Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یہ خوشیاں تم بن ادھوری  قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری

    قلمکار: عاشق علی بخاری

    عید الفطر ہو یا بقرعید یا پھر خوشی کا کوئی تہوار والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے. اکثر ان مواقع پر اولاد فرطِ جذبات سے نڈھال ہوکر افسردہ اور آنسو بہاتی نظر آتی ہے. والدین کی قربانیوں پر جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے. صرف انسان کا ان کے توسط سے دنیا میں آنا ہی اتنی بڑی نعمت ہے انسان خصوصاً مرد تو گمان بھی نہیں کرسکتا. ذرا سوچیں! ایک شخص گمنامی سے نکل کر اچانک پورے معاشرے میں مشہور ہوجائے اس کی خوشی کی کیا انتہاء ہوگی؟
    والدین بھی ہمیں عدم سے عالم دنیا میں لانے کا واحد ذریعہ ہیں اگر آج وہ نہ ہوتے تو ہماری کوئی پہچان بھی نہ ہوتی.
    ایک جوڑے کی شادی کے بعد سب سے پہلی تمنا اولاد ہوتی ہے، یعنی ہمارے بننے والے والدین سب سے پہلے ہمارے متعلق سوچتے ہیں. کلام مجید والدین کے تذکرے سے بھرپور ہے وہاں سے ہم سیکھ کر والدین کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اچھی اولاد ثابت ہوں. ان کے لئے نیک نامی اور آخرت میں درجات کی بلندی کا باعث بنیں. سال بسال ایصال ثواب نہیں بلکہ ہر روز فرائض و نوافل کے ذریعے اپنے والدین کے اکاؤنٹ میں نیکیاں منتقل کرنے کا سبب بنیں. اس کے ساتھ ساتھ قرآنی دعا رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا پڑھتے رہیں ایک تو اس دعا کو باترجمہ پڑھنے سے اپنے بچپن کے گزرے ایام یاد رہیں گے کہ کس طرح والدین نے محنت، مشکلات کے ساتھ ہمیں پالا دوسرا ان کے لئے اللہ رب العالمین سے رحم کی اپیل ہوگی. والدین کی مشکلات اگر دیکھنی ہوں تو ایک مثال سے سمجھیں، راستے میں کھڑا درخت ہر گزرنے والے کو ہرا بھرا، مضبوط اور لہراتا نظر آتا ہے لیکن پس منظر میں اس پر پڑنے والی دھوپ، بارش، تیز ہواؤں کے جھکڑ، بدلتے موسموں کے تغیرات کسی کو نظر نہیں آتے. والدین دن، رات سردی، گرمی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے انتھک محنت کرتا ہے اور والدہ کی تمام مشکلات ایک طرف بچے کی پیدائش کا مرحلہ ایک طرف اور جب ہم اپنی والدہ کے ہاتھوں میں آتے ہیں تو کوئی شخص بھی نہیں کہہ سکتا کہ مکمل نو مہینے اور پھر پیدائش کے تکلیف دہ مراحل سے گزر کر ہمارے دنیا میں آنے کا باعث بنی ہے.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے چند تہوار یا مخصوص ایام کیا حیثیت رکھتے ہیں؟

  • ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    یہ الفاظ لکھتے ہوئے دل رو رہا ہے. ہاتھ کانپ رہے ہیں.
    ( ان الفاظ کا مقصد مایوسی پھیلانا یا متنفر کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے آپ پہ جو بیتا ہے وہ سنا رہا ہوں)

    حضراتِ ذی وقار…….

    مرنا ہو تو گھر میں اپنے پیاروں کے پاس مر جائیں لیکن ہسپتال نا جائیں. کورونا موجود ہو گا اس سے انکاری نہیں ہوں لیکن ذیل میں چند ایک باتیں ہیں جو دل کو دہلا رہی ہیں. اور حقیقت بات ہے جب تک خود پہ نا گزرے کسی کو یقین نہیں آتا..

    پرسوں ہماری فیملی میں ایک فوتگی ہوئی…
    مرحوم کو کھانسی اور معمولی سا چھاتی کا انفیکشن تھا. ان کو ہسپتال لے جایا گیا. اور ان کے بھائی ملکی حالات کو بہت اچھے سے جانتے تھے. آپ یقین کیجیے پیسے دے کر زبردستی کر کے ہر لمحہ، ایک ایک پل مرحوم کے بھائی ان کے ساتھ سائے کی طرح چمٹے رہے.
    وہی حسب روایت ان کو بھی کورونا کا مریض بتلا دیا گیا. اب انکا ہسپتال میں علاج شروع ہوا. اور قابل ڈاکٹرز نے یہ تجویز کیا کہ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو جو انجیکشن لگائے جاتے ہیں وہی انجیکشن ان کو بھی لگائے جائیں تا کہ یہ فوراً سے ٹھیک ہو جائیں. 15 کی تعداد میں وہ انجیکشن منگوائے گئے. اور یقین کیجئے صرف 2 انجیکشن لگانے سے ہی ان کی حالت اتنی غیر ہو گئی تھی کہ وہ باللہ نیم جان ہو گئے تھے. ان کے بھائی نے اپنے کسی عزیز (ڈاکٹر اور فارمیسی کے ماہر) کو میڈیکل رپورٹس اور انجیکشنز اور میڈیسن بتائے کہ یہ ادویات استعمال ہو رہی ہیں. یقین کیجئے وہ عزیز چیخ اٹھے کہ یہ کیا استعمال کر رہے ہو یہ تو بالکل غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں . انہوں نے فوراً سے ہسپتال کے عملے کو بتلایا کہ یہ غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں اور عملے کا جواب ملاحظہ کیجئے "اوہ واقعی آپ درست کہہ رہے ہیں. یہ تو غلط ہیں” اور یہ کہنے کے باوجود تیسرا انجیکشن بھی لگایا گیا. اس کے بعد ان کے کولیسٹرول، کیلشیم اور شوگر کے ٹیسٹ کئے گئے. اور آپ یقین کیجئے ان کا کولیسٹرول لیول 1000 سے اوپر تھا. (کولیسٹرول کا نارمل لیول 200 سے بھی کم ہوتا ہے) اور کیلشیم تو اس قدر زیادہ بڑھ گئی تھی کہ قابلِ بیان ہی نہیں ہے. آپ ذرا انصاف کیجئے گا کیا یہ ڈاکٹرز ہیں یا قصائی. اور ان کے عزیز ان کو بالکل بھی اکیلا نہیں چھوڑ رہے تھے ایک لمحے کیلئے بھی کہ. کہیں ہسپتال والے کوئی بیغرتی نا کر دیں. اندر موجود بھتیجے نے اپنے چچا کو بولا کہ چچا جان آپ اندر آئیں مجھے کسی کام سے جانا ہے. بھتیجے کے باہر آنے اور چچا کے اندر جانے تک انہوں نے مریض کے منہ پہ کپڑا ڈال کر انہیں مردہ قرار دے دیا تھا.

    آج سے پہلے مریض کا گلا دبا کر مارنے والی ویڈیو جھوٹ لگ رہی تھی. آج سے پہلے لوگوں کا چیخ چیخ کر چلانا کہ ہمیں کورونا نہیں ہے غلط لگ رہا تھا. لیکن آج…… آج وہ تمام باتیں وہ سب کچھ سو فیصد درست لگ رہا ہے.. واللہ گھر میں مر جائیے بجائے اس کے کہ آپ ان قصائیوں کے ہاتھوں اپنی جان کو ختم کروائیں…. اور پھر ڈیڈ باڈی کا حصول بھی ایک ایسا مسئلہ بن جاتا ہے کہ لواحقین تڑپتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارا پیارا کورونا سے پاک ہے. ہمارے پاس کورونا نیگیٹو کی رپورٹس بھی ہیں لیکن نہیں…… یہ جلاد اور دجال نما درندے کسی کی آہ و بکا پہ کان نہیں دھرتے ہیں.

    ایک اور فوتگی ہوئی….. مارکیٹ کا نوجوان لڑکا….. ہلکی سی کھانسی کی وجہ سے صرف احتیاط کی بنا پر کہ کورونا کو ٹیسٹ کروا لیا جائے… انہوں نے اسی وقت کورونا مریض بتلا کر زبردستی ہسپتال میں داخل کر لیا. وہ چیختا رہ گیا کہ میں خود موٹر-سائیکل چلا کر اپنے پاؤں پہ چل کر ہسپتال آیا ہوں وہ بھی صرف شک کی بنا پر. خدارا مجھے جانے دو….. اور آپ یقین کیجئے صرف اڑھائی گھنٹے میں صرف 150 منٹوں میں اس چلتے پھرتے نوجوان کو موت کی وادیوں میں اتار دیا………
    وہ. بیچارہ چیختا رہا، چلاتا رہا کہ میری جیب میں بائیک کی پارکنگ کا ٹوکن پڑا ہوا ہے. خدارا مجھے جا لینے دو لیکن مسیحائی کے نام پہ بیٹھے ان انسانیت دشمنوں اور سفاکیت کی انتہاؤں کو چھوتے ڈاکٹروں نے اس کی موت کا بندوبست کر کے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا…. (موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس طرح کسی کو مار دینا اور سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہہ دینا کسی بھی طرح قابلِ برداشت نہیں ہے. اگر یہی بات ہے تو پھر پستول ہاتھ میں لے کر روڈ پہ نکل جاؤ اور گولیاں چلاتے جاؤ. اگر کوئی شکایت کرے تو یہی جواب دینا کہ موت تو اللہ کی طرف سے طے اور مقرر شدہ ہے )
    وہ کورونا کہ جس کا مریض 14 دن بعد کسی پیچیدہ صورتحال میں گرفتار ہوتا ہے وہ صرف 150 منٹوں میں لقمہ اجل بن گیا………
    آج کوئی حکومتی نگران یا حکومتی کارندہ کورونا پازیٹو ہو تو وہ خود کو گھر میں آئسولیٹ کرتا ہے لیکن عام عوام کو زبردستی ہسپتال میں ڈال کر موت کے حوالے کر دیا جاتا ہے……

    میری نہایت عزیز ترین اور قریب ترین شخصیت…. ان کو ہسپتال لے جایا گیا… کورونا پازیٹو بتایا گیا… لیکن ایک واقفیت کی بنا پر ہم انہیں گھر لے آئے… ایک واقفیت والے بندے کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے تو وہ اسی لمحہ نیگٹو آئے…..
    فیصلہ آپکا ہے……
    اپنے پیاروں سے دور….
    ان جلادوں کے پاس تڑپتے بلکتے، تکلیف سے کرلاتے اور سسکتے سسکتے مرنا چاہتے ہیں یا اپنے پیاروں کے پاس ان کے پیار محسوس کرتے ہوئے ان کی گود میں مرنا چاہتے ہیں. جب مرنا ہے تو اپنے پیاروں کے پاس مرو.

    یہ وہ سب باتیں ہیں جو آنکھوں دیکھی اور خود بیتی ہیں. کم از کم میں ان سب باتوں کی تردید نہیں کر سکتا اور میں ان تمام سوشل میڈیا پہ چیخنے والوں کا درد محسوس کر سکتا ہوں اور انکی تمام باتوں کی تائید کرتا ہوں.
    باقی آپ کا فیصلہ اپنا ہے…

  • ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ایک مریض جو گذشتہ ہفتے فوت ہوا۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح ایک ہفتے میں کورونا انفیکشن موت کا باعث بن سکتا ہے۔ مریض پر دستیاب محدود معلومات کی وجہ میں مزید ضروری تفصیلات شامل نہیں کر سکا۔

    ‎مئی۱۶ ۔ مریض کو سر درد محسوس ہوا اور اسے ہلکا بخار

    ‎ مئی۱۸۔ مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ، اور اس نے اینٹی بائیوٹک زپیک کا آغاز کیا۔

    ‎ اس مرحلے پر ، کنبہ اور مریض کو احساس ہوا کہ یہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے۔ یہاں سے ہر دن اور ہر گھنٹہ بہت اہم تھا۔
    ‎ انہوں نے پھر بھی اسپتال سے رابطہ کرنے کا انتظار کیا جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔

    ‎ مئی۲۰: بخار بڑھ رہا تھا اور 104 تک پہنچ گیا۔

    ‎ مئی۲۱: مریض کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ آکسیجن کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی اور اسے 94 پر پایا گیا۔ ڈاکٹر نے نمونیا کے سیریس کیس کی تشخیص کی ، لیکن بہتری کے آثار دیکھے جاسکتے تھے۔

    ‎ مئی۲۳: آکسیجن کی سطح 96 ، مریض اب بھی بہتر ہورہا تھا۔

    ‎ مئی۲۴: صبح سویرے ، اسپتال نے اہل خانہ کو فون کیا گیا کہ وہ مریض کو وینٹیلیٹر پر رکھنے کی اجازت چاہتے ہیں کیونکہ آکسیجن میں مسلسل کمی آرہی تھی۔

    ‎ اسی دن ، مریض وینٹیلیٹر پر دو گھنٹوں میں فوت ہوگیا ، شدید نمونیہ کی وجہ سے پھیپھڑے متاثر پائے گئے۔

    ‎ پوری صورت حال کا تجزیہ:

    ‎ کورونا وائرس کی متوقع تشخیص کیے بغیر بخار۲ دن تک معمول کے بخار کے طور پر لیا گیا تھا۔ آج ، اگر ہمیں بخار یا کھانسی ہے ، تو ہمیں یہ فرض کر لینا چاہئے کہ یہ کورونا ثابت ہوگا۔ یہ دو دن اہم تھے اور پھیپھڑوں پر اثر ہونا شروع ہوگیا اور اینٹی بائیوٹک کے ساتھ خود سے علاج معاون ثابت نہیں ہوا۔ یہ دو دن مریض سے کورونا فیملی میں منتقل ہونے کا سبب بنے۔ خاندان کے باقی افراد کو بچانے کے لئے یہاں فوری طور پر قرنطین کی ضرورت تھی۔

    ‎ پانچ دن کے بعد ، بخار کی شکل میں کورونا کی پہلی نشاندہی کے بعد سے ، مریض کو اسپتال لے جایا گیا۔ ، 5 دن دیر ہونے سے پھیپھڑوں پر بری طرح اثر پڑا ہے۔

    ‎ جب مریض میں بہتری آرہی تھی تو اچانک کیوں ہسپتال کے عملے نے مریض کو وینٹیلیٹر لگانے کا سوچا اور پھر بھی مریض وینٹی لیٹر لگانے کے بعد گھنٹوں میں ہی دم توڑ گیا۔ یہاں لگتا ہے کہ ہسپتال سے کچھ غفلت برتی گئی ، وہ بگڑتی ہوئی حالت کو بروقت نہیں دیکھ سکے اور وینٹی لیٹر پر مریض ڈالنے میں دیر کردی۔ کورونا مریض کے ساتھ کوئ فیملی ممبر نہیں ہوسکتا اور مریض مکمل طور پر اسپتال کے عملے کے رحم و کرم پرھوتا ہے اور اسپتال کی کسی بھی غفلت کا پتہ نہیں چلے گا، چاہے اس کی وجہ سے موت واقع ہو جاۓ۔ یہ کورونا علاج کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

    ‎ مجھے یقین نہیں ہے کہ ہمارے کسی محکمہ صحت میں سے کسی نے بھی کسی سطح پر ایسی آگاہی پیدا کی ہے جہاں ہر مریض کی حالت "روزانہ کی بنیاد پر” کو عوامی شعور کے لیے پھیلایا گیا ہو تاکہ لوگوں کو مطلوبہ ایکشن کے بارے میں بہتر طور پر تیار کیا جاسکے۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میڈیا کے کسی بھی حصے نے اس طرح کی آگاہی کی کوشش نہیں کی۔

    ‎ پھر بھی یہ تبصرہ ناکافی ہے کیوں کہ میں 16 مئی سے لے کر 25 مئی تک گھر میں اور بعد میں اسپتال میں مریض کو دیئے جانے والے علاج کی تفصیلات نہیں جانتا اور نہ کوئ ایکسپرٹ تجویز دے سکتا ہوں۔

    ‎ آنے والے دنوں میں ، اسپتالوں کی استعداد مریضوں کو بچانے کے لئے کافی نہیں ہو گی، جو ہمیں ایک سنگین سوال کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا ہم نے اسپتالوں کے بغیر کورونا مریض کے انفرادی سطح کے علاج معالجے اور ہینڈلنگ کے کے بارے میں سوچا ہے؟ یہ صورتحال جلد ہی آرہی ہے ، یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس ممکنہ منظرنامے کو پورا کرنے کے لئے "ابتدائی طبی امداد” سے متعلق خود سے متعلق علاج کے بارے میں شعور پیدا کیا جاۓ۔

    ‎جان بچانے کیلۓ غیر روایتی آپشن بھی لی جا سکتی ہے ، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ ریموٹ آپشنز کیا ہیں؟ عوام کو کون نصیحت کرے گا؟ کون بیداری پیدا کرے گا؟ ہمیں جان بچانے کے علاج کی حکمت عملی کو بہتر بنانا چاہئے۔

    ‎ آئیے یہ سوالات تمام صوبوں اور علاقوں اور خاص کر میڈیا پر زیر بحث لاۓ جائیں

    ‎ کیا ہم نے نجی اسپتالوں اور فارمیسیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے جب ایک بار سرکاری اسپتالوں کی صلاحیت کم ہوجائے گی؟ ہمیں نجی اسپتالوں کو کورونا علاج ، وینٹیلیٹر اور ائسولیشن کے کمروں کی دستیابی کے لئے حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔ ہمیں صحیح دوائیوں کے ساتھ کورونا مریض کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فارمیسیوں کو تیار کرنا چاہئے۔

    ‎ کیا ہم نے گھر میں قرنطینہ کے بارے میں شعور پیدا کیا ہے؟

    ‎ کیا ہم مزید طبی مراکز کی تیاری کر رہے ہیں؟ مزید پھیلنے کی صورت میں

    ‎ ھرڈ امینونٹی ہمارا آپشن نہیں ہوسکتا ، یہ صرف فطرت کا اختیار ہے جب
    ‎ جب انسان وبائی مرض پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو یہ مکمل ہو گا اور اسکا مطلب ہے کہ وائرس پاکستان کی 70٪ آبادی کو متاثر کرے گا۔ پاکستان میں ہرڈ امیینوٹی کا مطلب ہے کہ 10 سے 20 ملین افراد کو کھونا۔ میری عاجز رائے کے مطابق ، ھرڈ امینونٹی کو حکمت عملی کے طور پر بات کرنا جرم ہے۔

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

  • کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟ تحریر: طارق  محمود

    کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟ تحریر: طارق محمود

    کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟؟؟
    تحریر: طارق محمود

    کچھ دن پہلے ملک ریاض کی دو بیٹیوں نے اپنے مسلح گارڈز کے ساتھ ماڈل عظمیٰ خان کے گھر پر دھاوا بول کر اپنے گارڈز کے ذریعے تشدد اور زیادتی کی جو کوشش کی تھی وہ بات اب پرانی ہوچکی ہے، کچھ لوگوں نے حملہ آوروں کے فعل کو ٹھیک جانا جو اپنے مبینہ خاوند کی بےوفائی پر اسے سبق سکھانے آئیں تھیں اور کچھ لوگوں نے گھر میں مقیم دونوں لڑکیوں کو مظلوم جانتے ہوئے انکی حمایت کی، کیونکہ کسی کے گھر پر غنڈہ گردی کرنے کی دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا، اس واقعہ پر سوشل میڈیا پر بیشمار تبصرے کیئے گئے اور ہر کسی نے اپنے اپنے ویوز بھی دیئے، ایسے ہی ویوز میں ٹوئٹر پر مشہور امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کا نام بھی سامنے آیا ہے، جنکے ٹویٹس کی وجہ پاکستان میں کچھ حلقوں میں شدید بےچینی پائی گئی ہے، اور موصوفہ کے خلاف پاکستانی عدالت میں ہتک عزت اور الزام تراشی کا مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا ہے۔ سنتھیا ڈی رچی گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا پر مہم چلا رہی ہیں اور مغربی ممالک کے شہری لاکھوں مرتبہ انکی پاکستان میں سیاحت کے حق میں پوسٹ کی گئی ویڈیوز دیکھ بھی چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری سنتھیا کو انکے کام کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    سنتھیا نے اپنے ٹویٹس میں ملک ریاض کی بیٹیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوا لکھا ہے کہ اس سے مجھے بینظیر بھٹو کا زمانہ یاد آگیا ہے جب زرداری کی بےوفائیوں پر بینظیر اپنے گارڈز کے ساتھ چھاپہ مارتی تھیں اور اپنے گارڈز سے زرداری کی معشوقوں کیساتھ زیادتی بھی کرواتی تھیں تاکہ وہ آئندہ زرداری کے ساتھ تعلقات بنانے سے باز رہیں۔
    ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ زرداری مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ جنسی کرپشن کا بھی بےتاج بادشاہ ہے، موصوف خوبصورت ماڈل اور اداکاروں کے ساتھ پاکستانی عوام کے پیسوں پر عیاشی بھی کرتے ہیں اور انہی ماڈلز کے ذریعے کروڑوں اربوں ڈالرز کی منی لانڈرنگ بھی کرواتے ہیں اور اگر کوئی کسٹم آفیسر کسی ماڈل کو پکڑ لے تو اسے قتل کروا کر خودکشی بھی ظاہر کروا دیتے ہیں۔

    دنیا کے کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی بیوی یہ پسند نہیں کرسکتی کہ اسکا شوہر اسکے ہوتے ہوئے دوسری عورتوں کے ساتھ تعلقات بنائے، پاکستانی معاشرے میں مظلوم اور مالی طور پر کمزور بیویاں اپنے خاوندوں کو روکنے سے قاصر ہوتی ہیں، اسلئے بچاری چوبیس گھنٹے اسی پریشانی میں سوچ سوچ خود ہی ذہنی مریض بن جاتی ہیں، جبکہ مالی طور پر مضبوط اور تعلیم یافتہ بیویاں تمام اخلاقی اور قانونی حدوں کو پھیلانے کر اپنے شوہروں اور انکی مبینہ معشوقوں پر حملہ آور بھی ہوجاتی ہیں، ایسا ہم نے کچھ دن پہلے کے واقعہ میں بھی دیکھا ہے اور ہوسکتا ہے ایسا بی بی نے بھی اپنی زندگی میں شوہر کی بےوفائیوں سے تنگ آ کر کردیا ہو، کچھ لوگ اس بات پر احتجاج کررہے ہیں کہ جسکی وفات ہو جائے اسکے مرنے کے بعد اس پر الزام نہیں لگاتے کیونکہ اس نے کونسا واپس آ کر جواب دے دینا ہوتا ہے، ایسا ٹھیک بھی لگتا ہے لیکن بی بی محترمہ تو اپنے والد بھٹو کی طرح زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ ہی رہیں گی، اسلیئے پی پی والوں کو احتجاج کرنے کی بجائے جا کر گڑھی خدا بخش میں بی بی سے پوچھ لینا چاہئیے کہ کیا انہوں نے زرداری کی بےوفائیوں پر چھاپے مار کر اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی مبینہ معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی یا سنتھیا ڈی رچی جھوٹ بول کر پاکستانی معاشرے میں مشہور ہونے کیلئے تگ ودو کررہی ہیں۔
    #طارق_محمود

  • باپ ایک انمول ہستی بقلم :  شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی بقلم : شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی
    شہباز غافل

    "قوی قلب اور ماتھے پہ شکن کے نشاں
    وہ ہے اِک باپ مگر ہے عظیم انساں”

    باپ سہہ حرفی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ یہ لفظ اپنے اندر پیار، محبت، خلوص، قربانی اور ناجانے کن کن بیش قیمتی نگینوں کو سموئے ہوئے ہے۔
    بلاشبہ ایک جوڑے کے لیے والدین بننے کا احساس بہت جدا اور ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

    پھر اولاد کے گھٹنوں کے بل چلنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے تک کا سفر، باپ کو تو کہیں سانس لینے کی بھی فرصت نہیں دیتا۔ وہ بچوں کی اچھی پرورش کو ہی اپنا فرضِ اوّلین سمجھتا ہے اور عمر کے اس حصے کو پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. ایسے میں اولاد اکثر اپنی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔
    حضور اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "والدین کو پیار بھری نظروں سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دنیا بالخصوص مغرب میں باپ کو ایک سیڑھی کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور کام ہو جانے پر ان کو پُرانے سامان کی طرح کسی کونے میں پھنک دیا جاتا ہے یا کسی اولڈ ہوم میں ڈال دیا جاتا ہے۔

    باپ وہ ہستی ہے جو اپنے بیٹے کے روزگار سے شادی تک اور بیٹی کو تعلیم دلوانے سے رخصتی کرنے تک بہت سارے جتن نہیں کرتا ؟
    حیرت ہے کہ نظریں دھندلا جانے کے بعد وہی اولاد باپ کو ذرا سی کرنیں دینا بھی بوجھ سمجھتی ہے۔
    ایک دفعہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص۔
    صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّٰہؐ کون سا شخص ذلیل و خوار ہوا؟
    تو رسول خداؐ نے ارشاد فرمایا:”وہ شخص ذلیل و خوار ہوا جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور ( ان کی خدمت نہ کر کے ) جنت کا حقدار نہ بن سکا۔”
    باپ کی محبت کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ بسترِ مرگ پر بھی اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی کے لیے ہمہ وقت دعا گو رہتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلہ تو گھٹ دیتا ہے مگر اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
    بلاشبہ باپ سورج کی مانند ہوتا ہے، جس کی تپش تو ہوتی ہے، پر اندھیرا دور کرنے میں بھی یہی کام آتا ہے۔
    باپ امیر ہو یا غریب دونوں ہی اپنی اولاد کی پرورش بخوبی نبھاتے ہیں، لیکن یہ دونوں تصویر کے دو الگ الگ رُخ ہیں۔ ایک وہ ہے جو اولاد کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت رکھتا ہے اور ایک وہ جو اپنے آنکھوں کی نمی چُھپانے کی خاطر رات کے اندھیرے میں گھر لوٹ کر آتا ہے۔ باپ امیر ہو یا غریب،باپ تو باپ ہے۔
    بے شک باپ کی دولت نہیں سایہ ہی کافی ہوتا ہے۔
    مگر افسوس ہے کہ وہی اولاد گھنیرے شجر کے سایہ میں کیے ہوئے آرام کو بھول جاتا ہے۔ بے شک
    زندگی ایک پیڑ کی مانند ہے،جس کی جڑیں باپ ہے۔
    پس ثابت ہوا کہ باپ ایک انمول ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ جو اولاد والدین کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے وہ زندگی میں کبھی بھی سُکھی نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کے لیے والدین سے حسن سلوک کریں۔
    اللّٰہ ہمیں والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔۔۔۔آمین

  • خونِ ناحق کا سوال ہے

    خونِ ناحق کا سوال ہے

    عید کے روز صبح فجر وقت ایک نوجواں حافظِ قرآن کو قصور میں اسکے باپ کے سامنے پولیس والا اسے کہتا ہے کہ میرے پاس آؤ مجھ سے تعلقات رکھو ورنہ میں تمہیں مار دونگا اور اس حافظِ قرآن کے انکار پر وہ اسکے باپ کے سامنے اسے گولی مار کر قتل کر دیتا ہے۔

    زرا تصور کیجیے کہ اس باپ کا کیا حال ہوگا کہ جو خود صبح اپنے بیٹے کو فجر کی نماز کیلئے بیدار کر کے لے کے جا رہا ہوگا۔ لیکن اسے علم نہیں ہوگا کہ اس کا بیٹا یہ نماز نہیں پڑھ سکے گا۔

    اس کی ماں کا کیا حال ہوگا کہ جس نے اس دفعہ اتنی چاہ سے اس کیلئے عید کے کپڑے تیار کیے ہونگے کہ اس دفعہ میرے لعل نے پہلی دفعہ تراویح میں قرآن مکمل سنایا ہے۔ وہ بلائیں لیتے لیتے نہیں تھکتی ہوگی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ ایک بھیڑیا اس کے خوبرو لعل کو اپنی ناجائز خواہشوں کے مکمل نہ ہونے پر موت کی گھاٹی میں دھکیل دے گا۔

    ہاں یہ الم تو بیٹوں والے والدین ہی جان سکتے ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلا #justiceFroSamiurRehman ہر ذی شعور نے اس میں بقدر حصہ ڈالا اور کافی دیر تک یہ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

    میں بہت دیر تک بغور دیکھتا رہا کہ ابھی شاید کسی نام نہاد انسانیت کے دعویداروں کی ایک ٹویٹ ایک پیغام سامنے آئے گا۔ شاید اسلام آباد کے کسی کونے میں موم بتیاں جلائی جائیں گیں۔ شاید کہ کسی سوشل ایکٹیویسٹ کی کوئی ایکٹیویٹی نظر آئے گی۔ شاید کہ کسی نیوز چینل پر خبر چلے گی کہ یہ ٹرینڈ اتنی دیر ٹاپ ٹرینڈ رہا اور سوشل میڈیا صارفین نے اتنی دفعہ اس بات کا ذکر کیا۔

    شاید کہ راجہ داہر پر چلنے والے ٹرینڈ کو اپنی سرخی کی زینت بنانے والی بی بی سی اس پر سٹوری چلائے گی اور اپنی روایت کے مطابق لکھے گی کہ فلاں صارف نے اپنے پیغام میں یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا۔ شاید کہ وائس آف امریکہ اپنی سٹوری میں اس کا ذکر کرے گا۔ لیکن نہیں مجھے کہیں بھی ذکر نہیں ملا اس سمیع کے ناحق قتل کا۔

    میں نے پھر سے پورے کیس کو دیکھا بغور دیکھا کہ شاید کہیں کوئی اور وجہ تو نہیں قتل کی لیکن پنجاب پولیس کی ملزم کو بروقت گرفتار کرنے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ اے ایس پی کی مقتول کے گھر تشریف لانے اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ مجھے اس ناحق قتل کی کوئی اور وجہ بھی نہ ملی کہ کتے کے پلوں کے مرنے پر واویلہ کرنے والوں کو یہ خونِ ناحق کیوں نہیں نظر آیا؟؟؟

    بہت سوچا جب مجھے کوئی وجہ نظر نہ آئی تو نجانے کیسے میں نے اس نام پر غور کیا کہ کیا نام تھا اس معصوم کا ہاں حافظ سمیع اور اس کے والد کا پتا چلا وہ بھی حافظِ قرآن عالمِ دین اور امام مسجد ہیں پھر مجھے اس مجرمانہ خاموشی کی سمجھ آئی کہ زرا زرا سی بات پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دینے والے ان نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ کیا ہے؟

    ہاں اس خاموشی کی وجہ ہے اس معصوم کا حافظ قرآں ہونا۔۔۔
    اس کے باپ کا عالمِ دین اور امام مسجد ہونا۔۔۔

    ہاں یہ طبقات تو انسانیت کے ضمرے میں نہیں آتے نا۔۔۔

    تو بس پھر میری سوچوں کا دھارا رک گیا اور میں ان انسانی ہمدردی کے کھوکھلے علمبرداروں کے دوہرے رویہ پر فقط ماتم کناں ہی ہو سکتا ہوں کہ ان کا گریباں نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے گھروں کی فصیلیں بہت اونچی ہیں۔۔۔

    میں ان کے گریباں کو نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے علاقہ میں مجھ جیسے پیدل چلنے والے کو شاید گلی کی نکر پر چوکیدار ہی روک لے کہ معاف کرو ان گھروں میں صاحبان موجود نہیں ہیں وہ سب عید کی چھٹیاں منانے پر فضاء مقامات کو گئے ہوئے ہیں اور ویسے بھی انہوں نے رمضان میں ساری خیرات تقسیم کر دی ہے گھر میں کوئی موجود ہوا بھی تو تمہیں کچھ ملنا نہیں۔۔۔

    آ جا کے میرے پاس ان کو جنجھوڑنے کیلئے ایک یہ سوشل میڈیا ہی میسر ہے سو میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا کہ شاید ان کے مردہ ضمیروں میں کوئی زندگی کی رمق جاگے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میری آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند ہی ہوگی لیکن میں نے اپنا حق ادا کر دیا۔ آپ کہیں ان تک پہنچ سکتے یا ان تک میری آواز پہنچا سکتے تو ضرور پہنچانے کی کوشش کیجیے گا کہ خونِ ناحق کا سوال ہے۔۔۔

    #باغیات

  • وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا…
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    28 مئی 1998ء کے یادگار دن کا سورج ایک نئے عزم اور ولولے کا پیغام لے کر طلوع ہوا تھا۔
    جس نے وطنِ عزیز کو یہود و ہنود پر عسکری برتری دلا دی۔
    پاکستان کی دفاعی و سیاسی تاریخ میں یہ وہ تاریخ ساز دن ہے جس پر لکھتے ہوئے مؤرخ اسے سراہے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
    دشمنانِ وطن کے لیئے وہ دن عتاب تھا۔۔۔
    جو دن تاریخِ وطن میں اک نیا باب تھا۔
    جب بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ دفاعِ پاکستان اور اسلامی دنیا کے مورال کو بلند رکھنے کے لیئے ازحد ضروری تھا۔
    یہ دن اللّٰہ تعالٰی کی خاص نصرت اور ہمارے مایہ ناز سائنس دانوں کی شبانہ روز جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی سلامتی کا ضامن بن گیا اور اُن تمام سازشی عناصر کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے تھے جو کوّے کی طرح شور مچا رہے تھے اور وطنِ عزیز کے وجود کو مٹانے کے درپے تھے۔
    بھارت کے دھماکوں کے ٹھیک سترہ دن بعد پاکستان کی فضائیں اللّٰہ اکبر کے نعرہ سے گونج رہی تھیں۔
    چاغی کا پہاڑی سلسلہ تاریخ دفاعِ پاکستان کی انمٹ یاد ہے۔
    جب پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔
    یہ دن جذبۂ ایمانی کو گرمانے کا دن تھا۔
    یہ دن دفاع کا ناقابل تسخیر دن تھا۔
    یہ دن ترقی کی منازل طے کرتے جانے کا نقطۂ آغاز تھا۔
    یہ غوری،غزنوی،بابر،ٹیپو،نصر،
    حتف،شاہین اور الخالد کی ایجادات کا سفر تھا۔
    یہ رعد اور ڈرون براق اور لیزر گائیڈڈ میزائل برق کی کامیابی کا سنگ بنیاد تھا۔
    یہ دن زمین سے فضا،زمین سے زمین اور زمین سے سطح سمندر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی طرف اُمید کا قدم تھا۔
    اور الحمدللہ پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج بھی پاکستان کا دفاع مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
    دشمن کی چالیں گو کہ ہر محاذ پر جاری ہیں۔
    وہ سرحدیں جغرافیائی ہوں یا نظریاتی…
    وہ میڈیا کا میدان ہو یا پروپیگنڈہ کا،لیکن ہر سو،ہر رُخ پاکستان نے تمام سازشوں کا توڑ کیا ہے۔
    پاکستان کے دشمنوں بھی اگرچہ چین نہیں ہے،مگر اس کے محافظ بھی ہر دم تیار و بیدار ہیں۔
    اپنے دفاع کی صلاحیتوں میں روز افزوں ترقی کے مدارج طے کرتا پاکستان ہم سب کا عظیم فخر ہے۔
    اس کی سپاہ ہر محاذ پر ڈٹی اور جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور قوم کے دفاع میں بے مثال کردار ادا کر رہی ہیں۔
    یہ وطن لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا اور پھر اسے ایٹمی طاقت بنا کر پورے عالمِ اسلام کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔
    پاکستان کی دفاعی صلاحیت واعدو لھم ماستطعتم من قوۃ کا عملی نمونہ ہے اور ان شآ ءَ اللّٰہ اس کا کوئی دشمن اسے تسخیر نہیں کر سکتا۔
    ہمیں چاہیئے کہ اس وطن کے دفاع کے لیئے ہر محاذ پر چوکس اور ذمہ دار سپاہی کا کردار ادا کرنے والے بن جائیں۔
    اس کی تمام سرحدوں،اور تمام محاذوں کے محافظ بن کر ابھریں،تاکہ کسی بھی دور اور وقت میں کہیں بھی اس کے دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔
    میرے وطن !!
    تری حفاظت کا عزم لے کر ہر ایک اپنے محاذ پر ہے…!!!
    بشرط اتحاد ،یقیں محکم،عمل پیہم بقول بانئ پاکستان:
    "There is no power on earth that can undo Pakistan…”
    ترا دفاع رہے ناقابلِ تسخیر…
    تو ہے وطن جرأتوں کی تصویر…
    ترا بلند رہے سدا پرچم…
    تیرا وقار نہ ہو کبھی خم…
    تیرے شاہینوں کی رہے اونچی اُڑان…
    پائندہ و تابندہ رہے اپنا پاکستان…
    تُجھ پر رحمت الٰہی کا رہے سایہ…
    اتحاد و دعا رہیں تیرا سرمایہ…
    ترے دُشمن کے عزائم رہیں تہہِ خاک…
    تو شہیدوں کی امانت ہے سرزمینِ پاک…!!!
    اس وقت بھی یہ خطہ جنگ کی چنگاریوں سے گھِرا دکھائی دیتا ہے۔
    ایک طرف افغان طالبان اور امریکہ کی مفاہمت کے آثار نظر آ رہے ہیں تو دوسری طرف ہندوستان کی طرف سے طالبان کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو ہی فضول قرار دینا اور امریکی یقین دہانیوں پر بھی توجہ نہ دینا اس کے سازشی ذہن کی عکاسی ہے۔
    اور اب چین انڈیا چپقلش ایک نیا رُخ دکھا رہی ہے۔
    دنیا کو اس بات کی طرف اب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس خطے کو آگ کی طرف نہ دھکیلا جائے بلکہ تمام مسائل جن میں افغانستان،کشمیر اور دیگر سرحدی تنازعات کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔
    ترقی کے منصوبوں کو بروقت اور حالتِ امن میں تکمیل تک پہنچنے کے لیئے راہ ہموار کی جائے۔کیونکہ اس وسیع اور فلیش پوائنٹ خطے اور مستقبل کے معاشی ہب میں امن کی ضرورت دنیا کے امن سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے…!!!
    اور سوچنا ہوگا کہ دنیا کو جنگ اور پھر اپنے دفاع اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟
    =============================

  • بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    باغی ٹی وی روپورٹ کے مطابق :انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 کی میزبانی واپس لی جاسکتی ہے ۔

    آئی سی سی کے اس علان کو کرکٹ کی عالمی شہرت یافتہ اور معتبر ترین سمجھی جانے والی ویب سائٹ کرک انفو کی . وجہ یہ بتائی گئی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی کواپنی حکومت سے ٹورنامنٹ کے لیے ٹیکس چھوٹ دلانے میں ناکام رہا ہے۔

    ویب سائٹ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان دو ماہ سے جاری ای میلز کے تبادلے کے حوالے سے بتایا کہ آئی سی سی کے جنرل کاؤنسل جوناتھن ہال نے 29 اپریل کو واضح کر دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے غیرمتوقع حالات سے متعلق شق کے بارے میں نوٹیفکیشن کی روشنی میں معاہدے کے میزبان بھارتی کرکٹ بورڈ پر لاگو ذمہ داریاں اجاگر کریں گے۔

    جوناتھن ہال نے مزید کہا کہ آئی سی سی کی بزنس کارپوریشن 18 مئی کے بعد کسی بھی وقت معاہدہ فوری طورپر ختم کرنے کا حق رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی نے آئی سی سی کو رواں سال 18 مئی تک غیر مشروط تصدیق فراہم کرنی تھی کہ انھوں نے دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ کورونا کو بنیاد بنا کر دیڈلائن میں 30 جون تک توسیع چاہتاہے جسے آئی سی سی مسترد کر چکا ہے

  • جھوٹ اور مزاح  بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح
    فاطمہ ہاشمی

    کل یہ پوسٹ کی تھی کہ سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہی آئے گااور میں نے کہا تھا کہ رات تک جواب دے دیا جائے گا لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اک ایمرجنسی کی وجہ سے رات کو جواب نہیں دیا جاسکا ۔
    سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جھوٹ مذاق میں بھی بولنا جائز نہیں اور اس کا گناہ لکھا جاتا ہے
    اللہ قرآن میں فرماتا ہے
    أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [39-الزمر:3]
    ترجمہ : ”دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا
    معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے:” تباہی وبربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتاہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے ” ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲

    عن ابي امامة قال : ‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ‏‏‏‏ انا زعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا وببيت فى وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وببيت فى اعلى الجنة لمن حسن خلقه“ . [ابوداؤد حديث 4800، و قال الشيخ الألباني حسن]
    ترجمہ : ”ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔“

    دوسری بات مذاق درست نہیں ہے جیسے فنی لطیفے آجکل چلتے ہیں جو جھوٹ پہ مبنی ہوتے ہیں یہ جائز نہیں اور حرام ہیں البتہ اسلام میں مزاح جائز ہے اس کی مثالیں اللہ کے نبیؐ سے ملتی ہیں

    اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کس طرح کی تھی؟ اس تشریح کی یوں ضرورت ہے کہ بہت سے کاموں میں ہمارے غلط عمل سے ہمارے نظریات بدل چکے ہیں۔ ہر معاملہ میں اعتدال کھو بیٹھے ہیں۔اگر ہم سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہےیعنی بے جا سنجیدگی اور ہمیشہ چہرہ متغیر رکھنا۔اور اگر خوش طبع بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہے۔یعنی بلاوجہ جھوٹی سچی باتوں پہ قہقہے لگاتے پھرنااسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں ایک خاص معیار اپنے سامنے رکھنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش طبعی کی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زبان مبارک سے سن لیجئے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعجب سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذاق کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں بے شک! میرا مزاح سراسر سچائی اور حق ہے۔ (شمائل۔ترمذی)

    اس کے مقابلہ میں ہمارا آج کل کا مزاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، تعن و تشنیع اور بے جا مبالغوں سے پورا پورا کام لیا گیا ہو۔

    اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کے چند واقعات قلمبند کر رہے ہیں کہ جن کے تحت ہم ظرافت کا صحیح تخیل قائم کرسکے ۔
    چلیں آج ہم اپنے سوالوں کا جواب دینے سے پہلے نبیؐ کے مزاح مبارک پہ آپ کو بتاتے جاتے ہیں
    جنت میں بوڑھے نہیں جائیں گے ۔۔
    ___مزاح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم _____

    ایک شخص نے خدمت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر سواری کے لئے درخواست کی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم کو سواری کے لئے اونٹنی کا بچہ دوں گا۔وہ شخص حیران ہوا کیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے؟ عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اونٹی کے بچہ کا کیا کرونگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو۔(شمائل ترمذی)

    2:ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اور بڑھیا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سنتے ہی زاروقطار رونا شروع کردیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب سے آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی تب سے یہ بڑھیا رورہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی مگر جوان ہوکر۔(شمائل۔ترمذی) (اسکی سند میں ضعف ہے)

    3: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دیہاتی زاہر نامی دوست تھے جو اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدئے بھیجا کرتے تھے۔ایک روز وہ بازار میں اپنی کوئی چیز بیچ رہے تھے۔اتفاق سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گذرے ان کو دیکھا تو بطور خوش طبعی چپکے سے پیچھے سے جاکر ان کو گود میں اٹھالیا اور بطور ظرافت آواز لگائی کہ اس غلام کو کون خریدتا ہے؟ زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو کون ہے؟ مڑ کر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت زاہر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا:یارسول اللہ! مجھ جیسے غلام کو جو خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم خدا کی نظر میں ناکارہ نہیں ہو ۔

    4: ایک موقع پر مجلس میں کھجوریں کھائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزاح کے طور پر گھٹلیاں نکال نکال کر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آگے ڈالتے رہے۔ آخر میں گھٹلیوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے ان سے کہا کہ تم نے تو بہت کھجوریں کھائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے گھٹلیوں سمیت نہیں کھائیں۔
    (از:محسن انسانیت،اسوئہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
    دیکھئیے مزاح اسلام میں جائز مگر یہ کہ وہ بات میں جھوٹ اور کسی کی تحقیر نا ہو اوپر بیان کردہ واقعات اک بھرپور خوش طبعی اور سچائی سے لبریز ہیں
    باقی رہی سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہیں آئے گا تو اسکی وضاحت یوں ہے ہفتہ، اتوار ، پیر،منگل ، بدھ ، جمعرات ، جمعہ یہ کل ملا کر سات دن ہوئے جو بھی مرے گا انہی سات دنوں میں مرے گا آٹھواں دن نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت بھی انہی سات دنوں کے اندر بعض احادیث کے مطابق جمعہ کے دن آئے گی
    باقی اگر ہم انسانی زندگی پہ غور کریں تو کیا ایسے نہیں لگتا کہ کل کی بات ہے ہم چھوٹے چھوٹے تھے آج دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں
    اور قرآن میں دنیا کی اس زندگی کو بہت تھوڑی کہا گیا یہ صرف امتحان گاہ جس میں کوئی زیادہ جلدی چلا گیا اور کوئی دیر سے جائے گا مگر حساب سب کا ہوگا

    میں نے کہا کہ دنیا کے لوگ سات دن کے اندر مریں گے مگر قیامت کے دن لوگ کیا کہہ رہے ہوں گے قرآن کیا کہتا ہے آئیے دیکھتے ہیں

    وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّا عَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَا عَةٍ ۗ كَذٰلِكَ كَا نُوْا يُؤْفَكُوْنَ
    "اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے”
    (QS. Ar-Rum 30: Verse 55)

    یعنی انسان کو یہ دنیا کی زندگی اک گھڑی کی مانند لگے گی اللہ سے پناہ طلب کرتے ہیں کہ ہم مجرموں کے طور پہ پیش ہوں اک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں
    Allah Subhanahu Wa Ta’ala said:

    اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَاَ قِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَا لُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّا سَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَا لُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَا لَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۗ قُلْ مَتَا عُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَا لْاٰ خِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۗ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا
    "تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا”
    (QS. An-Nisa’ 4: Verse 77
    یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ دنیا کاسرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور ہم انسان ہیں کے کہ لمبی لمبی امیدیں لگائے بیٹھے اور ساری توجہ دنیاوی ذندگی اور تن آسانی کے لیے ہے لیکن ہم آخرت کو بھول چکے ہیں ہماری ساری بھاگ دوڑ کوشش کاوش اس مختصر سی دنیا کے لیے ہے مگر آخرت کی حقیقی زندگی کو نظرانداز کئیے ہوے ہیں

    ایک فکر انگیز واقعہ :
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرنے لگے : آقا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ اور فرمایا آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کس قدر پانی آتا ہے ۔ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ انگلی کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں

    اس لیے ہمیں اللہ آخرپہ نظر رکھنےکی توفیق دےاور ہماری غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر کرے اور ہمیں معاف فرمائے اور یہ جھوٹے لطیفوں اور لغو باتوں سے محفوظ رکھے

  • بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!!
    بلال شوکت آزاد

    بہت معذرت کے ساتھ جو تکبیر دشمن کے گھر میں ہمارے منہ سے نہ نکلے اس کا دن منانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بندہ منگنی شدہ ہو, خود لندن میں ہو اور منگیتر پاکستان میں اور وہ اچانک اعلان کرے کہ وہ باپ بن گیا ہے اور اوپر سے وہ بچے کی جنس لڑکا بتاکر اس کا نام اللہ دتہ رکھ کر ہر سال اس کی سالگرہ منائے۔

    یوم تکبیر غزوہ بدر کا دن تھا جب اللہ کی ناموس پر کٹنے مرنے والے تین سو تیرا نے اللہ اکبر کی گونج جزیرہ ہائے عرب میں بلند کی اور آج اس دن کے صدقے ہم خود کو مسلمان اور 56 الگ قومی شناختوں سے متعارف کرواتے ہیں امت مسلمہ کے عنوان سے۔

    بہرحال ایٹم بم ہی کیا میں ہر طرح کے آتشیں, دخانی, طبی, طبعیاتی, کیمیائی, ریاضیاتی, معاشرتی, معاشی, اقتصادی, سماجی, نظریاتی اور ہاں جوہری بھی غرض ہرطرح کے ہتھیار کے بنانے والے, اس کو دفاع کے لیے ناگزیر بتانے والے, اس کو بیچنے والے, اس کو خریدنے والے اور اس کو شوقیہ یا باامر مجبوری چلانے والوں کی کھل کر اور شدید مذمت کرتا ہوں کیونکہ ان جملہ ہتھیاروں سے انسانیت سسک رہی ہے, گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے اور بھوک و افلاس بڑھ رہی ہے۔

    کیا دور تھا جب تیر و تفنگ اور نیزہ و تلوار کے ساتھ بہادر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر دشمن کے گھر میں داخل ہوتے اور اسے مباذرت کی دعوت دیتے۔

    کیا وقت تھا وہ جب مسلمان تلوار اور قرآن لیکر کسی قلعے کا محاصرہ کرتے اور قلعہ دار کو پیغام بھیجتے کہ لو ہم آگئے۔ ۔ ۔ اب تم پر ہے کہ اللہ کے قرآن کی سن لو اور پلٹ آؤ یا پھر ہم پر ہے کہ ہم تمہیں سنائیں جب تک تم سن نہیں لیتے۔ ۔ ۔قصہ مختصر اگر تم توحید کو ٹھکراتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔

    دست بدست لڑائی میں مجاہد اور دشمن میں جو کانٹے کی ٹکر ہوتی اس کی نظیر آج کم بلکہ نا ہونے کے برابر ملتی ہے کہ اگر مجاہد نے دشمن کو مارا تو بھی مرنے والے اور مارنے والے کا نام دونوں افراد ہی کیا دونوں لشاکر کو بھی معلوم ہوتے اور مورخ کو بھی۔

    اور جو وہ سکون کی ایک لہر ہے نا کہ میں نے دشمن کے لشکر سے فلاں کماندار یا سپاہی کو بقلم خود ہلاک کیا اور اسکی ذردہ و تلوار پر قبضہ کیا۔ ۔ ۔ واللہ آج اس طرح کی خوشی ناپید ہوچکی ہے۔

    تیر اور تلوار سے آمنے سامنے کی ٹکر ہوتی تھی کھلے میدانوں میں جس سے معصوم لوگ تب تک محفوظ ہوتے جب تک ایک فریق (کافر) جیت نہ جاتا کیونکہ مسلمان تو جیت کر بھی املاک اور افراد کو نقصان نہ پہنچاتے تھے البتہ جب تک وہ شریعت سے سختی سے جڑے رہے تب تک لیکن آج ایک پستول سے لیکر ایٹم بم تک ہر ہتھیار معصوم اور بے گناہ افراد کی موت کا سبب بنتا ہے اور بنے گا جبکہ ایسے ہتھیار جو دشمن کی روح سے زیادہ انسانیت کی روح نچوڑنے کی قدرت رکھتے ہوں پر فخر چہ معنی دارد۔

    میں سچی پوچھیں تو ایسے ایٹم بم سے زیادہ خوش نہیں جو آپ کو بہادر کے بجائے بزدل یا سفاک بنادے۔

    بھارت سے دفاع کی خاطر ہم نے اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم اور صحت کو داؤ پر لگا کر ایٹم بم بنالیا لیکن دو براہ راست جنگیں تو ہم پر پھر بھی مسلط کی بھارت نے اور ہم نے بزم خویش شکست فاش بھی دی لیکن کیا یہ آنکھ مچولی کسی طرح جسیفائیڈ ہے دونوں پڑوسی ایٹمی ممالک کے ذمہ داران کی جانب سے ان کی عوام میں؟

    بلکہ یہی دو کیا باقی کے پانچ ممالک بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں کہ کیا امن ایٹم بم کے بنانے سے محفوظ ہوا ہے یا اور زیادہ غیر محفوظ ہوا ہے؟

    آج کے اس مخصوص دن پر ان تمام سائیسدانوں پر لعنت جن کی محنت سے دنیا میں پہلا ایٹم بم وجود میں آیا اور پھر اس سے بڑھ کر اس منحوس حکمران پر لعنت جس نے اس کا تجربہ بغیر اسکی ہلاکت خیزی جانے اور اندھی دشمنی میں غرق ہوکر معصوم لوگوں سے بھرے پرے شہروں پر گرا کر کیا۔

    جہاں تک بات ہے ہماری مطلب پاکستان کی تو پاکستان کبھی ایٹم بم نا بناتا واللہ اگر بھارت کو یہ خبط دماغ پر سوار نہ ہوتا اور پھر بھارت کی پشت پر سارا عالم کفر کھڑا نہ ہوتا تو پاکستان روایتی جنگ اور روایتی دفاع کو ہی ترجیح دیتا لیکن جیسے طلاق اللہ کو ناپسند ہے حلال کاموں میں لیکن بعضے مسلمان کر گزرتے ہیں ویسے ہی پاکستان کو طوہاً کراہاً ایک دشمن کش نہیں بلکہ انسانیت کش ہتھیار بنانا پڑا اور اس دوڑ میں آگے آنا پڑا لیکن دل مانے یا نہ مانے پر یہ خوشی سے زیادہ افسوس کا دن ہے پر دستور دنیا ہے کہ اپنی طاقت اور قدرت پر نالاں نہیں خوش ہوا جاتا ہے لہذا "یوم تکبیر مبارک”۔

    بے ربط خیالات ذہن میں تبھی جگہ بناتے ہیں جب آپ حساسیت اور انسانیت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کھیسے پر نظر ڈالیں جس میں آپ کے کھاتے پر ایسے کام درج ہوں جو برائی کی معراج ہوں تو آپ کا ذہن کے خلط ملط خیالات آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بری طرح اثر انداز ہوتے جیسے کہ ابھی میں بلکل اسی کیفیت کا شکار ہوں جسے ایک طرف ایٹمی طاقت بننے سے زیادہ مبینہ ناقابل تسخیر دفاع کے حصول کی خوشی ہے اور دوسری طرف بھوک, افلاس اور غربت کے ساتھ ساتھ مہذب دہشتگردی سے سسکتی انسانیت کا درد بھی ہے۔

    بہرحال جب تک یہ "چائنہ کا یوم تکبیر” ہے اس سے کام چلاتے ہیں تاآنکہ اللہ کی رحمت سے ہم دشمن کے گھر میں اللہ کا نام بلند کرکے اسکی حاکمیت قائم کریں اور پھر منائیں "یوم تکبیر”۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد