Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    کافی عرصہ ہوا میں پنڈی سے بذریعہ بس حیدرآباد آرہا تھا ایک صاحب جنہوں نے میہڑ ضلع دادو جانا تھا میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب ہم میانوالی کے قریب چشمہ کے مقام پر پہنچے جہاں پاکستان نے ایک بڑا ذخیرہ آب جمع کیا ہوا ہے تو وہ صاحب مجھے کہنے لگے دیکھیں یہ پنجاب نے ظلم کیا ہوا ہے میں نے پوچھا بھائی وہ کیسے تو فرمانے لگے اتنا سارا پانی یہاں روکا ہوا ہے تو سندھ تو سارا خشک ہوجائے گا اور اس کی زراعت بالکل تباہ ہوجائے گی میں نے عرض کیا حضرت ایک ذاتی سا سوال پوچھ لوں کہنے لگے پوچھیں میں نے کہا آپ نے اپنے گھر میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی زیر زمین یا چھت کے اوپر کوئی ٹنکی بنائی ہے تو کہنے لگے بالکل بنائی ہے میں نے پھر پوچھا کیوں ؟؟؟
    جی ہر وقت لائٹ بھی نہیں ہوتی اور واٹر سپلائی کا پانی بھی مقررہ وقت پر آتا ہے اس لئے پانی جمع کرنا پڑتا ہے تاکہ سارا دن استعمال ہوسکے میں نے عرض کیا بھیا آپ کے چھوٹے سے گھر کو تو ذخیرۂ آب کی ضرورت ہو اور اتنے بڑے ملک کو پانی ذخیرہ کئے بغیر چلا لیا جائے کچھ عجیب سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟؟
    حضرات ایسے وقت میں کہ جب ساری دنیا سینکڑوں نہیں ہزاروں چھوٹے بڑے ڈیم بنا رہی ہے چائنہ چار ہزار سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے ہمارا ازلی دشمن بھارت پندرہ سو سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے یہ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ تربیلا اور منگلا کے بعد ہم کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنا سکے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم شاندار نہری نظام رکھنے کے باوجود دن بدن خشک سالی کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں
    بھارت ہمارا وہ ازلی دشمن ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے دریاؤں پر قبضہ کرکے متعدد ڈیم بناکر ہمارا پانی روکا تاکہ جہاں وہ ہمارے پانی پر اپنی بنجر زمینوں کو سیراب کرسکے وہیں ہمیں پانی کے قطرے قطرے کا محتاج بناکر اپنا باج گزار بنالے
    عجیب تماشہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب بھارت ہمارے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جارہا تھا اس نے ہمارے بیچ ایسے لوگ کھڑے کردئیے جنہیں پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا کوئی ذخیرۂ آب برداشت نہ تھا قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے یہ لوگ بظاہر اپنے اپنے ہم زبان لوگوں کے ہمدرد تھے لیکن حقیقت میں دشمن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نظر آتے تھے
    ان لوگوں نے سندھ اور کے پی کے کے بھولے بھالے عوام کو پروپیگنڈے کے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہیں لگنے لگا کہ پاکستان کی سرزمین پر بننے والا کوئی بھی ذخیرۂ آب ان کی تباہی کا سبب بنے گا نتیجتاً ایک بڑا عوامی ردعمل ڈیموں کی تعمیر کے ان منصوبہ جات کے خلاف کھڑا ہوگیا جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت تھے ان کی پاکستان دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے ہر ڈیم کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کرنے اور ان کے خلاف لمبے لمبے بھاشن جھاڑنے والے ان لوگوں کو کشمیر میں بننے والے کسی بھی ڈیم یا کینال کے خلاف بولتے ہوئے کبھی بھی نہیں سنا گیا یعنی تماشہ یہ تھا کہ یہ ایک طرف پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کررہے تھے تو دوسری طرف بھارت کو موقع فراہم کررہے تھے کہ وہ پاکستان میں موجود انتشار کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی دریاؤں کا رخ اپنی منشا کے مطابق موڑ لے
    پاکستانی عوام کی ایک اور بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ انہیں کوئی ایک بھی حکومت اس طرح کی میسر نہیں آئی جو اس پاکستان دشمنی پر مبنی اس مذموم مہم کا کما حقہ مقابلہ کرسکے کیا اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ بجائے ان بدبخت عناصر کا قلع قمع کرنے کے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں لا بٹھایا جائے ولی خان اسفندیار ولی محمود خان اچکزئی اور سندھ کے کئی بدبو دار قوم پرست سیاستدان اس کی عملی مثال ہیں ۔۔۔۔
    حضرات پاکستان اپنے قیام کے وقت فی کس پانی کی دستیابی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل تھا لیکن ہماری نااہلیوں اور دشمنوں کی سازشوں نے ہمیں اس جگہ لا پہنچایا ہے کہ ہم دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جو بڑی تیزی کے ساتھ قلت آب کا شکار ہورہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو پاکستان کا حشر صومالیہ جیسے خشک سالی کے مارے ملکوں جیسا ہوسکتا ہے
    یہ بات خوش آئند ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے نئے ذخیرۂ آب تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مہمند ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی بہت جلد شروع ہونے جارہی ہے ان ڈیموں کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہوچکی ہیں اور ان ڈیموں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا ہے اس وقت میں جہاں حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ اس مذموم پروپیگنڈے کا سدباب کرے وہیں پاکستانی عوام کو بھی اس حوالہ سے میدان میں آنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کے ان دشمنوں کو دانت کھٹے کردینے والا جواب دینا چاہیے جان لیجئے ڈیموں کی تعمیر ہمارے آج اور آنے والے کل کیلئے ہماری بہت بڑی ضرورت ہے ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دیکر بھی یہ ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ کرسکیں
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بات کو سمجھنے کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت فرمائے
    آمین یا رب العالمین

  • اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    دراصل باپ سمجھتا ہے میرا کام صرف کمانا ہے اور کما کر بچوں کو کھلانا ہے باپ یہ بھول ہی جاتا ہے میری اولاد میری دوست بھی ہے باپ دن رات محنت کرتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں باپ کمائی کرنے نکل جاتا ہے اور جب باپ کمائی کر کے گھر لوٹتا ہے تو بچے سو چکے ہوتے ہیں نا باپ نے بچوں کا لاڈ دیکھا نا بچوں نے باپ کی شفقت دیکھی ماں گھر کے کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کی صحیح طرح تربیت نہیں کر پاتی البتہ پھر بھی ماں گھر میں موجود ہوتی ہے تو اس لیے بچوں کو ماں کا پیار مل تو جاتا ہے لیکن باپ کی شفقت باپ کا پیار نہیں ملتا بچے باپ کی تربیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور بچے آہستہ آہستہ باپ سے اور باپ بچوں سے اجنبی سا ہو جاتا ہے پھر جب بچے ماں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں تو ماں تھک ہار کے باپ کو شکائیت لگاتی ہے تو باپ پہلے ہی روزی روٹی کما کما کر تھکا ہوتا ہے باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا میرے بچوں کو کس تربیت اور شفقت کی ضرورت ہے اور والد صاحب بیوی سے بچوں کی شکائتیں سن کر لنگوٹا کس لیتے ہیں اور بچوں کی مار کٹائی کر دیتے ہیں بچے تو پہلے ہی باپ کی شفقت اور دوستی سے محروم ہوئے ہوتے ہیں تو بچے اور زیادہ باپ سے دور بھاگنے لگ جاتے ہیں اور باپ سمجھتا ہے میرے بچے نافرمان ہیں لیکن اصل مجرم باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کھلاتا تو ہے لیکن تربیت اور اپنے پیار سے محروم رکھتا ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں ان سے دوستی کریں ان کے گلے شکوے سنیں ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جائیں ہنسی مزاح گپ شپ کی محفل لگائیں اور بچوں کو کاروبار سے زیادہ ٹائم دیں کیونکہ باپ اولاد کے لیے وہ درخت ہوتا ہے جو چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی ۔۔۔۔۔

  • ٭٭٭ ایک اہانت زدہ سورما کا رجز٭٭٭ تحریر فلک شیر

    ٭٭٭ ایک اہانت زدہ سورما کا رجز٭٭٭
    لکھو!
    آصف ایمرے، لکھو!
    میں ہوں خلیل خالد!
    مبارزت میں میری مہارت، راہ میں آتش بہ جانی ، جنگ میں جسارت اور دوستی میں محبت۔۔ ان سب کو ملا کر لکھو!
    میں ہوں خلیل خالد!
    قرآن میری جان ہے
    اور وطنِ عزیز کی یہ زمین میری محبوب!
    اس پایہ تخت میں
    اذان گونجتی رہے، یہاں پرچم سدا لہراتا رہے
    اور کسی ناموس پہ حرف نہ آئے۔۔
    اس کے لیے میں !
    میں، ہر نامرد، خائن اور غدار سے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتا رہا!
    میں خلیل خالد ہوں !
    اپنے پہلے سانس سے آخری آن تک، جب میں یہاں سے سفر کروں گا
    کوئی لمحہ ایسا نہیں ، جس کا حساب میں نہ دے سکوں!
    یہ سب گواہ ہیں !
    یہ پہاڑ !
    ٹیلے چوٹیاں گواہ ہیں !
    جن رستوں پہ میں چلا ، وہ سب گواہ ہیں !
    میں ہمیشہ عدل کے رستے چلا
    لاف و گزاف میرا وتیرہ نہیں
    اور دشمنوں پہ اٹھنے والا میرا ہاتھ مہارت سے کبھی عاری نہیں رہا
    میں خلیل خالد ہوں!
    جو ہمیشہ سلطان معظم کا وفادار رہا
    آج میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہوں
    سلطان کی نظرمیں برا بنایا گیا ہوں
    یہ زبان دراز افترا پردازوں کی زبانوں کا کمال ہے
    میرے چاروں طرف سازش کا جال ہے
    اور ایسے میں
    میرے حال کا اجمال
    بس کاغذ کا یہ ایک ٹکڑا ہے
    اس کے سوا کچھ کہنے کی تاب ہے نہ طاقت!

    آصف! اگر مجھے کچھ ہو جائے، تو یہ مکتوب سلطانِ معظم کی خدمت میں پیش کر دینا!

    (سلطان عبدالحمید خان ثانی ؒ پہ بننے والی ترکی تمثیل میں سلطان کے ایک وفادار کردار خلیل خالد کا ایک مکالمہ)

    از فلک شیر

  • جھوٹ، ایک ناسور، حافظہ قندیل تبسم

    جھوٹ، ایک ناسور
    حافظہ قندیل تبسم

    اتوار کا دن تھا کلاس شروع ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک طالبہ جو لیٹ ہو چکی تھی کلاس میں داخل ہوئی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔
    میں نے کہا : آپ لیٹ آئی ہیں میں۔ آپ کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
    وہ بیچاری منت سماجت کرنے لگی۔
    میں نے اس سے پوچھا : آپ تاخیر سے کیوں آئیں؟
    اس نے صاف جواب دیا : واللہ! آپی جان ! میں سو رہی تھی اس وجہ سے لیٹ ہو گئی۔
    مجھے اس کا سچ بولنا پسند آیا -میں نے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    اس کے چند منٹ بعد ایک اور طلبہ آئی۔
    میں نے پوچھا : آپ بدیر تشریف کیوں لائی ہیں ؟
    اس نے جھوٹ بولا : واللہ ! آپی جان ! آپ تو جانتی ہیں کہ میں صبح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول بھیج کر پھر ہی جامعہ آتی ہوں۔
    وہ بھول رہی تھی کہ آج بچوں کو اسکول سے اتوار کی چھٹی ہے۔
    میں نے کہا : اچھا آپ بچوں کو اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟‘‘ جی جی آپی جان ،،
    سبحان اللہ ! آج تو اتوار ہے؟
    میں نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا : جھوٹ گھڑنے سے پہلے سوچ تو لیتی کہ آج دن کونسا ہے؟ اسکول سے تو آج چھٹی ہے اور آپ کسے اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟
    جھوٹ پکڑے جانے پر وہ گھبرائی اور پینترے بدلنے بدلنے لگی ….
    وہ بیچاری جھوٹ بول کر پھنس گئی تھی۔ خیر…..میں مسکرائی اور اسے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    کتنی بری بات ہے کہ لوگوں کو پتا چل جائے، آپ ان سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ جھوٹ لوگوں کو آپ سے متنفر کر دیتا ہے وہ آپ سے شکایت نہیں کرتے لیکن جب آپ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ سنتے نہیں اور اگر سن ہی لیں تو قبول نہیں کرتے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "ہر شے مومن کے مزاج کا حصہ ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا :
    اے اللہ کے رسول ! کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
    فرمایا: نہیں
    عبداللہ بن عامررضی اللہ عنہ کیا بیان ہے :
    ایک دن ،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے میری والدہ نے مجھے پکارا: ادھر آؤ، میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا :
    آپ اسے کیا دینا چاہتی تھیں ؟
    والدہ نے بتایا کہ میں اسے کھجور دیتی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر آپ کوئی شے نہ دیتی تو ایک جھوٹ آپ کے ذمے لکھا جاتا۔
    امام زہری رحمہ للہ نے سلطانِ وقت کے روبرو کسی مسئلے میں شہادت دی۔ سلطان نے کہا : آپ جھوٹ بولتے ہیں۔
    امام زہری رحمہ اللہ نے مارے غصے کے چلا کر کہا : اعوذ باللہ ،
    میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟
    واللہ ! آسمان سے منادی ہو کہ اللہ نے جھوٹ بولنا حلال کر دیا ہے میں تب بھی جھوٹ نہ بولوں۔ جب جھوٹ حرام ہے تو میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں !
    حقیقت :
    "لوگوں نے آپ کو دھوکہ دیا اور کہا : "سفید جھوٹ” کیونکہ جھوٹ کا رنگ تو سیاہ ہوتا ہے۔

  • معاف کر ڈالو…!!! (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔

    معاف کر ڈالو…!!!
    (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔
    اس سفرِ زندگانی میں۔۔۔
    لہجوں کی گرانی میں۔۔۔۔
    کوئی درد دے۔۔۔۔
    تمہیں جو کبھی،،،
    معاف اسے تم کر ڈالو
    درد سب بہہ جائیں گے
    دل یہ صاف جو کر ڈالو۔۔۔
    مسائل کو طوالت دو۔۔۔
    نہ الجھاؤ خود کو کبھی۔۔۔۔
    انتقام کی سوچ کر۔۔۔
    نہ جلاؤ خود کو کبھی۔۔۔
    حد سے جو بڑھ جائے۔۔۔
    اور زیادتی میں چڑھ جائے
    تواس پہ چھوڑ دو۔۔۔
    یہ درد سارے۔۔۔۔
    یہ بدلے سارے۔۔۔۔
    لہجے جو تلخ ہیں
    اور دل جو ہیں۔۔۔۔
    گدلے سارے۔۔۔
    رنجش کو جو کریں۔۔۔۔
    بے لگام۔۔۔۔
    بدگمانیوں کو کریں۔۔۔۔
    جو عام۔۔۔
    شکوک کے درخت کو۔۔۔
    دیں جو پانی۔۔۔
    اور ابہام کی کریں
    فراوانی۔۔۔۔
    تو فیصلہ اس پر۔۔۔۔
    چھوڑ دینا،،،
    رخ اسی کی۔۔۔۔۔
    جانب موڑ لینا۔۔۔
    وہ القادر،المنتقم بھی ہے،،
    وہ العدل،الحکم بھی ہے۔۔۔
    اس در سے جو۔۔۔۔
    ہوں گے فیصلے۔۔۔۔
    یاد رکھنا۔۔۔
    امید کا شہر
    آباد رکھنا۔۔۔۔کہ
    وہ کھلا انصاف ہوں گے
    نہ بے قدر جہاں۔۔۔۔
    اوصاف ہوں گے۔۔۔ !!!!
    درگزر بس شعار رکھنا۔۔۔۔
    بلند اپنا وقار رکھنا۔۔۔۔
    سختی کو نرمی سے۔۔۔۔
    ٹال کر۔۔۔
    معافی کا وصف۔۔۔۔
    اُجال کر۔۔۔
    کوئی درد دے۔۔۔۔
    تمہیں جو کبھی۔۔۔
    تم اس کو معاف کر ڈالو۔۔۔ !!!!!!
    (الا تحبون ان یغفر اللہ لکم)۔۔۔؟؟؟
    ============================

  • اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے اردن عرب متنازغہ علاقے کو اسرائیل میں شامل کردیا تو اسرائیل پر ہم جنگ مسلط کرسکتے ہیں

    یہ علاقہ غزہ سٹرپ کے ایک تہائی کے برابر ہے اور اردن سرحد تک 97 کلومیٹر طویل ہے

    1948 کے عرب اسرائیل جنگ میں اردن نے غزہ سمیت یہ علاقہ قبضہ کیا تھا اور یہاں کے لوگوں کو اردن کی شہریت دی گئی تھی لیکن بعد میں اسرائیل نے اس علاقے کو قبضہ کیا جو اب اقوام متحدہ نے متنازغہ قرار دیا ہے_ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، زرعی لحاظ سے بھی ذرخیز زمین ہے جبکہ سٹریٹجک سے بھی ایک اہم علاقہ ہے،

    جولائی کے مہینے میں اسرائیل نے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کیلئے کل کرونا وائرس کی وجہ سے سفری پابندیوں کے باوجود جناب پومپیو اسرائیلی قیادت کو یہ یقین دہانی کرانے آئے تھے کہ امریکہ عرب اردن کے مقبوضہ عرب علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کی مکمل حمائت کرتا ہے

    اردن کے کنگ عبدللّٰہ سپیشل فورس کے کمانڈر رہ چکے ہیں ١٩٨٠ میں آرمی میں شمولیت اختیار کیا اور 1997 میں میجر جنرل کے عہددے تک پہنچ گئے باپ کے موت کے بعد اس نے اقتدار سنبھال لیا اس کے دور حکومت میں معیشت نے ریکارڈ ترقی پائی، 1993 میں اس نے ایک فلسطینی لڑکی سے شادی کی

    آج جرمنی کہ ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کنگ عبداللّٰہ نے کہا کہ جولائی میں غزہ کے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے سے فلسطینی اتھارٹی ختم ہوجائے گی جس سے علاقے میں بدامنی پیدا ہوسکتی ہے اور اردن اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ چھڑسکتی ہے

    دسمبر 2019 میں مغربی سرحد پر اردن کے فوج نے "karameh swords 2019” کے نام سے جنگی مشقیں کیے تھے جس میں اسرائیلی سرحد سے بڑے پیمانے پر حملے کو روکھنے کی کی سیمیولیشن کی گئی تھی

  • حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!!  [بقلم:جویریہ بتول]۔

    حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!! [بقلم:جویریہ بتول]۔

    حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    لائے جو کم عمری میں فوراً اسلام وہ ہیں حیدر…
    جنہیں دیا عَلم رسول نے،وہ ہیں جو فاتحِ خیبر…!!
    وہ دامادِ رسول محترم ہیں وہ ہیں سرتاج خاتونِ جنت…
    حسن و حسین کے والد محترم،جنت کی جنہیں ملی بشارت…
    جن کو پیارے نبی ڈھونڈیں،اور پیٹھ سے جن کی مٹی جھاڑیں…
    اُٹھو ابو تراب،گھر کو چلو،ساتھ ہی پیار سے انہیں پکاریں…!!
    بچپن سے جنہیں پیار دیا،اور ادا کیا حقِ رشتۂ دار…
    دے کر رشتہ سیدۃ النسآء کا اور پختہ کیا یہ اقرار …
    علی امیر المؤمنین ہیں،سب مومن ہیں ان کے غلام …!
    میرے نبی محترم کی آل پر ہوں اَن گنت درود و سلام…!!!

  • اس سفرِ زندگی میں ، تحریر : جویریہ بتول

    اس سفرِ زندگی میں ، تحریر : جویریہ بتول

    اس سفرِ زندگی میں…!!!
    [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔
    اس راہِ زندگانی میں،
    رنگوں کی۔۔۔
    جولانی میں۔۔۔
    راحت کی شمع بھی ہے
    کہیں رات۔۔۔
    سخت طوفانی بھی
    جہاں دھوپ کی تپش۔۔۔
    بھی ہے۔۔۔۔
    بھول بھی،لغزش بھی ہے۔۔۔ !!!
    روشنی کی کرن بھی
    اندھیری گھٹا بھی ہے۔۔۔۔
    کہیں ہر سوساون کی رُت۔۔۔
    کہیں گرم صحرا بھی ہے۔۔۔۔
    کہیں محبتوں کے۔۔۔۔
    پھول برستے۔۔۔
    کہیں اپنوں کی۔۔۔۔
    جفا بھی ہے۔۔۔
    کہیں جھوٹ بھی۔۔۔۔
    سچ ہے لگتا۔۔۔۔
    کہیں سچ پہ ہر کوئی
    خفا بھی ہے !!!!
    کہیں ہے چلتی۔۔۔۔
    فقط خوشامد۔۔۔۔
    کوئی صاحبِ۔۔۔۔
    عجز و وفا بھی ہے۔۔۔
    کہیں حق کے۔۔۔۔
    ہم نوا ہیں ملتے،،،،
    کہیں تنہائی کی۔۔۔
    گھور گھٹا بھی ہے۔۔۔۔ !!!
    کوئی تو امن میں۔۔۔۔
    عمل کا پیکر۔۔۔۔ !!!!
    کوئی سایۂ ستم میں
    کھڑا ثابت قدم۔۔۔
    تنہا بھی ہے۔۔۔ !!
    کوئی مست ذوق دنیا۔۔۔۔
    کوئی آخرت کا۔۔۔۔
    ترسا بھی ہے۔۔۔ !!!
    اس رنگا رنگ۔۔۔۔۔
    زندگانی میں
    امید کا دامن۔۔۔۔
    سنبھال رکھنا۔۔۔۔
    طنز کے برستے۔۔۔
    تیروں کا۔۔۔
    کبھی نہ کچھ۔۔۔۔۔
    خیال رکھنا۔
    قدموں میں ہو ڈگمگاہٹ،،،
    نہ لہجے میں کوئی لرزش
    پیام اپنا کمال رکھنا۔۔۔۔
    قدم کو۔۔۔۔
    نہ سمتِ زوال رکھنا۔۔۔۔
    راہوں سے اٹھا کر کانٹے
    سب راہوں کو۔۔۔۔۔
    گلزار رکھنا۔
    تلخ لہجوں کے عمل سے۔۔۔
    ردِ عمل بس پیار رکھنا
    دائمی فلاح کا مقصد۔۔۔
    ذہن میں بہر حال رکھنا۔۔۔۔ !!!!!
    یہ زندگانی تو بس
    امتحان کا گھر ہے۔۔۔۔ !!!
    جاری ہر اک کا۔۔۔
    یہاں سفر ہے۔۔۔ !!!
    فتح و شکست کا۔۔۔۔
    اک چلتا چکر ہے۔۔۔ !!!
    جو فرض ہے ہم پر۔۔۔
    اسے ہے ادا کرنا،
    اس زندگی کے۔۔۔
    بھنور میں
    حق سے ہے وفا کرنا۔۔۔ !!!
    جس خالق کو ہیں۔۔۔
    ہم جوابدہ۔۔۔ !!!
    اس ہی سے ہے۔۔۔
    ہر لمحہ ڈرنا۔۔۔۔
    اسی کے لیئے ہے جینا
    بس اسی کے لیئے ہے مرنا۔۔۔۔ !!!!!!!!
    ============================

  • سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ

    ورک کسی چیز کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے کی وجہ سے فورسز(قوت) کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) ہے ،

    فزکس کی زبان میں کشش ثقل (گریویٹی) کے خلاف کام کرنا، فورسز یا وزن کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) کہلاتا ہے۔
    مثال کے طور پر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی راڈ میں پلیٹیں ڈالے اسے اٹھائے ہوئے کھڑا ہے، اب اس راڈ پہ وہ فورس بھی لگ رہی ہے جسکے ذریعے اس آدمی نے اسے اٹھا رکھا ہے اور اسکے علاوہ اس راڈ پہ کشش ثقل(گریویٹی) فورس بھی لگ رہی ہے کہ اگر یہ انسان اس راڈ کو چھوڑ دے تو یہ راڈ آزادانہ طور پر زمین پر آ گرے،
    دوسری طرف اگر یہ راڈ زمین پہ پڑا ہو تو اس پہ صرف ایک فورس کام کر رہی ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ زمین پہ پڑا رہتا ہے اور وہ فورس ہے کشش ثقل(گریویٹی)، تو ثابت ہوا کہ کسی بھی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے سے فورسز ملٹی پلائی یعنی بڑھ جاتی ہیں۔

    Work by Gravity
    "جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے یا اونچائی سے گرائی جاتی ہے تو باقی فورسز کی عدم موجودگی میں اور کشش ثقل (گریویٹیشنل فورس) کے نتیجے میں اس چیز کی رفتار میں آزادانہ طور پر تیزی آتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ چیز سطح زمین کے قریب پہنچتی ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے اسکی رفتار g = 9.8 m.s-2 یعنی 0.098m.s ہوتی ہے اور کسی چیز کے وزن پہ کشش ثقل fg = mg کہلاتی ہے۔ یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کشش ثقل کسی بھی شے کے وزن کے مرکز پہ مرکوز(کنسنٹریٹ) ہوتی ہے۔ اگر کسی شے کو اسکے قائم مقام سے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ہلایا جائے تو دونوں طرف کی جگہیں y1-y2 کہلاتی ہیں مثلا اب اگر راڈ زمین پہ پڑا ہوا ہے تو وہ y1 جگہ کہلائے گی اور ایک آدمی جہاں تک یہ راڈ اٹھائے گا تو وہ y2 جگہ کہلائے گی(جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)، کسی شے پہ اس کے وزن mg کے مطابق اس پہ فورس کام(W= Work) کرتی ہے۔

    W = Fg (y2-y1) = Fg Δy = – mg Δy

    اس فارمولے میں fg وزن(امپیرئیل یونٹ میں پاونڈ اور ایس آئی یونٹ میں نیوٹن) کو ظاہر کرتا ہے اور Δy اونچائی y میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ غور کریں کہ کشش ثقل(گریویٹی) کے ذریعے کیا گیا کام اس شے کے عمودی یعنی ورٹیکلی(اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ) حرکت کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک شے پہ اسکے وزن کے ذریعے کیے گئے کام پہ فرکشن فورس کی موجودگی اثرانداز نہیں ہوتی۔”
    Reference:- Wikipedia, Work (Physics), 2019

    کشش ثقل کے خلاف کام کرتے عام طور پر کسی شے کو اسکی جگہ سے یعنی اسکے قائم مقام سے ہلانے کی وجہ سے فورسز(قوت) یا اسکا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں بیان کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہ قرآن میں اسکا ذکر کر دیا گیا تھا،
    Quran 99:7-8
    "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7)

    پھر جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) نیکی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔

    وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)
    اور جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) برائی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

    یہاں پہ "عْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) اور "يَّعْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) کرنا ہے۔ اور یہاں پہ کام(ورک) کا وزن(mg) سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ جتنی زیادہ برائیوں والے کام کرے گا اسکا برا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور جتنی زیادہ اچھائیوں والے کام کرے گا اسکا اچھا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور حساب تو ہوگا ہی ترازو کے ذریعے یعنی وزن تول کر،

    1400 سال پہ غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ وزن(weight) کا اور کام(work) کا آپس میں گہرا تعلق ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    آج 20 رمضان المبارک ہے.آج کا دن تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے. آج کے دن کو تاریخی اعتبار سے فتح مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. وہ دن جس دن حق آگیا اور باطل مٹ گیا. نجانے کیوں مجھے اس دن سے بہت الفت ہے. فتح مکہ کے واقعات سے مجھے بہت لگاؤ ہے. کیوں نا ہو یہ ایک ایسا بے مثال دن تھا جس دن عدل و مساوات کی عظیم مثال قائم کی گئی.
    یہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ ہیں جو اس وقت اسلام نہیں لائے تھے. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچتے ہیں. مکہ سے باہر روشنیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ میرے بھتیجے کا لشکر ہے. ابو سفیان رضی اللہ ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں وہی جو کل 313 تھے آج ہزاروں کی تعداد میں نظر آرہے تھے. اپنی کوئی تیاری بھی نا تھے نا آگے کا راستہ تھا نا پیچھے کا. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جان کی امان طلب کرنے لگے. سیدنا عباس نے بھی حامی بھر لی. چچا تھے نا جانتے تھے میرے بھتیجا بہت نرم دل ہے معاف کرنے پر آئے تو دشمن کتنا ہی طاقتور اور ظالم نا ہو معاف کردے گا. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور حضرت عباس نے کہا ابو سفیان آج معافی مانگنے آیا ہے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا اور ساتھ یہ اعلان بھی فرمادیا جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوجائے اس سے عام معافی کا اعلان ہے. اتنا بڑا پیکج… حضور جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے احد میں پڑاؤ ڈالا تھا. وہ جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی .ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو معاف کردیا اس معافی کا بہت اثر ہوا اللہ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے بڑے بڑے کام لئے… ہاں ایک اور فتح مکہ سے جڑے واقعے سے مجھے بہت لگاؤ ہے….نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ کر جارہے ہیں سوچا جاتے ہوئے دو رکعت کعبۃ اللہ میں پڑھ جاؤں .کعبہ میں پہنچے اور عثمان بن ابی طلحہ جو کعبہ کے متولی تھے انہوں نے نماز پڑھنے سے روک دیا. حضور نے عثمان بن ابو طلحہ سے کہا یاد رکھنا ایک وقت آئے گا یہ کعبہ کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہونگی. عثمان بن ابی طلحہ مسکرادیے اور کہنے لگے ہاں ہاں تب تک قریش مر چکے ہونگے. حضور نے کہا نہیں نہیں قریش تب زندہ ہونگے اور تم بھی زندہ ہوگے. آج وہ وقت آچکا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح بن کر مکہ میں داخل ہورہے تھے. عثمان بن ابی طلحہ بھی زندہ تھے .کعبہ کی چابیاں حضور کے ہاتھ میں تھیں. آپ نے چابیاں پھر عثمان بن ابی طلحہ کے حوالے کردیں. کہا جاتا ہے کہ آج بھی جا کعبہ کا متولی ہے وہ عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہے.
    یہی نہیں اور بھی بہت سی مثالیں عدل و مساوات کی قائم ہوئیں. مسلمانوں کو گہرے دکھ پہنچانے والے سب سامنے کھڑے تھے اعلان ہوتا ہے کہ : اے قریش کے لوگو!تم سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘
    تمام لوگوں نے کہا : اے محمد()!تم سے ہم کو خیر اور بھلائی کی امید ہے اس لئے کہ تم ہمارے بہترین بھائی ہو اور ہمارے شریف بھائی کے فرزند ارجمندہو!۔
    اس کے بعدنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    ’’آج تم لوگوں پر کوئی لعنت و ملامت نہیں، تم لوگ آزاد ہو۔ ‘‘ فتح مکہ کا یہ یادگار دن جب آتا ہے یعنی 20 رمضان کا دن مجھ سمیت سب بڑی بڑی پوسٹس لگاتے ہیں,تحاریر لکھتے ہیں لیکن یہ دن ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم اس دن سے کچھ سیکھیں. اپنی انا کی قربانی دیں, اپنے دلوں کو صاف کریں, ہمیں کسی کتنے بڑے دکھ بھی کیوں نا پہنچائیں ہوں ہم معاف کرکے سنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کریں. آئیے رمضان بھی دن بھی برکتوں اور سعادتوں والے عہد کریں ہم کہ خود کو سنواریں.