یہ دنیا_!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
کیا کریں کہ دنیا یہ ہر حال میں لا دوا ہے__؟
بولو تو بھی جرح ،نہ بولو تو بھی خفا ہے__!!!
گُل پاشی کے ہمراہ یاں سنگ بازی کی بھی بارش__
دیکھتے ہیں ہم کہ اکثر وفا کا بدلہ جفا ہے__!!!
رُک جاؤ تو آتی ہے دنیا ہمدردی کے بول لے کر__
جو بڑھو ذرا تو قدموں میں یہی کڑی زنجیر نما ہے__
کہتے ہوکیا، ملے تمہیں بدلہ اسی جہاں میں__؟
کیسی ہے یہ بے خبری، کسے ملا صلہ ہے…؟
جفا کی ہر اک ادا کو تبسم کا دے کر تحفہ__
جانو کہ گھور شب کے بعد ہی سویرا ہے__!!!
حقوق اللّٰہ کہ حقوق العباد،جب اُسی کی رضا کے واسطے…
تو پھر کسی کی بےرُخی کا،کیسا کوئی گِلہ ہے…؟؟
دنیا کے پیچ و خم سے اُلجھ کر رہنے والے__
مانے گا اک دن، کہ اس کا تو یہی خاصہ ہے__!!!
خامشی کی ردا اوڑھے،درگزر کا عصا تھامے__
جو بڑھ رہا ہے آگے، سچ کہ وہ کتنا بھَلا ہے__!!!!!
==============================
{جویریات ادبیات}
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
Category: بلاگ
-

یہ دنیا_!!! بقلم:جویریہ بتول
-

خود سے بھی مسکراؤ_!!! بقلم: جویریہ بتول
خود سے بھی مسکراؤ_!!!
[بقلم: جویریہ بتول]۔
کبھی الجھنوں سے نکل کر تم خود سے بھی مسکراؤ…
کبھی دل پہ لگے زخموں کو خود مرہم لگاؤ…
کیا ملے گا صرف رد عمل کے غم میں کھپ جانے سے…؟؟
دور اندیشی و حواس سے ہر درد کو سہلاؤ…!!
آتے ہر اک تیر کو تم قابو میں کر کے اپنے…
اپنے صحیح وقت پر ترکش میں اُسے لوٹاؤ…!!!
کبھی ردِّ عمل کے غم سے باہر بھی نکل کر…!!!
اک حاوی مسکراہٹ سے تم چیخوں کو ہراؤ…!!!
کبھی اپنے دل کے درد بھی خود سے بانٹ لو…
کبھی دل کے سارے بوجھ تنہا بھی ہٹاؤ…
اس زندگی کے سفر میں ہے ہوتی قدم قدم پہ رکاوٹ…
کبھی رکاوٹوں سے ٹکرا کر رہ گزر تو بناؤ…
سچ ہے کہ سفرِ زندگی تھکا دیتا ہے اکثر…
مگر تم بھی خود کو خود ہی اُمید سے بہلاؤ…!!!
ذرا سی رنجش و لغزش پر یہ دل نہ ملول ہو…
مختصر سی زندگی میں تُم خود نہ اسے مرجھاؤ…!!!
=============================
{جویریات ادبیات}
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ -

بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے از قلم: مشی حیات
بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے
از قلم: مشی حیات
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیاخوشیاں ہوں یا غم چھوڑ کر چلے جانے والے ضرور یاد آتے ہیں۔ غم کے لمحات میں ان کا آخری دیدار رلا دیتا ہے اور خوشیوں کے موقع پر ان کی زندگی کے حسین لمحے۔۔۔۔
یہی کہانی میری ہے جو ایک حقیقت ہے، سچائی ہے اور وہ ہستی ہیں ۔۔
میرے بابامیں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو خود کو ماں کی گود کی جنت اور بابا کے شفقت بھرے سائے میں پایا۔۔
بابا دن رات محنت کر کے ہم بہن بھائیوں کی پرورش کر رہے تھے اور ہم نادان بچپن میں کھوئے اپنی ہر ضرورت پوری کر رہے تھے ہمیں اس عمر میں کیا معلوم کہ ابو جی کیسے روپیہ پیسہ کماتے ہیں ۔۔
سب تایا جی اور چچا جان صاحب حیثیت تھے مگر میرے بابا بیماری کے سبب کمزور تھے زیادہ سخت کام نہیں کر سکتے تھے۔۔ اس لیے روزانہ کا فروٹ کا کام کرتے اور رات کو ایک جیب میں پیسے لے کر گھر آ جاتے کھانا کھاتے اور پیسوں کی گنتی کرنے کے لیے بیٹھتے تاکہ دیکھا جائے بچت کتنی ہوئی اور بچوں کے ارمان پورے کرنے کے لیے پیسے ہوں گے یا نہیں۔۔۔
جیسے ہی ابو جی نے پیسے گننے شروع کرتے میں اور بڑی آپا ساتھ بیٹھ کر مدد کرتے۔ ایک دفعہ تو کافی پیسے دیکھ کر خوش ہو جاتے کہ آج کتنے زیادہ پیسے ہیں ابو کے پاس۔۔باپ تو اپنی بیٹی پر ہر خوشی وار دیتا ہے۔۔
صبح جاتے ہوئے ابو جی کھلے پیسے یعنی سکے کپ میں رکھ جاتے جو ہمیں امی جی سکول جاتے دیتی تھیں ۔۔بڑی آپا کو 5 روپے ملتے تھے مجھے اور بھائی کو دو، دو روپے۔۔ وہ پیسے بھی ہم بہت خوشی سے خرچ کیا کرتے تھے۔۔
ابو جی نے ہماری ہر خوشی پوری کی۔ خوشی کے موقع پر کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ امی جی بہت کم خرچ کرتی تھیں شاید وہ سمجھتی تھیں کہ ابو کی جیب میں موجود سارے پیسے کھانے کیلئے نہیں بلکہ کسی کی امانت ہیں۔۔
دادی جان ہمارے پاس رہتی تھیں اس لیے عید کے موقع پر سب چاچو اکٹھے ہو جاتے تھے اور سبھی عیدی دیتے تھے۔ ابو جی کے پاس جیب میں موجود سکے کم ہوتے تھے ہم چھ بہن بھائی اور باقی سب کزنز مل کر زیادہ ہو جاتے تھے۔سبھی نے دیکھنا کہ اب دیکھو شفیق کیسے پورا کرتا ہے بچوں کو۔ بابا جانی کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی اور کہتے کہ میں سارے سکے آسمان کی طرف پھینکوں گا جس کے ہاتھ میں جتنے آ گئے وہ اس کے۔ سبھی اپنے اپنے اٹھا لینا۔ جیسے ہی آسمان کی طرف پیسے جاتے سب مل کر اٹھا لیتے اور سبھی بچے بہت خوش ہوتے اور دادی جان نے کہنا ایک منٹ میں سب بچوں کو خوش کر دیا۔خوشیاں باٹنے والے اور ہمارے گھر کے محافظ ہمیں یتیمی میں بہت جلد چھوڑ گئے۔۔
ان کا اس دنیا سے چھوڑ کے چلے جانا ہمارے لیے کسی بہت بڑے سانحے سے کم نہ تھا۔۔ ماں کے سر سے سرتاج کا سایہ اور بچوں کے سر سے سایہ شفقت ۔۔۔۔۔
27 مئی 2014 کو میری تائی امی وفات پا گئیں جو سب سے بہت پیار کرتی تھیں۔سبھی ان کے غم میں مبتلا تھے 28 مئی کو جو کہ اگلے ہی دن ابو جی سب کو ناشتہ کروا رہے تھے کہ اچانک دل کی درد شروع ہوئی وہاں پر موجود لوگوں سے کہہ کر آ گئے کہ میں تھوڑی دیر تک آیا باقی بعد میں کروں گا۔۔جیسے ہی گھر آئے بڑی آپا کام میں مصروف تھی اور میں لیٹی تھی۔ ابو جی کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے کہنے لگے سائیڈ پہ ہو جاؤ ابو جی کی آنکھیں مکمل سفید تھیں میں چونکہ چھوٹی تھی تبھی ڈر گئی اور تائی امی کے جانے کا غم بھی تھا مجھ سے بولا نہیں گیا جلد ہی آپی کو آواز لگائی کہ ابو کو پتہ نہیں کیا ہوا امی جی دوڑ کر آئیں۔ابو جی کا رنگ سفید پڑ چکا تھا قے شروع ہو گئی تھی امی جی نے کہا کہ جلدی سے ہمسائے والے انکل کو بولو کہ گاڑی نکالیں۔اماں تو ابو جی کو لے کر چلی گئیں مگر آنکھوں میں ابو کی حالت تھی۔ پھر سوچا ٹھیک ہو جائیں گے۔ واللہ کیا خبر تھی کہ بابا آج کے بعد کبھی نہیں آئیں گے۔ ڈاکٹر جواب دیتے گئے امی جی کی گود میں سر رکھے ابو مسلسل استغفار اور کلمہ پڑھتے جارہے تھے اور امی جی سر میں ہاتھ پھیرتی جا رہی تھیں۔ جیسے ہی شہر میں پہنچے ہسپتال داخل کیا چاچو بھی پہنچ گئے چاچو اپنے شہر کے مشہور حکیم تھے۔ واقفیت کی وجہ سے جلد علاج شروع ہو گیا ڈاکٹر نے بولا کہ آپ بھائی کو ملتان لے جائیں۔ امی جی امید لگائے اپنے رب سے باہر بیٹھی دعا میں مصروف تھی پتہ چلا کہ ملتان جانا ہے تو تیار ہو گئیں مگر چاچو جی نے ڈاکٹر کو بولا کہ مشکل ہی پہنچ پائیں بھائی۔۔۔۔
ابو جی مسلسل کلمہ پڑھ رہے تھے دعائیں کر رہے تھے۔ اللہ سے محبت کرنے والے تھے اور ساری زندگی اپنی ماں کی خدمت کرنے والے ۔۔
چاچو ابو جی کے پاس ہوئے شاید سانس رک رہی تھی چچا جی کہتے کہ میں نے کلمہ پڑھا اور بھائی نے فوراً کلمہ پڑھتے ہی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔وہ آپ نے خالق حقیقی سے جا ملے مگر امی جی کو نہیں بتایا کہ وہ ایسی جگہ چل دیے ہیں کہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔امی جی ملتان جانے کے لیے تیار تھیں ایمبولینس میں ابو جی کو لٹایا اور امی جی ساتھ بیٹھ گئیں۔جس شوہر کو ایک امید کے ساتھ لائی تھی وہ اب بس چند ساعتوں میں ماضی بن گیا تھا۔۔
ملتان کی بجائے جب گاڑی نے اپنے شہر کا رخ کیا تو امی جی حیران ہو گئیں کہ جانا ملتان ہے اور جا کہاں رہے ہیں۔چاچو جی
انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے۔
ہائے میرے اللہ کیا سما ہو گا۔ میری ماں کے دل کا کیا حال ہو گا کہ انکا سربراہ انکے گھر کا بادشاہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔۔۔۔۔
میں اور بہن دعا میں مصروف تھی فون کیا کہ ابو کیسے ہیں؟ گاڑی والے انکل کہتے وہ فوت ہوگئے۔۔
جیسے ہی آواز کان میں پڑی آسمان تاریک ہوتا نظر آیا۔ اللہ یہ کیا کر دیا میرے بابا اب نہیں رہے۔ کیوں نہیں رہے؟سب کے بابا ہیں میرے کیوں نہیں؟؟
چھوٹا بھائی 4 سال کا تھا وہ میت کے پاس بیٹھا مسلسل کہہ رہا تھا اب ابو جارہے ہیں میں موٹر سائیکل پر جا کر لے آؤں گا۔۔۔
مگر وہ کیا سمجھتا پھول کہ اب ابو جی کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔ہماری زندگی ایک گھنٹے کے اندر یتیمی میں بدل کر رہ گئی ابو جی ماضی بن گئے۔۔۔
مگر ابو جی بہت یاد آتے ہیں ہر عید پر اب بہت پیسے مل جاتے ہیں مگر خوشی نہیں ملتی۔۔اب تو یہی بول کے سبھی دے دیتے ہیں کہ یتیم ہیں کمانے والا نہیں ۔۔۔
میں کہتی ہوں دنیا کی ساری دولتیں لے لی جائیں مگر ابو واپس آجائیں واللہ ہر دن عید سا لگے۔۔۔
باپ بہت بڑا تحفہ ہے رب کا۔ اللہ کے لیے اس تحفہ کی قدر کر لیں جب یہ تحفہ یہ پھول مرجھا جاتے ہیں ناااا پھر کوئی خوشی سکھ نہیں دیتی ۔۔۔
ہر تہوار آ جاتا ہے مگر بچھڑے ہوئے نہیں آتے اور نہ ان سے وابستہ خوشیاں۔۔۔۔۔۔۔
ممکن اگر ہوتا کسی کو عمر لگا دینا
میں زندگی کی ہر سانس اپنے بابا کے نام لکھ دیتی
-

عظیم الشان فتح، تحریر :ثناء صدیق
عظیم الشان فتح
ثناء صدیقرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح سلامت مدینہ میں تشریف لانے سے کفار مکہ اپنے آپ کو شکست خوردہ سمجھنے لگے ان کی تمام تر کوشش جوش وجذبہ ترجحات خواہشات مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے صرف ہونے لگی نبی مکرم اور ان کے ساتھوں کو ختم کرنے کا اہتمام قریش مکہ کے نزدیک سب سے اہم اور مقدم تھا اس طرح وہ لوگ اپنی مخالفتیں اور رقابتیں بھلا کر اپنی تمام طاقتیں اس کام کے لیے صرف کرنے پر آمادہ ہو گئے مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ تھا مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ راستے کے قبائلوں کو بھی ساتھ ملانا تھا یا کم از کم ان کو اپنا ہمدرد بنانا لازمی تھا اس آنے والے طوفان سے رسول پاک ایک دور اندیش اور ذی شعور سپہ سالار ہونے کے ناطے محسوس کر چکے تھے اللہ تعالی کیی طرف سے حفاظت خوداختیاری کی اجازت مل چکی تھی دین اسلام میں داخل ہونے والوں کی راہ سے رکاوٹیں اٹھانا بھی ضروری تھا مسلمانوں کی جمعیت مدینہ منورہ میں چار سو سے زیادہ نہ تھی سامان اور طاقت کے اعتبار سے مسلمان کمزور و ضعیف تھے کفار کا ظلم اور سازشیں ان کو بار بار تنگ کرتے مسلمانوں کی عربی حمیت و شجاعت جوش میں آتی مگر وہ اس کام کے لیے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت ضروری چاہتے تھے اب جب کہ اسلام کی صداقت اور ایمانی طاقت ثابت ہو گی اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم و مصائب نے یہ ثبوت دیا کہ اسلام کے ساتھ محبت کسی خوف یا لالچ سے تعلق نہیں رکھتی تو اللہ کی طرف سے شریروں کو سزا دینے اور اپنی حفاظت آپ کرنے کی اجازت آ گی واقعات کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی مکرم جنگ کو صلح اور انتقام کو درگزری پر ےترجیح دی مکہ کا ایک سردار کرز بن جابر نے ایخ جماعت کے ساتھ مدینہ کے ساتھ چراگاہ پر چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے بہت سے اونٹ لے کر چلتے بنے مسلمانوں نے اس صورت حال میں مقام سفوان تک تعاقب کیا لیکن دشمن کے نکلنے کی وجہ سے مجبورا واپس لوٹ آئے یہ مکہ کی طرف سے صاف اور کھلی دھمکی تھی ادھر دوسری تدبیروں سے بھی وہ غافل نہ تھے ایک طرف کفار مکہ کا گٹھ جوڑ عبداللہ بن ابی منافق سے تھا دوسری طرف یہودی قبائل کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی اور مسلمانوں کے خلاف مخالفت پے آمادہ کیا اسی سال شعبان میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو گیا اور چند ہی روز بعد رمضان کے روزے فرض ہو گئے شروع رمضان میں یہ خبر مدینہ پہچہی کہ مکہ کا ایک قافلہ شام آ رہا ہے مدینہ کے اطراف سے گزرے گا نبی مکرم مکہ والوں پر رعب طاری کرنے کے لیے اور کرز کے حملہ کا جواب دینے کے لیے انصار و مہاجرین کی جماعت لے کر مکہ والوں کا قافلہ روکیں تا کہ ان کو پتہ چلے مدینہ والوں سے بگاڑ ان کی تجارت کے لیے مضر ہے یہ جمعیت جنگ کے ارداے سے نہیں گئی تھی بلکہ اس کا مدعا تخویف و تادیب تھا جس کا نتجہ یہ ہوا مکہ والوں کا قافلہ مسلمانوں کی جمعیت سے با خبر ہو گیا امیر قافلہ ابو سفیان اپنے قافلے کو لے کر بچ نکلا اس نے صمصم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا مسلمانوں کے حملے سے ہماری مدد کرو اور اپنے اموال بچاو اس خبر کے ساتھ ہی ابو جہل مکہ سے ایک ہزار کی جرار فوج لے کر نکلا جس میں سات سو اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے یہ لشکر ہر طرح کیل کانٹ سے لیس تھا اس کے سب سپاہی زرہ پوش تھے گانے والے اور رجز پڑھنے والے بھی ہمراء تھے عباس بن عبدالمطلب عتبہ بن ربعیہ امیہ بن خلف نضر بن حارث ابوجہل کل تیرہ آدمی کھانا کھلانے والے تھے ابو سفیان مکہ پہنچ گیا مسلمانوں کی جمعیت واپس مدینہ آ گی
اس غزوہ کو غزوہ بدر اولی بھی کہتے ہیں (سیرت ابن ہشام ص 288)
ابو سفیان نے ابو جہل کو خبر بھیجی ہم واپس خیرو عافیت سے آ گئے ہیں اب تم بھی واپس ا جاو لیکن ابو جہل اپنے لشکر کے غرور میم مصر رہا ابوجہل صرف قافلہ بچانے نہیں نکلا تھا بلکہ ابن حضرمی قریش کا حلیف مسلمانوں کے ہاتھوں جن کو نبی مکرم نے رجب میں بطن نخلہ کی طرف حالات معلوم کرنے بھیجا تھا مارا گیا ابو جہل نے ابن حضرمی کے قتل کا بہانہ جنگ کی مکمل تیاری کر لی تھی اور مدینہ پر روانہ ہونے والا تھا ضمضم قافلہ والوں کی طرف سے ستمداد کے لیے پہنچا اور ابو جہل جو پہلے ہی تیار تھا وہ روانہ ہو گیا نبی مکرم کو معلوم ہوا اور ساتھہ یہ بھی پتہ چلا کہ ابوجہل عتبہ شبیہ ولید حنظلہ عبیدہ عاصی حرث طعیمہ زمعہ عقیل ابو الختجرہ مسعود منبہ نوفل سائب رفاعہ وغیرہ تمام بڑے سرادار اس لشکر میں موجود ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر ایک مجلس مشاورت کی اور اصحاب کی رائے پوچھی اول سیدنا ابوبکر عمر فاروق سیدنا مقداد رضی اللہ عنھم نے بہادری کے کلمات کہے اور کہا ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے سیدنا موسی علیہ اسلام سے کہا تھا کہ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون مائدہ) تو اور تیرا رب لڑے ہم تو یہیں بیٹھے تماشا دیکھں گئے
اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ لوگوں! ان کفار سے لڑائی کے بارے میں تمہارا کیا مشورہ ہے اسے دوبارہ فرمانے سے اپ کی مرضی یہ تھی کہ انصار کی رائے معلوم کی جائے کونکہ مزکورہ اصحاب مہاجرین میں سے تھے اور انصار سے جس بات پر بیعت کی گی تھی وہ مدینہ پر حملہ آور کو روکنے کی تھی مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کی نہیں تھی انصار فورا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھ گے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ ہماری جانب ہے آپ نے فرمایا ہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم آپ پر ایمان لائے آپ کو اللہ کا رسول یقین کرتے ہے اور یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مقابلہ کرے اور ہم بیٹھے رہے ہم کفار سے کیا ڈرے گے یہ ہماری جیسے آدمی ہیں ہم حکم دین ہم سمندر میں کود پرو ہم بلادریغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تکمیل کریں گے آپ صلی اللہ نے اصحاب سے مطمئن ہو کر روانگی کا اردہ فرمایا جنگ میں لڑنے کے لیے کل تین سو دس یا بارہ یا تیرہ آدمی تھے شہر سے باہر آپ نے اسلامی لشکر کی خبر لی ان تین سو تیرہ میں بعض چھوٹی عمر کے لڑکے تھے جو جنگ کے قابل نہیں تھے آپ نے ان واپس جانے کا حکم دیا بعض نے منت کرتے ہوئے جنگ میں جانے کی اجازت حاصل کر لی اسلامی لشکر کے سازوسامان کی یہ حالت تھی صرف دو گھوڑے تھے جن سیدنا زبیر اور مقداد رضی اللہ عنھم سوار تھے سترہ اونٹ تھے ایک ایک اونٹ پر تین تین چار چار آدمی سوار تھے نبی پاک جس اونٹ پر سوار تھے اس پر تین شخص اور سوار تھے بعض لوگ پیدل ہی چل رہے تھے یہ اسلامی لشکر بدر پہنچا تو کفار خو بلند زمین پر خیمہ زن پایا مسلمانوں نشیبی اور ریتلی زمین پر خمیہ زن ہونا پڑا مگر بدر کے چشموں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا نبی مکرم نے مسلمانوں کو پانی کفار کے لیے روکنے سے منع فرمایا اصحاب نے آپ کو ایک چھوٹی سی جھونپڑی تیار کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں رہتے اور دعا مانگتے مسلمان کفار کے مقابلے میں عشرعشیر بھی نہ تھے جب مسلمان جا کر خمیہ زن ہو گئے کفار نے عمیر بن وہب جمحی کو راغ رساں بنا کر بھیجا اور اس نے اطلاع دی کہ مسلمانوں کی تعداد تین سو دس سے زیادہ نہیں اور ان میں صرف دو سوار ہیں کفار کے غرور کا اندازہ اس بات سے لگائے عتبہ بن ربیعہ نے جب یہ قلت سنی تو کہا ان تھوڑے سے آدمیوں سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے ہماری تعداد زیادہ ہمیں واپس جانا چاہے لیکن ابو جہل نے کہا سب کا خاتمہ ہی کر دینا چاہے
باالااخر سترہ رمضاندو ہجری میدان جنگ گرم ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جھونپڑی میں گئے دعا کی اور عرض کی
اللھم ان تھلک ھذہ العصابتہ من اھل الایمان الیوم فلا تعبد فی الارض ابدا
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر یکایک تھوڑی دیر کے لیے غنودگی طاری ہو گی اس کے بعد آپ مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا کفار کی فوج کو شکست ہو گی اور وہ بھاگ جائیں گئے (سیھزم الجمع ویولون الدبر القمر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا جنگ میں ابتدا نہ کرنا مسلمانوں اسی سے دوتین زیادہ مہاجر تھے باقی انصار تھے انصار میں 61 قبیلہ اوس سترہ خزرج کے لوگ تھے طرفین سے صفوف جنگ سے اراستہ ہوئیں رسول پاک ہاتھہ میں ایک تیر تھا اس کے اشارے سے تسویہ تصوف فرماتے تھے اس کے بعد کفر کے لشکر سے عتبہ شعیبہ ولید نکل کر میدان میں آ گئے اور جنگ کے لیے للکارا انصار میں سے عوف معوذ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم نکلے عتبہ نے کیا من انتم انہوں نے کیا رھط من انصار عتبہ نے نہایت متکبر سے کہا مالنا بکم حاجتہ پھر چلا کر کیا محمد اخرج الینا اکفاء نامن قومنا یہ سن کر عتبہ کے مقابلے میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شبیہ کے مقابلے میں عبیدہ بن الحرث رضی اللہ عنہ اور عتبہ کے بیٹے ولید کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ صحابی مقابلے میں مقابلہ شروع ہوا باپ اور بیٹا ایک ہی وار میں قتل ہو گئے
شبیہ نے سیدنا عبیدہ کو زخمی کر دیا ضرب کاری لگی یہ دیکھ کر سیدنا حمزہ اور علی نے شبیہ کو قتل کر دیا سیدنا عبیدہ کو اٹھا کر نبی مکرم کی خدمت میں لائے بعض کفار کی صفیں حملہ آور ہوئی مسلمان جوان مردی سے کڑے نتجہ یہ ہوا کفار اپنے ستر بہادر قتل اور ستر کو اسیر بنا کر بھاگ کھڑے ہوئے جنگ مطلوبہ شروع ہونے کے بعد نبی مکرم ایک سائیبان کے نیچے کھڑے جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے مجاہدین کو ہدایات دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا بنو ہاشم جنگ مین اپنی خوشی سے نہیں ائے بلکہ مجورا لائے گئے ہیں ان کے ساتھ رعایت کرنی ہے اور عباس بن عبدالمطلب کو قتل نہیں کرنا چاہے اور اسی طرح ابو الختجری کے ساتھ درگزر کا حکم دیا مجزر بن زیاد رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ابو الختجری کے ساتھ ہوا اپ نے کہا ہم کو حکم ہے تم سے نہ لڑے لہذا ہمارے راستے سے ہٹ جاو ابو الخجری اپنی ایک ساتھی کو بچانا چاہتے تھے جن کو مجذر قتل کرنا چاہتے تھے لیذا ابو الخجری مقتول ہوا امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا علی بن امیہ دونوں اپنی جان بچانے کے لیے پھر رہے تھے امیہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ جاہلیت کی دوستی تھی عبدالرحمن نے سن کو دیکھہ کر ہاتھ پکڑ کر چلے چلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھس تو آواز لگائی اور چند انصار کو اپنی طرف متوجہ کیا حضرت عبدالرحمن نے ان کو بچانا چاہا مگر حضرت بلال نے ایک نہ سنی دونوں کو قتل کر دیا ایک صحابی عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ نبی مکرم کے پاس کجھورے کھاتے ہوئے آئے اور پوچھا میں کفار سے لڑتا مارا جاوں تو جنت میں چلا جاوں گا تو آپ نے فرمایا ہاں وہ اسی وقت بقیہ کجھورے پھنک کر تلوار لیتے ہوئے کفار کو جا پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے جب یہ لڑائی جاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک لی اور دشمن پر پھنک دی اسی وقت لشکر کفر نے بھاگنا شروع کر دیا اتفاقا ایک انصاری نو عمر لڑکے سیدنا معاذ بن عمرو کا کا مقابلہ اتفاقا ابو جہل سے ہو گیا جو زرہ وغیرہ پہنے ہوئے تھا سیدنا معاذ نے موقع پا کر اس کے پاوں رزہ سے خالی دیکھ کر وار کیا اس کا پاوں کٹ کر الگ جا پڑا ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے یہ دیکھا تو سیدنا معاذ پو وار کیا سیدنا معاذ کا بایاں ہاتھ مونڈھے سے کٹ گیا اپ اسی طرح لڑتے رہے جب تنگ کرنا شروع کیا تو جھٹکا لگا الگ کر دیا اس کے بعد انصار کے دوسرے نو عمر معوذ بن عفراء ابو جہل کے قریب پہنچا اور تلوار کی ایسی ضرب لگائی نیم بسمل ہو گیا جن کفار نے میدان خالی چھوڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ابو جہل کی تحقیق کرو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے نیم مردہ حالت میں پایا اور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور کہا اللہ نے دشمن اللہ نے کیسا ذلیل کیا ہے ابو جہل نے جنگ کا نتجہ پوچھا کہا فتح مسلمانوں کی ہے یہ کہ کر سیدنا عبداللہ بن مسعود اس کا سر کاٹنے لگے تو کہتا ہے میرا سر گردن اور مونڈے سے ملا کر کاٹنا تاکہ پتہ چلے سردار کا سر ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود نے ابوجہل کا سر نبی پاک کے قدم مبارک میں رکھا آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اس لڑائی میں چودہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم شہید ہوئے چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے
اللہ اللہ اس زوق وشوق جہاد کے کہا کہنے جب تک مسلمانوں میں ایسا جذبہ ایمان رہا وہ کفار پر غالب رہے اور جب ان کے ایمان میں کمزوری آئی تو پھر مسلمان مغلوب ہو گئے
رسول پاک نے مال غنیمت ایک جگہ جمع کر کے عبداللہ بن کعب جو بنو نجار سے تھے ان کے سپرد کیا عبداللہ بن رواحہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنھم کو مدینہ کے بالائی بستیوں میں فتح کا سنانے بھیجا سیدنا اسامہ بن زید جو بنی پاک کے مدینہ میں نائب تھے فرماتے ہیں ہمیں فتح کی خوشخبری اس وقت پہنچی جب ہم سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر رہے تھے یہ خبر مدیبہ میں 18 رمضان کو پہچی یہان کے بعد مقام عرق الظبیہ پہنچے یہاں عقبہ بن ابی معیط کی گردن مارنے کا حکم ہوا جو نبی مکرم کے سخت دشمن اور ابوجہل کا ہمسر تھا نضر بن حارث کو سیدنا علی اور عقبہ کو سیدنا عاصم بن ثابت انصاری نے قتل کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنھم خے ساتھ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اسیران اور ان کے محافظ دستے کو پیچھے چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اس کے ایک دن بعد قیدی بھی مدینہ پہنچ گئے
ابو جہل کو جب معلوم ہوا مجھے دو نوجوانوں معاذ اور معوذ نے مارا ہے اس وقت وہ قریب الموت تھا اس نے افسوس کیا کہ کاش مجھے ایک کسان کے سوا کسی اور نے مارا ہوتا (صحیح بخار کتاب المغازی حدیث 4020)
صحابہ اکرام کے کیا کہنے ان کے مثالی ایمان اور ان کی دینی غیرت اور بے بہا ایمان دیکھ کر قرآن نے یوں گواہی دی
اشداء علی الکفار رحماء بینھم
اور ڈاکڑاقبال نے کیا خوب کہا
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن -

فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!
Terminal Velocity in Quran
فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیانفری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔
"ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.
سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار مندرجہ ذیل(کمنٹ میں) بیان کی گئی ہے۔

پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
Quran 22:31
حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)"خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”
"پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔
لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!
-

سلسلہ امہات المؤمنین: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر:جویریہ بتول
سلسلہ امہات المؤمنین:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
(تحریر:جویریہ بتول)۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا کےلقب صدیقہ اور حمیرا تھے۔
آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔۔۔
اور حضرت عائشہ اس خوش نصیب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں کہ جس گھر پر سب سے پہلے اسلام کی نورانی و ٹھنڈی کرنیں پڑی تھیں۔۔۔
یوں حضرت عائشہ وہ ہیں جن کا شروع سے ہی کبھی کفر وشرک کے ماحول سے واسطہ نہیں رہا۔۔۔
آپ کے والد گرامی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت اوراسلام کے لیئے جذبۂ قربانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔۔۔۔جنہوں نے ہر کڑے موقع پر رسول اللہ کا ساتھ دیا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کسی کے مال سے اتنا فائدہ نہیں ہوا،جتنا ابو بکر کے مال سے ہوا(رضی اللہ عنہ)۔
سب سے پہلے اسلام قبول کر کے اپنا سارا مال اللّٰہ کی راہ میں دے دینے والے صحابئ رسول پر اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں آمین۔
حضرت عائشہ رسول اللہ کی وہ واحد بیوی ہیں جو کنواری تھیں۔
آپ کو کئی ایک اعزازات حاصل ہیں جن کا آگے چل کر ذکر آئے گا ان شآ ء اللہ۔
حضرت عائشہ کا نکاح بہت کم عمری میں رسول اللہ سے ہوا تھا،جبکہ ان کی عمر چھ،سات برس تھی۔۔۔
رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تیرہ نبوی میں اپنے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو حضرت ابو بکر کے اہل خانہ مکہ میں کفار مکہ کے نرغے میں ہی تھے۔۔۔
غرض جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق اللہ کے حکم سے ہجرت کرکے مدینہ آن پہنچے اور آہستہ آہستہ معاملات سنبھل گئے تو آپ نے ام رومان، عائشہ و اسماء رضی اللّٰہُ عنھن کو مدینہ بلا لیا۔۔۔
مدینہ کی آب و ہوا سے بہت سے لوگ بیمار ہو گئے اور حضرت عائشہ بھی بیمار ہو گئیں۔۔۔
نو سال کی عمر میں آپ کی رخصتی ہوئی اور یہ تقریب انتہائی سادہ و ایمان افروز تھی۔۔۔
حضرت عائشہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں،آپ کی والدہ نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور چہرہ دھویا۔۔۔
انصاری عورتوں نے آپ کو تیار کیا اور ام رومان آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں چھوڑ آئیں۔۔۔
جہانوں کے لیئے رحمت بن کر آنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی شادی کی محفل کتنی سادہ تھی کہ جس میں کوئی کھانا نہیں بنایا گیا تھا۔۔۔
آج ہم مسلمان ہو کر بھی شادی بیاہ کی تقریبات پر اپنے مال کا بے دریغ ضیاع کرتے ہیں اور حدوں کو توڑ توڑ جاتے ہیں۔۔۔۔
اللہ ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے۔۔۔ !!!!
رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
"ایک بار جبریل سبز ریشم میں لپٹی ہوئی کوئی چیز لائے اور فرمایا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں،میں نے دیکھا تو وہ عائشہ تھی۔”
(ترمذی)۔
آپ رسول اللہ کی چہیتی زوجہ تھیں۔۔۔
حضرت عائشہ کی سہیلیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ کر گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں،جب رسول اللہ تشریف لاتے تو چھپ جاتیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرکے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کرتے تاکہ وہ عائشہ کے ساتھ کھیل سکیں۔۔۔”(رواہ البخاری:کتاب الادب)۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے نکاح سے جاہلیت کی تین رسوم کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔
آپ کا نکاح و رخصتی شوال میں ہوا،
جبکہ اسے ٹھیک نہیں سمجھا جاتا تھا۔منہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔
اس نکاح سے اس جاہلانہ رسم کا بھی خاتمہ ہوا۔دلہن کے آگے آگ جلانے کی رسم ختم ہوئیں۔۔۔۔
حضرت عائشہ علم و فضیلت میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔۔۔
آپ کا اہم ترین کردار علمی خدمات ہیں۔۔۔۔
آپ محدثہ تھیں۔۔۔عورتوں میں سب سے زیادہ یعنی(2210) احادیث آپ نے روایت کی ہیں۔۔۔
اور بہت زیادہ علم آپ کم عمری میں سیکھ چکی تھیں…!!!
سلسلہ امہات المؤمنین:سلسلہ امہات المؤمنین:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا۔
(تحریر:جویریہ بتول)۔رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ایک غزوہ سے واپس آئے۔۔۔میرے گھر کے طاق پر پردہ پڑا ہوا تھا،
ہوا سے پردے کا کونہ اڑا تو میری گڑیاں نظر آنے لگیں۔۔۔
رسول اللہ نے پوچھا یہ کیا ہیں۔۔۔میں نے کہا میری گڑیاں ہیں۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی ہے،جس کے اوپر دو پر تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہیں ؟
میں نے کہا دو پر ہیں۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا گھوڑوں کے بھی پر ہوتے ہیں؟؟
میں نے کہا:
آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟
یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں۔۔۔
(رواہ ابو داؤد۔۔۔کتاب الادب)۔
کیوں کہ حضرت عائشہ بہت ذہین،حاضر دماغ اور فصیح اللسان تھیں۔۔۔
تو فوراً یہ جواب دیا تھا۔۔۔
ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی۔۔۔
پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو ایک بار پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا،
اب کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے۔
اس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یہ اُس جیت کا بدلہ ہے۔۔۔ !!!
(رواہ ابو داؤد_کتاب الجہاد)۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں پانی پیتی پھر یہی برتن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ رکھ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا،پانی پیتے،
میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت الگ کرتی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ سے کھاتے۔۔۔”
(رواہ مسلم)۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا
میں جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔۔۔
میں نے پوچھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رب کی قسم
اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں ابراھیم کے رب کی قسم۔۔۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا بے شک آپ سچ کہتے ہیں
اللّٰہ کی قسم!
اے اللہ کے رسول۔۔۔
غصے میں صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔۔۔۔(رواہ البخاری)۔
ان واقعات میں میاں بیوی کے لیئے بہت سے اسباق ہیں۔۔۔
پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بیویوں کے مقام اور ان سے حسنِ سلوک اور عزت افزائی کرنا سکھائی۔۔۔ہمارے معاشرے میں آج بھی کئی شوہر بیویوں کے حوالے سے عجیب وغریب سوچیں رکھتے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ بقیع سے لوٹے میرے سر میں درد تھا اور کہہ رہی تھی ہائے میرا سر۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔بلکہ میں۔۔۔اے عائشہ ہائے میرا سر۔۔۔!!!
(رواہ ابن ماجہ)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بے حد محبت تھی۔۔۔۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں زیادہ دن حضرت عائشہ کے حجرے میں گزارے اور جب نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر حضرت عائشہ کی گود میں تھا۔۔۔۔ !!!
اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں ہی دفن ہوئے(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)۔
رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مردوں میں سے تو بہت کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ (علیھما السلام)۔۔۔۔اور عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے۔۔۔ !!!”
(صحیح بخاری)۔
(رضی اللّٰہُ عنھا)۔
اللّٰہ تعالی ہم سب کو ان تعلیمات سے خود کو منور کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔۔۔ !!!!
حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا فقیہہ،قرآن و احادیث، عرب تاریخ،علم النسب اور علمِ وراثت کی ماہرتھیں۔ آپ عرب شاعری پر بھی عبور رکھتی تھیں۔۔۔
آپ رضی اللّٰہُ عنھا کا نام بے تکلف مجتہدین صحابہ کرام کے ساتھ آتا ہے۔
اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ آپ سے مسائل کا حل پوچھتے اور آپ دورِ خلافت ابو بکر صدیق،عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم میں فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔۔۔۔رویت باری،علمِ غیب،واقعہ معراج،عصمت انبیاء کی وضاحت میں آپ کی دقتِ نظر کا پلہ بلاشبہ بھاری نظر آتا ہے۔۔۔ !!!
غزوہ بنی مصطلق 5ھ میں پیش آیا،اماں عائشہ صدیقہ بھی اس سفر میں رسول اللہ کے ساتھ تھیں،
راستے میں آپ کا ہار گم ہو گیا،
جس کی وجہ سے قافلہ کو رکنا پڑا،
نماز کا وقت آن پہنچا اور پانی بھی موجود نہیں تھا،
صحابہ کرام پریشان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیمم کا حکم نازل ہو گیا۔۔۔
صحابہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے:
اے آل ابو بکر !
تم سرمایۂ برکت ہو۔۔۔۔
تم پر جب بھی کوئی مصیبت آئی ہے اس میں مسلمانوں کے لیئے آسانی و خوشی کا ہی سامان نکلا ہے۔۔۔ !!!!
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عائشہ اور ام سلیم زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں،یہ غزوہ مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔۔۔
کئی مسلمان شہید ہو چکے تھے اور کئی زخمی تھے۔۔۔
اس وقت میں بھی حضرت عائشہ کا کردار ہمیں نظر آتا ہے۔۔۔
سرخ و سفید رنگت رکھنے والی،حسن و جمال کی پیکر ام المؤمنین حضرت عائشہ عاجزی و قناعت میں بھی نمایاں تھیں۔۔۔
آپ پر تین اوقات بہت گراں گزرے۔۔۔
واقعۂ افک،
واقعۂ تحریم،
اور واقعۂ ایلاء۔۔۔
واقعۂ افک میں منافقین کی گھڑی گئ سازش کو اللہ رب العزت نے آسمان سے اپنا قرآن اتار کر بے نقاب کر دیا اور آپ رضی اللّٰہُ عنھا کی صداقت کی گواہی دے کر منافقین و مومنوں کو واضح کر دیا۔۔۔
اہل ایمان اپنی ماں کی شان میں اترے قرآن کی تلاوت تا قیامت کرتے رہیں گے اور ان کے ایمان کو جِلا ملتی رہے گی ان شآ ء اللہ۔
حضرت عائشہ نے اٹھارہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارے اور اڑتالیس سال بیوگی کے گزارے۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی تمام عمر قرآن و حدیث کی تعلیم عام کرتے گزری۔۔۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخر میں 17 رمضان المبارک میں 66سال کی عمر میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔۔سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول
-

معرکہ حق و باطل تحریر: خنساء بنت طاہر
معرکہ حق و باطل
خنساء بنت طاہر17 رمضان کا سورج طلوع ہوتا ہے مسلمانوں کی زند گیوں کا پہلا رمضان المبارک جس میں روزے رکھنے کا حکم ملا
ہجرت کرکے آئے ہوئے چند بے حال لوگ اور کچھ ان کو سہارا دینے والے لیکن بے سرومانی کی حالت ,پورے لشکر میں فقط دو گھوڑے جنگ کی کوئی تیاری نہیں اور مد مقابل کون …؟وہ جنگجو اور بہادر کہلوائے جانے والے لوگ جن کی دھاک پورے مکہ میں تھی اور جن کا خوف دلوں میں بیٹھا ہوا تھا , جن کی غلامی میں کئی سال گزار کر آئے تھے اور کچھ تو خون کے رشتے تھے……
واللہ کیا کیفیت اور کیا آزمائش تھی
نبی پر ایمان لانے والے چند مختصر سے لوگ حق و باطل کا پہلا معرکہ ایسی جنگ ایسا معرکہ کہ جس میں یہ ثابت ہونا تھا کہ نبوت کا دعوی کرنے والے اس شخص کی کیا سچائی ہے یہ اپنے قول و فعل میں کتنا سچا ہےایک طرف اتنا بڑا دشمن اور ایک طرف خدا کی اس پوری زمین پر اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کو تھامے ہوئے چند مٹھی بھر مخلص لوگ
آسمان بھی انکی کیفیت پہ تھم سا گیا تھا زمین بھی سہمی ہوئی تھی شہنشاہ دوجہاں رو رو کر کیا دعا کرتے ہیں کہ مالک کائنات
اگر یہ چند لوگ بھی آج ختم ہوگئے تو تیری اس زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ ہوگارحمت کا دریا جوش میں آتا ہے اور پھر جو مدد و نصرت اتری وہ آج تک ایک زندہ مثال ہے کہ جنگیں کبھی بھی طاقت یا مال و دولت ک زور پر نہیں لڑی جاتی اور اگر جہاد کے بغیر دنیا پر امن ممکن ہوتا تو میرے نبی جیسے تحمل مزاج ، صبر کے پیکر اور زمیںن پر سکون کے خواہشمند عظیم انسان تلوار کبھی بلند نہ کرتے لیکن اللہ کے نیک بندوں نے یہ ثابت کردیا کہ دین کی سربلندی ,اللہ کی محبت اور اسلام دشمنی میں اگر خونی رشتے بھی مد مقابل ہو تو تلوار لرزنی نہیں چاہیے
اور ایک بہت اہم سبق جو ہمیں حاصل کرنا چاہیے وہ یہ کہ اللہ کی مدد ایسے ہی نہیں اترتی اللہ نے مسلمانوں کو لاکر جنگ کے میدان میں کھڑا کر دیا مجاہدین نے اپنی جانیں اللہ کی امان میں دے دیں اپنے سے تین گنا بڑی طاقت کے سامنے ایمانی جزبوں سے کھڑے ہوگئے زندگی اور موت کی کشمکش، دشمن امنے سامنے ہوا تلواریں آپس میں ٹکرائی تو پھر میرے رب نے فرشتے نازل کیے یونہی گھروں میں بیٹھے بیٹھے ہی اللہ کی مدد نہں آگئی
آج ہمیں بھی انھی ایمانی جذ بوں اور جرتوں کی ضرورت ہے۔
-

لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا تحریر: محمد نعیم شہزاد
لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا
محمد نعیم شہزادیا ایھا الرجال
کی ہویا اے تواڈا حاللاک ڈاؤن وچ ویلے، موجاں
کوئی میسج نہ کوئی کالوقت دا پہیہ چلدا جاوے
سانہواں دے نال گھَٹدا جاوےجے نہ کجھ وی فکر کیتی
ٹینشن اس گل دی نہ لتیآخر ہے سب نوں زوال
لبھ لو حالی کمالگیا وقت فیر ہتھ نہیں آندا
بیہھ کے انسان رہے پچھتانداآپنے آپ دی قدر نوں جانو
وقت دی قیمت نوں پہچانوایہو سبق سکھاندے سارے
گزر دے ماہ و سالدل وچ آپنے عزم کریں توں
آپنا ویلا سانبھ لویں توںدنیا تے کجھ ایسا کر جا
بن جا ایک مثالیا ایھا الرجال
کی ہویا اے تواڈا حال -

فتح مکہ…!!! بقلم:جویریہ بتول
فتح مکہ…!!!
[بقلم:جویریہ بتول].
مری تاریخ کے ماتھے کا جھومر…
سدا دنیا کو رہے گا جس پہ فخر…
وہ جنہوں نے گھروں سے تھا نکالا…
ہر دُکھ اور اذیت سے تھا گزارا…
لُٹا کر تھے آئے یہ سب مال و زر…
چلے یہ مسافر جب ہجرت کی راہوں پر…
آنکھوں میں چمکتا تھا کوئی سہانا خواب…
فتح مبین کی تعبیر کو تھے سب بے تاب…
وہ صحابہ کے جلو میں مکہ کی جانب…
چلی تھی جب سواری نبی محترم کی…
وہ سورۂ فتح کی مبارک لبوں سے تلاوت…
وہ کعبہ میں پڑے بتوں پہ جآء الحق کی آہٹ…
وہ سب باطل و غرور جب خاک ہو گئے…
وہ بغیر تلوار کے جب زیرِ دھاک ہو گئے…
پوچھا نبی محترم نے کیا خیال ہے تمہارا؟
اب کیا اُمید ہے، تمہارا کیا ہو گا اب چارہ؟
ستانے والے بولے شفیق و کریم ہو تم…
ہلے لب اور بولے لاتثریب علیکم…!!!
نگاہیں نیچی تھیں سب کی نیچی ہی رہیں…
تھے سوچتے سب کہ کہیں تو کیا کہیں؟
یہ کیسا ہے فاتح عالم جو آج ہم پر…
پا کر غلبہ بھی ہے،کیسا پیکرِ عفو و صبر…؟
مکان لیا ہم سے،نہ کوئی مال و زر …
نا انصافی کا بدلہ،نہ گنوایا کوئی ستم…
واں بھی خیمہ بنایا اپنا مسکن، سلام اے فاتح عالم…!!!
[صلی اللّٰہ علیہ وسلم]
============================== -

ماں کی زندگی کا سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول
ماں کی زندگی کا سفر…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
تری محبتوں کے بحر وبر…
تری اداؤں کے سب ثمر…
تری وفاؤں کا یہ سفر…
کیسے ہو مجھے اس سے مفر…؟
تیرا ضبط و ربط کمال ہے…
ترا لہجہ حُسن و جمال ہے…
افکار بلند،ارفع خیال ہے…
ترے مقام کو نہ کوئی زوال ہے…!!!
ترے گزرتے پَل زندگانی کے…
اور مٹتے آثار جوانی کے…
ترے لڑھکتے قدموں میں مگر…
رنگ عزم کی جولانی کے…!!!
ہر سانس کے سنگ تو…
دے دعاؤں کی خوشبو…
ترے کپکپاتے ہونٹوں پہ…
لکھی ہے تحریرِ آرزو…!!!
تو اولاد کے درد کی درماں…
تو بلاؤں کی زد سے اماں…
ترے لہجہ کا ہے انداز ہی اور…
تو بدلے سے بے پرواہ "ماں”…
اپنی حیات کو کھپا گئی…
تو ہمیں توانائیاں تھماگئی…
ترے بدن کا جو اب ضعف ہے…
مری جوانی کا جو رعب ہے…؟
کھڑے ہیں یہ آمنے سامنے…
فرض کیا ہیں اب نبھانے؟
یہ سوال ہی تو گراں ہے…؟
ماں ہم اولاد اور تو ماں ہے…!!!
ماں تری وفاؤں کا صلہ…
کوئی کیسے بھلا چکائے؟
تری سب محنتوں کا…
بدلہ کوئی کیسے لوٹائے…؟
ماں تری وفاؤں کا چاہیئے ساتھ…
ماں کیسے کٹے سفر یہ خالی ہاتھ؟
ترے مشوروں کی جاری رہی گر برسات…
تو ماں یقیں ہے سدھر جائے گی ہر بات…!!!
ترے دامن کو جو جھٹک کر چلیں…
سچ ہے کہ ہر گام وہ ہاتھ ہی مَلیں…!!!
ماں ترے نام ہو کیسے صرف اک دن؟
ماں ترے بِن تو تڑپیں یہ روح وبدن…!!!
ماں مری زندگی کا ہر لمحہ ہو ترے نام…
ماں بس ترے ہی سنگ گزریں زندگی کے صبح و شام…
ماں بس تری دعاؤں کی پونجی میری ہم سفر ہو…
ماں یقیں ہے کہ پھر کسی بَلا کا نہ گزر ہو…!!!
کٹ جائے پھر یہ سفر راحت و کلفت کا…
اور ممکن ہو جائے داخلہ جنت کا…!!!!!(ان شآ ءَ اللّٰہ)
==============================