Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رمضان کے بعد اب اے بندۂ مسلماں…
    کہیں کھو نہ جائے تجھ سے فلاح کا ساماں…
    غفلتوں کے سائے تُجھے لپیٹ میں نہ لیں…
    نیکیوں کے دل میں ہی رہ نہ جائیں ارماں…
    آنکھوں اور کانوں کی حفاظت بھی ہے لازم…
    دل و زباں پہ بھی رہیں عمدہ پیماں…
    جھوٹ و برائی سے کر لیں سدا کی آڑ…
    تقویٰ کے حجرے کو کر لیں اپنا ایماں…
    نفرتوں کے عداوتوں کے کاٹنے نہ اُبھرنے پائیں…
    محبّت و وفا کے پھولوں کی رہے ہر سو مسکان…
    عبادات کے اوقات بھی کہیں چھوٹنے نہ پائیں…
    سجدہ و دعاؤں کے مہکتے رہیں گُلستاں…
    دل کی دنیا کے اندر بہاروں کا رہے ڈیرہ…
    باہر کی دنیا پہ چاہے بیت جائے خزاں…
    صبر و شکر کی تربیت جو رمضان کر گیا ہے…
    اسی رنگ میں گزریں یہ جو سانسیں ہیں رواں…
    اس کی عطا و روک پہ دل یہ رہے مطمئن…
    کسی راہ،کسی موڑ پر رہیں ہم نہ شکوہ کناں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • 28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
    وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
    پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی.

  • چین‘ بھارت سرحدی جھڑپیں تحریر:عدنان عادل

    چین‘ بھارت سرحدی جھڑپیں
    بدھ 27 مئی 2020ء

    پانچ‘ چھ مئی کو بھارتی اور چینی افواج کی لداخ میں جھڑپیں ہوئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی افوا ج لدّاخ میں پانچ مختلف مقامات پر آٹھ سے دس کلومیٹر اپنی سابقہ پوزیشن سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے سینکڑوں بھارتی فوجیوں کو ماراپیٹا اورکچھ دیر تک گرفتار کیے رکھا۔ ایک سو بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ چند دنوں کے وقفہ سے لداخ کے ساتھ ساتھ سکّم میں بھی دونوں ملکوں کی افواج میں جھڑپیں ہوئیں۔بھارت نے الزام لگایا کہ چینی افواج لداخ میں اسکی حدود میں داخل ہوئیں جبکہ چین کے مطابق اسکے فوجیوں نے ان علاقوں میں کارروائی کی جو اسکی حدود میں شامل ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کا اپنے درمیان عارضی سرحد کے محل وقوع پر شدید اختلافات ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے جسکا ایک بڑا حصہ متنازع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں کہ سرحد سے متصل کونسا علاقہ کس ملک کا حصہّ ہے۔ بھارت کے شمال میں مشرق کی جانب سکم ‘ بھوٹان اور تبت سے جڑی ہوئی سرحد کے بیشتر حصّے متنازعہ ہیں۔بھارت کے صوبہ ارونا چل پردیش کو چین تبت کا حصہ سمجھتا ہے۔ وادی ِکشمیر سے متصل لدّاخ کا علاقہ سابقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔چین اسے اپنا علاقہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت کا بھی اس پر دعوی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان لداخ کی سرحد عارضی ہے جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہتے ہیں جیسے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان سرحد کو لائن آف کنٹرول کہتے ہیں۔ یہ عارضی بندوبست اس وقت تک ہے جب تک متنازع علاقہ کا کوئی حتمی تصفیہ نہیں ہوجاتا۔ 1959ء میں چین کے وزیراعظم چوائن لائی نے بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو خط لکھا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو لائن آف کنٹرول ہے اسے امن کی سرحد قرار دے دیں لیکن نہرو نے یہ تجویز مسترد کردی تھی۔ انیس سو باسٹھ میں چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت جب جنگ بند ہوئی اور دونوں فوجوں کی جو پوزیشن تھی اس کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول تسلیم کیا گیا۔ چینی اسی سرحد کواصل عارضی سرحد قرار دیتے ہیں۔ اس معاملہ میںدشواری یہ ہوئی کہ باسٹھ کی جنگ کے بعد چینی افواج لداخ میں پندرہ بیس کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ یہ بیس کلومیٹر کا علاقہ ایک طرح سے نومین لینڈ ہے جس پر نہ بھارت کا قبضہ رہا نہ چین کا۔ حالیہ جھڑپوں سے پہلے چینی فوجی تو سرحد پر پہرہ بھی نہیں دیتے تھے۔ انیس سو ترانوے میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں نے سرحدی امور پر اختلافات کے باوجود ایک عارضی سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول کوباقاعدہ تسلیم کیا۔تاہم اس معاہدہ کو ہوئے پانچ برس گزرے تھے کہ بھارت نے ایٹم بم کے تجرباتی دھماکے کردیے جس سے چین کے روّیہ میں تبدیلی آگئی۔وہ بھارت کے عزائم کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔ گاہے بگاہے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی پیدا ہونے لگی۔دو ہزار تیرہ میں دونوں ملکوں نے سرحدی امور پر کشیدگی کم کرنے کی غرض سے ایک اور معاہدہ کیا۔ اس کے تحت دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ اگر ایک ملک کا فوجی لائن آف کنٹرول پار کرکے دوسرے ملک کے زیر قبضہ علاقہ میں داخل ہوجائے تو اسکا تعاقب نہیںکیا جائے گا۔ گزشہ دس برسوں میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ اپنا اتحاد زیادہ گہرا اور مضبوط کیا ہے اس وقت سے اسکی خارجہ پالیسی میں زیادہ جارحانہ پن آگیا ہے۔ بھارتی افواج نے لداخ کی اس بیس کلومیٹر کی پٹی میں فوجی تعمیرات کرنی شروع کردیں۔جب نریندرا مودی کی حکومت بنی تو بھارتی افواج کی لداخ میں سرگرمیاں اور تیزہوگئیں۔ بھارت نے وہاں چار ڈویژن فوج تعینات کی ہوئی ہے۔چین نے بھی اپنی جانب کے لداخ میں سڑکیں بنائی ہوئی ہیں َ۔ فوجی تنصیبات قائم کی ہوئی ہیں۔ معمولی معاملات پردونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہلکی پھلکی جھڑپ ہوجاتی تھی۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ جھڑپیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول میں یکطرفہ طور پر تبدیلی کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ چین نہیں چاہتا کہ بیس کلومیٹر کی اس پٹی میںجو اس نے خالی کی تھی بھارت اپنی فوجی تنصیبات بنائے۔ وہ چاہتا ہے کہ بھارتی افواج یہ جگہ خالی کرکے اس مقام پر واپس جائیں جہاں وہ انیس سو باسٹھ میں تھیں۔ اسی لیے حالیہ دنوں میں چینی افواج نے بھارتی فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چین‘ بھارت کشیدگی کا تعلق گزشتہ سال اگست میںبھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت تبدیل کرنے سے بھی ہے۔اس اقدام کے ذریعے بھارت نے لداخ کو اپنی ریاست (یونین) کا باقاعدہ علاقہ قرار دیاتو چین نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ چین کا موقف تھا کہ لداخ دونوں ملکوں کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔اگست کے بعد بھارت نے لداخ اور جموں‘ کشمیر کو اپنی مملکت کا حصہ دکھاتے ہوئے نئے نقشے جاری کیے۔ بھارتی سیاستدانوں نے ڈینگیں مارنی شروع کیں کہ اب وہ پاکستان کے زیر انتظام گلگت‘ بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے بھی چھین لے گا۔ چین نے لداخ میں سخت روّیہ اختیار کرکے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ وہ لداخ کی حیثیت پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا ورنہ اسے چین کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا‘ نوبت جنگ تک بھی پہنچ ٓسکتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اس خطہ میں تزویراتی (اسٹریٹجک) سکون کو تہہ و بالا کیا ہے۔ بھارت کے عزائم اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ چین اور پاکستان دونوں کی علاقائی سلامتی کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے اندر اتنی طاقت نہیں کہ وہ اکیلا چین سے جنگ کرے۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو جلد ہی صلح کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم اگر امریکہ نے دلی سرکار کو تھپکی دی تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے گی۔ بھارت اس خطہ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور اسکے عزائم میں اسکا جونئیر پارٹنر۔لداخ کے علاقہ میں تناؤ بڑھا تو یہ مقامی جھگڑا نہیں رہے گا بلکہ عالمی سیاست سے جڑ جائے گا۔

  • مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے  تحریر: صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے تحریر: صابر ابو مریم

    سلام آپ کی خدمت میں عید مبارک

    ایک عدد بلاگ ارسال کر رہا ہوں گذارش ہے نشر کر کے لنک ارسال فرمائیں تا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جائے۔

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیا ت جامعہ کراچی
    مسئلہ فلسطین دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا ہم ترین مسئلہ ہے کہ جو نہ صرف فلسطین سے متعلق ہے بلکہ خطے سمیت دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ بھی بالواسطہ یا براہ راست کسی نہ کسی طرح منسلک ہے اور اثر انداز ہو رہاہے۔لہذای جب عالمی سیاست کے افق پر کوئی ذی شعور اور با بصیرت قیادت یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل دنیا کے تمام مسائل کے حل کی جڑ ہے یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ دنیائے اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے یا انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو یہ بات بے جا نہیں ہے۔دیکھا جائے تو فلسطین پر ہونے والے اسرائیلی قبضہ، صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام اور پھر اسرائیل کے دعووں کی روشنی میں کہ گریٹر اسرائیل بنایا جائے گا وغیرہ وغیرہ، یہ سب باتیں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ خطے سمیت دنیا کے بہت سے مسائل کی جڑ فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا قیام اور پھر مسلسل اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگوں اور داخلی انتشار کا پھیلاؤ ہے۔
    حال ہی میں رمضان المبارک میں دنیا بھر میں آخری جمعہ کو فلسطین سے اظہار یکجہتی کا دن یعنی یوم القدس منایا گیا ہے۔یوں تو یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس سال کورونا جیسی خطر ناک وباء کی صورت میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ کر سامنے آئی ہے۔یہاں پر سب سے اہم بات جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پہلی مرتبہ یوم القدس کی مناسبت سے تقریر کی ہے اس کے متن کے مندرجا ت نہ صرف فلسطین کے لئے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے ایک مشعل راہ کی مانند نظر آ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں نے اس خطاب کو فلسطین کے اندر بے پناہ مقبولیت دی ہے۔
    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین سے متعلق سامراجی طاقتوں کی جانب سے کی جانے والی منفی کوششوں پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے مسلم دنیا کو خبر دار کیا ہے اور کہا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کو کم رنگ او ر کم اہمیت بنا کر پیش کیا جائے اور مسلمانوں کے اذہان سے مسئلہ فلسطین کے نقش کو مٹا دیا جائے۔لہذا یہاں پر سب مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سامراج کی اس سازش و کوشش کو ناکام بنانے میں اس خیانت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔آج سامراجی طاقتوں کے سیاسی اور ثقافتی میدان میں سرگرم آلہ کار اور ایجنٹ اسلامی ممالک میں اس خیانت کو رواج دے رہے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین جیسے عظیم اور باعظمت مسئلہ کو مسلمانوں کی غیرت، خود اعتمادی اور بیداری فراموش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔حالانکہ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتیں اور ا ن کے مہرے اپنا پیسہ اور طاقت استعما ل کر رہے ہیں۔
    یقینا موجودہ صورتحال میں کہ جہاں ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے صدی کی ڈیل کا اعلان کر رکھا ہے اور فلسطین کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے وہاں مسلمان عرب حکمرانوں کی خیانت قابل ملامت ہے کہ غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات روا رکھنے اور دوسرے اسلامی ممالک کو اس کی ترغیب دینے اور مجبور کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
    ایرانی سپریم لیڈر نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیلی سرطانی پھوڑے کے وجود کو انسانی المیہ قرار دیاہے۔تاریخ میں اس طرح کے سفاک انسانی جرم میں اس پیمانہ کی شدت کا کوئی جرم نہیں ملتا ہے۔فلسطین پر باہر سے لاکر صہیونیوں کو آباد کرنا، فلسطینیوں کو گھروں سے نکال دینا، ان کے باغات، کھیتوں اور کھلیانوں اور تمام املاک پر قبضہ جما لینا، یہ سب ایسے جرائم ہیں کہ جس امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتوں کی ایماء پر فلسطین میں انجام پائے ہیں۔فلسطین کے اس انسانی المیہ پر امریکہ سمیت تمام تسلط پسند شیطانی قوتیں ذمہ دار ہیں۔
    فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے حالات اور بعد کے حالات سے واضح طور پر علم ہوتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور یہودی سرمایہ داروں کا صہیونی حکومت کی تشکیل کا اصلہ مقصد غرب ایشیاء میں اپنا دائمی اثر ورسوخ قائم کرنا تھا۔و ہ اس علاقہ میں اپنی موجودگی کیلئے ایک اڈا قائم کرنا چاہتے تھے تا کہ اس کی مدد سے علاقے کی دیگر حکومتوں اور ان کے داخلی مسائل میں دخل اندازی کر سکیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کریں۔اسی لئے غاصب صہیونی ریاست کو امریکہ سمیت دیگر تسلط پسند قوتوں نے گونا گوں اسلحہ سے لیس کیا یہاں تک کہ ایٹمی طاقت سے بھی لیس کر دیا گیا۔
    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی یوم القدس کی مناسبت سے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں موجود فلسطین پسند قوتوں اور فلسطین کی آزادی کی حامی قوتوں اور ایسے افراد کے لئے کہ جو فلسطین کے ساتھ قلبی اور عقیدتی وابستگی رکھتے ہیں، سب کے لئے فلسطین کی حمایت کو واجب اور فرض قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ، جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی مطالبہ اور فریضہ ہے۔ایسی جنگ میں فتح یقینی ہے۔ہر انسان کو چاہئیے کہ شجاعت کے ساتھ آج فلسطین کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو۔انہوں نے تکرار کرتے ہوئے زور دیا کہ فلسطین کے مسئلہ کو جو بھی عربی یا فلسطینی مسئلہ بنانا چاہتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر اور عالم اسلام سے خیانت پر مرتکب ہیں۔آج فلسطین کے لئے مقابلہ کا مقصد فلسطین کی مکمل آزادی ہے۔یعنی فلسطین جو نہر سے بحر تک ہے۔(یعنی بحیرہ روم سے دریاے اردن تک)۔فلسطین کے عوام مغربی قوتوں کی جانب سے فلسطین و قدس کی کسی قسم کی تقسیم کو قبول نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی آزادی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی فلسطین کی غیور او ر شجاع ملت کے اس موقف کی تائید کی ہے۔فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے۔
    مسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق اگر کوئی بھی شخص یا گروہ مغرب کی دھوکہ باز چالوں یعنی مذاکرات اور گفتگو کے عمل سے سمجھتا ہے کہ فلسطین کی آزادی ممکن ہے تو وہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب کر رہاہے۔عالمی سامراجی قوتیں عالم اسلام کے وجود کی دشمن ہیں۔وہ خود مسلم امہ کو پہنچنے والے زیادہ تر نقصانات کی ذمہ دار ہیں۔آج کون سی عالمی طاقت اور عالمی ادارہ ہے جو کئی اسلامی و عرب ممالک میں جاری دہشت گردی،قتل عام، بھڑکتی جنگوں،بمباری یا مصنوعی قحط کے بارے میں جوابدہ ہے؟آج دنیا عالمی سطح پر کورونا سے ہونے والی ایک ایک موت کو تو گنتی کر رہی ہے لیکن کسی نے بھی پوچھا او ر نہ پوچھے گا کہ جن ممالک میں امریکہ،یورپ اور اسرائیل نے جنگ بھڑکائی ہے وہاں لاکھوں افراد کی شہادت، قید، گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟افغانستان،یمن، لیبیا،عراق، شام اور خود فلسطین میں بہائے جانے والے اس ناحق خون کا ذمہ دار کون ہے؟آج مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی تعزیت کیوں نہیں کرتا؟کیوں دسیوں سال سے فلسطینی اپنے گھروں سے آج بھی جلا وطن ہے؟کیوں قدس شریف جو مسلمانوں کا قبلہ او ل ہے اس کی توہین کی جائے؟نام نہا د اقوام متحدہ اپنے فرائض پر عمل نہیں کر رہی ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مر چکی ہیں۔بچوں اور خواتین کے حقوق کے نعروں کا اطلاق فلسطین اور یمن میں بچوں اور خواتین پر نہیں ہوتا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں مسلم امہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اور بتا یا ہے کہ فلسطین کاز کی حمایت اور قدس شریف کی آزادی کی کوششوں کو روکنے کے لئے سامراجی قوتیں مسلم امہ کو داخلی انتشار میں الجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔شام میں خانہ جنگی، یمن پر جنگ مسلط کرنا، عرا ق میں دہشت گردی یہ سب کچھ دشمن کی تخریب کاریوں میں شامل ہے۔بعض مسلم ممالک کے حکمران دانستہ او ر بعض نادانستہ طور پر دشمن کے ان حربوں میں شامل ہیں۔آج وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جتنا غصہ ہو امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل پر نکالیں۔خطے کی عرب حکومتوں کو سمجھنا چاہئیے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا امریکہ کی جانب سے دنیا کے سامنے اسرائیل کے وجود کو ایک عام اور معمولی قرار دینے کی کوشش ہے۔مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ ہمارے فلسطین کے بھائی حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی جیسی مزاحمتی گروہوں کی شکل میں آج فلسطین کا دفاع کر رہے ہیں۔غاصب اسرائیل کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ہمیں ان کی کوششوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں بہائے جانے والے مجاہدین کے لہو کی پاسداری کرنا ہو گی۔فلسطینی مجاہدین کے پاس دین، غیرت اور شجاعت موجود ہے۔ان کے وجود سے ہی آج صدی کی ڈیل ناکام ہو رہی ہے۔آج فلسطین میں طاقت کا تواز ن بدلنے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں حماس، حزب اللہ اور جہاد اسلامی کا اہم ترین کردار ہے۔اسرائیل جو پہلے علاقوں پر قبضہ کر لیتا تھا آج فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کے مقابلہ میں چند گھنٹوں میں جنگ بندی کی درخواست کرتا نظر آتا ہے۔آخری بات یہ ہے کہ فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے۔اس کے امور انہی کے ارادے کے مطابق انجام پانے چاہئیں۔فلسطین کے تمام ادیان او ر اقوام کی شمولیت سے استصواب رائے کی جو تجویز دو عشروں قبل پیش کی گئی تھی فلسطین کے مستقبل کا واحد نتیجہ ہے۔یہ تجویز ثابت کرتی ہے کہ یہودی دشمنی کے جو بگل مغربی طاقتیں اپنے تشہیراتی ذرائع کی مدد سے بجاتی رہی ہیں، بالکل بے بنیاد ہیں۔اس تجویز کے مطابق فلسطینی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ استصواب رائے میں شریک ہونا اور فلسطین کے لئے سیاسی نظام کا تعین کرنا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے اختتام پر پوری مسلم دنیا کو جس امید کی طرف گامزن کیا ہے وہ یہ ہے کہ جسے جاناہے وہ صہیونی نظام اور صہیونیت ہے۔جو خود یہودی مذہب میں ایک بدعت اور اس سے بالکل بیگانہ ہے۔فلسطین کی آزادی حتمی اور عنقریب ہے۔

  • ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    "ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے”
    سب سے پہلے تو شکریہ اور حوصلہ افزائی  ان دوستوں کا جو اس ایکٹیویٹی میں شامل ہوتے.
    اور جو معترض حضرات ہیں ہمارے دوست اور بھائی ہی ہیں. ذرا بتائیے گا پاکستان کے کتنے لوگوں کو ڈاکٹر قاسم فکتو کا پتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا ہیں؟ اس ٹرینڈ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کے لوگوں کو آپ کے ہیروز کا پتا چلتا ہے. جب کوئی ٹرینڈ ٹاپ فائیو میں آتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے. دوسری بات کہ ہمارے ٹرینڈز سے ڈاکٹر قاسم فکتو کو رہائی نہیں ملے گی لیکن کم از کم کسی ڈسکشن، کسی فورم پر بحث، انڈیا کو رگیدنے کا حصہ تو بنے گی کاوش، تیسری بات کہ ہم سے تو اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا آپ چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے بس میں جو ہے ہم وہ کرتے رہیں گے جہاں تک اللہ نے موقع دیا تھا عملی کام بھی کرتے رہے اب اگر استطاعت کی بورڈ تک کی ہے تو اس پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اڑتے تیروں کو چھیڑیں گے البتہ اپنا نظریاتی کام اور ایکٹیویٹیز جاری رکھیں گے سوشل میڈیا پر بھی. چوتھی بات کہ عمل خواہ چونچ میں پانی لاکر آگ بجھانے کا ہو یا فقط اپنے الفاظ سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرحم رکھنے کا ہمیشہ آپ کی سائڈ دیکھی جاتی ہے کہ آپ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں (خواہ الفاظ سے ہی سہی) یا چپ رہ کر صف اغیار کو تقویت دیتے ہیں. پانچویں بات کل کو اللہ کے سامنے کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے کہ اللہ ہم آواز تو اٹھاتے رہے تھے جس کی تو نے توفیق دی تھی. چھٹی بات کہ حکومت کیا کرتی ہے، عالمی ادارے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں، ہماری آواز کہاں تک موثر ثابت ہوتی ہے یا مکمل بےکار جاتی ہے یہ ہزار درجے بہتر ہے کسی ہوتے ہوئے کام پر اعتراض اٹھا کر اس کو روک دینے سے. چھٹی بات کہ اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو بھائی تسی ایتھے گنڈیریاں ویچدے جاؤ کم کرو جاکے. باقی جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کے اعلیٰ ایمان کی جو ڈائریکٹ میدان مقتل سے، کفر کی چوکی پر پھٹنے سے ذرا چند سیکنڈز پہلے فیسبک پر پوسٹ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے تو بھائی آپ سے مقابلہ نہیں ہوسکتا ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ہم جو کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں میرا اللہ ان شاءاللہ آگے بڑھنے کی بھی توفیق دے گا.

    دنیا بھر میں ٹرینڈنگ کو اہمیت حاصل ہے، پالیسی ساز ادارے،قانون ساز اسمبلیاں، بین القوامی ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں آپ کے ٹرینڈز پینل پر نظر رکھتی ہیں. عرب اسپرنگ کوئی بہت پرانا ایشو نہیں ہے وہ ان ٹرینڈز کی ہی گیم تھی جس نے برسوں سسے قائم عرب بادشاہوں کو تحتوں سے اٹھاکر پھینک دیا تھا.

  • عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر : حافظ شفیق الرحمن

    عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر : حافظ شفیق الرحمن

    عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر: حافظ شفیق الرحمن

    عوامی مطالبہ ہے کہ قصور سے منتخب موجودہ اور سابق تمام ارکان -پارلیمان کو بلا امتیاز حراست میں لیا جائے۔ واقفان حال جانتےبیں کہ ماضی میں ن لیگ کے ارکان پارلیمان بارے اس قسم کی اطلاعات سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں کہ پورنو مافیا کے عالمی نیٹ ورک اور چین سے ان کے تعلقات ہیں۔۔۔اس وبا نے شہباز شریف کے دور 2008 ء سے 2018 ء میں بال و پر حاصل کیے۔ وہ 10 سال تک درندگی اور بہیمیت کا یہ سنگین تماشا مجرمانہ خاموشی سے دیکھتے رہے تا آں کہ زینب کیس میں اپنے منتخب نمائندوں کو بچانے کے لیے وزیر اعلی ہاوس میں گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی اور زینب کے باپ کو آزادانہ بات تک نہیں کرنے دے گئی۔ ان کے آگے سے رانا ثناء اللہ نے بر افروختگی اور برہمی کے عالم میں ہاتھ بڑھا کر پرے کردیا۔ گربہ کشتن روز اول کے مصداق اس کا سد باب کیا جاتا تو حافظ سمیع الرحمن کو عید الفطر کے روز برسربازار ایک جنسی جنونی کی خوں آشامی کی نذر نہ ہوتا۔ اس نے انتہائی دیدہ دلیری سے اس صالح ،نیک اور پارسا حافظ قرآن کو بوڑھے باپ کے سامنے سرکاری اسلحہ سے اس کے سر پر گولی داغ کر قتل کرنے کی جرات نہ ہوتی۔
    وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار خواب- غفلت سے بیدار ہوں۔عید کے روز قصور میں قیامت ٹوٹ چکی ہے۔ قصور کے گلی کوچوں میں شور قیامت ہے۔ کیا غم و غصہ میں بپھرے عوام کے نعرے آپ کے کانوں کے دریچوں پر دستک نہیں دے رہے۔ خدا را اب تو ہوش کے ناخن لیں۔ بیدار ہوں۔ بزدلی کی روش ترک کریں۔ روایتی تغافل اور تساہل کی اس روش کو بالائے طاق رکھیں جو آپ کا تعارف اور تشخص بن چکی ہے ۔ ہمت-مردانہ کو بہ روئے کار لائیں۔ آہنی اقدام اٹھائیں۔ پہلے مرحلہ پرڈی پی او سمیت قصور میں متعینہ تمام اعلی پولیس افسران کو بلا تاخیر برطرف کر کے گھر بھیجیں۔۔۔لائن حاضری اور معطلی کوئی سزا نہیں۔ آرڈر آف دی ڈے یہی ہے کہ قصور پولیس کے ذمہ داران کے خلاف گرینڈ اور میجر آپریشن کلین اپ کیا جائے۔ انہیں مجرمانہ چشم پوشی کےبسنگین جرم پر قرار واقعی سزا دیکر کیفر کردا تک پہنچایا جائے۔

    #JusticeForSamiUrRehman

  • آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    حافظ سمیع الرحمن کے لاشے کی تصویر دیکھ کر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے وہ میں آپ سب کے سامنے رکھ دیتا ہوں.

    سوال یہ کہ آپ میں سے کتنوں کو یقین ہے اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا؟ ایک دو تین چار یا چلیے دس سال میں بھی ایسا کوئی امکان ہے؟

    مزید کتنوں کا خیال ہے کہ مقتول کے باپ کے لیے جمع پونجی بیچے بغیر حصول انصاف کے مراحل سے گزرنا ممکن ہو گا؟

    ان دونوں سوالات پر غور کیجیے اور جواب کی ڈور کا کوئی سرا ہاتھ آئے تو پھر سوچیے اس معاشرے کا مستقبل کیا ہے؟ ایک عام آدمی اس پر کم از کم آواز تو اٹھائے. اب یہ سوچنا کا مقام ہے سوشل میڈیا پر ہماری توانائیاں اپنے اپنے حصے کے سیاسی رہنما کی مدح سرائی اور دوسروں کی ہجو میں ہی ضائع ہونی ہیں یا کبھی سماج کے حقیقی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے؟

    واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس اہلکار سے دوستی نہ کرنے کے جرم میں نوجوان کو قتل کر دیا گیا

    قصور کے علاقے کھڈیاں میں قاری خلیل الرحمن کے حافظ قرآن بیٹے کو عید کے دن ہی پولیس کانسٹیبل نے بری نیت سے دوستی اور برائی نہ کرنے پر قتل کر دیا

    واقعہ کا مقدمہ حافظ قرآن کے والد قاری خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم معصوم علی نے میرے بیٹے سمیع الرحمان کو عید کے روز صبح مسجد جاتے ہوئے گلی میں روکا اور کہا کہ عید کے دن بھی میری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہو گا، میرے بیٹے نے انکار کیا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا، اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا رہتا تھا، اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    جنسی خواہش پوری کرنے سے انکار،پولیس اہلکار نے عید کے روز حافظ قرآن نوجوان کو قتل کر دیا

  • قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان  بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعین کا بیان۔

    Gender
    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ جنس XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر جنس XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔


    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے نیچے دی گئی تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46
    وَاَنَّهٝ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الـذَّكَـرَ وَالْاُنْثٰى (النجم 45)
    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔

    مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (النجم 46)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    ‏کیاارطغرل مسلمان تھا؟

    تاریخ کے ایک پروفیسر صاحب نےدرج ذیل نکات پہ روشنی ڈالی:

    سوشل اورالیکٹرونک میڈیا پر ترکی ڈرامہ”ارطغرل” کا خوب چرچا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی کہانی ہے اور پاکستانیوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے یہ ڈرامہ ضرور دیکھتا چاہیے۔

    ‏ترکی کی تاریخ پر ایک بڑا علمی کام چار ضخیم جلدوں پر مشتمل

    Cambridge History of Turkey

    ہے، جس کی تدوین میں ترک/عثمانی تاریخ پر اتھارٹی پروفیسر ثریا فاروقی معاون مدیر کے طور پر اور انکے علاوہ دیگر ترک مؤرخین بھی شامل تھے۔ اس کی پہلی جلد میں جو ۱۰۷۱ء سے۱۴۵۳ء کے زمانےسے متعلق ہے، ارطغرل کانام صرف ایک جگہ، صفحہ ۱۱۸ پر، مذکورہے۔ مصنف کےنزدیک ارطغرل کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور اسکی موجودگی کا پتا اسکے بیٹے عثمان کےایک سکے سےچلتا ہے۔ مصنف کےالفاظ ہیں:

    We know nothing about the life of Ertugrul, and his existence is independently attested only by a coin of his son Osman.

    ‏اردومیں اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف اور پڑھی جانے والی کتاب ڈاکٹر محمد عزیر کی دوجلدوں پر مشتمل کتاب "دولت ِ عثمانیہ” ہے۔ مشہور علمی ادارے دارلمصنفین، اعظم گڑھ، کی شائع کردہ اس تاریخ کا دیباچہ سید سلیمان ندوی نے لکھا اور اس کتاب کا مقصد مسلمانانِ ہند کو ترکوں کے کارناموں سے روشناس کرانا تھا۔

    ‏ڈاکٹر عزیر تسلیم کرتےہیں کہ سلیمان شاہ اور ارطغرل غیر مسلم تھے اور قبیلہ کا پہلا شخص جس نےاسلام قبول کیا ارطغرل کا بیٹا عثمان تھا۔ وہ ایک مغربی مؤرخ کی شہادتیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں خراسان اورماوراء النہر کے دوسرے علاقوں کی جوقومیں ایشیائے کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئیں، ‏ان کے اسلام لانے کا کوئی صریحی ذکر کسی تاریخ میں نہیں ملتا۔ خود عثمانیوں کے مؤرخ نشری کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ عثمان کا مورث ِ اعلیٰ سلیمان شاہ اور اس کے ساتھی، جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے، غیرمسلم تھے۔

    بارہویں صدی عیسوی اور اس کےبعد کے سیاحوں کی بکثریت شہادتوں سےبھی ‏یہ معلوم ہوتاہےکہ یہ قومیں بت پرست تھیں، ان مختلف ترکی قبیلوں نےجواس زمانےمیں ایشیائےکوچک میں داخل ہوئے اپنے آپ کو ایک اسلامی ماحول میں پایا۔ عثمان اوراس کےقبیلہ کےاسلام لانے سےعثمانی قوم پیداہوئی۔ اس تبدیلِ مذہب ہی کا نتیجہ تھا کہ ۶۸۹ھ (۱۲۹۰ء) کے بعد عثمان کی فاتحانہ سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔

    ‏ارطغرل اور عثمان ایک دیہاتی سردار کی حیثیت سےسغوت میں سیدھی سادھی زندگی بسرکرتےتھے، ان کی اس زمانہ کی کسی جنگ یا فتح کا ذکر تاریخ میں موجود نہیں۔ ارطغرل کےتعلقات اپنےپڑوسیوں کے ساتھ بالکل صلح ودوستی کےتھے۔ نشری کابیان ہےکہ اس ملک کےکافر و مسلم دونوں ارطغرل اوراس کےلڑکےکی عزت کرتے تھے۔ ‏کافر و مسلم کاکوئی سوال ہی نہ تھا۔ پھر دفعتاً ہم عثمان کواپنے پڑوسیوں پرحملہ آور ہوتے اور انکے قلعوں کو فتح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک ایسا تبلیغی جوش ہے جو صرف ان ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے جنہوں نےحال ہی میں مذہب تبدیل کیا ہو”۔

    ان دو مستند کتابوں کی شہادت ہی یہ ثابت کرنے کے لیےکافی ہے کہ ڈرامے کے ‏ارطغرل کا تاریخ کے ارطغرل سےکوئی تعلق نہیں۔ تاریخ کا ارطغرل تو شاید مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر مسلمان تھا بھی تو صلیبیوں اور منگولوں کےخلاف جہاد کی وہ ساری تفصیلات جوڈرامہ کی زیب و زینت ہیں، تاریخی شواہد سےثابت نہیں۔ ڈرامہ آپ کو پسند ہے تو اسے فکشن/افسانہ سمجھ کر ضرور دیکھئے، ‏لیکن خدارا اسے اسلام کا ڈرامہ نہ بنائیے۔

    ڈاکٹر فراز انجم، پروفیسرفراز انجم ،شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی۔

  • ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!!

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی(سورج کی روشنی) سے باہر یعنی دور ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30
    اَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانبیاء 30)

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12
    اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَّّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَـهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّاَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا (الطلاق 12)

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر !!!