Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خونِ ناحق کا سوال ہے

    خونِ ناحق کا سوال ہے

    عید کے روز صبح فجر وقت ایک نوجواں حافظِ قرآن کو قصور میں اسکے باپ کے سامنے پولیس والا اسے کہتا ہے کہ میرے پاس آؤ مجھ سے تعلقات رکھو ورنہ میں تمہیں مار دونگا اور اس حافظِ قرآن کے انکار پر وہ اسکے باپ کے سامنے اسے گولی مار کر قتل کر دیتا ہے۔

    زرا تصور کیجیے کہ اس باپ کا کیا حال ہوگا کہ جو خود صبح اپنے بیٹے کو فجر کی نماز کیلئے بیدار کر کے لے کے جا رہا ہوگا۔ لیکن اسے علم نہیں ہوگا کہ اس کا بیٹا یہ نماز نہیں پڑھ سکے گا۔

    اس کی ماں کا کیا حال ہوگا کہ جس نے اس دفعہ اتنی چاہ سے اس کیلئے عید کے کپڑے تیار کیے ہونگے کہ اس دفعہ میرے لعل نے پہلی دفعہ تراویح میں قرآن مکمل سنایا ہے۔ وہ بلائیں لیتے لیتے نہیں تھکتی ہوگی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ ایک بھیڑیا اس کے خوبرو لعل کو اپنی ناجائز خواہشوں کے مکمل نہ ہونے پر موت کی گھاٹی میں دھکیل دے گا۔

    ہاں یہ الم تو بیٹوں والے والدین ہی جان سکتے ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلا #justiceFroSamiurRehman ہر ذی شعور نے اس میں بقدر حصہ ڈالا اور کافی دیر تک یہ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

    میں بہت دیر تک بغور دیکھتا رہا کہ ابھی شاید کسی نام نہاد انسانیت کے دعویداروں کی ایک ٹویٹ ایک پیغام سامنے آئے گا۔ شاید اسلام آباد کے کسی کونے میں موم بتیاں جلائی جائیں گیں۔ شاید کہ کسی سوشل ایکٹیویسٹ کی کوئی ایکٹیویٹی نظر آئے گی۔ شاید کہ کسی نیوز چینل پر خبر چلے گی کہ یہ ٹرینڈ اتنی دیر ٹاپ ٹرینڈ رہا اور سوشل میڈیا صارفین نے اتنی دفعہ اس بات کا ذکر کیا۔

    شاید کہ راجہ داہر پر چلنے والے ٹرینڈ کو اپنی سرخی کی زینت بنانے والی بی بی سی اس پر سٹوری چلائے گی اور اپنی روایت کے مطابق لکھے گی کہ فلاں صارف نے اپنے پیغام میں یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا۔ شاید کہ وائس آف امریکہ اپنی سٹوری میں اس کا ذکر کرے گا۔ لیکن نہیں مجھے کہیں بھی ذکر نہیں ملا اس سمیع کے ناحق قتل کا۔

    میں نے پھر سے پورے کیس کو دیکھا بغور دیکھا کہ شاید کہیں کوئی اور وجہ تو نہیں قتل کی لیکن پنجاب پولیس کی ملزم کو بروقت گرفتار کرنے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ اے ایس پی کی مقتول کے گھر تشریف لانے اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ مجھے اس ناحق قتل کی کوئی اور وجہ بھی نہ ملی کہ کتے کے پلوں کے مرنے پر واویلہ کرنے والوں کو یہ خونِ ناحق کیوں نہیں نظر آیا؟؟؟

    بہت سوچا جب مجھے کوئی وجہ نظر نہ آئی تو نجانے کیسے میں نے اس نام پر غور کیا کہ کیا نام تھا اس معصوم کا ہاں حافظ سمیع اور اس کے والد کا پتا چلا وہ بھی حافظِ قرآن عالمِ دین اور امام مسجد ہیں پھر مجھے اس مجرمانہ خاموشی کی سمجھ آئی کہ زرا زرا سی بات پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دینے والے ان نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ کیا ہے؟

    ہاں اس خاموشی کی وجہ ہے اس معصوم کا حافظ قرآں ہونا۔۔۔
    اس کے باپ کا عالمِ دین اور امام مسجد ہونا۔۔۔

    ہاں یہ طبقات تو انسانیت کے ضمرے میں نہیں آتے نا۔۔۔

    تو بس پھر میری سوچوں کا دھارا رک گیا اور میں ان انسانی ہمدردی کے کھوکھلے علمبرداروں کے دوہرے رویہ پر فقط ماتم کناں ہی ہو سکتا ہوں کہ ان کا گریباں نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے گھروں کی فصیلیں بہت اونچی ہیں۔۔۔

    میں ان کے گریباں کو نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے علاقہ میں مجھ جیسے پیدل چلنے والے کو شاید گلی کی نکر پر چوکیدار ہی روک لے کہ معاف کرو ان گھروں میں صاحبان موجود نہیں ہیں وہ سب عید کی چھٹیاں منانے پر فضاء مقامات کو گئے ہوئے ہیں اور ویسے بھی انہوں نے رمضان میں ساری خیرات تقسیم کر دی ہے گھر میں کوئی موجود ہوا بھی تو تمہیں کچھ ملنا نہیں۔۔۔

    آ جا کے میرے پاس ان کو جنجھوڑنے کیلئے ایک یہ سوشل میڈیا ہی میسر ہے سو میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا کہ شاید ان کے مردہ ضمیروں میں کوئی زندگی کی رمق جاگے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میری آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند ہی ہوگی لیکن میں نے اپنا حق ادا کر دیا۔ آپ کہیں ان تک پہنچ سکتے یا ان تک میری آواز پہنچا سکتے تو ضرور پہنچانے کی کوشش کیجیے گا کہ خونِ ناحق کا سوال ہے۔۔۔

    #باغیات

  • وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا…
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    28 مئی 1998ء کے یادگار دن کا سورج ایک نئے عزم اور ولولے کا پیغام لے کر طلوع ہوا تھا۔
    جس نے وطنِ عزیز کو یہود و ہنود پر عسکری برتری دلا دی۔
    پاکستان کی دفاعی و سیاسی تاریخ میں یہ وہ تاریخ ساز دن ہے جس پر لکھتے ہوئے مؤرخ اسے سراہے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
    دشمنانِ وطن کے لیئے وہ دن عتاب تھا۔۔۔
    جو دن تاریخِ وطن میں اک نیا باب تھا۔
    جب بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ دفاعِ پاکستان اور اسلامی دنیا کے مورال کو بلند رکھنے کے لیئے ازحد ضروری تھا۔
    یہ دن اللّٰہ تعالٰی کی خاص نصرت اور ہمارے مایہ ناز سائنس دانوں کی شبانہ روز جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی سلامتی کا ضامن بن گیا اور اُن تمام سازشی عناصر کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے تھے جو کوّے کی طرح شور مچا رہے تھے اور وطنِ عزیز کے وجود کو مٹانے کے درپے تھے۔
    بھارت کے دھماکوں کے ٹھیک سترہ دن بعد پاکستان کی فضائیں اللّٰہ اکبر کے نعرہ سے گونج رہی تھیں۔
    چاغی کا پہاڑی سلسلہ تاریخ دفاعِ پاکستان کی انمٹ یاد ہے۔
    جب پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔
    یہ دن جذبۂ ایمانی کو گرمانے کا دن تھا۔
    یہ دن دفاع کا ناقابل تسخیر دن تھا۔
    یہ دن ترقی کی منازل طے کرتے جانے کا نقطۂ آغاز تھا۔
    یہ غوری،غزنوی،بابر،ٹیپو،نصر،
    حتف،شاہین اور الخالد کی ایجادات کا سفر تھا۔
    یہ رعد اور ڈرون براق اور لیزر گائیڈڈ میزائل برق کی کامیابی کا سنگ بنیاد تھا۔
    یہ دن زمین سے فضا،زمین سے زمین اور زمین سے سطح سمندر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی طرف اُمید کا قدم تھا۔
    اور الحمدللہ پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج بھی پاکستان کا دفاع مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
    دشمن کی چالیں گو کہ ہر محاذ پر جاری ہیں۔
    وہ سرحدیں جغرافیائی ہوں یا نظریاتی…
    وہ میڈیا کا میدان ہو یا پروپیگنڈہ کا،لیکن ہر سو،ہر رُخ پاکستان نے تمام سازشوں کا توڑ کیا ہے۔
    پاکستان کے دشمنوں بھی اگرچہ چین نہیں ہے،مگر اس کے محافظ بھی ہر دم تیار و بیدار ہیں۔
    اپنے دفاع کی صلاحیتوں میں روز افزوں ترقی کے مدارج طے کرتا پاکستان ہم سب کا عظیم فخر ہے۔
    اس کی سپاہ ہر محاذ پر ڈٹی اور جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور قوم کے دفاع میں بے مثال کردار ادا کر رہی ہیں۔
    یہ وطن لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا اور پھر اسے ایٹمی طاقت بنا کر پورے عالمِ اسلام کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔
    پاکستان کی دفاعی صلاحیت واعدو لھم ماستطعتم من قوۃ کا عملی نمونہ ہے اور ان شآ ءَ اللّٰہ اس کا کوئی دشمن اسے تسخیر نہیں کر سکتا۔
    ہمیں چاہیئے کہ اس وطن کے دفاع کے لیئے ہر محاذ پر چوکس اور ذمہ دار سپاہی کا کردار ادا کرنے والے بن جائیں۔
    اس کی تمام سرحدوں،اور تمام محاذوں کے محافظ بن کر ابھریں،تاکہ کسی بھی دور اور وقت میں کہیں بھی اس کے دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔
    میرے وطن !!
    تری حفاظت کا عزم لے کر ہر ایک اپنے محاذ پر ہے…!!!
    بشرط اتحاد ،یقیں محکم،عمل پیہم بقول بانئ پاکستان:
    "There is no power on earth that can undo Pakistan…”
    ترا دفاع رہے ناقابلِ تسخیر…
    تو ہے وطن جرأتوں کی تصویر…
    ترا بلند رہے سدا پرچم…
    تیرا وقار نہ ہو کبھی خم…
    تیرے شاہینوں کی رہے اونچی اُڑان…
    پائندہ و تابندہ رہے اپنا پاکستان…
    تُجھ پر رحمت الٰہی کا رہے سایہ…
    اتحاد و دعا رہیں تیرا سرمایہ…
    ترے دُشمن کے عزائم رہیں تہہِ خاک…
    تو شہیدوں کی امانت ہے سرزمینِ پاک…!!!
    اس وقت بھی یہ خطہ جنگ کی چنگاریوں سے گھِرا دکھائی دیتا ہے۔
    ایک طرف افغان طالبان اور امریکہ کی مفاہمت کے آثار نظر آ رہے ہیں تو دوسری طرف ہندوستان کی طرف سے طالبان کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو ہی فضول قرار دینا اور امریکی یقین دہانیوں پر بھی توجہ نہ دینا اس کے سازشی ذہن کی عکاسی ہے۔
    اور اب چین انڈیا چپقلش ایک نیا رُخ دکھا رہی ہے۔
    دنیا کو اس بات کی طرف اب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس خطے کو آگ کی طرف نہ دھکیلا جائے بلکہ تمام مسائل جن میں افغانستان،کشمیر اور دیگر سرحدی تنازعات کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔
    ترقی کے منصوبوں کو بروقت اور حالتِ امن میں تکمیل تک پہنچنے کے لیئے راہ ہموار کی جائے۔کیونکہ اس وسیع اور فلیش پوائنٹ خطے اور مستقبل کے معاشی ہب میں امن کی ضرورت دنیا کے امن سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے…!!!
    اور سوچنا ہوگا کہ دنیا کو جنگ اور پھر اپنے دفاع اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟
    =============================

  • بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

    باغی ٹی وی روپورٹ کے مطابق :انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 کی میزبانی واپس لی جاسکتی ہے ۔

    آئی سی سی کے اس علان کو کرکٹ کی عالمی شہرت یافتہ اور معتبر ترین سمجھی جانے والی ویب سائٹ کرک انفو کی . وجہ یہ بتائی گئی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی کواپنی حکومت سے ٹورنامنٹ کے لیے ٹیکس چھوٹ دلانے میں ناکام رہا ہے۔

    ویب سائٹ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان دو ماہ سے جاری ای میلز کے تبادلے کے حوالے سے بتایا کہ آئی سی سی کے جنرل کاؤنسل جوناتھن ہال نے 29 اپریل کو واضح کر دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے غیرمتوقع حالات سے متعلق شق کے بارے میں نوٹیفکیشن کی روشنی میں معاہدے کے میزبان بھارتی کرکٹ بورڈ پر لاگو ذمہ داریاں اجاگر کریں گے۔

    جوناتھن ہال نے مزید کہا کہ آئی سی سی کی بزنس کارپوریشن 18 مئی کے بعد کسی بھی وقت معاہدہ فوری طورپر ختم کرنے کا حق رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی نے آئی سی سی کو رواں سال 18 مئی تک غیر مشروط تصدیق فراہم کرنی تھی کہ انھوں نے دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ کورونا کو بنیاد بنا کر دیڈلائن میں 30 جون تک توسیع چاہتاہے جسے آئی سی سی مسترد کر چکا ہے

  • جھوٹ اور مزاح  بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح
    فاطمہ ہاشمی

    کل یہ پوسٹ کی تھی کہ سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہی آئے گااور میں نے کہا تھا کہ رات تک جواب دے دیا جائے گا لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اک ایمرجنسی کی وجہ سے رات کو جواب نہیں دیا جاسکا ۔
    سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جھوٹ مذاق میں بھی بولنا جائز نہیں اور اس کا گناہ لکھا جاتا ہے
    اللہ قرآن میں فرماتا ہے
    أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [39-الزمر:3]
    ترجمہ : ”دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا
    معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے:” تباہی وبربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتاہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے ” ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲

    عن ابي امامة قال : ‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ‏‏‏‏ انا زعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا وببيت فى وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وببيت فى اعلى الجنة لمن حسن خلقه“ . [ابوداؤد حديث 4800، و قال الشيخ الألباني حسن]
    ترجمہ : ”ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔“

    دوسری بات مذاق درست نہیں ہے جیسے فنی لطیفے آجکل چلتے ہیں جو جھوٹ پہ مبنی ہوتے ہیں یہ جائز نہیں اور حرام ہیں البتہ اسلام میں مزاح جائز ہے اس کی مثالیں اللہ کے نبیؐ سے ملتی ہیں

    اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کس طرح کی تھی؟ اس تشریح کی یوں ضرورت ہے کہ بہت سے کاموں میں ہمارے غلط عمل سے ہمارے نظریات بدل چکے ہیں۔ ہر معاملہ میں اعتدال کھو بیٹھے ہیں۔اگر ہم سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہےیعنی بے جا سنجیدگی اور ہمیشہ چہرہ متغیر رکھنا۔اور اگر خوش طبع بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہے۔یعنی بلاوجہ جھوٹی سچی باتوں پہ قہقہے لگاتے پھرنااسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں ایک خاص معیار اپنے سامنے رکھنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش طبعی کی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زبان مبارک سے سن لیجئے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعجب سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذاق کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں بے شک! میرا مزاح سراسر سچائی اور حق ہے۔ (شمائل۔ترمذی)

    اس کے مقابلہ میں ہمارا آج کل کا مزاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، تعن و تشنیع اور بے جا مبالغوں سے پورا پورا کام لیا گیا ہو۔

    اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کے چند واقعات قلمبند کر رہے ہیں کہ جن کے تحت ہم ظرافت کا صحیح تخیل قائم کرسکے ۔
    چلیں آج ہم اپنے سوالوں کا جواب دینے سے پہلے نبیؐ کے مزاح مبارک پہ آپ کو بتاتے جاتے ہیں
    جنت میں بوڑھے نہیں جائیں گے ۔۔
    ___مزاح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم _____

    ایک شخص نے خدمت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر سواری کے لئے درخواست کی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم کو سواری کے لئے اونٹنی کا بچہ دوں گا۔وہ شخص حیران ہوا کیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے؟ عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اونٹی کے بچہ کا کیا کرونگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو۔(شمائل ترمذی)

    2:ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اور بڑھیا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سنتے ہی زاروقطار رونا شروع کردیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب سے آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی تب سے یہ بڑھیا رورہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی مگر جوان ہوکر۔(شمائل۔ترمذی) (اسکی سند میں ضعف ہے)

    3: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دیہاتی زاہر نامی دوست تھے جو اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدئے بھیجا کرتے تھے۔ایک روز وہ بازار میں اپنی کوئی چیز بیچ رہے تھے۔اتفاق سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گذرے ان کو دیکھا تو بطور خوش طبعی چپکے سے پیچھے سے جاکر ان کو گود میں اٹھالیا اور بطور ظرافت آواز لگائی کہ اس غلام کو کون خریدتا ہے؟ زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو کون ہے؟ مڑ کر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت زاہر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا:یارسول اللہ! مجھ جیسے غلام کو جو خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم خدا کی نظر میں ناکارہ نہیں ہو ۔

    4: ایک موقع پر مجلس میں کھجوریں کھائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزاح کے طور پر گھٹلیاں نکال نکال کر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آگے ڈالتے رہے۔ آخر میں گھٹلیوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے ان سے کہا کہ تم نے تو بہت کھجوریں کھائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے گھٹلیوں سمیت نہیں کھائیں۔
    (از:محسن انسانیت،اسوئہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
    دیکھئیے مزاح اسلام میں جائز مگر یہ کہ وہ بات میں جھوٹ اور کسی کی تحقیر نا ہو اوپر بیان کردہ واقعات اک بھرپور خوش طبعی اور سچائی سے لبریز ہیں
    باقی رہی سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہیں آئے گا تو اسکی وضاحت یوں ہے ہفتہ، اتوار ، پیر،منگل ، بدھ ، جمعرات ، جمعہ یہ کل ملا کر سات دن ہوئے جو بھی مرے گا انہی سات دنوں میں مرے گا آٹھواں دن نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت بھی انہی سات دنوں کے اندر بعض احادیث کے مطابق جمعہ کے دن آئے گی
    باقی اگر ہم انسانی زندگی پہ غور کریں تو کیا ایسے نہیں لگتا کہ کل کی بات ہے ہم چھوٹے چھوٹے تھے آج دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں
    اور قرآن میں دنیا کی اس زندگی کو بہت تھوڑی کہا گیا یہ صرف امتحان گاہ جس میں کوئی زیادہ جلدی چلا گیا اور کوئی دیر سے جائے گا مگر حساب سب کا ہوگا

    میں نے کہا کہ دنیا کے لوگ سات دن کے اندر مریں گے مگر قیامت کے دن لوگ کیا کہہ رہے ہوں گے قرآن کیا کہتا ہے آئیے دیکھتے ہیں

    وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّا عَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَا عَةٍ ۗ كَذٰلِكَ كَا نُوْا يُؤْفَكُوْنَ
    "اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے”
    (QS. Ar-Rum 30: Verse 55)

    یعنی انسان کو یہ دنیا کی زندگی اک گھڑی کی مانند لگے گی اللہ سے پناہ طلب کرتے ہیں کہ ہم مجرموں کے طور پہ پیش ہوں اک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں
    Allah Subhanahu Wa Ta’ala said:

    اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَاَ قِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَا لُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّا سَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَا لُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَا لَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۗ قُلْ مَتَا عُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَا لْاٰ خِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۗ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا
    "تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا”
    (QS. An-Nisa’ 4: Verse 77
    یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ دنیا کاسرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور ہم انسان ہیں کے کہ لمبی لمبی امیدیں لگائے بیٹھے اور ساری توجہ دنیاوی ذندگی اور تن آسانی کے لیے ہے لیکن ہم آخرت کو بھول چکے ہیں ہماری ساری بھاگ دوڑ کوشش کاوش اس مختصر سی دنیا کے لیے ہے مگر آخرت کی حقیقی زندگی کو نظرانداز کئیے ہوے ہیں

    ایک فکر انگیز واقعہ :
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرنے لگے : آقا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ اور فرمایا آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کس قدر پانی آتا ہے ۔ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ انگلی کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں

    اس لیے ہمیں اللہ آخرپہ نظر رکھنےکی توفیق دےاور ہماری غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر کرے اور ہمیں معاف فرمائے اور یہ جھوٹے لطیفوں اور لغو باتوں سے محفوظ رکھے

  • بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!!
    بلال شوکت آزاد

    بہت معذرت کے ساتھ جو تکبیر دشمن کے گھر میں ہمارے منہ سے نہ نکلے اس کا دن منانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بندہ منگنی شدہ ہو, خود لندن میں ہو اور منگیتر پاکستان میں اور وہ اچانک اعلان کرے کہ وہ باپ بن گیا ہے اور اوپر سے وہ بچے کی جنس لڑکا بتاکر اس کا نام اللہ دتہ رکھ کر ہر سال اس کی سالگرہ منائے۔

    یوم تکبیر غزوہ بدر کا دن تھا جب اللہ کی ناموس پر کٹنے مرنے والے تین سو تیرا نے اللہ اکبر کی گونج جزیرہ ہائے عرب میں بلند کی اور آج اس دن کے صدقے ہم خود کو مسلمان اور 56 الگ قومی شناختوں سے متعارف کرواتے ہیں امت مسلمہ کے عنوان سے۔

    بہرحال ایٹم بم ہی کیا میں ہر طرح کے آتشیں, دخانی, طبی, طبعیاتی, کیمیائی, ریاضیاتی, معاشرتی, معاشی, اقتصادی, سماجی, نظریاتی اور ہاں جوہری بھی غرض ہرطرح کے ہتھیار کے بنانے والے, اس کو دفاع کے لیے ناگزیر بتانے والے, اس کو بیچنے والے, اس کو خریدنے والے اور اس کو شوقیہ یا باامر مجبوری چلانے والوں کی کھل کر اور شدید مذمت کرتا ہوں کیونکہ ان جملہ ہتھیاروں سے انسانیت سسک رہی ہے, گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے اور بھوک و افلاس بڑھ رہی ہے۔

    کیا دور تھا جب تیر و تفنگ اور نیزہ و تلوار کے ساتھ بہادر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر دشمن کے گھر میں داخل ہوتے اور اسے مباذرت کی دعوت دیتے۔

    کیا وقت تھا وہ جب مسلمان تلوار اور قرآن لیکر کسی قلعے کا محاصرہ کرتے اور قلعہ دار کو پیغام بھیجتے کہ لو ہم آگئے۔ ۔ ۔ اب تم پر ہے کہ اللہ کے قرآن کی سن لو اور پلٹ آؤ یا پھر ہم پر ہے کہ ہم تمہیں سنائیں جب تک تم سن نہیں لیتے۔ ۔ ۔قصہ مختصر اگر تم توحید کو ٹھکراتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔

    دست بدست لڑائی میں مجاہد اور دشمن میں جو کانٹے کی ٹکر ہوتی اس کی نظیر آج کم بلکہ نا ہونے کے برابر ملتی ہے کہ اگر مجاہد نے دشمن کو مارا تو بھی مرنے والے اور مارنے والے کا نام دونوں افراد ہی کیا دونوں لشاکر کو بھی معلوم ہوتے اور مورخ کو بھی۔

    اور جو وہ سکون کی ایک لہر ہے نا کہ میں نے دشمن کے لشکر سے فلاں کماندار یا سپاہی کو بقلم خود ہلاک کیا اور اسکی ذردہ و تلوار پر قبضہ کیا۔ ۔ ۔ واللہ آج اس طرح کی خوشی ناپید ہوچکی ہے۔

    تیر اور تلوار سے آمنے سامنے کی ٹکر ہوتی تھی کھلے میدانوں میں جس سے معصوم لوگ تب تک محفوظ ہوتے جب تک ایک فریق (کافر) جیت نہ جاتا کیونکہ مسلمان تو جیت کر بھی املاک اور افراد کو نقصان نہ پہنچاتے تھے البتہ جب تک وہ شریعت سے سختی سے جڑے رہے تب تک لیکن آج ایک پستول سے لیکر ایٹم بم تک ہر ہتھیار معصوم اور بے گناہ افراد کی موت کا سبب بنتا ہے اور بنے گا جبکہ ایسے ہتھیار جو دشمن کی روح سے زیادہ انسانیت کی روح نچوڑنے کی قدرت رکھتے ہوں پر فخر چہ معنی دارد۔

    میں سچی پوچھیں تو ایسے ایٹم بم سے زیادہ خوش نہیں جو آپ کو بہادر کے بجائے بزدل یا سفاک بنادے۔

    بھارت سے دفاع کی خاطر ہم نے اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم اور صحت کو داؤ پر لگا کر ایٹم بم بنالیا لیکن دو براہ راست جنگیں تو ہم پر پھر بھی مسلط کی بھارت نے اور ہم نے بزم خویش شکست فاش بھی دی لیکن کیا یہ آنکھ مچولی کسی طرح جسیفائیڈ ہے دونوں پڑوسی ایٹمی ممالک کے ذمہ داران کی جانب سے ان کی عوام میں؟

    بلکہ یہی دو کیا باقی کے پانچ ممالک بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں کہ کیا امن ایٹم بم کے بنانے سے محفوظ ہوا ہے یا اور زیادہ غیر محفوظ ہوا ہے؟

    آج کے اس مخصوص دن پر ان تمام سائیسدانوں پر لعنت جن کی محنت سے دنیا میں پہلا ایٹم بم وجود میں آیا اور پھر اس سے بڑھ کر اس منحوس حکمران پر لعنت جس نے اس کا تجربہ بغیر اسکی ہلاکت خیزی جانے اور اندھی دشمنی میں غرق ہوکر معصوم لوگوں سے بھرے پرے شہروں پر گرا کر کیا۔

    جہاں تک بات ہے ہماری مطلب پاکستان کی تو پاکستان کبھی ایٹم بم نا بناتا واللہ اگر بھارت کو یہ خبط دماغ پر سوار نہ ہوتا اور پھر بھارت کی پشت پر سارا عالم کفر کھڑا نہ ہوتا تو پاکستان روایتی جنگ اور روایتی دفاع کو ہی ترجیح دیتا لیکن جیسے طلاق اللہ کو ناپسند ہے حلال کاموں میں لیکن بعضے مسلمان کر گزرتے ہیں ویسے ہی پاکستان کو طوہاً کراہاً ایک دشمن کش نہیں بلکہ انسانیت کش ہتھیار بنانا پڑا اور اس دوڑ میں آگے آنا پڑا لیکن دل مانے یا نہ مانے پر یہ خوشی سے زیادہ افسوس کا دن ہے پر دستور دنیا ہے کہ اپنی طاقت اور قدرت پر نالاں نہیں خوش ہوا جاتا ہے لہذا "یوم تکبیر مبارک”۔

    بے ربط خیالات ذہن میں تبھی جگہ بناتے ہیں جب آپ حساسیت اور انسانیت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کھیسے پر نظر ڈالیں جس میں آپ کے کھاتے پر ایسے کام درج ہوں جو برائی کی معراج ہوں تو آپ کا ذہن کے خلط ملط خیالات آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بری طرح اثر انداز ہوتے جیسے کہ ابھی میں بلکل اسی کیفیت کا شکار ہوں جسے ایک طرف ایٹمی طاقت بننے سے زیادہ مبینہ ناقابل تسخیر دفاع کے حصول کی خوشی ہے اور دوسری طرف بھوک, افلاس اور غربت کے ساتھ ساتھ مہذب دہشتگردی سے سسکتی انسانیت کا درد بھی ہے۔

    بہرحال جب تک یہ "چائنہ کا یوم تکبیر” ہے اس سے کام چلاتے ہیں تاآنکہ اللہ کی رحمت سے ہم دشمن کے گھر میں اللہ کا نام بلند کرکے اسکی حاکمیت قائم کریں اور پھر منائیں "یوم تکبیر”۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رمضان کے بعد اب اے بندۂ مسلماں…
    کہیں کھو نہ جائے تجھ سے فلاح کا ساماں…
    غفلتوں کے سائے تُجھے لپیٹ میں نہ لیں…
    نیکیوں کے دل میں ہی رہ نہ جائیں ارماں…
    آنکھوں اور کانوں کی حفاظت بھی ہے لازم…
    دل و زباں پہ بھی رہیں عمدہ پیماں…
    جھوٹ و برائی سے کر لیں سدا کی آڑ…
    تقویٰ کے حجرے کو کر لیں اپنا ایماں…
    نفرتوں کے عداوتوں کے کاٹنے نہ اُبھرنے پائیں…
    محبّت و وفا کے پھولوں کی رہے ہر سو مسکان…
    عبادات کے اوقات بھی کہیں چھوٹنے نہ پائیں…
    سجدہ و دعاؤں کے مہکتے رہیں گُلستاں…
    دل کی دنیا کے اندر بہاروں کا رہے ڈیرہ…
    باہر کی دنیا پہ چاہے بیت جائے خزاں…
    صبر و شکر کی تربیت جو رمضان کر گیا ہے…
    اسی رنگ میں گزریں یہ جو سانسیں ہیں رواں…
    اس کی عطا و روک پہ دل یہ رہے مطمئن…
    کسی راہ،کسی موڑ پر رہیں ہم نہ شکوہ کناں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • 28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
    وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
    پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی.

  • چین‘ بھارت سرحدی جھڑپیں تحریر:عدنان عادل

    چین‘ بھارت سرحدی جھڑپیں
    بدھ 27 مئی 2020ء

    پانچ‘ چھ مئی کو بھارتی اور چینی افواج کی لداخ میں جھڑپیں ہوئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی افوا ج لدّاخ میں پانچ مختلف مقامات پر آٹھ سے دس کلومیٹر اپنی سابقہ پوزیشن سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے سینکڑوں بھارتی فوجیوں کو ماراپیٹا اورکچھ دیر تک گرفتار کیے رکھا۔ ایک سو بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ چند دنوں کے وقفہ سے لداخ کے ساتھ ساتھ سکّم میں بھی دونوں ملکوں کی افواج میں جھڑپیں ہوئیں۔بھارت نے الزام لگایا کہ چینی افواج لداخ میں اسکی حدود میں داخل ہوئیں جبکہ چین کے مطابق اسکے فوجیوں نے ان علاقوں میں کارروائی کی جو اسکی حدود میں شامل ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کا اپنے درمیان عارضی سرحد کے محل وقوع پر شدید اختلافات ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے جسکا ایک بڑا حصہ متنازع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں کہ سرحد سے متصل کونسا علاقہ کس ملک کا حصہّ ہے۔ بھارت کے شمال میں مشرق کی جانب سکم ‘ بھوٹان اور تبت سے جڑی ہوئی سرحد کے بیشتر حصّے متنازعہ ہیں۔بھارت کے صوبہ ارونا چل پردیش کو چین تبت کا حصہ سمجھتا ہے۔ وادی ِکشمیر سے متصل لدّاخ کا علاقہ سابقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔چین اسے اپنا علاقہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت کا بھی اس پر دعوی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان لداخ کی سرحد عارضی ہے جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہتے ہیں جیسے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان سرحد کو لائن آف کنٹرول کہتے ہیں۔ یہ عارضی بندوبست اس وقت تک ہے جب تک متنازع علاقہ کا کوئی حتمی تصفیہ نہیں ہوجاتا۔ 1959ء میں چین کے وزیراعظم چوائن لائی نے بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو خط لکھا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو لائن آف کنٹرول ہے اسے امن کی سرحد قرار دے دیں لیکن نہرو نے یہ تجویز مسترد کردی تھی۔ انیس سو باسٹھ میں چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت جب جنگ بند ہوئی اور دونوں فوجوں کی جو پوزیشن تھی اس کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول تسلیم کیا گیا۔ چینی اسی سرحد کواصل عارضی سرحد قرار دیتے ہیں۔ اس معاملہ میںدشواری یہ ہوئی کہ باسٹھ کی جنگ کے بعد چینی افواج لداخ میں پندرہ بیس کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ یہ بیس کلومیٹر کا علاقہ ایک طرح سے نومین لینڈ ہے جس پر نہ بھارت کا قبضہ رہا نہ چین کا۔ حالیہ جھڑپوں سے پہلے چینی فوجی تو سرحد پر پہرہ بھی نہیں دیتے تھے۔ انیس سو ترانوے میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں نے سرحدی امور پر اختلافات کے باوجود ایک عارضی سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول کوباقاعدہ تسلیم کیا۔تاہم اس معاہدہ کو ہوئے پانچ برس گزرے تھے کہ بھارت نے ایٹم بم کے تجرباتی دھماکے کردیے جس سے چین کے روّیہ میں تبدیلی آگئی۔وہ بھارت کے عزائم کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔ گاہے بگاہے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی پیدا ہونے لگی۔دو ہزار تیرہ میں دونوں ملکوں نے سرحدی امور پر کشیدگی کم کرنے کی غرض سے ایک اور معاہدہ کیا۔ اس کے تحت دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ اگر ایک ملک کا فوجی لائن آف کنٹرول پار کرکے دوسرے ملک کے زیر قبضہ علاقہ میں داخل ہوجائے تو اسکا تعاقب نہیںکیا جائے گا۔ گزشہ دس برسوں میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ اپنا اتحاد زیادہ گہرا اور مضبوط کیا ہے اس وقت سے اسکی خارجہ پالیسی میں زیادہ جارحانہ پن آگیا ہے۔ بھارتی افواج نے لداخ کی اس بیس کلومیٹر کی پٹی میں فوجی تعمیرات کرنی شروع کردیں۔جب نریندرا مودی کی حکومت بنی تو بھارتی افواج کی لداخ میں سرگرمیاں اور تیزہوگئیں۔ بھارت نے وہاں چار ڈویژن فوج تعینات کی ہوئی ہے۔چین نے بھی اپنی جانب کے لداخ میں سڑکیں بنائی ہوئی ہیں َ۔ فوجی تنصیبات قائم کی ہوئی ہیں۔ معمولی معاملات پردونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہلکی پھلکی جھڑپ ہوجاتی تھی۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ جھڑپیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول میں یکطرفہ طور پر تبدیلی کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ چین نہیں چاہتا کہ بیس کلومیٹر کی اس پٹی میںجو اس نے خالی کی تھی بھارت اپنی فوجی تنصیبات بنائے۔ وہ چاہتا ہے کہ بھارتی افواج یہ جگہ خالی کرکے اس مقام پر واپس جائیں جہاں وہ انیس سو باسٹھ میں تھیں۔ اسی لیے حالیہ دنوں میں چینی افواج نے بھارتی فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چین‘ بھارت کشیدگی کا تعلق گزشتہ سال اگست میںبھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت تبدیل کرنے سے بھی ہے۔اس اقدام کے ذریعے بھارت نے لداخ کو اپنی ریاست (یونین) کا باقاعدہ علاقہ قرار دیاتو چین نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ چین کا موقف تھا کہ لداخ دونوں ملکوں کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔اگست کے بعد بھارت نے لداخ اور جموں‘ کشمیر کو اپنی مملکت کا حصہ دکھاتے ہوئے نئے نقشے جاری کیے۔ بھارتی سیاستدانوں نے ڈینگیں مارنی شروع کیں کہ اب وہ پاکستان کے زیر انتظام گلگت‘ بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے بھی چھین لے گا۔ چین نے لداخ میں سخت روّیہ اختیار کرکے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ وہ لداخ کی حیثیت پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا ورنہ اسے چین کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا‘ نوبت جنگ تک بھی پہنچ ٓسکتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اس خطہ میں تزویراتی (اسٹریٹجک) سکون کو تہہ و بالا کیا ہے۔ بھارت کے عزائم اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ چین اور پاکستان دونوں کی علاقائی سلامتی کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے اندر اتنی طاقت نہیں کہ وہ اکیلا چین سے جنگ کرے۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو جلد ہی صلح کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم اگر امریکہ نے دلی سرکار کو تھپکی دی تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے گی۔ بھارت اس خطہ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور اسکے عزائم میں اسکا جونئیر پارٹنر۔لداخ کے علاقہ میں تناؤ بڑھا تو یہ مقامی جھگڑا نہیں رہے گا بلکہ عالمی سیاست سے جڑ جائے گا۔

  • مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے  تحریر: صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے تحریر: صابر ابو مریم

    سلام آپ کی خدمت میں عید مبارک

    ایک عدد بلاگ ارسال کر رہا ہوں گذارش ہے نشر کر کے لنک ارسال فرمائیں تا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جائے۔

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیا ت جامعہ کراچی
    مسئلہ فلسطین دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا ہم ترین مسئلہ ہے کہ جو نہ صرف فلسطین سے متعلق ہے بلکہ خطے سمیت دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ بھی بالواسطہ یا براہ راست کسی نہ کسی طرح منسلک ہے اور اثر انداز ہو رہاہے۔لہذای جب عالمی سیاست کے افق پر کوئی ذی شعور اور با بصیرت قیادت یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل دنیا کے تمام مسائل کے حل کی جڑ ہے یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ دنیائے اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے یا انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو یہ بات بے جا نہیں ہے۔دیکھا جائے تو فلسطین پر ہونے والے اسرائیلی قبضہ، صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام اور پھر اسرائیل کے دعووں کی روشنی میں کہ گریٹر اسرائیل بنایا جائے گا وغیرہ وغیرہ، یہ سب باتیں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ خطے سمیت دنیا کے بہت سے مسائل کی جڑ فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا قیام اور پھر مسلسل اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگوں اور داخلی انتشار کا پھیلاؤ ہے۔
    حال ہی میں رمضان المبارک میں دنیا بھر میں آخری جمعہ کو فلسطین سے اظہار یکجہتی کا دن یعنی یوم القدس منایا گیا ہے۔یوں تو یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس سال کورونا جیسی خطر ناک وباء کی صورت میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ کر سامنے آئی ہے۔یہاں پر سب سے اہم بات جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پہلی مرتبہ یوم القدس کی مناسبت سے تقریر کی ہے اس کے متن کے مندرجا ت نہ صرف فلسطین کے لئے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے ایک مشعل راہ کی مانند نظر آ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں نے اس خطاب کو فلسطین کے اندر بے پناہ مقبولیت دی ہے۔
    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین سے متعلق سامراجی طاقتوں کی جانب سے کی جانے والی منفی کوششوں پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے مسلم دنیا کو خبر دار کیا ہے اور کہا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کو کم رنگ او ر کم اہمیت بنا کر پیش کیا جائے اور مسلمانوں کے اذہان سے مسئلہ فلسطین کے نقش کو مٹا دیا جائے۔لہذا یہاں پر سب مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سامراج کی اس سازش و کوشش کو ناکام بنانے میں اس خیانت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔آج سامراجی طاقتوں کے سیاسی اور ثقافتی میدان میں سرگرم آلہ کار اور ایجنٹ اسلامی ممالک میں اس خیانت کو رواج دے رہے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین جیسے عظیم اور باعظمت مسئلہ کو مسلمانوں کی غیرت، خود اعتمادی اور بیداری فراموش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔حالانکہ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتیں اور ا ن کے مہرے اپنا پیسہ اور طاقت استعما ل کر رہے ہیں۔
    یقینا موجودہ صورتحال میں کہ جہاں ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے صدی کی ڈیل کا اعلان کر رکھا ہے اور فلسطین کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے وہاں مسلمان عرب حکمرانوں کی خیانت قابل ملامت ہے کہ غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات روا رکھنے اور دوسرے اسلامی ممالک کو اس کی ترغیب دینے اور مجبور کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
    ایرانی سپریم لیڈر نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیلی سرطانی پھوڑے کے وجود کو انسانی المیہ قرار دیاہے۔تاریخ میں اس طرح کے سفاک انسانی جرم میں اس پیمانہ کی شدت کا کوئی جرم نہیں ملتا ہے۔فلسطین پر باہر سے لاکر صہیونیوں کو آباد کرنا، فلسطینیوں کو گھروں سے نکال دینا، ان کے باغات، کھیتوں اور کھلیانوں اور تمام املاک پر قبضہ جما لینا، یہ سب ایسے جرائم ہیں کہ جس امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتوں کی ایماء پر فلسطین میں انجام پائے ہیں۔فلسطین کے اس انسانی المیہ پر امریکہ سمیت تمام تسلط پسند شیطانی قوتیں ذمہ دار ہیں۔
    فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے حالات اور بعد کے حالات سے واضح طور پر علم ہوتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور یہودی سرمایہ داروں کا صہیونی حکومت کی تشکیل کا اصلہ مقصد غرب ایشیاء میں اپنا دائمی اثر ورسوخ قائم کرنا تھا۔و ہ اس علاقہ میں اپنی موجودگی کیلئے ایک اڈا قائم کرنا چاہتے تھے تا کہ اس کی مدد سے علاقے کی دیگر حکومتوں اور ان کے داخلی مسائل میں دخل اندازی کر سکیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کریں۔اسی لئے غاصب صہیونی ریاست کو امریکہ سمیت دیگر تسلط پسند قوتوں نے گونا گوں اسلحہ سے لیس کیا یہاں تک کہ ایٹمی طاقت سے بھی لیس کر دیا گیا۔
    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی یوم القدس کی مناسبت سے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں موجود فلسطین پسند قوتوں اور فلسطین کی آزادی کی حامی قوتوں اور ایسے افراد کے لئے کہ جو فلسطین کے ساتھ قلبی اور عقیدتی وابستگی رکھتے ہیں، سب کے لئے فلسطین کی حمایت کو واجب اور فرض قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ، جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی مطالبہ اور فریضہ ہے۔ایسی جنگ میں فتح یقینی ہے۔ہر انسان کو چاہئیے کہ شجاعت کے ساتھ آج فلسطین کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو۔انہوں نے تکرار کرتے ہوئے زور دیا کہ فلسطین کے مسئلہ کو جو بھی عربی یا فلسطینی مسئلہ بنانا چاہتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر اور عالم اسلام سے خیانت پر مرتکب ہیں۔آج فلسطین کے لئے مقابلہ کا مقصد فلسطین کی مکمل آزادی ہے۔یعنی فلسطین جو نہر سے بحر تک ہے۔(یعنی بحیرہ روم سے دریاے اردن تک)۔فلسطین کے عوام مغربی قوتوں کی جانب سے فلسطین و قدس کی کسی قسم کی تقسیم کو قبول نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی آزادی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی فلسطین کی غیور او ر شجاع ملت کے اس موقف کی تائید کی ہے۔فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے۔
    مسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق اگر کوئی بھی شخص یا گروہ مغرب کی دھوکہ باز چالوں یعنی مذاکرات اور گفتگو کے عمل سے سمجھتا ہے کہ فلسطین کی آزادی ممکن ہے تو وہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب کر رہاہے۔عالمی سامراجی قوتیں عالم اسلام کے وجود کی دشمن ہیں۔وہ خود مسلم امہ کو پہنچنے والے زیادہ تر نقصانات کی ذمہ دار ہیں۔آج کون سی عالمی طاقت اور عالمی ادارہ ہے جو کئی اسلامی و عرب ممالک میں جاری دہشت گردی،قتل عام، بھڑکتی جنگوں،بمباری یا مصنوعی قحط کے بارے میں جوابدہ ہے؟آج دنیا عالمی سطح پر کورونا سے ہونے والی ایک ایک موت کو تو گنتی کر رہی ہے لیکن کسی نے بھی پوچھا او ر نہ پوچھے گا کہ جن ممالک میں امریکہ،یورپ اور اسرائیل نے جنگ بھڑکائی ہے وہاں لاکھوں افراد کی شہادت، قید، گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟افغانستان،یمن، لیبیا،عراق، شام اور خود فلسطین میں بہائے جانے والے اس ناحق خون کا ذمہ دار کون ہے؟آج مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی تعزیت کیوں نہیں کرتا؟کیوں دسیوں سال سے فلسطینی اپنے گھروں سے آج بھی جلا وطن ہے؟کیوں قدس شریف جو مسلمانوں کا قبلہ او ل ہے اس کی توہین کی جائے؟نام نہا د اقوام متحدہ اپنے فرائض پر عمل نہیں کر رہی ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مر چکی ہیں۔بچوں اور خواتین کے حقوق کے نعروں کا اطلاق فلسطین اور یمن میں بچوں اور خواتین پر نہیں ہوتا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں مسلم امہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اور بتا یا ہے کہ فلسطین کاز کی حمایت اور قدس شریف کی آزادی کی کوششوں کو روکنے کے لئے سامراجی قوتیں مسلم امہ کو داخلی انتشار میں الجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔شام میں خانہ جنگی، یمن پر جنگ مسلط کرنا، عرا ق میں دہشت گردی یہ سب کچھ دشمن کی تخریب کاریوں میں شامل ہے۔بعض مسلم ممالک کے حکمران دانستہ او ر بعض نادانستہ طور پر دشمن کے ان حربوں میں شامل ہیں۔آج وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جتنا غصہ ہو امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل پر نکالیں۔خطے کی عرب حکومتوں کو سمجھنا چاہئیے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا امریکہ کی جانب سے دنیا کے سامنے اسرائیل کے وجود کو ایک عام اور معمولی قرار دینے کی کوشش ہے۔مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ ہمارے فلسطین کے بھائی حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی جیسی مزاحمتی گروہوں کی شکل میں آج فلسطین کا دفاع کر رہے ہیں۔غاصب اسرائیل کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ہمیں ان کی کوششوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں بہائے جانے والے مجاہدین کے لہو کی پاسداری کرنا ہو گی۔فلسطینی مجاہدین کے پاس دین، غیرت اور شجاعت موجود ہے۔ان کے وجود سے ہی آج صدی کی ڈیل ناکام ہو رہی ہے۔آج فلسطین میں طاقت کا تواز ن بدلنے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں حماس، حزب اللہ اور جہاد اسلامی کا اہم ترین کردار ہے۔اسرائیل جو پہلے علاقوں پر قبضہ کر لیتا تھا آج فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کے مقابلہ میں چند گھنٹوں میں جنگ بندی کی درخواست کرتا نظر آتا ہے۔آخری بات یہ ہے کہ فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے۔اس کے امور انہی کے ارادے کے مطابق انجام پانے چاہئیں۔فلسطین کے تمام ادیان او ر اقوام کی شمولیت سے استصواب رائے کی جو تجویز دو عشروں قبل پیش کی گئی تھی فلسطین کے مستقبل کا واحد نتیجہ ہے۔یہ تجویز ثابت کرتی ہے کہ یہودی دشمنی کے جو بگل مغربی طاقتیں اپنے تشہیراتی ذرائع کی مدد سے بجاتی رہی ہیں، بالکل بے بنیاد ہیں۔اس تجویز کے مطابق فلسطینی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ استصواب رائے میں شریک ہونا اور فلسطین کے لئے سیاسی نظام کا تعین کرنا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے اختتام پر پوری مسلم دنیا کو جس امید کی طرف گامزن کیا ہے وہ یہ ہے کہ جسے جاناہے وہ صہیونی نظام اور صہیونیت ہے۔جو خود یہودی مذہب میں ایک بدعت اور اس سے بالکل بیگانہ ہے۔فلسطین کی آزادی حتمی اور عنقریب ہے۔

  • ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    "ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے”
    سب سے پہلے تو شکریہ اور حوصلہ افزائی  ان دوستوں کا جو اس ایکٹیویٹی میں شامل ہوتے.
    اور جو معترض حضرات ہیں ہمارے دوست اور بھائی ہی ہیں. ذرا بتائیے گا پاکستان کے کتنے لوگوں کو ڈاکٹر قاسم فکتو کا پتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا ہیں؟ اس ٹرینڈ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کے لوگوں کو آپ کے ہیروز کا پتا چلتا ہے. جب کوئی ٹرینڈ ٹاپ فائیو میں آتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے. دوسری بات کہ ہمارے ٹرینڈز سے ڈاکٹر قاسم فکتو کو رہائی نہیں ملے گی لیکن کم از کم کسی ڈسکشن، کسی فورم پر بحث، انڈیا کو رگیدنے کا حصہ تو بنے گی کاوش، تیسری بات کہ ہم سے تو اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا آپ چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے بس میں جو ہے ہم وہ کرتے رہیں گے جہاں تک اللہ نے موقع دیا تھا عملی کام بھی کرتے رہے اب اگر استطاعت کی بورڈ تک کی ہے تو اس پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اڑتے تیروں کو چھیڑیں گے البتہ اپنا نظریاتی کام اور ایکٹیویٹیز جاری رکھیں گے سوشل میڈیا پر بھی. چوتھی بات کہ عمل خواہ چونچ میں پانی لاکر آگ بجھانے کا ہو یا فقط اپنے الفاظ سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرحم رکھنے کا ہمیشہ آپ کی سائڈ دیکھی جاتی ہے کہ آپ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں (خواہ الفاظ سے ہی سہی) یا چپ رہ کر صف اغیار کو تقویت دیتے ہیں. پانچویں بات کل کو اللہ کے سامنے کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے کہ اللہ ہم آواز تو اٹھاتے رہے تھے جس کی تو نے توفیق دی تھی. چھٹی بات کہ حکومت کیا کرتی ہے، عالمی ادارے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں، ہماری آواز کہاں تک موثر ثابت ہوتی ہے یا مکمل بےکار جاتی ہے یہ ہزار درجے بہتر ہے کسی ہوتے ہوئے کام پر اعتراض اٹھا کر اس کو روک دینے سے. چھٹی بات کہ اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو بھائی تسی ایتھے گنڈیریاں ویچدے جاؤ کم کرو جاکے. باقی جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کے اعلیٰ ایمان کی جو ڈائریکٹ میدان مقتل سے، کفر کی چوکی پر پھٹنے سے ذرا چند سیکنڈز پہلے فیسبک پر پوسٹ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے تو بھائی آپ سے مقابلہ نہیں ہوسکتا ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ہم جو کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں میرا اللہ ان شاءاللہ آگے بڑھنے کی بھی توفیق دے گا.

    دنیا بھر میں ٹرینڈنگ کو اہمیت حاصل ہے، پالیسی ساز ادارے،قانون ساز اسمبلیاں، بین القوامی ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں آپ کے ٹرینڈز پینل پر نظر رکھتی ہیں. عرب اسپرنگ کوئی بہت پرانا ایشو نہیں ہے وہ ان ٹرینڈز کی ہی گیم تھی جس نے برسوں سسے قائم عرب بادشاہوں کو تحتوں سے اٹھاکر پھینک دیا تھا.