”اُمید کا دیا“
تحریر : سید عتیق الرحمن
موجودہ ایک عرصے سے پوری دنیا جس مشکل،پریشانی یا جس ناگہانی آفت کا سامنا کر رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔اٹلی،سپین،ایران، فرانس اور چین کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔اگر ان تمام حالات اور اس صورتحال کا جائزہ لیجیے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان باقی تمام ممالک کی نسبت محفوظ ہیں یعنی ہم اس تباہی و بربادی سے دوچار نہیں ہوئے جسکا سامنا دیگر ممالک کو کرنا پڑا۔وجوہات پر اگر غور کی جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہم نے اللہ اور اسکے رسول پہ توکل کیا،ہم نے اپنے حالات کا واقعات کا اپنے اپنے نفس کا محاسبہ کیا۔ہم لوگوں نے اللہ اور اسکے رسول کے سامنے خود کو پیش کیا۔یعنی یہ مصیبت ہمارے لیے آزمائش بنی۔وجہ یہ ہے کہ اس نے ہمیں باغی نہیں بنایا بلکہ اپنے رب سے اور اپنے آپ سے ملنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ہم نے سنت اور احادیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنایا۔اللہ کے ذکر کو فروغ دیا۔ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت دے جو بھی معاشی یا سماجی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہیں ہم نے انہیں پورا کرنے اور اس حوالے سے بھر پور تعاون کرنے کی حتی الوسع کوشش کی۔میں نے ایک بار پہلے جس ایمان،اتحاد اور تنظیم کا ذکر کیا تھا۔ہم نے بھر پور کوشش کی کہ ان تین چیزوں کا احیا کیا جائے۔اب صورتحال یہ ہے کہ الحَمْدُ ِللہ حالات بہتری کیطرف جانے،معمولاتِ زندگی رواں دواں ہونے اور اللہ کے خاص کرم کی پوری اُمید ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہمیں اللہ کی رحمت پر پورا یقین ہے، حکومت نے بھی آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کچھ ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو مایوسی کو ہوا دیتی ہیں، سنسنی خیز ماحول کو جنم دیتی ہیں۔تو یاد رکھیں ایک مومن ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم خیر کی خبر دیں۔اسلیے خدارا مایوسی مت پھیلائیے،خوشگوار گفتگو کیجیے، ماحول کو پر امن اور پر امید بنائیے۔ہماری زندگی میں بلکہ ایک ملک و ملت کی بہتری اور ترقی میں اہم کردار جس چیز کا ہوتا ہے وہ ہے ”امید کادیا“ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ واحد دیا ہے جسے کبھی کبھار ایک مومن پوری قوم کے لیے روشن کرسکتا ہے اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ یہ کسی ”ایک“کہ ہاتھوں کی گُل ہوجائے۔یعنی کوئی ایک اپنی گفتگو اپنے دلائل اور اپنے لفظوں کے مرہم کے ذریعے پوری قوم کو پر امید کر سکتا ہے اور کوئی ایک سنسنی خیز گفتگو کا اہتمام کر کے سب کہ ہمت کو کمزور کر سکتا ہے۔کیاآپ جانتے ہیں کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں ہسپتال میں مریضوں کی سیر و تفریح کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔میوزک سسٹمز نصب کیے گئے ہوتے ہیں۔تاکہ مریضوں کو زندگی اور دنیا کے رنگ دکھا کر آخری سانس تک ایک روشن امید کے سہارے زندہ رکھا جاسکے جس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر دونوں کی Will power ہمیشہ مضبوط رہتی ہے اور انہیں ناموافق صورتحال میں بھی دفاع کرنا آسان ہوتا ہے۔حالانکہ اس چیز پر ہمارا ایمان سب سے کامل ہونا چاہیے کیونکہ ہماری کتاب میں ہم سے ہمارا مالکِ حقیقی یہ وعدہ کرتا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔آج موجودہ صورتحال پریشان کن ہے مگر اتنی نہیں کہ ہمارے ایمان کو کمزور کر دے، ہمارے توکل کو مسمار کردے۔وہ و پتھر کے سینے میں موجود کیڑے کا رازق ہے وہ ان حالات میں ہمارے گھروں میں بھی رزق کا انتظام کر سکتا ہے۔وہ خالقِ کل ہر چیز پر قادر ہے۔دنیا میں کوئی بھی چیز انسان کو اتنی جلدی کمزور نہیں کرتی جتنی جلدی مایوسی کھوکھلا کر دیتی ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلا تحقیق و تصدیق ایسی خبریں نہ پھیلائیں جو ڈر، مایوسی اور کمزوری کو جنم دیتی ہیں یاد کھیں مومن بھلائی کی خبر دیتا ہے خیر کی دعوت دیتا ہے۔ہمیں اللہ اور اسکے احکام پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو نیکی، بھلائی اور خیر کو فروغ دے سکے۔اپنے اپنے گھروں کو پر سکون آمجگاہ بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کارساز حقیقی پر توکل کرتے ہوئے مستقل مزاجی سے مصروفِ عمل رہیے۔
Category: بلاگ
-

”اُمید کا دیا“ تحریر : سید عتیق الرحمن
-

کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ؛ تحریر: پیر فاروق بہاولحق شاہ۔
کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ۔
تحریر۔پیر فاروق بہاولحق شاہ۔
اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے۔دنیا کے تقریبا تمام ملک اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔اس وبا نے دنیا سے اس کی روشنیاں چھین لی ہیں اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ ہی تبدیل کر دیے ہیں۔بدترین دشمن بھی ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ایسے ممالک جن کی کبھی صلح ممکن نہ تھی وہ بھی ایک دوسرے کی مدد کو دوڑے جا رہے ہیں۔چین اور امریکہ جیسے حریف بھی ایک دوسرے کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔لیکن اس دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے کہ جہاں کے عوام کے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہاں ایک طرف تو کرونا وائرس نے اس خطے میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں دوسری طرف بھارتی افواج کے ظلم و ستم بھی اسی تسلسل سے جاری ہیں۔
مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کا وہ خطہ ہے جو اس وقت پوری دنیا میں فلیش پوائنٹ بن کر سامنے ہے۔ دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن کا سامنا کیا جارہا ہے۔ کرونا وائرس سے قبل ہی یہاں کے لوگوں پر زندگی عذاب کر دی گئی تھی لیکن اس وائرس نے بھی آکر ان کے عذاب میں اضافہ کیا ہے۔ایک طرف تو کرونا وائرس نے موت کے ڈیرے ڈال دیے ہیں دوسری طرف بھارتی افواج کے مظالم میں بھی کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ان حالات میں بھی بھارتی افواج کے ہاتھوں مظالم قتل وغارتگری، خواتین کی بے حرمتی اور ان کے گھروں کی بے حرمتی مسلسل جاری ہے۔ان برے حالات میں جبکہ پوری دنیا کی توجہ صرف اس وبا سے نمٹنے پر مرکوز ہے مقبوضہ کشمیر یہ واحد خطہ ہے جہاں پر آج بھی ظلم و ستم کا سلسلہ کم ہونے میں نہیں آرہا۔جموں کشمیر فورم کے صدر آصف جرال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کشمیر کے علاقے سوپور میں بھارتی افواج نے کئی رہائشی گھروں کو آگ لگا دی وہاں پر داخل ہوکر مال و اسباب لوٹ لیا خواتین کی بے حرمتی کی نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا بوڑھوں کو گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا۔لیکن اس کے باوجود کشمیری لوگوں کے حوصلہ میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔وہ ظلم و ستم کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر کو بھارتی حصہ ماننے پر تیار نہیں۔
دوسری طرف ایک اور بڑا انسانی المیہ جنم لینے کو تیار ہے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے انتہائی تعصب اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طبی سامان کی فراہمی اور عملہ کی کمی کو بھی پورا کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انسانی حقوق کی چھ بین الاقوامی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔انسانی حقوق کی ان تنظیموں کے مشترکہ بیان میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگست 2019 سے گرفتار شدہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو جیل میں نہ تو انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی سہولت کا کوئی خیال رکھا جا رہا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کرونا وائرس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے جبکہ پوری دنیا کی توجہ کرونا وائرس سے نمٹنے پر مرکوز ہے تو بھارت اسٹیشن پوشیدہ ہے کشمیر میں اپنے مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور ہے خاموشی کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ جن کے ساتھ بیرونی آبادکاروں کو کشمیر کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اس عالمی صحت کے حوالے سے بحرانی صورتحال کے دنوں میں کسی بھی قسم کی قانون کی تبدیلی انسانی حقوق اور اخلاقی تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی دبانے کے لیے قانون میں تبدیلی کی کوششوں کا آغاز کیا تھا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔بھارت کی ماضی کی تمام جماعتوں کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 377 کے تحت کشمیر کے متنازع حیثیت کو چھیڑنے کی کبھی کوشش نہیں کی البتہ یہ اپنے طور پر ایک الگ حقیقت ہے کہ تمام بھارتی حکومتوں نے اپنی مسلح افواج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔گزشتہ سال پانچ اگست کو اسی لاکھ سے زائد آبادی کا یہ متنازع خطہ اس کو تقسیم کر کے رکھ دیا گیا یہاں کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔جدید دنیا کی اس طویل ترین نظر بندی میں نہ صرف لوگوں کے انسانی حقوق متاثر ہورہے ہیں بلکہ ان کی جان و مال کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں غذائی اجناس کی صورتحال تشویشناک حد تک خطرناک ہے ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں مقامی طور پر علاج کرنے کی کوشش کی جائے تو بھارتی افواج کی طرف سے ایسے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا 5اگست 2019 سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور بھارتی ظلم و استبداد کے اندھیرے نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔بھارتی آئین میں حیران کن تبدیلیوں کے بعد بھارتی حکومت نے دس ہزا رضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ پچیس ہزار سے زائد اضافی نفری کو کو متبادل کے طور پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔وادی کے تمام اضلاع میں بلاتفریق مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کو گمنام عقوبت خانوں میں منتقل کردیا گیا اور آج کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی ان کا نام و نشان نہیں مل سکا۔کرونا وائرس کے خطرات کے باوجود آج بھی بھائیوں کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہیں جوان نے اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں اور سہاگنیں اپنے خاوندوں کے انتظار میں دہلیزوں پر جمی بیٹھی ہیں معصوم بچے مسکرانا بھول چکے ہیں۔بچوں کے قہقہوں سے یہ فضائیں نہ آشنا ہو چکی ہیں ایک جبر کی کیفیت ہے ایک سکوت طاری ہے اور تمام دنیا مہر بلب ہے۔میں تمام عالمی دنیا کے ضمیر پر یہ دستک دینا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس نے بے شک پوری دنیا کو ایک حد تک مفلوج کر دیا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر آج بھی آپ کی توجہ کا منتظر ہے۔آج کشمیر کے باسی کرونا کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج سے بھی جنگ لڑ رہے ہیں دونوں طرف سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے اگر گھر کے اندر رہتے ہیں تو کرونا ان کی جان لیتا ہے اور گھر سے باہر نکلتے ہیں تو بھارتی فوجوں کی سنگینیں انکی جانوں کے درپہ ہیں نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی مثال ان دنوں مقبوضہ کشمیر پر بخوبی صادق آتی ہے۔لیکن میں یہ بات یقین سے کہنا چاہتا ہوں کہ جبر کی یہ رات ختم ہونے والی ہے ظلم کی اندھیر نگری زیادہ دیر نہیں چل سکتی ظلم کا نظام ایک حد سے زیادہ آگے نہیں چل سکتا۔امی داسو ہونے والی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے باسی کرونا سے بھی نبرد آزما ہو کر فتح یاب ہونگے اور بھارتی افواج کے سامنے بیچین اس پر رہ کر ان کو شکست فاش سے دوچار کریں گے۔انشاء اللہ
-

بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے تحریر حلیم عادل شیخ ایم پی اے
کالم : حلیم عادل شیخ ۔ ایم پی اے
بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو ماضی کے بھٹوازم کا سہارالیکر حال اور مستقبل میں زندہ رہنا چاہتی ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی نئی سوچ ہے اور نہ ہی عوام کے لیے قربانی اورخدمت کا کوئی جزبہ ہے ۔ اس لیے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگاکر ایک جزباتی اپیل کے زریعے اپنے سیاسی کاروبار کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں ،یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اندرون سندھ میں چند ایک مقامات تک مخصوص ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے غریب آدمی کے لیے نہ تو کبھی کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اس قسم کی غلطی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے کیونکہ ان لوگوں کے انداز سیاست سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ انسانی خدمت کویہ لوگ کسی گناہ سے کم نہیں سمجھتے،آجکل سندھ حکومت والے کروناوائرس کے معاملے کو ایک منافع بخش کاروبار بناکر نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دھندہ چلارہے ہیں ، بلکہ اس کروناکی آڑ میں وہ اپنی نا اہلی کے درجنوں قصے بھی دبا کر بیٹھے ہیں یعنی کرنا کرانا کچھ نہیں بس میڈیا میں آئے اور عوام کوڈرایا دھمکایا خوف دلایا اورچلے گئے اور ان تمام باتوں میں کوئی ان سے پوچھے تو کہتے ہیں کہ گھروں میں ڈری سہمی عوام کو ہرایک چیز ان کی دہلیز پر پہنچائی جارہی ہے اور اصل حقیقت اس قدربھیانک ہے کہ جس کا چندلفظوں میں موازنہ کرنا ناممکن ہوگا یہ ہی وجہ ہے کہ بھٹو کے نام کو بیچنے والے اب عوام کی نظروں میں اس قدررسواہوچکے ہیں کہ جس کا اندازہ انہیں بہت جلد معلوم ہونے والا ہے ۔ اب یہ کہنا بھی مناسب ہوگاکہ پیپلزپارٹی اپنے سیاسی امور کو زیادہ دیرتک خاندانی وراثت کے طور پر یا بھٹو کے نام کے بل بوتے پر نہیں چلاسکتی اس کی تمام تر وجوہات عیاں ہوچکی ہے یعنی نہ تو پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت عوام کو گزشتہ پندرہ سالوں سے کچھ دے سکی ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے نوجوان چیئرمین کے پاس کسی قسم کی کوئی سیاسی بصیرت موجود ہے جواپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور جو اپنے منہ سے تعمیری اور مثبت باتیں کہنے سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں جن کو مشورہ دینے والے وہ ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کے مشوروں سے ان کی والدہ محترمہ کی حکومتیں وقت سے پہلے زوال کا شکار ہوتی رہی ہیں دوسری جانب بھٹو کے نام سے چلنے والی اس خاندانی وراثت کازور آنے والے کچھ دنوں میں مزید کم ہوجائے گا، میں اس کی مثال ہندوستان اور سری لنکا کی ایک مشہور خاندانی سیاست سے دینا چاہونگا،جس میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاندانی وراثتیں اس وقت تک ہی چل سکتی ہیں جب تک وارثین عوام کی خدمت کرتے رہے اور عوام کے دلوں میں اپنا مقام اور مرتبہ قائم رکھ سکے یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نہرو اور گاندھی فیملی کے سیاستدان جبکہ سری لنکا میں بندارناءکے فیملی کا زور کم ہوگیاہے جس کی بنیادی وجہ عوام کے دلوں سے نکل جاناہے ،جس طرح ہندوستان میں نہرو نے اپنی بیٹی اندراگاندھی کے لیے وزرات عظمیٰ کی راہیں ہموار کی اور جس طرح سے سری لنکا میں بندار ناءکے کی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی وجہ سے وزیراعظم بنی کچھ اسی طرح کی ملتی جلتی کہانیاں پاکستان کی موروثی سیاست میں بھی واضح طورپر دیکھی جاسکتی ہیں مگر ان ممالک میں ہونے والی موروثی سیاست کا جوحال ہورہاہے وہ بھی اب تاریخ کا حصہ بنتاجارہاہے یعنی کہیں بن چکاتو کہیں یہ تاریخ رقم ہونے والی ہے کہ لوگ خاندانی سیاست کو نہیں بلکہ عوام خدمت والی سیاست کو ہی ترجیح دے رہے ہیں ۔ یہاں تک میاں نوازشریف نے بھی بھٹو صاحب اور سری لنکا سمیت ہندوستان کی اس موروثی سیاست کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلہ نصب کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہواہے جس کی گونج آج کل پارٹی پر اقتدار کے حوالے سے مسلم ن میں چاچا بھتیجی کا جھگڑاہے جسے میڈیا سے چھپایا جارہاہے اورآجکل مسلم لیگ ن دوحصوں میں بٹی دکھائی دیتی ہے ، آج اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہ میں اندازہ ہوجائیگا کہ پاکستان میں معاشی تباہی کے اصل ذمہ دار یہ دو گھرانے ہی ہیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جنھوں نے ملکی اقتدار پر قبضہ کیے رکھا اور کبھی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کا منہ تک نہ دیکھنے دیا جن کے ہردور میں ملک کرپشن اور لاقانونیت کی دلدلوں میں دھنستا رہا،یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار پنجاب جو کہ مسلم لیگ ن کا قلعہ تھا آج اس میں تحریک انصاف یعنی ایک نئی سوچ کی حکمرانی ہے جبکہ سندھ میں اب بھٹو کا نعرہ اندرون سندھ کے کچھ جانے انجانے علاقوں تک محدودہوکر رہ گیاہے اور وہاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس ناگہانی نعرے کے نقش مٹتے چلے جارہے ہیں کیونکہ سندھ کے لوگ اب مزید موٹر ساءکلوں پر لاشیں نہیں لے جاسکتے اپنے بچوں کو سیاسی بھیڑیوں کے بعد گلی محلوں میں پھرنے والے کتوں سے نہیں کٹواسکتے، آج پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین جو ہر وقت ایجی ٹیشن کے انداز میں بات کرتے ہیں جنھیں دیکھ کر لگتاہے کہ یہ نوجوان جان بوجھ کر حقیقت کی دنیا میں نہیں آنا چاہتاجس کی شخصیت دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ ان موصوف میں کوئی نئی اور مثبت سوچ ہوہی نہیں سکتی جس کے پاس دوہزاربیس اور اکیس میں الجھی ہوئی قوم کو منجھدار سے نکالنے کے کسی سوال کا جواب ہی نہیں ہے جو صرف بھٹو کا نام بیچ کر اس ملک میں وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہاہے جس نے اپنے چندوزرا کوٹی وی پروگراموں میں بٹھاکر اسے عوامی خدمت قرار دیاہواہے جنھوں نے باتیں تو بہت کی مگر کبھی کسی نے انہیں عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا،آج اس موروثی سیاست کا سہارا لینے والوں نے اٹھارویں ترمیم کو بلاوجہ کا ایشو بنارکھاہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اٹھارویں ترمیم پیپلزپارٹی کا کند ہتھیارہے جو کہ کسی بھی طرح سے ان کے زوال کو نہیں روک سکتا جب ان لوگوں کے پاس کسی سوال کاجواب نہیں نکل پاتاتووہ اٹھارویں ترمیم کے دفاع کی بات شروع کردیتے ہیں اور میں یہ سمجھتاہوں کہ اٹھارویں ترمیم کو اگر کوئی خطرہ ہے تو خود پیپلزپارٹی سے ہی ہے ان کی خراب کارکردگی سے ہے کوئی ان سے پوچھے کے اس اٹھارویں ترمیم کے تحت جو پاوران کے صوبے کو ملی اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچایا گیا پچھلے پندرہ سالوں میں ایک شعبہ صحت کا یہ حال ہے کہ معصوم بچے آئے روز کتے کے کاٹنے سے مرجاتے ہیں مگر کسی ایک سرکاری ہسپتال میں اس کی ویکسین نہیں ملتی پھر کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے کوئی ان سے پوچھے کہ صحت کے شعبے میں تین اداور میں ساڈھے پانچ کھرب کی بھاری رقم کہاں لگی تو یہ کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے، کوئی ان سے پوچھے سندھ میں تعلیم کا اربوں روپے کا بجٹ کس سرکاری اسکول پر لگا تو کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے یہ ہی ایک نعرہ باقی بچا ہے ان لوگوں کے پاس یہاں تک ان سے یہ تک پوچھ کے دیکھ لے کے زرداری صاحب کے دور میں بہت اچھے کام ہوئے تو کہیں گے بہت شکریہ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ بے نظیر کا قاتل کون ہے اور کہاں ہے;238; تو کہیں گے بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔ ختم شد
تحریر;حلیم عادل شیخ ۔ ممبر سندھ اسمبلی ۔ پارلیمانی لیڈر تحریک انصاف سندھ
-

میرا پہلا کرکٹ بیٹ اماں نے بچت کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا، عظیم بلے باز کا ماں کو خراج تحسین
پہلا بیٹ جو میں نے خریدا تھا وہ 1500 پاکستانی روپے کا تھا : پاکستانی معروف بلے باز بابر اعظم
باغی ٹی وی : نامور قومی کرکٹر بابر اعظم کا مدر ڈے کے حوالے سے اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کہ آج جو کچھ ہوں والدہ کی وجہ سے ہوں میرا پہلا کرکٹ بیٹ اماں نے بچت کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا بابر اعظم نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر شئیر کی اور اوپر مدر ڈے کے موقع پر اپنی والدہ کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ جو پہلا بیٹ میں نے خریدا تھا وہ 1500 پاکستانی روپے کا تھا

انہوں نے اپنی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ آپ کی وہ تمام بچت تھی جو آپ نے مجھے دے دی تھی آپ نے مجھ پر یقین کیا جب دوسروں نے نہیں کیا میرا پور پور آپکا قرض دار ہےواضح رہے کہ آج 10 مئی 2020 کو پاکستان میں مدر ڈے منایا جا رہا ہے جس میں تمام لوگوں سمیت معروف شخصیات بھی اپنی عظیم تریم ہستی ماؤں کے نام خوبصورت پیغام اور دعائیں شئیر کر کے انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں
-

قابل اعتراض مواد بنا کر کسی کو بلیک میل کرنا کون سے ایکٹ میں آتاہے اور اس کی سزا کتنی ہو گی ؟
آج کل آئی ٹی کے دور میں کسی کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر کے اسے اپنے فائدے کے لئے غلط طریقوں سے استعمال کرنا عام ہو چکا ہے لوگ خواتین کی تصاویر کی ایڈیٹنگ کر کے انہیں بلیک میل اور ہراساں کرتے ہیں ان موضوعات پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری سوشل میڈیا پر اکثر بیشتر اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں جن میں وہ جرائم سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کرتے نظر آتے ہیں
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ کسی کی قابل اعتراض تصاویر،ویڈیوز یا ان کا ایڈٹ کر کے قابل اعتراض بنانا اوران کوکسی تیسرےشخص کوبھیجنا یا سوشل میڈیا پر پبلش کرنا یا ایسے مواد کے زریعے کسی کو بلیک میل کرنا،سائبر کرائم ایکٹ کےسیکشن 21 میں آتا ہے جسکی سزا 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔
کسی کی قابل اعتراض تصاویر،ویڈیوزیاانکاایڈٹ کر کے قابل اعتراض بنانااورانکوکسی تیسرےشخص کوبھیجنا یا سوشل میڈیا پر پبلش کرنا یا ایسے مواد کے زریعے کسی کو بلیک میل کرنا،سائبر کرائم ایکٹ کےسیکشن 21 میں آتا ہے جسکی سزا 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔ pic.twitter.com/vmPh5UNoda
— Asif Iqbal Chaudhry (@Aasifiqbalpak) May 8, 2020
واضح رہے اس سے قبل بھی آسف اقبال چوہدری اپنی کئی ویڈیوز میں ایسے چالاک اور دھوکے باز لوگوں سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کر چکے ہیںجرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟
آن لائن کمپنیاں پر کشش منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کیسے لُوٹتی ہیں؟
اپنا وائے فائے پاسورڈ محفوظ رکھیں بصورت دیگر خطرناک مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے
-

ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر… بقلم:جویریہ بتول
ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر…
[بقلم:جویریہ بتول]
ہم اشکِ رواں کی کنجی لیئے…
ادنیٰ سے عملوں کی پونجی لیئے…
ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر…
ہیں جن میں رحمت کی گھڑیاں وافر…
جب جنت کے در سب ہیں کھلے ہوئے…
اور باب جہنم کے بند سب ہوئے…
ہے سجدوں کا یہ ذوق و شوق…
اور رنگِ عجز تحت و فوق…
اُٹھے ہیں ہاتھ یہ دعاؤں کو…
اِن دل سے نکلتی صداؤں کو…
تو بابِ قبولیت سے پار کر دے…
زباں سے نکلتے ان لفظوں میں…
پھولوں کی سی مہکار بھر دے…
ہم بے بس ہیں،ہم کُچھ بھی نہیں…
جہاں بھی ہوں ہم اور رہتے کہیں…
تری رحمت کے محتاج ہیں ہم…
تری عطا کے اُمید وار کل و آج ہیں ہم…
ہمیں اپنے صالح بندوں میں شامل رکھنا…
ہمیں دولتِ تقویٰ میں کامل کرنا…
ہر دور میں ہمیں تو اپنا ہی ڈر دے…
تو سدا کے لیئے ہمیں اپنا کر لے…
آتی جاتی سانسوں کی جو یہ ڈوری…
ہم صبغۃ اللّٰہ میں یقیں سے رنگ لیں فوری…!!!
اس زندگی کا مزہ بھی دوبالا ہو جائے…
بعد مرنے کے بھی ہر سو اُجالا ہو جائے…!!!
عدن کے باغوں کے جب ہم مکیں ہو جائیں…
زندگی کے انداز کتنے حسیں ہو جائیں…؟
============================== -

محبت بغاوت نہیں تحریر:منہال زاہد سخی
منہال زاہد سخی
دل کو جستجو اور لبوں کو عادت نہیں تھی
عشق کرکے نبھانے کی طاقت نہیں تھیاٹھے اس بازار میں کئی امیدوار محبت کے
پر مجھ میں دل بانٹنے کی استطاعت نہیں تھیمجرم تو بن گئے پر نوبت یہاں تک آ پہنچی
مجھے شریک جرم کی حاصل حمایت نہیں تھییوں سامنے سے گزرے یوں اس نے منہ پھیرا
مجھے تو گلی سے گزرنے کی اجازت نہیں تھیوہ سامنے سے کچھ اور پیچھے سے کچھ
جب کھلے ان کے بھید تو ندامت نہیں تھیتعلق نبھاتے ہوئے بھی وہ مفاد تولتے رہے
جو کچھ بھی کہ لو یہ شرافت نہیں تھینیت میں کھوٹ تھا اور سجدے بے فائیدہ
یہ کیسی دعا تھی عبادت نہیں تھیان کو ہوس تھی مال و دولت اور رتبہ کی
سب کچھ مل گیا پر عزت نہیں تھیاب بھی ڈٹے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ
جو ان کی ہوئی ہے وہ ذلالت نہیں تھیخودی سے نہ نکلے رہے وہ تن پروری میں
نظر انداز کر گئے سب ذرہ سخاوت نہں تھیاب آزاد ہوگیا میں فکروں سے ہجر کی رات
سکون میں سمائے ہوئے پر تھکاوٹ نہیں تھیپھر میں سب فکروں سے آزاد تنہائی میں آ بسا
مجھ سے ملنے کو کسی کو فراغت نہیں تھیاب جو انہوں نے ماتم کیا ہے پر زور سخی
تسلی دل تھی صدائے محبت بغاوت نہیں تھیمیں نے اس کو حافظے کے سہارے نہیں چھوڑا سخی
کہ بھول جائیں اور ساتھ یاداشت نہیں تھی#قلم_سخی
-

قرآن کھولیں…!!! تحریر:جویریہ بتول
قرآن کھولیں…!!!
(تحریر:جویریہ بتول)
آپ قرآن کو کھولیں…
فرض سمجھتے ہوئے،عبادت سمجھتے ہوئے،
شعور پانے کے لیئے…
رب آپ سے کیا کہنا چاہتا ہے؟
کیا بتانا چاہتا ہے ؟
آپ کے سوالات کیا ہیں؟
اُن کے جوابات کیا ہیں…
یہ سمجھنے کے لیئے…!!!
اپنی زندگی میں سکون کے حصول کے لیئے…
دلوں کی شفا کے لیئے…
بیماری کی دوا کے لیئے…
ہاں آپ قرآن کھولیں…
حلال اور حرام کے احکامات جاننے کے لیئے…
والدین اور رشتہ داروں کے حقوق سے آگہی کے لیئے…
حدود و دائرہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیئے…
معاشرتی مسائل کا حل نکالنے کے لیئے…
نعمتوں کی قدر کرنے اور مصائب برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کے لیئے…
آپ قرآن کھولیں…
اور جانیں کہ جب ہوائیں غیر موافق ہو جائیں تو…
صبر کیسے کیا جاتا ہے؟
حالات تنگ ہو جائیں تو انہیں کس انداز میں بدلنے کے لیئے سمت کا تعین کیا جاتا ہے…؟
زندگی بندگی کے رنگ سے کب ہم رنگ ہوتی ہے؟
یہ سب جاننے کے لیئے قرآن کھولیں…
دعا و صبر کا مفہوم کیسے سمجھ آتا ہے؟
کتنے مراحل سے گزر کر امر ہونا ہوتا ہے…
پھر تمہیں یعقوب علیہ السلام نظر آئیں گے…
ایک کے بعد دوسرا بیٹا کھو گیا…
غم سے لبریز ہیں…
مگر اُسے دبائے ہوئے…
ایک ہی صدا لبوں تک پہنچتی ہے…
"فصبرٌجمیل”
کبھی کہتے ہیں:
عسی اللّٰہ ان یاتینی بھم جمیعا…
قریب ہے اللّٰہ ان سب کو میرے پاس لے آئے
کیا کمال اُمید ہے اللّٰہ رب العزت کی ذات سے…
کہ پھر کنوئیں میں ڈال دیئے گئے یوسف علیہ السلام سلطنت مصر کے تخت پر براجمان نظر آتے ہیں…!!!
یہ صلہ تھا…فصبرٌ جمیل اور اللّٰہ کی رحمت سے اُمید کا
کبھی نوح علیہ السلام کا قصہ پڑھنا…
کہتے ہو ناں ؟
کہ تھک گئے ہیں بتا بتا کر…
سمجھا سمجھا کر…
دعوت دے دے کر…
مگر نوح علیہ السلام کو دیکھو تو…
اپنے پروردگار کو بتاتے ہیں:
میرے رب…
میں نے تیری طرف اس قوم کو رات دن بلایا ہے…
جب میری پکار پر وہ بدکنے لگے،بھاگنے لگے…
تو میں نے پھر بھی بلایا…
انہوں نے انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں…
میرے رب میں نے پھر بھی بلایا…
اللّٰہ انہوں نے کپڑے اوڑھ لیئے…
میں نے پھر بھی تیرا پیغام سنایا۔
وہ اڑ گئے،
تکبر میں مبتلا ہو گئے…
لیکن میں نے پھر بھی بلایا…!!!
جب ضرورت پڑی تو بآواز بلند بلایا…
اے اللّٰہ چپکے چپکے بھی سمجھایا…
ہاں علانیہ بھی بتایا…
کہ آؤ بخشش کا سودا کر لو…
اپنے گناہ بخشوا لو…
اپنے رب کی بات مان لو…
کہ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے…
عزم و ہمت اور ذمہ داری کا ادراک کیسے پیدا ہوتے ہیں؟
یہ سمجھنے کے لیئے قرآن کھولیں…!!!
اپنے اپنے حصہ کا دیا جلائیں…
اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کو سمجھنے اور لاگو کرنے کا شعور بیدار کریں…
صبر و اُمید سے منزلوں کی راہوں پر قدم سیدھے رکھیں…
کڑوی کسیلی ہنس کر برداشت کر جائیں…
دلبرداشتہ ہو کر سفر سے ہی مفر اختیار نہ کریں…
بلکہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کی اصلاح میں حصہ ڈالتے چلے جائیں…
معاشرتی اصلاح بہت بھاری فریضہ ہے جو جہدِ مسلسل کا متقاضی ہے…
ظلم و زیادتی اور برائی و ناانصافی کے اندھیرے مٹانے کے لیئے جتنا ممکن ہو کام کریں…
شھر القرآن میں قرآن کھولیں اور ایسے کھولیں کہ پھر آپ کی زندگی میں آپ کی زندگی سے یہ کتاب بند نہ ہو…!!!
کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ تعمیرِ ذات،سکون اور کامیاب زندگی کے لیئے کئی کتابیں کنگھال رہے ہوں مگر قرآن کہیں بلندی پر پڑا،آپ کے ہاتھوں اور زندگیوں سے دور عدم توجہی پر شکوہ کناں رہ جائے…؟؟؟
============================= -

دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول
دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
خرید کر بس رنج و ملال…
بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
============================= -

عمر اکمل کب تک کرکٹ سے باہر، تفصیلی فیصلہ جاری
عمر اکمل کب تک کرکٹ سے باہر، تفصیلی فیصلہ جاری
باغی ٹی وی : عمر اکمل کی سزا کے متعلق تفصیلی فیصلہ سنادیا گیا .چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے عمراکمل کےمتعلق تفصیلی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمع کروا دیا ہے جس کے مطابق وہ 19 فروری 2023 کو دوبارہ کرکٹ کی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ہوں گے۔
فیصلے مطابق پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ میں شامل دونوں چارجز کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور یہ پابندی 20 فروری 2020 یعنی عمراکمل کی معطلی کے روز سے نافذ العمل ہوگی۔
عمر اکمل کو 2 مختلف واقعات میں پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر 17 مارچ کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا اورسزا کی دونوں مدتوں پر ایک ساتھ عمل ہوگا۔فیصلے کے مطابق پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ 9 اپریل کو چیئرمین ڈسپلنری پینل کو بھجوایا تھا۔ چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے تفصیلی فیصلے میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہرعمر اکمل نہ تو ندامت کے خواہاں اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔
چیئرمین نے لکھا کہ عمراکمل اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے اور اسی پر اکتفا کرنے کی کوششیں کرتے رہے کہ ماضی میں اس طرح کے رابطوں کے بارے میں وہ خود ہی مطلع کرتے رہے ہیں۔
رابطوں سے متعلق پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بلا تاخیر آگاہی میں ناکامی کا اعتراف کرنے پر عمر اکمل پر عائد الزامات ثابت ہوتے ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے لکھا کہ عمر اکمل آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر خود کو سزاوار کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔پی سی بی نے عمر اکمل کو اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل کے تحت خلاف ورزی کرنے پر چارج کیا تھا اور انہیں 31 مارچ 2020 تک جواب جمع کرانے کی مہلت دی تھیخیال رہے کہ عمراکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت فوری طور پر معطل کردیا تھا اور تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کسی کرکٹ سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی گئی تھی جس سے متعلق انہوں نے بروقت پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔سپلنری کمیٹی کے چئرمین جسٹس ریٹائرڈ فضل میران چوہان نے عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کر دی۔
تین برس تک عمر اکمل کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے، قبل ازیں عمر اکمل ڈسپلنری پینل کے سامنے پیش ہونے کے لئے نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہنچے ، کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے کرکٹ اکیڈمی میں ٹمپریچر چیک کرنے کا انتظام کیا گیا ہے لیکن عمر اکمل بغیر ٹمپریچر چیک کرائے اکیڈمی کے اندر چلے گئ