Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاف کر ڈالو…!!! (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔

    معاف کر ڈالو…!!!
    (بقلم✍🏻:جویریہ بتول)۔
    اس سفرِ زندگانی میں۔۔۔
    لہجوں کی گرانی میں۔۔۔۔
    کوئی درد دے۔۔۔۔
    تمہیں جو کبھی،،،
    معاف اسے تم کر ڈالو
    درد سب بہہ جائیں گے
    دل یہ صاف جو کر ڈالو۔۔۔
    مسائل کو طوالت دو۔۔۔
    نہ الجھاؤ خود کو کبھی۔۔۔۔
    انتقام کی سوچ کر۔۔۔
    نہ جلاؤ خود کو کبھی۔۔۔
    حد سے جو بڑھ جائے۔۔۔
    اور زیادتی میں چڑھ جائے
    تواس پہ چھوڑ دو۔۔۔
    یہ درد سارے۔۔۔۔
    یہ بدلے سارے۔۔۔۔
    لہجے جو تلخ ہیں
    اور دل جو ہیں۔۔۔۔
    گدلے سارے۔۔۔
    رنجش کو جو کریں۔۔۔۔
    بے لگام۔۔۔۔
    بدگمانیوں کو کریں۔۔۔۔
    جو عام۔۔۔
    شکوک کے درخت کو۔۔۔
    دیں جو پانی۔۔۔
    اور ابہام کی کریں
    فراوانی۔۔۔۔
    تو فیصلہ اس پر۔۔۔۔
    چھوڑ دینا،،،
    رخ اسی کی۔۔۔۔۔
    جانب موڑ لینا۔۔۔
    وہ القادر،المنتقم بھی ہے،،
    وہ العدل،الحکم بھی ہے۔۔۔
    اس در سے جو۔۔۔۔
    ہوں گے فیصلے۔۔۔۔
    یاد رکھنا۔۔۔
    امید کا شہر
    آباد رکھنا۔۔۔۔کہ
    وہ کھلا انصاف ہوں گے
    نہ بے قدر جہاں۔۔۔۔
    اوصاف ہوں گے۔۔۔ !!!!
    درگزر بس شعار رکھنا۔۔۔۔
    بلند اپنا وقار رکھنا۔۔۔۔
    سختی کو نرمی سے۔۔۔۔
    ٹال کر۔۔۔
    معافی کا وصف۔۔۔۔
    اُجال کر۔۔۔
    کوئی درد دے۔۔۔۔
    تمہیں جو کبھی۔۔۔
    تم اس کو معاف کر ڈالو۔۔۔ !!!!!!
    (الا تحبون ان یغفر اللہ لکم)۔۔۔؟؟؟
    ============================

  • اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے اردن عرب متنازغہ علاقے کو اسرائیل میں شامل کردیا تو اسرائیل پر ہم جنگ مسلط کرسکتے ہیں

    یہ علاقہ غزہ سٹرپ کے ایک تہائی کے برابر ہے اور اردن سرحد تک 97 کلومیٹر طویل ہے

    1948 کے عرب اسرائیل جنگ میں اردن نے غزہ سمیت یہ علاقہ قبضہ کیا تھا اور یہاں کے لوگوں کو اردن کی شہریت دی گئی تھی لیکن بعد میں اسرائیل نے اس علاقے کو قبضہ کیا جو اب اقوام متحدہ نے متنازغہ قرار دیا ہے_ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، زرعی لحاظ سے بھی ذرخیز زمین ہے جبکہ سٹریٹجک سے بھی ایک اہم علاقہ ہے،

    جولائی کے مہینے میں اسرائیل نے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کیلئے کل کرونا وائرس کی وجہ سے سفری پابندیوں کے باوجود جناب پومپیو اسرائیلی قیادت کو یہ یقین دہانی کرانے آئے تھے کہ امریکہ عرب اردن کے مقبوضہ عرب علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کی مکمل حمائت کرتا ہے

    اردن کے کنگ عبدللّٰہ سپیشل فورس کے کمانڈر رہ چکے ہیں ١٩٨٠ میں آرمی میں شمولیت اختیار کیا اور 1997 میں میجر جنرل کے عہددے تک پہنچ گئے باپ کے موت کے بعد اس نے اقتدار سنبھال لیا اس کے دور حکومت میں معیشت نے ریکارڈ ترقی پائی، 1993 میں اس نے ایک فلسطینی لڑکی سے شادی کی

    آج جرمنی کہ ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کنگ عبداللّٰہ نے کہا کہ جولائی میں غزہ کے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے سے فلسطینی اتھارٹی ختم ہوجائے گی جس سے علاقے میں بدامنی پیدا ہوسکتی ہے اور اردن اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ چھڑسکتی ہے

    دسمبر 2019 میں مغربی سرحد پر اردن کے فوج نے "karameh swords 2019” کے نام سے جنگی مشقیں کیے تھے جس میں اسرائیلی سرحد سے بڑے پیمانے پر حملے کو روکھنے کی کی سیمیولیشن کی گئی تھی

  • حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!!  [بقلم:جویریہ بتول]۔

    حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!! [بقلم:جویریہ بتول]۔

    حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    لائے جو کم عمری میں فوراً اسلام وہ ہیں حیدر…
    جنہیں دیا عَلم رسول نے،وہ ہیں جو فاتحِ خیبر…!!
    وہ دامادِ رسول محترم ہیں وہ ہیں سرتاج خاتونِ جنت…
    حسن و حسین کے والد محترم،جنت کی جنہیں ملی بشارت…
    جن کو پیارے نبی ڈھونڈیں،اور پیٹھ سے جن کی مٹی جھاڑیں…
    اُٹھو ابو تراب،گھر کو چلو،ساتھ ہی پیار سے انہیں پکاریں…!!
    بچپن سے جنہیں پیار دیا،اور ادا کیا حقِ رشتۂ دار…
    دے کر رشتہ سیدۃ النسآء کا اور پختہ کیا یہ اقرار …
    علی امیر المؤمنین ہیں،سب مومن ہیں ان کے غلام …!
    میرے نبی محترم کی آل پر ہوں اَن گنت درود و سلام…!!!

  • اس سفرِ زندگی میں ، تحریر : جویریہ بتول

    اس سفرِ زندگی میں ، تحریر : جویریہ بتول

    اس سفرِ زندگی میں…!!!
    [بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔
    اس راہِ زندگانی میں،
    رنگوں کی۔۔۔
    جولانی میں۔۔۔
    راحت کی شمع بھی ہے
    کہیں رات۔۔۔
    سخت طوفانی بھی
    جہاں دھوپ کی تپش۔۔۔
    بھی ہے۔۔۔۔
    بھول بھی،لغزش بھی ہے۔۔۔ !!!
    روشنی کی کرن بھی
    اندھیری گھٹا بھی ہے۔۔۔۔
    کہیں ہر سوساون کی رُت۔۔۔
    کہیں گرم صحرا بھی ہے۔۔۔۔
    کہیں محبتوں کے۔۔۔۔
    پھول برستے۔۔۔
    کہیں اپنوں کی۔۔۔۔
    جفا بھی ہے۔۔۔
    کہیں جھوٹ بھی۔۔۔۔
    سچ ہے لگتا۔۔۔۔
    کہیں سچ پہ ہر کوئی
    خفا بھی ہے !!!!
    کہیں ہے چلتی۔۔۔۔
    فقط خوشامد۔۔۔۔
    کوئی صاحبِ۔۔۔۔
    عجز و وفا بھی ہے۔۔۔
    کہیں حق کے۔۔۔۔
    ہم نوا ہیں ملتے،،،،
    کہیں تنہائی کی۔۔۔
    گھور گھٹا بھی ہے۔۔۔۔ !!!
    کوئی تو امن میں۔۔۔۔
    عمل کا پیکر۔۔۔۔ !!!!
    کوئی سایۂ ستم میں
    کھڑا ثابت قدم۔۔۔
    تنہا بھی ہے۔۔۔ !!
    کوئی مست ذوق دنیا۔۔۔۔
    کوئی آخرت کا۔۔۔۔
    ترسا بھی ہے۔۔۔ !!!
    اس رنگا رنگ۔۔۔۔۔
    زندگانی میں
    امید کا دامن۔۔۔۔
    سنبھال رکھنا۔۔۔۔
    طنز کے برستے۔۔۔
    تیروں کا۔۔۔
    کبھی نہ کچھ۔۔۔۔۔
    خیال رکھنا۔
    قدموں میں ہو ڈگمگاہٹ،،،
    نہ لہجے میں کوئی لرزش
    پیام اپنا کمال رکھنا۔۔۔۔
    قدم کو۔۔۔۔
    نہ سمتِ زوال رکھنا۔۔۔۔
    راہوں سے اٹھا کر کانٹے
    سب راہوں کو۔۔۔۔۔
    گلزار رکھنا۔
    تلخ لہجوں کے عمل سے۔۔۔
    ردِ عمل بس پیار رکھنا
    دائمی فلاح کا مقصد۔۔۔
    ذہن میں بہر حال رکھنا۔۔۔۔ !!!!!
    یہ زندگانی تو بس
    امتحان کا گھر ہے۔۔۔۔ !!!
    جاری ہر اک کا۔۔۔
    یہاں سفر ہے۔۔۔ !!!
    فتح و شکست کا۔۔۔۔
    اک چلتا چکر ہے۔۔۔ !!!
    جو فرض ہے ہم پر۔۔۔
    اسے ہے ادا کرنا،
    اس زندگی کے۔۔۔
    بھنور میں
    حق سے ہے وفا کرنا۔۔۔ !!!
    جس خالق کو ہیں۔۔۔
    ہم جوابدہ۔۔۔ !!!
    اس ہی سے ہے۔۔۔
    ہر لمحہ ڈرنا۔۔۔۔
    اسی کے لیئے ہے جینا
    بس اسی کے لیئے ہے مرنا۔۔۔۔ !!!!!!!!
    ============================

  • سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ

    ورک کسی چیز کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے کی وجہ سے فورسز(قوت) کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) ہے ،

    فزکس کی زبان میں کشش ثقل (گریویٹی) کے خلاف کام کرنا، فورسز یا وزن کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) کہلاتا ہے۔
    مثال کے طور پر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی راڈ میں پلیٹیں ڈالے اسے اٹھائے ہوئے کھڑا ہے، اب اس راڈ پہ وہ فورس بھی لگ رہی ہے جسکے ذریعے اس آدمی نے اسے اٹھا رکھا ہے اور اسکے علاوہ اس راڈ پہ کشش ثقل(گریویٹی) فورس بھی لگ رہی ہے کہ اگر یہ انسان اس راڈ کو چھوڑ دے تو یہ راڈ آزادانہ طور پر زمین پر آ گرے،
    دوسری طرف اگر یہ راڈ زمین پہ پڑا ہو تو اس پہ صرف ایک فورس کام کر رہی ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ زمین پہ پڑا رہتا ہے اور وہ فورس ہے کشش ثقل(گریویٹی)، تو ثابت ہوا کہ کسی بھی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے سے فورسز ملٹی پلائی یعنی بڑھ جاتی ہیں۔

    Work by Gravity
    "جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے یا اونچائی سے گرائی جاتی ہے تو باقی فورسز کی عدم موجودگی میں اور کشش ثقل (گریویٹیشنل فورس) کے نتیجے میں اس چیز کی رفتار میں آزادانہ طور پر تیزی آتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ چیز سطح زمین کے قریب پہنچتی ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے اسکی رفتار g = 9.8 m.s-2 یعنی 0.098m.s ہوتی ہے اور کسی چیز کے وزن پہ کشش ثقل fg = mg کہلاتی ہے۔ یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کشش ثقل کسی بھی شے کے وزن کے مرکز پہ مرکوز(کنسنٹریٹ) ہوتی ہے۔ اگر کسی شے کو اسکے قائم مقام سے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ہلایا جائے تو دونوں طرف کی جگہیں y1-y2 کہلاتی ہیں مثلا اب اگر راڈ زمین پہ پڑا ہوا ہے تو وہ y1 جگہ کہلائے گی اور ایک آدمی جہاں تک یہ راڈ اٹھائے گا تو وہ y2 جگہ کہلائے گی(جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)، کسی شے پہ اس کے وزن mg کے مطابق اس پہ فورس کام(W= Work) کرتی ہے۔

    W = Fg (y2-y1) = Fg Δy = – mg Δy

    اس فارمولے میں fg وزن(امپیرئیل یونٹ میں پاونڈ اور ایس آئی یونٹ میں نیوٹن) کو ظاہر کرتا ہے اور Δy اونچائی y میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ غور کریں کہ کشش ثقل(گریویٹی) کے ذریعے کیا گیا کام اس شے کے عمودی یعنی ورٹیکلی(اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ) حرکت کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک شے پہ اسکے وزن کے ذریعے کیے گئے کام پہ فرکشن فورس کی موجودگی اثرانداز نہیں ہوتی۔”
    Reference:- Wikipedia, Work (Physics), 2019

    کشش ثقل کے خلاف کام کرتے عام طور پر کسی شے کو اسکی جگہ سے یعنی اسکے قائم مقام سے ہلانے کی وجہ سے فورسز(قوت) یا اسکا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں بیان کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہ قرآن میں اسکا ذکر کر دیا گیا تھا،
    Quran 99:7-8
    "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7)

    پھر جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) نیکی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔

    وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)
    اور جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) برائی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

    یہاں پہ "عْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) اور "يَّعْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) کرنا ہے۔ اور یہاں پہ کام(ورک) کا وزن(mg) سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ جتنی زیادہ برائیوں والے کام کرے گا اسکا برا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور جتنی زیادہ اچھائیوں والے کام کرے گا اسکا اچھا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور حساب تو ہوگا ہی ترازو کے ذریعے یعنی وزن تول کر،

    1400 سال پہ غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ وزن(weight) کا اور کام(work) کا آپس میں گہرا تعلق ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    آج 20 رمضان المبارک ہے.آج کا دن تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے. آج کے دن کو تاریخی اعتبار سے فتح مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. وہ دن جس دن حق آگیا اور باطل مٹ گیا. نجانے کیوں مجھے اس دن سے بہت الفت ہے. فتح مکہ کے واقعات سے مجھے بہت لگاؤ ہے. کیوں نا ہو یہ ایک ایسا بے مثال دن تھا جس دن عدل و مساوات کی عظیم مثال قائم کی گئی.
    یہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ ہیں جو اس وقت اسلام نہیں لائے تھے. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچتے ہیں. مکہ سے باہر روشنیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ میرے بھتیجے کا لشکر ہے. ابو سفیان رضی اللہ ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں وہی جو کل 313 تھے آج ہزاروں کی تعداد میں نظر آرہے تھے. اپنی کوئی تیاری بھی نا تھے نا آگے کا راستہ تھا نا پیچھے کا. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جان کی امان طلب کرنے لگے. سیدنا عباس نے بھی حامی بھر لی. چچا تھے نا جانتے تھے میرے بھتیجا بہت نرم دل ہے معاف کرنے پر آئے تو دشمن کتنا ہی طاقتور اور ظالم نا ہو معاف کردے گا. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور حضرت عباس نے کہا ابو سفیان آج معافی مانگنے آیا ہے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا اور ساتھ یہ اعلان بھی فرمادیا جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوجائے اس سے عام معافی کا اعلان ہے. اتنا بڑا پیکج… حضور جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے احد میں پڑاؤ ڈالا تھا. وہ جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی .ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو معاف کردیا اس معافی کا بہت اثر ہوا اللہ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے بڑے بڑے کام لئے… ہاں ایک اور فتح مکہ سے جڑے واقعے سے مجھے بہت لگاؤ ہے….نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ کر جارہے ہیں سوچا جاتے ہوئے دو رکعت کعبۃ اللہ میں پڑھ جاؤں .کعبہ میں پہنچے اور عثمان بن ابی طلحہ جو کعبہ کے متولی تھے انہوں نے نماز پڑھنے سے روک دیا. حضور نے عثمان بن ابو طلحہ سے کہا یاد رکھنا ایک وقت آئے گا یہ کعبہ کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہونگی. عثمان بن ابی طلحہ مسکرادیے اور کہنے لگے ہاں ہاں تب تک قریش مر چکے ہونگے. حضور نے کہا نہیں نہیں قریش تب زندہ ہونگے اور تم بھی زندہ ہوگے. آج وہ وقت آچکا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح بن کر مکہ میں داخل ہورہے تھے. عثمان بن ابی طلحہ بھی زندہ تھے .کعبہ کی چابیاں حضور کے ہاتھ میں تھیں. آپ نے چابیاں پھر عثمان بن ابی طلحہ کے حوالے کردیں. کہا جاتا ہے کہ آج بھی جا کعبہ کا متولی ہے وہ عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہے.
    یہی نہیں اور بھی بہت سی مثالیں عدل و مساوات کی قائم ہوئیں. مسلمانوں کو گہرے دکھ پہنچانے والے سب سامنے کھڑے تھے اعلان ہوتا ہے کہ : اے قریش کے لوگو!تم سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘
    تمام لوگوں نے کہا : اے محمد()!تم سے ہم کو خیر اور بھلائی کی امید ہے اس لئے کہ تم ہمارے بہترین بھائی ہو اور ہمارے شریف بھائی کے فرزند ارجمندہو!۔
    اس کے بعدنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    ’’آج تم لوگوں پر کوئی لعنت و ملامت نہیں، تم لوگ آزاد ہو۔ ‘‘ فتح مکہ کا یہ یادگار دن جب آتا ہے یعنی 20 رمضان کا دن مجھ سمیت سب بڑی بڑی پوسٹس لگاتے ہیں,تحاریر لکھتے ہیں لیکن یہ دن ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم اس دن سے کچھ سیکھیں. اپنی انا کی قربانی دیں, اپنے دلوں کو صاف کریں, ہمیں کسی کتنے بڑے دکھ بھی کیوں نا پہنچائیں ہوں ہم معاف کرکے سنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کریں. آئیے رمضان بھی دن بھی برکتوں اور سعادتوں والے عہد کریں ہم کہ خود کو سنواریں.

  • یہ دنیا_!!! بقلم:جویریہ بتول

    یہ دنیا_!!! بقلم:جویریہ بتول

    یہ دنیا_!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کیا کریں کہ دنیا یہ ہر حال میں لا دوا ہے__؟
    بولو تو بھی جرح ،نہ بولو تو بھی خفا ہے__!!!
    گُل پاشی کے ہمراہ یاں سنگ بازی کی بھی بارش__
    دیکھتے ہیں ہم کہ اکثر وفا کا بدلہ جفا ہے__!!!
    رُک جاؤ تو آتی ہے دنیا ہمدردی کے بول لے کر__
    جو بڑھو ذرا تو قدموں میں یہی کڑی زنجیر نما ہے__
    کہتے ہوکیا، ملے تمہیں بدلہ اسی جہاں میں__؟
    کیسی ہے یہ بے خبری، کسے ملا صلہ ہے…؟
    جفا کی ہر اک ادا کو تبسم کا دے کر تحفہ__
    جانو کہ گھور شب کے بعد ہی سویرا ہے__!!!
    حقوق اللّٰہ کہ حقوق العباد،جب اُسی کی رضا کے واسطے…
    تو پھر کسی کی بےرُخی کا،کیسا کوئی گِلہ ہے…؟؟
    دنیا کے پیچ و خم سے اُلجھ کر رہنے والے__
    مانے گا اک دن، کہ اس کا تو یہی خاصہ ہے__!!!
    خامشی کی ردا اوڑھے،درگزر کا عصا تھامے__
    جو بڑھ رہا ہے آگے، سچ کہ وہ کتنا بھَلا ہے__!!!!!
    ==============================
    {جویریات ادبیات}
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • خود سے بھی مسکراؤ_!!! بقلم: جویریہ بتول

    خود سے بھی مسکراؤ_!!! بقلم: جویریہ بتول

    خود سے بھی مسکراؤ_!!!
    [بقلم: جویریہ بتول]۔
    کبھی الجھنوں سے نکل کر تم خود سے بھی مسکراؤ…
    کبھی دل پہ لگے زخموں کو خود مرہم لگاؤ…
    کیا ملے گا صرف رد عمل کے غم میں کھپ جانے سے…؟؟
    دور اندیشی و حواس سے ہر درد کو سہلاؤ…!!
    آتے ہر اک تیر کو تم قابو میں کر کے اپنے…
    اپنے صحیح وقت پر ترکش میں اُسے لوٹاؤ…!!!
    کبھی ردِّ عمل کے غم سے باہر بھی نکل کر…!!!
    اک حاوی مسکراہٹ سے تم چیخوں کو ہراؤ…!!!
    کبھی اپنے دل کے درد بھی خود سے بانٹ لو…
    کبھی دل کے سارے بوجھ تنہا بھی ہٹاؤ…
    اس زندگی کے سفر میں ہے ہوتی قدم قدم پہ رکاوٹ…
    کبھی رکاوٹوں سے ٹکرا کر رہ گزر تو بناؤ…
    سچ ہے کہ سفرِ زندگی تھکا دیتا ہے اکثر…
    مگر تم بھی خود کو خود ہی اُمید سے بہلاؤ…!!!
    ذرا سی رنجش و لغزش پر یہ دل نہ ملول ہو…
    مختصر سی زندگی میں تُم خود نہ اسے مرجھاؤ…!!!
    =============================
    {جویریات ادبیات}
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے  از قلم: مشی حیات

    بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے از قلم: مشی حیات

    بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے

    از قلم: مشی حیات

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خوشیاں ہوں یا غم چھوڑ کر چلے جانے والے ضرور یاد آتے ہیں۔ غم کے لمحات میں ان کا آخری دیدار رلا دیتا ہے اور خوشیوں کے موقع پر ان کی زندگی کے حسین لمحے۔۔۔۔

    یہی کہانی میری ہے جو ایک حقیقت ہے، سچائی ہے اور وہ ہستی ہیں ۔۔
    میرے بابا

    میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو خود کو ماں کی گود کی جنت اور بابا کے شفقت بھرے سائے میں پایا۔۔

    بابا دن رات محنت کر کے ہم بہن بھائیوں کی پرورش کر رہے تھے اور ہم نادان بچپن میں کھوئے اپنی ہر ضرورت پوری کر رہے تھے ہمیں اس عمر میں کیا معلوم کہ ابو جی کیسے روپیہ پیسہ کماتے ہیں ۔۔
    سب تایا جی اور چچا جان صاحب حیثیت تھے مگر میرے بابا بیماری کے سبب کمزور تھے زیادہ سخت کام نہیں کر سکتے تھے۔۔ اس لیے روزانہ کا فروٹ کا کام کرتے اور رات کو ایک جیب میں پیسے لے کر گھر آ جاتے کھانا کھاتے اور پیسوں کی گنتی کرنے کے لیے بیٹھتے تاکہ دیکھا جائے بچت کتنی ہوئی اور بچوں کے ارمان پورے کرنے کے لیے پیسے ہوں گے یا نہیں۔۔۔
    جیسے ہی ابو جی نے پیسے گننے شروع کرتے میں اور بڑی آپا ساتھ بیٹھ کر مدد کرتے۔ ایک دفعہ تو کافی پیسے دیکھ کر خوش ہو جاتے کہ آج کتنے زیادہ پیسے ہیں ابو کے پاس۔۔باپ تو اپنی بیٹی پر ہر خوشی وار دیتا ہے۔۔
    صبح جاتے ہوئے ابو جی کھلے پیسے یعنی سکے کپ میں رکھ جاتے جو ہمیں امی جی سکول جاتے دیتی تھیں ۔۔بڑی آپا کو 5 روپے ملتے تھے مجھے اور بھائی کو دو، دو روپے۔۔ وہ پیسے بھی ہم بہت خوشی سے خرچ کیا کرتے تھے۔۔
    ابو جی نے ہماری ہر خوشی پوری کی۔ خوشی کے موقع پر کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ امی جی بہت کم خرچ کرتی تھیں شاید وہ سمجھتی تھیں کہ ابو کی جیب میں موجود سارے پیسے کھانے کیلئے نہیں بلکہ کسی کی امانت ہیں۔۔
    دادی جان ہمارے پاس رہتی تھیں اس لیے عید کے موقع پر سب چاچو اکٹھے ہو جاتے تھے اور سبھی عیدی دیتے تھے۔ ابو جی کے پاس جیب میں موجود سکے کم ہوتے تھے ہم چھ بہن بھائی اور باقی سب کزنز مل کر زیادہ ہو جاتے تھے۔سبھی نے دیکھنا کہ اب دیکھو شفیق کیسے پورا کرتا ہے بچوں کو۔ بابا جانی کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی اور کہتے کہ میں سارے سکے آسمان کی طرف پھینکوں گا جس کے ہاتھ میں جتنے آ گئے وہ اس کے۔ سبھی اپنے اپنے اٹھا لینا۔ جیسے ہی آسمان کی طرف پیسے جاتے سب مل کر اٹھا لیتے اور سبھی بچے بہت خوش ہوتے اور دادی جان نے کہنا ایک منٹ میں سب بچوں کو خوش کر دیا۔

    خوشیاں باٹنے والے اور ہمارے گھر کے محافظ ہمیں یتیمی میں بہت جلد چھوڑ گئے۔۔
    ان کا اس دنیا سے چھوڑ کے چلے جانا ہمارے لیے کسی بہت بڑے سانحے سے کم نہ تھا۔۔ ماں کے سر سے سرتاج کا سایہ اور بچوں کے سر سے سایہ شفقت ۔۔۔۔۔
    27 مئی 2014 کو میری تائی امی وفات پا گئیں جو سب سے بہت پیار کرتی تھیں۔سبھی ان کے غم میں مبتلا تھے 28 مئی کو جو کہ اگلے ہی دن ابو جی سب کو ناشتہ کروا رہے تھے کہ اچانک دل کی درد شروع ہوئی وہاں پر موجود لوگوں سے کہہ کر آ گئے کہ میں تھوڑی دیر تک آیا باقی بعد میں کروں گا۔۔

    جیسے ہی گھر آئے بڑی آپا کام میں مصروف تھی اور میں لیٹی تھی۔ ابو جی کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے کہنے لگے سائیڈ پہ ہو جاؤ ابو جی کی آنکھیں مکمل سفید تھیں میں چونکہ چھوٹی تھی تبھی ڈر گئی اور تائی امی کے جانے کا غم بھی تھا مجھ سے بولا نہیں گیا جلد ہی آپی کو آواز لگائی کہ ابو کو پتہ نہیں کیا ہوا امی جی دوڑ کر آئیں۔ابو جی کا رنگ سفید پڑ چکا تھا قے شروع ہو گئی تھی امی جی نے کہا کہ جلدی سے ہمسائے والے انکل کو بولو کہ گاڑی نکالیں۔اماں تو ابو جی کو لے کر چلی گئیں مگر آنکھوں میں ابو کی حالت تھی۔ پھر سوچا ٹھیک ہو جائیں گے۔ واللہ کیا خبر تھی کہ بابا آج کے بعد کبھی نہیں آئیں گے۔ ڈاکٹر جواب دیتے گئے امی جی کی گود میں سر رکھے ابو مسلسل استغفار اور کلمہ پڑھتے جارہے تھے اور امی جی سر میں ہاتھ پھیرتی جا رہی تھیں۔ جیسے ہی شہر میں پہنچے ہسپتال داخل کیا چاچو بھی پہنچ گئے چاچو اپنے شہر کے مشہور حکیم تھے۔ واقفیت کی وجہ سے جلد علاج شروع ہو گیا ڈاکٹر نے بولا کہ آپ بھائی کو ملتان لے جائیں۔ امی جی امید لگائے اپنے رب سے باہر بیٹھی دعا میں مصروف تھی پتہ چلا کہ ملتان جانا ہے تو تیار ہو گئیں مگر چاچو جی نے ڈاکٹر کو بولا کہ مشکل ہی پہنچ پائیں بھائی۔۔۔۔

    ابو جی مسلسل کلمہ پڑھ رہے تھے دعائیں کر رہے تھے۔ اللہ سے محبت کرنے والے تھے اور ساری زندگی اپنی ماں کی خدمت کرنے والے ۔۔
    چاچو ابو جی کے پاس ہوئے شاید سانس رک رہی تھی چچا جی کہتے کہ میں نے کلمہ پڑھا اور بھائی نے فوراً کلمہ پڑھتے ہی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔وہ آپ نے خالق حقیقی سے جا ملے مگر امی جی کو نہیں بتایا کہ وہ ایسی جگہ چل دیے ہیں کہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔

    امی جی ملتان جانے کے لیے تیار تھیں ایمبولینس میں ابو جی کو لٹایا اور امی جی ساتھ بیٹھ گئیں۔جس شوہر کو ایک امید کے ساتھ لائی تھی وہ اب بس چند ساعتوں میں ماضی بن گیا تھا۔۔
    ملتان کی بجائے جب گاڑی نے اپنے شہر کا رخ کیا تو امی جی حیران ہو گئیں کہ جانا ملتان ہے اور جا کہاں رہے ہیں۔چاچو جی
    انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے۔
    ہائے میرے اللہ کیا سما ہو گا۔ میری ماں کے دل کا کیا حال ہو گا کہ انکا سربراہ انکے گھر کا بادشاہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔۔۔۔۔
    میں اور بہن دعا میں مصروف تھی فون کیا کہ ابو کیسے ہیں؟ گاڑی والے انکل کہتے وہ فوت ہوگئے۔۔
    جیسے ہی آواز کان میں پڑی آسمان تاریک ہوتا نظر آیا۔ اللہ یہ کیا کر دیا میرے بابا اب نہیں رہے۔ کیوں نہیں رہے؟سب کے بابا ہیں میرے کیوں نہیں؟؟
    چھوٹا بھائی 4 سال کا تھا وہ میت کے پاس بیٹھا مسلسل کہہ رہا تھا اب ابو جارہے ہیں میں موٹر سائیکل پر جا کر لے آؤں گا۔۔۔
    مگر وہ کیا سمجھتا پھول کہ اب ابو جی کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔

    ہماری زندگی ایک گھنٹے کے اندر یتیمی میں بدل کر رہ گئی ابو جی ماضی بن گئے۔۔۔

    مگر ابو جی بہت یاد آتے ہیں ہر عید پر اب بہت پیسے مل جاتے ہیں مگر خوشی نہیں ملتی۔۔اب تو یہی بول کے سبھی دے دیتے ہیں کہ یتیم ہیں کمانے والا نہیں ۔۔۔

    میں کہتی ہوں دنیا کی ساری دولتیں لے لی جائیں مگر ابو واپس آجائیں واللہ ہر دن عید سا لگے۔۔۔

    باپ بہت بڑا تحفہ ہے رب کا۔ اللہ کے لیے اس تحفہ کی قدر کر لیں جب یہ تحفہ یہ پھول مرجھا جاتے ہیں ناااا پھر کوئی خوشی سکھ نہیں دیتی ۔۔۔

    ہر تہوار آ جاتا ہے مگر بچھڑے ہوئے نہیں آتے اور نہ ان سے وابستہ خوشیاں۔۔۔۔۔۔۔

    ممکن اگر ہوتا کسی کو عمر لگا دینا

    میں زندگی کی ہر سانس اپنے بابا کے نام لکھ دیتی

  • عظیم الشان فتح، تحریر :ثناء صدیق

    عظیم الشان فتح، تحریر :ثناء صدیق

    عظیم الشان فتح
    ثناء صدیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح سلامت مدینہ میں تشریف لانے سے کفار مکہ اپنے آپ کو شکست خوردہ سمجھنے لگے ان کی تمام تر کوشش جوش وجذبہ ترجحات خواہشات مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے صرف ہونے لگی نبی مکرم اور ان کے ساتھوں کو ختم کرنے کا اہتمام قریش مکہ کے نزدیک سب سے اہم اور مقدم تھا اس طرح وہ لوگ اپنی مخالفتیں اور رقابتیں بھلا کر اپنی تمام طاقتیں اس کام کے لیے صرف کرنے پر آمادہ ہو گئے مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ تھا مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ راستے کے قبائلوں کو بھی ساتھ ملانا تھا یا کم از کم ان کو اپنا ہمدرد بنانا لازمی تھا اس آنے والے طوفان سے رسول پاک ایک دور اندیش اور ذی شعور سپہ سالار ہونے کے ناطے محسوس کر چکے تھے اللہ تعالی کیی طرف سے حفاظت خوداختیاری کی اجازت مل چکی تھی دین اسلام میں داخل ہونے والوں کی راہ سے رکاوٹیں اٹھانا بھی ضروری تھا مسلمانوں کی جمعیت مدینہ منورہ میں چار سو سے زیادہ نہ تھی سامان اور طاقت کے اعتبار سے مسلمان کمزور و ضعیف تھے کفار کا ظلم اور سازشیں ان کو بار بار تنگ کرتے مسلمانوں کی عربی حمیت و شجاعت جوش میں آتی مگر وہ اس کام کے لیے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت ضروری چاہتے تھے اب جب کہ اسلام کی صداقت اور ایمانی طاقت ثابت ہو گی اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم و مصائب نے یہ ثبوت دیا کہ اسلام کے ساتھ محبت کسی خوف یا لالچ سے تعلق نہیں رکھتی تو اللہ کی طرف سے شریروں کو سزا دینے اور اپنی حفاظت آپ کرنے کی اجازت آ گی واقعات کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی مکرم جنگ کو صلح اور انتقام کو درگزری پر ےترجیح دی مکہ کا ایک سردار کرز بن جابر نے ایخ جماعت کے ساتھ مدینہ کے ساتھ چراگاہ پر چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے بہت سے اونٹ لے کر چلتے بنے مسلمانوں نے اس صورت حال میں مقام سفوان تک تعاقب کیا لیکن دشمن کے نکلنے کی وجہ سے مجبورا واپس لوٹ آئے یہ مکہ کی طرف سے صاف اور کھلی دھمکی تھی ادھر دوسری تدبیروں سے بھی وہ غافل نہ تھے ایک طرف کفار مکہ کا گٹھ جوڑ عبداللہ بن ابی منافق سے تھا دوسری طرف یہودی قبائل کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی اور مسلمانوں کے خلاف مخالفت پے آمادہ کیا اسی سال شعبان میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو گیا اور چند ہی روز بعد رمضان کے روزے فرض ہو گئے شروع رمضان میں یہ خبر مدینہ پہچہی کہ مکہ کا ایک قافلہ شام آ رہا ہے مدینہ کے اطراف سے گزرے گا نبی مکرم مکہ والوں پر رعب طاری کرنے کے لیے اور کرز کے حملہ کا جواب دینے کے لیے انصار و مہاجرین کی جماعت لے کر مکہ والوں کا قافلہ روکیں تا کہ ان کو پتہ چلے مدینہ والوں سے بگاڑ ان کی تجارت کے لیے مضر ہے یہ جمعیت جنگ کے ارداے سے نہیں گئی تھی بلکہ اس کا مدعا تخویف و تادیب تھا جس کا نتجہ یہ ہوا مکہ والوں کا قافلہ مسلمانوں کی جمعیت سے با خبر ہو گیا امیر قافلہ ابو سفیان اپنے قافلے کو لے کر بچ نکلا اس نے صمصم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا مسلمانوں کے حملے سے ہماری مدد کرو اور اپنے اموال بچاو اس خبر کے ساتھ ہی ابو جہل مکہ سے ایک ہزار کی جرار فوج لے کر نکلا جس میں سات سو اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے یہ لشکر ہر طرح کیل کانٹ سے لیس تھا اس کے سب سپاہی زرہ پوش تھے گانے والے اور رجز پڑھنے والے بھی ہمراء تھے عباس بن عبدالمطلب عتبہ بن ربعیہ امیہ بن خلف نضر بن حارث ابوجہل کل تیرہ آدمی کھانا کھلانے والے تھے ابو سفیان مکہ پہنچ گیا مسلمانوں کی جمعیت واپس مدینہ آ گی
    اس غزوہ کو غزوہ بدر اولی بھی کہتے ہیں (سیرت ابن ہشام ص 288)
    ابو سفیان نے ابو جہل کو خبر بھیجی ہم واپس خیرو عافیت سے آ گئے ہیں اب تم بھی واپس ا جاو لیکن ابو جہل اپنے لشکر کے غرور میم مصر رہا ابوجہل صرف قافلہ بچانے نہیں نکلا تھا بلکہ ابن حضرمی قریش کا حلیف مسلمانوں کے ہاتھوں جن کو نبی مکرم نے رجب میں بطن نخلہ کی طرف حالات معلوم کرنے بھیجا تھا مارا گیا ابو جہل نے ابن حضرمی کے قتل کا بہانہ جنگ کی مکمل تیاری کر لی تھی اور مدینہ پر روانہ ہونے والا تھا ضمضم قافلہ والوں کی طرف سے ستمداد کے لیے پہنچا اور ابو جہل جو پہلے ہی تیار تھا وہ روانہ ہو گیا نبی مکرم کو معلوم ہوا اور ساتھہ یہ بھی پتہ چلا کہ ابوجہل عتبہ شبیہ ولید حنظلہ عبیدہ عاصی حرث طعیمہ زمعہ عقیل ابو الختجرہ مسعود منبہ نوفل سائب رفاعہ وغیرہ تمام بڑے سرادار اس لشکر میں موجود ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر ایک مجلس مشاورت کی اور اصحاب کی رائے پوچھی اول سیدنا ابوبکر عمر فاروق سیدنا مقداد رضی اللہ عنھم نے بہادری کے کلمات کہے اور کہا ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے سیدنا موسی علیہ اسلام سے کہا تھا کہ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون مائدہ) تو اور تیرا رب لڑے ہم تو یہیں بیٹھے تماشا دیکھں گئے
    اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ لوگوں! ان کفار سے لڑائی کے بارے میں تمہارا کیا مشورہ ہے اسے دوبارہ فرمانے سے اپ کی مرضی یہ تھی کہ انصار کی رائے معلوم کی جائے کونکہ مزکورہ اصحاب مہاجرین میں سے تھے اور انصار سے جس بات پر بیعت کی گی تھی وہ مدینہ پر حملہ آور کو روکنے کی تھی مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کی نہیں تھی انصار فورا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھ گے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ ہماری جانب ہے آپ نے فرمایا ہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم آپ پر ایمان لائے آپ کو اللہ کا رسول یقین کرتے ہے اور یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مقابلہ کرے اور ہم بیٹھے رہے ہم کفار سے کیا ڈرے گے یہ ہماری جیسے آدمی ہیں ہم حکم دین ہم سمندر میں کود پرو ہم بلادریغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تکمیل کریں گے آپ صلی اللہ نے اصحاب سے مطمئن ہو کر روانگی کا اردہ فرمایا جنگ میں لڑنے کے لیے کل تین سو دس یا بارہ یا تیرہ آدمی تھے شہر سے باہر آپ نے اسلامی لشکر کی خبر لی ان تین سو تیرہ میں بعض چھوٹی عمر کے لڑکے تھے جو جنگ کے قابل نہیں تھے آپ نے ان واپس جانے کا حکم دیا بعض نے منت کرتے ہوئے جنگ میں جانے کی اجازت حاصل کر لی اسلامی لشکر کے سازوسامان کی یہ حالت تھی صرف دو گھوڑے تھے جن سیدنا زبیر اور مقداد رضی اللہ عنھم سوار تھے سترہ اونٹ تھے ایک ایک اونٹ پر تین تین چار چار آدمی سوار تھے نبی پاک جس اونٹ پر سوار تھے اس پر تین شخص اور سوار تھے بعض لوگ پیدل ہی چل رہے تھے یہ اسلامی لشکر بدر پہنچا تو کفار خو بلند زمین پر خیمہ زن پایا مسلمانوں نشیبی اور ریتلی زمین پر خمیہ زن ہونا پڑا مگر بدر کے چشموں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا نبی مکرم نے مسلمانوں کو پانی کفار کے لیے روکنے سے منع فرمایا اصحاب نے آپ کو ایک چھوٹی سی جھونپڑی تیار کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں رہتے اور دعا مانگتے مسلمان کفار کے مقابلے میں عشرعشیر بھی نہ تھے جب مسلمان جا کر خمیہ زن ہو گئے کفار نے عمیر بن وہب جمحی کو راغ رساں بنا کر بھیجا اور اس نے اطلاع دی کہ مسلمانوں کی تعداد تین سو دس سے زیادہ نہیں اور ان میں صرف دو سوار ہیں کفار کے غرور کا اندازہ اس بات سے لگائے عتبہ بن ربیعہ نے جب یہ قلت سنی تو کہا ان تھوڑے سے آدمیوں سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے ہماری تعداد زیادہ ہمیں واپس جانا چاہے لیکن ابو جہل نے کہا سب کا خاتمہ ہی کر دینا چاہے
    باالااخر سترہ رمضاندو ہجری میدان جنگ گرم ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جھونپڑی میں گئے دعا کی اور عرض کی
    اللھم ان تھلک ھذہ العصابتہ من اھل الایمان الیوم فلا تعبد فی الارض ابدا
    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر یکایک تھوڑی دیر کے لیے غنودگی طاری ہو گی اس کے بعد آپ مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا کفار کی فوج کو شکست ہو گی اور وہ بھاگ جائیں گئے (سیھزم الجمع ویولون الدبر القمر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا جنگ میں ابتدا نہ کرنا مسلمانوں اسی سے دوتین زیادہ مہاجر تھے باقی انصار تھے انصار میں 61 قبیلہ اوس سترہ خزرج کے لوگ تھے طرفین سے صفوف جنگ سے اراستہ ہوئیں رسول پاک ہاتھہ میں ایک تیر تھا اس کے اشارے سے تسویہ تصوف فرماتے تھے اس کے بعد کفر کے لشکر سے عتبہ شعیبہ ولید نکل کر میدان میں آ گئے اور جنگ کے لیے للکارا انصار میں سے عوف معوذ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم نکلے عتبہ نے کیا من انتم انہوں نے کیا رھط من انصار عتبہ نے نہایت متکبر سے کہا مالنا بکم حاجتہ پھر چلا کر کیا محمد اخرج الینا اکفاء نامن قومنا یہ سن کر عتبہ کے مقابلے میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شبیہ کے مقابلے میں عبیدہ بن الحرث رضی اللہ عنہ اور عتبہ کے بیٹے ولید کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ صحابی مقابلے میں مقابلہ شروع ہوا باپ اور بیٹا ایک ہی وار میں قتل ہو گئے
    شبیہ نے سیدنا عبیدہ کو زخمی کر دیا ضرب کاری لگی یہ دیکھ کر سیدنا حمزہ اور علی نے شبیہ کو قتل کر دیا سیدنا عبیدہ کو اٹھا کر نبی مکرم کی خدمت میں لائے بعض کفار کی صفیں حملہ آور ہوئی مسلمان جوان مردی سے کڑے نتجہ یہ ہوا کفار اپنے ستر بہادر قتل اور ستر کو اسیر بنا کر بھاگ کھڑے ہوئے جنگ مطلوبہ شروع ہونے کے بعد نبی مکرم ایک سائیبان کے نیچے کھڑے جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے مجاہدین کو ہدایات دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا بنو ہاشم جنگ مین اپنی خوشی سے نہیں ائے بلکہ مجورا لائے گئے ہیں ان کے ساتھ رعایت کرنی ہے اور عباس بن عبدالمطلب کو قتل نہیں کرنا چاہے اور اسی طرح ابو الختجری کے ساتھ درگزر کا حکم دیا مجزر بن زیاد رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ابو الختجری کے ساتھ ہوا اپ نے کہا ہم کو حکم ہے تم سے نہ لڑے لہذا ہمارے راستے سے ہٹ جاو ابو الخجری اپنی ایک ساتھی کو بچانا چاہتے تھے جن کو مجذر قتل کرنا چاہتے تھے لیذا ابو الخجری مقتول ہوا امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا علی بن امیہ دونوں اپنی جان بچانے کے لیے پھر رہے تھے امیہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ جاہلیت کی دوستی تھی عبدالرحمن نے سن کو دیکھہ کر ہاتھ پکڑ کر چلے چلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھس تو آواز لگائی اور چند انصار کو اپنی طرف متوجہ کیا حضرت عبدالرحمن نے ان کو بچانا چاہا مگر حضرت بلال نے ایک نہ سنی دونوں کو قتل کر دیا ایک صحابی عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ نبی مکرم کے پاس کجھورے کھاتے ہوئے آئے اور پوچھا میں کفار سے لڑتا مارا جاوں تو جنت میں چلا جاوں گا تو آپ نے فرمایا ہاں وہ اسی وقت بقیہ کجھورے پھنک کر تلوار لیتے ہوئے کفار کو جا پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے جب یہ لڑائی جاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک لی اور دشمن پر پھنک دی اسی وقت لشکر کفر نے بھاگنا شروع کر دیا اتفاقا ایک انصاری نو عمر لڑکے سیدنا معاذ بن عمرو کا کا مقابلہ اتفاقا ابو جہل سے ہو گیا جو زرہ وغیرہ پہنے ہوئے تھا سیدنا معاذ نے موقع پا کر اس کے پاوں رزہ سے خالی دیکھ کر وار کیا اس کا پاوں کٹ کر الگ جا پڑا ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے یہ دیکھا تو سیدنا معاذ پو وار کیا سیدنا معاذ کا بایاں ہاتھ مونڈھے سے کٹ گیا اپ اسی طرح لڑتے رہے جب تنگ کرنا شروع کیا تو جھٹکا لگا الگ کر دیا اس کے بعد انصار کے دوسرے نو عمر معوذ بن عفراء ابو جہل کے قریب پہنچا اور تلوار کی ایسی ضرب لگائی نیم بسمل ہو گیا جن کفار نے میدان خالی چھوڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ابو جہل کی تحقیق کرو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے نیم مردہ حالت میں پایا اور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور کہا اللہ نے دشمن اللہ نے کیسا ذلیل کیا ہے ابو جہل نے جنگ کا نتجہ پوچھا کہا فتح مسلمانوں کی ہے یہ کہ کر سیدنا عبداللہ بن مسعود اس کا سر کاٹنے لگے تو کہتا ہے میرا سر گردن اور مونڈے سے ملا کر کاٹنا تاکہ پتہ چلے سردار کا سر ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود نے ابوجہل کا سر نبی پاک کے قدم مبارک میں رکھا آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اس لڑائی میں چودہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم شہید ہوئے چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے
    اللہ اللہ اس زوق وشوق جہاد کے کہا کہنے جب تک مسلمانوں میں ایسا جذبہ ایمان رہا وہ کفار پر غالب رہے اور جب ان کے ایمان میں کمزوری آئی تو پھر مسلمان مغلوب ہو گئے
    رسول پاک نے مال غنیمت ایک جگہ جمع کر کے عبداللہ بن کعب جو بنو نجار سے تھے ان کے سپرد کیا عبداللہ بن رواحہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنھم کو مدینہ کے بالائی بستیوں میں فتح کا سنانے بھیجا سیدنا اسامہ بن زید جو بنی پاک کے مدینہ میں نائب تھے فرماتے ہیں ہمیں فتح کی خوشخبری اس وقت پہنچی جب ہم سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر رہے تھے یہ خبر مدیبہ میں 18 رمضان کو پہچی یہان کے بعد مقام عرق الظبیہ پہنچے یہاں عقبہ بن ابی معیط کی گردن مارنے کا حکم ہوا جو نبی مکرم کے سخت دشمن اور ابوجہل کا ہمسر تھا نضر بن حارث کو سیدنا علی اور عقبہ کو سیدنا عاصم بن ثابت انصاری نے قتل کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنھم خے ساتھ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اسیران اور ان کے محافظ دستے کو پیچھے چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اس کے ایک دن بعد قیدی بھی مدینہ پہنچ گئے
    ابو جہل کو جب معلوم ہوا مجھے دو نوجوانوں معاذ اور معوذ نے مارا ہے اس وقت وہ قریب الموت تھا اس نے افسوس کیا کہ کاش مجھے ایک کسان کے سوا کسی اور نے مارا ہوتا (صحیح بخار کتاب المغازی حدیث 4020)
    صحابہ اکرام کے کیا کہنے ان کے مثالی ایمان اور ان کی دینی غیرت اور بے بہا ایمان دیکھ کر قرآن نے یوں گواہی دی
    اشداء علی الکفار رحماء بینھم
    اور ڈاکڑاقبال نے کیا خوب کہا
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن