Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں

    Eye Pupil in Quran
    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:


    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔

    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system

    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:

    يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم محمد ارسلان!!!

  • حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔

    چرچا بہت ہوتا ہے جہاں میں کُچھ حسینوں کا…
    حُسن کے تصور سے دل کے مکینوں کا…
    گر ظاہریت پہ ہوتی فدا سب ادائیں ہیں…
    مگر باطن کے زور پر سفر ہوتا ہے سفینوں کا…
    صرف حُسن کے زعم میں پھرنا اچھا نہیں لگتا…
    کہ زندگی کٹنے میں، ہاتھ ہوتا ہے کُچھ قرینوں کا…
    حُسن کی شوخی سے اکڑی گردن ہی نہیں اچھی…
    مقام بڑا ہی ہوتا ہے،عجز سے جھُکی جبینوں کا…
    حُسن صورت کے خالق کا شکر بھی ہے لازم سدا…
    اندازِ تشکر لبوں پہ،اظہار پلکوں پہ چمکتے نینوں کا…!!!
    یہ دیکھنا ناگزیر ہے، کہ کون پیکرِ جمیل ہے؟
    حُسن و خوبروئی سےلے،نہاں جو خیال ہے سینوں کا…!!!
    حُسن سے حُسنِ بیاں تک سفر ذرا دھیرے سے کٹتا ہے…!
    بہت سوچ کے کہنا ہے،یہ قول باریک بینوں کا…!!!!!
    ==============================(20 اپریل 2020)۔
    [جویریات ادبیات]

  • کشمیری خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج

    کشمیری خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج

    کشمیری خاتون جرنلسٹ مسرت زہرہ کو ملک مخالف پوسٹس اپلوڈ کرنے کے الزام پر تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ بھارت اس سے قبل بھی کشمیری صحافیوں کو قید کرچکا ہے

    سرینگر(ساوتھ ایشین وائر )مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس نے جواں سال خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو یو اے پی اے ایکٹ (غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ترمیم شدہ ایکٹ)کے تحت سوشل میڈیا پر ملک مخالف مواد شائع کرنے کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے

    لاہور : ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سائبر پولیس نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ مسرت زہرہ نوجوانوں کو اپنے فیس بک پوسٹس کے ذریعے ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اکسا رہی تھیں جس کی وجہ سے امن و قانون میں خلل واقع ہونے کا امکان تھا

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیس بک صارف ایسا مواد بھی اپ لوڈ کررہی ہیں جو ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی شبیہہ بگاڑنے کے مترادف ہے اس ضمن میں سائبر پولیس نے ایک ایف آئی آر زیر نمبر 10/2020 زیر سیکشن UAPA) act) کے تحت ان پر مقدمہ درج کیا ہے

    القمرآن لائن کے مطابق مسرت زہرہ سرینگر کے علمگری بازار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیں جو قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ فری لانس فوٹو گرافر کے طورپر وابستہ ہیں اور ان کا کام ملکی سطح پر کافی سراہا گیا ہے

    مسرت زہرہ نے ساوتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں صبح تک کوئی علم نہیں تھا تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پولیس کا پریس ریلیز دیکھا جس میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تفصیلات درج تھیں

    واضح رہے سائبر پولیس نے اس سلسلے میں جاری پریس ریلیز میں انہیں صرف ایک عام فیس بک صارف کے طور پر ظاہر کیا ہے تاہم اس میں انہیں فوٹو جرنلسٹ نہیں لکھا گیا ہے-ساوتھ ایشین وائر نے جب کشمیر کی خاتون صحافی یونین کی صدر اور سرکردہ خاتون صحافی فرزانہ ممتاز سے بات کہ تو انہوں نے کہا کہ وہ ایس پی سائبر پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں بات کریں گی اور مزید تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی ردعمل ظاہر کریں گی

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

  • معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط نمبر 2

    فرشتوں کا روشنی کی رفتار کے مطابق سفر کرنا 👇

    مومنوں (مسلمانوں) کا خیال ہے کہ فرشتے کم کثافت(low density) مخلوق ہیں،
    اور خدا نے انہیں روشنی(نور) سے پیدا کیا ہے۔
    وہ صفر(0) کی رفتار سے لے کر روشنی کی رفتار تک کا سفر کرتے ہیں۔
    یہ فرشتے ہیں جو خدا کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔
    فرشتے خدا کے عرش کی بجائے خلاء میں کسی محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) سے احکامات لیتے ہیں۔
    وہ اس محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ ہر وقت منسلک ہوتے ہیں تاکہ خدا سے اپنے لیے احکامات یہاں سے لیے جائیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ منسلک فرشتے کیسے سفر کرتے ہیں۔
    اور وہ رفتار جسکے ذریعے وہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) سے رابطہ کرتے ہیں، کیسے روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔

    يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُـمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٝٓ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدہ 5#)
    "وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ حکم/معاملہ(فرشتے کے ذریعے) اسے(مطلوبہ جگہ) صرف ایک دن میں پہنچا دیا جاتا ہے اور وہ ایک دن تمہارے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔”
    ۔
    مطلب فرشتہ جو ایک دن میں سفر کرتا ہے ہم وہی سفر ایک ہزار سال میں پورا کر سکتے ہیں۔ یہ فرشتے ہیں جو یہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔
    پچھلے لوگوں نے فاصلے کو صرف چلنے کی مقدار میں ماپا نہ کہ کلومیٹر کے سکیل یا میل کے سکیل میں، مثال کے طور پر
    اگر ایک گاوں دو دن کے فاصلے پر ہے تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اس گاؤں تک پہنچنے کیلئے دو دن چلنا پڑے گا، یا 10 دن کے فاصلے پر ہے تو دس دن چلنا پڑے گا۔
    اسی طرح قرآن نے فرشتوں کے ایک دن کے سفر کرنے کی رفتار 1000 سال بتائی ہے، یعنی فرشتہ ایک دن میں 1000 سال کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
    پھر پچھلے لوگوں نے لونر کیلنڈر(چاند کا کیلنڈر) کو اپنا لیا جسکے ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔
    یہ مہینے چاند سے متعلق ہیں نہ کہ سورج کے متعلق۔
    چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار سال میں 12000 مہینے ہوں گے۔
    یہ آیت اس فاصلے کا حوالہ دے رہی ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ چاند 12000 مہینوں تک جتنا سفر طے کرتا ہے، اتنا ہی سفر فرشتہ ایک دن میں طے کرلیتا ہے
    اور یہ دریافت کیا جا چکا ہے کہ "چاند کا 12000 مہینوں کا سفر”، روشنی کی رفتار کے برابر ہے.
    #سکندریات

    معجزات قرآن قسط 1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم: سلطان سکندر!!!

  • شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟  تحریر ؛ محمد راشد

    شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟ تحریر ؛ محمد راشد

    شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟
    آؤ دیکھیں کہ Extreme کیا ہے اور حقیقت کیا ہے؟؟

    عرصہ 1 سال ہو گیا میری علیحدگی اور طلاق کو۔۔۔ لیکن اس میں اور اس سے پہلے یہ۔سبق ضرور سیکھا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو morally، educational اور financially مضبوط کرے۔
    میٹرک تک تعلیم کے بعد روزگار اور کاروبار کی طرف توجہ دے اور تعلیم کو صرف part time رکھے۔ جتنا پیسہ تعلیم پر میٹرک کے بعد ماسٹر تک، خرچ کر کے بھی 12000کی تنخواہ کے لیے CVs اور apply تک ہی رہے انسان تو اگر وہ چھوٹے سے کاروبار کی طرف چلا جائے تو 5 سے 10 سال میں وہ اللہ کی مدد اور اپنی محنت و لگن سے ایک مضبوط معیشت کا مالک ہو گا۔
    لیکن ہم white collar life کے بھوکے لوگ، محنت سے جی چراتے ہیں اور خود ماسٹر کرنے کے بعد نوکر بننے اور لیکچرر کے خواب دیکھتے ہیں۔۔ جاب لگ بھی جائے تو جاب والا آدمی گھر کا کچن چلا سکتا ہے جب تک کہ وہ پارٹ ٹائم کام نہ کرے اور ایسا صرف ٹیچر طبقہ کے علاوہ دوسری جاب والے لوگ نہیں کر سکتے۔۔
    ۔
    پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے 20 سال تک نکاح کر لیا، چاہیے جتنا بھی پڑھے لکھے ہوں، بر سر روزگار ہو ہی جاتے ہیں اور ہم جیسےماسٹر، M Phil تک کیے لوگ جاب اور گھر کے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔۔ بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں مزید نام نہاد پڑھے لکھے آدمی پر آ جاتی ہیں۔۔ عمر 28 سے 36 سال تک ہو جاتی ہے۔۔
    وقت کے ساتھ گھر ابھی نہیں بنا ہوتا اس معیار کا، جو کہ میٹرک میں یا اس سے کم تعلیم سے بچھڑنے والا دوست، رشتہ دار بنا چکا ہوتا ہے۔۔ اور ہم برائی اور فتنوں کے بھنور میں پھنس جاتے ہیں اور وقت Facebook اور whattsapp کا نشئ بنا دیتاہے۔
    پڑھے لکھے رشتے، دولت کے معیار اور ذات، برادری کے زعم میں تولتے ہیں جیسا کہ چوہدری، راؤ، سید، شیخ وغیرہ کیونکہ اس ذات کے علاوہ باقی سب لوگ انسانیت کے رتبے سے نیچے ہوتے ہیں اور کافروں کے قریب ہوتے ہیں۔۔ہیں نا؟
    پھر کوئی مرد نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس کو لڑکی کے والدین ایسا رویہ اور ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ جیسے لڑکی کا باپ وہ خود نہیں بلکہ "روپیہ،Bank account اور property” ہو۔
    مناسب لین دین کرے انسان لیکن، شیطان کی اولاد نہ بن جائے ۔۔۔
    بلکہ محمد عربی صلی علیہ و آلہ وسلم کا امتی بنے۔۔لیکن نہیں۔۔ہم نے ہر حال میں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہمارے بڑے ہندو تھے ۔۔نہ کہ ہم نے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہم انبیاء اور صحابہ، سلف صالحین کے وارث ہیں۔۔
    جہاں تک طلاق یافتہ رشتے ہوتے ہیں، ان میں اکثریت نام نہاد پڑھے لکھوں کی ہے کیونکہ صبر، شکر اور اللہ پر توکل کے elements نا پید ہیں اور ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ "ہائے، پیسہ”۔
    بہت سے طلاق یافتہ رشتے درج ذیل غیر فطری ڈیمانڈز رکھتے ہیں۔۔
    1۔ ہماری بیٹی کے نام گھر کراؤ۔
    2۔ ہمارے شہر میں ٹرانسفر کرا کے آئیں۔
    3۔ سونا 5 تولہ تک بھی دیں۔
    4۔اپنی آمدن کو ایک لاکھ سے اوپر کریں یا اس کے ارد گرد۔۔
    5۔ جہیز بھی نہ مانگیں( جہیز ، غیر اسلامی ہو گیا، اور اوپر والی ڈیمانڈز انکے کونسے باپ کے مذہب میں ہیں؟)۔۔
    ایکM Phil English مطلقہ نے تو 4لاکھ آمدن تک کا کہ دیا۔۔
    ۔
    "علماء یہ مسئلہ بتاتے نہیں ہیں لیکن اگر عورت کا نکاح اس کی مرضی کے مطابق،اس کے والدین نہ کر رہے ہوں اور عورت کسی کو پسند کرتی ہو تو وہ عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اور پھر عدالت اسکی ولی بن کر نکاح کر سکتی ہے۔۔”
    میں یہ مسئلہ بتانا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ پیسے کے پجاری لوگوں کا، کچھ نہ کچھ توڑ ضرور ہے۔۔
    ۔
    میں سمجھتا ہوں، کہ ذیادہ پڑھ لکھنے کی بجائے 20سال کی عمر میں نکاح کو پروان چڑھایا جائے۔۔۔ پھر برائی کے رستے بھی رکیں گے۔۔۔
    اسلامی عقیدہ بھی ہے کہ نکاح کے بعد رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔۔
    ۔
    اور یہ مرد بیچارے، مطلقہ سے ہمدردیاں کرتے پھرتے ہیں، اگر میری پوسٹ غلط ہے تو مباحثہ کر لیں۔۔ یہ طلاق یافتہ، کنوارے رشتوں سے بھی زیادہ capitalists ہوتے ہیں اوراکثر انکے والدین کو برباد بیٹی برداشت ہے لیکن گھر بسی نہیں(اگر پہلا گھر نہیں بسا تو ، کردار اور مناسب روزگار دیکھ کر کیا دوسرا گھر نہیں بسانا چاہیے ؟)۔۔
    اور جہاں تک پڑھے لکھے طبقے کا تعلق ہے، سب سے زیادہ طلاق کی شرح ان میں ہے۔۔ بہت سی female ڈاکٹر اور وکیلوں کی شادی تک نہیں ہوتی۔۔۔ کیسا اسلامی معاشرہ تشکیل دیا ہم نے۔۔۔state نے تو کچھ نہ کیا، ہم نے بھی تو کمال کر دیا ہے۔۔؟؟
    کوئی 25 تا 30 سال تک کا نام نہاد پڑھا لکھا، مرد یا عورت، جو کنوارہ ہو، اور وہ فتنوں سے بچا ہوا ہو۔۔۔لائیے مجھے اس کا موبائل دیں۔۔سب کچھ نظر آ جائے گا۔۔۔
    اکثر پروفیسر جو Thesis and article کا topic, ایک Proposal تک نہیں بنا یا سمجھا سکتے، ان سے ہم Research کر کے آتے ہیں، خاک علم لاتے ہیں، تبھی میں نے نام نہاد پڑھا لکھا کہا۔۔
    اور پھر جب Practical زندگی میں آتے ہیں تو معاشرہ، والدین، سسرال، بیوی اور باس وہ سبق دیتا ہے کے سب پچھلا بھلانا پڑھتاہے۔۔ صرف کتابوں کا علم عملی نہیں ہوتا۔۔۔
    جس معاشرے سے بھاگے، وہی عملی زندگی میں سامنے ہوتا ہے۔۔
    وہی لوگ، وہی مزاج۔۔۔۔
    نہ زندگی کا سواد۔۔نہ صرف علم سے ترقی۔۔ نہ وقت کے نکاح سے روح کی پاکیزگی ملی۔۔۔۔25 سے 30 سالہ زندگی سے 15 سال تک بغیر روح کی پاکیزگی اور achievement کے برباد۔۔۔
    ۔
    ۔
    کڑوا آدمی اصول پرست ہوتا ہے۔۔۔اور بے غیرت کو غصہ نہیں آتا اور بے عقل سے عمل کی امید بھی نہیں ہوتی۔۔۔
    محمد راشد
    M Phil English Linguistics, Plagiarism setter.SESE English.

  • اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!!  تحریر ؛ بلال شوکت آزاد

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!! تحریر ؛ بلال شوکت آزاد

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!!

    اگر ہمیں بھی ڈالر پیارے ہوتے نا کہ شریعت محمدی ص کی تعلیمات کہ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ” تو ہم بھی اکیسویں گریڈ کے محقق و دانشور ہوتے جو کبھی مومنوں کو دجال کے ٹڈ پر کت کتاریاں کرکے ڈراتے, کبھی فری میسن والوں کی برادری کنگھال کر شور مچاتے, کبھی الومیناتی والوں کے ابو بفومٹ کو آنکھ مارتے, کبھی لوسیفر کو ٹانٹ کرتے, کبھی تکون اور تنہا آنکھ کا تعاقب کرتے, امریکہ و اسرائیل کو ہر دیوار کے پیچھے تلاش کرتے اور بل گیٹس کو ہر مسئلے کے لیے مورد الزام ٹھہراتے وغیرہ وغیرہ۔

    اس آیت میں جو حکم ہے کہ "اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو” اس کے تین حصے یا شرائط ہیں مطلب پہلے تو شرط لاگو ہوتی ہے ایمان والا ہونے کی مطلب اللہ و رسول ص کی تعلیمات پر کامل ایمان اور یہ بھروسہ کہ اللہ کی مرضی سے ایک پتہ بھی نہیں ہلتا جبکہ آپ ص اللہ کے وہ رسول ص ہیں جن پر نبوت و شریعت کا اختتام ہوا اور دوسری شرط یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو مطلب پوری کائنات میں مطلق اللہ کی ہی ذات ہے جس سے ڈرایا جائے اور جس سے ڈرا جائے باقی سب باطل صرف خاتمے کے لیے ہیں ناکہ ڈرنے کے لیے اور تیسری سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سیدھی بات کہو مطلب وہی بات کہو جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت سیدھی ہو یعنی وہ باتیں مت کرو جنہیں ثابت کرنے کے خوامخواہ کی کہانیاں اور اشارے گھڑنے پڑیں بلکہ وہ بات کرو جو سیدھی, سچی, ثابت شدہ یا مدلل ہو مکمل حوالہ جات کے ساتھ۔

    سازشیں یا سازشی تھیوریا اس زمانے کی ایجاد و دریافت نہیں بلکہ یہ بنی آدم میں اولین روز سے ساتھ آئی ہیں اور ان کے پیچھے ہمیشہ ابلیس ہی موجود رہا ہے جس کا واحد مقصد انسان کو ڈرانا اور بہکانا ہے تاکہ انسان ڈر اور بہک کر شیطان کا راستہ چن لے کیونکہ شیطان کے پاس انسان کو بہکانے والے خوشنما دعوے اور کہانیاں دراصل اور درحقیقت بدنما اور بدتر کہانیاں اور دعوے ہیں۔

    یہ جو احباب خبردرار ہوشیار, کانفیڈنشل معلومات, ٹاپ سیکرٹ ریویلڈ اور بریکنگ نیوز و جدید تحقیق جیسے الفاظ کا سہارہ لیکر دانشوری بگھارتے اور معصوم عوام کا ذہن منتشر و متنفر کرتے ہیں, ڈراتے اور بہکاتے ہیں دراصل یہی وہ دجلے اور شیاطین ہیں جو درحقیقت ابلیس کی ذریت ہیں اور اسکی تقلید میں انسانوں کا جینا دوبھر کرتے ہیں۔

    جانتے ہیں جاننا ایک نعمت ہے لیکن حد سے زیادہ جاننا ایک زحمت, وبال جان اور سادہ لفظوں میں عذاب الہی کو دعوت ہے جیسا کہ ابلیس حد سے زیادہ جان کر اللہ کے غضب کا شکار ہوا اور راندہ درگاہ ہوکر قیامت تک دنیا میں پھینک دیا گیا۔

    اوور نالجڈ, اوور ایفیشنٹ اور اوور ایموشنل پرسن کو دنیا کے کسی ادارے بلخصوص سرکاری و عسکری ادارے میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔

    میں تین ایسے اشخاص کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں جو پاکستان میں کمیشنڈ حاصل کرنے کی خاطر متعلقہ اداروں میں شارٹ لسٹڈ ہوئے پر تمام مراحل بخوبی طے کرنے کے بعد آخری اور فائنل انٹرویو میں فیل ہوگئے۔

    وجہ؟

    وجہ ان کا اوور نالجڈ, اوور ایفیشنٹ اور اوور ایموشنل پرسن ہونا تھا لہذا فیل ہوگئے۔

    ہمیں بات کرتے وقت اور بلخصوص کسی اجتماعی فورم پر کسی مخصوص موضوع پر بات کرتے وقت یاد رکھنا چاہیے کہ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ”۔

    ڈرانا جائز ہے پر انسان کو اللہ سے ڈراؤ نا کہ انسان کو انسان سے ہی ڈرا ڈرا کر اس کو مایوسی کی جانب لے جاؤ جہاں وہ کفر و شرک کا مرتکب ہوکر شیطان کا ساتھی بن جائے اور روز آخرت جہنم کا ایندھن بن جائے۔

    فتنوں کی خبرگیری اور ان سے لڑنے کا منصوبہ بنانا یا حل تلاش کرنا بھی ایک فتنہ ہی ہے کیونکہ فتنوں سے بچنے اور ان سے دور بھاگنے کا حکم تو موجود ہے پر ان سے لڑنے بھڑنے یا ان کو بزور بازو ختم کرنے کا حکم یا مشورہ کہیں نہیں پڑھا اور سنا۔

    جو چیز ٹاپ سیکرٹ اور کانفیڈنشل ہے وہ پبلک نہیں ہوسکتی اور جو چیز پبلک ہو وہ ٹاپ سیکرٹ اور کانفیڈنشل نہیں ہوسکتی لہذا خوامخواہ ڈالر کمانے کے چکروں میں عوام کو ٹرک کی بتیاں فالو کروانا ترک کریں۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!!  تحریر: بلال شوکت آزاد

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!! تحریر: بلال شوکت آزاد

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو!!! تحریر بلال شوکت آزاد

    اگر ہمیں بھی ڈالر پیارے ہوتے نا کہ شریعت محمدی ص کی تعلیمات کہ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ” تو ہم بھی اکیسویں گریڈ کے محقق و دانشور ہوتے جو کبھی مومنوں کو دجال کے ٹڈ پر کت کتاریاں کرکے ڈراتے, کبھی فری میسن والوں کی برادری کنگھال کر شور مچاتے, کبھی الومیناتی والوں کے ابو بفومٹ کو آنکھ مارتے, کبھی لوسیفر کو ٹانٹ کرتے, کبھی تکون اور تنہا آنکھ کا تعاقب کرتے, امریکہ و اسرائیل کو ہر دیوار کے پیچھے تلاش کرتے اور بل گیٹس کو ہر مسئلے کے لیے مورد الزام ٹھہراتے وغیرہ وغیرہ۔

    اس آیت میں جو حکم ہے کہ "اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو” اس کے تین حصے یا شرائط ہیں مطلب پہلے تو شرط لاگو ہوتی ہے ایمان والا ہونے کی مطلب اللہ و رسول ص کی تعلیمات پر کامل ایمان اور یہ بھروسہ کہ اللہ کی مرضی سے ایک پتہ بھی نہیں ہلتا جبکہ آپ ص اللہ کے وہ رسول ص ہیں جن پر نبوت و شریعت کا اختتام ہوا اور دوسری شرط یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو مطلب پوری کائنات میں مطلق اللہ کی ہی ذات ہے جس سے ڈرایا جائے اور جس سے ڈرا جائے باقی سب باطل صرف خاتمے کے لیے ہیں ناکہ ڈرنے کے لیے اور تیسری سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سیدھی بات کہو مطلب وہی بات کہو جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت سیدھی ہو یعنی وہ باتیں مت کرو جنہیں ثابت کرنے کے خوامخواہ کی کہانیاں اور اشارے گھڑنے پڑیں بلکہ وہ بات کرو جو سیدھی, سچی, ثابت شدہ یا مدلل ہو مکمل حوالہ جات کے ساتھ۔

    سازشیں یا سازشی تھیوریا اس زمانے کی ایجاد و دریافت نہیں بلکہ یہ بنی آدم میں اولین روز سے ساتھ آئی ہیں اور ان کے پیچھے ہمیشہ ابلیس ہی موجود رہا ہے جس کا واحد مقصد انسان کو ڈرانا اور بہکانا ہے تاکہ انسان ڈر اور بہک کر شیطان کا راستہ چن لے کیونکہ شیطان کے پاس انسان کو بہکانے والے خوشنما دعوے اور کہانیاں دراصل اور درحقیقت بدنما اور بدتر کہانیاں اور دعوے ہیں۔

    یہ جو احباب خبردرار ہوشیار, کانفیڈنشل معلومات, ٹاپ سیکرٹ ریویلڈ اور بریکنگ نیوز و جدید تحقیق جیسے الفاظ کا سہارہ لیکر دانشوری بگھارتے اور معصوم عوام کا ذہن منتشر و متنفر کرتے ہیں, ڈراتے اور بہکاتے ہیں دراصل یہی وہ دجلے اور شیاطین ہیں جو درحقیقت ابلیس کی ذریت ہیں اور اسکی تقلید میں انسانوں کا جینا دوبھر کرتے ہیں۔

    جانتے ہیں جاننا ایک نعمت ہے لیکن حد سے زیادہ جاننا ایک زحمت, وبال جان اور سادہ لفظوں میں عذاب الہی کو دعوت ہے جیسا کہ ابلیس حد سے زیادہ جان کر اللہ کے غضب کا شکار ہوا اور راندہ درگاہ ہوکر قیامت تک دنیا میں پھینک دیا گیا۔

    اوور نالجڈ, اوور ایفیشنٹ اور اوور ایموشنل پرسن کو دنیا کے کسی ادارے بلخصوص سرکاری و عسکری ادارے میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔

    میں تین ایسے اشخاص کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں جو پاکستان میں کمیشنڈ حاصل کرنے کی خاطر متعلقہ اداروں میں شارٹ لسٹڈ ہوئے پر تمام مراحل بخوبی طے کرنے کے بعد آخری اور فائنل انٹرویو میں فیل ہوگئے۔

    وجہ؟

    وجہ ان کا اوور نالجڈ, اوور ایفیشنٹ اور اوور ایموشنل پرسن ہونا تھا لہذا فیل ہوگئے۔

    ہمیں بات کرتے وقت اور بلخصوص کسی اجتماعی فورم پر کسی مخصوص موضوع پر بات کرتے وقت یاد رکھنا چاہیے کہ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ”۔

    ڈرانا جائز ہے پر انسان کو اللہ سے ڈراؤ نا کہ انسان کو انسان سے ہی ڈرا ڈرا کر اس کو مایوسی کی جانب لے جاؤ جہاں وہ کفر و شرک کا مرتکب ہوکر شیطان کا ساتھی بن جائے اور روز آخرت جہنم کا ایندھن بن جائے۔

    فتنوں کی خبرگیری اور ان سے لڑنے کا منصوبہ بنانا یا حل تلاش کرنا بھی ایک فتنہ ہی ہے کیونکہ فتنوں سے بچنے اور ان سے دور بھاگنے کا حکم تو موجود ہے پر ان سے لڑنے بھڑنے یا ان کو بزور بازو ختم کرنے کا حکم یا مشورہ کہیں نہیں پڑھا اور سنا۔

    جو چیز ٹاپ سیکرٹ اور کانفیڈنشل ہے وہ پبلک نہیں ہوسکتی اور جو چیز پبلک ہو وہ ٹاپ سیکرٹ اور کانفیڈنشل نہیں ہوسکتی لہذا خوامخواہ ڈالر کمانے کے چکروں میں عوام کو ٹرک کی بتیاں فالو کروانا ترک کریں۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ، حبیب الرحمن

    قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے بھی استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔

    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے دار بیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔ یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

    1.دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔

    2.ذیابیطس (شوگر): ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کر کے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    3.دل کا دورہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔

    4.پولیو اور لقوہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ بچوں کو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    5.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔

    6.بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔

    7.آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میں ایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔

    8. امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد): دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے تو ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔

    9.یادداشت میں کمی: یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔

    10.درد گردہ: ۲۵۰ گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کو نصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔ علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔

    11.عام جسمانی کمزوری:نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔

    12.دردِ سر: پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔

    13.بلند فشار خون: گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔

    14.بالو ں کا گرنا: نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے

    15.عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔

    16.گردے میں پتھری:ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔

    17.کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔

    18.دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔

    19.کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۲۱ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں

    20.خون کی کمی (انیمیا): پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔

    21.یرقان (پیلیا): ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔

    22.کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں ، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    23.حملہ قلب (ہارٹ اٹیک): دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۲۱ دن تک جاری رکھیں۔

    24.زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    25.پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔

    26.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔ ۲۱ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔

    27.جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاء اللہ صحت برقرار رہے گی۔

    28.چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح اور شام چہرہ پر ۴۰ دن تک لگائیں۔

    29.بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر بواسیر کی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں۔

    30. ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔

    31.بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔

    32.سستی : چست رہنے کیلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔

    33.شیرِ مادر: ماں کے دودھ میں اضافہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔

    34.درد معدہ : ہر قسم کے درد معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔

    35.جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیر کھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔

    36. رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    37.دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کر کے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔

    38.کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کر کے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کانوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہو گا۔

    39.جگر و معدہ کے امراض:دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔

    40.مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کر کے دن میں دو بار پئیں چاول سے پرہیز کریں

    41.ہکلانا، تتلانا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملا کر اسے زبان کے اوپر دن میں دو بار رکھیں۔

    42.خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملا کر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
    دیسی نسخہ جات،جنسی و جسمانی بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بہترین تحریروں کے لئے ہمارا پیج لاٗیک کیجئے.اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں… شکریہ

  • اسلام میں سیاست کا تصور از قلم ۔۔۔  عاقب شاہین میر

    اسلام میں سیاست کا تصور از قلم ۔۔۔ عاقب شاہین میر

    اسلام میں سیاست کا تصور

    از قلم۔۔۔
    عاقب شاہین میر

    اسلام ایک مکمل دین ہے .اس دین کو اپنانے کےلیے قرآن نے ہمیں کچھ مسائل پیش کیے ہیں .جیسے توحید ،وعظ ،احوالِ معاشرہ وغیرہ ہیں ، ویسے ہی ایک اہم مسئلہ سیاست politics ہے لیکن یہ نام سنتے ہی ہمارے اندر ایک نفرت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہم دنیا کے گندے سیاست دانوں کے ذریعے ہی سیاست کو پہچانتے ہیں.آج میں بحیثیت ایک طالب علم آپ کے سامنے "اسلام میں سیاست کیا ہے” پیش کرنے جارہا ہوں .اللہ کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرما دے آمین .
    سیاست ,ساس یوس ,کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں معاملات کی تدبیر کرنا اور نظام کو چلانا ۔قرآن مجید نے سیاست کے اصول و معالم کو بیان کردیا اور اس کے راستوں کو واضح کردیا ہے .سیاست کی دو قسمیں ہیں .خارجی سیاستforeign politics اور داخلی سیاستindigineous politics.
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیات موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، ا مر بالمعروف و نہی عن المنکر ،مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت ،ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاور اولیأ کرام کا اندازِ سیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں سیرت طیبہ کا جو پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ حضور ﷺ کا داعی اور معلم انسانیت ہونا ہے، جبکہ لفظ "معلم” کا تقاضا یہ ہے کہ معلمِ انسانیت کی زندگی کے ہر پہلو کو سمیٹا جائے اور اس کی سیرت و سوانح کا علاقہ سیاسیات،سماجیات،اخلاقیات،معاملات،دعوت و تبلیغ اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ہو مگر اکثر و بیشتر مصنفین اس پہلو سے پہلو تہی برتتے رہے ہیں ،علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ عدل وانصاف پر مبنی سیاست اسلامی شریعت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یہ عین اسلامی شریعت کا جزو ہے۔اسے ہم سیاست کا نام اس لیے دیتے ہیں کہ لوگوں میں یہی نام رائج ہے ورنہ اس کے لیے عدل الٰہی کا نام زیادہ موزوں ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دنیا کے بغیر دین مکمل نہیں ہو سکتا ۔دین ایک بنیاد ہے اور حکمران اس بنیاد کا محافظ ہوتا ہے۔اسی لیے عادل حکمرانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا نائب کہا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  مبلغ اور داعی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست سیاسی انسان بھی تھے.معروف لغوی طریحی اپنی کتاب مجمع البحرین میں لکھتے ہیں:
    السیاسة القیام علی الشیء بما یصلحه؛ کسی شے کی اصلاح کرتے ہوئے جو اقدام کیا جائے اس کو سیاست کہا جاتا ہے۔
    خارجی سیاست کا مدار دو اصولوں پر مشتمل ہے
    1دشمن کا قلع قمع کرنے کےلیے کافی قوت تیار کرنا ارشاد باری تعالی ہے :
    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ.(انفال 60)
    تم ان کے مقابلے میں اپنی بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی .
    2اسی قوت پر مشتمل اتحادواتفاق کو قائم رکھنا .ارشاد باری تعالی ہے:
    ہر موقع پر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دینے والا قرآن کریم مسلمانوں کو ہر طرح کے سامان جنگ سے لیس ہونے کی تاکید کر رہا ہے۔9
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ وہ دشمنوں اور کافروں سے مقابلہ اور جنگ کرنے کے لیے اسلحہ، ساز و سامان، جنگ اور قوت و طاقت جمع کریں تاکہ دشمن خوف زدہ رہیں اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے کی جرات نہ کریں یعنی جنگ و جہاد اور دفاع کا حکم دیا گیا ہے ظاہر ہے سیاست کے بغیر یہ امور سر انجام دینا ممکن نہیں ہیں اس طرح سیاست کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔
    اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ایک امت مسلمہ کے اتحاد کو مستحکم کرنا اور اس کے مفادات کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ اس طرح سیاست کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے کہ اس کے ذریعے رعایا کی فلاح و بہبود اور ان کی حفاظت ہوتی ہے۔اتحادِ امت کے فروغ کے لیے سیاست ضروری امر ہے.ارشاد باری تعالی ہے۔۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِﺚ اِنَّھ۫ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾
    ترجمہ: اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وہ بہت سننے، جاننے والا ہے۔
    آیت میں دشمن سے معاہدہ امن کی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے۔
    صلح و امن کے معاہدے کرنا اورسیاسی اعمال میں خارجہ پالیسی متعین کرنا ، ظاہرہے کہ ان امور کے لیے سیاست کا ہونا ضروری ہے۔
    ۷– دیگر امور کی انجام دہی کے لیے:
    داخلی سیاست کے مسائل امن و سلامتی,استحکامِ معاشرہ,ظلم کا خاتمہ اور مستحق کو اس کا حق دینا وغیرہ پر مشتمل ہیں داخلی سیاست چھ عظیم اصولوں پر مبنی ہے.
    1دین کی حفاظت :بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے .من بدل دينه فاقتلوه (بخاري)
    جس نے اپنے دین کو بدل لیا اس کو قتل کردو.
    2جانوں کی حفاظت :وَلَكُمْ فِى الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَّّآ اُولِى الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (179)

    اور اے عقل مندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم (خونریزی سے) بچو۔
    اور دوسری جگہ بھی اللہ فرماتا ہے : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلٰى..تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے .قرآن نے ہمیں واضح کر رکھا ہے کہ کیسے اس نظام زندگی کو چلایا جائے .
    3عقل کی حفاظت اللہ کا ارشاد ہے: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِـرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (90)

    اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔
    عقول کی حفاظت کے لئے ہی تو شارب خمر پر حد واجب کی گئی ہے .
    4انساب کی حفاظت اللہ فرماتا ہے .اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِىْ فَاجْلِـدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْـدَةٍ.
    زناکار عورت ومرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ (النور 2)
    5 عزت کی حفاظت : ارشاد باری تعالی .
    وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً.(النور4)

    اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اَسی درے مارو.
    اور جو آخری مسئلہ ہے اس داخلی سیاست کا وہ ہے.
    6 مالوں کی حفاظت اللہ رب العزت فرماتا ہے .وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُـوٓا اَيْدِيَـهُمَا جَزَآءً بِمَا كَسَباَ نَكَالًا مِّنَ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيْزٌ حَكِـيْـمٌ (المائدہ 38)

    اور چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کی کمائی کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
    مزکورہ اصولوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معاشرے کے من جملہ مسائل و مصالح کا حل قرآن مجید میں موجود ہے .یہی وہ کتاب ہے جس میں ہر سوال کا جواب ہے ۔۔-

  • معجزات قرآن قسط  1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم:  سلطان سکندر!!!

    معجزات قرآن قسط 1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم: سلطان سکندر!!!

    معجزات قرآن قسط 1

    پلسار ایسے نیوٹران ستارے ہیں جو. محو گردش ہیں.

    بہت سے نیوٹران ستارے جتنے بھی آج تک دریافت ہوسکے ہیں سب ریڈیو پلسار (ستارے کی قسم) ہی ہیں.. وہ ریڈیو پلسار اس لئے کہلائے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اندر سے شعاعیں نکالتے ہیں. ہم بآسانی ریڈیو ٹیلی سکوپ کو ایک سپیکر سے کنیکٹ کر کہ پلسار کی آواز سن سکتے ہیں. پلسار ستارے کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی مسلسل کھٹکھٹا رہا ہو….
    قرآن اسے اس طرح بیان کرتا ہے ” وہ جو دستک دیتا ہے”
    Quran 86:1-3

    "وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ (1)
    آسمان کی قسم ہے اور دستک دینے والے کی۔

    وَمَآ اَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ (2)
    اور آپ کو کیا معلوم کہ دستک دینے والی چیز کیا ہے۔

    اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ (3)
    وہ سوراخ کرنے والا ستارہ ہے۔


    عربی لفظ "ثقب” کا مطلب ہے ایک سوراخ، اور”ثاقب” کا مطلب ہے سوراخ کرنے والا،
    قرآن دستک دینے والے ستارے کے متعلق بیان کر رہا ہے جو سوراخ کرتا ہے،

    پلسارز ایسے نیوٹرانز ستارے ہیں جو گردش کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران سٹار میں گرتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی اسکا ماس بڑھتا جاتا ہے اور یہ ماس اسکی گریویٹی کو بھی بڑھاتا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت گریویٹی خلاء کی گولائی میں ہے۔ ایک نیوٹران سٹار اس خلاء(گولائی) کو مسخ کر دیتا ہے۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران(اس گولائی) میں گرتا جاتا ہے ستارے کی شکل بگڑتی جاتی ہے۔
    پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بگاڑ کافی حد تک گہرا ہو جاتا ہے جو اس خلاء میں ایک سوراخ بنا دیتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا ایک امی شخص(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے جان سکتا ہے کہ پلسارز(نیوڑران ستارے) اس خلاء میں سوراخ کرتے ہیں؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے۔

    ہمارا سورج ایک بہت چھوٹا ستارہ ہے۔ اصل میں ہمارا شمسی نظام(جن میں وہ ایٹمز بھی شامل ہیں جو ہم نے بنائے) ایک ٹوٹا ہوا ستارے سے بنا ہے جو کہ 100 گناہ ہمارے سورج سے بڑا ہے۔
    کچھ ستارے ہمارے اتنے بڑے سورج سے بھی کہی زیادہ بڑے ہیں، لہذا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ستارے کتنے بڑے ہیں۔
    تاہم بائبل کے مطابق یہ ستارے اتنے چھوٹے ہیں کہ یہ زمین پر گر جائیں گے(30-24 :13)
    یسوع مسیح نے کہا کہ ستارے ہماری دوسری نسل کے آنے سے پہلے زمین پر گر جائیں گے۔
    جیسا کہ اس نسل کو گزرے کافی عرصہ ہوچکا ہے اور نہ ہی کوئی ستارہ زمین پر گرا ہے اور نہ گرے گا، آپ جانتے ہیں کیوں؟؟
    کیونکہ زمین کسی ستارے سے ٹکرانے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گی۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

    محمد ارسلان