Baaghi TV

Category: بلاگ

  • Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ)   تحریر :  سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) تحریر : سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation
    (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) : بقلم سلطان سکندر!

    جدید تحقیق اور قرآن مجید کے مطابق مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے خطرہ
    👇🏻

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

  • کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟  تحریر :غنی محمود قصوری

    کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟ تحریر :غنی محمود قصوری

    گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال مقبوضہ وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی بدولت کشمیریوں کا کاروبار زندگی معطل ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بند ہے کرونا کی وجہ سے پچھلے ماہ انٹرنیٹ کی بحالی چند علاقوں میں بطور مجبوری کی گئی تھی جسے اب ریاض نائیکو کی شہادت پر پھر بند کر دیا گیا ہے
    اس وقت مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تقریںا 10 لاکھ انڈین فوج و پولیس تعینات ہے جبکہ مقبوضہ وادی کی آبادی 80 لاکھ ہے یعنی ہر 8 کشمیریوں پر ایک قابض ہندو فوجی مسلط ہے اور یوں وادی کشمیر جنت نظیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے
    90 کی دہائی سے غیور کشمیری انڈین فوج کے ساتھ مسلح نبرد آزما ہیں جس کی بابت ہندو آئے دن کرفیو لگائے رکھتا ہے مگر موجودہ مودی گورنمنٹ نے وادی میں طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے
    اس لاک ڈاؤن سے قبل انڈین فورسز سے لشکر طیبہ،حرکت المجاہدین،البدر،جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی مسلح جہادی تنظمیں ہی متحرک تھیں مگر حیرت انگیز طور پر جب سے انڈیا نے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کرکے طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہے تب سے مسلح جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے ان نئی تنظیموں میں تحریک ملت اسلامی جموں و کشمیر ،جموں و کشمیر غزنوی فورس،دی جوائنٹ کشمیر فرنٹ اور دی ریزیڈنس فرنٹ نامی مسلح جہادی تنظمیں بھی بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہیں
    رواں سال جنوری سے اب تک انڈین فورسز نے ظلم و بربریت کو برقرار رکھتے ہوئے 27 بڑے آپریشن کئے ہیں جن میں 64 مجاہدین شہید اور 25 گرفتار ہوئے ہیں اور یہ شہادتیں اور گرفتاریاں تاریخی لحاظ سے اب تک سب سے زیادہ ہیں
    6 مئی 2020 کو حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو بھی انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں جس سے تحریک آزادی کشمیر سے پیار کرنے والے خاص طور پر فکر مند ہو گئے ہیں مگر جانتے ہیں کیا واقعی نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہو گی؟
    33 سال قبل پلوامہ کے گاؤں بیگ پور میں اسد اللہ نائیکو کے گھر ریاض نائیکو نے آنکھ کھولی ریاض نائیکو تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاضی ٹیچر مقرر ہوئے مگر ان کا خواب انجینئر بننا تھا مگر ان کے اندر کا ریاضی دان ہر وقت انڈین فورسز کے ظلم کو بھی جمع کرتا رہا 2003 میں ریاض نائیکو کی والدہ کے کزن کو انڈین فورسز نے جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور وقت فوقتاً ریاض نائیکو کے گھرانے کو بھی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جاتا رہا جس پر نائیکو سخت نالاں تھے اور بالآخر 21 مارچ 2010 کو حزب المجاہدین سے اپنی مسلح زندگی کا آغاز کیا اور بہت جلد نائیکو نے ایک ماہر ریاضی دان ہونے کے ناطے انڈین فورسز کی مشکلات میں جمع کا اضافہ کیا 2016 میں ٹاپ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا آپریشنل چیف مقرر کیا گیا اور جلد ہی نائیکو کی صلاحیتوں سے انڈین فورسز بوکھلا گئیں اور ان کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپیہ مقرر کر دی گئی وانی کی شہادت کے بعد وہ سب سے معتبر اور زندہ ٹاپ کمانڈر تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے انڈین فورسز نے کئی آپریشن کئے مگر ہر بار ناکام رہی 2 مئی کو انڈین فورسز اپنے ایک کرنل،میجر اور سپیشل آپریشنل گروپ کے کمانڈو کی ہلاکت کے بعد سخت ہواس باختہ ہو گئی ایسے میں 6 مئی کو گزشتہ 6 ماہ سے ایجنسیوں کے سپیشل ٹارگٹ ریاض نائیکو کی اطلاع سکیورٹی فورسز کو ملی جنہوں نے اپنی حال ہی میں بنی درگت کا بدلہ لینے کیلئے بہت بڑا آپریشن کیا مگر نائیکو کو زندہ پکڑنے میں ناکام ہونے پر نائیکو کے پناہ حاصل کئے ٹھکانے کو بارود سے اڑا کر نائیکو کو شہید کر دیا گیا ان کیساتھ اور مجاہد بھی شہید ہوئے نائیکو کی شہادت پر انڈین فوج نے ایک تاریخی خوشی محسوس کی اور ایسے اظہار کیا جیسے اب تحریک آزادی کمزور ہو جائے گی مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ابو قاسم کی شہادت سے برہان وانی ابھر کر سامنے آیا تھا پھر اس کے بعد ریاض نائیکو انڈین فورسز کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا تھا حالانکہ اس وقت تک پہلے والی فریڈم فائٹرز تنظیمیں ہی تھیں جبکہ اب 4 مذید نئی مسلح عسکری تنظیمیں بھارت کے مدمقابل ہیں اور ان کے سربراہان انڈین فورسز کیلئے اپنے ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے ہیں جو کہ انڈین فورسز کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں
    نائیکو کی شہادت سے نئے نوجوان تحریک آزادی کیلئے میدانوں میں اتریں گے جیسے نائیکو اترا تھا سو یہ تحریک آزادی مذید تقویت کیساتھ انڈین فورسز کیلئے سر درد بنے گی اور تقویت پائے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کشمیریوں نے نا اپنے ارادے بدلے ہیں اور نا ہی اپنے نعرے اب ہر آنے والے دن میں کشمیریوں کے دلوں میں جذبہ آزادی ابھر رہا ہے
    شہید کی جو موت ہے قوم کی وہ حیات ہے

  • دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
    کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
    دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
    تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
    یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
    نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
    یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
    رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
    یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
    کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
    کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
    کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
    یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
    مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
    فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
    ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
    یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
    دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
    انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
    دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
    تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
    ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
    عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
    جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
    وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
    ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
    کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
    ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
    خرید کر بس رنج و ملال…
    بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
    اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
    کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
    تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
    اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
    جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
    منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
    تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
    تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
    کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
    نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
    یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
    واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
    اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
    ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
    یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
    جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
    =============================

  • میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟  تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟ تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟
    (جویریہ بتول)۔
    (ایک بہن کی فرمائش پر جو اس نے اپنی سالگرہ کے موقع پر لکھنے کے لیئے کی تھی)۔
    گزر گئیں دھیرے دھیرے گھڑیاں…
    ہوا زندگی کا ہے اک اور سال کم…
    دیوارِ حیات کی گری اک اور اینٹ…
    یہ میرے لیئے موقع خوشی ہے کہ غم؟
    گئے سال کے سب بیتے لمحوں میں…
    مسرت کی گھڑی اور غموں میں…
    کھو گیا سب،کہ کُچھ پا بھی سکی؟
    نئے رنگ بھرے کہ ہےتصویر بے رنگ ابھی؟
    میرے وقت کی قدر و اہداف آئے ہاتھ…
    کہ ساری صلاحیتیں وقت بہا لے گیا ساتھ؟
    میں غفلت کی ردا میں ہی سوئی رہی…
    کہ غمِ دنیا میں ہی کھوئی رہی؟؟
    اور وقت کا تو کام ہے ہی چلنا…
    اس کی لغت میں نہ کہیں ہے رُکنا…!!!
    کھو کر اک سال میں کیا خوشی مناؤں؟
    میری زندگی ہوئی ہے کم،دنیا کو بتاؤں؟
    کروں کیا میں سراسر تقلیدِ نصاریٰ؟
    اور دامن میں بھروں سودائے خسارہ؟؟
    جن کی آگ سے نہ روشنی لینے کا…
    جن کی تہذیب سے سدا دُور رہنے کا…
    فلاح کا رستہ محسنِ انسانیت دکھا گئے…
    حق و کامل ہے کیا؟ یہ عمل سے ہمیں بتا گئے…
    میرے ہاتھ میں ہے چراغ روشنئ کامل…
    پھر میں رہوں کیوں نہ اس پر ہی عامل…!!!
    یہی مری فلاح کا سامان ہے…
    یہی میری زندگی،مرا ایمان ہے…!!!
    میں جیئوں کہ مروں تو اس روشنی کے سنگ…
    جس سے ہومحبّت،ہو گا انسان اس آدمی کے سنگ…!!!
    یہی سوچ کر یہ سالگرہ میں مناتی نہیں…
    ہے ڈھونڈا بہت مگر، وجود اس کا نہیں پاتی کہیں…!!!
    ==============================

  • نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    گرفتح کی منزل تک پہنچنا ہو…
    دشمن کو قدموں میں روندنا ہو…
    وسائل پہ جرأتوں کو ہو فوقیت…
    کثرت پہ نازاں نہ ہونے کی تربیت…
    اپنے چمن کا حصار ہو مضبوط…
    کہیں بھی کہیں بھی ہو خلا نہ موجود…
    قلعے اور گھروندے سبھی رہیں مامون…
    تو صفوں کے غداروں پہ نظر ہو عقابی…
    جو موقع ملتے ہی نہ پلٹ سکیں جوابی…
    شجر کی جڑوں کو یہی کرتے ہیں کھوکھلا…
    جادہ و منزل میں یہی کرتے ہیں فاصلہ…
    عزائم کی راہوں میں دیوار بن کر…
    آستین میں پلتے سانپ پھن دار بن کر…
    وفاؤں کے دشمن وفا دار بن کر…
    جو رہتے ہیں ساتھ جی دار بن کر…
    جو گھٹن کی سخت آزمائش گھڑی میں…
    گھونپتے ہیں جو بس وہ ہوتا ہے خنجر…
    جو پیٹھ پیچھے سے کر کے وار کرتے ہیں بنجر…!!!
    عزم اور منزل کے رستے کے دشمن…
    یہ ہوتے ہیں ننگِ ملت اور ننگ وطن…!!!
    (4 مئی ٹیپو سلطان کے یومِ شہادت کی تاریخ کی مناسبت سے)۔

  • معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے  تحریر: فیصل ندیم

    معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے تحریر: فیصل ندیم

    معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے

    تحریر: فیصل ندیم

    میری طرح بیشمار لوگ اس سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اس کی آمد سے پہلے اس کا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
    ہر طرف اس کی باتیں اس کے ہی تزکرے ہوتے ہیں جیسے جیسے اس کی آمد قریب ہوتی ہے اس سے ملاقات کا اشتیاق بڑھتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
    وہ کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہمیشہ اس کے ساتھ بہت قیمتی تحائف ہوتے ہیں اتنے قیمتی کہ جن کی شائد دنیا میں دوسری مثال کوئی نہ ہو ۔۔۔۔
    اس کی آمد کے بعد ہر شخص کا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے ہر طرف اس کی آمد کی بات اور اس کے ساتھ آنے والے بیش قیمت تحائف کا ذکر ہوتا ہے ۔۔۔۔
    بڑا عجیب ہے وہ اسے آتے ہی جانے کی جلدی ہوتی ہے اتنی محبت اتنا پیار اسے ہر طرف سے مل رہا ہوتا ہے لیکن وہ رکتا نہیں ہے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
    وہ بڑا سخی ہے اپنے ساتھ لانے والے تمام قیمتی ترین تحائف ہمیشہ چھوڑ کر جاتا ہے کبھی بھی کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاتا ۔۔۔۔
    محبت کا دعوی اس سے سبھی کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس کے تحائف کی ناقدری کرتے ہیں انہیں ضائع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان بیش قیمت تحائف کی اصل قیمت سے واقف نہیں ہوتے ۔۔۔۔
    چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اس کے لائے گئے تحائف سنبھالتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ جو اس کے تحائف سنبھال لیتا ہے ان سے وہ کبھی بھی جدا نہیں ہوتا دوبارہ آنے تک ہر لمحہ اس کا ان لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے ۔۔۔۔
    جی ہاں یہ رمضان ماہ غفران ہے جو ہر سال آتا ہے اور بڑی جلدی چلا جاتا ہے ….
    آتے ہوئے اس کا دامن رحمتوں ،مغفرتوں ، برکتوں جیسے قیمتی ترین تحائف سے بھرا ہوتا ہے جنہیں یہ ہر ایک کو تقسیم کرتا ہے بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو ان تحائف کو سنبھال لیتے ہیں ۔۔۔۔
    رمضان کی آمد کا مقصود تقوی اس کے جانے کے بعد بھی ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جس کا ہمسفر یہ تقوی ہو اس سے رمضان کبھی نہیں جاتا یہ شوال سے شعبان تک اس بندے کے ساتھ ہوتا ہے جس نے رمضان کے لائے گئے بیش قیمت ترین تحفہ تقوی کو سنبھالا ہوتا ہے ۔۔۔۔
    اور وہ لوگ جو یہ بیش قیمت تحفہ سنبھالنے میں ناکام ہوں ان کا رمضان ان کے روزے ان کی نمازیں ان کی تلاوتیں ان کی تراویحیاں اور ان کے اذکار اپنے ساتھ لیکر صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں رخصت ہوجاتا ہے ۔۔۔
    یقین نہیں آتا تو رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء دیکھ لیں مغرب میں مساجد کی رونق اور عشاء میں مساجد کی ویرانی چلا چلا کر اعلان کررہی ہوتی ہیں جو رمضان کے بعد بھی رب کے حضور حاضر ہیں ان کا رمضان باقی ہے اور جو اس لازمی حاضری سے غیر حاضر ہیں ان کا رمضان چلا گیا ہے ۔۔۔۔
    واضح رہے رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء کے بیچ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت ہوتا ہے

  • خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول   تحریر: حافظہ قندیل تبسم

    خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول تحریر: حافظہ قندیل تبسم

    خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول

    حافظہ قندیل تبسم

    اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں فرمایا :
    "واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین”
    اور اچھائی کرو بلاشبہ اللہ تعالی اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "اگر میں اپنے بھائی کے کسی کام آ جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنی اس مسجد میں ایک ماہ اعتکاف کروں۔
    اور فرمایا :
    "ومن کان فی حاجة اخيه ،كان الله فى حاجته”
    ” جو اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے ہے اللہ اس کے کام میں لگا رہتا ہے۔”

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں چل رہے ہوتے کوئی لونڈی آپ کو ٹھہرا لیتی اور کہتی :
    مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے تو آپ کھڑے ہو کر اس کی بات سنتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ آپ اس کے ساتھ اس کے آقا کے ہاں چلے جاتے اور اس کا مسئلہ حل کراتے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے میل جول رکھتے اور ان کے مصائب و آلام پر صبر کرتے تھے آپ کا لوگوں سے برتاؤ نہایت رحیمانہ تھا آپ انہیں اور اپنے آپ کو جسد واحد سمجھتے تھے غریب کی غربت، غمزدہ کے غم، مریض کے مرض اور محتاج کی محتاجی کا احساس رکھتے تھے۔

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے صحابۂ کرام سے باتوں میں مشغول تھے کہ دور سے چند لوگ آتے دکھائی دیے۔ وہ فقراء و مسکین تھے جو نجد کی جانب سے آئے تھے ان کا تعلق قبیلۂ مضر سے تھا۔ ناداری کی انتہا یہ تھی کہ انہیں کپڑے سلائی کرنے کو سوئی دھاگا بھی میسر نہیں تھا اور انہوں نے کپڑے درمیان سے چاک کر کے گردنوں میں لٹکا رکھے تھے اس ایک کپڑے کے علاوہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی تہبند، عمامہ، شلوار یا چادر نہیں تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ عریانی، تنگ دستی اور بھوک دیکھی تو آپ کا رنگ فق ہو گیا فوراً کھڑے ہوئے گھر تشریف لے گئے لیکن کچھ نہ ملا آپ اس گھر سے نکلے اور دوسرے گھر میں داخل ہوئے ادھر بھی کچھ نہیں تھا پھر مسجد کی طرف چل پڑے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا :
    "اما بعد، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا :
    اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بچو بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (سورۃ النسآء 1)
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ لے کہ کل (قیامت) کے لیے اس نے( اعمال کا )کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔ (الحشر 18)

    اسی طرح آپ آیات سنا سنا کے نصیحت کرتے رہے پھر فرمایا :
    صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تم صدقہ نہ کر سکو۔ صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں صدقہ کرنے سے روک دیا جائے۔ ہر شخص اپنے درہم و دینار گندم اور جو کا صدقہ کرے اور کوئی صدقے کی کسی چیز کو حقیر نہ جانے۔
    پھر آپ صدقے کی انوع گنواتے رہے۔ آخر میں فرمایا :
    صدقہ کرو خواہ آدھی کھجور ہی کا ہو۔ اس پر انصار کا ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ایک تھیلی لیے کھڑا ہوا اس نے وہ تھیلی منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دی۔ آپ کے مبارک چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیے۔ مجلس برخاست ہوئی ۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے اور صدقات لے کر آئے کوئی ایک دینار لے کر آیا تو کوئی ایک درہم۔ کوئی ایک کھجور لایا اور کوئی کپڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو ڈھیر لگ گئے۔ ایک ڈھیر کھانے پینے کی اشیاء کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا چہرہ دمکنے لگا گویا چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ نے یہ سارا سامان انہیں فقراء میں تقسیم کر دیا۔
    جی ہاں!
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ضروریات پوری کر کے ان کے دل جیت لیتے تھے۔ آپ ان کے لیے اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی کوشش صرف کرتے تھے۔
    آپ بھی لوگوں کی ضروریات پوری کر کے اور ان کے کام آ کے اس راستے سے ان کے دلوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بے لوث ہو کر کام آئیں وہ آپ سے محبت کریں گے۔ آپ کے لیے دعا گو رہیں گے اور جب کبھی آپ کو ضرورت پڑے گی آپ کی مدد کو آئیں گے۔

    کسی عرب شاعر نے کہا تھا :
    احسن الی الناس تستعبد قلوبھم
    فظالما استعبد الانسان احسان
    لوگوں سے اچھائی کرو تم ان کے دلوں کو اپنا غلام بنا لو گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ احسان انسان کو اپنا بنا لیتا ہے۔

    ایک عربی کہاوت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
    (الانسان عبد الاحسان)
    "انسان احسان کا بندہ ہے ۔”

    الغرض پریشان اور ضرورت مند لوگوں کی حاجت براری کر کے ہم ان کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں اور مالک الملک کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
    بقول اقبال

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جسے خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

  • اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری   بقلم: منہال زاہد سخی

    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری بقلم: منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    سب کچھ بھول بھلا کر پھر وہ شعر کہتا ہے
    سب کو چپ لگا کر پھر وہ شعر کہتا ہے

    بیزار نظر آتے تھے جو شعر و شاعری سے
    اب اس گروہ کا ہر فرد شعر سنتا ہے شعر کہتا ہے

    پریشان نظر آتے ہیں گھر کے سبھی افراد کہ
    سب کو ستاتا ہے اسے الہام ہوتا ہے پھر یہ شعر کہتا ہے

    وہ منظر کی خوبصورتی بڑھانے میں کوشاں ہے
    وہ منظر کو چار چاند لگانے میں شعر کہتا ہے

    یہ شاعری ہے کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے اس میں
    گھما پھرا کر کہتا ہے پھر وہ شعر کہتا ہے

    سب متاثر نظر آتے ہیں اب شعراء سے سخی
    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے

    #قلم_سخی

  • "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”  از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ” از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    از قلم ایمان کشمیری

    صد شکر کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور سعادتوں والا مہینہ ہم پر پھر سے سایہِ فگن ہے ، یہ مہینہ اتنا بابرکت ہے کہ اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا کر سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے ، اس مہینے میں رب کی رحمت ، برکت اور مغفرت بے بہا ہو جاتی ہے ۔۔ اسی مہینے کے بارے میں ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ناں کہ :

    ” اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،جس پر رمضان آئے اور وہ گزر جائے مگر اِس کے گناہ معاف نہ ہوں ”

    ناک خاک آلود ہونے سے مراد اللہ کی رحمت سے محرومی ہے، یعنی جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا مگر اُس نے اس مہینے میں رب کو راضی کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے تو وہ بہت بدقسمت ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔
    آپ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہم کرونا وائرس جیسی آزمائش میں مبتلا تھے، اِس نظر نہ آنے والے وائرس کا خوف اِس قدر طاری ہو چکا تھا کہ سب گھروں میں بند ہو گئے تھے ، سکول ، کالج، یونیورسٹیاں ،مدارس ، بازار یہاں تک کہ مساجد کو بھی بند کر دیا گیا تھا مبادا کہ کسی متاثرہ بندے سے دوسرے کو وائرس ٹرانسفر نہ ہو جائے ۔۔۔ قصہ مختصر کہ پوری دُنیا اس چھوٹے سے اور نظر نہ آنے والے وائرس کی وجہ سے سُنسان اور ویران ہو چکی تھی ۔۔ ہم مسلمان جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہ تو رب کی اجازت کے بغیر آ سکتی ہے اور نہ ہی جا سکتی ہے، چنانچہ ہم رمضان المبارک کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گا رب اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کے سبب ہم سے اِس آزمائش کو ختم کر دے گا ، ہم روزے کی حالت میں زیادہ رب کے قریب ہوں گے ، زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے ، رو رو کے اپنی عرضیاں رب کے حضور پیش کریں گے مطلب جتنی بھی سستی اور کوتاہی ہم سے گزشتہ زندگی میں ہو چکی ہم اِس مہینے میں اُس کا ازالہ کر لیں گے ۔۔۔
    مگر افسوس ہوا کیا ،رمضان المبارک کا مہینہ تو شروع ہو گیا اور ہم جو رمضان المبارک کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ترکی کے ایک سیریل ارطغرل میں مگن ہو گئے ، ہم بھول گئے کہ ہم کس مصیبت سے دو چار تھے اور ہمیں اِس مہینے کی کتنی ضرورت تھی ۔۔ آپ کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ میں اِس سیریل کے دیکھنے پہ فتوٰی لگانے لگی ہوں ، ارے نہیں نہیں ۔۔۔ میں نہ تو کوئی عالمہ ہوں اور نہ ہی مفتیہ، میں اِس سیریل کو دیکھنے سے منع بھی نہیں کر رہی ،انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے تو بہتر ہے ایسے سیریل ہی دیکھ لیے جائیں ، مگر میں یہاں جس چیز کےلیے فکر مند ہو رہی ہوں وہ رمضان المبارک کا تیزی سے گزرتا ہوا مہینہ ہے ، ہاں وہی مہینہ جس کے روزوں کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ :

    ” روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اِس کا اجر دوں گا ”

    مطلب رب نے سب عبادات کا اجر بتا دیا مگر روزے کا اجر چھُپا لیا اور کہا یہ میرا اور میرے بندے کا معاملہ ہے میں جتنا بھی چاہوں گا اُسے بڑھا چڑھا کے اجر دوں گا ، ذرا سوچیے جس روزے کا اجر رب نے اس طرح دینا ہو اُس کے کچھ تقاضے بھی تو ہوں گے ناں ۔۔۔
    اب ہوا کیا ہم نے روزہ تو رکھ لیا مگر روزے کے تقاضوں کو یکسر بھول گئے ، ہم بھول گئے کہ ہمیں روزے کی حالت میں کن کن کاموں سے بچنا تھا ، ہم بھول گئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن پاک اور اذکار کی پابندی کرنی تھی ، ہم بھول گئے کہ ہمیں اپنی مناجات سے رب کو راضی کرنا تھا تاکہ وہ ہم پر آئی ہوئی آزمائش کو ختم کر دے ۔۔۔۔ ہمیں یاد رہا تو بس یہی کہ ارطغرل سیریل دیکھنا ہے تاکہ جذبہِ جہاد پیدا ہو ۔۔۔۔۔ ارے یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جس نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو کھا لیا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جو رمضان المبارک کے مہینے میں لڑے گئے غزوؤں سے تو پیدا نہ ہوا اور اِس سیریل سے پیدا ہونے لگا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے کہ ہمارے مجاہدین روز دو ،دو ، چار کر کے شہید ہونے لگے اور ہمیں اُن کےلیے دُعا کی بھی فرصت نہ مل سکی ۔۔۔ ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں تو حلیمہ کی ادائیں اور شاہینہ کی وفائیں ہی ثبت ہو کے رہ گئیں ، ہمارے جوانوں کو یاد رہیں تو بس شہناز خاتون کی عیاریاں اور عالیہ خاتون کی مکاریاں ۔۔۔
    میں جانتی ہوں کہ میری بات بہت سے لوگوں کڑوی محسوس ہو گی مگر ساتھ یہ بھی دعوی سے کہتی ہوں کہ آپ کے ضمیر اِس بات کی گواہی دیں گے کہ سیریل کو دیکھتے ہوئے نوجوان کس چیز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ،ارے دیکھنا ہی تھا تو رمضان کے بعد دیکھ لیتے مگر افسوس وہ لوگ جن کو اِس سیریل کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا اُنہوں نے بھی عبادت سمجھ کے اِسے رمضان میں دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میں نے بغور مشاہدہ کیا کہ ہمارے نوجوان اِس سیریل کو دیکھنے کے بعد اِس میں موجود خواتین کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ، کچھ حضرات تو خواتین کی تصاویر اور ویڈیو کلپس اپنی ٹائم لائن پر لگا کر خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں ،،،،، میری بہنیں جنھوں نے کبھی اپنی تصویر فیس بک پر اپلوڈ نہیں کی تھی ،وہ بھی سیریل میں موجود خواتین کی تصاویر کو اپنی پروفائل پر لگا کر فخر محسوس کرتی ہیں ، عزیز بہنو!!! تھوڑا نہیں پورا سوچو کہ تمہاری پروفائل پہ لگی ایک غیر محرم عورت کی تصویر کو جب ہمارے جوان زوم کر کے دیکھیں گے اور اُن کے دِل میں بُرے خیالات پیدا ہوں گے تو کیا تمہیں ثواب ہو گا ؟؟؟
    درست کہتے ہیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ مثبت پہلو اپناتا ہے یا منفی ۔۔۔ جہاں تک میرا اندازہ اور مشاہدہ ہے تو ہمارا جھکاؤ اِس سیریل کے منفی پہلو کی طرف زیادہ ہے ، زیادہ دکھ اِس بات کا ہے کہ ہم نے اِس سیریل کو رمضانُ المبارک پر فوقیت دے دی ،،،، ارے سیریل تو رمضان کے بعد بھی دیکھا جاتا مگر کیا پتہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو کہ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دردِ دِل سے التجا کرتی ہوں ابھی بھی وقت ہے رمضانُ المبارک کی با برکت ساعتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لیں ، سیریل کو دیکھنا فی الحال ترک کر دیں ، رمضان کے بعد یہی کام ہوتے رہیں گے ، ابھی رب کو منانے کا وقت ہے ،ایسا نہ ہو کہ یہ قیمتی ساعتیں گزر جائیں اور ہم خالی ہاتھ ، نامراد رہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آئیے رب کی بارگاہ میں سب ہاتھوں کو اُٹھاتے ہیں ، سر کو جھکاتے ہیں ، اُسے مناتے ہیں کہ وہ ہم سے وائرس جیسی آزمائش کو دور کر دے ،،،،، میدانِ کارزار گرم ہے ہمارے کشمیری بھائی روز اپنے رب کو شہادتوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ، ہم اُن کےلیے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم رب سے اُن کی فتح ، نصرت اور مدد کےلیے التجا تو کر سکتے ہیں ناں ،،، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔ آمین یا رب المجاہدین، یا ارحم الراحمین ، ارحم لنا

  • ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر  بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔


    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!