Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    عید پر ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کیلئے بری خبر۔ عید تعطیلات کے دوران مری میں سیاحتی مقامات اور ہوٹل بند رہیں گے۔
    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ‌ تفریحی مقامات پر غیر معمولی رش سے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ مری کے راستے میں پولیس چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ شہری سیر کی غرض سے مری کا رخ نہ کریں۔ مقامی شہری قومی شناختی کارڈ دکھا کر مری میں داخل ہوسکیں گے۔

  • سکون کی سودا گری…!!! [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    سکون کی سودا گری…!!! [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    =======🌻🌻🌻🌻=======
    سکون کی سودا گری…!!!
    [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔
    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم نمازوں میں لمبے قیام بھی کر رہے ہوتے ہیں…
    اذکار و تسبیحات میں مگن رہتے ہیں…
    تلاوت ہمارا معمول ہوتی ہے کہ مگر ہم ذہنی طور پر اُلجھنوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں…
    بے سکونی ہمارا گھیراؤ کیئے رہتی ہے…
    مال و زر کی فراوانی بھی ہماری بے چینی کے کرب کو کم نہیں کر سکتی…
    تو اس کی بھی ایک وجہ ہے…
    کیونکہ اس وقت ہم اللّٰہ تعالٰی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں لیکن اس کی مخلوق سے منہ موڑ کر،
    رشتوں کے دل توڑ کر…
    دوری اختیار کر کے…
    اُن کے حقوق کی ادائیگی سے غفلت کے مرتکب ہو کر اپنی زندگی میں خوشگواری کو ماند کر رہے ہوتے ہیں…!!!
    صلہ رحمی کرنے سے کٹ چکے ہوتے ہیں…
    شکوک و شبہات کو فروغ دے کر الزامات کے طوماروں میں گھرے ہوئے ہوتے ہیں…
    اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ایک بہو اپنی ساس اور نندوں،اور سسرالی رشتوں کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا رہتی ہے۔
    اگر اس کا شوہر اپنی ماں،بہن،یا بھائیوں کی کوئی مدد کر دیتا ہے تو یہ بات اکثر خواتین کے لیئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
    پھر جب یہی صورت حال خود اپنی بھابھیوں کی صورت میں دیکھنا پڑے تو بد قسمتی اور حق تلفی کے رونے روئے جاتے ہیں…
    ذرا سی رنجش کو طول دے کر،
    ان عزیز رشتوں سے الرجک رہنا ہمارا معاشرتی رویہ بن چکا ہے…
    بلکہ ایسا بھی دیکھا ہے کہ ایک گھر میں نندیں،بھابھیاں سالوں تک آپس میں قطع کلامی رکھتی ہیں…
    یہی صورت حال اکثر ساس بہو کے رشتے میں بھی نظر آتی ہے…
    تو یاد رکھیئے کہ سسرال اور میکے کا گھرانے انہی رشتوں کی پختگی یا کمزوری پر انحصار کرتے ہیں…!!!
    سو اس کھچے کھچے ماحول میں گھر کے تقریباً سبھی افراد متاثر ہوتے ہیں اور پھر اس چیز کا اثر آگے بچوں پر بھی انتہائی منفی ہوتا ہے۔جہاں ہمیشہ کی تلخی مقدر ہو جاتی ہے۔
    صلہ رحمی اور رشتہ داری کی اہمیت سمجھنے سے وہ بھی نابلد ہی رہتے ہیں سو مجبوریاں دوریاں،تنہاہیاں زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
    اسلام میں صلہ رحمی اور حقوق العباد کی ادائیگی پر احسن انداز میں زور اور تعلیم دی گئی ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بدلے میں صلہ رحمی کرنا صلہ رحمی نہیں ہے،بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو وہ تب بھی صلہ رحمی کرے…”
    (صحیح بخاری)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ناطہ رحمٰن سے جڑا ہوا ہے اور اللّٰہ نے فرمایا،جو کوئی تُجھ کو جوڑے میں اُسے جوڑوں گا اور جو تُجھے قطع کرے میں بھی اُسے قطع کروں گا…”
    (صحیح بخاری)۔
    ان احادیث کی روشنی میں ہم اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے رستوں کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
    حکیم بن حزام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللّٰہ !!!
    میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو کام عبادت کے طور پر کیئے ہیں،جیسے ناطہ جوڑنا،غلام آزاد کرنا اور صدقہ تو ان کا کُچھ ثواب مجھے ملے گا ؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تو اسلام لایا تو تیری پہلی سب نیکیاں قائم رہیں…”
    (صحیح بخاری)۔
    ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللّٰہ مجھے ایسا عمل بتلایئے کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللّٰہ کی عبادت کر،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر،اور نماز ادا کر،اور زکوٰۃ دے اور ناطہ والوں سے سلوک کر چل اب نکیل چھوڑ دے”
    (صحیح بخاری)۔
    حقوق اللّٰہ کی لذت میں اضافہ اور چاشنی کا ادراک حقوق العباد کی ادائیگی سے متصل ہے۔
    اسلام کامل و اکمل دین ہے اور ہمیں ہر لحاظ سے مضبوط،اور کامیاب راہ دکھاتا ہے۔
    مال و زر ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے اس کے خرچ کے انداز کو بھی اللّٰہ تعالٰی نے اپنی رضا سے جوڑ دیا ہے۔
    اللّٰہ تعالٰی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔
    جو کسی کا عیب ڈھانپے گا تو اللّٰہ اس کا عیب دنیا و آخرت میں ڈھانپے گا۔
    اگر آپ مالدار ہیں تو اس مال میں قرابت والوں کا حق تلاش کیجیئے…
    کسی کو غلہ دے کر…
    کسی کو کپڑا پہنا کر…
    کسی کے بچے کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کر کے اپنے خاندان کے انٹلیکچوئل میں اضافہ کیجیئے…
    اپنے لیئے بہترین زادِ سفر اور صدقہ جاریہ کا سودا کیجیئے…
    ماں باپ سے حُسنِ سلوک…
    بہن بھائیوں رشتہ داروں سے صلہ رحمی…
    چاہے وہ ذہنی طور پر آپ سے ہر گز متفق نہ ہوں،لیکن اپنے حصے کا فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے…
    اپنے تمام اعمال کو صرف اور صرف اللّٰہ تعالٰی کی خوشنودی سے جوڑ کر سوچیئے تو یقیناً انسان دنیا والوں کے بدلہ سے بے غرض ہو جایا کرتا ہے…!!!
    اس کے دل میں جس قدر صاف ستھرا عقیدہ توحید ہو گا اس کا سینہ اتنا ہی کشادہ ہو گا…
    جب ہم اس نیت سے نیکی کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں داد دیں…
    ہماری توصیف کریں…
    ریا کاری کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو پھر ہم نیکی کر کے بھی مطمئن نہیں ہو پاتے…
    ہم لوگوں سے بدلہ کے اُمید وار رہتے ہیں…!!!
    انہیں اپنے انڈر دیکھنا چاہتے ہیں…
    انشراح صدر لغویات ترک کر دینے،معاصی سے بچنے میں ہے…
    جب عمل عملِ صالح کے روپ میں ڈھل جائے تو دل کی وادی میں سکون کی گونجیں بہت دور تک سنائی دیتی ہیں…
    علمِ نافع بھی شرح صدر لاتا ہے جب آپ کو اپنے فرائض کا ادراک ہو جائے تو آپ انہیں مستعدی سے ادا کرنے کے لیئے بے تاب ہو جاتے ہیں…
    اور پھر ادا کرنے کے بعد احسان نہیں بلکہ اپنے کندھوں کے قرض کی ادائیگی سمجھتے ہیں…
    جس سے بھی صلہ رحمی کریں…
    جس کے بھی حقوق اَدا کریں…
    مقصد رضائے الٰہی و قربتِ الٰہی ہو…
    کسی کے زخموں پر مرہم رکھنا ہو…
    نمک چھڑکنا نہیں…!!!
    فرض کی ادائیگی ہو،طعنوں کے طومار نہیں…
    صدقہ،نیکی سے کشادہ ظرفی پیدا ہو،کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنا نہیں…!!!
    اچھے اخلاق سے پیش آنا ہو…درشتی و دھتکار کا انداز نہیں…
    مسکرا کر معذرت کر دینا ہو،اذیت کے کلمات نہیں…
    اللّٰہ کی عنایات میں بخل نہیں،مخلوق کی بھلائی ہو…!!!
    یہی صراطِ مستقیم ہے،اور جب بندہ اس راہ پر چلتا ہے تو رب کے وعدوں پر بھروسہ،اس کے فیصلوں پر راضی اور اس راہ کے حق ادا کر کے خوشی محسوس کرتا ہے…!!!
    اس کے سامنے اس کے رب کی وحدانیت،اس کے رسول کا اسوہ،اور نورٌمبین قرآن کی صورت ہدایت ہوتی ہے…!!!
    تب وہ دنیا والوں سے بے غرض ہو کر بہت بلند سوچ سوچتا ہے…
    پھر وہ کھجور کا ٹکڑا دے یا احد پہاڑ برابر سونا…اس کے پیشِ نظر بس رب کی عنایات کا حق ادا کرنا ہی ہوتا ہے…!!!
    تب وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے جب غور و فکر کرتا ہے تو ایک گہرے سکون کی لہر اُسے اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے…!!!
    چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور مخلص رویّے دل کو گہرا سکون دیتے ہیں…
    بدگمانی،غیبت،اہانت،اور چغل خوری سکون کو ہمیشہ کے لیئے معدوم کر دیتے ہیں…!!!
    ہمیں سکون چاہیئے ہے ناں ؟
    تو یہاں بھی امن و سکون،ایمان و محبّت کا اظہار کیجیئے اور پھر جب وہاں رب کی رحمت ڈھانپ لے گی تو ابدی سکون ہی سکون مقدر ہو جائے گا…!!!(ان شآ ءَ اللّٰہ)۔
    یہی مسافر کا سفر ہے…اور یہی کامیابی کا زاد راہ…!!!
    اس کھیتی میں جو بویا جائے گا،اسی اصول اور معیار پر کاٹ لیا جائے گا…!!!
    کہ سکون کی سودا گری محبتوں کے بھنور میں ہوتی ہے،
    نفرتوں، تلخیوں ،اور احسان جتا جتا کر دوسروں کو چت کر دینے میں نہیں…!!!
    اپنی ذات پر ترجیح دینے والے،
    اور رب کی رضا کو اُمید رکھنے والے اس کے محبوب ہوتے ہیں…
    اس کے بندوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے والوں کے لیئے وہ آسانیوں کے باب کھول دیتا ہے…
    محبّت کرنے والوں اور اپنی ذات پر ترجیح دینے والوں کا تذکرہ رب ان الفاظ میں کر رہا ہے:
    "اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود کتنے ہی حاجت مند کیوں نہ ہوں؟
    جو بھی نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہی کامیاب ہیں…”
    (الحشر:9)۔
    ===============================

  • مغفرت یا ذلت، میرامقدر کیا؟؟؟  فیصلہ ہو نا باقی ہے، تحریر: محمد نعیم شہزاد

    مغفرت یا ذلت، میرامقدر کیا؟؟؟ فیصلہ ہو نا باقی ہے، تحریر: محمد نعیم شہزاد

    مغفرت یا ذلت، میرامقدر کیا؟؟؟
    فیصلہ ہو نا باقی ہے

    محمد نعیم شہزاد

    افطار سے کچھ قبل سبزی والے کی دوکان کے سامنے موڑ کاٹتے ہوئے اچانک سامنے سے تیز بائیک گزری تو جلدی سے بریک لگاتے ہوئے اس کمسن لڑکے کو گھورا جو بجلی کی سی تیزی سے بائیک پر گزرا تھا۔
    "السلام علیکم سر”
    بائیک پر سوار لڑکے نے مڑ کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔
    اس کے ساتھ ہی غصہ ٹھنڈا پڑ گیا اور ماتھے کی سلوٹوں کی جگہ ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    یہ عارف تھا، ابھی تین برس پہلے ہی کی تو بات ہے، میرے پاس پڑھا کرتا تھا۔ اس کی ساری شرارتیں اور کام مکمل نہ ہونے کے بہانے میرے ذہن میں گردش کرنے لگے اور میں نے مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔

    آج رمضان المبارک کی پچیسویں رات ہے۔ عظمتوں اور رحمتوں والا رمضان المبارک ہم سے رخصت ہونے والا ہے، فوراً سے اس خیال نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    شقِيَ عبدٌ أدركَ رمضانَ فانسلخَ منهُ ولَم يُغْفَرْ لهُ(صحيح الأدب المفرد:500)
    ترجمہ: بدبخت ہے وہ جس نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں( نیک اعمال کرکے) اپنی بخشش نہ کرواسکا۔
    صحیح بخاری اور بعض دیگر کتب احادیث میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےمنبر پر چڑھتے ہوئے تینوں زینوں پر آمین کہا۔ اس میں ہے کہ پہلے زینے پر جبریل امین آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور گویا ہوئے کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا اورپھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔
    کس قدر قیمتی لمحات ہم سے گزرنے کو ہیں مگر کیا ہمیں ان کہ اہمیت کا احساس و ادراک ہے؟ پانچ، چھے دن بعد یہ ماہ مبارک ختم ہو چکا ہو گا اور وقت ضائع کرنے والے سوائے ندامت کے کچھ نہ پائیں گے۔

    امام ابن القيم رحمه الله فرماتے ہیں :

    "أغبى الناس مَنْ ضَلَّ في آخر سفره وقد قارَبَ المنزل !”

    بیوقوف ترین شخص ہے وہ جو سفر کے آخر میں بھٹک جائے جبکہ منزل قریب ہی ہو!
    [ فوائد الفوائد : ١٠٧ ]

    اس کے ساتھ ہی اس خیال نے امید جگا دی کہ جب میں ایک استاد ہونے کے ناطے اپنے شاگرد کو سامنے دیکھ کر غصہ بھلا کر خوش ہو جاتا ہوں تو وہ عرش کا رب کس قدر اپنے بندے پر مہربان ہو گا جب وہ اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ کو اسی رجاء اور امید سے یہ پکارنا چاہیے کہ وہ ہماری ضرور سنے گا اور ہماری خطاؤں اور تقصیروں سے صرف نظر بھی کرے گا۔

    رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا ” جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں ، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے ، اس نے لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے ۔ “
    (صحیح بخاری، حدیث : 3194)

    اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ایک اور واقعہ حدیث میں بایں الفاظ وارد ہوا ہے۔
    گزشتہ امتوں میں ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی۔سا جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا۔ اس لیے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور ( راکھ کو ) کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ پاک نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے ہی خوف سے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔ اس حدیث کو معاذ عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
    (صحیح بخاری، حدیث : 3478)

    تو آئیے اپنے کل کے نقصان کا ازالہ آج ہی کر لیں کہ یہ دن بھی گزر گیا تو حسرتوں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

  • والدین سے حسن سلوک کی اہمیت …!!! [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    والدین سے حسن سلوک کی اہمیت …!!! [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

    والدین سے حسن سلوک کی اہمیت
    وَلَا تَقُل لَھُمَآ اُفِِ وَّلَا تَنھَرھُمَا…!!!
    [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔
    افطاری تیار کر کے ٹائم دیکھا تو کچھ منٹ باقی تھے،میں نے سوچا چلو قرآن کے چند اوراق اور تلاوت کر لیئے جائیں…
    سو بیٹھ کر تلاوت شروع ہی کی تھی،کہ چوں چوں کی آواز نے مجھے متوجہ کیا،
    دیکھا تو ایک چڑیا بمشکل انگلی کے دو پوروں برابر اپنا بچہ ساتھ لگائے شام کے گہرے ہوتے دھندلکے میں اس کا محفوظ ٹھکانہ تلاش کر رہی تھی…
    ایک دفعہ دیوار پر بٹھایا،
    مگر ممتا کو چین نہ ملا کہ وہ ننھی سی جان وہاں سے بآسانی کسی بلی یا کوّے کا نوالہ بن جاتی،
    اب اسے اپنے ساتھ اُڑا لے کر ایک پودے پر بٹھایا…
    پودا بھی زیادہ اونچا نہ تھا اور شکار آسان تھا…
    چھوٹی سی چڑیا کو ابھی تک اطمینان نہیں تھا…
    تھوڑی دیر اسی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر اس نے اسے ایک اونچے کھمبے پر بٹھا دیا اور خود اڑ گئی…
    میری آنکھیں مسلسل اس سین کا مشاہدہ کر رہی تھیں اور اس ننھے چڑیا کے بچے کے تعاقب میں رہیں،
    اب تھوڑی دیر پہلے تک جو چوں چڑ چوں کا شور تھا،اب ایک گہرے سکون میں بدل چکا تھا…
    صبح ذرا روشنی واضح ہونے پر دیکھا تو وہ ننھا سا بچہ وہیں بیٹھا تھا،
    تھوڑی دیر بعد اس کا باپ پہنچا اور اُتار کر نیچے صحن میں لے آیا…
    جہاں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالے گئے تھے،
    خوب پیٹ بھر کر ننھے سے بچے کو کھِلائے اور اپنے ساتھ اُڑا لے گیا…
    اس واقعہ نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا کہ ہر اولاد کے والدین اس کے لیئے کتنی مشقت کرتے ہیں؟
    کتنی محنت سے پالتے ہیں؟
    کتنی بے کلی اور اضطراب میں زندگی کے ایام گزارتے ہیں…؟؟
    باقی جانداروں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے بچوں کی پرورش پھر بھی اتنی مشکل نہیں ہے…
    وہ پیدا ہوتے ہی چند دنوں میں چلنے،اُڑنے اور بھاگنے دوڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں…
    مگر یہ انسان جو احسن تقویم ہے،اس کی خوب صورتی کو اور بڑھاوا دینے کے لیئے والدین کو کتنی جدوجہد کرنا پڑتی ہے کہ اس کی خوراک کے مناسب بندوبست کے ساتھ اس کے لباس،علاج،نیند،جاگ کا خیال اس کے والدین کتنی کوشش سے رکھتے ہیں؟
    وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کو کسی طرح سے تکلیف اور دُکھ نہ پہنچے…
    تکلیف پہ تکلیف سہتے اسے بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی کے زوروں تک پہنچاتے ہیں…
    اسے پڑھاتے،سکھاتے اور ادب و ثقافت سے آشنا کرواتے ہیں…
    اس کی جدائی میں جہاں ہوں،تڑپتے ہیں کہ کب اپنی اولاد کے پاس پہنچیں…!!!
    لیکن جب یہی اولاد اس قابل ہوتی ہے کہ ان کا خیال رکھنے کا وقت آتا ہے تو یہی والدین اولاد کو بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں…
    وہ جنہوں نے اپنی جوانی،مال،وقت اور جائداد اس اولاد کے غم و فکر میں لٹا دیئے آج اولاد ان کی قربانی کا احساس بیدار کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتی…!!!
    خوش قسمت اولاد تو والدین کو اپنے لیئے دعاؤں کا بحرِ بے کنار،
    دنیا میں عظیم سہارا اور اپنی کامیابی کا راز سمجھتی ہے مگر اکثریت اس حقیقت سے انکار بھی کر دیتی ہے…
    وہ والدین کے احسانات کو بھول جاتے ہیں…
    وہ ان کی قربانیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں…
    وہ ان کی تاریخ پر نظر ڈالنا گوارہ ہی نہیں کرتے…!!!
    کہ کن مشکل حالات سے نبردآزما رہ کر انہوں نے ہمارے تحفظ اور بقاء کی جنگ لڑی…
    اولاد کی جدائی پر تڑپنے والے والدین سے دوری پر یہ اولاد کوئی خاص تڑپ محسوس نہیں کرتی…
    ان پر الزام کی بوچھاڑ کرتی ہے کہ تم لوگوں نے ہمارے لیئے کیا کیا ہے؟
    لیکن یاد رکھیئے کہ ہمارے والدین ہمارے لیئے ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جو اُن کے بس میں ہوتا ہے…!!!
    جو وہ استطاعت رکھتے ہیں…
    جتنی اُن میں ہمت ہوتی ہے وہ اپنی زندگی اس اولاد کے پیچھے رُلا اور کھپا دیتے ہیں…
    یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنی کتاب اور عالمگیر سچائی قرآن مجید میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کا حکم دے کر مابعد ہی والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے…جس سے ان کے کمال مرتبہ کی اہمیت کھُل کر واضح ہو جاتی ہے…!!!
    جب والدین بڑھاپے کی دہلیز پر آن پہنچیں تو اپنے لیئے مہنگی مہنگی خریداری کرتے ہوئے ان کا بھی خیال کر لیا کریں…
    یہ تو پھر بھی کہہ دیں گے،نہیں یہ سوٹ مہنگا ہے تمہی سلائی کروا لو،
    ہم نے اب اتنا مہنگا سوٹ کیا کرنا ہے…
    لیکن ان کے دل سے نکلتی خوشی کی لہر تمہیں کامیابیوں کی طرف بہا لے جائے گی…
    جب خود مہنگے مہنگے ہوٹلوں میں پارٹیاں کرو،تو انہیں بھی اپنے ساتھ لے جا کر کُچھ وقت کے لیئے باہر کی دنیا سے لطف اندوز کروایا کرو…
    بہت ہی مصروف بھی ہو جاؤ تو وہ وقت یاد کر لیا کرو،جب یہ گھر سے باہر ہوتے ہوئے بھی صرف تمہارے غم اور یاد میں تڑپتے تھے اور تمہارے پاس پہنچنے کے لیئے بے تاب رہتے تھے…
    کبھی آوارہ گردی کرتے ہوئے بہت ہی دور بھی نکل جاؤ تو سوچا کرو کہ اُن کی پریشاں و خالی نگاہیں اب بھی تمہارے لیئے کھُلی اور دروازے پر جمی منتظر رہتی ہیں…!!!
    ہاں ان کے دلوں کو کبھی دُکھنے نہ دینا…
    کہ یہ اندر سے ٹوٹ کر اس سٹیج پر پہنچے ہوتے ہیں اور اب انہیں مرہم رکھنے والے کی تلاش ہوتی ہے جو اس بڑھاپے میں آ کر ان کا سہارا بن جائے…
    ان کی تنہائی کا ساتھی بن جائے…
    ان کے درد کا مداوا بن جائے…
    اُن کی بے کلی کا چین بن جائے…
    اُن کی بھول پر یاد دلا دے…
    اُن کے گرنے پر اُٹھا کھڑا کرے…
    جیسے محبّت سے وہ باتیں کرتے تھے…
    اب کوئی ان سے بھی نرم گفتگو آ کرے…!!!
    اگر کبھی وہ خفا بھی ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ بھی اکثر اولاد ہی ہوتی ہے…جو مختلف حیلوں سے ان کے لیئے باعثِ پریشانی ہوتی ہے…!!!
    رمضان کے بابرکت اور قیمتی ایام میں قرآن مجید کو تو ہم کھولتے ہی ہیں…
    سو تلاوت کی منزلیں طے کرتے ہوئے اللّٰہ کے اس پیغام پر بھی ذرا غور کرنا…
    فَلَا تَقُل لَھُمَآ اُفِِ وَّ لَا تَنھَرھُمَا وَ قُل لَھُمَا قَولاً کَرِیمًا¤
    وَاخفِض لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحمَۃِ وَ قُل رَبِّ ارحَمھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِی صَغِیرًا¤
    "تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا،نہ انہیں ڈانٹ پلانا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔
    اور عاجزی اور محبّت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع سے بازو پست رکھنا،اور دعا کرتے رہنا،
    اے میرے رب ان پر ویسا ہی رحم فرما،جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے…”
    یہ تادم آخر ہمارے لیئے ہی تڑپتے ہیں،یہ بے بس بھی ہوں تو ہمارا ہی غم انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہوتا ہے…!!!
    یہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ہمیشہ ہی ہمارے لیئے وہ سوچتے ہیں جو ہمارا بھلا اور فائدہ ہو…!!!
    اس رمضان میں اگر قرآن کے اس ایک پیغام کو بھی ہم سمجھ جائیں تو ہماری دنیا اور آخرت کی کئی منزلیں آسان ہو سکتی ہیں…ان شآ ءَ اللّٰہ۔
    ===============================

  • معاشرے میں بیٹیوں کا کردار، بقلم……. ندا خان

    معاشرے میں بیٹیوں کا کردار، بقلم……. ندا خان

    معاشرے میں بیٹیوں کا کردار
    بقلم……. ندا خان
    اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا ہے اسلام نے
    بیٹی کو عزت دی اور اسے بحث رحمت قرار دیا اور کچھ لوگ اب بھی بیٹی کو باعث رحمت نہیں باعث زحمت سمجھتے ہیں ان کے لیے قرآن پاک میں الله تعالٰی فرماتے ہیں
    آیت کا مفہوم ہے ” بیٹی کا سن کر زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے منہ سیاہ نہ کر لیا کرو ”
    بیٹی کے روپ میں رحمت، بیوی ہے تو سکون کا باعث اور جب ماں کے رتبے پر فائز ہوتی ہے تو الله جنت اس کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں اور بیٹوں کو حکم دیے دیا تم پر سب سے زیادہ حق تمہاری ماں کا ہے
    اور اسلام کی یہ بیٹیاں جب ماں کا رتبہ پاتی ہیں تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے بیٹوں کو دین اسلام کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں اور اپنے بیٹوں کی تربیت اس نہج پر کرتی ہے کہ جب بھی دین کی سر بلندی کے
    جان، مال، قربان کرنے پڑے تو کبھی پیچھے نہ ہٹے ایسی مائیں پھر صلاح الدین ایوبی
    محمد بن قاسم جیسے بیٹے جنم دیتی ہیں
    اور یہ بیٹی دین اسلام کی سربلندی کے لیے میدان میں جنگ میں ام عمارہ کا کردار ادا کرتی ہے آج بھی کشمیر کی بیٹی آسیہ اندارابی آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں بھارت کی جیل میں قید ہیں کیونکہ آسیہ اندرابی نے ظالم و جابر اور زبردستی مسلط حاکم کے سامنے حق کی آواز بلند کی اس بھارتی جارحیت کے خلاف کشمیر
    کی بیٹیاں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے اسلحہ سے لیس بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ کر
    کھڑی ہوتی ہے اگرچہ پتھر مسلح فوج کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں لیکن ان کے اندر
    جذبہ ایمانی ہوتا ہے جس کی بنا پر بھارتی فوج کو مار بھاگتی ہے
    معاشرے میں بیٹی کا کردار ہمیشہ بلند رہا ہے چاہے وہ طب کے شعبے میں ہو یا
    ٹیکنالوجی میں، طب کے شعبے میں مایہ ناز ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جن کی اعلیٰ
    کارکردگی کافر کو برداشت نہ ہوئی ہے آج وہ امریکہ کی جیل میں قید ہے جہاں
    ان کے ساتھ انسانیت سوز برتاؤ کیا جاتا ہے والله اعلم وہ زندہ بھی ہے شہید ہوگئی ہے
    پھر ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی ریکارڈ بنانے والی 8 سال کی عمر میں سافٹویئر
    بنانے والی پاکستان کی بیٹی ارفع کریم رانداوا لیکن رضائے خداوندی سے 16 کی عمر
    میں پاکستان کی یہ بیٹی جس نے پوری دنیا میں پاکستان کانام روشن کیا وہ ہم سے
    جدا ہوگئی انا لله وانا اليه راجعون، الله رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یا ارحم الراحمين
    کھیلوں کے میدان میں بھی جہاں پاکستان کی بیٹیاں بین الاقوامی سطح پر پر اپنا لوہا منوارہی ہیں

  • جھوٹ، ایک ناسور، حافظہ قندیل تبسم

    جھوٹ، ایک ناسور، حافظہ قندیل تبسم

    جھوٹ، ایک ناسور
    حافظہ قندیل تبسم

    اتوار کا دن تھا کلاس شروع ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک طالبہ جو لیٹ ہو چکی تھی کلاس میں داخل ہوئی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔
    میں نے کہا : آپ لیٹ آئی ہیں میں۔ آپ کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
    وہ بیچاری منت سماجت کرنے لگی۔
    میں نے اس سے پوچھا : آپ تاخیر سے کیوں آئیں؟
    اس نے صاف جواب دیا : واللہ! آپی جان ! میں سو رہی تھی اس وجہ سے لیٹ ہو گئی۔
    مجھے اس کا سچ بولنا پسند آیا -میں نے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    اس کے چند منٹ بعد ایک اور طلبہ آئی۔
    میں نے پوچھا : آپ بدیر تشریف کیوں لائی ہیں ؟
    اس نے جھوٹ بولا : واللہ ! آپی جان ! آپ تو جانتی ہیں کہ میں صبح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول بھیج کر پھر ہی جامعہ آتی ہوں۔
    وہ بھول رہی تھی کہ آج بچوں کو اسکول سے اتوار کی چھٹی ہے۔
    میں نے کہا : اچھا آپ بچوں کو اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟‘‘ جی جی آپی جان ،،
    سبحان اللہ ! آج تو اتوار ہے؟
    میں نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا : جھوٹ گھڑنے سے پہلے سوچ تو لیتی کہ آج دن کونسا ہے؟ اسکول سے تو آج چھٹی ہے اور آپ کسے اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟
    جھوٹ پکڑے جانے پر وہ گھبرائی اور پینترے بدلنے بدلنے لگی ….
    وہ بیچاری جھوٹ بول کر پھنس گئی تھی۔ خیر…..میں مسکرائی اور اسے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    کتنی بری بات ہے کہ لوگوں کو پتا چل جائے، آپ ان سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ جھوٹ لوگوں کو آپ سے متنفر کر دیتا ہے وہ آپ سے شکایت نہیں کرتے لیکن جب آپ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ سنتے نہیں اور اگر سن ہی لیں تو قبول نہیں کرتے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "ہر شے مومن کے مزاج کا حصہ ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا :
    اے اللہ کے رسول ! کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
    فرمایا: نہیں
    عبداللہ بن عامررضی اللہ عنہ کیا بیان ہے :
    ایک دن ،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے میری والدہ نے مجھے پکارا: ادھر آؤ، میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا :
    آپ اسے کیا دینا چاہتی تھیں ؟
    والدہ نے بتایا کہ میں اسے کھجور دیتی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر آپ کوئی شے نہ دیتی تو ایک جھوٹ آپ کے ذمے لکھا جاتا۔
    امام زہری رحمہ للہ نے سلطانِ وقت کے روبرو کسی مسئلے میں شہادت دی۔ سلطان نے کہا : آپ جھوٹ بولتے ہیں۔
    امام زہری رحمہ اللہ نے مارے غصے کے چلا کر کہا : اعوذ باللہ ،
    میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟
    واللہ ! آسمان سے منادی ہو کہ اللہ نے جھوٹ بولنا حلال کر دیا ہے میں تب بھی جھوٹ نہ بولوں۔ جب جھوٹ حرام ہے تو میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں !
    حقیقت :
    "لوگوں نے آپ کو دھوکہ دیا اور کہا : "سفید جھوٹ” کیونکہ جھوٹ کا رنگ تو سیاہ ہوتا ہے۔

  • پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    کافی عرصہ ہوا میں پنڈی سے بذریعہ بس حیدرآباد آرہا تھا ایک صاحب جنہوں نے میہڑ ضلع دادو جانا تھا میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب ہم میانوالی کے قریب چشمہ کے مقام پر پہنچے جہاں پاکستان نے ایک بڑا ذخیرہ آب جمع کیا ہوا ہے تو وہ صاحب مجھے کہنے لگے دیکھیں یہ پنجاب نے ظلم کیا ہوا ہے میں نے پوچھا بھائی وہ کیسے تو فرمانے لگے اتنا سارا پانی یہاں روکا ہوا ہے تو سندھ تو سارا خشک ہوجائے گا اور اس کی زراعت بالکل تباہ ہوجائے گی میں نے عرض کیا حضرت ایک ذاتی سا سوال پوچھ لوں کہنے لگے پوچھیں میں نے کہا آپ نے اپنے گھر میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی زیر زمین یا چھت کے اوپر کوئی ٹنکی بنائی ہے تو کہنے لگے بالکل بنائی ہے میں نے پھر پوچھا کیوں ؟؟؟
    جی ہر وقت لائٹ بھی نہیں ہوتی اور واٹر سپلائی کا پانی بھی مقررہ وقت پر آتا ہے اس لئے پانی جمع کرنا پڑتا ہے تاکہ سارا دن استعمال ہوسکے میں نے عرض کیا بھیا آپ کے چھوٹے سے گھر کو تو ذخیرۂ آب کی ضرورت ہو اور اتنے بڑے ملک کو پانی ذخیرہ کئے بغیر چلا لیا جائے کچھ عجیب سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟؟
    حضرات ایسے وقت میں کہ جب ساری دنیا سینکڑوں نہیں ہزاروں چھوٹے بڑے ڈیم بنا رہی ہے چائنہ چار ہزار سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے ہمارا ازلی دشمن بھارت پندرہ سو سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے یہ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ تربیلا اور منگلا کے بعد ہم کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنا سکے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم شاندار نہری نظام رکھنے کے باوجود دن بدن خشک سالی کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں
    بھارت ہمارا وہ ازلی دشمن ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے دریاؤں پر قبضہ کرکے متعدد ڈیم بناکر ہمارا پانی روکا تاکہ جہاں وہ ہمارے پانی پر اپنی بنجر زمینوں کو سیراب کرسکے وہیں ہمیں پانی کے قطرے قطرے کا محتاج بناکر اپنا باج گزار بنالے
    عجیب تماشہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب بھارت ہمارے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جارہا تھا اس نے ہمارے بیچ ایسے لوگ کھڑے کردئیے جنہیں پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا کوئی ذخیرۂ آب برداشت نہ تھا قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے یہ لوگ بظاہر اپنے اپنے ہم زبان لوگوں کے ہمدرد تھے لیکن حقیقت میں دشمن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نظر آتے تھے
    ان لوگوں نے سندھ اور کے پی کے کے بھولے بھالے عوام کو پروپیگنڈے کے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہیں لگنے لگا کہ پاکستان کی سرزمین پر بننے والا کوئی بھی ذخیرۂ آب ان کی تباہی کا سبب بنے گا نتیجتاً ایک بڑا عوامی ردعمل ڈیموں کی تعمیر کے ان منصوبہ جات کے خلاف کھڑا ہوگیا جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت تھے ان کی پاکستان دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے ہر ڈیم کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کرنے اور ان کے خلاف لمبے لمبے بھاشن جھاڑنے والے ان لوگوں کو کشمیر میں بننے والے کسی بھی ڈیم یا کینال کے خلاف بولتے ہوئے کبھی بھی نہیں سنا گیا یعنی تماشہ یہ تھا کہ یہ ایک طرف پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کررہے تھے تو دوسری طرف بھارت کو موقع فراہم کررہے تھے کہ وہ پاکستان میں موجود انتشار کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی دریاؤں کا رخ اپنی منشا کے مطابق موڑ لے
    پاکستانی عوام کی ایک اور بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ انہیں کوئی ایک بھی حکومت اس طرح کی میسر نہیں آئی جو اس پاکستان دشمنی پر مبنی اس مذموم مہم کا کما حقہ مقابلہ کرسکے کیا اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ بجائے ان بدبخت عناصر کا قلع قمع کرنے کے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں لا بٹھایا جائے ولی خان اسفندیار ولی محمود خان اچکزئی اور سندھ کے کئی بدبو دار قوم پرست سیاستدان اس کی عملی مثال ہیں ۔۔۔۔
    حضرات پاکستان اپنے قیام کے وقت فی کس پانی کی دستیابی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل تھا لیکن ہماری نااہلیوں اور دشمنوں کی سازشوں نے ہمیں اس جگہ لا پہنچایا ہے کہ ہم دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جو بڑی تیزی کے ساتھ قلت آب کا شکار ہورہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو پاکستان کا حشر صومالیہ جیسے خشک سالی کے مارے ملکوں جیسا ہوسکتا ہے
    یہ بات خوش آئند ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے نئے ذخیرۂ آب تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مہمند ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی بہت جلد شروع ہونے جارہی ہے ان ڈیموں کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہوچکی ہیں اور ان ڈیموں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا ہے اس وقت میں جہاں حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ اس مذموم پروپیگنڈے کا سدباب کرے وہیں پاکستانی عوام کو بھی اس حوالہ سے میدان میں آنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کے ان دشمنوں کو دانت کھٹے کردینے والا جواب دینا چاہیے جان لیجئے ڈیموں کی تعمیر ہمارے آج اور آنے والے کل کیلئے ہماری بہت بڑی ضرورت ہے ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دیکر بھی یہ ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ کرسکیں
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بات کو سمجھنے کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت فرمائے
    آمین یا رب العالمین

  • اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    دراصل باپ سمجھتا ہے میرا کام صرف کمانا ہے اور کما کر بچوں کو کھلانا ہے باپ یہ بھول ہی جاتا ہے میری اولاد میری دوست بھی ہے باپ دن رات محنت کرتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں باپ کمائی کرنے نکل جاتا ہے اور جب باپ کمائی کر کے گھر لوٹتا ہے تو بچے سو چکے ہوتے ہیں نا باپ نے بچوں کا لاڈ دیکھا نا بچوں نے باپ کی شفقت دیکھی ماں گھر کے کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کی صحیح طرح تربیت نہیں کر پاتی البتہ پھر بھی ماں گھر میں موجود ہوتی ہے تو اس لیے بچوں کو ماں کا پیار مل تو جاتا ہے لیکن باپ کی شفقت باپ کا پیار نہیں ملتا بچے باپ کی تربیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور بچے آہستہ آہستہ باپ سے اور باپ بچوں سے اجنبی سا ہو جاتا ہے پھر جب بچے ماں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں تو ماں تھک ہار کے باپ کو شکائیت لگاتی ہے تو باپ پہلے ہی روزی روٹی کما کما کر تھکا ہوتا ہے باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا میرے بچوں کو کس تربیت اور شفقت کی ضرورت ہے اور والد صاحب بیوی سے بچوں کی شکائتیں سن کر لنگوٹا کس لیتے ہیں اور بچوں کی مار کٹائی کر دیتے ہیں بچے تو پہلے ہی باپ کی شفقت اور دوستی سے محروم ہوئے ہوتے ہیں تو بچے اور زیادہ باپ سے دور بھاگنے لگ جاتے ہیں اور باپ سمجھتا ہے میرے بچے نافرمان ہیں لیکن اصل مجرم باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کھلاتا تو ہے لیکن تربیت اور اپنے پیار سے محروم رکھتا ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں ان سے دوستی کریں ان کے گلے شکوے سنیں ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جائیں ہنسی مزاح گپ شپ کی محفل لگائیں اور بچوں کو کاروبار سے زیادہ ٹائم دیں کیونکہ باپ اولاد کے لیے وہ درخت ہوتا ہے جو چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی ۔۔۔۔۔

  • ٭٭٭ ایک اہانت زدہ سورما کا رجز٭٭٭ تحریر فلک شیر

    ٭٭٭ ایک اہانت زدہ سورما کا رجز٭٭٭
    لکھو!
    آصف ایمرے، لکھو!
    میں ہوں خلیل خالد!
    مبارزت میں میری مہارت، راہ میں آتش بہ جانی ، جنگ میں جسارت اور دوستی میں محبت۔۔ ان سب کو ملا کر لکھو!
    میں ہوں خلیل خالد!
    قرآن میری جان ہے
    اور وطنِ عزیز کی یہ زمین میری محبوب!
    اس پایہ تخت میں
    اذان گونجتی رہے، یہاں پرچم سدا لہراتا رہے
    اور کسی ناموس پہ حرف نہ آئے۔۔
    اس کے لیے میں !
    میں، ہر نامرد، خائن اور غدار سے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتا رہا!
    میں خلیل خالد ہوں !
    اپنے پہلے سانس سے آخری آن تک، جب میں یہاں سے سفر کروں گا
    کوئی لمحہ ایسا نہیں ، جس کا حساب میں نہ دے سکوں!
    یہ سب گواہ ہیں !
    یہ پہاڑ !
    ٹیلے چوٹیاں گواہ ہیں !
    جن رستوں پہ میں چلا ، وہ سب گواہ ہیں !
    میں ہمیشہ عدل کے رستے چلا
    لاف و گزاف میرا وتیرہ نہیں
    اور دشمنوں پہ اٹھنے والا میرا ہاتھ مہارت سے کبھی عاری نہیں رہا
    میں خلیل خالد ہوں!
    جو ہمیشہ سلطان معظم کا وفادار رہا
    آج میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہوں
    سلطان کی نظرمیں برا بنایا گیا ہوں
    یہ زبان دراز افترا پردازوں کی زبانوں کا کمال ہے
    میرے چاروں طرف سازش کا جال ہے
    اور ایسے میں
    میرے حال کا اجمال
    بس کاغذ کا یہ ایک ٹکڑا ہے
    اس کے سوا کچھ کہنے کی تاب ہے نہ طاقت!

    آصف! اگر مجھے کچھ ہو جائے، تو یہ مکتوب سلطانِ معظم کی خدمت میں پیش کر دینا!

    (سلطان عبدالحمید خان ثانی ؒ پہ بننے والی ترکی تمثیل میں سلطان کے ایک وفادار کردار خلیل خالد کا ایک مکالمہ)

    از فلک شیر

  • جھوٹ، ایک ناسور، حافظہ قندیل تبسم

    جھوٹ، ایک ناسور
    حافظہ قندیل تبسم

    اتوار کا دن تھا کلاس شروع ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک طالبہ جو لیٹ ہو چکی تھی کلاس میں داخل ہوئی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔
    میں نے کہا : آپ لیٹ آئی ہیں میں۔ آپ کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
    وہ بیچاری منت سماجت کرنے لگی۔
    میں نے اس سے پوچھا : آپ تاخیر سے کیوں آئیں؟
    اس نے صاف جواب دیا : واللہ! آپی جان ! میں سو رہی تھی اس وجہ سے لیٹ ہو گئی۔
    مجھے اس کا سچ بولنا پسند آیا -میں نے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    اس کے چند منٹ بعد ایک اور طلبہ آئی۔
    میں نے پوچھا : آپ بدیر تشریف کیوں لائی ہیں ؟
    اس نے جھوٹ بولا : واللہ ! آپی جان ! آپ تو جانتی ہیں کہ میں صبح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول بھیج کر پھر ہی جامعہ آتی ہوں۔
    وہ بھول رہی تھی کہ آج بچوں کو اسکول سے اتوار کی چھٹی ہے۔
    میں نے کہا : اچھا آپ بچوں کو اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟‘‘ جی جی آپی جان ،،
    سبحان اللہ ! آج تو اتوار ہے؟
    میں نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا : جھوٹ گھڑنے سے پہلے سوچ تو لیتی کہ آج دن کونسا ہے؟ اسکول سے تو آج چھٹی ہے اور آپ کسے اسکول بھیج کر آئی ہیں ؟
    جھوٹ پکڑے جانے پر وہ گھبرائی اور پینترے بدلنے بدلنے لگی ….
    وہ بیچاری جھوٹ بول کر پھنس گئی تھی۔ خیر…..میں مسکرائی اور اسے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی
    کتنی بری بات ہے کہ لوگوں کو پتا چل جائے، آپ ان سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ جھوٹ لوگوں کو آپ سے متنفر کر دیتا ہے وہ آپ سے شکایت نہیں کرتے لیکن جب آپ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ سنتے نہیں اور اگر سن ہی لیں تو قبول نہیں کرتے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "ہر شے مومن کے مزاج کا حصہ ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا :
    اے اللہ کے رسول ! کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟
    جواب ملا : ہاں
    کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
    فرمایا: نہیں
    عبداللہ بن عامررضی اللہ عنہ کیا بیان ہے :
    ایک دن ،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے میری والدہ نے مجھے پکارا: ادھر آؤ، میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا :
    آپ اسے کیا دینا چاہتی تھیں ؟
    والدہ نے بتایا کہ میں اسے کھجور دیتی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر آپ کوئی شے نہ دیتی تو ایک جھوٹ آپ کے ذمے لکھا جاتا۔
    امام زہری رحمہ للہ نے سلطانِ وقت کے روبرو کسی مسئلے میں شہادت دی۔ سلطان نے کہا : آپ جھوٹ بولتے ہیں۔
    امام زہری رحمہ اللہ نے مارے غصے کے چلا کر کہا : اعوذ باللہ ،
    میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟
    واللہ ! آسمان سے منادی ہو کہ اللہ نے جھوٹ بولنا حلال کر دیا ہے میں تب بھی جھوٹ نہ بولوں۔ جب جھوٹ حرام ہے تو میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں !
    حقیقت :
    "لوگوں نے آپ کو دھوکہ دیا اور کہا : "سفید جھوٹ” کیونکہ جھوٹ کا رنگ تو سیاہ ہوتا ہے۔