Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ   قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
    قلمکار: عاشق علی بخاری

    نام عمر کنیت ابو حفص اور لقب خلیفہ راشد، اشج ( زخمی) بنی امیہ اور زاہد ہے. بچپن میں گھوڑے نے آپ کو زخمی کردیا تھا اس لیے آپ بنو امیہ کے زخمی کے لقب سے مشہور ہوگئے، بعض روایات کے مطابق امیر المومنین خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خواب بھی دیکھا تھا کہ کاش میں اپنے بچوں میں سے اس بیٹے کو دیکھ سکتا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا.
    آپ کی والدہ کا نام لیلی ام عاصم اور والد کا نام عبدالعزيز ہے، آپ مدینہ طیبہ میں 61 ہجری کو پیدا ہوئے. آپ والدین کی طرف سے بڑے بہترین خاندان اور حسن سیرت کے مالک تھے. آپ کی والدہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں، فاروقی گھرانا آپ کا ننھیال اور ددھیال اموی حکمران ہیں، آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بہت بہادر اور بے حد سخی ہونے ساتھ ساتھ پختہ ارادے کے مالک تھے یعنی جس چیز کا ارادہ کرتے اسے حاصل کیے بغیر نہیں رہتے تھے. جب آپ رحمہ پیدا ہوئے اس وقت آپ کے والد مصر کے گورنر اور چچا خلیفہ تھے، منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والی مثال تو آپ نے سن رکھی ہوگی آج تاریخ کے اوراق سے پڑھ بھی لیں. آپ رحمہ اللہ کے لیے سب سے بڑی خوش نصیبی کی بات یہ ہے کہ آپ کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتویں پشت میں ملتا ہے.
    بات کی جائے اگر آپ کے حلیے کی تو آپ جوانی میں انتہائی خوبصورت اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے. جسم بھرا ہوا، داڑھی سے مزین چہرہ جو دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے. ماتھے پر گھوڑے کی لات سے لگا زخم کا نشان اور سر کے بالوں میں سفید بالوں کی لکیر. جوانی والی رونق آپ کے کم کھانے، کم سونے اور زیادہ وقت آخرت کی فکر کرنے اور ہر وقت اسی سوچ میں گم رہنے کی وجہ سے ختم ہوگئی جس کی جگہ اللہ کا خوف اور تقوے والا رنگ نظر آنے لگا. جسم کمزور اور آنکھیں اندر کو دھنس گئیں. بھلے آپ دیکھنے میں کمزور ہی تھے لیکن اعصاب کے لحاظ سے انتہائی مضبوط تھے.
    آپ کی تین شادیاں تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی.جس طرح آپ کی والدہ نے آپ کا نام عمر رکھا اسی طرح آپ نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر اور دوسرے کا ابوبکر رکھا جو شیخین خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے محبت کی دلیل ہے. اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی اور امت کو پھر سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت سے مالا مال کردیا. امت مسلمہ میں پھر سے ایک نئی جان آگئی لیکن وہ لوگ جن کی دکانیں اور جیبیں بند ہوچکی تھیں وہ ہر وقت آپ کی زندگی کا چراغ بجھانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے بالآخر آپ کے غلام کے ذریعے آپ کو زہر دی گئی اور اس چراغ کی روشنی ہمیشہ کے لیے بجھادی گئی. حکمرانی جسے آپ بڑی بھاری ذمے داری سمجھتے تھے اس سے بہت جلد شہادت کے ساتھ بری ہوگئے.

  • قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریرجویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • راجہ داہر کے پیروکار ۔۔  جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔ تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)
    سندھ کے کٹر قوم پرست مقامی رہنما عطا بھنبھرو کی وصیت کے مطابق انکی تدفین انوکھے انداز میں کی گئی
    وصیت کے مطابق جنازہ نماز ادا نہیں کی گئی اوندھے منہ دفن کر کے انکی قبر کو زنجیروں سے باندھا گیا
    عطا محمد بھنبھرو نے وصیت میں لکھا تھا کہ وہ اسلام کو ایک فریب سمجھتے ہیں اسلئے انکا جنازہ نہ پڑھا جائے اور جب تک سندھ آزاد نہ ہو انکی قبر کے اطراف زنجیریں باندھکر انہیں قید رکھا جائے اور قبر میں اوندھے منہ لٹایا جائے ۔۔ ان کی تدفین میں ان کے خیالات کے حامی کئی نام نہاد دانشور بھی شریک ہوئے جن میں شاہ عبد الطیف بھٹائی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ساجد سومرو بھی شامل تھے جنہوں نے زنجیریں باندھیں ۔۔
    کچھ عرصہ قبل راجہ داہر کو دھرتی کا بیٹا ثابت کرنے ۔ محمد بن قاسم کو ظالم و جابر قرار دینے اور راجہ داہر کا مجسمہ نصب کرنے کا تماشہ لگایا گیا ۔
    اور اب یوں سرعام شعائر اسلام کی توہین و انحراف ۔ سندھ کو مقبوضہ قرار دینے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ اس انوکھے واقعے کی خوب تشہیر بھی کی گئی ۔
    سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے ۔ کیا یوں شعائر اسلام کی توہین کرنا اور ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا آسانی سے قبول کر لیا جائے گا ۔ ایک سرکاری ملازم پروفیسر سندھ کے مقبوضہ ہونے کی اس ساری کارروائی کا روح رواں ہے ۔۔ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کے بڑے عہدے کن ہاتھوں میں ہیں ۔ یہ اپنے طلبہ و طالبات کو کیا سیکھا رہےہیں۔۔ کیسی نسل تیار کی جا رہی ہے۔۔ یہ ایک بڑا سوال ہے ؟؟
    اگر کسی داڑھی والے دیندار نے ایسی حرکت کی ہوتی کہ ایک حصے کو مقبوضہ قرار دیکر علامتی احتجاج کرے تو اب تک ادارے حرکت میں آ چکے ہوتے ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا چیخ چیخ کر گلے پھاڑ چکا ہوتا ۔۔۔ لیکن چونکہ وہ قوم پرست اور لبرل و سیکولر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سب جائز ہے اور کوئی ایکشن نہیں ہو گا ۔۔۔

  • یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ القدس کی مٹی ہے ، وہی مٹی جس نے کبھی انبیاء کے پاؤں چومے تھے ، تحریر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    یہ مٹی مجھے القدس کی مریمات بیٹیوں نے پچھلے سال ترکی میں دی تھی اور کہا تھا سنا ہے پاکستان مٹی سے محبت کرنے والوں کی سر زمین ہے
    انہوں نے کہا تھا آپ یہ مٹی پاکستانی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے لے جائیں انہیں ہماری طرف سے پیش کرکے کہیئے گا اس مٹی کے غیرت مند مسلمانوں پر کچھ قرض ہیں وہ بھلا نہ دینا
    انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا ہم روز جان ہتھیلی پر رکھ کر اسرائیلی فوجیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس مٹی کی حرمت کے لئے مسجد اقصی جاتی ہیں آپ سب کے لئے ممکن ہو تو اپنی اپنی جگہ پر اس مٹی کا قرض چکائیے گا غیرت مند قومیں ہزاروں برس بھی اپنا دعوی نہیں بھولتیں القدس کے لئے کوئی نیا صلاح الدین ایوبی پیدا ہونے تک اسے یاد کرتے رہئیے گا اسے نئی نسل کو منتقل کرتے رہئیے گا
    میری عزیز بہنوں اور بھائیو
    میں نے تو اس مٹی پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے جب تک جان میں جان ہے القدس کی آزادی کے لئے اپنا حصہ ادا کر تی رہوں گی آپ بھی اس مٹی کو تھام کر یہ عہد کرنا چاہیں تو یہ میرے پاس آپ سب کے لئے امانت ہے
    ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
    ڈائیریکٹر امور خارجہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی

  • کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    *سرکاری مفتی؟ ***

    موجودہ وبا کے ہنگام،ایک آئینی اسلامی ریاست کے متفقہ اجتماعی نظام رہنمائی (فتوا، شرعی رائے ) کی جس قدر ضرورت محسوس ہو رہی ہے ـــــــ شاید قریب قریب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی….! ایک ایک مسلک میں ایک سو اسی درجہ کی رائے سامنے آتی رہی اور پورے تیقن کے ساتھ…. مخالف رائے کو قریب قریب ردی قرار دے کر… حتی کہ لوگوں کو منبر سے شرم تک دلائی گئی احتیاط کرنے پہ.. قسمیں کھلائی گئیں احتیاط سے دور رہ کر "پختہ” ایمان کے مظاہرے کی…. یقیناً جید علماء کرام نے اس کے برعکس انتہائی ذمہ داری اور شرعی بصیرت کا مظاہرہ بھی کیا…لیکن وہ کنفیوژن اور عوامی سطح پر میسج اس حلقے سے ہمیں پہنچا، کیا وہ ایک اور حقیقت پسندانہ تھا؟؟

    لیکن مجھے تو جو کمی محسوس ہو رہی ہے ـــــــ وہ اوپر عرض کر دی ہے…. ہم لوگوں نے "سرکاری مفتی” کے لقب اور عہدے کو، جو موجود ہی نہیں ہے کہیں…. خود ہی اس قدر نیچ بنا دیا ہے اپنی نجی گفتگو اور کتب و رسائل میں… کہ کل کو اس کی کوئی گنجائش نہ رہے… پیدا ہو جائے، تو credible نہ ہو…
    خلافت، سیاسی اجتماعیت اور کیا کیا کچھ چاہنے والوں میں سے کتنے ہیں، جنہوں نے اپنے ہاتھوں یہ” خیر” کمائی ہے!

    فرد واحد کی ایسے کسی عہدے پر تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے پانچوں وفاقوں سے علماء کی نمائندگی لے کر سرکاری "مجلسِ کبار علماء” بنانی چاہیے، جو شرعی امور میں متفقہ رائے پیش کرے، جو ریاست کا مؤقف ہو… یوں اسے سلطہ بھی میسر ہو جائے گا اور حالیہ وبا کے دنوں میں مذہبی مواقف میں باہم فاصلے اور کنفیوژن سے بچا جا سکے گا…. اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے….

    اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی مذکورہ بالا شکل میں تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے

  • وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    سارے حساب…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر …
    دلوں میں اُٹھتے ہیں جو سب خیالات…
    ہیں تلاش کرتے ہیں جو اُن کی تعبیر…
    عملِ صالح کی ہر اک اَدا…
    اور ریا کاری کے انداز حقیر…
    مخلصی کے رنگ کی وسعتیں…
    اور جو ہوتے ہیں ظاہریت کے سفیر…
    اس کی یاد سے دھڑکتے ہوں دل…
    یا پھر غفلتوں کے ہوں مارے خمیر…
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جزا کے ضیاع کا ہے نہیں کوئی ڈر…
    سزا سے ہو سکے گا کیسے مفر…؟
    اک یومِ حساب ہے اور وہ محتسب…
    پھر جنت کے سکوں ہوں یا عذابِ سعیر…؟
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جو ظاہر ہیں ہم اور جو ہیں درِ پردہ…!!!
    اک ایک پَل کے عمل ہیں جو کردہ…
    لکھتے ہیں ساتھ ساتھ کِرامًا کاتبین…
    واں ہوں گے جواب دہ کھڑے غریب و امیر…
    آؤ کہ کریں نیتوں کے ہم سیدھے رُخ…
    زندگی کے ایام میں نہ دیں کسی کو دُکھ…
    رب کی رضا کو کریں اپنا ایماں…
    وقت ہے بہت کم،جمع کر لیں ساماں…
    سفر ہے طویل اور یہ زندگی ہے قلیل…
    رہیں حق کے ہی داعی اور حق کے مشیر…
    آتے ہوئے ہر خیال سے، قدم نہ ڈگمگائے یہ…
    اُٹھے سدا وہ قدم،کہ مطمئن رہے پھر اپنا ضمیر…
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر…!!!!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ از قلم۔۔۔مشی حیات

    ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ از قلم۔۔۔مشی حیات

    کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
    از قلم۔۔۔مشی حیات
    اے دنیا تے دنیا دی ہر چیز فانی

    اے دنیا ہے صرف چند دن دی زندگانی
    دنیا میں آنکھ کھولی تو اذان کانوں میں سنائی گئی کہ میں مسلمان ہوں۔۔۔
    اور جب دار فانی سے کوچ کیا تو نماز پڑھادی گئی کہ مسلمان آیا تھا رب کی امانت تھا واپس چلا گیا۔۔۔۔
    پچپن سے جوانی۔۔جوانی سے بڑھاپا۔۔۔یہ سفر طے ہوا اے انسان تیرا۔۔
    اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اور لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا۔۔
    کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
    ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔
    میرا گھر والوں کے ساتھ قبرستان کی طرف جانا ہوا۔۔
    امی جان سے اسرار کیا کہ ابو جی کی قبر پر دعا کر آتے ہیں۔۔
    انتہائی زیادہ اموات اور وہ بھی اللہ کے دین کے علماء کی۔۔ان سب سے دل پر بہت زیادہ غم تھا جو صرف اس خاموش اور سنسان جگہ جہاں نجانے کہاں میری جگہ بھی لکھی میرے رب نے۔۔وہاں پر ہی کم ہو سکتا تھا ۔۔۔گھر سے روانہ ہوئے۔ سوچوں کا سفر بھی جاری ہوا۔۔
    میرے ذہن میں تمام مرحوم علماء اکرام گردش کرنے لگے۔۔کتنے اچھے اللہ کے بندے تھے دین کا کام کر گئے۔۔ہر کوئی انکی اچھائی پر مبنی سٹیٹس لگاا رہا۔۔ہر کسی کی زبان سے سنا کہ شیخ بہت اچھے دل کے مالک تھے۔۔آپ نے خالص اللہ کے لیے کام کیا۔۔۔
    صرف چند میں 7 علماء اکرام کا اس دور فانی سے کوچ کر جانا انتہائی صدمہ تھا۔۔یہ صدمہ صرف دین کے پاسبانوں کو تھا۔۔
    میرے ذہن میں جو سب سے زیادہ سوال تھا وہ یہی تھا کہ اے بنت آدم۔۔۔
    آج فلاں شخص اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور دنیا اس کی خوبیاں،اس کا اخلاق،اور اس کے کردار کے بارے کتنی سچائیاں دے رہی۔۔یقینا اللہ کو بھی پسند آئیں ہونگے اپنے برگزیدہ بندے۔۔۔
    سوشل میڈیا کے جدید دور میں معلومات ملتے ہی سٹیٹس لگ جاتے ہیں۔۔۔
    انا للہ وانا الیہ راجعون

    آج معزز شخص وفات پاگئے ۔۔۔
    وفات ہونے والی شخصیت صرف چند سیکنڈ میں ماضی بن جاتی ہے۔۔
    ایک دن وہ بھی ہے جب میرا رب مجھے اس دار فانی سے اٹھا لے جائے گا۔۔میری زندگی کے بھی سٹیٹس لگ جائیں گے کہ بنت فلاں اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔بہن اچھی تھی ۔۔عمدہ اخلاق کی مالک تھی۔۔یا پھر غلطی سے جن کا دل دکھا وہ میری اپنے انداز سے زندگی کا سٹیٹس لگائیں گے۔۔۔۔مگر تو کیا جانے سٹیٹس لگانے والے جب تو لکھے کہ بنت فلاں کا جنازہ بعد نماز ادا کیا جائے گا۔۔۔تیرا سٹیٹس لگ جائے گا تیرے سیل میں موجود لوگ دیکھ لیں گے۔۔مگر میری زندگی کا حقیقی سٹیٹس اس وقت میرے رب کے فرشتے لے رہے ہونگے۔۔۔ وہ پوچھے گے بتا۔۔۔۔
    تیرا رب کون ہے؟
    تیرا نبی تیرا دین کون ہے۔۔۔؟
    تو کیا جانے گا اس وقت کا عالم۔۔۔
    کوئی بھی جان نہیں سکتا وہ لمحہ نہ وہ سٹیٹس ہی کوئی لکھ پائے گا کہ فلاں شخص نے فلاں جواب دیا۔۔۔۔۔
    فرشتے مجھے جنجھوڑے گے۔۔اگر میرا کردار اسلام کے مابین اور اسوہ رسول کے مطابق ہوا تو میں کہہ دوں گی۔۔
    میرا رب اللہ ہے۔۔۔
    میرا نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اور میرا دین اسلام ہے۔۔
    اگر میں نے اسلام کو چھوڑا اور غلط رستہ اپنایا تو مجھے کیا معلوم۔۔۔میں جواب دے پائوں بھی یا نہیں۔۔۔۔
    یہ دنیا عارضی ہے۔۔یہ دنیا محض کھیل تماشہ ہے۔۔زندگی رب کی امانت ہے اور امانت لوٹانی پڑتی ہے ہر حال میں۔۔
    کیوں نہ ہم کچھ اچھا کر گزرے۔۔
    اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے ۔۔اللہ کے آگے سر سجدہ ہو جائے۔۔یا رب مجھے معاف کردے۔۔
    اپنے گناہوں کو صاف کروا کر نیکیوں میں بدل لیں ۔۔
    زندگی موقع نہیں دیتی۔۔
    اگر ابھی جسم میں روح ہے تو رب کا ہم پر انعام ہے۔۔۔
    اللہ نے ہمیں مہلت دی گناہوں سے معافی کی۔۔۔
    آئیے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔۔
    اللہ ہمیں بخش دے۔۔ہمیں معاف کردے
    یا رب ہمیں نیک اور شہادت کی موت عطا کرنا۔۔
    ہمیں زندہ اسلام پر رکھنا اور موت کلمہ شہادت پر دینا ۔۔
    آمین یا رب العلمین۔۔۔
    اگر ہم نے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیا اگر ہماری بخشش ہوگئی تو یقینا ہم اپنے رب سے سرخرو ہو جائیں گے۔۔۔۔۔

    ان شآءاللہ العزیز۔۔۔۔

  • آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    آسمانِ علم کے یہ ستارے…
    کیوں ڈوب رہے ہیں سارے…
    شیوخ کی برکتوں سے خالی…
    کیوں ہو رہے ہیں دامن ہمارے…؟
    اس امت کو ہے بہت ضرورت…
    ابھی تو پھرتے ہیں مارے مارے…
    میری قوم کے نوجواں کو…
    اور بھٹکے ہوئے ہر انساں کو…
    ابھی دینا ہے شعور روشنیوں کا…
    درس انسانیت سے محبتوں کا…
    محبتوں اور روشنیوں کے پیامبر…
    جا رہے ہیں اک ایک کر کے پیارے…
    جہل کے پھیلنےاورعلم کے اُٹھنے کے…
    بہہ رہے ہیں اندر ہی اندر درد کے دھارے…
    انبیاء کے وارثوں کی خدارا قدر کریں ہم…
    علم کے موتی اپنے دامن میں بھریں ہم…
    اس روشنی سےسینے روشن اپنے کریں ہم…
    کہیں کھو نہ جائیں ہم سے وقت کے اشارے…
    علم کی مجلسوں میں پیدا جو ہوئے خلاء…
    بھر دے وہ رحمتوں سے اے ہمارے الٰہ…
    علم کی راہوں کے سفر پہ چلیں ہم…
    شعور اور عمل کے ماہتاب بنیں ہم…
    لحدیں ہوں پُر نور سب کی…
    وہ جو روشنیاں پھیلا گئے…
    توحید اور رسالت کے مفہوم…
    دین،دنیا کے لیئے سمجھا گئے…
    کھُلیں رحمت و مغفرت کے باب…
    سب کا ٹھکانہ ہو خلدِ بریں…
    محشر کے میداں میں ملے…
    سب کو سایۂ عرشِ بریں…!!!
    ==============================

  • ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
    محمد عبداللہ

  • محفوظ بچے بہتر مستقبل—- از—–عاشق علی بخاری

    محفوظ بچے بہتر مستقبل—- از—–عاشق علی بخاری

    آپ کا معمول تھا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر اکثر جایا کرتے تھے ایک بار ایسا ہوا کہ چھوٹا عمیر اپنی چ|یا کے مرجانے کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کا دل بہلانے کے لیے) فرمایا: ياأباعمير مافعل النغیر تیری چڑیا کیا کرگئی؟

    یہی نہیں بلکہ جہاد سے واپس آتے یا گلی میں کھیلتے بچے نظر آتے آپ انہیں سلام کہتے، سواری پہ بٹھالیتے، حسن و حسین رضی اللہ عنہما دوران نماز آپ کی پیٹھ چڑھ جاتے جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا کہ میرے ساتھیوں میں سے کسی کے ہاں اولاد ہوئی ہے آپ انكے گھر جاتے برکت کی دعا کرتے، اپنے ہاتھ سے بچے کو گھٹی دیتے خود نام رکھتے.

    ایک بار أقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حسن یا حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دے رہے ہیں أقرع رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے دس بچے ہیں میں کبھی ان سے پیار نہیں کیا.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل سے اللہ تعالیٰ نے محبت نکال دی ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بچوں سے متعلق فرمان ہے

    جو ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں.
    اس سے بڑھ کر دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ باری اور حق تو تمہارا ہی کیا میں تم سے بڑے شخص کو دودھ دے دوں؟

    یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ بچوں اور بالخصوص بچیوں کو حقوق عطا کیے اور معاشرے میں برابری کا حق بھی دیا، اولاد کی بہتر تربیت کے فضائل بھی بتائے. ان اصولوں کو دیکھیں اور دوسری طرف انسانوں کے ظلم اور زیادتیوں کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، کیا بس دنوں کا خاص کردینا ہی معصوم کلیوں پر کیے جانے والے ظلم، جبر اور زیادتیوں کے داغ مٹانے کے لیے کافی ہیں؟

    بچے کو معصوم پھول ہیں جو ہاتھ لگانے سے میلے ہوجائیں آج درندوں وحشیوں سے محفوظ نہیں اور ان وحشیوں کی پشت پناہی کرنے والے ہی ان معصوم جانوں کے لیے خصوصی دن منارہے ہوتے ہیں.

    عالمی ادارہ بہبود اطفال کی رپورٹس پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیںعالمی ادارہ لکھتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں دس لاکھ بچے جیلوں میں قید ہیں اور ان کے جرم قتل، ڈکیتی فسادات نہیں بلکہ معمولی معمولی جرائم پر انہیں قید کررکھا ہے.

    کشمیر، افغانستان، عراق شام، فلسطین کے بچے تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں کیونکہ وہ کونسا کسی جیل میں قید ہیں.ادارہ اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کرتا ہے کہ ایک کروڑ سترہ لاکھ بچے ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جاتی ہی ہے. یہ مہذب کہلانے والی اقوام کے کالے کرتوت ہیں.

    یہی نہیں بلکہ ہر سال تین لاکھ بچے اسمگل کیے جاتے، جنہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، میں پوچھتا ہوں کون کسے بیچتا ہے؟کیا دنیا میں کوئی قانون نہیں؟ کیا اہل دنیا یہ سب نہیں جانتے؟

    یقیناً سب جانتے ہوئے ہر ایک آنکھیں بند کیے ہوئے ہے.سب سے بڑھ کر حیرت ناک اور پتی ان کردینے والے اعداد و شمار ان بچوں سے متعلق ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں رہتے ہیں. یہ تعداد 415 ملین ہے جی ہاں 415 ملین!

    یعنی دنیا میں موجود ہر چھ میں سے ایک بچہ ایسی جگہ رہنے پہ مجبور ہے جہاں ہر طرف باردود ہی بارود ہے.؛ اور یہی نہیں بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے. انتقام کی آگ تو الگ ہے لیکن یہاں جوان ہونے والے بچوں میں سے اکثر کن کن جرائم میں ملوث ہوتے ہوں گے اس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا.

    اغواء، جنسی زیادتی، قتل اسمگلنگ، جسم فروشی، نشے کا کاروبار یہ سب جرائم ان سے جڑے ہیں جنہیں ہم بچے کہتے ہیں. اور یہ ان مہذب اقوام کے منہ پہ سیاہ کالک ہے جو کسی بھی طرح صاف نہیں کی جاسکتی. مشرق وسطیٰ کہ جہاں سب سے زیادہ بچے جنگوں کا شکار ہیں کس نے مسلط کی ہیں؟ افغانستان، عراق، شام کے لاکھوں بچوں کا قاتل کون ہے؟ انڈیا کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں جو گھناؤنے کھیل کھیل رہے ہیں ان کی پشت پناہی کرنے والے سے بھی اہل دانش ناواقف نہیں ہیں.

    چاہے امن ہو جنگ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں اگر آج ہم نے انہیں محفوظ اور بہتر مستقبل نہ دیا تو کل یہی بچے ہمارے مستقبل کو برباد کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، ضروت اس بات کی ہے والدین اور حکومتیں اپنا اپنا کردار ادا کریں.

    قلمکار: عاشق علی بخاری
    ای میل: abuhurerrabukhari@gmail.com
    موبائل نمبر: 03013582389