Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی   بقلم : فردوس جمال !!!

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    سرفراز دھوکہ دے گیا

    اپنے آپ کو
    اپنی ابھرتی جوانی کو
    اپنے والدین کو
    خود سے جڑے سب رشتوں کو
    تمام تعلقات کو
    سبھی توقعات کو
    مستقبل کے خوابوں کو
    شہرت اور مقبولیت کو

    سوشانت سنگھ راجپوت
    خودکشی کر گیا
    وہ کہ جس نے خودکشی کے خلاف
    فلم میں کام کیا تھا

    سرفراز نے دھوکہ دیا
    سوشانت نے خودکشی کر ڈالی

    یہ شہرت،یہ رنگینیاں،یہ دولت
    یہ ہالی وڈ یہ بالی وڈ یہ لالی وڈ
    سب فیک،تمام فراڈ ،سبھی دھوکہ

    حقیقی سکون،دائمی خوشی،ہمیشہ کی کامیابی اللہ تعالٰی کی بندگی اور رب رحمان کے ذکر میں ہے.

    بقلم فردوس جمال !!!

  • پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    ایک مریض کو جب منع کیا کہ کرونا سے ٹھیک ہونے کے بعد پلازما کیلئے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پانچ پانچ لاکھ کی تجارت نہ کرے تو اس نے ” یہاں یہی دستور ہے ” کہہ کر بات سنی ان سنی کردی – پلازما دینے سے پہلے لازمی ہوتا ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سی چیک کرایا جایے- سو جب اس نے ٹیسٹ کرایا تو ہیپاٹائٹس بی مثبت آیا – ایسا ہو تو اگلا قدم پیٹ کا الٹرا ساونڈ ہوتا ہے – جب وہ کروایا تو اس میں جگر کا سرطان (کینسر) بیٹھا انسان کی اس حسابی فطرت کا مذاق اڑا رہا تھا جس کا علاج کسی پلازمہ سے بھی ممکن نہی تھا ……..!

    الله کی رحمت سے کرونا سے ٹھیک ہونے والے لوگ جب اپنے پلازمہ پر وینٹیلیٹر پر پڑے مریضوں سے پانچ لاکھ مانگتے ہیں تو وہ کاروبار نہیں کرتے بلکہ الله کی رحمت پر کمیشن مانگ کراس کی خدائی پردلالی کرتے ہیں- یاد رکھیے ! کوئلوں کی دلالی میں بس منہ کالا ہوتا ہے لیکن اس دلالی میں روح کالی سیاہ اور دل جگر گل سڑ جاتے ہیں جس کی باس میں انسانیت کا دم گھٹتا ہے – خون میں شفا پیدا ہوئی ہے تو اس میں اس باس کی ملاوٹ نہ کیجیے – ایسا نہ ہو کہ اس کا تعفن آپ کے اپنوں کے پھیپھڑوں کا سرطان بن جایے جس کا علاج کسی پلازما سے بھی ممکن نہ ہو – کیوں کہ جس ذات نے اس خون میں شفا دی ہے وہ اس بات پر بھی قادر مطلق تھی کہ آپ آج "بروکر”کی کرسی پر نہیں بلکہ "وینٹیلیٹر” پر پڑے ہوتے اور آپ کے گھر والے اسی پلازمہ کیلئے جگہ جگہ رل رہے ہوتے –

    #قلم کی جسارت وقاص نواز 399

  • رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا  از:ظفر مسعود انصاری

    رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا از:ظفر مسعود انصاری

    HISTORICAL SOLAR ECLIPSE IN PAKISTAN:
    #تاریخی سورج گرہن #دن میں رات کاسماء:
    🔴 آج سے ٹھیک 11 دن بعد 21 جون کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے کے درمیان پاکستان میں تاریخی سورج گرہن متوقع ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں دن میں مغرب جیسا سماء ہو جائے گا۔ اس بار سورج گرہن 26 دسمبر 2019 والے کے مقابلے زیادہ گہرا ہوگا۔

    ◾سب سے زیادہ سورج گرہن بلوچستان کے ساحلی علاقوں، شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب میں دیکھا جا سکے گا جہاں 95-100 فیصد تک سورج کا حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور مغرب/رات جیسا سماء ہوگا۔ پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں اس دوران سورج 75-90 فیصد چاند کے پیچھے ڈھک جائے گا اور 1999 والے گہن کے بعد یہ سب سے تگڑا سورج گہن ہوگا۔

    #کراچی میں سورج_گرہن:
    🔴 کراچی میں سورج گرہن کی شروعات 21 جون کی صبح 9:29AM سے ہوگی جبکہ سب سے زیادہ گہن صبح 10:59AM پر لگے گا جب سورج کا %92 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن میں مغرب جیسا سماء بندھ جائے گا۔ اس والے سورج گرہن میں کراچی میں اندھیرا 26 دسمبر 2019 والے گہن کے مقابلے کافی زیادہ ہوگا۔ سورج گرہن کا کراچی میں اختتام دوپہر 12:36PM پر ہوگا۔

    #لاہورمیں سورج_گرہن:
    🔴 لاہور میں سورج گرہن کی ابتداء صبح 9:48AM پر ہوگی جبکہ صبح 11:26AM پر سب سے زیادہ گہن لگے گا، اس دوران سورج کا %91 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ سورج گرہن کا اختتام دوپہر 1:10PM پر ہوگا۔

    #پاکستان کےباقی شہروں کی_تفصیلات:
    ♦️ پاکستان کے باقی بڑے شہروں میں کتنے فیصد سورج گرہن ہوگا اور کس وقت سب سے زیادہ گہن ہوگا اسکی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    🔷 Gawadar: 98.5% (Peak Time 10:48AM)
    🔷 Larkana: 98.7% (Peak Time 11:05AM)
    🔷 Sukkur: 98.7% (Peak Time 11:07AM)
    🔷 Bahawalpur: 96.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Rahimyarkhan: 98.6% (Peak Time 11:12AM)
    🔷 Khuzdar: 96.0% (Peak Time 11:02AM)
    🔷 Nawabshah: 94.5% (Peak Time 11:04AM)
    🔷 Multan: 93.4% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Hyderabad: 91.4% (Peak Time 11:03AM)
    🔷 Faisalabad: 90.6% (Peak Time 11:22AM)
    🔷 Quetta: 87.9% (Peak Time 11:06AM)
    🔷 Sialkot: 87.9% (Peak Time 11:27AM)
    🔷 DI Khan: 86.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Islamabad: 82% (Peak Time 11:25AM)
    🔷 Muzzafarabad: 79.9% ( Peak Time 11:26AM)
    🔷 Peshawar: 79.4% (Peak Time 11:21AM)
    🔷 Gilgit: 74.8% (Peak Time 11:32AM)

    #ضروری_احکامات:
    ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف” ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    نماز کسوف پڑھنے کا طریقہ:
    سورج گہن کی نماز سنت موکدہ ہے-دو رکعت نماز باجماعت پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو-الگ الگ بھی نماز پڑھ سکتے ہیں-بہرحال قرات آہستہ ہو گی-حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں آفتاب میں گہن لگا تو آپ نے نما زپڑھی جس میں سورۃ بقرہ جتنا لمبا قیام کیااور اسی طرح رکوع و سجود لمبا کیاپھر فرمایا سورج یا چاند گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا لہذا جب تم ایسا دیکھو تو خدا کا ذکر کرو اوع دعا و استغفا ر میں مشغول ہو جاؤ-
    منقول
    والسلام ظفر مسعود انصاری

  • کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟
    ہم بھی عجیب قوم ہیں۔ جب پاکستان میں کورونا کیسز چند سو تھے تو روز چھت پر چڑھ کر آذان دیتے تھے۔ اب سوا لاکھ سے زیادہ ہوگئے ہم مانتے ہی نہیں کہ یہ کوئی بیماری ہے۔

    ہمیں ابھی تک یقین ہے یہ کوئی عالمی سازش ہے۔ سرکار جتنے زیادہ کیس شو کرے گی۔ عالمی امداد اتنی زیادہ ملے گی۔ اسی لیے میڈیا سب کچھ چھوڑ کر دن رات کورونا کا رونا رو رہا ہے

    ہمیں لوگوں کی سنی ہوئی باتوں سے یہ بھی یقین ہے کہ اچھا بھلا بندا ہسپتال لے جاو وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں۔ چند ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس میں ورثاء کا دعوہ ہے کہ ان کے پیارے کو کورونا کا مریض کہ کر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا۔ اب لاش دینے کے لیے 5 لاکھ مانگ رہے ہیں۔ کسی نے ہسپتال انتظامیہ یا ڈاکٹر کا موقف لینے کی زحمت نہ کی کہ انہیں نے یہ رقم مانگی بھی یے یا نہیں۔

    یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے آگر آپ کے پیارے کو کچھ نہیں تھا تو اسے ہسپتال لایا ہی کیوں گیا؟

    اس وقت ملک بھر میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مثبت کیسز بھی زیادہ ریکارڈ ہورہے ہیں۔ جبکہ بہت بڑی تعداد مثبت کورونا ہونے کے باوجود بازاروں میں گھوم رہی ہے۔ مفت ٹیسٹ کروانے کو بھی تیار نہیں۔

    یہاں ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ مریض جن کی حالت خراب ہے جنھیں کورونا ٹیسٹ کے بغیر کوئی ہسپتال نہیں لے رہا۔ ان کے فیملی ممبرز کورونا ٹیسٹ کروانے کے لیے کسی طور تیار نہیں۔

    خوف یہ ہے کہ رپورٹ مثبت آگئی تو مریض کو سرکاری لوگ اٹھا کر لے جائیں گے اور پھر لاش بھی حوالے نہیں کی جائے گی۔ ان کے لیے عرض ہے کہ مریض اتنے زیادہ ہیں کہ سرکار کے پاس انہیں قرینطینیہ کرنے کی گنجائش نہیں اور ہسپتالوں میں مزید مریضوں کی جگہ نہیں۔ وہ آپ کے پیاروں کو کیوں اٹھاکر لے جائیں گے؟ اگر آپ کے پاس گھر میں انتظام ہوتو ڈاکٹرز یہی کہتے ہیں گھر پر قرینطینیہ سب سے بہتر ہے۔

    ایک دوست کے والد کئی دن سے بیمار تھے۔ سانس لینے میں کافی دشواری تھی۔ مگر کورونا ٹیسٹ نہیں کروا رہے تھے۔ کراچی کے 9 سے زائد ہسپتالوں میں گئے کسی نے کورونا ٹیسٹ کے بغیر ایڈمٹ نہ کیا۔ انہیں سمجھایا ٹیسٹ کروائیں۔ اللہ کرے منفی آجائے۔ اور اگر مثبت ہوا تو علاج تو کروا رہے ہیں مزید احتیاط کرلیں گے۔ ٹیسٹ کروایا گیا رزلٹ منفی آیا اسی دن ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کو دکھایا مزید کچھ ٹیسٹ ہوئے معلوم ہوا پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا تھا جو اسی دن نکال دیا گیا۔

    اسی طرح ایک دوست کی اہلیہ کئی دن سے علیل ہیں۔ ہسپتال والے کورونا ٹیسٹ کے بغیر قریب نہیں آرہے۔ انہیں سمجھایا آپ کی مریضہ کی تکلیف کورونا نہیں۔ مگر آپ ٹیسٹ کروائیں۔ رپورٹ منفی آئی تو آپ بھی مطمعن ہوجائیں گے اور ڈاکٹر بھی تسلی سے معائنہ کرلیں گئیں۔ باقی تسلی رکھیں سرکار نے گھر سے نہیں آٹھانا آپ پہلے ہی سرکاری ہسپتال میں موجود ہیں۔

    رہا یہ سوال کہ کیا ڈاکٹر کورونا مریض کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں۔ یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ جو بھی قصہ سناتا ہے پوچھیں کیا آپ جانتے ہیں۔ آئیں اس ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس چل کر بات کریں تو جواب ملتا ہے نہیں میں خود تو نہیں جانتا البتہ میرے ایک جاننے والے کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔

    سوچیں اپنے ہاتھ سے کسی کو قتل کرنا کتنا مشکل کام ہے اور ایسی صورت میں جب اس معصوم کی آپ کے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہ ہو اور قتل کے بدلے آپ کو کچھ اضافی بھی نہ مل رہا ہو۔

    انجیکشن لگانے والے اسٹاف کی تنخواہیں بیس سے تیس ہزار ہیں۔ اور وہ خود اپنی جانیں خطرے میں ڈال فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں

    آج کل سوشل میڈیا پر تسلسل سے پیاروں کے فوت ہونے کی خبریں نظر آرہی ہیں۔ خدارا اسے اپنے لیے موقع سمجھیں۔ پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی بجائے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیجئے یہ جان بہت قیمتی ہے۔ احتیاط کیجئے اپنے آپ اور پیاروں کو بچا لیجئے۔

  • کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے  از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے

    از قلم: عاقب شاہین

    نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ، ہمت اور جذبہ اُن میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوتا ہے ، وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی قوم کے عروج اور زوال کی ڈور ہوتی ہے ۔۔۔ قوم کی ترقی کی ضمانت باحیا ،، با کردار اور با عمل شاہین صفت نوجوانوں میں ہی مضمر ہے ۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی اِسی عمر کو غنیمت سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے ، کیونکہ بڑے بڑے معرکے اور کارنامے اسی عمر میں انجام دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ حضرت عمر بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری سے پہلے ، خوش حالی کو ناداری سے پہلے ،فراغت کو مشغولیت سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔۔۔ ( ترمذی)
    اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ نوجوان کسی قوم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی بُت توڑ کر اپنے آباؤاجداد کی غلط روایات کو ختم کیا ، حضرت یوسف علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی ، صلاح الدین ایوبی ،طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے جنھوں نے قرآن وسنت کی بالادستی اور معاشرے کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔۔
    قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران نوجوانوں سے ہی خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
    میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جوان کر رکھا ہے ، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے۔۔۔

    کسی بھی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں بھی انہی شاہین صفت نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔۔۔ یہ نوجوان جب اپنا تازہ اور گرم لہو پیش کرتے ہیں تو ملت کے مقدر کا ستارہ جاگ اُٹھتا ہے اور آزادیاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔۔۔

    اگر جواں ہوں میری قوم کے جسور و غیور

    قلندری میری کچھ کم ، سکندری سے نہیں

    اِس کے برعکس اگر یہی نوجوان اپنے فرض سے بےخبر ، کاہل ، سست ، غدار اور بدکردار ہوں گے تو قومیں خود بخود بربادی کی طرف رواں دواں ہو جائیں گی ۔۔۔ واضح ہوا کسی بھی قوم میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ اِن کی تربیت بھی اِس قدر ہی ضروری ہے ، اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر ہی منحصر ہے ۔۔ اگر قوم اپنے قیمتی سرمائے کی تربیت سے ذرا برابر بھی غفلت برتے گی تو یہی سرمایہ اُس کےلیے ناسور کی صورت اختیار کر جائے گا ، قوم تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہو گی ۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم سے اپنے قیمتی سرمایہ کی تربیت اور حفاظت نہ ہو سکی، اُس کی نوجوان نسلیں لہوولعب ، کھیل کود اور منفی رجحان کی نذر ہو گئیں اور وہی قومیں پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گریں۔۔۔ اِس کے برعکس جن قوموں نے اپنے قیمتی سرمایہ کی حفاظت کی ، اُن کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی ، اُنہی قوموں کے نوجوان اقوامِ عالم پر شاہین بن کر اُبھرے اور اپنی بلند پروازوں سے دنیائے عالم کو تسخیر کر لیا۔۔۔
    آج ایک بار پھر سے اقوامِ مسلم کو نوجوان شاہینوں کے جوش ، جذبے اور اُن کی صلاحیتوں کی بے حد ضرورت ہے ، اور یہ نوجوان تب ہی قوم کے کام آ سکتے ہیں جب اِن کی تربیت صحیح اسلامی بنیادوں پر کی جائے ، آج کے نوجوان گفتار کے غازی تو بن گئے لیکن کردار کے غازی بننا بھول گئے ۔۔ اُنہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اُن کی جوانی قوم کی امانت ہے ، قوم کی نظریں اُن پر لگی ہوئی ہیں ،اندھیروں میں ڈوبی قوم کےلیے وہی روشنی کی کرن ہیں ، اگر نوجوان اسلام کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو رب کی نصرت بھی آسمان سے اُترے گی اور ظلمتوں کے گھپ اندھیرے چھٹ جائیں گے ، سحر کی روشنیاں نمودار ہوں گی بس ذرا ہمت ، حوصلے اور سچے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

    اگر ہم اپنی روش بدل کر راہِ ہدایت پہ ہوں روانہ

    خُدائی نصرت بھی ساتھ ہو گی ،مٹے گا یہ دور جابرانہ

  • ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب__!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    اچھی ہمسائیگی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔
    اور برے ہمسائے سے ہمیں پناہ مانگنے کی تعلیم ملی۔۔۔
    کسی کا بھی ہمسایہ اس کی خوشی،غمی میں ڈھارس کا ضامن ہوتا ہے،کیونکہ سگے رشتہ دار میلوں،شہروں بلکہ بعض اوقات ملکوں دور بھی ہوتے ہیں__!!!!
    یہی وجہ ہے کہ ہمسائے کی اسی افادیت اور اہمیت کے پیشِ نظر دینِ فطرت اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے،ارشاد ربانی ہے:
    وَالجَارِذِی القربٰی وَالجارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ۔۔۔۔
    (النسآء:36)۔
    "اور پڑوسی رشتہ دار اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی سے(احسان کا معاملہ کرو)۔۔۔”

    یعنی اللّٰہ رب العزت خود مسلمانوں کو پڑوسی سے حسنِ سلوک کا حکم دے رہے ہیں تو کیا اللّٰہ کے حکم کے بعد پڑوسی کا حق کچھ پوشیدہ رہ جاتا ہے۔۔۔؟

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر ہمسائے کے حقوق کی اہمیت بتلائی۔۔۔
    کچھ وقت پہلے تک واقعی پڑوس کی افادیت قائم تھی،
    خوشی،غمی کے مواقع مل کر ڈیل کیئے جاتے تھے۔
    جو کچھ میسر ہوتا،کھلے دل سےپیش کر دیا جاتا تھا۔
    دیہات میں تو یہ رواج زیادہ ہی مضبوط تھا۔
    کھلے گھر اور حویلیاں شادی بیاہ کے مواقع پر بہت کام دیتے تھے۔۔۔
    مگر آہستہ آہستہ کھلے گھروں کے مکینوں کے دل بھی تنگ ہونے لگے اور دیہاتیوں نے بھی چار و ناچار میرج ہالز کا رُخ کر لیا اور یوں چند لاکھ کے اخراجات بھاری بھرکم بکنگ کے ساتھ کئی گنا زیادہ اضافے کے ساتھ برداشت کیئے جاتے ہیں۔۔۔ !!!
    اور یہ سب حسنِ معاشرت کی نفی اور نفسا نفسی کے عالم والی بات ہے۔۔۔ !!!!
    پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حق یہ ہے کہ اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جائے۔۔۔
    اس کا حال بانٹا جائے__
    اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔۔۔
    اس کے گھر جو کچھ پکے،بخوشی اور حق سمجھ کر بھیجا جائے__!!!!
    آج ہم دن میں کئی کئی ڈشز بناتے ہیں مگر پڑوس میں بسنے والے کا کچھ خیال نہیں آتا۔۔۔
    اب یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کا پڑوسی واقعی مستحق ہونا چاہیئے بلکہ یہ اس کا خصوصی حق ہے جو ہمارا دین اُسے دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    اور کسی بھی سوسائٹی کے احساس اور مثبت پہلو کی خوب عکاسی بھی۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اے مسلمان عورتو!!!!
    کوئی پڑوسن اپنی کسی پڑوسن کے لیئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے،خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔”
    (صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    کوکنگ کا زیادہ تر کام عورتیں ہی کرتی ہیں تو انہی کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی پڑوسن کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہ کریں۔۔۔
    بلکہ ثواب کی نیت سے،پڑوسی کا بھی حق ادا کریں۔۔۔ !!!!

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے،اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔۔۔”
    {رواہ البخاری فی الادب المفرد}۔

    حضرت عائشہ راویہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید اسے وراثت میں شریک نہ کر دیں۔”
    [صحیح بخاری_کتاب الادب]۔

    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا کے پوچھنے پر کہ کسے پہلے ہدیہ بھیجوں،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس کا دروازہ تم سے قریب ہے__!!!”

    خود بھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے معاملات رکھیں اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیئے کسی اذیت کا باعث نہ بنیں۔

    چھوٹے بچوں کے معمولی اور معصوم جھگڑوں کو طول نہ دیں اور طرفین کو پیار سے سمجھائیں۔۔۔
    کیونکہ بچے فوراً دل صاف کر کے اکھٹا کھیلنا کودنا چاہتے ہیں۔۔۔

    چھوٹے چھوٹے مسائل پر پڑوسی سے جھگڑنے سے گریز کریں۔۔۔
    کبھی اس کے حصے کا کام خود کر دیں۔۔۔
    جیسے صفائی کا مسئلہ ہو یا پودوں وغیرہ کو پانی دینا۔۔۔۔
    پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی حفاظت کریں اور اسے کسی نقصان کی پہنچ سے دور رکھنے کا خیال کریں۔
    بچوں کو سمجھائیں کہ پڑوسیوں کی کسی بھی چیز کو نقصان نہیں پہنچانا یا اٹھا کر گھر نہیں لے آنا۔۔۔

    پڑوسی کے حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیرس پر گھومتے ہوئے تاکاجھانکی سے بچا جائے۔۔۔
    بلاوجہ بار بار چھتوں پر نہ چڑھا جائے۔۔۔
    اگر ضرورت ہی ہو تو پہلے سے پڑوسی کو اطلاع کی جائے تاکہ خواتینِ خانہ اپنا خیال کر لیں__
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "وہ شخص جنت میں نہ جائے گا،جس کا ہمسایہ اس کے مکر و فریب سے محفوظ نہ ہو۔”
    {صحیح مسلم)
    شہروں میں مختلف النوع لوگوں کا ساتھ رہتا ہے۔۔۔
    اور زیادہ تر لوگوں کو سالوں تک یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پڑوس میں کون بس رہا ہے۔۔۔
    لیکن اس پڑوسی کا حق بھی ادا کرنا چاہیئے ،ہاں اگر کوئی شناسائی یا بول چال رکھنا ہی نہ چاہے تو زبردستی بھی جائز نہیں ہے۔۔۔
    لیکن ہر پڑوسی پر اندھا اعتماد بھی نہیں کر لینا چاہیئے۔۔۔
    بچوں کو ماموں،چاچو اور بھائی بنا کر ساتھ کبھی نہیں بھیجنا چاہیئے__
    اسی طرح عورتیں،پڑوس کے مردوں اور مرد،پڑوس کی عورتوں سے بے تکلفی سے گریز کریں۔۔۔
    کیونکہ یہ کھلم کھلا بات چیت بعض اوقات خطرناک افیئرز پر منتج ہوتی ہے__!!!!
    محرم،غیر محرم کے لیئے ہر میدان اور معاملہ میں کلیہ ایک ہی ہے۔۔۔

    گھر کی چیزیں زور زور سے پھنکنے اور گھسیٹنے سے اجتناب کرنا چاہیئے،کیونکہ پڑوس میں کوئی بزرگ یا بیمار ہماری اس حرکت سے تکلیف محسوس یا پریشان ہو سکتا ہے۔۔۔

    اونچی آواز میں ڈیک چلانے اور فُل آواز میں ٹیلی ویژن آن رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔۔۔

    چیخنے چلانے اور بچوں کو اونچی آواز میں ڈانٹ پلانا آپ کے پڑوسی کو ڈسٹرب اور ذہن کو منقسم کر سکتا ہے__!!!!

    اسی طرح پڑوس میں چلنے والے کسی مسئلہ یا جھگڑے کی تشہیر کی بجائے خاموشی سے صلح کی کوشش کرنی چاہئیے اور پھر اسے راز میں بھی رکھیں۔۔۔ !!!
    بیمار کی عیادت کریں__دوا کھِلا آئیں،کوئی اس کے پاس نہ ہو تو کچھ دیر دلجوئی کے لیئے اس کے پاس چلے جائیں۔۔۔
    پڑوسی اگر بے راہرو،بے نمازی اور غلط راہوں پر ہے تو اخلاص کے ساتھ نرمی سے نصیحت بھی کرتے رہیں۔۔۔ !!!
    غرض ان حقوق و آداب کا خیال رکھتے ہوئے ہم سب ایک بہتر پڑوسی کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "پڑوسیوں میں بہتر پڑوسی وہ ہے،جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔”(رواہ الترمذی)۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے ،آمین ثم آمین۔

  • شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی جمعرات سے بیمار تھے۔آن کا کہنا ہےکۂ میرے جسم میں بری طرح درد ہو رہا تھا۔
    آج ان کا کوروناواہرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو بدقسمتی سے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا.
    شاھد آفریدی کی عوام الناس سے گزارش ہے کۂ مجھے صحت یابی کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے.

  • اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی جس میں ان گنت مخلوق تخلیق کی اور اس ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا
    انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ایک اللہ کی بندگی ہے اور اس خالق مالک رازق نے جو حکم دے دیئے وہ ماننا ہم پر فرض ہیں
    اللہ تعالی نے ہمیں ایک مرد اور ایک عورت سے دنیا میں پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں،درندوں غرضیکہ ہر مخلوق کے جوڑے بنائے اور ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بھی یہی جوڑے یعنی ہمارے ماں باپ ہیں
    اللہ تعالی نے ایک خاص نظام کے تحت ایک نطفے سے ماہ کے رحم میں بچے کی پرورش کی اور اس نطفے کا ذریعہ والد کو بنایا اس کے بعد بچے کی ماہ کے پیٹ میں پرورش ہوئی اور پھر نو ماہ بعد دنیا میں آنے کے بعد اس کے کھانے کا انتظام بھی اسی ماں کی چھاتی سے کیا اور اسی ماں کی چھاتی کو بچے کی پرورش کرنے کیلئے دودھ کا ذریعہ بنایا اور اس ماں کے کھانے کا اہتمام والد کے ذمے لگایا یوں ماں اور باپ دونوں بچے کی پرورش میں برابر کے شراکت دار ہیں اسی لئے اللہ رب العزت نے جہاں اپنی بندگی ،عبادت کا حکم دیا وہیں والدین کیساتھ حسن و سلوک کا بھی حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال ہے ،کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔۔سورہ لقمان آیت 34
    یہ آیت ہم پر واضع کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کا حکم دیا تو وہی والدین کے دکھ درد کا احساس دلاتے ہوئے ان کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان پر احسان کرو کیونکہ تیری ماں نے دوران حمل ہزار ہا تکلیفیں برداشت کیں تیرے والد نے تیری والدہ کیلئے روٹی کپڑے کے علاوہ ادویات کا بندوست کیا تاکہ ماں کے پیٹ میں تو خوراک حاصل کر سکے اور دوران حمل لاکھ پرہیز کرکے تجھے تیری ماں نے جنم دیا اور دنیا میں آتے ہی تجھے ماں کی چھاتی سے دودھ کی صورت میں خوراک پہنچائی اور اس خوراک پہنچانے والی ماں کو تیرے والد نے روٹی کھلائی اچھے سے اچھا پھل کھلایا تاکہ وہ یہ چیزیں کھائے اور اپنے دودھ سے ان چیزوں کی طاقت تیرے جسم میں منتقل کرسکے
    اور اب تو بڑا ہونا شروع ہو گیا تیرے والد نے تیری فرمائشیں پوری کرنا شروع کر دیں تجھے پڑھایا لکھایا بڑا آدمی بنایا اور تیری شادی کر دی اور پھر تجھ سے بنی نوع انسان کی پرورش کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب وقت آ گیا کہ تجھے احساس ہونے لگا کہ تیری بیوی جسطرح دوران حمل تکلیف سے رہی اسی طرح تیری ماں بھی تکلیف سے تھی جسطرح تو اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لیجاتا ہے کہ تیرا بچہ مادر شکم میں تندرست رہے بلکل اسی طرح تیرا والد بھی تیری والدہ کو ڈاکٹر سے چیک کرواتا رہا اسے دوائی کیساتھ دودھ ،پھل لاکر دیتا رہا کہ میرے بچے کی پرورش اچھی ہو اس کیلئے جیسے تو محنت مزدوری کرتا ہے ویسے ہی تیرا والد تیری خاطر بغیر دن رات کی تمیز کئے محنت کرتا رہا اور تجھے اس قابل بنایا
    یقیناً بچے کی پرورش ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے اسی لئے
    ماں کی گود کو بچے کی پہلے درسگاہ اور جنت ماں کے قدموں تلے بتائی گئی اور اس جنت کا دروازہ باپ کو قرار دیا گیا ہے
    سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
    وہ تمہارے پاس بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو
    اللہ تعالیٰ نے والدین کی خدمت کا خاص حکم دیا تاکہ جیسے بچپن میں انہوں نے تمہاری پرورش کی اسی طرح تم بھی بڑھاپے میں ان کو سکون و راحت پہنچاؤ
    ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟آپ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہیں اور جو بھلائی تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والا ہے ۔۔سورہ البقرہ آیت 215
    اس آیت میں ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے ہمیں مال کو بھلائی کی خاطر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم میں سب سے پہلے نام والدین کا لیا ہے اس کے بعد پھر رشتہ دار مساکین و یتیم وغیرہ ہیں یعنی بھلائی کرنے میں بھی سب سے پہلے حقدار والدین ہی ٹھہرے ہیں باقی سب بعد میں
    مذید احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین تمہاری ساری دولت یک مشت لے لیں تو یہ ان کا حق ہے تم ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا اپنے والدین تو اپنے کسی کے والدین کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
    رسول اللہ فرماتے ہیں یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شحض اپنے والدین پر لعنت بیجھے اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی اپنے والدین پہ لعنت کیسے بیجھے گا؟ تو نبی ذیشان نے فرمایا وہ شحض دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا ۔۔صحیح بخاری 5973
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اپنے ماں باپ کے بدلے وہ اس کہنے والے کے ماں باپ کو برا بھلا کہا گے اور کسی کے والدین کو برا بھلا کہنے والے کو اپنے والدین کو برا بھلا کہنے کے مترادف قرار دیا ہے
    آخرت میں جنت حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالی کے ماں باپ کا بھی راضی ہونا لازمی ہے کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ اب جنت میں جانے کیلئے جنت والے یعنی ماں کا راضی ہونا لازمی ہے اور جب جنت یعنی ماں راضی ہو گئی تو پھر اس داخلے کیلئے دروازے کا کھلنا لازمی ہے اور جنت کا دروازہ باپ ہے اور دروازہ تبھی کھلتا ہے جب آنے والے پر کوئی ناراضی نا ہو
    تو اگر جنت حاصل کرنی ہے تو اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے بعد بندوں میں سے سب سے پہلے ماں باپ کا راضی ہونا لازم ہے پھر اس کے بعد دوسروں کے معاملات ہیں
    اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں عیش و عشرت حاصل کر سکیں
    جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی اثاثہ ہیں
    آمین

  • وہ درِ رحمت…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    وہ درِ رحمت…!!! [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔

    وہ درِ رحمت…!!!
    [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔
    سب رشتے یار جب
    لوگ اک بار جب…
    ہمیں چھوڑ جاتے ہیں…
    دل توڑ جاتے ہیں…
    اور منہ موڑ جاتے ہیں…
    تو پھر اس تعلق کی…
    بوسیدہ عمارت میں…
    وہ پیار نہیں رہتا…
    رنگِ بہار نہیں رہتا…
    دل جی دار نہیں رہتا…
    سب کُچھ چھپ جاتا ہے…
    بناوٹ کے پردوں میں…
    ہرے رہتے سب دردوں میں…
    دوری کی سرحدوں میں…
    میں اور انا چھلکتی ہے…
    پھر ریاکاری جھلکتی ہے…
    وہ اجنبی سے لگتے ہیں…
    شکوؤں کو زندہ رکھتے ہیں…
    مگر اک درِ رحمت ایسا ہے…
    جو سدا منتظر رہتا ہے…
    جہاں عطا و درگزر رہتا ہے…
    گئے وقتوں کی غلطیوں کا…
    سب کوتاہیوں اور خامیوں کا…
    کوئی شکوہ نہیں ہوتا…
    اتنے وقت کی دوریوں کے…
    جتانے کا نہیں شائبہ کہیں ہوتا…
    محبّت اور مغفرت کی…
    جہاں سدا بہار رہتی ہے…
    دلوں کی سیاہی دھونے کو…
    جہاں جاری بارشِ انوار رہتی ہے…
    دلوں کے بوجھ ہٹتے ہیں…
    اور دِل وہ تھام لیتا ہے…
    اپنے عاصی بندے کی…
    بے چینی کو لگام دیتا ہے…
    پھر گئی رتوں کے درد سارے…
    کرب میں رہےجو دل بے چارے…
    سب سلسلے تھم جاتے ہیں…
    دنیا والوں سے اُمیدوں کے…
    خیال کھا خم جاتے ہیں…
    دل کو قرار آتا ہے…
    اور یہ لڑھکتے قدم…
    مضبوطی سے جم جاتے ہیں…!!!
    یہی سچی محبّت ہوتی ہے…
    جو رب بندوں سے کرتا ہے…
    اپنے بھٹکے بندوں کے دامن میں…
    بُلا کر موتی عفو کے بھرتا ہے…!!!
    وہ ہر دم منتظر رہتا ہے…
    بندوں کے لوٹ آنے کو…
    اُسے اچھا نہیں لگتا…
    دلوں کے ٹوٹ جانے کو…
    دلوں پہ چوٹ آنے کو…!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • گدھوں کی بہتات۔۔۔۔۔ غلام زادہ نعمان صابری

    گدھوں کی بہتات۔۔۔۔۔ غلام زادہ نعمان صابری

    گدھوں کی بہتات۔۔۔۔۔ غلام زادہ نعمان صابری
    اللہ تعالیٰ نےجہاں پاکستان کو گوناگوں نعمتوں سے نوازا ہے وہاں اس نعمت کی کمی بھی نہیں چھوڑی یعنی پاکستان کو وافر مقدار میں گدھوں سے بھی نواز رکھا ہے۔ ویسے اصلی گدھا چار ٹانگوں ،ایک دم اور دوکانوں والا ہوتا۔ گدھے کو خر بھی کہتے ہیں۔ ایک خر ایسا بھی ہے جس کے ساتھ گوش لگتا ہے، وہ گوش کے بغیر خر نہیں بن سکتا۔
    اگر گدھے کے سر پرسینگ ہوتے تو وہ کیسا ہوتا ؟ اس بارےمیں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ، آراء سے جہاں آراء،شمیم آراء یا کوئی اور آراء ہر گز مراد نہ لی جائیں ورنہ اس کی ساری ذمہ داری مراد پر ڈال دی جائے گی۔
    بات ہو رہی تھی کہ اگر گدھے کے سر پر سینگ ہوتے تو وہ کیسا ہوتا؟
    بھینسے کی طرح ہوتا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔!
    تو پھر بیل کی طرح ہوتا۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔!
    چلو اب تو مان جاؤ
    وہ بارہ سنگھے کی طرح ہوتا۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!
    تو پھرتمہاری نہیں،نہیں سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گدھا بغیر سینگوں کے ہی ٹھیک ہے کم از کم گدھا تو ہے ناں۔۔۔۔!
    حالیہ جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس کے مطابق گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔اس اضافے پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے جیالوں،متوالوں اور نقالوں نے تبصرے کرتے ہوئے اپنے علاوہ دوسروں کو موردالزام ٹھہرایا ہے۔ حالاں کہ اگر پانچ سالہ منصوبے کو مدنظر رکھ کر بات کی جائے تو یہ سہرا نون لیگ کے سر آسانی سے باندھا جا سکتا ہے سہرے کے دوچار پھول اگر پی پی پی کے گلے میں بھی ڈال دیئے جائیں تواس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
    دنیا میں گدھوں کی کمی نہیں جہاں بھر میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں گدھے نہ ہوں مگر پاکستان اس معاملے میں کافی خودکفیل ہے۔ یہاں چار ٹانگوں والے گدھوں کو لوگ گدھا کہتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ کہیں یہ بیچارہ ان کے گدھا کہنے پر غصہ ہی نہ کر جائے۔ لیکن دو ٹانگوں والوں کو گدھا اور گدھے کا بچہ کہتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں کرتے بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
    میرے سروے کے مطابق ہر دوسرا دو ٹانگوں والا یا تو گدھا ہے یا پھر گدھے کا بچہ ہے۔
    اگرآپ میں سے کسی کو میرے سروے پر شک ہو تو وہ خود بھی سروے کر سکتا ہے لیکن اسے میری تجویز پر عمل کرنا ہوگا۔
    تجویز کچھ یوں ہےکہ وہ شکرے دوپہر شاہ عالمی چوک میں کھڑا ہوجائے اگر وہاں اس کی تشنگی لب بام رہ جائے تو شاہ عالمی کے اندر چلا جائے اندر جا کر اسے کافی مواد مل جائے گا مزید استفادہ حاصل کرنے کے لئے وہ برانڈرتھ روڈ کا دورہ بھی کر سکتا ہے ۔
    اگر مزید کوئی کمی محسوس کرے تو جہاں ٹریفک پھنسی ہوئی ہو وہاں کھڑا ہوجائے یہاں مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ فوری طور پربغیر کسی حیل و حجت کے تسلیم کر لے گا کہ واقعی پاکستان میں دو ٹانگوں والے گدھوں کی کمی نہیں۔
    اور پھر مزے کی بات یہ ہے یہاں ہر گدھا دوسرے کو گدھا سمجھتا ہے مجھے کسی نے ایک بار یہ بات کہی تھی کہ اگر ہر گدھا اپنے آپ کو گدھا سمجھ لے تو جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔
    میری رگ غیرت پھڑکی تو میں نے اعتراض کیا توکان میں کہنے لگےدیکھو بھئی تم مجھے گدھا سمجھتے ہو اور میں تمہیں گدھا سمجھتا ہوں ایک دوسرے کو گدھا سمجھنے سے کہیں بہتر ہے کہ خود کو گدھا سمجھ لیا جائے کیوں کہ جھگڑا مٹانے کے لیے اس سے بہتر کوئی فارمولا نہیں۔
    دیکھوناں گدھا بنانے والا آپ کو سو لوگوں کے سامنے گدھا بنائے گا اگر آپ خود گدھا بن جائیں گے تو کسی کو کانوں کان خبر ہی نہیں ہوگی اوریوں عزت بھی اپنی جگہ برقرار رہے گی اور بدنامی بھی نہیں ہوگی۔
    اس سال جو گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس کا ملبہ پی ٹی آئی قیادت پر ڈالا جارہا ہے اس کی اصل وجہ جیو فلمز کی ” ڈونکی راجہ” ہے .
    کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ گدھوں نے ایک ایسی گدھا فلم بنا ڈالی ہےجس نے گدھوں کی تعداد میں لاتعداد اضافہ کردیا ہے
    ویسے بغیر فیس کے ایک مشورہ ہے کام والے گدھوں کو چھوڑ کر نکمے گدھوں کاکنٹینر بھر کر چین بھیج دیا جائے یا پھران کوہانک کر کشمیر کا باڈر پار کروا کرمقبوضہ کشمیر میں داخل کردیا جائے۔
    وہاں یہ اپنے علاوہ کسی اور کو گدھا کہہ کر دکھا دیں تو ہم مان جائیں گے۔
    کچھ لوگ گدھوں کی بہتات کاذمہ دار پچھلی دونوں حکومتوں کو قرار دے رہے ہیں جنہوں نے مذاق جمہوریت کی آڑ میں باری باری جمہوریت کی گدھا گاڑی چلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
    دونوں کے پاس گدھوں کی تو بہتات تھی مگر گاڑی ایک تھی اس لئے وہ گدھا گاڑی چلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے کیوں کہ گدھے سدھارے ہوئے نہیں تھے ۔
    اگر کسی بھائی کو اعتراض ہو تو وہ اس میں ترمیم کرسکتا ہے۔