Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان، خواب سے تعبیر تک     بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک
    علی حسن اصغر ، لاہور

    عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
    عشق میری زندگی آزادی میرا ایمان ہے
    عشق پہ کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
    اور آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

    پاکستان آج سے بہتر سال پہلے 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پرابھرا۔ پاکستان کو قیام میں آنے سے پہلے اور قیام میں آنے کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ بدقسمتی سے ہم جن مسائل سے دوچار ہیں ہم انہیں مسائل سمجھتے ہی نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت کو جب ہماری ترقی برداشت نہیں ہوئی تو اس نے یکے بعد دیگرے پاکستان پر چارجنگیں مسلط کیں لیکن وہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس پر یہ بات عیاں ہوچکی کہ پاکستان کو میدان جنگ میں ہرانا ناممکن ہے تو پھراس نے سردجنگ کا سہارا لیا ۔ اس جنگ کا جس پر ہم ہنستے ہیں یعنی لطیفوں کے ذریعے پاکستان کی عوام میں تعصبات پیدا کرنا ۔
    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پشتون برادری انتہائی نازک احساسات رکھتی ہے ان احساسات کو پچھلے کئی سالوں سے مجروح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان پر اب تک ان گنت لطیفے بن چکے ہیں ۔لیکن کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ جب ہم اس لطیفے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے پٹھان بھائیوں پر اس وقت کیا بیتتی ہے؟یقیناً یہ بات ہم نے کبھی نہیں سوچی۔ اس بات سے تو ہم سب آشنا ہیں کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے خیبرپختونخوا کو ایک علیحدہ ملک پختونستان بنانے کے درپے ہے اور بلوچستان کو بھی علیحدہ کروانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر بلوچستان کی تمام معدنیات کو استعمال کیا گیا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا اور ان لطیفوں کے ذریعے وہ سب کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے یعنی
    DIVIDE AND RULE
    ہمیں چاہیے کہ ہم ان لطیفوں کو سختی سے رد کریں اور اپنے بھائیوں کے دلوں میں نفاق کا جو پودا بویا جا رہا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ دیں تاکہ کہ تعصب کی اس زہریلی ہوا کو ختم کیا جاسکے۔
    اسی طرح پاکستان کے عوام پر بھی اتنے لطیفے بن چکے ہیں کہ اگر پاکستانی عوام کا ذکر بھی آجائے تو ہمارے ذہن میں فوراً کیا سوچ آتی ہے؟ یہی کہ بے ایمان، نکمی، نالائق، ایک ایسے ملک میں رہنے والی عوام جہاں بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں، جہاں ترقی کے مواقع بھی میسر نہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔
    اپنے بارے میں ہمارا یہ نظریہ بالکل درست نہیں۔ پاکستان میں ترقی کے مواقع بھی میسر ہیں اور سہولیات بھی، پاکستانی عوام ہنر مند بھی ہے اور ایماندار بھی، اگر آج بھی کوئی عورت بغیر کسی خوف کے گھر سے باہر نکل سکتی ہے تو یہ اس کا پاکستان پر بھروسہ ہے یا پاکستانی عوام کی غیرت مندی ، اگر ہم ناساز حالات میں بغیر کسی کی مدد کے ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام ہنر مند نہیں ؟ پاکستان میں آج بھی ارفع جیسے قابل اور مند لوگ ہیں ۔ پاکستان کے متعلق جتنی بھی منفی سوچیں پائی جاتی ہیں حقیقت میں انکی کچھ بنیاد نہیں۔ پاکستان کی قوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی فوج رکھتا ہے جس میں خودکشی کی شرح 0% ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت کی فوج میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے ۔ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ دنیا کی نمک کی دوسری بڑی کان (کھیوڑا) پاکستان میں موجود ہے ۔ سوئی کے مقام پر نکلنے والی گیس کے ذخیرے کا شمار دنیا کے بڑے ذخیروں میں ہوتا ہے۔ دنیا کا بہترین نہری نظام، تھر کا کوئلہ، معدنیات سے مالامال بلوچستان، الغرض پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔
    پاکستان کو اتنے چھوٹے پیمانے پر ماپنا اور کہہ دینا کے پاکستان میں ہے ہی کیا؟ کیا یہ اس ملک کے درودیوار سے غداری نہیں ہے؟ وہ ملک جس نے ہمیں بچپن سے اب تک محفوظ پناہ گاہ دی اور ہمیں آزاد زندگی گزارنےکا موقع فراہم کیا اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ پاکستان نے آج تک ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ کیا یہ احسان فراموشی نہیں ہے؟ ہمیں ان سب باتوں پر غور کرنا چاہئے مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایسا کہنے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ پاکستان اسرائیل اور بھارت کی آنکھوں میں چبھتا کتنا بڑا کانٹا ہے اور وہ یہ پروپیگنڈا کیوں کر رہے ہیں۔
    آئیں اس پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں۔ پاکستانی عوام کا حوصلہ اور عزم بلند رکھیں ۔ یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد کے خون پسینے سے اور ان کی لاکھوں قربانیوں سے معرض وجود میں آیا۔ یہ وطن اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ یقینا یہ وہی ملک ہے جس سے متعلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
    "مشرق کی جانب سے مجھے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”
    پاکستان اسلام کا حقیقی قلعہ ہے۔ آئیں اس قلعے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

  • کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے   از:منہال زاہد سخیٓ

    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے از:منہال زاہد سخیٓ

    شاعری:منہال زاہد سخیٓ

    وہ صبح صبح اٹھ کے جو ہمیشہ ٹھنڈ میں جاتا ہے۔
    نہ اپنا خیال نہ کسی کی سوچ بچوں کیلئے کماتا ہے۔

    دن بھر تھک کر بھی اپنے لئے لیتا نہیں کچھ
    تھکا ماندا گھر پھر بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہے ۔

    پسینے میں شرابور تھکی ٹانگوں کے ساتھ آ لیٹتا ہے۔
    کہیں تھک نہ جائیں بچے وہ ٹانگیں نہیں دبواتا ہے ۔

    کھانے میں چوری چوری کچھ لقمے کھاتا ہے۔
    بچوں کو کھاتا دیکھ اس کا پیٹ بھر جاتا ہے۔

    راتوں کو اٹھ کر دیکھتا ہے کمبل کہیں اتر جائے تو ۔
    تکیے بچوں کو دے کر بن سرہانے سوجاتا ہے۔

    کسی بیماری کا تذکرہ نہیں کرتا بچوں سے
    بچوں کی خاطر ہمیشہ سب آنسو پی جاتا ہے ۔

    بچہ جو سمجھنے آجائے اسکول کا کچھ
    ایک جمع دو کر کے ریاضی بھی سکھاتا ہے ۔

    کہیں میں مر جاؤں تو کون پالے گا ان کو
    بچوں کے بارے میں سوچ کر بہت گھبراتا ہے

    ہمیشہ لمبا سایہ رکھ ہمارے سر پر باپ کا
    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے-

  • تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے  از : منہال زاہد سخی

    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے از : منہال زاہد سخی

    شاعر : منہال زاہد سخی

    ⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁩⁦❤️⁩(ماں)⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩

    ہمیشہ انتظار میں دروازے کی چوکھٹ پہ رہتی ہے
    میرے خیال میں اپنے خیال سے بھی ہٹ کے رہتی ہے

    چہرے پر وہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے رکھتی ہے
    حقیقت میں وہ اندر ہی اندر سے بٹ کے رہتی ہے

    اُس رات ایک چیخ کیا پڑ گئی اُس کے کانوں میں
    اِس رات بھی سُلاتے ہوئے لوری رٹ کے رہتی ہے

    بیٹے کی آئے دن محلہ سے آتی ہیں شکایتیں
    میرا بیٹا نہیں کر سکتا یوں وہ ڈٹ کے رہتی ہے

    کچھ لمحات ہی اضافی گزر جائیں اس کے بن
    ماں تو اپنے سے بھی ناطہ کٹ کے رہتی ہے

    پانچ وقت اس کی آنکھیں نم دیکھتا ہوں سخی
    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے

    #SAKHI

  • اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی  بقلم : عشاءنعیم

    اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی بقلم : عشاءنعیم

    اک شمع جلا ایسی
    تحریر: عشاء نعیم

    کسی بھی معاشرے میں جیسا کہ کہا جاتا ہے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو اس نوجوان نسل سے مراد صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی ہیں ۔ آج کے دور میں کسی بھی معاشرے میں لڑکی کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے بیٹی کا کردار محدود سمجھا جاتا ہے اور بیٹے کا کردار اہم ۔ سچ تو یہ ہے کہ معاشرے کی اصل روح بیٹی ہے ۔
    بیٹی ۔رحمت ،اور خوشی کا دوسرا نام ہے تو یہی بیٹی ہے جسے پاکر ان جانے خوف میں بھی گھر جاتے ہیں ۔
    اس خوف کی وجہ دنیا بھی اور بیٹی کا دنیا سے انجان ہونا بھی ہوتا ہے ۔
    والدین کا یہ خوف بہادر اور باشعور بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی ہیں اتار دیتی ہیں اور والدین خوشی و سکون محسوس کرتے ہیں ۔لیکن بھولی بھالی اور دنیا سے انجان بیٹیاں جب اس دنیا کے مکرو فریب اور داؤ پیچ کو نہیں سمجھ پاتیں، جب وہ نہیں جان پاتیں کہ اصل زندگی ہے کیا اور وہ ہر چمکتی چیز سونا سمجھ لیتی ہیں یا ہر میٹھا بول خلوص سمجھ لیتی ہیں تو یہی بیٹیاں ماں باپ کو کمزور کر دیتی ہیں۔یہی بیٹیاں جو خوشی کا باعث ہوتی ہیں ماں باپ کےلئے درد اور دنیا کے لئے بوجھ بن جاتی ہیں۔
    یہی بیٹی مثالی اور اعلی کردار پیش کر کے کئی بیٹیوں کے لئے راہیں کھول دیتی ہے اور یہی ایک بیٹی ذرا سی غلطی سے خود تو راہیں کھوتی ہی ہے لیکن کتنے ہی گھرانے اس ایک مثال کو لے کر اپنی بیٹیوں کو اندھیروں کی نظر کر دیتے ہیں۔
    ہمارے اپنے گھر کی مثال ہے کہ میرے دادا ابو بیٹیوں کو پڑھانے کے شدید مخالف تھے۔ وجہ معاشرے کی قائم کردہ مثالیں، وہ چند ایک نا سمجھ لڑکیاں تھیں جو نادانی کر بیٹھی تھیں۔میری پھوپھیاں اسی وجہ سے علم کی روشنی سے محروم رہیں، میرے بڑی بہنیں بھی سکول کا منہ نہ دیکھ پائیں ۔ لیکن والدہ کو تعلیم سے بہت محبت تھی خود بھی تھوڑا سا پڑھی ہوئی تھیں لیکن بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کا شوق تھا۔ اسی لیے ہر قسم کی رکاوٹ کو بالآخر عبور کرتے ہوئے مجھے سکول داخل کروادیا ۔
    گھر میں ہر وقت یہی سنا کہ پڑھائی لکھائی ٹھیک نہیں (ایک بہت بڑے گھر میں پورشن تھے دو تین فیمیلز اکٹھی تھیں وہ سب باتیں کرتے تھے۔)
    یہی وجہ ہے کہ جب مجھے سکول داخل کروایا گیا اور میں نے شعور کی سیڑھی پہ قدم رکھا تو اس قسم کی بات سے خوف کھانے لگی ۔پڑھائی کا جنون تھا اور کسی جھوٹی بات کے الزام سے بھی خوف زدہ رہتی۔کسی لڑکی کی ذرا سی ایسی بات پتہ چلتی دوستی ہی چھوڑ دیتی کہ کہیں اس کی وجہ سے مجھ پہ الزام نہ آ جائے یا میرا کردار نہ خراب ہو جائے۔
    ایسی ویسی بات سے ہی نفرت ہو گئی ۔
    ہر وقت اپنی عزت اور ماں باپ کی عزت ملحوظ رہتی ۔
    الحمداللہ، اللہ کی رحمت سے جب میٹرک کیا تو دادا ابو نے فخر سے کہا مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو نہیں پڑھایا ۔میری پوتی نے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔
    گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور الحمدللہ اپنے ماں باپ کو اتنا اعتماد دیا کہ بڑی آپیاں بھی پڑھنے لگیں۔
    پھر پھوپھیوں کی بچیاں بھی سکولز جا پہنچیں ۔
    جب ایک لڑکی پڑھ لکھ جاتی ہے تو اس کی اولاد لازمی پڑھی لکھی ہوتی ہے جبکہ ایک پڑھے لکھے مرد کی اولاد لازمی پڑھی لکھی نہیں ہوتی ۔
    اس کا مطلب ہے ایک لڑکی کئی نسلوں تک اپنا کردار پہنچاتی ہے۔
    یوں اک چراغ سے اگلا چراغ جلتا چلا گیا الحمدللہ۔
    علم کے زیور سے آراستہ ہونے کی بنا پر شرک و واحدانیت کا فرق سمجھ آیا، دین کی سوجھ بوجھ پختہ ہوئی تو الحمدللہ واحدانیت کو اپنایا جس سے اسی طرح روشنی بڑھی جس طرح تعلیم سے بڑھی تھی اور نہ صرف گھر میں ہر شخص موحد ہوتا چلا گیا بلکہ یہ روشنی بھی بڑھتی چلی گئی اور پھوپھیوں کے دلوں کو روشن کرتی چلی گئی۔
    اس کا مطلب ہے بیٹی کا کردار بہت ہی اہم ہے۔بیٹی، وہ فرد ہے جو اپنے کردار سے آپ کا سر فخر سے بلند تو کرتی ہی ہے کئی گھروں تک اس کے کردار کی خوشبو پہنچتی ہے جس سے وہ گھر بھی متاثر ہوتے ہیں اور اپنے کردار سے کئی گھروں کو اندھیروں میں ڈبو سکتی ہے ۔
    اس لیے اے بنت حوا!
    تو اپنے کردار سے جنت، جہنم کا فیصلہ تو کرتی ہی ہے معاشرے میں بھی دیکھ لینا تم کیا کیا اثرات مرتب کر سکتی ہو۔
    اگر پڑھتی ہو ،جاب کرتی ہو یا سوشل میڈیا پہ ہو ہر جگہ جو کردار ادا کرو گی وہ کردار صرف تمہارا ذاتی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اچھا یا برا وہ مثال بن جائے گا اور دیگر بیٹیوں کے لئے راہ متعین کر دے گا۔
    سوشل میڈیا پہ بیٹھی ہو تو ان ہاتھوں کے استعمال سے پہلے کچھ حروف کو ملا کر جو لفظ بناتی ہو تو دھیان رکھنا یہ کس کو کیا لکھ رہی ہو۔ کہیں تمہارے ہاتھوں سے نکلے چند لفظ جو جملہ بن جاتے ہیں کسی کے گھر پر بم بن کر نہ گر جائیں، کسی کے آشیانے کو آگ نہ لگا جائیں ۔
    کسی کی زندگی جہنم نہ بنادیں ۔کسی کا چین نہ لے جائیں ۔تمہارے ماں باپ کا سر شرم سے نہ جھکا جائیں ۔تمہیں اندھیروں میں نہ لے جائیں ۔
    ماں باپ جو تمہارے ناز، نخرے اٹھاتے ہیں باپ دن بھر محنت کرتا ہے اور ماں گھر میں جس طرح محنت کرتی اور گھر کو سنبھالتی ہے تم پہ وہ دونوں اعتماد کرتے ہیں تم بھی اپنے کردار سے ان کی محبتوں اور محنتوں سے اس کا سر فخر سے بلند کردو تو جنت کا ساماں بھی بنو۔
    انھیں اپنے دئیے گئے اعتماد سے رسوا کر کے پچھتاوا نہ لگاؤ کہ کیوں اعتماد کیا ۔
    صرف ماں باپ ہی نہیں روتے معاشرے کے دیگر ماں باپ بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور اس مثال کو لے کر بیٹیوں پہ اعتماد نہیں کرتے اور وہ اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔یعنی تمہارے کردار کی اک شمع سے جہاں کئی شمع جلتی ہیں وہیں اک غلط قدم اور اندھیرے میں قدم رکھ دینے سے کئی اور بھی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔سو
    ہر قدم پہ دھیان رکھنا
    یوں ہی نہ نادان بننا
    جلا کر چراغ روشنی کرنا
    کہیں بھٹک کر نہ پشیمان ہونا

  • والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں    ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام
    ازقلم:-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
    (ترجمہ)
    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔

    (بنی اسرائیل:23)

    مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُف تک بھی نہ کہو،والدین کی عزت واحترام دینی و دنیاوی بہتری کا سبب ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

    وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
    ترجمہ :-

    اور اللہ کی عبادت کرو ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ( ٢٩ ) ساتھ بیٹھے ( یا ساتھ کھڑے ) ہوئے شخص ( ٣٠ ) اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی ( اچھا برتاؤ رکھو ) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ۔

    (النساء:36)

    اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے۔
    یَسۡئَلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

    ترجمہ

    لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے ) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین ، قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہئے ۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو ، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔

    (البقرہ:215)

    رسول کریم ﷺ نے بھی ہمیں والدین سے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ بتلادوں؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اورنہ والدین کی نافرمانی کرنا۔

    والدین کی حیثیت گھر میں نگران کی ہے ۔ اولاد اگر سنجیدگی اور تدبر سے کام لے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے بعد صحیح معنوں میں قابل احترام اور لائق اطاعت اگر کوئی ہستی ہے تو وہ والدین ہیں۔والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری بھی عبادت میں داخل ہے، لیکن اگر والدین کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہو تو ان کی اطاعت فرض نہیں بلکہ شریعت کی اطاعت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور وہ دونوں (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تُو ان کا کہنا نہ ماننا ،ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا‘‘ والدین کا مقام و مرتبہ اس قدر اہم ہے کہ توحید و عبادت کے بعد اطاعت و خدمت والدین کو ضروری قرار دیا گیا کیونکہ جہاں انسانی وجود کا حقیقی سبب اللہ ہے تو وہیں ظاہری سبب والدین۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گنا ہ والدین کی نافرمانی ہے،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

    (صحیح بخاری)

    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور اپنے والدین کو جھڑک مت اور ان سے نرمی سے پیش آ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ چنانچہ فرمایا (ترجمہ) اور تو کہہ کہ اے میرے رب میرے والدین پر رحم کر جس طرح بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔

    (بنی اسرائیل: 25)

    حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا والدین کی فرمانبرداری۔

    (صحیح بخاری)

    حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ آپؐ کے ساتھ ہجرت اور جہاد کرنے کیلئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ تو اس شخص نے کہا: دونوں حیات ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے پوچھا: کیا تو واقعی اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا طالب ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے والدین کے پاس جا اور ان کی خدمت کر۔

    (صحیح مسلم)

    ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟
    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ۔

    (صحیح بخاری)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے ۔ چنانچہ تمہیں اختیار ہے خواہ ( اس کی نافرمانی کرکے اور دل دکھا کے) اس دروازہ کوضائع کردو یا ( اس کی فرمانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر) اس دروازہ کی حفاظت کرو۔

    (جامع ترمذی)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھا دیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    آپ ﷺنے ارشاد فرمایا وہ شخص ذلیل وخوار ہو۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! کون ذلیل و خوار ہو ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر(ان کی خدمت کے ذریعہ) جنت میں داخل نہ ہو۔

    (صحیح مسلم)

    حضرت ابو اسید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللہ ؐ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ ہاں کیوں نہیں ۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو،ان کے لئے بخشش طلب کرو ، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو ۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حُسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔

    (ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین)

    حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور رزق میں فراوانی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حُسن سلوک کرے (اور اپنے عزیزواقارب کے ساتھ بنا کر رکھے) اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرے ، اس کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ آنحضور ﷺ نے بیان فرمایا کہ بندے سے اللہ کا راضی ہونا بندے سے اللہ کا ناراض ہونا، والدین کی رضامندی و ناراضگی کے ساتھ وابستہ ہے۔
    ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا رب کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے،رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔

    (الجامع الصغیر)

    حضرت ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مقام جعرانہ میں دیکھا ۔ آپ گوشت تقسیم فرما رہے تھے ۔ اس دوران ایک عورت آئی تو حضور ﷺ نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی ۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون خاتون ہیں جس کی حضور ﷺ اس قدر عزت فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ حضور ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔
    قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا ہمیں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ خاص کر جب والدین یا دونوںمیں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا حتیٰ کہ ان کو اُف تک نہیں کہنا چاہئے۔ ادب و احترام محبت و خلوص کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ ان کا ادب واحترام کرنا چاہئے۔ ان سے محبت کرنی چاہئے۔ ان کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ ان کی خدمت کرنا،ان کو حتی الامکان آرام پہنچانا ، ان کی ضروریات پوری کرنا ، یہ سب ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔سال یکم جون کو دنیا بھر میں والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد والدین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ بلاشبہ ماں، باپ قدرت کی عظیم نعمت ہیں۔ وہ بچّے کو پیدائش سے لے کر اُس کی تعلیم وتربیت اور معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے تک اہم کردار ادا کرتے ہیں، اُس کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتے ہیں، اُسے زمانے کے ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں، گویا اُس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیتے ہیں، لیکن افسوس کہ جب وہی اولاد بڑی ہوجاتی ہے تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔ حالاںکہ اُس وقت اُن کو اُس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں کہ اولاد نے بڑھاپے میں ماں باپ کو گھروں سے نکال دیا، بے سہارا چھوڑ دیا، اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیا، اولڈ ہاؤسز میں داخل کرادیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بچّے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے والدین سے انتہائی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں، اُن کی نافرمانی وتیرہ بنالیتے ہیں، اولاد کے پاس والدین کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ دُنیاوی مشاغل میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ماں باپ کے پاس دوگھڑی بیٹھنا اُن کے لیے دُشوار ہوجاتا ہے۔ والدین بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ افسوس کہ نافرمان اولاد کے قصے کہانیاں زبان زدعام ہیں۔مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے جمعہ کا خطبہ والدین کے حقوق کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندگان خدا دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے پابند ہیں۔ سب سے پہلے اللہ کاحق آتا ہے۔ ہر فرد کو اللہ کے حقوق بلا کم و کاست ادا کرنے ضروری ہیں۔ جو لوگ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

    امام مسجد نبوی نے کہاکہ پانچوں نمازوں کی بروقت باجماعت ادائیگی اللہ کا حق ہے۔ اللہ او ررسول کے حقوق کے بعد سب سے پہلے والدین کے حقوق کا نمبر آتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے حق کا ذکر کرتے ہی والدین کے حقوق کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق پر اسلئے بہت زیادہ زوردیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ، والدین ہی کی بدولت انسان کو جنم دیتے ہیں۔ ماں بچے کی پیدائش کے حوالے سے غیر معمولی مشقت اور زحمت جھیلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو والدین کی خدمت کی غیر معمولی تاکید کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے کہ ایسا انسان جسے اپنے بوڑھے والدین نصیب ہوں یا ان میں سے کوئی ایک اس کی زندگی میں ہو اور پھر وہ جنت میں داخلے کا اہتمام نہ کرے تو وہ بدقسمت ہے۔ اسلام نے والدین کی اطاعت کا دائرہ بھی متعین کیا ہے۔ اگر وہ کسی معصیت کا حکم نہیں دیتے تو انکی اطاعت واجب ہے۔ معصیت میں انکی تابعداری سے اولاد کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ والدین کو اولڈ ہوم بھیجنا یا انکی نگہداشت میں کمی کرنا انکے ساتھ ظلم اور بڑا گناہ ہے۔ یہ غیر اسلامی طرز عمل ہے۔

    ادب اور اخلاق معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے، جو معاشرے کو بلند تر کرنےمیں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ کہاوت ہےکہ ’’باادب بانصیب اور بے ادب بدنصیب‘‘ یعنی ادب ایک ایسی صنف ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے۔ اسلام نے بھی ادب و آداب اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے۔

    مذہب اسلام نے ہر رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیئے ہیں۔ ادب و آداب کی تعلیم بھی دی گئی ہے، جس میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کا ادب ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق معاشرے کے ستائے ہوئے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد بھرپور توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

    خدمت خلق ہی ایک ایسا فعل ہے جس سے انسان کی عظمت کا صحیح طورپر پتا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے دو فرائض لگائے ہیں ایک اس مالک کل کی اطاعت دوسرے اس کے بندوں سے پیار۔ یعنی ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔ ہمارے نوجوان معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی اخلاقی ذمے داریوں کا معاشرے کے بزرگ افراد، والدین ، اساتذہ سے براہ راست تعلق ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ادب کے حوالے سے نوجوانوں کا منفی رویہ کافی تکلیف دہ ہے۔

    آج بوڑھے والدین کے ساتھ نوجوان جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر میڈیا پر یہ خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ چند روپوں یا جائیداد کی خاطر بزرگ والدین کو قتل کردیا۔ آج کے بچے، نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں تھوڑی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ماں باپ کسی چیز کے متعلق پوچھ لیں تو بھنویں تن جاتی ہیں مگر یہی نوجوان بچپن میں والدین سے جو کچھ پوچھتے تو والدین خوشی خوشی بتاتے تھے۔

    ماں باپ کے آگے صرف دو وقت کی روٹی رکھ دینا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ والدین کی اطاعت، فرمابرداری، ادب و آداب ہی باادب اور کامیاب انسان بناتے ہیں۔والدین کی دعائیں کامیابی کا زینہ ہیں جس کی بدولت آپ ایک کامیاب انسان بن کر ملک وقوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ والدین کے غصے کے آگے آپ کی برداشت اور غفودرگزر ادب و آداب کی بہترین قابل تعریف مثال ہے۔ والدین کی ناراضی وقتی ہوتی ہے اور آپ کے اس عملی مظاہرہ سے والدین کے دل میں آپ کی جگہ بن جائے گی اور ان کی شفقت و محبت میں مزید بہتری آئے گی۔ آپ کی تقلید میں چھوٹے بہن بھائی اور گھر کے دیگر افراد بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔
    قارئین کرام! آج اپنے رب کو گواہ بنا کر ایک عہد کریں کہ والدین کے ساتھ جو پہلے بے ادبی برتی گئی اس پر معافی مانگتے ہیں ۔اور آئندہ کے لیے ان کی عزت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔

  • مسلمان بیٹی کی پہچان …!!!  بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی کی پہچان …!!! بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    ہے مسلمہ بیٹی۔۔۔۔
    کی پہچان۔۔۔۔
    حنیفہ و ضو افشاں
    تعلیمِ اسلام ہے۔۔۔
    جس کی شان۔۔۔۔
    چراغِ رہ ہیں۔۔۔
    نبی کے فرمان۔۔۔۔
    حیا ہوتی ہے۔۔۔۔
    جس کی چادر۔۔۔۔
    حجاب بنتا اپنا ایمان۔۔۔۔
    باپ کی وہ چشمِ نور
    شوہر کی آنکھ۔۔۔
    کا سرور۔۔۔۔۔
    کردار اُس کا۔۔۔
    ہوتا ہے ازکیٰ۔۔۔۔
    چال رہتی ہے۔۔۔
    جس کی ذکریٰ۔۔۔۔
    آزمائش کی ۔۔۔۔
    گھڑی میں بھی۔۔۔
    آسودگی و۔۔۔
    خوشی میں بھی۔۔۔
    رب کی یاد میں۔۔۔
    رطب اللسان۔۔۔۔
    صوم و صلوۃ کی
    روشنی سے۔۔۔
    صدقہ و خیرات کی
    چاشنی سے۔۔۔۔
    ڈھونڈتی ہے وہ
    اپنی امان۔۔۔۔
    فحاشی کی سب
    راہوں سے۔۔۔۔
    بے حیائی کی
    آماجگاہوں سے۔۔۔
    خود کو بچاتی ہے
    سدا۔۔۔
    حیا کے حسنِ لازوال۔۔۔۔
    سے وہ خود کو۔۔۔
    بناتی ہے با وفا۔۔۔
    ظلمت کی لہریں جب
    سفیدی پر آ لگتی ہیں
    میلاہٹ سی آ جاتی ہے۔۔۔؟
    اکتاہٹ سی ستاتی ہے
    اوصاف کو۔۔۔۔
    دھندلاتی ہے۔۔۔؟؟؟
    ان سب سے۔۔۔۔
    بچ بچا کر وہ۔۔۔۔
    حسن اپنا بڑھاتی ہے۔۔۔ !!!
    بن کر جو رہ کی شمع…
    اوروں کو رستہ دکھاتی ہے…
    نہیں ہوتی ظلمتوں کی پیامبر…
    نہ اوروں کو بھٹکاتی ہے…
    اسلام کی ایسی بیٹی۔۔۔
    ہی آگے۔۔۔۔
    جب بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔ !!!
    اور ماں جب یہ کہلاتی ہے۔۔۔
    اس کی باوفا گود میں…
    پھر ہیرے ایسے پلتے ہیں۔۔۔
    کردار ایسےکھِلتے ہیں۔۔۔۔
    کہ جن کے عمل کی
    روشنی میں۔۔۔۔
    اک دنیا سنورتی ہے۔۔۔
    رنگ رفعت کا بھرتی ہے۔۔۔
    ایسی ہی مسلمہ ۔۔۔۔
    بیٹی پر۔۔۔۔
    زمانہ ناز کرتا ہے۔۔۔۔
    خود کو اک جہاں۔۔۔
    اس کے ہم انداز۔۔۔
    کرتا ہے۔۔۔ !!!!!
    ایسی ہی بیٹیاں۔۔۔
    بہت نادر ہوتی ہیں۔۔۔
    بہت نایاب ہوتی ہیں۔۔۔
    قوموں کی وہ آبرو۔۔۔۔
    عزت مآب ہوتی ہیں۔۔۔ !!!
    یہی ہوتی ہیں تابندہ۔۔۔
    یہی تاباں ہوتی ہیں۔۔۔۔
    یہی ہوتی ہیں تاجور۔۔۔۔
    یہی دُر افشاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    =========================

  • اسلام میں والدین کا مقام   بقلم:  ندا خان

    اسلام میں والدین کا مقام بقلم: ندا خان

    اسلام میں والدین کا مقام
    بقلم. ندا خان
    دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک رکھنا چاہیے قرآن پاک میں جہاں الله تعالٰی اپنی فرمانبرداری کی طرف توجہ دلائی ہے
    اس کے بعد والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کی تعلیم دی ہے
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت کا مفہوم ہے
    ” اے بندو تم میرا ( الله) کا شکر ادا کرو اور والدین کا شکر ادا کرو تم تمام کو میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے” سورة لقمان ١٤
    یاد رکھے جس طرح الله کے حقوق ہم پر فرض ہے اسطرح انسانوں کے حقوق بھی ہم پر فرض ہے اور انسانوں میں سب سے بڑھ کر والدین کے حقوق اہم ہے
    سورة الأحقاف ١٥ میں الله فرماتے ہیں
    ” اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ ایسے نیک عمل کرو جن سے تو خوش ہوجائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمان میں سے ہوں ”
    اور جو والدین کی نافرمانی کرتے دنیا اور آخرت کی زلت ان کا مقدر بنتی ہے
    حدیث کا مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ” جس نے رمضان کو پایا اور الله سے اپنی بخشش نہ کروائی اس پر لعنت جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے اس پر لعنت اور جس نے اپنے ماں باپ کو
    بڑھاپے کی حالت میں پایا ان کی خدمت نہ کی اس پر لعنت”
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا تم مجھ سے یہی کہتے رہتے رہو گے کہ میں نے مرنے کے بعد زندہ کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں وہ دونوں جناب باری تعالیٰ میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے تجھے خرابی ہو ایمان لے آ بیشک الله کا وعدہ حق ہے وہ جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں”
    سورة الأحقاف ١٧
    اسلام ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرمانبرداری کی تعلیم دیتا ہے
    لیکن دورہ حاضر میں آپ مسلم معاشرے کا مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ بات عیاں ہوگی کہ بہت کم لوگ ہے جو والدین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور ان سے شفقت سے بیش آتے ہیں بلکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی
    میں انہیں برائی محسوس نہیں ہوتی
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے کسی نے سوال کیا مجھ پر سب سے زیادہ کس کا حق ہے
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں کا یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دوہرائے پھر سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیرے باپ کا ” والله اعلم
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کریں اور
    بیوی پر فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کریں”
    قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر جہاں اللّٰه تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ ہی والدین سے حسن سلوک اور ان کے ساتھ خوش معاملہ کرنے کا ذکر ہے
    سوة النساء ٣٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ” اور الله کہ عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک و احسان کرو”
    قرآن پاک میں دوسرے مقام پر الله تعالٰی فرماتے ہیں
    سورة البقرة ٨٣
    ، اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم الله تعالٰی کے سوا دوسرے کی عبادت
    نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تمہارے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق تمہارے والدین کا ہے اگر ان میں سے کوئی نہیں ہے تمہاری ماں کے بعد حسن سلوک کا حق تمہاری ماں کی بہن کا اور اس کی سہیلی کا اور باپ کے بعد حسن سلوک کا حق چچا کا اور باپ کے دوست ہے”
    والله اعلم
    میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔ Sahih Bukhari#527
    الله رب العزت ہمیں والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا ارحم الراحمين

  • دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو  تحریر: ساجدہ بٹ

    دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو تحریر: ساجدہ بٹ

    دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو
    تحریر: ساجدہ بٹ

    آج ہم بات کریں گے عزت و وقار کے بارے میں چونکہ ہر۔ انسان دنیا میں اپنا ایک مقام و مرتبہ چاہتا ہے انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے پیار و محبت سے پیش آئیں اُسے اچھا جانیں مال و دولت سب کچھ ہمارے پاس ہو ہم سکون کی زندگی جیئیں ۔۔۔۔۔۔
    آپ قارئین سوچیں گے یہ سب ایک ساتھ کیسے ممکن ہے ؟؟؟؟؟
    جی ہاں قارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ذرا توجہ و دلچسپی سے اس تحریر کو پڑھیئے کہ ہمارے مذہب نے ہمیں ترقی کا راز کیا بتایا ہے جس پر چل کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔

    جی ہاں میرے عزیز ہم وطنو ترقی کا راز والدین کی خدمت میں ہے ۔۔۔
    دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اپنے پروکاروں کو والدین کی خدمت اور اطاعت گزاری کی تاکید نہ کی ہو۔۔
    عیسائیت ہو یا یہودیت،ہندومت یا بدھ مت۔
    ہر مذہب نے والدین کی تابعداری اور خدمت ضروری قرار دی ہے مگر اسلام کو دیگر مزاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اس نے اپنی تعلیمات میں والدین کی صرف خدمت کی ہی تلقین نہیں کی۔بلکہ احسان کی تاکید کی ہے اور احسان کا درجہ خدمت سے بڑھ کر ہے
    سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔۔
    وبلوالدین احساناً
    یعنی والدین کی صرف اتنی خدمت نہیں کرنی جتنی انہوں نے کی بلکہ اتنی زائد ہو کہ وہ تمہارا احسان نظر آنے لگے۔۔۔
    قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے بڑے بڑے فرائض احسان احترام،شکرگزاری اور دعائے خیر بیان کیے۔۔۔
    سورۃ الاسرا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔۔۔۔۔۔

    اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو اور ماں باپ سے احسان کرو ،
    اور ان کے سامنے نرمی اور رحم سے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو
    اُنھیں اف تک نہ کہو اُنھیں نہ جھڑکو اور ان سے ادب سے گفتگو کرو
    ۲۳٫۲۴٫۲۶
    دیکھیں کس قدر خوبصورتی سے اسلام نے والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی ہے
    *حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
    ،،خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟فرمایا،وقت پر نماز پڑھنا ،پوچھا پھر کون سا،،فرمایا والدین سے حسن سلوک،،
    سوچیں جب ہم اس قدر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو کیونکر نہ ترقی کریں گے،
    کہتے ہیں مثال سے بات سمجھ آتی ہے تو چلیے مثال ہی سے بات کرتے ہیں ہم اگر اپنے اِرد گِرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔
    ہمارے ہمسایوں میں جو فیملی رہتی ہیں اُن کے 6 بیٹے ہیں جن میں چار شادی ہیں گھروں میں اکثر لڑائی وغیرہ تو ہو ہی جاتی ہے لیکن یہاں میں بات صرف والدین اور اولاد کے سلوک پر کروں گی ۔۔۔
    اُن کے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی گھر میں ماں باپ بیوی کے درمیاں تلخ کلامی ہو بھی جاتی تو اُن کے بیٹے نے ماں باپ کی خدمت میں کوئی فرق نہیں آنے دیا کبھی پلٹ کے کسی بات کا غصے میں جواب نہیں دیا مسکرا کے والدین سے ملتے رہے۔۔۔۔۔پھر اُن کے بچے ہوئے الحمدللہ وہ بھی والدین کے فرمانبردار ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں بہت بہت ترقی دی بہت جلد وہ ترقی کی کئی منازل تہ کرنے لگے گاؤں کے لوگ اُس لڑکے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں میرے والدین سمیت سب اُس کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    آپ کے خیال میں اُس آدمی کو یہ سب کچھ کیوں ملا ؟؟؟
    آپ ذرا یہ سوچئے۔۔۔
    اور میں بات کرتی ہوں اب اُن کے دیگر بیٹوں کے بارے میں تو جی ہاں قارئین کرام اُن کے باقی بیٹوں کی شادیاں ہوئی والدین میں سے کسی سے بیوی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو وہ بھائی پورا پورا والدین سے مقابلہ کرتے اُن سے ناراض ہو جاتے کھانا الگ بنانے لگے ۔۔۔حلاں کے بڑے بھائی کی نسبت یہ سب ہنر مند تھے لیکن پھر بھی کاروبار میں کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بس دو ٹائم روٹی کھانے کو با مشکل گزارا کرتے ہیں اُن میں سے کوئی گلی میں کبھی فضول کھڑا بھی ہو جائے تو محلے والے اچھا نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک ہی والدین کی اولاد ہونے کے باوجود اس طرح بچوں کے درمیان کیوں ہوا؟؟؟
    یقینا والدین کی خدمت اور نافرمانی کی واضح مثال میرے عزیز قارئین کرام کی سمجھ میں ضرور آئی ہو گی۔۔۔۔
    بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی اس عمر میں آنا ہے ہم نے بھی کمزور جسم میں ڈھل جانا ہے اگر ہماری اولاد نے ہمارے ساتھ یہ سب رویہ اختیار کیا تو یقینا ہمیں بہت افسوس ہو گا ۔۔۔

    شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

    کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
    "””””””””””””””””””””””””””””

  • پین گونگ سو جھیل کی لڑائی   بقلم : عدنان عادل

    پین گونگ سو جھیل کی لڑائی بقلم : عدنان عادل

    پین گونگ سو جھیل کی لڑائی اتوار 31 مئی 2020ء

    جن لوگوں نے عامر خان کی مشہور فلم تھری ایڈیٹ دیکھی ہے انہیں اسکا آخری کلائمیکس منظر یاد ہوگا جو ایک حسین و جمیل قدرتی جھیل کے کنارے فلمایا گیا ہے۔پانچ اور چھ مئی کوچین اور بھارت کے فوجیوں میں جن پانچ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں ان میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری یہ جھیل بھی ہے جسے’ـ پین گونگ سو‘ کہتے ہیں (سو کے سین پر زبر ہے) ۔دونوں ملکوں کی فوجیں تین ہفتوں سے یہاں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ یہ کوئی معمولی خوبصورت جھیل نہیں بلکہ خطّہ کی سیاست اور سلامتی میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سطحِ سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پین گونگ سو جھیل لدّاخ کے شہر لیہہ سے مشرق کی جانب چوّن کلومیٹرپر واقع ہے ۔ یہ دشوار گزار مسافت پانچ گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔چھ سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ جھیل لداخ کے نہ بالکل شمال میں ہے نہ جنوب میں بلکہ درمیان میں ہے۔ ایک سو چونتیس کلومیٹر طویل یہ جھیل مشرق میں چین کے صوبہ تبت سے نکل کرمغرب کے جانب لداخ کے ضلع لیہہ تک آتی ہے۔اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر دو سے چھ کلومیٹر تک ہوجاتی ہے۔ دسمبر سے اپریل تک اسکا پانی برف بن جاتا ہے۔اس پر سکیٹنگ کی جاتی ہے‘ پولو کھیلی جاتی ہے۔ اکسائے چِن(تبت) میں اسکا پانی میٹھا ہے‘ لداخ میں کھارا۔ جھیل کے ایک سو کلومیٹر حصّہ پر چین کا قبضہ ہے‘ باقی حصہ پر بھارت کا۔ چین کا دعوی ہے کہ پوری جھیل تبت کا حصہ ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ پوری جھیل اسکی ہے۔ پین گونگ سو جھیل کے شمال میںہمالیہ کے سنگلاخ‘بنجرپہاڑ ہیں۔ کئی مقامات پر اس پہاڑی سلسلہ کے جھیل کے اندرکی طرف انگلی کی شکل میںسِرے نکلے ہوئے ہیں۔ چین اور بھارت کی فوجیں ان پہاڑی انگلیوں سے جھیل کے مختلف مقامات کا تعین کرتی ہیں۔پہلی انگلی مغرب میں بھارت کے زیرِ قبضہ علاقہ سے شروع ہوتی ہے۔ انیس سو باسٹھ میں اس جھیل پر قبضہ کے لیے دونوں ملکوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی تھی۔ بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جھیل کے بیشتر حصہ پر چین کا قبضہ ہوگیا تھا۔ دونوں ملکوں کی فوجیں جدیدجنگی کشتیوں کے ذریعے اس جھیل میں گشت کرتی ہیں۔ بھارت آٹھویں انگلی کوعارضی سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول قرار دیتا ہے جبکہ چین دوسری انگلی کو۔حالیہ جھڑپ پانچویں انگلی پر ہوئی۔ چین کی فوجیںجھیل میں اپنے سابقہ مقام سے آٹھ سے دس کلومیٹرآگے تک بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے متصل پہاڑ پر اپنی چوکیاں بنا لی ہیں۔بھارت پہاڑ کی دوسری انگلی تک محدود ہوگیا ہے۔یُوں اس محاذ پرتقریباً چالیس مربع کلومیٹر کاوہ علاقہ بھارت کھو چکا ہے جسے وہ اپنا حصّہ سمجھتا تھا ۔ چین کے لیے پین گونگ سو جھیل کی اہمیت اکسائے چِن کے علاقہ کی وجہ سے ہے جہاں اس جھیل کا مشرقی حصہ واقع ہے۔اکسائے چن اڑتیس ہزار مربع کلومیٹر کی ہموار سطح مرتفع ‘ ایک برفانی صحرا ہے۔ اسکی آبادی صرف دس ہزار ہے لیکن فوجی اعتبار سے بہت اہم مقام ہے۔ بھارت کا دعوی ہے کہ یہ اسکا علاقہ ہے‘ لداخ کا حصہ ہے ۔ گزشتہ سال اگست میں بھارت نے لداخ کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی یونین کا حصہ قرار دیا تو چین نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ بھارت کی حکمران جماعت کے رہنماؤں نے دعوے کیے تھے کہ وہ اکسائے چن کو بھی چین سے لیکر بھارت میں شامل کریں گے۔ ان اعلانات سے چین میں تشویش پیدا ہوئی کہ بھارت کے ارادے خطرناک ہیں۔ خاص طور سے ایسے حالات میں جب بھارت امریکہ کا قریبی اتحادی بن چکا ہے۔بھارت کے ان توسیع پسندانہ ارادوں کو ناکام بنانے کی غرض سے چین میں پیشگی اقدام کے طور پر جھیل میں پیش قدمی کرکے اسکا اتنا حصہ اپنے کنٹرول میں کرلیا جو فوجی اعتبار سے یہاں اسکی پوزیشن مستحکم کردے۔ چین نے اب جھیل کے جس علاقہ پر قبضہ کیا ہے وہ اونچائی پر واقع ہے ۔ یہاں سے اسکی فوجیں بھارتی فوجوں کی نقل و حرکت اور فوجی تنصیبات پر نظر رکھ سکتی ہیں۔ جھیل کے شمال میںبھارت کی ایک بڑی فوجی پوسٹ ہے۔ جھیل کے قریب ہی چوشول وادی ہے ۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاںسے اُنیس سو باسٹھ میں چین کی فوجوں نے حملہ کرکے بھارت کی پٹائی کی تھی۔ اسی وادی میں بھارت نے جنگی جہازوں کے لیے ائیر فیلڈ بنایا ہوا ہے۔ چین کے لیے پین گونگ سو جھیل بہت تزویراتی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مشرق میںچین کا صوبہ تبت واقع ہے جہاں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے جسے بھارت ہوا دیتا آیاہے۔ تبت کے علیحدگی پسند بھارت میں مقیم ہیں۔ تبت کی جلاوطن حکومت بھارت میں قائم ہے۔اگر چین اس جھیل پر بھارت کا قبضہ تسلیم کرلے تو اسکا مطلب ہے کہ تبت بھی کسی وقت اسکے ہاتھ سے نکل سکتا ہے کیونکہ تبت اور چین کے صوبہ سنکیانگ کو ملانے والی بڑی شاہراہ اس جھیل کے مشرقی کنارے کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے۔ اسے چائنہ نیشنل ہائی وے (این ایچ 219) کہا جاتا ہے۔ جب چین نے انیس سو پچاس کی دہائی میںیہ سڑک بنائی تھی اس وقت بھارت نے اس پر اعتراض کیا تھا جس کے باعث انیس سو باسٹھ کی جنگ چھڑی تھی۔ چین کے لیے جھیل کے بیشتر حصہ پر قبضہ سنکیانگ اور تبت کو ملانے والی شاہراہ کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ تین سال پہلے بھی اس جھیل میں چین اور بھارت کے فوجیوں نے جھگڑا کیا تھا۔ تاہم فائرنگ کی بجائے ایک دوسرے کو مکے ‘ تھپڑمارے تھے‘ ککیں ماریں تھیں‘ پتھراؤ کیا تھا۔ لکڑی کے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ اس بار بھی فائرنگ نہیں ہوئی۔ اسی طرح لڑائی ہوئی لیکن فرق یہ تھا کہ اس بار چینی فوجیوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ زیادہ جارحانہ موڈ میں تھے۔ بھارتی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اب بھارت نے بھی مزید فوجی بھیج دیے ہیں لیکن اسکے فوجی اگر آگے بڑھتے ہیں تو بڑی لڑا ئی شروع ہوسکتی ہے۔ فی الحال دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں۔بھارت کا مخمصہ یہ ہے کہ موجودہ پسپائی کی پوزیشن کو عارضی سرحد مان لے تو ملک میں نریندرا مودی کی بڑی رسوائی ہوگی اور اگرآگے بڑھنے کی کوشش میں جنگ ہوجاتی ہے تو بھارت کا بڑا نقصان ہوگا‘ فوجی اعتبار سے بھی اور معاشی طور سے بھی۔

  • اسلام میں والدین کی عظمت  بقلم: ثناء صدیق

    اسلام میں والدین کی عظمت بقلم: ثناء صدیق

    اسلام میں والدین کی عظمت
    ثناء صدیق

    دنیا کے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین کا ہے بلکہ اس کو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم و ہدایت میں جزو ایمان کا درجہ دیا ہے اللہ پاک کی طرف اتارے گئے صحیفہ ہدایت میں اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ ان کی عظمت اور شکر گزاری پر بھی زور دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال میں اللہ کی عبادت کے علاوہ ماں باپ کی راحت رسانی کا درجہ ہے
    جیسا کہ ارشاد ہے
    وقضی ربک الا تعبدو الا ایاہ و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل 23)
    تمہارے رب کا حکم ہے صرف اسی کی عبادت کرو اور اپنے والدین کی خدمت اور اچھا برتاو کرو
    ایک حدیث میں ارشاد ہے
    والد کی رضا مندی میں اللہ کی رضامندی ہے
    جو اپنے مالک و مولا کو راضی رکھنا چاہتا ہے وہ اپنے ابو کو راضی رکھے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی اولین شرط والد کی رضا جوئی کی شرط ہے جو کوئی اپنے والد کو ناراض کرے کا وہ اپنے آپ کو رضا الہی سے محروم کر لے گا
    والدین کی فرمابرداری کی برکات اللہ دنیا میں بھی اتارتا ہے
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں اللہ تعالی ماں باپ کی خدمت و فرمابرداری اور حسن سلوک کی وجہ سے اس کی عمر بڑھا دیتا ہے
    والدین کی جو تکالیف محنتیں مشقتیں جو وہ اپنی اولاد کی پرورش میں برداشت کرتے ہیں وہ اب معلوم بھی ہے معروف بھی ہیں لیکن اس کے باوجود جو کوئی والدین کی خدمت نہیں کرتا ان کو تکلیف دیتا ہے وہ شقی شخص ایمان کی حقیقی دولت سے محروم ہے
    اللہ تعالی کی شکر گزاری تو لازم ہے کیونکہ اس نے سب کو وجود بخشا ہے لیکن اللہ نے اپنے بعد والدین کی عظمت کو اجاگر کیا ہے کیونکہ انسان کو وجود بخشنے والے ان کے ماں باپ ہی ہیں اور والدین کو اولاد کی پرورش کا زریعہ بنایا ہے والدین کو بہت دکھ اٹھانے پڑتے ہیں
    اسی لیے فرمایا (ان اشکرلی ولوالدیک)کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر
    تفسیر ابن کثیر میں ہے ایک شخص اپنی والدہ کو اٹھائے طواف کر رہا تھا اس نے رسول پاک سے پوچھا میں نے اس طرح خدمت کر کے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا آپ نے فرمایا ایک سانس کا بھی حق ادا نہیں ہوا
    حضرت ابو ہریرہ ایک گھر میں رہتے تھے ان کی والدہ دوسرے گھر میں جب وہ کہیں جاتے تھے تو اپنی والدہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے تھے السلام علیکم یا امتاہ ورحمتہ اللہ و برکاتہ وہ جواب میں فرماتی تھیں وعلیک یابنی اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے رحمک اللہ کما ربتنی صغیرا وہ اس کے جواب میں کہتی رحمک اللہ کما بررتنی کبیرا
    بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ایک آدمی نبی مکرم کے پاس آیا پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے فرمایا تیری ماں سائل نے پوچھا پھر کون فرمایا تیری ماں پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں پھر سائل نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ
    حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانہ دروازہ ہے اب تو اس کی فرمابرداری کر کے اس دروازے کو قائم رکھ یا نافرمانی کر کے اس دروازے کو ضائع کر دے
    نبی پاک کے فرمان کے مطابق اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ایسا کرنے سے تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں گئے
    ظاہری طور پر یہ بات بلکل واضح ہے تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائے گی کیونکہ جب اولاد دیکھے گی کہ ماں باپ کے ساتھ اکرام و احترام سے پیش اتے ہو اور جان و مال سے خدمت کرتے ہو تو تمہارے عمل سے بچے بھی سبق سیکھے گے اور سمجھیں گے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک معاشرے کا لازمی جزو ہے سعادت مند شخص اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین کی خدمت اور شکر گزاری بھی کرتا ہے وہ اس نعمت کا شکر ادا کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے والدین کی صورت میں دی گی ہے اور والدین کی وجہ سے اللہ تعالی اس پر اور بھی نعمتیں نازل کرتا ہے اور بہت سی نعمتیں والدین کی طرف سے اولاد کو مل جاتی ہیں
    جس طرح اللہ کا شکر زبان سے نکالے ادا نہیں ہو جاتا بلکہ پوری ذندگی تکمیل احکام کا نام شکر ہے اسی طرح ماں باپ کی شکر گزاری ان کے حق میں اچھے بول بول دینے سے ان کی تعریف کر دینے سے ان کی تکلیفوں کا اقرار کر لینے سے ادا نہیں ہوتی بلکہ ان کی فرمابرداری دل وجان سے خدمت گزاری اور نافرمانی سے بچنا ان کی شکر گزاری ہے۔