Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    میں نے آٹے والی پیٹی میں سے گوندھنے کے لیئے آٹا نکالا،اور دیکھا کہ آٹا تو ختم ہونے کے قریب ہے…اور آج کل تو آٹے کی ضرورت بھی زیادہ ہے کیونکہ گھر کے سبھی افراد گھر پر ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی مستحق بھی آ جاتا چنانچہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود ارادہ کیا کہ چلو آج ایک بوری گندم ہی صاف کر دی جائے تاکہ چکی پر پیسنے کے لیئے بھیجی جا سکے…
    چارو نا چار گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر صحن میں رکھنا شروع کر دیں،اور چھپی نگاہوں سے سب کو تلاشنا بھی شروع کیا کہ کوئی مدد کو آتا ہے کہ نہیں…
    لیکن ظاہر سی بات تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور مجھ مسکین پر کسی نے نظرِ رحم نہ کی اور شاید سبھی میرے کام سے بے خبر تھے…
    مجھے دل ہی دل میں بلا کا غصہ آیا کہ بھئی کمال ہے گیمز کھیلنا بہت ضروری ہیں؟
    اندر ہی اندر قہقہے بلند ہو رہے ہیں؟؟
    ہاں فل آواز میں چولہے کی آواز آ رہی ہے ضرور کوئی ریسیپی تیار ہو رہی ہو گی محترمہ کی؟
    وہ تو بس کوکنگ سنبھال کر باہر سے بے فکر…
    یہ تو گارلک تکہ اور انڈوں کے حلوہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں…
    اور ابھی کوکنگ کے بعد تلاوت و تفسیر کا وقت ہو جائے گا اور میری دلجوئی…؟
    اُف میں نے آج اکیلے کیا مصیبت سر ڈال لی ہے وغیرہ؟
    غرض خیالات کا سلسلہ اندر ہی اندر بہہ رہا تھا جو لبوں تک ابھی نہیں آیا تھا اور وجہ گردے میں درد تھی…
    خیر چند ہی لمحوں بعد جب سب نے میری عدم موجودگی کا نوٹس لیا تو سبھی بھاگے آئے کہ آپ کو کیا فکر پڑی تھی کل کر لیتیں،کون سا مجبوری تھی؟؟
    اب مجھے سب کے اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا…
    امی جان نے انڈا ابال کر بھیجا تھا کہ یہ اُسے دے آؤ کھالے…
    سسٹر سٹرابری دھو کر لے آئیں…
    اور بھائی گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر مجھ تک پہنچانے لگے،اور صاف کی ہوئی الگ بوری میں ڈالنے لگے…
    چند لمحات پہلے کے خیالات ہوا ہو چکے تھے اب ایک سکون سا گھیرے ہوئے تھا…اُس وقت جو چاہا کہ ذرا چیخ کر سب کو بلاؤں کہ کہاں گئے ہو؟
    ایسا نہ کرنے پر فرحت رگوں میں اُتر رہی تھی اور میں نے انہیں یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں غصہ میں تھی…
    سو کام آدھے گھنٹہ میں مکمل بھی ہو چکا تھا کہ نمازِ ظہر کے لیئے اذان کی آواز بلند ہوئی تب میں نے شکر کیا کہ چلو بروقت فراغت ہوئی…اور دل میں اب پھر اک سوال اُبھرا کہ اگر میں ناراضگی کا اظہار کر ہی دیتی تو سب کے دل میں کیا بات جاتی؟
    سب کی ہنسی افسردگی میں بدل جاتی اور وہ مدد کرتے ہوئے بھی بوجھل ہو رہے ہوتے…
    حالانکہ ہر کام اور ہر لمحہ ساتھ نبھاتے ہیں…!!!

    صبح ناشتے کا پراٹھا،انڈا اور چائے کا کپ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پہنچی،والدہ محترمہ بہت زبردست پراٹھا بناتی ہیں اور سبھی خاندان والے امی کے پراٹھے یاد کرتے ہیں…لیکن تین دن سے مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں آ رہا تھا درمیان سے موٹا اور سائیڈ سے پتلا پراٹھا بھلا یہ کیا اصول ہوا؟
    آج تو جا کر امی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ جیسے بھی ہو میں ناشتے میں خامی نہیں برداشت کر سکتی…
    چنگیر اُٹھا کر کچن میں پہنچی،دل تھا کہ آج تو چنگیر زور سے پٹخ دوں اور ساتھ ہی ایک مرحوم پڑوسی بابا جی بھی یاد آئے جن کو بہو کھانا دے کر آتی تھیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھا کر پلیٹ صاف کر کے خالی چنگیر اور پلیٹ دور سے ہی پھینک دیتے جو بعض اوقات کام میں مگن بہو کی پیٹھ پہ آ لگتی وہ بہو اب بھی کبھی ملیں تو یہ دلچسپ آپ بیتیاں سناتی ہیں…
    خیر اسی خیال کے آتے ہی چنگیر تو آرام سے شیڈ پر رکھ دی اور ناراضگی میں باہر جانے لگی تو امی جان جو پیڑھی پر بیٹھی تھیں سمجھ کر کہنے لگیں،بچے آج تمہاری روٹی موٹی ہو گئی تھی…پتہ نہیں آٹا ٹھنڈا تھا کہ کیا میں نے تو روٹی بہت دقت سے بنائی ہے…
    ہاں جی امی وہ میں فریج میں آٹا رکھ کر نکالنا ہی بھول گئی تھی تو بہت سخت ہوگیا ہوگا معذرت امی جی…
    نہیں ذرا دھیان سے نکال دیا کرو کیونکہ صبح تو سردی سے میرے ہاتھ ٹھنڈے برف بنے ہوتے ہیں…
    جی ضرور امی…
    غلطی تو میری تھی اور میں ہی غصہ سے چنگیر پہ بھی غصہ نکالنا چاہ رہی تھی؟
    ،نگاہیں ندامت سے جھکنے لگیں…
    قارئین !!!
    یہ تو محض دو واقعات تحریر کیئے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اکثر غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے…
    ہم بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوتے…
    کسی کی بات کا مقصد نظر انداز کر دیتے ہیں…
    اور محض بدگمانی اور عدم برداشت کی وجہ سے پھٹ پڑتے ہیں…
    جس کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے…
    سو زندگی میں مثبت بھی سوچتے رہنا چاہیئے…کبھی کسی کی چھوٹی موٹی غلطی کو نظر انداز بھی کر دینا چاہیئے…
    ہاں جہاں واضح غلطی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو وہاں خاموش رہنا بھی غلط ہے…
    لیکن کسی کو محض وہم و گمان سے نشانے کی زد پر نہیں رکھنا چاہیئے…
    تھوڑی سی برداشت،صبر تحمل،بردباری بسا اوقات بڑے نقصانات سے بچا لیتے ہیں اور کبھی انہی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے شرمندگی و نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…
    ہر بات کو جوش کے آئینہ میں ہی دیکھنے کی بجائے کبھی ہوش کا آئینہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے…
    مجھے یاد آیا کہ پچھلے دنوں میں نے کسی گروپ میں ایک پوسٹ فارورڈ کر دی جس میں مردوں کی گھریلو مصروفیات کا مزاحیہ جائزہ تھا… جو کہ ہمارے مردوں کی اکثریت کا رویہ بھی ہے…نظر سے گزری تو دلچسپ لگی۔۔۔ جبکہ میرا اصول زیادہ تر صرف اپنی تحریر ہی فارورڈ کرنا ہے تو ایک گروپ ممبر نے(نامعلوم بہن ہیں کہ بھائی؟) نے کمنٹ کیا کہ آپ لوگوں کو صرف ایکٹروں کے انداز ہی گروپ میں بھیجنا پسند ہیں کچھ تو…… کرو وغیرہ۔
    اب اگر میں چاہتی تو اس بلینک کو پُر کر سکتی تھی کہ شرم کرو،حیا کرو یا خیال کرو وغیرہ
    یعنی ان کا مطلب کیا تھا؟
    تو بات طول پکڑ لیتی،بحث لمبی ہو جاتی…حالانکہ اُس تحریر میں نہ تو ایکٹرز کا تذکرہ تھا اور نہ ہی میرا مدعا…
    جبکہ بعض اوقات گروپ میں کچھ چیزیں بالخصوص وڈیوز وغیرہ ناگوار بھی گزرتی ہیں لیکن گروپ میں موجود سبھی قابلِ احترام ممبرز کی رائے اور فکر یا پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے…یہ بات تو سردست یاد آ گئی تو وضاحت کر دی ہے…
    بات ہم اپنے رویوّں میں تبدیلی کی کر رہے ہیں کہ جب تک ہم خود کو نہیں بدلتے…
    اَنا کو کم نہیں کرتے…
    کسی کی سوچ اور رائے کا احترام نہیں سیکھتے…
    اور محض بدگمانی اور تنقید کے تیروں کی برسات جاری رکھتے ہیں تو کسی بھی سفر کا مزہ ادھورہ رہ جاتا ہے…
    ہم اس کی لذت و چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں…
    محدود نظریات کے حامل بن جاتے ہیں
    چاہے وہ گھر ہو یا دفتر…
    فورمز ہوں یا ایوان…
    ہم تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ ہم سب کو اپنی شخصیت اور سوچ کے آئینہ میں نہیں ڈھال سکتے ہمارے ذمہ بہترین نصیحت حکمت کے ساتھ پہنچا دینا ہے…!!!
    کبھی کچھ برداشت کر جانا…
    صبر کا گھونٹ پی جانا…
    بے پرواہ بن جانا بھی اس زندگی کے حُسن کو مذید چار چاند لگا دیتا ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی صبر کی عادت ڈالے اللّٰہ تعالٰی اسے صبر دے دیتا ہے اور کوئی عطا صبر سے زیادہ بہتر اور کشادگی والی نہیں…”
    (صحیح مسلم)۔
    جب ہم صبر و برداشت کا دامن تھام لیتے ہیں تو لاریب ہمارا ذہن وسیع،ظرف بلند اور دل کشادہ ہو جاتے ہیں…!!!!!

  • مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    شہر کا شہر پاگل نہیں ہوا ہے, بیوقوف ہم لوگ ہیں جو حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں پارہے ہیں, تالی, تھالی, اور پھر دِیا جلانے کا حکم, اور اس پر اکثریت کا نہ صرف خوشی خوشی عمل کرنا, بلکہ پٹاخوں کے ذریعہ "کرونا وائرس” کو دیوالی کا تیوہار بنا دینا,

    صرف سطر نہیں بین السطور بھی پڑھنے کی کوشش کریں, اس وقت مودی جی کی ہندوستان میں مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ کپڑا اتار شہر میں لوگوں کو ننگا چلنے کا بھی ٹاسک دے دیں, تو لوگ خوشی خوشی عمل کردیں, بلا مبالغہ وہ اس وقت ہندوستان کے بغیر تاج کے راجا ہیں, جن کا ہر قول ان کے ماننے والوں کے لئے آسمانی حکم کا درجہ رکھتا ہے, اور اس کی تعمیل میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں,

    لوگوں کی یہی ذہنیت میرے یقین کو تقویت پہونچائے جارہی ہے کہ کل کو اگر سمودھان کو تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مخالف میں اٹھنے والی آوازیں بس مسلمانوں کی ہوں گی, یا پھر چند وہ آوازیں جنہیں انگلیوں پر گنا جا سکے گا, جاہلوں سے زیادہ اس وقت پڑھے لکھے, اور خود کو Elite سمجھنے والے اسلاموفوبیا کے شکار ہیں, بھکتی دل و دماغ ہر حاوی ہوچکی ہے,

    مسلمانوں سے نفرت نیو نارمل بن چکا ہے, اچھے خاصے پڑھے لکھے, اور تو اور ڈاکٹر انجینئر بن کر عرب ملکوں میں پیسہ کمانے والے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں, مودی جی مستقبل میں ہاریں یا جیتیں, لیکن جو کھائی وہ کھود چکے ہیں, اسے بھرنے میں یقینیا سالوں لگ جائیں گے, بلکہ شاید بھرا بھی نہ جا سکے, اور سچویشن مستقبل میں مزید خراب ہوتا چلا جائے.

  • اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا  تحریر :سفیر اقبال

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا تحریر :سفیر اقبال

    #سفیہِ برگ گل

    انہوں نے کہا کہیں نظر نہ آنا
    جواب ملا "ٹھیک ہے نہیں نظر آئیں گے لیکن کیوں” ؟
    انہوں نے بتایا "تمہارا نام اور تمہارا ہر اچھا کام دنیا والوں کو چبھتا ہے”
    جواب ملا "نام نہیں نظر آئے گا البتہ کام نہ رکنے والا ہے اور نہ رکے گا.”

    پھر دنیا والوں نے دیکھا سب کچھ ختم کر دیا گیا . گھنے درختوں کی گھنی آور ٹھنڈی چھاؤں سے تمام مسافر اٹھا دئیے گئے اور اس سایہ چمن سے محروم کر دئیے گئے جو سالہا سال سے گرتے پڑتے تھکن سے چور مسافروں کو حوصلہ اور تسکین بخش رہا تھا.

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا
    کرونا جنگ شروع ہوئی تو وہ گمنام مسافر اور بے نام راہی جو تپتے صحراؤں میں چلتے چلتے گھنی چھاوں والے درختوں سے محروم ہو کر ادھر ادھر بھٹک رہے تھے… منزل تک پہنچنے سے مایوس ہو رہے تھے نئے ولولوں کے ساتھ دوبارہ عازم سفر ہوئے. نیکی کبھی فنا نہیں کی جا سکتی. احسان کا بدلہ احسان سے بڑھ کر کچھ نہیں. وہ نیکی اور اچھائی کے درس جو امت کے نوجوانوں کے دل میں بٹھا دئیے گئے حالات کے اتار چڑھاؤ کے باعث اتنی جلدی مٹنے والے نہیں ہوتے. حکومتوں کے فیصلے بیشک بجا ہو گے لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ….!

    کرونا وائرس کی اس جنگ میں جس وقت حکومتی ایوانوں میں ٹائیگرز فورس کے ابھی صرف مشورے چل رہے تھے…. اس وقت "تلہ گنگ کرونا فائیٹرز” میدان میں اتر چکے تھے . جس وقت ٹائیگرز فورس کی شرٹیں پرنٹ ہو رہی تھیں کرونا فائیٹرز ایک تاریخ رقم کر رہے تھے. تلہ گنگ کا ایک نوجوان….. ایک سرکاری سکول ٹیچر اٹھا اور اپنے چند رفقاء کے ساتھ ملکر کرونا وائرس کی اس جنگ میں ہراول دستہ بن کر سامنے آیا. اور میڈیا پر ایک بار پھر یہ تاریخی الفاظ گونج گئے کہ” کسی بھی حادثے میں جہاں ابھی فوج اور سرکاری ادارے نہیں پہنچتے یہ لوگ وہاں پہلے پہنچ جاتے ہیں ”

    ایک سرکاری سکول ٹیچر کو کسی "اچھے کام” سے نہ تو روکا جا سکتا اور نہ ہی اس پر انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں . کیوں کہ وہ سرکاری بندہ ہے. وہ "ہم” میں سے ہی ہے اس لیے جو اس کے ساتھ ہے وہ بھی” ہم” میں سے ہی ہے.

    سفیہِ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
    ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

    (اللہ تعالیٰ عرفان صادق صاحب اور ان کے رفقاء کو ریاکاری اور ہر قسم کے فتہ و فساد سے محفوظ رکھے )

    #رنگِ_سفیر

  • اصل حقدار کون؟؟؟  تحریر؛ ابنِ فضل باغی

    اصل حقدار کون؟؟؟ تحریر؛ ابنِ فضل باغی

    اصل حقدار کون؟؟؟

    سورج ڈھل چکا تھا سائے لمبے ہوکر معدوم ہونے کے قریب تھے اور شام اپنا سحر طاری کرنے کو تھی ایسے میں راولپنڈی کے ایک غیر معروف چوک میں ایک دوست کا انتظار کرنے کیلئے جیسے ہی گاڑی روکی تو مختلف اطراف سے چند بظاہر مزدور نظر آنے والے لوگ میری گاڑی کے شیشوں سے مجھ سے مخاطب ہونے لگ گئے بھائی صبح سے بیٹھے ہیں مزدوری نہیں ملی کچھ راشن ہی دے دیں۔

    چونکہ پچھلی سیٹ پر پڑے راشن کے پیک شاید ان کو نظر آ گئے تھے۔

    میں ان کی مفلوک الحالی اور چہروں پر طاری مسکینیت سے متاثر ہوکر ان لوگوں کو راشن دینے کا ارادہ کر ہی چکا تھا لیکن اس سے قبل میں نے ان چاروں مزدوروں سے کہا کہ آپ سب میرے ساتھ گھر چلو تھوڑا سا کام ہے معقول مزدوری بھی دوں گا اور راشن بھی۔ بس میرا اس بات کا کہنا ہی تھا کہ وہ سب پیشہ ور بھکاری جو بظاہر مزردورں کے کیل کانٹوں سے لیس تھے مجھ سے پیچھے آکر رکنے والی پراڈو کے اردگرد ہوگئے اور چند منٹ میں اس گاڑی میں موجود خدا ترس خاتون سے بھاری بھرکم راشن کے پیک لیکر رفو چکر ہو چکے تھے۔

    وہ راشن پیک دینے والی خاتون ان کو راشن تو دے چکی تھی لیکن نہ جانے کہاں سے چند لمحوں میں ہی درجنوں مانگنے والے مرد وزن اس کی گاڑی کو گھیرے کھڑے تھے اور اس خاتون سے اپنے بھوکے بچوں کا واسطہ دیکر راشن پیک مانگ رہے تھے۔ اور اس خاتون کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے کہ ان مانگنے والوں سے کیسے جان چھڑائے۔ اور پھر اس خاتون کو اپنے پرس سے سو سو کے نوٹ نکال کر ان مانگنے والوں و دیکر بمشکل جان چھڑانے پڑی۔

    یہ تو ایک چھوٹے سے چوک کا منظر تھا شہر کے مصروف چوکوں پر مزدوروں کی لگی لمبی لائنیں اور اسلام آباد کی سڑکوں کنارے بیٹھے یہ نام نہاد مزدور یقیناً ایسے سہل پسند خرچ کرنے والوں کے منتظر ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور اپنی بڑی گاڑیوں کے شیشے کھول کر ان مزدوروں کے ہاتھوں میں پیسے تھما جاتے ہیں۔

    یہ خرچ کرنے والے اپنے تئیں نیکی تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن نہ جانے کتنے لوگوں کو پیشہ ور بھکاری بنا رہے ہوتے ہیں اور ان بھکاریوں کی وجہ سے وہ سفید پوش لوگ جو مانگ نہیں سکتے ان خرچ کرنے والوں کے تعاون سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    میری خرچ کرنے والے تمام احباب سے درد مندانہ اپیل ہے کہ آپ خرچ کریں ضرور کریں لیکن اس میں اپنی سہل پسندی تلاش نہ کریں بلکہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کر کے سفید پوش افراد کو تلاش کر کے ان تک راشن پہنچائیں کہ وہ مانگ بھی نہیں سکتے اور انتہائی مجبور بھی ہیں۔ خرچ کرنا اصل کام نہیں ہے بلکہ صحیح جگہ خرچ کرنا اصل کام ہے۔

    خیراتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے افراد سے گزارش ہے کہ کچی آبادیوں تک ضرور پہنچیں لیکن یہ بات بھی مدِ نظر رکھیں کہ ہر تنظیم یا ادارہ بظاہر ان کچی بستیوں کو ہی ہدف بناتے ہیں تو ایسے میں وہ سفید پوش گھرانے کہ جن کے کفیل موجودہ حالات کی وجہ سے بے روزگار ہوکر گھروں میں محصور ہیں اور ان کی عزتِ نفس گوارا نہیں کرتی کہ کسی سے سوال کریں ان تک اپنا تعاون بہر صورت پہنچائیں۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات اس حد تک پہنچ جائیں کہ یہ سفید پوش طبقہ حالات سے تنگ آ کر کوئی انتہائی اقدام کرے۔ ہاں ہمیں پہچاننا ہوگا اس سفید پوش طبقہ کو اور بچانا ہوگا انہیں بھی بھکاری بنانے سے

  • پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی

    پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی

    پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں۔

    ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرمِ محبت کی سزا دی گئی ہے۔ جن کے قائدین پابندِ سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے۔

    ہاں مجھے اقوامِ متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے۔

    ہاں مجھے اپنے کندہوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی۔

    مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا۔

    ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔

    2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔

    مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارداے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔

    نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟

    اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔

    مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔

    ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
    ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔

    لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔

    #باغیات

  • پاکستان کی تاریخ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے  ،تحریر انیس الرحمن باغی

    پاکستان کی تاریخ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے ،تحریر انیس الرحمن باغی

    پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے

    وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں

    ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرم محبت کی سزا دی گئی ہے جن کے قائدین پابند سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے

    ہاں مجھے اقوام متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے

    ہاں مجھے اپنے کندھوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی

    مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا

    ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔

    2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔

    مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارادے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔

    نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟

    اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔

    مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام بھی نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔

    ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
    ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔

    لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔

    پہاڑوں جیسے بلند حوصلے رکھنے والے ان خدائی خدمت گاروں سے میری مراد فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ہے

  • سفید ماسک والے راشن دے گئے از رضی طاہر

    سفید ماسک والے راشن دے گئے از رضی طاہر

    شام 7 بجے کے بعد جونہی اندھیرا چھایا، میرے گاوں کی گلیوں میں موٹرسائیکلوں کی آوازیں آنے لگیں، اہل علاقہ نے نوجوانوں کو جلی کٹی سنائیں کہ ملک میں لاک ڈاون ہے اور انہیں گھر آرام نہیں، مگر یہ نوجوان اپنی تفریح کیلئے ہرگز نہ نکلے تھے، ان کے ہاتھوں میں تھیلے تھے اور وہ گاوں کے اندر گشت کررہے تھے

    ان کے ہاتھ میں ایک فہرست تھی، وہ فہرست دیکھ کر دروازہ بجاتے اور اس سے قبل کہ اندر سے کوئی آتا، دروازہ کھول کر نیلے رنگ کا تھیلا اندر رکھتے اور آگے چل پڑتے، نہ تصویر، نہ پہچان، نہ دکھاوا نہ ہی احسان، یہ فاروقی سنت پر رمل پیرا نوجوان انتہائی رازداری سے آہستہ آہستہ 115 گھروں میں تھیلے پہنچا آئے۔

    گاؤں سے تھوڑا ایک سائیڈ پر ایک گھر کا انتخاب کیا گیا جہاں راشن کی پیکنگ کی گئی، کسی کو خبر نہ ہوئی۔ اسکے بعد اندھیرے کا انتظار کرکے تقسیم کردیا گیا تب بھی کسی کو خبر نہ ہوئی۔ جس کسی نے دیکھا اس نے بھی صبح یہی بتایا کہ سفید ماسک والے نوجوان راشن دے گئے۔

    ایک گاؤں میں اتنے ہی انتہائی ضرورت مند ہوتے ہیں جن کی ضرورت پوری ہوگئی۔ اس سے قبل ہمارے گاؤں میں ایک صاحب استطاعت نے 3 لاکھ روپے تقسیم کیے، مبلغ 2000 فی گھر دئیے گئے۔ یہ میرا گاؤں ہے جس میں گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصہ سے ہر ماہ میں دوبار فری طبی کیمپ لگتے ہیں، یہاں بیماریاں کم ہیں، غربت کم ہے، پڑھے لکھے لوگ 90 فیصد سے زائد ہیں۔

    اب اس گاؤں کو نہ ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے نہ حکومت کی امدادی فنڈز کی۔ اخوت کی یہ مثال دوسروں کیلئے مشعل، حکومت کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کے دیپ جلائیں تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی غربت سے تنگ و مجبور نہ ہو اور سب سے بڑھ کر عزت نفس مجروع نہ ہو۔

  • "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    کرونا اس وقت جدید دنیا کے لیے بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس نے تمام بڑی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، حقیقتاً یہ کیا ہے؟
    اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اس کے متعلق ہر دو قسم کی آراء موجود ہیں، جن کے اپنے اپنے دلائل ہیں. اس وقت دنیا کے دو سو ممالک اس وبا کا شکار ہیں، وہ یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر بند ہیں، حکومتیں اپنی جگہ اور عوام گھروں میں الگ پریشان ہیں. ٹی وی چینلز نے الگ اودھم مچا رکھی ہے، جنہیں دیکھ دیکھ کر عوام نفسیاتی مریض بن رہے ہیں.

    بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے، اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں اس عالمی وبا نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں. الحمدللہ پاکستان نے بہتر اور مؤثر انتظامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ تر مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو روانہ ہورہے ہیں،
    لیکن جو سب سے زیادہ پریشان کن اور مزید خوف کی فضا ہموار کرنے کا باعث بن رہا ہے، وہ کچھ اور ہے.

    دیکھیے چینی اس وبا کا شکار ہوئے، وہاں کرونا بدھ مت نہیں تھا، یورپین اس کا شکار ہوئے وہاں بھی یہ ایک وبا ہی تھی،یہ نہ عیسائی ہے اور نہ یہودی. حتی کہ یہ ان عیسائی فرقوں سے بھی تعلق نہیں رکھتا جو ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں. لیکن جب یہ پاکستان آیا تو سب سے پہلے یہ شیعہ بنا، کیونکہ یہ ایک پڑوسی ملک میں جانے والوں کے ذریعے آیا.

    یہاں ٹھہر کر ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں روکنا، چیک اپ کرنا اور اثر زدہ لوگوں کو آئسوليشن پہنچانا حکومتی ذمے داری تھی، جس میں حکومت ناکام ہوئی. اب دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں گئے، کس لیے گئے اور کن کن سرگرمیوں میں ملوث رہے یہ بھی حکومتی ذمے داری ہے کہ ان کا سراغ لگایا جائے.سوچیں جب دو نگرانوں والا گھر نہیں چل سکتا تو ملک کیسے چلے گا؟ ہمیں نگران نہیں عوام بننا ہے. اب آئیے تصویر کے دوسرے رخ کی طرف، حالیہ دنوں جناب کرونا اہلیان پاکستان کے ایک بہت بڑے طبقے کے ساتھ چمٹ گیا یا پھر چمٹایا گیا ہے، کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا، دوسرے لفظوں میں کرونا صاحب آج کل تبلیغی بنا ہوا ہے.

    کہا جاتا ہے کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے، تو یہاں بھی وہی ہوا ہے. پریشان یا افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں، اختلافات، نظریات کا الگ ہونا کیا انسانیت کے منافی ہے؟ لیکن اگر ہم نے ان آنے والوں کے بہتر علاج کی طرف توجہ دی ہوتی اور ایک قوم ہوکر فی الحال ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تو امید ہے ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، ان کی صحت یابی کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا جاتا کہ جو لوگ ملکی سالمیت کے خلاف کام کرتے رہے ہیں، ان کا ٹرائل کیا جائے، انہیں کٹہرے میں لایا جائے،

    پہلے ٹرینڈ چلائے گئے، ٹی وی چینلز نے ہاہا کار مچائی، معاملہ سپریم کورٹ پہنچا. اور پوری قوم جو اس وقت گھروں میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہے، انہیں مثبت سوچ دینے کے بجائے. اس کے برعکس مخالفانہ فضا بنائی گئی، جس کا دوسرا دکھ بھرا پہلو آج ہمارے سامنے ہے.
    آئیے ذرا ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت بھی دیکھیں.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی بچہ بیمار ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی عیادت کے لیے پہنچ جاتے،
    ایک بڑھیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکتی ہے، جب کچرا نہیں آیا تو اس کی عیادت کو چلے جاتے ہیں، یہودن کھانے کی دعوت کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں.
    آپ کا اعتراض اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ یہ وبا وہا‍ سے آئی، حکومت نے انہیں روکا کیوں نہیں؟

    میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ہم نے بھی عقلمندی کا ثبوت دیا تھا؟
    کیا بہت سارے لوگ پتہ چلتے ہی سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ فضا بنانا شروع نہیں ہوگئے تھے؟
    کیا ہم نے انہیں روکنے یا مثبت رویہ رکھنے کا کہا تھا؟

    اگر یورپ کا کرونا عیسائی، چین کا بدھ مت, اسرائیل میں یہودی اور انڈیا میں ہندو یا مسلمان نہیں ہےتو خدرا خوف و ہراس کی آگ میں مزید ایندھن نہ ڈالیں، وبا کا خوف، کاروبار کا خوف، اشیاء کی قلت کا خوف کیا کم ہے کہ فرقہ واریت کا کاروبار کیا جارہا ہے. وہ ایام جن میں پوری امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پریشان، خوف زدہ ہے، کہ نجانے کیا ہوگا، اور کب تک ہوگا. ہم توبہ، رجوع الی اللہ کے بجائے کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں،
    تھوڑا نہیں پوراسوچیے.!!!

    عاشق علی بخاری
    قلمکار: عاشق علی بخاری

  • اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    ڈومیسائل رولز بارے ترامیم کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازش ہے

    اسلام آباد: انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی رہنما اور نیشنل فرنٹ کے سینیر وائس چیرمین الطاف حسین وانی نے ڈومیسائل رولز میں ترمیم سے متعلق ہندوستانی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حالیہ نوٹیفکیشن پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے کشمیری عوام کے خلاف ایک گہری سازش قرارد دیا ہے جس کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کی جداگانہ حیثیت اور شناخت کو کمزور کرنا ہے۔

    وانی نے بدھ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ‘کشمیر مخالف قانون دراصل بی جے پی حکومت کی اس گھناؤ نی سازش کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مودی سرکار آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبے پر عمل کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے مقبوضہ خطے کی منفرد اور جداگانہ حیثیت کو ختم کرناہے

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ، ڈومیسائل رولزمیں حالیہ ترامیمی ایکٹ کے تحت، کوئی بھی شخص جو 15 سال تک جموں و کشمیر میں مقیم رہا ہے یا اس نے ریاست میں سات سال تعلیم حاصل کی ہے، اور کلاس 10 یا کلاس 12 کی امتحان میں حاضر ہوا ہے، وہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اہل ہوگا۔. نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے قانون کے تحت وہ گیزیٹیڈ اور نان گیزیٹیڈ پوسٹ لیول کی سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دے سکے گے۔

    ایم ایچ اے کے آرڈر کو آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ کشمیر کے ڈومیسائل قانون میں حالیہ ترمیم غیر کشمیری اور غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔

    وانی نے آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے پیچھے ہندوستان کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”جہاں تک ریاست میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنے کے ہندوستانی منصوبے کا تعلق ہے تو آرٹیکل 35-A واحد آئینی اور قانونی رکاوٹ تھا جس سے مودی سرکارکشمیر میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتی تھی”۔ ”اس تازہ حکم کی بدولت، ہندوستان نے عملی طور پر بیرون ملک مقیم افراد کو ریاست میں مستقل طور پر آباد ہونے کے علاوہ جموں و کشمیر میں پہلے سے موجود ملازمتوں کے دعویدار بننے کے لئے بھی راہ ہموار کردی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ جے کے این ایف رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ان مقامی نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے جن کو متعدد مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے بے روزگاری وہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کا وہ گذشتہ کئی برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔

    انکا کہنا تھا کہ نئے قانون کے متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں ملازمت حاصل کرنے والے بیرونی افراد ریاست میں زمین خریدنے کے حق کا بھی دعوی کریں گے۔ انہوں نے اسے ریاست میں آبادیاتی تبدیلیوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سول سروسز ایکٹ میں ترمیم سے ہزاروں کشمیری بے روزگار ہوجائیں گے۔ جموں و کشمیر املاک کے حقوق کو کچی آبادیوں کے ایکٹ 2012 میں ہونے والی ترامیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ”جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں ” کے الفاظ کو ایکٹ میں جان بوجھ کرحذف کر دیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر میں کچی آبادی کو مناسب مکانات مل سکتے ہیں۔

    وانی نے کہا حالیہ ترامیمی ایکٹ ایک سنگین معاملہ ہے جس کے ذریعے بھارت اسرائیلی طرز پر کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے لئے الگ کالونیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔انکا کہنا تھات کہ۔ ہندوستانی حکومت کشمیریوں کو زیر اورانہیں اپنے تابع لانے کے لئے ان سے سب کچھ چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر مخالف قوانین نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلان کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ردوبدل سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جابر ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ابھر رہی ہے جس کا بین الاقوامی قوا نین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا وطیر ہ بن چکا ہے
    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!

    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے

    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!

    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں

    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔
    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا

    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ ان کا نور لے گیا

    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟
    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔

    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا
    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے

    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی
    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!

    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق
    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو

    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے

    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات