Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین   تحریر :غنی محمود قصوری

    14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین تحریر :غنی محمود قصوری

    ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine’s Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
    اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
    1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
    بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
    تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں

  • ملتان سلطانز اور دراز کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

    ملتان سلطانز اور دراز کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

    :ملتان سلطانز اور دراز کے درمیان پی ایس ایل فائیو کے لئے معاہدہ طے پاگیا

    باغی ٹی وی :ملتان سلطانز کے آنر علی ترین اور دراز کے سی ایم او عمار نے معاہدے پر دستخط کر دئیے ملتان سلطانز کے آنر علی ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ ہم نے اپنی ٹیم کا خود انتخاب کیا ہے ۔ ہم نے لانگ ٹرم پالیسی کے تحت ٹیم اور کوچنگ سٹاف کا انتخاب کیا ہے ۔ کل سے لاہور میں ملتان سلطانز کاکیمپ لگے گا۔ تمام غیر ملکی کھلاڑی آج رات تک لاہور پہنچ جائیں گے ۔ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں ہماری ٹیم نہیں بلکہ کوئی نمائندہ جائے گا ۔

    عمار حسن سی ایم او دراز نے کہا کہ ملتان ایک ترقی کرتاہوا شہر ہے اسی لئے ملتان سلطانز کے ساتھ منسلک ہوئے ہیں ۔ ملتان سلطانز کی شرٹس اور دیگر سامان دراز پر دستیاب ہوں گے ملتان سلطانز کا فین کلب آن لائن بنائیں گے ۔

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل کے دوران ہیروز کی خدمات کا اعتراف

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کے دوران ہیروز کی خدمات کا اعتراف

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کے دوران ہیروز کی خدمات کا اعتراف

    باغی ٹی وی : ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے ایڈیشن 2020 کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیروز کی خدمات کا اعتراف کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ملک کا نام روشن کرنے والے ان ہیروز کی خدمات کا اعتراف لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے دوران کیا جائے گا۔ "ان وریکس "کے تعاون سے شروع ہونے والی اس مہم میں تعلیم، آرٹ، ثقافت، موسیقی، اسپورٹس، سوشل ورک، ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبہ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے ستاروں کو "ہمارے ہیروز” کا حصہ بنایا جائے گا۔

    پی سی بی کرکٹ کے مداحوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنارہا ہے۔ شائقین کرکٹ اپنے پسندیدہ "ہمارے ہیرو” کو ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شامل کرنے کے لیے ایچ بی ایل پی ایس ایل کی ویب سائٹ پر ووٹ کرسکتے ہیں۔

    بابرحامد، ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی :

    ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے والے لاتعداد افراد کا تعلق اس ملک سے ہے، اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن میں ان "ہمارے ہیروز” کی خدمات کے اعتراف کا فیصلہ کیا۔

    ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی نے کہا کہ ان اقدام سے نہ صرف ہمارے ہیروز کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی ملک کا نام روشن کرنے کی ترغیب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ شائقین کرکٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے پسندیدہ ہیروز کے نام بذریعہ ووٹنگ پی سی بی کو بھجوائیں۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا آغاز بیس فروری سے ہوگا۔ بائیس مارچ تک جاری رہنے والی لیگ کے 34 میچز کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں کھیلےجائیں گے۔ ایونٹ کا پہلا میچ دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کراچی میں جبکہ فائنل لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    لیگ کے لیے ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ www.yayvo.com پر دستیاب ہے جبکہ شائقین کرکٹ ٹی سی ایس کے ایکسپریس سنٹرز سے بھی ٹکٹ خریدسکتے ہیں۔

  • پاکستان  کرکٹ ٹیم کے پہلے ٹیسٹ سکواڈ کے آخری کھلاڑی کی وفات پر پی سی بی کا اظہار افسوس

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے ٹیسٹ سکواڈ کے آخری کھلاڑی کی وفات پر پی سی بی کا اظہار افسوس

    پی سی بی نے پہلے ٹیسٹ اسکواڈ کے آخری زندہ بچ جانے والے وقار حسن کے انتقال پر سوگ منایا

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج صبح کراچی میں سابق ٹیسٹ بلے باز وقار حسن کے انتقال پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وہ 87 سال کے تھے۔

    وقار حسن جو 12 ستمبر 1932 کو امرتسر میں پیدا ہوئے ، پاکستان کے پہلے ٹیسٹ ٹیم کے آخری زندہ بچ جانے والے ممبر تھے جو اکتوبر 1952 میں نئی ​​دہلی میں ہندوستان کے خلاف کھیلا تھا۔ اس دورے پر وقار کے اسکور آٹھ ، پانچ تھے (نئی دہلی میں) ، 23 (لکھنؤ میں) ، 81 ، 65 (ممبئی میں) ، 49 (چنئی میں) اور 29 اور 97 (کولکتہ میں)۔سوہ پاکستان ٹیم کے ممبر بھی تھے جنہوں نے 1954 میں اوول میں انگلینڈ کے خلاف 24 رنز سے تاریخی جیت درج کی تھی۔

    ایک دلکش بلے باز کی حیثیت سے وقار نے 1959 میں 1،071 رنز بنانے کے بعد اپنے 21 ٹیسٹ ٹیسٹ کیریئر کا اختتام کیا۔ ان کی واحد سنچری (189) اکتوبر 1955 میں لاہور کے باغ جناح میں نیوزی لینڈ کے خلاف آئی تھی۔ اس کا 189 اس وقت پاکستان کا ریکارڈ تھا ، جسے اگلے دن امتیاز احمد نے توڑا تھا ، جس نے 209 رن بنائے تھے جب ان دونوں بلے بازوں نے 308 رن بنائے تھے۔

    ریٹائرمنٹ کے بعد وقار نے 1982-83 میں قومی سلیکشن کمیٹی کے صدر سمیت مختلف انتظامی کرداروں میں پاکستان کرکٹ کی خدمات جاری رکھی۔

    پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کہا: "یہ پاکستان کرکٹ کے لئے افسوسناک دن ہے کیونکہ آج ہم اپنا آخری ہیرو کھو چکے ہیں جس نے ہمیں 1952 میں ورلڈ کرکٹ کے نقشے پر کھڑا کیا۔ وہ اس ایلیٹ گروپ کرکٹروں میں سے تھے جس نے اس کی بنیاد رکھی جس نے اس کی شکل بدل دی۔ فخر کرکٹ قوم۔

    "مجھے اسے ذاتی طور پر جاننے کا اعزاز حاصل ہے اور میرے لیے بہت عزتو و شرف کے حامل تھے.

    انہوں نے کہا کہ وقار نہ صرف ایک بہترین کرکٹر تھے بلکہ ایک اچھے شریف آدمی تھے جنہوں نے بہت اعلی معیار طے کیے تھے۔ وہ ایک مخلص اور سمارٹ کرکٹ ایڈمنسٹریٹر تھے جنھوں نے اپنی دانشمندی اور ترقی پسندانہ انداز اور وژن کے ساتھ پاکستان میں تعاون کیا۔

    "پی سی بی کی جانب سے ، میں وقار حسن کے اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت پیش کرتا ہوں ، اور انہیں یقین دلاتا ہوں کہ وقار کو انھوں نے پاکستان کرکٹ میں جو بے مثال خدمات انجام دیں ان کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”

  • شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا

    شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا

    لاہور: شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا ،اطلاعات کےمطابق (ن) لیگ کے صدر شہبازشریف نے آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پروزیراعظم عمران خان کے کشمیریوں کے دشمن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بیان کو ناپسند کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کےایسے بیانوں سے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوجائیں‌ گے

    ذرائع کےمطابق اپنی اسی ناراضگی کا اظہارشہبازشریف نے سیاسی زبان کا سہارا لیتے ہوئے کیا ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں (ن) لیگ کے صدر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خارجہ امور سے عدم واقفیت سے ملک کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، عمران خان کے عجیب و غریب بیانات پاکستان اور بیرون ملک دوستوں کے وقارکو مجروح کر رہے ہیں۔

    شہبازشریف نے یہ ردعمل آج عمران خان کی تقریر پردیا ہے جوانہوں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کی ہے ،مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے سخت الفاظ شہبازشریف پربجلی بن کرگرے ، جس کی وجہ سے شہبازشریف نے نام لینے کی بجائے اشارتاً خارجہ پالیسی کا نام دے کرسخت تنقید کی ،

    ن لیگ کے صدرمیاں‌ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ امور خارجہ پر بولنے سے پہلے معاملے کی نزاکت کا ادراک ہونا چاہیے، عمران خان کو چاہیے ایسے حساس معاملات پر بولنے سے پہلے کچھ پڑھ لیں یا بریفنگ لے لیا کریں تاکہ ملک کو شرمندگی سے بچاجاسکے۔

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

    کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

    سکول سے لے کر کالج تک اور وہاں سے یونیورسٹی تک یہ بات اساتذہ کرام سے سنتے آ رہے ہیں کتابوں میں پڑھتے آ رہے کہ تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند کے وقت کسی بھی ریاست کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہو گی اگر کوئی ریاست میں موجود لوگوں کا اس بات پر اختلاف ہو کہ پاکستان کے ستاھ شامل ہونا ہے یا بھارت کے ساتھ تو ایسی صورتحال میں وہاں کی عوام سے رائے لے اسکے نتائج کے مطابق فیصلہ حتمی اور قابل قبول ہوگا ریاست جموں کشمیر پر اسی طرز پر حالات کی سنگینی معمول پر آنے تک رائے دہی کروا کر اسکی الحاق کا وعدہ کیا گیا جو آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔

    میں راجہ مہاراجہ کشمیر اور بھارت کے درمیان غاصبانہ قبضہ کی غرض سے 1947اپنی فوج کو وادی میں داخل کر کے بڑے حصے پر قابض ہو گیا تاہم اہلیان کشمیر کی کی جانب سے بھرپور مذاہمت پر بھارت نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے دنیا کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ وہ جلد اس مسئلے پر تقسیم ہند کے وقت الحاق کے حوالے سے جو طریقہ کار اس وقت کے وائسرائے کے طریقہ کے مطابق رائے شماری کروا کر اس کے مطابق فیصلہ کروا دے گا مگر تب سے آج تک بھارت اس وعدے سے مکمل طور پر مکر گیا اور یہ راگ الاپنے لگا کشمیر تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے حالانکہ مسلم اکثریت کی وجہ سے اسکا پاکستان کے ساتھ ملنا لازم ہے مگر اقوام متحدہ گونگی بنے دیکھ رہی ہے۔

    دوسری جانب دنیا کے نزدیک کشمیر سب سے حسین اور خوبصورت ٹکڑا ہے کیونکہ یہ وادی اپنے دامن میں پہاڑوں کے سائے تلے دریاوں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے اوراسی قدرتی حسن کے باعث و نسبت وادی زمین پر جنت تصورکی جاتی ہے مگر دنیا والوں تم کیا جانو خطہ ارض پر وادی کشمیر سب سے زیادہ ظلم و جبر سہنے والے خطوں میں صف اول پر ہے کیونکہ یہ وہ وادی ہے جہاں بارود اور خون کی مہک اب وہاں کے پھولوں اور پھلوں سے زیادہ تیز ہے دریا اپنی موجوں میں خون لیے پہاڑوں سے ٹکراتی ہیں وہاں بسنے والے جوان ہوں یا بوڑھے بچے ہوں یا عورتیں سب ہرآہٹ پر خود کو بھارتی فوجیوں کی گولی کا نوالہ بنتے محسوس کرتے ہیں۔

    یہاں تک بھارت کے ظلم و ستم سے اب تک تقریبا 1 لاکھ افراد شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے ہزاروں بچے یتیم، ہزاروں بہنیں بیوہ ہو چکیں 10 سے 12 ہزار نوجوان بھارتی آرمی کے ہاتھوں اغواء ہونے کے بعد لاپتہ ہوئے سینکڑوں بہنوں کی عزت کو تار تار کیا ہزاروں کی تعداد میں نا معلوم قبریں ملی ہیں یہاں تک کے شاید کوئی ایسا ظلم نہیں جو مظلوم کشمیری پر آزمایا نا ہو بلکہ پچھلے سالوں میں میں پیلٹ گن اور کیمکلز کا بے جا استعمال کیے گئے اور سینکڑوں معصوم انکا شکار ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کی بنائی کھو بیٹھے حالات اس قدر خوف زدہ ہیں کے 9 لاکھ فوجی اس وادی میں تعینات ہیں

    ایک اندازے کے مطابق 7 کشمیریوں پر ایک ظالم فوجی تعینات ہے اور اسی غرور میں دنیائے کفر کے بڑے بڑے سرداروں کی مدد سے پچھلے سال اپنے کالے قانون میں ترمیم کر کے کشمیر کی آزادی کی حیثیت کو ختم کر کے اپنا ؑعلاقہ بنانے کی کوشش کی اور کشمیر میں پچھلے 6 ماہ سے تمام بنیادی سہولتیں مطعل ہیں کھانے پینے کی اشیاء ، میڈیکل کی سہولیات سمیت موبائل فون اور انٹرنیٹ مسلسل بند ہیں

    اس ظلم کے خلاف نا ہی کوئی ملالہ بولی نا امن کی این جی اوز نا کفار کی لونڈی اقوام متحدہ بولی باوجود اتنے ظلم و بربریت وہ آج بھی پاکستان زندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ جیسے نعرے بلند کرتے ہوئے قربانیاں دے رہیں ہیں مسجدوں میں پاکستان کے ترانے گونجتے ہیں شہداء کو پاکستان کے پرچم میں قبر میں اتارا جاتا ہے دن رات لبوں پر ایک دعا رہتی ہے اے اللہ کشمیر کو پاکستان بنا دے آزادی کے لیے اس طرح مسلسل ڈٹے ہیں وہاں موجود بھارتی فوج کا اپنی حکومت سے یہ کہنا ہے اگر فوج کودئے گئے مخصوص کالے قانون واپس لیے گئے تو کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور کالے قانون کی وجہ سے ہی ابھی تک کشمیر آزاد نہیں ہوا۔

    افسوس کی بات یہ ہے ایک طرف ہم کشمیریوں کی حق خوداریت کے حق میں اور بھارتی قبضہ کے خلاف بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ہمارے سابقہ وزیر اعظم کا رویہ ایسا ہے کہ بھارت میں جا کر حریت قیادت سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا تھا پچھلے دور حکومتوں میں خارجہ کے اہم امور کے لئے ہمارا وزیر خارجہ نہیں جو عالمی سطح پر کشمیر پر بات کر سکے دنیا کو یہ بتا سکے تحریک آزادی کشمیر ایک نظریہ کی بنیاد پر ہے کشمیر اور پاکستان کے رشتے کی نطریاتی بنیاد دنیا کے سامنے رکھ سکیں

    یہاں تک کو کشمیر کے لئے بین الاقوامی فورم پربات کرنے والے افراد کشمیر کے نقشے و تاریخ کے مطلق نہیں جانتے سول سطح پر کشمیر پر ہماری کوئی منظم پالیسی نہیں کشمیر کمیٹی پر کئی سال براجمان رہنے والے صرف سہولیات اور دعوتیں اڑانیں میں حالات کی سنگینیوں سے غافل سوتے رہے بہت بھی کیا تو رٹہ رٹایا مذمتی بیان دے دیا اور اب محب وطن لوگوں کو بھارت کے کہنے پر کشمیر پار بات کرنے والوں کو پابند سلاسل کرتے رہے بطور عوام کشمیر کی آزادی کو لطیفہ کے طور پر لیتے ائے اگر کوئی ذاتی مسئلہ حل ناہو تو ہم یہ کہ دیتے ہیں یار یہ تو مسئلہ کشمیر بن گیا ہے یہ تو حل ہو ہی نہیں سکتا دوکانوں کے اوپر پوسٹر آویزاں ہیں

    کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے جب مایوسی کے یہ حالات ہوں تو کیسے مان لیں کشمیرکی ہم مدد کر سکیں گے بلکہ پچھلے سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کشمیر کا کیس بہت اچھے انداز میں ہیش کیا گیا دنیا کے سامنت سیکولر اور جمہوریت کا دعویدار بھارتی ظلم و بربریت کا پردہ فاش کیا جب بھارت کو دنیا کے سامنے رسوائی کا سامنا کروایا بلکہ حریت قیادت نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا مگر بطور قوم ہم نے سراہنے کی بجائے اس کا بھی خوب مزاق کیا اپوزیشن کے چند اراکین نے یہ تک کہ دیا کہ یہ تقریر نہیں بچگانہ زہن کی حامل تقریر تھی

    ان سب باتوں کو چھوڑ کر کشمیر کی ازادی کے لئے ہمیں خود ہی محمد بن قاسم پیداء کرنا ہوگا ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ جیسے بہادر نڈر حوصلہ اپنانا ہوگا حیدر کرار جیسی شجاعت پیداء کرنی ہوگی ہمیں اپنے اندر ایسا محمود غزنوی تلاش کرنا ہوگا جو کشمیر کی آزادی کا مجاہد بن سکے اور اگر ایسا کچھ کر نہیں سکتے تو کم از کم انکے لیے میسر سوشل میڈیاکے ذریعے مظلوموں کی آواز بنیں فیس بک پوسٹ اپروو نا بھی کرے تو پریشان نا ہوں واٹس ایپ، ٹویٹر یا دیگر سماجی سائٹس پر انکے لیے لکھیں بولیں

    آخرمیں اپنی قوم سے حکمران جماعت و اپوزیشن سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اب پھر 5 فروری کا دن آ رہا ہے جسکو دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری یوم یکجتی کشمیر کے طور پر ہر سال کی طرح سرکاری سطح پرمنانے کا اعلان ہو چکا ہے یہ مسئلہ ہمارا اپنا ہے نیند سے بیدار ہو کر اب ہمارے جاگنے کا وقت ہے کیونکہ اگر ہم مشترکہ آواز بلند کریں گے دنیا بات سنے کی اگر بکھر کر ماضی دہرائیں گے دنیا بھی ہماری بات پر توجہ نہیں دے گی مختصر یہ کہ گر آج نہ جاگے تو کبھی جاگ نہ پائیں گے

    دعا ہے اللہ رب العزت کے حضور کے دنیا کی جنت نظیر وادی جلد آزاد ہو

    کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

  • 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
    ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
    80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
    1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
    مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
    عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
    اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
    جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا

  • ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار

    ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار

    ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار ہے

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کی جانب سے جاری کی جانے والی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم بدستور نمبر ون ہیں، نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی کی بدولت لوکیش راہول 4 درجے ترقی پاتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگئے ہیں، ایرون فنچ ،ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے تیسری پوزیشن پر ہیں۔
    بال پکر کے طور پر ٹیم میں آیا تھا … بابر اعظم نے بتایا کامیابی کا سفر

    اس کے بعد ٹاپ 10 میں کولن منرو، ڈیوڈ میلان، گلین میکسویل، ایون لیوس، حضرت اللہ زازئی، ویرات کوہلی اور روہت شرما شامل ہیں، شرما 3 درجے ترقی پاتے ہوئے ٹاپ 10 میں شامل ہوئے ہیں۔
    بولرز کی فہرست میں پاکستان کے عماد وسیم پانچویں شاداب خان آٹھویں نمبر پر ہیں، ٹاپ ٹین میں بالترتیب راشدخان، مجیب الرحمن، مچل سینٹنر، ایڈم زمپا، عماد وسیم، اینڈل فیلکوائیو، عادل راشد، شاداب خان، ایشٹن اگار اور کرس جورڈن شامل ہیں۔ ٹاپ ٹین آل راؤنڈرز میں کوئی پاکستانی شامل نہیں، افغانستان کے محمد نبی سرفہرست ہیں۔

  • ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں ، وہاب ریاض نے ایسا کیوں کہا

    ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں ، وہاب ریاض نے ایسا کیوں کہا

    ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں ، وہاب ریاض نے ایسا کیوں کہا

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ میں ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیے سلیکٹ نہ ہونے پہ افسوس ہوتا ہے کیونکہ ملک کے لیے کھیلنا میرا خواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہوگیا اس کے لیے پریشان نہیں ہوں کیونکہ میری نظریں اس پر مرکوز ہیں جو ہونے والا ہے۔
    گلبرگ میں واقع ایک نجی اسٹور پہ آمد کے بعد وہ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں ںے اس عزم کا اظہارکیا کہ جیسی پرفارمنس دیتا ہوں ویسی ہی آئندہ بھی دینے کی کوشش کروں گا۔

    ایک سوال پر ممتاز باؤلر نے کہا کہ اس مرتبہ بہترین باؤلر بننے کی کوشش کروں گا لیکن باؤلنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ پر بھی پوری توجہ دے رہا ہوں۔ انہوں ںے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پہ کامل یقین ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ رہنے والے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے کہا کہ عامر اور حارث کے ساتھ اچھا مقابلہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیتنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔

    وہاب ریاض نے کہا کہ پی ایس ایل میں کھیلنے والا سب کی نگاہوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی نہ کسی ٹیم سے ڈری ہے اورنہ ہی ڈرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر میچ جیتنے کے لیے آتے ہیں۔اس وقت پی ایس یل 5 کی آمد آمد ہے اور اس سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں.