Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو  ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی : پاکستان صارفین نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے لڑنے والے رہنماؤں یاسین ملک ، آسیہ اندرابی ،قاسم فنکو ،مسرت عالم بٹ اور شبیر شاہ کو ان ثابت قدمی جرات اور بہادری پر ٹویٹر پر خراج تحسین پیش کیا


    ایک صارف نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے لئے منصفانہ حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جو قید ہیں ، اور ان پر ریاست کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام عائد کرتے ہیں


    ایک کشمیری رہنما یاسین ملک 1 سال سے جیل میں ہیں


    ایک صارف نے آسیہ انداربی کی گرفتاری پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تمام نام نہاد تنظیمیں کہاں ہیں؟ چیئر پرسن ڈی ای ایم آسیہ اندربی بھی خواتین ہیں اور بغیر کسی وجہ کے تہاڑ جیل میں بھارتی ظلم و بربریت کا سامنا کررہی ہیں۔ کیوں ؟؟؟؟


    ایک صارف کے مطابق کشمیر کا حل طلب مسئلہ متحدہ اقوام کی ایک بڑی ناکامی ہے
    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1248975462824660994
    ایک صارف نے لکھا کہ 2008 کے بعد سے ، کشمیریوں کے حق خودارادیت اور بھارتی فوجی قبضے سے آزادی کی تحریک نے پرامن احتجاج اور زبردست عوامی تحریک کے ذریعے بھاری اکثریت سے اظہار خیال کیا اور مدد کی درخوست کی
    https://twitter.com/MNaeemShehzad/status/1248983019056173057
    ایک صارف نے لکھا کہ خوراک پانی اور راشن کی ضرورتیں ہر کوئی پوری کرنے کو تیار ہے کشمیر میں قید سے رہائی کے منتظر لوگوں کی ضرورتیں کون پوری کرے گا کون انہیں انصاف اور آزادی مہیا کرے گا


    ایک صارف نے اقوام متحدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کہاں ہے؟کیا وہ سو رہے ہیں اور کیا وہ کشمیر کی ماؤں اور بیٹیوں پر بھارتی ظلم و ستم نہیں دیکھ رہے ہیں؟


    ایک صارف نے انسانی حقوق کی تنظیموں ست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم یو این اور دیگر تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارتی جیلوں میں سیاسی اور بے گناہ کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنے کے لئےاپیل کرتے ہیں ایسی وبائی حالت میں انھیں آزاد ہونا چاہئے


    ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن ورلڈ والو! "کسی وائرس کی صورت میں مودی کشمیر کی انسانیت کو چھین رہے ہیں۔ کیا یہ کام نہیں کرتا؟اقوام عالم مودی کی دہشت گردی کا نوٹس لے کر ان رہنماؤں کی زندگی بچائیں ار ان کو قید سے آزادی دلوائیں
    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1248975245920415746?s=19
    ایک صارف نے کہا کہ انسداد بغاوت کی پُرتشدد مہموں میں ہزاروں کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں ، ہندوستانی فوجی اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی سنجیدہ کاروائی نہیں ہوئی ہے

    واضح رہے کہ 54 سالہ یاسین ملک 3 اپریل 1966 ء کوسری نگر میں پیدا ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما اور سابق عسکریت پسند ہیں جو بھارت اور پاکستان دونوں سے کشمیر کی علیحدگی کی وکالت کرتے ہیں۔ مارچ 2020 میں ، ملک پر 1990 میں ایک حملے کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اس وقت ان پر مقدمہ چل رہا ہے اور یہ ایک سال سے بھارتی حکومت کی قید میں ہیں غلام قادر ملک کے بیٹے اور مشال ملک کے شوہر ہیں

    آسیہ اندرابی دختران ملت کی کشمیری اور بانی رہنما ہیں۔یہ گروہ وادی کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم ‘آل پارٹیز حریت کانفرنس’ کا حصہ ہے اور حکومت ہند نے اسے "کالعدم دہشت گرد تنظیم” قرار دیا ہے 1962 سالہ 58 میں سری نگر میں پیدا ہوئیں یہ کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی صاحبزادی ہیں اور یہ بھی ایک سال سے بھارتی حکومت کی قید میں ہیں

    66 سالہ شبیر احمد شاہ ، شبیر شاہ کے نام سے مشہور ، انڈی ناگ ، کدی پورہ ، کشمیر میں ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے بانی اور صدر ہیں ، جموں و کشمیر کے "حق خودارادیت” کے حصول کی ایک اہم علیحدگی پسند سیاسی تنظیم ہے 14 جون 1953 اننت ناگ میں پیدا ہوئے

    قاسم فکٹو ایک کشمیری علیحدگی پسند رہنما ہیں جو "کشمیر کے نیلسن منڈیلا” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ کشمیر میں ہندوستان کی حکمرانی کی سخت مخالف ہیں اور ہندوستان کو ایک شاہی طاقت سمجھتے ہیں وہ 1993 سے اکتوبر 2016 تک جیل میں رہے فکٹو پر ایک کارکن دل ناتھ وانچو کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے 53 سالہ ڈاکٹر قاسم فکٹو23 مارچ 1967 کو سری نگر میں پیدا ہوئے

    این آئی اے نے 2017 میں دہشت گردی کی مالی اعانت کے معاملے میں جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک اور دیگر کے خلاف دہلی کی عدالت کے سامنے ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی چارج شیٹ میں علیحدگی پسند آسیہ اندرابی ، شبیر شاہ ، مسرت عالم بھٹ کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا

    مرکزی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو غیر فعال قرار دینے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کی پیشرفت کرنے پرعلیحدگی پسند رہنماؤں سمیت سیاسی قیادت کو یا تو بند کردیا گیا یا مختلف مقامات پر نظربند کر دیا گیا دوسرے درجے کے سیاستدانوں کو ریاست سے باہر رکھا گیا ہے ملک یاسین ، آسیہ اندرابی ، مسرت عالم اور شبیر شاہ اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں

    کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یاسین ملک ، دختران ملت کے سربراہ آسیہ اندرابی اور آل پارٹی حریت کانفرنس کے جنرل سکریٹری مسرت عالم پر 2010 اور 2 مین016 غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں اور پتھراؤ کے الزام اور پاکستان سے فنڈز وصول کرنے کے الزام بھی عائد کئے گئے

    بھارت باز نہ آیا، ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ جاری، دو خواتین سمیت 6 افراد زخمی

    کشمیر قربانی مانگتا ہے از قلم۔۔مشی حیات

    مودی نے مقبوضہ کشمیر جنت نظیر کو جہنم میں بدل دیا ہے ٹویٹر پرٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  • کشمیر قربانی مانگتا ہے  از قلم۔۔مشی حیات

    کشمیر قربانی مانگتا ہے از قلم۔۔مشی حیات

    کشمیر قربانی مانگتا ہے_

    از قلم۔۔مشی حیات

    کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا ایک جغرافیائی اور نظریاتی حقیقت تھی اور بانئ پاکستان کے الفاظ کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، اسے ہر خطہ (چاہے وہ پاکستان کا ہو یا دوسرے ممالک کا) مانتا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے
    تاریخ میں موجود ابواب میں یہ بات ثابت ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ تھا لیکن اسے مکرو فریب سے الگ کر دیا گیا
    پاکستان کا ہر چھوٹا بچہ جموں کشمیر کے متعلق جانتا ہے وہاں بہنے والی خون کی ندیاں،مائوں کے چھلنی آنچل،بہنوں کی لٹتی عزتیں اور بچوں کو یتیم ہوتا عورتوں کو بیوہ ہوتا ہر کوئی سنتا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں کوئی چیز چھپی نہیں کوئی ظلم چھپا نہیں مگر بات یہ ہے ہم صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں ہم اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں
    ہم نے اپنے فرض کو بھلا دیا ہم نے اپنی زندگی سے خیانت کی جسکا قرض ہمیں آج چکانا پڑا۔۔۔۔!

    کشمیر پھولوں کی وادی جنت نظیر وادی و گلشن جہاں کا ہر گوشہ ہر گلی پر پھول و کلی ہماری حقیقی جنت الفردوس کی عکاسی کرتی ہے جسے ہم بھولے تو نہیں لیکن بھلا دیا ہے
    کشمیر ہمیں ہر لمحہ پکارتا ہے
    کشمیر میں جاری ظلم دشمنوں کے کیے جانے والے بدترین قسم کے ظلم جنہیں انسان سہتے ہیں جنہیں بچے محسوس کرتے ہیں جن ماؤں کی گودیں خالی کر دی جاتی ہیں جن بہنوں سے بھائی چھین کر ظلم کی انتہا کر کے شہید کر دیا جاتا ہے وہ ہمارے جیسے ہی ہیں
    جس ماں کی گود خالی کی وہ ماں آپکی ماں جیسی ہے
    جس بہن سے بھائی چھینا ناں، وہ بہن آپکی بہن اور بھائی آپ جیسا تھا
    اور جن بچوں سے باپ جیسی نعمت چھن گئی وہ بچے آپ کے بچوں جیسے تھے آور باپ آپ جیسا تھا۔۔۔۔۔
    ذرا تصور کیجیے سوچیے آپ کی آنکھوں کے سامنے آپکی ماں کی گود سے آپ کے بھائی کو پکڑ کر دشمن چیر دے اس کے نرم و نازک جسم میں پیلٹ گن کی گولیاں مار دیں آپ کیا کریں گے آپ چلائیں گے آپ شور مچائیں گے
    آپ کی بہن کی عزت آپ کے سامنے نوچ دی جائے آپ برداشت کریں گے
    کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے بچے یتیمی کی زندگی گزاریں
    ۔۔۔نہیں۔۔۔
    آپ یہ سب سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کی ماں کی ممتا تڑپے آپ کی بہن کی عزت و عصمت لوٹی جائے اور آپ کے بچے لا وارث بے سہارا زندگی گزاریں۔۔۔۔۔۔

    کشمیر جدھر پھولوں کو کھلنا تھا کلیوں کو مہکنا تھا وہاں پر پھول جیسے معصوم بچے اور کلیوں جیسی معصوم بچیوں کو بچپن میں ہی زمین میں درگورکر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
    کشمیر قربانی مانگ رہا ہے جو ہم نہیں دے رہے سندھ میں موجود بیٹی نے جب پکارا تو محمد بن قاسم نے اپنی فوج کے ساتھ دشمنو پر دھاوا بول دیا لیکن یہاں پر لاکھوں کشمیری بیٹیوں کی پکار ہے کوئی نکل کیوں نہیں رہا ۔۔۔۔۔؟

    آج ہم پر جو رب کا عذاب مسلط ہوا ہے یہ انہی کشمیریوں کی آہ ہے اسی کشمیر کی بیٹی کی پکار ہے جس نے کہا تھا یا رب ایک دفعہ پوری دنیا کو لاک ڈائون کر دے تاکہ یہ ہماری اہمیت کو سمجھ سکیں ۔۔۔۔

    آج دنیا میں 20 دن کے لاک ڈائون نے کشمیریوں کے 8 ماہ یاد دلادیے لیکن فرق بہت ہے پھر بھی ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیاء موجود ہیں کشمیریوں کے پاس وہ بھی نہیں بعض کے پاس تو ایک گھونٹ پانی پینے کو بھی میسر نہیں۔۔۔۔۔
    کیا ایسی حالت میں کشمیریوں کی آہ نہ لگتی؟
    کیا کشمیری رب کو پکارتے نہ؟
    کیا کشمیریوں کی للکار اس حالت میں عرش نہ ہلاتی۔؟

    آج آہ لگ چکی ہے خدارا اب بھی نکلو بچالو کشمیر کو میرے بہادر بھائیو کشمیر باتوں سے نہیں شمشیر سے آزاد ہو گا
    اپنے پیاروں کو چھوڑنا پڑے گا اپنا گھر ،مال اور حتی کہ اپنی جان کو بھی پیش کرنا پڑے گا
    تب ہی جنت نظیر وادی مل پائے گی جنت آسانی سے نہیں مل جانی اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی
    وجاھدو فی سبیل اللہ کرنا پڑے گا خواہشات کو ترک کرنا پڑے گا۔۔۔
    اگر ہم نے اپنی باقی زندگی میں کشمیر کے لیے ،ظلم کے خلاف ،مظلوم کی آہوں اور سسکیوں کے لیے عملی قدم نہ اٹھایا تو یاد رکھیں ایک عدالت ابھی باقی ہے جہاں حتمی فیصلے ہونے باقی ہیں ۔۔۔۔۔

    سوچیں۔۔؟
    جب کشمیری،فلسطینی اور امت کے ہر مظلوم وہاں پر فریاد کریں گے یا رب تونے تو کہا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے لیکن یہ مسلمان کیسا تھا جو ہماری تکلیف کو سمجھ نہیں سکا ہماری مدد کو نہیں آیا۔؟
    تو کیا جواب دو گے ۔؟جب کوئی جواب نہیں آئے گا تب آخری فیصلہ کیا جائے گا۔
    سوچ لیں اپنے بارے میں کیسا فیصلہ چاہیے آپ کو۔۔۔؟
    نہریں بہتی جنت یا چنگھاڑتی مارتی آگ والی جہنم ۔۔۔۔۔؟

    کشمیری منتظر ہیں ۔۔ کشمیری بہنا امید میں ہے کہ اس کے غیور بھائی سپہ سالار قاسم،محمود برہان و منان وانی دوبارا ضرور آئیں گے انہیں یقین ہے وہ امید لگائے بیٹھے ہیں وہ مایوس نہیں ہوئے ایک لمحہ بھی۔۔

    پر اب وہ سوچتے ہیں شاید یہ قوم سو چکی ہے گہری نیند میں انہیں اب درد دکھائی نہیں دیتا انہیں اب جیل میں پڑی آسیہ اندرابی یاد نہیں آتی ؟
    یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے شہداء کا لہو ؟
    غیور غیرت مند قوم پاکستان کے بھائیو !!!
    نکلو کہ کشمیر قربانی مانگ رہا ہے ان کے یقین کو حقیقت کر ڈالو ابھی وقت باقی ہے آزادی کا سورج طلوع ہونے میں اس سے پہلے کہ اُمید کا یہ آفتاب غروب ہو جائے۔۔۔۔۔

    اٹھو اے مسلموں یہ وقت کا آخری تقاضہ ہے

    کشمیر کے بہتے لہو نے تمہیں پھر سے پکارا ہے

    اگر کر لو گے ہمت تو مل جائے گی آزادی

    ورنہ سمجھ لینا کہ قسمت میں لکھی ہے فقط غلامی

  • غریب کا درد… بقلم: جویریہ چوہدری

    غریب کا درد… بقلم: جویریہ چوہدری

    غریب کا درد…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)

    دعا ہے یا رب یہ وبا بھی جلد ٹل جائے…
    غریب بھی پھر اپنے آپ سنبھل جائے…
    بھوک کا منڈلاتا سایہ خوفناک بہت ہے…
    اس ڈر سے کہیں کوئی ہار نہ دل جائے…
    سماجی فاصلے کا اُڑاتا ہے غریب مذاق…
    کہیں حصولِ امداد کا گزر نہ پَل جائے…
    مزدوری و دیہاڑی کے پھر لمحے لَوٹ آئیں…
    مزدور کا بدن چاہے دھوپ سے جَل جائے…!!!
    ہاتھ کی کمائی کا مزہ ہی کچھ اور ہے…
    اس ذلت و پریشانی کا نکل کوئی حل جائے…!!!
    دعوؤں سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا آئے نظر…
    کہیں کاغذوں پر ہی صرف کام نہ چل جائے…!!!

  • وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:2]
    (تحریر:جویریہ چوہدری)
    وہ مظالم اتنے شدید تھے کہ جنہیں دیکھ کر انسان کانپ جائے
    یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام قبول کر کے وفا کا حق ادا کر دیا اور ظلم کے ہر حربے کو ایمان کی گرمائش سے پگھلا دیا…
    انہوں نے جان لیا تھا کہ جنت کا راستہ مصائب و تکالیف سے بھرا ہوا ہے…
    یہ آزمائش اور امتحان کا راستہ ہے…
    یاں قدم بہ قدم رکاوٹیں کھڑی ہیں…
    راہِ وفا میں ہر سو کانٹے،دھوپ زیادہ،سائے کم…
    اسی انداز میں وقت گزر رہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان پیکرانِ وفا کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا…
    یہ قافلۂ ہجرت جب مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف گامزن ہونے لگا تو وہ وقت بھی کوئی پھولوں کا راستہ ہر گز نہ تھا…!!!
    آزمائش کے در ابھی کھلتے ہی جا رہے تھے…
    جن سے گزرتے گزرتے اس قافلہ نے کندن بننا تھا…
    رہتی دنیا تک کے لیئے مثال بننا تھا…
    حضرت صہیب نے بھی ہجرت کا پختہ ارادہ کر لیا…
    کہ اب وہ بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ پہنچ کر ہی دم لیں گے…
    اُدھر قریش کو بھی صہیب رضی اللہ عنہ کے ارادے کا علم ہو چکا تھا۔۔۔
    چنانچہ انہوں نے بھی جاسوس پھیلا دیئے تاکہ صہیب اپنے سامانِ تجارت اور سونے،چاندی کے ہمراہ مکہ کی حدود سے کہیں باہر نکل نہ جائے…
    مگر حضرت صہیب بھی رسول اللہ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بعد ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ کب وہ ان جاسوسوں کی نگرانی اور تعاقب کرتی آنکھوں سے بچ بچا کر ہجرت کر جائیں…
    آخر کار ایک رات حضرت صہیب بار بار گھر سے باہر نکلتے اور داخل ہوتے رہے،
    اس اضطراری کیفیت کو دیکھ کر قریش مکہ کے جاسوس مطمئن سے ہو گئے کہ لات و عزیٰ نے آج اسے پیٹ کی سخت تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے…
    حضرت صہیب نے ان کی اس صورت حال کو بھانپ لیا اور وہاں سے فوراً نکل جانے کا سوچا…
    لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ نگرانی پر متعین لوگ ہڑبڑا کر اُٹھے،
    آپ کو وہاں نہ پاکر اپنے تیزرفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر انہیں سرپٹ دوڑا دیا…
    حضرت صہیب بھی اس صورت حال کو سمجھ گئے…
    آہٹیں سنتے ہی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے…
    ترکش سے تیر نکالا اور کمان پر چڑھا کر اپنا تعاقب کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
    اے قریش !!
    تم جانتے ہو کہ میں سب لوگوں سے بڑھ کر تیر انداز ہوں،میرا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا…
    اس لیئے یاد رکھنا کہ تم مجھ تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تمہارے اتنے آدمی قتل نہ کر دوں جتنے میرے ترکش میں تیر ہیں،
    جب تیر ختم ہو گئے تو میں تلوار سے تمہاری گردنیں اُڑاؤں گا…
    غرض یہ معرکہ آرائی اس وقت تک جاری رہے گی،جب تک میرے ان بازوؤں میں طاقت ہے،
    اللّٰہ کی قسم تم تب تک میرے قریب نہیں پہنچ سکتے…!!!

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

  • مغربی ممالک اور لاک ڈاؤن، گھر لڑائی کے اکھاڑے بن گئے  بقلم فردوس جمال!!

    مغربی ممالک اور لاک ڈاؤن، گھر لڑائی کے اکھاڑے بن گئے بقلم فردوس جمال!!

    آپ جانتے ہیں مغربی ممالک میں لاک ڈاؤن اور گھروں تک محدود ہونے کی وجہ سے جو بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ یہ کہ گھروں میں جھگڑے اور خواتین پر تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے.

    امریکہ اور یورپ میں پولیس کو موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات اسی نوعیت کی ہیں کہ بیٹے نے ماں پر تشدد کر ڈالا شوہر نے بیوی کو مارا پیٹا.

    کیلیفورنیا کے ایک شخص نے ٹوائلٹ پیپر سے متعلق جھگڑے پر اپنی ماں کے چہرے کو لہو لہان کر دیا.

    ان جھگڑوں کی وجہ یہ ہے کہ دنیاوی لحاظ سے ترقی یافتہ یہ ممالک عائلی اور خانگی زندگی سے بالکل نا آشنا ہوچکے تھے،شوہر رات گھر کب آتا ہے بیوی رات کہاں گزار آتی ہے،ماں کہاں اور کس حالت میں ہے ان باتوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا ،ہر ایک مارکیٹ کی مشینی لائف کا الگ الگ پرزہ تھا ،آپس میں کوئی کنکشن نہ تھا.

    اب جب کہ باہر کی متحرک دنیا تھم چک ہے،مشینوں کی سانس رک چکی ہے،سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہوچکے ہیں تو سب گھروں میں مقید ہیں اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہوچکا ہے،ایک دوسرے کو برداشت کرنا ناممکن ہوچکا ہے،لہذا گھر لڑائی کے اکھاڑے بن چکے ہیں.

    اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ مشرقی دنیا میں اب تک مربوط خاندانی نظام موجود ہے، خوشگوار اور خوشحال فیملی کا تصور عملا سماج میں دکھائی دیتا ہے.

  • کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت  تحریر : حافظ احسان اللہ بلوچ

    کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت تحریر : حافظ احسان اللہ بلوچ

    کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت

    تحریر : حافظ احسان اللّٰہ بلوچ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر حکومت پاکستان نے تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں اور تقریباً تمام کاروباری مراکز بند کروا کے تمام عوام کو گھروں تک محدود کر دیا ہے ۔ اور سکول پڑھنے والے تمام بچوں سے والدین کو مل بیٹھنے یا جھیلنے کا پہلی بار موقع ملا ہے ۔ حکومتی اور نجی حلقوں میں آن لائن ایجوکیشن کی باتیں چل رہی ہیں ، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کے لئے شائد یہ تجربہ کارگر ثابت ہو جائے کہ تعلیم اور عمر کی اس سٹیج پر پہنچ کر ان کو حصول تعلیم کا احساس ہو ہی جاتا ہے ۔ لیکن پرائمری ، مڈل اور میٹرک کے طلباء شاید اس کو قبول نہ کر پائیں ، بلکہ میرے خیال میں تو والدین جب بچوں کو آن لائن ایجوکیشن پر مجبور کریں گے تو والدین اور بچوں میں ایک نفسیاتی جنگ چھڑ جانی ہے ۔ پہلے ہی ہمارے ملک کے جبری نظام تعلیم نے بچوں کے فطری حقوق سلب کر رکھے ہیں اور 72 سالوں میں ہم تعلیمی نظام نہیں سدھار پائے تجربوں پر تجربے کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب ایک نیا تجربہ کرنے جا رہے ہیں ۔ ” سبق فاؤنڈیشن ” نے آن لائن ایجوکیشن پر کافی کام کیا ہے لیکن اس سے طلباء نے کم اور اساتذہ نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔

    بہرحال گھروں میں دندناتے یا والدین کی سختی سے سہمے بچے اس وقت ایک مسئلہ تو ہیں کہ ان کو کیسے ڈیل کیا جائے ، ان کو کیسے تعلیم دی جائے ، ان کی انرجی کو کیسے کھپایا جائے اور ان کے ضائع ہوتے وقت کو کیسے بچا کر مفید بنایا جائے ۔ اس میں راقم کا مشورہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ سختی اور کھینچا تانی کی بجائے افہام و تفہیم اور دوستی کا تعلق قائم کریں ، بچوں کی باتیں غور اور توجہ سے سنیں کہ کسی معاملے یا چیزوں کو دیکھ کر انہوں نے کیا سمجھا ہے ، یوں آپ بچوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اور بھی ان سے بہت کچھ سیکھیں گے . اولادِ سے سختی کرنے والے اور انہیں ہر وقت سکول کی پڑھائی ، ٹیوشن اور ہوم ورک میں الجھائے رکھنے والے والدین ذرا پیار اور محبت سے بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر تو دیکھیں ماں باپ کی محبت ، لاڈ ، ستائش اور توجہ کے لیے ترستی آنکھوں کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا اور آپ کا منہ چھپا کے پھوٹ پھوٹ کر رو دینے کو جی چاہے گا کہ تعلیم اور ترقی کی چاہ میں ہم نے اپنے بچوں سے نہ جانے ان کے کتنے فطری حقوق چھین رکھے ہیں ۔

    راقم نے اس موقع پر والدین کے لئے کچھ تجاویز اور مواد کا انتخاب کیا ہے ، جس سے والدین کو بچوں کو سمجھنے ، ان سے تعلق اور محبت میں رسوخ پیدا کرنے ، ان کی چھٹیاں یادگار بنانے ، ان کی تربیت کرنے ، ان کو سکھانے اور ان کے وقت کو قیمتی بنانے کا موقع ملے گا ۔

    1۔ بچوں کو نمازوں ، تلاوت اور دعاؤں میں اپنے ساتھ پیار اور محبت سے شریک کریں ۔

    2۔ بچوں کے ساتھ ذہنی اور جسمانی کھیل کھیل کھیلیں اور ہار کر ان کے دل جیت لیں ۔ اس کے لئے یوٹیوب پر
    Physical and intellectual games for kids at home
    سرچ کریں ۔ اس حوالے سے بہت زیادہ مواد موجود ہے لیکن یہ سرچنگ اور واچنگ بچوں کی پہنچ سے دور ہو ۔ میں کچھ پلے لسٹس شیئر کر دیتا ہوں ان سے بھی بہت کچھ مل جائے گا ۔

    3۔ اسی طرح بچوں کو اچھی اچھی اسلامی ، سبق آموز اور دلچسپ کہانیاں سنائیں اور پڑھوائیں ۔ اس کے لئے میں نے کچھ کتابوں کا انتخاب کیا ہے جس میں پرائمری لیول سے میٹرک لیول تک کے بچوں کے لئے کافی سارا مواد موجود ہے جن کے لنکس درج ذیل ہیں ۔

    سلسلہ قصص الانبیاء
    خداؤں کا قتل
    ننھی چڑیا کی بےقراری
    ناقابل یقین سچائیاں
    محمد طاہر نقاش کی کہانیاں
    طالب ہاشمی کی کہانیاں
    شاہین بچوں کے اقبال

    اشتیاق احمد رحمہ اللّٰہ کے اردو ناولز

    4۔ بچوں کے ساتھ کارٹون دیکھیں ۔ یہ کارٹون کیبل یا ڈش انٹینا پر دیکھنے کی بجائے یوٹیوب سے ڈاؤن لوڈ کرکے پھر دیکھیں اور یہ ڈاؤن لوڈنگ بچوں سے خفیہ ہو ۔ اور اس کے لئے چند ایک بہترین کارٹون سیریز کے لنکس میں شیئر کر رہا ہوں جن سے بچے تو بچے بڑے بھی بہت کچھ سیکھیں گے ۔ اور ان کو دیکھنے کے دوران بچوں کو بہت کچھ سکھایا جا سکتا ہے مثلاً ان میں خوبی اور ذہانت کی بات یا کارٹونز میں موجود کرداروں سے ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی وغیرہ ۔

    عبد الباری کے کارٹون

    عبداللّٰہ اینڈ فرینڈز کارٹون

    طارق بن زیاد کارٹون

    ایم آئی ایس کارٹون

    پیٹ اینڈ میٹ کارٹون

    5۔ بچوں کے ساتھ مل کر گھر کی صفائی بھی کر سکتے ہیں ، کھانا بھی اور دیگر چیزیں بھی بنا پکا سکتے ہیں ، گھر میں پودے وغیرہ بھی لگائے جا سکتے ہیں ۔ اور اس کے لئے یوٹیوب پر بڑا مواد موجود ہے ۔

    6۔ جب آپ بچوں کے ساتھ اس قدر گھل مل جائیں گے تب آپ بچوں سے اپنی ہر بات بغیر کسی سختی سے منوا سکتے ہیں ۔ تو بچوں کو پڑھانے لکھانے کے ساتھ ساتھ عقائد و عبادات ، اخلاقیات اور مسنون دعائیں سکھائیں ، رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ یاد کروائیں تاکہ آپ کے بچے پکے اور سچے مسلمان بنیں ۔

    روشنی کا سفر
    ایپ (Daily dua for kids)

    7۔ اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ آپ بچوں کی تعلیم و تربیت کی مہارتیں بجی سیکھیں ، اس کے لئے میں چند ایک مفید کتابوں کے لنکس شئیر کر رہا ہوں ان کا مطالعہ ضرور کریں زندگی بامقصد معلوم ہوگی ۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق تربیت

    بچوں کی تربیت کیسے کریں

    ہمارے بچے ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟

    اسلام میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں

    بچوں سے گفتگو کیسے کریں

    بدچلنی اور جنسی بے راہ روی سے بچوں کی حفاظت کیسے کریں ؟
    والدین کا احتساب

    بچوں کا احتساب

    بچوں کی نفسیات

    بچوں کی نشوونما

    أج کے بچے کل کی قوم ، آپ کے بچے آپ کی آخرت کا سرمایہ

  • راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے۔ حافظ احمد سعید جعفر

    لاک ڈاؤن کے دنوں وقت کو دھکا لگا مشکل ہوگیا تھا
    ایسے میں وقت کی گھڑی کو ریورس مارا
    اور 1955کے زمانے میں پہنچ گیا
    راج کپور جو کہ بالی وڈ کی میری فیورٹ شخصیت ہیں
    صرف اسکے لئے یہ ہمت کر بیٹھا
    ورنہ اتنی پرانی فلم کسی کو آپ زبردستی پانچ منٹ نہیں دکھا سکتے .
    فلم کا نام ہے شری 420
    میرے خیال سے اس کا مطلب ہے "صاحب 420”
    1955میں روس کا صدر بھارت آیا
    نہرو نے اسے کہا
    کہ بھارت کی جس جگہ کا آپ وزٹ کرنا چاہیں آپ کرسکتے ہیں
    جس پر روس کے صدر نے کہا
    ہم تو بھائی شری 420سے ملیں گے
    فلم دیکھنے کے دوران
    ایک ترکی سے تعلق رکھنے والے کا کمنٹ پڑھا
    کہ راج کپور کی موویز کو subtitleدیں
    ہم اسکے فین ہیں
    روس چائنا اور نجانے کہاں کہاں کے لوگوں نے لکھا ہوا تآ
    کہ ہمارے باپ دادا راج کپور کے فین تھے
    حالانکہ یہ باتیں تو مجھے اب پتہ چلیں
    کہ دنیا راج کپور کی فین ہے
    میں تو بچپن سے راج صاحب کا فین ہوں
    دنیا فلم سے اپنا وقت پاس کرتی ہے
    مگر میں وقت پاس کرنے کے ساتھ ساتھ
    لوگوں کا مزاج ,الفاظ کا چناؤ اور رہن سہن اور پتہ نہیں
    کیا کیا چیزیں نوٹ کرتا ہوں
    اس فلم میں ایک جگہ مجھے ہنسی آئی
    کہ جب کوئی کہ رہا تھا
    آجکل نیا زمانہ ہے
    مطلب ہر زمانہ اپنے زمانے میں نیا ہوتا تھا
    اکثر لوگوں سے یہ سنا ہے
    کہ آجکل پیسے کی بڑی قدر ہے
    پرانے زمانے میں مکان کچے اور دل سچے ہوتے تھے
    ایسا کچھ بھی نہیں تھا
    بالکل آج کی طرح پیسے کی قدر تھی
    بنا پیسے کے راج صاحب کو ہوٹل والے سے چائے کی پیالی کی امید نہیں تھی نرگس صاحبہ سے بہانے بہانے سے پیسے مانگ کر ہوٹل والے کو دئے
    اور پھر جب 420بن کر پیسہ کمانے کے بعد اسی ہوٹل پر چائے پینے آتے ہیں
    تو عزت کے ساتھ چائے ملتی ہے
    جیب کترے اس زمانے میں بھی تھے
    راج صاحب کی جیب بھی بمبئی کے جیب کترے کاٹ کر سارے پیسے نکال لیتے ہیں
    اس زمانے میں بھی امیروں کے پاس گاڑیاں تھیں
    گاڑیوں کے مقابلے میں سائیکل تھی
    میں حیران ہوا کہ 2005میں ہمارے شہر میں موبائل کمپنیاں آئیں
    ورنہ اس سے پہلے سب امیر لوگ بھی فون کا استعمال نہیں کرتے تھے
    مگر اتنی پرانی فلم میں بھی کچھ بڑے لوگوں کے ہاں
    تین تین ٹیلی فون تھے
    کچھ لوگ کہتے ہیں
    پرانی فلموں میں ایکٹنگ خاص نہیں تھی
    مجھے تو کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ کوئی ایکٹنگ کررہا ہے
    فلم کا ایک ایک سیکنڈ دیکھا ہے
    آخری آدھا گھنٹہ ابھی دیکھنا ہے

  • مسرت کے حصول کے اصول__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

    مسرت کے حصول کے اصول__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

    کہیں خوش رہنے کے سات اصول پڑھےتھے__:
    شکر گزاری کا احساس۔
    رشتوں کی قدر۔

    سفر کرنا اور کائنات کا مشاہدہ کرنا۔
    معاف کرنا۔
    بھول جانا۔
    زندگی میں ہر لمحہ سیکھنا۔
    قضا و قدر پر ایمان_!!!

    میں نے کب سے بابا سے وعدہ لیا ہوا تھا کہ میں کبھی کھیتوں اور جنگل کو دیکھنے آؤں گی…
    سبزہ،چشمہ،چوٹیاں اور گہرائی کے قدرتی مناظر دیکھنا مجھے بہت پسند ہے…

    اور یہ خوب صورت مناظر اگر آپ کو کہیں قریب دیکھنے کو مل جائیں تو مقصد فرحت کا محسوس کرنا ہی ہوتا ہے ناں؟
    تو آج سوچا کہ ان دنوں کسی کے گھر جانا تو اختیار کی گئی قومی تدابیر کی پالیسی کے خلاف ہے تو کیوں نہ ذرا کسی خاموش اور ویران جگہ کو نکل جایا جائے…

    ناشتے کے بعد کام نمٹائے اور کھیتوں کی جانب سفر شروع کیا،سفر پیدل کرنا تھا کیونکہ تبھی ہم مرضی سے کوئی چیز دیکھ اور تدبر کر سکتے ہیں…
    راستے میں آنے والے درختوں کے گہرے سبز جھنڈ…گھاس کے بچھے فرش اور اونچی،نیچی چوٹیوں نے عجب فرحت کا احساس رگ و پے میں بھر دیا…

    کھیت میں پہنچ کر گندم کی فصل کا جائزہ لینے کے بعد…

    انسان کے بیج بو دینے،پھر رب کے بارش برسانے سے اُگنے والی فصل جب پھل اٹھانے لگتی ہے تو کسان کتنا مچلنے لگتا ہے مگر کبھی وہ اپنی قدرت کا نظارہ کراتے ہوئے اولوں یا ضرورت سے زیادہ بارش ہی کر دے تو انسان کے بے بسی کا کیا عالم ہوتا ہے؟

    درختوں کے گھنے جھنڈ کے سائے میں ایک ریت کے مضبوط کرسی نما پتھر پر بیٹھ کر سستانا شروع کیا تو عاجزی کا رنگ ایسے جھلکنے لگا کہ جو انسان گھر میں ناز،نخرے اٹھاتا اور زمین پر بیٹھنا بھی توہین تصور کرتا ہے…
    مجبوری میں سب کیسے ممکن ہو جاتا ہے اور پل بھر میں خود ساختہ تکبر کی عمارت گر جاتی ہے

    اور پھر یہی انسان موت کے بعد کس خاموشی سے منوں مٹی کے نیچے چلا جاتا ہے…

    ہاں تب بیٹھے بیٹھے تاریخ کا کامیاب ترین حکمران عمر رضی اللہ عنہ بھی یاد آئے کہ جو پتھر سے ٹیک لگا کر گہری نیند سو گئے تھے اور روم کے سفیر نے یہ عالم دیکھا تو پکار اُٹھا اے عمر…!!!
    تو نے انصاف کیا ہے تبھی اتنی پرسکون نیند اس پتھر پہ سر رکھے سو رہا ہے…!!!

    درختوں کی شاخوں سے نکلتے نرم و نازک پتوں کی بھینی بھینی خوشبو سانسوں میں اترنے لگی اور آلودگی سے پاک ماحول میں عجب ہی طراوت بکھر رہی تھی تو مجھے آلودگی کے خاتمے میں درختوں کے کردار کی اہمیت سمجھ میں آنے لگی…انہی خیالات میں ذہنی آسودگی میں آگے بڑھتے ہوئے پاؤں پتھر سے ٹکرایا تو دو چار قدم آگے لڑھکنے پر رستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹانے کی تعلیم ذہن میں گردش کرنے لگی،کیونکہ انسان کو تب وہ بہت سی چیزیں یاد آتی ہیں جب وہ ذہنی طور پر پُرسکون ہو اور الجھن کی حالت میں اس سے اکثر معلوم چیزیں بھی کھونے لگتی ہیں…!!!

    جب ایک چوٹی پر کھڑے ہو کر نیچے گہرائی کا جائزہ لیا تو قدرتی انداز میں کٹے ہوئے حصے اور بھاری بھر کم پتھر کیا ہی بھلے لگ رہے تھے…
    میرے بہن اور بھائی کو میرے کہیں کھائی میں ہی جا گرنے کا خوف لاحق ہوا تو پیچھے کھینچ لیا…

    گزرتے بارشی پانی کی آواز خاموشی میں عجب ترنم پیدا کر رہی تھی اور سرمئی رنگ کی چٹانوں سے گزرتی لہریں اپنے رستے پر یکسوئی سے رواں دواں تھیں…
    ایک دم کیا ہی سکون کا منظر تھا جب دل صرف قدرت کی کبریائی پر حمد کے ترانے گا رہا تھا کہ انسان کے لیئے سیکھنے،سمجھنے،اور خوشی حاصل کرنے کے اللّٰہ تعالٰی نے کیا کیا سامان پیدا فرمائے ہیں مگر…؟

    تبھی ارشاد باری تعالی ہے:
    "پانی کے ذریعے ہم نے دلکش باغات اُگائے…
    کبھی فرمایا:

    "یہ اللّٰہ کی مخلوق ہے،مجھے دکھاؤ اس کے علاوہ دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے…”(لقمٰن)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے ہر چیز کی تخلیق بہترین انداز میں کی ہے جو اس کی حکمت و عظمت کی دلیل ہے…

    رنگ برنگی چڑیوں کی چہچہاہٹ اور تیتروں کی خوش کن بولیاں خاموشی میں عجب گونج پیدا کر رہی تھیں…
    اونچے،نیچے رستوں سے گزرتے اس کائنات کی خوب صورتی کا راز سمجھ آ رہا تھا کہ اگر ہر طرف ہی صحرا و مٹی ہوں،
    اور یہ چٹانیں اور پہاڑ نہ دکھائی دیں تو انسان کی نظریں ٹھنڈ نہ پا سکتیں…

    خوب صورت رنگوں اور انداز میں اس کی تخلیق کر کے اللّٰہ تعالٰی نے انسانوں کی دلکشی کے سامان کیئے ہیں اور ہر علاقہ و جگہ کی الگ ہی شان ہے…
    اب ذرا بلندی سے اُتر کر نیچے کی جانب بڑھنا شروع کیا تو زمیں سے نکلتے چشمے نے اور آنکھیں کھول دیں کہ کون ہے جو تمہارے لیئے گہرائی سے پانی کا انتظام کرتا ہے؟
    خود کوفریش کرنے کے لیئےٹھنڈے یخ پانی کو ہاتھوں میں بھر کر منہ پر ڈالا،

    تو آدھی تھکن اترتی محسوس ہوئی…
    خوش ذائقہ پانی کے چھوٹے چھوٹے چشمے وہیں ڈیرہ ڈال لینے پر آمادہ کر رہے تھے اور قریب ہی بڑے پتھر سے تراشیدہ جائے نماز جتنی جگہ نماز پڑھنے کے لیئے بھی مناسب محسوس ہو رہی تھی…
    ہاں بس کمی تھی تو کسی چائے کے کھوکھے یا عارضی سے ہوٹل کی…

    اب نمازِ ظہر کا وقت ہوا چاہتا تھا تو واپسی کا ارادہ کیا لیکن سچ میں اس سکون سے واپسی پہ ذرا دل نہیں کر رہا تھا…
    میں نے شگفتگی کے لیئے سب سے کہا حدیث میں ہے کہ:

    وہ وقت بھی آئے گا جب مسلمان کا بہترین مال اس کی بکریاں ہوں گی،جنہیں وہ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنے دین کو فتنوں سے بچاتا پھرے گا…(صحیح بخاری)۔
    سب نے میری تائید کی اور آہستہ آہستہ واپس چلنے لگے…

    قارئین !!!
    ضروری نہیں کہ آپ پیسہ خرچ کریں،ہوٹلوں کے اخراجات بنائیں اور تب ہی کسی سفر یا سیر کا پروگرام بنائیں،بلکہ آپ اپنے اردگرد کے کھیتوں اور جنگلات کا رُخ کر کے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے،قدرت کے مناظر پر غور و فکر کر سکتے اور کچھ وقت کے لیئے مسرت کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں…

    اپنی مصروفیات اور کھپنے سے جان چھڑا کر کچھ وقت کے لیئے ہی سہی لیکن خوشی کو تلاش ضرور کرنا چاہیئے…!!!
    بقول شاعر:
    ترجمہ…” فضا کی کتاب پڑھو، اس میں تمہیں وہ صورتیں ملیں گی جو کسی کتاب میں نہیں،تابناک سورج،چمکدار ستارے،نہریں،تالاب،ٹیلے،درخت،پھل،روشنی،پانی ہر چیز کا مطالعہ کرو…”
    تب اللّٰہ تعالٰی کی قدرت پر یقیناً بول پڑو گے کہ بڑا بابرکت ہے جو بہترین تخلیقات کرنے والا ہے…!!!
    خوشی زندگی ہے،افسردگی موت ہے…

    مشکلات سے ٹکراتے ہوئے بھی خوشیاں کشید کرتے رہیئے…
    اپنے لیئے بھی خوشیوں کا ارماں پورا کیجیئے اور دوسروں کی خوشی کے بھی سامان کرتے رہیئے…
    کہ زندگی زندہ دلی سے ہی تو جینے کا نام ہے ناں؟؟؟
    ==============================
    {جویریات ادبیات}
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
    مسرت کے حصول کے اصول__!!!
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا

    بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا

    سرینگر:بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ،اطلاعات کےمطابق حریت رہنما یٰسین ملک کو بھارتی حکومت نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کرلیاہے ، ادھرذرائع کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہاہے کہ یاسین ملک کو انکے خلاف دائر مقدمہ میں منصفانہ سماعت سے محروم رکھا جارہا ہے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت نے کالعدم لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کو دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کر رکھا ہے۔گزشتہ سال اپریل میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے یاسین ملک کو جب گرفتار کیاتو وہ پہلے ہی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ایک جیل میں نظربند تھے ۔ ان کیخلاف 1990میں بھارتی فضائیہ کے چارافسروں کے قتل کا مقدمہ درج کیاگیا تھا جس کی سماعت جموں کی ٹاڈا عدالت میں جاری ہے اور سی بی آئی مقدمے کی پیروی کر رہی ہے ۔

    یاسین ملک کیخلاف متعدد مقدمات کی تیزی سے سماعت سے خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ بھارتی حکومت نے پہلے ہی ان کی سزائے موت کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔ ساوتھ ایشین وائرکے مطابق یاسین ملک کے اہلخانہ نے قطری ٹی وی چینل الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ قتل کے30سال پرانے جھوٹے مقدمے کودوبارہ کھولنے اور تیزی سے اس کی سماعت سے بھارتی قابض انتظامیہ کے خطرناک مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

    مقدمے میں یاسین ملک کی پیروی کرنے والے وکیل طفیل راجہ نے کہاہے کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کیخلاف جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ہیں تاہم انہوںنے کہاکہ وہ کسی قسم کے دباو میں ہرگز نہیں آئیں گے ۔

    انسانی حقوق کے معروف علمبردار اورجموںوکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے سربراہ خرم پرویز نے کہاہے کہ مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر آپ کیخلاف اچانک دہائیوں پرانا مقدمہ دوبارہ کھول دیا جاتا ہے اور آپ کو دفاع کا حق نہیں دیا جاتا تو یقینا اس پورے عمل پر سوالہ نشان لگ جائے گا۔

    آزاد کشمیرکے ایک محقق فیضان بٹ نے کہاکہ جب کشمیری سیاسی نظربندوں کی بات آتی ہے تو بھارتی ریاست کے علاوہ عدلیہ بھی تمام اصولوںاور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی تیزی سے سماعت کی جارہی ہے اس سے یہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کہ تاریخ خود کو دوہرانے جارہی ہے ۔

    سابق بھارتی سفارتکار وجاہت حبیب اللہ نے جو 1990کی دہائی میں فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروںکے ہمراہ یاسین ملک سے متعد د بار ملاقاتیں کر کے ہیں یاسین ملک کے عدالتی قتل کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تسلیم کیا ہے ۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہاہے کہ وہ یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کے بارے میں قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم اگر انہیں ایک پرانے مقدمے میں پھانسی دی جاتی ہے تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔

  • کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟  تحریر؛ صابر ابومریم

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ تحریر؛ صابر ابومریم

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا
    تحریر:صابر ابومریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    گذشتہ تین ماہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے جس کے باعث کئی ہزار اموا ت ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جس جس ملک میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں وہاں پر باقاعدہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لاک ڈاؤن ہونے والے ممالک میں چین، اٹلی، فرانس،لبنان،عراق،غزہ، فلسطینی مقبوضہ علاقہ،اردن،غاصب صہیونی ریاست اسرائیل، اسپین،پاکستان اور برطانیہ سمیت امریکہ کی اتحاد ی ریاستیں بھی شامل ہیں۔اسی طرح کئی ایک اور ممالک ایسے ہیں جو اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔صورتحال یہاں تک آ ن پہنچی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ایک عام رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہو چکا ہے۔سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔دنیا بھر میں اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سماجی دوری کو حل قرار دیا جا رہاہے۔ غرض یہ ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ احتیاط اور طریقہ کار کو خاطر میں لایا جا رہاہے۔

    اس طرح کے حالات میں کہ جب پوری انسانیت خطر ناک دور سے گزر رہی ہے اور ایک تجزیہ کے مطابق شاید گذشتہ کئی صدیوں میں اس طرح کا بحران دنیا کو سامنا نہیں ہوا ہے۔حالانکہ دو بڑی جنگیں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورتحال تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کر چکی ہے۔ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہاہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟یقینا یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔

    ان تمام تر سنگین حالات میں کہ جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے باعث نظام زندگی متاثر ہے وہاں ساتھ ساتھ دنیا میں ان ممالک اور علاقوں کی بات بھی سامنے آنا بہت ضروری ہے کہ جو نہ صرف اس وباء سے نبرد آزماہیں بلکہ ساتھ ساتھ عالمی صہیونزم اور ظلم کا شکار ہیں۔

    اس عنوان سے ہمارے سامنے آج کی موجودہ صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ سب سے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی بھارت کی ریاستی دہشت گرد ی کا سلسلہ جار ی ہے، شام کے سرحدی علاقوں پر ترک افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے بھی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، یمن پر جاری سعودی جارحیت بھی انسانیت کے چہرہ پر سیاہ کلنک کی مانند واضح نظر آ رہی ہے۔ایران پر امریکی معاشی دہشت گرد ی بھی جاری ہے، حالانکہ ایران بھی چین، اٹلی، اسپین، فرانس کے بعد پانچواں ایسا ملک ہے کہ جہاں اموات کی شرح زیادہ ہوئی ہے۔لیکن اس صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کو سخت کیا جا رہاہے اور میڈیکل امداد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔کورونا وائرس کی اس دنیامیں عالمی سامراج اور صہیونزم کی دنیا اپنے ظالمانہ عزائم سے باز نہیں آ رہی ہے اور دنیا کے مظلوم خطوں پر مظالم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ایسے حالات میں یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟

    اسی سوال کے عنوان سے حال ہی میں لبنان کی ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت اور اسلامی مزاحمت کے قائد اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں اس سوال کو اٹھاتے ہوئے اس کا جواب دیا ہے۔

    سید حسن نصر اللہ نے اپنی گفتگو میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ کورونا وائر س کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟ کہا ہے کہ آج ہم دنیا میں ایسی صورتحا ل کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کی طول تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔کم سے کم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ صورتحال کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطر ناک ہے۔

    انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد مشرقی و مغربی یورپ کے خاتمہ کے بعد ان سب کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ وہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہو چکاہے۔آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہاہے اسکی بنیاد ثقافتی، اعتقادی، دینی،فکری،فلسفی اور جو کچھ بھی ان سے مربوط ہے کو ایک چیلنج درپیش ہے اور یہ ایک زلزلہ ہے جو آ رہا ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں اہم مرحلہ دنیا کی حکومتوں کو درپیش چیلنج ہے۔ جس میں ایک بڑا چیلنج اقوام متحدہ کے اپنے موثر ہونے کا چیلنج ہے اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اتحادیوں کو اپنے موثر ہونے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔نہیں معلوم امریکہ کی متحدہ ریاستیں متحد رہ پائیں گی یا نہیں؟یا پھر موجودہ یورپی اتحاد باقی رہ پائے گا؟اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی موجودہ نسل چاہے وہ کسی بھی خطہ میں ہو دنیا میں کہیں بھی ہم ایک جدید دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔اس تجربہ کی گذشتہ ایک سو یا دو سو سالوں میں مثال نہیں ملتی ہے۔ممکن ہے کہ دنیا اور بشریت ایک نئے حالات اور نئے نتائج کی طرف منتقل ہو جائے۔اس احتمال کی بنیادیں علمی او ر واقعی ہیں۔فکری، ثقافتی اور سیاسی سطح پر اور اسی طرح اتحادی گروپس کی سطح پر، اقتصاد، پیسہ، ریزرو، اور اجتماعی و معاشرتی بنیادوں پر۔ہر سطح پر ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کیا آج وقت نہیں آ گیا ہے کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ ختم کرو اب بس بہت ہو گیا۔اب اگر دنیا اس فکر میں ہے کہ کیسے جنگوں، لڑائیوں اور مشکلات کو ختم کیا جائے؟اور کورونا سے مقابلہ کو اولیت دی جائے۔یہاں ایک سوال ضرور یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے خلاف سعودی جنگ کوختم کیا جائے؟

    کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور انسان اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے خلاف صہیونی جرائم کا خاتمہ کیا جائے؟آج دنیا کے با ضمیر انسانوں کو یہ آواز پہلے سے زیاد ہ بلند آواز میں اٹھانی چاہئیے کہ ذاتی اختلافات نظر کو اور سیاسی حساب کتاب اور ان باتوں کی جگہ نہیں ہونی چاہئیے۔آج انسانیت کی خاطر صرف اور صرف انسانیت کی خاطر پوری دنیا کو چاہئیے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے اور ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، صہیونیوں کے ظلم و ستم کو روکا جائے،سعودیہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ وہ یمن کے مظلوم عوام پر جنگ بند کر دیں۔

    اگر واقعی یہ عالمی اتحاد اور قوتیں انسان دوست ہیں توآج وقت ہے کہ اپنے ان دعووں کو سچا کر دکھائیں اور دنیا بھر میں جاری ظلم و ستم کو انسانیت کی بقاء کی خاطر رو ک دیں اور آئندہ ایسے جارحیت پسندانہ اقدامات سے بھی گریز کریں۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا یقینا تبدیل ہو جائے گی اور یہ وہ امتحان ہے جس کا ہمیں مشاہدہ کرنا ہے۔