Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وصالِ یار  از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار
    نعیم ہاشمی

    تیری چاہتیں ملی ہیں
    اب اور کیا میں چاہوں
    تم جو مل گئے ہو مجھ کو
    اب اور کیا میں مانگوں

    نہیں دل میں کوئی حسرت
    نہ ہی اور کوئی چاہت
    تجھے پا لیا ہے میں نے
    اب اور کیا میں پاؤں

    یہ بہارِ جاوداں ہے
    تیرے ہی دم قدم سے
    تو رہے سدا سلامت
    اب اور کیا میں مانگوں

    عشرت کدے میں میرے
    روشن قندیل تیری
    رہے نور یہ فروزاں
    یہی صبح و شام چاہوں

    رہے تا ابد سلامت
    تیرا اور میرا تعلق
    نہ میں چاہوں حورِ عینا
    تیرا ساتھ ہی میں چاہوں

    تیرے ہی دم سے قائم
    سانسوں کی ڈور میری
    تیری رضا ملے جو
    پھر اور کچھ نہ چاہوں

  • کون ہےسپرپاور ؟  از :سفیر اقبال

    کون ہےسپرپاور ؟ از :سفیر اقبال

    #کون ہےسپرپاور

    کون ہے سپر پاور کس کی ضرب کاری ہے؟
    آج سب زبانوں پر کس کا نام جاری ہے…؟

    وقت کے فرعونوں پر اور کھلی فضاؤں پر
    کس کی بادشاہی ہے؟ کسی کی پہرے داری ہے؟

    ہے شدید تر کتنا ِاس عذاب کا کوڑا
    ساری دنیا پر واضح آج حکمِ باری ہے

    اک عظیم خالق کی یاد جب نہیں دل میں
    اک حقیر وائرس کا خوف کتنا طاری ہے

    اپنے سیف ہاوسز میں مطمئن جو کل تک تھے
    ان ثمود والوں پر سخت بے دیاری ہے

    بھولے ایک ہستی کو اور چھن گیا سب کچھ
    سخت بے یقینی ہے، سخت بے قراری ہے

    کیوں نظر چراتے تھے ایک بستی سے کل تک
    آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن جاری ہے

    کیسی بددعا تھی وہ پوچھو شامی بچے سے
    سسکیوں میں ہی جس نے عمر اک گزاری ہے

    اک ایک پنچھی کو جس نے نوچ ڈالا تھا
    خوف میں گھرا خود ہی آج وہ شکاری ہے

    جس نے ایک ساعت میں بستیاں کھنڈر کر دیں
    ایک ایک ساعت کا آج خود بھکاری ہے

    عالمی مسیحاؤ ….! کچھ تو آج بتلاؤ
    کیا علاج ہے اس کا؟ کیسی یہ بیماری ہے؟

    گر دوا نہیں تو پھر رب سے کچھ دعا کر لو
    کس کو کیا خبر آخر کل کو کس کی باری ہے؟

    ماں کے پیار سے بڑھ کر رب کو پیار ہے ہم سے
    اس کے پیار میں ہی بس عافیت ہماری ہے….!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

    (نوٹ! تصویر اس دعا کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں سکھائی تھی…. اس وقت جب قیدِ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی سہارا اور مددگار نہیں تھا )

  • شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان  کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    معززقارئین کرام کہتے ہیں‌کہ ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا ،بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کردیاجائے،بادشاہ کے حکم پرجلاد اسے قتل گاہ کی طرف لے کرچلے تو اس نے بادشاہ کوبُرا بھلا کہنا شروع کردیا ،کسی شخص کے لیے بڑی سے بڑی سزایہی ہوسکتی ہےکہ اسے قتل کردیا جائے ،اورچونکہ اس شخص کویہ سزاسنائی جاچکی تھی اس لیئے اس کے دل سے یہ خوف ختم ہوگیا کہ بادشاہ ناراض ہوکردرپے آزارہوگا

    بادشاہ نے یہ دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیرسے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے،؟بادشاہ کا یہ وزیربہت نیک دل تھا اس نے سوچا اگرٹھیک بات بتادی جائے تو بادشاہ غصے سے دیوانہ ہوجائے گا اور ہوسکتا ہے کہ قتل کرنے سے پہلے قیدی کو سخت سے سخت عذاب میں مبتلا کردے ،

    وزیرنے جواب دیا جناب یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ پاک ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جوغصے کو پی جانے والے ہیں ، لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں‌،

    وزیرکی بات سن کربادشاہ مسکرا اوراس نے حکم دیا کہ اس شخص کو آزاد کردیا جائے ، بادشاہ کا ایک اوروزیرپہلے وزیرکا مخالف اورتنگ دل ،تنگ نظراورسنگ دل بھی تھا وہ خیرخواہی جتانے کے اندازمیں بولا”یہ بات ہرگزمناسب نہیں ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیراسے دھوکے میں رکھیں اورسچ کے سوا کچھ اورزبان پرلائیں ،

    یہ وزیرکچھ اس انداز سے کہانی سناتا ہے کہ قیدی حضورکی شان میں گستاخی کررہا تھا ، غصہ ضبط کرنے اوربھلائی سے پیش آنے کی اس نے کوئی بات نہیں کی ،

    وزیرکی یہ بات سن کرنیک دل بادشاہ نے کہا "اے وزیرتیرے اس سچ سے جس کی بنیاد بغض اورکینے پرہے، تیرے بھائی کی غلط بیانی سے بہترہے کہ اس سے ایک شخص کی جان بچ گئی

    بادشاہ نے کہا کہ یادرکھ !اس سچ سے جس سے کوئی فساد پھیلتا ہو، ایسا جھوٹ بہتر ہے جس کوئی برائی دورہونے کی امید ہو،

    وہ سچ جوفساد کا سبب ہو بہتر ہے نہ وہ زبان پرآئے اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے جوآگ فساد کی بجائے

    حاسد وزیربادشاہ کی یہ بات سن کربہت شرمندہ ہوا ، بادشاہ نے قیدی کوآزاد کردینے کا فیصلہ بحال رکھا اوراپنے وزیروں کونصیحت کی کہ بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشورے پرعمل کرتے ہیں‌،
    وزیرروں کا فرض ہے کہ وہ ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالیں جس میں کوئی بھلائی نہ ہو.اس نے مزید کہا کہ "یہ دنیاوی زندگی بہرحال ختم ہونے والی ہے ، کوئی بادشاہ ہو یا فقیرسب کا انجام موت ہے،

    اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی شخص کی روح تخت پرقبض کی جاتی ہے فرش خاک پر

    حکایت کی اصل روح یہ ہےکہ خلق خدا کی بھلائی کا جزبہ انسان کے تمام جزبوں پرغالب رہنا چاہیے ،اورجب یہ اعلیٰ وارفعٰ مقصد سامنے ہوتو مصلحت کے مطابق رویہ اختیارکرنے میں مضائقہ نہیں

    بادشاہ وقت کواپنے آس پاس بیٹھنے والے وزیروں میں ایسے وزیرکی بات پرہمیشہ توجہ دینی چاہیے جس کی سوچ جزبہ دیدنی اورمذکورہ وزیرجیسا ہو

    حوالہ : حکایات گلستان سعدی ص نمبر12

    ازقلم : علامہ علی شیرحیدری

  • ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ⁦منہال زاہد سخی

    کبھی کسے یاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں
    کسے سے فریاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو سہارا دے کر کنارے کنارے چلتا ہوں
    کسی کی خلوت میں امداد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    غروب آفتاب کے منظر کو کبھی دیکھا جو ساحل سے
    دل کو غموں سے آباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    خودی کو اجنبی جانا خودی کو کوئی سمجھا غیر
    کتنی بستیاں برباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو واسطہ واپسی کا سفر ادھورا رہتا ہے
    اسے ناکام استاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کوئی پنجرہ صدائے محبت کم نہ کرسکا کبھی سخی
    دل کی بلبل کو آزاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    #قلم_سخی

  • وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:3]۔
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔
    گفتگو واقعی جرأتمندانہ تھی…
    قریش کو اپنے لوگوں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہوا،
    تب ایک شخص بولا:
    لات و عزیٰ کی قسم…
    صہیب تم وہ وقت یاد کرو جب تم مفلس تھے،مکہ پہنچ کر تجارت شروع کی…
    اور تھوڑے عرصہ میں ہی تم اتنے مال دار ہو گئے،تمہاری تجارت وسیع ہوتی چلی گئی…
    اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ کمایا ہوا ڈھیروں مال تم اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ گے؟
    یہ تو ممکن نہیں کہ تم سب لے اُڑو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں…
    صہیب نے ان کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے،
    اچھا کیا تمہاری نظر صرف میرے مال پر ہے؟
    جبکہ میرا مشن تو اس سے کہیں ارفع اور بیش قیمت ہے…
    تو کیا میں اپنا سارا مال تمہارے سپرد کر دوں تب تم میری راہ چھوڑ دو گے ؟
    انہیں اور کیا چاہیئے تھا،جھٹ تیار ہو بیٹھے کہ ہاں اگر تم اپنے سامان و خزانے کا پتہ ہمیں دے دو تو ہم تمہارا رستہ چھوڑ دیں گے…!!!
    صہیب نے انہیں وہ جگہ بتا دی جہاں دولت چھپی ہوئی تھی…
    وہ خوشی خوشی رستہ چھوڑ کر لَوٹ گئے اور سارا مال اپنے قبضے میں کر لیا…
    اور ادھر صہیب رہِ وفا کے تقاضے نبھاتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے،آپ کو اپنے مال و دولت کے لُٹ جانے کا ذرا برابر بھی غم نہ تھا…
    کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اللّٰہ کی پہچان اور محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد یہ مال کیا،جان کی بھی پرواہ نہیں رہتی…
    اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیئے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے چھوٹ جانے کی ذرا پرواہ نہیں رہتی…!!!
    وفورِ شوق سے قدم مدینہ کی طرف رواں تھے…
    محبوبِ رب کی زیارت کا شوق تھکے قدموں کو توانائیاں فراہم کر رہا تھا…
    دل میں موجزن ایمان کا سمندر لیئے صہیب جب قبا میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب صہیب کو دیکھا تو فرمایا:
    ابو یحییٰ تجارت منافع بخش رہی…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا…
    صہیب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا…
    عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے قبل یہاں کوئی نہیں آیا،یقیناً یہ خبر آپ کو جبریل امین علیہ السلام نے دی ہو گی ؟
    ادھر صہیب راہ وفا کی کھٹنائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اُدھر جبریل امین اللّٰہ تعالٰی کا پیغام لیۓ پہنچ گئے…
    محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر پر قرآن اُتر رہا تھا:
    "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللّٰہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان تک کھپا دیتا ہے اور اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے…”

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

  • وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛  تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:3]۔
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔
    گفتگو واقعی جرأتمندانہ تھی…
    قریش کو اپنے لوگوں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہوا،
    تب ایک شخص بولا:
    لات و عزیٰ کی قسم…
    صہیب تم وہ وقت یاد کرو جب تم مفلس تھے،مکہ پہنچ کر تجارت شروع کی…
    اور تھوڑے عرصہ میں ہی تم اتنے مال دار ہو گئے،تمہاری تجارت وسیع ہوتی چلی گئی…
    اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ کمایا ہوا ڈھیروں مال تم اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ گے؟
    یہ تو ممکن نہیں کہ تم سب لے اُڑو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں…
    صہیب نے ان کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے،
    اچھا کیا تمہاری نظر صرف میرے مال پر ہے؟
    جبکہ میرا مشن تو اس سے کہیں ارفع اور بیش قیمت ہے…
    تو کیا میں اپنا سارا مال تمہارے سپرد کر دوں تب تم میری راہ چھوڑ دو گے ؟
    انہیں اور کیا چاہیئے تھا،جھٹ تیار ہو بیٹھے کہ ہاں اگر تم اپنے سامان و خزانے کا پتہ ہمیں دے دو تو ہم تمہارا رستہ چھوڑ دیں گے…!!!
    صہیب نے انہیں وہ جگہ بتا دی جہاں دولت چھپی ہوئی تھی…
    وہ خوشی خوشی رستہ چھوڑ کر لَوٹ گئے اور سارا مال اپنے قبضے میں کر لیا…
    اور ادھر صہیب رہِ وفا کے تقاضے نبھاتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے،آپ کو اپنے مال و دولت کے لُٹ جانے کا ذرا برابر بھی غم نہ تھا…
    کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اللّٰہ کی پہچان اور محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد یہ مال کیا،جان کی بھی پرواہ نہیں رہتی…
    اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے چھوٹ جانے کی ذرا پرواہ نہیں رہتی…!!!
    وفورِ شوق سے قدم مدینہ کی طرف رواں تھے…
    محبوبِ رب کی زیارت کا شوق تھکے قدموں کو توانائیاں فراہم کر رہا تھا…
    دل میں موجزن ایمان کا سمندر لیئے صہیب جب قبا میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب صہیب کو دیکھا تو فرمایا:
    ابو یحییٰ تجارت منافع بخش رہی…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا…
    صہیب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا…
    عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے قبل یہاں کوئی نہیں آیا،یقیناً یہ خبر آپ کو جبریل امین علیہ السلام نے دی ہو گی ؟
    ادھر صہیب راہ وفا کی کھٹنائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اُدھر جبریل امین اللّٰہ تعالٰی کا پیغام لیۓ پہنچ گئے…
    محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر پر قرآن اُتر رہا تھا:
    "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللّٰہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان تک کھپا دیتا ہے اور اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے…”

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

  • لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ :  بقلم ، فردوس جمال !!!

    لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ : بقلم ، فردوس جمال !!!

    وہ پہلے بیڈ روم سے سانپوں اور مگرمچھوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی رہی مگر بات نہ بنی پھر ایک رات اس نے اپنے سب ‘اثاثے’ ظاہر کرتے ہوئے اپنی ہی الف ننگی ویڈیو اسی بیڈ روم سے لیک کر دی ہر طرف اس کا چرچا ہوا،اقبال کے شاہین انبکس اور پرسنل پر ایک دوسرے سے اس ویڈیو کی ڈیمانڈ کرتے دکھائی دیے.

    پھر چند دن بعد موصوفہ نے اسلامی گیٹ اپ بنا کر اسی بیڈ روم سے ایک اور ویڈیو اپلوڈ کر دی اب کے موصوفہ خوش الحانی میں قرآن پڑھ رہی تھی اور توبہ کا اعلان کر رہی تھی اقبال کے شاہینوں میں اب کے سخت اختلاف ہوا کمنٹ بکس میں رش لگا ہوا تھا کچھ نے کہا اس کا توبہ نہیں ہے کچھ توبہ قبول ہے قبول کی سند بخش رہے تھے خیر موصوفہ کو بہت توجہ ملی،علماء کرام سے دین نہ سیکھنے والے ایک طبقے نے اب بقاعدہ دین سیکھنے کے لئےاس کے یوٹیوب کے دروازے کا رخ کیا.

    اب موصوفہ نے ایک نیا انکشاف کر ڈالا ہے کہ قرآن مجید کے 38 پارے ہیں،ایک بار پھر موصوفہ خبروں میں ہے،ایک بار پھر وہ معافی مانگے گی اور ایک بار پھر قبول ہے قبول کا پروانہ دینے والے ٹوپیاں سیدھی کرتے ہوئے اس کے یوٹیوب چینل کی نشستوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے.

    بات یہ ہے کہ یہ سب لائم لائٹ میں رہنے اور حصول شہرت کے طریقے ہیں مومنین فی سبیل اللہ مارے جاتے ہیں،بھیا توبہ بحضور کیمرا اور یوٹیوب کیا جاتا ہے؟ ٹھیک ہے گناہ ہر انسان سے ہوتا ہے،اس کے لئے توبہ ہے،توبہ تمہارا اور تمہارے رب کے درمیان کا معاملہ ہے اپنے توبے کو سوشل میڈیا میں کیش کروانے اور لائکس و کمنٹس سمیٹنے کا ذریعہ بنانے کا یہ انتہائی سطحی اور سستا طریقہ کیوں؟

  • بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے:  الطاف حسین وانی

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی

    Press Release
    Sunday, April 12, 2020.

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی
    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا

    اسلام آباد: معروف حریت رہنما اور سینئر وائس چیئرمین جموں کشمیر نیشنل فرنٹ (جے کے این ایف) الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں اور انکے بہیمانہ قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فی الفور نوٹس لے۔

    اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں، جے کے این ایف رہنما نے کہا، ”وادی طول و عرض میں تعینات ہندوستانی قابض فورسز نے مقبوضہ خطے کو ایک قتل و غارت گری کے میدان میں تبدل کر دیا ہے جہاں صبح و شام بے گناہ شہریوں کوبے رحمی سے شہید کیا جاتا ہے۔
    ”.
    ہندوستانی ریاستی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے کہا، ”کشمیری نوجوانوں کا قتل قابض فوج کے لئے ایک نیا معمول بن گیا ہے جو متنازعہ علاقے میں نافذ مختلف کالے قوانین کے تحت استثنیٰ سے لطف اندوزہورہے ہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ کالے قوانین کے تحت فوجی جوانوں کو قانونی چارہ جوئی سے چھٹکار ادر حقیقت جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں حقوق کی پامالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    مسٹر وانی نے بھارتی قابض افواج کے ذریعہ تشدد اور عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کشمیری عوام جنہوں نے سات ماہ سے طویل عرصے سے فوجی محاصرے اور معلومات کی ناکہ بندی برداشت کی ہے، اب انہیں بھارت کی طرف سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔” ایک ایسے وقت میں جب مہذب دنیا COVID-19 کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) کشمیریوں کو محکوم بنانے کی بے دریغ سازش کر رہی ہے جس نے ہندوستان کے سامراجی ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے اور اس کی مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم اسکیم کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنہائی افسوسناک بات ہے کہ کورونا وائرس قابض حکام کے لئے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈالنے کے لئے ایک نیا آلہ گیا ہے۔

    وانی نے ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج وادی میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کو ان کے فون ریکارڈز، اے ٹی ایم ہسٹری اور دیگر معلومات کا استعمال کرکے پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سخت نگرانی کا عمل قابض حکام کے ذریعہ کرونا وبائی امراض کے تحت کیا جارہا ہے اس حقیقت کے باوجود کوئی قانون انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کشمیریوں کی پریشانی جو وبائی امراض اور ایک عسکری ریاست کے مابین پھنس چکے ہیں، خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد جب ہندوستان نے آئینی دہشت گردی کا سہارا لے کر اس خطے کو اپنی خودمختار حیثیت سے الگ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور کبھی نہ ختم ہونے والی گھریلو تلاشی، فوجی کریک ڈاؤن اور بھارتی فوج کی رات کے چھاپوں نے کشمیریوں کی زندگی کو زندہ جہنم بنا دیا ہے۔

    مقبوضہ علاقے میں بگھڑتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن (ایل او سی) پر جان بوجھ کر تناؤ بڑھایا ہے۔ وانی نے بھارتی جارحانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ”مہلک وبا سے لڑنے کے لئے مہذب دنیا کیجانب سے کی جانی والی کوششوں میں شامل ہونے کے بجائے،بھارت نے کنٹرول لائن پر بے گناہ شہریوں کوقتل کرنے کے اپنے مذموم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ ”۔ جے کے این ایف کے رہنما نے شہری آبادی کے خلاف بھارتی جارحیت کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

    وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو صورتحال کا موثر نوٹس لینا چاہئے اور اس تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد کرنا چاہئے۔

    مسٹر وانی نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اظہار تشکر کیا جس نے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی ہے۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں… کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟  از قلم: مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں… کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟ از قلم: مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں…
    کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟

    از قلم:
    مشی حیات
    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!
    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو اللہ سے شیطان مردود سے پناہ چاہتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو مالک ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم
    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلام ہے۔۔!
    ہم میں سے ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتر ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاک سے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
    ۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام میں سے دو یہ ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔
    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ ہو بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟
    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا
    اور لا یبصرون نہیں وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی…
    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈانواں ڈول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء
    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق
    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندق اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔۔۔۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔۔۔،!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجرِ عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے۔۔۔۔؟!
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔؟

  • لاک ڈاؤن  از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم عشاء نعیم

    ہائے! وہ کشمیر میں قید تھے
    جنھیں لوگ سبھی تھے بھول گئے
    وہ رات دن تھے پکارتے
    ہم اپنی تجارت تاڑتے
    وہ لاشیں اٹھاتے جاتے تھے
    ہم آگے بڑھتے جاتے تھے
    ڈر تھا ذرا پل جو ٹھہرے
    شاید چھا جائیں اندھیرے
    خون دیکھا ، سی لیں زبانیں
    تم نے چمکانی تھیں دکانیں
    آواز ضمیر کی یوں دبا لی
    کوئی کر ڈالی ایک آدھ ریلی
    ضمیر کی ہر مار جھیلی
    ذرا نکلی جو سسکاری دبا لی

    پھر آہوں نے رستہ پایا
    خدا کو جا کر دکھڑا سنایا
    عرش بھی کانپ گیا ہوگا
    ہر فرشتہ رو دیا ہوگا
    پھر رب کی رحمت روٹھ گئی
    پھر قہر کی یوں بارش ہوئی
    پھر تجارت ساری بھول گئی
    پھر قید ہی سب کو قبول ہوئی
    اور تجارت کو یوں لاک لگا
    تجارت کا نام ہی خوف بنا
    کہتے تھے جنگ کے متحمل نہیں
    بن تجارت کے کچھ بھی نہیں
    اب ساری دنیا کو جاں کی پڑی
    یاد آئے برما، کشمیر و فلسطیں؟
    اب جاں ہی سب کو پیاری ہے
    یہ مال و دولت کچھ بھی نہیں