Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    لاہور: ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ، اطلاعات کےمطابق ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی‘وزارت امور نوجوانان و کھیل اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔

    تقریب میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز‘وزیر امور نوجوانان و کھیل محمد تیمور خان‘چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اظفر منظور‘سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘سیکرٹری یوتھ افیئرزاحسان اللہ بھٹہ‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ‘ڈی جی ای گورننس ساجد لطیف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ پنجاب میں 33ای روزگار سنٹرز فعال ہیں جبکہ 40مزید ای روزگار سنٹرز کالجوں میں کھلنے سے ای روزگار سنٹرز کی تعداد 73ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا اس اقدام سے چھوٹے اضلاع میں نوجوانوں کو مواقع ملیں گے اور وہ ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے آمدن کما سکیں گے۔ صوبائی وزیر محمدتیمور خان نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں یونیورسٹیاں موجود نہیں‘ کالج کی سطح پر ای روزگار سنٹر کھلنے سے وہاں کے مقامی نوجوان بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور نے کہا ای روزگار مراکز کالج کی سطح پر کھلنے سے سالانہ پچیس سے تیس ہزار نوجوان تربیت لے سکیں گے۔ معاہدے پر چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ اورسیکرٹری یوتھ افیئرز احسان اللہ بھٹہ نے دستخط کئے۔

  • وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے آپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    تحریر فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیراعظم! آپ اور پاکستان کی غلام اشرافیہ نے اپنی زمین پر اپنے ہی لوگوں سے ترکی کے صدر سے انگریزی میں مخاطب ہوکر کس قوم کے حکمران کی ترجمانی کی؟جب آپ کے سامنے آپ کے مخاطب نے اپ کی سرزمین پر بھی اپنی قومی زبان کونہ چھوڑا۔اور پاکستانی قوم سےاپنے بھرپور جذبات کے ساتھ ترکی میں خطاب کرکے پوری دنیا میں اپنا اور اپنی قوم کا وقار بلند کیا۔؟ترکوں کے لئے تو انگریزی بھی ایسی ہی ہے جیسے اردو’ تو پھر کیوں نہ ان کے سامنے اپنی قومی زبان میں خطاب کرکے اپنی زبان کا وقار بلند کیا جاتا! ترکی یورپ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی عالمی اور قومی سطح پر انگریزی کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ کم اذکم اپنے مہمان کی عزت و تکریم کا خیال کرتے ہوئے ہی اسکے سامنے انگریزی میں خطاب سے گریز فرماتے! اگر آپ کو اردو ‘ ترکی ترجمے کا مترجم چاہئے تھا تو اس کے لئے ترک نژاد ‘ استنبول یونیورسٹی کے صدر’شعبہ اردو محترم حلیل طوقار کی خدمت حاصل کی جاسکتی تھی۔۔جو ترک ہوتے ہوئے بھی سوشل میڈیا پر اپنا تمام پیغام اردو میں رقم کرتے ہیں!
    پاکستانی غلاموں کی اپنی زبان سے تحقیر اور تذلیل کی مذید توہین دیکھئے کہ ترکی صدر جو کچھ بول رہاتھا۔پاکستانی حاضرین کے لئے اسکاترجمہ اردو میں کیا جارہا تھا۔ کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستان کی دستوری اور قومی زبان اردو ہے؟
    کیا انہیں علم نہیں کہ عدالت عظمیٰ نفاز اُردو کے احکامات جاری فرماچکی ہے؟ کیا انہوں نے ترک صدر کے سامنے انگریزی بول کر توہین عدالت نہیں کی؟
    ۔کیا انہیں علم نہیں کہ امریکی صدارت کا انتخابی امیدوار پاکستانیوں سے مخاطب ہونے کے لئے انگریزی کے گھر میں’ اپنی انتخابی مہم اردو میں چلاتا ہے؟
    کیا ان کو علم نہیں کہ آسٹریلیا’ برطانیہ’ امریکہ پاکستانیوں کے لئے پاکستان سے متعلقہ اشتہار اردو میں نشر کرتے ہیں؟
    تو جب انگریزی کے اہل زبان نے تمہاری قومی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرلیا ہے تو تم انگریزی بول کر پاکستان کی آزادی و خودی سے سرشار عوام کے جذبات کو کیوں مجروح کرتے ہو؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد’ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن نے انگریزی کے گھر میں برطانیہ میں ‘ پارلیمنٹ کا حلف اردو’ میں لے کر دنیا بھر میں النی قومی زبان کا وقار بلند کیا ہے؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد سکاٹ لینڈ کے رکن اسمبلی حمزہ یوسف نے انگریزی کے گھر میں اردو میں حلف لے کر پاکستانی غلاموں کو سبق سکھایا ہے کہ دنیا کے ہر فورم پر اپنی قومی زبان کا وقار بلند رکھیں!
    یاد رکھیں! وزیراعظم صاحب! آپ کو ووٹ تبدیلی کے نام پرملے ہیں۔لیکن اگر آپ نے انگریزی غلامی کی وہی فرسودہ’ گلی سڑی ‘ متعفن ذدہ برقرار رکھی تو بھول جائیں کہ آئندہ آپ اقتدار کو چھو بھی سکیں گے۔ اپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں’ یہاں کی زبان اردو ہے۔’ اپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو ایک گلدستہ ھے پاکستان کی مادری و علاقائی زبانیں اس کے خوبصورت مہکتے ہوئے پھول ہیں.جس نے بہت عمدگی سے پھولوں کو باندھا ھوا ھے! پاکستان کے ہر صوبے کا شخص جس نے سکول کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔وہ بھی اردو’ سمجھ سکتا ہے اردو بول سکتا ہے۔ کیونکہ اردو ایک ہمہ گیر ‘ جامع زبان ہے جس میں پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے اردو کے تمام میڈیا چینل پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام میں مقبول ہیں۔ مگر انگریزی پاکستان میں وہ بھی نہیں بول سکتے جنہوں نے اس کو سیکھنے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کئے ہیں۔انگریزی پاکستانیوں کے لئے اج بھی اتنی اجنبی ہے جتنی آج سے سو سال پہلے تھی۔ اردو اور پاکستان کی مادری زبانوں میں ماں اور اولاد کا رشتہ ہے۔ انگریزی ان کے درمیان میں ” پھپھے کٹنی” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جو خود تو راج کر رہی ہے۔ لیکن مختلف مادری زبانوں کے کچھ شرپسندوں کو آپس میں لڑاتی رہتی ہے ۔۔پاکستان کے مختلف مادری زبانیں بولنے آپس میں جس زبان میں رابطہ کرتے ہیں وہ اردو ہے ۔۔اس لئے اردو پاکستان کی تمام مادری زبان کی "ماں” ہوئی ۔ ماؤں کی ماں بنی تو اردو کا رتبہ "نانی”کا ہوا !
    ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ کسی بھی خاندان’ نسل کی دوسری یا تیسری "پیڑی” میں جاکر مادری زبان تبدیل ہوسکتی ہے۔مگر قومی زبان ہرگز نہیں!
    اردو پاکستان کی مادری زبان ہے’ کیونکہ اردو کی ساخت میں پاکستان کے تمام مادری زبانوں کی آمیزش ہے۔اس لئے اردو ہماری قوم کے ڈی این اے میں شامل ہے

  • دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار،  تحریر: انشال راؤ

    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    جنگ عظیم دوم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس کی ہولناکی، تباہی و غیرمعمولی اثرات نے انسانیت کے وجود کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کردیا تھا، دنیا و انسانیت کو خطرات سے آگاہی کے پیش نظر 1947 میں اسٹیفن ہاکنگ سمیت پندرہ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے ایک علامتی گھڑی تشکیل دی جسے Doomsday Clock کا نام دیا گیا اور اس کی سوئیاں مڈنائٹ سے 17 منٹ کے فاصلے پر سیٹ کیں، ان سائنسدانوں کے مطابق جب اس کا ٹائم مڈنائٹ یعنی رات کے 12 بجے پر آجائیگا تو دنیا کسی بھی لمحے تباہ ہوسکتی ہے، دنیا و انسانیت کے لیے جن خطرات کو شمار کیا گیا جن میں نیوکلیئر ہتھیار، بائیو ٹیررزم، سائبر کرائم، عالمی لیڈروں کی اشتعال انگیزی و جارحیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو سرفہرست ہیں، اب تک متعدد بار ڈومس ڈے کلاک کے وقت میں تبدیلیاں کی جاچکی ہیں لیکن جوں ہی سائنس بلیٹن کے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اب دنیا محفوظ ہے تو فوراً گھڑی کی سوئیاں اپنے اصل وقت 17 منٹ کی دوری پر سیٹ کردی جاتی ہیں، دنیا میں تیزی سے رونما ہونیوالی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایٹمی جنگوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوے ایک بار پھر سائنس بلیٹن آف ایٹمک سائنس کے سائنسدانوں نے 23 جنوری کو گھڑی کے وقت میں تبدیلی کرتے ہوے جنوری 2018 میں دو منٹ کی دوری سے ہٹاکر اب اسے مڈنائٹ سے 100 سیکنڈ کی دوری پر سیٹ کردیا جو ابتک کی تاریخ میں مڈنائٹ سے کم ترین وقت ہے، ایٹمی سائنسدانوں نے بیان جاری کیا کہ "بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، جس کی وجہ جوہری جنگ کے بڑھتے ہوے خطرات، آب و ہوا کی تبدیلی، سائبر جنگ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی طاقتوں نے بین الاقوامی سیاسی انفراسٹرکچر کو ان کے نظم و نسق میں خاتمے کی اجازت دیدی ہے” بلیٹن آف ایٹمک سائنسٹسٹ کی تشویش محض سراب نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے جس طرح ڈرامائی انداز میں دنیا میں آب و ہوا کی تبدیلی رونما ہورہی ہے وہ انتہائی سنگین ہے 2019 میں ایمیزون کے جنگلات کی تباہی دنیا نے دیکھی اور اس کے بعد آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ماحولیاتی اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پہ مجبور کردیا، آئے روز کے زلزلے، پینے کے پانی کے ذخائر میں تیزی سے پیدا ہونے والی کمی، بے موسمی بارشیں، درجہ حرارت کی حیران کن تبدیلی نے دنیا میں زندگی کے وجود کے لیے شدید خطرات کو پیدا کردیا ہے، بہت سی عالمی تنظیمیں ان تبدیلیوں کا ذمہ دار انسانوں کی غیرفطری سرگرمیوں و معاشی ریس میں آگے بڑھنے کی حرص کو قرار دیا ہے، ایمیزون جنگلات میں لگنے والی آگ کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ برازیلین حکومت ان جنگلات کو ختم کرکے اس زمین کو زرعی و لائیو اسٹاک وغیرہ کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کو قرار دے رہی ہیں بالکل اسی طرح آسٹریلیا میں لگنے والی غیر یقینی آگ نے بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے، اس کے علاوہ امریکہ چین کی طاقت کے حصول کی رسہ کشی اور اسی دوران چین میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا اور جس طرح اس کی گونج عالمی میڈیا میں سنائی دی گئی جس کے بعد چین کی معیشت دھڑام سے نیچے گری ہے جو صرف چین تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر پڑینگے، چین دنیا کی معیشت کا 17 فیصد اور SARS Epidemic 2003 کے مطابق عالمی GDP کا 4.5 فیصد حصے دار ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی سپلائی چین کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن چند دنوں میں ہی چین کی معیشت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے تقریباً دنیا نے چین سے لین دین میل جول کے حساب سے قطع تعلق کر رکھا ہے چین کی 80 فیصد سے زائد صنعتی پیداوار بند ہے، لوگ گھروں تک محصور ہیں ایک کروڑ کی آبادی کا شہر ووہان ہالی ووڈ مووی Resident Evil Apocalypse جیسا منظر پیش کر رہا ہے ہر طرف ویرانی اور سناٹا طاری ہے اور 90 فیصد سے زائد ایکسپورٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے، اشیاء خورد و نوش کی شدید قلّت پیدا ہوگئی ہے جس سے ایک اور بڑے خطرے نے جنم لے لیا ہے کہ شاید کرونا وائرس تو اتنا مہلک ثابت نہ ہو جتنا لوگ بھوک سے مورجائیں گے، ماوزے تنگ کی چڑیوں کی نسل کشی کی پالیسی کے بعد پیدا ہونے والے قحط نے تقریباً ساڑھے چار کروڑ چینیوں کی زندگی چھینی تھی اور اب شاید ایک بار پھر چین کو ایک بڑے بلکہ بقا کا سوال ہے، چین کرونا وائرس کو بائیو ٹیررزم خیال کررہے ہیں جس کے باعث چینی انتظامیہ و ایک ایک فرد تڑپ کر رہ گیا ہے اور اب زخمی شیر کی طرح جوابی حملوں کے لیے بیتاب ہے، کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ چین نے کرونا وائرس کیرئیر بناکر اسے لانچ کردیا ہے اور بالخصوص ان ممالک جنہوں نے چین سے ایواکویٹ کیا ہے انہیں نشانہ بنارہا ہے، بائیوٹیررزم کی اس غیرمرعی جنگ کا نہ کوئی آغاز ہے نہ اختتام لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ دنیا ختم ہوجائیگی جس پر 2017 سے بل گیٹس عالمی لیڈروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے آرہے ہیں، اس کے علاوہ بھارت پاکستان چین تنازعہ بھی شدت پر ہے اور ساتھ ہی دوسری طرف امریکہ چین اور مڈل ایسٹ پلان اپنی جگہ عالمی تباہی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، بھارتی رہنماوں کی آئے روز کی اشتعال انگیز اور جارحانہ پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہندوتوا مائنڈسیٹ کی بھارتی سرکار کی شدت پسندی نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرے پر کھڑا کر رکھا ہے جو کسی بھی وقت غیریقینی انداز میں شروع ہوسکتی ہے، چین کی معاشی و سفارتی تباہی سے اتنا فائدہ امریکہ کو نہیں جتنا کہ بھارت کو ہوا ہے اور یہ بہت دلچسپ ہے کہ بھارت نے چین کی جگہ لینے کے لیے بہت عرصہ پہلے سے اپنے پیر پھیلانا شروع کردئیے تھے، BIMSTEC کے زریعے جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ سے مشرق وسطیٰ اور یورپ و افریقہ تک اپنی مصنوعات کو پہنچانے کے لیے پر تول رہا تھا جو اب یقینی ہوتا نظر آرہا ہے کہ چین کی ایکسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے اس کی جگہ لے لے تو ساتھ ہی اپنی افرادی قوت سے فائدہ اٹھاتے ہوے چین کی پوزیشن پر آکر براجمان ہوجائے لیکن یہ آسان نہ ہوگا کیونکہ غیرمناسب و ناجائز طریقے سے ہتھیائی گئی پوزیشن بھارت ہضم نہیں کرپائیگا کیونکہ چین جس میں بھارت دلائی لامہ کو استعمال کرکے اور مختلف ہتھکنڈوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا آرہا ہے اب براہ راست چین کے نشانے پہ ہوگا اور مرتا ہوا چین یہ سب کیونکر برداشت کرسکتا ہے نتیجتاً بھارت چین بھیانک جنگ ہوسکتی ہے، جس طرح چین کی معیشت کے ٹھپ ہونے سے عالمی سطح پر منفی و مثبت اثرات ہورہے ہیں اور مستقبل میں اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ساتھ ساتھ مثبت اثرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کی پالیسی انتہائی متاثر کن ہے جس طرح پاکستان نے چین نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے ہیں یقیناً جیسے ہی چین بحران سے نکلے گا تو وہ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے گا لیکن اندرونی خلفشار و سیاسی شعبدے بازیوں سے ملک و قوم غیرمعمولی نقصان کا سامنا کرسکتی ہے لہٰذا یہ وقت ہے کہ اب شاید تمام تر ذاتی مفادات پر ہمارے سارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ ایک پیج پر آکر عالمی صورتحال کے پیش نظر استحکام کی طرف بڑھیں۔

  • عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی  وجوہات سامنے آ گئیں

    عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

    عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

    باغی ٹی وی::کرکٹر عمراکمل کو پی ایس ایل سے معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں، انہوں نے بکی سے ملنے کا اعتراف کر لیا۔ انٹی کرپشن یونٹ نے عمر اکمل کو موبائل ریکارڈنگ کے ذریعے پکڑا، پی سی بی کو اطلاع نہ دینے پر معطل کر دیا گیا۔

    کرکٹر عمر اکمل نے بکی سے ملاقات اور آفر کا اقرار کر لیا، انٹی کرپشن ٹیم کے سامنے سب کچھ اگل دیا۔ عمر اکمل نے ٹیم کو بتایا کہ میچ فکسنگ کی آفر ایک نجی محفل میں دی گئی۔ ٹیم نے عمر اکمل سے سوال کیا کہ آفر سے متعلق پی سی بی یا انٹی کرپشن یونٹ کو کیوں نہیں بتایا، عمر اکمل اس سوال پر ٹیم کو مطمئن نہ کر سکے۔

    خیال رہے کہ عمراکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت فوری طور پر معطل کردیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کسی کرکٹ سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

    ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی گئی تھی جس سے متعلق انہوں نے بروقت پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل عمراکمل کوڈ آف کنڈکٹ کے ایک کیس میں بری ہوئے جب بورڈ نے معاملے کو ایک غلط فہمی قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔

  • سنگا کارا کو وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ بیٹ کا تحفہ

    سنگا کارا کو وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ بیٹ کا تحفہ

    سنگا کارا کو وزیراعظم عمران خان کا دستخط شدہ بیٹ

    باغی ٹی وی :میری لیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے کپتان کمار سنگاکارا سے سینیٹر فیصل جاوید نے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم عمران خان کا دستخط شدہ بیٹ دیا۔فیصل جاوید نے ایم ایم سی سی کے صدر کمار سنگا کارا کا پاکستان آمد پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ آہستہ آہستہ بحال ہورہی ہے، ایم سی سی کی ٹیم نے پاکستان کا ایک ہفتے کا دورہ کیا اور روانگی سے قبل کمارا سنگارا کی قیادت میں ٹیم نے سینیٹر فیصل جاوید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی بھی موجود تھے

    سینیٹر فیصل جاوید نے سنگاکارا کو عمران خان کا دستخط شدہ بیٹ پیش کیا۔ اس موقع پر سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ایم سی سی نے 47 برس بعد پاکستان کا دورہ کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اب انٹرنیشنل کرکٹ بحالی کی طرف گامزن ہے.ان کا کہنا تھا کہ پوری پاکستان سپر لیگ پاکستان میں ہونا بہت ہی خوش آئند بات ہے، وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ پورا پی ایس ایل پاکستان میں ہوگا اب ایسا ہی ہونے جا رہا ہے، وہ پاکستان کا دورہ کرنے پر ایم سی سی الیون کا شکریہ ادا کرتے ہیں
    واضح‌رہے کہ پاکستان میں پی ایس ایل فائیو کا آغاز ہو چکا ہے جس میں تمام اہم میچ پاکستان میں‌ ہوں گے.پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا غاز بھی ایک خوش آئند بات ہے.

  • مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیا

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیامقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پر کشمیری فری لانس رپورٹر احمر خان کو 2019 کا اے ایف پی کیٹ ویب انعام کا فاتح قرار دیا گیا ہے ۔

    اے ایف پی کے بہترین نمائندوں میں سے ایک کے نام سے منسوب یہ ایوارڈ ایشیا میں خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے والے مقامی صحافیوں کو دیا جاتاہے ۔ستائیس سالہ احمر خان کو ایک ویڈیو سیریز اور رپورٹ کے لئے یہ اعزاز دیا گیا ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس رپورٹ میں اگست میں کشمیر کو اپنی نیم خودمختار حیثیت سے ہٹانے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی علاقے کے مقامی لوگوں پر اس کے اثرات کو واضح کیا گیا تھا۔

    کرفیو اور سیکیورٹی کی بھاری پابندیوں کے باوجود ،احمر خان نے سری نگر اور کشمیر کے دیگر شہروں کے رہائشیوں میں پائے جانے والے تناو ، خدشات اور مایوسیوں کو دستاویزی شکل دی۔
    احمر خان نے اپنی جیت پر کہاکہ یہ ایک حقیقی اعزاز ہے ، اور اورمیرے کام کے لئے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں یہ ایوارڈ کشمیر کے بہادر صحافیوں کے نام کرتا ہوں کو دینا چاہتا ہوں جو گذشتہ چھ ماہ سے انتہائی مشکل حالات میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ایوارڈ ہے۔

    کیٹ ویب پرائز3400ڈالر کے انعام پر مشتمل ہے۔جو ایشیا میں خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔یہ 2007 میں اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کے نام سے منسوب ہے ، جو 2007 میں 64 سال کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔انہوں نے ویت نام کی جنگ کے دوران نڈر رپورٹنگ کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔

  • کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں عمر اکمل کے بعد شامل ہوئے نئے  کھلاڑی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں عمر اکمل کے بعد شامل ہوئے نئے کھلاڑی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں عمر اکمل کے بعد شامل ہوئے نئے کھلاڑی

    باغی ٹی وی کوئتہ گلیڈی ایٹر کو عمر اکمل کے بعد ملا ایک اور کھلاڑی .عمر اکمل کی معطلی کے بعد آل راؤنڈر انور علی کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا۔پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی نے بطور متبادل کھلاڑی انور علی کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

    بطور متبادل کرکٹر پی ایس ایل فائیو میں انور علی کا انتخاب سلور کٹیگری میں کیا گیا ہے۔اس سے قبل انور علی پی ایس ایل کے تمام ایڈیشنزمیں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔انور علی اب تک 32 پی ایس ایل میچوں میں 191 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 23 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔

    خیال رہے کہ عمراکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت فوری طور پر معطل کردیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کسی کرکٹ سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

    ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی گئی تھی جس سے متعلق انہوں نے بروقت پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل عمراکمل کوڈ آف کنڈکٹ کے ایک کیس میں بری ہوئے جب بورڈ نے معاملے کو ایک غلط فہمی قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔

  • پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس، کیا ہوئےاہم فیصلے

    پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس، کیا ہوئےاہم فیصلے

    پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس اہم فیصلے کیاہوئے

    باغی ٹی وی :پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کا سال 2020 میں پہلا اجلاس بدھ کے روز کراچی میں ہوا۔ سابق ٹیسٹ اسپنر اقبال قاسم کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں وسیم اکرم، عمر گل، عروج ممتاز اور علی نقوی نے شرکت کی۔ وسیم خان اور ذاکر خان بطور غیر فعال رکن اجلاس میں شریک تھے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈکوچ مصباح الحق کے علاوہ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ پی سی بی ہارون رشید نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔

    کرکٹ کمیٹی نے پی سی بی کو ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے دوران ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک ٹورنامنٹ منعقد کروانے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سیزن میں ممکنہ ونڈو کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی کو آگاہ کریں۔ کرکٹ کمیٹی کا آئندہ اجلاس اپریل میں متوقع ہے۔

    اس موقع پر ہارون رشید نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سیزن کے دوران پی سی بی اب تک 12 ٹورنامنٹس کا انعقاد کرچکا ہے جس میں 190 میچز شامل تھے۔ اجلاس کے دوران ہارون رشید نے کمیٹی کو کھلاڑیوں کے لیے کھانے، پریکٹس کی سہولیات اورپچز کے معیار میں بہتری لانے سے متعلق بھی بریفنگ دی ۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ہارون رشید کو دیگر معاملات پر بھی بریفنگ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    کرکٹ کمیٹی نے رواں سیزن میں کرکٹ کے معیار میں بہتری کو سراہاہے،اس حوالے سے کھلاڑیوں کی آراء بھی مثبت رہی ہیں۔اجلاس کے دوران 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کے کوچز کی تعیناتی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کوچز کی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کے لیےہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے واضح کیا ہے کہ کھلاڑیوں کے لیےایک بہترین اور مؤثر این او سی پالیسی تیار کی گئی ہے۔کرکٹ کمیٹی نے نئی این او سی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ پی سی بی تمام کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کو ترجیح دینے سے متعلق پالیسی پرسختی سے عمل کروائے۔

    اس موقع پر کرکٹ کمیٹی ا ورمصباح الحق کے درمیان مفید تبادلہ خیال ہوا۔ مصباح الحق نے کمیٹی کو سلیکشن پالیسی، کارکردگی اور مستقبل کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔اس موقع پر کرکٹ کمیٹی نے انہیں سلیکشن پالیسی میں مزید وضاحت لانے کی ہدایت کی ہے۔

    مصباح الحق نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے خصوصاََ ٹی ٹونٹی کرکٹ کے لیے بہترین کھلاڑیوں کی نشاندہی کرلی ہے۔ ہیڈ کوچ نے کہاکہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا انعقاد رواں سال ایشیا کپ اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم کے انتخاب میں اہم ثابت ہوگا۔

    عروج ممتاز نے کمیٹی کو گذشتہ 12 ماہ کے دوران خواتین کرکٹ میں بہتری اور ترقی سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو 21 فروری سے شروع ہونے والے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے لیے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی تیاریوں سے متعلق بھی بتایا۔ ایونٹ میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ 26 فروری کو ویسٹ انڈیز کےخلاف کھیلے گی۔

    عروج ممتاز نے کمیٹی کو آئی سی سی ویمنز انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ کے لیے پاکستان کی تیاریوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی نے مؤثر اقدامات پر عروج ممتاز کی کارکردگی کو سراہا۔کمیٹی نے خواتین کرکٹ کے فروغ اور اس میں بہتری لانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔

  • عمر اکمل کی ایک غلطی نے کیسے  دیا تنقید کا موقع

    عمر اکمل کی ایک غلطی نے کیسے دیا تنقید کا موقع

    عمر اکمل کی ایک غلطی نے کیسے دیا تنقید کا موقع

    باغی ٹی وی :یہ سوشل میڈیا کا نشہ بھی کیا کچھ کرواتا ہے.پاکستانی کرکٹر عمر اکمل اپنی ایک غلط ٹوئٹ کے سبب پاکستان سمیت بھارت میں مذاق کا نشانہ بن گئے ہیں۔

    عمر اکمل نے گزشتہ دنوں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک سیلفی شیئر کی تھی جس میں وہ پاکستانی سابق کرکٹر عبدالرزاق کے ہمراہ ہیں ، عمر اکمل نے اس تصویر کو عنوان د ینے کی غرض سے غلط انگریزی میں کیپشن دے دیا۔

    انہوں نے ’’mother from another brother‘‘ لکھ دیا جبکہ وہ ’’brother from another mother‘‘ لکھنا چاہتے تھے ۔

    اس سیلفی کے شیئر ہوتے ہی پاکستان سمیت بھارت کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے طرح طرح کے مزاحیہ کمنٹس آنا شروع ہو گئے۔اس سے قبل کہ عمر اکمل کی جانب سے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کیا جاتا ان کے مداح اس کا اسکرین شاٹ لے چکے تھے جو اب تک وائرل ہے۔ واضح‌رہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور اس پر ہر وقت ان رہنے کے شوق س ا کثر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جو بعد میں شرمندگی کا باعث بنتی ہے.