Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے

    باغی ٹی وی : بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں بھارت نے کشمیریوں پہر کرفیو نافذ کر رکھا ہے مظلوم کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے تمام مساجد سکولز کالجز تمام ثقافتی مذہبی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں کشمیری قید و صعوبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266721535693402112?s=20
    سید اویس علی نامی صارف نے لکھا کہ قائداعظم نے آزادی پاکستان سے قبل ہی کشمیر مقصد کی حمایت کی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ کشمیریوں خصوصا ً مسلمانان کو معاشرتی معاشی حقوق اور انصاف ملنا چاہئے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720956900429825?s=20
    سید اویس نامی صارف نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیری عوام کا کیس لڑ رہا ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720578918023168?s=20
    سید اویس نے مزید لکھا کہ حریت قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ، انٹرنیٹ بند ہے اور میڈیا پرپابندی ہے کیونکہ کسی غیر ملکی صحافی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720669850615809?s=20
    5 اگست کو بھارت کے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد محصور زندگی گزار رہے ہیں
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720809118248961?s=20
    پاکستان بھارت کے بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لئے سفارتی محاذ پر اپنی کوششیں دوگنا کرے گا۔کشمیر بنےگا پاکستان!
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720888864542720?s=20
    کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے ، اور دنیا اس تنازعہ پر ہندوستان کے نظریہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔


    فواد نامی صارف نے لکھا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور رپورٹ کرنے کے مینڈیٹ کے ساتھ خصوصی نمائندہ تشکیل دیں-


    رومیو نامی صارف نے لکگا خود ہندوستان نے یہ سمجھا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کشمیریوں کو سفاک محاصرے میں نہیں روک سکتے ہیں لہذا وہ مواصلاتی ناکہ بندی ، آبادکاری میں ردوبدل اور شہریوں کے قتل کو تیز کرکے کشمیر کی آواز کو دبانے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔
    https://twitter.com/Mr_AK_1315/status/1266718017347518464?s=20
    ایے کے نامی صارف نے لکھا کہ تاہم ، خط میں بھارتی رہنما جواہر لال نہرو نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہندوستانی پارلیمنٹ میں بیانات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے رہے
    https://twitter.com/Javeria58/status/1266718006312394752?s=20
    جویریہ عارف نامی صارف نے لکھا کہ ہندوستانی نظم و نسق کے خلاف علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی وجہ سے ہندوستان کے زیر انتظام – ریاست جموں و کشمیر – میں 60 سالوں سے تشدد رہا ہے۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717880592326657?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ دریں اثنا ء، وزیر اعظم عمران نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے عوام کو مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی جدوجہد کی حمایت کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717794764275713?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ لندن میں کئی برطانوی کشمیری پارلیمنٹ چوک پر موم بتی کی روشنی کے لئے جمع ہوئے تھے جس دن سے ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ اگست 2019 کو بھارت نے ظلم و جبر کی داستان رقم کرتے ہوئے کشمیر میںن کرفیو نافذ کر دیا تھا اور آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا-

    کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی درندگی جاری، 2 کشمیری شہید

  • پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    ہم میں سے کسی کا بھاری بینک بیلنس موجود ہو…اور ہم اسے بنک کھاتے میں محفوظ تصور کر رہے ہوں…
    ایکدم کوئی آفت آ جائے…
    بیماری آ گھیرے…
    یا کوئی اشد مالی ضرورت پڑ جائے تو ہم اپنے اس اکاونٹ کی طرف متوجہ ہوں کہ وہاں سے کُچھ پیسہ نکلوا کر کام چلایا جائے…
    مگر جب ہمیں یہ بجلی نما خبر سنا دی جائے کہ آپ کا اکاؤنٹ خالی ہو چکا ہے…
    تو ایک دم سناٹا چھا جائے گا ناں ؟
    ہم گھبراہٹ کے عالم میں خود کو ساکت و جامد محسوس کرنے لگیں گے ناں؟
    جب سب کچھ لٹ چکا ہو اور آگے کی کوئی سبیل نظر نہ آئے تو ہم کس قدر مایوسی کی گہرائیوں میں اترنے لگتے ہیں…؟
    تو ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نمازیں ادا کرتے ہیں…
    صدقہ و خیرات کرتے ہیں…
    حج و عمرہ کرتے ہیں…
    تلاوتِ قرآن کرتے ہیں.
    فہمِ حدیث حاصل کرتے ہیں…
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان نیکیوں کو خود ہی مٹانے پر بھی کمر بستہ رہتے ہیں…!
    ہم کسی کی عزت پہ حرف گیری کر کے…
    کسی کی برائی کر کے…
    کسی کی چغلی کھا کر…
    کسی کمزور پر ظلم کر کے…
    کسی پر تہمت لگا دینا…
    کسی سے ناحق کُچھ لے لینا…
    کسی کو گالی دے کر…
    کسی کو مارپیٹ کر…
    کسی کا مال ہتھیا کر…
    کسی کو دُکھ پہنچا کر…
    کسی کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر کے…
    کسی کے خلاف بدگمانیاں پھیلا کر…
    تو ایسا ہی شخص وہ ہے جو دنیا میں عبادات کی مشقت بھی برداشت کرے گا مگر روزِ قیامت تہی دست آئے گا…
    وہ سخت اور طویل مدت دن جب ایک ایک نیکی کی یاد ستائے گی…
    اور پھر کہیں وہ کسی اور کو بانٹ دی جائے…
    کسی کے اٹھائے ہوئے بوجھ کی ادائیگی کر دی جائے…
    کہیں ریا کے جرم میں اُڑتا ہوا غبار کر دی جائے…!!!
    اور انسان بتدریج خالی ہاتھ ہوتا چلا جائے تو کس قدر ندامت اور دُکھ کا مقام ہو گا؟
    بہت سی نیکیاں کمائی ہوں گی مگر خود ہی اُن کو ختم کرنے کی فاش غلطی بھی کر بیٹھے ہوں گے تب پیچھے کا یارا رہے گا،نہ آگے کا چارہ…!!!
    آج اُن اعمال کی تھکاوٹ سے استفادہ بھی نہ ہو…کیسا مقامِ حسرت ہو گا؟؟
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سےفرمایا:
    "اتدرون من المفلس؟
    تم جانتے ہو مفلس آدمی کون ہے ؟
    قالو:المفلس فینا من لا درھم لہ ولا متاع…
    وہ کہنے لگے:
    جس کے پاس درہم و متاع نہ ہو،وہ مفلس ہے…!!!
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میری امت میں مفلس اور کنگال آدمی وہ ہے قیامت کے دن نماز،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا،
    اور اس حال میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہو گی،
    کسی پر تہمت لگائی ہو گی،
    کسی کا مال کھایا ہو گا،
    کسی کا خون بہایا ہو گا،
    کسی کو مارا ہو گا،
    اس کی نیکیاں اُن لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں گی،
    اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی،قبل اس سے کہ اس کا قرض ادا ہو،تو ان کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا…”[صحیح مسلم]۔
    تو ذرا سوچیئے کہ معاملہ کتنا نازک ہے…
    حقوق العباد کی طرف کتنی توجہ درکار ہے؟؟؟
    اور نیکیوں پر مغرور ہونا بھلا کیا معنی رکھتا ہے؟
    ہمیں اپنے رب کی رحمتوں کا اُمید وار رہنا چاہیئے اور اس سے آسان حساب کا سوال کرتے رہنا چاہیئے…!!!
    ذرا سنبھلیئے کہ کہیں پونجی لُٹ نہ جائے…!
    ہم اپنے کھاتے میں نیکیاں بھیج کر بھی مفلس نہ بن جائیں؟
    ہم نے اپنی پونجی میں سے کُچھ لیا بھی نہ ہو اور وہ مفت میں تقسیم کر دی جائے…؟
    اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ
    ہمارے خالی اکاؤنٹ کی دلدوز خبر کہیں میدانِ محشر میں ہماری سماعتوں سے نہ آ ٹکرائے…!!!
    اور ہم ندامتوں کے اتھاہ سمندر میں بس گرتے ہی چلے جائیں…؟
    اللّٰھُمَّ لا تجعلنا منھم واھدنا اِلٰی صراطِِ مستقیم،ولاتخزنا یوم القیمۃ•(آمین ثم آمین)۔
    ہمارے رب ہمارا شمار ان لوگوں میں کرنا جو:
    "جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں…”
    [المعارج]۔
    ==============================

  • پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض   تحریر: فیصل ندیم

    پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض تحریر: فیصل ندیم

    آپ یقیناً مریض ہیں اور آپ کو پاک آرمی کی مخالفت جیسا موذی مرض لاحق ہے اس مرض میں بندے کو اپنا گھر ہمیشہ برا اور دوسروں کا ہمیشہ اچھا لگتا ہے
    آپ کے مریض ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو چائنہ کی لداخ میں بھارت سے ایک چھو ٹی سی جھڑپ تو دکھائی دیتی ہے لیکن انیس سو اڑتالیس سے لیکر آج تک پاکستان کی بھارت کے ساتھ چار جنگیں نہیں دکھائی دیتی آپ مریض ہی تو ہیں کہ آپ اکہتر میں پاکستان آرمی کی شکست پر شادیانے بجاتے ہیں جبکہ اصل مجرم تو آپ تھے جو کلمہ والے پاکستان میں سندھی مہاجر پنجابی پٹھان بلوچ اور بنگالی بنے تھے اور آپ کی اسی ٹوٹ پھوٹ نے بھارت کو موقع دیا تھا کہ وہ پاکستان کو دو لخت کردے
    بھارتی جنرل جی ڈی بخشی کہتا ہے ہمیں جنگ پاکستان آرمی نے سکھائی ہے اس نے ہمیں مارا اور بار بار مارا اور اتنا مارا کہ ہمیں اس سے لڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔
    آپ کا مرض کتنا شدید ہے کہ آپ کو انیس سو اڑتالیس میں نوزائیدہ اور کمزور پاکستان کے بیٹوں کی وہ بے مثال شجاعت نہں دکھائی دیتی جس کے ذریعہ کشمیر کا چھتیس فیصد حصہ آزاد کروالیا گیا اور بری طرح پٹتے بھارت کو روتے دھوتے اقوام متحدہ میں اپنے دکھڑے سنا کر جنگ بندی کروانی پڑی ۔۔۔۔
    کتنا مہلک ہے آپ کا مرض کہ یہ آپ کو پینسٹھ کی وہ جنگ نہیں دیکھنے دیتا جس میں وہ بھارتی جرنیل جو لاہور میں ناشتہ کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے منہ کی کھانے کے بعد اپنے گھر واپس دوڑنے پر مجبور ہوئے ۔۔۔۔
    یہ آپ کا تعفن زدہ مرض ہی ہے کہ جو کارگل کی عظیم فتح دیکھنے سے بھی آپ کو محروم رکھتا ہے اور لداخ لداخ پکارتے آپ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ آپ وہ منظر دیکھ سکیں کہ جس میں پاکستان آرمی نے بھارتی سورماؤں کو کارگل کی پہاڑیوں پر اس طرح جکڑا تھا کہ ان کی ٹوٹتی ہڈیوں کے کڑا کے ساری دنیا کو سنائی دے رہے تھے کیسے بدنصیب مرض میں مبتلا ہیں آپ کے کارگل کے فاتحین پر طعنے کسنا آپ کی عادت بن چکی ہے جبکہ وہ سیاسی قیادت جو واجپائی اور مودی کی یاری میں اتنی غرق تھی کہ اس نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے اس عظیم فتح کو امریکہ کے در پر جاکر بیچ ڈالا ہمیشہ آپ کو اپنے سر کا تاج محسوس ہوتی ہے
    خود دیکھئے آپ کے مرض نے آپ کو کتنا بدحال کردیا ہے کہ آپ ابھی پچھلے سال کا فروری بھول گئے جس میں پاکستانی شیروں نے بھارتی بزدل آرمی کی ٹھکائی لگائی تھی اور بھارتی سورمے سوائے بلبلا نے کے کچھ نہیں کرسکے

    ہاں مجھے فخر ہے اس پاکستان آرمی پر جو پہلے روس جیسی ہیبتناک سپرپاور کو اس طرح شکست دیتی ہے کہ وہ اپنا وجود کھوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے ہاں مجھے فخر ہے پاک آرمی کے ان بلند حوصلہ جوانوں پر جو روس کے بعد دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور امریکہ کو بھی شکست فاش سے دوچار کرچکے ہیں

    مجھے معلوم ہے پاک آرمی کی یہ فتوحات آپ جیسے بدبودار مریض کو کبھی بھی برداشت نہیں ہوگی لیکن کیا کیا جائے کہ روس اور امریکہ دونوں اپنے زخموں کو چاٹتے ہوئے ایک ہی بات کرتے ہیں کہ ہم ہارنے والے نہیں تھے یہ پاکستان آرمی ہے جس نے ہمیں ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ۔۔۔۔

    لداخ لداخ کی رٹ لگانے والو کبھی رب کی دی ہوئی عقل استعمال کرتے ہوئے سوچ لیا کرو کہ یہ پاکستان ہے جس نے بھارت کی ستر فیصد آرمی کو پچھلے بہتر سال سے مصروف رکھا ہوا ہے یہ پاکستان ہے جس نے بھارتی سورماؤں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ کسی دوسرے ملک سے جنگ لڑ سکیں ۔۔۔۔
    میں آپ کے مہلک مرض میں افاقہ کی دعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ سامنے کی بات سمجھ آئے کہ ایک پاکستان ہے جو پچھلے بہتر سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جسے اپنی سرحد کے اکثر حصہ پر دشمن کی ریشہ دوانیوں کا مسلسل سامنا ہے وہ مسلسل لڑ رہا ہے اگر کبھی ہارا ہے تو اکثر جیتا بھی ہے اور الحمدللّٰہ وہ وقت قریب ہے کہ جب مکمل فتح پاکستان کا مقدر بنے گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔
    آخری بات یہ بھی پاکستانی جوانوں کا اعزاز ہے کہ میدانوں میں ان کے قدموں کے نشانات بہت گہرے ہوتے ہیں لیکن دشمن کو بہت دیر سے دکھائی دیتے ہیں یہی کچھ روس امریکہ کے خلاف جنگ میں بھی ہوا تھا یہی چین بھارت جنگ میں بھی ہوگا نہیں یقین تو اپنی گم شدہ عقل کو اپنے ذہن کے نہاں خانوں سے نکالیں اور پھر اسے استعمال کرتے ہوئے روسی اور امریکی جرنیلوں کے وہ بیان تلاش کرلیں جس میں وہ دہائیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان بہت چپکے چپکے ہماری بینڈ بجا گیا ۔۔۔۔
    اور ہاں ایک بات اور پاکستان میں رہتے ہیں تو پاکستان کا نمک حلال کریں دوسرے کی تھالی کے گھی کو دیکھ کر اپنی تھالی میں چھید کرنا بند کریں پاکستان کے محافظ پاکستان کی آن بان شان ہیں ان پر بکواس بند کریں اور بھارت بنگلہ دیش بھوٹان جہاں چاہے دفع ہوجائیں۔۔۔

    فیصل ندیم

  • آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ،
    ابوبکر قدوسی

    فاطمہ بنت عبد الملک ، کے دادا خلیفہ ہووے پھر ابّا عبد الملک تو کمال کے ہی خلیفہ تھے ۔پھر فاطمہ کے بھائی ایک کے بعد ایک چار خلفاء ہو گئے ۔
    شادی مدینے کے گورنر سے ہوئی ۔۔گورنر ایسا بانکا سجیلا کہ ہر عورت ایسے خاوند کی خواہش کرے ۔۔۔جس راہ سے گزرتا جیسے راہ روشن ہو جاتی فضاء معطر ہو جاتی ۔۔۔۔
    فاطمہ کی خوش قسمتی کہ اب کی بار خود اپنا خاوند خلیفہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔لاکھوں لاکھ مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    لیکن خلیفہ کیا ہووے ۔۔سب عیش و عشرت رخصت ہوئے ۔۔۔فاطمہ بھی کچھ ایسی وفاء شعار کہ جب گھر میں پوری کی پوری مملکت داخل ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ غربت بھی تو اف تک نہ کی ۔۔۔خاوند نے ادھر عہدہ سنبھالا ادھر تن پر جیسے ٹاٹ پہنا ۔۔۔۔ریاست کے غم اور عوام کے پیسے کا اتنا فکر ، دیانت امانت کی ایسی چنتا کہ سب عیش رخصت ہوئے ۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔
    چند روز پہلے فاطمہ نے خاوند سے کہا کہ عید پر اب کے بچوں کو کپڑے لے دیجئے ۔۔۔۔۔عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ پیسے کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔
    فاطمہ نے منہ ادھر کیا اور کمرے سے نکل گئی کہ آنکھیں برسات ہو رہی تھیں اور من نہ چاہا کہ بہترین انسان بیوی کی آنکھوں میں اترتی رم جھم بارش کو دیکھ لے اور بے چین ہو جائے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر میں واپس آئ اور امید کی جوت جگائی کہ
    آج عید تھی ۔۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔لاکھوں مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    ” سرتاج ، میرے حضور ! آپ یوں کیجئے کہ بیت المال کے نگران سے کہیے کہ اس بار تنخواہ پیشگی دے دے کہ بچوں کے کپڑے بن جائیں ۔۔مہینہ بھر سوت کات لوں گی ، جو ملے گا قرض اتر جائے گا ”
    عمر کا بجھا چہرہ کچھ روشن ہوا ۔۔آخر باپ بھی تو تھے بھلے جیسے بھی محتسب ہوں ۔۔۔۔دل تو دل ہوتا ہے ۔۔۔ابھی میں نے یہ لکھنے سے پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کو ڈانٹ دیا اس کی آنکھیں بہہ نکلیں ۔۔۔۔میں دیر تک بے چین رہا جب تک وہ میری منتوں ترلوں کے بعد مسکرا نہ دی سکون نہ ملا ۔۔۔۔لیکن یہاں تو ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔عید غریباں ۔۔۔
    عمر بیت المال گئے ۔۔۔۔بیت المال کے نگران کے سامنے دست سوال دراز کیا ۔۔۔وہ بھی عمر کا اپنا ہی تو مقرر کردہ تھا ۔۔۔۔۔سوال سن کے بے تاثر ، رسان سے لہجے میں بولا :
    ” اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ اگلی تنخواہ کے وقت تک زندہ رہیں گے ۔۔۔۔امت کا پیسہ ہے ، میں کیونکر اس میں اختیارسے تجاوز کروں ”
    عمر خاموشی سے واپس ہو لیے ۔۔۔۔۔۔عید آ گئی ۔۔۔
    آج عید ہے ۔۔دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، غریب آدمی کہ جسے خلیفہ بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔
    عمر بن عبدالعزیز گھر واپس لوٹ کر آتے ہیں۔
    "فاطمہ! بچوں کو کہہ دو میں انھیں عید کے کپڑے نہیں لے کر دے سکتا۔۔۔”
    عید کی نماز ہوئی ، سب ملنے والے ملنے آئے ۔۔۔ عمر عبدالعزیز کے بچے بھی انہی پرانے کپڑوں میں بیٹھے تھے۔۔۔عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچوں سے فرمایا
    "بچو ! آج تمہیں اپنے باپ سے گلہ تو ہو گا کہ عید کے کپڑے بھی نہ دلوا سکا۔۔۔۔”
    عمر کے ایک بیٹے کا نام عبدالملک تھا جو ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا اسی نے بڑھ کے جواب دیا :
    "نہیں ابا! آج ہمارا سر فخر سے بلند ہے۔۔۔ہمارے باپ نے خیانت نہیں کی۔۔۔۔”
    گھر میں تشریف لائے تو بچیاں منہ پر کپڑا رکھ کر بات کر رہی تھیں۔۔۔۔۔کچھ حیران سے ہووے پوچھا :
    ” کیا ماجرا ہے ، منہ پر کپڑا رکھ کر کیوں بات کر رہی ہو ”
    بیٹیوں نے جواب دیا :
    ” آج ہم نے کچے پیاز سے روٹی کھائی ہے ہم نہیں چاہتیں ہمارے منہ سے آنے والی پیاز کی بدبو سے آپ کو پریشانی ہو۔۔۔ ”
    عمر بن عبدالعزیز کی آنکھوں میں آنسو تھے :
    "میری بچیو! کوئی باپ اپنی اولاد کو دکھ نہیں دینا چاہتا۔۔۔میں چاہوں تو تمہیں شہنشاہی زندگی دے دوں لیکن میں تمہاری خاطر جہنم کی آگ نہیں خرید سکتا۔۔۔”
    ان کا جب انتقال ہوا انھیں قبر میں اتارا گیا۔۔رجاء قبر میں اترے ، کفن کی گرہ کھول کر دیکھی ۔ رجاء کہتے ہیں :
    "میں نے دیکھا۔۔۔۔ عمر بن عبدالعزیز کا چہرہ قبلہ رخ تھا اور چودہویں کے چاند کی طرح روشن تھا یوں کہ جیسے چودہویں کا چاند قبر میں اتر آیا ہو ”
    رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله

  • امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟  تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟ تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟
    تحریر :سفیر اقبال

    یہ وہ وقت ہے جب ہاتھ ملنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا….

    امت مسلمہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جو اصل دشمن ہے وہ ہمیشہ دوست بن کر آیا… آستین کا سانپ بن کر آپ کی صفوں میں شامل ہوا ….آپ کا بھروسہ جیتا اور آپ کے دشمنوں کے لیے آپ کے قلعوں کے دروازے اندر سے کھول کر آپ کو زخمِ کاری دے گیا. اور زخم بھی ایسا کہ جس کی ٹیس صدیوں تک محسوس ہو….!

    اگر کوئی ایک دو واقعات و حادثات ہوں تو بندہ کہے شاید کوئی نسلی تعصب ہو یا انفرادی و ذاتی غصہ جس کا بدلہ پورے مسلم لشکر سے یا پوری مسلم ریاست سے لیا گیا… لیکن مقام ِحیرت کہ ایک دو واقعات نہیں پوری تاریخ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی اس کی کڑیاں کہیں نہ کہیں ان "سانپوں ” کے زہر سے جڑتی نظر آتی ہیں. مسلمانوں کے قلعے دشمن کے استقبال کے لئے ہمیشہ اندر سے کھولے گئے وہ بھی ان غداروں کے ہاتھوں سے.

    .
    اب پروبلم ہمیشہ یہ رہی کہ جو دوست بن کر آتا ہے اسے کبھی دشمن نہیں کہا جا سکتا… اسے آج تک پوری امت مسلمہ( بذریعہ اجماعِ امت) کافر نہیں کہہ سکی کیونکہ وہ اپنی "پیدائش” سے اب تک خود کو مسلمان کہتے آ رہے ہیں. اور اپنا جان و مال محفوظ کروا چکے ہیں. لیکن صحابہ کرام کی تاریخ سے لیکر آج تک کوئی ایسا موقع چھوڑتے بھی نہیں کہ جس کے ذریعے ایسی چوٹ اور ایسا زخم امت مسلمہ کو لگے کہ جو بھلایا نہ جا سکے.

    وہ ہماری پارلیمنٹ، ہمارے شہر، ہمارے محلے حتی کہ ہماری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں لیکن ہم انہیں اپنے آپ سے علیحدہ نہیں کر سکتے (قادیانیوں تک کو امت مسلمہ سے علیحدہ کرنے اور انہیں جڑ سے اکھاڑنے جیسا کام سوچنا بہت آسان ہے کرنا مشکل! اور یہ لوگ تو اور زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے درمیان سرایت کر چکے ہیں ). کسی کو ابھی بھی شک ہو تو اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود ایسے معروف ایکٹیویسٹس کی والز چیک کر لیں جو سالہا سال تک پاکستان کے دفاع کے لئے اپنے قلم کا زور لگاتے رہے لیکن آج ان کی نظر میں ریاست، آرمی، ادارے…. کسی کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں.

    ان کے ساتھ جنگ دو بدو دشمن والی نہیں بلکہ آستین میں پلنے والے یا جڑوں میں بیٹھے ہوئے سانپ کی ہے جس پر نظر رکھی جاتی ہے اور جب وہ شرارت کرتا ہے تب اسے کچلا جاتا ہے. لیکن اگر آپ پہلے اس پر کوئی وار یا کوئی فتویٰ لگاتے ہیں تو وہ کسی کام کا نہیں. کیونکہ وہ تو آپ کی جڑوں میں خموشی سے چھپ کر "معصوم” بن کر بیٹھا ہوا ہے. یہ دشمن جب آپ کی رینج میں ہوتا ہے تب اپ کا دوست ہوتا ہے اور زخم صرف اور صرف اسی صورت میں… اور تب لگاتا ہے جب اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں وار کر کے نکل جاؤں گا اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے….! اگر میں اس کے اس روئیے میں کوئی مبالغہ کرتا نظر ا رہا ہوں تو بیشک تاریخ اٹھا کر خود دیکھ لیں.

    کبھی کبھی تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے چشم تصور سے سلطان ٹیپو کی شکست کو دیکھتا ہوں تو نہایت کرب اور حسرت سے سوچتا ہوں کتنا اچھا ہوتا سلطان ٹیپو ان غداروں کو پہلے ہی اپنی صفوں سے نکال لیتے. اور پھر اچانک مجھے پاکستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کا خیال آتا ہے اور وہ حسرت دعا بن جاتی ہے کہ یا اللہ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اب دوبارہ ہمارے قلعوں کے اندرونی دروازوں کی چابیاں ہمارے غداروں کے ہاتھوں میں مت دینا.

    اللہ تعالیٰ برباد کرے ان تمام لوگوں کو جو ازل سے لیکر آج تک دوہرا رویہ اپناتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان رہ کر اپنی "مسلمانیت” کا فائدہ اٹھاتے رہے اور بعد میں جب موقع دیکھا تو اسی امت کو ایک شدید نقصان سے دو چار کر گئے. آج بھی جن جن لوگوں نے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مبارک کو اکھیڑا اور ان کے جسد مبارک کو بھی نہ چھوڑا … اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے سہولت کاروں کو کبھی قبر میں سکون نہ دے اور دنیا و آخرت میں رسوا کرے. آمین ثم آمین

  • یہ خوشیاں تم بن ادھوری  قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری

    قلمکار: عاشق علی بخاری

    عید الفطر ہو یا بقرعید یا پھر خوشی کا کوئی تہوار والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے. اکثر ان مواقع پر اولاد فرطِ جذبات سے نڈھال ہوکر افسردہ اور آنسو بہاتی نظر آتی ہے. والدین کی قربانیوں پر جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے. صرف انسان کا ان کے توسط سے دنیا میں آنا ہی اتنی بڑی نعمت ہے انسان خصوصاً مرد تو گمان بھی نہیں کرسکتا. ذرا سوچیں! ایک شخص گمنامی سے نکل کر اچانک پورے معاشرے میں مشہور ہوجائے اس کی خوشی کی کیا انتہاء ہوگی؟
    والدین بھی ہمیں عدم سے عالم دنیا میں لانے کا واحد ذریعہ ہیں اگر آج وہ نہ ہوتے تو ہماری کوئی پہچان بھی نہ ہوتی.
    ایک جوڑے کی شادی کے بعد سب سے پہلی تمنا اولاد ہوتی ہے، یعنی ہمارے بننے والے والدین سب سے پہلے ہمارے متعلق سوچتے ہیں. کلام مجید والدین کے تذکرے سے بھرپور ہے وہاں سے ہم سیکھ کر والدین کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اچھی اولاد ثابت ہوں. ان کے لئے نیک نامی اور آخرت میں درجات کی بلندی کا باعث بنیں. سال بسال ایصال ثواب نہیں بلکہ ہر روز فرائض و نوافل کے ذریعے اپنے والدین کے اکاؤنٹ میں نیکیاں منتقل کرنے کا سبب بنیں. اس کے ساتھ ساتھ قرآنی دعا رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا پڑھتے رہیں ایک تو اس دعا کو باترجمہ پڑھنے سے اپنے بچپن کے گزرے ایام یاد رہیں گے کہ کس طرح والدین نے محنت، مشکلات کے ساتھ ہمیں پالا دوسرا ان کے لئے اللہ رب العالمین سے رحم کی اپیل ہوگی. والدین کی مشکلات اگر دیکھنی ہوں تو ایک مثال سے سمجھیں، راستے میں کھڑا درخت ہر گزرنے والے کو ہرا بھرا، مضبوط اور لہراتا نظر آتا ہے لیکن پس منظر میں اس پر پڑنے والی دھوپ، بارش، تیز ہواؤں کے جھکڑ، بدلتے موسموں کے تغیرات کسی کو نظر نہیں آتے. والدین دن، رات سردی، گرمی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے انتھک محنت کرتا ہے اور والدہ کی تمام مشکلات ایک طرف بچے کی پیدائش کا مرحلہ ایک طرف اور جب ہم اپنی والدہ کے ہاتھوں میں آتے ہیں تو کوئی شخص بھی نہیں کہہ سکتا کہ مکمل نو مہینے اور پھر پیدائش کے تکلیف دہ مراحل سے گزر کر ہمارے دنیا میں آنے کا باعث بنی ہے.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے چند تہوار یا مخصوص ایام کیا حیثیت رکھتے ہیں؟

  • ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    یہ الفاظ لکھتے ہوئے دل رو رہا ہے. ہاتھ کانپ رہے ہیں.
    ( ان الفاظ کا مقصد مایوسی پھیلانا یا متنفر کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے آپ پہ جو بیتا ہے وہ سنا رہا ہوں)

    حضراتِ ذی وقار…….

    مرنا ہو تو گھر میں اپنے پیاروں کے پاس مر جائیں لیکن ہسپتال نا جائیں. کورونا موجود ہو گا اس سے انکاری نہیں ہوں لیکن ذیل میں چند ایک باتیں ہیں جو دل کو دہلا رہی ہیں. اور حقیقت بات ہے جب تک خود پہ نا گزرے کسی کو یقین نہیں آتا..

    پرسوں ہماری فیملی میں ایک فوتگی ہوئی…
    مرحوم کو کھانسی اور معمولی سا چھاتی کا انفیکشن تھا. ان کو ہسپتال لے جایا گیا. اور ان کے بھائی ملکی حالات کو بہت اچھے سے جانتے تھے. آپ یقین کیجیے پیسے دے کر زبردستی کر کے ہر لمحہ، ایک ایک پل مرحوم کے بھائی ان کے ساتھ سائے کی طرح چمٹے رہے.
    وہی حسب روایت ان کو بھی کورونا کا مریض بتلا دیا گیا. اب انکا ہسپتال میں علاج شروع ہوا. اور قابل ڈاکٹرز نے یہ تجویز کیا کہ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو جو انجیکشن لگائے جاتے ہیں وہی انجیکشن ان کو بھی لگائے جائیں تا کہ یہ فوراً سے ٹھیک ہو جائیں. 15 کی تعداد میں وہ انجیکشن منگوائے گئے. اور یقین کیجئے صرف 2 انجیکشن لگانے سے ہی ان کی حالت اتنی غیر ہو گئی تھی کہ وہ باللہ نیم جان ہو گئے تھے. ان کے بھائی نے اپنے کسی عزیز (ڈاکٹر اور فارمیسی کے ماہر) کو میڈیکل رپورٹس اور انجیکشنز اور میڈیسن بتائے کہ یہ ادویات استعمال ہو رہی ہیں. یقین کیجئے وہ عزیز چیخ اٹھے کہ یہ کیا استعمال کر رہے ہو یہ تو بالکل غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں . انہوں نے فوراً سے ہسپتال کے عملے کو بتلایا کہ یہ غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں اور عملے کا جواب ملاحظہ کیجئے "اوہ واقعی آپ درست کہہ رہے ہیں. یہ تو غلط ہیں” اور یہ کہنے کے باوجود تیسرا انجیکشن بھی لگایا گیا. اس کے بعد ان کے کولیسٹرول، کیلشیم اور شوگر کے ٹیسٹ کئے گئے. اور آپ یقین کیجئے ان کا کولیسٹرول لیول 1000 سے اوپر تھا. (کولیسٹرول کا نارمل لیول 200 سے بھی کم ہوتا ہے) اور کیلشیم تو اس قدر زیادہ بڑھ گئی تھی کہ قابلِ بیان ہی نہیں ہے. آپ ذرا انصاف کیجئے گا کیا یہ ڈاکٹرز ہیں یا قصائی. اور ان کے عزیز ان کو بالکل بھی اکیلا نہیں چھوڑ رہے تھے ایک لمحے کیلئے بھی کہ. کہیں ہسپتال والے کوئی بیغرتی نا کر دیں. اندر موجود بھتیجے نے اپنے چچا کو بولا کہ چچا جان آپ اندر آئیں مجھے کسی کام سے جانا ہے. بھتیجے کے باہر آنے اور چچا کے اندر جانے تک انہوں نے مریض کے منہ پہ کپڑا ڈال کر انہیں مردہ قرار دے دیا تھا.

    آج سے پہلے مریض کا گلا دبا کر مارنے والی ویڈیو جھوٹ لگ رہی تھی. آج سے پہلے لوگوں کا چیخ چیخ کر چلانا کہ ہمیں کورونا نہیں ہے غلط لگ رہا تھا. لیکن آج…… آج وہ تمام باتیں وہ سب کچھ سو فیصد درست لگ رہا ہے.. واللہ گھر میں مر جائیے بجائے اس کے کہ آپ ان قصائیوں کے ہاتھوں اپنی جان کو ختم کروائیں…. اور پھر ڈیڈ باڈی کا حصول بھی ایک ایسا مسئلہ بن جاتا ہے کہ لواحقین تڑپتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارا پیارا کورونا سے پاک ہے. ہمارے پاس کورونا نیگیٹو کی رپورٹس بھی ہیں لیکن نہیں…… یہ جلاد اور دجال نما درندے کسی کی آہ و بکا پہ کان نہیں دھرتے ہیں.

    ایک اور فوتگی ہوئی….. مارکیٹ کا نوجوان لڑکا….. ہلکی سی کھانسی کی وجہ سے صرف احتیاط کی بنا پر کہ کورونا کو ٹیسٹ کروا لیا جائے… انہوں نے اسی وقت کورونا مریض بتلا کر زبردستی ہسپتال میں داخل کر لیا. وہ چیختا رہ گیا کہ میں خود موٹر-سائیکل چلا کر اپنے پاؤں پہ چل کر ہسپتال آیا ہوں وہ بھی صرف شک کی بنا پر. خدارا مجھے جانے دو….. اور آپ یقین کیجئے صرف اڑھائی گھنٹے میں صرف 150 منٹوں میں اس چلتے پھرتے نوجوان کو موت کی وادیوں میں اتار دیا………
    وہ. بیچارہ چیختا رہا، چلاتا رہا کہ میری جیب میں بائیک کی پارکنگ کا ٹوکن پڑا ہوا ہے. خدارا مجھے جا لینے دو لیکن مسیحائی کے نام پہ بیٹھے ان انسانیت دشمنوں اور سفاکیت کی انتہاؤں کو چھوتے ڈاکٹروں نے اس کی موت کا بندوبست کر کے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا…. (موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس طرح کسی کو مار دینا اور سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہہ دینا کسی بھی طرح قابلِ برداشت نہیں ہے. اگر یہی بات ہے تو پھر پستول ہاتھ میں لے کر روڈ پہ نکل جاؤ اور گولیاں چلاتے جاؤ. اگر کوئی شکایت کرے تو یہی جواب دینا کہ موت تو اللہ کی طرف سے طے اور مقرر شدہ ہے )
    وہ کورونا کہ جس کا مریض 14 دن بعد کسی پیچیدہ صورتحال میں گرفتار ہوتا ہے وہ صرف 150 منٹوں میں لقمہ اجل بن گیا………
    آج کوئی حکومتی نگران یا حکومتی کارندہ کورونا پازیٹو ہو تو وہ خود کو گھر میں آئسولیٹ کرتا ہے لیکن عام عوام کو زبردستی ہسپتال میں ڈال کر موت کے حوالے کر دیا جاتا ہے……

    میری نہایت عزیز ترین اور قریب ترین شخصیت…. ان کو ہسپتال لے جایا گیا… کورونا پازیٹو بتایا گیا… لیکن ایک واقفیت کی بنا پر ہم انہیں گھر لے آئے… ایک واقفیت والے بندے کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے تو وہ اسی لمحہ نیگٹو آئے…..
    فیصلہ آپکا ہے……
    اپنے پیاروں سے دور….
    ان جلادوں کے پاس تڑپتے بلکتے، تکلیف سے کرلاتے اور سسکتے سسکتے مرنا چاہتے ہیں یا اپنے پیاروں کے پاس ان کے پیار محسوس کرتے ہوئے ان کی گود میں مرنا چاہتے ہیں. جب مرنا ہے تو اپنے پیاروں کے پاس مرو.

    یہ وہ سب باتیں ہیں جو آنکھوں دیکھی اور خود بیتی ہیں. کم از کم میں ان سب باتوں کی تردید نہیں کر سکتا اور میں ان تمام سوشل میڈیا پہ چیخنے والوں کا درد محسوس کر سکتا ہوں اور انکی تمام باتوں کی تائید کرتا ہوں.
    باقی آپ کا فیصلہ اپنا ہے…

  • ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ایک مریض جو گذشتہ ہفتے فوت ہوا۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح ایک ہفتے میں کورونا انفیکشن موت کا باعث بن سکتا ہے۔ مریض پر دستیاب محدود معلومات کی وجہ میں مزید ضروری تفصیلات شامل نہیں کر سکا۔

    ‎مئی۱۶ ۔ مریض کو سر درد محسوس ہوا اور اسے ہلکا بخار

    ‎ مئی۱۸۔ مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ، اور اس نے اینٹی بائیوٹک زپیک کا آغاز کیا۔

    ‎ اس مرحلے پر ، کنبہ اور مریض کو احساس ہوا کہ یہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے۔ یہاں سے ہر دن اور ہر گھنٹہ بہت اہم تھا۔
    ‎ انہوں نے پھر بھی اسپتال سے رابطہ کرنے کا انتظار کیا جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔

    ‎ مئی۲۰: بخار بڑھ رہا تھا اور 104 تک پہنچ گیا۔

    ‎ مئی۲۱: مریض کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ آکسیجن کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی اور اسے 94 پر پایا گیا۔ ڈاکٹر نے نمونیا کے سیریس کیس کی تشخیص کی ، لیکن بہتری کے آثار دیکھے جاسکتے تھے۔

    ‎ مئی۲۳: آکسیجن کی سطح 96 ، مریض اب بھی بہتر ہورہا تھا۔

    ‎ مئی۲۴: صبح سویرے ، اسپتال نے اہل خانہ کو فون کیا گیا کہ وہ مریض کو وینٹیلیٹر پر رکھنے کی اجازت چاہتے ہیں کیونکہ آکسیجن میں مسلسل کمی آرہی تھی۔

    ‎ اسی دن ، مریض وینٹیلیٹر پر دو گھنٹوں میں فوت ہوگیا ، شدید نمونیہ کی وجہ سے پھیپھڑے متاثر پائے گئے۔

    ‎ پوری صورت حال کا تجزیہ:

    ‎ کورونا وائرس کی متوقع تشخیص کیے بغیر بخار۲ دن تک معمول کے بخار کے طور پر لیا گیا تھا۔ آج ، اگر ہمیں بخار یا کھانسی ہے ، تو ہمیں یہ فرض کر لینا چاہئے کہ یہ کورونا ثابت ہوگا۔ یہ دو دن اہم تھے اور پھیپھڑوں پر اثر ہونا شروع ہوگیا اور اینٹی بائیوٹک کے ساتھ خود سے علاج معاون ثابت نہیں ہوا۔ یہ دو دن مریض سے کورونا فیملی میں منتقل ہونے کا سبب بنے۔ خاندان کے باقی افراد کو بچانے کے لئے یہاں فوری طور پر قرنطین کی ضرورت تھی۔

    ‎ پانچ دن کے بعد ، بخار کی شکل میں کورونا کی پہلی نشاندہی کے بعد سے ، مریض کو اسپتال لے جایا گیا۔ ، 5 دن دیر ہونے سے پھیپھڑوں پر بری طرح اثر پڑا ہے۔

    ‎ جب مریض میں بہتری آرہی تھی تو اچانک کیوں ہسپتال کے عملے نے مریض کو وینٹیلیٹر لگانے کا سوچا اور پھر بھی مریض وینٹی لیٹر لگانے کے بعد گھنٹوں میں ہی دم توڑ گیا۔ یہاں لگتا ہے کہ ہسپتال سے کچھ غفلت برتی گئی ، وہ بگڑتی ہوئی حالت کو بروقت نہیں دیکھ سکے اور وینٹی لیٹر پر مریض ڈالنے میں دیر کردی۔ کورونا مریض کے ساتھ کوئ فیملی ممبر نہیں ہوسکتا اور مریض مکمل طور پر اسپتال کے عملے کے رحم و کرم پرھوتا ہے اور اسپتال کی کسی بھی غفلت کا پتہ نہیں چلے گا، چاہے اس کی وجہ سے موت واقع ہو جاۓ۔ یہ کورونا علاج کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

    ‎ مجھے یقین نہیں ہے کہ ہمارے کسی محکمہ صحت میں سے کسی نے بھی کسی سطح پر ایسی آگاہی پیدا کی ہے جہاں ہر مریض کی حالت "روزانہ کی بنیاد پر” کو عوامی شعور کے لیے پھیلایا گیا ہو تاکہ لوگوں کو مطلوبہ ایکشن کے بارے میں بہتر طور پر تیار کیا جاسکے۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میڈیا کے کسی بھی حصے نے اس طرح کی آگاہی کی کوشش نہیں کی۔

    ‎ پھر بھی یہ تبصرہ ناکافی ہے کیوں کہ میں 16 مئی سے لے کر 25 مئی تک گھر میں اور بعد میں اسپتال میں مریض کو دیئے جانے والے علاج کی تفصیلات نہیں جانتا اور نہ کوئ ایکسپرٹ تجویز دے سکتا ہوں۔

    ‎ آنے والے دنوں میں ، اسپتالوں کی استعداد مریضوں کو بچانے کے لئے کافی نہیں ہو گی، جو ہمیں ایک سنگین سوال کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا ہم نے اسپتالوں کے بغیر کورونا مریض کے انفرادی سطح کے علاج معالجے اور ہینڈلنگ کے کے بارے میں سوچا ہے؟ یہ صورتحال جلد ہی آرہی ہے ، یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس ممکنہ منظرنامے کو پورا کرنے کے لئے "ابتدائی طبی امداد” سے متعلق خود سے متعلق علاج کے بارے میں شعور پیدا کیا جاۓ۔

    ‎جان بچانے کیلۓ غیر روایتی آپشن بھی لی جا سکتی ہے ، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ ریموٹ آپشنز کیا ہیں؟ عوام کو کون نصیحت کرے گا؟ کون بیداری پیدا کرے گا؟ ہمیں جان بچانے کے علاج کی حکمت عملی کو بہتر بنانا چاہئے۔

    ‎ آئیے یہ سوالات تمام صوبوں اور علاقوں اور خاص کر میڈیا پر زیر بحث لاۓ جائیں

    ‎ کیا ہم نے نجی اسپتالوں اور فارمیسیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے جب ایک بار سرکاری اسپتالوں کی صلاحیت کم ہوجائے گی؟ ہمیں نجی اسپتالوں کو کورونا علاج ، وینٹیلیٹر اور ائسولیشن کے کمروں کی دستیابی کے لئے حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔ ہمیں صحیح دوائیوں کے ساتھ کورونا مریض کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فارمیسیوں کو تیار کرنا چاہئے۔

    ‎ کیا ہم نے گھر میں قرنطینہ کے بارے میں شعور پیدا کیا ہے؟

    ‎ کیا ہم مزید طبی مراکز کی تیاری کر رہے ہیں؟ مزید پھیلنے کی صورت میں

    ‎ ھرڈ امینونٹی ہمارا آپشن نہیں ہوسکتا ، یہ صرف فطرت کا اختیار ہے جب
    ‎ جب انسان وبائی مرض پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو یہ مکمل ہو گا اور اسکا مطلب ہے کہ وائرس پاکستان کی 70٪ آبادی کو متاثر کرے گا۔ پاکستان میں ہرڈ امیینوٹی کا مطلب ہے کہ 10 سے 20 ملین افراد کو کھونا۔ میری عاجز رائے کے مطابق ، ھرڈ امینونٹی کو حکمت عملی کے طور پر بات کرنا جرم ہے۔

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

  • کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟ تحریر: طارق  محمود

    کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟ تحریر: طارق محمود

    کیا بینظیر نے اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی؟؟؟
    تحریر: طارق محمود

    کچھ دن پہلے ملک ریاض کی دو بیٹیوں نے اپنے مسلح گارڈز کے ساتھ ماڈل عظمیٰ خان کے گھر پر دھاوا بول کر اپنے گارڈز کے ذریعے تشدد اور زیادتی کی جو کوشش کی تھی وہ بات اب پرانی ہوچکی ہے، کچھ لوگوں نے حملہ آوروں کے فعل کو ٹھیک جانا جو اپنے مبینہ خاوند کی بےوفائی پر اسے سبق سکھانے آئیں تھیں اور کچھ لوگوں نے گھر میں مقیم دونوں لڑکیوں کو مظلوم جانتے ہوئے انکی حمایت کی، کیونکہ کسی کے گھر پر غنڈہ گردی کرنے کی دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا، اس واقعہ پر سوشل میڈیا پر بیشمار تبصرے کیئے گئے اور ہر کسی نے اپنے اپنے ویوز بھی دیئے، ایسے ہی ویوز میں ٹوئٹر پر مشہور امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کا نام بھی سامنے آیا ہے، جنکے ٹویٹس کی وجہ پاکستان میں کچھ حلقوں میں شدید بےچینی پائی گئی ہے، اور موصوفہ کے خلاف پاکستانی عدالت میں ہتک عزت اور الزام تراشی کا مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا ہے۔ سنتھیا ڈی رچی گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا پر مہم چلا رہی ہیں اور مغربی ممالک کے شہری لاکھوں مرتبہ انکی پاکستان میں سیاحت کے حق میں پوسٹ کی گئی ویڈیوز دیکھ بھی چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری سنتھیا کو انکے کام کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    سنتھیا نے اپنے ٹویٹس میں ملک ریاض کی بیٹیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوا لکھا ہے کہ اس سے مجھے بینظیر بھٹو کا زمانہ یاد آگیا ہے جب زرداری کی بےوفائیوں پر بینظیر اپنے گارڈز کے ساتھ چھاپہ مارتی تھیں اور اپنے گارڈز سے زرداری کی معشوقوں کیساتھ زیادتی بھی کرواتی تھیں تاکہ وہ آئندہ زرداری کے ساتھ تعلقات بنانے سے باز رہیں۔
    ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ زرداری مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ جنسی کرپشن کا بھی بےتاج بادشاہ ہے، موصوف خوبصورت ماڈل اور اداکاروں کے ساتھ پاکستانی عوام کے پیسوں پر عیاشی بھی کرتے ہیں اور انہی ماڈلز کے ذریعے کروڑوں اربوں ڈالرز کی منی لانڈرنگ بھی کرواتے ہیں اور اگر کوئی کسٹم آفیسر کسی ماڈل کو پکڑ لے تو اسے قتل کروا کر خودکشی بھی ظاہر کروا دیتے ہیں۔

    دنیا کے کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی بیوی یہ پسند نہیں کرسکتی کہ اسکا شوہر اسکے ہوتے ہوئے دوسری عورتوں کے ساتھ تعلقات بنائے، پاکستانی معاشرے میں مظلوم اور مالی طور پر کمزور بیویاں اپنے خاوندوں کو روکنے سے قاصر ہوتی ہیں، اسلئے بچاری چوبیس گھنٹے اسی پریشانی میں سوچ سوچ خود ہی ذہنی مریض بن جاتی ہیں، جبکہ مالی طور پر مضبوط اور تعلیم یافتہ بیویاں تمام اخلاقی اور قانونی حدوں کو پھیلانے کر اپنے شوہروں اور انکی مبینہ معشوقوں پر حملہ آور بھی ہوجاتی ہیں، ایسا ہم نے کچھ دن پہلے کے واقعہ میں بھی دیکھا ہے اور ہوسکتا ہے ایسا بی بی نے بھی اپنی زندگی میں شوہر کی بےوفائیوں سے تنگ آ کر کردیا ہو، کچھ لوگ اس بات پر احتجاج کررہے ہیں کہ جسکی وفات ہو جائے اسکے مرنے کے بعد اس پر الزام نہیں لگاتے کیونکہ اس نے کونسا واپس آ کر جواب دے دینا ہوتا ہے، ایسا ٹھیک بھی لگتا ہے لیکن بی بی محترمہ تو اپنے والد بھٹو کی طرح زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ ہی رہیں گی، اسلیئے پی پی والوں کو احتجاج کرنے کی بجائے جا کر گڑھی خدا بخش میں بی بی سے پوچھ لینا چاہئیے کہ کیا انہوں نے زرداری کی بےوفائیوں پر چھاپے مار کر اپنے گارڈز کی مدد سے زرداری کی مبینہ معشوقوں سے زیادتی کروائی تھی یا سنتھیا ڈی رچی جھوٹ بول کر پاکستانی معاشرے میں مشہور ہونے کیلئے تگ ودو کررہی ہیں۔
    #طارق_محمود

  • باپ ایک انمول ہستی بقلم :  شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی بقلم : شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی
    شہباز غافل

    "قوی قلب اور ماتھے پہ شکن کے نشاں
    وہ ہے اِک باپ مگر ہے عظیم انساں”

    باپ سہہ حرفی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ یہ لفظ اپنے اندر پیار، محبت، خلوص، قربانی اور ناجانے کن کن بیش قیمتی نگینوں کو سموئے ہوئے ہے۔
    بلاشبہ ایک جوڑے کے لیے والدین بننے کا احساس بہت جدا اور ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

    پھر اولاد کے گھٹنوں کے بل چلنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے تک کا سفر، باپ کو تو کہیں سانس لینے کی بھی فرصت نہیں دیتا۔ وہ بچوں کی اچھی پرورش کو ہی اپنا فرضِ اوّلین سمجھتا ہے اور عمر کے اس حصے کو پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. ایسے میں اولاد اکثر اپنی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔
    حضور اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "والدین کو پیار بھری نظروں سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دنیا بالخصوص مغرب میں باپ کو ایک سیڑھی کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور کام ہو جانے پر ان کو پُرانے سامان کی طرح کسی کونے میں پھنک دیا جاتا ہے یا کسی اولڈ ہوم میں ڈال دیا جاتا ہے۔

    باپ وہ ہستی ہے جو اپنے بیٹے کے روزگار سے شادی تک اور بیٹی کو تعلیم دلوانے سے رخصتی کرنے تک بہت سارے جتن نہیں کرتا ؟
    حیرت ہے کہ نظریں دھندلا جانے کے بعد وہی اولاد باپ کو ذرا سی کرنیں دینا بھی بوجھ سمجھتی ہے۔
    ایک دفعہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص۔
    صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّٰہؐ کون سا شخص ذلیل و خوار ہوا؟
    تو رسول خداؐ نے ارشاد فرمایا:”وہ شخص ذلیل و خوار ہوا جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور ( ان کی خدمت نہ کر کے ) جنت کا حقدار نہ بن سکا۔”
    باپ کی محبت کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ بسترِ مرگ پر بھی اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی کے لیے ہمہ وقت دعا گو رہتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلہ تو گھٹ دیتا ہے مگر اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
    بلاشبہ باپ سورج کی مانند ہوتا ہے، جس کی تپش تو ہوتی ہے، پر اندھیرا دور کرنے میں بھی یہی کام آتا ہے۔
    باپ امیر ہو یا غریب دونوں ہی اپنی اولاد کی پرورش بخوبی نبھاتے ہیں، لیکن یہ دونوں تصویر کے دو الگ الگ رُخ ہیں۔ ایک وہ ہے جو اولاد کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت رکھتا ہے اور ایک وہ جو اپنے آنکھوں کی نمی چُھپانے کی خاطر رات کے اندھیرے میں گھر لوٹ کر آتا ہے۔ باپ امیر ہو یا غریب،باپ تو باپ ہے۔
    بے شک باپ کی دولت نہیں سایہ ہی کافی ہوتا ہے۔
    مگر افسوس ہے کہ وہی اولاد گھنیرے شجر کے سایہ میں کیے ہوئے آرام کو بھول جاتا ہے۔ بے شک
    زندگی ایک پیڑ کی مانند ہے،جس کی جڑیں باپ ہے۔
    پس ثابت ہوا کہ باپ ایک انمول ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ جو اولاد والدین کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے وہ زندگی میں کبھی بھی سُکھی نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کے لیے والدین سے حسن سلوک کریں۔
    اللّٰہ ہمیں والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔۔۔۔آمین