Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر : حافظ شفیق الرحمن

    عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر : حافظ شفیق الرحمن

    عید کے روز قصور میں قیامت صغری کا منظر، تحریر: حافظ شفیق الرحمن

    عوامی مطالبہ ہے کہ قصور سے منتخب موجودہ اور سابق تمام ارکان -پارلیمان کو بلا امتیاز حراست میں لیا جائے۔ واقفان حال جانتےبیں کہ ماضی میں ن لیگ کے ارکان پارلیمان بارے اس قسم کی اطلاعات سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں کہ پورنو مافیا کے عالمی نیٹ ورک اور چین سے ان کے تعلقات ہیں۔۔۔اس وبا نے شہباز شریف کے دور 2008 ء سے 2018 ء میں بال و پر حاصل کیے۔ وہ 10 سال تک درندگی اور بہیمیت کا یہ سنگین تماشا مجرمانہ خاموشی سے دیکھتے رہے تا آں کہ زینب کیس میں اپنے منتخب نمائندوں کو بچانے کے لیے وزیر اعلی ہاوس میں گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی اور زینب کے باپ کو آزادانہ بات تک نہیں کرنے دے گئی۔ ان کے آگے سے رانا ثناء اللہ نے بر افروختگی اور برہمی کے عالم میں ہاتھ بڑھا کر پرے کردیا۔ گربہ کشتن روز اول کے مصداق اس کا سد باب کیا جاتا تو حافظ سمیع الرحمن کو عید الفطر کے روز برسربازار ایک جنسی جنونی کی خوں آشامی کی نذر نہ ہوتا۔ اس نے انتہائی دیدہ دلیری سے اس صالح ،نیک اور پارسا حافظ قرآن کو بوڑھے باپ کے سامنے سرکاری اسلحہ سے اس کے سر پر گولی داغ کر قتل کرنے کی جرات نہ ہوتی۔
    وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار خواب- غفلت سے بیدار ہوں۔عید کے روز قصور میں قیامت ٹوٹ چکی ہے۔ قصور کے گلی کوچوں میں شور قیامت ہے۔ کیا غم و غصہ میں بپھرے عوام کے نعرے آپ کے کانوں کے دریچوں پر دستک نہیں دے رہے۔ خدا را اب تو ہوش کے ناخن لیں۔ بیدار ہوں۔ بزدلی کی روش ترک کریں۔ روایتی تغافل اور تساہل کی اس روش کو بالائے طاق رکھیں جو آپ کا تعارف اور تشخص بن چکی ہے ۔ ہمت-مردانہ کو بہ روئے کار لائیں۔ آہنی اقدام اٹھائیں۔ پہلے مرحلہ پرڈی پی او سمیت قصور میں متعینہ تمام اعلی پولیس افسران کو بلا تاخیر برطرف کر کے گھر بھیجیں۔۔۔لائن حاضری اور معطلی کوئی سزا نہیں۔ آرڈر آف دی ڈے یہی ہے کہ قصور پولیس کے ذمہ داران کے خلاف گرینڈ اور میجر آپریشن کلین اپ کیا جائے۔ انہیں مجرمانہ چشم پوشی کےبسنگین جرم پر قرار واقعی سزا دیکر کیفر کردا تک پہنچایا جائے۔

    #JusticeForSamiUrRehman

  • آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    حافظ سمیع الرحمن کے لاشے کی تصویر دیکھ کر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے وہ میں آپ سب کے سامنے رکھ دیتا ہوں.

    سوال یہ کہ آپ میں سے کتنوں کو یقین ہے اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا؟ ایک دو تین چار یا چلیے دس سال میں بھی ایسا کوئی امکان ہے؟

    مزید کتنوں کا خیال ہے کہ مقتول کے باپ کے لیے جمع پونجی بیچے بغیر حصول انصاف کے مراحل سے گزرنا ممکن ہو گا؟

    ان دونوں سوالات پر غور کیجیے اور جواب کی ڈور کا کوئی سرا ہاتھ آئے تو پھر سوچیے اس معاشرے کا مستقبل کیا ہے؟ ایک عام آدمی اس پر کم از کم آواز تو اٹھائے. اب یہ سوچنا کا مقام ہے سوشل میڈیا پر ہماری توانائیاں اپنے اپنے حصے کے سیاسی رہنما کی مدح سرائی اور دوسروں کی ہجو میں ہی ضائع ہونی ہیں یا کبھی سماج کے حقیقی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے؟

    واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس اہلکار سے دوستی نہ کرنے کے جرم میں نوجوان کو قتل کر دیا گیا

    قصور کے علاقے کھڈیاں میں قاری خلیل الرحمن کے حافظ قرآن بیٹے کو عید کے دن ہی پولیس کانسٹیبل نے بری نیت سے دوستی اور برائی نہ کرنے پر قتل کر دیا

    واقعہ کا مقدمہ حافظ قرآن کے والد قاری خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم معصوم علی نے میرے بیٹے سمیع الرحمان کو عید کے روز صبح مسجد جاتے ہوئے گلی میں روکا اور کہا کہ عید کے دن بھی میری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہو گا، میرے بیٹے نے انکار کیا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا، اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا رہتا تھا، اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    جنسی خواہش پوری کرنے سے انکار،پولیس اہلکار نے عید کے روز حافظ قرآن نوجوان کو قتل کر دیا

  • قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان  بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعین کا بیان۔

    Gender
    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ جنس XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر جنس XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔


    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے نیچے دی گئی تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46
    وَاَنَّهٝ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الـذَّكَـرَ وَالْاُنْثٰى (النجم 45)
    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔

    مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (النجم 46)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    ‏کیاارطغرل مسلمان تھا؟

    تاریخ کے ایک پروفیسر صاحب نےدرج ذیل نکات پہ روشنی ڈالی:

    سوشل اورالیکٹرونک میڈیا پر ترکی ڈرامہ”ارطغرل” کا خوب چرچا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی کہانی ہے اور پاکستانیوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے یہ ڈرامہ ضرور دیکھتا چاہیے۔

    ‏ترکی کی تاریخ پر ایک بڑا علمی کام چار ضخیم جلدوں پر مشتمل

    Cambridge History of Turkey

    ہے، جس کی تدوین میں ترک/عثمانی تاریخ پر اتھارٹی پروفیسر ثریا فاروقی معاون مدیر کے طور پر اور انکے علاوہ دیگر ترک مؤرخین بھی شامل تھے۔ اس کی پہلی جلد میں جو ۱۰۷۱ء سے۱۴۵۳ء کے زمانےسے متعلق ہے، ارطغرل کانام صرف ایک جگہ، صفحہ ۱۱۸ پر، مذکورہے۔ مصنف کےنزدیک ارطغرل کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور اسکی موجودگی کا پتا اسکے بیٹے عثمان کےایک سکے سےچلتا ہے۔ مصنف کےالفاظ ہیں:

    We know nothing about the life of Ertugrul, and his existence is independently attested only by a coin of his son Osman.

    ‏اردومیں اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف اور پڑھی جانے والی کتاب ڈاکٹر محمد عزیر کی دوجلدوں پر مشتمل کتاب "دولت ِ عثمانیہ” ہے۔ مشہور علمی ادارے دارلمصنفین، اعظم گڑھ، کی شائع کردہ اس تاریخ کا دیباچہ سید سلیمان ندوی نے لکھا اور اس کتاب کا مقصد مسلمانانِ ہند کو ترکوں کے کارناموں سے روشناس کرانا تھا۔

    ‏ڈاکٹر عزیر تسلیم کرتےہیں کہ سلیمان شاہ اور ارطغرل غیر مسلم تھے اور قبیلہ کا پہلا شخص جس نےاسلام قبول کیا ارطغرل کا بیٹا عثمان تھا۔ وہ ایک مغربی مؤرخ کی شہادتیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں خراسان اورماوراء النہر کے دوسرے علاقوں کی جوقومیں ایشیائے کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئیں، ‏ان کے اسلام لانے کا کوئی صریحی ذکر کسی تاریخ میں نہیں ملتا۔ خود عثمانیوں کے مؤرخ نشری کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ عثمان کا مورث ِ اعلیٰ سلیمان شاہ اور اس کے ساتھی، جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے، غیرمسلم تھے۔

    بارہویں صدی عیسوی اور اس کےبعد کے سیاحوں کی بکثریت شہادتوں سےبھی ‏یہ معلوم ہوتاہےکہ یہ قومیں بت پرست تھیں، ان مختلف ترکی قبیلوں نےجواس زمانےمیں ایشیائےکوچک میں داخل ہوئے اپنے آپ کو ایک اسلامی ماحول میں پایا۔ عثمان اوراس کےقبیلہ کےاسلام لانے سےعثمانی قوم پیداہوئی۔ اس تبدیلِ مذہب ہی کا نتیجہ تھا کہ ۶۸۹ھ (۱۲۹۰ء) کے بعد عثمان کی فاتحانہ سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔

    ‏ارطغرل اور عثمان ایک دیہاتی سردار کی حیثیت سےسغوت میں سیدھی سادھی زندگی بسرکرتےتھے، ان کی اس زمانہ کی کسی جنگ یا فتح کا ذکر تاریخ میں موجود نہیں۔ ارطغرل کےتعلقات اپنےپڑوسیوں کے ساتھ بالکل صلح ودوستی کےتھے۔ نشری کابیان ہےکہ اس ملک کےکافر و مسلم دونوں ارطغرل اوراس کےلڑکےکی عزت کرتے تھے۔ ‏کافر و مسلم کاکوئی سوال ہی نہ تھا۔ پھر دفعتاً ہم عثمان کواپنے پڑوسیوں پرحملہ آور ہوتے اور انکے قلعوں کو فتح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک ایسا تبلیغی جوش ہے جو صرف ان ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے جنہوں نےحال ہی میں مذہب تبدیل کیا ہو”۔

    ان دو مستند کتابوں کی شہادت ہی یہ ثابت کرنے کے لیےکافی ہے کہ ڈرامے کے ‏ارطغرل کا تاریخ کے ارطغرل سےکوئی تعلق نہیں۔ تاریخ کا ارطغرل تو شاید مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر مسلمان تھا بھی تو صلیبیوں اور منگولوں کےخلاف جہاد کی وہ ساری تفصیلات جوڈرامہ کی زیب و زینت ہیں، تاریخی شواہد سےثابت نہیں۔ ڈرامہ آپ کو پسند ہے تو اسے فکشن/افسانہ سمجھ کر ضرور دیکھئے، ‏لیکن خدارا اسے اسلام کا ڈرامہ نہ بنائیے۔

    ڈاکٹر فراز انجم، پروفیسرفراز انجم ،شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی۔

  • ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!!

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی(سورج کی روشنی) سے باہر یعنی دور ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30
    اَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانبیاء 30)

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12
    اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَّّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَـهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّاَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا (الطلاق 12)

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر !!!

  • عید خوشی کا دن ہے تحریر جویریہ بتول

    عید خوشی کا دن ہے تحریر جویریہ بتول

    *”تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!”*
    *(تحریر✍🏻:جویریہ بتول)۔*
    رات ذہنی طور پر روزے اور سحری کی تیاری نمٹا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ عشاء سے کافی دیر بعد عید الفطر کا اعلان ہوا…
    سو ترجیحات بدل چکی تھیں،
    نمازِ عید کے لیئے سب کے کپڑے تیار کرنا تھے…
    سو کیئے،کچھ دیگر کام نمٹا کر سو گئی…
    حسبِ معمول الارم آن ہی رکھا کہ کہیں صبح سورج چڑھے تک نیند کی اغوش میں مزے لیتے ہی نہ رہ جائیں…
    تہجد کے وقت بیدار ہو کر نوافل ادا کیئے،تھوڑی دیر انتظار کے بعد اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی…
    نماز فجر ادا کر کے،اذکار مکمل کر کے نمازِ عید کی تیاری مکمل کی…اور والدِ محترم کے ساتھ مسجد کا رُخ کیا…
    رستے میں سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ ذرا قبرستان میں جا کر اپنے خاندان کے مرحومین کی دعائے مغفرت کر دی جائے۔
    قبرستان میں داخل ہونے کی دعا پڑھی اور اندر چلے گئے۔
    کافی دیر سے سوچا تھا کہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی نشاندہی تو ہونی چاہیئے…
    آج پہلا اتفاق تھا،ابو جی سب کی قبروں کا تعارف کروا رہے تھے اور میری نگاہوں اور دماغ کے پردۂ سکرین پر وہ وہ سارے چہرے گھومتے جا رہے تھے…
    جن میں بزرگ بھی تھے،نوجوان بھی،چھوٹے بھی تھے اور بے اولاد چلے گئے لوگ بھی…
    دادا،دادی کی قبر کے ساتھ دیگر کئی رشتہ داروں کی قبروں پر دعائے مغفرت کی…
    اور دادی کی بہن تو ابھی ستائیس رمضان کو وفات پا گئی تھیں ان کی تازہ قبر کو بھی دیکھا…
    دعائے مغفرت کی،عجب گہری خاموشی تھی…
    تاحد نگاہ ابدی نیند سوئے لوگ کیسی خاموش بستی کے مکین بن چکے تھے…
    میرے دل میں گہرائی سے خیال اُبھرا کہ کل کو ہم سب کا ٹھکانہ بھی یہیں کہیں ہے…
    وہ جو کبھی عید کی خوشیاں اپنے گھر والوں اور بچوں کے ساتھ مناتے تھے،مگر اب جدا ہو کر کیسے بے فکر سو رہے تھے اور کبھی نہ آنے کی اُمید میں اپنوں کو تڑپتا چھوڑ گئے تھے…
    پچھلوں کی خوشی اور غم سے لا علم کتنی دور کی بستی میں جا ڈیرے لگائے تھے۔
    وہاں سے مسجد پہنچ کر نماز عید ادا کی،خطیب صاحب نے رمضان کے مقاصد، اس کی برکات کو سمیٹنےوالے خوش نصیب،اجر اور عید کی حقیقی خوشی پر روشنی ڈالی…
    نمازِ عید میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کر رہے تھے…
    جب وہ اس آیت پر پہنچے:
    *وُجُوہٌ یَومَئِذِِ نَّاعِمۃٌ¤*
    *لِسَعیِھَا رَاضِیَۃٌ¤*
    "بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے،اپنی کوشش پر خوش ہوں گے…”
    تو اُمید اور خوشی کے ملے جلے آنسو چھلک کر نیچے گزر گئے
    یا اللّٰہ ہمیں بھی ایسوں میں شمار کرنا آمین۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے صیام،قیام،صدقہ،دعائیں سب اپنی بارگاہ میں قبول فرما لینا،
    ہمیں اسی راہ پر گامزن رکھنا،
    خطبہ اور دعاؤں کے بعد گھر واپسی کی راہ لی…
    اور اب سوچا سب قارئین سے عید کی خوشی شیئر کر دی جائے…
    یہ دن اچھا لباس پہننے،کھانے پینے،کھلانے پلانے اور غرباء و مساکین کا خیال رکھنے کا دن ہے…
    اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور اپنوں کو ملنے ملانے کا دن ہے…
    خوشی کی باتیں کرنے اور شیئر کرنے کا دن ہے…
    سو جہاں رہیئے…
    خوش رہیئے…
    خوشیاں پھیلایئے…
    خوشیاں بانٹیئے…
    ہنسیئے اور مسکرایئے…
    حال احوال بانٹیئے…
    اور اپنے پیارے گھر والوں کے ساتھ یہ لمحات بِتایئے…
    کہ عید خوشی کا دن ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    *ان لکل قوم عیدًا و ھذا عیدنا…*
    اپنی دعاؤں میں مظلوم اور مشکلات میں گھرے عید مناتے بہن بھائیوں کو ہر گز نہ بھولیئے…جہاں:
    *عید کا چاند خوشیوں کا سوالی ہے اے دوست…!!!*
    اے مہ نَو تیرا آنا مبارک ہو کہ:
    *سرگزشت ملتِ بیضا کا تو آئینہ ہے۔*
    *اے مہ نَو ہم کو تُجھ سے الفت دیرینہ ہے۔*
    (اقبال رحمہ اللہ)۔
    *تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!*
    ==============================

  • "تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!! تحریر:جویریہ بتول

    "تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!! تحریر:جویریہ بتول

    *”تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!”*
    *(تحریر✍🏻:جویریہ بتول)۔*
    رات ذہنی طور پر روزے اور سحری کی تیاری نمٹا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ عشاء سے کافی دیر بعد عید الفطر کا اعلان ہوا…
    سو ترجیحات بدل چکی تھیں،
    نمازِ عید کے لیئے سب کے کپڑے تیار کرنا تھے…
    سو کیئے،کچھ دیگر کام نمٹا کر سو گئی…
    حسبِ معمول الارم آن ہی رکھا کہ کہیں صبح سورج چڑھے تک نیند کی اغوش میں مزے لیتے ہی نہ رہ جائیں…
    تہجد کے وقت بیدار ہو کر نوافل ادا کیئے،تھوڑی دیر انتظار کے بعد اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی…
    نماز فجر ادا کر کے،اذکار مکمل کر کے نمازِ عید کی تیاری مکمل کی…اور والدِ محترم کے ساتھ مسجد کا رُخ کیا…
    رستے میں سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ ذرا قبرستان میں جا کر اپنے خاندان کے مرحومین کی دعائے مغفرت کر دی جائے۔
    قبرستان میں داخل ہونے کی دعا پڑھی اور اندر چلے گئے۔
    کافی دیر سے سوچا تھا کہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی نشاندہی تو ہونی چاہیئے…
    آج پہلا اتفاق تھا،ابو جی سب کی قبروں کا تعارف کروا رہے تھے اور میری نگاہوں اور دماغ کے پردۂ سکرین پر وہ وہ سارے چہرے گھومتے جا رہے تھے…
    جن میں بزرگ بھی تھے،نوجوان بھی،چھوٹے بھی تھے اور بے اولاد چلے گئے لوگ بھی…
    دادا،دادی کی قبر کے ساتھ دیگر کئی رشتہ داروں کی قبروں پر دعائے مغفرت کی…
    اور دادی کی بہن تو ابھی ستائیس رمضان کو وفات پا گئی تھیں ان کی تازہ قبر کو بھی دیکھا…
    دعائے مغفرت کی،عجب گہری خاموشی تھی…
    تاحد نگاہ ابدی نیند سوئے لوگ کیسی خاموش بستی کے مکین بن چکے تھے…
    میرے دل میں گہرائی سے خیال اُبھرا کہ کل کو ہم سب کا ٹھکانہ بھی یہیں کہیں ہے…
    وہ جو کبھی عید کی خوشیاں اپنے گھر والوں اور بچوں کے ساتھ مناتے تھے،مگر اب جدا ہو کر کیسے بے فکر سو رہے تھے اور کبھی نہ آنے کی اُمید میں اپنوں کو تڑپتا چھوڑ گئے تھے…
    پچھلوں کی خوشی اور غم سے لا علم کتنی دور کی بستی میں جا ڈیرے لگائے تھے۔
    وہاں سے مسجد پہنچ کر نماز عید ادا کی،خطیب صاحب نے رمضان کے مقاصد، اس کی برکات کو سمیٹنےوالے خوش نصیب،اجر اور عید کی حقیقی خوشی پر روشنی ڈالی…
    نمازِ عید میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کر رہے تھے…
    جب وہ اس آیت پر پہنچے:
    *وُجُوہٌ یَومَئِذِِ نَّاعِمۃٌ¤*
    *لِسَعیِھَا رَاضِیَۃٌ¤*
    "بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے،اپنی کوشش پر خوش ہوں گے…”
    تو اُمید اور خوشی کے ملے جلے آنسو چھلک کر نیچے گزر گئے
    یا اللّٰہ ہمیں بھی ایسوں میں شمار کرنا آمین۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے صیام،قیام،صدقہ،دعائیں سب اپنی بارگاہ میں قبول فرما لینا،
    ہمیں اسی راہ پر گامزن رکھنا،
    خطبہ اور دعاؤں کے بعد گھر واپسی کی راہ لی…
    اور اب سوچا سب قارئین سے عید کی خوشی شیئر کر دی جائے…
    یہ دن اچھا لباس پہننے،کھانے پینے،کھلانے پلانے اور غرباء و مساکین کا خیال رکھنے کا دن ہے…
    اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور اپنوں کو ملنے ملانے کا دن ہے…
    خوشی کی باتیں کرنے اور شیئر کرنے کا دن ہے…
    سو جہاں رہیئے…
    خوش رہیئے…
    خوشیاں پھیلایئے…
    خوشیاں بانٹیئے…
    ہنسیئے اور مسکرایئے…
    حال احوال بانٹیئے…
    اور اپنے پیارے گھر والوں کے ساتھ یہ لمحات بِتایئے…
    کہ عید خوشی کا دن ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    *ان لکل قوم عیدًا و ھذا عیدنا…*
    اپنی دعاؤں میں مظلوم اور مشکلات میں گھرے عید مناتے بہن بھائیوں کو ہر گز نہ بھولیئے…جہاں:
    *عید کا چاند خوشیوں کا سوالی ہے اے دوست…!!!*
    اے مہ نَو تیرا آنا مبارک ہو کہ:
    *سرگزشت ملتِ بیضا کا تو آئینہ ہے۔*
    *اے مہ نَو ہم کو تُجھ سے الفت دیرینہ ہے۔*
    (اقبال رحمہ اللہ)۔
    *تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!*
    ==============================

  • فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    حکومتی وزراء کی ذمہ داری ملک میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کی ہے نہ کہ انتشار ،حضرت علامہ فواد چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ دنیا کے بائیس ممالک کل عید منا رہے ہیں اس کیے ہمیں بھی منانی چاہئے تو حضرت دنیا میں کتنے اسلامی ممالک ایسے ہیں کہ ان میں رات ہوتی ہے تو ہمارے پاس دن اب اس کا کیا حل نکالا جائے ہر ملک کے چاند کا تعلق اس کے اپنے مطلع سے ہے جسے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتافواد چوہدری صاحب ماشاءاللہ ان وزیروں میں سے ہیں جو عمران خان صاحب کیلئے “ بڑی نیک نامی” کا باعث ہیں

    وزیر سائنس و ٹیکنالوجی صاحب کوئی اور کارنامہ تو سرانجام دینے میں تقریباً ناکام رہے ہیں اس لئے ان کی پوری سائنس اور ٹیکنالوجی عید کے چاند میں پھنسی دکھائی دیتی ہے پاکستانی عوام کا جناب عمران خان صاحب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ جس طرح آپ نے فردوس آپا کو کھڈے لائن لگایا ہے بالکل اسی طرح فواد چوہدری صاحب کو بھی کسی دوسرے کام سے لگادیں بلکہ ایک اور مشورہ جو ملک و قوم کیلئے بڑی خیر کا باعث ہوسکتا ہے ملک کی ایکسپورٹ کرونا کی وجہ سے سخت متاثر ہے عمران خان صاحب اگر فواد چوہدری صاحب جیسے باصلاحیت وزیر کو عالمی مارکیٹ میں پیش کریں تو امید ہے کوئی یوروپین یا ایشین نہیں تو کوئی افریقی ملک ضرور فواد چوہدری صاحب کے اچھے دام لگا دے گا

    فیصل ندیم

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    صحافیوں کے احتجاج میں‌ ڈبو مردہ باد کے نعرے، فواد چوہدری نے تھپڑ کیوں‌ مارا؟ سمیع ابراہیم نے بتا دیا

    تبدیلی سرکار یا تھپڑوں والی سرکار،فواد چودھری کا سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی اطلاعات

    فواد چودھری نے تھپڑ مارا اور گالیاں دیں،سمیع ابراہیم نے مقدمہ کیلئے درخواست دائر کر دی

    سمیع ابراہیم کو تھپڑپڑا تو فردوس عاشق نے کی معذرت،صحافیوں کی مذمت

    سمیع ابراہیم کو تھپڑ، ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج، فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ

    مبشر لقمان میدان میں آ گئے،فواد چودھری کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دائر

    فواد چودھری مفتی پوپلزئی بن گئے، عیدالفطر کو متنازعہ بنا دیا

    فواد چودھری کا مذہبی جماعتوں کیخلاف بیان، حکومتی جماعت کے رہنما جاوید بدر نے کھری کھری سنا دیں

    اہل سنت، بریلوی ، شیعہ سب پاکستان کے خلاف تھے ، فواد چوہدری

  • قانون سے کوئی بالا تر نہیں ، تحریر: میاں محبوب بھرگڑ

    قانون سے کوئی بالا تر نہیں ، تحریر: میاں محبوب بھرگڑ

    قانون سے کوئی بالا تر نہیں ، تحریر: میاں محبوب بھرگڑ

    باغی ٹی وی :بات یہ نہیں کہ "کرنل کی بیوی” نے بدتمیزی کی، بات یہ ہے کہ اس کی بدتمیزی کے فوری بعد اس کیخلاف ایکشن ہوا،

    بات یہ نہیں کہ جمہورے ، عدلیہ کے چمچے وکیل اور سول گورنمنٹ کے انڈر کام کرنے والی پولیس کی بدمعاشیاں ہر روز ہوتی ہیں،
    بات یہ ہے کہ ان سب کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا،

    بات یہ نہیں کہ لوگوں نے کرنل کی بیوی کے رویے کی مخالفت کی،
    بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے کی جنہوں نے نوازشریف کی چوری پر اس کا ساتھ دیا، جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن (جس میں حاملہ خواتین کے منہ میں گولیاں ماری) پر خاموشی اختیار کی،

    فوج میں اگر کوئی غداری کرتا ہے تو اس کا علاج برگیڈیئر رضوان کی طرح پھانسی پر لگا کر کیا جاتا ہے،

    جمہوریت میں اگر کوئی غداری کرتا ہے تو پارلیمنٹ اس کا کوئی علاج نہیں کرتی،
    وہ زرداری کا حسین حقانی کے ذریعے میموگیٹ سکینڈل ہو یا نوازشریف کا سجن جندال سکینڈل ، یا پھر نوازشریف کا چار سال وزیرخارجہ نہ لگانا ہو یا نریندر مودی کو راء چیف سمیت بغیر ویزے کے اپنے گھر بلانا ہو،

    یہ بات جمہوروں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیئے کہ اگر فوج میں کوئی مس ایڈونچر ہوتا ہے تو اسکو اسی وقت سزا ملتی ہے، لیکن جمہوروں کو ہر جرم کی سزا نہیں بلکہ سہولتکاری میسر ہوتی ہے،

    اسی طرح عدلیہ کو دیکھ لیں، جج ارشد ملک ایک سزا یافتہ مجرم نوازشریف کو اسکے گھر میں جاکر ملتا ہے، اور عدلیہ آج بھی اس جج کا کچھ نہیں بگاڑ سکی،

    فرشتہ کوئی بھی نہیں،
    فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں اگر کوئی ڈسپلنڈ ادارہ موجود ہے تو وہ پاک فوج ہے، جس میں چوروں، نااہلوں اور غداروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جاتی، باقی سب اداروں میں لوگ اپنی نااہلیاں، چوریاں اور غداریاں چھپانے کیلیئے سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں،

    یہ ہی حقیقت ہے اور یہ ہی اس ملک کی سب سے بڑی کمزوری۔

    نوٹ:- کرنل کی بیوی کیخلاف جو بھی ایکشن ہوا بہت اچھا ہوا،
    ایسی دوٹکے کی عورت کیخلاف ایکشن ہونا ہی چاہیئے تھا تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں لینے سے پہلے ہزار بار سوچے۔

  • ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    عید پر ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کیلئے بری خبر۔ عید تعطیلات کے دوران مری میں سیاحتی مقامات اور ہوٹل بند رہیں گے۔
    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ‌ تفریحی مقامات پر غیر معمولی رش سے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ مری کے راستے میں پولیس چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ شہری سیر کی غرض سے مری کا رخ نہ کریں۔ مقامی شہری قومی شناختی کارڈ دکھا کر مری میں داخل ہوسکیں گے۔