Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صبحِ آزادی کے تعاقب میں         تحریر : جویریہ چوہدری

    صبحِ آزادی کے تعاقب میں تحریر : جویریہ چوہدری

    صبحِ آزادی کے تعاقب میں تحریر : جویریہ چوہدری

    ہر روز نیا سورج طلوع ہوتا ہے
    دن راتوں میں بدلتے اور راتیں سپیدۂ سحر میں بدل جاتی ہیں
    خزاں کے اداس موسموں سے گُل رنگ شگوفے پھوٹ نکلتے ہیں
    گرم لو کے جھکڑوں سے سرد ہواؤں کی لہریں ہم آغوش ہوتی ہیں
    ساون رتیں برس کر طویل خشکی کا دور بھی گزر جاتا ہے
    تغیرات کا یہ سلسلہ اور چکر رواں دواں رہتا ہے
    اپنے وقت اور روٹین کے مطابق سب چلتا رہتا ہے
    کوہسار برف کی چادر لپیٹ بھی لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ ڈھلنا بھی شروع ہو جاتی ہے
    سورج غضب کی گرمی بھی برساتا ہے
    اور رگوں میں لہو جما دینے والی سردی میں نرم و گرم گرمائش کا سامان بھی مہیا کرتا ہے
    مگر روئے زمین پر بستے انسان ان تمام موسموں میں اپنے اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیئے سرگرداں ہو جاتے ہیں
    اس کائنات کا حُسن ان انسانوں کے سکوں اور کامرانی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے
    وہ خطے جو صدیوں سے جنگ و جدل اور ظلم و نا انصافی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں وہاں کے باسیوں کے چہروں پر بھی نا انصافی کی یہ تاریخ پختہ لکیروں کی صورت تحریر ہے
    ایسے ہی دل سوز و دلدوز جغرافیہ کے حامل خطہ کا نام کشمیر بھی ہے
    جس کے مکین،بڑے،بچے بوڑھے،عورتیں ایک طویل عرصے سے ظلم و زیادتی کی منہ زور آندھی سے نبرد آزما ہیں
    فولاد عزم کشمیری جھکے ہوئے ہیں نہ بکے ھوئے ھیں اور بچے بچے کی زباں اور خوں میں ایک ہی نعرہ رواں ہے:
    ہم کیا چاہتے ہیں”آزادی”__
    ہم لے کے رہیں گے آزادی__
    وہ پھولوں والی آزادی__
    وہ جاں سے پیاری آزادی__
    کرۂ ارض کا یہ خطہ اپنی منفرد نوعیت و تاریخ کا حامل ہے جہاں محض اَسی ڈیڑھ لاکھ باسیوں کے جذبۂ آزادی کو بزورِ ظلم و ستم روکنے کے لیئے آٹھ لاکھ فوج تعینات ہے۔۔۔؟
    کیا ہی مقامِ حیرت ہے_!!!
    یہ تحریکِ آزادی مختلف مراحل سے گزرتی گزرتی آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پانچ فروری تک جہاں گزشتہ چھ ماہ سے کرفیو کی صورتحال ہے__
    کشمیریوں کو سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ سے کاٹ کر رابطوں کے تمام ذرائع مسدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    بچوں اور عورتوں کے بے پناہ صحت و خوراک کے مسائل عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں__
    اقوام متحدہ کا استصواب رائے کا تسلیم شدہ حق اور نہرو کا کیا گیا وعدہ ہنوز اپنے ایفاء کا منتظر ہے۔۔۔
    بے گناہ نوجوانوں پر تشدد اور شہادتیں جہاں معمول ہیں__
    بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر خوف کے پہرے ہیں__
    اور مطب علاج و سہولیات کے فقدان کا شکار__
    دنیا زباں و بیاں کی حد تک تو کشمیریوں کی حقوق تلفی کا احساس کرتی اور رکھتی ہے مگر یہ طویل جدوجہد آزادی اب اپنے انتہائی نازک موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔۔۔
    اور اس سخت ترین صورتحال میں بھی کشمیری اپنے مطالبے پر ڈٹے دکھائی دیتے ہیں اور اپنے عزمِ ہمالیہ سے غاصب کے ہر ہتھکنڈے کے لیئے رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔۔
    پانچ فروری پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے جب پوری قوم اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی اور اپنے جذبات کو ان کی خوں سے لکھی تاریخ سے ہم آواز کرتی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولے،اگر وہ پاکستان اور سبز ہلالی پرچم کی حرمت کو بلند اور عزیز رکھتے ہیں تو ہم پاکستانی بھی دنیا کے ہر فورم اور ہر انداز میں ان کے ساتھ ہیں_
    نہتے و آبلہ پا آزادی کے مسافروں کی منزل تک پہنچنے تک ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔۔۔
    جو صبحِ آزادی کے تعاقب میں اپنی تین نسلیں قربان کر چکے ہیں، جن کے کندھے لڑکھڑائے نہیں اور قدم ڈگمگائے نہیں__!!!
    کشمیر کے سبزہ زاروں کو اپنے لہو کی قبا پہنا کر قبرستانِ شہداء آباد کرتے یہ لوگ یقیناً لہو سے سینچی تحریک کو کامیابی تک پہنچا کر دم لینے کے حوصلوں سے مالامال دکھائی دیتے ہیں__
    ظلم ڈھانے والے اس عزم،جذبہ اور منزل سے یقیناً نا آشنا ہیں
    تمہید سے تم گزرے ہی نہیں،
    اب قصہ سارا کیا جانو__
    اس خطے کا امن بالخصوص اور دنیا کا بالعموم نا انصافی اور ظلم کی زنجیروں کو کاٹ دینے سے جڑا ہوا ہے،
    کیونکہ انسانیت سوز اقدامات کی یہ سلگتی چنگاریاں الاؤ بن کر اس کے امن کو لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
    اسی بات کی جانب پاکستان جیسے امن پسند اور ذمہ دار ملک کی طرف سے بارہا نشاندہی کی جا چکی ہے،عالمی قوتوں کو اس طرف توجہ دلائی جا چکی ہے__
    کہ اپنی صبح آزادی کے تعاقب میں خون صد ہزار انجموں کی قربانی سے اندھیری شب کے ظلم سہتے کشمیریوں کو اب ان کا حق بہر حال ملنا چاہیئے__!!!
    آزادی کا سورج کشمیری سبزہ زاروں پر اپنی روشن کرنیں بکھیرے اور انسانیت کی تذلیل کی بجائے انسانی حقوق کے دعوؤں کی کوئی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیئے__!!!
    یہی کشمیریوں کا خواب ہے اور وہ اسی کی تعبیر کی تلاش میں سب کچھ کھو رہے ہیں__!!!
    ہے کوئی انسانیت کے درد کو سمجھنے والا__؟
    رِستے زخموں پر کوئی پھاہا رکھنے والا__؟؟
    یومِ یکجہتی کا یہی تقاضا و سوال ہے_!!!!!
    سفرِ پیہم میں__
    بھاری عزم میں__
    گہرے نشیب سے__
    بلند کوہسار سے__
    اداس چمن سے__
    گرتی آبشار سے__
    آتی اک ہی صدا ہے__
    خوں سے لکھی
    ادائے وفا ہے__
    کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟
    "آزادی”۔

  • قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو نظر آتا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی روئے زمین پہ بسنے والی قومیں کسی نہ کسی صورت تفاخر کے مرض میں مبتلا رہی ہیں، کوئی نسل یا قومیت کے فخر تو کوئی رنگ یا زبان کی وجہ سے خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے، دین اسلام قومیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت کے لیے جس کا ذکر رب کریم نے سورہ حجرات میں کیا کہ ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”

    لیکن افسوس کہ ہم نے قومیت کا غلط استعمال کیا اور اس نظریہ فاسد نے قوموں کو تقسیم کرکے نفرتوں میں مبتلا کردیا، پیر اکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ "اس شر انگیز نظریہ نے جنگ و جدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا، یہ صرف زمانہ قدیم تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے ہاتھوں انسانیت کی قبا تار تار ہے قوم پرستی، رنگ، نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور سے جاری ہے”

    اگرچہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس بت نے سماج کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، سب سے پہلے اس بت کو رسول خدا حضرت محمدؐ نے توڑا اور انسانیت کا درس دیا، حضور اقدسؐ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بنایا اور اسی نظریہ کی بنیاد پہ ریاست پاکستان کا وجود روئے ارضی پہ قائم ہوا لیکن افسوس کہ جلد ہی ہم نے اپنی اصلیت اپنی اساس کو بھلا کر رنگ، نسل، زبان کے بتوں کی پوجا شروع کردی جس کی وجہ سے ملک و ملّت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،

    پاکستان کی تاریخ لسانی قوم پرستی سے بھری پڑی ہے کبھی پشتون کے نام سے تو کبھی بلوچ، کبھی سندھی تو کبھی مہاجر اور بنگالی کے نام پہ تحریکوں نے جنم لیا اور تاریخ شاہد ہے کہ جتنا نقصان ملک و ملّت کو نسلی و لسانی نعروں کی وجہ سے پہنچا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو، یہ نسلی و لسانی تفریق ہی تھی جس کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسا عظیم حادثہ پیش آیا لیکن اس کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا، ہم لسانیت کی لعنت میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں تمام تر اخلاقی اقدار بھی کھوچکے ہیں

    یہ حقیقت ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے کہ ہم قاتلوں اور بدعنوانوں کی حمایت میں بھی اس بنیاد پہ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ ہماری زبان یا علاقے یا قبیلے کے ہیں، اس سے بڑھ کر پستی کیا ہوگی کہ لسانی بنیاد پہ ہم مظلوم کے مقابلے میں ظالم اور حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، مشرقی پاکستان میں لسانی نعروں کے بعد ایسی نفرت نے جنم لیا کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت ہم سے الگ ہوگیا جس پر اندرا گاندھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ "مسلمان ایک قوم ہیں اس نظریہ کو آج ہم نے سمندر میں غرق کردیا ہے”

    اس کے باوجود ہم نے سبق نہ لیا اور اس کے بعد سندھ میں ایک طرف تو سندھو دیش تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو ساتھ ہی اس کے مقابل مہاجر قومی موومنٹ کے نام پر مہاجر تحریک نے شہری سندھ میں پنجے گاڑ لیے جس کے بعد سندھ ایک عرصے تک جلتا رہا، بات حقوق کی کی جاتی رہی لیکن پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی نکلے، MQM تیس سال اقتدار میں رہی لیکن آج بھی ان کا رونا وہی ہے کہ مہاجروں کے حقوق جبکہ جئے سندھ کی آڑ میں سندھیوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خود کے تو محلات بن گئے

    بچے یورپ و امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بہت سے وہیں سیٹل ہیں لیکن عام سندھی و عام مہاجر کی حالت "ہنوز روز اول است” کے مصداق ویسی ہی ہے جیسی ان تحریکوں کے قیام کے پہلے روز تھی اور اگر کچھ حاصل رہا تو وہ بےمعنی و بےمقصد کی نفرت کے سوا کچھ نہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں پانچ بار بلوچ نیشنلزم کے نام پر شورش نے جنم لیا بہت سے گھر اجڑ گئے، اول تو بلوچستان تقریباً ہی نظرانداز رہا لیکن اگر حکومت یا افواج پاکستان نے ڈویلپمنٹ کرنی شروع کی تو بلوچ حقوق و ڈویلپمنٹ کے علمبرداروں کو برداشت نہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی منصوبہ بلوچستان میں کامیاب نہ ہو لیکن افواج پاکستان نے قربانیاں دیکر بہت سی مشکلات جھیل کر بلوچستان میں نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بہت سے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں،

    پاکستان جب قائم ہوا تو ہندوتوا دہشتگردوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کو دلی صدمہ ہو لیکن افسوس کہ ان کے علاوہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے خلاف درخواست بھی جمع کروائی، اس کے علاوہ اوائل میں ہی پشتونستان کے نام پر علیحدگی کی تحریک کو ابھارا اور پاکستان میں خوب دراندازی کی، داود خان کی قیادت میں افغانستان نے نہ صرف کراس بارڈر ٹیررزم کو پروموٹ کیا بلکہ بلوچ و پشتون علیحدگی پسندوں کی کھل کر سرپرستی بھی کی جس کے جواب میں ذوالفقار بھٹو نے افغانستان کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہوے جلد ہی اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا

    جسکے بعد سے ایک لمبے عرصے تک اس جانب سے پاکستان میں سکون رہا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف سازشوں کا گڑھ بن کر سامنے آیا اور جب تمام تر سازشوں کو افواج پاکستان نے ناکام بنادیا تو PTM کے نام سے پشتونستان تحریک کے گڑھے مردے میں جان ڈال دی، جس طرح نقیب اللہ محسود کی شہادت کی آڑ میں ڈرامائی انداز میں PTM کو وجود حاصل ہوا اور جس پیمانے پر منظور پشتین کی عالمی و ملک کے مخصوص میڈیا نے تشہیر کی وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس مقابلے تو پاکستان میں ہزاروں ہوے لیکن کبھی ان میڈیا پرسنز کو کسی پشتون یا غیرپشتون سے اتنی ہمدردی نہیں ہوئی جبکہ شہید نقیب اللہ ہوا لیکن مخصوص میڈیا تشہیر منظور پشتین اور PTM کی کرتا رہا، PTM کا نعرہ ہے

    پشتون حقوق کا لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ آخر پشتونوں کے ساتھ ملک میں کونسی ناانصافی ہے شروع سے ہی ملکی اقتدار کے بڑے حصے پر پشتون قابض رہے آج بھی ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے بنگالیوں کو چالیس سے پچاس سال بعد بھی تارکین وطن کہا گیا لیکن بہت سے افغان پاکستان کے شہری بھی بن گئے اور یہاں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہوگئے، خیبرپختونخواہ میں پنجابی بلوچ یا سندھی سیٹل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود تینوں صوبوں کی مارکیٹوں پر پشتون تاجران غالب ہیں اور کسی نے ان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا،

    سرکاری ملازمتیں ہوں یا کوئی بھی اسکیم اس میں بڑا حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود جھوٹا نعرہ لگایا جارہا ہے کہ پشتونوں کو حقوق حاصل نہیں جوکہ پشتونوں کے ساتھ ہی دھوکہ فریب کیا جارہا ہے کیونکہ ایک بار اگر اس سازش کو زرا بھی کامیابی مل گئی تو اس میں نقصان جتنا محب وطن پشتونوں کا ہوگا اتنا کسی اور کا نہیں ہوگا، افغانستان نہ کل پشتونوں کا ہمدرد تھا نہ آج ہے، کل بھی لر او بر افغان کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی سرزمین پر غریب پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا آج بھی جاری ہے،

    زرا سوچئے اگر افغانستان میں پشتونوں کو حقوق حاصل ہوتے تو وہ ترک وطن کرکے پاکستان آنے پہ مجبور کیوں ہوتے اور پاکستان و پاکستانیوں کا جگر بھی دیکھیں کہ سالوں سے افغان تارکین وطن کو بھائی سمجھ کر بوجھ برداشت کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان نیشنلز پاکستان میں مختلف جرائم پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہزاروں افغان پشتون بن کر پاکستانی شہریت حاصل کرکے پاکستانی پشتونوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالے ہوے ہیں بہت سے افغان چند سیاسی مافیاوں کی سرپرستی حاصل کرکے سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہیں،

    بہت سی مراعات لے رہے ہیں، بہت سی اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں جس سے متاثر ہونے والے ہمارے پاکستانی پشتون ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کسی طرف سے افغان بھائیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود نعرہ لگایا جارہا ہے "لر او بر افغان” جس کی آڑ میں ایک بار پھر پشتونوں کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے،

    برطانیہ امریکہ و دیگر یورپی ممالک میں بیٹھے افغان حضرات آج پشتونوں کے زبردستی کے ہمدرد بنے ہوے ہیں کیا کبھی انہوں نے کسی پشتون کی خیر خبر بھی لی ہے اور آج خوامخواہ کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم ایسی نفرت انگیز سیاست و سازش کا گلا گھونٹ دینا چاہئے تاکہ ملک و ملّت یک جائی، اخوّت و محبت سے ترقی کی شاہراہ پہ قدم مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں

  • حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    بیٹھا سوچ رہا تھا کتنی دلیری سے خاتون کہہ رہی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ منصف نہیں تھے. ابو بکر صدیق رضی اللہ منصف کیسے نہیں ہوسکتے. یارو ان سے بڑا کوئی منصف اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والا ہے کوئی .نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں ذوالحجہ کے بقیہ ایام اور محرم و صفرگزارے.

    لشکرِ اسامہ کو تیار کیا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں بلقا اور فلسطین کی طرف کوچ کرنے کا حکم فرمایا. لوگوں نے تیاری کی اور ان میں مہاجرین اور انصار بھی تھے اس وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں کو ان کی امارت پر اعتراض بھی تھا لیکن رسول اللہ نے اس اعتراض کو رد کردیا.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا اگر آج یہ لوگ اسامہ کی امارت پر اعتراض کرتے ہیں تو اس سے قبل اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہیں اللہ کی قسم وہ امارت کا مستحق تھا اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور زید کا فرزند اسامہ اس کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہے. لوگ جہاد کی تیاری میں تھے اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہو گیا .آپ بیماری کی حالت میں ہیں ساتھ ساتھ اس لشکر میں شریک لوگوں کو نصیحتیں بھی کررہے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری دن بدن بڑھتی جا رہی تھی. نماز کا وقت ہو جاتا ہے حضرت بلال اذان دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمت نہیں کہ وہ صحابہ کو نماز پڑھائیں .آپ پیغام بھجواتے ہیں کہ ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے نماز پڑھائی. اس دوران آپ صحابہ کو نصیحتیں بھی فرماتے ہیں. چند دنوں بعد آپ اس دنیا سے رخصت فرما گئے. آپ کی وفات کے بعد صحابہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر فرما لیتے ہیں .

    منصب امارت سنبھالنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ترجیحات میں سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی شامل تھی. دوسری طرف وہی لوگ جنہوں نے سیدنا سامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اعتراض کیا ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے اس کے ساتھ دیگر صحابہ کرام نے بھی مشورہ دیا. حالات سنگین ہیں ارتداد کا فتنہ بھی سر اٹھارہا ہے. مدینہ چاروں طرف سے غیر محفوظ ہے لشکر اسامہ کو فی الحال روک دیا جائے.

    لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں لشکر ہر حال میں روانہ ہوگا. صحابہ کسی نہ کسی طریقے سے خلیفہ کو منانے میں لگےہوئے ہیں. لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مہم میں عدم نفاذ کو بھول جائیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے خود تیار کیا اور انہیں آپ نے خبر دی کہ وہ عنقریب اس منصوبے کو نافذ کرکے رہیں گے اگرچہ اس تنفیذ کے نتیجے میں مرتدین مدینہ پر قابض ہو جائیں..؟..

    حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کر کھائیں گے تب بھی لشکر اسامہ کو بھیج کر رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اگر بستی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اس کو ضرور بھیج کر رہوں گا.

    دوسری طرف انصار نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کے سیدنا اسامہ بن زید کم عمر ہیں. اس لیے اس لشکر کا امیر کسی بڑی عمر کے شخص کو مقرر کیا جائے. انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفۃ المسلمین کے پاس بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں ان سے بات کریں. لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اس معاملے میں بات کرتے ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوتے ہیں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر فرماتے ہیں خطاب کے بیٹے ! اسامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھے حکم دےرہے ہوکہ اسے معزول کر دوں.

    آپ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہیں انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم نے وہی کرنا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا اور وہ وقت بھی آیا لشکر اسامہ فتحیاب ہوکر مدینے واپس لوٹ رہا ہے. اس کے بعد مرتدین زکوۃ اور مدعیان ختم نبوت کا قلع قمع ہوتا ہے. میں سوچ رہا تھا ابو بکر رضی اللہ عنہ کس طرح منصف نہیں ہوسکتے رسول اللہ جاچکے ہیں. صحابہ آپ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ لشکر اسامہ کو نا روانہ کریں لیکن محب رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو نہیں نظر انداز کرنا چاہتے تھے اور لشکر اسامہ بھیج کررہے.

    یہ بلاشبہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ واقعہ تاریخ کے ان غیر معمولی واقعات میں سے ہے جنہوں نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی.تاریخ کے اس غیر معمولی واقعہ کی طرح خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تاریخ انسانی کی ایک غیر معمولی اور عظیم و جلیل شخصیت بن کر ابھرتے ہیں اور ثابت قدمی اور بے خوفی کے ساتھ ان کا اٹھایا جانے والا یہ قدم بھی ایسے ان گنت نتائج، عبرتوں اور حکمتوں کا حامل ہے جن پر ابھی تک کسی مورخ نے نظر ہی نہیں ڈالی،

    ان پر قلم اٹھانا اور انہیں آج کی اسلامی دنیا کے تناظر میں دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے.میں برملا یہ کہہ سکتا ہوں وہ شخص جو ہر معاملہ میں سبقت لے جانے والا تھا یہاں تک آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پراجیکٹس کو آگے بڑھانے والا تھا اس شخص سے بڑا کو منصف اور عادل نہیں ہوسکتا…

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت
    …..خنیس الرحمان…..

  • (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    آج کی صدی میں ایک بات کا پرچار عام ہے کہ ہم ایک آذاد ریاست کے رہنے والے ہیں
    لیکن کیا ایسا ہے؟

    آپ کا جواب ہاں میں ہوگا لیکن یہی الفاظ کسی کشمیری بھاٸی یا بہن سے پوچھیں تو اسکا جواب ہاں میں نہیں بلکہ ناں میں ہوگا پاکستان کو آذاد ہوۓ 70 سال سے ذیادہ عرصہ بیت چکا ہے ہر پاکستانی خود کو پاکستانی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہے لیکن کشمیری آج بھی کسی محمد بن قاسمؒ کے انتظار میں ہیں کہ محمد بن قاسم آۓ اور بھارتی درندوں سے ہماری عورتوں ہمارے بچوں بزرگوں کو اذاد کرواۓ۔

    لیکن افسوس کہ 70 سالوں سے کشمیر پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف اگر کوٸی محمد بن قاسم کا روحانی فرذند اٹھتا ہے تو اس پر تخریب کار، شدت پسند اور دہشتگرد کا لیبل لگا کر گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے

    اور یہ ستم بھارت نہیں کرتا بلکہ کشمیر کو اپنا کہنے کا دعویٰ کرنے والا کشمیر کو چھوٹا بھاٸی اور خود کو بڑا بھاٸی ظاہر کرنے والا پاکستان کرتا ہے ہم نے غیروں کے کہنے پر برہان وانی شہید کو قومی سطح پر شہید کہنے سے گریز کیا

    ہم نے جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ جیسی کشمیری تنظیموں پر پابندی لگا کر غیروں کو خوش کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔۔

    قاٸد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن ستم بالاۓ ستم ہے کہ ہم قاٸد کے فرمان سے روگردانی کرچکے ہیں 170 دن ہونے والے ہیں شہ رگ کو شکاری کے پنجے میں جکڑے ہوۓ مگر ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ شہ رگ کے بغیر ذندہ رہ رہے ہیں

    کشمیر کی آذادی کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑے ہونا تقاریر کرنا امریکہ سے مدد مانگنا کیا یہ مسلمانوں کا وطیرہ ہوسکتا ہے نہیں ہرگز نہیں۔
    اسلام تو کہتا ہے کہ مظلوم مسلمان عورتوں بزرگوں بچوں کی مدد کے لیے نکلو جبکہ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہوں لیکن افسوس ہم صرف کھڑے رہ سکے نکل نہیں سکے.

    1947۶ کے وقت جب قاٸد اعظمؒ نے پاکستان حاصل کیا تو معاہدے کے مطابق کشمیر پاکستان کی سرحد میں طے پایا۔ لیکن یہ بات بھارت اور اس کی عوام کو ہضم نہ ہوٸی اور کشمیر پر 1948 کو قبضہ کرلیا مجاھدین نے اپنی طاقت کے بل پر لڑ کر آدھا کشمیر اذاد کرا لیا لیکن آدھا حصہ آذاد نہ کرواسکے

    اس طرح آذاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دو حصوں میں منقسم ہوگیا اور بھارتی درندوں کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں نا رکنے والا ظلم کا ایک سلسلہ چل پڑا۔۔
    کشمیر پر ظلم صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی کررہے ہیں جب سے مودی سرکار نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہے کسی بھی مذہبی جماعت کی طرف سے اس کرفیو کے ہٹانے اور 370A قانون ختم کرنے کی طرف زور نہیں دیا گیا

    بھارت کے مسلمانوں کی حالات زار پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھاٸیوں کی مدد کے لیے اواز کیوں نہیں اٹھاتے۔

    اقبالؒ نے انکے متعلق کیا خوب دعا کی ہے

    خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
    وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

    ترقی اور امن کے دور میں صرف کشمیر، فلسطین، برما کے مسلمانوں سمیت ساری دنیا میں صرف مسلمان ہی ذلت کی ذندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہیں۔۔؟
    کشمیر پر ظلم و جبر کی داستانیں 170 دن سے رقم کی جارہی ہیں لیکن عالمی ضمیر اجلاس کی حد تک بیدار ہے
    ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے

    اللّٰہ قاضی حسین احمدؒ (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان) پر کروڑوں رحمتیں نازل فرماۓ جنہوں نے

     ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
     نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

    کے مصداق 5 فروری 1997۶ کو اپنی جماعت کے لوگوں سمیت ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور بھارتی ظلم و جبر اور اسکے تسلط کے خاتمے کے لیے گلی گلی نگر نگر نکلے۔۔

    اس میں کوٸی دو راۓ نہیں ہیں کہ کشمیر کی آذادی کے لیے جنگیں ہوٸی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر کٸ معاہدے بھی طے پا چکے ہیں مگر بھارت ہٹ دھرمی اور چالاکی سے ان معاہدوں کو روندتا چلا جاتا ہے
    پاکستانی حکمران ہر دور میں امریکی غلامی کا پاس رکھتے رہے ہیں اور بھارت کے خلاف کسی بھی سخت اقدام کے لیے اپنی آواز اٹھانے سے محروم ہیں

    اُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
    یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند

    حکمرانوں کی بے حسی، لاچارگی، ستم ظریفی کے باوجود ہر سال مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمعیت علما۶ اسلام، مرکزی جمعیت اھلحدیث شامل ہیں
    اس امید سے

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    کشمیر کی اذادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ریلیاں جلوس منعقد کرتی ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔۔

    کشمیر ان شاء اللہ ایک دن آذاد ہوگا اور حقیقی معنوں میں جنت کا نظارہ ضرور پیش کرے گا۔۔

    بیداری
    محمد قاسم انصاری

  • بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری عروج پر

    بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری عروج پر

    بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری عروج پر

    باغی ٹی وی :بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری ۔ تین روزہ پریکٹس میچ ميں ٹيم ٹو نے ايک سو اٹھتر رنز بنا ليے۔ سيريز کے ليے پندرہ رکني ٹيم کا اعلان کل ہوگا۔
    قذافي سٹيڈيم ميں تربيتي کيمپ کے دوسرے روز جاري پريکٹس ميچ ميں ٹيم ون کے شان مسعود اور بابر اعظم کي سينچريوں کي بدولت اپني اننگز تين سو انسٹھ رنز پانچ وکٹوں کے نقصان پر ڈکلير کردي۔ جواب ميں ٹيم ٹو نے اپني پہلي اننگز ميں کھيل کے اختتام پر ايک سو اٹھتر رنز بناے اشفاق احمد چونسٹھ ، فواد عالم چھتيس فیضان ریاض انيس اور حارث سہیل سترہ رنز بنا کر نمایاں رہے، ٹیم ون کےشاہین شاہ، محمد عباس، نسیم شاہ، فہیم اشرف اور یاسر شاہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کي۔


    اس موقع پر فاسٹ باولر محمد موسیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیبیو کو یادگار نہ بنا سکا لیکن اب زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر خود کو منوانا چاہتا ہوں۔باولنگ کوچ وقار یونس کے آنے سے میری کارکردگی میں بہت بہتری آئی ہے ۔ اب میری توجہ ٹیسٹ کرکٹ پر ہے اور اسی فارمیٹ میں پرفارمنس دکھانے کی کوشش ہے ۔ ،تربيتي کيمپ کے تيسرے روز بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان چیف سلیکٹر مصباح الحق کریں گے۔ جس کے بعد تربيتي کيمپ راولپنڈي شفٹ کرديا جاے گا ۔ پاکستان اور بنگلہ ديش کے خلاف پہلا ٹيسٹ 7 سے 11 فروري تک راولپنڈي ميں کھيلا جاے گا ۔

  • ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی

    ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی

    واشنگٹن:ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی ،اطلاعات کےمطابق دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی انتہائیوں کوچھورہی ہے، دنیا بھر میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا عام استعمال ہورہا ہے لیکن ہر شخص ان اہم ایجادات سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ اب دنیا کے پہلے آئی پیڈ پرو کے لیے اضافی کیسنگ بنائی گئ ہے جو آنکھوں کے اشاروں سے آئی پیڈ کا مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے۔

    شادی کے لیے سعودی مردوخواتین کے لیے عمرکی حدیں مقررکردی گئیں

    اس نظام کو اسکائل کا نام دیا گیا ہے اور سب سے پہلے یہ سہولت ایپل آئی پیڈ پرو میں شامل کی گئی ہے۔ اس طرح ٹیبلٹ کو ہاتھ لگائے بغیر مکمل طور پر آنکھوں کے اشارے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ آئی پیڈ پرو کے 12.9 انچ ورژن ٹیبلٹ کے ساتھ ہی کارآمد ہے۔

    جب تقدیرغالب آجائے:ایبٹ آباد میں کمرے میں گیس بھر جانے سے پانچ افراد جاں بحق

    آئی پیڈ پرو میں یہ خواص شامل کرنے کے لیےاسے ایک خاص طرح کی کیسنگ میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں حساس اسکینر نصب ہے جو دونوں آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس میں دو طرح کے آپشن ہیں، ایک تو یہ دوربینی انداز میں ٹریکنگ کرتا ہے تو دوسری جانب یہ آنکھ میں سیاہ حلقے یعنی پتلی کی دائیں بائیں اور اوپر نیچے کی حرکت کو بھی نوٹ کرتا رہتا ہے۔

    جنوبی افریقہ کے اسٹاربیٹسمین ہاشم آملہ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے

    اس طرح کے رابطے کو آگمینٹو اینڈ آلٹرنیٹو کمیونی کیشن ( اے اے سی ) کا نام دیا گیا ہے جو کئی طرح کے سسٹم اور پروٹوکول کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ یوں آئی پیڈ کے سارے فیچر آنکھ سے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسکائل کے ذریعے فالج کے شکار، سیربرل پیلسی اور دیگر امراض کے شکار افراد بھی ٹیب کو چلاسکتے ہیں۔

    جب ٹیبلٹ کی بات ہو تو آئی پیڈ بہت سے امور انجام دے سکتے ہیں۔ ایک جانب تو آپ دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسمارٹ گھروں کا پورا نظام ان سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے اسکائل کے ذریعے معذور افراد بہت حد تک اپنے مختلف کام انجام دے سکیں گے۔

    حرامانی نے والدین کی شادی کی سالگرہ پرشاندارخراج تحسین پیش کیا

    اسکائل کیسنگ کے لیے الگ سے پاور سپلائی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آئی پیڈ سے ہی بجلی لے کر کام کرتا ہے۔ اس کےساتھ پوائنٹنگ ڈیواس یعنی ماؤس اور ڈجیٹل پین بھی لگائے جاسکتے ہیں تاہم اسکائل کسینگ کی قیمت تین ہزار ڈالر یعنی ساڑھے چار لاکھ روپے کے برابر ہے۔

  • ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
    لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
    یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
    تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
    (سنن نسائی 5495)
    پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
    ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں

  • شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    : شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، لیکن 1999 میں اقتدار میں آکر ایک بار پھر بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے عمل کو تیز کردیا، مرلی منوہر نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی ٹیکسٹ بک بورڈ، تحقیقی و دیگر اہم پوزیشنوں پر شدت پسند ہندو بٹھا دئیے جس نے بھارت کے تعلیمی ڈھانچہ کو ہندوتوا نظریہ کے مطابق قائم کردیا جس سے اس نسل کو تو کوئی فرق نہ پڑا جنہوں نے یا تو براہ راست آزادی کے لیے قربانیاں دیں یا دیکھیں یا وہ جنہوں نے اپنے بزرگوں سے یہ باتیں سنیں لیکن نسل نو اس زہر کا شکار ہوگئی اور آج بھارت جل رہا ہے، 2002 میں مودی کی حکومت میں گجرات میں ہزارہا مسلمان شہید کردئیے گئے اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑنے پہ مجبور کردیا گیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی مودی سے سنگین بدانتظامی، نااہلی و کوتاہی پہ سوال کرتی لیکن الٹا نریندر مودی کو ہیرو کے طور پر جانا جانے لگا جسے انعام کے طور پر 2014 میں بھارت کا وزیراعظم بنادیا گیا، جس نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پہ تیزی سے عمل شروع کردیا۔ مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول کی تکون نے بھارت کے جلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پہلے گائے ماتا اور جے شری رام نعرے کی آڑ میں مسلمانوں و عیسائیوں پہ خوب ظلم کے پہاڑ توڑے اور اب CAA اور NRC جیسے کالے قوانین کے زریعے سیکیولر بھارت کو دنیا میں شدت پسند ہندو دیش کے طور پر مشہور کردیا ہے، کانگریس دور میں دنیا کا سب سے تیز معاشی ترقی کرتے بھارت کی معیشت کے پہیے کو مودی سرکار کے طلوع ہوتے ہی بریک لگنا شروع ہوئی کیونکہ کوئی بھی ملک نفرت کے اصولوں پہ رہ کر ترقی تو دور زیادہ عرصے تک اپنا وجود بھی قائم نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ آج کے بھارت میں بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکی ہے، کاروبار ٹھپ ہیں، لوگ غریب سے غریب تر ہونے کا سفر تیزی سے طے کررہے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، NCRB کے مطابق جرائم کی شرح سات دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کیوں نہ ہو جب BJP کی پارٹی پالیسی مجرمان کو تحفظ دینے کی ہو تو جرائم تو بڑھیں گے، حکمران جماعت کرمنلز کو جینے کا موقع دینے کے نام پر کرمنلز کو جماعت کا حصہ بناکر اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے، CAA اور NRC کے بعد پورا بھارت جل رہا ہے جسے جمہوری تقاضوں کے برخلاف بزور طاقت دبانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے لیکن اب یہ قافلہ رکنے والا نہیں اور جیسا کہ بھارتی رہنما سوماشکرا ریڈی، دلیپ گھوش، رگھو راج، سی ٹی راوی اور امیت شاہ وغیرہ اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں اور اگر یہ چنگاری بھڑک اٹھی تو یہ نقصان بھارت سمیت تمام بھارتیوں کا ہی ہوگا، مودی اپنے جارحانہ عزائم پر بدستور قائم ہیں جہاں لوگ غربت سے مر رہے ہوں وہاں ملکی خزانے کا بڑا حصہ ہتھیاروں میں جھونکا جارہا ہے 2013 تک بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری پر 2 ارب ڈالر خرچ کرچکی تھی جو مودی سرکار میں چھ ماہ کے اندر اندر 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اپنے پہلے دور میں مودی نے 41 ہتھیاروں کی خریداری کی اسکیمیں منظور کیں، رافیل طیاروں کی اربوں ڈالر کی ڈیل کے علاوہ غیرمعمولی رقم کی روس کے ساتھ ڈیل نے بھارت کے عوام پر بوجھ کو کئی سو گنا بڑھادیا ہے آج بھارت ہتھیار خریدنے والا دنیا کا ٹاپ ملک ہے جبکہ روایتی حریف پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے عوامی فلاح و بہبود پہ توجہ دے رکھی ہے، مودی سرکار کی شدت پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی بدولت ایک طرف تو بھارت اندرون خانہ آتش فشاں کے دہانے پہ پہنچ گیا تو دوسری طرف خطے کے کسی بھی ملک سے اس کے تعلقات اچھے نہیں خواہ چین ہو یا پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا و نیپال تک بھارتی سلوک سے خوش نہیں، اس کے علاوہ مودی سرکار کی منافقانہ پالیسیوں کی بدولت بھارت عالمی سطح پر نہ صرف بدنام ہوا بلکہ اسے ایک شدت پسند ریاست کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور یورپ امریکہ و عرب ممالک بھارت سے دور ہوتے جارہے ہیں یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں بھارت اپنے اندر کے آتش فشاں کے لاوے کا شکار ہوجائیگا اور بی جے پی کی شدت پسندی بھارت کو لے ڈوبے گی۔

  • بی جے پی BJP ایک دہشتگرد جماعت، تحریر: انشال راؤ

    بی جے پی BJP ایک دہشتگرد جماعت، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر: بی جے پی BJP ایک دہشتگرد جماعت

    تحریر: انشال راؤ

    دنیا کا سب سے بڑا اور گھمبیر مسئلہ دہشتگردی ہے جس نے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا گیا جس کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ دہشتگردی کے خلاف جنگ تو کسی صورت نظر نہیں آتی بلکہ عالم اسلام کے خلاف جنگ معلوم ہوتی ہے جیسا کہ صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ "ہم نے صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے” جس پر عالمی شطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تو فوراً فرانس، کینیڈا، برطانیہ و دیگر امریکی رہنما منظرعام پر آئے اور بش کے جملے کو دہشتگردی کے خلاف جنگ بتایا، اگر ایسا ہی ہے تو ہندوتوا کے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود RSS اور BJP کو دہشتگرد جماعت کیوں ڈیکلیئر نہیں کیا جارہا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 دسمبر 1996 کے اعلامیہ میں دہشتگردی کی تعریف بیان کی گئی کہ
    "Criminal acts intended or calculated to provoke a state of terror in the general public, a group of persons or particular persons for political purposes are in any circumstance unjustifiable, whatever the considerations of a political, philosophical, ideological, racial, ethnic, religious or any other nature that may be invoked to justify them”
    اور نائن الیون کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشتگردی کی تعریف کو وسعت کے ساتھ ذکر کیا کہ
    "criminal acts, including against civilians, committed with the intend to cause death or serious bodily injury, or taking of hostages, with the purpose to provoke a state of terror in the general public or in a group of persons or particular persons, intimidate a population or compel a government or an international organization to do or to abstain from doing any act”
    اقوام متحدہ کی اپنی تعریفوں کے مطابق BJP کی تمام تر کاروائیاں مکمل طور پر دہشتگردی کے زمرہ میں آتی ہیں، بھارتی پارلیمنٹ سے CAA اور NRC کی منظوری کے بعد جب مسلمان و دیگر سیکیولر بھارتیوں نے اس متعصبانہ بل کے خلاف احتجاج کیا تو بھارتی پولیس نے پرامن شہریوں پر فائرنگ و انسانیت سوز تشدد کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید ہوے جسے پولیس کی جانب سے تسلیم نہ کیا گیا لیکن مختلف فوٹیجز نے بھارتی پولیس کا پول کھول دیا اور BJP رہنما دلیپ گھوش نے سرعام اعتراف کیا کہ BJP حکومت نے پرامن مظاہرین کو قتل کروانے کے لیے پولیس کو حکم دیا، مغربی بنگال کے BJP کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ "انکی حکومت نے کتے کی طرح ان کو مار کے پھینک دیا کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا” اس کے علاوہ متعدد BJP رہنما اشتعال انگیزی پھیلاتے نظر آئے اور کھلم کھلا قتل و غارت کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس سے پہلے نریندر مودی مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی آڑ میں بھارتی مداخلت و سرپرستی کا اعتراف بھی کرچکے ہیں جوکہ بھارت کے دہشتگرد ریاست ہونے کے لیے کافی تھا، اس کے علاوہ نریندر مودی کا بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت اور بھارتی ایجنسی را کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی رنگے ہاتھوں گرفتاری بھارت کی دہشتگردی کا زندہ ثبوت ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں بیگناہوں کی جان گئی لیکن افسوس کی بات ہے کہ اقوام عالم بھارت کی کھلم کھلا دہشتگردی و انسانیت سوز مظالم کو یکسر نظر انداز کیے ہوے ہے، اب BJP ایک بڑے قتل عام کے منصوبے پہ عمل پیرا ہے جس کا اندازہ تلنگانہ میں سرکاری سرپرستی میں نکلنے والی RSS کی لاٹھی بردار ریلی سے لگایا جاسکتا ہے اور اس کے فوراً بعد BJP رہنما C.T Ravi اور سوماشکرا ریڈی Somashekara Reddy کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے دونوں رہنماوں نے مسلمانوں کے حقوق مانگنے کے ردعمل میں کہا کہ "ہم اکثریت میں ہیں اور اگر ہمیں غصہ آگیا تو ہم مسلمانوں کو ختم کردیں گے” اس کے علاوہ ایک اور BJP رہنما رگھو راج سنگھ نے تو "زندہ دفن کرنے کی ترغیب دی” اس سے بڑھ کر BJP کی دہشتگرد جماعت ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ BJP کی ایک خاتون رہنما نے تو اپنے ورکرز کو مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر مسلمان خواتین کا ریپ کرنے کا کہا جبکہ نریندر مودی نے تو مسلمانوں کو نشانے پر ہی رکھ لیا، موصوف نے کہا کہ "اپنے کپڑوں سے پہچانے جائیں گے” اگر BJP کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو لاکھوں انسانوں کے خون میں دھنسی پڑی ہے، ایک امریکی اسکالر سائمن نے دہشتگردی پر کتاب لکھی جس میں مختلف افراد و اداروں کی جانب سے دہشتگردی کی 212 تعریفیں بیان کیں اور BJP وہ واحد جماعت ہے جس پر کل کی کل تعریفیں پورا اترتی ہیں، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے دہشتگردی کو یوں بیان کیا
    "Terrorism, the systematic use of terror or unpredictable violence against government, public or individuals to attain political objectives
    اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوتواپرست یہ جماعت ایک عرصے سے سیاسی و دیگر مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلتی آرہی ہے اور نفرت، قتل و غارت، خوف و جبر اس جماعت کے نمایاں پہلو ہیں، اگر امریکی معروف ایجنسی FBI کی دہشتگردی کی تعریف کے مطابق BJP کو جانچا جائے تو بھی یہ جماعت 100 میں سے 100 نمبر حاصل کریگی امریکی FBI نے دہشتگردی کی تعریف یوں ذکر کی ہے کہ
    The unlawful use of force or violence against persons or property to
    intimidate or coerce a Government, the civilian population, or any segment thereof, in furtherance of political or social objectives
    کون ہے جو نہیں جانتا کہ RSS ایک دہشتگرد تنظیم ہے جو بھارت میں پچاسیوں فسادات کروانے میں پیش پیش رہی ہے اور BJP اس کی سیاسی ونگ ہے جسے اب عام بھارتی شہری بھارت جلاو پارٹی کے نام سے موسوم کررہے ہیں، C.T Ravi کے انکشاف و اعتراف کہ "گجرات فسادات میں ان کی جماعت شامل تھی” کے بعد BJP کو سیاسی جماعت کہنا نہ صرف سیاسی جماعتوں کی توہین ہے بلکہ سیاست پر عظیم دھبہ ہے C.T Ravi نے کہا کہ مسلمان گجرات قتل عام کو نہ بھولیں اور مزید کہا کہ وہ گجرات کے مسلم نسل کشی جیسے بدترین سانحے کو دوبارہ دوہرانے سے دریغ نہیں کرینگے، یاد رہے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد نریندر مودی نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا تھا کہ یہ سبق ہے ان کے لیے جو آبادی کو ڈبل کرتے ہیں، اس اعتراف کے بعد اقوام عالم کا BJP کو دہشتگرد جماعت قرار دینے میں دیر کرنے کا مطلب نہ صرف کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو داو پہ لگانا ہے بلکہ یہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا، نریندر مودی کے حلقے ورانسی میں گھر واپسی کے نام سے بڑے بڑے سائن بورڈز و پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں جس میں لکھا گیا ہے کہ جو مسلمان NRC اور CAA کے عتاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں وہ ہندو دھرم قبول کرلیں اس کے علاوہ اس سے پہلے متعدد ہندوتوا رہنما بھارت کو 2021 تک ہندو راشٹر اور مسلم فری ریاست بنانے کا اعلان کر چکے ہیں جس میں طاقت کے استعمال اور ظلم و جبر کرنے کا اعلان کیا جوکہ ہندوتوا کی دہشتگردی کا کھلم کھلا ثبوت ہے، لیڈن یونیورسٹی کے پروفیسرز Jogman اور Schmid کی تحقیق کے مطابق BJP کو پرکھا جائے تو کوئی ایک بھی پہلو ایسا نہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ ایک سیاسی جماعت ہے اس کی تمام تر سرگرمیوں سے مذہبی انتہا پسندی، خوف و جبر، اختیارات کا ناجائز استعمال، طاقت کا غلط استعمال، اشتعال انگیزی و تفرقہ پرستی کا پھیلاو اور معصوم لوگوں کا قتل عام کے سوا کوئی چیز نہیں ملتی، مذکورہ پروفیسرز نے اپنے مقالے میں دہشتگردی کی تمام تر تعریفوں پر تحقیق کی اور انکے مطابق کل دہشتگردی کی تعریفوں میں 83.5 فیصد نے مذہبی انتہا پسندی کو دہشتگردی یا اس کی وجہ قرار دیا، 65 فیصد نے سیاسی مقاصد کے ناجائز حصول کو بھی ایک بڑا عنصر کہا، 51 فیصد نے ڈر و خوف پھیلانے کو جبکہ 17.5 فیصد نے سویلین کے قتل کو دہشتگردی کا سبب قرار دیا، اس حساب سے BJP نہ صرف دہشتگردی کی مرتکب ہے بلکہ دہشتگردی کو فروغ دینے اور پیدا کرنے میں بھی سب سے بڑی حصہ دار بن کر سامنے آرہی ہے، ان معروضات کی روشنی میں BJP اور RSS دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی تنظیمیں ہیں جن کا منشور اور اغراض و مقاصد ہی فساد فی الارض ہیں، عالمی قوتیں و اقوام عالم کو سنجیدگی کے ساتھ اس کے خلاف ایکشن لینا چاہئے اور بااثر عالمی طاقتوں کو مسلم دشمنی کی عینک اتار کر حقیقتاً و واقعتاً دہشتگردی کی روک تھام کے لیے BJP و RSS جیسی انسانیت دشمن تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا چاہئے تاکہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکے اور عالمی سماج کی تقسیم ختم ہوسکے۔

  • سازشی سیاست دان پھر متحرک ، تحریر   اجمل ملک

    سازشی سیاست دان پھر متحرک ، تحریر اجمل ملک

    سازشی سیاست دان پھر متحرک . . . . . . . . . . . . . . . تحریر: اجمل ملک
    آج ملک اور خصوصا پنجاب میں سازشی سیاست دانوں کا ٹولہ بھرپور طریقے سے متحرک ھو چکا ھے اور سازشی سیاست کا مرکزی کردار گجرات کا چودھری خاندان ھے ۔ چودھری مونس الہی کا دادا چودھری ظہور الہی ایک معمولی پولیس کانسٹیبل تھا جس نے لوٹ مار کر کے دولت کمائی اور پھر پنجاب سے برادری ازم کی گندی سیاست شروع کی اور اس سازشی شخص نے اس ملک کے عظیم لیڈر ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھوانے میں بھی اپنا گھنائونا کردار ادا کیا اس کے بعد سیاست میں آنے والے اس خاندان کے دونوں افراد چودھری شجاعت اور پرویز الہی کبھی بھی عوام میں مقبول نہیں رھے لیکن دونوں بھائی سازشی اور جوڑ توڑ کی سیاست کر کے اقتدار حاصل کرتے رھے ان دونوں بھائیوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنی سازشیں کی ھیں کہ اب انکی شکل دیکھ کر ھی سازش کی بو آنے لگتی ھے یہ انتہائی دکھ کی بات ھے کہ آج پھر انہیں عوام پر مسلط کرنے کی سازش ھو رھی ھے اور مذید دکھ کی بات یہ ھے کہ ملکی دولت لوٹ کر بیرونِ ملک فرار ھو جانے والا شریف خاندان بھی اپنے تمام تر اصول اور نام نہاد نظریات کو بھول کر ان سازشیوں کیطرف اپنی دوستی کا ھاتھ بڑھا رھا ھے اور عمران خان کی جماعت میں شامل کئی مفاد پرست بھی ھوا کا رخ بدلتے دیکھ کر وفاداریاں بدلنے کیلیئے پر تول رھے ھیں اور حالات و واقعات بتا رھے ھیں کہ شائد سازشی عناصر کامیاب ھو جائیں ۔ راقم کبھی بھی PTI یا عمران خان کا حامی نہیں رھا لیکن بہرحال عمران خان کروڑوں لوگوں کے ووٹ لیکر آیا ھے اور خصوصا بیرونِ ملک بسنے والے محبِ وطن پاکستانیوں نے ان سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ھیں لہذا عمران خان کی حکومت کا تختہ ایسے مسترد شدہ اور سازشی عناصر کے ذریعے الٹنا واقعی اس ملک کی بدقسمتی ھوگی راقم کا عمران خان کو یہ مشورہ ھے کہ ان اچھلتے کودتے سازشی مینڈکوں کی منت سماجت کرنے کے بجائے آپ جرائت سے کام لیں اور اسلام کا ایک” قانونِ بٹائی ” اس ملک میں نافذ کر دیں یعنی کوئی بڑے سے بڑا زمیندار ھو یا وڈیرہ وہ صرف اتنی ھی زمین اپنے پاس رکھ سکتا ھے جتنی وہ خود اور اسکا خاندان کاشت کر سکتا ھے بقیہ زمین پر ھاری یا کسان کا حق ھے یہ قانون حدیث سے بھی ثابت ھے امام ابو حنیفہ کا بھی یہی موقف ھے امام مالک اور امام شافعی بھی یہی کہتے ھیں لیکن بعد کے دور میں مولانا فضل الرحمن جیسے درباری علما نے بادشاھوں کی خواھش پر اس قانون کو تبدیل کر دیا آپ صرف اسلام کے اس ایک قانون کو زندہ کریں یہ سارے وڈیرے چودھری قسم کے مینڈک پھدکنا بھول کر آپ کے قدموں میں گر جائینگے اور ملک کی %98 عوام آپکی پشت پر کھڑی ھو جائے گی ملک میں خوشحالی کیساتھ ساتھ امن و آمان بھی ھو جائے گا کیونکہ ساری غنڈہ گردی کے پیچھے یہی وڈیرے اور چودھری ھوتے ھیں آپ اس ملک میں بھٹو کی مثال دیتے رھے ھیں وہ یہ اصلاحات چاھتا تھا لیکن شائد خود ایک بڑا جاگیردار ھونے کی وجہ سے یہ جرائت نہ کر سکا آپ آگے بڑھیں اور اس ملک کیلیئے یہ کام کر جائیں۔ ھماری اپنے ملک کی اسٹبلشمنٹ سے بھی درخواست ھے کہ وہ ” توپ سے مچھر ” مارنے والا کام نہ کرے ایک دفعہ بڑا اقدام اٹھانے میں حکومت کا ساتھ دے تاکہ ملکی معیشت ایک صحیح ڈگر پر چل پڑے اور معدنی وسائل سے مالا مال یہ ملک حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ھو جائے . . . . . . . . . . اجمل ملک. . . . . . . . . . . . . ایڈیٹر نوشتئہ دیوار.