Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔!  تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔! تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھے سالوں میں پاکستان میں 30 کے قریب صحافی اپنی جان گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں ایسے ہیں جن پر بااثر اور کرپٹ لوگوں کی طرف سے ناجائز ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں کئی ایسے بھی صحافی ہیں جو حقائق اور کرپشن اور ظلم و زیادتی کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور ان صحافیوں کے خاندان آج فاقوں اور کسمپرسی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور کئی ایسے بھی سینیئر ترین صحافی ہیں جنہوں نے اس ملک قوم اور معاشرے کے لیے اپنی زندگی لٹا دی مگر آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور میڈیا صحافتی اداروں سمیت وزارت اطلاعات اور حکومت سمیت کوئی بھی آن کو کسی قسم کی سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہے

    حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اپنی دو دن خبریں دینا ہی بند کردیں تو چینلز بند ہو جائیں گے اخبار تک نہیں چھاپے جاسکیں گے جبکہ ان میڈیا چینلز اور اخبارات کو شہرت اور بلندیوں پر پہنچانے والے ٹاپ سٹوری اور بریکنگ نیوز دینے والے سردی گرمی بھوک پیاس دن یا رات سفر اور دھمکیوں اور خطرات کے باوجود بریکنگ نیوز اور سٹوری دینے والے یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ میڈیا مالکان کا رویہ دشمنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ سے بھی بدتر ہے

    جب صحافتی ادارے صحافی کو اس کی محنت کا کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہیں دیں گے تو آخر مرتا کیا نا کرتا پھر مجبور ہوکر اس نے کسی کرپٹ کو بلیک میل کرنا ہے یا کسی بھی غلط کام کا حصہ بن جانا ہے یا پھر اچھے سچے پڑھے لکھے لوگ صحافت چھوڑتے جائیں گے اور کرپٹ اور برے لوگ صحافت میں گھستے چلے جائیں گے یا پھر مجبور ہوکر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہے اپنے گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کو پالنے کے لیے۔ ہمارے پاکستان میں سب سے زیادہ آج کا صحافی ہی مظلوم ہے جو درحقیقت سب سے زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہے اور جھوٹ کا پردہ اوڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کے سسٹم اور حکومتوں اور محکمہ اطلاعات کی نااہلی یا منافقت یا اپنی ہی کرپشن کی وجہ سے آج تک اس شعبہ میں کسی قسم کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    کیونکہ بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان جو سیٹھ نما دولت کے پجاری انسان اور اثرورسوخ والے ہیں ان کے خلاف اور فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں کے لیے ستر سالوں سے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    حقیقت یہ ہے کہ یہ میڈیا مالکان تمام حکومتوں سیاستدانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ اور ججوں سمیت سب کے راز جانتے ہیں اور یہ کسی کے خلاف بھی اپنے اپنے اداروں میں موجود بڑے بڑے قابل لکھاریوں اور اینکرز جو کہ بے چارے اپنی نوکری بچانے کے لیے جب ان کو یہ میڈیا مالکان اشارہ کرتے ہیں تو حکومتوں بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم چلانا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میڈیا کے سیٹھوں کو کوئی چھیڑنے کو تیار نہیں ہوتا ہے

    کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں جس کی وجہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سیٹھ نما کرپٹ مالکان فیلڈ میں محنت کرنے والے صحافیوں کو تنخواہ مراعات تو دور کی بات ہے الٹا ان سے نمائندہ بننے کا ہزاروں لاکھوں روپے لیتے ہیں اور سالانہ ششماہی سہ ماہی بزنس اشتہارات کی مد میں علاوہ لیتے ہیں

    اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دن یہ پڑھے لکھے با کردار صحافی جو کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے پگڑی نہیں اتارتے بلکہ پروفیشنل طریقے سے مثبت رپورٹنگ کرنے والے ہیں چھوڑتے چلے جائیں گے اور حقیقت میں بھی ایسے ہی بلیک میلر کرپٹ دونمبری کے سرپرست ظالم کے حمایتی صحافی ہم آپ سب کو ملیں گے یا نظر آئیں گے جو واقعی میں بلیک میلر یا کرپٹ یا ان کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرنے والے ہوں گے جبکہ مظلوم کمزور کےے ساتھ کھڑے ہونے والے حق سچ کا ساتھ دینے والے صحافی دور دور تک نظر نہیں آئیں گے جس کے بہت زیادہ منفی اثرات اس ملک پاکستان اور اس معاشرہ پر پڑیں گے کیونکہ جو ارباب اختیار تک سچ کو سو پردوں سے نکال کر باہر لانے والے سچے اچھے اور قابل صحافی نہیں ہونگے تو معاشرے میں ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا ہوگا جو پھر کسی سے بھی ٹھیک نہیں ہو پائے گا۔

    بظاہر تو ہم کو بلیک میلر فیلڈ کے صحافی نظر آتے ہیں مگر درحقیقت اصل بلیک میلر صحافتی اداروں کے یہ سیٹھ نما مالک ہوتے ہیں جو ان صحافیوں کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ ان کو کما کر کھلائیں

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک پاکستان کے خاص طور پر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار اور مظلوم صحافیوں کے لیے کچھ اچھے اور ٹھوس اقدامات کریں جس کی امید عمران خان اور فردوس عاشق اعوان مشیر اطلاعات سے آج ان کو لگ رہی ہیں اگر اب بھی ان فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار مظلوم صحافیوں کی زندگی میں تبدیلی نا آئی تو شائد کبھی نا آسکے

  • حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

    حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

    نومبر کے آغاز میں مولانا فضل الرحمان اپنا لشکر لیکر شہر اقتدار میں پہنچے اور اعلان کیا کہ وزیراعظم کو گریبان سے پکڑ کر ایوان سے گھسیٹ کر باہر نکالیں گے ان کا غصہ ولولہ اور حوصلہ دیکھ کر پورے ملک میں ہلچل ہوئی ٹی وی پروگرامز میں ایک ہی موضوع پر بحث تھی کہ مولانا آگیا ہے اور اب یا تو حکومت جائے گی یا پھر وزیراعظم جائیں گے

    یہ تماشہ دو ہفتے تک جاری رہا مولانا کے حمایتی اور حزب اختلاف کے سب سے بڑے دھڑے بھٹو زرداری اور شریف خاندان پیچھے ہٹ گئے انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اپنے مفادات پر سودے بازی کر کے حکومت کے خلاف اٹھنے والے اس طوفان سے کنارہ کشی اختیار کرلی جس کے بعد مولانا کا بنا بنایاکھیل بگڑگیا وہ پلان اے کے بعد بی اور پھر پلان سی کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے

    سیاسی بساط پر چودھریوں نے اپنی چال خوب چلی بظاہر یوں دکھائی دیا کہ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ شہہ کو مات دینے کی پوزیشن میں ہیں لیکن وہ ریاستی اداروں کے ارادوں سے واقف تھے اسی لئے انہوں نے اپنی سیاست کو سیدھا کیا حکومت کی نظر میں اپنی قدر بڑھائی اور آنیوالے وقت میں اپنے مطالبات حکومت سے تسلیم کروائے
    دسمبر انتہائی سرد رہا اور ہواؤں کے رخ کی تبدیلی کے اشارے بھی دئیے گئے

    بلاول نے یکم جنوری سے پہلے نئے وزیراعظم کی نوید بھی سنائی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اپوزیشن گھٹنوں کے بل آ گری نون لیگی بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل گئی ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ برباد ہوا اور لیگی قیادت لندن کھسک گئی

    جنوری میں ایک بار پھر حکومت کے گھر جانے کی باتیں بڑھ گئیں اکثر اہم ترین محفلوں میں بڑی بڑی شخصیات کو کہتے سنا کہ مئی تک حکومت چلی جائے گی اتحادیوں کی ناراضگی اور بڑھتے مطالبات اور پھر مہنگائی کے زلزلے سے حکومت لڑکھڑاتی بھی دکھائی دی لیکن آٹے اور چینی کے بحران سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم نے جارحانہ فیصلہ کیا اور پہلی بار اس مافیا کو للکارا جو ان کی پانی صفوں میں موجود ہے

    جہانگیر ترین جو ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور حکومت بنانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے انہیں چینی اور آٹے کے بحران سے جوڑا جانے لگا تو وزیراعظم نے فوری طور پر جہانگیر ترین کو اتحادیوں سے دور کیا اور ساتھ ہی اعلان کردیا کہ وہ کسی مافیا کو اب نہیں چھوڑیں گے جلد ہی اس انکوائری کا بھی نتیجہ سامنے آجائے گا اگر اس بار وزیراعظم مہنگائی کے ذمہ داروں کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو گئے تو یقینی طور پر نہ تو حکومت کہیں جائے گی اور نہ ہی وزیراعظم ۔

    حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

  • ہماری عداوتیں  اور جادو ٹونا  تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری عداوتیں اور جادو ٹونا تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا واسطہ کئی طرح کے حاسدین و دشمنوں سے پڑتا ہے کچھ تو ہمیں سامنے آکر مارنے پیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ہمیں ناجائز مقدمات میں پھنسا کر مالی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنا حسد بغض و کینہ جادو کے ذریعے نکالتے ہیں ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و کمینے ہوتے ہیں جو اپنا حسد و بغض تو نکالنا چاہتے ہیں مگر خود سامنے بھی نہیں آنا چاہتے ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و ظالم ہوتے ہیں
    ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کا بہت زیادہ رواج چل نکلا ہے کوئی کسی سے مال و دولت کے حسد کی بناء پر جادو ٹونا کرتا ہے تو کوئی خاندانی رشتہ داریوں میں خلل ڈالنے کیلئے
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں مگر ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق،دولت،صحت،تندرستی،بیماری،شفاء غرضیکہ سب کچھ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اگر جادو کے اثرات مستقل ہوتے تو یقینا آج اس دنیا پر جادوگروں کا قبضہ ہوتا اور وہ اپنی روزی روٹی کیلئے یوں لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں صاف نا کرتے اگر جادو ہی سب کچھ ہے تو جادوگر گھر بیٹھے آرام سے دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے اور جسے چاہے مار دے اور جس کی چاہے روزی بند کر دے مگر ایسا ہر گز نہیں
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو ہوا تھا جو کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے کیا تھا اس جادو کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھول جاتے تھے کہ فلاں کام آپ نے کیا ہے مگر وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا
    صحیح بخاری حدیث 3175
    مگر پھر اللہ رب العزت کی طرف سے دو فرشتے نازل ہوئے اور آپ پر دم کیا گیا اور آپ کو اللہ نے شفاء عطا فرمائی
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ جادو کے اثرات ضرور ہوتے ہیں مگر جادو ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ قرآنی آیات اور اذکار مسنونہ کے دم کرنے سے جادو ختم ہو جاتا ہے مگر جادو کرنے کروانے والا لبید بن اعصم یہودی کا پیروکار ہے
    جادو کرنے اور جادو کروانے والے کی اسلام نے خوب نفی کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرانے سے بچو صحیح بخاری 5764 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائینگے 1 شراب پینے والا 2 قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا 3 جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا مسند احمد جلد 4 صفحہ 399
    جہاں جادو کرنے کی ممانعت ہے وہاں جادو کروانے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگ جنت کے بلکل بھی حقدار نہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں آج جگہ جگہ عاملوں ،بابوں،اور کاہنوں کے اڈے سرعام کھلے ہوئے ہیں اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حسد کرکے ایک دوسرے پر جادو ٹونا کروا رہے ہیں اور یوں ان جادوگروں کی روٹی قائم ہے جادو کرنے کروانے والا تو جہنمی ہے ہی مگر انجانے میں ہم بھی کالے جادو کی توڑ کیلئے انہی بابوں،عاملوں اور کاہنوں کا سہارا لے کر اس عظیم جرم میں شریک ہو رہے ہیں واضع رہے کہ نبی ذیشان پر جادو ہوا تو انہیں مسنون اذکار اور آیات کے ذریعے دم کیا گیا تھا ناکہ جادو کا مقابلہ جادو سے کیا گیا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ جادو کو جادوگر ہی ختم کر سکتا ہے یہ بات صریحا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ہم بھی جادو کروانے والوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے ، موسی نے کہا کہ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ تمہارے پاس آ چکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ سورت یونس آیت 77
    جادو چاہے خود کیا جائے یا کروایا جائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے یہ سب عمل بد ہے کیونکہ ابن عباس رصی اللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کر لیا وہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادو گر کافر ہے لم اجدہ،رواہ رزین
    فرمان نبوی سے ثابت ہوا کہ جادوگر کافر ہے چاہے کوئی اپنی روزی روٹی کیلئے جادو کرے یا کسی سے حسد و بغض پر جادو کرے کروائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے سب کا شمار جادو کرنے والوں میں ہوگا لہذہ اس لعنت سے توبہ کرکے جادو کی کاٹ کیلئے اذکار مسنونہ و آیات قرآن حکیم سے جادو و سحر کا علاج کیجئے اور اپنی دنیا و آخرت خراب ہونے سے بچائیں
    خصوصی طور پر معوذ تین ،آیت الکرسی اور سورت بقرہ کی آخری دو آیات خود زبانی یاد کیجئے اور پڑھ کر اپنے و سحر زدہ مریض پر دم کریں نہار منہ 7 عجوہ کجھور کھانے سے بھی جادو کا اثر ختم ہوتا ہے
    اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جادو کا شکار ہونے ،جادو کرنے اور جادوگر کا سہارا لینے سے بچائے رکھے آمین

  • مقبوضہ کشمیر اور ھم  تحریر: خواجہ رضوان احمد

    مقبوضہ کشمیر اور ھم تحریر: خواجہ رضوان احمد

    دنیا کی سب سے بڑی جیل، کشمیر، جس میں تقریبا 12.55 ملین معصوم روحیں، ایک کھلی جیل میں قید ھیں۔ ایک رہورٹ کے مطابق 1990 سے اب تک 95،000 کشمیری معصوم شہید ھو چکے، 1،46،000 کو گرفتار کیا گیا، 22،000 عورتوں کے سہاگ اجاڑ کر انکو بیوہ کر دیا گیا، 1،07،000 معصوم بچوں کے والدین کو شہید کر کے انکو یتیم کیا گیا، اور اب تقریبا 15 جولائی 2019 سے اب تک کشمیر ایک مکمل کرفیو کے حصار میں ھے، جہاں پر رھنے والوں پر حیات تنگ کر دی گئی، اتنی تنگ کہ جس میں ھم جیسا آزاد و عیاش مسلمان 7 دن بھی زندہ نہ رہ پائے جس میں ھمارے کشمیری بہن بھائی 7 مہینے سے سانس لے رھے ھیں۔ کرفیو کے آغاز سے اب تک 1000 سے زائد لوگوں کو شدید زخمی و شہید کر دیا گیا، 3000 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا، موبائل سروس، انٹرنیٹ، لینڈ لائن فون، یہاں تک کہ بیرونی دنیا سے رابطے کا ھر ھر ذریعہ ختم کر دیا گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت، جنہیں یہ علم نہیں کہ کل کے دن انکو کھانے کے لیے کچھ میسر ھو گا یا نہیں، دواؤں کی شدید قلت، کہ بیمار ھو جائیں تو تقدیر ھی صحت یاب کر دے، یہانتک کہ عبادات تک پر پابندی، ایک مومن اپنے گھر کے دروازے سے مسجد تک جانے کے لئیے بھی روک دیا گیا، اللہ کا گھر صدائیں دے رھا اپنے ان مومن بندوں کو جو دن رات کی پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور آج وہ تڑپ رھے ھیں، مسجد کے منبروں ہر کھڑے ھو کر اذان کی پاکیزہ صدائیں بلند کرنا چاھتے مگر طاغوت انکی کنپٹیوں پر بندوقوں کی نالیں جمائے بیٹھا ھے، یا اللہ، کیسا منظر ھو گا وہ، کیسی بے بسی ھو گی ان دلوں میں، کتنے ھی آنسوؤں کے سمندر ھونگے ان آنکھوں میں، جو اپنے رب کی بارگاہ میں چاھنے کے باوجود جانے سے قاصر ھیں۔۔۔ !!! اور اس سب سے قطع نظر کشمیری بہادر ماؤں کے بہادر سنگباز مجاھد بیٹے، کے جو گولیوں کا جواب پتھروں سے دے رھے ھیں، جن ھاتھوں میں کتاب و قلم ھونا تھا وہ ھاتھ یخ بستہ سردیوں میں اپنے دامن میں پتھر اٹھائے ظالم کو اپنی بساط سے بڑھ کر جواب دے رھے ھیں، انکے جذبے، انکے دل، اور انکی شیر جیسی دھاڑتی آواز میں وہ گرج ھے کہ جو بندوق تھامے کھڑے ناپاک ھندو فوجی کو بجی ایک لمحے کو لرزا کر رکھ دیتی ھے۔ یہ کیسا نوجوان ھے جو سینے پر گولی کھاتا ھے اور پھر اٹھ کر کافر کی طرف لپکتا ھے۔ یہ جذبہ یہ ھمت یہ ولولہ، اللہ اللہ۔۔۔۔۔قربان جاؤں ان ماؤں پر اور ان شیردل جوانوں پر۔
    اس سب قیامت میں ایک چیز فطری ھے جو ان میں بھی پائی جاتی ھے اور وہ ھے اپنے مسلمان بھائیوں کا انتظار، انکی راھیں تکنا، دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی صفوں میں صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان و محمود غزنوی کو ڈھونڈنا۔۔۔ تقسیم کے وقت سے آج تک مائیں اپنے بچوں کو یہی دلاسہ دے رھے ھیں کہ گبھراو مت، تم اکیلے نہیں ھو، بارڈر پار تمہارے بھائی ھیں جو تمہارے پاس آنے تمہارے لئیے کٹنے مرنے کو بے تاب ھیں (شائد یہی آس ان کی نا ختم ھونے والی جدوجہد کی وجوھات میں سے ایک وجہ بھی ھے)۔۔۔!!!
    اور دوسری جانب ھم آزاد کشمیری و پاکستانی، کرفیو کے بعد ھم سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا، میں نے ھر ایک کے دل میں اپنے ان مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لئیے درد دیکھا۔ ایک طرف کشمیری حکمرانوں نے کشمیر سے غیر انسانی کرفیو اور پابندیوں کے خاتمے پر لب کشائی کی، تو دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اپنے انداز میں بلکہ ماضی سے بہتر طور پر پیش کیا۔ جہاں کشمیری عوام اپنے مظلوم بھائی، بہنوں، ماؤں، بیٹیوں کا درد لے کر لائن آف کنٹرول تک پنہچے وھیں پاکستانی عوام بھی ھر گھر ھر شہر سے کشمیری مظلوموں کا درد لے کر نکلے۔ مگر پھر یوں ھوا کہ سب کچھ جیسے تھم سا گیا، اس جذبہ ایثار نے داخلی انتشار اور کدورتوں کی صورت اختیار کر لی۔ کشمیری و پاکستانی کے نام پر، بلوچی و پٹھان کے نام پر، خود مختاری و الحاق کے نام پر زبان درازیاں، فتوے بازیاں، زھر میں بجھے نفرتوں کے تیر، اور کافر کافر، غدار غدار کے طعنے ھر فورم ھر گلی ھر پلیٹ فارم سے سنائی دینے لگے، اور اب تو یہ نفرت ایک مستقل دشمنی کا روپ اختیار کر چکی ھے، جس نے مجھے پہلی بار قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میں پچلھے کئی دنوں سے زبانی تکرار کو فحش اور لغو گفتگو، نازیبا اور اخلاق سے گری ھوئی بہن اور ماں کی گالیوں میں بدلتا دیکھ رھا، جس نے جاھل اور پڑھے لکھے، خود مختاری والے اور الحاقی نطریے والے ھر ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔!
    ایک طرف ھمارے حکمران بھی کشمیریوں پر ٹوٹنے والی قیامت کو معمول کی چیز سمجھ کر عادی سے ھو گئے اور دوسری طرف ھماری عوام بھی جیسے اسکی عادی ھو گئی۔
    محترم قاری، خدارا آج یہ پڑھتے ھوئے وقفہ کیجئیے اور اپنے دل میں جھانک کر دیکھئیے، کیا آپ بھی عادی سے نہیں ھو گئے اس قیامت کو لے کر ؟ کیا آپ نے بھی اسے کشمیریوں کی تقدیر نہیں سمجھ لیا ؟ کیا آپ کو بھی کشمیری معصوموں کی عزتوں اور انکی جانوں سے زیادہ اپنی کسی پارٹی یا شخصیت کا نکتہ نظر زیادہ عزیز نہیں ھے؟
    ھر ایک فرد دوسرے فرد کو، ھر ایک جماعت دوسری جماعت کو، ھر ایک مکتبہ فکر دوسرے مکتبہ فکر کو نیچا دکھانے اور غدار ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگائے ھے۔ بخدا، سب کو ایسے وقت دل و دماغ سے یہ خیال یکسر محو ھو جاتا ھے کہ کشمیر بھی کوئی چیز ھے، کرفیو میں بلکتے بھوکے بچے، اہنی عصمتوں کے لٹ جانے کا ڈر لئیے ھوئے پاکیزہ پردہ دار بچیاں، ناتواں ماں باپ جن کے بیٹے کرفیو کے دوران لا پتہ کر دئیے گئے، بخدا ھم لوگوں کو یہ سب بھول چکا ھے۔ بخدا ھم لوگ شخصیت پرستی میں ھر آخری حد کو بھی عبور کر چکے ھیں، ھماری غیرتیں، ھمارے جذبے، ھمارے احساس، ھماری جدوجہد، ھمارے جلسے جلوس، ھمارے نعرے، سب کے سب کنٹرولڈ ھو چکے ھیں، ھم روبوٹ بن چکے ھیں، جذبات سے عاری جسم، ایک خالی ڈبہ، جسکو جب ریموٹ سے جہاں چاھے کوئی استعمال کرے اور ھم نے استعمال ھونا ھے۔۔!!!
    میں اس تحریر میں نہ تو کسی کی حمایت کرونگا نہ کسی کے مخالفت، میرے الفاظ ھر ایک کے لئیے سوال ھیں، ھر پڑھنے والا بس اپنے دل کے کسی کونے تک جھانکے اور اپنے آپ سے ھی انکشاف کر دے کہ کیا واقعی ایسا نہیں ھے؟؟؟
    میرے بھائیو، وہ تاریخی اور ظالمانہ قید آج بھی برقرار ھے اس لہو سے بھری جنت میں، اور تم لوگ یہاں، خود مختاری و الحاق کو لے کر لڑ لڑ کر تقسیم در تقسیم ھوتے جا رھے، کیوں؟
    کل حشر میں رب کی عدالت میں کیا جواب دو گے رب کو اور ان جنت کے شہسواروں کو جو دنیا میں آج جہنم کا درد سہہ رھے ھیں، کیا ھمارے جذبے اور کوششیں ویسی ھیں کہ کل ھم انکی آنکھ سے آنکھ ملا پائیں؟ اگر آپکا جواب "ھاں” ھے تو مبارک ھو آپکو، اور اگر "نہیں” ھے تو اللہ نے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ھر ذی روح کو دی ھے، لا علمی یا کم علمی کا رونا کل کوئی نہیں رو سکتا کہ اے اللہ مجھے تو پتہ نہیں تھا، میں تو فلاں بن فلاں کا پیروکار تھا، اسی کے پیچھے چلتے ھوئے اپنی زندگی گزار دی۔۔۔!
    خدارا، اپنے جذبات اور اپنے غصے کو صحیح سمت دیجئیے، اپنے اپنے گروہ اور اپنی اپنی سوچ کو ھی دوسروں سے بالاتر کرنے کی بجائے ایک جسم ایک جان بن کر سوچیں، اور کشمیر کو لے کر یہاں بیٹھ کر ان کے فیصلے کرنا چھوڑ دیں، انکی آزادی کا سوچیں۔ 73 سال سے ظلم سہنے والے اپنی تقدیر کا فیصلہ بھی کر ھی لیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ھے۔ یہاں آزاد فضاؤں میں بیٹھ کر آپ لوگ انکے فیصلے نہ کریں، بلکہ انکے لئیے عملی جدوجہد کریں، جس پر آپکا ضمیر کل کو آپکو ملامت نہ کر سکے، ورنہ ایک صدی تو ہوری ھو رھی ان کو مستقل عذاب دنیا سہتے ایک اور صدی گزر جائیگی مگر میں یا آپ نہیں ھونگے انجام دیکھنے کے لئیے اور نہ ھی ھم بروز محشر انکے سامنے کھڑے ھونیکی جرات ھی کر پائیں گے۔۔۔!!!
    اللہ پاک ھمیں علاقائی، نسلی و لسانی تعصب سے پاک کر کے وحدت امت کے لئیے جدوجہد کرنے والا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئیے جان لٹانے والا مجاھد بنائے۔۔۔!!!
    والسلام۔
    محتاج دعا۔
    rizwan.at009@gmail.com

  • بھارتی فورسز نے جعلی  مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    باغی ٹی وی رپورٹ ‌‌: جنوبی کشمیر کے ضلع ترال اونتی پورہ کے بجہ کول کے مقام پر بدھ کے روز نصف شب کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں تین مجاہدین کو شہید کر دیا گیا۔
    ساوتھ ایشین وائر کو جموں و کشمیر پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار یشانت شرما نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ترال کے علاقے دیور میں سرچ آپریشن کے تین مجاہدین، امیرآباد ترال کے رہنے والے جہانگیر رفیق وانی، لورگام کے راجہ عمر مقبول اور بارہمولہ کے عزیراحمد بٹ کوشہید کر دیا ۔
    ساوتھ ایشین وائر کو معلوم ہوا ہے کہ دونوجوان جہانگیر رفیق اور عزیراحمد 12جنوری کو گرفتار کئے گئے تھے ۔ اور انہیں بدھ کی رات کو پولیس کی حراست میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔12جنوری کو حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر حماد کو ایک آپریشن میں شہید کیا گیا تھا اور اسی دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
    دیگر ذرائع نے بتایا کہ عمر مقبول تنظیم انصار غزوة الہند جبکہ جہانگیر رفیق اور عزیراحمد حزب المجاہدین سے وابستہ تھے ۔جہانگیر وانی حزب کے اعلیٰ کمانڈر تھے ۔

  • کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    میں اپنی سہیلی سے ملنے ان کے گھر گئی تھی میں ہمیشہ انکی ازدواجی زندگی پر رشک کرتی انہیں اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہ تھی،ان کی تمام فرمائشیں شوہر پوری کرتا،حالانکہ گھر کے کاموں کے لئے ڈرائیور رکھا ہوا تھا لیکن پھر بھی گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی شوہر خود خرید لاتا،اس دن انکے گھر پکا کھانا مجھے بہت لذیذ لگا میں اس ڈش بنانے کی ترکیب لکھنا چاہتی تھی،

    میں نے کچن میں چائے بناتی سہیلی کو آواز دی کہ کاغذ قلم چاہئے انہوں نے کہا کہ ٹیبل کے ساتھ والی دراز کھولیں کاغذ و قلم وہیں پڑے ہیں،دراز میں رکھی ہوئی ایک کاپی میں نے نکال لی تاکہ کوئی خالی ورقہ نکال سکوں میں صفحات پلٹاتے میری نظر ایک فہرست پر پڑی جس میں گھریلو ضرورت کی اشیاء کے نام درج تھے،یہ فہرست بہت دلچسپ تھی وہ ہر ہفتے ضروری ترمیم کے بعد شوہر کے ہاتھ تھماتی تھی،فہرست کچھ یوں تھی.

    جان…. !

    تیرے دل کی طرح سفید پنیر
    تیرے جذبات کی طرح گرم مرچیں
    تیرے بوسے کی طرح میٹھی شہد
    تیرے لمس کی طرح ملائم صابن
    تیرے قربت جیسی خوشبو
    تیرے رخساروں کی طرح لال ٹماٹر
    تیرے مونچھوں کی طرح زعفران
    تیرے لہجے کی طرح چاکلیٹ

    میں فہرست پڑھ کر لوٹ پھوٹ کر ہنسی جا رہی تھی کہ میرے سہیلی چائے کے دو کیپ لیکر پہنچ گئی،میں نے انہیں فہرست دکھا دی وہ بھی ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ
    "تم شوہر کے لئے عورت بن جاؤ وہ تمہارے لیے مرد بنے گا ”

    میں گھر لوٹ گئی بڑی عید کے دن قریب تھے،شاپنگ کا موقع تھا اور یہ نسخہ اپنے شوہر پر آزمانے کے لئے میں نے ایک لسٹ تیار کرکے شوہر کو تھما دی.
    جو کچھ اس طرح تھی.

    لہسن تیری خوشبو جیسی
    پیاز تیری ڈھکار جیسی
    بینگن تیری رنگت جیسے
    ٹماٹر تیری آنکھوں جیسے
    گوبھی تیرے بالوں کی طرح
    آلو تیرے ناک کی طرح
    کالی مرچیں تیرے غصے کی طرح
    کوکنگ آئل تیری بہتی ناک کی طرح
    عید قربانی کے لیے بکرا تیری طرح

    شوہر عید کے تیسرے دن گھر لوٹے تو ان کے ساتھ دی گئی فہرست میں سے کوئی سامان نہیں تھا ہاں البتہ ان کے ساتھ
    ایک نئی نویلی دلہن ضرور ہمراہ تھی.😓

    سہیلیوں کی دیکھا دیکھی شوہروں سے نت نئی فرمائشیں کرنے والی بیگمات کے لئے.😎

    عربی سے ترجمہ

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    بقلم فردوس جمال!!!

  • آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آج کل پوری تندہی سے کوشش ہوتی ہے کہ ایسے موضوع پر کچھ نہ لکھوں کہ جس سے کسی پر طنز کرنے، کسی سے نفرت کے اظہار کا شائبہ ہو یا اس موضوع سے ہٹ کر بات کو کوئی اور رُخ دے کر فضول کا بحث و مباحثہ شروع ہو جائے لیکن طبیعت کچھ ایسی ہے کہ چند ایسے موضوعات یا باتوں پر اگر اپنے احساسات کو بیان نہ کروں تو بڑی تکلیف میں ہوتا ہے اسلئے آج پھر لکھنے بیٹھا ہوں۔

    کچھ عرصے سے دیکھ اور پڑھ رہا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی تحریر یا ویڈیو کوئی لگاتا ہے جس میں ہمارے ملک پاکستان کی بھلائی یا خیر کا پہلو اُجاگر ہوا ہوتا ہے تو ایک "مخصوص سوچ” کے نمائندے فوراً سے پیش تر آن ٹپکتے ہیں۔

    سب سے پہلے تو اُس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے جو حاملِ پوسٹ نے نشاندہی کی ہوتی ہے لیکن جب سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی یہ بات تو سچ ہے تو پھر نئے ہتھیار استعمال کر کے کہتے ہیں کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے (جیسے بہت بڑا احسان کر رہے ہوں) لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب مکھی کی طرح ہاتھ ملتے ہوئے پورے جسم کو چھوڑ کر واپس پھوڑے پر ہی آ بیٹھتے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی ایسوں کو مطمئن بھی کر لیتا ہے تو ایسے اطمینان سے اُن کی اناؤں کو ضرب لگ جاتی ہے جس سے فرسٹریشن کا شکار ہو کر یہی لوگ پھر ہفوات بکنے پر آ جاتے ہیں۔

    یہی لوگ ایک اور کام بڑھے شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہر اس بات، موضوع یا واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جس میں ان کے اپنے ہی ملک کی بدنامی ہو لیکن ہر ایسا دن یا موقع جس سے ہمارے ملک کی عزت بڑھتی ہے یا بین الاقوامی سطح پر ایک اچھا پیغام جاتا ہے اس میں سے یہ کیڑے نکالتے ہیں، اپنی پسندیدہ جو ان کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو تاریخ سے دلائل لے کر آتے ہیں کیونکہ اس کے علاؤہ تاریخ ان کے نزدیک جھوٹی ہوتی ہے اور قارئین کو تذبذب میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی انا کی اس تسکین کو سچ کا نام دیتے ہیں لیکن اگر کسی نے ان کے اس "سچ” کی تردید میں واقعی سچ لکھ دیا تو وہ مطالعہ پاکستان کا مارا، پالشی، بنیاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا ہے۔

    ایسی سوچ رکھنے والوں کی ایک نشانی اور بھی ہے آپ اگر بھارت کا پاکستان کے خلاف کسی اقدام بارے کچھ لکھ دیں بیشک اس لکھنے کا سورس بھارت کا اپنا ہی میڈیا یا بین الاقوامی اشاعتی اداریں ہوں تو یہ آناً فاناً اُس کے دفاع میں ٹپک پڑتے ہیں اور ساتھ میں اپنے ہی ملک کو بھی رگید ڈالتے ہیں اور اگر جواب آں غزل میں کسی نے اتنا تک لکھ دیا کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے آپ کیوں تکلیف کی زحمت اُٹھا رہے ہیں؟ تو اپنا پُرانا رنڈی رونا شروع کر دیتے ہیں کہ "بس؟ آ گئے ناں غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے یا سچ ہضم نہیں ہوا نا؟”

    آخر ایسی سوچ کے مالک لوگ ہیں کون؟ ان کے ارادے کیا ہیں؟ یہ چاہتے کیا ہیں؟ یہ احساسِ کمتری کے مارے ہیں یا محرومی کے؟ نفسیاتی مریض ہیں یا کسی غلط فہمی کے شکار؟ کچھ تو ہے یہ لوگ صرف اپنے ہی کہے کو "سچ” اور سب سے ذیادہ علم والے مانتے ہیں باقی ان کے نزدیک "جھوٹے” ہیں، لاعلم ہیں تاریخ وہی ہے جو ان کے نزدیک تاریخ ہے نہیں تو مطالعہ پاکستان ہے۔

    اسی سوچ والے لوگ اتنا کچھ کہنے لکھنے اور سُنانے کے باجود رونا روتے ہیں کہ یہاں آزادیِ اظہار رائے پر پابندی ہے، مذہبی شدت پسندی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن اپنی شدت پسند رویوں کے قائل نہیں ہوتے اور پھر ساتھ میں کہتے اور لکھتے بھی ہیں کہ "ہمارا سچ کسی سے ہضم نہیں ہوتا” اللّٰہ تعالٰی تمہارا یہ سچ تمہیں پر پلٹ دے تاکہ معلوم تو ہو کہ واقعی میں آپ کتنے سچ کے قائل ہیں۔

    اللّٰہ تعالٰی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے بیشک وہ قصداً کرتے ہوں یا لاعلمی میں پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر آمین۔

    آخر یہ لوگ ہیں کون
    تحریر:
    برہم مروت

  • ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی   تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
    5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
    سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
    سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
    جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
    سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
    دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین

  • "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    نئی دہلی :”اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتارکرلیئے گئے ہیں،اطلاعات کےمطابق بھارتی پولیس ان کشمیری طلبا کو گرفتارکرنے کے علاوہ دیگرکشمیری طالب علموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے ماررہی ہے،

    ادھربھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں طلبہ بھارتی ریاست کرناٹکا کےضلع ہبالی کے ایک انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔

    بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالج میں زیر تعلیم کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے اور ویڈیو بھی بنائی جو وائرل ہو گئی، جس پر کارروائی کی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔

    بھارتی حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں ایک طالب علم کو ابتدائی طور پر بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ کچھ بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ سب دوسرے ”آزادی ” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ پھر جو میوزک چل رہا ہے اس میں انہوں نے "پاکستان زندہ باد” بھی شامل کیا۔

    اسی سبب تینوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی پولیس نے بغاوت کا الزام لگا کر گرفتار کیا ہے جن پر ضلع بجرنگ دل کے ہندو انتہاپسندوں نے حملے کی بھی کوشش کی تھی۔

  • کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا پڑا اثر ، جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان پر

    کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا پڑا اثر ، جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان پر

    کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا پڑا اثر ، جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان پر

    باغی ٹی وی : دونوں بورڈز سیریز کی نئی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایف ٹی پی میں خالی ونڈو تلاش کررہے ہیں، وسیم خان

    کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ نہیں کرسکیں گے تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہےکہ وہ ٹیم جلد از جلد پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان مجوزہ تین ٹی ٹونٹی میچز، آئندہ سال جنوری میں شیڈول 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا حصہ نہیں تھے۔کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا جائزہ لینے کے بعد جمعہ کی دوپہر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا۔

    وسیم خان، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہےکہ ہم آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی میزبانی کے خواہاں تھے مگر ہم اس ضمن میں کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو پیش نظر رکھنا کسی بھی کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہوتی ہے اور اس حوالے سے یہ فیصلہ قابل فہم ہے۔

    وسیم خان نے کہاکہ خوشی ہے کہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ محدود فارمیٹ کی اس سیریز کا اہتمام جلد از جلد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں بورڈز سیریز کی نئی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کے لئیےایف ٹی پی میں خالی ونڈو تلاش کررہے ہیں۔