Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    لاک ڈاون کی وجہ سے سکول بند ہیں بچے گھروں میں فارغ ہیں ان کی زندگی ضائع ہو رہی ہے جب تک سکول کھلیں گے والدین سمجھیں گے کہ بچوں کی زندگی کا ایک خاصا بڑا حصہ ضائع ہو گیا ہے کام نہیں آسکا چند درج ذیل نشانیاں FEEL EDUCATION کے ممبر (فاؤنڈیشن آف ایفیکٹیو ایجوکیشن اینڈ لرننگ) کے ممبر انجنئیر نوید قمر نے بتائی ہیں جو اگر والدین بچوں میں دیکھیں تو خوش ہوں بچے کچھ نہ کچھ سیکھ رہے ہیں لہذا اس میں پریشان ہونے کی قطا ضرورت نہیں
    https://www.youtube.com/watch?v=6iff1qh6fU4&feature=youtu.be
    اگر بچے میں مشاہدہ کرنے کا تجسس یا حس بہت تیز ہے وہ چیزوں میں گھستا ہے یا دیکھتا ہے جیسا کہ بچہ کبھی میز کے نیچے گھس جاتا ہے چیزوں کو دیکھتا ہے کیڑوں مکوڑوں کو پکڑتا ہے ان کا مشاہدہ کرتا ہے کسی بھی چیز کو کھول کر دیکھنے جانچنے یا مشاہدہ کرنے کی کریوٹسی موجود ہے تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے وقت ضائع نہیں کر رہا

    بچہ اگر کسی کھیل میں انوالو ہے کھیل چاہے کسی بھی قسم کا ہو اکیلا کھیلے یا بچوں کے ساتھ بچے کا وقت اس میں ضائع کبھی بھی نہیں ہوتا بلکہ بچہ اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے کھیل ہمیشہ تعلیمی ہوتا ہے اور بچے کے سیکھنے کا ایک اچھا خاصا بڑا حصے کا تعلق کھیل کے ساتھ ہوتا ہے اگر بچہ کھیل میں وقت گزار رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بچے کے سیکھنے کا عمل بہتر انداز میں چل رہا ہے

    بچے اگر آپس میں کچھ ڈسکس کر رہے ہیں ماضی کے واقعات یا قصے کہانیاں آپس میں سنا رہے ہیں یا مختلف آئیڈیاز آپس میں شئیر کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے کیونکہ باتوں کے ذریعے اچھا خاصا علم منتقل ہوتا ہے اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے

    بچے اگر آپس میں یا والدین سے سوال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچے کا ذہن ذرخیز ہے بچہ اگر دن میں دس بیس یا پچیس سوالات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ اس کے سیکھنے کے عمل کا ایک بڑا حصہ ہے

    بچے اگر تصور میں کوئی کہانی گھڑ لیتے ہیں یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں یا کریکٹر ایک دوسرے کو دے کر کہانی یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں تو اس کے ذریعے ڈائیلاگز کرتے ہیں بچے کا تصوراتی دنیا میں جانا ایسی بات کرنا جو بظاہر ناممکن ہوتی ہے تو ان کا تصور میں جانا اس بات کی علامت ہے کہ بچے سیکھ رہے ہیں

    بچہ ہر کام اپنے طریقے سے یا ذرا ہٹ کر کرتا ہے تو بچے کی یہ انفرادیت اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ بچے کا سیکھنے کا اپنا ہی ایک طریقہ ہے

    اگر کوئی بچہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے تو اپنے فیصلے خود لیتا ہے اس کے خود فیصلے لینے کے عمل کو مثبت لینا چاہیئے اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیئے

    اگر کوئی بچہ ٹیم ورک کرتا ہے کسی بھی چیز میں اس کا ٹیم ورک اسکا لرننگ پروسیس ہے

    بچے ڈرائینگ بنائیں اسکیچ بنائیں کسی کاغذ یا بورڈ پر مختلف رنگوں سے اس طرح وہ اپنے خیالات کا اظہار لفظوں کے ذریعے کرناچاہ رہے ہوتے ہیں یہ بھی بچے کے سیکھنے کا عمل ہوتا ہے

    بچہ اگر گنگناتا ہے کسی بھی چیز کو سن کر آواز بناتا ہے آوازیں مکس کرتا ہے اور آوازوں کےساتھ ایک کمبی نیشن بنا کر ترنم پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی ایک بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    بچہ اگر نئے نئے کام کرتا ہے تجربات کرتا ہے کچھ ایسی چیزیں کرتا ہے جو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھی ہیں اس بات کی علامت ہے بچہ آپ کا کری ایٹیو ہے اور کچھ نئے کام اور نئے تجربات کے ساتھ وہ خود کو انوالو کرنا چاہ رہا ہے

    کچھ بچے تنہا رہنا پسند کرتے ہیں اکیلے بیٹھنا پسند کرتے ہیں تنہائی میں سوچ رہے ہوتے ہیں غوروفکر کر رہے ہوتے ہیں اس کا تنہائی میں سوچنا غوروفکر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    یہ وہ مظاہر ہیں جس سے والدین کو اندازہ ہونا چاہیے کہ بچے کا وقت ضائع نہیں ہو رہا ہے ان سب میں۔والدین کو چاہیے وہ بچوں کو روکیں ٹوکیں نہیں ان کا ساتھ دیں بچوں کو سہولت دیں بچوں کو ٹائم دیں جو چیزیں انہیں دستیاب ہیں انہیں مہیا کریں

    وہ 7 مصروفیات جن سے آپ بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

  • میرا سائباں  از ؛عائش نعیم

    میرا سائباں از ؛عائش نعیم

    2سومیرا سائباں
    عائش نعیم
    (میرا جسم میری مرضی کے مقابل مشرقی روایات کی امین ایک خوبصورت نظم)

    قائم رہے سایہ تیرا
    خوشیوں کی تو ہی ہے وجہ

    یہ لالہ زار تجھ سے ہے
    اس گھر کا تو سائباں

    یہ زندگی تجھی سے ہے
    تو زندگی کی ہے بہار

    یہ رب نصیب نہ کرے
    کہ ہو زندگی تیرے بنا

    تیرے ہی دم سے ہر خوشی
    اونچا رہے یہ نام تیرا

    لاہوت ہو پرواز تیری
    میرے لبوں پہ ہے دعا

    قائم رہے میرا سائباں
    میری چھت، میرا مہرباں

  • ظاہر و باطن…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    وہ ہمیں پہ کڑکے…
    ہمیں پہ گرجے…
    اور ہمیں پہ برسے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…
    کر صفا گئے…!!!
    مگر جو دیکھا__
    پلٹ کر ہم نےاُنہیں…
    اپنی ادا کو…
    نہ وہ سنوار سکے…
    بے وقت صدا کو…
    نہ کردار سکے…!!!
    نہ گفتار سکے…
    وہ ہمیں پہ
    چاہتے تھے برسنا…
    سو ہم ہی کو نکھار گئے…!!!
    نہ گریباں میں…
    اپنے وہ جھانک سکے…
    نہ اداؤں کو اپنی…
    وہ تانک سکے…
    جو مقام تھا کھوکھلا…
    اُن کے دل میں ہمارا…
    صد شکر وہ اپنے ہی…
    لفظوں سے دل پہ ٹانک گئے…!!!
    جو ظاہری صناعی کا…
    تھا تعلق وقتوں سے…
    اپنے ظاہر کی جھلکی میں…
    باطن وہ اپنا دکھا گئے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…!!!!!!
    =============================

  • وصالِ یار  از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار
    نعیم ہاشمی

    تیری چاہتیں ملی ہیں
    اب اور کیا میں چاہوں
    تم جو مل گئے ہو مجھ کو
    اب اور کیا میں مانگوں

    نہیں دل میں کوئی حسرت
    نہ ہی اور کوئی چاہت
    تجھے پا لیا ہے میں نے
    اب اور کیا میں پاؤں

    یہ بہارِ جاوداں ہے
    تیرے ہی دم قدم سے
    تو رہے سدا سلامت
    اب اور کیا میں مانگوں

    عشرت کدے میں میرے
    روشن قندیل تیری
    رہے نور یہ فروزاں
    یہی صبح و شام چاہوں

    رہے تا ابد سلامت
    تیرا اور میرا تعلق
    نہ میں چاہوں حورِ عینا
    تیرا ساتھ ہی میں چاہوں

    تیرے ہی دم سے قائم
    سانسوں کی ڈور میری
    تیری رضا ملے جو
    پھر اور کچھ نہ چاہوں

  • کون ہےسپرپاور ؟  از :سفیر اقبال

    کون ہےسپرپاور ؟ از :سفیر اقبال

    #کون ہےسپرپاور

    کون ہے سپر پاور کس کی ضرب کاری ہے؟
    آج سب زبانوں پر کس کا نام جاری ہے…؟

    وقت کے فرعونوں پر اور کھلی فضاؤں پر
    کس کی بادشاہی ہے؟ کسی کی پہرے داری ہے؟

    ہے شدید تر کتنا ِاس عذاب کا کوڑا
    ساری دنیا پر واضح آج حکمِ باری ہے

    اک عظیم خالق کی یاد جب نہیں دل میں
    اک حقیر وائرس کا خوف کتنا طاری ہے

    اپنے سیف ہاوسز میں مطمئن جو کل تک تھے
    ان ثمود والوں پر سخت بے دیاری ہے

    بھولے ایک ہستی کو اور چھن گیا سب کچھ
    سخت بے یقینی ہے، سخت بے قراری ہے

    کیوں نظر چراتے تھے ایک بستی سے کل تک
    آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن جاری ہے

    کیسی بددعا تھی وہ پوچھو شامی بچے سے
    سسکیوں میں ہی جس نے عمر اک گزاری ہے

    اک ایک پنچھی کو جس نے نوچ ڈالا تھا
    خوف میں گھرا خود ہی آج وہ شکاری ہے

    جس نے ایک ساعت میں بستیاں کھنڈر کر دیں
    ایک ایک ساعت کا آج خود بھکاری ہے

    عالمی مسیحاؤ ….! کچھ تو آج بتلاؤ
    کیا علاج ہے اس کا؟ کیسی یہ بیماری ہے؟

    گر دوا نہیں تو پھر رب سے کچھ دعا کر لو
    کس کو کیا خبر آخر کل کو کس کی باری ہے؟

    ماں کے پیار سے بڑھ کر رب کو پیار ہے ہم سے
    اس کے پیار میں ہی بس عافیت ہماری ہے….!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

    (نوٹ! تصویر اس دعا کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں سکھائی تھی…. اس وقت جب قیدِ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی سہارا اور مددگار نہیں تھا )

  • شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان  کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    معززقارئین کرام کہتے ہیں‌کہ ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا ،بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کردیاجائے،بادشاہ کے حکم پرجلاد اسے قتل گاہ کی طرف لے کرچلے تو اس نے بادشاہ کوبُرا بھلا کہنا شروع کردیا ،کسی شخص کے لیے بڑی سے بڑی سزایہی ہوسکتی ہےکہ اسے قتل کردیا جائے ،اورچونکہ اس شخص کویہ سزاسنائی جاچکی تھی اس لیئے اس کے دل سے یہ خوف ختم ہوگیا کہ بادشاہ ناراض ہوکردرپے آزارہوگا

    بادشاہ نے یہ دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیرسے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے،؟بادشاہ کا یہ وزیربہت نیک دل تھا اس نے سوچا اگرٹھیک بات بتادی جائے تو بادشاہ غصے سے دیوانہ ہوجائے گا اور ہوسکتا ہے کہ قتل کرنے سے پہلے قیدی کو سخت سے سخت عذاب میں مبتلا کردے ،

    وزیرنے جواب دیا جناب یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ پاک ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جوغصے کو پی جانے والے ہیں ، لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں‌،

    وزیرکی بات سن کربادشاہ مسکرا اوراس نے حکم دیا کہ اس شخص کو آزاد کردیا جائے ، بادشاہ کا ایک اوروزیرپہلے وزیرکا مخالف اورتنگ دل ،تنگ نظراورسنگ دل بھی تھا وہ خیرخواہی جتانے کے اندازمیں بولا”یہ بات ہرگزمناسب نہیں ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیراسے دھوکے میں رکھیں اورسچ کے سوا کچھ اورزبان پرلائیں ،

    یہ وزیرکچھ اس انداز سے کہانی سناتا ہے کہ قیدی حضورکی شان میں گستاخی کررہا تھا ، غصہ ضبط کرنے اوربھلائی سے پیش آنے کی اس نے کوئی بات نہیں کی ،

    وزیرکی یہ بات سن کرنیک دل بادشاہ نے کہا "اے وزیرتیرے اس سچ سے جس کی بنیاد بغض اورکینے پرہے، تیرے بھائی کی غلط بیانی سے بہترہے کہ اس سے ایک شخص کی جان بچ گئی

    بادشاہ نے کہا کہ یادرکھ !اس سچ سے جس سے کوئی فساد پھیلتا ہو، ایسا جھوٹ بہتر ہے جس کوئی برائی دورہونے کی امید ہو،

    وہ سچ جوفساد کا سبب ہو بہتر ہے نہ وہ زبان پرآئے اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے جوآگ فساد کی بجائے

    حاسد وزیربادشاہ کی یہ بات سن کربہت شرمندہ ہوا ، بادشاہ نے قیدی کوآزاد کردینے کا فیصلہ بحال رکھا اوراپنے وزیروں کونصیحت کی کہ بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشورے پرعمل کرتے ہیں‌،
    وزیرروں کا فرض ہے کہ وہ ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالیں جس میں کوئی بھلائی نہ ہو.اس نے مزید کہا کہ "یہ دنیاوی زندگی بہرحال ختم ہونے والی ہے ، کوئی بادشاہ ہو یا فقیرسب کا انجام موت ہے،

    اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی شخص کی روح تخت پرقبض کی جاتی ہے فرش خاک پر

    حکایت کی اصل روح یہ ہےکہ خلق خدا کی بھلائی کا جزبہ انسان کے تمام جزبوں پرغالب رہنا چاہیے ،اورجب یہ اعلیٰ وارفعٰ مقصد سامنے ہوتو مصلحت کے مطابق رویہ اختیارکرنے میں مضائقہ نہیں

    بادشاہ وقت کواپنے آس پاس بیٹھنے والے وزیروں میں ایسے وزیرکی بات پرہمیشہ توجہ دینی چاہیے جس کی سوچ جزبہ دیدنی اورمذکورہ وزیرجیسا ہو

    حوالہ : حکایات گلستان سعدی ص نمبر12

    ازقلم : علامہ علی شیرحیدری

  • ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ⁦منہال زاہد سخی

    کبھی کسے یاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں
    کسے سے فریاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو سہارا دے کر کنارے کنارے چلتا ہوں
    کسی کی خلوت میں امداد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    غروب آفتاب کے منظر کو کبھی دیکھا جو ساحل سے
    دل کو غموں سے آباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    خودی کو اجنبی جانا خودی کو کوئی سمجھا غیر
    کتنی بستیاں برباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو واسطہ واپسی کا سفر ادھورا رہتا ہے
    اسے ناکام استاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کوئی پنجرہ صدائے محبت کم نہ کرسکا کبھی سخی
    دل کی بلبل کو آزاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    #قلم_سخی

  • وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:3]۔
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔
    گفتگو واقعی جرأتمندانہ تھی…
    قریش کو اپنے لوگوں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہوا،
    تب ایک شخص بولا:
    لات و عزیٰ کی قسم…
    صہیب تم وہ وقت یاد کرو جب تم مفلس تھے،مکہ پہنچ کر تجارت شروع کی…
    اور تھوڑے عرصہ میں ہی تم اتنے مال دار ہو گئے،تمہاری تجارت وسیع ہوتی چلی گئی…
    اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ کمایا ہوا ڈھیروں مال تم اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ گے؟
    یہ تو ممکن نہیں کہ تم سب لے اُڑو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں…
    صہیب نے ان کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے،
    اچھا کیا تمہاری نظر صرف میرے مال پر ہے؟
    جبکہ میرا مشن تو اس سے کہیں ارفع اور بیش قیمت ہے…
    تو کیا میں اپنا سارا مال تمہارے سپرد کر دوں تب تم میری راہ چھوڑ دو گے ؟
    انہیں اور کیا چاہیئے تھا،جھٹ تیار ہو بیٹھے کہ ہاں اگر تم اپنے سامان و خزانے کا پتہ ہمیں دے دو تو ہم تمہارا رستہ چھوڑ دیں گے…!!!
    صہیب نے انہیں وہ جگہ بتا دی جہاں دولت چھپی ہوئی تھی…
    وہ خوشی خوشی رستہ چھوڑ کر لَوٹ گئے اور سارا مال اپنے قبضے میں کر لیا…
    اور ادھر صہیب رہِ وفا کے تقاضے نبھاتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے،آپ کو اپنے مال و دولت کے لُٹ جانے کا ذرا برابر بھی غم نہ تھا…
    کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اللّٰہ کی پہچان اور محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد یہ مال کیا،جان کی بھی پرواہ نہیں رہتی…
    اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیئے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے چھوٹ جانے کی ذرا پرواہ نہیں رہتی…!!!
    وفورِ شوق سے قدم مدینہ کی طرف رواں تھے…
    محبوبِ رب کی زیارت کا شوق تھکے قدموں کو توانائیاں فراہم کر رہا تھا…
    دل میں موجزن ایمان کا سمندر لیئے صہیب جب قبا میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب صہیب کو دیکھا تو فرمایا:
    ابو یحییٰ تجارت منافع بخش رہی…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا…
    صہیب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا…
    عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے قبل یہاں کوئی نہیں آیا،یقیناً یہ خبر آپ کو جبریل امین علیہ السلام نے دی ہو گی ؟
    ادھر صہیب راہ وفا کی کھٹنائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اُدھر جبریل امین اللّٰہ تعالٰی کا پیغام لیۓ پہنچ گئے…
    محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر پر قرآن اُتر رہا تھا:
    "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللّٰہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان تک کھپا دیتا ہے اور اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے…”

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

  • وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛  تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:3]۔
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔
    گفتگو واقعی جرأتمندانہ تھی…
    قریش کو اپنے لوگوں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہوا،
    تب ایک شخص بولا:
    لات و عزیٰ کی قسم…
    صہیب تم وہ وقت یاد کرو جب تم مفلس تھے،مکہ پہنچ کر تجارت شروع کی…
    اور تھوڑے عرصہ میں ہی تم اتنے مال دار ہو گئے،تمہاری تجارت وسیع ہوتی چلی گئی…
    اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ کمایا ہوا ڈھیروں مال تم اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ گے؟
    یہ تو ممکن نہیں کہ تم سب لے اُڑو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں…
    صہیب نے ان کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے،
    اچھا کیا تمہاری نظر صرف میرے مال پر ہے؟
    جبکہ میرا مشن تو اس سے کہیں ارفع اور بیش قیمت ہے…
    تو کیا میں اپنا سارا مال تمہارے سپرد کر دوں تب تم میری راہ چھوڑ دو گے ؟
    انہیں اور کیا چاہیئے تھا،جھٹ تیار ہو بیٹھے کہ ہاں اگر تم اپنے سامان و خزانے کا پتہ ہمیں دے دو تو ہم تمہارا رستہ چھوڑ دیں گے…!!!
    صہیب نے انہیں وہ جگہ بتا دی جہاں دولت چھپی ہوئی تھی…
    وہ خوشی خوشی رستہ چھوڑ کر لَوٹ گئے اور سارا مال اپنے قبضے میں کر لیا…
    اور ادھر صہیب رہِ وفا کے تقاضے نبھاتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے،آپ کو اپنے مال و دولت کے لُٹ جانے کا ذرا برابر بھی غم نہ تھا…
    کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اللّٰہ کی پہچان اور محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد یہ مال کیا،جان کی بھی پرواہ نہیں رہتی…
    اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے چھوٹ جانے کی ذرا پرواہ نہیں رہتی…!!!
    وفورِ شوق سے قدم مدینہ کی طرف رواں تھے…
    محبوبِ رب کی زیارت کا شوق تھکے قدموں کو توانائیاں فراہم کر رہا تھا…
    دل میں موجزن ایمان کا سمندر لیئے صہیب جب قبا میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب صہیب کو دیکھا تو فرمایا:
    ابو یحییٰ تجارت منافع بخش رہی…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا…
    صہیب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا…
    عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے قبل یہاں کوئی نہیں آیا،یقیناً یہ خبر آپ کو جبریل امین علیہ السلام نے دی ہو گی ؟
    ادھر صہیب راہ وفا کی کھٹنائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اُدھر جبریل امین اللّٰہ تعالٰی کا پیغام لیۓ پہنچ گئے…
    محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر پر قرآن اُتر رہا تھا:
    "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللّٰہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان تک کھپا دیتا ہے اور اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے…”

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

  • لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ :  بقلم ، فردوس جمال !!!

    لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ : بقلم ، فردوس جمال !!!

    وہ پہلے بیڈ روم سے سانپوں اور مگرمچھوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی رہی مگر بات نہ بنی پھر ایک رات اس نے اپنے سب ‘اثاثے’ ظاہر کرتے ہوئے اپنی ہی الف ننگی ویڈیو اسی بیڈ روم سے لیک کر دی ہر طرف اس کا چرچا ہوا،اقبال کے شاہین انبکس اور پرسنل پر ایک دوسرے سے اس ویڈیو کی ڈیمانڈ کرتے دکھائی دیے.

    پھر چند دن بعد موصوفہ نے اسلامی گیٹ اپ بنا کر اسی بیڈ روم سے ایک اور ویڈیو اپلوڈ کر دی اب کے موصوفہ خوش الحانی میں قرآن پڑھ رہی تھی اور توبہ کا اعلان کر رہی تھی اقبال کے شاہینوں میں اب کے سخت اختلاف ہوا کمنٹ بکس میں رش لگا ہوا تھا کچھ نے کہا اس کا توبہ نہیں ہے کچھ توبہ قبول ہے قبول کی سند بخش رہے تھے خیر موصوفہ کو بہت توجہ ملی،علماء کرام سے دین نہ سیکھنے والے ایک طبقے نے اب بقاعدہ دین سیکھنے کے لئےاس کے یوٹیوب کے دروازے کا رخ کیا.

    اب موصوفہ نے ایک نیا انکشاف کر ڈالا ہے کہ قرآن مجید کے 38 پارے ہیں،ایک بار پھر موصوفہ خبروں میں ہے،ایک بار پھر وہ معافی مانگے گی اور ایک بار پھر قبول ہے قبول کا پروانہ دینے والے ٹوپیاں سیدھی کرتے ہوئے اس کے یوٹیوب چینل کی نشستوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے.

    بات یہ ہے کہ یہ سب لائم لائٹ میں رہنے اور حصول شہرت کے طریقے ہیں مومنین فی سبیل اللہ مارے جاتے ہیں،بھیا توبہ بحضور کیمرا اور یوٹیوب کیا جاتا ہے؟ ٹھیک ہے گناہ ہر انسان سے ہوتا ہے،اس کے لئے توبہ ہے،توبہ تمہارا اور تمہارے رب کے درمیان کا معاملہ ہے اپنے توبے کو سوشل میڈیا میں کیش کروانے اور لائکس و کمنٹس سمیٹنے کا ذریعہ بنانے کا یہ انتہائی سطحی اور سستا طریقہ کیوں؟