Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    کوئی ایک ہفتہ پہلے دنیا کرکٹ کے تیز ترین باؤلر نے ایک ویڈیو میں پاکستان اور بھارت کی عوام کو مشورہ دیا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں پاکستان انڈیا کی کرکٹ سیریز رکھ لیں. ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا گھروں میں بور ہو رہی ہے. ٹی وی اور انٹرنیٹ کے علاوہ لوگوں کو کوئی کام نہیں ہے. لہٰذا براڈکاسٹنگ سے اچھا خاصا فنڈ اکٹھا کیا جا سکتا ہے. فنڈ پاکستان اور انڈیا آدھا آدھا کر لیں اور وہ پیسے کورونا کے مریضوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیے جائیں. شعیب نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اپنے آفیشلز کے ساتھ سکینگ کے بعد کسی ایک وینیو پر جمع کی جائیں. اور براڈکاسٹنگ کے لیے جس چینل کو ٹھیکہ دیا جائے اس کی انتظامیہ کے 40 افراد سکینگ کے بعد جمع کر لیے جائیں. اسی طرح آئی سی سی اپنے نمائندگان کو سکینگ کے بعد سیریز کنڈکٹ کرنے بھیج دے. بغیر کراؤڈ کے انڈیا پاکستان کے تین میچیز کروا دیے جائیں.
    اس وباء کے موسم میں اس سے بہتر تجویز شاید ہی کوئی تھی. ایک تو جو لوگ گھروں میں قید ہیں ان کی تفریح کا سامان ہو جاتا. دوسرا سپانسرز اور براڈکاسٹنگ کے ذریعے تین ارب ڈالر کما لیے جاتے. جو کورونا کے خلاف لڑنے میں دونوں ممالک کے انسانوں کے کام آتے.
    میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی تو نیچے ہندوستانیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا تھا. سینکڑوں میں سے چند کمنٹ ایسے تھے جنہوں نے شعیب کے مشورے کو سراہا تھا.
    اولاً تو میں نے سوچا کہ عام اور جاہل ہندوستانی کا رویہ ہے. کسی زمہ دار بھارتی کا موقف جانتے ہیں.
    اس کے لیے سرچ کیا تو پورا ہندوستانی میڈیا شعیب اختر اور پاکستان کا مذاق اڑا رہا تھا. میڈیا تو چلو فاشٹ حکومت کا پیڈ ہوا. دکھ ہوا جب کچھ بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی شعیب کا مذاق بنایا.
    سب سے شرمناک بات سنیل گواسکر نے کی کہ
    "پاکستان کے لاہور میں برفباری تو ہو سکتی ہے مگر شعیب اختر کے مشورے پر عمل نہیں.”
    ایک طرف تو یہ بھارتی رویہ ہے اور دوسری طرف ہمارا بھائی شعیب ہے جو ہر وقت امن کی بات کرتا ہے. شعیب نے کش میر پر ٹویٹ کی تو بھارتی عوام نے خوب سنائیں. شعیب نے کسی معاملے میں عمران خان کی تعریف کی تو شعیب اختر کو بھارتی میڈیا نے منافق کہہ دیا.
    ہماری ہوش کی آنکھوں نے پاکستان کی طرف سےامن کی آشاء سے لے کر آج تک بھارت کے تعصبانہ رویے کا ہمیشہ مثبت انداز میں جواب دیا. پاکستان کے ایمبیسڈرز نے ہر موقع پر پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کی بات کی. پاکستانی عوام کی اکثریت بھی پاک بھارت تعلقات کی برابری کی سطح پر چاہتی ہے. مگر بھارت کی اکثریت پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی کا اعلان کرتی رہتی ہے.
    اس وقت بھارتی حکومت، ایمبیسڈرز اور میڈیا دن رات پاکستان کی نفرت سیکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا.
    بھارت نے ہر چیز کو دشمنی پر تولہ ہے. تجارت، ثقافت، کھیل، ادب اور سیاست سب جگہ بھارت کا یہی تعصبانہ رویہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کو لے کر سنجیدہ نہیں. اور خدانخواستہ بھارت کا یہ رویہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے.
    والسلام
    نعمان علی ہاشم

  • میری مرضی کیا ہے؟  احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟ احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟
    احمد علی ہاشمی

    مظاہرِ مرضی

    تجھ کو رب سے مانگ کے لوں گا
    نہ چلے گی تیری مرضی
    تم بھی اس کے میں بھی اس کا
    اور اسی کی چلے گی مرضی

    تجھ بن جیون سُونا سُونا
    سُونے ہی دن رات میرے
    تجھ کو پا کر ہی دم لوں گا
    یہ ہی ہے اب میری مرضی
    ——————————-
    حقیقتِ مرضی

    عشق بیماری جیسا یارو
    جس کو لگتا ہے وہ جانے
    مرض ہی بن جاتا ہے مرضی
    ہو گا وہی جو اسکی مرضی

    حسن مجازی، روپ مجازی
    ہوتا ہے یہ عشق مجازی
    روح سے جب تم پیار کرو تو
    جان لو گے تم حق کی مرضی

    مرضی، مرضی نہ تم کرنا
    اس کی مرضی پر تم رہنا
    مرضی سے کچھ کر نہیں سکتے
    لیکن برا ہے مرض یہ مرضی

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ

  • امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    مایوس دل میں اب بھی کوئی امید چراغ ہے
    بجھے انگاروں سے کیا اب سلگتی کوئی آگ ہے

    کوئی خطا کوئی غلطی کوئی نادانی ہوجائے
    فسون عشق میں گناہگار دل بھی بے داغ ہے

    نیند سے کوسوں دور وسوسوں کی کروٹیں ہیں
    کیسے کٹے کی یادوں کی رات الجھا اب دماغ ہے

    اب سمجھ نہیں آرہی کیسے سمجھاؤں ہمسفر کو
    نہ کوئی راستہ نہ سوچ نہ خیالوں میں کوئی جاگ ہے

    پہلی ملاقات طے ہوجائے پھر زندگی سہل ہوجائے گی
    کس کی ہاں کس کی نہ دونوں کی دوڑ بھاگ ہے

    اب امید سے یقین کی جانب سفر ہے سخی
    نجانے کیا سوچ کر یہ دل باغ باغ ہے

    #قلم_سخی

  • یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    کریانہ، گوشت، دودھ دہی، میڈیکل سٹور، پہلے کھلے تھے،
    اب درزی، حجام، الیکٹریشن، بک سٹیشنری، مکینک، کو بھی اجازت، کرونا مرض کیا ان پیشہ والوں سے جو سٹیل کے برتن، کراکری، لنڈے والے، کپڑے والے، جوتے والے پیٹی و ٹرنک اور موبائل ریپئرنگ والے ایزی لوڈ، ٹرانسپورٹ، وان والے، منیاری والے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، سے پھیلتا ہے جن کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔pti ساری کملی ہوگئی اے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں عجب تماشہ لگا دیا ہے۔
    یا تو لاک ڈاؤن مکمل ہو یا پھر سب کچھ کھول دو۔
    عقل سے پیدل لوگوں جب ان متعلقہ افراد کے کام بند ہونگے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ روزی روٹی کے بندوبست کے علاوہ حجام سے حجامت بنوائیں یا الیکٹریشن کا کام کروائیں یا کتابیں کاپیاں خریدتے پھریں۔
    سب سے بڑھ کر ٹرانسپورٹ ہی نہیں چلے گی تو دیہات وغیرہ کے لوگ شہر کا رخ کیسے اور کیوں کرینگے؟
    جب کہ آدھے سے زیادہ ان افراد کے متعلقہ چیزوں کی دکانیں ہی بند ہو۔
    حکومت پاکستان یا تو سب کو کاروبار کی اجازت دے یا پھر یہ وباء واقعی خطرناک ہے تو انسانی زندگی بچانے کیلئے سخت فیصلہ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کرے کیونکہ اگر اس وباء سے کوئی بھی شہری متاثر ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کو درد جدائی دینے کے ساتھ انکی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے اور دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔

  • لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!!
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔

    لاک ڈاؤن کیا ہوا،گھر سے ایک عجیب سی محبت ہو گئی ہے…
    جہاں کئی نقصانات سر پر منڈلا رہے ہیں وہیں کئی اخلاقی سنوار کا بھی احساس ہو رہا ہے…
    عجب سی خاموشی کا حصار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے…
    غیبت،چغلی اور جھوٹ کے مواقع کم ہو گئے ہیں…
    ابھی صبح ہی والدہ صاحبہ سے ذکر کیا ہے کہ امی جان !!!
    یہ سچ ہے کہ بہت زیادہ شہرت،آنا جانا اور گپیں انسان کے بہت سے راز کھل جانے کا باعث ہے،کبھی ہم کسی کی برائی سنتے ہیں اور کبھی کسی کی برائی کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں…
    غرض دونوں طرح سے گناہ سمیٹتے ہیں…
    ایک ماہ ہونے کو آیا ہے اس دوران کوئی بھی بندہ ایسا نہیں آیا جو ذاتی مخاصمت یا گھریلو جھگڑوں کا ہی تذکرہ لیئے بیٹھا ہو…
    یوں ذہن میں آسودگی اور دل بوجھ سے آزاد آزاد لگتا ہےکیونکہ غلط بات چاہے ذرا سی ہی کیوں نہ ہو،ذہنی و روحانی اذیت کا باعث ضرور بنتی ہے…
    نماز کی ادائیگی بروقت کرنے کے لیئے ہمارے پاس اوّل وقت موجود ہے…
    گھر کے سبھی افراد الحمدللہ اللّٰہ اکبر کی صدا پر متحرک نظر آتے ہیں،چنانچہ نماز چھوٹنے یا لیٹ ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…
    گھر کے کام کی روٹین بھی بہت بہتر انداز میں چلنے لگی ہے بلکہ اضافی کام جو کئی مہینوں سے ملتوی رکھے گئے تھے۔۔۔
    انہیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے…
    میں نے بھائی سے کہا کہ چلیں آپ چارپائی پر چڑھ جائیں،میں آپ کی مدد کرتی ہوں تو چھت کے تمام پنکھے صاف کر دیئے جائیں…
    صفائی کے بعد میل اترنے سے گویا وہ بھی چمکتے ہوئے مسکرا رہے ہوں…
    عموماً تو گھر میں چولہا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن والدہ صاحبہ کوئی بھی اضافی کام مثلاً،حلوہ بنانا،مربہ بنانا،یا سحری کی تیاری کے لیئے ہمیشہ سے ہی آگ جلانا پسند کرتی ہیں…
    گھر کی لکڑی وافر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لکڑی کے بھاری بلاک پڑے تھے،سو موقع غنیمت تھا…
    بھائی جان جو لاڈلے اور ایسے کاموں میں قدرے سست طبیعت کے مالک ہیں…
    ان کی ورزش اور جم جانے کا بہترین انتظام میں نے یہ کیا کہ کلہاڑا،ہتھوڑا،چھینی وغیرہ سب اوزار اس جگہ پہنچا کر ایندھن کا سامان بنانے پر آمادہ کیا…
    وہ قائل کرتے رہے کہ کوئی مزدور مل جائے گا تو کروا لیتے ہیں…
    مگر یہ ہاتھ اور ہمت کس لیئے ہیں؟
    میں نے استفسار کیا…
    اچھا چلو میں بناتا ہوں،اور آپ سمیٹے جانا…
    اٹس او کے…آئی ایم ریڈی۔۔۔
    اور یوں وہ چارو نا چار اس کام میں لگ گئے،
    تین دن میں لکڑیوں کا کافی بڑا ڈھیر جمع ہو گیا،جنہیں ترتیب سے جوڑنا میں نے تھا…
    سسٹر کی ڈیوٹی لگی کہ آپ سارے جالے برش سے صاف کر دیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران بڑی صفائی کی ضرورت نہ پڑے اور کمرے صاف ستھرے ہوں…
    آسمانی بجلی کی چمک پڑنے سے حویلی کا ایک درخت جھلس چکا تھا…
    والد محترم کو ہم نے مشورہ دیا کہ وہ کاٹ دیا جائے کیونکہ اب کسی کام کا نہیں…
    آپ اوپر چڑھ کر آری چلائیں،
    ہم سب نیچے سے ساری صفائی کر دیں گے…
    اچھا آری نہیں مل رہی…؟
    پتہ نہیں کہاں رکھی ہے آپ نے،
    ایسی چیزیں آپ ہی تو سنبھال دیتی ہیں…
    مجھ سے سوال ہوا…؟
    مجھے لگا اب معاملہ پینڈنگ ہو گیا…
    شاید کوئی لے کر گیا ہو تو واپس نہ کی ہو ابھی…
    میں نے ذہن پر زور دیا…
    تب یاد آئی کہ وہ تو شیڈ پر سنبھالتے ہوئے پیٹی کے پیچھے گر گئی تھی…
    اللّٰہ اللّٰہ کرکے بمشکل آری نکالی اور پیش کی…
    درخت کٹ گیا اور ہم سب اُسے سنبھالتے جا رہے تھے…
    چھوٹے ٹکڑوں میں کر کے تہہ لگا دی گئی…
    اور اُدھر امی جان زبردست سا حلوہ بنا چکی تھیں کہ سب فیملی ممبرز ٹف کام میں جتے ہوئے تھے…
    بازار کے وقت،بے وقت کے چکر محدود ہو گئے ہیں…
    کھانا تو اب بھی تین وقت ہی کھایا جاتا ہے مگر قریبی کریانہ سٹور سے بھی تو سب مل ہی جاتا ہے…
    وہ پہلے کی لمبی لسٹ،بیس سے تیس ہزار کے بِل کو چھُوتا سودا سلف اب پانچ چھ ہزار میں بھی گزارا کرا رہا ہے…
    بس ہمیں سٹاک رکھنے،اور چیزیں دھڑا دھڑ خرید کر ایکسپائر کر دینے کا بھوت سوار ہے…
    ضرورت ہے یا نہیں گھر میں ہونا ضروری ہے بس…
    سوچا لاک ڈاؤن اگر بڑھ جاتا ہے تو گرمیوں کے کپڑے؟
    ضمیر نے کچوکہ لگایا…ابھی پچھلی گرمیوں کے تین سوٹ تو ایسے بھی پڑے ہیں جنہیں ہاتھ تک نہیں لگایا،صرف بنوائے تھے…؟؟؟
    دل میں اطمینان اُبھرا کہ چلو اس بار نہ بھی لیئے تو نہ سہی۔
    پہلے سے موجود بوسیدہ کر کے ہی حساب دینے کے بار کو کم کریں گے۔

    ایک کام ابھی تک ذہن میں گردش کر ہی رہا تھا کہ اگر پچھلے سال کی پڑی گندم کو صاف کر کے دھوپ لگوا دی جائے تو کیسا اچھا ہے…؟
    لیکن ساتھ کون دے؟
    لے دے کر بھائی نظر آئے،
    کیوں بھیا یہ کام رہ گیا ہے،کیا کر نہ دیا جائے؟
    میں نے دھیرے سے سوال کیا…
    بھئی لاک ڈاؤن تے قسمت نال آ گیا اے…
    میں گھر آ گیاں تے کم کروا کروا کے مرمت تو نے کر دتی اے…
    اچھا،چلیں آپ کی مرضی،موڈ نہیں تو رہنے دیں؟
    نہیں کل کریں گے ان شآ ء اللّٰہ…
    تین دن تک اس گندم کی صفائی کے دوران گرمی اور دھوپ سے جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو مئی، جون کی تپتی دھوپ میں باہر اکھاڑے پر تپتے کسان یاد آئے کہ کیسے وہ محنت کر کے دانہ دانہ سنبھال کر قوم کے گھر تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں…!!!
    خیر اس ذمہ داری کو نبھا کر فرش دھوتے ہوئے جب پسینے کے بہتے قطرے فرش دھوتے پانی میں شامل ہوئے تو ہم آہ بھر کر بیٹھے کہ:
    ہمارا پسینہ بھی شامل ہے اے گھر تری تزئین میں…
    ہم جب نہیں ہوں گے،ہمیں بھی یاد کر لینا…!!!
    اب رمضان سے قبل میرا آخری ٹارگٹ اپنی مطالعہ کی بُکس کو ترتیب سے رکھنا اور الگ کرنا تھا…
    سو یہ کام کر کے ہم لاک ڈاؤن کے لمحات سے خوب مستفید ہوئے…
    موٹاپا تو پہلے ہی ہم سے دور بھاگتا ہے،اب غم میں ڈوبے کلائی کا ناپ لیا تو وہ پہلے سے اور کمزور لگ رہی تھی…
    لیکن اس جسم کا،اس صحت کا،قوت کا حق ادا کرتے رہنا چاہیئے…
    اس کے مثبت اور بہترین و تعمیری استعمال کے بے شمار فوائد ہیں
    اور اللّٰہ تعالٰی سے عافیت کا سوال بھی کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی خیر نہیں__!!!”
    اس لاک ڈاؤن نے سکھا دیا کہ ہم یہ صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے پیدا کرتے ہیں…
    ہر کام انسان خود کر سکتا ہے صحت و عافیت کے باوجود کام کو ہاتھ تک نہ لگانا فیشن نہیں اپنے ساتھ زیادتی اور اپنے بدن کو بیماریوں کا گھر بنانے کی دعوت ہے…
    اللھم بلغنا رمضان…
    اے اللّٰہ !
    ہمیں رمضان کی رحمتوں کا حقدار بنانا…بخشش کا مستحق بنانا اور ہماری غلطیوں سے درگزر فرما کر ہمارے احوال پر رحم فرمانا…
    ہمیں متقین کی لسٹ میں شامل کرنا…اللّٰہ ہم سے حساب آسان لینا…
    اے اللّٰہ ہمیں اس زندگی کی نعمتوں سے ایمان کے ساتھ مستفید ہونے اور آخرت میں فردوس و عدن کے باغوں میں سکون عطا کرنا…
    کہ ابدی سکون تو نے جنت کا ہی خاصہ رکھا ہے…آمین۔
    وطنِ عزیز سمیت تمام دنیا پر چھائی آفت کے اثرات سمیٹ لے…
    اس لامتناہی بحث اور شر سے خیر کا پہلو نکال دے…
    سو ان لمحات کو ڈپریشن کی بجائے مثبت استعمال میں گزاریں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ان ایام میں حرزِ جاں بنا لیں کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
    ولیسعک بیتک…”اور اپنے گھر میں رہو”
    جب انہوں نے سوال کیا تھا کہ نجات کیا ہے؟
    اگر باہر کی رنگ رنگیلی دنیا سے کچھ وقت کے لیئے کٹ گئے ہیں تو اندر کی دنیا کو رنگین کیجیئے…
    صبغۃ اللّٰہ سے…
    اور آسانیوں کا سوال کرتے رہیئے تاکہ میرے وطن کے غریب آدمی کی بھی پریشانیاں ختم ہو جائیں…
    لوگ اس غیر مرئی وائرس سے بچاؤ کرتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے لیئے نہ لڑیں…
    اے گُلشن تو شاد رہے،آباد رہے
    ترا اک ایک لمحہ مصائب سے آزاد رہے…تیرے دامن میں بستے ہر انسان کی خیر ہو…
    جہاں بھر میں انسانیت کے احترام کی ریت جڑ پکڑے اور ہمارے ہاں کے لاک ڈاؤن سے بہت پہلے عشروں سے کئی خطوں کے لاک ڈاؤنوں سے نبرد آزما "انسانوں” کی بھی مشکلات کم ہوں…!!!!!(آمین)۔
    ==============================

  • آثارِ سحر…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    ہم کیا تھے،کہاں ہیں،ٹُوٹ سے گئے اور بِکھر گئے…
    رستے ہمارے وہ کیا ہوئے،کہ سُراغِ منزل بچھڑ گئے؟

    ارفع روایات کے امین ہم، احساس کے مکین تھے…
    یہ کس ڈگر پہ چل بیٹھے کہ اُن باتوں سے بپھر گئے…؟

    حق،ناحق ہے چیز کیا،حلال و حرام سے بے پرواہ…
    یہ کس کے حق پہ ڈال کے ڈاکہ،ہم حق سے بھی مفر گئے…!!!

    راہوں میں اپنی بچھا کر کانٹے،بُجھا کر چراغِ شبِ آخر…
    اندھیروں میں ڈوب کر ہاں کیوں آثارِ سحر گئے…؟

    یقیں محکم،عملِ پیہم،یکجہتی و عَزم رہے…
    کہ یہی وہ اصول ہیں جن سے کاٹے ہر عَہد میں سَفر گئے…!!!!!
    =============================

  • انساں اور انسانیت…  بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت… بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    اکثر لوگ ملتے ہیں…
    چھاؤں سے دھوپ میں…
    چلتے چلتے جو ڈھلتے ہیں…
    وہ رفاقتوں کے فریب میں…
    محبتوں کے آسیب میں…
    منزلوں کے جنون میں…
    دعوؤں کے ستون میں…
    رنگِ منافقت بھرتے ہیں…
    جھوٹ کی ملمع کاری سے…
    لفظوں کی آبیاری سے…
    ہمارے گرد وہ اکثر…
    گہرا حصار کَستے ہیں…!!!
    ساتھ کا یقین دلا کر…
    لفظ وفا کا مشروب پلا کر…
    مگر قدم پیچھے ہٹاتے ہیں…
    زباں سے خوش وہ رکھتے ہیں…
    دلوں کو چیر دیتے ہیں…!!!
    یہ وقت جب پلٹا کھاتا ہے…
    شب اور سحر دکھاتا ہے…
    تو منزل کی دہلیز پہ بیٹھ کر…
    شفق کی گہری سُرخی میں کھو کر…
    اُفق سے نکلتے آفتاب کی…
    جگمگاتی کرنوں میں…
    سب چہرے یاد آتے ہیں…
    اصل اپنی دکھاتے ہیں…
    ذہن کے دریچوں پر منڈلا کر…
    شفق میں ڈوب جاتے ہیں…!!!
    تب ستاروں کی روشنی میں…
    ایسے رویوّں کا ڈسا ہوا…
    تھکا مسافر پھر راہ تلاشتا ہے…
    راہ کے سب پتھر…
    تنہا ہی وہ تراشتا ہے…!!!
    راہوں کی سب رکاوٹیں…
    عزم سے اپنے وہ ہٹا کر…
    منزلوں کو پا کر…
    آثارِ رہ بھی چھوڑتا ہے…
    منافقانہ رویوّں کی…
    سب کڑیاں وہ توڑتا ہے…!!!
    گہری شب میں ہچکولے کھا کر…
    راہ کے طوفاں و بگولے سہہ کر…
    راز اک گہرا پاتا ہے…
    آزمائش کا چکر اُسے…
    سبق بڑا سکھاتا ہے…
    تب دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے…
    گہرائی میں اک کرن…
    کوئی احساس کی چمکتی ہے…
    اپنی راہ میں آئے اندھیروں میں…
    اُس احساس کی شمع جَلا کر…
    وہ دوسروں کو راہ دکھاتا ہے…
    خود پہ لگے زخموں کی ٹیسوں سے…
    وہ اوروں کو بچاتا ہے…
    اک گہرے درد سے گزر کر ہی…
    انساں انسانیت کو پاتا ہے…!!!
    ==============================

  • ڈاکٹر اسرار اور مصحف  : بقلم ؛ فردوس جمال

    ڈاکٹر اسرار اور مصحف : بقلم ؛ فردوس جمال

    قرآن کریم سے ہم سب محبت کرتے ہیں ہم عجمی اس کتاب کا ظاہری ادب بھی بہت کرتے ہیں لیکن ایک شخص جس نے ہم عجمیوں کے قبیلے میں صدا لگائی کہ یہ قرآن فقط تلاوت و قرآت، شادی بیاہ اور حلف برداری میں تبرک کے لیے نازل نہیں ہوا ہے بلکہ یہ کتاب انقلاب ہے،

    یہ کتاب ہدایت ہے،یہ کتاب حکمت و دانائی ہے،یہ دستورالعمل ہے،یہ کتاب دنیا میں حکومت کرنے آئی ہے،وہ شخص صرف گفتار کا رسیا نہیں تھا اس نے صرف منبر و محراب پر قرآن نہیں پڑھا بلکہ وہ اس کتاب میں جیا،اس کتاب کو اپنا رفیق مرشد اور راہنما چنا ،زندگی بھر اس کتاب کی خدمت کا حق ادا کر دیا،اس کتاب کے آفاقی پیغام کو ایشیا سے یورپ تک جہاں جہاں اسکی آواز جاتی تھی پہنچایا،وہ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو ،رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز ،اس خادم قرآن اور عہد ساز ہستی کا آج یوم وفات ہے،اللہ تعالٰی
    ڈاکٹر اسرار رحمة اللہ علیہ کو غریق رحمت کرے،کیا عجب
    انسان اور وقت کے درویش تھے. بقلم فردوس جمال !!!

  • کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟
    تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور تعلیمِ کتاب و سنت کے لیے سوشل میڈیا کسی نعمت سے کم نہیں ۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ یہاں اہل علم کی اکثریت ایک "داعی” کی بجائے "صحافی” کا کردار پیش کر رہی ہے۔صحافی کا کام کسی Hot Issue پر سنسنی خیز خبر پھیلا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے اور ایک عالم دین اس سے بے نیاز ہوتا ہے۔

    عالم دین تو مستقل بنیادوں پر لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا ہے اور ان کی علمی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔۔۔ عرب علما اس سلسلے میں بڑا کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ کا نام ہی کافی ہے جو حقیقی معنوں میں سوشل میڈیا سے خیر کا کام لے رہے ہیں۔۔۔ دوست ایک بار شیخ کے پیج کی سیر ضرور کریں۔

    اس کی وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ وہاں فرقہ واریت کی وہ صورت حال نہیں جسکا ہمیں یہاں سامنا ہے ، اور دوسرے انھیں حکومت وقت کی "کلاس لینے” کیلیے اتنا وقت صرف نہیں کرنا پڑتا۔۔۔۔ ہمارے یہاں یہی دو کام ہوتے ہیں۔۔۔۔ یا حکمرانوں کو گالیاں۔۔۔۔ یا دوسرے مسلک کا آپریشن۔۔۔۔ رہی اپنی عوام کی اصلاح تو اس کے لیے ہم کسی ۔۔۔۔۔۔۔ کے منتظر ہیں۔۔

    کسی نے ہمارے رویے پر بڑا مناسب تبصرہ کیا ہے کہ ” مولوی صاحب سو کر اٹھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ آج حکومت کی کس پالیسی پر اعتراض کرنا ہے۔۔۔ اگر کچھ نہ ملے تو دوسرے مسلک کے کس مولوی کی کون سی بات کا رد کرنا ہے”.
    نوٹ: یاد رہے کہ میں فرق باطلہ و ظالہ کے رد کا مخالف نہیں۔۔۔ بات صرف اتنی ہے کہ خدمتِ دین صرف اسی کام میں محصور نہیں۔