Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ  کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے.مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی طرح اردو کو بھی لازمی کیا جائے. اور تین سال کے بعد طلباء کو اختیار دیا جائے کہ وہ انگریزی یا اردو میِں پرچہ حل کرے لیکن انگریزی کی بطور لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے.

    سوال یہ ہے کہ جب انگریزوں نے ایک غلام ملک میں اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے اور غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لئے ایک سمندر پار ملک کی اجنبی زبان کو یہاں اعلی مقابلے کی زبان بنایا تو کیا انہوں نے اس زبان کو مسلط کرتے وقت بھی اس تدریج کا خیال رکھا. بس انہوں نے تو راتوں رات فیصلہ کیا کہ ان کو اپنی حکومت چلانے کےلئے غلام چاہئے تو انہوں نے برصغیر میں مقابلے کا امتحان ایک اجنبی زبان میں متعارف کرایا.. اس امتحان کا بنیادی مقصد آپنے آقاؤں کے لئے غلاموں کی ایسی کھیپ تیار کرنا تھا. جو اپنے دماغ اور عقل کا استعمال کئے بغیر بلاچون چراء ان کے حکم کی بجا آوری کرے.

    اب ہوناتو یہ چاہئے تھا.قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک آزاد مملکت کے تقاضوں اور امنگوں کے مطابق مقابلے کا امتحان فوری طور پر ” لارڈمیکالین "تعلیمی فلسفے کے مطابق راتوں رات اردو میں.لینے کے احکامات اور اقدامات کئے جاتے. مگر افسوس ایسا نہ ھوسکا.پاکستان کے تینوں دستور میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا. مگر افسوس ہمیشہ پاکستان کی اس آئینی شق کی سرکاری طور پر آئین شکنی ھوتی رہی.

    یہ آئین شکنی یہاں تک بڑھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت نے آئین کی خلاف ورزی گرتے ہوئے 2009 میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سرکاری فرمان کے تحت انگریزی میڈیم کردیا. اس انگریزی میڈیم کرنے کے نتیجے میں جب پہلا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کاآیا تو اا میں بیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے تعلیم کو خیرباد کہہ گئے.یہ نونہالوں کا وہ قتل عام تھا.جس کا کسی مہزب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا کاسکتا. دستور کی اس خلاف ورزی کے ردعمل میں پاکستان قومی زبان تحریک نے جنم لیا. جس نے عدالتوں میں میڈیا پر سڑکوں’ عوام الناس میں ہر جگہ نفاذ اردو کا مقدمہ لڑا.اسے جیتا اب اس کے نفاذ کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں!

    ہم محترم اظہار الحق صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسے اور کتنے ترقی یافتہ خوشحال ممالک جہاں ایک غیر ملکی زبان اعلی ملازمت میں پہنچنے کا زریعہ ھے؟
    دوسرا سوال ان سے یہ ہے کہ پاکستان کی افسر شاہی کی واحد قابلیت غلط سلط انگریزی کے علاوہ کچھ اور ہو تو بتادیں. آپ ہی کے ساتھی بیوروکریٹ کہتے ہیں کہ ” دنیا پاکستان کی افسر شاہی کی انگریزی پر ہنستی ہے” ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بیان قدرت اللہ شہاب کا بھی ہے..جس نے خود یہ تسلیم کیا کہ انگریزی سے میرا تعلق غلامی کا ہے.

    پاکستان کی انگریزی کی غلام بیورو کریسی دنیا کی نمبر ایک کام چور’ حیلہ ساز’ بد عنوان ‘ بد انتظام’ راشی’ اپنی اقدار کو روندلنے والی’ جعلساز بیورو کریسی ھے. اگر ہماری بیورو کریسی بھی دنیا کی ترقی یافتہ ‘ تعلیم یافتہ خوشحال اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مقابلے کا اعلی امتحان دیتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائ قابل ‘ پاکستانی سوچ کی حامل اور مخلص بھی ھوتی. مگر افسوس اس نے انگریزی غلامی کو اپنے اوپر طاری کر کے لارڈ میکالے کے اس قول کی تصدیق کی ھے ” برصغیر جیسی تہذیب یافتہ زرخیز قوم کو پسماندہ کرنے کا صرف ایک ہی زریعہ ھے کہ ان پر اہک ایسی زبان لاد دی جائے جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ھو مگر فکر میں برطانوی ھوگی”

    ایک بات ہم اور کالم نویس کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں ھم لوگ محض جذباتی ہی نہیں ہیں ہم لوگ عملی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں.. پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں ڈاکٹر شریف نظامی ‘ پروفیسر سلیم ھاشمی ‘ پروفیسر اشتیاق احمد ‘ ڈاکٹر مبین اختر ہیں. پروفیسر اشتیاق اپنے شوق اور جذبے سے بغیر سرکاری اعانت کے گریجویشن کی سطح تک اردو سا-نس لغت آسان فہم الفاظ میں تیار کر چکے ہیں. اگر سرکار ہماری اعانت کرے تو ہم چند ماہ میں انگریزی زریعہ تعلیم کی پیداکردہ ستر سال کی تباہیاں اور خامیاں دور کرسکتےہیں. کیونکہ قوموں کی تعمیر کے لئے وسائل سے زیادہ نیک جذبات اور خلوص کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان قومی زبان تحریک ان جذبوں سے سرشار اور مالا مال ھے.

    آخر میں محسن اردو :’ نفاذ اردو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنانے والے درویش
    صفت ایچی سونین
    چیف جسٹس جواد ایس اعلی عدلیہ کے منصفین کی انگریز دانی کا پول کچھ ان الفاظ میں کھول رہے ہیں:
    ” میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے وکلاء اور جج دونوں ہی کو انگریزی نہیں آتی. پاکستان میں انگریزی کا ڈھونگ صرف اپنی نالائقی کو چھپانے کےلئے رچاہا جاتا ھے”
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کے سبب حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ۔ اور انسان نے اس کائنات کو مسخر کیا۔ زمانہ قدیم سے انسان تعلیم کی جستجو میں رہا، دور دراز کے سفر اختیار کیے اور اپنا وقت اور مال علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے صرف کیا۔

    زمانہ جديد میں تعلیم ایک نیرنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کے فسوں کو عجائبات زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ تعلیم کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان گنت پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ جس پر ماہرین تعلیم اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں طریقہ کار وضع کرتے ہیں اور اپنی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ نصاب تعلیم انہی ماہرانہ آراء کی روشنی میں دور جدید کی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہے اور تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پانے والے طلباء عملی زندگی میں قدم رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔

    ایک اہم پہلو جو توجہ طلب ہے وہ نظام ہائے تعلیم میں تنوع ہے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا بھی سبب بنتا ہے اور تعلیمی اداروں اور نصاب کو درست انداز میں سمجھنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ تاہم اس امر کو نظرانداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ قومی سطح پر ہر درجے اور تعلیمی سال کے لیے ایک خاص کریکولم مہیا کیا جاتا ہے جس کے مطابق مختلف طباعتی (Publishing) ادارے کتب تیار کرتے ہیں جن میں کافی ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک خاص تعلیمی سال کی تکمیل کے بعد طلباء کی تعلیمی اہلیت اور استعداد متساوی (equivalent) ہوتی ہے جو فرق ہم محسوس کرتے ہیں وہ محض ایک احساس کے سبب ہے یا طریقہ تدريس کے مختلف ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

    اس مضمون میں ہم طلباء اور والدین کے ذہن میں پائے جانے والے عمومی اشکالات اور پریشانیوں کا جائزہ لیں گے۔ ان گزارشات کو پڑھ لینے کے بعد یقیناً یہ اشکالات دور ہو جائیں گے اور تعلیمی نظام و نصاب پر اعتماد بڑھے گا۔

    سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم انسانی رویوں کی تبدیلی اور ذہنی تربیت کا نام ہے۔ یہ عمل وقت طلب ہے مگر والدین بچے میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو علم و تجربہ انھوں نے اتنی عمر گزر جانے کے بعد حاصل کیا ہے کیونکر کمسن بچوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔

    دوسری غلطی بچوں میں موازنہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کا ان کے دوستوں یا ان کے ہم عمر دیگر بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری عمر میں میں یوں کر لیا کرتا تھا اور فلاں کام میں ماہر تھا ایک تم ہو کہ ایسا کوئی کمال تم میں نہیں۔ اس پر ایک لطیفہ پڑھیں یقیناً آپ محظوظ بھی ہوں گے اور بات سمجھنے میں آسانی بھی ہو گی۔

    ایک والد جو بچے کی تعلیمی صورتحال سے خاصے فکرمند تھے بچے سے گویا ہوئے :
    ” قائد اعظم محمد علی جناح جب تمہاری عمر میں تھے تو میٹرک کر چکے تھے۔”
    بچے نے برجستہ جواب دیا :
    "جب قائد اعظم آپ کی عمر میں تھے تو انھوں نے ایک قوم کو آزادی دلا دی تھی۔ آپ نے کیا کیا ہے؟ ”

    تیسری اہم بات والدین کی طرف سے بچوں کی حد سے زیادہ معاونت ہے۔ جب والدین بچے کو کوئی بھی کام کرنے کو دیتے ہیں تو پہلے خوب تسلی سے لیکچر دیتے ہیں اور پھر بچے کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتے بلکہ بار بار مداخلت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچے کو ان کی معاونت سے زیادہ بہتر سمجھ رہا ہے۔ جان لیں کہ اس طرح سے آپ بچے کی صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں،

    آپ کی معاونت سے تو بچہ فوراً بہترین کام کر سکے گا مگر خود سے کچھ بھی کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا۔ لہذا بچے سے معلوم کریں کہ وہ کیا جانتا ہے اور چیزوں کو کس انداز سے سمجھتا ہے۔ اور اسے آزادانہ کام کرنے دیں اور مداخلت سے اجتناب کریں۔ جب بچہ بے بس نظر آئے تو اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ تم کر سکتے ہو، کوشش کرو، مجھے تم پر اعتماد ہے۔ بچے کو آزادی کا احساس دیں اور جو وہ کر سکتا ہے اسے کرنے دیں اس سے اس میں اعتماد (confidence) آئے گا اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہو گا۔

    ایک اور سبب بچوں پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور طویل تدریسی اوقات بھی ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سے والدین خیال کرتے ہیں کہ بچے کو دن بھر پڑھتے رہنا چاہیے تب ہی وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل ہو سکے گا۔ یاد رکھیں کہ تعلیم کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ بچے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب جسمانی ورزش اور کھیل کود بھی اہم ہیں۔ کھیل کود نہ صرف بچے کو چاک و چوبند بناتے ہیں اور جسمانی قوت کا باعث ہیں بلکہ ذہن کو بھی صحت دیتے ہیں اور صلاحیتوں کو دوچند کرتے ہیں۔

    بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے فکرمند ضرور ہوں مگر افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری اور اہم ہے۔ حد سے زیادہ فکر بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے جس سے یہ یکسر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بچوں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مناسب ہدایات دینے کے بعد آزادانہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیں اور فطری طور پر ایک نئی شخصیت کی تعمیر میں معاونت کریں ۔

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل
    محمد نعیم شہزاد

  • پی ایس ایل سیزن فائیو کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو رہی، شائقین ہو جائیں تیار

    پی ایس ایل سیزن فائیو کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو رہی، شائقین ہو جائیں تیار

    پی ایس ایل سیزن فائیو کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو رہی، شائقین ہو جائیں تیار

    باغی ٹی وی : پاکستان میں پھر سے پی ایس ایل کا میلا سجنے جا رہا ہےذرائع کے مطابق پی ایس ایل کی کم سے کم ٹکٹ 500 روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹکٹ 6000 روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔خیال رہے گزشتہ سال زیادہ سے زیادہ ٹکٹ کی قیمت 3000 روپے رکھے گئی تھی۔ذرائع کے مطابق ایلیمنٹری راؤنڈ، کوالیفائر اور فائنل کی ٹکٹوں کی قیمتیں دگنی رکھی جائے گی جبکہ پی سی بی ٹکٹوں کی قیمتوں کے حوالے سے اعلامیہ آج جاری کرے گا۔

    واضح رہے شائقین تمام آن لائن ٹکٹیں www.yayvo.com سے خرید سکیں گے جس کا آغاز آج رات سے ہوگا۔پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن اگلے ماہ فروری میں شروع ہوگا تاہم ابھی تک اس کا حتمی شیڈول تیار نہیں کیا جا سکا۔اس میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب 20 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہو گی۔اسی لیے جلدی کر لی جائے کہیں پیچھے نہ رہ جائیں.

  • کرکٹر شان مسعود کے ساتھ احسان علی اور عماد بٹ نے کیں خاص باتیں ، دلچسپ انڑویو

    کرکٹر شان مسعود کے ساتھ احسان علی اور عماد بٹ نے کیں خاص باتیں ، دلچسپ انڑویو

    کرکٹر شان مسعود کے ساتھ احسان علی اور عماد بٹ نے کیں خاص باتیں ، دلچسپ انڑویو

    باغی ٹی وی :بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے آغاز میں صرف 3 روز باقی رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ بننے والے دو نوجوان کرکٹرز احسان علی اور عماد بٹ بین الاقوامی کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچز 24، 25 اور 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوں گے۔

    سیریز کے آغاز سے قبل دونوں کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹر شان مسعود کو خصوصی انٹرویو دیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان بلے باز احسان علی نے اس خصوصی بیٹھک میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی پسندیدہ خوراک "بریانی”کھانا ترک کردی ہے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے اوپنر شان مسعود کو انٹرویو دیتے ہوئے نوجوان کرکٹر کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 31 روز سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں سخت فزیکل ٹریننگ کرنے میں مصروف ہیں اور اس دوران ان کی فٹنس میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ احسان علی نے کہا کہ این سی اے میں ٹریننگ کے دوران ان کے ڈائیٹ پلان اور روٹین میں واضح نظم و ضبط دیکھا جاسکتا ہے۔

    کلب کرکٹ کے اپنے پرانے اوپننگ پارٹنر شان مسعود کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے نوجوان کرکٹر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم، شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے نامور کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا ایک خواب کی مانند ہے۔ احسان علی نے کہا کہ وہ فارغ اوقات میں فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

    قومی ٹی ٹونٹی کپ میں سندھ کی نمائندگی کرنے والے 26 سالہ کرکٹر احسان علی نے 5 میچوں میں 148.86 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 131 رنز بنائے تھے۔ نوجوان کرکٹر احسان علی نے بنگلہ دیش کے خلاف”21” نمبر کی شرٹ پہن کر میدان میں اترنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ و ہ اپنی والدہ کی خواہش پر شروع سے "21” نمبر کی شرٹ پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    2008 میں پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے احسان علی آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2010 میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔41 ٹی ٹونٹی میچوں میں 129 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 949 رنز بنانے والے احسان علی اپنے لسٹ اے کیرئیر میں 38 میچ کھیل کر 1045 رنز بناچکے ہیں۔ ان کے لسٹ اے کیرئیر میں 4 نصف سنچریاں اور 1 سنچری شامل ہے۔

    سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ آلراؤنڈر عماد بٹ کا کہنا ہے کہ سبز ستارے والی شرٹ زیب تن کرنا ان کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوگا۔ شان مسعود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے آلراؤنڈر نے واضح کیا کہ وہ کسی مخصوص نمبر کی شرٹ لینے کے خواہشمند تو نہیں ہیں مگر وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں ڈیبیو کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آف سیزن میں بھی اپنی فٹنس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

    عماد بٹ نے کہا کہ شعیب ملک ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں ان کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ آلراؤنڈر کا کہنا ہے کہ وہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ڈیبیو کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہوم کراؤڈ کے سامنے ڈیبیو کرنے پر خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔

    نوجوان آلراؤنڈر نے بتایا کہ گذشتہ سال اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف میچ جتوانا اب تک ان کے کیرئیر کا یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی حریف کے خلاف آخری اوور میں 8 رنز کا دفاع کرنے سے ان میں خوداعتمادی بڑھی ہے۔

    24 سالہ آلراؤنڈر عماد بٹ نے چند ماہ قبل نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2019 میں دس وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 170 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 80 رنز بھی اسکور کیے تھے۔

    2013-14 میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے آلراؤنڈر عماد بٹ اب تک 36 ٹی ٹونٹی میچوں میں 167 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 49 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔ 52 لسٹ اے میچز میں 611 رنزبنانے والے عماد بٹ 71 وکٹیں بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔

    شیڈول:

    24جنوری بروز جمعہ: پہلا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
    25 جنوری بروز ہفتہ: دوسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
    27 جنوری بروزپیر: تیسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
    7تا 11 فروری: پہلا ٹیسٹ میچ بمقام راولپنڈی
    3اپریل بروز جمعہ: واحد ایک روزہ میچ بمقام کراچی
    5تا 9اپریل: دوسرا ٹیسٹ میچ بمقام کراچی

  • ذخیرہ اندوزی اور آٹے کا بحران!!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    ذخیرہ اندوزی اور آٹے کا بحران!!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ تعالی نے انسان کے کھانے پینے کیلئے بے شمار چیزیں پیدا کی ہیں ہر ملک و علاقے کا کھانے پینے کا طریقہ کار دوسرے سے کچھ مختلف ہے دنیا میں اس وقت انسانوں کی خوراک سب سے زیادہ گندم سے حاصل کی جاتی ہے دنیا میں چاول و مکئی کے بعد سب سے زیادہ گندم کاشت کی جاتی ہے اس لحاظ سے گندم دنیا میں سب سے زیادہ کاشت ہونے والی فصلوں میں تیسرے نمبر پر ہے
    پاکستان کی کل آبادی میں سے 7 کروڑ 70 لاکھ لوگ شہروں جبکہ 13 کروڑ 22 لاکھ دیہات میں رہتے ہیں
    پاکستان کے دیہی علاقوں میں گندم بہت زیادہ کاشت کی جاتی ہے اور خاص طور پر پنجاب میں گندم وافر مقدار میں کاشت کی جاتی ہے دیہات کے زمیندار و مزدور لوگ اپنی ضرورت کے مطابق گندم اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں جسے وہ سارا سال لوکل سطح پر لگی آٹا چکیوں سے پسوا کر استعمال کرتے ہیں کم آمدن اور وسائل کے باعث یہ لوگ اپنی ضرورت یا اس سے کم ہی گندم ذخیرہ جمع کر پاتے ہیں مگر چند بے ضمیر و بااثر لوگ اس نیت سے گندم ذخیرہ کر لیتے ہیں کہ جب مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہو تو ذخیرہ کی گئی گندم کو مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے جیسا کہ 2019 میں گندم کی فی من قیمت 1230 اور حکومت کی طرف سے 1300 روپیہ فی من مقرر تھی اس وقت ضرورت مند چھوٹے کاشتکاروں نے انہی نرخوں پر فروخت کی اور اپنی ضروریات پوری کیں کیونکہ اگر وہ گندم بیچ کر پیسہ نا حاصل کرتے تو دیگر ضروریات زندگی پوری کرنے سے قاصر رہتے جبکہ مالی طور پر مستحکم اور بااثر کسانوں و بیوپاریوں نے اس گندم کو ذخیرہ کیا اور اب وہی ذخیرہ شدہ گندم 1900 سے 2100 روپیہ فی من تک فروخت کر رہے ہیں
    مارچ سے اگست تک گندم وافر ہوتی ہے جسے بیوپاری حضرات تھوڑی سے زائد قیمت دے کر لوگوں سے خرید کر جمع کر لیتے ہیں اور پھر دسمبر کے بعد زیادہ تر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم استعمال ہو چکی ہوتی ہے جس کے لئے یہ افراد آٹا چکیوں کے علاوہ فلور ملوں سے آٹا لے کر استعمال کرتے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بااثر اور امیر لوگ مصنوعی بحران رچاتے ہیں جس پر غریب اور مزدور طبقہ ان سے مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے
    مالی طور پر مستحکم لوگوں نے اپنی ضرورت سے بڑھ کر گندم جمع کی ہوتی ہے لہذہ سارا بوجھ غریب اور مزدور طبقہ پر ہی پڑتا ہے
    آٹے کا بحران ہر سال ہی ہوتا ہے مگر اس سال کچھ زیادہ ہی ہو گیا جس کا سبب ذخیرہ اندوزی بنا ہے اس وقت گاؤں دیہات کے بااثر کسانوں و بیوپاریوں کے پاس وافر مقدار میں گندم موجود ہے مگر وہ آہستہ آہستہ سے گندم اس لئے فروخت کر رہے ہیں کہ مجبور لوگوں اور حکومت سے دام زیادہ وصول کئے جائیں اگر گورنمنٹ ذخیرہ اندوزی کو روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے چائیے کہ ان لوگوں سے گندم قطعا نا خریدے بلکہ گندم بیرون ممالک سے خرید کر لوگوں کی ضرورت پوری کی جائے تاکہ ان بے ضمیر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم ان کے گوداموں میں پڑی رہے اور مارچ سے اپریل تک نئی فصل آنے پر یہ لوگ بھی اپنی گندم انہی مقرر کردہ داموں پر فروخت کرکے عبرت حاصل کریں ذخیرہ اندوزی ایک لعنت ہے جس کے بارے میرے نبی کریم کی حدیث ہے
    حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شحض غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتا ہے اللہ تعالی ایسے لوگوں کو اجذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے
    مسکوت ،باب ذخیرہ اندوزی کا بیان حدیث 121
    ذخیرہ اندوز معاشرے کا ناسئور ہیں ان کی بیخ کنی کیلئے گورنمنٹ کو سخت سے سخت قانون بنانا ہو گا تاکہ یہ ہوس کے پجاری چند روپوں کی خاطر اس ارض پاک کے باسیوں کو بھوکا نا رک سکیں

  • *سمجھنا تصوف کو *—از— فلک شیر

    *سمجھنا تصوف کو *—از— فلک شیر

    *سمجھنا تصوف کو *

    وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کے تصوف کے حوالے سے بیان کے بعد سوشل میڈیا پہ ایک بحث شروع ہو گئی ہے…. کتابیں پوچھی جا رہی ہیں…. تقاریر ڈھونڈی جا رہی ہیں…. موافق مخالف…. متقدمین متاخرین اور "متاثرین”؛ ہر کسی کو دوسرے کی جگہ رکھ کر پورے وثوق سے رائے قائم کی جا رہی ہے.

    یونانی، ہندی اور فار ایسٹ تک کے طریقت کے پیٹرنز سے "قربت” اور سنت و قرون اولی سے بعد کی بحث بھی جاری ہے…. سنجیدہ بحث بھی کہیں کہیں ہے…. البتہ زیادہ تر کسی ایک پہلو کو پکڑ کر” جامع اور حتمی” فیصلہ سنایا جاتا ہے….. مجھے اس پوسٹ کے ذریعے صرف یہ عرض کرنا ہے…. کہ جو لوگ خود کچھ پڑھ یا سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہوں…. یا کم از کم معاملے کی اکثر سطحوں کا تجزیہ کرنے کے لیے درکار بنیادی معلومات تک رسائی چاہتے ہیں…. وہ مندرجہ ذیل کتب پڑھ لیں…..
    ١) تاریخ تصوف….. یوسف سلیم چشتی
    ٢) شریعت و طریقت…. عبدالرحمان کیلانی
    ٣) شریعت و طریقت….. اشرف علی تھانوی
    ٤) تزکیہ نفس….. امین احسن اصلاحی

    مندرجہ بالا کتب مختلف مکتبہ ہائے فکر کی نمائندگی کرتے ہیں…. اگر کوئی تصوف کے اصل ابتدائی انتہائی متون پڑھ کر اور اس کے تدریجی سفر پہ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں… تو وہ رستہ الگ ہے….. البتہ اس سلسلے میں ایک صاحب علم ۔جس کی قدیم و جدید پہ نظر ہے…. فلسفہ اور شعر کو بھی سمجھتا ہے…. خود پریکٹسنگ صوفی ہے.

    وعظ و اصلاح کی مجالس منعقد کرتا ہے…. اور بالعموم اسے اہل السنہ کے تمام مکتبہ ہائے فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے… یعنی احمد جاوید صاحب…. کے لکچرز کی سیریز ہے… جو کسی حد تک تصوف کی اصل، جائز جگہ اور فی زمانہ اس کی revival کی سپرٹ سے متفق ہیں…. یعنی ہمدرد ہیں.

    دوسری جانب وہ اس کے "prevailing model” کے شدید ترین ناقد بھی ہیں…. اور انہیں اس بات کی فکر سب سے زیادہ ہے کہ کلام و فقہ کے میدان میں جب جب امت نے زوال اور خطا پائی ہے، تو ان دونوں شعبوں نے اندر ہی سے اپنی اصلاح کا حوصلہ کیا….. لیکن تصوف ایسا نہیں کر پا رہا آج…..ان کے لکچرز میں سے ایک کا ربط نیچے پہلے کمنٹ میں دیا جا رہا ہے…باقی اسی یوٹیوب چینل پر میسر ہوں گے….
    بہر حال زہد، تصوف یا ان کے نام پہ پیش کردہ "مال” پہ ہر ایک کی رائے ہونا یا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے .

    میں تو ظفر اقبال کا ایک شعر کو بصورت نثر پیش کر کے اجازت چاہوں گا… وہ کچھ یوں ہے کہ میں اپنے گھر میں گائے نہیں رکھتا ہوں…. پھر بھی اس کے بارے میں ایک رائے ضرور رکھتا ہوں…. 🙂

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب….

    فلک شیر
    پس نوشت : پوسٹ پڑھ کر جو احباب اس سلسلے میں مزید بنیادی متون / دروس تجویز فرمائیں…. اس سے یہ فہرست مزید جامع اور معتبر ہو سکتی ہے.

  •  بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی ؛ بزدار حکومت کے صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات، وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت پر 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے
    بزدار حکومت میں 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت پر2 کروڑ 93 لاکھ روپے اور 2019-20 (دسمبر تک) صرف 71 لاکھ روپے خرچ
    سابقہ دور حکومت میں 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    موجودہ حکومت کے دور میں 2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ
    مالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک)وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے
    سابق حکومت نے 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کئے
    2018-19 میں کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پرصرف 19 لاکھ روپے اور رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں 8 لاکھ روپے خرچ
     شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے،ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا:عثمان بزدار
    سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں،غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا ہے،قومی وسائل بچا کر فلاح عامہ پر صرف کررہے ہیں
    لاہور 17 جنوری:  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کی گئی ہے۔سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 93 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ مالی سال 2019-20 (دسمبر تک) گاڑیوں کی مرمت کی مد میں صرف71 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2016-17 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حکومت کے دور میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی۔مالی سال 2018-19 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہمالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک) محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔سابق حکومت نے مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرڈالے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔

    مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہرواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہم نے شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے۔ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا۔سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں۔غیر ضروری اخراجات کوبہت حد تک کنٹرول کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول اورسکیورٹی کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔ قومی وسائل بچا کر عوام کی فلاح وبہبود پر صرف کررہے ہیں۔

    ب

  • اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    ٹھیک 21 برس پہلے کی بات ہے، فروری 1999ء میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کا ٹیسٹ میچ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ دہلی میں کھیلا جا رہا تھا۔ جہاں کرکٹ کی تاریخ کا منفرد واقعہ پیش آیا جب ہندوستانی لیگ اسپنر باؤلر انیل کمبلے تن تنہا ایک ہی اننگز میں دس وکٹ لے اڑے اور اکیلے ہی ساری پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔ دراصل اس میچ میں ‘جے پرکاش’ نامی ہندوستانی ایمپائر نہ جانے کیا ٹھان کر آیا تھا کہ بس کب ‘گیند’ کسی بیٹسمین کے ‘پیڈ’ پر لگے اور ‘انیل کمبلے’ آؤٹ کی درخواست کرے۔ آوٹ دینے کو وہ ایمپائر پہلے سے ہی تیار کھڑا ہوتا۔ محض پاکستان دشمنی اور ایمپائر کے بغض بھرے فیصلوں سے یہ ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک مثال کے طور پر محفوظ ہو گیا۔

    لیکن اس وقت کے کھیل میں تھرڈ ایمپائر اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں تھا لہذا گراؤنڈ کے بیچ کھڑا فرد واحد ہی تمام اختیارات کا مالک ہوتا تھا خواہ وہ کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو اپنی پسند یا نا پسند کی بھینٹ چڑھا دے۔ اب دو دہائیوں بعد سب کچھ بدل چکا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام اور کھلاڑی کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں، 1999ء میں ہی نواز حکومت نے حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کا طیارہ سری لنکا کے آفیش ٹور سے واپسی پر پاکستان میں نہ اتارنے کے احکامات جاری کیے طیارہ تو پاکستان لینڈ کر گیا البتہ اس سازش میں ملوث موصوف وزیراعظم کو نہ صرف حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ طیارہ اغواء کیس میں سزائے موت کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی جو بعد از کچھ دوست ممالک کی مداخلت کے ایک معاہدے کے تحت جدہ پدھار گئے اور جنرل مشرف اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوئے۔

    2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجہ میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو اسی فیصلہ سے وکلاء تحریک کی چنگاری سلگی جس نے بالآخر مشرف عہد کا خاتمہ کر دیا۔ اور انتخابات سے قبل بینظیر کے قتل سے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ پڑا۔ نواز زرداری کی نورا کشتی میں ہی زرداری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر باری کے انتظار میں نواز شریف تیار بیٹھے تھے۔ ملکی تاریخ میں تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد انتقام کی آگ میں لپٹے نواز شریف نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کی پاداش میں سنگین غداری کا مقدمہ قائم کر دیا۔ محبان وطن اس وقت سکتے میں آۓ جب عدلیہ میں پہلے سے تیار بیٹھے ایمپائر نما جج صرف درخواست کے منتظر پاۓ گئے،

    وہی بغض و عناد بھرا رویہ۔ بیرون ملک بستر مرگ پر پڑے مشرف کو پاکستان میں آ کر عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کروانے پر اصرار رہا۔ بیماری میں مبتلا مشرف بار بار جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ویڈیو بیان ریکارڈ کروانے کی اپیل کرتے رہے لیکن عدلیہ میں بیٹھے ‘جے پرکاش’ اس حق کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریزاں رہے۔ چند ہفتے پہلے عدالتی دنیا کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب ملکی دفاع کے لیے تین جنگیں لڑنے والے کمانڈو کو غدار قرار دیتے ہوئے پھانسی کا حکم صادر فرمایا۔ عداوت کی انتہا کہ حکم نامے میں لکھا گیا اگر سزا سے قبل مجرم کی موت واقع ہو جائے تو لاش کو تین روز تک ڈی چوک میں پھانسی پر لٹکا کر رکھا جائے۔ اس جنرل نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس ملک کی خدمت میں گزارے دوران جنگ بطور چیف آف آرمی اسٹاف دشمن کی سرزمین پر اپنے جوانوں کے ساتھ رات گزارنے پر دشمن بھی ان کی بہادری پر داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیس میں جس خصوصی عدالت نے 1999ء پاک بھارت کرکٹ ٹیسٹ میچ کی تاریخ دہرائی آج لاہور ہائی کورٹ نے اس عدالت کو ہی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ دیر آید درست آید کے مترادف انصاف کی امید تو پیدا ہوئی البتہ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ‘جے پرکاش’ ہر جگہ موجود ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے اب وقت بدل چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے ملکی اسکرین پر عوام کی گہری نگاہ ہے، اپیل کا حق اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے، اب کے ‘جے پرکاش’ کا فیصلہ حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تھرڈ ایمپائر ضرور دیکھے گا اگر باؤلر کا پاؤں کریز سے باہر ہوا تو قانونی طور پر نو بال قرار دی جائے گی جس کے ساتھ ناٹ آؤٹ کی اسکرین روشن ہو گی اور ہاں جدید کرکٹ میں فری ہٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔!!!!!!

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا
    #صدائے_اسد
    #اسدعباس خان

  • امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    لڑکپن میں ایک دور دیکھا تھا کہ جب ہر روز،ہفتے یا مہینہ میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا۔
    بے کلی اور بے سکونی کی ایک کیفیت ہمہ وقت اعصاب پر طاری رہتی تھی۔۔۔

    بہت دل دوز مناظر اخبارات و ٹی وی سکرین دکھاتے اور دل غم میں ڈوب کر اس چمن کی سلامتی اور مضبوطی کے لیئے دعا گو ہو جاتا تھا۔
    وہی سانحات جو میرے چمن کے ستر ہزار سے زائد نفوس کو نگل گئے__جوان،بچے،بوڑھے،عورتیں اس آگ و خون کی کھیل کی نذر ہو گئے۔۔۔

    وہ جاں گزا لمحات ان کے لیئے یقیناً نہ ختم ہونے والا درد بن گئے،جن کے پیارے ایسی وارداتوں کا نشانہ بنے گئے اور اس حالت میں وطنِ عزیز کے ہر طبقہ نے قربانیاں دی ہیں۔
    لیکن وقت نے ثابت کیا کہملک کے سیکیورٹی اداروں نے تندہی و جانفشانی سے اس عفریت پر قابو پا کر چمن کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں امن کا پھریرا لہرا کر قوم کو امن کی بہار کا تحفہ دیا۔

    وہ خوف و دہشت کا ماحول جو در آیا تھا۔۔۔اس کے بعد قوم نے سکون اور اطمینان کی سانس لی۔
    تجارتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور پاکستان کو سیاحت کے لیئے بہت موزوں ملک گردانا جا رہا ہے۔۔۔

    گوادر پورٹ اس خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا پیام بننے جا رہی ہے تو ایسے میں بہت سے ملک دشمن عناصر یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے اور بلوچستان جو شروع سے اس تخریبی ذہنیت کا نشانہ رہا ہے۔۔۔
    وہاں دو روز قبل ایک مسجد میں معصوم شہریوں کا قتل ایک انتہائی گھناؤنا کھیل ہے۔
    مسجد ہو یا مندر__گرجہ ہو یا معبد۔۔۔تمام پر امن انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے۔
    اور پھر ایسے عناصر ایسی جگہوں کو نشانہ بنا کر متنازعہ بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

    اس واقعہ میں بھی انتہائی قیمتی جانوں کا زیاں قومی المیہ ہے۔
    ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سر اٹھانا یقیناً ایسے عناصر کی طرف سے تخریبی انتباہ ہے۔
    وادئ مہران سے بلوچستان۔۔۔اور پنجاب سے کے پی کے تک امن و بہار کا عَلم سدا بلند رہے آمین۔

    ان عزائم کو ملک کے باوقار اداروں نے مل کر پیوندِ خاک کرنا ہے اور شہریوں کو بھی چاہیئے کہ اپنے ارد گرد ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
    تاکہ اس چمن میں ہزاروں لوگوں کے خون کی بدولت جو بہار آئی ہے وہ ماند نہ پڑنے پائے اور ملک دشمن عناصر کو کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔
    اور یہ چمن تا قیامت روشنیوں سے منور رہے۔۔۔

    یہاں کسی بے گناہ شخص کا ناحق لہو نہ بہے اور تعمیر و ترقی کا سفر باہم ملکر جاری و ساری رہے۔
    اس چمن میں آئی ہے بہار_
    جانے کتنی قربانیوں کے بعد—
    اس گلشن کو سینچا ہے__
    پیاروں نے اپنے لہو کے ساتھ__
    اس گلشن کی روشنیوں پر__
    آئے گی جو نظرِ سیاہ__
    اُس چشمِ پر فتن کو__
    پھوڑ دیں گے ہم سب
    یکجہتی کےتیر کے ساتھ__!!!
    ان شآ ء اللہ

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

  • برداشت —از— نساء بھٹی

    برداشت —از— نساء بھٹی

    یہ نئے زمانے کا دور ہے یہاں جذبات کا کیا کام؟
    روبوٹ کبھی نفرت و الفت نہیں کرتے۔
    سائنس کے اس ترقی یافتہ دور نے انسانوں کو جتنی جسمانی سہولتیں دیں اس سے کئی زیادہ خراج نت نئی ذہنی, جسمانی, روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی صورت میّں ان سے لے رہہی ہے.

    عدم برداشت بھی ان میں سےایک اخلاقی بیماری ہے. افرا تفری اور مشینی انداز نے انسان کو سب آسائشیّں دے کر اس سے سکون اور اطمینان چھین لیا ہے. بچہ ہو یا بڑا. جوان ہو یا بوڑھا جسے دیکھو عجیب بے چینی میں مبتلا ہے. کسی کے پاس تحمل سے کسی کی بات سننے کا وقت نہیں. سن بھی لیں تو بیزاری اور اکتاہٹ سے جواب دینا کہ آئندہ اگلے بندے کی مخاطب کرنے کی جرأت ہی نہ ہو. سڑکوں پہ نکلو تو ہر ایک جلدی میں,کوئی ٹریفک سگنل توڑ رہا ہے کوئی اوور ٹیک کر کے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے,اور کوئی تو اتنا بے صبرا ہوتا ہے کہ بند پھاٹک کو دیکھ کر بھی اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل لے کر منہ اٹھائے ریلو لائن لراس کرنے کے چکر میں جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.

    یہ سب لوگ اگر برداشت کا مادہ رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین کا پاس رکھ کر سفر کریں تو حادثات سے بھی بچیں اور ذہنی اذیت سے بھی. سائنس کی ترقی نے ہر نسل اور ہر طبقے کے اندر عجیب بے چینی سی بھر دی ہے نفسا نفسی نے قوت برداشت اور تحمل کو ایسے غائب کیا جیسے گدھے کر سر سے سینگ. وقت کی کمی, کام کی زیادتی, اور ذہنی الجھنوں نے سب لوگوں کو ذہنی الجھنوں میں ڈال رکھا ہے. اور اسی وجہ سے مورثی بیماریوں کی طرح ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بے صبرا پن اور عدم برداشت جیسے اوصاف منتقل کر رہے ہیں..

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ روحانی اور اخلاقی اوصاف کا مرقع تھے. اور ان کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے. انہوں نے کفار کے مظالم. طعنے, اور ہر ہر برائی کے بدلے جس صبر, برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا,تب بھی جب کفار ان پر غالب تھے اور تب بھی جب فتح مکہ کے بعد اللہ نے ان کو کافروں پر غالب فرمایا, چاہتے تو ہر ظلم کا جواب دے سکتے تھے مگر ب کو معاف فرما کر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کی کہ برداشت تو یہ ہی ہے کہ طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا.

    اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس برداشت کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں.آپ نے لوگوں سے اکثر سنا ہوگا. "ویسے تو ہم بہت متحمل مزاج ہیں,ہم میں بہت برداشت ہے مگر ہم سے فلاں بات برداشت نہیں ہوتی. کسی سے اونچی آواز. کسی سے جھوٹ اور کسی کا پیمانہ برداشت اونچی آواز سے چھلک پڑتا ہے…

    لیکن یہاں ہمیں یہ ہی تو سیکھنا ہے کہ جس چیز سے آپ کی برداشت کا خول چٹخ جائے وہ ہی جگہ ہے جہاں آپ کو برداشت کرنا ہے. غصہ نہیں کرنا.اور اگر آپ اس مقام پر برداشت کر رہے ہیں تو ہی آپ اہل برداشت ہیں ورنہ نہیں…
    قرآن پاک میں سورہ والعصر میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے "عصر کے وقت کی قسم انسان خسارےمیں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے {العصر}
    یقینا صبر کی تاکید وہی کرتے ہیں جو خود صبر کرنے والے ہوتے ہیں صبر ,جو برداشت سے بھی بہت آگے کا درجہ ہے. یقینا آج کل کے دور میں یہ وصف ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہے.

    صبر اور برداشت میں تھوڑا فرق ہے.برداشت کرنے میں ہم چپ کر جاتے ہیں کسی کو جواب نہیں دیتے سہ جاتے ہیں مگر دل کے اندر کہیں چبھن ضرور رکھتے ہیں. زیادتی کرنے والے کے بارے میں تلخی ضرور ہوتی ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے,زیادتی کرنے والے سے نہ سہی اپنے حمایتیوں سے سہی ہم شکوہ کر جاتے ہیں……… مگر صبر میں ہمارا من شانت ہوجاتا ہے,جب صبر آجاتا ہے تو دل میں پھانس رہتی ہی نہیں,ایک بےنیازی سی وجود کا احاطہ کر لیتی ہے. ہم اللہ کے لئے معاملہ یکسر بھول جاتے ہیں یوں, گویا وہ ہوا ہی نہیں….پھر۔۔۔ پھر ہم شکوہ بھی نہیں کرتے.اور تقدیر کے آگے سر خم کر دیتے ہیں…فیصلہ کرنے والے کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں….

    اور…. ہمارے رب کو ہم سے صبر ہی درکار ہے.. اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو صابر نہیں.
    اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم برداشت اور بردباری سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو صبر؟؟ اُس کا مقام تو بہت بلند ہے بہت آگے ہے. اور رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے اور شافع کونین کی پوری زندگی عفو درگزر, بردباری, تحمل,برداشت اور صبر کا عملی نمونہ بھی ہے…مگر افسوس ہم نے کچھ سبق نہیں لیا ان کی زندگی سے.

    بقول شاعر!
    تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
    *میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا۔