کا صوبہ تبت واقع ہے جہاں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے جسے بھارت ہوا دیتا آیاہے۔ تبت کے علیحدگی پسند بھارت میں مقیم ہیں۔ تبت کی جلاوطن حکومت بھارت میں قائم ہے۔اگر چین اس جھیل پر بھارت کا قبضہ تسلیم کرلے تو اسکا مطلب ہے کہ تبت بھی کسی وقت اسکے ہاتھ سے نکل سکتا ہے کیونکہ تبت اور چین کے صوبہ سنکیانگ کو ملانے والی بڑی شاہراہ اس جھیل کے مشرقی کنارے کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے۔ اسے چائنہ نیشنل ہائی وے (این ایچ 219) کہا جاتا ہے۔ جب چین نے انیس سو پچاس کی دہائی میںیہ سڑک بنائی تھی اس وقت بھارت نے اس پر اعتراض کیا تھا جس کے باعث انیس سو باسٹھ کی جنگ چھڑی تھی۔ چین کے لیے جھیل کے بیشتر حصہ پر قبضہ سنکیانگ اور تبت کو ملانے والی شاہراہ کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ تین سال پہلے بھی اس جھیل میں چین اور بھارت کے فوجیوں نے جھگڑا کیا تھا۔ تاہم فائرنگ کی بجائے ایک دوسرے کو مکے ‘ تھپڑمارے تھے‘ ککیں ماریں تھیں‘ پتھراؤ کیا تھا۔ لکڑی کے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ اس بار بھی فائرنگ نہیں ہوئی۔ اسی طرح لڑائی ہوئی لیکن فرق یہ تھا کہ اس بار چینی فوجیوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ زیادہ جارحانہ موڈ میں تھے۔ بھارتی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اب بھارت نے بھی مزید فوجی بھیج دیے ہیں لیکن اسکے فوجی اگر آگے بڑھتے ہیں تو بڑی لڑا ئی شروع ہوسکتی ہے۔ فی الحال دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں۔بھارت کا مخمصہ یہ ہے کہ موجودہ پسپائی کی پوزیشن کو عارضی سرحد مان لے تو ملک میں نریندرا مودی کی بڑی رسوائی ہوگی اور اگرآگے بڑھنے کی کوشش میں جنگ ہوجاتی ہے تو بھارت کا بڑا نقصان ہوگا‘ فوجی اعتبار سے بھی اور معاشی طور سے بھی۔

  • اسلام میں والدین کی عظمت  بقلم: ثناء صدیق

    اسلام میں والدین کی عظمت بقلم: ثناء صدیق

    اسلام میں والدین کی عظمت
    ثناء صدیق

    دنیا کے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین کا ہے بلکہ اس کو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم و ہدایت میں جزو ایمان کا درجہ دیا ہے اللہ پاک کی طرف اتارے گئے صحیفہ ہدایت میں اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ ان کی عظمت اور شکر گزاری پر بھی زور دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال میں اللہ کی عبادت کے علاوہ ماں باپ کی راحت رسانی کا درجہ ہے
    جیسا کہ ارشاد ہے
    وقضی ربک الا تعبدو الا ایاہ و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل 23)
    تمہارے رب کا حکم ہے صرف اسی کی عبادت کرو اور اپنے والدین کی خدمت اور اچھا برتاو کرو
    ایک حدیث میں ارشاد ہے
    والد کی رضا مندی میں اللہ کی رضامندی ہے
    جو اپنے مالک و مولا کو راضی رکھنا چاہتا ہے وہ اپنے ابو کو راضی رکھے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی اولین شرط والد کی رضا جوئی کی شرط ہے جو کوئی اپنے والد کو ناراض کرے کا وہ اپنے آپ کو رضا الہی سے محروم کر لے گا
    والدین کی فرمابرداری کی برکات اللہ دنیا میں بھی اتارتا ہے
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں اللہ تعالی ماں باپ کی خدمت و فرمابرداری اور حسن سلوک کی وجہ سے اس کی عمر بڑھا دیتا ہے
    والدین کی جو تکالیف محنتیں مشقتیں جو وہ اپنی اولاد کی پرورش میں برداشت کرتے ہیں وہ اب معلوم بھی ہے معروف بھی ہیں لیکن اس کے باوجود جو کوئی والدین کی خدمت نہیں کرتا ان کو تکلیف دیتا ہے وہ شقی شخص ایمان کی حقیقی دولت سے محروم ہے
    اللہ تعالی کی شکر گزاری تو لازم ہے کیونکہ اس نے سب کو وجود بخشا ہے لیکن اللہ نے اپنے بعد والدین کی عظمت کو اجاگر کیا ہے کیونکہ انسان کو وجود بخشنے والے ان کے ماں باپ ہی ہیں اور والدین کو اولاد کی پرورش کا زریعہ بنایا ہے والدین کو بہت دکھ اٹھانے پڑتے ہیں
    اسی لیے فرمایا (ان اشکرلی ولوالدیک)کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر
    تفسیر ابن کثیر میں ہے ایک شخص اپنی والدہ کو اٹھائے طواف کر رہا تھا اس نے رسول پاک سے پوچھا میں نے اس طرح خدمت کر کے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا آپ نے فرمایا ایک سانس کا بھی حق ادا نہیں ہوا
    حضرت ابو ہریرہ ایک گھر میں رہتے تھے ان کی والدہ دوسرے گھر میں جب وہ کہیں جاتے تھے تو اپنی والدہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے تھے السلام علیکم یا امتاہ ورحمتہ اللہ و برکاتہ وہ جواب میں فرماتی تھیں وعلیک یابنی اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے رحمک اللہ کما ربتنی صغیرا وہ اس کے جواب میں کہتی رحمک اللہ کما بررتنی کبیرا
    بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ایک آدمی نبی مکرم کے پاس آیا پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے فرمایا تیری ماں سائل نے پوچھا پھر کون فرمایا تیری ماں پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں پھر سائل نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ
    حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانہ دروازہ ہے اب تو اس کی فرمابرداری کر کے اس دروازے کو قائم رکھ یا نافرمانی کر کے اس دروازے کو ضائع کر دے
    نبی پاک کے فرمان کے مطابق اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ایسا کرنے سے تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں گئے
    ظاہری طور پر یہ بات بلکل واضح ہے تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائے گی کیونکہ جب اولاد دیکھے گی کہ ماں باپ کے ساتھ اکرام و احترام سے پیش اتے ہو اور جان و مال سے خدمت کرتے ہو تو تمہارے عمل سے بچے بھی سبق سیکھے گے اور سمجھیں گے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک معاشرے کا لازمی جزو ہے سعادت مند شخص اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین کی خدمت اور شکر گزاری بھی کرتا ہے وہ اس نعمت کا شکر ادا کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے والدین کی صورت میں دی گی ہے اور والدین کی وجہ سے اللہ تعالی اس پر اور بھی نعمتیں نازل کرتا ہے اور بہت سی نعمتیں والدین کی طرف سے اولاد کو مل جاتی ہیں
    جس طرح اللہ کا شکر زبان سے نکالے ادا نہیں ہو جاتا بلکہ پوری ذندگی تکمیل احکام کا نام شکر ہے اسی طرح ماں باپ کی شکر گزاری ان کے حق میں اچھے بول بول دینے سے ان کی تعریف کر دینے سے ان کی تکلیفوں کا اقرار کر لینے سے ادا نہیں ہوتی بلکہ ان کی فرمابرداری دل وجان سے خدمت گزاری اور نافرمانی سے بچنا ان کی شکر گزاری ہے۔

  • بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے

    باغی ٹی وی : بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں بھارت نے کشمیریوں پہر کرفیو نافذ کر رکھا ہے مظلوم کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے تمام مساجد سکولز کالجز تمام ثقافتی مذہبی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں کشمیری قید و صعوبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266721535693402112?s=20
    سید اویس علی نامی صارف نے لکھا کہ قائداعظم نے آزادی پاکستان سے قبل ہی کشمیر مقصد کی حمایت کی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ کشمیریوں خصوصا ً مسلمانان کو معاشرتی معاشی حقوق اور انصاف ملنا چاہئے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720956900429825?s=20
    سید اویس نامی صارف نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیری عوام کا کیس لڑ رہا ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720578918023168?s=20
    سید اویس نے مزید لکھا کہ حریت قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ، انٹرنیٹ بند ہے اور میڈیا پرپابندی ہے کیونکہ کسی غیر ملکی صحافی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720669850615809?s=20
    5 اگست کو بھارت کے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد محصور زندگی گزار رہے ہیں
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720809118248961?s=20
    پاکستان بھارت کے بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لئے سفارتی محاذ پر اپنی کوششیں دوگنا کرے گا۔کشمیر بنےگا پاکستان!
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720888864542720?s=20
    کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے ، اور دنیا اس تنازعہ پر ہندوستان کے نظریہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔


    فواد نامی صارف نے لکھا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور رپورٹ کرنے کے مینڈیٹ کے ساتھ خصوصی نمائندہ تشکیل دیں-


    رومیو نامی صارف نے لکگا خود ہندوستان نے یہ سمجھا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کشمیریوں کو سفاک محاصرے میں نہیں روک سکتے ہیں لہذا وہ مواصلاتی ناکہ بندی ، آبادکاری میں ردوبدل اور شہریوں کے قتل کو تیز کرکے کشمیر کی آواز کو دبانے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔
    https://twitter.com/Mr_AK_1315/status/1266718017347518464?s=20
    ایے کے نامی صارف نے لکھا کہ تاہم ، خط میں بھارتی رہنما جواہر لال نہرو نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہندوستانی پارلیمنٹ میں بیانات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے رہے
    https://twitter.com/Javeria58/status/1266718006312394752?s=20
    جویریہ عارف نامی صارف نے لکھا کہ ہندوستانی نظم و نسق کے خلاف علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی وجہ سے ہندوستان کے زیر انتظام – ریاست جموں و کشمیر – میں 60 سالوں سے تشدد رہا ہے۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717880592326657?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ دریں اثنا ء، وزیر اعظم عمران نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے عوام کو مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی جدوجہد کی حمایت کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717794764275713?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ لندن میں کئی برطانوی کشمیری پارلیمنٹ چوک پر موم بتی کی روشنی کے لئے جمع ہوئے تھے جس دن سے ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ اگست 2019 کو بھارت نے ظلم و جبر کی داستان رقم کرتے ہوئے کشمیر میںن کرفیو نافذ کر دیا تھا اور آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا-

    کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی درندگی جاری، 2 کشمیری شہید

  • پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    ہم میں سے کسی کا بھاری بینک بیلنس موجود ہو…اور ہم اسے بنک کھاتے میں محفوظ تصور کر رہے ہوں…
    ایکدم کوئی آفت آ جائے…
    بیماری آ گھیرے…
    یا کوئی اشد مالی ضرورت پڑ جائے تو ہم اپنے اس اکاونٹ کی طرف متوجہ ہوں کہ وہاں سے کُچھ پیسہ نکلوا کر کام چلایا جائے…
    مگر جب ہمیں یہ بجلی نما خبر سنا دی جائے کہ آپ کا اکاؤنٹ خالی ہو چکا ہے…
    تو ایک دم سناٹا چھا جائے گا ناں ؟
    ہم گھبراہٹ کے عالم میں خود کو ساکت و جامد محسوس کرنے لگیں گے ناں؟
    جب سب کچھ لٹ چکا ہو اور آگے کی کوئی سبیل نظر نہ آئے تو ہم کس قدر مایوسی کی گہرائیوں میں اترنے لگتے ہیں…؟
    تو ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نمازیں ادا کرتے ہیں…
    صدقہ و خیرات کرتے ہیں…
    حج و عمرہ کرتے ہیں…
    تلاوتِ قرآن کرتے ہیں.
    فہمِ حدیث حاصل کرتے ہیں…
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان نیکیوں کو خود ہی مٹانے پر بھی کمر بستہ رہتے ہیں…!
    ہم کسی کی عزت پہ حرف گیری کر کے…
    کسی کی برائی کر کے…
    کسی کی چغلی کھا کر…
    کسی کمزور پر ظلم کر کے…
    کسی پر تہمت لگا دینا…
    کسی سے ناحق کُچھ لے لینا…
    کسی کو گالی دے کر…
    کسی کو مارپیٹ کر…
    کسی کا مال ہتھیا کر…
    کسی کو دُکھ پہنچا کر…
    کسی کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر کے…
    کسی کے خلاف بدگمانیاں پھیلا کر…
    تو ایسا ہی شخص وہ ہے جو دنیا میں عبادات کی مشقت بھی برداشت کرے گا مگر روزِ قیامت تہی دست آئے گا…
    وہ سخت اور طویل مدت دن جب ایک ایک نیکی کی یاد ستائے گی…
    اور پھر کہیں وہ کسی اور کو بانٹ دی جائے…
    کسی کے اٹھائے ہوئے بوجھ کی ادائیگی کر دی جائے…
    کہیں ریا کے جرم میں اُڑتا ہوا غبار کر دی جائے…!!!
    اور انسان بتدریج خالی ہاتھ ہوتا چلا جائے تو کس قدر ندامت اور دُکھ کا مقام ہو گا؟
    بہت سی نیکیاں کمائی ہوں گی مگر خود ہی اُن کو ختم کرنے کی فاش غلطی بھی کر بیٹھے ہوں گے تب پیچھے کا یارا رہے گا،نہ آگے کا چارہ…!!!
    آج اُن اعمال کی تھکاوٹ سے استفادہ بھی نہ ہو…کیسا مقامِ حسرت ہو گا؟؟
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سےفرمایا:
    "اتدرون من المفلس؟
    تم جانتے ہو مفلس آدمی کون ہے ؟
    قالو:المفلس فینا من لا درھم لہ ولا متاع…
    وہ کہنے لگے:
    جس کے پاس درہم و متاع نہ ہو،وہ مفلس ہے…!!!
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میری امت میں مفلس اور کنگال آدمی وہ ہے قیامت کے دن نماز،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا،
    اور اس حال میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہو گی،
    کسی پر تہمت لگائی ہو گی،
    کسی کا مال کھایا ہو گا،
    کسی کا خون بہایا ہو گا،
    کسی کو مارا ہو گا،
    اس کی نیکیاں اُن لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں گی،
    اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی،قبل اس سے کہ اس کا قرض ادا ہو،تو ان کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا…”[صحیح مسلم]۔
    تو ذرا سوچیئے کہ معاملہ کتنا نازک ہے…
    حقوق العباد کی طرف کتنی توجہ درکار ہے؟؟؟
    اور نیکیوں پر مغرور ہونا بھلا کیا معنی رکھتا ہے؟
    ہمیں اپنے رب کی رحمتوں کا اُمید وار رہنا چاہیئے اور اس سے آسان حساب کا سوال کرتے رہنا چاہیئے…!!!
    ذرا سنبھلیئے کہ کہیں پونجی لُٹ نہ جائے…!
    ہم اپنے کھاتے میں نیکیاں بھیج کر بھی مفلس نہ بن جائیں؟
    ہم نے اپنی پونجی میں سے کُچھ لیا بھی نہ ہو اور وہ مفت میں تقسیم کر دی جائے…؟
    اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ
    ہمارے خالی اکاؤنٹ کی دلدوز خبر کہیں میدانِ محشر میں ہماری سماعتوں سے نہ آ ٹکرائے…!!!
    اور ہم ندامتوں کے اتھاہ سمندر میں بس گرتے ہی چلے جائیں…؟
    اللّٰھُمَّ لا تجعلنا منھم واھدنا اِلٰی صراطِِ مستقیم،ولاتخزنا یوم القیمۃ•(آمین ثم آمین)۔
    ہمارے رب ہمارا شمار ان لوگوں میں کرنا جو:
    "جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں…”
    [المعارج]۔
    ==============================

  • پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض   تحریر: فیصل ندیم

    پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض تحریر: فیصل ندیم

    آپ یقیناً مریض ہیں اور آپ کو پاک آرمی کی مخالفت جیسا موذی مرض لاحق ہے اس مرض میں بندے کو اپنا گھر ہمیشہ برا اور دوسروں کا ہمیشہ اچھا لگتا ہے
    آپ کے مریض ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو چائنہ کی لداخ میں بھارت سے ایک چھو ٹی سی جھڑپ تو دکھائی دیتی ہے لیکن انیس سو اڑتالیس سے لیکر آج تک پاکستان کی بھارت کے ساتھ چار جنگیں نہیں دکھائی دیتی آپ مریض ہی تو ہیں کہ آپ اکہتر میں پاکستان آرمی کی شکست پر شادیانے بجاتے ہیں جبکہ اصل مجرم تو آپ تھے جو کلمہ والے پاکستان میں سندھی مہاجر پنجابی پٹھان بلوچ اور بنگالی بنے تھے اور آپ کی اسی ٹوٹ پھوٹ نے بھارت کو موقع دیا تھا کہ وہ پاکستان کو دو لخت کردے
    بھارتی جنرل جی ڈی بخشی کہتا ہے ہمیں جنگ پاکستان آرمی نے سکھائی ہے اس نے ہمیں مارا اور بار بار مارا اور اتنا مارا کہ ہمیں اس سے لڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔
    آپ کا مرض کتنا شدید ہے کہ آپ کو انیس سو اڑتالیس میں نوزائیدہ اور کمزور پاکستان کے بیٹوں کی وہ بے مثال شجاعت نہں دکھائی دیتی جس کے ذریعہ کشمیر کا چھتیس فیصد حصہ آزاد کروالیا گیا اور بری طرح پٹتے بھارت کو روتے دھوتے اقوام متحدہ میں اپنے دکھڑے سنا کر جنگ بندی کروانی پڑی ۔۔۔۔
    کتنا مہلک ہے آپ کا مرض کہ یہ آپ کو پینسٹھ کی وہ جنگ نہیں دیکھنے دیتا جس میں وہ بھارتی جرنیل جو لاہور میں ناشتہ کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے منہ کی کھانے کے بعد اپنے گھر واپس دوڑنے پر مجبور ہوئے ۔۔۔۔
    یہ آپ کا تعفن زدہ مرض ہی ہے کہ جو کارگل کی عظیم فتح دیکھنے سے بھی آپ کو محروم رکھتا ہے اور لداخ لداخ پکارتے آپ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ آپ وہ منظر دیکھ سکیں کہ جس میں پاکستان آرمی نے بھارتی سورماؤں کو کارگل کی پہاڑیوں پر اس طرح جکڑا تھا کہ ان کی ٹوٹتی ہڈیوں کے کڑا کے ساری دنیا کو سنائی دے رہے تھے کیسے بدنصیب مرض میں مبتلا ہیں آپ کے کارگل کے فاتحین پر طعنے کسنا آپ کی عادت بن چکی ہے جبکہ وہ سیاسی قیادت جو واجپائی اور مودی کی یاری میں اتنی غرق تھی کہ اس نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے اس عظیم فتح کو امریکہ کے در پر جاکر بیچ ڈالا ہمیشہ آپ کو اپنے سر کا تاج محسوس ہوتی ہے
    خود دیکھئے آپ کے مرض نے آپ کو کتنا بدحال کردیا ہے کہ آپ ابھی پچھلے سال کا فروری بھول گئے جس میں پاکستانی شیروں نے بھارتی بزدل آرمی کی ٹھکائی لگائی تھی اور بھارتی سورمے سوائے بلبلا نے کے کچھ نہیں کرسکے

    ہاں مجھے فخر ہے اس پاکستان آرمی پر جو پہلے روس جیسی ہیبتناک سپرپاور کو اس طرح شکست دیتی ہے کہ وہ اپنا وجود کھوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے ہاں مجھے فخر ہے پاک آرمی کے ان بلند حوصلہ جوانوں پر جو روس کے بعد دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور امریکہ کو بھی شکست فاش سے دوچار کرچکے ہیں

    مجھے معلوم ہے پاک آرمی کی یہ فتوحات آپ جیسے بدبودار مریض کو کبھی بھی برداشت نہیں ہوگی لیکن کیا کیا جائے کہ روس اور امریکہ دونوں اپنے زخموں کو چاٹتے ہوئے ایک ہی بات کرتے ہیں کہ ہم ہارنے والے نہیں تھے یہ پاکستان آرمی ہے جس نے ہمیں ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ۔۔۔۔

    لداخ لداخ کی رٹ لگانے والو کبھی رب کی دی ہوئی عقل استعمال کرتے ہوئے سوچ لیا کرو کہ یہ پاکستان ہے جس نے بھارت کی ستر فیصد آرمی کو پچھلے بہتر سال سے مصروف رکھا ہوا ہے یہ پاکستان ہے جس نے بھارتی سورماؤں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ کسی دوسرے ملک سے جنگ لڑ سکیں ۔۔۔۔
    میں آپ کے مہلک مرض میں افاقہ کی دعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ سامنے کی بات سمجھ آئے کہ ایک پاکستان ہے جو پچھلے بہتر سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جسے اپنی سرحد کے اکثر حصہ پر دشمن کی ریشہ دوانیوں کا مسلسل سامنا ہے وہ مسلسل لڑ رہا ہے اگر کبھی ہارا ہے تو اکثر جیتا بھی ہے اور الحمدللّٰہ وہ وقت قریب ہے کہ جب مکمل فتح پاکستان کا مقدر بنے گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔
    آخری بات یہ بھی پاکستانی جوانوں کا اعزاز ہے کہ میدانوں میں ان کے قدموں کے نشانات بہت گہرے ہوتے ہیں لیکن دشمن کو بہت دیر سے دکھائی دیتے ہیں یہی کچھ روس امریکہ کے خلاف جنگ میں بھی ہوا تھا یہی چین بھارت جنگ میں بھی ہوگا نہیں یقین تو اپنی گم شدہ عقل کو اپنے ذہن کے نہاں خانوں سے نکالیں اور پھر اسے استعمال کرتے ہوئے روسی اور امریکی جرنیلوں کے وہ بیان تلاش کرلیں جس میں وہ دہائیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان بہت چپکے چپکے ہماری بینڈ بجا گیا ۔۔۔۔
    اور ہاں ایک بات اور پاکستان میں رہتے ہیں تو پاکستان کا نمک حلال کریں دوسرے کی تھالی کے گھی کو دیکھ کر اپنی تھالی میں چھید کرنا بند کریں پاکستان کے محافظ پاکستان کی آن بان شان ہیں ان پر بکواس بند کریں اور بھارت بنگلہ دیش بھوٹان جہاں چاہے دفع ہوجائیں۔۔۔

    فیصل ندیم

  • آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ،
    ابوبکر قدوسی

    فاطمہ بنت عبد الملک ، کے دادا خلیفہ ہووے پھر ابّا عبد الملک تو کمال کے ہی خلیفہ تھے ۔پھر فاطمہ کے بھائی ایک کے بعد ایک چار خلفاء ہو گئے ۔
    شادی مدینے کے گورنر سے ہوئی ۔۔گورنر ایسا بانکا سجیلا کہ ہر عورت ایسے خاوند کی خواہش کرے ۔۔۔جس راہ سے گزرتا جیسے راہ روشن ہو جاتی فضاء معطر ہو جاتی ۔۔۔۔
    فاطمہ کی خوش قسمتی کہ اب کی بار خود اپنا خاوند خلیفہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔لاکھوں لاکھ مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    لیکن خلیفہ کیا ہووے ۔۔سب عیش و عشرت رخصت ہوئے ۔۔۔فاطمہ بھی کچھ ایسی وفاء شعار کہ جب گھر میں پوری کی پوری مملکت داخل ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ غربت بھی تو اف تک نہ کی ۔۔۔خاوند نے ادھر عہدہ سنبھالا ادھر تن پر جیسے ٹاٹ پہنا ۔۔۔۔ریاست کے غم اور عوام کے پیسے کا اتنا فکر ، دیانت امانت کی ایسی چنتا کہ سب عیش رخصت ہوئے ۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔
    چند روز پہلے فاطمہ نے خاوند سے کہا کہ عید پر اب کے بچوں کو کپڑے لے دیجئے ۔۔۔۔۔عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ پیسے کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔
    فاطمہ نے منہ ادھر کیا اور کمرے سے نکل گئی کہ آنکھیں برسات ہو رہی تھیں اور من نہ چاہا کہ بہترین انسان بیوی کی آنکھوں میں اترتی رم جھم بارش کو دیکھ لے اور بے چین ہو جائے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر میں واپس آئ اور امید کی جوت جگائی کہ
    آج عید تھی ۔۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔لاکھوں مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    ” سرتاج ، میرے حضور ! آپ یوں کیجئے کہ بیت المال کے نگران سے کہیے کہ اس بار تنخواہ پیشگی دے دے کہ بچوں کے کپڑے بن جائیں ۔۔مہینہ بھر سوت کات لوں گی ، جو ملے گا قرض اتر جائے گا ”
    عمر کا بجھا چہرہ کچھ روشن ہوا ۔۔آخر باپ بھی تو تھے بھلے جیسے بھی محتسب ہوں ۔۔۔۔دل تو دل ہوتا ہے ۔۔۔ابھی میں نے یہ لکھنے سے پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کو ڈانٹ دیا اس کی آنکھیں بہہ نکلیں ۔۔۔۔میں دیر تک بے چین رہا جب تک وہ میری منتوں ترلوں کے بعد مسکرا نہ دی سکون نہ ملا ۔۔۔۔لیکن یہاں تو ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔عید غریباں ۔۔۔
    عمر بیت المال گئے ۔۔۔۔بیت المال کے نگران کے سامنے دست سوال دراز کیا ۔۔۔وہ بھی عمر کا اپنا ہی تو مقرر کردہ تھا ۔۔۔۔۔سوال سن کے بے تاثر ، رسان سے لہجے میں بولا :
    ” اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ اگلی تنخواہ کے وقت تک زندہ رہیں گے ۔۔۔۔امت کا پیسہ ہے ، میں کیونکر اس میں اختیارسے تجاوز کروں ”
    عمر خاموشی سے واپس ہو لیے ۔۔۔۔۔۔عید آ گئی ۔۔۔
    آج عید ہے ۔۔دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، غریب آدمی کہ جسے خلیفہ بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔
    عمر بن عبدالعزیز گھر واپس لوٹ کر آتے ہیں۔
    "فاطمہ! بچوں کو کہہ دو میں انھیں عید کے کپڑے نہیں لے کر دے سکتا۔۔۔”
    عید کی نماز ہوئی ، سب ملنے والے ملنے آئے ۔۔۔ عمر عبدالعزیز کے بچے بھی انہی پرانے کپڑوں میں بیٹھے تھے۔۔۔عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچوں سے فرمایا
    "بچو ! آج تمہیں اپنے باپ سے گلہ تو ہو گا کہ عید کے کپڑے بھی نہ دلوا سکا۔۔۔۔”
    عمر کے ایک بیٹے کا نام عبدالملک تھا جو ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا اسی نے بڑھ کے جواب دیا :
    "نہیں ابا! آج ہمارا سر فخر سے بلند ہے۔۔۔ہمارے باپ نے خیانت نہیں کی۔۔۔۔”
    گھر میں تشریف لائے تو بچیاں منہ پر کپڑا رکھ کر بات کر رہی تھیں۔۔۔۔۔کچھ حیران سے ہووے پوچھا :
    ” کیا ماجرا ہے ، منہ پر کپڑا رکھ کر کیوں بات کر رہی ہو ”
    بیٹیوں نے جواب دیا :
    ” آج ہم نے کچے پیاز سے روٹی کھائی ہے ہم نہیں چاہتیں ہمارے منہ سے آنے والی پیاز کی بدبو سے آپ کو پریشانی ہو۔۔۔ ”
    عمر بن عبدالعزیز کی آنکھوں میں آنسو تھے :
    "میری بچیو! کوئی باپ اپنی اولاد کو دکھ نہیں دینا چاہتا۔۔۔میں چاہوں تو تمہیں شہنشاہی زندگی دے دوں لیکن میں تمہاری خاطر جہنم کی آگ نہیں خرید سکتا۔۔۔”
    ان کا جب انتقال ہوا انھیں قبر میں اتارا گیا۔۔رجاء قبر میں اترے ، کفن کی گرہ کھول کر دیکھی ۔ رجاء کہتے ہیں :
    "میں نے دیکھا۔۔۔۔ عمر بن عبدالعزیز کا چہرہ قبلہ رخ تھا اور چودہویں کے چاند کی طرح روشن تھا یوں کہ جیسے چودہویں کا چاند قبر میں اتر آیا ہو ”
    رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله

  • امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟  تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟ تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟
    تحریر :سفیر اقبال

    یہ وہ وقت ہے جب ہاتھ ملنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا….

    امت مسلمہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جو اصل دشمن ہے وہ ہمیشہ دوست بن کر آیا… آستین کا سانپ بن کر آپ کی صفوں میں شامل ہوا ….آپ کا بھروسہ جیتا اور آپ کے دشمنوں کے لیے آپ کے قلعوں کے دروازے اندر سے کھول کر آپ کو زخمِ کاری دے گیا. اور زخم بھی ایسا کہ جس کی ٹیس صدیوں تک محسوس ہو….!

    اگر کوئی ایک دو واقعات و حادثات ہوں تو بندہ کہے شاید کوئی نسلی تعصب ہو یا انفرادی و ذاتی غصہ جس کا بدلہ پورے مسلم لشکر سے یا پوری مسلم ریاست سے لیا گیا… لیکن مقام ِحیرت کہ ایک دو واقعات نہیں پوری تاریخ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی اس کی کڑیاں کہیں نہ کہیں ان "سانپوں ” کے زہر سے جڑتی نظر آتی ہیں. مسلمانوں کے قلعے دشمن کے استقبال کے لئے ہمیشہ اندر سے کھولے گئے وہ بھی ان غداروں کے ہاتھوں سے.

    .
    اب پروبلم ہمیشہ یہ رہی کہ جو دوست بن کر آتا ہے اسے کبھی دشمن نہیں کہا جا سکتا… اسے آج تک پوری امت مسلمہ( بذریعہ اجماعِ امت) کافر نہیں کہہ سکی کیونکہ وہ اپنی "پیدائش” سے اب تک خود کو مسلمان کہتے آ رہے ہیں. اور اپنا جان و مال محفوظ کروا چکے ہیں. لیکن صحابہ کرام کی تاریخ سے لیکر آج تک کوئی ایسا موقع چھوڑتے بھی نہیں کہ جس کے ذریعے ایسی چوٹ اور ایسا زخم امت مسلمہ کو لگے کہ جو بھلایا نہ جا سکے.

    وہ ہماری پارلیمنٹ، ہمارے شہر، ہمارے محلے حتی کہ ہماری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں لیکن ہم انہیں اپنے آپ سے علیحدہ نہیں کر سکتے (قادیانیوں تک کو امت مسلمہ سے علیحدہ کرنے اور انہیں جڑ سے اکھاڑنے جیسا کام سوچنا بہت آسان ہے کرنا مشکل! اور یہ لوگ تو اور زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے درمیان سرایت کر چکے ہیں ). کسی کو ابھی بھی شک ہو تو اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود ایسے معروف ایکٹیویسٹس کی والز چیک کر لیں جو سالہا سال تک پاکستان کے دفاع کے لئے اپنے قلم کا زور لگاتے رہے لیکن آج ان کی نظر میں ریاست، آرمی، ادارے…. کسی کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں.

    ان کے ساتھ جنگ دو بدو دشمن والی نہیں بلکہ آستین میں پلنے والے یا جڑوں میں بیٹھے ہوئے سانپ کی ہے جس پر نظر رکھی جاتی ہے اور جب وہ شرارت کرتا ہے تب اسے کچلا جاتا ہے. لیکن اگر آپ پہلے اس پر کوئی وار یا کوئی فتویٰ لگاتے ہیں تو وہ کسی کام کا نہیں. کیونکہ وہ تو آپ کی جڑوں میں خموشی سے چھپ کر "معصوم” بن کر بیٹھا ہوا ہے. یہ دشمن جب آپ کی رینج میں ہوتا ہے تب اپ کا دوست ہوتا ہے اور زخم صرف اور صرف اسی صورت میں… اور تب لگاتا ہے جب اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں وار کر کے نکل جاؤں گا اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے….! اگر میں اس کے اس روئیے میں کوئی مبالغہ کرتا نظر ا رہا ہوں تو بیشک تاریخ اٹھا کر خود دیکھ لیں.

    کبھی کبھی تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے چشم تصور سے سلطان ٹیپو کی شکست کو دیکھتا ہوں تو نہایت کرب اور حسرت سے سوچتا ہوں کتنا اچھا ہوتا سلطان ٹیپو ان غداروں کو پہلے ہی اپنی صفوں سے نکال لیتے. اور پھر اچانک مجھے پاکستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کا خیال آتا ہے اور وہ حسرت دعا بن جاتی ہے کہ یا اللہ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اب دوبارہ ہمارے قلعوں کے اندرونی دروازوں کی چابیاں ہمارے غداروں کے ہاتھوں میں مت دینا.

    اللہ تعالیٰ برباد کرے ان تمام لوگوں کو جو ازل سے لیکر آج تک دوہرا رویہ اپناتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان رہ کر اپنی "مسلمانیت” کا فائدہ اٹھاتے رہے اور بعد میں جب موقع دیکھا تو اسی امت کو ایک شدید نقصان سے دو چار کر گئے. آج بھی جن جن لوگوں نے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مبارک کو اکھیڑا اور ان کے جسد مبارک کو بھی نہ چھوڑا … اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے سہولت کاروں کو کبھی قبر میں سکون نہ دے اور دنیا و آخرت میں رسوا کرے. آمین ثم آمین